Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 64 | 65 | (Page 66) | 67 | 68 | .... | 149 | newer

    0 0

    مردِ آہن جنرل راحیل شریف اور ان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کا سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ریاض اور تہران جانے کا فیصلہ قابلِ قدر ہے۔

    بظاہر نہ سعودی عرب نے پاکستان سے ثالثی کے لیے رجوع کیا نہ ہی ایران نے۔ خود پاکستانی دفترِ خارجہ بھی پچھلے ہفتے ہی قومی اسمبلی کی مجلسِ قائمہ برائے امورِ خارجہ کو بتا چکا ہے کہ یہ وقت ثالثی کے لیے مناسب نہیں۔
    مگر ہو سکتا ہے گذشتہ دنوں یکے بعد دیگرے اسلام آباد آنے والے سعودی وزیرِ خارجہ اور پھر وزیرِ دفاع نے راحیل شریف کے کان میں کہا ہو کہ ’طریقے نال ساڈی جان چھڈاؤ ۔۔۔‘

    ثالثی کے لیے وقت بھی خوب چنا گیا۔ ایک ایسے وقت جب ایران پر سے مغربی پابندیاں اٹھنے کے سبب اسرائیل اور سعودی عرب سخت اپ سیٹ ہیں۔ سوموار کو پاکستانی شریفین جب خادمِ حرمین و شریفین سے ملیں گے تو بادشاہ سلامت آخر کتنی خندہ پیشانی دکھائیں گے؟

    اس سے اگلے روز دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کے صدر شی پنگ بھی صلح صفائی کے لیے ریاض پہنچیں گے۔ جب راحیل و نواز تہران سے اسلام آباد کی جانب محوِ پرواز ہوں گے تو صدر شی پنگ تہران میں اتر رہے ہوں گے۔
    چین کے صدر شی جن پنگ بھی ایران اور سعودی عرب کے دورے پر جا رہے ہیں
    اب بین الاقوامی میڈیا صدر شی پنگ کو دیکھے یا جنرل راحیل شریف اور نواز شریف کی ثالثی کو؟

    ثالثی کے لیے بنیادی شرط غیر جانبداری ہوتی ہے۔ پاکستان اس 34 رکنی سعودی سٹرٹیجک اتحاد کا علامتی حصہ ہے جس میں ایران شامل نہیں۔ بظاہر جنرل راحیل شریف واضح کر چکے ہیں کہ سعودی سرزمین پر کسی بھی جانب سے حملے کی صورت میں پاکستان سعودی عرب کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ پھر بھی ایران اور سعودی عرب کے بیچ ایک غیرجانبدار مصلح بننے کی پاکستانی کوشش جرات مندانہ ہے۔
    یہ الگ بات کہ خود پاکستان ایک عرصے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالث تلاش کر رہا ہے۔ پاکستان بطور ثالث طالبان اور افغان حکومت کو ایک میز پر لانے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پایا۔ خود پاکستان کو بھی اندرونی طور پر بلوچستان کا بحران حل کرنے کے لیے مصالحانہ کوششیں درکار ہیں۔

    مگر پاکستان کا اخلاص اس اعتبار سے قابلِ تعریف ہے کہ اپنے داخلی و خارجی مسائل کے حل میں کسی مصالحت سے زیادہ اسے یہ مصلحت لاحق ہے کہ کسی نہ کسی طرح ایران سعودی مصالحت ہو جائے۔

    کیونکہ پاکستان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ سانڈوں کی لڑائی کا کچھ بھی نتیجہ نکلے کچلی گھاس ہی جاتی ہے۔
    یوں بھی پاکستان نہ صرف عالمِ اسلام کا واحد قلعہ بلکہ واحد ایٹمی طاقت بھی ہے۔ ایران سے پاکستان کا ثقافتی و تاریخی رشتہ جبکہ سعودی عرب سے مذہبی اخوت کا مالی تعلق ہے۔ اس ناطے تینوں ممالک ایک دوسرے کی نفسیات بہت خوب سمجھتے ہیں۔

    خوش قسمتی سے تینوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے سے کماحقہ واقف ہیں۔ بھلا کون سعودی ہے جس کا کسی پاکستانی محنت کش سے کبھی ذاتی واسطہ نہیں پڑا۔ کون سا سعودی ہے جو پچھلے 35 برس میں سرکاری و نجی حیثیت میں پاکستان آیا ہو اور یہاں چند گھنٹے سے لے کر چند برس کے قیام میں آدابِ مہمان نوازی کی گرم جوشی سے واقف نہ ہوا ہو۔

    اسی طرح ایران اور پاکستان کے عوام کا تعلق بھی کبھی محدود نہیں رہا۔ حکومت و حالات جو بھی ہوں پاکستانی باشندے پوشیدہ و اعلانیہ جیسے چاہیں جب چاہیں ایران جا سکتے ہیں اور ایرانی جو چاہیں بلا روک ٹوک پاکستان بھیج سکتے ہیں۔
    برادر مسلمان ممالک کے درمیان جھگڑے میں پاکستانی ثالثی کوئی نئی نہیں۔ ایک ایسے وقت جب خود پاکستان افغان خانہ جنگی میں گردن گردن پھنسا ہوا تھا جنرل ضیا الحق نے ایران اور عراق کے درمیان جنگ بندی و مصالحت کی کوششیں جاری رکھیں اور آٹھ برس صبر کا دامن تھامے رہے ۔1988 میں اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے تحت ایران و عراق میں جنگ بندی کے نتیجے میں پاکستان سرخ رو ہوا اور آج تلک ہو رہا ہے۔

    اس تناظر میں امید رکھنی چاہیے کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کی کوششوں کے سبب پاکستان مزید سرخ رو ہوگا۔ وماعلینا الاالبلاغ ۔۔۔

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی



    0 0



    0 0


    0 0

    People react outside Bacha Khan University where an attack by militants took place, in Charsadda, northwestern Khyber Pakhtunkhwa province, Pakistan in this still image taken from a video.

    0 0




    0 0




    0 0

    Kashmiri Muslims watch the funeral procession of Shariq Ahmad Bhat, a suspected rebel, in Bandnu village, some 52 kilometers (33 miles) south of Srinagar, Indian controlled Kashmir. Bhat was killed in a gunbattle with Indian government forces Wednesday.

    0 0

    آج اتوار کا دن تھا۔ عبداللہ بھی باقی نوکری پیشہ لوگوں کی طرح گھر پر ہی تھا۔ اخبار کی سرخیوں سے فارغ ہو کر اس نے سوچا کہ چلو قرآنِ پاک کا مطالعہ کرلیا جائے۔ اس نے وضو کیا، سر پر ٹوپی رکھی اور قرآن کی تلاوت شروع کردی۔ چھٹی کی وجہ سے اس نے آج شلوار قمیض پہن رکھا تھا، جِسے وہ لباس کم اور سلیپنگ ڈریس زیادہ سمجھتا تھا۔

    کوئی ایک آدھ گھنٹہ گذرا ہوگا کہ اس کی بیوی بھاگتی ہوئی آئی کہ اس کا بیٹا گلی میں سائیکل چلاتے گرگیا ہے اور گھٹنے پر شدید چوٹ آئی ہے۔ خون تو رک گیا ہے مگر ایکسرے کرانا ضروری ہوگا۔ عبداللہ نے بھاگم بھاگ گاڑی نکالی، بیوی اور بچے کو سوار کیا اور شہر کے سب سے مشہور اور مہنگے اسپتال کی طرف روانہ ہوگیا۔ بیوی بچے کو استقبالیہ پر اُتار کر اس نے گاڑی پارک کی اور تیز تیز قدموں سے اسپتال کے مین گیٹ کی جانب بڑھنے لگا۔ شلوار قمیض پہنے ہوئے، پیر میں چپل، سر پر ٹوپی۔ عبداللہ آج پہچانا ہی نہ جا رہا تھا کہ وہ شہر کا کوئی قابلِ ذکر آدمی بھی ہے۔ بے خیالی میں اس نے قرآنِ پاک بھی اُٹھالیا کہ اندر ویٹنگ روم میں پڑھتا رہے گا۔ ابھی عبداللہ گیٹ سے داخل ہوا ہی چاہتا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔

     اوئے کدھر منہ اُٹھائے جا رہا ہے، دفع ہو یہاں سے‘‘۔
    عبداللہ نے آس پاس دیکھا، چھٹی کا دن کوئی ذی روح موجود نہ تھا۔ اِتنے میں پیچھے سے آواز لگاتے سیکیورٹی گارڈ نے عبداللہ کو جالیا۔
    ’’کدھر مرتا ہے، گیٹ سے باہر جا‘‘۔

    گارڈ نے نخوست بھرے لہجے میں کہا۔ عبداللہ کو ایسے الفاظ سننے کی عادت نہ تھی۔ ابھی وہ کوئی جواب دینے کے لئے سوچ ہی رہا تھا کہ اسپتال کے اندر سے ڈاکٹر ناصر ملک جو کہ ایک ماہر نیورو سرجن تھے آتے ہوئے دِکھائی دیئے۔ وہ عبداللہ کے پرانے واقف کار تھے۔ دور سے ہی پہچان گئے۔ انہوں نے آواز لگائی۔
    ڈاکٹر عبداللہ، سو نائس ٹو سِی یو۔ پلیز کم، ہیو آ ٹی۔ سرجن صاحب کو دیکھتے ہی سیکیورٹی گارڈ رفو چکر ہوگیا اور عبداللہ اندر چلا گیا۔ چائے پی کر عبداللہ نے بیٹے کی خیریت لی اور واپس گیٹ پر چلا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ گارڈ نظر آگیا۔ 
    عبداللہ نے جا کر سلام کیا۔ اب گارڈ شرمندہ شرمندہ سا کھڑا تھا اور ایک ہاتھ سے سینے پر سجے نیم ٹیگ کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔ عبداللہ نے صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے جیب سے100 کا نوٹ نکالا اور اُسے کہا۔ میں آپ کی شکایت کسی سے نہیں کروں گا۔ یہ روپے رکھ لو۔ صرف یہ بتاؤ کہ مجھے روکا کیوں تھا؟ میرے کپڑے بھی صاف ستھرے ہیں اور چال ڈھال بھی مناسب ہے۔
    جی سر، بس معاف کردیں۔ جانے دیجیئے۔ غلطی ہو گئی، نہیں پلیز بتائیں۔ آپ کو کچھ نہیں کہوں گا، عبداللہ نے نرمی سے کہا۔

    جی، دراصل وہ ایف ٹین کے باہر اور بھی کئی جگہوں پر جوان لڑکے ہاتھ میں قرآن لئے بھیک مانگتے ہیں۔ جلدی میں میری نظر آپ کے ہاتھ میں پکڑے قرآنِ پاک پر پڑی تو میں سمجھا آپ بھی بھکاری ہیں۔
    لا اِلہ الاّللہ محمد رّسول اللہ کے نام پر بنائے جانے والے اِس دیس میں قرآن کی اِس تشریح پر عبداللہ کئی دن بول ہی نہ سکا۔

    ذیشان عثمانی



    0 0

    پرانے ٹھکانوں سے نکالے گئے دہشت گرد نئے ٹھکانے ڈھونڈ رہے ہیں، ایک دوسرے سے رابطے کے نت نئے طریقے اپنا رہے ہیں، نیا خام مال بھرتی کرنے کے لیے، اصل مقصد کو دینی لبادے سے ڈھانپنے کے لیے زیادہ پرکشش تاویلات گھڑ رہے ہیں۔ پہلے سے زیادہ سفاک وارداتوں کے لیے پہلے سے زیادہ مہارت حاصل کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

    فوج دہشت گردی کے خلاف ترجیحاتی جنگ لڑنے پر بالاخر کمر بستہ نظر آتی ہے۔ یہ الگ بات کہ جہیز میں ملے پرانے اسٹرٹیجک اثاثوں سے پوری طرح جان نہیں چھڑائی جا سکی چنانچہ دہشت گردی کے یک نکاتی ترجیحاتی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جس بنیادی یکسوئی کی ضرورت ہے وہ اب تک پیدا نہیں ہو سکی۔

    ایک وقت میں ایک اژدھے پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے تمام اژدھوں سے بیک وقت کشتی لڑنے کی خواہش کسی کو بھی قبل از وقت تھکا سکتی ہے بھلے وہ رستم ہو کہ سہراب۔ دنیا کی کوئی بھی فوج بیک وقت چار جنگیں نہیں جیت سکتی۔ بھلے وہ رومن ایمپائر ہی کیوں نہ تھی، بھلے وہ آج کا امریکا ہی کیوں نہ ہو، بھلے وہ پاکستان کی پراعتماد عسکری قیادت ہی ہو۔

    ایک سے زائد جنگیں صرف ایک طریقے سے جیتی جا سکتی ہیں۔ یعنی اپنے دشمنوں کو آپس میں لڑوا دو۔ مگر یہاں تو ریاستی ادارے ہی ایک پیج پر نہیں تو دشمن کے دماغ کا پیچ کیسے کَس پائیں گے۔ ہم اسٹرٹیجک ڈیپتھ کا خواب ہی دیکھتے رہ گئے اور دشمن نے اسٹرٹیجک ڈیپتھ حاصل کر بھی لی۔ یقین نہ آئے تو ہم میں سے ہر کوئی اپنے دل و دماغ، زبان، قلم اور قدم کو ٹٹول کر محسوس کر لے۔

    جہاں تک سویلین حکومت کا معاملہ ہے تو اب نہیں تو کب معلوم ہو گا کہ جس کا اختیار ہے دراصل وہی بااختیار ہے یا اختیار کسی کے نام پر ہے اور استعمال کوئی اور کر رہا ہے۔ کیا دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال ہونے کا مسئلہ امورِ خارجہ میں اس وقت سرِفہرست ہونا چاہیے یا تلور کے شکار کو خارجہ پالیسی کا ستون ہونا چاہیے۔
    اگر یہی طے نہیں ہو رہا کہ کراچی میں رینجرز کتنے با اختیار و بے اختیار رہیں گے۔ پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف نیم فوجی آپریشن کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ کیا پولیس مقابلوں، انٹیلی جینس کی بنیاد پر ہونے والے آپریشنز، لوگوں کے پراسرار طریقے سے غائب ہونے، سرسری سماعت کے ذریعے سزائیں سنانے اور کڑے زمینی حقائق کو خلائی حقائق بتانے سے بربادی کے شعلے اگلنے والا عفریت قابو میں آ سکتا ہے۔ جب تک آپ کچے جوان ذہنوں کے خام مال کو کسی تعمیری سوچ اور مصروفیت میں کھپانے کا انتظام نہ کریں؟

    صرف سرکش سروں کی تعداد گھٹانے سے سرکشی کتنی دیر کے لیے قابو میں آ سکتی ہے جب تک ان فکری سرچشموں پر جوابی نظریاتی بند باندھنے کی تدبیر نہ کی جائے جو ذہنوں کو مسلسل آلودہ کر رہے ہیں۔

    ہاں ہم آپ کی تعریف کر سکتے ہیں کہ آپ نے انتہاپسندی کے تربیلا ڈیم کی جھیل میں چار لاکھ کیوسک پانی مقید کر دیا ہے۔ مگر اس چار لاکھ کیوسک کے بارے میں بھی سوچا جو ابھی راستے میں ہے۔ اور اس دو لاکھ کیوسک کے بارے میں بھی سوچا جو جھیل لبالب بھرنے کے سبب اوور فلو کر رہا ہے۔ سرچشمے پر کنٹرول کے بجائے اپنی اپنی فصل بچانے کی تگ و دو سے کیا تباہ کاری کم ہو جاتی ہے؟

    کیا اس وقت ریاست کی تمام تر توانائیاں خود کو اندرونی طور پر محفوظ کرنے کے طریقوں پر سوچ بچار میں صرف ہونی چاہئیں یا پھر گھر کو خدا کے بھروسے چھوڑ کے ایران اور سعودی عرب کو بچوں کی طرح سمجھانے پر نکل کھڑے ہونا اس وقت زیادہ اہم ہے؟ کیا ان دونوں ممالک کو بھی کبھی پرواہ رہی کہ پاکستان میں برسوں سے لگی آگ بجھانے وہ ہماری کیسے مدد کر سکتے ہیں؟

    یہ ٹھیک ہے کہ لمبی لڑائی میں گیہوں سے زیادہ گھن پستا ہے اور سب سے زیادہ زخم عام آدمی کو ہی لگتے ہیں۔ مگر عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ سیاہ اور سفید کے درمیان جو بھورا رنگ ہے اسے وہ کیا سمجھے اور کس نظر سے دیکھے اور کتنے یقین سے دیکھے۔ وہ اس لڑائی میں کس کا کھل کے ساتھ دے اور کسے اپنا اصل دشمن جانے۔ اس بازار میں ہر دکاندار ایک ہی برانڈ کا ملتانی سوہن حلوہ بیچ رہا ہے۔ کیسے پتہ چلے کہ کون سا حلوہ اوریجنل اور کون سا دو نمبر ہے۔ پیکنگ تو سب ہی کی دیدہ زیب اور یکساں ہے۔

    عام آدمی چونکہ طبعاً مذہبی ہے لہذا وہ رہنمائی کے لیے علما کی طرف دیکھتا ہے۔ مگر بیشتر علما اب تک نہیں طے کر سکے کہ وہ خرگوش کے ساتھ ہیں کہ شکاری کے ساتھ۔ وہ کھل کے یہ بھی نہیں بتا پا رہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا؟ ظلم کیا ہے اور مظلومیت کیا؟ فتنہ کیا ہے اور تدارک کیا؟

    یہ وقت شادی کی عمر کے شرعی تعین کا ہے یا اسکولی بچوں کو مارنے والوں کی شرعی حیثیت متعین کرنے کا؟ اس بات پر گتھم گتھا ہونے کا ہے کہ کون سا فرقہ اسلامی ہے اور کون سا دائرہ اسلام سے خارج یا یہ بتانے کا ہے کہ قاتل ہی دائرہِ اسلام سے خارج ہے؟ یہ وقت مدارس کے آڈٹ اور تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز مواد نکالنے پر تعاون کرنے کا ہے یا ایسی تجاویز دینے والوں کو کوسنے کا؟ کیا کہیں سے بھی کسی کو لگ رہا ہے کہ یہ ملک حالتِ جنگ میں ہے اور ہم اس جنگ کو جیتنے میں اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟

    کیا آج بھی میڈیا کو ریٹنگ کے علاوہ کچھ اور سجھائی دے رہا ہے؟ کیا رشوتیوں نے یہ سوچ کر اپنا نرخ کم کیا ہے کہ جب تک حالات نارمل نہیں ہوتے وہ کم رشوت پر ہی گزارہ کریں گے؟ کیا سیاستدانوں نے خود سے کوئی ایسا وعدہ لیا ہے کہ حالت کی سنگینی کو منہ پھٹ بیانات سے اور سنگین نہیں بنائیں گے۔
    کیا لینڈ مافیا نے کوئی خفیہ عہد کر لیا ہے کہ جب تک اس ملک کی زمین اندرونی و بیرونی دشمنوں کے قبضے سے آزاد نہیں ہو جاتی تب تک ہم کسی ہموطن کی زمین جعلسازی، دھونس یا دھوکے سے نہیں ہتھیائیں گے؟

     کیا ٹیچر اس نکتے پر متفق ہو پائے ہیں کہ اب جہالت کی فصل مزید نہیں بوئی جائے گی اور جتنی توجہ تنخواہ بڑھانے کے مطالبے پر ہے کم از کم اتنی ہی توجہ بچوں کو پڑھانے پر بھی دی جائے گی۔ کیا گھوسٹ ملازمین کی ایسوسی ایشن نے حلف اٹھایا ہے کہ حالات کی بحالی تک وہ اپنے حصے کا کام کرنے کی زحمت بھی اٹھاتے رہیں گے اور جو لوگ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اس جنگ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ بھی نہیں کر رہے وہ تو کمال کر رہے ہیں۔

    وزارتِ داخلہ نے انسدادِ دہشت گردی کے لیے ون سیون ون سیون کی جو ہیلپ لائن قائم کی ہے اس کے ساتھ عام شہری کیا سلوک کر رہے ہیں؟ اس کا اندازہ یوں ہو سکتا ہے کہ راولپنڈی کے ایک شہری یاسر محمود نے اس ہیلپ لائن پر چار سو نواسی بار اور چکوال کی ایک خاتون نے دو سو پچیس بار کال کر کے انگیج کیے رکھا اور وہ وہ گفتگو فرمائی جس کا ہیلپ لائن کے اصل مقصد سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پولیس نے دونوں شہریوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ کراچی میں فائر بریگیڈ کی ہیلپ لائن پر روزانہ دس تا پندرہ ہزار کالیں آتی ہیں۔ نوے فیصد کالیں کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں ’’ میرے دل میں آگ لگ گئی ہے۔ پلیز فائر ٹینکر روانہ کر دیں۔۔۔۔ 

    کیا یہی لچھن ہوتے ہیں اپنی بقا کی جنگ سے دوچار قوموں کے؟؟

    وسعت اللہ خان


    0 0

     عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 30 ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے آ گئی ہے۔
    ایسے میں تیل کی برآمد پر انحصار کرنے والے ممالک سعودی عرب، دوسرے خلیجی ممالک، اور روس نے اپنے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ تیل کی دولت سے مالا مال ونیزویلا نے ملک میں اقتصادی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

    لیکن پاکستان جیسے درآمدی خام تیل پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں کمی ایک سنہری موقع ہے کیونکہ ملک کی درآمدت کا 33 فیصد تیل کی مصنوعات پر مشتمل ہے اور قیمتوں میں کمی سے پاکستان کا درآمدی بل کم ہوا ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان نے چار ارب 35 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات درآمد کی ہیں جبکہ گذشتہ سال اسی عرصے کے دوران ان مصنوعات کا درآمدی بل ساڑھے سات ارب ڈالر سے زائد تھا۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد سے پاکستان کے درآمدی بل میں ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان مستفید ہو رہا ہے یا نہیں؟
    ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان میں افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں کا بوجھ بھی کم ہوا ہے۔
    انھوں نے کہا کہ ’افسوس یہ ہے کہ اس کمی کا فائدہ عوام اور صنعتوں کو نہیں ہو رہا کیونکہ مقامی سطح پر تیل کی مصنوعات کی قیتمتوں میں کمی نہیں ہو رہی اور حکومت ٹیکس کی شرح بڑھا رہی ہے۔ 

    دنیا بھر میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 30 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے لیکن مقامی سطح پر حکومت نے ٹیکس بڑھا کر قیمتوں میں کمی کے فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا۔
    پاکستان میں ڈیزل پر سیلز ٹیکس کی شرح 45 فیصد جبکہ پیٹرول پر 25 فیصد ہے۔

    ماہر اقتصادیات خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیدوار فرنس آئل سے ہوتی ہے اور فرنس آئل سستا ہونے سے بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت بھی کم ہوئی ہے، جس سے حکومت کی سبسڈی میں کمی ہو رہی ہے۔
    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان کا درآمدی بل کم ہوا ہے
    انھوں نے کہا حکومت کو چاہیے سبسڈی میں کمی سے حاصل ہونے والی رقم سے انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے۔

    خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیئم مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھا کر آمدنی کا آسان ذریعہ ڈھونڈ رہی ہے۔
    اُن کا کہنا ہے کہ ’درآمدی بل میں کمی سے پاکستانی کرنسی کی قدر مستحکم ہوئی ہے اور قرضے کم ہوئے ہیں۔ ان حالات میں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے معیشت ترقی کرے۔ 

    ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں امن و امان کی صورتِ حال قدرے بہتر ہوئی ہے اور ایسے میں ضروری ہے کہ نجی شعبے کے اعتماد کو بحال کر کے سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے۔
    ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ ’ملک میں کاروباری لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدت کو بڑھایا جا سکے۔ ہماری پیدواری لاگت دنیا کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ 

    انھوں نے کہا کہ ’ایک طرف تو درآمدی بل کم ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب برآمدت نہیں بڑھ رہیں، اور تیل کی قیمتوں میں کمی سے ہونے والا فائدہ ختم ہو رہا ہے۔ 

    خرم شہزاد کے مطابق چین کی معیشت میں سست رفتاری کا نقصان پاکستان کو نہیں ہو گا۔ ’پاکستان کی چین سے برآمدات کے مقابلے میں درآمدت زیادہ ہیں اور چین کی کرنسی کی قدر میں کمی سے درآمدی مصنوعات سستی ہوں گی، جو ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ 

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے پاکستان مستفید ہو سکتا ہے لیکن اُس کے لیے ضروری ہے کہ ایسی حکمتِ عملی بنائی جائے جس سے اقتصادی شرح نمو میں اضافہ ہو۔

    ماہرین کے مطابق ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پا کر صنعتوں کو بجلی فراہم کی جائے تاکہ برآمدت میں اضافہ ہو اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کے بجائے ٹیکسوں کے دائرے کار کو وسیع کرنے پر توجہ دی جائے۔

     سارہ حسن
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    گرین شرٹس نے رسوائیوں کی نئی داستان رقم کر دی، ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ سے تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے سیریز گنوانے کے ساتھ کئی ناپسندیدہ ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیے، مہمان ٹیم کو 95 رنز سے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، رنز کے اعتبار سے گرین شرٹس کی یہ سب سے بڑی شکست ہے، اس سے قبل  2012 میں کینگروز نے 94 رنزسے فتح اپنے نام کی تھی۔ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں رنز کے اعتبار سے یہ سب سے بڑی فتح شمار ہوئی، کیویز نے 2009 میں آئرلینڈ کے خلاف 83 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔
    نیوزی لینڈ کے 5وکٹ پر 196رنز کسی بھی ٹیم کا پاکستان کے مقابل تیسرا بڑا ٹوٹل ہے، اس سے قبل گرین شرٹس کیخلاف سری لنکا نے 211 جب کہ آسٹریلیا نے 197 رنز کا مجموعہ پایا تھا۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے ناکام کپتانوں کی فہرست میں شاہد آفریدی دوسرے نمبر پر آگئے، انھیں جمعے کو 18 ویں شکست کا سامنا کرنا پڑا، بھارتی کپتان مہندرا سنگھ دھونی 23 میچز ہار چکے ہیں۔

    کیوی آل راؤنڈرکورے اینڈرسن دنیا کے تیسرے ایسے کھلاڑی ہیں جنھوں نے کسی ایک ٹی ٹوئنٹی میچ میں 75 رنز بنانے کے ساتھ 2 وکٹیں بھی حاصل کیں، اس سے قبل محمد حفیظ اور ڈیوڈ ہسی بھی یہ کارنامہ سرانجام دے چکے ہیں، مارٹن گپٹل مختصر فارمیٹ میں 150 چوکوں اور50 چھکوں کا ڈبلز مکمل کرنے والے دوسرے بیٹسمین کے طور پر ریکارڈ بک میں اپنا نام درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔


    0 0


    0 0


    0 0

    امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے گلوبل ٹیررازم ڈیٹا بیس کے مطابق گذشتہ پینتالیس برس، بالخصوص نائن الیون کے بعد، جن ممالک میں تعلیمی اداروں اور طلبا پر سب سے زیادہ حملے ہوئے ان میں پاکستان سرِفہرست ہے۔
    آرمی پبلک سکول پشاور اور اب باچا خان یونیورسٹی چار سدہ کے سانحات کے بعد یہ سوال دوبارہ والدین کے ذہن میں ابھر آیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ناحق موت سے کیسے بچائیں؟

    اس بارے میں کوئی مرکزی پالیسی موجود نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان بھی اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ معاملہ صوبوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
    چنانچہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک حل یہ نکالا ہے کہ اساتذہ کو اسلحہ کی تربیت اور رکھنے کی اجازت دی جائے ۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ صوبے میں 68 ہزار تعلیمی ادارے اور 55 ہزار پولیس والے ہیں، لہذا اکیلی حکومت ہر ادارے کی حفاظت نہیں کر سکتی۔
    حکومتِ بلوچستان نے یونیورسٹیوں کے تحفظ کے لیے مسلح کیمپس فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہر یونیورسٹی میں اس فورس کے 60 مسلح جوان تعینات کیے جائیں گے۔ یہ فورس وائس چانسلر کے تحت ہوگی ۔ تجویز تو اچھی ہے لیکن دہشت گرد صرف اعلی تعلیمی اداروں کو تو نشانہ نہیں بناتے۔

    حکومتِ پنجاب نے سیکورٹی کی ذمہ داری تعلیمی اداروں پر ڈال دی ہے۔ اور جو تعلیمی ادارہ سیکورٹی کے طے شدہ معیار پر پورا نہیں اترے گا اسے تعلیمی سرگرمیوں سے روک دیا جائے گا۔ حکومتِ سندھ نے اس بابت کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا۔
    سنہ 1971 کی جنگ کے بعد بھٹو حکومت نے طلبا کو اسلحے کے استعمال کی بنیادی تربیت دینے کے لیے کالجوں کی سطح پر نیشنل کیڈٹ کور سکیم (این سی سی) شروع کی تھی تا کہ وہ ہنگامی حالات میں باقاعدہ فورسز کے ذیلی مددگار بن سکیں۔ اگرچہ یہ سکیم لازمی کے بجائے اختیاری تھی مگر طلبا کو یہ ترغیب دی گئی کہ این سی سی کی تربیت مکمل کرنے پر بیس اضافی نمبر ملیں گے۔

    عام شہریوں کی فوجی تربیت کے لیے جانباز فورس اور مجاہد فورس کی سکیمیں شروع کی گئیں اور فوج سے مستعار اہلکار اس تربیت پر مامور کیے گئے ۔ مقصد یہ تھا کہ قوم کے تندرست لوگ ناگہانی کے وقت اپنی حفاظت کے بارے میں بااعتماد ہوجائیں۔ مگر مشرف حکومت تک یہ تمام سکیمیں وجہ بتائے بغیر ختم کر دی گئیں۔
    اگرچہ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ دہشت گردی طویل المعیاد کثیر سمتی حکمتِ عملی کے تحت ہی ختم ہو سکتی ہے۔ مگر جب تک یہ فلسفیانہ ہدف حاصل ہو تب تک لوگ اپنی حفاظت کیسے کریں؟
    یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر ایک کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی گئی تو انارکی پھیل سکتی ہے؟
    تو کیا اب انارکی نہیں؟
    اس ملک میں غیرقانونی ہتھیاروں کی بہتات روکنے کے لیے پچھلے 40 برس میں کیا کیا گیا؟ جو تباہی ہو رہی ہے اس میں لائسنس یافتہ اسلحہ کتنا استعمال ہوا اور غیر قانونی اسلحہ کتنا؟ کوئی نابینا بھی دیکھ سکتا ہے۔

    آخر اسلحے کا لائسنس صرف طاقتور طبقات اور من پسند افراد کے لیے ہی کیوں؟ جو قانون پسند شہری اپنے تحفظ کے لیے تربیت یافتہ محافظوں کی فوج نہیں رکھ سکتے وہ کیا کریں؟ اسلحہ رکھنے کی قانونی اجازت محدود رکھنے سے حالات آخر کتنے بہتر ہوئے؟
    دہشت گردوں کے ہاتھوں ہی مرنا ہے تو بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے سے بہتر ہے کہ لڑتے ہوئے مرا جائے
    یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسلحہ لائسنس اگر عام کھول دیا جائے تو لوگ ذاتی دشمنیاں بھی نکالیں گے ۔تو لوگ کیا اس وقت غیرقانونی اسلحے سے ذاتی دشمنیاں نہیں نکال رہے؟

    یقیناً مثالی صورت تو یہی ہے کہ ہتھیاروں پر صرف ریاست کی اجارہ داری ہو اور کسی کو بھی ریاست کے اندر ریاست بننے نہ دیا جائے۔ مگر مستقبلِ قریب میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا ۔

    لہذا ریاست اعتراف کرے کہ وہ تمام شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتی اور شہری اپنی حفاظت خود کریں ۔ایک عمومی معیار اور مخصوص مدت کے لیے استعمال کی واضح شرائط کے تحت اسلحہ لائسنس کا دروازہ تمام ذمہ دار شہریوں کے لیے سنجیدگی و دردمندی سے کھولنے پر غور کیا جائے۔ جب ریاست اپنی رٹ بحال کرنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ اسلحہ واپس لے لیا جائے۔
    دہشت گردوں کے ہاتھوں ہی مرنا ہے تو بھیڑ بکریوں کی طرح مرنے سے بہتر ہے کہ لڑتے ہوئے مرا جائے۔ آپ ہی تو کہتے ہیں کہ غیر معمولی حالات سے غیر 
    معمولی طریقوں سے ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

    (ان تجاویز پر قومی گفتگو کی ضرورت ہے ۔ہوسکتا ہے مزید بہتر قابلِ عمل متبادل سامنے آ جائے)

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


    0 0




    0 0

    محقق عقیل عباس جعفری نے بتایا کہ پی آئی اے کا مشہورِ عالم تعارفی نعرہ ’’ گریٹ پیپل ٹو فلائی ودھ ’’ شان الحق حقی کی تخلیق ہے اور اس کا ترجمہ ’’ باکمال لوگ لاجواب پرواز ’’ فیض احمد فیض کا تحفہ ہے۔کیسا اچھا ہوا کہ حقی صاحب اور فیض صاحب پہلے ہی پرواز کر گئے۔اور اب اچھے وقتوں میں لاجواب پرواز کے لیے جانی جاتی اس ایئرلائن کی روح بھی پرواز کیا چاہتی ہے کہ جس کا ڈھانچہ عرصہ ہوا گدھ نوچ کھا بیٹھے مگر بھوک باقی ہے۔

    پانچ روز قبل حکومت نے قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا شور و غوغا  خاطر میں نہ لاتے ہوئے پی آئی اے کو وزارتِ دفاع کے ایک ذیلی ادارے سے پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کردیا۔ اب اس کے کم ازکم چھبیس فیصد حصص کسی ایسی کمپنی کو فروخت کیے جا سکتے ہیں جو پی آئی اے کو ایک میجر سرجری کے ذریعے چلنے پھرنے جیسا بنا سکے۔

    اس وقت خسارہ زدہ اداروں کے روپ میں سرکار جو چند سفید ہاتھی پال رہی ہے ان میں اسٹیل ملز اور پی آئی اے سب سے بڑے ہیں۔ ایسے وقت جب ہر جانب پاک چائنا اکنامک کاریڈور کا غلغلہ ہے اور موقع شناس سرمایہ کار اگلے پندرہ برس پر پھیلے اتنے بڑے منصوبے کے لیے اسٹیل سازی کے پروجیکٹس لگانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

    حکومت پاکستان اسٹیل ملز کو لاحق کرپشن اور مالی بدانتظامی کا کوڑھ دور کر کے پاک چائنا اکنامک کاریڈور کی تعمیراتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے کسی بھی قیمت پر سر سے اتارنے کا سوچ رہی ہے۔ مگر کوئی ’’جینین پارٹی’’یہ گرم آلو تالو سے لگانے کو یوں تیار نہیں کہ جہیز میں اسٹیل ملز کا اونٹ مفت لیکن اونٹ کے گلے میں پڑی خسارے کی بلی اربوں کی ہے۔ یہ چند سو ارب اتنے ہیں کہ کوئی عرب بھی اس طرف پھٹکنے کی جرات نہیں کر رہا۔
    جب کہ اتنا ہی بڑا سفید ہاتھی عرف پی آئی اے اس وقت تین سو ارب روپے کے قرضے تلے سسک رہا ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لیے سالانہ بیس سے تیس ارب روپے کا ٹیکہ لگایا جا رہا ہے۔ مگر پی آئی اے کے ملازمتی پسماندگان  ادارے کی کلینیکل ڈیتھ کے باوجود لائف سپورٹنگ مشین ہٹانے کے شدید خلاف ہیں۔

    نہ ہی وہ اس کے حامی ہیں کہ دنیا کی دیگر ایرلائنز کی طرح پی آئی اے بھی مالی بوجھ ہلکا کرنے کے لیے ایسے شعبے پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردے جن کا بنیادی فضائی آپریشن سے بلاواسطہ تعلق ہے۔ مثلاً مینٹیننس ، گراؤنڈ ہینڈلنگ ، کارگو مینجمنٹ وغیرہ۔ ان شعبوں کا انتظام  اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ضد کے سبب پی آئی اے کی افرادی قوت فی جہاز سات سو ملازمین تک پہنچی ہوئی ہے۔ جب کہ دنیا کی چوتھی بڑی ایئر لائن امارات میں فی جہاز افرادی قوت دو سو بیس کے لگ بھگ ہے۔

    دیگر ایئرلائنز تیزی سے بدل رہی دنیا میں خود کو کارپوریٹ کلچر میں ڈھال رہی ہیں تاکہ مستعد افرادی قوت زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ مگر پی آئی اے آج بھی سرتاپا بیوروکریٹک کچھوا ہے۔اس کے بنیادی فیصلوںمیں ادارتی مفاد کو اولیت دینے سے زیادہ فیصلہ سازوںکے ذاتی و سیاسی مفادات کو فوقیت ہے۔
    منافع بخش و مستعد ادارے کس طرح سفید ہاتھی بنتے ہیں ؟ یہ سمجھنے کے لیے راکٹ سائنس میں ڈاکٹریٹ ضروری نہیں۔ہر حکومت پہلے تو سرکاری اداروں کو ’’ ساڈے بندوں ’’ سے بھرتی ہے اور جب ان اداروں کی تنظیمی و مالی ہڈیاں میرٹ سے عاری ’’ساڈے بندوں‘‘کے بوجھ سے چٹخنے لگتی ہیں تو ادارے کے بجائے بندے بچانے پر توجہ دی جاتی ہے چنانچہ بندے ادارہ لے کر ڈوب جاتے ہیں۔اسٹیل ملز ، ریلوے ، محکمہ تعلیم اور پی آئی اے سامنے کی مثالیں ہیں۔ان اداروں کو چونکہ یقین ہوتا ہے کہ بے اعتدالیوں کا جرمانہ بھرنے کے لیے سرکاری خزانہ و سرپرستی حاضر ہے لہذا نجی اداروں کے برعکس جوابدہی سے بے نیاز سفید ہاتھی کا قد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

    مثلاً یہ بھی ایک نادر واقعہ ہے کہ پی آئی اے کا بوجھ کم کرنے کے لیے جب ایک بار گولڈن ہینڈ شیک اسکیم متعارف کرائی گئی تو اس اسکیم میں شامل ہونے والوں کے واجبات قرض لے کر بیباق کیے گئے۔

    نااہلوں سے زیادہ اہل افراد نے گولڈن ہینڈ شیک کر لیا اور پھر دیگر ایرلائنز اور ہوابازی سیکٹر میں پہلے سے بہتر نوکری حاصل کرلی۔جن سے جان چھڑانا مقصود تھا وہ آج بھی جمے ہوئے ہیں۔یوں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے تحت برین ڈرین کے ساتھ ساتھ قرضہ اور بڑھ گیا۔جب ایسے ایسے لال بھجکڑ بھاری تنخواہیں لے کر اتنی شاندار حکمتِ عملی بنا خوف ِجوابدہی نافذ کر رہے ہوں تو قارون بھی پچھلی دیوار کود کے فرار ہو جاتا ہے۔مرے پے سوواں درہ یہ پڑ گیا کہ سن دو ہزار میں اوپن سکائی پالیسی کے تحت گلف، امارات اور پھر قطر ایرویز جیسے عقابوں نے پی آئی اے کے بیمار کبوتر کے منہ سے رہا سہا ٹکڑا بھی چھین لیا۔ایسی کمرشل ہارا کاری کی مثال شائد ہی کہیں اور مل پائے۔

    حکومتیں اگر چاہتیں تو سیاحت اور شہری ہوابازی کا بیاہ کروا  کے دونوں ہاتھوں سے کما سکتی تھیں۔مثلاً گلگت بلتستان سیکٹر میں آج سے نہیں ہمیشہ سے سیاحوں کی دلچسپی ہے۔ علاقے میں ایئرپورٹس اور سیاحتی نیٹ ورک کو مربوط ، جدید اور ون ونڈو بنا کر پی آئی اے کی بیماری کسی حد تک دور ہوسکتی تھی۔
    مگر اس سیکٹر میں صرف اسکردو ایئرپورٹ اس قابل ہے جہاں بڑے طیارے اتر سکیں جب کہ گلگت ایئرپورٹ پر آج بھی چھوٹے جہاز اتر سکتے ہیں اور وادی میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی ٹہلتا ہوا آجائے تو پرواز منسوخ ہو جاتی ہے۔

    اس علاقے سے خشک میوہ جات کے کارگو سے بھی ایئرلائن کو مستقل آمدن ہوسکتی تھی۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ سوتے کو تو جگا لوں ، جاگتے کو کیسے جگاؤں۔ جس سیکٹر پر سالانہ چھ لاکھ سیاح پروازوں کے لیے ترس رہے ہوں۔وہاں پستہ ، بادام ، اخروٹ ، خوبانی ، قیمتی پتھروں اور دھاتوں کا ہزاروں ٹن کارگو کیا بیچتا ہے۔ وہ تو حج پروازوں نے کچھ سفید پوشی رکھی ہوئی ہے ورنہ تو پی ائی اے کا آخری لنگوٹ بھی کب کا گر چکا ہوتا۔

    دنیا بھر میں کاروباری اصول ہے کہ ’’ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تب بوجھ اتارا کرتے ہیں ’’۔ مگر اپنے پاکستان میں بھلے ٹیکس اصلاحات کا معاملہ ہو کہ سفید ہاتھیوں کا قد گھٹانے کا سوال۔ اپیلیں ، احتجاج ، اللہ رسول کے واسطے ، بچوں کے پیٹ کا سوال ، بے روزگاری کی دہائی جیسے اسپیڈ بریکرز راستے میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

    ایسے میں بھلا کون سی حکومت ہوگی جو اپنی اگلی مدتِ اقتدار کی توقع خطرے میں ڈالتے ہوئے عوام دشمن اور سفاک کہلائے۔چنانچہ اصلاحات کی سمت ایک قدم بڑھا کر دو قدم پسپائی اختیار کرکے ایک اور لمبے عرصے کے لیے ریت میں منہ چھپا لیا جاتا ہے اور روزگار کے نام پر نااہلوں میں خیرات کا بٹنا جاری رہتا ہے۔
    مزے کی بات ہے کہ حکومت کو لاہور کی میٹرو ریلوے اورنج لائن کی تعمیر کے دوران ہزاروں افراد کے بے دخل ہونے کی پروا نہیں مگر سفید ہاتھی اداروں میں چھانٹی کر کے قومی اثاثہ بچانے کے معاملے پر اس کے ہاتھ جلتے ہیں۔ کوئی واضح پالیسی اپنانے کے بجائے چہرہ بچانے کے لیے چور دروازی اقدامات اور کنفیوژن پھیلاؤ مہم کا سہارا لیا جاتا ہے۔یوں ایک اچھا کام بھی بیٹھے بٹھائے برائی نظر آنے لگتا ہے۔رہی حزبِ اختلاف تو اس نے اگر جانتے بوجھتے بھی معاشی زبوں حالی کی آگ پر ہاتھ نہ تاپے اور حکومت کو بات بے بات اڑنگا نہ لگایا تو پھر کاہے کی حزبِ اختلاف۔

    میں بھی عجیب شخص ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
    خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں - جون ایلیا 

    وسعت اللہ خان



    0 0

    پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دورہ سعودی عرب و ایران کیا گیا جسے عالمی سطح پر خوب سراہا گیا اور کئی فورمز پر تھوڑی بہت تنقید بھی ہوئی لیکن مصالحتی عمل اس تنقید پر حاوی رہا،، اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان جناب میاں نوازشریف اور آرمی چیف جناب راحیل شریف، مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات جو دونوں ممالک کو ممکنہ جنگ میں دھکیل سکتے ہیں، میں ثالثی کیلئے متحرک نظر آئے۔ 

    ہر طور پر پاکستان کا یہ اقدام خوش آئند ہے کیوں کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں اور’’دہشت گردی اور انتہا پسندی‘‘ کے مشترکہ دشمن کیخلاف مل کر کام کرنے کا عزم بھی کیا گیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودیہ، ایران تنازع پاکستان کیلئے ایک آزمائش کی گھڑی ہے۔ ایران پاکستان کا ایک ایسا اسلامی ہمسایہ ملک ہے جس کیساتھ اسکی نو سو کلو میٹر طویل سرحد لگتی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب کیساتھ بھی پاکستان کے قدیم تعلقات قائم ہیں اورسعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ 

    ایک جانب ہمسایہ ملک ایران جبکہ دوسری جانب برادر اسلامی ملک سعودی عرب، پاکستان کیلئے دونوں میں کسی ایک کا انتخاب کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان متوازن پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ دوسرے معنوں میں یہ کہہ لیجئے پاکستان کیلئے عرب و عجم معاملات میں ایک تعلقاتی توازن قائم رکھنا علاقائی، نظریاتی، سیاسی، ثقافتی و معاشی مجبوری بن گئی ہے۔ ایران سعودی عرب حالیہ کشیدگی کے باعث پاکستان ایک بار پھر 1980ء کے مقام پر کھڑا ہے جب عراق ایران جنگ شروع ہو چکی تھی اور سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک صدام حسین کی پشت پر کھڑے تھے۔
     ایسے میں پاکستان کیلئے بہت بڑا چیلنج تھا کہ وہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ عرب و عجم کی جنگ میں کسی ایک فریق کی حمائت کرنا پاکستان کیلئے ہمیشہ سے ایک مشکل سوال رہا ہے دراصل لاکھوں پاکستانی خلیجی ممالک میں روزگار کیلئے مقیم ہیں۔ خلیجی ممالک کو ناراض کرنے کا واضح مطلب خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو امتحان میں ڈالنا ہے۔ یہ وہی پاکستانی ہیں جو پاکستان کی قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سی حیثیت کے حامل ہیں۔

     دوسری جانب ایران کو ناراض کرنے سے پاکستان میں مقیم شیعہ مسلمان ناراض ہو جائینگے اور داخلی سطح پر پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کے امکانات پیدا ہو جائینگے۔ گزشتہ دنوںجبکہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سعودی عرب و ایران کے دورے پر گئی تھی تو اس حوالے سے تنقید بجا ہے کہ او آئی سی کہاں ہے؟ سعودی عرب اور ایران کی حالیہ کشیدگی کے حوالے سے یہ تنظیم ایک بار پھر ہدف تنقید ہے۔ اگر مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بنائی جانے والی عالمی تنظیم او آئی سی سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کے خاتمے میں کردار ادا نہیں کر سکتی تو اسے سرے سے ہی ختم کر دیا جائے کیوں کہ یہ تنازع پاکستان کیلئے اس قدر حساس ہے کہ پاکستان دونوں ممالک میں سے کسی ایک کی حمایت بھی نہیں کر سکتا۔
     یہ تنازع جب سے کھڑا ہوا ہے اس حوالے سے اب تک بہت کچھ لکھا اور کہا جارہا ہے ۔ کچھ نے ذاتی مفادات اور کچھ مسلکی عقیدت میں اندھے ہو کر اس حد تک جا چکے ہیں کہ ان کو اس بات کی پروا نہیں کہ انکے قلم کے چبھتے ہوئے نشتر اور انکی زبانوں سے ادا ہونیوالے فرقہ واریت پر مبنی جملوں سے مملکت اسلامیہ پاکستان کو گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے موقع پر جب تھوڑی سی غلطی یا جارحانہ اقدام خطے کو خون مسلم میں نہلا سکتا ہے ۔ سمجھ داری سے کام لینے کی بجائے کچھ لوگوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں ۔ حالانکہ یہ سرا سر دوسرے ملک کے اندورنی معاملات میں براہ راست مداخلت ہے۔

    پاکستان کی سول اور ملٹری لیڈرشپ کا یہ کردار دونوں دوست ممالک اور خطے کیلئے امید کی ایک کرن ہے۔ لیکن اس مرتبہ امریکی سامراج اس درپے ہے کہ کسی طرح پاکستان بھی اس تنازع میں داخل ہو کر جنگی تھیٹر کا حصہ بن جائے۔ اس حوالے سے پاکستان کی پارلیمنٹ اور آرمی ہیڈکوارٹرز اس کوشش یا سازش کو ناکام بنانے اور امن کے قیام کیلئے متحرک نظر آرہے ہیں جو ایک نہایت ہی خوش آئند  ہے، بلکہ پاکستان اس ممکنہ جنگی تھیٹر کو ناکام بنانے کیلئے اپنا متحرک اور مثبت کردار اداکرنے کیلئے جس طرح آگے بڑھا ہے۔

     اگر یہ سلسلہ طاقت پکڑتا ہے تو خطے میں پائیدار امن کے امکانات بڑھ جائینگے۔ پاکستان کی قیادت سعودی حکمرانوں اور ایرانی قیادت کیساتھ مسلسل رابطوں میں ہے اور چین بھی اس ڈپلومیسی کے پیچھے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایران کا یورپ اور امریکہ کیساتھ جوہری ہتھیاروں کا معاملہ طے ہو جانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کیساتھ امریکی سامراج جس طرح کھیل رہا ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی سامراج خطے میں امن کیلئے کتنا ’’مخلص‘‘ ہے۔ 

    عراق میں ایرانی سرپرستی کی قبولیت، شام میں بشارالاسد کیخلاف متحرک مسلح گروہوں کی مالی و عسکری مدد اور اسی طرح ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تیزی،سعودی عرب کی یمن کے مسئلے میں ’’سرپرستی‘‘ اور خطے میں سنی اور شیعہ ریاستوں کے تصور کو ہوا دے کر سعودی عرب کی جنگ کیلئے کمر ٹھونکنا سامراج کی جنگی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی سامراج کو اسی لیے تودنیا میں ’’جنگوں کا سوداگر‘‘ کہا جاتا ہے۔

     اگر آپ پچھلی سات دہائیوں میں نظر دوڑائیں تو آسانی سے معلوم ہو گا کہ امریکی سامراج نے دنیا کے کونے کونے میں مختلف انداز کی ’’جنگوں‘‘ کی باربار سوداگری کی ہے۔ اس میں صرف امریکی اسلحہ ساز اپنا اسلحہ ہی بیچنے کیلئے خواہاں نہیں ہوئے بلکہ امریکی سامراج مختلف خطوں کو   کرکے اِن خطوں سے جنگوں کے ذریعے سٹرٹیجک اور اقتصادی مفادات کی تکمیل کرتا ہے۔ پچھلی ایک دہائی سے امریکہ نے ہمارے خطے میں اسلحہ فروشی اور جنگی سوداگری میں جو کردار ادا کیا ہے، اس حوالے سے ہماری سول و ملٹری لیڈر شپ بخوبی آگاہ ہے۔

     جنگوں کا سوداگر، امریکی سامراج اسلحوں کے انبار کو خطے میں استعمال کروانے کیلئے بڑا متحرک نظرآرہا ہے۔ اسلحے کے متعلق تحقیقی اداروں کیمطابق بھارت دنیا میں اسلحے کے خریداروں میں سرفہرست ریاست تھی جس کو اب سعودی عرب نے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2014ء میں بھارت نے 5.8 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدا۔ سعودی عرب نے اس کے بعد 6.5 ارب ڈالر کا خرید کر اس جنگی سوداگری کو مات دے دی ہے۔

     اس خریداری کے دوران سعودی عرب نے برطانیہ سے نہایت جدید جنگی طیارے ٹائی فون اور امریکہ کے  طیارے بھی خریدے۔ اسلحے کی خریداری کی اس دوڑ میں متحدہ عرب امارات اور اومان بھی پیچھے نہیں رہا۔ متحدہ عرب امارات گزشتہ سال برطانیہ، فرانس، امریکہ اور کینیڈا سے 8.6 ارب ڈالر کا اسلحہ خرید کر مشرقِ وسطیٰ میں جنگی سازو سامان میں اپنا کردار ادا کرنے پر تلا نظر آرہا ہے۔ اس خطے میں ممکنہ جنگوں کی شکارخطے کی ریاستوںمیں ایران، سعودی عرب، عراق، شام، متحدہ عرب امارات، یمن، اومان، کویت، قطر، بحرین، اردن شامل ہوسکتی ہیں۔ 

    یہی وجہ ہے امریکہ جیسی قوتیں نہیں چاہتیں کہ او آئی سی فعال ہو اور وہ ایسے اقدامات کرتی نظر آئے جس سے دو مسلم ممالک کی آپس میں صلح ہو یا آپسی تجارت ہو۔ بیرونی طاقتوں نے آج مسلم ممالک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور رہی بات پاکستان کی تو پاکستان کو بیرونی عناصر نے کھوکھلا کیا ہی ہے، اسکے ساتھ اندرونی عناصر نے بھی اس حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج او آئی سی کے کرنیوالے کام کو پاکستان نبھا رہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سفارتی تعلقات بحال کرنے میں کامیاب ہوگا؟ 

    کیوں کہ پاکستان کی بُری معاشی صورتحال نے پاکستان کا قد کاٹھ وہ نہیں رہا جس طرح ہونا چاہیے تھا، ورنہ 73ء میں عالمی سربراہی کانفرنس کے وقت پاکستان کے حالات بہت اچھے تھے دنیا پاکستان کو اپنا لیڈر سمجھتی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس میں بدلائو آتا گیا اور سیاسی کوتاہیوں اور کرپشن کی لوٹ مار اور غلط قیادت نے اسے بہت پیچھے دھکیل دیا۔ اور اگر ثالثی کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوجاتی ہیں تو اس سے پاکستان خطے کی ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اہم مقام حاصل کرسکتا ہے۔ ورنہ تھوڑی شرمندگی تو ضرور ہوگی اور پھر پاکستان کو بھی اپنی پوزیشن واضح ہو جائے گی۔۔۔ 

    محمد اکرام چودھری



    0 0

    قریباً چھے مہینے تک ایڈیسن کی ماں اسے گھر پر پڑھاتی رہی۔ کبھی کبھی ال کھیل کود میں مصروف ہوتا اور مسز ایڈیسن دروازے پر آ کر اپنی میٹھی اور صاف آواز میں پکارتی:’’ال، اے ال، بیٹے پڑھنے کا وقت ہو گیا‘‘یہ سنتے ہی ال تمام کھیل کود چھوڑ کر اپنی ماں سے پڑھنے کے لیے چلا جاتا۔ اپنی ماں کی شاگردی میں رہ کر ال نے بہت جلد روانی سے پڑھنا سیکھ لیا۔ اس کے بعد اس کے باپ نے بھی اس کی تعلیم میں ماں کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔

     اس نے ال سے وعدہ کیا کہ اگر وہ کوئی اچھی کتاب پڑھے گا اور اس کا زبانی خلاصہ بیان کر دے گا، تو اسے ہر کتاب کے لیے پچیس سنٹ انعام ملے گا۔ ال نے بہت جلد ہر کتاب کا صحیح اور صاف خلاصہ بیان کرنا سیکھ لیا۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ اسے اپنی ضرورت کے لیے جیب خرچ بھی ملتا رہتا تھا۔ ال نے اگرچہ سکول باقاعدگی کے ساتھ صرف تین مہینے پڑھا، مگر اپنے والدین کی مشترکہ کوشش سے اس نے بہت عمدہ تعلیم حاصل کر لی۔ 
    ال کا بڑا بھائی ولیم پٹ ایڈیسن شعور کو پہنچ چکا تھا اور اس کی عمر پچیس سال کے لگ بھگ تھی۔ اس نے پورٹ ہیورون میں کرائے کے گھوڑوں کے لیے ایک اصطبل کھول لیا تھا اور خود اسے چلاتا تھا۔ وہ دن بھر گھر سے باہر رہتا تھا۔ ال کی بہن ٹینی کی شادی کئی قبل پہلے سیموئل بیلی سے ہو چکی تھی اور وہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ گھر میں ال کا کوئی ہم عمر بھائی بہن نہیں تھا، نہ اس طرح کے دوست تھے ،جیسے سکول میں تعلیم کی وجہ سے عام طور پر بچوں کو مل جاتے ہیں، مگر اس نے کبھی تنہائی محسوس نہیں کی۔ 

    فورٹ گریٹیو میں فوجی رہتے تھے۔ اندھیری راتوں میں وہ اپنے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالتا ،جس پر سنتری خطرے کا بگل بجا دیتا تھا۔ سنتری کا شور سن کر پہرے دار اور اس کے ساتھی رات کی تاریکی میں بھاگنا شروع کر دیتے۔ مسز ایڈیسن کو جب کبھی ان شوخیوں کی خبر ہوتی تو وہ بڑے سے گھڑیال کے پیچھے رکھی ہوئی چھڑی نکالتی اور اپنے شوخ بچے کی تھوڑی سی مرمت کر دیتی۔ 
    لکڑی لانے، پانی بھرنے،پیغام رسانی اور اوپر کے دوسرے کاموں کے لیے مسز ایڈیسن کے یہاں ایک پندرہ سالہ ولندیزی لڑکا مائیکل اوٹس نوکر تھا۔ اگرچہ وہ ال سے چھ سال بڑا تھا، مگر وہ اس کا جگری دوست بن گیا تھا۔ ال اور مائک جنگل میں ایک ساتھ چھان بین کے لیے جاتے، چڑیوں کے انڈے تلاش کرتے، ہیورون جھیل میں تیرتے اور اس کے کنارے سے گھونگے اور سیپیاں جمع کرتے۔ ال اپنی ماں کو روزانہ سبق سناتا اور ہفتے میں دو تین مرتبہ نئی کتابوں کے زبانی خلاصے بیان کر کے پچیس سنٹ فی کتاب انعام حاصل کر لیتا تھا۔

      عظیم موجد ایڈیسن کی داستانِ زندگی، مصنف:جی- گلینوڈ-کلارک   


    0 0

    نیوزی لینڈ نے پاکستان سے ٹی 20 سیریز جیتنے کے بعد ایک عمدہ پرفارمنس سے ون ڈے سیریز کے پہلے ہی میچ میں پاکستان کو پھر شکست دیدی۔ یہ نیوزی لینڈ کا اینے ملک کے اندر متواتر 14واں ون ڈے میچ تھا جو انہوں نے جیتا۔ پاکستانی باؤلروں نے نیوزی لینڈ کی پہلی 6وکٹ صرف 99 کے سکور پر حاصل کر لی تھیں اور نیوزی لینڈ کی کریم بیٹنگ آؤٹ ہو چکی تھی۔

     لگتا تھا کہ نیوزی لینڈ 150 کے لگ بھگ آؤٹ ہو جائیگا مگر نیوزی لینڈ کے بقیہ باؤلروں نے ہی سکور کو 280 پر پہنچا دیا اور پاکستان کے باؤلروں کی خوب پٹائی کی اور ایک جیتا ہوا میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔ بابر اور حفیظ عمدہ کھیلے، کس کس کا نام لکھوں سبھی بیٹسمینوں نے مایوس کیا۔ مصباح کی ون ڈے سے ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی بیٹنگ میں اس شگاف کو بھرنے والا کوئی بھی موجود نہیں۔ اس سے تو بہتر تھا عمر اکمل کو ہی ون ڈے سکواڈ میں شامل کر لیا جاتا۔ 
    ہمارے سلیکٹر ڈرپوک بہت ہیں نئے لڑکوں کو کھلانے سے ڈرتے ہیں کہ ہار نہ جائیں مگر پرانوں سے ہارنے سے بہتر ہے جرأت کا مظاہرہ کرکے ایک نئی ٹیم تشکیل دی جائے۔ اب کرکٹ بدل چکی ہے ہر ٹیم نئے کھلاڑیوں سے اپنی ٹیمیں مضبوط کر رہی ہیں۔ ہمیں بھی جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ٹی 20ورلڈکپ سر پر ہے مگر پاکستانی کرکٹ کا خدا ہی حافظ ہے۔
      
    محمد صدیق


    0 0

    پہلا ہاکی سٹیڈیم پاکستان کے پہلے ہاکی سٹیڈیم کی تعمیر کراچی میں عمل میں آئی۔یہ سٹیڈیم ہاکی کلب آف پاکستان نے تعمیر کیا۔ اس کا افتتاح گورنر مغربی پاکستان جنرل محمد موسیٰ نے 13فروری 1966ء کو کیا۔ پہلا آل پاکستان سپورٹس سیمینار پاکستان میں پہلا سپورٹس سیمینار اگست 1987ء میں پشاور میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی بڑی بڑی سپورٹس ایسوسی ایشن اور سپورٹس رائٹرز نے شرکت کی۔ پہلے روز کھیلوں، ثقافت اور سیاحت کے وفاقی وزیر نثار محمد خان نے سیمینار کا افتتاح کیا۔ 

    پاکستان کا پہلا سٹیڈیم یہ ڈرنگ سٹیڈیم تھا اور اسے بہاولپور کے انگریز وزیراعظم کرنل اے جے ڈرنگ نے تعمیر کرایا تھا۔ عوامی مطالبے کے پیش نظر اس کا نام جنوری63ء میں تبدیل کر کے بہاولپور سٹیڈیم رکھا گیا۔ اس سٹیڈیم میں سب سے پہلا سہ روزہ کرکٹ میچ ایم سی سی کے ساتھ 24۔ 25 اور 26نومبر1951ء کو کھیلا گیا ،جو برابر رہا۔ 

    سپورٹس رائٹرز پر مشتمل ایسوسی ایشن کے سیکرٹری امجد عزیز ملک نے سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان سپورٹس رائٹرز پر مشتمل ایسوسی ایشن کھیلوں اور کھلاڑیوں کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں اس سیمینار کے انعقاد پر سرحد سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار کے تینوں ر وز کھیلوں کی ایسوسی ایشنوں کے عہدیدار جن مشکلات کا ذکر کریں گے ان پر قابو پانے کیلئے ہر قسم کے اقدامات کیے جائیں گے۔ 

    تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے یقین دلایا کہ وہ وزارتِ تعلیم کے عہدیداروں سے کالجوں اور سکولوں میں کھیلوں کو عام کرنے کے لیے تجاویز پر بات چیت کریں گے۔ معذور فوجیوں کا پہلا مقابلہ پاکستان میں پہلی بار معذور فوجیوں کی کھیلوں کا مقابلہ سیالکوٹ میں 5فروری 1955ء کو شروع ہوا۔ 1988ء کی اولمپک کھیلوں میں تمغہ جیتنے والے واحد کھلاڑی 1988ء کی اولمپک کھیلوں منعقدہ سیول (کوریا) میں پاکستان کے مشہور باکسر حسین شاہ نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 

    وہ اولمپک گیمز میں کوئی بھی تمغہ جیتنے والے واحد پاکستانی تھے۔ پاکستان پہلی مرتبہ پیراولمپکس میں شامل ہوا 3ستمبرتا14ستمبر1992ء بار سلونا (سپین) میں معذوروں کے جونویں اولمپکس مقابلے ہوئے پاکستان نے ان میں پہلی بار شرکت کی۔ اس کام کو عملی شکل دینے کا بیڑا پاکستان کے نابیناوں کی واحد قومی نمائندہ تنظیم پاکستان ایسوسی ایشن آف دی بلائینڈ نے اٹھایا پاکستانی دستہ چار افراد پر مشتمل تھا، ان میں شاہد حسین (چیف ڈی مشن) خاور ملک ایتھلیٹ اور خالد محمود ایتھلیٹ اور محمد رفیع (کوچ ) شامل تھے۔

     انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے پہلے میڈیکل سیزن آفیسر کا انتخاب ڈاکٹر نشاط ملک پہلے پاکستانی ہیں ،جن کا تقرر بطور میڈیکل سیزن آفیسر کے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کیا ان کا تقرر فروری 1990 ء میں عمل میں آیا۔ نشاط ملک 6جنوری1955ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ سندھ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا۔ ہائوس جاب کے بعد سپورٹس میڈیس کا انتخاب کیا اور اس حوالے سے مختلف اداروں کے ساتھ ان کی وابستگی رہی، جن میں پاکستان اولمپک میڈیکل کمیٹی کے چیئرمین اور سرپرست، سپورٹس میڈیسن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر، ایشین فیڈریشن آف سپورٹس میڈیسن کے سیکرٹری جنرل انٹرنیشنل فیڈریشن آف میڈیس ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر رہے۔ 1997  

     پہلی مرتبہ انٹرنیشنل ایمپائر کی تقرری پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان نومبر 1986ء میں لاہور میں کھیلے گئے، دوسرے کرکٹ ٹیسٹ میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل امپائر مقرر کیے گئے۔ اس طرح پاکستان اور دنیا کے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔ اس میچ میںا یمپائرنگ کے فرائض بھارت کے وی، کے، راما سوامی اور پی ڈی رپورٹر نے انجام دئیے۔ 

    (اِنسائیکلوپیڈیا پاکستان میں اوّل اوّل از زاہد حسین انجم)    


older | 1 | .... | 64 | 65 | (Page 66) | 67 | 68 | .... | 149 | newer