Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 88 | 89 | (Page 90) | 91 | 92 | .... | 149 | newer

    0 0

     قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں سیکریٹری ایف پی ایس سی امیر طارق عظیم نے انکشاف کیا کہ رواں سال سی ایس ایس رزلٹ میں صرف 2 فیصد طلبا پاس ہوئے جس پر چیئرمین کمیٹی اور ارکان نے سی ایس ایس امتحان میں بدترین رزلٹ کا نوٹس لیتے ہوئے پبلک سروس کمیشن سے کامیابی کی اتنی کم شرح پر 30 دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ اجلاس چیئرمین محمود حیات کی زیر صدارت ہوا، سیکریٹری ایف پی ایس سی امیر طارق عظیم نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال ایف پی ایس سی کے رزلٹ میں صرف 2 فیصد طلبا پاس ہوئے جس پرکمیٹی اراکین نے سوال کیا کہ کیا اس سال سلیبس تبدیل ہونے سے نتائج پر اثر پڑا ؟
    اس پر سیکریٹری ایف پی ایس سی نے بتایا کہ حالات کے ساتھ سلیبس کو بہتر اور نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے تبدیل کیا گیا، انھوں نے مزید بتایا کہ پنجاب سے 146، بلوچستان سے 4، گلگت بلتستان اور فاٹا سے ایک، پختونخوا 18، سندھ اربن سے 13 اور سندھ رورل سے 16 طالب علم پاس ہوئے، ناکام رہنے والے ایک طالب علم زاہد احمد نے کمیٹی میں پیش ہوکر درخواست دی کہ 12 سبجیکٹس میں سے صرف ایک انگلش کے سبجیکٹ میں فیل ہونے پر ناکام قرار دیا گیا۔  چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہماری قوم کو انگلش فوبیا ہوگیا، ترکی اور چین کے سربراہان پاکستان آتے ہیں تو اپنی زبان میں تقاریر کرتے ہیں لیکن ہم اپنی قومی زبان کو ترجیح نہیں دیتے، دونوں شخصیات نے اپنی زبان میں تقاریر کیں، ہمیں بھی اپنی قومی زبان کو اہمیت دینی چاہیے.


    0 0

    ’ سوشل میڈیا اور ابلاغ ’’ کے موضوع پر اگر کوئی شخص کچھ کہنے کے لیے سب سے زیادہ غیر موزوں ہے تو وہ میں ہوں۔ مگر غلطی میری ہے۔ مجھے اپنے مدعوئین کو پیشگی آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ بھائی اس موضوع پر بات کرنے کے لیے صرف ان اصحاب کو زحمت دیں جن کے پاس اینڈورائیڈ ٹیکنالوجی سے مسلح  ٹچ موبائل فون ہوں کہ جن میں فور جی نہ سہی تو تھری جی ہی آتا ہو۔ میرے پاس تو سترہ سو ساٹھ روپے والا نوکیا  چھتیس دس ماڈل ہے۔ اس میں تھری جی تو خیر کیا ہوگا اسے تو جی تھری بھی اپنے نشانے پر نہ باندھے۔

    اگرچہ میرے اکثر لنگوٹئیے دوست میرا شمار خشکوں میں کرتے ہیں۔ مگر اینڈورائیڈ ٹیکنالوجیانہ علت سے پاک ہونے کے سبب میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک آئی کنٹیکٹ یا منہ در منہ گفتگو کا معاملہ ہے میں اپنے تئیں سوشل میڈیائی ہتھیاروں سے مسلح تمام احباب سے زیادہ سوشل ہوں۔ جب اپنے اردگرد فیس بک ، ٹویٹر اور جانے کیا کیا سے مسلح احباب کے دونوں ہاتھوں کو مسلسل اس ڈجیٹل بٹیر سے کھیلتے دیکھتا ہوں تو شکر بجا لاتا ہوں کہ میرے پاس جو موبائل فون ہے اس میں کال کرنے اور ریسیو کرنے کے علاوہ واحد اضافی سہولت ایس ایم ایس کی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ آدمی ہو نہ ہو فون جس قدر لادین ہوگا زندگی اتنی ہی سکھی گذرے گی۔ ایک انگلی سے ٹچ اسکرین کو گھساتے  فونچی احباب و رشتے داروں کی طرح کم ازکم یہ تو نہیں کہنا پڑے گا  کہ ہاں ہاں میں سن رہا ہوں تم بولتے رہو۔ میں ایک اہم وٹس ایپ چیک کر رہا ہوں۔
    مجھے کئی برس سے اس شخص کی تلاش ہے جس نے ان سوشل میڈیا میں سے ان کا لفظ غائب کر کے ’’ انی پا دتی’’ اور پھر اس کا نام سوشل میڈیا رکھ دیا۔ ہو سکتا ہے کہ سوشل میڈیااس نیت سے تخلیق کیا گیا ہو کہ یہ بلا رنگ و نسل و مذہب و ملت اس کرہ ارض کو صحیع معنوں میں ایک گلوبل ولیج بنا دے گا۔ ہم ایک دوسرے سے ربط میں آکر نہ صرف اپنے دکھ سکھ رئیل ٹائم میں بانٹنے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ ان گنت مشترکہ مسائل کے درجنوں حل بھی ڈھونڈھ پائیں گے۔میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ آٹھ ہزار برس پہلے پہیے کی ایجاد کے بعد انسان نے جو سب سے اہم ایجاد کی ہے وہ انٹرنیٹ ہے۔

    ابھی کل کی ہی تو بات ہے جب انیس سو بانوے میں بی بی سی اردو کے سائنس میگزین دریافت میں بطور پریزینٹر میں نے ہی یہ خبر پڑھی تھی کہ وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ ونگ سے نارتھ ونگ تک ایک کمپیوٹر کے زریعے صدر بل کلنٹن نے پہلی ای میل بھیجی ہے۔ اور آج چوبیس برس بعد جب میں یہ واقعہ سوچتا ہوں تو خود ہی ہنس پڑتا ہوں۔ یہ بالکل درست ہے کہ سوشل میڈیا تک ہر شخص کی ممکنہ رسائی کے سبب اب خبر پر خبر کے ٹھیکیداروں کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے۔اب کوئی چاہے بھی تو یو ٹیوب بند کرنے کے باوجود یو ٹیوب نہیں بند کر سکتا کیونکہ میرے ہاتھ میں اس تک گھوم گھما کر پہنچانے والے کئی سافٹ وئیرز ہیں۔اب کوئی ایڈیٹر میرا مضمون چھپانے سے انکار کرے گا تو میں اسے فیس بک پر ڈال دوں گا۔

    سوشل میڈیا نے لوگوں کی زباں بندی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کالعدم کردیا۔ جن ممالک میں سوشل میڈیا کو سائبر قوانین کی زنجیریں پہنانے کی کوشش کی گئی، انھی ممالک میں دس پندرہ سال کے بچوں نے ان زنجیروں کو اڑا کے رکھ دیا۔ وکی لیکس سوشل میڈیا کی انقلابی فضا میں ہی پنپ سکتا تھا۔ اگر انٹرنیٹ نہ ہوتا تو پانامہ لیکس بھی نہ ہوتا۔ ریختہ کی ویب سائٹ بھی نہ ہوتی جس نے اردو کو زبان کی حد سے نکال کر عالمی لسانی فیشن کے ریمپ پر کھڑا کردیا۔ اگر تیونس  کے ایک لاچار سبزی فروش کی خود سوزی کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے بریک نہ ہوتی تو دنیائے عرب کی خزاں عرب اسپرنگ میں شائد اتنی تیزی سے نہ بدلتی۔ ترکی کے ساحل پر تین سالہ ایلان الکردی کی اوندھی لاش وائرل نہ ہوتی تو یورپ شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے شائد نہ کھولتا۔ غرض سوشل میڈیا نے ان گنت امکانات کا دروازہ کھول دیا۔

    لیکن میں پھر اسی جانب آوں گا کہ جس بے دریغانہ طریقے سے ہم سوشل میڈیا ٹول استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے سبب کیا ہم ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں یا دور ہو رہے ہیں۔ مثلاً اس کا کیا کریں کہ پہلے ہم میاں بیوی ، میاں بیوی ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے دو چار منٹ  ہی سہی پر اچھی اچھی باتیں کر لیتے تھے۔ اب وہ رات بھر میرے پاس ورڈ کی تلاش میں رہتی ہے اور میں دن بھر اس کا پاس ورڈ بریک کرنے کی ترکیبوں کے بارے میں سوچتا  رہتا ہوں۔ جب بجلی نہ ہو تو میرا بیٹا میری گود میں سر رکھ کے کہانی سننے کی فرمائش کرتا ہے اور جیسے ہی بجلی آتی ہے وہ کہانی آدھے میں چھوڑ کر انٹرنیٹ کی گود میں سر رکھ دیتا ہے اور میں ’’ ایک منٹ سن تو لو بیٹا ’’ کرتا رھ جاتا ہوں۔

    بفضلِ سوشل میڈیا ٹیکنا لوجی اپنے بچوں کے لیے میں ایک بیک ورڈ باپ ہوں کیونکہ مجھے ڈاؤن لوڈنگ کے نئے شارٹ کٹس نہیں معلوم۔ میں ان کی طرح تیزی سے کی بورڈ پر انگلیوں کو کتھک نہیں کروا سکتا۔ میں وقت بچانے کی خاطر ہا ہا ہا ویری فنی کے بجائے ایل او ایل لول نہیں لکھ پاتا۔ مجھ جیسے کروڑوں سادوں کا اگر سوشل میڈیا سے تعلق ہے تو فیس بک کے ناتے سے۔ کیونکہ باقی سوفٹ وئیر میری سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن یوزر فرینڈلی فیس بک پر کسی سنجیدہ موضوع پر اپنی پسند کا مضمون یا ڈھنگ کی بات تک پہنچنا بھی دن بدن کوہِ قاف کے قلعے میں قید پری تک پہچننے جیسا ہوتا جا رہا ہے۔ راستے میں انتہا پسندی و شدت پسندی سے لتھڑے بیسیوں تبصراتی ندی نالے پھلانگنے پڑتے ہیں۔ یہی پتا نہیں چلتا کہ جو تصویر مجھے خوش یا اداس کر رہی ہے واقعی اوریجنل ہے یا فوٹو شاپ کے بیت الخلاسے گذر کے مجھ تک پہنچی ہے۔

    کہنے کو سوشل میڈیا نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ مگر صرف مجھے آزاد نہیں کیا۔ریچھوں، بندروں، لومڑیوں، سانپوں اور حشراتِ الارض کو بھی آزاد کر دیا ہے۔کچھ پتہ نہیں چلتا کہ آپ کے کس جملے کا کوئی مفہوم کوئی بھی آدمی کچھ اور لے کر آپ کو کب دائرہِ اسلام سے خارج کردے یا داخل کر لے۔ اپنی پسندیدہ شخصیت پر زرا سی بھی تنقید کے ردِ عمل میں آپ کو لسانی بدفعلی کے نشانے پر رکھ لے۔ آپ کی تصویر کو ہار پہنا دے یا آپ کا چہرہ کاٹ کے خنزیر پر فٹ کر دے۔ اب آپ پر افراد حملے نہیں کرتے۔ پورے پورے سائبر غول آپ کی رائے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مجھے تو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ جو نورین میری ہر تحریر کی تحریری پرستار ہے وہ واقعی نورین ہے یا چوہدری ستار ہے۔

    مگر نورین کی مشکل یہ ہے کہ اگر وہ سوشل میڈیا پر اپنی اصل آئیڈنٹیٹی کے ساتھ اصلی تصویر لگائے تو بلیک میلر لگڑ بگے اس کا جینا حرام کرنے کے لیے شست لگائے منتظر رہتے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کا ہی تو فیض ہے کہ جنھیں پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں۔ جنھیں سننا چاہیے وہ بول رہے ہیں۔ جنھیں بولنا چاہیے وہ چپ ہیں۔ ہاں سوشل میڈیا پر اردو ویب سائٹس  اور پیجز بھی ہیں۔ ان پر معیاری مضامین اور تنقیدی مباحث بھی دکھائی دینے لگے ہیں۔ بعض ویب سائٹس زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شائستگی کے ساتھ تحریری اظہار کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں اور اختلافِ رائے کا بھی خیر مقدم کرتی ہیں۔ مگر ایسی ویب سائٹس کی تعداد ابھی بہت کم ہے۔

    پہلے لیڈر بیان جاری کرتے تھے اب صرف ٹویٹیاتے ہیں۔ پہلے اسٹیبلشمنٹ پریس ریلیز جاری کرتی تھی، پریس کانفرنس کرتی تھی، خبر گیروں سے رابطہ کر کے موقف سمجھاتی تھی۔ اب ملک پر ٹویٹر والی سرکار کی حکمرانی ہے۔ پہلے پترکار اور تجزیہ کار بالمشافہ بریفنگ لیتے تھے۔ اب فیصلہ سازوں  کے وٹس ایپ گروپ میں داخل اور خارج ہونے پر سینہ پھلاتے ہیں۔ آمریت بھی وٹس ایپ پر اتر آئی ہے اور جمہوریت بھی۔ فرقہِ تسلیہ میں شامل میرے دوست کہتے ہیں کہ ذاتی خون نہ جلاؤں اور اپنی توجہ سنجیدہ ویب سائٹس ، پڑھے لکھے چاٹ رومز اور معیاری ٹیگنگ پر رکھوں تو بہتر ہے۔ سوشل میڈیا ابھی بچہ ہے۔ ذرا بڑا ہو گا تو خود بخود سدھر جائے گا۔ مگر جب میں ایسے خوش امید دوستوں سے کہتا ہوں کہ جو لوگ اپنی گلی کا کچرا صاف کرنے کے لیے بھی چینی اور ترک کمپنیوں کو ٹھیکے دے رہے ہوں۔ وہ سوشل میڈیا کو انوائرنمنٹ فرینڈلی اور محفوظ بنانے کا ہمالیہ کام کیسے سر کریں گے۔ تو اس پر میرے یہ دوست ذرا دیر کے لیے چپ ہو جاتے ہیں۔اور پھر ان میں سے کوئی ایک دوسری طرف منہ کرتے ہوئے بڑ بڑاتا ہے ’’ رہے گا نہ یہ لعنتی کا لعنتی‘‘۔

    وسعت اللہ خان


    0 0

    بھارت کے حوالہ سے ہمارے قومی جذبات بہت گرم ہیں۔ نہ ہم بھارت سے کوئی میچ ہارنا برداشت کر تے ہیں۔ اور نہ ہی ہم یہ چاہتے ہیں کہ بھارت کہیں بھی ہم سے آگے ہو۔ ہمارے قومی جذبات بھارت کے حوالہ سے شدید ہیں۔ اسی لیے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں سرتاج عزیز کی شرکت کے حوالہ سے یہ رائے سامنے آ رہی ہے کہ سرتاج عزیز کو اس کانفرنس میں شرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ لیکن یہ تو بھارت چاہتا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کر دے۔ اسی لیے گزشتہ دو ماہ سے بھارت نے پاکستان کے ساتھ سرحدیں گرم کی ہوئی تھیں۔ اسی مقصد کے تحت بھارت نے پاکستان میں سار ک کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ بھارت کی خو اہش تھی کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بائیکاٹ کر دے تا کہ اسے اس کانفرنس میں کھلا میدان مل جائے۔ فری ہینڈ مل جائے۔ وہ اپنی مرضی کا اعلامیہ جاری کر سکے۔ لیکن پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے نہ صرف بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ بلکہ اس کے ساتھ دشمن کی سرزمن پر اپنا موقف پیش کر کے سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا بھارت کی کامیابی تھی اور شرکت بھارت کی ناکامی ہے۔ لیکن شاید عام آدمی کو یہ بات سمجھنا نا مشکل ہے۔
    سفارتکاری جذبات سے عاری کھیل ہے۔ یہ دل کا نہیں دماغ کا کھیل ہے۔ دشمن کے ساتھ ٹیبل پر بیٹھ کر اپنی بات کرنے کا نام ہی سفارتکاری ہے۔ اگر دشمن سے بات چیت بند کر دی جائے تو سفارتکاری ختم ہو جاتی ہے۔ عالمی کانفرنسوں میں عالمی برادری کے سامنے دشمن کی بات کا جواب دینا ہی سفارتکاری ہے۔ بائیکاٹ کوئی سفارتکاری نہیں۔ ایسے میں پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے سفارتی ناکامی نہیں کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر پاکستان شرکت نہ کرتا تو اعلامیہ میں پاکستان کا شکریہ نہ آتا۔ بلکہ بھارت کو کھل کر من مانی کرنے کا موقع مل جاتا۔ جہاں تک افغان صدر کی تقریر کا تعلق ہے تو یہ بھی کوئی سرپرائز نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کافی عرصہ سے خراب ہیں۔ افغان صدر نے یہ تقریر کوئی پہلی دفعہ نہیں کی ہے۔ جو ہم اس قدر پریشان ہیں۔ موصوف مسلسل کافی عرصہ سے ایک ہی اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ ہوائی کارگو شروع کرنے کا اعلان کوئی کامیابی نہیں بلکہ ناکامی کا عتراف ہے۔ بھارت کافی عرصہ سے افغانستان کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے پاکستان سے راستہ مانگ رہا ہے۔

    افغانستان نے بھی بارہا پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اسے بھارت کے ساتھ زمینی راستہ سے تجارت کے لیے راہداری دے۔ لیکن پاکستان نے صاف انکار کر دیا ہے۔ اس کے بعد بھارت کی جانب سے ہوائی کار گو ٹریڈ کا اعلان کوئی کامیابی نہیں نا کامی کا اعتراف ہے۔ یہ اعلان ہے کہ یہ دونوں ممالک پاکستان پر کسی بھی قسم کا دباؤ ڈالنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ اور انھوں نے اپنی ناکامی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ جب بھارت نے پاکستان میں سارک کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہوا ہے تو جواب میں پاکستان نے بھارت میں ہونے والی عالمی و علاقائی کانفرنسوں کا بائیکاٹ کیوں نہیں کیا۔ کیا یہ سفارتی آداب نہیں۔ کہ جب بھارت پاکستان میں ہونے  والی کسی بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار نہیں تو پاکستان بھارت میں ہونے والی کانفرنسوں میں کیوں شرکت کر رہا ہے۔

    اس کا ایک سادہ جواب تو یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ جب کہ جواب میں پاکستان نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہوا۔ سفارتکاری میں اپنے اپنے اہداف اور اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ اگر بھارت کی جانب سے سفارتی محاذ پر تنہا کرنے کا علان کا ہی جائزہ لیا جائے تو جب بھارت پاکستان کو ہارٹ آف ایشیا کانفرنس مین شرکت سے نہیں روک سکا تو عالمی سطح پر تنہا نہیں کرے گا۔ یقیناً بھارت نے بیک چینل سے بھر پور کوشش ہو گی کہ پاکستان کو اس کانفرنس میں مدعو نہ کیا جائے لیکن ایسا ممکن نہ تھا۔اس تناظر میں پاکستان کی شرکت بھارت کی ناکامی ہے۔ لیکن ہمارے نادان دوست مسلسل اس کو پاکستان کی ناکامی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جہاں تک سرتاج عزیز صاحب کو گولڈن ٹیمپل میں جانے سے  روکنے کا سوال ہے تو اس کو خالصتان کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے باہر سکھ خالصتان کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔ ایسے میں اگر سرتاج عزیز خالصتان کے و فد سے ملاقات کر کے انھیں پاکستان کی جانب سے اخلاقی حمایت کا یقین دلوا دیتے تو بھارت میں مودی سرکاری کے لیے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ۔ مودی پہلے ہی پاکستانی سفارتکاروں کی کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقاتوں سے پریشان ہے ایسے میں اگر خالصتان کے رہنماؤں کی بھی پاکستانی سفارتکاروں سے ملاقاتیں شروع ہو جائیں تو مودی کے لیے مسائل بڑھ جائیں گے۔

    ہمیں اپنے نادان دوستوں کو سمجھانا ہو گا کہ بھارت کے ساتھ سفارتکاری کا کھیل دو اورد و چار کا نہیں ہے۔ جہاں دشمن کا دشمن دوست ہو تا ہے وہاں دوست کا دوست بھی دوست نہیں ہو تا۔ دوستیوں اور دشمنیوں کے اس کھیل میں دروازے بند نہیں کھلے رکھنا ہو ںگے۔ بھارت کے ساتھ برابری کے تعلقات کے لیے ضروری نہیں حماقتیں بھی برابری کی کی جائیں۔ کسی بھی حماقت کا جواب اتنی بڑی حماقت سے دینا کوئی عقلمندی نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ دشمن کی سرزمین پر اپنا موقف پیش کرنا ہی اصل سفارتکاری ہے ۔ یہ درست ہے کہ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ سرتاج عزیز نے بات تو کی لیکن لہجہ بہت نرم تھا۔ وہ بھارت اور افغانستان کو اسی لہجے میں جواب دے سکتے تھے۔ جب افغانستان نے امداد لینے سے انکار کیا تھا تو انھیں اپنے پناہ گزین  فوراً واپس لینے کا کہا جا سکتا تھا۔

     مودی کو بلوچستان کی درانداذی کا طعنہ دیا جا سکتا تھا۔ لیکن سرتاج عزیز نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دوست اس کو کمزوری بھی کہہ رہے ہیں۔ اورباقی اس کو حکمت عملی بھی کہہ رہے ہیں۔ اس ضمن میں میری رائے بھی یہی ہے کہ کم از کم افغانستان کو تو سخت جواب کی ضرورت تھی۔ افغانستان کے حوالہ سے نرم رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ درست ہے کہ اشرف غنی افغانستان کے ممنون حسین ہی ہیں۔ اصل طاقت عبداللہ عبداللہ کے پاس ہے اور انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی جا چکی ہے۔ لیکن پھر بھی افغانستان کی حوالہ سے سفارتی حکمت عملی اور لہجہ کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ افغانستان کے حوالہ سے ماسکو اور چین کے ساتھ بھی ایک سہ فریقی مذاکرات ہونے والے ہیں۔ جن میں بھارت اور امریکا نہیں ہیں۔ شاید ان مذاکرات تک افغانستان کے ساتھ حالات کر مزید خراب نہ کرنے کی حکمت عملی کے تحت اشرف غنی کو رعایت دی جا رہی ہے۔ تا ہم سرتاج عزیز کا دورہ امرتسر بھارت کی ناکامی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزمل سہروردی


    0 0

    ٹرمپ مسئلہ کشمیر حل کرائیں گے۔ حلف اٹھانے کے بعد ان کی پہلی ترجیح پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کو ختم کرنا ہو گا۔ دیرینہ اور پیچیدہ کشمیر تنازعہ حل کرانے کیلئے ٹرمپ ”مکالمے اور معاہدے کروانے کی اپنی خصوصی صلاحیتیں“ بروئے کار لائیں گے۔ دنیا میں کشیدگی کم کرنا ہمارے ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ انکشافات کسی معمولی عہدیدار نے نہیں بلکہ ٹرمپ کیساتھ منتخب ہونیوالے نائب صدر مائیک پنس (Mike Pence) نے کئے ہیں۔ وہ معروف امریکی ٹی وی چینل NBC کے پروگرام ”میٹ دی پریس“ میں مختلف سوالات کے جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ صدارتی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ہم پاکستان اور بھارت کی قیادتوں سے مکمل اور بھرپور طریقے سے رابطے میں ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں جناب ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ”ثالثی“ کی پیشکش کی ہے جس کا مثبت جواب ملا ہے۔

    نائب صدر پنس نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو سب سے پہلے اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے صرف امریکہ کے اندرونی مسائل پر توجہ دینی چاہئے۔ معیشت کی بحالی‘ امریکیوں کیلئے ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ ہی سب سے بڑا کام ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی سطح پر امریکی مفادات کا تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟ امریکی اندرونی حالات بھی صرف اس وقت ہی بہتر ہو سکتے ہیں جب عالمی سطح پر کشیدگی اور تناؤ کا خاتمہ ہو گا۔ اس وقت کشمیر بھڑکتا ہوا الاؤ بنا ہوا ہے۔ جب تک یہ تنازع حل نہیں ہوتا دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کے اندرونی حالات بھی عالمی امن و امان اور بہتر ماحول سے جڑے ہوئے ہیں جس کا کماحقہ احساس پاک بھارت قائدین کو بہت اچھی طرح ہے جو کہ ذاتی طور پر بہترین ”خاندانی مراسم“ رکھتے ہیں۔ ”ہم نے دونوں ہمسایہ ممالک کے قائدین پر واضح کر دیا ہے کہ ہم اقتدار سنبھالتے ہی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے خالی خولی نہیں بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کی تیاریاں کرینگے تا کہ کشمیر کا تنازعہ حل کیا جا سکے۔ اس طرح امریکہ اپنے عالمی رہنما کے مسلمہ کردار سے دستبردار نہیں ہو گا بلکہ ٹرمپ عالمی مصالحت کار کے طور پر تنازعات کے حل اور کشیدگیاں ختم کرنے کا کردار ادا کریں گے‘ اس طرح مدتوں بعد امریکہ دنیا کو متحرک اور باصلاحیت قیادت مہیا کریگا۔“

    گزشتہ ہفتے متکبر امریکی ذرائع ابلاغ نے نومنتخب صدر ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور اپنی ساری توپوں کے رُخ اُن کی طرف موڑ دئیے تھے کہ وزیراعظم نواز شریف کو ”دیوقامت پُرشکوہ شخصیت“ کیوں قرار دیا گیا‘ اسی طرح پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے اسے شاندار ملک کیوں کہا‘ یہ سفارتی ادب آداب کے منافی ہے۔ اس طرح اپنے آپ کو عقل کُل سمجھنے والے امریکی ذرائع ابلاغ پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس سے دونوں رہنماؤں کی گفتگو کا حرف بحرف متن جاری ہونے پر بھی ہمیں سفارتی پیچیدگیوں سے آگاہ کرتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش ناتمام کرتے رہے کہ گفتگو کا متن جاری کرنا چھچھورا پن اور گنوار ہونے کا مظہر ہوتا ہے۔ ہر طالب علم گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے لیکن امریکی مفادات کے سب سے بڑے نگہبان آزاد امریکی ذرائع ابلاغ کے ایسے خوبصورت ہتھکنڈوں کو مدتوں سے دیکھتا اور بھگتتا آ رہا ہے۔ یہی اخبارات تھے جو 80ء کی دہائی میں سوویت یونین کی ہیبتناک سرخ فوج سے نبرد آزما افغان مہاجرین کو امریکی جنگ آزادی کے ہیروز کی مثل قرار دیتے تھے۔ انہیں آزاد دنیا کا محافظ اور نگہبان قرار دیتے تھے‘ وہائٹ ہاؤس میں انکی عظمت کے گیت گائے جاتے تھے‘ صدر ریگن انکے سامنے دست بستہ کھڑے رہتے تھے اور پھر زمانہ بدلا یہی آزاد دنیا کے محافظ اور مجاہد قابل گردن زدنی، دہشت گرد قرار پائے‘ ان پر ایٹم بم رکھنے اور کیمیاوی ہتھیار چلانے کے لغو اور بے بنیاد الزامات تھوپ کر افغانستان کا تورا بورا بنا دیا گیا.
    جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

    امریکی نائب صدر پنس نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مختلف خطوں اور ممالک کی صورتحال کے بارے میں روزانہ جامع اور مختصر معلوماتی اشارے مہیا کئے جاتے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ روزانہ کی بنیاد پر خارجہ امور کے حوالے سے ضروری معلومات فراہم کر رہا ہے‘ عالمی رہنماؤں سے فون پر ہونے والی بات چیت کے مکمل سفارتی آداب اور نزاکتوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ اس طرح قومی سلامتی کے امور پر روزانہ بریفنگزکا سلسلہ بھی معمول کے مطابق جاری ہے جبکہ صدر ٹرمپ کیلئے ”خصوصی صدراتی بریف“ بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔ ہم عالمی سطح پر امریکی مفادات کے تحفظ کےلئے بھرپور طور پر بروئے کار ہیں۔ اس وقت تک ٹرمپ 50 سے زائد عالمی رہنماؤں سے فون پر غیر رسمی گفتگو کر چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم اقتدار سنبھالنے سے پہلے دنیا کے چاروں کونوں میں امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

    یادش بخیر نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جناب نواز شریف کو فون پر ہونےوالی گپ شپ کے دوران یقین دلایا تھا کہ تمام دیرینہ حل طلب مسائل پہلی فرصت میں حل کئے جائینگے۔ آپ ‘ دیوقامت‘ پُرشکوہ شخصیت ہیں‘ آپکی عالمی سطح پر بڑی اچھی شہرت ہے‘ آپ سے ملنے کیلئے بے تاب ہوں‘ آپ جب چاہیں مجھے کال کر سکتے ہیں۔ 20 جنوری سے پہلے بھی ہر خدمت کیلئے حاضر ہوں‘ دورہ پاکستان کی دعوت پر ٹرمپ نے کہا تھا پہلی فرصت میں پاکستان کا دورہ کرنا چاہتا ہوں‘ پاکستانی قوم شاندار قوم ہیں جس پر امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنے نومنتخب صدر کو ایسا پراپرٹی ڈیلر قرار دیا جو سفارتی آداب سے مکمل طور پر بے بہرہ اور جاہل ابتر ہے اور ڈالر کی دھن پر رقص کناں ہمارے مرعوب نام نہاد روشن خیال بھی متکبر امریکی میڈیا کے ساتھ سرتال ملا کر راگ الاپنے لگے‘ گرچہ سول ملٹری تعلقات کے تناظر میں وہ وزیراعظم نواز شریف کی بے طرح قصیدہ گوئی میں مصروف تھے لیکن جونہی مقامی مفادات عالمی ایجنڈے کے مقابل آئے تو یہ پاکستانی طوطے چشم زدن میں آنکھیں بدل گئے۔

    جنوبی ایشیا میں بوڑھا آسمان کیا عجب رنگ دیکھ رہا ہے۔ کشمیر کا پیچیدہ اور دیرینہ تنازعہ حل کرنے کےلئے پلے بوائے کی شہرت رکھنے والا غیر سنجیدہ ٹرمپ میدان میں نکلا ہے ‘ اس تنازعہ سے ڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ حزب المجاہدین کے جواں سال اور خوبرو کمانڈر برہان الدین وانی تو بھارتی ذرائع ابلاغ ”پوسٹر بوائے“ اور درشنی کمانڈر قرار دیتے تھے لیکن شہید وانی نے اپنی جان نچھاور کر کے جدوجہد آزادی کو نیا رُخ دیا‘ نئی زندگی عطا کی‘ آج کشمیر میں آزادی کی جنگ صرف اور صرف کشمیری چلا رہے ہیں۔ بھارتی واویلے کے باوجود عالمی ضمیر مودی کے بے بنیاد دعوؤں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں کہ گزشتہ 150 دنوں سے جاری تحریک کے ڈانڈے لائن آف کنٹرول پاکستان کشمیر سے ملتے ہیں۔ مسلسل کرفیو میں بابرکت رمضان گزرا‘ عیدین کے تہوار اور نماز عیدین نہ ہو سکیں لیکن ظلم و جبر کے سایوں میں آزاد منش کشمیریوں نے حوصلے نہیں ہارے۔

    اسرائیلوں نے کشمیریوں کو دہشت زدہ کرنے کیلئے‘ آزادی کے جذبے کو سرد کرنے کیلئے پلیٹ گن کے ذریعے پتھر بدست نوجوانوں کو اندھا بنانے کے انسانیت سوز منصوبے پر عمل شروع کیا۔ اس وقت تک چھرے والی بندوقوں سے درجنوں نوجوان بینائی کھو بیٹھے ہیں کہ بھارتی نشانچی تاک تاک کر نوجوانوں کی روشن آنکھوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ آنکھوں کا آپریشن کرنے والے معالج شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں‘ لیکن آفرین ہے مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں پر جو نتائج سے بے پرواہ ہو کر سبز ہلالی پرچم لہرائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کا قومی ترانہ گائے جا رہے ہیں اور ہمارے آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کا یہ عالم ہے کہ نیم خواندہ رہنما عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی آڑ میں سیر سپاٹوں میں مصروف ہیں۔ ایک بزرگ ترابی کے بارے میں معروف ہے کہ وہ 12 ماہ میں 24 دورے کرکے کشمیر کا غم غلط کرتے ہیں۔ بھارتی فوج کے مظالم پر انسانیت سر پیٹ رہی ہے‘ عالمی ضمیر جنت نظیر کشمیر کو اندھوں کی وادی بنانے والے مودی پر لعن طعن کر رہاہے‘ لیکن طاقت کے نشے میں مست مودی سرکار نے لائن آف کنٹرول کو نہتے کشمیریوں کا مقتل بنا دیا ہے۔

    ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ایران نے بھی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے جس سے مودی سرکار پیچ و تاب کھا رہی ہے۔ عالمی سطح پر ثالثی کی پیشکشیں بھارتی موقف کی نفی کر رہی ہیں کہ یہ تنازعہ اب علاقائی نوعیت رکھتا ہے جسے پاکستان اور بھارت باہم مل جل کر حل کرنے کے پابند ہیں۔

    اسلم خان
     بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"



    0 0



    0 0

    نرم آواز اور ملائم لہجے والے جنید جمشید کی تمام زندگی ایک پڑاؤ سے دوسرے
     پڑاؤ کی جانب سفر سے عبارت رہی۔ وہ سفر جو کنسرٹ ہال سے شروع ہو کر مختلف موڑ مڑتا، کہیں یو ٹرن لیتا، کہیں رکتا، پلٹتا، بالآخر سات دسمبر کو حویلیاں کے قریب ایک پہاڑی پر ہمیشہ کے لیے انجام پذیر ہو گیا۔ جنید جمشید خود کہتے ہیں کہ میں فائٹر پائلٹ بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا، ڈاکٹر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا۔ انجینیئر بننا چاہتا تھا، نہیں بن سکا۔ گلوکار نہیں بننا چاہتا تھا لیکن بن گیا۔
    جنید گلوکار بنے اور ایسے گلوکار بنے کہ 2003 میں بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق ان کا ملی نغمہ 'دل دل پاکستان'دنیا کا تیسرا مقبول ترین گیت قرار پایا۔
    لیکن جنید گلوکاری کے پڑاؤ پر بھی نہیں رکے۔ اس میدان میں شہرت، عزت اور دولت کمانے کے بعد انھوں نے ایک بار پھر اپنی سمت بدل دی اور شوبزنس کی چکاچوند چھوڑ کر مذہب کی دنیا کی طرف نکل گئے۔ ان کی سیمابی فطرت نے انھیں وہاں بھی ٹکنے نہیں دیا، اور وہ واپس آ گئے۔ انھوں نے ایک فلم میں کام کرنے لیے داڑھی بھی ترشوا دی۔ البتہ ان کی واپسی مختصر مدت ثابت ہوئی اور ایک بار پھر دین کی جانب لوٹ گئے۔ اسی دوران انھوں نے جے ڈاٹ کے نام سے ملبوسات کا کاروبار بھی شروع کر دیا جو آج پاکستان کے نمایاں ترین فیشن برینڈز میں سے ایک ہے۔

    دوسرا قومی ترانہ

    1987 میں پاکستانی ٹیلی ویژن پر ایک گانا سنائی دیا۔ چار لڑکے ایک کھلی جیپ میں بیٹھ کر ایک سبزہ زار میں آتے ہیں اور گانا شروع کر دیتے ہیں۔ انھی کے درمیان سبز شرٹ اور سفید پتلون میں ملبوس ایک دبلا پتلا نوجوان بھی ہے، جس کی آواز دھیمی اور ملائم ہے، لیکن اس کے باوجود آواز، شاعری، موسیقی، اور ان سب سے بڑھ کر کچھ ایسا جوش و جذبہ ہے کہ ساری چیزیں مل کر ایسی کیمسٹری پیدا کرتی ہیں کہ یہ گانا ملک کے ہر دل میں دھڑکنے لگتا ہے۔ آج دل دل پاکستان کو ملک کا دوسرا قومی ترانہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ بالی وڈ نے 'دل دل ہندوستان'کے روپ میں مکھی پر مکھی مارنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔

    ظفر سید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    سندھ کی تاریخ حضرت سچل سرمست ؒ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت سچل سرمست ؒ سندھی زبان کے مشہور صوفی شاعراور مجذوب تھے ۔ انکا کلام سات مختلف زبانوں میں ملتا ہے (سندھی، عربی‘ فارسی ‘بلوچی‘ سرائیکی ‘ پنجابی اوراردو) مگر زیادہ حصہ سندھی اور سرائیکی پر مشتمل ہے۔ سچل سرمست 1739ء میں پیدا ہوئے۔ جائے پیدائش صوبہ سندھ میں ضلع خیرپورکے گاؤں رانی پور کا قریبی علاقہ درازہ ہے۔ اُن کا تعلق فاروقی خاندان سے ہے۔ اس خاندان میں کئی اہم ہستیاں گذری ہیں۔ ان میں سچل سرمست ؒ کے دادا میاں صاحب ڈنو عرف محمد حافظ ایک اہم بزرگ اور شاعر تھے۔ اس خاندان کے جدِ امجد محمد بن قاسم کے لشکر میں شامل تھے جو 93ھ میں سندھ پر حملہ آور ہوا تھا یہ شیخ شہابُ الدین تھے جو بعد میں سیہون کے حاکم مقرر ہوئے۔ میاں صاحب ڈنو بھی سندھ کے کلھوڑہ حاکموں کے دور میں اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی شاہ عبداللطیف بھٹائی سے ملاقات کا واقعہ بھی مشہور ہے۔ یہ دونوں بزرگ چلہ کشی والی غار میں ملے تھے۔ میاں صاحب ڈنوایک اہلِ دل درویش گذرے ہیں۔

    اُنکا سندھی کلام بھی موجود ہے جو ظاہر پرستی اور خدا پرستی کے متعلق ہے۔ مُلا کو خاص طور پہ ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مُلا عشقِ حقیقی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ مُلا مجاور اور کوے کی مشابہت اسطرح کرتے ہیں۔ مُلا مجاور اور کوا تینوں ایک ہیں۔ ’’ملا وصال سے دور ہے ‘ محبت سے نا واقف ہے‘ مجاور کھانے کے انتظار میں ہے اور کوا وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جہاں تک بڑے پرندے اُڑتے ہیں۔‘‘میاں صاحب ڈنو کے چھوٹے بیٹے اور سجادہ نشین میاں عبدالحق بھی شاعر تھے۔ سچل سرمست ؒ کے والد کا اسمِ گرامی میاں صلاح الدین تھا جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے جسکی وجہ سے میاں عبدالحق سجادہ نشین ہوئے۔
    سچل سرمست ؒ کے والد کاانتقال ہو گیا تھا لہٰذا بچپن ہی سے اپنے چچا میاں عبدالحق کی نگہداشت میں آگئے تھے چچا نے انہیں عربی فارسی اور تصوف کے اسرارو رموزسے آگاہ کیا۔ حافظ عبداللہ کے پاس قرآن شریف اور دیگر علوم کے لئے گئے۔ قرآن مجید حفظ کیا۔ اس وجہ سے سچل سرمست کو حافظ عبدالوہاب کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اُنکا اصل نام عبدالوہاب تھا چونکہ وہ بچپن سے ہی سچ بولا کرتے تھے لہٰذا لوگ انہیں سچل کے نام سے پکارنے لگے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی سچل نام کو بطور تخلص استعمال کیا۔ سچل تنہائی پسند اور خاموش طبع شخص تھے۔ تنہائی کو پسند کرتے تھے اس لیے اکثر جنگل کی طرف نکل جاتے تھے‘فکر میں غرق رہتے تھے۔ کبھی کوئی شکار نہ کیا نہ ہی کبھی کسی پرندے یا جانور کو ذبح کیا۔ کسی قسم کا نشہ نہیں کیا۔ اُنکے دور میں منشیات عام ہو گئی تھیں نوجوانوں کو نشے کی لت پڑ گئی تو انہیں سمجھایا مگرنشے کے عادی نوجوان انکے خلاف ہوگئے اور ان پر آوازیں کسنے لگے۔ جوانی ہی سے نماز کے پابند تھے درود و وظائف میں مصروف رہتے تھے۔ پچاس برس کی عمر میں موج مستی اور عروج کی حالت میں بیخود ہو جاتے تھے۔ بیخودی اور مستی کی ایسی حالت دیکھ کر لوگوں نے مست کے نام سے بھی پکارنا شروع کر دیا سچل سرمست کے نام سے مشہور ہو گئے۔ مولانا رانی پوری اُنکے حلیے اور شکل و صورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:

    ’’اُن کا قد سیدھا اور درمیانہ تھا رنگ صاف بادام کی طرح خدوخال دلکش اور آنکھیں بڑی بڑی آھو چشم گیسو دراز تھے۔ سفید پیرہن سفید شال یا چادر اوڑھے رکھتے تھے، کھدر کا تہبند باندھتے تھے، سر پر سبز تاج ہوتا‘‘۔

    مرزا علی قلی بیگ لکھتے ہیں کہ:
    ’’ پیری میں سفید ریش مبارک رکھتے تھے، جوتا کبھی پہنتے کبھی ننگے پاؤں بھی نکل جاتے، ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی، سواری استعمال نہیں کرتے تھے۔ زمین پر یا لکڑی کے صندل پر بیٹھتے اور سو جاتے ،چارپائی استعمال نہیں کرتے تھے۔طنبورہ بھی ساتھ رکھتے تھے‘‘۔

    ازدواجی زندگی: سچل سرمست کی شادی اپنے چچا میاں عبدالحق کی دختر نیک اختر سے ہوئی۔ ایک فرزند عطا ہوا جو بچپن میں ہی وفات پا گیا۔ شادی کے صرف دو سال بعد شریکِ حیات وفات پا گئی مگر زندگی بھر دوسری شادی کرنے کا خیال تک نہ آیا۔

    سچل سرمست کی شاعری۔ ان کی شاعری میں عشق بنیادی موضوع ہے۔ اسکے لئے انہوں نے تاریخی داستانوں کا سہارا بھی لیا ہے۔ اس سلسلے میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا اثر لیاہے۔ ہیر، سسی، مومل ، نوری اور جام تماچی اور دیگر کرداروں کے بھیس میں اپنا درد واضح انداز میں بیان کیا۔ مثلاََ نوری اور جام تماچی کے قصہء عشق سے انکساری کا سبق اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انکساری انسان کے 

    اعلٰی درجات و صفات میں سے ایک صفت ہے۔ ترجمہ:
    ملاح عورت کے دل میں ذرا برابر غرور نہیں
    آنکھوں کے اشاروں سے بادشاہ کو گرویدہ کیا
    اسلئے سمہ حکمران کو وہ سب رانیوں سے زیادہ پسند آئی

    پروفیسر کلیان آڈوان نے لکھا ہے کہ سچل سرمست کے تصور میں ایک غیر فرقہ وارانہ سماج تھا، جسے اب classless society کہا جاتا ہے۔ انکے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے

    ہیں ۔ ترجمہ:
    سب رسوم و رواج توڑ دو ۔۔۔مرد بنومردانہ۔۔۔سچل غلامی والا وہم دور کرو۔ شملا باندھ شاہانہ
    سچل سرمست کی آواز نہایت بلند ہے۔ وہ بیباک صوفی شاعر تھے۔ فرسودہ رسومات کے خلاف لکھا اور مُلا کے تنگ نظریات اور منافرت والی پالیسی کو رد کیا۔ سچل سرمست ایک وسیع النظر انسان تھے۔ انہوں نے انسان کی عظمت کو اہمیت دی۔ وسیع انسانی برادری کے تصور کولیکر بے تعصبی کی تعلیم دی۔ ہندو بھی انکے مرید ہو گئے اور اسلام قبول کیا یہ سب صرف بے تعصبی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ سچل پیر و مریدی سے بھی نالاں تھے۔ فرماتے ہیں۔

    نا میں شیعہ۔ نا میں سنی۔ نا میں سید سداواں
    نا میں مرید۔ نا میں پیر۔ سارے فقر کا فقیر
    نا میں حاکم نا میں ظالم۔ میں ہوں امن کا امیر

    امن کی اہمیت آج کے دور میں بھی مسلم ہے۔ ظلم کی مخالفت کر تے ہوئے اُنہوں نے عالمی برادری کو ایک جانا۔ انکی شاعری میں رجائیت پسندی واضح نظر آتی ہے قنوطیت نظر نہیں آتی جبکہ عشقیہ شاعری میں کہیں کہیں قنوطیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر سچل کی شاعری میں پُر امیدی نا ہوتی تو شائد وہ اتنے کامیاب شاعر نہ ہوتے۔غلامی کی نفسیات کو رد کرتے ہوئے پیغام دیا ترجمہ : بارات کے پیچھے نہ چلو۔ خود کو دولہا کی طرح جانو۔ رہنمائی کرو۔

    اکثر سوانح نگار وں نے بزرگ ہستیوں کی سوانح حیات لکھتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ عشقِ حقیقی سے سر شار تھے۔ فقط چندایک مجاز کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اکثر کی زندگی میں ابتدا میں مجاز اور آخر میں حقیقت کی طرف اشارے بھی ملتے ہیں۔ سچل سرمست کی سوانح عمری میں ان کی جوانی کے ادوار کا مختلف تذکرہ ملتا ہے۔ مولانا رانی پوری اُنکے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عین دورِ جوانی میں اپنے نفس پر قابو رکھتے تھے۔ اپنے فقیرانہ اور قلندرانہ خیالات میں گُم رہتے تھے۔ سچل سرمست کی زندگی میں کسی مغنیہ کے آنے کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ انکے کلام میں بھی حسن و عشق کے کئی اشارات و استعارات ملتے ہیں۔ سچل نے بھی دیگر شعراء کی طرح عالمی بھائی چارہ اور انسان دوستی کو اپنے کلام میں اُجاگر کیا۔ ظلم و وحشت کی مذمت کی اور مذہبی منافرت اور فرقہ بندی کو غلط جانا۔ 1829 میں 90 برس کی عمر میں وفات پائی۔

    مہ جبین ملک


    0 0

    ڈی این اے دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو آپ کے نسلی و جسمانی شجرے کا
    ڈاکخانہ ہے۔ دوسرا ڈی این اے لسانی ہے۔ جو آپ کے تہذیبی پس منظر کا چٹھا کھول کے رکھ دیتا ہے۔ زبان کھلی نہیں کہ آپ کھل گئے۔ اس لسانی ڈی این اے کی گواہی میں قرآن کہتا ہے ’’ بولو کہ پہچانے جاؤ‘‘… بچپن سے ہم میں سے ہر کوئی سنتا آ رہا ہے’’ آدمی اپنی زبان تلے پوشیدہ ہے‘‘… زبان کا گھاؤ تلوار کے گھاؤ سے زیادہ مہلک ہے، چھٹانک بھر کی زبان تمہیں جنت میں بھی لے جا سکتا ہے اور جہنم کے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔ لوگوں سے احسن طریقے سے بات کرو۔ تلخ سے تلخ بات بھی شیریں انداز میں کہی جا سکتی ہے، گر کہنے کا سلیقہ ہو وغیرہ وغیر۔۔
    مگر بولی اور زبان ( لینگویج ) میں کوئی فرق ہے یا یہ ایک ہی شے کے دو نام ہیں۔ شاید کوئی بھی بولی صدیوں کے نچوڑ سے تہہ در تہہ وجود میں آتی ہے۔جیسے لاوے سے پہاڑ بننے کا عمل۔ بولی کے ڈھانچے میں ، مذکر ، مونث ، واحد جمع ، روزمرہ محاورہ غرض سب کچھ ہوتا ہے مگر ضروری نہیں کہ بولنے والے کو یہ بھی علم ہو کہ فلاں شے مذکر کیوں ہے۔ فلاں لفظ اپنا وجود رکھنے کے باوجود سائلنٹ کیوں ہے۔ جیسے بالکل کا الف۔ فلاں محاورے کا پس منظر کیا ہے۔
    یہ راز تب کھلتے ہیں جب واضح انداز میں مرتب کردہ گرائمری قواعد و ضوابط کسی بولی کو باقاعدہ زبان کا روپ دیتے ہیں۔ گویا بولی کا آئین برطانوی آئین کی طرح غیر تحریر شدہ ہے مگر جب اسے گرائمر میسر آجاتی ہے تو گویا صحتِ زبان کو قواعدو ضوابط کی شکل میں ایک خوبصورت اور پائیدار گھر کی چھت مل جاتی ہے۔ یعنی بولی وہ خام مال ہے جسے اگر گرامر کے ڈبے میں ڈال دیا جائے تو وہ پروڈکٹ وجود میں آتی ہے جسے ہم لینگویج کہتے ہیں۔

    ایک لفظ ہے جذبہ۔ اس کی جمع ہے جذبات۔ لیکن بعض لوگ اتنے جذباتی ہو چکے ہیں کہ وہ جذبات کو بھی واحد گردانتے ہوئے اپنے جذباتوں کے اظہار سے باز نہیں آتے۔ جیسے کئی بالی وڈ گانوں میں آج کل جذباتوں کی بہار ہے۔ یہاں گرامر کا کوڑا حرکت میں آتا ہے اور جذباتوں جیسے مکروہات کی سرکوبی کرتے ہوئے زبان کے ڈھانچے کو جہالت کی پھپوند سے بچاتا ہے۔ مگر سیلابِ جہالت اتنی شدت کے ساتھ تمام بند توڑ رہا ہے کہ مجھے تو اب گرائمر کے قواعد بھی اتنے ہی با اختیار لگے ہیں جتنے کہ ہمارے عوام۔ کبھی کبھار ہمیں اپنے قیمتی فالتو وقت سے فرصت ملے تو پرانے اخبارات کی فائلیں یا آل انڈیا ریڈیو، ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی، حتی کہ بی بی سی اردو سروس کے پرانے پروگرام کھوجنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر آپ واقعی یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ایک معیاری اور قواعد و ضوابط کے عرق سے نتھری زبان پڑھنے اور سننے میں کیسی لگتی ہے۔ وجہ بس اتنی سی تھی کہ پرانے صحافی و صداکار و ناظم اپنی مسلسل تربیت کے سبب خوب واقف تھے کہ اسٹوڈیو یا نیوز روم سے باہر کی بولی بھلے کچھ بھی ہو مگر اسٹوڈیو کے اندر جو زبان استعمال ہوگی یا خبر و مضمون تخلیق کرنے والے قلم سے جو حرف نکلے گا وہ عوام کے لیے چونکہ لسانی سند کا درجہ رکھے گا لہذا اسے تمام لسانی علتوں اور بازاری و آلائشوں سے پاک اور آئینِ گرامر کے تحت ہونا چاہیے۔

    یہ بات درست ہے کہ صحافتی زبان مسجع و مقفع لسانی روغنیات سے پاک ایک زود ہضم اور آسان درجے کی ہونی چاہیے تاکہ صحافت کا بنیادی مقصد یعنی ابلاغِ عامہ ممکن ہو سکے۔ یعنی ایک ایسی زبان جسے پنواڑی بھی سمجھ لے اور فیض صاحب پر بھی گراں نہ گذرے۔ مگر زود ہضم اور آسان صحافتی زبان کا یہ مطلب تو ہرگز ہرگز نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا کہ وہ ماورائے آئین اقدامات کی طرح ماورائے گرائمر بھی قبول کر لی جائے۔ لسانی چوکسی کی کمزوری کے سبب وقت کے ساتھ ساتھ المئیہ یہ ہوا ہے کہ ابلاغ کے نام پر بنیادی قواعد سے انحراف کو برداشت کرتے کرتے آج یہ مرحلہ آن پہنچا ہے کہ زبان اور بولی کا فرق تو جو مٹا سو مٹا مگر شرفا کی بولی اور بازاری بولی کا فرق بھی خود کشی کر چکا۔ مثلاً ایک لفظ ہے بالمشافہ۔ اب نیوز روم میں ’’بالمشافہ’’ نہ کوئی سمجھتا ہے نہ برتتا ہے۔
    کوئی برتنے کی جرات بھی کرے تو اسے پرانے زمانے کا کھڑوس سمجھا جاتا ہے۔ ہاں بالمشافہ ملاقات کے بجائے ون ٹو ون میٹنگ چپراسی سے ایڈیٹر تک سب کی سمجھ میں فوراً آ جاتی ہے اور اسے ابلاغ تصور کر لیا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ فی زمانہ آپ ’’ مجرموں کی تلاش کے لیے کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا جائے گا‘‘ جیسے جملے برتیں۔ مگر یہ بھی تو نہ نشر کریں کہ وزیرِ اعظم نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے لیے او کے کا سگنل دے دیا۔ یہ لکھنے یا بولنے میں کیا قباحت ہے کہ وزیرِ اعظم نے شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کی منظوری دے دی۔ او کے کا سگنل بظاہر انگریزی اصطلاح ہے۔ مگر ایسی نام نہاد انگریزی اصطلاح برتنے کا بھی کیا فائدہ کہ انگریز بھی سنے تو لاعلمی میں سامنے والے کا گلا گھونٹ دے۔

    آپ زبان کو اپنی مرضی سے لنگوٹ بندھوا سکتے ہیں، شلوار قمیض پہنوا سکتے ہیں یا تھری پیس سوٹ میں بھی جکڑ سکتے ہیں۔ مگر آپ کو یہ اجازت کس نے دی کہ آپ زبان کو لنگوٹ کسوا، کرتا پہنوا اور اس کرتے پر ٹائی بندھوا اسے فخریہ پیش کش کے طور پر ابلاغ کے اکھاڑے میں اتار دیں۔ زبان کو بولی اور بولی کو داشتہ سمجھنے کے سبب نیوز روم اور نشرگاہ میں جو ابلاغی قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ شائد اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہو کہ اب گھروں میں بچوں کی لسانی روک ٹوک کا رواج ختم ہو چکا ہے۔ دادا دادی کی تو چلتی نہیں لہذا جدید والدین بچے کو طہارت یا آب دست کا طریقہ سکھانے کے بجائے پوٹی دھونا سکھا رہے ہیں اور ہاتھ دھلوانے کے بجائے ہینڈز واش کروا رہے ہیں۔ چنانچہ زبان کا ہینڈز اپ ہونا تو بنتا ہے۔ اب بچہ زبان پڑھ کر نہیں سن کے سیکھ رہا ہے۔

    لہذا حرف شناسی کی صلاحیت سے محروم ہے۔ لہٰذا لفظ کی تصویر بھی اس کے ذہن میں نہیں بنتی۔ لہذا یہ صلاحیت بھی پیدا نہیں ہوتی کہ کون سا لفظ معیاری یا غیر معیاری ہے اور کس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کون سا لفظ یا اصطلاح کس موقع پے برتنا زیادہ مناسب ہے۔ والدین اور اساتذہ کے ہاتھوں تیار ہونے والی یہ وہ بدقسمت نسل ہے جس کا بیشتر علم بصری یا مشاہداتی نہیں بلکہ سماعی ہے۔یعنی اگر یہ نسل بہری ہوتی تو بالکل بے بہرہ ہوتی۔ اسے کہتے ہیں لسانی طوائف الملوکی۔ مگر طوائف الملوکی کی اصطلاح بھی آج کتنے لوگ سمجھتے ہیں۔
    حالانکہ لسانی اعتبار سے صحافت اس قدر غریب نواز شعبہ ہے کہ کام چلاؤ ابلاغ کے لیے تین سو سے چھ سو کے درمیان الفاظ کا جاننا ضروری ہے اور معیاری صحافت کے لیے ایک ہزار حد ڈیڑھ ہزار روزمرہ الفاظ کی قابلیت مناسب سمجھی جاتی ہے۔ مگر فی زمانہ یہ بھی بہت غنیمت معلوم پڑتا ہے کہ پوری خبر میں کوئی ایک معیاری اردو یا انگریزی جملہ سننے ، پڑھنے یا دیکھنے کو مل جائے۔

    دل سے گزر کے حیرتِ جاں تک تو آ گئے
    جائیں کہاں اب اور یہاں تک تو آ گئے

    چند برس پہلے تک صحافت اختیار کرنے کے شوقین لڑکے بالے بالیاں جب کسی سینئر سے اپنی لسانی اہلیت بڑھانے کی ترکیبوں کے بارے میں پوچھتے تھے تو عموماً اس طرح کے مشورے سننے کو ملتے تھے کہ میاں انگریزی اخبار کا اداریہ یا فلاں فلاں کے کالم اور مضامین ، کچھ کرشن چندر اور بیدی، ایک آدھ ساحر لدھیانوی پڑھ لو اور اگر یہ سب نہیں کر سکتے تو کم ازکم ابنِ صفی کی عمران سیریز ہی پڑھ لو۔اور اگر بہت ہی آلسی ہو تو رضا علی عابدی کو ہی سن لو۔
    کام نکل جائے گا۔

    مگر یہ موبائل فون پر ایس ایم ایس میں لکھی جانے والی موبلش انگلش سے پہلے کی بات ہے۔ تب پھٹیچر سے پھٹیچر کتاب کی تعدادِ اشاعت بھی کم ازکم ایک ہزار ہوتی تھی۔ آج کی طرح پانچ سو کتاب چھپ کر بطور وزیٹنگ کارڈ نہیں بٹتی تھی۔ کیونکہ صفحہ پلٹنے سے پیدا ہونے والی سرسراہٹ کو واٹس ایپ بھیجنے اور وصول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے کلک نے نگل لیا ہے۔ یہ الفاظ کو درست انداز میں برتنے کی خاطر ذہن نشیں کرنے کا نہیں سیلفیاں جمع کرنے اور ٹیگ کرنے کا دور ہے۔ یہ کسی شخصیت کے پاس بیٹھ کر فیض حاصل کرنے کا وقت نہیں۔ اس کے ساتھ سیلفی لینے کا وقت ہے۔ اچھا ہوا استاد محبوب خزاں ۔

    ایک محبت کافی ہے
    باقی عمر اضافی ہے
    لکھ کر بھلے وقت میں پرلوگ سدھار گئے ورنہ آج وہی محبوب خزاں کو جدید ابلاغیات سے قدم ملانے کے لیے لکھنا پڑتا
    ایک سیلفی کافی ہے
    باقی سب اضافی ہے

    یہ تو تھا زوال پذیر زبان کے عروج کا دکھڑا۔ اب آئیے ثقافت کی جانب۔ زبان ثقافت سے پھوٹتی بھی ہے اس کی آبیاری بھی کرتی ہے اور حفاظت بھی۔ جب زبان ہی قابو میں نہ رہے تو ثقافت پے کیا بات کروں۔

    وسعت اللہ خان
    ( یہ مضمون کراچی یونیورسٹی کی بین الاقوامی میڈیا کانفرنس میں ’’ زبان، ثقافت اور میڈیا ’’ کے سیشن میں پڑھا گیا)۔


    0 0

    چولستان وادی سندھ کے قدیم تمدن کا خوبصورت شاہکار رہا ہے۔ یہاں پہلے کبھی دریا ہاکڑا بہتا تھا لیکن اب یہاں ویرانیوں نے ڈیرے لگا رکھے ہیں۔ جگہ جگہ کچے قلعے عظمت رفتہ کی گواہی دیتے ہیں۔ چولستان کو روہی بھی کہتے ہیں اسی نسبت سے وہاں کے باسی روبیلے کہلاتے ہیں۔ کوئی ایسا بچہ نظر نہیں آئے گا جس کے تن پر پورا لباس ہو۔ میلوں تک پانی نام کی کوئی شے نہیں ملے گی۔پاکستان میں اس سے زیادہ شاید ہی کوئی پس ماندہ علاقہ ہو۔ لاکھوں کی آبادی پر مشتمل یہ خطہ بنیادی تعلیم اورطبی سہو لتوں سے محروم ہے ۔ لوگ بیمار ہو جائیں تو پہلی ہنگامی امداد دعا ہوتی ہے۔ دو ڈھائی سو کلومیٹر کا سفر طے کرتے کرتے مریض کا دم راستے میں ہی مسافر ہو جاتا ہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔ وبائی امراض پھوٹ پڑیں تو آبادیاں قبرستان بن جاتی ہیں۔ اگر سال میں معمول سے زیادہ بارش ہو تو روبیلے کھل اٹھتے ہیں ورنہ نقل مکانی ان کی زندگی کا خاصا ہے۔

    اس سال پانچ برس بعد چولستان میں بارش ہوئی۔ تالابوں اور ذخیرے کا مناسب بندوبست نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر پانی ضائع ہو گیا اور قحط سالی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا،انسانی تہذیبی ارتقاء کی نعمتوں سے محروم چولستان میں نہ کوئی غیر سرکاری ادارہ غم بانٹنے آتا ہے اور نہ ہی کسی صاحب منصب کو غم گساری کی توفیق ہوتی ہے۔ انسانوں کی ان بستیوں میں روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے برعکس ہندوستان کے صحرا راجستھان میں زبردست ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور وہاں کی تہذیب و تمدن کو عالمی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے۔ راجستھان میں پٹریاں بچھا کر سیاحت کو زبردست فروغ دیا گیا ۔ بھارتی حکومت نے چھوٹے بڑے بند باندھ کر صحرا کو نخلستان میں بدل ڈالا جبکہ ہمارے ہاں چولستان کی زندگی کو بنیادی ضرورتیں بھی میسر نہیں لوگ سارا سال سخت محنت کرتے، بھیڑ بکریاں پالتے اور موسم کی شدت سے بچ جانے والے جانوروں کو عیدالاضحی پر فروخت کرتے ہیں۔ یہی ان کا ذریعہ روزگار ہے۔ 
    چولستان کے لو گ بڑے صابر اور شاکرہیں۔ تمام تر محرومیوں اور ناانصافیوں کے باوجود بندوق اٹھاتے ہیں اور نہ ہی ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ چوری چکاری سے بالکل ناآشنا ہیں۔ وہاں جرائم کا تصور نہیں۔ سال میں ایک دو مرتبہ جعلی پیر وہاں کا چکر لگا کر سادہ لوح عوام کو چکمہ دے کر بچا کھچا مال اسباب بھی لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ یہاں کے لوگ مذہب سے دور ہیں۔ اکثر لوگوں کو کلمہ نہیں آتا۔ نمازی نہ ہونے کی وجہ سے مسجدیں ویران ہیں اور اس کی وجہ محض غربت ہے، پیٹ کی آگ بجھانے سے فرصت ملے تو وہاں کے لوگ دین و ایمان کی بات کریں۔ لوگ غربت و افلاس کے باوجود اپنی زندگی میں مست ہیں۔ وہ محض ایک امید پر جئے جا رہے ہیں کہ خدا ان کے حالات بدلے گا۔ چولستان میں نہ سڑک ہے نہ بجلی دور دور تک ریت کا سمندر ہے۔ 

    اندرون چولستان کوئی مسافر راستہ بھول جائے تو اس کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ وہ بھوکا پیاسا ریت پر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے۔ چولستان میں اکثر جگہوں پر مردہ جانوروں کے پنجر ملتے ہیں۔ 400 کلومیٹر لمبے اور 300 کلومیٹر چوڑے رقبے پر پھیلے چولستان میں شاید ہی پکا مکان ملے۔ صرف گھاس پھوس کی جھونپڑیوں میں سسکتی زندگی ملے گی۔ لوگوں کی شدید خواہش پوچھی جائے تو زمین، قرضے کی بجائے صرف پانی اور طبی سہولت کا مطالبہ ہوگا۔ بچیوں کو میلوں مسافت طے کرکے پانی کے گھڑے لانے پڑتے ہیں۔ وہ آنے جانے ہی میں جوان ہو جاتی ہیں۔ ایک ہی گھاٹ پر انسان اور ڈنگر پانی پیتے ہیں۔ چولستان میں ریت کے اڑتے جھکڑ، کمزور اور لاغر انسان، تعلیم سے محروم بچے اور دوران زچگی ادویہ نہ ہونے سے موت کی آغوش میں جانے والی عورتیں ہیں۔

    چولستانی اللہ بخش نامی بوڑھے کی یہ فریاد آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔ وہ کہتا ہے ’’کچھ دن پہلے یہاں سے تبلیغی جماعت کا گزر ہوا۔ ہم نے ان سے گذارش کی کہ ہمارے کچھ لوگوں کے جنازے پڑھاتے جائو۔ انہوں نے کہا آپ لوگ جنازے لے آئیں ہم اتنی دیر میں وضو کر لیتے ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ مردے تو دو سال قبل دفن کر دیئے گئے ہیں۔ جماعت کے لئے یہ بات حیران کن تھی کہ جب ان کی تدفین ہوئی تو اس وقت جنازے کیوں نہیں پڑھائے گئے۔‘‘ اللہ بخش کہتا ہے کہ ’’تب یہاں کوئی جنازہ پڑھانے والا نہیں تھا۔‘‘ پھر آسمان کی طرف منہ کر کے دعا کرتا ہے ،اے خدا! جب میری روح قبض ہو تو کوئی جنازہ پڑھانے والا ضرور میسر کرنا۔‘‘ بوڑھے چولستانی کی یہ دعا سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ چولستان کے علاقے میں ہر ذی روح کا سلسلۂ تنفس عذاب میں گھرا اور ٹوٹتا نظر آئیگا۔ انسان تو کیا، جانوروں اور پرندوں کیلئے بھی اس علاقے کا ماحول ازلی سوگ میں ڈوبا نظر آتا ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں قحط اور خشک سالی کے خطرے کی باتیں شائد فیشن کے طور پر اور سیاست بازی کے شوق میں بھی کرلی جاتی ہیں مگر اس خطرے کو محسوس کرنا ہو تو ذرا ایک چکر چولستان کا لگا آئیے جہاں پائپوں میں تو پینے کے پانی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

    ندی نالوں کا کھارا گدلا پانی ایک ہی گھاٹ پر انسان بھی پیتے ہیں اور جانور بھی، نہانے دھونے کیلئے پانی کی وافر دستیابی ان علاقوں کے مکینوں کا حسرت بھرا خواب بن چکا ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے دیگر ریاستوں کی طرح ریاست بہاولپور کی بھی آزاد اور خودمختار حیثیت تھی اور اس ریاست کے نواّبین کا طوطی بولتا تھا۔ ان کے ادوارِ نوابی میں چولستان کی کیا حالت تھی، مجھے اس کی تاریخ کا صحیح علم نہیں مگر حقائق یہی بتاتے ہیں کہ والیان بہاولپور نے چولستان جس میں ان کے اپنے قلعے میں بھی موجود تھے، کی تعمیر و ترقی کی جانب توجہ دی ہوتی اور وہاں پانی کے ذخائر بنالئے ہوتے تو آج کا اجڑا چولستان بھی خوشحال، خوش اور مطمئن انسانوں کی بھرپور زندگیوں کی ترجمانی کر رہا ہوتا مگر ان نواّبین کو شادیاں کرنے اور دنیا جہان کی نعمتیں اپنے محلوں میں لا سجانے سے ہی فرصت نہیں تھی اس لئے قیام پاکستان کے بعد سب سے زیادہ پسماندگی جنوبی پنجاب کے علاقے چولستان کے مقدر کا حصہ بنی۔ یہاں کی سب سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ اس علاقے کے بدنصیب، مفلوک الحال، پسے پسماندہ عوام سے ووٹ حاصل کرکے اقتدار کے بڑے بڑے ایوانوں تک پہنچنے والے قائدین نے بھی چولستان کو اپنی عیاشیوں کا مرکز تو ضرور بنایا مگر یہاں کسی سہولت کی جھلک دکھانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی چنانچہ چولستان کی غریبی، بدنصیبی آج ضرب المثل بن چکی ہے۔

    عبدالستار ہاشمی


    0 0

    مولانا شبیر احمد عثمانی ،دارالعلوم دیو بند میں درس و تدریس کی خدمت انجام دیتے ہوئے کتب حدیث کا درس دیتے رہے۔ 1911ء یا اس کے پس و پیش کے زمانہ میں مراد آباد میں بہت بڑا جلسہ ہوا، اس جلسہ میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے ’’العقل والنقل‘‘ کے نام سے اپنا ایک کلامی مضمون پڑھ کر سنایا، حاضرین نے بڑی داد دی۔ دیوبند کے حلقہ میں اس زمانہ میں یہ بات برملا کہی جاتی تھی کہ مولانا شبیر احمد عثمانی کو حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی کے علوم و معارف پر پورا حتوا ہے، وہ حضرت نانوتوی کے مضامین و معانی کو لے کر اپنی زبان اور اپنے طرزادا میں، اس طرح ادا کرتے تھے کہ وہ دل نشین ہوجاتے تھے۔ یہ خیال رہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کے مضامین نہایت غامض، دقیق اور مشکل ہیں، جن تک عوام کی پہنچ نہیں ہوسکتی۔ اس لیے ان کے مضامین اور حقائق کو سمجھنا، پھر زمانہ کی زبان میں اس کی تعبیر و تفہیم کوئی آسان بات نہ تھی اور اسی لیے مولانا شبیر احمد عثمانی کی تقریر و تحریر کی تعریف کی جاتی تھی۔ موصوف عربی تحریر و تقریر پر بھی اچھی طرح قادر تھے۔ مولانا محمود حسن جب مالٹا سے چھوٹ کر واپس آئے، تو عقیدت مندوں نے ہر سمت سے ان کو بلایا، مگر وہ خود تشریف نہ لے جا سکے، اپنے قائم مقام یا ترجمان کی حیثیت سے مولانا شبیر احمد عثمانی ہی کو بھیجا، ان مقامات میں سے خاص طور سے دہلی کے جلسہ میں ان کی نیابت نہایت یادگار اور مشہور ہے.

    مولانا محمود حسن کی طرف سے مولانا عثمانی نے نہایت وَاشگاف تقریر فرمائی تھی اور اپنے اکابر دیوبند کے عقائد اور فقہی مسلک پر اچھی اور شستہ گفتگو کی۔ یہ ترجمانی اور نیابت مولانا شبیر عثمانی کے لیے نہ صرف فخر و شرف کا باعث بلکہ ان کی سعادت اور ارجمندی کی بڑی دلیل ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی بڑے خطیب و مقرر تھے، عالمانہ استدلال کے ساتھ بڑے دلچسپ قصے اور لطیفے بھی بیان کرتے تھے، جس سے اہلِمحفل کو بڑی دلچسپی ہوتی تھی اور ظریفانہ فقرے اس طرح ادا کرتے تھے کہ خود نہیں ہنستے تھے، مگر دُوسروں کو ہنسا دیتے تھے، اُن کی تقریروں میں کافی دلائل ہوتے تھے اور سیاسی و علمی وتبلیغی اور واعظانہ ہر قسم کے بیان پر اُن کو قدرت حاصل تھی، ذہانت و طباعی اور بدیہہ گوئی ان کی تقریروں سے نمایاں ہوتی تھی۔ اکبرؔ کے ظریفانہ اور فلسفیانہ شعر ان کو بہت یاد تھے، وہ ان کو اپنی تقریروں میں عُمدگی سے کھپاتے تھے۔ 

    ان کی تحریر بھی صاف شستہ تھی اور اِس عصر کے اَچھے لکھنے والوں کے لٹریچر کو غور سے پڑھا تھا اور اُس سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ جمعیۃ و خلافت کے جلسوں میں علماء کی بعض تجویزوں کی انگریزی بنانے میں بڑی دقت ہوتی تھی اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے کہا تھا کہ: مولانا شبیر احمد عثمانی کی عبارت کی انگریزی بنانے میں بڑی آسانی ہوتی ہے کیونکہ اُس کی ساخت انگریزی طرز پر ہوتی ہے۔ موصوف کے مضامین اور چھوٹے رسائل تو متعدد ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اُن کے تصنیفی اور علمی کمال کا نمونہ اُردو میں ان کے قرآن کے حواشی ہیں، جو مولانا محمود حسن کے ترجمہ قرآن کے ساتھ چھپے ہیں، اُن حواشی سے مولانا مرحوم کی قرآن فہمی اور تفسیروں پر عبور اور عوام کے دل نشین کرنے کے لیے اُن کی قوت تفہیم حد بیان سے بالا ہے۔ 

    مجھے اُمید ہے کہ اُن کے اُن حواشی سے مسلمانوں کو بڑا فائدہ پہنچا ہے، ان حاشیوں میں انہوں نے جا بجا اپنے ایک معاصر کی تصنیف کا حوالہ صاحب ارض القرآن کے نام سے دے کر اس بات کا ثبوت بہم پہنچایا ہے کہ و ہ معاصرانہ رقابت سے کس قدر بلند تھے۔ میں نے اپنے حلقہ درس میں اُن کے حواشی کی افادیت کی ہمیشہ تعریف کی ہے اور اُن کے پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ ان حواشی کی افادیت کا اندازہ اس سے ہو گا کہ حکومت افغانستان نے اپنے سرکاری مطبع سے قرآنی متن کے ساتھ مولانا محمود حسن کے ترجمہ اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے حواشی کو افغانی مسلمانوں کے فائدہ کے لیے فارسی میں ترجمہ کروا کے چھاپا ہے۔ 

    مولانا مرحوم نے کراچی پہنچ کر گو کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہیں کیا، مگر مذہبی معاملات میں اُن کی حیثیت مشیر خاص کی تھی، اس لیے زبانِ خلق نے اُن کو ’’شیخ الاسلام‘‘ کہہ کر پکارا، جو اسلامی سلطنتوں میں عموماً قاضی القضاۃ کا لقب رہا ہے اور زیادہ تر اس لقب کی شہرت دولت عثمانیہ میں رہی، اسی حیثیت سے مولانا مرحوم پاکستان کی مجلس آئین ساز کے رکن بھی تھے اور اس جماعت کے روح رواں تھے، جو اس آئین کو اسلامی قالب میں ڈھالنا چاہتی ہے اور اس راہ میں مولانا مرحوم ہی کی ابتدائی کوشش کی کامیابی کا وہ نتیجہ تھا، جس کو پاکستان کی آئینی اصطلاح میں ’’قرار دادِ مقاصد‘‘ کہتے ہیں۔ مولانا مرحوم گو مستقل طور سے پاکستان چلے گئے تھے ،مگر تعجب ہو گا کہ انہوں نے نہ تو اپنا کوئی خاص گھر بنایا، نہ کسی کی ذاتی کوٹھی پر قبضہ کیا بلکہ بعض عقیدت مند اہل ثروت کے مکان میں رہے اور اسی مسافرت میں اس مسافر نے اپنی زندگی بسر کردی۔ مولانا مرحوم کی صحت آخری دنوں میں اچھی نہ تھی۔

    1949ء میں پاکستان سے خیر سگالی کا ایک وفد حجاز جارہا تھا، اُس کے ممبروں میں مولانا مرحوم کا نام بھی تھا، مگر وہ اسی علالت کے سبب نہ جا سکے اور اُن کی جگہ مولانا ظفر احمد عثمانی گئے۔ مولانا مرحوم پر فالج کا اثر تھا، جس سے اُن کے دل و دماغ اور جسمانی قویٰ پر بڑا اثر تھا، اتفاقِ وقت یا تقدیر کا تماشہ دیکھیے کہ 17 صفر 69ھ مطابق 8 دسمبر 49ء میں جب سردی انتہائی نقطہ پر تھی، وہ جامعہ عباسیہ کی تعلیمی ضرورت سے ایک تقریب میں شرکت کے لیے کراچی سے بھاولپور گئے، جہاں سے سنا ہے کہ اُس وقت بڑی سردی تھی۔ 22 صفر 69ھ مطابق 13؍ دِسمبر 49ء کی صبح تک طبیعت بالکل ٹھیک ہی معلوم ہوتی تھی، خلاف معمول اس روز ایک پیالی کی بجائے دو پیالیاں چائے پی اور فرمایا رات کو کچھ حرارت رہی چنانچہ اسی وقت ڈاکٹر کو ٹیلی فون کر کے طلب کیا گیا۔

     ڈاکٹر نے بہت خفیف حرارت بتائی اور دوا دے دی۔ 10 بجے کے قریب سینہ میں غیر معمولی گھبراہٹ محسوس ہوئی، دوبارہ ڈاکٹر کو بلایا گیا، نبض کی رفتار اس وقت اپنی طبعی رفتار سے کچھ کم تھی، ایک طبیب اور دوسرے ڈاکٹر کو بھی طلب کرلیا گیا۔ بہاولپور کے وزیر تعلیم اور وزیر مال بھی پہنچ گئے، چار پانچ انجکشن دئیے گئے، مگر نبض کی رفتار کم ہوتی گئی، آخر 11 بج کر 50 منٹ پر یہ آفتاب علم غروب ہوگیا۔ میت اُسی روز شام کو بذریعہ پاکستان میل 7 بجے کے قریب بہاولپور سے کراچی روانہ کی گئی، اُسی روز شام کو پاکستان کے اس مایۂ ناز عالم باعمل کو لاکھوں اشک بار آنکھوں اور سوگواروں نے سپرد خاک کیا۔ ڈیرہ نواب کے اسٹیشن پر نواب صاحب بہاولپور نے میت کی زیارت کی اور اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ کراچی کے اسٹیشن پر مسلمانوں کے بہت بڑے مجمع نے میت کو اُتارا اور پہلے مولانا مرحوم کی قیام گاہ پر لائے اور وہاں سے اُن کی قیام گاہ کے سامنے ایک زمین میں جس کو عامل کالونی کہتے ہیں، دفن کیا گیا۔  


    0 0

    ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آمدن دگنی ہونے کی نسبت اچھی صحت اور
    اچھا شریکِ زندگی لوگوں کی زندگیوں کو زیادہ خوش و خرم بناتا ہے۔ لندن سکول آف اکنامکس کی اس تحقیق میں دو لاکھ لوگوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے مختلف حالات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سے پتہ چلا کہ ڈپریشن یا بےچینی کی بیماری لوگوں کی خوشی پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جب اچھے شریکِ حیات کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی نصیب ہوتی ہے۔ تحقیق کے شریک منصف کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے 'ریاست کا نیا کردار سامنے آتا ہے۔'یہ تحقیق دنیا بھر میں کیے جانے والے رائے عامہ کے متعدد بین الاقوامی جائزوں پر مشتمل ہے۔
    سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ آمدن دگنی ہو جانے سے ایک سے لے کر دس تک کے پیمانے میں خوشی صرف 0.2 درجے کے قریب بلند ہوئی۔ تحقیق کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی آمدن کے خود پر پڑنے والے اثر کی بجائے دوسروں سے اپنی آمدن کے تقابل کا زیادہ احساس کرتے ہیں۔ تاہم اچھا شریکِ حیات مل جانے سے خوشی میں 0.6 درجے اضافہ ہو جاتا ہے، جب کہ شریکِ حیات کی موت یا علیحدگی سے اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم اس پیمانے پر سب سے زیادہ منفی اثر ڈپریشن اور بےچینی کی بیماری سے پڑتا ہے، جس سے خوشی 0.7 درجے گر جاتی ہے۔ اسی طرح بےروزگاری سے بھی اسی قدر کمی واقع ہوتی ہے۔

    تحقیق کے شریک مصنف پروفیسر رچرڈ لیئرڈ نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کی خوشی میں نیا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، اور وہ دولت پیدا کرنے سے زیادہ خوشی پیدا کرنے پر زور دے۔ انھوں نے کہا: 'شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو چیزیں ہماری خوشی اور دکھ میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہیں وہ ہمارے سماجی تعلقات اور ہماری ذہنی اور جسمانی صحت ہیں۔
    'ماضی میں ریاست غربت، بےروزگاری، تعلیم اور جسمانی صحت جیسے مسائل کے خلاف جنگ لڑتی رہی ہے۔ لیکن گھریلو تشدد، کثرتِ شراب نوشی، ڈپریشن اور بےچینی، امتحانوں کا دباؤ، وغیرہ بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ انھیں مرکزی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔'


    0 0




    0 0

    الحمدﷲ ہمیں اپنی زندگی میں ایک مرتبہ پھر اﷲ کے محبوب ترین بندہ، رحمۃ اللعالمین، حضرت محمد رسول اﷲﷺ کے یومِ ولادت پر خوشیاں منانے اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کاموقع مل رہا ہے۔ عید میلادالنبی مبارک ہو۔ حضرت محمد ﷺ نے اﷲ کی آخری کتاب قرآن کے ذریعے انسان کو اس دنیا میں فلاح و کامرانی کے اصول بتائے اور طریقے سکھائے۔ آپﷺ کی تعلیمات سے انسان آخرت میں سرخروئی کے رازوں سے واقف ہوا۔ آپ کی قیادت میں ریاست مدینہ محض دس سال کے اندر دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب کا مرکز بن گئی۔ یہ انقلاب انسان کے مادی اور روحانی دونوں رخوں پر اثر انداز ہوا۔ محمد رسول اﷲ ﷺ کی تعلیمات ہر دور کے انسان کے لیے فلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں۔

    مسلمان جب تک قرآن پاک اور حضرت محمدؐ کی تعلیمات پر عمل کرتے رہے اس دنیا میں کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں۔ جب ان تعلیمات سے انحراف کیا مسلمان اپنی طاقت، دنیا کی امامت سے محروم ہو گئے۔ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی تعدا ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے۔ اسلامی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دنیا میں جگہ جگہ مسلمان غیروں کے سیاسی اور اقتصادی تسلط میں مبتلا ہیں۔ کشمیر و فلسطین سمیت دنیا کے کئی خطوں میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ اس صورت حال پر عالمی ضمیر تو ایک طرف خود مسلم ضمیر بھی خاموش ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی والی امت مسلمہ کے پچاس کروڑ سے زیادہ افراد شدید غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس غربت کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ایک چھوٹی سی اقلیت نے وسائل کو اپنے پاس روک رکھا ہے۔ غریب یا نہایت کم سالانہ قومی آمدنی رکھنے والے نمایاں اسلامی ممالک میں پاکستان، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجیریا، شام اور دیگر ایشیائی و افریقی مسلم ممالک شامل ہیں۔
    نبی کریم ﷺ نے جو نظام عطا فرمایا خلفائے راشدین کی جانب سے اس پر عمل کا ثمر یہ ملا کہ ریاست مدینہ میں تھوڑے عرصے میں ہی زکوٰۃ دینے والے تو بہت ہوگئے لیکن لینے والوں کو ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ انسانی فطرت سے سب سے زیادہ واقف، خیر البشر حضرت محمد ﷺ نے ایک روز دعا فرمائی۔
    اے اللہ! میں کفر اور افلاس سے پناہ مانگتا ہوں۔
    پوچھا گیا، کیا یہ دونوں برابر ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ہاں۔ (سنن نسائی)

    ایک روز آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ افلاس، قلت، ذلت اور ظلم کرنے یا مظلوم بننے سے اﷲ کی پناہ مانگا کرو۔ (سنن ابن ماجہ)

    غربت بہت تکلیف دہ حالت ہے۔ اس کی وجہ سے کئی محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی جرائم مثلاً چوری، ڈکیتی، رہزنی وغیرہ کے اسباب میں غربت اہم ترین ہے۔ قرآن پاک اور تعلیمات نبوی پر ایمان رکھنے والے افراد اور معاشروں کی ذمے داری ہے کہ وہ غربت دور کرنے اور معاشرے میں جرائم کی سطح کم سے کم رکھنے کے لیے ملک میں ذرایع پیداوار کو ترقی دیں اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں۔ اسلامی اقتصادیات کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ معاشرے میں دولت کا ارتکاز نہ ہو اور گردش زر کا زیادہ سے زیادہ اہتمام ہو۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دولت کے حصول کی کوششیں اپنے ساتھ کئی پابندیاں بھی لیے ہوئے ہیں۔ دولت اور وسائل اللہ کے عطا کردہ ہیں۔ انسان اپنی کوششوں سے ان وسائل تک رسائی پاتا ہے۔ لیکن انسان کو دولت کمانے کی مطلق آزادی نہیں دی گئی۔

    ناجائز اور حرام ذرایع سے دولت کمانا منع ہے اور ایسا کرنا گناہ۔ انسان اپنی کمائی ہوئی دولت کو خرچ کرنے میں بھی کلی خودمختار نہیں۔ ناجائز اور ممنوعہ کاموں پر، دوسروں کے استحصال، ذخیرہ اندوزی، ظلم کے کاموں، معاشرے میں امن کے بگاڑ اور دیگر برے کاموں پر دولت خرچ نہیں کی جانی چاہیے۔ دولت کمانے اور خرچ کرنے پر یہ پابندیاں سرمایہ دارانہ نظام پسند نہیں کرتا۔ یہ پابندیاں اہل ثروت افراد کو دوسروں پر ظلم سے اور استحصال کرنے سے باز رکھتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں جھوٹ، دھوکا دہی، رشوت، خیانت، ملاوٹ، فراڈ، ظلم کی آمیزش اور دیگر منفی درایع سے ہونے والی کمائی سے منع کیا گیا ہے۔

    ایک مجلس میں آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے بہتر اور افضل کمائی کون سی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی تجارت جس میں اﷲ کی نافرمانی شامل نہ ہو اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا۔ (مسند احمد) 

    آج ہمارے معاشرے میں کئی برائیاں نظر آتی ہیں۔ غذائی اشیاء اور دواؤں میں ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، کم تولنا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی، رشوت، چور بازاری، دوسروں کے مال و اسباب پر ناجائز قبضوں، اور دیگر کئی منفی کاموں نے ہمارے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کئی لوگ ایسے ہیں جو عبادت کرتے تو نظر آتے ہیں لیکن اس عبادت کا اثر ان کی عملی زندگی میں نظر نہیں آتا۔ کوئی ملاوٹ میں مصروف ہے، کوئی بلیک مارکیٹنگ میں، کوئی دوسروں کو ناحق تکلیف پہنچانے میں۔ کئی لوگ اپنے فائدے کے لیے بہت آرام سے جھوٹ بول دیتے ہیں۔
    یاد رکھنا چاہیے کہ ناجائز کمائی محض انفرادی برائی نہیں بلکہ ہر ناجائز کمائی کسی نہ کسی کی حق تلفی کی وجہ بنتی ہے۔

    اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات اور تعلیمات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کا معاشرہ ہم آہنگی، اتحاد، تعاون، خیر و فلاح کے ثمرات سے محروم ہونے لگتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے۔ لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہے اور ان کے درمیان تلخیاں اور نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ ایسی کئی حالتیں ہم اپنے اردگرد دیکھ رہے ہیں۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے پوچھاکہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟

    لوگوں نے عرض کیا مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ تو درہم ہو نہ کوئی اور سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن اپنی نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ اﷲ کے پاس حاضر ہوگا۔ لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا، کسی کو قتل کیا ہوگا، تو ان تمام مظلوموں میں اس کی نیکیاں بانٹ دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہے تو ان کی غلطیاں اس کے حساب میں ڈال دی جائیں گی اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)

    کچھ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ناجائز طریقوں سے خوب دولت کماتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ صدقہ خیرات بھی کرتے رہتے ہیں شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے صدقات ناجائز کمائی کے گناہ کو دھو دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
    کوئی بندہ حرام مال کمائے پھر اس میں سے خدا کی راہ میں صدقہ کرے تو یہ صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (مسند احمد)

    آج اُمتِ مسلمہ کو درپیش کئی مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے معاشروں کو رسول اللہﷺ کی تعلیمات کے مطابق نہیں چلایا۔ ہمارے حکمرانوں، افسروں، تاجروں، صنعتکاروں اور کسی بھی ذمے داری پر عائد افراد کی اکثریت کسی نہ کسی طرح دوسروں کی حق تلفی کی مرتکب ہوتی رہی ہے۔ ہم پاکستانی اگر اپنی حالت بہتر بنانا چاہتے ہیں تو کیپٹل ازم کے دھوکے یا کمیونزم کے سحر میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے ہمیں قرآن پاک اور حضرت محمدﷺ کے عطاکردہ نظام سے روشنی حاصل کرنا ہوگی۔

     ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی


    0 0

    شام کے شہر حلب کے مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے شہریوں نے اُس وقت
    ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا سائٹس پر 'الوداعی پیغامات'پوسٹ کیے جب حکومتی فورسز باغیوں کے زیرقبضہ علاقے کے قریب پہنچ گئیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کے مطابق ہزاروں عام شہری مشرقی حلب میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ 'انسانیت کا جنازہ نکل جانے جیسا ہے'۔ ان حالات میں متعدد افراد نے دل خراش 'الوداعی'پیغامات پوسٹ کیے ہیں جن میں سے ایک 7 سالہ بچی بانا ال عبید کا پیغام بھی ہے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران حلب کی صورتحال پر کیے جانے والے پیغامات سے دنیا بھر میں مشہور ہوئی، اس بچی کا ٹوئٹر اکاﺅنٹ اس کی والدہ فاطمہ چلاتی ہیں۔
    بچی نے لکھا 'میرا نام بانا ہے، میں سات سال کی ہوں، میں اس وقت مشرقی حلب سے دنیا سے بات کر رہی ہوں، یہ میرے آخری لمحات ہیں'۔ اس سے قبل اس نے ایک ٹوئیٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ اس کے والد زخمی ہوچکے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ترجمان نے بتایا 'حکومتی فورسز مشرقی حلب میں داخل ہوچکی ہیں اور گھروں میں گھس کر شہریوں کو مار رہی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں'۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، 'ہم حلب سے ملنے والی رپورٹس سے خوفزدہ ہیں اور محصور شامیوں کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں'۔ مشرقی حلب کے اس حصے میں موجود مختلف افراد نے بھی ٹوئٹر پر دنیا سے اپیلیں کیں۔
    لینا شامی نامی ایک سرگرم کارکن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ مشرقی حلب میں رہ جانے والے 'قتل عام کے خطرے'کی زد میں ہیں 'جو کوئی مجھے سن سکتا ہے حلب کو بچاؤ، انسانیت کو بچاؤ'۔ حلب پر باغیوں کا قبضہ چار سال سے تھا اور اب صدر بشار الاسد اور ان کی اتحادی فورسز شہر کے بڑے حصے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر چکی ہیں جبکہ مشرقی حلب میں جھڑپیں جاری ہیں۔ عبدالکافی الحمدو نامی ایک استاد نے ٹوئیٹ کی، 'یہ ایک پکار ہے اور شاید آخری پکار ہے، حلب کے لوگوں کو بچاﺅ، میری بیٹی اور دیگر بچوں کو بچاﺅ'۔ انہوں نے اس جگہ کی ایک پیری اسکوپ ویڈیو بھی شیئر کی۔

    عبدالکافی نے اپنی بیٹی کی تصویر بھی ٹوئیٹ کی اور لکھا، 'کیا میں اسے کسی اور دن دیکھ پاؤں گا'۔ ایک ڈینٹسٹ ڈاکٹر سلیم ابو النصیر نے بھی کچھ ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا 'یہ شاید میری آخری اپیل ہے، ہر وہ شخص جو اپنی حکومت، اپنے ملک کو پیغام بھیج سکتا ہے، اس جارحیت کو روکنے کا مطالبہ کرے، قتل عام کو روکو، جنگ کو روکو'۔ ایک فوٹو گرافر امین ال حلبی نے فیس بک پر لکھا 'میں موت یا اسد حکومت کے ہاتھوں گرفتاری کا منتظر ہوں، میرے لیے دعا کریں اور ہمیشہ یاد رکھیں'۔ دیگر افراد نے بھی کچھ اس قسم کے پیغامات سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے: کہا جارہا ہے کہ حلب کے اس چھوٹے سے حصے میں ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔


    0 0

    صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے اٹھنا ہوسکتا ہے بیشتر افراد کو ناممکن کام لگتا ہو مگر بڑی تعداد میں کامیاب کاروباری افراد اور لیڈروں کا ماننا ہے کہ علی الصبح 4 بجے بستر سے نکل آنا ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات ایک نئی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صبح بہت جلد اٹھنا کسی فرد کی ذہنی وہ جسمانی کارکردگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس وقت مداخلت کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔
    یعنی اس وقت لوگ سوشل میڈیا کو نہیں دیکھتے جبکہ اتنی صبح ایس ایم ایس یا میسجنگ وغیرہ کے لیے بھی کوئی فرد دستیاب نہیں ہوتا۔
    رپورٹ کے مطابق اس وقت کو کام سے ہٹ کر سرگرمیوں جیسے ورزش، ذاتی نگہداشت، ذاتی نشوونما، روحانی نشوونما اور خاندان کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہمارا جسم دن کے آغاز میں زیادہ متحرک ہوتا ہے، جبکہ ذہن بھی علی الصبھ زیادہ الرٹ ہوتا ہے جس کے باعث ذہنی و جسمانی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایپل کے سی ای او او ٹم کک سمیت اس وقت متعدد کامیاب ترین افراد صبح چار بجے اٹھنے کو اپنی کامیابی کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔

    خیال رہے کہ 1400 سال قبل اسلامی تعلیمات میں بھی صبح جلد اٹھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب سائنس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے تاہم صبح جلد اٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو رات کو جلد سونا ہے۔ اس لیے رات کو دوستوں سے ملنے یا دیگر مشاغل کا وقت کم ہوتا ہے تاہم زندگی میں کامیابی کے لیے اتنی قربانی تو دینی پڑتی ہے۔


    0 0

    انصار عباسی



    0 0

    فیس بک کا ہیڈ کوارٹر امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع ہے جو اس کی اپڈیٹنگ اور اعداد و شمار کا ذمہ لیے ہوئے ہے۔ فیس بک کا شمار دنیا کی بہترین سوشل میڈیا ویب سائٹس میں ہوتا ہے۔ فیس بک پر سوشل ورک کے ساتھ ساتھ پروڈکٹس کی تشہیر بھی کی جا سکتی ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ ہیں جنہوں نے 4 فروری 2004ء کو اس کی بنیاد رکھی۔ دورانِ تعلیم زکر برگ نے اپنے دوست احباب سے تعلیمی معاملات اور دیگر سرگرمیوں میں آپسی تعلق بنائے رکھنے کے لیے فیس بک ڈیزائن کی۔ شروعات میں فیس بک کی حدیں نہایت محدود رہیں۔ یہاں تک کہ یہ صرف زکر برگ کے دوستوں کے زیرِ استعمال رہی۔
    بعدازاں مختلف کالجز اور یونیورسٹی کے طالب علموں کے لیے بھی فیس بک کا ایک نیا ورژن متعارف کروایا گیا۔ 2006ء میں 13 سال تک کے بچوں کو بھی اپنا اکاؤنٹ رجسٹر کروانے کی اجازت دے دی گئی، لیکن چند ضروری پالیسیوں کا پابند ہونا ضروری تھا۔ فیس بک کا لفظ دراصل دو الفاظ ’’فیس‘‘ اور ’’بک‘‘ پر مشتمل ہے۔ یہ لفظ امریکی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں استعمال کی جانے والی طالب علموں اور اساتذہ کی ڈائریکٹری جس میں ان کی تصویر سمیت تمام تعلیمی اور دیگر عام معلومات درج کی جاتی تھی، سے لیا گیا ہے۔ اس طرح صارف اپنے قریبی رشتے داروں، دوستوں اور آفس سٹاف کا الگ الگ گروپ بنا سکتا ہے، 2012ء میں انکارپوریٹ ہوجانے کے بعد فیس بک نے ’’انٹل پبلک آفرنگ‘‘ شروع کی۔ اس طرز کی آفرنگ میں کمپنی اپنے شیئرز سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کی پیش کش کرتی ہے۔ زکر برگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صرف 3 مہینوں میں وہ اپنی کمپنی کے 104 بلین ڈالر زکے شیئرز بیچ چکے تھے، جو اس وقت کے سٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ تھے۔

    13 جولائی 2015ء میں فیس بک تیزی سے ترقی کرتی ہوئی سٹاک مارکیٹ میں 250 بلین ڈالر کی حد عبور کر گئی۔ 30 ستمبر2016ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں فیس بک پر 1.79 بلین صارفین ہر روز سرگرم رہتے ہیں۔ جبکہ اپریل 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق فیس کے 65 فیصد صارفین 13 سے 18 سال کی عمر کے ہیں۔ فیس بک کے بارے کچھ دلچسپ حقائق یہ ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ہیکرز فیس بک پر 6 لاکھ مرتبہ اکاؤنٹس ہیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بیشتر صارفین 40 منٹ روزانہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک کی پہلی اپ لوڈ کی جانے والی تصویر الپاچینو کی تھی۔ فیس بک پر تقریباً 30 ملین مرے ہوئے لوگوں کے اکاؤنٹ موجود ہیں۔ ٹویٹر کی طرح فیس بک بھی چائنہ میں 7 سال سے پابندی کا شکار ہے۔ کسی بھی پینترے سے فیس بک پر مارک زکر برگ کو بلاک نہیں کیا جا سکتا۔ فیس بک ہر امریکی صارف سے تقریباً 5.85 ڈالر کماتا ہے۔ فیس بک کے مالک مارک زکر برگ نے 2013ء میں 1 بلین ڈالر غرباء کو عطیہ کیے اور اس طرح وہ دنیا کے سب سے بڑے عطیہ کرنے والے بن گئے ۔

    فیس بک پر موجود ’’Like‘‘ کا بٹن دراصل ’’زبردست‘‘ کا مونوگرام ہے۔ تقریباً 8.7 فیصد فیس بک اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ فیس بک پر ہر منٹ میں 1.8 ملین لائکس کیے جاتے ہیں۔ سٹاک مارکیٹ نیچے آنے پر فیس بک ہر منٹ میں 25 ہزار ڈالر گنوا دیتا ہے۔ 2005ء میں ’’مائی سپیس‘‘ نامی کمپنی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ فیس بک خرید رہی ہے لیکن 75 ملین ڈالر جیسی چھوٹی رقم لینے سے زکر برگ نے انکار کر دیا۔ مارک زکر برگ مالک ہونے کی حیثیت سے ماہانہ 1 ڈالر یعنی 100 روپے تنخواہ لیتے ہیں۔ فیس بک نے اپنے ایک ملازم کو بچے کی پیدائش پر 3 مہینے کی چھٹی تنخواہ کے ساتھ دی تھی۔ فیس بک میں ایک ایسا آپشن بھی ہے جس کے استعمال سے مرنے سے قبل کوئی شخص اپنا اکاؤنٹ کسی دوسرے کے حوالے کر سکتا ہے۔ فیس بک کا پہلا ’’سالانہ ہیکر کپ کوڈنگ چیلنج‘‘ گوگل کے ایک سافٹ ویئر پروگرامر نے جیتا تھا۔ یہ شخص جب اپنا انعام لینے فیس بک کے ہیڈ کوارٹر پہنچا تو اس نے گوگل کا بیچ لگایا ہوا تھا۔

    دانش احمد انصاری


    0 0

    صبح ہوئی ہے، آنکھ کُھلی نہیں پر ہاتھ ہیں کہ حرکت میں آچکے ہیں۔ ایک ہاتھ سے آنکھیں مسل رہا ہوں، دوسرے سے سیل فون ٹٹول رہا ہوں۔ کدھر ہے؟ رات کو سرہانے ہی تو رکھا تھا، کہیں گر تو نہیں گیا؟ کسی نے اٹھا تو نہیں لیا؟ خدانخواستہ کہیں نیچے آ کر ٹوٹ ہی تو نہیں گیا۔۔۔۔ او یہ رہا۔۔۔۔ شکر ہے۔ ذرا دیکھوں تو کتنے میسجز آئے ہیں۔ فیس بُک کھولتا ہوں، نہیں پہلے انسٹا گرام یا پھر ٹوئٹر۔ یہ ہے ہم میں سے بہت ساروں کے دن کا آغاز۔ رینڈم فوٹوز لائک کرنا، نائیس ہے، اچھا ہے، بہت خوب، اوسم اور ایسے دو چار اور لگے بندے لفظوں سے ہر دوسرے تیسرے فوٹو یا ویڈیو پر کمنٹ کرنا۔ اِدھر کی چیز اُدھر اور یہاں کی وہاں شئیر کرتے ہوئے صبح کا آغاز کرنا اور سارا دن یہی کرتے رہنا۔
    کوئی دوست ملنے آیا، بیٹھا، بات کی، سنی نہ سنی، فیس بک پر لگے رہے۔ وہ کالج کا کوئی واقعہ سناتا رہا یا کوئی اور بات یہ پتا نہیں، البتہ اس کے ساتھ لی ہوئی سیلفی تبھی اپ لوڈ ہو گئی۔ اسکول، کالج میں استاد نے کیا پڑھایا، کس موضوع پر بات کی، دھیان نہیں، یاد نہیں۔ ماں نے تو شوق سے کھانا بنایا ہے لیکن کیا، کیا جائے فاسٹ اینڈ فیوریس ایٹ کا ٹریلر بھی تو دیکھنا ہے۔ اس لئے ایک ہاتھ میں نوالہ اور دوسرے میں سیل فون ضروری ہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ گھوم رہے ہیں، سب کا موڈ خوشگوار ہے۔ اچانک ایک نوٹیفکیشن آیا۔ دو سال پرانے ایک فوٹو پر کسی پرانے دوست نے لکھا ’’واہ وہ بھی کیا دن تھے جب توسارا دن نگہت کے ساتھ گزار دیتا تھا اور ہمیں سلام تک نہ کرتا تھا‘‘۔ سب کچھ جیسے دھڑام سے آ گرا۔ نگہت کون ہے؟ بیوی غصہ، بچے خوف زدہ اور صاحب پریشاں۔

    یہ زندگی اور پھر گلہ کہ خوش نہیں ہم۔ 24 گھنٹے سوشل میڈیا سے جکڑے ہوئے اور شکوہ کے زندگی میں کوئی مزہ نہیں، پریشانی ہے، ڈپریشن ہے، بیوی فضول میں شک کرتی ہے، میاں بے جا پابندیاں لگاتے ہیں۔ بھئی زندگی جیو گے تو خوشی ملے گی ناں؟ سیل، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، سوشل میڈیا۔۔۔ یہ تو تمہاری زندگی کو آسان کرنے کے لئے تھے، انہیں تو تمہاری زندگی کا جزو ہونا تھا اور تم نے انہیں ہی اپنی زندگی کا کُل بنا لیا۔ دوست، گھر والے، بیوی، بچے رشتے دار، کسی کے لئے کوئی وقت نہیں لیکن انجان لوگوں کے لئے دن رات آن لائن۔ ’سوشلی کنیکٹیڈ‘ لیکن حقیقت میں کسی سے کوئی واسطہ نہیں۔ اسی سے پھر پریشانی اور ڈپریشن جنم لیتا ہے۔ حد سے تجاوز کرنے کے بجائے اعتدال میں رہتے ہوئے ان مصنوعات کا فائدہ اٹھائیے اور سہولت کو زحمت نہ بناتے ہوئے فیس بُک پڑھنے کے بجائے بکس پڑھی جائیں، فضول کمنٹس کی بجائے کچھ کام کا لکھیئے۔

    عمران خوشحال راجہ
     


    0 0

    امریکی شہری کیسنڈرا ڈی پیکول تن تنہا دنیا کے سفر پر ہیں اور 190 ممالک کا سفر طے کرنے بعد وہ پاکستان پہنچی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ 'پاکستان ایک چھپا ہوا جوہر ہے جس کی خوبصورتی تاحال دنیا کے سامنے نہیں آسکی‘۔ 27 سالہ امریکی خاتون کیسنڈرا ڈی پیکول نے 15 جولائی 2015 کو دنیا کے تمام 196 خودمختار ممالک دیکھنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ ان کا پہلا پڑاؤ مغربی بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے ملک پلاؤ میں ہوا اور ان کا سفر مسلسل جاری رہا اور 190 ممالک کا سفر کرنے کے بعد وہ پاکستان پہنچیں۔ ان کا مقصد کم از کم وقت میں تمام ممالک کا سفر کرکے گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام شامل کرنا اور دنیا کو سیاحت کے لیے پرامن اور پاس شعبے کو مستحکم بنانے کا پیغام دینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان آنے سے قبل ان کے کچھ خدشات تھے جو اب دور ہوچکے ہیں اور وہ دوبارہ یہاں آنا چاہیں گی۔''دنیا کے 190 ممالک گھومنے کے بعد میں کہہ سکتی ہوں کہ جن تین ممالک نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا ان پاکستان، اومان اور بھوٹان سرفہرست ہیں۔'
    کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ انھوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے حالیہ بیان نہیں سنا لیکن ان کا ذاتی تجربہ ہے کہ 'پاکستان واقعی ایک حیران کن ملک ہے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہاں کے لوگ اور یہاں کی ثقافت انتہائی خوبصورت ہے۔' کیسنڈرا ڈی پیکول کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد تمام دنیا میں امن کا پیغام پہنچانا ہے۔ وہ ایک مسافر بھی ہیں اور سیاحت و سفر کے حوالے سے نوجوانوں کو تربیت اور رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'پاکستان آنے سے پہلے میں نے اس ملک کے بارے میں بہت کچھ پڑھا اور تحقیق کی لیکن جو کچھ میڈیا دکھاتا ہے پاکستان اس کے بالکل برعکس ہے۔'ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنا برقع اور عبایا بھی ساتھ رکھا ہوا تھا کہ پاکستان میں اس کی ضرورت ہوگی لیکن ابھی تک اس کی ضرورت پیش نہیں ہے۔'پاکستانی خواتین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں قیام کے دوران میں بہت سی نوجوان خواتین سے ملی اور مجھے ان کی قابلیت اور اعتماد دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوا۔'
    کیسنڈرا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان کی شمالی علاقہ جات اور چھوٹے شہروں اور قصبوں کو دیکھنا چاہتی ہیں لیکن اس بار یہ ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد پاکستان دوبارہ آئیں گی اور اپنی یہ تمنا پوری کریں گی۔
    پاکستان میں ان کا قیام کراچی، لاہور اور پھر اسلام آباد میں رہا جہاں یونیورسٹی اور کالجوں کے طالب علموں کے ساتھ انھوں نے مختلف مذاکروں میں حصہ لیا اور انھیں بتایا کہ کیسے اپنے ملک کو اچھے انداز میں پیش کیا جا سکتا اور ایک کامیاب سیاحتی لکھاری بننے کے لیے کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے انڈیا کا بھی سفر کیا ہے اور انھوں نے پاکستان کو انڈیا کی ثقافت، رنگ اور انداز زندگی کو بہت مخلتف پایا۔  انھوں نے بتایا کہ بلاشبہ سیاحت ایک مہنگا شعبہ ہے لیکن آپ پیسے بچاتے ہوئے بھی کئی نئی جگہوں کی سیر کرسکتے ہیں۔ 'ایسا نہیں ہے کہ آپ جہاں جائیں بڑے بڑے ہوٹلوں میں رہیں یا پرآسائش گاڑیوں میں سفر کریں۔ آپ ضرورت کے مطابق کسی کم قیمت جگہ پر قیام کر سکتے، وہی کھا سکتے ہیں جو وہاں عام لوگ کھاتے ہیں، ویسے ہی سفر کر سکتے ہیں جیسے مقامی عام لوگ کرتے ہیں۔'

    اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تقریبا 25 ممالک کا دورہ صرف 2000 ڈالر میں کیا۔ اس دوران وہ ٹرین سٹیشنوں پر سوئیں، بغیر کھائے پیے رہیں اور 'ہچ ہائیکنگ'کرتی ہوئی مشرق وسطیٰ، افریقہ، جنوبی امریکہ اور ایشیا میں گھومیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب نوجوان بلاگروں اور سیاحت کے حوالے سے لکھنے والوں کے لیے بہت سے دروازے کھل گئے ہیں جن کا بھرپور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیسنڈرا کا کہنا تھا کہ ان کا اگلی منزل افریقی ملک ارٹیریا ہے اور وہ جلد جنگ زدہ یمن کے سفر پر ہوں گی۔

    شیراز حسن
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



older | 1 | .... | 88 | 89 | (Page 90) | 91 | 92 | .... | 149 | newer