Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 87 | 88 | (Page 89) | 90 | 91 | .... | 147 | newer

    0 0

    آدھے امریکیوں کے پاس تو ٹرمپ سے ڈرنے کا جواز ہے مگر مجھ جیسے خوشہ
    چین دانشور خود کو ٹرمپ گزیدہ سمجھ کے کیوں سر کھجا رہے ہیں؟ رعائیتی 16 F اوباما کے دور میں بھی نہیں ملے اب بھی نہیں ملیں گے۔ ڈو مور پہلے بھی کہا جا رہا تھا اب بھی کہا جائے گا۔ دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام پہلے بھی لگتا تھا اب بھی لگے گا۔ اقتصادی امداد پہلے بھی مشروط تھی۔ اب شاید اور بندھ جائے۔ نوے کے عشرے میں امریکی امداد بالکل رک گئی تھی تب کون سا والا ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں تھا۔ دہشت گردی کے خلاف 120 ممالک میں امریکہ کی جنگ ٹرمپ کو ورثے میں ملی۔ پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے ری پبلیکنز نے شروع کروائے ڈیموکریٹس نے جاری رکھے۔ ہلیری جیت جاتی تو کیا بند ہو جاتے؟

    پچھلے پندرہ برس میں پاکستانی معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ داری کے عوض بقول سٹیٹ بینک 118 ارب ڈالر کا براہِ راست و بلا واسطہ نقصان ہو چکا ہے اور بدلے میں امریکہ کی غیر ٹرمپ حکومتوں نے محض 14 ارب ڈالر کی اجرت کولیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر تھمائی۔ کیا ہلیری کے جیتنے سے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری بہنے لگتی؟ ہاں ٹرمپ نے پہلے ہی ہلے میں تیس لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن ملک سے باہر نکالنے کا عندیہ دیا ہے تو؟ خلیجی ریاستوں نے چار برس کے دوران ڈھائی لاکھ پاکستانیوں سمیت ایک ملین کے لگ بھگ غیر قانونی تارکینِ وطن نکالے اور وہ بھی یہ کہہ کر کہ یہ اقتصادی بوجھ اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ ٹرمپ بھی تو یہی کہہ رہا ہے۔
    پاکستان بھی تو افغان مہاجرین پر واپس جانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے ۔اتنا دباؤ کہ نیشنل جیوگرافی کی پوسٹر گرل شربت گلہ کو بھی ہیپاٹائٹس سی سمیت ہسپتال سے اٹھا کر طورخم پار پہنچا دیا۔ فلسطین نے ٹرومین سے اوباما تک چودہ امریکی صدور بھگت لیے۔ اب پندرہواں بھی سہی۔ نائن الیون کے بعد سے امریکی مسلمان اپنی غیر اعلانیہ نگرانی سے مسلسل بے چین ہیں۔ اب اگر اعلانیہ نگرانی شروع ہو جاتی ہے تو کیا اہم تبدیلی آئے گی؟ ٹرمپ انتظامیہ میں جس طرح کے لوگ لائے جا رہے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کی مرتب کردہ پالیسیوں سے امریکہ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی نسلی کشیدگی میں دوبارہ لوٹ جائے۔ میکھارتھی ازم ایک نئے عزم کے ساتھ قبر سے نکل آئے۔

    کوکلس کلان جیسی متشدد تنظمیں کھل کھیلیں۔ سیاہ فاموں کی زندگی جہنم ہو جائے۔ مسلمانوں سے مذہبی منافرت کو کئی گنا بڑھاوا ملے۔ امریکہ کا لبرل جمہوری امیج لڑکھڑا کے مجسمہِ آزادی کے قدموں میں آن گرے اور امریکن ڈریم فاشزم کی کگار پر پہنچ جائے؟ مگر ہم کیوں ٹینشن لے رہے ہیں؟ ہم تو پہلے ہی سے اسی دور میں جی رہے ہیں جس میں امریکہ اب داخل ہونے والا ہے۔ کیا ہمارے ہاں نسلی و مذہبی اقلیتیں محفوظ ہیں؟ کیا ہمارے کوکلس کلان عرف نان سٹیٹ ایکٹرز یہاں سے وہاں تک پچھلے چالیس برس سے مذہبی و نسلی آگ نہیں لگا رہے؟ کیا ملازمتیں اور روزگار کے مواقع علاقائی، نسلی و مذہبی فرق سے آلودہ نہیں؟ ہاں ٹرمپ گن لابی کا نمائندہ ہے؟ ہمارے ہاں تو اس قدر بے نامی اسلحہ ہے کہ گن لابی کیا بیچتی ہے۔ ہاں ٹرمپ اوباما کیئر صحت منصوبہ ختم کر دے گا۔ مگر ہمارے ہاں تو ختم کرنے کے لیے صحت منصوبہ ہے ہی نہیں۔

    ہاں ٹرمپ انتظامیہ غیر ملکی بالخصوص مسلمان طلبا کی آمد کی حوصلہ شکنی کرے گی۔ مگر ہم کیوں تشویش میں ہیں؟ یاد نہیں نائن الیون سے پہلے تک پاکستانی یونیورسٹیوں میں عرب ، افریقی ، ایرانی ، جنوب مشرقی ایشیائی طلبا شوق در شوق اور مذہبی مدارس میں جوق در جوق پڑھنے آتے تھے؟ آج کتنے غیر ملکی مسلمان طلبا پاکستان کے تعلیمی اداروں میں موجود ہیں؟ آپ کو یہی خدشہ تھا نا کہ وہ دہشت گرد ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کو بھی تو یہی خدشہ ہے۔
    ٹرمپ کے اقتدار میں آنے سے ان ممالک اور معاشروں کا تو ڈرنا بنتا ہے جن کے ہاں انسانی جان، انسان دوستی، اختلافِ رائے، روشن خیالی، وسیع المشربی، مساوات اور جمہوری اقدار کی تھوڑی بہت اہمیت ہے۔ وہ جانیں اور ٹرمپ جانے۔ ہم کاہے کو نیند اڑا بیٹھے ہیں؟

    بھینس بھینس ہوشیار تجھے چور لے چلے۔ بھینس نے پلٹ کے کہا وہ بھی چارہ ہی دیں گے۔

    وسعت اللہ خان
    تجزیہ کار



    0 0
  • 11/20/16--23:11: گول نیشنل پارک
  • سیاحتی نقطۂ نظر سے پاکستان کے شمالی علاقے بالخصوص گلگت، چترال، وغیرہ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ چترال سے قریباً تین کلومیٹر مغرب میں چترال گول نیشنل پارک ہے۔ 7750 ہیکٹرز قریباً 77مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے، اس علاقے کو 1984ء میں نیشنل پارک کا درجہ دے کر جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا گیا۔ چترال گول نیشنل پارک صنوبر کے گھنے جنگل پر مشتمل ہے ۔ اس کی وجہ سے یہاں جنگلی جانوروں اور پرندوں بالخصوص مارخور ایک قسم کا پہاڑی بکرا، آئی بیکس، ( سراح بکرا) اڑیال، کالے ہرن، پہاڑی تیندوے، ہمالیائی برفانی مرغ، برفانی تیتر، وغیرہ بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

    چترال کے مہتروں (حکمرانوں) نے اس پورے علاقے کو 1880ء میں اپنی ذاتی شکار گاہ کی حیثیت دی ہوئی تھی، اس کی وجہ سے اس علاقے میں نایاب اقسام کے جانور اور پرندے بچ گئے کیونکہ حکمران یہاں کسی اور کو شکار نہیں کھیلنے دیتے تھے، لیکن ریاست ختم ہونے کے بعد اس علاقے میں اندھا دھند شکار کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ جانوروں اور پرندوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہوگئی تھی بلکہ یہاں کا پورا قدرتی ماحول اس کی وجہ سے متاثر ہو رہا تھا ،اس قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کو تحفظ دینے کی خاطر اسے نیشنل پارک کا درجہ دے دیا گیا اور یہاں شکار اور درختوں کی اندھا دھند کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ 


    چترال گول نیشنل پارک اس لحاظ سے بڑی منفرد حیثیت کا حامل ہے کہ یہاں نسبتاً ہموار میدانی علاقے بھی ہیں اور بلند و بالا پہاڑ بھی اس نیشنل پارک کے مختلف علاقے سطح سمندر سے ڈیڑھ ہزار میٹر سے قریباً پانچ ہزار میٹر تک بلند ہیں۔ یہاں چوبیس پہاڑ ایسے ہیں ،جن کی بلندی تین ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ اس نیشنل پارک میں لاتعداد پہاڑی ندی نالے اور آبشار ہیں جن کا نیلگوں پانی آگے جا کر دریائے کہنار میں شامل ہو جاتا ہے۔ نومبر سے لے کر مارچ تک یہ پورا علاقہ شدید برف باری کی لپیٹ میں رہتا ہے۔چترال گول نیشنل پارک میں سیاحوں کے قیام کے لیے ایک ریسٹ ہاؤ س بھی ہے۔ 

    ( NCSجریدہ سے ماخوذ)


    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    شمالی علاقوں میں واقع دوسرا نیشنل پارک خنجراب نیشنل پارک ہے۔ یہ نیشنل پارک گلگت سے 269 کلومیٹر شمال مشرق میں دو لاکھ چھبیس ہزار نو سو تیرہ ہیکٹرز پر پھیلا ہوا ہے۔ اس علاقے کو اپریل 1979ء میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا ۔ یہ پورا نیشنل پارک چونکہ سطح سمندر سے بہت زیادہ بلند (3200 میٹر سے لے کر 600 میٹر تک ) ہے، اس لیے سال کے بیشتر مہینوں میں پورا پارک برف سے ڈھکا رہتا ہے۔ پورے علاقے میں وسیع عریض گلیشئرز اور برفانی جھیلیں ہیں۔ اس علاقے میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 14 درجے سینٹی گریڈ اور کم سے کم منفی 12 درجے سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ خنجراب نیشنل پارک کے علاقے میں سبزہ بہت کم ہے کیونکہ برفانی موسم سبزے کو نمونہیں پانے دیتا۔ 

    اس علاقے کو نیشنل پارک قرار دینے کا بنیاد ی مقصد یہ تھا کہ یہاں پائے جانے والے جنگلی جانوروں کی نایاب اقسام کو تحفظ فراہم کیا جائے، بالخصوص بھیڑوں کی ایک نایاب نسل مارکو پولو شیپ کی نہ صرف حفاظت کی جائے بلکہ ان کی افزائش نسل کے لیے موزوں ماحول فراہم کیا جائے۔ مارکو پولو شیپ کے علاوہ یہاں برفانی تنیدوے، لومڑی، برفانی ریچھ، سراح بکروں اور سنہرے چوہوں کی بھی متعدد اقسام موجود ہیں۔ شاہراہ قراقرم بن جانے کی وجہ سے عام لوگوں اور سیاحوں کی یہاں تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ اس لیے ہر سال کافی تعداد میں سیاح خنجراب نیشنل پارک آتے ہیں۔ شاہراہ قرقرام ’’پھسو‘‘ کے قریب و جوار میں کافی ہوٹل ہیں، جہاں سیاح قیام کر سکتے ہیں۔ 

    (NCS جریدہ سے مقتبس) 


    0 0



    0 0

    اسرائیل فلوٹیلا پر حملے کی معافی مانگے ہلاک شدگان کا تاوان کے طور پر مالی معاوضہ ادا کرے اور غزہ کا محاصرہ کھولے۔ اسرائیلی اخبار 'یدیعوت احرونوت'لکھتا ہے- اس معاہدے کے نتیجے میں ترکی اسرائیل کا 2014 سے گمشدہ شہری اور دونوں کی لاشیں فلسطین سے لانے میں مدد کرے گا۔ حماس ترکی کی سر زمین کو اسرائیل کے خلاف نہیں استعمال کر سکے گا۔ متاثرین فلوٹیلا کیلئے اسرائیل نے 20 ملین ڈالرز تاوان کیلئے اداکرے گا۔ دونوں ممالک نیٹو یا یو این او میں ایک دوسرے کے مفادات کے خلاف کام نہیں کریں گے۔ اسرائیل کے وسائل کو یورپی یونین تک پہچانے میں ترکی سے تعاون مانگا جائے گا- اس طرح اسرائیلی گیس پائپ لائن کو ترکی یورپ تک جانے دے گا اور غزہ میں جو امداد دی جائے گی اسے اسرائیل کی سیکورٹی ایجنسی کی چیکنگ سے گزرنا ہوگا- ترکی نے فلسطین کیلئے دو صاف پانی کے پلانٹ ، ایک پاور اسٹیشن اور غزہ میں دو سو بستروں کا ہسپتال لگانے کی منظوری بھی لی ہے ، جو قبول کرنے کے علاوہ فلسطینیوں کے پاس چارہ کار ہی نہیں - اور اس طرح ان سے بھی اردوان کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں-
    یعنی، خوش رہیں اہل قفس، راضی رہے صیاد بھی
    اب کھیپیوں کا تبصرہ ملا حظہ فرمائیں؛: کھیپیے معصوم سمگلر ھوتے تھے جو لنڈی کوتل سے کراکری اور جاپانی کپڑا لاھور بیچا کرتے تھے پھر زمانے نے ترقی کی اور نظریاتی کھیپیے میدان میں آئے یہ بیچارے ایک آدھ  دورے اور چند دن قیام کے بعد اردگان کے گیت گاتے پھرتے ہیں۔ اخلاقی جرات کا یہ عالم ہے اپنا نام نہیں بتانا چاھتے۔ "فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے وابستہ اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہ کرنے کے حکومتی فیصلے کو ملا عبدالسلام ضعیف کے واقعے سے تشبیہ دینا یا اس میں اور عافیہ صدیقی معاملے میں مشابہت تلاش کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ حکومت نے ان اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہیں کی کیونکہ حکومت اس کی پابند نہ تھی۔

    کیا ترک اساتذہ پاکستانی شہری تھے کہ انہیں ملک چھوڑنے کا نہیں کہا جاسکتا تھا یا انہوں نے سفارتی ویزہ لے رکھا تھا جس کے تقدس کا کچھ خیال رکھا جاتا؟ یا حکومت نے ان سے مستقل رہائش کا عہد کررکھا تھا یا ویزے دیکر انہیں منسوخ کردیا گیا۔ جب ایسا کچھ نہیں ہے تو شور کس بات کا ہے؟ کیا حکومت نے ان اساتذہ کو گرفتار کیا؟ کیا انہیں بغیر مہلت دیئے زبردستی ٹرکوں پر ڈال کر ملک بدر کیا جارہا ہے یا انہیں افغان سفارتکار عبدالسلام ضعیف اور پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی طرح امریکہ کے حوالے کردیا گیا؟ گو ترک حکومت کی درخواست پر انکے ویزے میں توسیع نہیں کی گئی لیکن پاسپورٹ انکے پاس موجود ہیں اور یہ اگر کسی خوف سے ترکی نہ جانا چاہیں تو دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کے دروازے ان پر کھلے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسکول بند نہیں ہورہے اور نہ ہی اسکا انتظام ترکوں سے واپس لیا جا رہا ہے۔ نہ کسی طالب علم کا سال ضائع ہوگا اور نہ معیار تعلیم پر کوئی فرق پڑے گا۔

    ترکی میں چند ماہ پہلے فوج کے ایک حصے نے خونیں بغاوت کی کوشش کی تھی اور حکومت کی تحقیقات کے مطابق اس بغاوت میں فتح اللہ گولن کی تحریک ملوث ہے۔ ترک حکومت نے ریاست اور حکومت سے بغاوت کے جرم میں اس تحریک پر پابندی لگا کر اسے دہشت گرد جماعت کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ ترک حکومت گولن کا تعاقب کر رہی  ہے تا کہ مستقبل میں کسی بھی بغاوت کے امکان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔ اردگان حکومت کا برادر ملک سے مطالبہ بھی فطری ہے۔ برادر ملک تو ایک طرف اردگان نے تو امریکہ سے بھی گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کبھی کوئی ملک برادر ملک کے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی غلطی نہیں کرتا۔

    کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان فتح اللہ گولن کی محبت میں ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو خراب کرلے؟ کیا آپکو یہ مطلوب ہے کہ ہم ترک ریاست کے نا پسندیدہ لوگوں کو اپنے یہاں پناہ دیکر ملکی مفاد پر سمجھوتا کرلیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم زبردستی ترکی سے جھگڑا لیں اور خود کو مزید تنہائی کا شکار کریں؟ اگر اس امر کو آزاد خارجہ پالیسی اور خودمختاری سے زبردستی نتھی کیا جارہا ہے تو سوال ہے کہ آپ کی یہ ''غیرت''ڈرون حملوں، ایمل کانسی، رمزی یوسف، عافیہ صدیقی، ملا عبدالسلام ضعیف، اور ریمنڈ ڈیوس کے وقت کہاں سو رہی تھی؟ کیا ہم پاکستانی برداشت کریں گے کہ وہ لوگ جو پاکستانی ریاست اور حکومت کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کرچکے ہیں یا ایسے لوگوں کے حامیوں کو چین، ترکی اور سعودیہ عرب ایسے ہمارے دیرینہ برادر ممالک پناہ دئے رکھیں؟
    پاکستان کے خلاف یہ سب کچھ دھڑلے سے ھمارے برادر کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ھم قومی مفادات کی نزاکتوں کی وجہ سے اس کو چھپاتے رھتے ہیں.

    اسلم خان
    "بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"


    0 0

    Read riaz-ahmed-saeed Column qarzon-ki-maafi-correuption-ki-badtareen-shakal published on 2016-11-24 in Daily JangAkhbar

    ریاض احمد سید



    0 0

    دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ممالک میں کوئی نہ کوئی بحران یا مسئلہ موجود ہے
    جس کی وجہ سے وہ ملک عالی سطح پر توجہ کر مرکز رہتا ہے۔ کہیں اندرونی اختلافات ہیں تو کہیں سیاسی محاذ آرائیاں، کہیں جنگ کا میدان گرم ہے تو کسی خطے میں قدرتی آفات سے ہونے والی تباہی نے اسے دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ کسی علاقے میں معاشی بحران ہے تو کچھ علاقے مظلوموں پر ظلم و ستم، انسانیت سوز سلوک اور صاحبان اقتدار کی شے پر ہونے والی غنڈا گردی کی تصویر پیش کررہے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر، مقبوضہ فلسطین تو دنیا بھر میں انتہائی حساس موضوع بنے ہوئے ہیں اور ان پر ہر بڑے عالمی پلیٹ فارم پر بات بھی ہوتی ہے لیکن میانمار (سابق برما) کے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت کا عالم یہ ہے کہ ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ان کے لیے آواز عالمی سطح پر اس طرح نہیں اٹھائی جا رہی جس طرح اٹھائی جانی چاہیے۔ روہنگیا مسلمانوں کا سرکاری طور پر قتل عام کیا جا رہا ہے لیکن عالمی برادری کو تو چھوڑیں مسلم امہ بھی پنے اپنے مسائل میں اتنی پھنسی ہوئی ہے کہ وہ ان مظلوموں کے لیے صحیح طرح صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کرپارہی۔
    میانمار میں حالیہ دنوں میں سرکاری فوج نے ظلم و بربریت کی انتہا کردی ہے۔ اب تک موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی علاقے اراکان میں 150 سے زائد مسلمان قتل کیے جا چکے ہیں، جب کہ درجنوں زخمی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ظلم و زیادتی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کے درجنوں مکانات اور دیگر املاک کو بھی نذر آتش کردیا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اراکان کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، انھوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں صورت حال انسانی حقوق کے لحاظ سے بدترین ہے۔ میانمار کی فوج قتل و غارت تو کرہی رہی ہے اس کے ساتھ اس نے میڈیا کو بھی صورت حال کی حقیقی کوریج سے روک دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کی جو تصاویر اور وڈیو دکھائی جا رہی ہیں ان کو دیکھ کر ہر دردمند انسان کی روح کانپ اٹھی ہے۔

    میانمار کی فوج کے مظالم سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ میانمار اور بنگلادیش کے درمیان موجود دریا کے کناروں تک پہنچ کر کسی محفوظ مقام کی تلاش میں ہیں، لیکن سرحدی محافظ ان کے آگے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ آئیے یہ بھی دیکھیں کہ یہ روہنگیا مسلمان ہیں کون؟ روہنگیا مسلمان میانمار کی مغربی ریاست اراکانا یا راکھین (Rakhine) میں رہنے والے مسلمانوں کو کہتے ہیں، جو میانمار میں اقلیت کی حیثیت سے زندگی گزار رہے ہیں جنھیں کبھی بدھوں کے مظالم سہنے پڑتے ہیں تو کبھی سرکاری فوج کی لشکرکشی کے باعث انھیں مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میانمار کے علاوہ روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب، پاکستان، بنگلادیش، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور دیگر ملکوں میں قیام پذیر ہے۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 10 لاکھ کے قریب ہے۔ ان کی زبان ’’روہنگیا‘‘ ہے جو بنگالی سے ملتی جلتی ہے، اسی وجہ سے انھیں روہنگیا مسلم کہا جاتا ہے۔ مختلف مورخین اور خود روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤاجداد کا تعلق راکھین اسٹیٹ سے ہی ہے، لیکن میانمار کے مورخین کہتے ہیں کہ روہنگیا مسلمان کسی اور جگہ سے ہجرت کرکے یہاں آئے۔

    روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و ستم کوئی نئی بات نہیں۔ یہ مسئلہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میانمار کے حکمرانوں اور وہاں رہنے والی دیگر قومیتوں نے روہنگیا مسلمانوں کو کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار پر ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے اور ان سے نفرت کا اظہار مختلف مواقع پر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کرکے کیا جاتا ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو روہنگیا مسلمان اراکان میں 16 ویں صدی سے آباد ہیں۔ ان کی کئی نسلیں یہاں پلی بڑھی ہیں لیکن تاحال ان کو حقوق ملے نہ شناخت دی گئی اور نہ ہی انھیں اپنایا گیا۔ ان ہی اسی ظالمانہ رویوں کا نتیجہ ہے کہ آج روہنگیا مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اور پورا میانمار اس طرح چپ ہے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔
    اس ساری صورت حال میں سب سے قابل مذمت کردار ژنگ سان سوچی کا رہا ہے۔ جب وہ خود قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہی تھیں تو ہر انٹرویو میں اور اپنے ہر خطاب میں وہ انسانی حقوق کی پاس داری، ظلم و ستم کے خاتمے، مظلوموں کو ان کے حقوق دلانے کی بڑی بڑی باتیں کرتی تھیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے بہیمانہ ظلم و ستم پر ژنگ سان سوچی نے بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر وہ انسانی حقوق کی پاس داری اور مظلوموں سے انصاف کا سبق بھول گئی ہیں یا دہرانا نہیں چاہتیں۔

    1946 میں اراکان کے مسلم رہنماؤں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے ملاقات کر کے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ان کے کچھ علاقوں کو ملا کر الگ ریاست بنائی جائے، تاہم وہاں کے حکمرانوں نے روہنگیا مسلمانوں کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں نے حکمرانوں کے خلاف تحریک کا آغاز کیا اور مختلف مواقع پر اپنی الگ ریاست کا مطالبہ دہرایا، لیکن اس کے جواب میں میانمار کی حکومتوں نے جبرو تشدد کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی اور سیکڑوں روہنگیا مسلمان مختلف اوقات میں ہلاک کردیے گئے، سیکڑوں زخمی کیے گئے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے کیوںکہ عالمی برادری خاص طور پر اسلامی ملکوں کو شاید روہنگیا مسلمانوں کی چیخیں سنائی نہیں دے رہیں۔

    روہنگیا مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ اس سال اس وقت ہوا جب 9 اکتوبر 2016 کو 300 کے قریب مسلح حملہ آوروں نے میانمار کے سرحدی محافظوں پر حملہ کرکے 9 فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیوریٹی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بنگلادیش سے ملحق سرحدی علاقے میں کارروائی کی، فوجیوں کے خلاف بارودی مواد کے علاوہ چاقو، چھریوں اور دیسی ساختہ بموں کا استعمال کیا گیا۔ 2 دن بعد 11 اکتوبر کو ایسی ہی ایک کارروائی میں 4 فوجی نشانہ بنے۔ اراکان ریاست کے حکم رانوں نے فوجیوں پر حملوں کا الزام روہنگیا مسلمانوں پر عائد کردیا، جس کے بعد روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم اور زیادتیوں کے سلسلے کو مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

    میانمار کی حکومت نے روہنگیا سالیڈیرٹی آرگنائزیشن (Rohingya Solidarity Organization) کو فوجیوں کی ہلاکت کا ذمے دار ٹھہرایا لیکن بربریت کا نشانہ تمام روہنگیا مسلمانوں کو بنایا۔ 17 اکتوبر کو فیتھ موومنٹ آف اراکان (Faith Movement Arakan) نے مختلف سوشل میڈیا سائٹس پر میانمار کی فوج پر حملوں کی کچھ ویڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کر کے ان کارروائیوں کی ذمے داری قبول کی۔ نومبر میں میانمار کی فورسز نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں جن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوچکے ہیں۔ سیکیوریٹی حکام کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے افراد فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ تاہم یہ دعویٰ اس لیے بے بنیاد نظر آتا ہے کیوںکہ مارے جانے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 250 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن پر فورسز پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

    اراکان میں فوج کے تشدد اور روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر بالآخر امریکا اور اقوام متحدہ کو ہوش آ ہی گیا اور چند دن قبل امریکی محکمۂ خارجہ نے صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اصل حقائق کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں جو اطلاعات آرہی ہیں وہ اچھی نہیں حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے میانمار میں امریکی سفیر نے حکومتی اہل کاروں سے ملاقات کی اور صورت حال کو بہتر کرنے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے بھی روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے علاقے میں حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والی خوںریزی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کوفی عنان کا کہنا ہے کہ حالات تشویش ناک ہیں اور اس سے میانمار کمزور ہورہا ہے جب کہ لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہے۔

    اسلامی ملکوں کو بھی روہنگیا کے مسلمانوں کی حالت زار کا بھرپور اور فوری نوٹس لینا چاہیے، گو کہ تمام اسلامی ملک اپنے اپنے مسائل اور بحرانوں سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اس خطے کی بات ضرور کریں اور اس کے لیے آواز لازمی اٹھائیں جس کے باسی صرف مسلمان ہونے کے ’’جرم‘‘ میں حکومتی مظالم کا شکار ہیں۔ اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہوکر اقدامات کریں تو میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر توڑے جانے والے مظالم اور زیادتیوں کا سلسلہ روک سکتی ہے ورنہ روہنگیا مسلمانوں کا ارزاں خون بہتا ہی رہے گا۔

    آصف زیدی


    0 0

    معروف اسلامی اسکالر، محقق اوراسلامی تحقیقی ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن
    کے سربراہ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا ہے کہ آئی آرایف پر 5 سالہ پابندی مسلمانوں، امن، جمہوریت اورانصاف پر حملہ ہے، بھارت میں تمام کالے قوانین صرف مسلمانوں کیلیے ہیں، ہندو مذہبی رہنماؤں کو اسلام پرحملوں کی کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔
    ایک کھلے خط میں انھوں نے کہا کہ بھارت میں بینکوں کو آئی آرایف سے وابستہ تمام افراد کے کھاتے منجمد کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جوظلم کی بدترین مثال ہے، یہ پابندی کرنسی بحران کے دوران لگائی گئی تاکہ اس کے خلاف مزاحمت کو روکا جا سکے اور میڈیا کی توجہ اس سے ہٹالی جائے۔ ذاکر نائیک نے جواس وقت بھارت سے باہر ہیں، کہا ہے کہ وہ پابندی کے خلاف عدالت جائیں گے اورعدالت وزیراعظم مودی کے منصوبے ناکام بنا دے گی۔


    0 0

    گزشتہ اتوار امریکی صدر بارک اوباما کا ہوانا کے ہوزے مارتی ائیرپورٹ پر اترنا
    اور تین دن کیوبا میں گزارنا اس صدی کے چند اہم واقعات میں شمار ہو گا۔ عالمی میڈیا پر یہ تاریخ ساز دورہ بیس تا بائیس مارچ چھایا رہا۔ پاکستانی میڈیا بھی ضرور اہمیت دیتا اگر کولکتہ میں بھارت کے ہاتھوں شکست خوردہ پاکستانی ٹیم کو کوسنے سے فرصت ملتی۔ امریکی ریاست فلوریڈا سے محض نوے میل کی دوری پر کیوبا بحیرہ کیربین کا سب سے بڑا جزیرہ ہی نہیں بلکہ پچھلے ستاون برس سے  ایسا مزاحمتی جہاز ہے جس پر گیارہ ملین ملاح سوار ہیں۔ کہنے کو کیوبا آج بھی براعظم جنوبی امریکا کا سب سے غریب ملک ہے مگر سب سے زیادہ خود دار اور معیارِ زندگی  کے اعتبار سے تیسری دنیا کے بہترین ممالک میں ہے۔

    نام نہاد مہذب دنیا کو کیوبا کے بارے میں چودہ سو بانوے میں علم ہوا جب کرسٹوفر کولمبس یہاں اترا۔ تب سے اگلے ساڑھے چار سو برس تک کیوبا ہسپانوی نوآبادی رہا اور ہسپانویوں نے اسے غلاموں کی منڈی اور گنے اور تمباکو کے بڑے سے کھیت کی شکل میں برقرار رکھا۔ اٹھارہ سو اٹھانوے میں اسپین سے جنگ کے نتیجے میں کیوبا پر امریکا نے قبضہ کر لیا اور چار برس بعد اسے کٹھ پتلی مقامی حکمرانوں کی شکل میں ایک ہاتھ سے آزادی کا سراب تھمایا اور دوسرے ہاتھ سے جزیرے کے ایک کونے پر بحری اڈہ قائم کرنے کے لیے گوانتانامو کا لگ بھگ پینتالیس مربع میل کا ٹکڑا پٹے پر حاصل کر لیا۔ اس قطعہِ اراضی کا کرایہ چار ہزار پچاسی ڈالر سالانہ طے پایا۔ لیکن انیس سو انسٹھ کے بعد سے کیوبا نے گوانتانامو پر امریکی قبضہ کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مارے خودداری کے کرائے کا سالانہ چیک وصولنے سے انکار کر دیا۔
    جب انیس سو انسٹھ میں فیدل کاسترو کے چھاپہ ماروں نے امریکی کٹھ پتلی صدر فلجینکیو بتستا کا تختہ الٹا اور کیوبائی معیشت کو آکٹوپس کی طرح جکڑنے والی امریکی کمپنیوں اور اثاثوں کو قومیا لیا تو امریکا نے اس دو ٹکے کے  ملک کو اوقات یاد دلانے کا فیصلہ کیا۔ انیس سو اکسٹھ میں سی آئی اے کی مدد سے مفرور کیوبائیوں کی ایک فوج بنا کے کیوبا کے ساحل پر اتارا گیا مگر کاسترو کے دستوں نے اس کا تُرنت صفایا کر دیا۔ امریکا نے اثاثوں کی واگزاری تک کیوبا کی اقتصادی ناکہ بندی کر دی۔ یہ ناکہ بندی اتنی سخت تھی کہ اگر کسی ملک یا کمپنی کا بحری جہاز کیوبا میں لنگر انداز ہو گا تو اس کا کسی بھی امریکی بندرگاہ میں داخلہ حرام ہو گا۔

    کاسترو قوم پرست ضرور تھا مگر جس روز امریکا نے ناکہ بندی کی کیمونسٹ بھی ہو گیا۔ سوویت یونین نے چینی کی پوری پیداوار خریدنے اور اس کے عوض تیل، غلہ اور بھاری مشینری دینے کااعلان کیا۔ جب انیس سوباسٹھ میں جزیرے پر سوویت ایٹمی میزائلوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا تو امریکا اور سوویت یونین میں ایسی ٹھن گئی کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی۔ کینیڈی انتظامیہ نے کیوبا کی فوجی ناکہ بندی کر دی۔ امریکی پچھواڑے میں سوویت پہنچ کا مظاہرہ دکھانے اور اس کی عالمی پبلسٹی کا آنند لینے کے بعد سوویت کیمونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل خروشچیف نے یہ میزائیل ہٹانے کا اعلان کر دیا۔
    جیسے جیسے امریکی رویہ سخت ہوتا گیا کیوبا بھی لوہے کا چنا ہوتا گیا۔ سی آئی اے نے فیدل کاسترو کو ہلاک کرنے کی خفیہ کوششیں ستر کے عشرے تک جاری رکھیں۔ اس عرصے میں  کیوبا نے نہ صرف جنوبی امریکا میں واشنگٹن مخالف بائیں بازو کی نظریاتی و مسلح قوتوں کی ہر طرح سے مدد کی بلکہ افریقہ میں بھی سرد جنگ کے دوران ایتھوپیا سے انگولا تک امریکی مفادات کے خلاف ہراول دستے کا کردار نبھایا۔

    افریقہ میں کاسترو کو سب سے بڑا مداح نیلسن منڈیلا کی شکل میں مل گیا۔ جب پورا مغرب جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کی علمبردار گوری اقلیتی حکومت کی پشت پر تھا کیوبا افریقن نیشنل کانگریس کی مدد کر رہا تھا۔ منڈیلا نے ستائیس برس کی قید سے رہائی کے بعد جن دو ممالک کا سب سے پہلے دورہ کیا وہ قذافی کا لیبیا اور کاسترو کا کیوبا تھا۔ منڈیلا نے دونوں سے کہا ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہمیں جلد آزادی نہ ملتی‘‘۔ سوال یہ ہے کہ صدر اوباما کو اس وقت کاسترو کے کیوبا میں اترنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کچھ بنیادی وجوہات ہیں۔ اول یہ کہ سرد جنگ کا زمانہ قصہِ پارینہ ہو چکا اور اس کی جگہ گلا کاٹ عالمی معاشی مقابلے نے لے لی ہے۔

    دوم یہ کہ امریکا نے انسٹھ برس کے دوران ہر طرح سے ہر کوشش کر دیکھی مگر کیوبا کو قدموں پر نہ جھکا سکا۔ سوم یہ کہ کاسترو کے انقلاب کے بعد جو ہزاروں کیوبائی فرار ہو کر امریکا پہنچے وہ کاسترو کے کٹر سیاسی مخالف اور ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم ووٹ بینک ضرور تھے مگر اب اس معدوم ہوتی نسل کی جگہ اس جوان کیوبائی نسل نے لے لی ہے جو سیاسی پناہ سے زیادہ معاشی وجوہات کے سبب کیوبا سے امریکا منتقل ہوئے ہیں۔ چنانچہ کاسترو حکومت سے ان کی مخالفت میں پہلی نسل جیسا کٹر پن نظر نہیں آتا۔
    چہارم یہ کہ امریکی صدر اپنی دوسری اور آخری مدتِ اقتدار میں کچھ ایسا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے کہ تاریخ کے حافظے میں محفوظ رہے۔ اوباما مسئلہ فلسطین یا شام کی خانہ جنگی کا معاملہ حل نہیں کرا سکے مگر کیوبا سے تعلقات معمول پر لانے کا کریڈٹ یقیناً انھی کو ملے گا۔ ایک برس پہلے کون تصور کر سکتا تھا کہ کوئی امریکی صدر ہوانا میں چی گویرا کے میورل کے سامنے فیملی گروپ فوٹو کھچوا رہا ہو گا۔

    کیوبا کو بھی امریکیوں سے جپھی ڈالنے کی اتنی عجلت نہیں تھی۔ مگر دنیا بدل رہی ہے تو کیوبا کے کٹر رویے پر بھی اثر تو پڑنا تھا۔ دونوں ممالک کے بیچ غلط فہمیاں دور کرانے میں پوپ فرانسس نے کلیدی کردار ادا کیا اور کینیڈا نے دونوں ممالک کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی کی۔ ویسے بھی کیوبا عملاً ثابت کر چکا تھا کہ تمنا ہو تو ہر طرح کے حالات میں سر اٹھ کے عزت سے جیا جا سکتا ہے۔ کہنے کو کیوبا کی فی کس آمدنی آج بھی سو ڈالر ماہانہ ہے۔ لیکن تمام آبادی کو صحت، صاف پانی اور سینی ٹیشن کی سہولتیں میسر ہیں۔ چنانچہ اوسط عمر اٹھتر برس ہے جو امریکا سے بھی زیادہ ہے۔ کیوبا کے تیس ہزار ڈاکٹر اس وقت دنیا کے سو سے زائد ممالک میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جنوبی امریکا کے متعدد ممالک میں کیوبا کے ماہرِینِ امراض چشم مفت آئی کیمپ لگا کے پچھلے دس برس میں لگ بھگ ساڑھے تین لاکھ مریضوں کو بینائی لوٹا چکے ہیں۔

    مغربی افریقہ کے چودہ ممالک میں کیوبا ملیریا کے خلاف جہاد میں مصروف ہے۔ سن دو ہزار آٹھ کے زلزلے میں پاکستان کی مدد کے لیے کیوبا نے جان بچانے کے آلات سے مسلح تین سو ڈاکٹر بھیجے۔ گزشتہ اٹھارہ برس میں کیوبا تیسری دنیا کے بیس ہزار طلبا کو اپنے طبی اداروں میں پری وینٹو طریقہِ علاج کی تربیت دے چکا ہے۔ کیوبا تیسری دنیا میں سستی اور موثر دواؤں کی ریسرچ پر سب سے زیادہ پیسہ خرچ کرتا ہے اور اس بابت ملٹی نیشنل ڈرگ کمپنیوں کے چنگل سے آزاد ہے۔ تعلیم پر قومی بجٹ کا تیرہ فیصد خرچ ہوتا ہے۔ پرائمری تا یونیورسٹی مفت اور چھ سال سے سولہ برس کی عمر تک لازمی ہے لہذا شرح خواندگی سو فیصد ہے۔ سوشل سیکیورٹی کے نظام کے تحت ہر خاندان کی قومی انشورنس، ہر کارکن کی انفرادی انشورنس اور ہر معذور کے لیے ڈس ایبلٹی الاؤنس میسر ہے۔ تنخواہیں کم ہیں مگر کام سے کوئی محروم نہیں۔ بیس فیصد افرادی قوت چھوٹا ذاتی کاروبار کرتی ہے۔

    چنانچہ جب بارک اوباما نے ہوانا کے پیپلز پیلس میں  کھڑے ہو کر کیوبا میں انسانی حقوق کے احترام اور انفرادی آزادیوں کی بحالی کی بات کی تو صدر راؤل کاسترو نے امریکا کا نام لیے بغیر چوٹ کی کہ جو ملک اپنے تمام شہریوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور سماجی تحفظ فراہم نہ کر سکے وہ کیسی مثالی جمہوریت ہے۔ انسانی حقوق اور کیا ہوتے ہیں؟ جمہوریت میں سب شہریوں کی شراکت ہونی چاہیے نفع و نقصان سمیت۔ جدید کیوبا کے بانی فیدل کاسترو کئی برس سے علیل ہیں۔ دو ہزار آٹھ میں انھوں نے عنانِ اقتدار چھوٹے بھائی راؤل کے سپرد کر دی۔ راؤل نے ون پارٹی سسٹم کے اندر شہریوں کو محدود پیمانے پر نجی کاروبار کی گنجائش فراہم کی ہے۔ اوباما کی فیدل کاسترو سے ملاقات نہیں ہو سکی۔ ان کے دورے سے قبل فیدل سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ذاتی طور پر میں امریکیوں پر اعتبار نہیں کرتا مگر کیوبا کو کس سمت جانا ہے یہ فیصلہ حکومت اور لوگ کریں۔

    اوباما کے قیام کے دوران میڈیائی فوج کے علاوہ لگ بھگ بارہ سو امریکی سرمایہ کار اور تاجر بھی کیوبا آئے۔ کیوبا کے پسماندہ انٹر نیٹ نظام کو فعال بنانے اور سیاحت کی صنعت میں امریکی سرمایہ کاری کے کچھ سمجھوتوں پر بھی دستخط ہوئے۔ دہشت گردی کو فروغ دینے والے ممالک کی امریکی فہرست سے کیوبا سال بھر پہلے خارج ہو چکا ہے مگر کیوبا کے خلاف  امریکی اقتصادی پابندیاں ہٹانے کا فیصلہ امریکی کانگریس کو کرنا ہے اور کانگریس میں فی الحال ری پبلیکنز کی اکثریت ہے۔ ویسے بھی امریکا میں یہ الیکشن کا سال ہے۔ مگر جو پیشرفت ہو چکی اسے پیچھے دھکیلنا کسی بھی نئی امریکی انتظامیہ یا کانگریس کے لیے خاصا مشکل ہو گا۔ اصل چیلنج اب کیوبا کو درپیش ہو گا کہ وہ امریکی سرمایہ دار سے گلے ملتے ہوئے شیروانی کے بٹن کیسے بچاتا ہے۔ فی الحال تو ہوانا میں امریکی سفارتخانے کے سامنے کی دیوار پر عرصے سے سرخ جلی حروف میں ’’سوشلزم یا موت‘‘  لکھاہے جسے دیکھ دیکھ کے بالکونی میں کھڑے امریکی سفارتکاروں کے منہ میں دبے ہوانا سگار کا کش اور گہرا دھواں چھوڑتا ہے۔

     وسعت اللہ خان


    0 0

    سپین خوڑ، پشتو زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ،سفید یا صاف و شفاف پانی کی
    ندی کے ہیں۔ سوات کی سپین خوڑ جھیل شمال کی طرف سے کنڈول جھیل اور مشرق کی طرف سے وادیٔ اتروڑ کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یونین کونسل اتروڑ، سوات کے ضلعی صدر مقام سیدو شریف سے 120 کلومیٹر اور کالام سے 16 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ بحرین سے آگے سڑک کی حالت کافی خستہ ہونے کی وجہ اس پر سفر کرنے کے لیے فور بائے فور گاڑی ایک بہترین انتخاب ہے۔ سپین خوڑ جھیل تین اطراف (مشرق، شمال، جنوب) سے فلک بوس پہاڑوں کے درمیان گھِری ہوئی ہے۔ مغربی طرف سے بڑے بڑے پتھروں نے جھیل کے نیلے پانی کا راستہ روک رکھا ہے، جس وجہ سے پانی نے ان پتھروں کی بیچ گہرائی میں سے اپنا راستہ نکال لیا ہے، جو ایک آبشار کی شکل میں جھیل سے کوئی ایک گھنٹے کی مسافت پر نیچے پہاڑ کے دامن میں گرتا ہے۔
    سپین خوڑ جھیل تک رسائی دو راستوں کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ پہلا راستہ وادیٔ لدو سے ہو کر کنڈول جھیل کی طرف سے نکلتا ہے، جہاں سے کم وقت میں سپین خوڑ جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک انتہائی دشوار گزار راستہ بھی ہے اور ٹریکنگ کا تجربہ نہ رکھنے والوں کے لیے پر خطر بھی ہو سکتا ہے۔ دوسرا راستہ وادیٔ لدو میں جنگل سے نکلتا ہے، جو قدرے بہتر اور سہل ہے۔ سپین خوڑ آبشار پہنچنے پر مذکورہ راستہ مزید دو چھوٹے راستوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ آبشار کی طرف کھڑے ہو کر دائیں طرف شروع ہونے والا راستہ گھنے جنگل میں سے ہو کر مسلسل چڑھائی کی شکل میں اوپر جھیل تک پہنچتا ہے۔ اس راستے سے چل کر انسان قدرت کو اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر پاتا ہے۔

    گھنے جنگل میں مختلف پرندوں کی مسحور کن آوازیں گویا کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ چاروں طرف سبزہ، ہریالی اور رنگ برنگے جنگلی پھول آنکھوں کو تراوت بخشتے ہیں۔ قدم قدم پر چھوٹے چھوٹے جھرنے شور مچا کر پیاس بجھانے کے لیے اپنی طرف بلاتے رہتے ہیں۔ رہی سہی کسر ہر دس پندرہ منٹ بعد مختلف گھاٹیوں میں جمی ہوئی برف پورا کر دیتی ہے، مگر اس راستہ کے ساتھ صرف ایک مشکل ہے کہ یہ آبشار کے مقام سے قریب ڈھائی تین گھنٹے تک کا ایک صبر آزما مرحلہ ہے۔ واضح رہے کہ وادیٔ لدو سے سپین خوڑ آبشار تک کا راستہ قریباً ڈیڑھ گھنٹے کا ہے۔ یوں کْل ملا کر یہ سفر پانچ تا چھ گھنٹوں میں طے کیا جا سکتا ہے جبکہ دوسرا راستہ آبشار کی بائیں جانب سے ہوکر سیدھا جھیل تک لے جاتا ہے۔ یہ راستہ بڑے بڑے پتھروں کے درمیان میں سے گزرتا ہے چونکہ یہاں قریباً ہر بارش کے بعد چھوٹی بڑی سلائیڈنگ ہوتی رہتی ہے، اس لیے اس راستے پر درخت نامی کوئی شے نہیں۔

    سلائیڈنگ کی وجہ سے راستے میں بڑے بڑے پتھرقریباً جھیل تک بکھرے پڑے نظر آتے ہیں۔ درختوں کی کمی کی وجہ سے سورج کی شعاعیں وقتاً فوقتاً تنگ کرتی رہتی ہیں اور پیاس بھی خوب لگتی ہے چونکہ راستے میں دو تین جگہوں پر پتھروں کے درمیان پانی گزرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس لیے پیاس بآسانی بجھائی جا سکتی ہے۔ بہتر ہے، اگر دورانِ سفر پانی کی بوتل ساتھ رکھی جائے، اگر پہاڑوں پر چڑھنے کی تھوڑی بہت مشق ہو، تو اس راستے سے دو گھنٹوں میں جھیل تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس طرح کل ملا کر اس راستے سے ساڑھے تین گھنٹوں کی مسافت کے بعد جھیل تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ راستے میں وقتاً فوقتاً گائیڈز بھی ہمیں قیمتی معلومات فراہم کرتے رہے۔ جب ہماری ٹیم نے وادیٔ لدو سے پیدل سفر کا آغاز کیا، تو وادیٔ اتروڑ کے محمد رحیم (گائیڈ) نے ایک سفید پھول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پودے کی جڑ ہم دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سفید پھول والے اس پودے کو ہمارے علاقے میں ’مابیک‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی جڑ کو حاصل کرنے کے بعد اسے یہاں روایتی طور پر سکھایا جاتا ہے۔ سکھانے کے بعد ان کو پیسا جاتا ہے اور پھر اسے دیسی گھی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ کمر درد کے لیے یہ دوا تیر بہدف نسخہ ہے۔ ایک اور پودا ملہم (مرہم) ہے، جسے جب چبایا جاتا ہے تو وہ چیونگ گم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے پتوں کو چبانے کے بعد ہم زخم پر رکھتے ہیں۔ زخم چاہے کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو، ہم روایتی انداز میں ملہم کو دوا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ مابیک کے پودے سپین خوڑ جھیل جبکہ ملہم کے پودے اسمس جھیل کے راستے میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ایک صبرآزما مرحلے کے بعد جب سانس پھولی ہوئی ہوتی ہے، پسینے چھوٹ رہے ہوتے ہیں اور ایسے میں جب جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی منہ سے مارے خوشی کے چیخ نکل جاتی ہے۔ سینے میں دل دھکڑ پکڑ کرنے لگ جاتا ہے۔ 

    میں 21 مئی کو ایس پی ایس ٹریکنگ کلب (سوات) کے ممبران کے ساتھ جھیل پر پہنچا تو جھیل کے کناروں پر اچھی خاصی برف نظر آئی۔ جھیل کے کناروں پر نیلگوں پانی میں برف کے بڑے بڑے ٹکڑے تیرتے دکھائی دے رہے تھے۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، مگر ہوا اتنی سرد اور تیز تھی کہ ہمیں گرم کپڑے نکال کر پہننا پڑے۔ ایسی سرد ہواؤں کا راج سوات کے میدانی علاقوں میں دسمبر یا جنوری میں ہی ہوا کرتا ہے۔ جھیل کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس میں سے پانی خارج ہونے کا بظاہر کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، مگر پشتو کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ د اُوبو لارہ چا نیولی (پانی کا راستہ کس نے روکا ہے) کے مصداق جھیل کا پانی انہی پتھروں کی گہرائی میں اپنا راستہ نکالنے میں کامیاب ہوا ہے۔ جھیل میں پانی سبز مائل نیلا رنگ لیے ہوئے ہے جبکہ نیچے آبشار تک پہنچتے پہنچتے یہ بالکل سفید رنگ لے لیتا ہے اور شاید اسی وجہ سے اسے سپین خوڑ (سفید یا صاف و شفاف پانی کی ندی) کہتے ہیں۔

    گاؤں لدو واپسی کے وقت جھیل کا خارج شدہ پانی ایک گنگناتی آبشار کی شکل میں بہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی سو یا 120 فٹ اوپر سے نیچے گرتے ہوئے پانی کو دیکھ کر سیاحوں کے دل میں گدگدی سی ہونے لگتی ہے۔ اس کی پھوار دور دور تک ہلکے ہلکے مینہ کی شکل میں اڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ آبشار کے قریب تصویر کھینچنے کی غرض سے کھڑے سیاحوں کے کپڑے پلک جھپک میں گیلے ہوجاتے ہیں اور کیمرہ کے لینس کو ہر دوسری تیسری تصویر کے بعد صاف کرنا پڑتا ہے۔ مذکورہ آبشار کو جھیل کی مناسبت سے سپین خوڑ آبشار پکارا جاتا ہے۔جھیل کی سیر کرنے والے سیاحوں کو کالام یا اتروڑ سے باآسانی گائیڈز مل سکتے ہیں۔ ان کی کوئی مخصوص فیس نہیں۔ عموماً دو ہزار سے لے کر پانچ ہزار روپے تک یومیہ لیتے ہیں۔

    گائیڈز کی دل لبھانے والی بات یہ ہے کہ وہ اتنے کو آپریٹو ہوتے ہیں کہ محض دو تین گھنٹوں میں ان پر فیملی ممبر ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ وہ نہ صرف سیاحوں کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ انہیں دشوار گزار راستوں سے بچوں کی طرح ہاتھ پکڑ کر گزارتے بھی ہیں۔ یہ گائیڈز سیاحوں کے ہمراہ ہلکا پھلکا سامان اپنے کاندھوں پر بھی لادتے ہیں۔ ان بھلے مانسوں کی بس ایک ہی خواہش ہے کہ حکومت بحرین تا اتروڑ سڑک (لگ بھگ 51 کلومیٹر) تعمیر کروائے۔ قریباً تمام گائیڈز کی کہانی ایک جیسی ہی ہے۔ مئی سے لے کر اگست کے آخر تک یعنی چار ماہ وہ سیاحوں کی راہ تکتے ہیں اور باقی کے مہینے ملک کے گرم علاقوں میں جسم و جاں کا رشتہ بحال رکھنے کی خاطر سخت محنت مزدوری کرتے ہیں۔

    امجد علی سحاب



    0 0

    ہندوستان میں کرنسی کے بڑے نوٹوں کو کیش کرنے پر عائد متنازعہ پابندی کے خلاف ہزاروں لوگوں نے ملک گیر احتجاج کیا جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس کو 'مالی ایمرجنسی'کی وجہ قرار دیا۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندرامودی کی جانب سے تین ہفتے قبل 86 فی صد بڑے نوٹ مالی گردش سے باہر نکالنے کے حیران کن فیصلے کے اثرات سے پورا ملک باہر نہیں نکل سکا۔

    مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں 25 ہزارکے قریب لوگ سڑکوں پر نکل آئے جبکہ بائیں بازوسے تعلق رکھنے والے وزیراعلیٰ ماماتا بینر جی نے خبردار کیا کہ اگر یہ پابندی جاری رہی تو احتجاج بڑھا دیا جائے گا۔ پولیس کے مطابق ہندوستان کے ایک اور تجارتی مرکز ممبئی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاج کیا۔ حزب اختلاف کی پارٹی کانگریس کے رہمنا منیش تیواری کا کہنا تھا کہ 'ہم حکومت کی جانب سے لگائی گئی غیراعلانیہ مالی ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ پورے ملک کا محنت کش طبقہ اس سے متاثر ہوا ہے جبکہ یہ فیصلہ غیرقانونی ہے'۔












    0 0



    0 0
  • 11/30/16--04:50: دریائے ستلج
  • ستلج کو یونانی زبان میں زرد روز اور ویدک میں ستوری کہا جاتا ہے۔ دریائے ستلج جنوب مشرقی تبت کی جھیل لنکا سو سے 15200 فٹ کی بلندی سے نکلتا ہے۔ اس کی کل لمبائی 1448 کلو میٹر ہے۔ دریائے ستلج ہمالیہ کی گھاٹیوں سے گزر کر ہماچل پردیش کی ریاست میں 900 میل تک کے علاقے کو سیراب کرتا ہوا، ضلع ہوشیار پور کے میدانی علاقوں میں آ جاتا ہے۔ یہاں سے ایک بڑی نہر کی شکل میں جنوب مغرب کی طرف بہتا ہوا دریائے بیاس میں گر کر ہندوستان اور پاکستان میں ضلع قصور کے میدانی علاقوں سے دیپالپور کے نزدیک ہیڈ سیلمانکی سے گزرتا ہوا بہاولپور اور بہاولنگر کے اضلاع کی زمینوں کو سیراب کرتا ہے۔ نواب بہاول پور نے اپنی ریاست کو زرخیز بنانے کے لیے دریائے ستلج سے نہریں نکالیں، جن کا پانی نہ صرف زمینوں کو سیراب کر رہا ہے بلکہ صحرائے چولستان کے کچھ علاقوں میں فصلیں اگانے میں استعمال ہوتا ہے۔
    1849ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان جنگ سے پہلے یہ دریا ایک سرحد کا کام انجام دیتا تھا۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر دریائے ستلج، دریائے سندھ سے مل جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں دریائے ستلج تحصیل احمد پور شرقیہ کے قصبہ اُچ شریف کے نزدیک سے گزرتا تھا ۔ اس کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ 1960ء کے سندھ طاس منصوبے کے تحت اس کے پانی پر بھارت کا حق تسلیم کرلیا گیا ہے ۔ ہندوستان نے دریائے ستلج پر بھاکڑہ ننگل ڈیم تعمیر کیا ہے، جس سے 450,000 کلو واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے اور اس کا پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے دریائے ستلج سے سرہند کینال اور وادیٔ ستلج کے نام سے نہری منصوبے تعمیر کرکے علاقے کو زرخیز بنا دیا ہے۔

    شیخ نوید اسلم

     (پاکستان کی سیر گائیں)
     


    0 0

    Read munno-bhai Column currency-noton-ka-bohran-aor-dunya-ki-sab-se-bari-jehmooiat published on 2016-12-01 in Daily JangAkhbar

    منو بھائی



    0 0
  • 11/30/16--23:29: دریائے جہلم
  • دریائے جہلم جموں و کشمیر کے علاقے پیر پنجال کے دامن میں واقع ایک چشمہ ویری ناگ سے نکلتا ہے۔ شمال مشرقی جموں و کشمیر کے گلیشیرز پگھل کر اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہیں۔ دریائے جہلم سری نگر کے پاس سے گزرتا ہوا وولر جھیل میں گر جاتا ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس کی گزر گاہ تنگ ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کا مشاہدہ چکوٹھی میں لائن آف کنٹرول سے مظفر آباد اور کوہالہ تک کیا جا سکتا ہے۔ دریائے جہلم مظفر آباد میں دریائے نیلم میں شامل ہو جاتا ہے اور وادیٔ کاغان میں کنہار دریا سے مل کر دیائے پونچھ میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم آزاد کشمیر کے ضلع میر پور کے مقام پر منگلا پہنچ کر میدانی علاقہ سے بہتا ہوا پنجاب کے ضلع جہلم میں داخل ہو جاتا ہے ،یہاں اس کا رخ شمال سے جنوب مغرب کی طرف ہو جاتا ہے ۔
    منگلا کے مقام پر ایک بہت بڑا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے اور دریا کا پانی اس ڈیم میں آتا ہے۔ اس کو منگلا ڈیم کہتے ہیں۔ اس کا پانی آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کے کام آتا ہے۔ دریائے جہلم پاکستان میں جہلم، ملک وال اور خوشاب کے میدانی علاقوں سے بہتا ہوا ضلع جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے۔ دریائے جہلم پر1967ء میں منگلا ڈیم بنایا گیا اور اس میں 5.9 ملین ایکڑ پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، اسی دریا پر 1967ء میں رسول بیراج تعمیر کیا گیا ۔ دریائے جہلم سے دو نہریں نکالی گئی ہیں، لوئر جہلم کینال 1901ء میں ضلع گجرات کے مقام رسول سے نکالی گئی، اس کی مزید دو شاخوں کھارا در مشین سے ضلع جھنگ کا شمالی حصہ سیراب ہوتا ہے، اپر جہلم 1915ء میں تعمیر کی گئی، اس کا پانی منگلا سے دریائے چناب تک جاتا ہے۔ رسول بیراج سے رسول قادر لنک اور چشمہ جہلم لنک کینال نکالی گئی ہیں۔ دریائے جہلم اور چناب کے درمیانی علاقہ کو دوآبہ چچ کہتے ہیں۔ 

    اس کے مغربی حصہ کو تھل کہتے ہیں۔ دریائے جہلم کو ویدک دور میں وتلستا اور یونانی زبان میں ہائیڈ سپاس کہا جاتا تھا۔ 320 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے دریائے جہلم عبور کر کے راجہ پورس کو شکست دی تھی اور دوشہر تعمیر کروائے ،پہلا اس مقام پر تھا، جہاں لڑائی ہوئی تھی، اس کا نام و نشان مٹ گیا اور دوسرا سکندر اعظم نے اپنے محبوب گھوڑے بیوسیفالس کے نام سے منسوب کیا، جو اس جنگ میں کام آیا۔ جہلم کا موجودہ شہر اس مقام پر آباد ہے۔ بعض حوالوں میں گجرات کے شہر پھالیہ کو سکندر اعظم کے گھوڑے بیوسیفالسس کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ہندوستان دریائے جہلم پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے ۔ پاکستان نے اس مسئلہ پر اپنی تشویش سے بین الاقوامی اداروں کو آگاہ کر دیا ہے۔ 

    شیخ نوید اسلم
    پاکستان کی سیر گاہیں


    0 0

    حارث کی کال آئی تو سب اس جانب متوجہ ہوگئے۔ حارث اپنے والدین کا لاڈلے تھا جس کی وجہ سے اُسے یہاں ہر قسم کی سہولیات میسر تھی، لیکن بیرون ملک جا کر وہ بالکل اکیلا ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے اُس کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جب جب اُس سے رابطہ ہوتا ہے تب تب ہم یہ اُمید کرتے ہیں کہ حارث کو اب اچھی نوکری مل گئی ہو گی اور وہ وہاں اچھی زندگی گزار رہا ہو گا، مگر ہر بار حارث کا ایک ہی جواب سننے کو ملتا ہے کہ ’’بس بھائی کیا پوچھتے ہیں، دیکھیں انشاء اللہ بہت جلد کچھ ہوجائے گا‘‘۔ حارث کا تو ہمیں نہیں معلوم لیکن اُس کے حالات سن کر ہمیں ضرور مایوسی کے گہرے بادل اپنی گرفت میں لینا شروع کر دیتے ہیں، مگر شکر یہ کہ ہر ہر بار اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مایوسی سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتا کہ؛ ’’خبردار مایوسی کفر ہے‘‘۔

    بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسائل ایک عرصے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ امسال بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر اس کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں اوورسیز پاکستانیز کمیشن فعال دکھائی دیا۔ پنجاب میں اس پر کچھ مزید پیش رفت بھی ہوئی اور اضلاع کی سطح تک کمیٹیاں قائم کی گئیں۔ جنہیں ہزاروں کی تعداد میں شکایات موصول ہوئیں۔ کمشنر اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب نے دعویٰ بھی کیا کہ اب تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی 4 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، جن میں سے 50 فیصد حل کی جا چکی ہیں۔ مسائل کے حل کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جارہا ہے۔
    گزشتہ روز ایک رپورٹ نظروں سے گزری۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، آسٹریلیا، عراق، ایران، بھارت، افغانستان سمیت 86 ممالک کی جیلوں میں 21 ہزار 790 پاکستانی قید ہیں، جن میں سے بی کیٹیگری کے کیسز میں 10 ہزار 127 کی تعداد میں پاکستانی ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت سمیت کئی ممالک میں تو بغیر کسی الزام کے بھی متعدد پاکستانی جیلوں میں قید ہیں۔ بیرون ملک جیلوں میں بند پاکستانیوں کے ورثاء سالوں سے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور دیگر دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے لیکن کوئی نوید نہ ملی۔ متعلقہ سفارتخانوں نے بھی اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا نہ کیا۔ میڈیا کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں کئی پاکستانی معمولی جرائم کی پاداش میں کئی کئی برسوں سے جیلوں میں قید ہیں۔

    بھارت سمیت چند ممالک میں موجود پاکستانی قیدیوں کو سزائیں پوری ہونے کے باوجود رہائی نہیں دی گئی۔ جاری رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے اس مسئلہ پرموجودہ دور حکومت میں 3 مرتبہ رپورٹس مانگیں، جس پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ بھی دی لیکن پھر بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ دوسری جانب محکمہ خارجہ کے حکام کا دعویٰ ہے کہ مختلف ممالک میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جا رہے ہیں، جبکہ یہ بات بھی درست ہے کہ ان میں سے بعض کے پاس دستاویزات مکمل نہیں تھیں اور اکثر معمولی جرائم پر کئی کئی برس سے قید کاٹ رہے ہیں۔

    بیرون ممالک پاکستانیوں کی مشکلات کے لئے متعلقہ اداروں کو پہلے سے کہیں بہتر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ میرا دوست حارث بھی ایک سال قبل سعودی عرب میں رزق حلال کی تلاش کے لیے گیا، لیکن وہاں اسے بھی وہاں کچھ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں رہنے والے یہ سوچتے ہیں کہ شاید بیرون ممالک جاکر وہ بہت بہتر زندگی بسر کریں گے، مگر حارث کی باتیں سن کر شاید مجھے یہ محسوس ہوا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جب حارث سعودی عرب کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اُس الوداع کرنے حیدرآباد سے پورا خاندان کراچی آیا ہوا تھا۔ اُس وقت تو سبھی خوش تھے کہ حارث باہر جا رہا ہے، اب اُس کے حالات اچھے ہوجائیں گے، وہ وہاں خوش رہے گا مگر کسی اور کے دیس میں جا کر کیا ہوتا ہے یہ وہاں جاکر ہی معلوم چلتا ہے۔

    حارث بھائی کو رخصت کرتے وقت ایک بات کا احساس تھا کہ واپسی کے لئے آنا ان کے اپنے بس کی بات نہیں ہے۔ صرف جانا اپنے اختیار میں ہے۔ یہ بات بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ کچھ روز قبل بیرون ملک سے واپس آئے ایک شخص نے بتایا کہ وہ جس مقصد کے لئے گیا تھا وہ تو کہیں کھو کر رہ گیا کیونکہ اُس کےعلاوہ انہیں وہاں بہت سے دیگر کام بھی کرنے پڑتے تھے۔ حقوق کی باتیں کرنے والے خود کس طرح نسل پرستی میں ڈوب کر حقوق سلب کرتے ہیں اس بات کا اندازہ حماد سعید کی باتوں سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں کی مقامی پولیس اور مقامی باشندے تو گویا مقدس گائے ہیں۔ آپ کو وہ کچھ بھی کہیں، ماریں، آپ کا استحصال کریں کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر آپ نے ہلکی سی آواز بھی بلند کی تو اس کی سزا بھگتنی پڑے گی اور رہی سہی کسر وہاں کی پولیس پوری کردے گی۔

    اپنے حق میں آواز بلند کرنے کا ایک ہی صلہ ملتا ہے اور وہ ہے قصور وار ٹھہرایا جانا اور پھر کچھ دن جیل میں گزارنا۔ حماد کے وہاں پہنچتے ہی ان کے ضروری کاغذات لے کر اپنے پاس رکھ لئے گئے۔ پھر اس وقت تک نہیں دیئے گئے جب تک جیل کی ہوا کھانے کے بعد انہیں ملک کے لئے واپس زبردستی کے انداز میں بھیج نہ دیا گیا۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ جتنا کمایا تھا اتنا ہی لگ گیا، واجبات بھی نہیں ملے اور الٹا جان کے لالے پڑ گئے۔ ایک دوست عبداللہ بھی کچھ دن قبل ہی لوٹے ہیں، اچانک غائب ہوئے اور کچھ دن بعد ان کا پغام موصول ہوا کہ مقامی حضرت سے الجھ بیٹھے تھے، جس کا خمیازہ انہیں کئی روز جیل میں گزارنے کی صورت میں ملا اور اس کے بعد اب انہیں ٹھیک ٹھاک بےعزت کرکے ملک واپس بھیجا جارہا ہے اور ایک دو دن میں قانونی کارروائی کے بعد عزت سے روزی روٹی کمانے کے لئے جانے والے عبداللہ سمیت کئی پردیسیوں کو نکال باہر کیا جاتا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز 25 اکتوبر 2016ء کو اس معاملے پر اجلاس طلب کرچکی ہے اور بیرون ممالک پاکستانیوں کی قید کے حوالے سے غور کیا گیا ہے۔ تاہم ضرورت ان اجلاسوں کی نہیں ہے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کبھی سوچا کہ جن کے لال بیرون ممالک قید و بند کی زندگی گزار رہے ہیں، غیروں کے رحم و کرم پر ہیں ان کے گھروالوں کی راتیں اور دن کیسے کٹتے ہوں گے۔ ہم وہ قوم ہیں کہ جن کا انگ انگ اپنے رشتوں کے ساتھ ایسے جڑا ہوا کہ درد کہیں ہو تو تکلیف دوسری جانب بھی محسوس ہوتی ہے۔ ایک بہن اپنے بھائی کے لاڈ و پیار میں، ایک ماں اپنے بیٹے کی ممتا میں، ایک بھائی اپنے بھائی کے پیار میں اور ایک خونی رشتہ اپنے خونی رشتے کی تکلیف میں ویسے ہی یہاں تڑپتے ہیں جیسے وہاں ان کے لال غیروں کے قید خانوں میں تڑپتے ہیں۔

    جانے والوں کو بھی سمجھ بوجھ کر جانا چاہیئے کہ دور کے ڈھول بہت سہانے ہوتے ہیں پیارے، مگر حقیقت شاید ویسی نہیں جیسی نظر آتی ہے۔ یہ اپنا دیس، اپنا ملک اور اپنا وطن ہے۔ جیسا بھی ہے جس طرح کا بھی ہے مگر اپنا ملک ہے، یاد رکھیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ سمیت تمام پاکستان کا نعم البدل کہیں نہیں ہے۔ یہاں کی مٹی اور اس میں بسی اپنوں کی اپنائیت دنیا کے کسی کونے میں کبھی بھی نہیں ملے گی۔ دو چار روپے تو مل جائیں گے مگر ماں کبھی نہیں ملے گی۔ عزت و شہرت کے بعد رسوائی تو مل جائے گی مگر بھائی، بہن اور دوست احباب کبھی نہیں ملیں گے۔ یہ ملک بہت کچھ دے رہا ہے اس لئے یہیں رہ کر اسے کچھ دیں اور پھر اس سے کچھ لیں۔

    عارف جتوئی


    0 0

    نپولین فرانس کے جزیرہ کورسیکا میں 15 اگست 1769ء کو پیدا ہوا۔ پیرس اور برائن کے فوجی سکولوں میں تعلیم پائی اور سب سے پہلی کامیابی تولون کے محاصرے (1793ئ) میں حاصل کی، جہاں اُس نے توپ خانے کو ایک ایسے مخصوص انداز میں استعمال کیا کہ اسی کی وجہ سے فتح ہو گئی۔ اس کے بعد اٹلی میں پے در پے فتوحات حاصل ہوئیں اور 1797ء تک وہ ایک قومی ہیرو بن گیا۔ اسی سال اُس کو مصر کے خلاف ایک مہم کا کمانڈر مقرر کیا گیا، جس کا آخری مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کو فتح کیا جائے۔ نپولین اب تک خشکی کی لڑائیوں میں تو فتح مند ہوتا چلا آتا تھا، لیکن جب دریائے نیل پر برطانوی بیڑے سے مقابلہ ہوا تو اس کا بحری بیڑا نا کام ہو گیا۔ 1799ء کے موسم خزاں میں وہ پیرس چلا آیا اور حکومت کا تختہ الٹ کر خود ’’قونصل اوّل‘‘ بن گیا۔

    اس وقت معلوم ہوا کہ نپولین صرف فوجی اعتبار سے بہت بڑا آدمی نہیں، بلکہ انتظامِ حکومت اور قانون سازی میں بھی مثال نہیں رکھتا۔ چنانچہ اس نے حکومت کی ابتری کو دور کرکے امن و انتظام قائم کیا، مالیات کے نظام نیز عدالتوں کی اصلاح کی، تعلیم کو عام کرنے کا بندوبست کیا اور فرانسیسی قوانین کی باقاعدہ تدوین کرائی۔ 18 مئی 1804ء کو نپولین شہنشاہ بنایا گیا۔ 1810ء میں آسٹریا کے شہنشاہ کی بیٹی ’’ماریا لویسا‘‘ سے شادی کر لی۔ دو سال بعد روس کی مصیبت ناک مہم شروع ہوئی۔ نپولین نے ہمیشہ کی طرح فتح پر فتح حاصل کرنی شروع کی، لیکن عین موسم سرما میں ماسکو سے پسپا ہوتے وقت اُس کی تقریباً ساری کی ساری فوج تباہ ہو گئی۔

    1813ء میں پروشیا اور آسٹریا نے روس کے ساتھ مل کر لائپزگ کے مقام پر اس کو شکست دی اور اسے 11 اپریل 1814ء کو تخت سے دستبردار ہونا پڑا۔ نپولین ایلبا کے جزیرے میں قید تھا، وہاں سے نکل بھاگا اور دوبارہ فرانس کا آمر بن گیا، لیکن آخر 18 جون 1815ء کو بلوشر اور ویلنگٹن نے اس کو واٹر لو کے میدان میں شکست فاش دی اور وہ سینٹ ہلینا کے جزیرے میں جلاوطن کر دیا گیا۔ جہاں 5 مئی 1821ء کو وہ چل بسا۔ 

    فجر مسعود،لاہور


    0 0

     ادارتی نوٹ روزنامہ جنگ


    0 0



older | 1 | .... | 87 | 88 | (Page 89) | 90 | 91 | .... | 147 | newer