Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 74 | 75 | (Page 76) | 77 | 78 | .... | 149 | newer

    0 0

     سوئٹزرلینڈ میں دنیا کی سب سے لمبی اور سب سے گہری ریلوے سرنگ کا افتتاح ہو رہا ہے۔ گوٹہارڈ ریل لنک کی تعمیر میں 20 سال لگے اور اس پر 12 ارب ڈالر سے زائد کا خرچ آیا ہے۔ سوئس حکام کا کہنا ہے کہ اس سے یورپ کی مال برداری کے میدان میں انقلاب آ جائے گا۔ یورپ کا کوہِ ایلپس ہمیشہ سے تجارت کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا رہا ہے۔ رومی زمانے سے لے آج تک اس کے آر پار جانے والے راستے بنائے جاتے رہے ہیں اور ان پر لڑائیاں ہوتی چلی آئی ہیں۔
    قدیم زمانے میں اس سلسلۂ کوہ کے دروں میں خچروں کے کاروان گزرا کرتے تھے جن پر نمک سے لے شراب، اور دھاتوں سے لے کر چمڑے کی مصنوعات لدی ہوتی تھیں۔ حادثات عام تھے اور سردیوں میں راستے بند ہو جایا کرتے تھے۔
    1882 میں جب یہاں پہلی ریلوے لائن بچھائی گئی تو اس وقت کے سوئس صدر سمیون باویئر نے بڑی گرم جوشی سے کہا تھا: ’یہ سائنس اور آرٹ کی فتح ہے، یہ محنت اور جانفشانی کی جیت ہے۔ قوموں کو تقسیم کرنے والی رکاوٹ گرا دی گئی ہے اور ایلپس میں نقب لگا دی گئی ہے۔ اب ملک قریب آ گئے ہیں اور دنیا کی منڈی سب کے لیے کھل گئی ہے۔ آج بھی اطالوی زیتون کا تیل ہالینڈ بھیجنا ہو یا جرمن کاریں یونان، انھیں ایلپس سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے۔ یہی حال چین اور انڈیا سے آنے والا ہزاروں ٹن مال کا بھی ہوتا ہے۔

    لیکن ایلپس سے گزرنے والا موجودہ ٹرانسپورٹ کا نظام طلب پوری کرنے سے قاصر ہے۔ پرانی ریلیں سست رفتار ہیں اور سڑک کے راستے پر واقع گوٹہارڈ سرنگ سے ہر سال دس لاکھ ٹرک گزرتے ہیں، جن کی وجہ سے ایلپس میں بسنے والی آبادیوں کو شور اور ہوا کی آلودگی کی شکایت ہے۔ ٹرک ڈرائیوروں کو سنگل لین سرنگ ناپسند ہے۔ 2011 میں سرنگ کے بیچوں بیچ دو لاریاں ٹکرا گئیں جن سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور 11 لوگ مارے گئے۔ 1992 میں سوئس لوگوں نے ووٹنگ کے ذریعے ایلپس کے آر پار ایک ہائی سپیڈ ریل کے منصوبے کی تعمیر کی منظوری دی۔
    لیکن اس منصوبے کی راہ میں کئی چیلنج حائل تھے۔

    ماہرینِ ارضیات نے کہا کہ گوٹہارڈ کی چٹانیں ناقابلِ اعتبار ہیں اس لیے یہاں سے سیدھی سرنگ گزارنا ممکن نہیں ہو گا۔ مالی مسائل اس کے علاوہ تھے۔ جب کام شروع ہوا تو پتہ چلا کہ بعض چٹانیں ’مکھن کی طرح نرم‘ ہیں، جس کی وجہ سے دن بھر میں مشکل سے ایک میٹر کھدائی ہوتی تھی۔ کھدائی کے لیے 30 فٹ قطر والی دیو ہیکل مشین استعمال کی گئی جو سازگار دنوں میں 40 میٹر تک کھدائی کر سکتی تھی۔
    گوٹہارڈ دنیا کی سب سے گہری سرنگ ہے۔ اس کے اوپر ڈھائی کلومیٹر اونچے پہاڑ کا بوجھ ہے، اس لیے کششِ ثقل بار بار حائل ہو کر کھودی ہوئی سرنگ کو بند کرتی رہی۔ اس سے نمٹنے کے لیے سرنگ کی چھتوں میں مضبوط سٹیل کے شہتیر ڈالے گئے۔ اس سرنگ پر دو ہزار سے زائد لوگوں نے 17 سال تک 365 دن سالانہ، 24 گھنٹے یومیہ کام کیا ہے۔ اس دوران حادثات میں نو مزدور مارے گئے۔
    بالآخر سرنگ تیار ہو گئی ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند، اٹلی کے وزیرِ اعظم میتیو رینزی سمیت یورپ کے رہنما اسے دیکھنے آ رہے ہیں۔

    اس دہری سرنگ کے ذریعے مال کی تیزرفتار اور محفوظ ترسیل ممکن ہو سکے گی۔ تصادم کے خطرے سے بےنیاز ٹرینیں یہاں سے ڈھائی سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرا کریں گی۔ مزید یہ کہ پٹری کے راستے میں کوئی چڑھائی اترائی نہیں ہے اور زیورخ سے لے کر لوگانو تک راستہ بالکل ہموار اور سیدھا ہے۔ سوئس اس منصوبے پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈورس لیوٹہارڈ اسے نہ صرف اپنے ملک بلکہ تمام یورپ کے لیے خوش آئند قرار دیتی ہیں۔

    30 فٹ قطر والی دیوہیکل بورنگ مشین نے دن رات سرنگ کی کھدائی کی
    ’ہمارا چھوٹا سا خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ تعاون ہی بنیادی شرط ہے۔ یہ منصوبہ اسی تعاون کی مثال ہے۔‘وہ کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ اس بات کی علامت ہے کہ یورپ اور سوئس انجینیئر کیا کر سکتے ہیں، اور انھوں نے زبردست کام کر دکھایا ہے۔‘


    0 0


    0 0

    A worker carries a part of a used car inside a shop at a second-hand automobile parts market in Mumbai, India. 




    0 0

     

    0 0

    پاکستان میں مالی سال 2015-2016 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔ اس جائزہ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

    آبادی اور غربت
    ٭ پاکستان کی مجموعی آبادی 19 کروڑ 54 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ملک کی 29.5 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔
    ٭ پاکستانیوں کی فی کس سالانہ آمدن 1560 ڈالر ہے۔
    ٭ ملک میں اوسطً شرح افزائش تین اعشاریہ ایک فیصد ہے۔ پاکستان میں خواتین کی اوسطً عمر 67 سال اور سات ماہ ہے اور مردوں کی عمر 65 سال 5 ماہ ہے۔
    ٭ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی کی عمر 15 سے 64 سال کے درمیان ہے۔
    ٭ ملک کی افرادی قوت کی تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ ہے جس میں سے 36 لاکھ افراد بے روزگار ہیں۔
    ٭ بےروزگاری کی شرح 5.9 فیصد ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ 2.23 فیصد ہے۔
     پاکستان میں 1613 افراد کے علاج کے لیے ہسپتال میں ایک بستر موجود ہے۔
    صحت
    ٭ اقتصادی سروے کے مطابق خام ملکی پیدوار کا 0.42 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کیا گیا۔
    ٭ ملک میں رجسٹرڈ ڈاکٹر کی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار 711 ہے۔ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ 1038 افراد کے علاج معالجے کے لیے ملک میں محض ایک ڈاکٹر موجود ہے۔
    ٭ ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے درکار سہولیات بھی بہت کم ہیں اور 1613 افراد کے علاج کے لیے ہسپتال میں ایک بستر موجود ہے۔
    ٭ پاکستان میں ایک لاکھ خواتین میں سے 178 خواتین زچگی کے دوران مر جاتی ہیں اور نوزائیدہ بچوں میں بھی اموات کی شرح زیادہ ہے۔ پاکستان میں ایک ہزار بچوں میں سے اوسطً 67 بچے پیدائش کے بعد پہلے پانچ برس میں فوت ہو جاتے ہیں۔
    ٭ سال 2015 میں ملک بھر میں پولیو 54 کیسز رپورٹ ہوئے اور سال 2016 میں اب تک پولیو کے مجموعی طور پر نو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پاکستان کی معیشت
    آبادی
    انیس کروڑ 54 لاکھ
    آمدن
    پاکستانیوں کی فی کس سالانہ آمدن 1560 ڈالر ہے
    صحت ملکی پیدوار کا 0.42 فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کیا گیا۔
    تعلیم پاکستان کی 60 فیصد آبادی لکھنا پڑھنا جانتی ہیں۔ مردوں میں شرح خواندگی 70 فیصد اور عورتوں میں 44 فیصد ہے
    تعلیم
    ٭ اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی لکھنا پڑھنا جانتی ہے لیکن عورتوں میں خواندگی کی شرح 49 فیصد اور مردوں میں 70 فیصد ہے۔
    ٭ دیہاتوں میں رہنے والی آبادی میں سے 51 فیصد افراد خواندہ ہیں۔
    ٭ پاکستان کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ 63 فیصد آبادی پنجاب میں ہے جبکہ بلوچستان کی شرح خواندگی محض 44 فیصد ہے اور بلوچستان میں خواتین میں خواندگی کی شرح 25 فیصد ہے۔
    ٭ اس وقت سکول جانے والی عمر کے 4 کروڑ 39 لاکھ بچوں کا سکولوں میں اندراج ہے۔
    ٭ ملک بھر میں 163 یونیورسٹیاں، 36 ہزار تکنیکی تربیت فراہم کرنے والے ادارے اور دو لاکھ 60 ہزار ڈگری کالج ہیں۔
    ٭ ملک میں اساتذہ کی تعداد 16 لاکھ 24 ہزار ہے۔
    ٹیکنالوجی کا استعمال
    ٭ پاکستان میں 13 کروڑ 14 لاکھ افراد موبائل فون استعمال کرتے ہیں۔
    ٭ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تین کروڑ سے زیادہ ہے۔
    دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نقصان
    ٭ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کو اب تک مجموعی طور پر 118 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
    ٭ مالی سال 2015-2016 کے دوران دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کا خسارہ 5 ارب 56 کروڑ ڈالر رہا۔
    ٭ گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو دہشت گردوں کے حملوں سے 9 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا تھا۔
     


    0 0
  • 06/04/16--03:22: بجٹ کا بوجھ

  • 0 0

    ظفر محمود چیئرمین واپڈا



    0 0

    عباس مہکری



    0 0

    Kund Malir is a beach in Balochistan, Pakistan located in Hingol National Park, about 145 km from Zero-Point on Makran Coastal Highway. The drive between Kund Malir and Ormara is considered to be scenic. The area is part of Hingol National Park which is the largest in Pakistan. Travelling time from Karachi is around 4 hours and there are no food and fuel facilities available on the way after Zero-Point. It is considered to be one of the most beautiful beaches in this world. However lacking the basic facilities like hotels, restaurants, fuel stations and no cell phone signals it still is worth visiting with a really calm peaceful and soothing environment.
























    0 0

    ممکن ہے اکیسویں صدی یکم جنوری دو ہزار سے شروع ہوئی ہو۔ مگر میری نسل
    کے لیے بیسویں صدی جمعہ چار جون دو ہزار سولہ کو محمد علی پر مکمل ہوئی۔اب ساٹھ کے عشرے میں پیدا ہو کر ستر کے عشرے میں ہوش سنبھالنے والا کوئی ایسا بچہ دیکھنے کی خواہش ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ محمد علی کی باکسنگ کے قصے دیکھے یا سنے بغیر بڑا ہو گیا۔ کوئی ایسا ملے تو مجھ سے ضرور ملوائیے گا۔ میں سونی لسٹن کا نام اس لیے نہیں جانتا کہ وہ عالمی چیمپئن تھا بلکہ اس لیے یاد ہے کہ محمد علی نے اسے ہرایا تھا۔ مجھے فلائیڈ پیٹرسن ، ہنری کوپر ، جیری کویری ، جوفریزر ، جوبگنر ، کین نارٹن ، جارج فورمین ، لیون سپنکس اس لیے تھوڑی یاد ہیں کہ وہ عظیم باکسر تھے بلکہ یوں لاشعور کی ہارڈ ڈسک میں موجود ہیں کہ محمد علی کے مقابل انھیں باکسنگ رنگ میں دیکھا تھا۔

    ہاں محمد علی جوفریزر ، کین نارٹن ، لیون سپنکس سے ایک ایک بار ہارنے کے بعد جیتا۔ انیس سو اسی اور اکیاسی میں لیری ہومز اور ٹریور بیربیک سے لگاتار ہارنے کے بعد عظیم ترین علی نے باکسنگ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ لیکن کیا کسی کو محمد علی کی یہ ناکامیاں اور آخری دو فیصلہ کن شکستیں یاد ہیں ؟ باکسرز کے نام تو شائد بہت سوں کو یاد رہ جائیں مگر کسی باکسر کے مینیجر کا نام کیسے کروڑوں لوگوں کے حافظے کا حصہ بن جاتا ہے ؟ مگر جو علی کو جاننے کا دعویٰ کرے اور اس کے مینیجر ڈان کنگ کو نہ جانے ؟
     کیسے ممکن ہے ؟ تیس اکتوبر انیس سو چوہتر صبح چار بجے پاکستان میں ہر اس جگہ جہاں پی ٹی وی دیکھنا ممکن ہے وہاں محلے کے جن جن گھروں میں ٹی وی سیٹ موجود ہیں ان گھروں کے دروازے کھلے ہیں، صحن میں چٹائی بچھی ہے۔ جو بھی بچہ ، بڑا ، محلے کی عورت اور مرد چاہِے آئے اور بلیک اینڈ وائٹ اسکرین پر ٹکٹکی باندھ لے۔ بار بار اناؤنسر بتا رہا ہے کہ ’’ اب سے کچھ دیر بعد ہم آپ کو کنشاسا لے جائیں گے جہاں اس صدی کی سب سے بڑی باکسنگ فائٹ میں جارج فورمین اور محمد علی آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ خصوصی نشریات آپ تک مصنوعی سیارے کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں ‘‘۔ 

    ایسا رت جگا پاکستانی دو بار کیا کرتے تھے۔ یا تو قومی ہاکی ٹیم کسی دور دراز ٹائم زون میں اولمپکس یا ورلڈ کپ میچ کھیل رہی ہو یا محمد علی کی فائٹ ہو رہی ہو۔ اگر محمد علی صرف باکسر ہوتا تو سوائے باکسنگ پرستاروں کے کس کو یاد رہتا۔اگر وہ میرا ہیرو اس لیے تھا کہ اس نے سن چونسٹھ میں عالمی چیمپئن سونی لسٹن کو پہلی بار ہرا کے گزشتہ روز ہی اسلام قبول کر لیا تو مسلمان ہونے والے دوسرے عالمی چیمپئن مائک ٹائی سن کا نام سن کے میرا خون جوش کیوں نہیں مارتا۔ شائد علی نسل در نسل اس لیے یاد ہے کہ وہ کوئی ایک شے نہیں انسانی شکل میں پورا انعامی پیکیج تھا۔
    سن ساٹھ کے عشرے کی دنیا میں بلیک پاور کے دو استعارے تھے۔ افریقہ میں نیلسن منڈیلا اور امریکا میں مارٹن لوتھر کنگ۔ دونوں جنات کے سائے میں سے محمد علی نام کا ایک بڑبولا لونڈا بھی کہیں سے آن دھمکا۔ جب اس لونڈے نے جنگِ ویتنام کے لیے جبری بھرتی کا قانون ماننے سے انکار کرتے ہوئے چیختے ہوئے کہا ، ’’ وہ مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ میں وردی پہن کر گھر سے دس ہزار میل پرے جا کے ویتنام کے سانولے لوگوں پر بم گراؤں اور گولیاں برساؤں ، جب کہ یہاں لوئزویل کے کالوں سے کتوں جیسا سلوک روا ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں ۔‘‘

    امریکی دائیں بازو نے اس گستاخ کالے چھوکرے پر جیسے ہی غداری کا لیبل لگایا اور حکومت نے اس کا باکسنگ لائسنس دس برس کے لیے منسوخ کیا اور کچھ عرصے جیل میں بھی ڈالا تو محمد علی سامراجی جنگ کے خلاف سن ساٹھ کے نوجوان کے لیے بغاوت و مزاحمت کا استعارہ بن گیا۔ حالانکہ ابھی وہ محمد علی دور دور نہیں جو باکسنگ رنگ میں جو فریزر اور کین نارٹن کو خاک چٹوائے گا اور جارج فورمین کو ہرا کر بیسویں صدی کا سب سے بڑا کھلاڑی بن جائے گا۔ مگر امریکی سپریم کورٹ نے اس لڑکے کی اندرونی آواز کو سنا اور ساڑھے تین برس بعد ہی باکسنگ لائسنس واپس کرنے کا حکم دے دیا۔ آپ نے زندگی میں کتنے بڑ بولے دیکھے جو اپنے منہ سے کہیں کہ وہ عظیم ترین ہیں اور دنیا کہے ہاں تم عظیم ترین ہو۔ باکسر چھوڑ کتنے ایسے کھلاڑی یاد ہیں جو اپنے بارے میں شاعری بھی خود ہی کرتے ہوں اور اس کونے سے دنیا کے دوسرے کونے تک ہر لڑکا اور لڑکی ان کا ہم آواز بھی ہو جائے اور ان کے چہرے میں خود کو تمتماتا دیکھے۔میری نسل کو آج تک ’’ کیچ میں اف یو کین ‘‘ حفظ ہے۔

    ’’ وہ تتلی کی طرح لہراتا ہے اور مکھی سا ڈنک مارتا ہے ، محمد ، دی بلیک سپر مین ، جو حریف کو للکارتا ہے ، میں علی ہوں ، پکڑ سکو تو پکڑ لو‘‘۔ ویسے تو علی نے باکسنگ بارہ برس کی عمر میں ہی شروع کردی تھی تاکہ اس چور کی دھنائی کرسکے جو اس کی سائیکل لے کے چمپت ہوگیا تھا۔ لیکن علی نے سن ساٹھ کے روم اولمپکس میں لائٹ ویٹ گولڈ میڈل جیتنے کے بعد پروفیشنل مقابلوں سمیت اکیس برس رنگ میں گذارے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پینتیس برس ناموری و گمنامی کے درمیان پارکنسن ڈزیز سے مکے بازی کرتے صرف کیے۔ کھیل ہو کہ پرفارمنگ آرٹ ، دونوں کا تعلق شو بزنس سے ہے۔ شوبزنس کا اصول ہے رات گئی بات گئی ، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل ، تم روٹھے ہم چھوٹے۔ مگر محمد علی پر شو بزنس کی زندگی والا کلئیہ بھی تو لاگو نہیں ہو پا رہا۔ آپ نے یہ تو سنا ہوگا کہ اپنے وقت کا بڑا کرکٹر ، اپنے وقت کا بہترین سینٹر فارورڈ ، اپنے وقت کا بڑااداکار  اپنے وقت کی بہترین گلوکارہ ، اپنے وقت کا بہترین کامیڈین فلاں فلاں۔ کبھی کسی کو کہتے سنا کہ اپنے دور کا بہترین شاعر غالب ، اپنے زمانے کا بہترین باکسر محمد علی ؟

    وسعت اللہ خان


    0 0

    آج 6 جون 2016ء کی شام چھ بجے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس حالت میں
    امریکی دارالحکومت، واشنگٹن، میں قدم رکھ رہے ہیں کہ دو اہم ترین واقعات اور سانحات ان کے تعاقب میں ہیں۔ یقینا امریکی میڈیا کے سامنے مودی صاحب کو اس حوالے سے جوابدہ ہونا پڑے گا، تاآنکہ امریکی صحافی ان کے جوابات سے مطمئن نہ ہو جائیں۔ کوئی پانچ ماہ قبل بھارت کے معروف عسکری شہر پٹھانکوٹ، جہاں فوجی چھاؤنی بھی ہے اور بھارتی ائیرفورس کا اہم ہوائی اڈہ بھی، پر مبینہ طور پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس سانحہ میں سات بھارتی فوجی مارے گئے۔ دہشت گردوں کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنے میں بھارتی فوج کو دو دن لگ گئے، حالانکہ کہا گیا تھا کہ ان کی تعداد صرف چھ تھی۔

    بھارت نے اس سلسلے میں تین بڑے دعوے کیے: ایک تو یہ کہ دہشت گردوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ دوسرا یہ کہ ان کا تعلق پاکستان کی ایک مذہبی و جہادی تنظیم سے ہے۔ تیسرا یہ کہ تمام دہشت گرد حملہ آور پاکستان کی ایک خفیہ ایجنسی کے تربیت یافتہ اور ارسال کردہ تھے۔ بھارت نے پاکستان کے مخالف اس پروپیگنڈے کا ڈھول اس قدر شدت اور تسلسل سے پیٹا کہ اس (جھوٹ) کی بازگشت ساری دنیا میں سنائی دی گئی۔ اس کے برعکس پاکستان، اس کے سیکیورٹی ادارے اور پاکستان کی سویلین حکومت مسلسل تردید کرتی رہی کہ پاکستان اور اس کا کوئی جلی یا خفی ادارہ اس سانحہ میں ملوث ہے۔ بھارتی قومی تحقیقاتی ادارے (NIA) کے ڈائریکٹر جنرل، شرد کمار، نے بھارت ہی کے ایک ٹی وی چینل (نیوز 18) کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ پاکستان، اس کی کوئی ایجنسی اور پاکستان کی کوئی جہادی تنظیم سانحہ پٹھانکوٹ میں ملوث نہیں ہے۔ شرد کمار گزشتہ پانچ ماہ سے اس مبینہ خونی اور دہشت گردانہ واقعے کی تحقیقات کر رہے تھے۔ بھارتی ایجنسیوں نے اسی سلسلے میں اپنے آٹھ شہری بھی گرفتار کر رکھے تھے۔
    ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ’’پاکستانی دہشت گرد حملہ آوروں‘‘ سے تعاون کیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ شرد کمار کے نادم انگیز اعتراف سے دو روز قبل ان آٹھوں زیرِ حراست بھارتی شہریوں کو چپکے سے رہا کر دیا گیا تھا۔ شرد کمار کے اعتراف کے بعد اب ایک مخصوص لابی کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ چلو، اچھا ہوا، پاکستان کی جان چھوٹ گئی، اب کم از کم یہ تو ہو گا کہ رکے ہوئے پاک بھارت مذاکرات کا دروازہ پھر سے کھل جائے گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ دروازہ کھلے گا یا بدستور بند ہی رہے گا کہ اس دروازے کی کُنڈی بھارت کی طرف سے بند کی گئی تھی۔

    اہم سوال مگر یہ ہے کہ بھارت سرکار اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے منہ پھاڑ کر پاکستان پر دہشت گرد حملوں کا سنگین الزام عائد کر کے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی جو دیدہ دانستہ سازش کی اور پاکستان کے منہ پر کالک ملنے کی ناپاک جسارت کی گئی، اس سنگین الزام کی بھاری قیمت کون ادا کرے گا؟ کیا اس کا واضح مطلب یہ نہیں ہے کہ پٹھانکوٹ پر حملے سے قبل بھارت نے ممبئی اور دہلی کی پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملوں کا جس ڈھٹائی سے پاکستان کو ذمے دار ٹھہرایا، دراصل یہ سب بے بنیاد بھارتی پروپیگنڈہ تھا؟ اور یہ کھچڑی انڈین اسٹیبلشمنٹ کے ’’باورچی خانے‘‘ میں پکائی گئی تھی!! واقعے یہ ہے کہ پٹھانکوٹ پر مبینہ حملے کے حوالے سے بھارتی تحقیقاتی ادارے، این آئی اے، کے سربراہ (شرد کمار) کی طرف سے کیے گئے اعتراف نے دنیا کے سامنے بھارت کو برہنہ کر دیا ہے۔

    اب جب کہ آج سے نریندر مودی واشنگٹن یاترا کا آغاز کر رہے ہیں، اسی اعتراف کے حوالے سے یقینا انھیں امریکی میڈیا کے سامنے ندامت کا اظہار بھی کرنا پڑے گا اور ان سوالات کا جواب بھی دینا ہو گا کہ آخر بھارتی ایجنسیوں نے پاکستان کو کیوں ان سنگین الزامات کا ہدف بنایا؟ نریندر مودی بلند آدرشوں کے ساتھ امریکا پہنچ رہے ہیں۔ آنجناب اس دورے سے بھاری مقدار میں نیوکلیئر خام مواد بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں تا کہ ابتدائی طور پر بھارت میں چار نئے ایٹمی ری ایکٹر چالُو کیے جا سکیں۔ وہ امریکا کے نیوکلیئر سپلائر گروپس سے معانقہ اور مصافحہ کر کے امریکا کی طرف سے کیے گئے وعدوں میں عمل کا رنگ بھرنے کے بھی متمنی ہیں مگر ان کے دَورے سے قبل کوئی بھی ڈِیل حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی تھی۔

    معلوم ہوا ہے کہ شاید جنوری 2017ء میں امریکا کا نیا صدر ہی یہ ایٹمی مواد بھارت کو فراہم کر سکے گا۔ گزشتہ دو سالہ اقتدار کے دوران نریندر مودی کا یہ چوتھا سرکاری امریکی دَورہ ہے۔ اس دوران امریکی صدر، باراک اوباما، نے بھی دو بار بھارت یاترا کی ہے جس پر بھارت اور مودی اپنے آپے میں نہیں سما رہے تھے۔ بھارت کی ’’کامیاب سفارتکاری‘‘ کی بازگشت بھی خوب سنائی دی گئی مگر نیوکلیئر سپلائر گروپ کا حصہ بننے کا بھارتی خواب ابھی تک پورا نہیں ہو سکا ہے۔ حالانکہ اس سلسلے کو شروع ہوئے پندرہ برس ہو گئے ہیں لیکن یہ بیل ہنوز منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے۔ (آغاز اس وقت ہوا تھا جب 2000ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے بھارت کا دورہ کیا تھا) ہاں، اس دوران امریکا کے ہاں بھارت کی اچھی شنوائی ضرور ہوئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ 7 جون 2016ء کو نریندر مودی امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

    (وہ پانچویں بھارتی وزیراعظم ہوں گے جو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے) لیکن ساتھ ہی امریکا میں بھارت کے سفیر، ارون کے سنگھ، نے غیر مبہم الفاظ میں یہ بھی کہا ہے کہ جن بڑی توقعات کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی صاحب امریکا آ رہے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ بڑے معاہدوں کی تکمیل کے حوالے سے یہ توقعات بھی پوری ہو سکیں۔ اس دورے میں مودی جی کے لیے جو ’’شے‘‘ اصل سر درد بننے والی ہے، وہ یہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے دورے سے چار روز قبل لاس اینجلس میں کیلیفورنیا یونیورسٹی میں ایک اہم قتل ہو گیا۔ قاتل بھارتی طالب علم شہری ہے اور اس کا نام ہے: مانک سرکار۔ پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے۔

    اس نے طیش اور نفرت سے مغلوب ہو کر اپنے سپروائزر پروفیسر، ڈاکٹر کلوگ، کو گولی سے مار ڈالا۔ مودی جی اب اس حالت میں امریکا میں قدم رکھ رہے ہیں کہ بھارتی ہندو طالب علم کے ہاتھوں امریکی پروفیسر کے قتل کی بازگشت پورے امریکا میں سنائی دے رہی ہے۔ امریکی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بار بار قاتل ہندو طالب علم مانک سرکار کا نام گونج رہا ہے اور ساتھ ہی بھارت کا نام بھی۔
    یقینی طور پر یہ صورتحال امریکا میں بھارتی سفارت خانے کے لیے ندامت اور پریشانی کا باعث بن رہی ہے اور اس صورتحال کا سامنا، آج سے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی کرنا پڑے گا۔ انھیں، سات اور آٹھ جون کو، امریکا میں دو اہم پریس کانفرنسوں سے خطاب بھی کرنا ہے جہاں یقینا ان سے ہندو قاتل مانک سرکار کے بارے میں استفسار کیا جائے گا۔ واشنگٹن میں اندرونِ خانہ سفارتی معاملات سے آگاہ باخبروں کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتخانہ سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ اپنی امریکی لابی کو بروئے کار لا کر امریکی صحافیوں کو اس بات پر مائل کیا جا سکے کہ نریندر مودی سے مانک سرکار اور پٹھانکوٹ پر مبینہ پاکستانی دہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے شرد کمار کے تازہ اعترافات کے بارے میں سوالات نہ پوچھے جائیں۔

    امریکی صحافی، بھارتی لابی کی بسیار کوششوں کے باوصف، ابھی اس ڈَھب پر نہیں آ رہے۔ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو رسوا کرنے کے لیے جو کاٹھ کی ہنڈیا چڑھائی تھی، اب وہ بیچ چوراہے کے پھوٹی ہے تو پاکستان کے خلاف اس سنگین جھوٹ کا سنگین خمیازہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اکیلے ہی بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پٹھانکوٹ پر حملے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف سب سے زیادہ جھوٹ بھارتی وزیرِ دفاع، منوہر پاریکار، نے بولا تھا۔ اب وہ بھی مارے شرمندگی کے منہ چھپاتے پھرتے ہیں۔ اہم خبر یہ بھی ہے کہ مودی جی کے امریکی دورے کے دوران انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں مظاہرے کرنے والی ہیں کہ بھارت میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ 

    تنویر قیصر شاہد



    0 0

     تازہ ترین تحقیق کے مطابق لوگ سوشل میڈیا کی بڑی سروسز میں دلچسپی کھو
    رہے ہیں اور چاروں بڑی سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشنز فیس بک، انسٹا گرام، ٹوئٹر اور اسنیپ چیٹ کے استعمال میں عالمی طور پر تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔
    ماہرین گزشتہ کئی مہینوں سے اینڈروئیڈ پر موجود فیس بک، انسٹا گرام، ٹوئٹر اور اسنیپ چیٹ ایپلی کیشنز کے استعمال پر نظر رکھے ہوئے تھے جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ لوگوں کی ان سروسز میں دلچسپی بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے۔ اس تحقیق سے اندازہ ہوا کہ ان چاروں بڑی سروسز میں سے انسٹا گرام سب سے زیادہ غیر مقبولیت کی جانب بڑھ رہی ہے کیونکہ ایک سال کے دوران اس کی مقبولیت میں 23.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
    غیرمقبولیت کی دوڑ میں دوسرا نمبر ٹوئٹر کا ہے جس سے 23.4 فیصد صارفین منہ موڑ چکے ہیں۔ اسی طرح اسنیپ چیٹ 15.7 فیصد کی غیر مقبولیت کی وجہ سے تیسرے نمبر پر جب کہ فیس بک 8 فیصد کی کمی کے باعث چوتھے نمبر پر ہے۔ گویا فیس بک بھی بظاہر اپنی انتہائی مقبولیت کے باوجود صارفین کی دلچسپی کھو رہی ہے۔ یہ تحقیق ایک معروف اعدادو شمارے اور سروے کرنے والی کمپنی کے تحت کی گئی جس میں مختلف بڑے ممالک کے صارفین کی سوشل میڈیا میں بڑھتی اور گھٹتی دلچسپی کو مدنظر رکھ کر ان اعداد و شمار کو ترتیب دیا گیا۔ ان ممالک میں امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین، آسٹریلیا، انڈیا اور برازیل شامل ہیں۔

    اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگ فیس بک پر روزانہ اوسطاً 34 منٹس گزارتے ہیں جب کہ فیس بک کی دوسری ایپلی کیشن انسٹا گرام پر روزانہ صرف ہونے والے وقت کا اوسط دورانیہ 17 منٹس ہے۔ یہ رپورٹ ترتیب دینے والے ماہر کے مطابق سوشل میڈیا کی ان بڑی سروسز کی گھٹتی ہوئی مقبولیت کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ لوگ اب ان کے علاوہ دیگر غیر معروف اور متبادل ایپلی کیشنز کو بھی استعمال کرنا شروع کر چکے ہیں جیسے کہ واٹس ایپ کے مقابلے میں ٹیلی گرام اور وائبر وغیرہ کو استعمال کیا جا رہا ہے جو واٹس ایپ کے مقابلے میں زیادہ فیچرز اور محفوظ رابطوں کے ذرائع فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک جیسے کام کرنے والی ایپلی کیشنز کی زیادتی کی وجہ سے دراصل صارفین کم نہیں ہو رہے بلکہ بٹ رہے ہیں۔


    0 0

    اب بھی میں اس طرح کا بیان سنتا ہوں کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا
    وقت آگیا ہے، تو دل کرتا ہے ایک ٹریول ایجنسی کھول لوں۔ 15 سے 20 کروڑ لوگ ہجرت کریں گے، وہ پاسپورٹ بنوائیں گے، ٹکٹ بک کرائیں گے، انھیں ’موورز اور پیکرز‘ کی ضرورت پڑے گی، یہ ایک انسانی المیہ تو ہوگا لیکن کاروبار کی کمی نہیں ہو سکتی۔ پھر خیال آتا ہے کہ مجھے بھی ساتھ ہی جانا ہوگا اس لیے ارادہ ترک کر دیتا ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سادھوی پراچی اور ان کے ہم خیال اور ہم نظریہ رہنماؤں کے بیانات کو کتنی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے کیونکہ نہ ایسی بات پہلی مرتبہ کہی گئی ہے، اور نہ مسلمانوں کو پاکستان یا کہیں اور چلے جانے کا یہ آخری مشورہ ہوگا۔
    اس کے لیے ہندوستان کے سیاسی منظرنامے کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں ایک طبقہ ’جارح مسلمان بادشاہوں کی ایک ہزار سال کی حکمرانی‘ کا نام و نشان مٹانا چاہتا ہے اور وقفے وقفے سے اس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات دینے والے رہنما اسی نظریہ اور نصب العین کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن یہ بیان دینے والوں کو بھی معلوم ہے اور جن کے لیے یہ بیان دیے جاتے ہیں انھیں بھی، کہ کوئی کہیں نہیں جائے گا۔ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ ان کا مقصد صرف مذہب کی بنیاد پر صف بندی کرنا ہے تاکہ انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھایا جا سکے اور یہاں عام تاثر یہ ہے کہ آئندہ برس اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات مکمل ہونے تک اس طرح کے بیانات سے سیاسی ماحول کو گرم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
    ہندوستان کی سیاست میں اتر پردیش کی خاص اہمیت ہے، یہاں مسلمانوں کی سب سے زیادہ آبادی ہے اور روایتی طور پر جو اتر پردیش کو کنٹرول کرتا ہے، دہلی پر اسی کا راج ہوتا ہے۔ اس لیے اتر پردیش کی اس انتخابی جنگ میں تاریخ اور مذہب دونوں سے جس طرح فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، اٹھایا جائے گا۔ شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگ اس طرح کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے لیکن دیہات میں، جہاں ہر چوپال پر سیاسی بحث مباحثے ہوتے ہیں، کوئی کسی کی کہی ہوئی بات نہیں بھولتا۔ اور اس کا خطرہ یہ ہے کہ مذہبی کشیدگی بڑھتی جاتی ہے، اور جو نقصان ہوتا ہے چاہ کر بھی الیکشن کے بعد اس کی تلافی نہیں کی جاسکتی۔
    سوال یہ ہے کہ اس طرح کے بیانات کو روکا کیسے جائے۔ ماضی میں جب بی جے پی کے کچھ سینیئر رہنماؤں نے ان مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا جو وزیراعظم نریندر مودی کو پسند نہیں کرتے، یا گاؤ کشی کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، تو تجزیہ نگاروں کا یہ مشورہ تھا کہ وزیراعظم کو پہل کرنی چاہیے، وہ یہ واضح پیغام دیں کہ کوئی اشتعال انگیز بیان برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ تو کہا کہ ہندوستان میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو برابر حقوق حاصل ہیں، لیکن کسی رہنما کے ِخلاف کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ یوگی آدتیہ ناتھ جیسے بہت سے رہنماؤں نے کئی مرتبہ مہذب سیاسی بحث کی حدود کو پار کیا۔

    دوسرا مسئلہ ان قوانین کے اطلاق کا ہے جو نفرت آمیز بیانات کو روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ شاید ہی کبھی کسی بڑے رہنما کو نفرت پھیلانے کے جرم میں سزا ہوئی ہو۔ سادھوی پراچی کا تعلق وشو ہندو پریشد سے تھا۔ وی ایچ پی اور حکمراں بی جے پی دونوں نے ان کے بیان سے کنارہ کشی اختیار کی ہے۔ لیکن جب تک ان لوگوں کے دلوں میں، جنھیں اپنی زبان پر یا تو قابو نہیں یا وہ کرنا نہیں چاہتے، قانون کا خوف گھر نہیں کرے گا، اس طرح کی بیان بازی ہوتی رہے گی۔اور ٹریول ایجنسی کھولنے کا خیال دل میں آتا رہے گا۔

    سہیل حلیم
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی



    0 0

    ماہ رمضان کی نیکیاں اور برکتیں اپنی جگہ لیکن کچھ عرصے سے جس انداز میں
    اس مبارک مہینے کا استقبال کیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی موزوں اور مہذب لفظ مجھے نہیں مل رہا (’’پارلیمانی‘‘ میں نے اس لیے نہیں کہا کہ آج کل پارلیمنٹ میں بھی بعض اوقات ایسی زبان سننے میں آتی ہے جو اس سے پہلے صرف گلی محلے یا ٹی وی چینلز کے سیاسی شوز میں استعمال ہوا کرتی تھی) رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہوشربا مہنگائی‘ ملاوٹ اور منافع خوری کے قصے تو اب پرانے اور مستقل ہو چکے اور یہ بات بھی اپنا اثر کھو چکی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں لوگ اپنے مذہبی تہواروں بالخصوص کرسمس کے موقع پر کس طرح عام استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں میں رضا کارانہ طور پر کمی کر دیتے ہیں

    لیکن ٹی وی چینلز کے رمضان سے متعلق بالخصوص افطار کے وقت نشر کیے جانے والے پروگراموں میں جو کچھ اور جس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے وہ خطرناک بھی ہے اور شرم ناک بھی کہ سرمایہ دارانہ اور تاجرانہ ذہنیت نے جس بری طرح سے اس صبر‘ قناعت اور عبودیت سے سرشار خوب صورت مہینے کو لالچ‘ طمع‘ نمائش اور کھیل تماشے کی شکل دے دی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کہ ان پروگراموں کی معرفت جو پیغام پروگرام میں شریک افراد اور ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جو جرم و سزا کی نام نہاد سچی کہانیوں کی نیم ڈرامائی پیش کش کے ذریعے پہنچ رہا تھا اور جس پر اطلاعات کے مطابق بالآخر پیمرا نے پابندی عائد کر دی ہے۔
    بظاہر ان رمضان بازاروں میں ہال میں موجود تماشائیوں کو مختلف حوالوں سے تحفے پیش کیے جاتے ہیں جن میں سے کچھ بیش قیمت اور باقی پرکشش اور چمک دار ہوتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس پیش کش میں جس حقارت‘ تفریح اور بازاری پن کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کا کوئی دور کا تعلق بھی اس مہینے کی معرفت ملنے والے الوہی پیغام سے نہیں بنتا، چیزیں لوگوں کی طرف اس طرح پھینکی جاتی ہیں جیسے بعض جانوروں کو خوراک ڈالی جاتی ہے اور اس دوران میں چھین جھپٹ اور فرمائشوں کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں اور دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے کہ کس طرح فنا ہوجانے والی اشیاء کی ہوس اس مبارک مہینے کے تقدس اور پیغام کو پامال کر کے ایک ایسا اجتماعی Mind set تخلیق کر رہی ہے جو انسانوں کو واپس حیوانوں کی سطح پر لے آتا ہے اور مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دین‘ مذہب‘ اخلاقیات‘ روحانیت اور عبادت کے نام پر کیا جاتا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ان شوز میں شریک ہونے والے خواتین و حضرات کو کچھ ایجنسیاں قیمتاً مہیا کرتی ہیں اور کچھ مختلف حوالوں سے باقاعدہ ٹکٹ خرید کر اس بھیڑ میں شامل ہوتے ہیں کہ بڑا نہ سہی کوئی نہ کوئی انعام (خیرات) تو ان کے حصے میں آ ہی جائے گا۔ دولت کی طمع اور قیمتی اشیا کو جمع کرنے کا لالچ ایسا ہے کہ جس کی رو میں غریب اور متوسط طبقہ تو کیا وہ لوگ بھی بہہ جاتے ہیں جن کے گھروں میں ان کی دس سے زیادہ آیندہ نسلوں کے استعمال کے لیے بھی دولت پہلے سے موجود ہوتی ہے، حوالے کے لیے آف شور کمپنیوں‘ کک بیکس‘ کمیشن اور رشوت کے کسی بھی کھاتے پر نگاہ ڈالی جا سکتی ہے۔ افطار کا ہنگام تو غروب آفتاب سے اذان مغرب کے درمیانی چند منٹوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن یہ ٹرانسمیشنز کئی کئی گھنٹوں پر محیط ہوتی ہیں اور ان کے سیٹ اس طرح سے لگائے جاتے ہیں کہ ’’مغل اعظم‘‘ بھی ان کو دیکھے تو کامپلیکس میں مبتلا ہو جائے۔

    بظاہر یہ سب کچھ پروگرام کی Presentation کو دلکش‘ بہتر اور خوب صورت بنانے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پروگرام ہے کیا جس کے لیے یہ سب اہتمام کیے جاتے ہیں؟ روزہ اور رمضان کا مہینہ تو بنیادی طور پر سادگی‘ ضبط اور تزکیہ نفس کی ایک مشق ہے جو ہماری ہی بہتری کے لیے ہم پر فرض کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے روزہ دار کردار کی ایک ایسی بلندی کے عمل میں شریک ہو جاتا ہے جو اسے خواہشات پر قابو پانے‘ رب کے سوا کسی سے نہ مانگنے اور قربانی اور ایثار کے خوب صورت اور تخلیقی جذبوں سے بہرہ مند کرتا ہے اور بیک وقت ہمارے جسم اور روح کی اوور ہالنگ کرتا ہے کہ گیارہ ماہ کی دنیاداری کا لگایا ہوا زنگ اور میل اتر جائے لیکن ٹی وی کے ان رمضان بازاروں نے اس مقصد کو دانستہ یا نادانستہ طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    روزے کی فضیلت‘ آداب اور نوعیت سے متعلق معلوماتی پروگرام اور نعتیہ ادب اور نعت خوانی کے ساتھ ساتھ دلچسپ انداز میں بچوں اور کم مذہبی معلومات رکھنے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے متعلقہ پروگرام ضرور ہونے چاہئیں اور ایک محدود سطح پر پروگرام کے شرکا اور موجود ناظرین کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے چھوٹے موٹے انعامات تحفے کی شکل میں دیے جا سکتے ہیں مگر ان کا مقصد واضح اور رخ متعین ہونا چاہیے، تجارتی کمپنیوں اور صنعتی اداروں کی اشتہار بازی بلاشبہ ان چینلز کی آمدنی کا ذریعہ ہیں اور اسی سے وہ اپنے تمام اخراجات بھی پورے کرتے ہیں ۔

    مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ اس کے لیے ہر چیز کو داؤ پر لگا دیا جائے جن چیزوں کا تعلق معاشرے کے عمومی رویوں اصولوں اور اخلاقیات سے ہو اور جن معاملات میں عبادات شامل ہوں ان میں اس تجارتی انداز فکر کو عام روش سے ہٹ کر اور ان کی اہمیت‘ نوعیت اور انسانیت کے حوالے سے دیکھنا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ فرقہ بندی اور مذہبی اختلافات‘ عقائد اور تعصبات کی بحث میں پڑے بغیر ایسے مواقع پر اس طرح کے پروگراموں سے گریز کرنا چاہیے جو ان کی روح سے متصادم ہوں۔

    کیا یہ ممکن نہیں کہ جس طرح مغربی ممالک میں کرسمس کے دوران مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اور ان کو بیچنے والے دکاندار اپنے منافع کی شرح کم کر دیتے ہیں (اور اس کے باوجود ان کے کاروبار مستحکم اور ترقی پذیر رہتے ہیں) ہمارے چینلز کے مالکان اور پالیسی ساز بھی ان پروگراموں کو نفع اندوزی کے دائرے سے نکال دیں اور ان کو جنس بازار بنانے کے بجائے ایک معاشرتی فرض اور کمٹمنٹ کی طرح دیکھیں اور دکھائیں۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے نہ صرف یہ کہ ان کی آمدنی کم نہیں ہو گی بلکہ ان کے رزق میں ایک ایسی برکت بھی شامل ہو جائے گی جس کے فیض سے ان کی دنیا بھی روشن رہے گی اور آخرت بھی۔ آزما کر دیکھ لیں۔

    امجد اسلام امجد


    0 0

    پارلیمانی نظام میں منتخب ایوان ہی سب سے بڑا جمہوری اور آئینی ادارہ ہے جہاں
    حکومتی معاملات اور امور سلطنت خوش اسلوبی سے ادا کرنے کے لیے قانون سازی کی جاتی ہے اور عوام کے مسائل و مصائب کے تدارک کے لیے اقدامات ہی نہیں پالیسی بھی مرتب کرنا اس ایوان کے فرائض میں شامل ہے۔ کئی بڑے جمہوری ممالک میں تو پارلیمانی روایات یہ ہیں کہ مرکزی اسمبلی کا اجلاس سال بھر جاری رہتا ہے اور کسی بھی قانون سازی یا حکومتی اقدام کے لیے صدارتی آرڈیننس کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ پاکستان میں پارلیمانی سال کی مدت 96 دن ہے کہ اس طرح قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس 96 دن ہونے ضروری ہیں اور تمام وزراء اور ارکان پر لازم ہے کہ اجلاس میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ اپنے محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے بھی ایوان کو اعتماد میں لیں اور ان سے رہنمائی حاصل کریں لیکن پاکستان کی پارلیمانی روایات کچھ اچھی نہیں رہی ہیں۔

    گزشتہ پارلیمانی سال کے حوالے سے جو اطلاعات ملیں انھیں کسی صورت بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا جو ایک جمہوری ملک کے لیے درست نہیں ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیر اعظم جو قائد ایوان ہوتا ہے اس نے پارلیمانی سال میں صرف 9 بار ایوان میں شرکت کی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی حاضری سب سے کم رہی وہ صرف 5 دن ایوان میں آئے، سابق اسپیکر فہمیدہ مرزا صرف 2 دن ایوان میں آئیں، چوہدری نثار علی خان 63 دن غیر حاضر رہے، حمزہ شہباز نے صرف 3 دن اسمبلی میں جانے کی زحمت گوارا کی، اسد عمر 11 دن غیر حاضر رہے حالانکہ وہ اس اسلام آباد کی نمایندگی کر رہے ہیں جس میں پارلیمنٹ کی عمارت بھی واقع ہے، اس حاضری کو پارلیمانی آئینہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے اور اسے اگر دیکھ بھی لیا جائے  تو اس قومی اسمبلی کے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
    ارکان پارلیمنٹ نے اپنی تنخواہوں میں 200 فیصد اور الاؤنسز و مراعات میں کئی گنا اضافے کے علاوہ کئی مزید سہولتیں لینے کے لیے جو کامیاب پیشقدمی کی ہے اس پر یقینا ان کی تحسین کی جانی چاہیے کہ اس طرح انھوں نے بالواسطہ طور پر ہی سہی کم از کم یہ اعتراف ضرور کر لیا ہے کہ اگر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ڈیلی الاؤنس، سفر الاؤنس، آفس مینٹی نینس، یوٹیلیٹی الاؤنس، ٹرانسپورٹ الاؤنس ایسی متعدد مراعات لینے کے باوجود ان کا گزارا نہیں ہوتا تو سرکاری اور نجی شعبے کے وہ ملازمین جن کی تنخواہوں اور مراعات کی ارکان پارلیمنٹ کے مشاہروں سے کوئی نسبت ہی نہیں اپنی گزر اوقات کس طرح کرتے ہوں گے۔

    اس صورتحال میں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال بھی ضرور اٹھتا ہو گا کہ اگر بڑے بڑے جاگیرداروں، صنعت کاروں اور کارخانہ داروں کی اکثریت پر مشتمل ارکان اسمبلی نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ نچوڑ کر رکھ دینے والی موجودہ مہنگائی کے دور میں کئی کئی لاکھ روپے کی تنخواہیں، الاؤنسز اور مراعات لے کر بھی ان کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہے تو کیا وہ اس امر پر بھی آمادہ ہوں گے کہ وہ ان لاکھوں ملازمین کے تلخی حالات کو کم کرنے کی طرف بھی توجہ کریں جن کی تنخواہیں چند ہزار ماہانہ سے زیادہ نہیں اور جب ان میں اضافے کا مرحلہ آتا ہے تو ان میں 5 سے 10 فیصد اضافہ کرنا بھی بجٹ پر بار بن جاتا ہے اور بجٹ میں جو اضافہ بادل نخواستہ کیا جاتا ہے اس میں بھی کسی نہ کسی بہانے کوئی نہ کوئی کٹوتی کر لی جاتی ہے۔

    یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ پاکستان میں ارکان پارلیمنٹ کے مشاہرے بہت کم ہیں کیونکہ انھیں نہ صرف غیر معمولی تنخواہیں اور مراعات دی جاتی ہیں بلکہ مختلف شعبوں کے بارے میں اپ ٹو ڈیٹ اطلاعات و معلومات حاصل کرنے کے لیے تحقیقی سپورٹنگ اسٹاف بھی دیا جاتا ہے جو اراکین پارلیمنٹ کو تمام تر زیر بحث مسائل کے حوالے سے پوری طرح باخبر رکھتا ہے اور وہ ہر قومی معاملے میں حکومت کی درست سمت میں رہنمائی کے لیے ہر طرح سے تیار ہوتے ہیں۔
    مغربی ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کو اتنی تنخواہیں، مراعات اور سہولتیں اس لیے دی جاتی ہیں کہ وہ ریاست کی طرف سے عائد ذمے داریوں کو محنت اور دیانتداری کے ساتھ ادا کر سکیں انھیں اپنے اس منصب پر فائز رہنے کے دوران کوئی دوسرا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس لیے انھیں اپنے روز مرہ معاملات کی انجام دہی کے لیے مالی اعتبار سے ہر فکر سے آزاد رکھنے کی سعی کی جاتی ہے، لیکن پاکستان میں عمومی طور پر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اراکین اسمبلی کی عمومی کارکردگی بہت ناقص ہے۔

    اکثروبیشتر وہ اسمبلی  کے اجلاس  سے غیر حاضر رہتے ہیں کئی ایک تو مہینوں تک ایوان میں نظر نہیں آتے اور اگر آ بھی جائیں تو کسی بھی قومی مسئلے پر ان کی تیاری نہیں ہوتی اور اسی وجہ سے وہ کسی بھی اہم سوال کا اطمینان بخش جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں، کئی اراکین اسمبلی اور وزرائے اعلیٰ کو اجلاس کے دوران اونگھتے ہوئے بھی پایا گیا ہے، امور مملکت کی انجام دہی میں ان کی اس عدم دلچسپی اور ناقص کارکردگی کے باعث عوام ان کے اعزازیوں، تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر معترض ہوتے ہیں اگر وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ سنگل سورس آف انکم پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہر قسم کے نجی کاروبار سے علیحدہ ہو کر اپنی توانائیوں کو وسیع تر قومی و ملکی مفاد میں استعمال کریں تو عوام ان کے اعزازیے اور تنخواہوں میں اضافے کو کبھی ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھیں گے۔

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہم عرصہ دراز سے حکمت عملی کے نام پر حقائق کی لاش پر مصلحت کا کفن ڈالتے چلے آ رہے ہیں اور تاریخ دم سادھے دیکھ رہی ہے کہ برسہا برس کئی مفلوج اذہان کی آماجگاہ بنے رہنے والے اس کم نصیب ملک سے کوئی آفتاب تازہ طلوع ہوتا ہے یا نامرادی اور بے یقینی کی رات لمبی ہوتی چلی جائے گی۔ پانی، بجلی، گیس، صحت، تعلیم اور غربت و افلاس کے ہوش ربا مسائل سے برسر پیکار ہمارے عوام جس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ان کے مسائل اور مصائب کا تذکرہ ملکی ایوانوں میں دیکھنے اور سننے کو نہیں ملتا، کسی منسٹر،  چیف منسٹر یا پھر گورنر کو عوام کے دکھ درد کا پرچار کرتے اور اسے ختم کرنے کا کوئی ہنر کسی اہل وطن نے کبھی نہیں دیکھا، ایسے میں ان کی تنخواہوں میں اضافہ کس کارکردگی کی وجہ سے؟

    کون نہیں جانتا اس وقت پاکستان میں دو کروڑ سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی روزانہ آمدنی 75 یا 80 روپے سے زیادہ نہیں اور ایک عام آدمی (مڈل کلاس) کی روزانہ آمدنی ایک سے ڈیڑھ سو روپے یومیہ ہے پاکستان کے 7 کروڑ 70 لاکھ لوگ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں اور اب ان کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تین وقت کا کھانا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ یہ ایک چشم کشا حقیقت ہے کہ پاکستان کے ایک سے ڈیڑھ کروڑ گھروں میں صرف ایک بار چولہا جلتا ہے اور ’’آلو سالن‘‘ بنانے والے گھرانے بھی لاکھوں میں شمار ہوتے ہیں۔

    پاکستان کا شمار دنیا کے ان 35 ممالک میں ہوتا ہے جو خوراک کے شدید بحران کا شکار ہیں۔ اور ہمارے حکمرانوں اور وزیروں اور افسر شاہی سے وابستہ لوگوں کی عیش و عشرت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بات وہی آ جاتی ہے کہ اپنے گندے کپڑے دوسروں کے سامنے دھونے سے اپنی ہی سبکی ہوتی ہے۔ تاہم ہماری قوم صبر کرنے کی عادی ہے  لیکن اسلام میں ظلم کے خلاف صبر کی تلقین نہیں کی گئی ورنہ حضرت امام حسینؓ کربلا میں نہ جاتے۔

    شاہد سردار


    0 0

    بیرون ملک سفر کرنے والے خواہش مند افراد کے لئے مندرجہ ذیل حقائق و
    معلومات کا جاننا اشد ضروری ہے۔

    پاسپورٹ: پاسپورٹ بہت ہی اہم چیز ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کس ملک کے رہنے والے ہیں۔ پاسپورٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا قانوناً جرم ہے۔پاسپورٹ ایک بین الاقوامی دستاویز ہے، پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کے سوا آپ دنیا کے ہر ملک کے لئے روانہ ہو سکتے ہیں اور حج اور عمرہ کے لئے علیحدہ پاسپورٹ جاری ہوتا ہے۔

     پاسپورٹ کی تجدید اور اجراء :پاسپورٹ کی مدت پانچ سال ہے۔ اس کے بعد پاسپورٹ کا اجراء کروانا لازم ہے۔ بیرون ملک میں یہ کام قونصل خانے یا ہائی کمیشن سے کروایا جا سکتا ہے۔ دو سال تک پرانا پاسپورٹ نئے پاسپورٹ کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ 
    ویزا:ویزا سے مراد وہ اجازت نامہ ہے جو کسی بھی ملک میں جانے کے لئے اس ملک کی ایمبیسی یا قونصل خانے سے جاری ہوتا ہے۔
     ویزے کی درج ذیل اقسام ہیں۔ -

    1 سیر و سیاحت کا ویزا  
    2 کاروباری ویزا  
    3 اسپانسر ویزا  
    4 تعلیمی ویزا  
    5 ٹرانزٹ ویزا  
    6 آزاد ویزا  
    7 زیارت ویزا 
    8 حج و عمرے کا ویزا  
    9 علاج کا ویزا  
    10 ایمرجنسی ویزا  
    11 سپیشل ویزا  

    اسپانسرشپ:خاوند بیوی کو بچے والدین کو بیوی خاوند کو اور حقیقی بہن بھائی ایک دوسرے کو اسپانسر کر سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص اس صورت میں اسپانسر کر سکتا ہے کہ وہ آپ کے تمام اخراجات برداشت کرے۔ خصوصی حالات میں یعنی کسی کی وفات یا شادی اور علاج کے لئے بھی اسپانسر کیا جا سکتا ہے۔ اسپانسر کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم 18 سال ہو۔ شہریت حاصل کئے ہوئے کم از کم 2 سال گذر چکے ہوں۔ اسپانسر کرنے والا مضبوط مالی حیثیت کا مالک ہو۔ اسپانسر اس بات کی ضمانت ہوتا ہے کہ آنے والا ویزا کی مدت ختم ہونے پر ملک چھوڑ دے گا۔ 

    ویزے کا حصول:کسی ملک کا ویزا حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ جو بھی بات کریں جو بھی کاغذات پیش کریں وہ حقیقت پر مشتمل ہو۔ ویزے کے حصول کے لئے آپ جب بھی اپلائی کریں تو پہلے سوچ لیں کہ آپ کس مقصد کے لئے یا کسی کیٹیگری کا ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسپانسر شپ منگوانے سے قبل اس بات کی تسلی ہونی چاہئے کہ اسپانسر کرنے والا آپ کو اسپانسر کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ 

    کن لوگوں کو ویزے نہیں ملتے:
    مندرجہ ذیل افراد کو ویزے ملنے کے امکانات نہیں ہوتے۔ 
    ٭ منشیات کے عادی افراد  
    ٭ خطرناک بیماریوں میں مبتلا افراد جیسے ایڈز وغیرہ  
    ٭ جسمانی طور پر معذور یا اپاہج افراد  
    ٭ پیشہ ور فقیروں کو  
    ٭ جرائم پیشہ افراد  
    ٭ سمگلنگ میں ملوث افراد 
    ٭ بلیک لسٹ افراد 

    ویزے کے لئے کاغذات:
    ٭ تازہ ترین پاسپورٹ  
    ٭ بنک بیلنس شیٹ ٗ ملکیتی جائیداد ٗ رجسٹری ٗ انتقال  
    ٭ کاروباری افراد کے لئے متعلقہ فرم یا فیکٹری کی ملکیت کا ثبوت، کاروباری ڈیٹا، فرم فیکٹری کا ٹیکسیشن آرڈر کی کاپی  
    ٭ ایکسپورٹ پروموشن بیورو سرٹیفکیٹ 
    ٭ ایل سی نمبر  
    ٭ ایوان صنعت و تجارت کا لائسنس، سفارشی لیٹر، کاروباری تفصیل، آمدنی خرچہ، انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، اسپانسر شپ کی کاپی، فضائی سفر کے ٹکٹ، ہوٹل کا بلنگ کارڈ اور اگر سیاحت کی نیت سے جا رہے ہیں تو سیاح ہونے کا ثبوت، TDCP یا کسی اور سیاحتی ادارے کا ممبرشپ کارڈ راستہ کے اخراجات کے لئے کم از کم 1000/- امریکن ڈالر یا ٹریول چیک۔ اگر بچے ہم سفر ہیں تو ان کی تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، ان بچوں کا اپنی والدہ یا والد کے پاسپورٹ میں اندراج ضروری ہے۔ 

    انٹرویو:کسی بھی ایمبیسی میں ویزے کے حصول کے لئے دیئے جانے والے انٹرویوز میں ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ کسی قسم کی الجھن کا مظاہرہ نہ کریں، مکمل اعتماد اور حوصلہ سے تمام سوالات کا جواب دیں، پاسپورٹ چیک کرتے وقت ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے جائیں۔ آپ کانام، والد کا نام۔ اس سے پہلے کبھی ویزا اپلائی کیا اگر نہیں تو نہیں اور اگر ہاں تو کب۔ کیا نتیجہ رہا۔ سفر کیا یا نہیں۔ کن تاریخوں میں۔ ازدواجی حیثیت کیا ہے۔ یعنی شادی شدہ ہیں یا نہیں۔ بچے ہیں تو کتنے۔ کب پیدا ہوئے۔ نکاح نامہ۔ بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ، بیوی ساتھ جا رہی ہے۔ کس مقصد کے لئے جا رہے ہیں۔ اخراجات کون برداشت کر رہا ہے اگر خود تو ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ آپ اس ملک میں کیوں جانا چاہتے ہیں۔ تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ بینک بیلنس کتنا ہے۔ 

    چند احتیاطیں: 
    ٭ اپنا پاسپورٹ کسی بھی صورت میں کسی اور کو نہ دیں۔ 
    ٭ پاسپورٹ پر کسی قسم کا اندراج، تصحیح، تبدیلی اپنی طرف سے نہ کریں کسی بھی تبدیلی کے لئے متعلقہ پاسپورٹ آفس سے رجوع کریں کیونکہ چھوٹی سی غلطی آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔ 
    ٭ کسی دوسرے شخص کا بیگ یا کسی چیز کی ذمہ داری نہ لیں۔ کوئی دو منٹ کا کہہ کے پکڑانے کی کوشش کرے تو انکار کر دیں۔ 
    ٭ سفر کے دوران اپنا ٹکٹ، پاسپورٹ اور متعلقہ کاغذات کسی ایسی جیب میں رکھیں جہاں سے طلب کرنے پر آسانی سے نکل سکیں۔ 
    ٭ سفر کے اخراجات ٹریول چیک کی صورت میں رکھیں۔ 
    ٭ کسی بھی چیز کی گمشدگی کی صورت میں متعلقہ ٹورسٹ پولیس کو اطلاع کریں یا قریبی تھانے میں رپورٹ کریں۔ 
    ٭ ایئر ٹکٹ کی مدت عام طور پر 120 دن ہوتی ہے، مدت ختم ہونے پر یہ مدت متعلقہ ایئرلائن کے آفس سے بڑھوائی جا سکتی ہے۔ 
    ٭ ہرگز نروس نہیں ہوں نہ جلد بازی کا شکار، ہر بات کا جواب پرسکون طریقے سے دیں۔

    فائزہ نذیر احمد
      


    0 0

    Read dr-abdul-qadeer-khan Column turkey-aor-maghribi-propaganda published on 2016-06-13 in Daily JangAkhbar

    ڈاکٹر عبدلقدیر خان




    0 0

    پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ
    تعلقات میں سردمہری کی ایک وجہ پاکستان کی چین سے قربت اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے۔ پیر کو دفاع اور خارجہ امور سے متعلق پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ پر واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی صورت میں بھی اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ کچھ معاملات پر امریکہ سے تعاون نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ملکی سالمیت کا معاملہ ہے۔
     اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ حال ہی میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے اعلیٰ سطح کے امریکی وفد پر واضح کیا ہے کہ امریکہ نے ڈرون حملے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا ہے اور ایسے حملے کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کا پاسپورٹ جائے حادثہ سے صحیح سلامت ملنے سے متعلق واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں تفتیش جاری ہے کہ آیا ملا اختر منصور کے زیر استمال پاسپورٹ اُنہی کا تھا یا کسی اور کا۔ امریکہ سے سردمہری کی ایک وجہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تافتان بارڈ کا ریکارڈ بھی موجود ہے جس کے تحت جائے حادثہ سے ملنے والے پاسپورٹ کے مطابق وہ اس وقت ایران سے آ رہے تھے جب وہ امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے۔ افغانستان میں امن عمل کا زکر کرتے ہوئے اعزاز چوہدری کا کہنا ہے کہ امریکہ پر واضح کیا ہے کہ وہ بتائے کہ افغانستان میں امن عمل جنگ سے حاصل کرنا ہے یا پھر مذاکرات سے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ گذشتہ 16 برس سے افغانستان میں موجود ہے لیکن طاقت کے ذریعے وہاں پر امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات بہت ضروری ہیں۔ انگور اڈے پر واقع چیک پوسٹ کا ذکر کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی چیک پوسٹ افعانستان کے حوالے نہیں کی گئی۔ اُنھوں نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پر افغان قیادت کی طرف سے پاکستان کے خلاف اشتعال انگریز بیانات کا جواب نہیں دیا جا رہا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے افغان مہاجرین کے کیمپوں کو اپنی پناہ گاہیں بنا لی ہیں اور وہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ سکیریٹری دفاع نے اجلاس کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ ایف 16 طیاروں کی خریداری کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے۔
    اُنھوں نے کہا کہ دیگر ممالک کے زیر استمعال ایف 16 طیاروں کی خریداری کے بارے میں سوچ بچار کر رہا ہے۔

    شہزاد ملک
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    کہتے ہیں کہ جواب اہم نہیں ہوتے، سوالات انہیں اہم بناتے ہیں۔ کونسا سوال کس طرح، کس وقت اور کن حالات میں پوچھا جائے اہل علم اسے ایک باقاعدہ سائنس قرار دیتے ہیں۔ یوں کسی بھی صحت مند مکالمے کے لئے میزبان کا موضوع پر دسترس رکھنا اور سوالات پوچھنے کی سائنس سے مکمل واقف ہونا ناگزیر ہے۔ ایک لائق میزبان جہاں نامعقول سوالات کے زریعے مہمان اور ناظرین کا وقت ضائع نہیں کرتا وہیں بحث کو بھی تعمیری سمت پر گامزن رکھتا ہے۔ گو یہ درست ہے کہ سوالات سوچ کے نئے دریچے کھولتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ سوال فتنے اور فساد کے دروازے بن جاتے ہیں۔ ایک لائق میزبان اس پہلو کو بھی ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھتا ہے۔

    ایک زمانہ تھا جب ہمارے یہاں ضیاء محی الدین، طارق عزیز، حمایت علی شاعر، قریش پوری، مستنصر حسین تارڑ، انور مقصود، نعیم بخاری اور معین اختر جیسے میزبان ہوا کرتے تھے، لیکن آج بد قسمتی سے یہ شعبہ عامر لیاقت، جنید جمشید، وسیم بادامی، فہد مصطفی، حمزہ علی عباسی، مایا خان، شائستہ واحدی اور ساحر لودھی کے حوالے ہے۔ گزشتہ روز کسی ٹی وی پروگرام میں اداکار حمزہ علی عباسی نے کچھ ایسے متنازع سوالات چھیڑے ہیں، جن کے نتیجے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک فتنہ کھڑا ہوگیا ہے۔ میری ذاتی رائے میں تو موصوف کو کسی مذہبی پروگرام کی میزبانی ہی کرنی ہی نہیں چاہئے تھی لیکن اگر پھر بھی انہیں یہ شوق چڑھ ہی گیا تھا تو قاعدے کے مطابق اپنی تحقیقی ٹیم پر انحصار کرنا چاہیئے تھا۔

    کچھ لوگ متعرض ہیں کہ بس سوال ہی تو کیا تھا، انہیں اندازہ نہیں کہ سوال کس قدر نازک، بے موقع اور غیرضروری تھا۔ پھر سوال، سوالیہ انداز میں پوچھا جاتا ہے جبکہ موصوف کا انداز سوالیہ نہ تھا بلکہ وہ اپنی پہلے سے قائم شدہ رائے کی تصدیق یا تردید کا تقاضہ کررہے تھے۔ سونے پر سہاگہ دونوں مولوی حضرات کو بھی جانے کہاں سے ڈھونڈ کر لایا گیا تھا۔ جو جواب ایک عام سا اسلام پسند نوجوان بھی باآسانی دے سکتا تھا، وہ ان سے بن نہ پایا۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سحر و افطار ٹرانسمیشن کی خرافات نے جہاں سنجیدہ علمائے دین کو ان سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے وہیں شہرت اور چانس کے بھوکے کٹ ملاؤں کی لاٹری نکل آئی ہے۔

    سوال تھا کہ ریاست کیسے کسی شخص یا جماعت کو کافر قرار دے سکتی ہے؟ میرا سائل سے جوابی سوال ہے کہ کونسی ریاست؟ سیکولر یا مذہبی؟ یقیناً ایک سیکولر ریاست فلسفیانہ اور قانونی دونوں حوالوں سے اپنے شہریوں کے عقائد پر حکم لگانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ لیکن کیا پاکستان ایک سیکولر ریاست ہے؟ 1973ء کے متفقہ دستور میں ہم اپنے اس فیصلے کا حتمی اعادہ کرچکے ہیں کہ پاکستان قرآن و سنت کی بالادستی پر یقین رکھنے والی ایک خالص مذہبی جمہوریہ ہوگی۔ بطور مذہبی ریاست اسلامی جمہوریہ کی قانونی ضرورت، ذمہ داری  اور مجبوری ہے کہ ’’مسلم‘‘ اور ’’غیر مسلم‘‘ کی تعریف وضع کرے۔ قانونی ضرورت یوں ہے کہ اسلامی ریاست مسلمانوں اور غیر مسلم اقلیت کے لئے کچھ حقوق و فرائض رکھتی و بیان کرتی ہے۔ 

    تعریف طے نہ ہونے کی صورت میں انکی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی۔ زکواۃ کس سے لی جائے گی؟ اس سے آگے نکاح و طلاق، رضاعت و ولدیت، تجہیز و تدفین اور جائیداد و وراثت ایسے معاملات میں پیدا ہونے والے تنازعات میں مسلم قوانین کس پر لاگو ہونگے اور کون اس سے بری الزماں ہوگا۔ اسی طرح قرآن کریم نے حدود اور فقہ سے متعلق تعزیر کے قوانین مقرر کر رکھے ہیں۔ ان قوانین کو کس پر نافذ کیا جائے گا؟ اور کسے استثنیٰ حاصل ہوگا؟ ذمہ داری یوں ہے کہ اسلامی جمہوریہ اس بات پر معمور ہے کہ حق کی اشاعت اور باطل کی سرکوبی کرے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ فتنے کی سرکوبی کرے، اچھائی کا حکم اور برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ اب آپ خود ہی بتائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے بعد نئے نبی کا دعویدار بن کر کھڑے ہوجانے سے بڑا فتنہ بھلا اور کیا ہوسکتا ہے؟ سیدنا ابوبکر نے تو جھوٹے نبی کے ساتھ  باضابطہ قتال کا معاملہ فرمایا تھا اور مجبوری یہ ہے کہ قانون سازی کے عمل میں شریعت کا ماخذ طے اور واضح ہونا نا گزیر ہے۔

    میرے مطابق تو یہ سوال ہی سراسر مغالطے اور غلط فہمی کا شکار تھا۔ جواب سے پہلے ہی سائل نے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ اسلام اور کفر کا فیصلہ کرنا علمائے دین کی ذمہ داری ہے۔ حالانکہ علمائے دین کسی بھی اسلامی نظام حکومت میں فیصلے کا حق نہیں رکھتے، وہ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ حکم، امر یا اختیار صرف اولی الامر کے لئے مخصوص ہے۔ جواب سے قطع نظر اصل مسئلہ اس حل شدہ نازک مسئلے پر رمضان ٹرانسمیشن جیسے غیر سنجیدہ  پروگرامات میں سوال چھیڑنا ہے۔ فرض کریں کہ جواب میں کوئی مولوی بھی سائل کی طرح بے باک ہوجاتا ہے اور قادیانی تصورات کے باب میں زندیق اور مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیتا تو اسکا کیا نتیجہ نکلتا؟ یقیناً علمی و فکری مباحثے اچھی بات ہیں بشرطیکہ علمی لوگ ہی مخصوص ماحول میں برپا کریں۔

    مختصر یہ کہ اس تنازع نے سحر و افطار ٹرانسمیشن کے نام پر چلنے والی طوفان بدتمیزی کے ایک اور مضر پہلو کو بھی واضح کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پیمرا رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اس دکانداری کے خلاف حتمی ایکشن لے۔

    کاشف نصیر 


    0 0

    نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ کے لئے ترکی نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی جب کہ نیوزی لینڈ، آسٹریا اور جنوبی افریقا نے بھارت کی مخالفت کی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے ویانا میں ہونے والے این ایس جی ممبر ممالک کے اجلاس میں ترکی نے پاکستان کی ممبر شب کی بھرپور حمایت کی اور پاکستان اور بھارت دونوں کی ممبر شپ کی درخواستوں پر بیک وقت نظر ثانی کرنے پر زور دیا۔ این ایس جی کے اجلاس میں ترکی، نیوزی لینڈ، آسٹریا اور جنوبی افریقا نے بھارت کی ممبرشب کی شدید مخالفت کی تاہم بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دلی کی ممبر شپ کے حوالے سے نیوزی لینڈ کے رویے میں اب کافی نرمی آ چکی ہے۔
    پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے ترکی کے وزیر خارجہ میولت کاوس اوغلو سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور این ایس جی کی ممبر شپ کے لئے پاکستان کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا، اس کے علاوہ سرتاج عزیز نے آسٹریا کے وزیر خارجہ سباستیان کرگ اور ارجنٹائن کی وزیر خارجہ سوزانا ملکورا سے بھی رابطہ کیا اور این ایس جی ممبر شپ کے لئے پاکستان کے جوہری اثاثوں پر روشنی ڈالی اور جوہری عدم پھیلاؤ پر دستخط نہ کرنے والے ممالک کے حوالے سے یکساں رویہ اپنانے پر زور دیا۔

    اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ این ایس جی کی ممبر شپ کے حوالے سے اٹلی، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا اور روس کے وزرائے خارجہ سے بھی بات کر چکے ہیں اور پاکستان پر امید ہے کہ اگر جوہری عدم پھیلاؤ پر دستخط نہ کرنے والے ممالک کو رکنیت دینے کے حوالے سے میرٹ پر ممبر شپ دی گئی تو اسلام آباد این ایس جی کا ممبر بن جائے گا۔


older | 1 | .... | 74 | 75 | (Page 76) | 77 | 78 | .... | 149 | newer