Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 84 | 85 | (Page 86) | 87 | 88 | .... | 149 | newer

    0 0

    Afghan baker prepares bread at his shop as he waits for customers in Lashkar Gah, Afghanistan.

    0 0

    ضلع وہاڑی اور تحصیل میلسی کا یہ قصبہ میلسی سے وہاڑی جانے والی سڑک پر ۲۲ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ قصبہ شیر شاہ سوری کے زمانے میں دریائے ستلج سے صرف پانچ کلو میٹر دُور آباد ہوا۔ پرانی جرنیلی سڑک کی موجودگی اس کا بڑا ثبوت ہے۔ یہ قصبہ کرم داد خان داد پوترا کے نام سے ’’کرم پور‘‘ مشہور ہوا۔ کئی مرتبہ عروج و زوال کا شکار ہوا۔ کئی خاندان آباد ہوئے اور نقل مکانی کرتے رہے۔ بورانہ، وسیر اور راجپوت یہاں کی اہم قومیں ہیں۔ محلہ آرائیاں، سکھوں والا، مندر والی گلی، نئی آبادی، پرانا لُڈن روڈ اور ٹبہ نہر والا محلہ یہاں کی رہائشی بستیاں ہیں جبکہ مین بازار اور سکھوں والا بازار تجارتی مراکز ہیں۔ قیامِ پاکستان سے قبل ہندو اور سکھ یہاں کافی تعداد میں آباد تھے جو نقل مکانی کرکے بھارت چلے گئے اور ان کی جگہ مسلمان مہاجرین آ بسے۔ یہاں رنگین چارپائیوں کا کام عام ہوتا ہے۔ 
    کئی مرتبہ ستلج دریا کے سیلاب کی وجہ سے نقصان پہنچا۔ کپاس، گندم، سورج مکھی اور چاول علاقے کی اہم فصلیں ہیں۔ ایک کاٹن ملز، متعدد جننگ فیکٹریاں اور برف کے کارخانے ہیں۔ یہاں طلباء کا ہائیر سکینڈری ، طالبات کا ہائی سکول، ہسپتال، قومی بنکوں کی شاخیں اور ٹیلیفون ایکسچینج موجود ہیں۔ یہاں کی معقول تعداد فوج میں ملازمت پیشہ ہے۔ اس کے مضافات میں پیر چشتی، پیر کوڑے شاہ، پیر ولی بہار اور پیر مخدوم ذکریا کے مزارات ہیں۔ راول کرم پوری ایک شاعر کی حیثیت سے یہاں شناخت رکھتے ہیں۔ کرم پور کی آبادی ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۹۹۵۰ نفوش پر مشتمل تھی۔ جب اس کی موجود آبادی ۱۳ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    اسد سلیم شیخ

     (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) 


    0 0

    ضلع وہاڑی اور تحصیل بوریوالہ کا قصبہ شیخ فاضل، بوریوالہ سے چیچہ وطنی جانے والی سڑک پر دس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک سڑک گگو کے ساتھ بھی جا ملتی ہے۔ یہ قصبہ یہاں مدفون روحانی بزرگ شیخ محمد فاضل کے نام سے قریباً ۱۵۳۸ء کے لگ بھگ آباد ہوا۔ آپ عارفوالہ کے نواحی قصبہ شیخوپورہ جسے ٹبہ انگ پال بھی کہا جاتا تھا، وہاں سے اُٹھ کر تبلیغ دین کی غرض سے یہاں آئے تھے۔ پرانی آبادی اب تک موجود ہے، پھر جب اس علاقے میں نہر پاکپتن جاری ہوئی ،تو اس کی آبادی میں اضافہ ہوا اور زراعت کو فروغ ملا، یہاں سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر سکھ بیاس گزرتا ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر چشتی خاندان کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں ہر سال شیخ محمد فاضل کا عُرس میلہ   ۱۲ تا ۱۴ ساون کو ہوتا ہے۔ یہ علاقے کا بڑا مشہور میلہ ہے، جس میں ہزاروں لوگ شرکت کرتے ہیں۔

     یہاں سکول، ہسپتال، ڈاکخانہ، کینال ریسٹ ہائوس، گرڈ سٹیشن موجود ہیں۔ میلسی کے نثر نگاروں میں پروفیسر سیّد زین الدین حسین نقوی مرحوم، پروفیسر سیّد محمد شبیر قطبی مرحوم، پروفیسر ڈاکٹر علی شیرطور، قاری نذیر احمد الٰہ آبادی، ممتاز خاں ڈاہر جنہوں نے تاریخ میلسی اور سیاحتِ لفظی نام کی کتب شائع کرائیں، مرید عباس خاور جن کے ناول صدیوں کا سفر اور شہر بے چراغ، سعید احمد سعید کا افسانوی مجموعہ تشنہ لب شائع ہوئے۔ دیگر نثر نگاروں میں مرید عباس الماس، سیّد امجد عقیل شمس، مظہر حسین مظہر، محمد افضل ثاقب، محمد شاہد حفیظ، طالب حسین بھٹی، حسینوی درویش میلسی، فرزانہ ریاض، کوثر پروین، آسیہ مقصود کا شمار بھی یہاں کے ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ طارق نواز کی کتب روشنی کا سفر اور مشاہیر ضلع وہاڑی، محمد اکرم قصوری ایڈووکیٹ کا سفرنامہ پاک پربتوں کا دیس شائع ہوئے۔ میلسی کے شفیق الرحمن الٰہ آبادی کا شمار ادبی مضمون نگاروں میں ہوتا ہے۔ آئینہ خیال کے نام سے ان کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ 

    (اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) 


    0 0


    This photo of Manchar Lake is courtesy of TripAdvisor

    دنیا کی سب سے قدیم جھیل منچھر جھیل کراچی سے قریباً 280 کلومیٹر (175میل) کے فاصلے پر ضلع دادو کے تعلقہ جوھی کھیرتھر پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ یہ جھیل کب وجود میں آئی، اس کے متعلق حتمی طور پر کوئی کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ جھیل موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے، یعنی یہ قدیم ترین پتھر کے دور سے اسی جگہ پر موجود ہے۔ منچھر جھیل دریائے سندھ سے قدرے بلندی پر واقع ہے۔ اس لیے جب دریا میں سیلابی کیفیت ہوتی ہے تو دریا کا زائد پانی حفاظتی پشتے توڑ کر پورے علاقے میں پھیل جاتا ہے ،مگر جب دریا کی سیلابی کیفیت ختم ہو جاتی ہے تو جھیل کا زائد پانی دریائے سندھ میں واپس ہو جاتا ہے اور منچھر جھیل اپنی اصل حالت میں واپس آجاتی ہے۔
    ان حالات کے پیش نظر گذشتہ صدی کے دوران سے دریائے سندھ کے ساتھ ملانے کے لیے ایک ’’اڑی‘‘ نامی نہر بنا دی گئی تھی، جس سے دریا کا سیلابی پانی منچھر جھیل میں محفوظ ہو جاتا ہے، یہ جھیل 520 مربع کلومیٹر کے وسیع عریض علاقے میں پھیلی ہوئی ہے۔ منچھر جھیل سے لاکھوں لوگوں کی قسمتیں وابستہ ہیں۔ ا س جھیل کو دیکھا جائے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی کوئی شہر آباد ہے۔ اس شہر میں ہزاروں کشتیوں پر سوار پورے کا پورا خاندان نسل در نسل آباد ہے۔ ان خاندانوں کو ’’میر بحر‘‘ کہا جاتا ہے، ان کی صبح کہیں ہوتی ہے تو شام کہیں۔ میر بحروں کی تمام تر خوشیاں، مصائب اور تکالیف اس جھیل ہی سے وابستہ ہیں منچھر جھیل ان کے لیے ذریعہ آمدنی اور غذا کی فراہمی کا وسیلہ بھی ہے۔ جھیل میں قریباً دو سے زائد اقسام کی مچھلیاں جو صدیوں سے منچھر جھیل میں پائی جاتی ہیں بالکل ختم ہوگئیں ،اب جو مچھلیاں اس جھیل میں ہیں،ان میں سندھی حرگو، گندن، لوھر، سنگاڑا، پھندملی، موراکا اور کڑوا وغیرہ شامل ہیں۔ اس وقت مچھر جھیل مچھلیوں کی افزائش کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

    اس جھیل سے لاکھوں من مچھلیاں ہر سال پکڑی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس جھیل میں کنول کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ کنول کے بیجوں کلیوں اور اس کی جڑوں کو بطور سبزی پکا کر کھاتے ہیں، جہاں ہری بھری گھاس اچھا موسم اور قدرتی جھیل ہو ،وہاں پرندوں کا دور دراز علاقوں سے آنا ایک فطری بات ہے۔ سردیوں کے موسم میں منچھر جھیل ہر قسم کے پرندوں سے بھر جاتی ہے ۔پرندے عارضی طور پر مختلف ممالک سے ہر سال یہاں آتے ہیں، اکثر یہاں سائبریا اور اس قسم کے ٹھنڈے ممالک سے پرندے منچھر جھیل میں آتے ہیں۔ اس جھیل میں آنے والے پرندوں کی متعدد اقسام ہوتی ہیں، مثلاً ہنس لاکو جانی، راج ہنس، آڑی (آری جل مرغی) نیگری ( نیل سر) کا نیرو (چونچ بزا) ڈگوش ( چھوٹی بطخ) کنگھا ( لنگور) چنچلوں ( چکیکلو بطخ) گنگ مرغیاں اور مختلف بطخیں وغیرہ شامل ہیں ۔اس کے علاوہ منچھر جھیل میں سندھی ہنس بھی کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں یہ ہنس تین طرح کے ہوتے ہیں؛ ایک بھورے رنگ کے ہنس دوسرے سفید منہ والے اور تیسرے کلغی والے ہنس، کہا جاتا ہے کہ یہ ایک نایاب نسل ہے، جو اس جھیل میں پائی جاتی ہے۔ آج کل تو ان پرندوں کو رائفل یا بندوق سے مارا جاتا ہے، لیکن اس سے پہلے میر بحر یعنی زندہ اپنے ہاتھوں سے پکڑتے تھے۔

    موسم سرما میں منچھر جھیل میں پانی کی سطح کافی کم رہتی ہے اور دور دور تک خشک سالی ہوتی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میر بحروں کے یہ خاندان مختلف غذائی اجناس کی کاشت کرتے ہیں۔ یہاں غذائی اجناس میں گندم، جوار، جو، سرسوں،کپاس اور چاول وغیرہ شامل ہیں میر بحر حضرات انہیں نہ صرف اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ قریبی منڈیوں میں فروخت کرکے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں۔ منچھر جھیل کو سیاحت کا مرکز بنا جاسکتا ہے، یہاں کے عوام کا عرصہ دراز سے مطالبہ ہے کہ منچھر پر ایک ڈیم بنایا جائے تاکہ جو ھی تحصیل اور سہیونا کی لاکھوں ایکڑ زمین کاشت ہوسکے۔

    شیخ نوید اسلم

     (پاکستان کی سیر گاہیں)


    0 0

    اکثر لوگوں کو یہ شکایت کرتے سنا گیا ہے کہ وقت بالکل بھی نہیں مل رہا۔ دن کہاں جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا۔ نہ گھر والوں کو وقت دیا جارہا ہے، نہ دوستوں سے ملاقات کی فرصت ہے۔ ایسے تمام لوگ جن کو دن میں 24 گھنٹے اب کم لگنے لگے ہیں، ان کے لیے کچھ تراکیب بتائی جارہی ہیں، جن پر عمل کرکے وہ اپنا قیمتی وقت بآسانی بچا سکتے ہیں۔ وہ تراکیب کیا ہیں؟ آئیں ان پر نظر ڈالتے ہیں:

    پورے ہفتے میں کیا کچھ کرنا ہے؟ وقت کو بچانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ ایک پلان بنائیں کہ رواں ہفتے آپ نے کون کون سے اہم کام کرنے ہیں۔ جب ایک بار فہرست مرتب ہو جائے گی، تو آپ ان کاموں کے لیے وقت نکالنے میں آسانی محسوس کریں گے کیونکہ آپ کو یہ بات پہلے سے ہی معلوم ہوگی کہ فلاں کام آپ نے کب کرنا ہے۔ 
    بچوں کو صبح جلدی تیار ہونے پر انعامات کی آفر کریں بچوں کو صبح سکول بھیجنے کے لیے جلدی تیار کرنا ایک مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹرین چھوٹ رہی ہو اور ہر ایک بھاگ دوڑ میں مصروف ہوتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے بچوں کو آفر کریں کہ جو صبح جلدی تیار ہوگا، اسے فلاں فلاں انعام ملے گا۔ اس آفر کے نتیجے میں آپ دیکھیے کہ بچے وقت سے پہلے ہی تیار ہوجایا کریں گے۔ 

    تمام سامان متعین جگہوں پر رکھیں یہ بات ہم سنتے تو ہیں، لیکن عمل نہیں کرتے۔ اس لیے ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ گھر میں اگر ممکن ہو، تو ایک کمرہ مختص کریں جہاں ضرورت کی ہر چیز ان کے مخصوص مقامات پر رکھی ہو۔ یوں چیزوں کو ڈھونڈنے کے لیے وقت ضائع نہیں ہوگا۔ 

    سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں یقینا آپ کو دفتر کے کام سے ای میل کا استعمال کرنا پڑتا ہے، لیکن سوشل میڈیا کے استعمال کے بغیر آپ ضرور کام کرسکتے ہیں، اس لیے کوشش کیجیے کہ کام کرتے وقت سوشل میڈیا کے نوٹیفیکشن کو بند رکھا جائے اور جب ای میل اور آفس کے دیگر امور ختم ہوں تب آپ ایک مخصوص وقت کے لیے سوشل میڈیا کی طرف متوجہ ہوں۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا بتائی گئیں تراکیب سے آپ دن میں ضائع ہونے والا وقت بآسانی بچاسکیں گے۔

    زرتاشیہ میر


    0 0

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ امریکا، ایران اور کیوبا میں کیا چیز مشترک ہے یا

    جنوبی امریکا کس طرح باقی دنیا سے مختلف ہے یا پھر زندگی میں کس چیز کی اہمیت ہے ؟ اس سوچ کو بنانے میں آپ کے ملک کا کیا کردار ہے؟ دنیا بھر کے 80 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اپنی رائے دی ہے کہ ان کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کس چیز کی ہے اور ان کی آرا کو ذیل میں دئیے گئے نقشے کی صورت میں دکھایا گیا ہے، یعنی ہر ملک میں عوام کی اولین ترجیح کیا ہے؟ نقشہ انٹر نیٹ پر تفصیل سے موجود ہے جسے دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ امریکا، کینیڈا، مغربی و وسطی یورپ اور اسکینڈے نیویا کے ترقی یافتہ ممالک میں زندگی سے مطمئن ہونا اور صحت سب سے اولین ترجیح ہے۔ 
    اس کے مقابلے میں جنوبی امریکا میں تعلیم اولین ترجیح ہے، یعنی کم آمدنی رکھنے والے ملکوں کے عوام تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے یہی ایک راستہ ہے۔ یورپ میں جارجیا اور سلووینیا میں ماحولیات اولین ترجیح ہے۔ رومانیہ واحد ملک ہے، جس کے عوام تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں اور البانیہ اور یوکرین میں لوگ عوام کو ترجیح دیتے ہیں۔ مالڈووا براعظم کا پہلا ملک ہے کہ جو ملازمت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ جاپان اور متحدہ عرب امارات جیسے ترقی یافتہ ممالک میں عوام حفاظت کو سب سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں جبکہ آسٹریلیا میں عوام کام اور زندگی کے درمیان توازن کو سب سے زیادہ ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ ایشیا میں پاکستان، بنگلہ دیش، تاجکستان اور شام ایسے ملک ہیں، جو تعلیم کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ایران، افغانستان، جنوبی کوریا اور بھارت زندگی میں اطمینان چاہتے ہیں۔ چین اور ترکی میں صحت سب سے ااگے ہے جبکہ سعودی عرب، قطر اور کویت میں آمدنی سب کے مطمع نظر ہے۔ ویسے آپ سے بھی سوال ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اولین ترجیح کس کو دیتے ہیں؟ سوچئے گا ضرور!!!۔ 

    شجاعت حامد



    0 0

    یہ سنہ 1987 میں جنوری کی کوئی رات تھی، جب میں اور پروفیسر جمال نقوی
    کے صاحبزادے عاصم جمال نارتھ ناظم آباد میں ایک سڑک کے کنارے کسی دیوار پر نعرے لکھ رہے تھے۔ اُن دنوں ہم ڈیموکریٹک سٹوڈنٹ فیڈریشن کے رکن تھے اور کراچی کی دیواروں پر 'تعلیم حق ہے نہ کہ رعایت'لکھتے پھرتے تھے۔
    میں دیوار کے ایک کونے پر کھڑا لال رنگ سے کسی کی دیوار پر انقلاب برپا کر رہا تھا اور میرا دوست یہی کام سامنے کسی اور دیوار پر کر رہا تھا۔ اتنے میں موٹر سائیکل پر دو پولیس والے آ گئے اور انہوں نے ہمیں پکڑ لیا۔ مجھے یاد ہے اُس رات سردی بھی کافی تھی اور ہم سڑک پر کھڑے کانپتے ہوئے اُن پولیس والوں کی ڈانٹ اور دھمکیاں سن رہے تھے۔

    اتنے میں دور سے ایک اور گاڑی آتی دکھائی دی تو پولیس والے نے اپنے ساتھی سے کہا کہ 'اوئے روک اِس کو۔'گاڑی کو روک لیا گیا۔ ہم نے دیکھا گاڑی میں مہاجر قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم اُس وقت متحدہ نہیں مہاجر تھی۔ پولیس والے نے شیشے کو کھٹکھٹایا تو الطاف حسین نے شیشہ نیچے کر دیا۔ پولیس والے نے اُن سے ہاتھ ملایا اور بڑی عزت سے سلام کرتے ہوئے کہا کہ 'سر آپ لوگ جا سکتے ہیں'اِس دوران اُس گاڑی میں سے ایم کیو ایم کی پوری قیادت اترتی دکھائی دی۔ امین الحق، سلیم شہزاد، طارق جاوید اور کئی دوسرے۔ لیکن الطاف حسین گاڑی میں ہی بیٹھے رہے اور انُہوں نے جاتے جاتے ہمیں دیکھا اور پولیس والوں سے کہا 'اِنہیں کیوں پکڑ رکھا ہے'پولیس والے نے کہا سر یہ لوگ دیواروں پر سیاسی نعرے لکھ رہے تھے۔ جس پر الطاف حسین بولے 'یہ اپنے ہی بچے ہیں انہیں جانے دو'اور ہماری جان چھوٹ گئی۔
    وقت گزرتا گیا ایم کیو ایم سندھ کے شہری علاقوں کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل ہوگئی۔ لیکن یہ جماعت ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی رہی۔ الطاف حسین کسی کو بھی ٹکٹ دے دیں وہی کامیاب۔ الطاف حسین کے ایک اشارے پر پارٹی کے قومی اور صوبائی اسبملیوں کے ارکان مستعفیٰ ہونے کے لیے بیتاب۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان تو شہر میں پولنگ سٹیشنز سنسان۔ ہڑتال کی اپیل تو بند ہر دکان۔ پارٹی میں اُن کے سامنے کسی کی شخصیت ابھرنے ہی نہیں دی گئی۔ 'ہم کو منزل نہیں رہنما چاہیے'کا نعرہ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے تعلق کی بالکل صحیح نمائندگی کرتا ہے۔ جب تک الطاف حسین زندہ ہیں ایم کیو ایم کو اُن سے اور اُن کو ایم کیو ایم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اِس جماعت کی نشو نما ہی اِسی انداز میں ہوئی ہے۔
    الطاف حسین گذشتہ 25 برس سے پاکستان سے باہر ہیں اور پارٹی کی مقامی قیادت نے ہر اچھے برے وقت میں حالات کا مقابلہ کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار، وسیم اختر، حیدر عباس رضوی، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن، انیس قائم خانی وغیرہ ہی پارٹی کو کامیابی سے چلاتے رہے۔

    مسائل اُس وقت شروع ہوئے جب الطاف حسین کی تقریریں ’ناقابلِ برداشت‘ ہوتی گئی نہ صرف اُن کے مخالفین کے لیے بلکہ خود اُن کے ساتھیوں کے لیے بھی۔ یہاں تک کے رہنماوں کی کارکنوں کے ذریعے پٹائی کے واقعات بھی سامنے آنے لگے۔ اگر ایم کیو ایم نائن زیرو سے پی آئی بی کالونی تک منتقل ہو گئی ہے تو اِس کی بڑی وجہ الطاف حسین کا غیر متوقع مزاج اور تقاریر ہیں۔ اگر یہ اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے بھی تو الطاف حسین نے اُس کا کام آسان کر دیا ہے۔

    حسین عسکری
    بی بی سی اردو سروس، لندن


    0 0

    سمندروں میں بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے کئی ایک طریقے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں سے کئی طریقے تو صدیوں سے رائج ہیں، ان طریقوں میں سے ایک طریقہ روشنی کے ذریعے بحری جہازوں کی رہنمائی کا بھی ہے۔ اہم سمندری راستوں اور بندرگاہوں پر ’’لائٹ ہاؤسز‘‘ کی تعمیر کا سلسلہ بھی بہت پرانا ہے، جہاں سے نکلنے والی روشنی کی شعاعوں سے بحری جہاز کو اپنے راستے پر چلنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ ’’لائٹ ہاؤسز‘‘ کی تعمیر کا مقصد بحری جہازوں کو راستے کی رکاوٹوں سے آگاہ کرنا بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ کراچی میں ہر وقت بحری جہازوں کی آمدروفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جن کی رہنمائی کے لیے منوڑہ میں ایک بہت بڑا لائٹ ہاؤس موجود ہے۔
    یوں تو کراچی کو بندرگاہ کے طور پر اٹھارویں صدی میں ہی استعمال کرنا شروع کر دیا گیا تھا، لیکن تب یہاں آنے جانے والوں کو بے تحاشا مشکلات کا سامان کرنا پڑتا تھا آج کی کراچی کی بندرگاہ کی ابتدائی تعمیر کا سہرا ایک انگریز انجینئر جیمز واکر کے سر ہے۔ 1889ء میں منوڑہ میں بحری جہازوں کی رہنمائی کے لیے لائٹ ہاؤس بھی تعمیر کر دیا گیا اور جب 1909ء میں اس لائٹ ہاؤس کو نئی روشنیوں سے آراستہ کیا گیا، تو اسے دنیا کے سب سے طاقتور لائٹ ہائوس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا ۔اس وقت تک کراچی، برصغیر کی تین سب سے زیادہ معروف بندرگاہوں سے ایک تھی۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر پہلی جنگ عظیم کے دوران اس کے اردگرد کچھ معرکوں سے لائٹ ہاؤس کو بہت نقصان پہنچا، جس کی بعد میں مرمت کی گئی۔ پتھروں سے تعمیر کردہ یہ لائٹ ہاؤس طاقتور لینرز سے لیس ہے، جن کے ذریعے نکلنے والی شعاعیں 14 لاکھ موم بیتوں کی روشنی کے برابر ہوتی ہیں۔ اس کے کام کرنے کا طریقہ بہت آسان ہے اور اس کی دیکھ بھال بھی مشکل نہیں۔

    یہ لائٹ ہاؤس بہت جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے اور یہاں جدید آلات نصب ہیں۔ یہاں 1871ء میں بہت سے خوبصورت گھر بھی تعمیر کیے گئے تھے،جن میں بیشتر اس وقت بہت بری حالت میں ہیں۔ ان کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ چکے ہیں اور ان سے میں سے بیشتر عمارتوں کے صرف ڈھانچے ہی باقی رہ گئے ہیں البتہ اب ایک کمپنی ڈی سی ہاؤس اور پائلٹ ہاؤس ان کی بحالی کا کام کر رہی ہے۔ منوڑہ میں واقع تاریخی عمارتوں کی بحالی کا کام کرنے والی کمپنی ابتدائی طور پر یہاں واقع 21 تاریخی مکانوں کی حالت بہتر بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ ان عمارتوں کی بحالی کے بعد انہیں یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے ٹورسٹ ہاؤسز کے طور پر استعمال کیا جائے گا ،اس منصوبے میں کمپنی کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کا تعاون بھی حاصل ہے۔ منوڑہ کو ایک دلکش تفریحی مقام میں تبدیل کرنے کا کام ایک مغربی خاتون ’’جسیسی برنز‘‘ کی نگرانی میں کیا جائے گا، جو خود بھی ایک نیول آفیسر کی بیٹی ہیں۔ منوڑہ سے برنز کی کچھ دلکش یادیں وابستہ ہیں۔

    بہت عرصہ پہلے وہ منوڑہ رچکی ہیں۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب انہیں دوبارہ منوڑہ جانے کا موقعہ ملا تو انہیں یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی کہ منوڑہ کا نقشہ ہی بدل چکا تھا اور وہ عمارتیں جو کبھی اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں ،اب ان میں سے بیشتر کھنڈرات کا ڈھیر بن چکی ہیں۔ برنز نے بہت سوچ بچار کے بعد یہاں کی تاریخی عمارتوں کی بحالی کے کام کا بیڑا اٹھایا اور اب وہ اس کام میں مصروف ہیں۔ برنز کا خیال ہے کہ ایسے تاریخی پس منظر کی وجہ سے یہ مقام بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کام میں برنز کو کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان نیوی اور کئی دوسرے پاکستانی اداروں کے علاوہ غیر ملکی اداروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔

    شیخ نوید اسلم

     (بحوالہ ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ ) 


    0 0

    Read abbas-mehkri Column naee-aalmi-saf-bandi-men-pakistan-ka-maqam published on 2016-10-23 in Daily JangAkhbar

    عباس مہکری




    0 0

    انصار عباسی



    0 0

    بھارت نے ایڑی چوٹی کازور لگایا، بلند بانگ دعوے کئے، اٹھتے بیٹھتے پاکستان
    کو ڈرایا دھمکایا کہ پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کر دیا جائے گا، پاکستان کے اندر یہی بولی بولنے والے کم نہ تھے۔ بھارت کے شہر گوا میں برکس تنظیم کا اجلاس ہوا، مودی نے اس میں پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے کیلئے دھواں دھار تقریریں کیں۔ اور جب اجلاس کا اعلامیہ تیار کرنے کا مرحلہ آیا تو بھارت نے اس میں پاکستان کی دہشت گردی کا قصہ شامل کرانا چاہا ، چین اس پر تیار نہ ہوا، اب ایک اعلامیہ تو جاری ہوا جس میں دہشت گردی کی تو مذمت کی گئی ہے مگر پاکستان کو دہشت گرد کسی نے نہیں کہا، بھارتی میڈیا مودی کے گلے پڑ گیا ہے کہ اس نے اجلاس کے لئے پوری تیاری کیوں نہ کی اور شریک ممالک کے کان پہلے سے کیوں نہ بھرے، بھارتی میڈیا کی تنقید کا ایک سبب یہ تھا کہ برکس تنظیم میں متعلقہ ممالک کی معاشی ترقی، اور خوشحالی پر غورو فکر ہونا چاہئے تھا، مودی کو اگر بھارت کی ترقی عزیز ہوتی تو وہ شرکائے اجلاس کی توجہ اصل موضوع سے کیوں ہٹاتا، بھارتی میڈیا چیخ و پکار کر رہا ہے کہ مودی کے معاشی ترقی کے وعدے اور دعوے محض کھوکھلے ہیں ، اوراس کے لئے مودی کے پاس نہ صلاحیت ہے ، نہ جذبہ ، وہ صرف جھگڑے کھڑے کر کے وقت گزار رہا ہے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف جذبات بھڑکا کر اگلے الیکشن کی جیت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اور ان جھگڑوں کی حیثیت بھی بھارتی عوام پر واضح ہو گئی ہے کہ مودی نے پاکستان پر جس سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی کیا،ا س کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
    چین نے مودی کی امیدوں پر صرف اعلامئے کی حد تک پانی نہیں پھیرا بلکہ مور اوور کے طور پر چینی وزارت خارجہ کی ترجمان خاتون نے گزشتہ روز ایک طویل بیان دیا کہ ان کا ملک دہشت گردی کا ناطہ نہ تو کسی ملک سے، نہ کسی مذہب سے جوڑنے کی حمائت کر سکتا ہے۔ مسئلہ مودی تک محدود نہیں رہا، گزشتہ روز ہی پارلیمنٹ کی ایک قائمہ کمیٹی میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ گواہی کے لئے پیش ہوئے، انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلے تین برسوں میں جتنے دہشت گرد پکڑے گئے، ان کاتعلق بھارتی را یا افغان خفیہ ادارے سے نکلا۔ آئی بی کا محکمہ تو جی ایچ کیو کے ماتحت نہیں ہے بلکہ براہ راست وزیر اعظم کے کنٹرول میں ہے۔ اس اعتراف کے بعد ان لوگوں کا کیا علاج جو دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام آئی ایس آئی کے سر دھرتے ہیں ، یہ عناصر بیرونی بھی ہیں اور پاکستان میں بھی اکثریت سے پائے جاتے ہیں، بعض کو تو شوق لاحق ہے کہ وہ پاک فوج کے خلاف زہر گھولیں۔ قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بڑی حد تک انہی عناصر کے پروپیگنڈے کا عکاس تھا جو دن رات ملکی ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر الزامات کی بارش کرتے ہیں ، قومی سلامتی کونسل میں اٹھائے گئے اعتراضات پر اعتراض صرف یہ ہے کہ انہیں ملک کے اعلی تریں حکومتی عہدیداروں سے منسوب کیا گیا۔ اور تشویش والی بات یہ نہیں کہ ان علی حکومتی عہدیداروں نے اعتراضات کیوں کئے، بلکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر اعلی تریں سطح پر یک سوئی ، یک جہتی، اور اتحاد نہیں تو پھرہمارا اللہ بھی وارث نہیں بنے گا، خدا کہتا ہے کہ میں ان کی مدد نہیں کرتا جو اپنی مدد آپ نہیں کرتے، کشتی کے مسافر ہی اس میں سوراخ کرنے لگ جائیں توکشتی بے چاری نے تو ڈوبنا ہے ۔ ممکن ہے کشتی میں چھید کرنے والے بعض مسافروں کو کسی نے یقین دلا یا ہو کہ انہیں ریسکیو کر لیا جائے گا۔

    پاکستان کو تنہا کرنے والوں کے مذموم عزائم پر صرف چین نے ہی خاک نہیں ڈالی بلکہ روس نے بھی واضح لائن لے لی ہے اور بھارت کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کر دیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چین کے بعد روس نے بھی بھارتی موقف مسترد کر دیا۔ اور بھارت برکس کے اجلاس میں تنہا رہ گیا۔ یہ الفاظ ٹائمز آف انڈیا کے ہیں ، میرے نہیں ہیں۔اور نوائے وقت نے انہیں رپورٹ کیا ہے۔ مودی سرکارا س پر پریشان دکھائی دیتی ہے اور ا سکی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ چین سے زیادہ روس کے رویئے نے بھارت کو مایوس کیا ہے کہ وہ اس کا یار دیرینہ تھا۔
    مجھے پاکستان کے ان عناصر کے ساتھ دلی ہمدردی ہے جو مودی کی طرح پریشان دکھائی دیتے ہیں ا ور ان کی نیندیں بھی اڑ گئی ہیں کہ برکس کے اجلاس میں پاکستان کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا۔ یہ عناصر ابھی تک اندرا گاندھی کے دور میں رہ رہے ہیں جب پاکستان کوتنہا کر دیا گیا تھا اور اسے آن کی آن میں دو لخت کر دیا گیا۔

    ابھی ابھی پنجاب کے چیف منسٹر کو لائیو کہتے سنا ہے کہ چین نے اتنی خطیر امداد کی ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی، تو اس سے کیا ثابت ہوا کہ پاکستان بالکل سے تنہا نہیں ہے تو پھر انہی چیف منسٹر سے قومی سلامتی کونسل والے جملے کیسے منسوب کر دیئے گئے۔ میں نے صبح مشہور زمانہ اخبار کی ویب سائٹ پر پڑھا کہ قانون بنانےو الوں نے کہا ہے کہ سی پیک ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی ثابت ہو گی، کیا پنجاب کے چیف منسٹر ان قانون سازوں کو مدعو کر کے سمجھا سکیں گے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں ، چین آ رہا ہے، اس کے کتے نہیں نہلانے پڑیں گے۔ نہ ہی چین کسی کو جاگیریں الاٹ کر سکے گا، وہ تو دو جمع دو چار کرنے کے تجربے کی شہرت رکھتا ہے۔اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔

    پاکستان کے قانون سازوں کے واویلے سے مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس کی زبان بول رہے ہیں ، سی پیک کون نہیں چاہتا، یہ اب راز نہیں رہا مگر سی پیک کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، اس میں ایران کو شمولیت کی دعوت دے دی گئی ہے۔ اور ایک دن آئے گا جب بھارت ترلے کر رہا ہو گا کہ ا سے کم از کم اس کی دم ہی سے لٹکنے کی ا جازت دی جائے۔ قومی سلامتی کونسل میں ڈرایا گیا کہ پاکستان تنہا ہو جائے گا، بھارت نے ڈرایا کہ پاکستان تنہا کر دیا جائے گا، مگر تنہا کون ہوا، بھارت تنہا ہوا، روس اور چین نے اسکی ایک نہیں سنی۔ ویسے یہ بتاتا چلوں کہ جرمن ریڈیو کی خبر میں وہ بات شامل ہی نہ تھی جسے اس کی شہہ سرخی بنایا گیا، یہ ہو بہو وہی بات ہے کہ قومی سلامتی کونسل میں جو بات ہوئی نہیں، اس کی شہہ سرخیاں لگ گئیں اور کچھ لوگوں نے دل خوش کر لیا، چند روز کا موج میلہ کر لیا، بڑھکیں لگا لیں، اب چین ا ور روس کے جاندار پاکستان نواز رویئے نے مذموم پروپیگنڈے اور ساری افواہوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

     اسد اللہ غالب


    0 0

    ضلع اوکاڑہ کا ایک اہم قصبہ اور تحصیل۔ لاہور خانیوال ریلوے سیکشن پر لاہور سے ۶۸میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں سے شمال میں ست گھرہ اور چوچک جبکہ جنوب میں شیر گڑھ، حجرہ شاہ مقیم اور منڈی ہیر ا سنگھ سے ہندوستان کی سرحدوں تک پختہ سڑکیں جاتی ہیں۔ ایک سڑک اسے دیپالپور سے ملاتی ہے۔ کسی دور میں اسے باغات کا شہر کہا جاتا تھا۔ ریلوے لائن اور جی ٹی روڈ کے ساتھ ۱۵کلومیٹر طویل پاکستان کا واحد پھلوں کا باغ تھا۔ اس کے علاوہ یہ سرسبز و شاداب خطہ زمین، لہلہاتے کھیتوں، گھنے درختوں، کھلے میدانوں اور آلودگی سے پاک ماحول کا حامل تھا، جو کہ اب بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے متاثر ہوا ہے اور طویل باغ اب قریباً تین کلومیٹر تک محدود رہ گیا ہے۔ 
    رینالہ خورد ۱۹۱۴ء میں آباد ہوا۔ اس کے اردگرد کے دیہات میں فوجیوں کی اراضی ہے۔ پہلے یہاں لاہور ملتان روڈ پر ملیاں والا نام کا گائوں تھا۔ روایت ہے کہ یہاں ملہ کی جھاڑیاں ہوا کرتی تھیں، جس کی وجہ سے اس کا پرانا نام ملیا نوالہ مشہور تھا۔ رینالہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک انگریز خاتون کا نام تھا، جو یہاں کی جاگیر کی مالک تھی۔ بہرحال یہاں ۱۹۱۴ء میں رینالہ خورد کے نام کے قصبہ کی بنیاد رکھی گئی۔ شروع شروع یہ ایک قصبہ نما چوک اور غلہ منڈی پر مشتمل تھا۔ چوک کے ایک جانب مندرتھا۔ انگریز، ہندوئوں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد یہاں آباد تھی۔ انگریزوں کو گھوڑے پالنے کا بہت شوق تھا ،جس کی وجہ سے یہ خطہ گھوڑوں کی پرورش کے لئے بھی بہت مشہور ہوا اور اس علاقے کے پرورش کردہ گھوڑوں نے کئی مرتبہ بین الاقوامی ریس ڈربی جیتی۔ رینالہ خورد کا مچلز فروٹ فارم جو کہ دنیا کی بڑی فوڈ کمپنیوں میں شمار ہوتا ہے، اسے دو انگریز بھائیوں جنہیں مچلز (Michell,s) برادرز کہا جاتا تھا نے ۱۹۳۳ء میں قائم کیا تھا۔

    فرانسس جے مچل سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ اس کا ایک بھائی جنگِ عظیم اوّل سے بھی پہلے ہندوستان میں تھا اور برصغیر کے ان علاقوں میں جو بعد میں پاکستان میں شامل ہوئے گورنمنٹ کنٹریکٹر کے طور پر ریل کی پٹڑی بچھوا رہا تھا۔ حالات کو سازگار پا کر اس نے فرانسس کو بھی ہندوستان بلا لیا چنانچہ وہ ۱۹۱۹ء کے لگ بھگ بمبئی پہنچا۔ ان دنوں نہری نظام کی بدولت پنجاب کے ضلع منٹگمری میں نئی نئی آباد کاری ہو رہی تھی۔ ذرا سی کوشش سے وہ سات سو بیس ایکڑ اراضی لیز پر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ رقبہ رینالہ خورد سے کسان ریلوے اسٹیشن تک نہر باری دوآب اور لاہور کراچی ریلوے لائن کے درمیان قریباً سات میل میں پھیلا ہوا تھا۔ ابتداً اس نے اس رقبے میں انگور اُگا کر کِشمش تیار کرنے کا تجربہ کیا ،جو کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ موسم برسات میں انگور پر کیڑے حملہ کر دیتے جبکہ انگور کو کِشمش بننے کے لیے خشک موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

    مرحوم سیاستدان سیّد سجاد حیدر کرمانی یہاں کے رہنے والے تھے۔ یہاں کی ایک اور اہم شخصیت ڈاکٹر صغیر احمد کی ہے ،جو کونسل آف آرتھوپیڈک آف پاکستان اور جناح ہسپتال کراچی کے شعبہ آرتھوپیڈک کے چیئرمین رہے۔ انہوں نے جناح ہسپتال کراچی میں رینالہ وارڈ بھی قائم کیا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر عبدالرئوف اور قومی ہاکی ٹیم کے دو اولمپین کھلاڑی محمد سرور اور محمد زبیر کا تعلق بھی رینالہ خورد سے ہے۔ ادبی لحاظ سے اقبال اسد، رائو سخاوت اور دلبر ساقی یہاں کی نمایاں شخصیات تھیں۔ محمد اقبال اسد کی کتب پنجاب دے لجپال پتر، گنجی یار دے ڈھولے شائع ہوئیں جبکہ چوہدری رحمت علی کی کہانی میری زبانی اور نکات القرآن (تفسیر) غیرمطبوعہ کتب ہیں۔ محمد یٰسین سلیم کی کتب تعلیمی ترقی کے جدید تقاضے، عظیم تقریریں بھی شائع ہوئیں۔ دلبر پنجابی زبان کے شاعر تھے اور ان کا شعری مجموعہ ساڈے حرفاں چُکے دُکھ شائع ہوا۔ 

    اسد سلیم شیخ
    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)


    0 0

    دو ہزار سات میں دوستی بس پر ہونے والے دہشت گردی کے ہولناک واقعہ کے بعد RAW کے حاضر ملازمت کرنل کل بھوشن کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور اس کے انکشافات بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا میں اس کا بڑا چرچہ رہا اور پاکستان کے سفارتکاروں نے امریکہ، یورپ ، مشرق وسطیٰ میں حکومتوں اور رائے عامہ کو باخبر رکھنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن اس کے باوجود امریکی اور یورپی میڈیا نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نہ ہی ان کی حکومتوں نے اسے در خور اعتنا سمجھا۔

    یوں مقبوضہ کشمیر 69 سال سے بھارتی درندوں کی شکارگاہ رہا ہے جہاں اسی ہزار تا ایک لاکھ کشمیری ہلاک کیے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے۔ 8 جولائی سے برہان نامی نوجوان حریت پسند کے ماورائے عدالت قتل کے بعد تو ساری کشمیری قوم بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی جسے کرفیو لگا کر گھروں میں مقید کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن عوام کا سیل رواں تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اسے روکنے کے لیے بھارت کی قابض فوج نے تاک تاک کر مظاہرین پر پیلٹ گن سے گولیاں برسائیں جو ان کی آنکھوں، چہروں اور سینوں کو چھلنی کرتی جا رہی ہیں چنانچہ سو روز میں ایک سو دس افراد شہید، 1133 بنیائی سے محروم، پندرہ ہزار زخمی، آٹھ ہزار گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ دو ہزار مکانات کو توڑ پھوڑ ڈالا گیا اور حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو کالے قانون Army Special Power Act کے تحت قید کر دیا گیا ہے۔ (جسارت منگل 18 اکتوبر 2016ء)
    کشمیریوں کی نسل کشی پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دفاتر بند کر دیئے ہیں اور ان کے نمائندوں کو ملک بدر کر دیا ہے حتیٰ کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہائی کمشنر کو تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی نہ ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، امریکی انتظامیہ، اسلامی تنظیم برائے تعاون OIC کو حقائق معلوم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنے نمائندے بھیجنے کی درخواست قبول کی گئی تاہم بھارت کے ہاتھوں ایک کروڑ کشمیری عوام کی نسل کشی دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف، ان کے مشیر سلامتی امور جناب سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک ایک کر کے تمام بیرونی ممالک کے نمائندوں کو مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام کی ویڈیو فلمیں دکھائیں خاص کر نواز شریف نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل جبر اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد اور بان کی مون کو کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم کی تصاویر دکھائیں تاہم ان کے منہ سے انسانی ہمدردی کا ایک لفظ بھی نہ پھوٹا۔

    بان کی مومن نے تو اپنے خطبے میں کشمیریوں کے قتل عام پر ایک لفظ بھی نہیں کہا۔  'ختم اللہ علی قلوبھم و سمعھم و علی ابصار ھم غشاوۃ'یہ عالمی بے حسی نہیں ہے بلکہ پاکستان کے خلاف خاموش سازش ہے۔ اس میں بھلا نواز شریف یا سرتاج عزیز یا ملیحہ لودھی کا کیا قصور ہے؟ بعض نادان مبصرین کہتے ہیں کہ حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں یہ دلیل دی جاتی ہے: پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ ہوتا تو سلامتی کونسل بھارت کی مذمت کرتی اور اسے مقبوضہ کشمیر میں رائے شماری پر مبنی قرار داد پر عمل درآمد کی ہدایت کرتی۔ جواہر لعل نہرو کے سارے دورِ حکومت میں کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کوئی وزیر خارجہ تھا۔ دونوں انتہائی لائق ، دیانتدار اور وفادار ماہرین امور خارجہ کے مشوروں اور اعانت سے ریاست کے مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی پر عمل پیرا تھے اور خود بھی اس کے ماہر تھے۔

    میں نواز شریف کا حامی نہیں ہوں لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ (1) انہوں نے پانچ فروری کو قومی سطح پر یوم کشمیر منانے کی روایت ڈالی جو آج تک باقی ہے۔ (2) انہوں (محمد نواز شریف) نے حکومت پاکستان کو مئی 1998ء میں بھارت کے جواب میں تجرباتی جوہری دھماکے سے باز رکھنے کے لیے امریکی صدر کلنٹن کے پانچ بار ٹیلی فون کرنے کے باوجود دھماکہ کیا کیونکہ اس وقت منتخب حکومت اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی تھی جو آج نہیں محسوس ہوتی۔ اس کے ثبوت وزیراعظم ہاؤس میں سلامتی سے متعلق خفیہ اجلاس میں بعض اہم سیاسی شخصیات کی جانب سے عسکری قیادت پر عائد کردہ الزامات کی ڈان میں متنازع رپورٹ ہے۔

    ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عسکری قیادت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے کیونکہ کور کمانڈروں کے حالیہ اجلاس میں اس پر بڑی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران اس کا ذکر اس بات کا عندیہ ہے کہ عسکری قیادت اس واقعہ کو صرف نظر کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس ’’خبر‘‘ کی بنا پر پاکستان مخالف طاقتوں یعنی امریکہ، بھارت اور اشرف غنی جنتا نے بقول چودھری نثار پاکستان کو چارج شیٹ کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے بھارت نے برکس سربراہ کانفرنس میں اوڑی کی واردات کی مذمت کرنے اور جیش محمد اور لشکر طیبہ کو عالمی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کا مسودہ پیش کیا تھا لیکن اسے عوامی جمہوریہ چین نے غیر متعلقہ ثابت کر کے ناکام بنا دیا۔ نہ صرف چین بلکہ دیگر اراکین نے بھی اسے مسترد کر دیا کیونکہ برازیل، روس، جنوبی افریقہ اور عوامی جمہوریہ چین میں سے کوئی بھی ان تنظیموں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں تصور کرتا۔ اس سے قبل بھی بھارت اور امریکہ کو سلامتی کونسل میں انہیں دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرانے میں ناکامی ہوئی تھی۔

    دراصل برکس کے اغراض و مقاصد وہی ہیں جو ناوابستہ اقوام کے مقاصد ہوا کرتے تھے یعنی عالمی تجارتی اقتصادی نظام میں جنوب (پس ماندہ، ترقی پذیر ممالک) کے مفاد کا تحفظ اور استحصالی اقتصادی نظام کی بجائے عادلانہ نظام کا قیام لیکن اب چونکہ بھارت امریکہ کا عسکری حلیف اور کاروباری شراکت دار بن گیا ہے اس لیے وہ برکس میں امریکہ کے ففتھ کالم کا کام کرے گا اور جس طرح اس نے NAM کو مفلوج کر دیا اسی طرح برکس (BRICS) کو عضو معطل کر دے گا۔ نیز اب ترکی دنیا کی پندرھویں اقتصادی قوت بن کر ابھر رہا ہے لہٰذا اس (BRICS) میں اس کی شمولیت لازمی ہو گئی ہے کیونکہ ترکی نہ صرف اقتصادی اور تجارتی حیثیت سے مستحکم ہے بلکہ NATO میں ہوتے ہوئے بھی وہ آزاد خارجہ پالیسی کا علمبردار ہے لہٰذا وہ (ترکی) BRICS کی رکنیت کا اہل ہے اور یوں بھی اس تنظیم میں عالم اسلام کی کوئی نمائندگی نہیں ہے لہٰذا اس میں ترکی کی شمولیت وقت کی فوری ضرورت ہے۔

    متنازع کشمیر پر بڑی طاقتوں کی توجہ مرکوز کرانے کے لیے حکومت پاکستان کو ہمت کر کے امریکہ کو بتا دینا ہو گا کہ اگر وہ کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت کو بین الاقوامی تحویل میں کرائی گئی رائے شماری پر عمل درآمد پر مجبور نہیں کر سکتا تو پاکستان افغانستان میں مصالحت کے عمل میں قطعاً شریک نہیں ہو گا نہ ہی افغانستان پر قابض امریکی فوج کو اپنی سر زمین سے رسد کی ترسیل کی اجازت دے گا۔ 

    پروفیسر شمیم اختر
    بشکریہ روزنامہ 'نئی بات'


    0 0





    0 0



    0 0
  • 10/25/16--01:32: ماچھیوال
  • ضلع وہاڑی اور تحصیل بوریوالہ کا یہ چھوٹا سا قصبہ بوریوالہ سے وہاڑی جانے والی سڑک پر واقع ہے۔ یہ لنگڑیال قوم کے نامور فرد ملک ماچھیا کے نام پر سکھ دور حکومت میں آباد ہوا۔ اس خاندان کے مورث موضع گڑھ والا تحصیل پنڈی گھیب ضلع اٹک سے ترک سکونت کرکے ضلع جھنگ میں آباد ہوئے، پھر دریائے بیاس کے خشک ہو جانے پر ضلع ملتان میں آبسے اور لُوٹ مار کا پیشہ اختیار کیا۔ رنجیت سنگھ کے عہد میں ملک اللہ بخش کو معافی عطا ہوئی اور اس کے پوتے ملک ماچھیا لنگڑیاں کو انگریزوں کے عہد میں مختلف خدمات کے عوض مختلف علاقوں میں جاگیریں عطا ہوئیں۔ اس خاندان کے ملک نہال اور ملک بہاول نے انگریزوں کی بڑی خدمات انجام دیں۔ 

    ملک ماچھیا نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی، گوگیرہ جنگ، جنگ کابل ۱۸۷۹ء اورمہم مصر و ابی سینا ۱۸۸۵ء اور مہم مالا کنڈ ۱۸۹۷ء میں نمایاں خدمات انجام دیں، جن کے صلہ میں ملک موصوف کو ماچھی وال کا رقبہ عطا ہوا۔ وہ ذیلدار مال اور ذیلدار پولیس بھی رہے۔ ملک ماچھیا کے لڑکے ملک محمد فاضل بعدازاں ضلع ساہیوال کی طرف اپنی زمینوں پر منتقل ہو گئے تھے۔ ماچھی وال کا پہلا نام ماچھیا نوالہ ہے ،مگر اب ماچھی وال ہوگیا ہے۔ یہاں ریلوے اسٹیشن، طلبا و طالبات کے سکول، ہسپتال اور کپاس اوٹنے اور تیل کے متعدد کارخانے بھی ہیں۔ اس علاقے میں کپاس اور گندم کی پیداوار عام ہوتی ہے۔ 

    (اسد سلیم شیخ کی کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)


    0 0

     آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت
    گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران جان کی بازی ہارنے والے کیپٹن روح اللہ کے لیے تمغہ جرأت اور زخمی نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغہ بسالت کا اعلان کردیا۔ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیپٹن روح اللہ اور نائب صوبیدار محمد علی کے لیے تمغوں کا اعلان کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جوان پولیس ٹریننگ سینٹر میں دہشت گردوں کے خلاف جوانمردی سے لڑے اور انھوں نے ایک خودکش حملہ آور کے حملے کو ناکام بنایا۔ کیپٹن روح اللہ کی فیس بک پروفائل کے مطابق وہ 5 مئی 1999 کو پیدا ہوئے تھے۔

    یاد رہے کہ پیر 24 اکتوبر کی رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ کالج پر دہشت گردوں نے اس وقت دھاوا بولا جب کیڈٹس آرام کررہے تھے جس کے بعد فائرنگ اور دھماکوں کا آغاز ہوگیا۔ حملے کے نتیجے میں 60 اہلکار جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوئے، عام طور پر اس اکیڈمی میں 700 کے قریب کیڈٹس موجود ہوتے ہیں۔ حملے کے بعد جائے وقوعہ پر فرنٹیئر کور (ایف سی) اور فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز پہنچے جنہوں نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
    بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے بتایا تھا کہ واقعے میں تین دہشت گرد ملوث تھے، انہوں نے پہلے واچ ٹاور میں موجود گارڈ کو نشانہ بنایا اور پھر اندر اکیڈمی گراؤنڈز میں داخل ہوگئے۔ جوابی آپریشن کی قیادت کرنے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری(ایف سی) بلوچستان کے آئی جی میجر جنرل شیر افگن نے بتایا تھا کہ ’ایف سی کے آنے کے تین سے چار گھنٹے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا‘۔
    انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنے ساتھیوں سے مسلسل رابطے میں تھے، تینوں حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں۔
    انہوں نے کہا کہ ’دو حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جبکہ تیسرے دہشت گرد کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کیا‘۔ واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ حملہ آوروں کی تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔


    0 0



    0 0

    پاکستان میں کم شرح خواندگی ہی کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں مزید تشویش ناک پہلو یہ
    ہے کہ جو تعلیم دی جارہی ہے عمومی طور پر اس کا معیار بھی گرا ہوا ہے۔ غیرمعیاری تعلیم کی وجہ سے دس بارہ سال اسکولوں میں گزارنے کے باوجود اکثر شاگردوں کو معلومات اوراعتماد میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت تعلیم کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے گورنمنٹ اسکولزقائم کیے ہیں۔ حال یہ ہے کہ گورنمنٹ اسکول کا نام سنتے ہی بوسیدہ دیواروں،کھڑکیوں اوردروازوں سے محروم ایک نظر اندازسی عمارت، اساتذہ کی لاپرواہی اور طالب علموں کی عدم دلچسپی سے وجود میں آنے والے ماحول کا نقشہ ذہن میں ابھرتا ہے۔ کئی گورنمنٹ کالجز بھی اسی حال میں نظرآتے ہیں۔ ایسے اکثر اسکولوں میں کلاسز تک باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔

     رسمی خانہ پری کے بعد طالب علم بیٹھے بیٹھے اگلی کلاس میں منتقل کردیے جاتے ہیں۔ صرف گورنمنٹ اسکولوں میں ہی نہیں بلکہ پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں قائم کئی پرائیویٹ اسکولز بھی طالب علموں کو معیاری تعلیم نہیں دے پارہے۔ تعلیم کے شعبے میں ایک بہت بڑا مسئلہ لوگوں کے عمومی مائنڈ سیٹ کا ہے۔ اچھے اسکول کا مطلب ہمارے ہاں بالعموم یہ لیا جاتا ہے کہ وہ انگلش میڈیم ہو اور وہاں پڑھنے والے بچوں کو اچھی انگلش بولنا آجائے۔ انگلش زبان سے اس درجہ متاثر ہونا کہ اپنی زبان وثقافت سے ہی اعتنائی برتی جانے لگے دراصل شدید احساس کمتری اورمحرومیت کا اظہار ہے۔ یہ رویہ پاکستان میں طبقاتی نظام کی علامت بھی ہے۔
    پاکستان میں حکومتوں کی جانب سے تعلیم کو کتنی سنجیدگی سے لیا گیا ہے؟ اس کا اندازہ ملک میں قائم مختلف  نظام ہائے تعلیم، تعلیمی نصاب کے لیے قومی ضروریات کے واضح تعین سے اعراض، سرکاری اساتذہ کی تنخواہوں، دیگر مراعات اور سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ پاکستان اس خطے کا شاید واحد ملک ہے جہاں ابتدائی تعلیم کے لیے بیک وقت کئی تعلیمی نظام کام کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں اسکول کی سطح پر بھی طبقاتی نظام کا بھرپور مشاہدہ ہوتا ہے۔ ایک طرف مفت تعلیم فراہم کرنے والے گورنمنٹ اسکولز یا ہزار روپے ماہوار سے کم فیسوں والے پرائیویٹ اسکولزہیں تو دوسری طرف دس پندرہ ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ فیسیں وصول کرنے والے پرائیویٹ اسکولز ہیں۔ ان مہنگے پرائیویٹ اسکولز میں دیگر اخراجات فیس کے علاوہ ہیں۔ اس فرق کی وجہ سے پاکستان کی نئی نسل میں ابتدائی عمر سے ہی امیر اور غریب ہونے کا احساس پروان چڑھ رہاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پرائیویٹ اسکولز میں تعلیم حاصل کرنے کی قیمت روزبروز بڑھتی جارہی ہے لیکن پاکستانی معاشرے کی ضروریات کے حوالے سے دیکھا جائے تویہ مہنگی تعلیم پاکستان کے قومی تقاضوں کی تکمیل نہیں کر رہی۔

    قوموں کے حوالے سے تعلیم کا مقصد نئی نسل کو وقت کے تقاضوں کے مطابق زیور تعلیم سے آراستہ کرنا، ان کے اعتماد میں اضافہ کرنا، نئی نسل کو اپنی زبان، تاریخ، ثقافت سے آگہی اور علمی ورثے کی منتقلی کا اہتمام کرنا ہے۔ تعلیم کا بڑا مقصد یہ ہے کہ کسی قوم کی نئی نسل کو ملک کی معاشی، سماجی، دفاعی، ثقافتی، ادبی اور دیگر ذمے داریاں نبھانے کے لیے تیارکیا جائے۔ قوم کے لیے معیاری تعلیم وہ ہے جو مذکورہ بالا مقاصد کے حصول میں معاون ہو۔ اب ذرا ایک نظر اپنے تعلیمی نظام سے حاصل ہونے والے نتائج پر ڈالیں۔

    کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام قومی اور ملکی تقاضے پورے نہیں کر رہا۔ اسکولوں میں بارہ سال گزارنے کے باوجود کئی نوجوان پاکستان کی تاریخ تو ایک طرف ملک کے حالیہ واقعات کے بارے میں بھی بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔  اسکول اور کالج کے زیادہ تر نوجوانوں میں قومی معاملات سے وابستگی کا زیادہ اظہار نہیں ہوتا۔ گورنمنٹ اسکولز کے طالب علم ہوں یا پرائیویٹ اسکولزکے طالب علم، نصاب کی ترجیحات کے باعث نہ تو اسلام کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور نہ ہی پاکستان کے بارے میں۔ اکثر نوجوانوں کی اپنے ملک سے وابستگی جذباتی بنیادوں پر تو ہے لیکن وہ اپنی تاریخ اور ثقافت سے زیادہ واقف اور وابستہ نہیں ہیں۔ ہمارے نظام تعلیم خصوصاً انگلش میڈیم پرائیویٹ  اسکولز سے پرعزم پاکستانی تیار نہیں ہو رہے۔

    ہمارے اکثر نوجوان بانیانِ پاکستان علامہ اقبال، قائداعظم، محترمہ فاطمہ جناح، لیاقت علی خان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے۔  وہ  پاکستان کے حوالے سے دیگر اہم شخصیات مثلاً سردار عبدالرب نشتر، حسین شہید سہروردی، خان آف قلات، جعفر خان جمالی، فیروز خان نون، نواب بہادر یار جنگ، جی ایم سید،خان عبدالغفارخان، ایوب خان، یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب الرحمن، نور الامین، عبد الحمید بھاشانی، سید ابو اعلیٰ مودودی، شاہ احمد نورانی مفتی محمود، سے بخوبی واقف نہیں ہیں۔ تنازعہ کشمیر کا پس منظر، سندھ طاس معاہدے اور پاکستان میں اس معاہدے کے بعد ہونے والے ترقیاتی کاموں کے بارے میں ہمارے اسکولوں کے اکثر طالب علم کتنی آگہی رکھتے ہیں؟

    پاکستان کے ہر صوبے میں خصوصاً شمالی علاقہ جات میں کئی خطے مسحور کن حسن کے حامل ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میں بدھ مت، ہندو مت اور سکھ مذہب کے حوالے سے اہم مقامات ہیں۔ پنجاب میں ہڑپہ، سندھ میں موہن جوداڑو، خیرپور کے قریب کوٹ ڈیجی، بلوچستان میں مہرگڑھ کے ہزاروں سال پرانے آثار اس خطے کو ہزاروں سال قدیم تہذیبوں سے جوڑتے ہیں۔ ان تفصیلات سے ہمارے طالب علموں کوکتنا اورکس طرح آگاہ کیا جارہا ہے؟ پاکستان کے شمال میں دنیا کی سب سے بڑی پہاڑی چوٹیوں میں سے پانچ  چوٹیاں واقع ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے صحرائی علاقے، بلوچستان اور سندھ کے گیارہ سوکلو میٹر طویل سمندری ساحل اور دنیا کے بہترین قدرتی ڈیپ سی پورٹ گوادر کے بارے میں ہمارے اسکول کے طالب علم کیا کیا جانتے ہیں؟ چند ایک پرکچھ معلومات ہیں تو بھی پاکستان اسٹڈیزکے موضوع پر جامع تعلیم کا انتظام نہیں ہے۔

    ہمارے تعلیمی ادارے طالب علموں کو سماجی ذمے داریوں سے بخوبی آگاہ نہیں کررہے۔ ہمارے اکثر طالب علم اپنے مثبت کرداراور سماج کی تعمیرکے حوالے سے اپنے فرائض اورذمے داریوں سے کتنے واقف ہیں؟ ملکی قوانین کی پاسداری، ٹریفک کے قوانین سے آگہی اوران پرعمل کرنے،خواتین کے احترام، پڑوسیوں کے حقوق، لین دین میں دیانتداری، اعلیٰ اخلاق اوردیگر مثبت صفات کی تعلیم کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے ہیں اور ہمارے اسکولوں میں کیا اہتمام کیا گیا ہے۔؟
    ہم ایک طرف شرح خواندگی میں شدید کمی اور دوسری طرف قومی ضروریات کے مطابق تعلیم عدم فراہمی کے بحران میں مبتلا ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ دن کب آئے گا جب اسلامی احکامات کی پیروی میں اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 25Aکی تعمیل میں حکومت کی جانب سے معیاری تعلیم پاکستان کے ہر بچے کو فراہم کی جائے گی۔ آرٹیکل 25A میں کہا گیا ہے کہ ریاست پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کے لیے قانون کے ذریعے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ معاشرتی انصاف کے فروغ اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کی ذمے داریوں کا تعین کرتے ہوئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 37 میں کہا گیا ہے کہ ریاست پاکستان۔

    (الف) پسماندہ طبقات یا علاقوں کے تعلیمی اور معاشی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی۔
    (ب) کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر ناخواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی تعلیم مہیا کرے گی۔
    (ج) فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو عام طور پر ممکن الحصول اور اعلیٰ تعلیم کو لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے قابل دسترس بنائے گی۔

    پاکستان میں غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں والدین اپنے بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن گورنمنٹ اسکولوں کی زبوں حالی کے سبب بچوں کو ان اسکولوں میں نہیں بھیجتے اور پرائیویٹ اسکولوں میں بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ آئین پاکستان ایسے تمام والدین کو ان کے بچوں کے لیے معیاری تعلیم کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس ضمانت کی ادائیگی حکومت کے ذمے ہے ۔ اب کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ہماری حکومتیں اپنی قومی اور آئینی ذمے داریوں کی مکمل ادائیگی کے لیے کب کمر بستہ ہوں گی؟ ایک عام پاکستانی تو بس آس لگائے ہی بیٹھا ہے۔ ان حالات میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کی قیمت کم اور علم کی قدر میں اضافہ کب ہوگا؟

    ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی


    0 0

    Family members of trainee police killed in a terrorist attack visit the training centre where they died.






older | 1 | .... | 84 | 85 | (Page 86) | 87 | 88 | .... | 149 | newer