Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 63 | 64 | (Page 65) | 66 | 67 | .... | 149 | newer

    0 0
  • 01/10/16--04:14: Second day of Biswa Ijtema
  • Bangladeshi Muslim devotees offer evening prayers during the second day of a multiple day event, World Congregation of Muslims, on the banks of river Turag, at Tongi, 20 kilometers (13 miles) north of Dhaka, Bangladesh. Thousands of Muslims attended the annual event, one of the world's largest congregation of Muslims.

    0 0

    ہوکائیدو جاپان کے شمال میں واقع ایک جزیرہ ہے جہاں پر قائم کامی شراتاکی نامی ریلوے اسٹیشن پر گزشتہ تین برس سے روزانہ صرف ایک مسافر کے لیے دو ٹرینیں رکتی ہیں۔
    یہ دعویٰ چین کے معتبر خبر رساں ادارے سی سی ٹی وی نیوز کی ایک فیس بک پوسٹ میں کیا گیا ہے 

    فیس بک پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ جاپان ریلویز نے آج سے تین برس قبل اس اسٹیشن کو دور دراز ہونے اور مال بردار ٹرینوں کے بند ہونے کی وجہ بند کرنے کا فیصلہ کیا لیکن انتظامیہ نے اپنا فیصلہ اس وقت تبدیل کر دیا جب انہیں معلوم ہوا کہ اسٹیشن پر رکنے والی ریل ایک لڑکی کے کالج جانے کا واحد ذریعہ ہے۔
    تائیوان ایپ ڈیلی نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ طالبہ روزانہ اس ریل کے ذریعے کالج جاتی ہے تاہم وہ شراتاکی سے نہیں بلکہ کیو-شراتاکی ریلوے اسٹیشن سے صبح سوا سات بجے ریل میں سوار ہوتی ہے اور اس کے ساتھ 10 دیگر ہم کلاس بھی اسی اسٹیشن سفر کرتے ہیں۔

    تاہم واپسی پر انہیں تین ٹرینیں دستیاب ہوتی ہیں جن میں سے آخری شام سات بج کر 25 منٹ پر نکلتی ہے۔
    جب کہ سی سی ٹی وی نیوز کے مطابق اس وقت جاپان کا یہ ریلوے اسٹیشن صرف ایک مسافر کے لیے پوری طرح سے کام کر رہا ہے اور یہاں روزانہ دو ٹرینیں رکتی ہیں جن کا شیڈول بھی لڑکی کے کالج جانے اور واپس آنے کے وقت کو دیکھ کر مرتب کیا گیا ہے۔ مذکورہ طالبہ رواں سال 26 مارچ کو اپنے کالج کی تعلیم مکمل کرلے گی اور جاپان ریلویز کے مطابق یہ اسٹیشن اس وقت ایسے ہی کام کرتا رہے گا ۔


    0 0

     وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان ’مناسب وقت‘ آنے پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔

    لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹ کی تقریب کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں اور یہ صوت حال ہم سے سفارتی نقطہ نظر سے متوازن رہنے کا مطالبہ کررہی ہے۔

    ’جب صحیح وقت آئے گا ، جو کہ ایک ہفتے یا ایک ماہ میں ممکن ہے، پاکستان اپنا مثبت کردار ادا کرے گا‘۔
    انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان اپنی سلامتی پر خصوصی توجہ کے ساتھ ساتھ اپنے مفادات کے تحفظ میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
    سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ مسلکی اختلافات کو ہوا ملے، اس لیے، جو کچھ کہا جائے اور کیا جائے وہ سب انتہائی احتیاط کے ساتھ ہو‘۔
    ’ہم نہیں چاہتے کہ دہشت گرد عناصر سعودیہ-ایران کشیدگی کا فائدہ اٹھائیں‘۔
     
    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سعودی عرب میں شیخ نمر النمر کو 46 دہشت گردوں کے ساتھ سزائے موت دیئے جانے کے واقعے کے بعد ایران میں مظاہرین نے سعودی سفارت خانے کو جلادیا تھا۔

    اس واقعے کے بعد سعودی عرب نے ایرانی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نا صرف ختم بلکہ مزید کشیدہ صورت حال اختیار کر گئے تھے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد خلیجی ممالک نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے ہیں۔
     
     
     


    0 0


    0 0

    اکبر اعظم کے دور میں کتب خانوں کی کثرت تھی۔ ہر گلی اور کوچہ دار المطالعوں سے آراستہ تھا۔ اس کے امراء اور وزراء بھی بادشاہ وقت کی شگفتہ طبیعت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ رحیم خان خاناں ہنر مندوزراء میں ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے باپ بیرم خان نے اکبر کی تربیت کی تھی۔ رحیم خان خاناں نے اپنے باپ سے ورثہ میں بہت کچھ حاصل کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اکبری دربار کا ایک روشن ستارہ بن کر جگمگایا۔

     مؤرخین نے جہاں اکبری دربار کے اس رکن کی فراست و بصیرت اور اس کی بہت سی زبانوں پر دسترس رکھنے کی صلاحیتوں کی تعریف کی ہے ،وہاں انھوں نے اس علمی مرکز کا ذکر بھی کیا ہے، جہاں خان خاناں نے اپنی خدا داد قابلیت، سخن سنجی، علم نوازی اور بے مثل فیاضی کے جوہر کو جلا بخشی تھی۔ یہ مرکز اس کا ذاتی کتب خانہ تھا۔ مولانا شبلی اس کتب خانہ کی فضیلت اور جامعیت کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’’یہ کتب خانہ اس درجے کا تھا اور اس قدر علمی ذخیرے اس میں مہیا کیے گئے تھے کہ خود ایک اکیڈمی یا دار الحکومت کا کام دیتا تھا۔
     عرفی، نظیری، ظہوری، شکیبی غرض اکثر شعرائے اکبری نے اپنے دیوان خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر اس کتب خانے میں داخل کیے تھے۔ دربار اکبری کے اکثر با کمال اسی کتب خانہ کی پیداوار ہیں۔ اکثر شعراء، خوش نویس ضاع جن کو خان خاناں تربیت دینا چاہتے تھے، کتب خانہ کے کام پر مقرر ہوئے تھے اور ترقی کرتے کرتے نادر روزگار ہو جاتے تھے‘‘۔ اس عظیم کتب خانہ میں کتابوں کی فراہمی کے مختلف ذرائع تھے۔

     مثلاً کتب خانہ میں بڑے بڑے علماء، شعرا، تصنیف و تالیف کا کام کرتے اور اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے کتب خانہ میں عطیہ کے طور پر جمع کرانا باعث فخر سمجھتے تھے۔ سلیقہ مند لوگ نایاب کتب کی تلاش و جستجو میں سرگرداں رہتے اور جو نسخہ یا خطاطی کا اعلیٰ نمونہ دستیاب ہوتا، اس کو کتب خانہ کے لیے حاصل کر لیتے۔ 

    کتب خانہ کی نگرانی کا کام وقت کے بلند پایہ عالم کے پاس ہوتا تھا چنانچہ عبدالسلام اور شجاع جیسے با کمال حضرات عرصہ دراز تک اس کتب خانہ کے نگران رہے۔ ’’مآثررحیمی‘‘ کے مصنف نے مدت تک اس کتب خانہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا تھا۔ سترھویں صدی عیسوی میں جب اہل یورپ کتب خانوں سے زیادہ مانوس نہ تھے، اس وقت بر صغیر میں متعدد کتب خانے موجود تھے۔

    اشرف علی



    0 0

    یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن نے ہماری مجلسی زندگی پر ڈاکہ نہیں ڈالا تھا۔ محلوں کی چوپالیں اور تھڑے رات گئے تک آباد رہتے تھے۔ سیاست سے لے کر ادب اور معیشت سے لے کر سیاحت تک کونسا ایسا موضوع ہے جو ان محفلوں میں زیر بحث نہ آتا تھا۔ یہ محفلیں گلی محلوں کے درمیان موجود چوپالوں‘ نکڑوں یا ویہڑوں میں منعقد ہوتیں۔ ہر شہر میں بعض مخصوص دکانیں ہوتیں جن کے مالکان علم کی پیاس میں عموماً عصر کے بعد اپنی دکان کے حصے میں کرسیاں سجا رکھتے جہاں شہر کے مخصوص معززین آتے‘ دن کے معاملات‘ شہر کے حالات اور ملکی سیاست پر گفتگو کرتے اور شام ڈھلے رخصت ہو جاتے۔

    ہر کسی کو یاد کرنے پر اپنے شہر کے یہ مخصوص ٹھکانے ضرور یاد آ جائیں گے جو اب اجڑ چکے ہیں۔ میری زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ دو شہروں گجرات اور کوئٹہ میں گزرا ہے اس لیے مجھے آج بھی ان دونوں شہروں کی محفلیں ایک سہانے منظر نامے کی طرح یاد آتی ہیں اور آنکھیں بھگو جاتی ہیں۔ اگر آپ اس زمانے میں کوئٹہ کی جناح روڈ پر عصر کے بعد گزرتے تو آپ کو کسی دکان میں نواب اکبر بگٹی اپنی محفل سجائے ہوئے نظر آتے تو کسی میں محمود خان اچکزئی‘ چائے خانوں میں لوگ دیر تک بیٹھتے اور دنیا بھر کے موضوعات پر گفتگو کرتے۔
     زمرد حسین صاحب کی قلات پبلشرز والی دکان تو سیاست دانوں‘ ادیبوں‘ شاعروں کا مرکز تھی جس طرح شہر میں کوئی نئی کتاب آئے تو وہ بک اسٹالوں پر ملتی ہے اسی طرح کوئٹہ میں کوئی ادیب‘ شاعر‘ صحافی یا سیاست دان باہر سے تشریف لاتا تو زمرد حسین صاحب کے قلات پبلشر والے تکیے میں ضرور نظر آتا۔

    گجرات جسے سرسید نے خطۂ یونان کہا تھا اس کے ہاں بھی ڈیرے بہت تھے۔ حکیم جمیل صاحب اپنے مطب کے سامنے گلی میں پانی کا چھڑکاؤ کرواتے‘ کرسیاں رکھ دی جاتیں اور پھر وہاں کون کون نہیں آتا تھا۔ سیاست دانوں سے لے کر ادیبوں‘ شاعروں اور کالج کے پروفیسروں تک ہر کوئی۔ صبح کے وقت ضلع کچہری میں وکیلوں کے چھپڑ سیاست دانوں اور صحافیوں کے ٹھکانے ہوتے اور شام کو ادب پرور لوگوں کی دکانیں ادیبوں اور شاعروں کی آماجگاہیں۔

     لیکن اس زمانے میں رات گئے یا پھر عشاء کے بعد کے معمولات میں سب سے اہم عوامی جلسے‘ مذہبی تقریبات اور میلوں کے سرکس تھے۔ سینما گھروں کی رونق اپنی جگہ لیکن عوامی جلسے تو ہر خاص و عام کو میسر تھے‘ اس لیے لوگ ہر سیاسی و مذہبی جلسہ اپنے اپنے شوق کے اعتبار سے رات ڈھلے تک دیکھتے اور تقریریں سنتے رہتے۔
    تقریر کا فن اپنے عروج پر تھا اور شعلہ بیان مقررین گھنٹوں لوگوں کو اپنے سحر میں لیے رکھتے۔ میرا گھر گجرات کے ایک مشہور علاقے کالری دروازے کی گلی محلہ ڈپٹی یار محمد خان میں تھا۔ کالری دروازہ آج فیصل گیٹ کہلاتا ہے جس کا نام گجرات کے شہریوں نے شاہ فیصل کے انتقال کے بعد ان کے نام سے معنون کر دیا تھا۔ یہ گیٹ فصیل شہر کے گیٹوں میں سے ایک تھا۔

     قدیم دروازہ تو منہدم ہو چکا تھا جس کی وجہ سے یہاں ایک میدان سا بن گیا تھا جہاں سیاسی جلسے منعقد ہوتے۔ مقررین کی آوازیں چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے کانوں تک پہنچتی تھیں لیکن پھر بھی لوگ جلسے میں جا کر روبرو مقرر کو سننا پسند کرتے۔ میرے بچپن کی یادوں کی ایک خوبصورت یاد ایک سیاسی جلسہ اور اس میں ایک مقرر کی تقریر ہے۔ ایوب خان کا دور اقتدار ختم ہوا تھا اور یحییٰ خان نے سیاسی سرگرمیوں کا اعلان کر دیا تھا۔

    ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جماعت نے انگڑائی لی تھی اور مقبولیت کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ رہی تھی۔ ہمارے سامنے وحدت مغربی پاکستان یعنی ون یونٹ ٹوٹا تھا ا ور اس کی کوکھ سے چار صوبے بلوچستان‘ سندھ‘ پنجاب اور سرحد برآمد ہوئے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں سرخ انقلاب کی آمد آمد کے تذکرے عام تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا روٹی‘ کپڑے اور مکان کا نعرہ اور منشور میں درج ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ پاکستان میں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والوں کے لیے خوش کن پیغام تھے۔ یہی وہ دن تھے جب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مولانا بھاشانی نے کسان کانفرنس منعقد کی۔ ان کی ڈھاکہ سے مغربی پاکستان آمد یہاں کے رہنے والوں کے لیے ایک اچنبھا تھا۔ یہ کانفرنس کسانوں کو درانتی اور  ہل کے ذریعے انقلاب لانے کے ذرائع بتاتی رہی۔ فیض احمد فیض نے اسی کانفرنس میں اپنی انقلابی شاعری سے لوگوں کو گرمایا تھا۔

    مولانا بھاشانی جس خطے سے آئے تھے یعنی مشرقی پاکستان اس کا ذکر یوں تو مغربی پاکستان کی محفلوں میں بہت ہی کم ہوتا اور اگر ہوتا تو دو طرح کے رویے ہماری گفتگو میں پائے جاتے۔ ایک رویہ عام لوگوں کا تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی عوام پسماندہ ہیں‘ مفلوک الحال ہیں اور ہم مغربی پاکستان کے عوام ان کی آفتوں اور سیلابوں میں مد د کرتے ہیں نہ کسی کو بنگالی موسیقی سے دلچسپی تھی اور نہ بنگالی ثقافت سے۔ ڈھاکہ میں بنائی گئی چند فلمیں سینماؤں میں لگتیں تو لوگ کو سنار بنگلہ کی اس سرزمین کے مناظر بھلے لگتے۔ شبنم اور رحمان تھے تو بنگالی لیکن ان کی پہچان لاہور کی فلم انڈسٹری بن چکی تھی۔

    دوسری جانب ایک ایسا طبقہ تھا جو پاکستان کے میڈیا پر چھایا ہوا تھا۔ یہ طبقہ بائیں بازو کی اس سوچ سے تعلق رکھتا تھا جن کے نزدیک پاکستان کی وحدت کو اسی طرح نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اگر یہا ں پر بسنے والی قومیتوں میں نفرتوں کو پروان چڑھایا جائے۔ دونوں علاقوں کے پریس مختلف تھے اس لیے کسی کو علم تک نہ تھا کہ دوسری جانب کیا لکھا جا رہا ہے۔ مشرقی پاکستان میں یہ مستقل پراپیگنڈہ تھا کہ مغربی پاکستان تمہارے وسائل کو لوٹ رہا ہے اور وہاں کی ترقی دراصل تمہارے استحصال کا نتیجہ ہے۔ دوسری جانب یہاں کے پریس پر چھائے ہوئے لوگ بنگالیوں کا ذکر تو نہ کرتے لیکن مغربی پاکستان کے رہنے والوں کو ظالم‘ استحصالی‘ خون چوسنے والے اور بنگالیوں کے حقوق کا غاصب بنا کر پیش کرتے۔

    یہ پراپیگنڈہ ایسا تھا کہ دونوں جانب محبت کے گیت گانے والا کوئی نظر نہ آتا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلزپارٹی کا ایک فرد بھی مشرقی پاکستان میں موجود نہ تھا۔ گویا پاکستان ٹوٹنے سے کئی سال پہلے ہی بھٹو نے اس خطے سے جان چھڑا لی تھی۔ شیخ مجیب اور بھاشانی کی پارٹی کے جھنڈے ان کے لاہور کے دفتروں پر لہراتے نظر آ جاتے تھے۔

     یہ دفاتر بھی پورے مغربی پاکستان میں تین یا چار ہوں گے۔ لیکن ایک تنظیم ایسی تھی جس کے دفتر مغربی پاکستان کے کونے کونے میں موجود تھے اور ان دفاتر پر آویزاں بورڈ پر اس تنظیم کا نام بنگالی میں بھی لکھا ہوتا تھا۔ یہ واحد جگہ‘ دفتر یا بورڈ ایسا تھا جس کو دیکھ کر احساس ہوتا تھا کہ مشرقی پاکستان بھی ہمارا حصہ ہے۔ یہ تھی اسلامی جمعیت طلبہ جس نے بورڈ پر بنگالی میں اس کا نام ’’اسلامی چھاترو شنگھو‘‘ لکھا ہوتا تھا۔

    گجرات کے کالری گیٹ اور موجودہ فیصل گیٹ میں یوم پاکستان کا ایک جلسہ اسی اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے منعقد ہوا۔ اس جلسے کے دو مقررین تھے ایک پروفیسر خالد علوی مرحوم جو جامعہ پنجاب میں پڑھاتے تھے اور دوسرے ڈھاکہ سے آئے ہوئے مطیع الرحمن نظامی۔ یہ میرا دہریت کا دور تھا۔ کارل مارکس اور اینگز کو پڑھنے کے بعد ذہن میں خسرے کی طرح لادینیت کی بیماری نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ 

    مشرقی پاکستان چونکہ ہم سب کے لیے ایک دور دراز اور انوکھا خطہ تھا اس لیے وہاں سے آنے والوں کو سننا اور دیکھنا معلومات میں اضافے کے لیے ضروری تھا۔ میں اس جلسے میں چلا گیا۔ پہلے تو خالد علوی کی تقریر نے مجھے مبہوت کر دیا۔ جامعہ پنجاب کا ایک استاد اور سرکاری ملازم اسقدر جرات سے گفتگو کر رہا تھا کہ میں حیران رہ گیا۔

    سچی بات یہ ہے کہ سرکاری ملازمت کے دوران جب کبھی سوچتا ہوں کہ اسقدر بے خوفی مجھ میں کیسے آئی تو شاید اس کا ایک جواز یہ ہے کہ مجھے خالد علوی کی جرات نے متاثر کیا تھا لیکن جس شخص کی تقریر‘ حسن بیان‘ ملاحت اور پاکستان سے محبت میں ڈوبے ہوئے الفاظ نے مجھے گرویدہ بنایا وہ مطیع الرحمن نظامی تھے۔ پہلی حیرت میرے لیے یہ تھی کہ ایک بنگالی پورے پاکستان پر چھائی اسلامی جمعیت طلبہ کا سربراہ کیسے بن گیا۔ مغربی پاکستان میں موجود کسی اور سیاسی پارٹی یا تنظیم میں تو ایسا نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ وہ اس بنگالی نوجوان کو مغربی پاکستان میں ایک ہیرو اور ایک لیڈر کے طور پر لیے لیے پھر رہی ہے۔ یہ کیسے مغربی پاکستان کے رہنے والے ہیں جنھیں اپنے بنگالی بھائیوں سے نفرت ہی نہیں۔ وہ انھیں کمتر نہیں جانتے۔

    یہ سوال میرے ذہن سے ٹکراتے رہے اور میری دلچسپی مطیع الرحمن نظامی کی تقریر میں بڑھتی گئی۔ چودہ سال کے بچے کے لیے یہ بہت حیرت کے لمحات تھے۔ وہ جسے یک طرفہ مطالعہ نے دہریہ بنایا تھا اور یک طرفہ پراپیگنڈ نے بنگالیوں کا صحیح تصور ہی واضح نہیں ہونے دیا تھا۔ اگر مطیع الرحمن نظامی کی وہ تقریر میری زندگی میں نہ آتی تو کبھی بھی وسیع نظری سے بنگالی عوام کو نہ دیکھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان ٹوٹا تو یہ ایک ایسا المیہ تھا جس نے مجھے اسلامی جمعیت طلبہ کے قریب کیا اور میں بنگلہ دیش نامنظور تحریک کا حصہ بنا‘ اس تحریک نے پاکستان سے محبت جگائی اور پاکستان سے محبت نے مجھے اللہ کے قریب کر دیا‘ ایسے میں اگر مولانا مودودی کا مدلل علم میری رہنمائی نہ کرتا تو میں دہریت کے تاریک سمندر میں غرق رہتا۔

    آج وہ مطیع الرحمن نظامی جس کی تقریر نے مجھے پاکستانیت کے قریب کیا۔ جس کی بنگالی لہجے کی اردو نے مجھے اس خطے سے محبت سکھائی‘ اسے اس پاکستان سے محبت نے جرم میں بنگلہ دیش میں پھانسی کی سزا سنائی گئی اور وہ اس منزل کا راہی ہے جس پر ایسے کئی پروانے جھول چکے ہیں۔ میں اس خطہ جسے مغربی پاکستان کہتے تھے اور اس وقت پاکستان‘ وہاں پر موجود آنکھوں میں آنسو لیے صرف یہ سوچ رہا ہوں دنیا کی تاریخ میں کمزور ترین ملکوں نے بھی اپنے سے محبت کرنے والوں کو ایسے فراموش نہیں کیا ہو گا جیسے ہم نے کیا ہے۔ شاید ہی کوئی آنکھ اشکبار ہو‘ شاید ہی کسی کو احساس ہو کہ جو قومیں اپنے عشاق سے یہ سلوک کرتی ہیں ان کے گھروں میں بھی ان سے محبت کرنے والے پیدا ہونے ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ محبت کے معاملے میں بانجھ ہو جاتی ہیں۔

    اوریا مقبول جان



    0 0

    Talks aimed at kickstarting negotiations for a final peace settlement in Afghanistan have begun in Pakistan. Monday's meeting - will also include the governments of the US and China - could revive a process that collapsed last summer after Afghanistan announced that Mullah Mohammad Omar, founder and leader of the Taliban, had died in a Pakistani hospital more than two years ago.
    The announcement led the Taliban to pull out of the talks after just one meeting hosted by Islamabad.
    Infighting within the Taliban: Ever since the appointment of new leader Mullah Akhtar Mohammad Mansour, there have been divisions, and it is unclear who would represent the group if talks went forward. The rise of ISIL in eastern Afghanistan: The armed group has been fighting the Taliban.
    Lack of trust and confidence between Pakistan and Afghanistan: There is hope that with the involvement of the US and China, this could be mended. Javid Faisal, deputy spokesman for Afghan Chief Executive Abdullah Abdullah, said that Pakistan would present a list of Taliban members who are and are not willing to participate in talks with Kabul on ending the 15-year war. 

    The Taliban has stepped up attacks since the United States and NATO formally ended their combat mission in Afghanistan a year ago, and the fighters are battling local Afghan security forces on several fronts. The group is expected to keep up the fight even if peace talks get off the ground in order to secure territory and improve their leverage in the negotiations.










    0 0

       جنگ پلاسی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو نپے تلے منصوبہ کے تحت کچلنا شروع کیا اور 1857ء میں مسلمانوں کی جنگ ِآزادی تک یہ عمل جاری رہا۔ آزادی کی یہ جنگ اس طبقہ کے حق میں تباہ کن ثابت ہوئی ،جو اپنے ماضی کی شان و شوکت کو اب تک یاد کر رہا تھا اور بدلے ہوئے حالات کے ساتھ مفاہمت پیدا کرنے میں نا کام رہا تھا۔

     پنجاب کے مسلمان پہلے ہی نجیت سنگھ اور اس کے یورپی جرنیلوں کے جوتے تلے کراہ رہے تھے۔ ان میں سے پشاور میں متعین اطالوی جنرل اداٹیبائل صبح کے ناشتے اور ملاقاتیوں سے ملنے سے پہلے اپنی کوٹھی کے پورچ سے باہر چھ پٹھانوں کو پھانسی دیتا تھا۔ اگر انگریز نہ آتے تو رنجیت سنگھ کے یہ پانچوں جرنیل کابل، سندھ اور بلوچستان کو بھی فتح کر چکے ہوتے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ انگریزوں کی آمد نے شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بچا لیا۔ 

    (چشم دید از فیروز خان نون) 




     


    0 0

    An overcrowded train leaves Dhaka airport rail station after the final prayer of "Bishwa Ijtema", the world congregation of Muslims, on the banks of the Turag river in Tongi near Dhaka, Bangladesh.

    0 0


    0 0


    0 0

    گذشتہ سال تھر میں قحط سالی اور طبی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سینکڑوں بچوں کی ہلاکتوں کے بعد نئے سال کے ابتداء میں ایک مرتبہ پھر ہلاکتوں میں اضافہ ہوگیا اور رواں سال کے ابتدائی 6 روز کے دوران 15 کمسن بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور یہ ہلاکتیں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ جس میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن افسوس حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی حکومتی توجہ اس جانب نہیں۔

    حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بلند و بانگ دعوے کرکے ان علاقوں سے ووٹ لینے والے بھی ان معصوم بچوں کی ہلاکتوں سے قطعی پریشان نظر نہیں آتے۔ ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی تھر میں ہلاکتوں پر حالات کا جائزہ لینے کے لئے حکومت سندھ کی جانب سے 2 رکنی کمیٹی بنادی گئی ہے۔ لیکن حالات اس قدر سنگین ہوتے جارہے ہیں کہ اب کسی کمیٹی کی نہیں بلکہ فوری طور پرعملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جس میں متاثرہ علاقوں میں پینے کا صاف پانی، ادویات، خوراک اور وسیع پیمانے پر طبی ٹیمیں بھیجی جائیں اور یہ سلسلہ مستقل بنیاد پر کیا جائے۔ تھرپارکر اور قرب و جوار میں واقع علاقوں میں قائم اسپتالوں کو فوری طور پر ادویات فراہم کی جائیں اور ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
    ڈبلیو ایچ او نے اپنی جائزہ رپورٹ میں کہا ہے کہ تھر میں قریبی صحت مرکز تک پہنچنے کے لیے 1 ہزار سے 4 ہزار روپے درکار ہوتے ہیں اور یہ سفر 2 سے 4 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر بچے صحت مرکز پہنچنے سے پہلے ہی ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقل بنیادوں پر صحت مراکز کے طرز پر طبی کیمپ لگائے جائیں۔ متاثرہ علاقوں میں ایمبولینس سروس کو فعال کیا جائے جو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں دستیاب ہو۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ لوگ اسپتالوں تک نہیں آتے، جس کی وجہ سے وہ صحت کی سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ لیکن کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی گئی کہ لوگ اسپتالوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتے؟ دراصل غربت کے مارے ان لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ایمبولینس نہ ہونے کی صورت میں ٹیکسی پر سفر کرسکیں۔ کیوںکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور ایمبولنس کے فقدان کی وجہ سے لوگ حالتِ مجبوری ایمرجنسی میں ٹیکسی پر ہی سفر کرتے ہیں۔ 
    حقیقت یہ ہے کہ تھرپارکر کے متاثرہ علاقوں میں شعبہِ صحت تباہ حالی کا شکار ہے اور حکومتی لاپرواہی اسے مزید تباہی سے دوچار کررہی ہے۔ اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کی شدید قلت ہے۔ جہاں ڈاکٹروں کی 25 اسامیاں ہیں وہاں ایک ڈاکٹر کام کررہا ہے۔ اب یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ ایک ڈاکٹر 24 گھنٹے ڈیوٹی نہیں دے سکتا بس اِسی وجہ سے جب بھی مریضوں کو ایمرجنسی میں اسپتال لایا جاتا ہے تو اکثر کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا اور طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات اچانک نہیں شروع ہوئے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ سے جاری ہے۔ ہاں اس میں شدت اچانک آجاتی ہے لیکن اس کے باوجود کسی بھی جانب سے کوئی خاطر خواہ عملی کام نہیں کیا جارہا ہے۔ تمام حکومتی اداروں، فلاحی اداروں اور تمام صاحبِ حیثیت افراد سے اپیل ہے کہ وہ اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور خدارا! ان معصوم بچوں کی زندگیوں کو بچائیں۔

    محمد ارشد قریشی


    0 0

    ملک بھر میں مزدوری کی بدترین اور شرمناک صورت ہمیں اینٹوں کے بھٹوں پر دکھائی دیتی ہے جہاں والدین اور بہن بھائیوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک پورا گھر مزدوری کرتا ہے ان کے بڑے عموماً بکے ہوئے ہوتے ہیں وہ یوں کہ انھیں بھٹے کا مالک کچھ رقم ادھار دے دیتا ہے اور جب تک یہ قرض ادا نہیں ہوتا وہ اس کے بھٹے پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

    مقامی اصطلاح میں ان مقروضوں کو قرضدار نہیں بکا ہوا کہا جاتا ہے عموماً یہ مزدور اپنا قرض ادا نہیں کر پاتے اور زندگی بھر ’بکے‘ رہتے ہیں اگر کوئی بھاگتا ہے تو وہ پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے کیونکہ ایک اشٹام کے ذریعے وہ ادائیگی قرض تک قیدی بن کر رہتا ہے۔ کسی زمانے میں جب غلام ہوتے تھے تو وہ بکا کرتے تھے اور ان کا خریدار ان کا مالک ہوتا تھا۔
    آج اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے اکثر اسی غلامی کی زندگی بسر کرتے ہیں اور اسی میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن ان کے بچے جو ان کے ساتھ کام کرتے ہیں دیکھنے میں تو ہر کوئی دل ہی دل میں ان پر افسوس کرتا ہے مگر عملاً کوئی کچھ نہیں کرتا۔ جب پاکستان بنا تھا تو یہ بچے اس وقت بھی کسی بھٹے پر غلامی بسر کر رہے تھے اور اب جب پاکستان ایک ایٹمی ملک تک بن گیا ہے تب بھی یہ بچے کسی بھٹے پر غلامی کر رہے ہیں اور ان کی یہ زندگی بہت مشہور ہے ہر کوئی اس پر دکھ کرتا ہے۔

    ان بچوں کو ہر حکمران نے دیکھا ہے لیکن کسی نے ان کے لیے کیا کچھ نہیں، تعجب ہوا یہ سن کر کہ ایک صوبے کے حکمران نے ان بچوں کو زندہ رکھنے بلکہ کار آمد زندگی دینے کی سعی کی ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا انقلاب ہے جو یوں تو صرف ایک صوبے کے باشندوں کے ایک گروہ کی زندگی میں برپا ہوا ہے لیکن حیرت انگیز ہے اور قابل رشک۔ یہ انقلاب صاحب حیثیت لوگوں کے گناہوں کا کفارہ بھی بن سکتا ہے لیکن وہ صرف اس صوبے کے وزیراعلیٰ کو زبانی کلامی داد دینے تک محدود رہیں گے اور اسی کو اپنا کفارہ سمجھ لیں گے۔ اب مختصراً ان انقلابی مراعات پر ایک نگاہ ڈال لیجیے۔
    پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے اپنے صوبے میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے لیے ایک خصوصی پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ان بچوں کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام کیا جائے گا اسکول جانے والے ہر بچے کو سو فی صد تعلیمی اخراجات کے علاوہ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ ملے گا۔

    کسی بچے کے اسکول داخلے پر اس کے والدین کو دو ہزار روپے سالانہ وظیفہ بچوں اور والدین کو علاج کی مفت سہولتیں علاوہ ازیں بچوں کے لیے مفت کتابیں اسٹیشنری یونیفارم جوتے اور اسکول بیگ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ بھٹوں سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا آرڈی ننس بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں سے مزدوری کرانے والے بھٹہ مالکان کو چھ ماہ تک قید کی سزا ہو گی۔
    خلاف ورزی کرنے پر بھٹہ مالک کا سمری ٹرائیل ہو گا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا اور ساتھ ہی بھٹہ بھی سیل کر دیا جائے گا۔ یہ ضلع کے ڈی سی او اور ڈی پی او باقاعدہ چیکنگ کریں گے اور اس کی رپورٹ دیا کریں گے۔ دور دراز جانے والے بچوں کے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی حکومت ادا کرے گی۔ چائلڈ لیبر کی چیکنگ کے لیے ضلع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

    ان معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعلیٰ ان بچوں کو مزدوری اور وہ بھی اینٹوں کے بھٹے کی مکروہ مزدوری کی خرابیوں سے نجات دلانے میں بہت سنجیدہ ہیں اور اس کے لیے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں کسی مسلمان ملک کی حکمرانی کو انتہائی ذمے داری کا عہدہ قرار دیا گیا ہے جس کے بارے میں یہان تک کہا گیا کہ کسی کو مسلمان ملک کا حکمران بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے گویا کُند چھری سے ذبح کردیا گیا ہے، میاں شہباز شریف بھی محاورتاً کُند چھری سے ذبح کیے گئے ہیں اور جب تک وہ اس منصب پر فائز رہیں گے وہ اسی ’’خونریز‘‘ کیفیت سے گزرتے رہیں گے۔

    خدا کا شکر ہے کہ وہ اپنی ذمے داری کا احساس رکھتے ہیں اور اس بگڑی ہوئی انتظامیہ سے اس کے تصور سے بڑھ کر کام لینا چاہتے ہیں۔ اگر میاں صاحب اپنے موقف اور احساس ذمے داری پر قائم رہے اور انھوں نے اپنے ماتحتوں پر ثابت کر دیا کہ وہ سنجیدہ ہیں تو ان سے زیادہ کون جانتا ہے کہ ہمارے ہاں حکم حاکم کی کتنی اہمیت ہوتی ہے جن لوگوں نے انگریز کا دور دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہی لوگ کس قدر محنتی اور دیانت دار ہوتے تھے کرپشن کی ہمت اور جرات نہیں ہوتی تھی اور کام کو ٹالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا یہ سب اس لیے تھا کہ انگریز جو اپنی عزت کے لیے دیانت اور محنت سے کام لیتا تھا دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتا تھا چنانچہ وہ دیانت و امانت کا زمانہ تھا۔

    آزادی کے بعد جب مقامی حکمران آئے تو وہ اپنے پیشرو انگریزوں کی طرح سخت گیر نہیں تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رفتہ رفتہ انتظامیہ ڈھیلی پڑتی گئی اور پرانی خرابیاں جو خواب بن گئی تھیں جاگ اٹھیں اور آج حالت یہ ہے کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن رشوت ستانی اور کام چوری ہے۔

    بات صاف ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بہتری اوپر سے آتی ہے نیچے سے اوپر نہیں جاتی ،اوپر بیٹھا صوبے کا وزیراعلیٰ چاہے گا اور وہ سنجیدہ ہو گا تو بھٹوں پر مزدوری کرنے والے پاکستانی بچے اس عذاب سے چھوٹ جائیں گے اور دوسرے بچوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ہر پاکستانی بچے کو ایک معقول زندگی کے اسباب فراہم کریں اور یہ وسائل اور موقع ان بچوں کے غریب والدین فراہم نہیں کر سکتے یہ کام حکومت کا ہے اور خوشحال پاکستانیوں کا ہے۔

    میاں صاحب نے جس جذبے سے کام شروع کیا ہے پورا صوبہ ان کے ساتھ ہے دعا گو ہے اور ان کی کامیابیوں کا منتظر ہے کیونکہ وہ ان کے ارادوں اور فیصلوں کو حیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔

    عبدالقادر حسن


    0 0



    0 0




    0 0


    0 0

    امریکی صدر بارک حسین اوباما نے اپنے دورِ صدارت کے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس کے روبرو بہت سے باتیں کہیں۔ ان میں یہ بات بھی تھی کہ 
    اگلے کئی برس تک مشرقِ وسطی، افغانستان، پاکستان اور وسطی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے متعدد خطے عدم استحکام سے دوچار رہیں گے۔ کچھ خطے نئے دھشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ بنیں گے، کئی علاقے نسلی بحران کی لپیٹ میں آئیں گے یا پھر قحط سالی  اور پناہ گزینوں کی نئی لہر کا سامنا کریں گے‘‘۔

    اوباما کی اس خبرداری کا مقصد یہ تھا کہ امریکی کانگریس آنے والے برسوں میں ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے  دامے درمے قدمے آنکھیں،  کان  اور دل و دماغ کھلے رکھے۔

    اوباما کے اس خطاب پر پاکستانی مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز نے یہ تبصرہ کیا کہ  امریکی صدر نے افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام کے تسلسل کے بارے میں جو کہا ہے دراصل وہ پیش گوئیاں ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان انتہا پسندی اور دھشت گردی کے خلاف جو اقدامات کر رہا ہے ان کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں مزید استحکام آئے گا۔ جہاں تک افغانستان کا معاملہ ہے وہاں کچھ عدم استحکام ضرور ہے البتہ پاکستان افغانستان میں قیامِ امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشاں ہے‘‘۔

    سرتاج عزیز نے یہ تبصرہ چینی اسکالرز، سفارت کاروں اور صحافیوں سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ میں یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ چینیوں نے سرتاج عزیز کی بات سنجیدگی سے سنی ہو گی کہ زیرِلب مسکراتے ہوئے۔ البتہ یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ سرتاج عزیز نے عامل بابا اوباما  کی تمام پیش گوئیوں میں سے اپنی مرضی کی ایک پیشگوئی اٹھا کر اسے زمینی حقائق کے برعکس قرار دے ڈالا۔
    ایک ہاتھی کو چار نابینا ٹٹول رہے تھے۔ ایک کا ہاتھ سونڈ پے پڑ گیا تو وہ چیخا ہاتھی لمبا اور لچکدار ہوتا ہے اور اس میں ہڈی نہیں ہوتی۔ دوسرے نے پاؤں ٹٹولتے ہوئے کہا ہاتھی گول ہوتا ہے اور اتنا بھی ہاتھی نہیں ہوتا جتنا بتایا جاتا ہے۔ تیسرے کا ہاتھ  پیٹ پر پڑا اور وہ بول پڑا کہ تم دونوں غلط کہہ رہے ہو۔ ہاتھی نہ لمبا ہوتا ہے نہ گول بلکہ گوشت کی دیوار جیسا ہوتا ہے۔

    چوتھا نابینا جو ہاتھی کے پیچھے کھڑا تھا اس کے چہرے پر پٹاخ سے ہاتھی کی چھوٹی سی دم کوڑے کی طرح پڑی اور وہ گرتے گرتے چلایا ہاتھی نیولے کے سائز کا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ تیز جانور میں نے آج تک نہیں محسوس کیا۔ چاروں نابینا اپنی اپنی جگہ جزوی طور پر درست تھے مگر کیا چاروں کلی طور پر بھی درست تھے؟

    یہ کرہِ ارض بھی ہاتھی جیسا ہے۔ جو جس بلندی، سمت اور فاصلے سے جتنا بھی گلوب دیکھ رہا ہے اسے وہ ویسا ہی نظر آ رہا ہے۔ مگر آپ کا جو بھی نظریہ یا نظر ہو اس سے ہاتھی یا گلوب کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟
    اگر ترقی پذیر دنیا میں آنے والے عشروں میں عدم استحکام برقرار رہنے کی اوبامی پیش گوئیاں زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتیں تو نہ کھائیں۔ مگر سرتاج عزیز کو اپنے خطے میں ایسی کیا امیدیں دکھائی دے رہی ہیں جو اوباما  کی نگاہوں سے اوجھل رہ گئیں؟

    تو کیا اگلے دس سے پندرہ برس کے دوران افغانستان میں کوئی ایسی مرکزی حکومت قائم ہو جائے گی جسے اہم افغان نسلی گروہوں کے ساتھ ساتھ ایران، پاکستان، روس، چین اور بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کا اعتماد حاصل ہو جائے اور افغانستان شطرنج کی خونی بساط کے بجائے واقعی ایک پرامن و ترقی کی جانب گامزن ایک نارمل ملک کی طرح بحال ہو جائے اور اس میں کم از کم اتنا استحکام ضرور آ جائے جتنا ظاہر شاہ کے دور تک تھا؟

    تو کیا پاکستانی ریاست اگلے ایک دو عشروں میں تمام مسلح نان اسٹیٹ ایکٹرز کے چنگل سے اپنی رٹ چھڑوانے اور ان ایکٹرز کو بلا امتیاز اوقات میں لانے میں  کامیاب ہو جائے گی؟ اس کام کے لیے جو اجزائے ترکیبی درکار ہیں ان میں گڈ گورننس، بیرونی امور میں عدم مداخلت، مقتدر اداروں کا خارجہ و داخلہ کلیدی نکات پر یک رخہ و ہم آہنگ ہونے کی ضرورت، ہمسائہ ممالک سے اہم سرحدی امور و تنازعات میں پیش رفت، خود انحصاری کو سہارا دینے والے مالیاتی نظام کے بلا امتیاز نفاز کی ضرورت، وفاقی یونٹوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور احساسِ محرومی کو قابلِ برداشت حد میں لانے اور پاکستانی سماج میں مذہبی، سیاسی، علاقائی اور نسلی ہم آہنگی، برداشت اور روشن خیالی کے فروغ جیسے بنیادی اقدامات شامل ہیں۔

    ہو سکتا ہے اس خطے میں نمود پذیر سنہرا استحکامی دور بارہ ہزار کلومیٹر پرے بیٹھے اوباما یا مجھ جیسے ٹچے تجزیہ بازوں کو ٹپائی نہ دے رہا ہو وہ سرتاج عزیز کو صاف صاف نظر آ رہا ہو۔ لہذا اب یہ راز شیئر کرنا ان کی ذمے داری ہے کہ وہ کیا اقدامات ہیں جو استحکام کی پائپ لائن میں ہیں اور یہ اقدامات اگر افغانستان کو نہیں تو کم از کم پاکستان کو ضرور اتنا پرامن ملک بنا دیں گے جتنا امن ضیا حکومت سے پہلے تک نصیب تھا۔

    بھلا کون سا پاکستانی ہو گا جو بارک اوباما کی پیش گوئی کو غلط نہ دیکھنا چاہے۔ لیکن صرف یہ کہہ دینے سے تو کام نہیں چلتا کہ اوباما کا تجزیہ زمینی حقائق سے لگا نہیں کھاتا۔ اگر اوباما  کی مایوسی بے جواز ہے تو سرتاج عزیز کی خوش خیالی کن ستونوں پر کھڑی ہے؟

    ویتنام کی سخت جانی کے بارے میں برخود غلط ہونے کے باوجود، مسئلہ فلسطین کے حل کی بابت منہ چڑھی اسرائیلی ڈومنی سے بار بار بے عزت ہونے کے باوجود، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد دنیا پر بلا شرکتِ غیرے حکمرانی کا نشہ ٹوٹنے کے باوجود اور القاعدہ و دولتِ اسلامیہ جیسے نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں دھول دھپے کے نتیجے میں اپنے عالمی دبدبے کو تار تار دیکھنے  کے باوجود امریکا کو آج بھی ایک بڑی طاقت ہونے کے سبب یہ عیاشی میسر ہے کہ وہ اپنے غلط اندازوں کے نتائج بطور ریاست سہ سکے۔

    لیکن کیا پاکستان جیسے ممالک اپنے اسٹرٹیجک منصوبے، علاقائی تجزیے اور خوش فہم توقعات غلط ثابت ہونا افورڈ  کر پائیں گے؟ غالباً یہی وہ سوالات ہیں جو اوباما کے آخری اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ظاہر ہونے والے خدشات کی بنیاد ہیں۔۔۔

    کاش سب اچھا کہنے سے سب اچھا ہو بھی جاتا۔ کاش ہاتھی اتنا ہی ہو جتنا مجھے محسوس ہوتا ہے۔۔

    وسعت اللہ خان


    0 0

    ایران میں سعودی سفارتخانوں پر ہونے والے حملوں پر عالمی برادری کی مذمت ایک فطری امر تھا کیونکہ یہ حملے ایران میں مزعومہ اسلامی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی یاد دلاتے ہیں جس میں امریکی سفارتی عملہ ۴۴۴ دن تک یرغمال رہا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی کیونکہ سفارتی مشنوں کی حفاظت کا اصول قطعی حیثیت رکھتا ہے۔

    در اصل سیکرٹری جنرل بان کی مون نے یہ غلطی کی کہ مذمتی بیان میں پہلے ان کا زور سعودی عرب میں۴۷ دہشت گردوں اور باغیوں کی پھانسی پر تھا جن میں ۴۴ سنًی اور تین شیعہ شامل تھے، پھر انہوں نے سرسری طور پر سعودی سفارتی مشنوں پر حملوں کا ذکر کیا، ایسے لگا جیسے وہ غیر ارادی طور پر ان حملوں کا جواز فراہم کر رہے ہوں۔

    مداخلت

    عالمی برادری کی اکثریت سزائے موت کی منطق کو مسترد کرتی ہے، سوائے امریکہ کے۔ تاہم یہ سعودی عرب کا حق ہے کہ وہ اس معاملے پر اقوام متحدہ کے موقف کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت سمجھ سکتا ہے، اور سیکرٹری جنرل کا یہ حق ہے کہ وہ سزائے موت کی عمومی طور پر مخالفت کر سکتے ہیں۔ ریاض کی جانب سے عالمی برادری کے رویہ کے دوغلے پن کی شکایت بجا ہے کہ جس نے ایران میں ایک ہزار سے زیادہ سیاسی مخالفین کو پھانسی دینے پر اس شدومد سے مذمت نہیں کی جس طرح سعودی پھانسیوں پر کی گئی۔ کوئی بھی دار الحکومت ایک ہی وقت میں ۴۷ پھانسیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتا خواہ اس کی کوئی وجہ بھی ہو، اور اس کی ٹائمنگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔

    ریاض نے تہران سے سفارتی تعلقات توڑ لیے ہیں جس کا مقصد سعودی سفارتی مشنوں پر حملوں کو ایران کی مبینہ سرکاری حمایت پر احتجاج اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے بیانات کی مذمت کرنا تھا جس میں انہوں نےسفارتخانے جلانے کو شیعہ لیڈر نمر النمر کی پھانسی کا ‘آسمانی عذاب’ قرار دیا تھا حالانکہ وہ تشدد اور دہشت گردی پر اکسانے کے لیے مشہور تھا۔ سوال یہ ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ سعودی رد عمل کن حدوں تک جائے گا؟

    سعودی۔ایرانی محاذ آرائی نے دنیا بھر کے دارالحکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس سے شام، یمن، عراق اور لبنان میں ان کے درمیان مزید پراکسی جنگوں اور اقوام متحدہ کی جانب سے شام اور یمن میں قیام امن کی سفارتی کوششوں کی ناکامی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ تاہم اس مرتبہ تشویش کا رخ پراکسی جنگوں سے زیادہ سعودی عرب کے داخلی معاملات میں ایرانی مداخلت، بالخصوص بحرین سے متصل مشرقی سعودی صوبے میں ایرانی مداخلت کے خدوخال اور ممکنہ نتائج پر رہا۔ بحرین میں بھی ایرانی مداخلت اب تخریب کاری، بغاوت، اور لبنانی حزب اللہ اور دیگر ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ذریعے دہشت گردی کے خفیہ سیل قائم کرنے کا روپ دھار چکی ہے۔

    ثالثی کے لئے روس، ترکی، عراق اور اومان کی جانب سے کئی بار پیشکش کی جاچکی ہیں، لیکن امریکہ نے اب تک ایسی کوئی پیشکش نہیں کی حالانکہ اب واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب رابطے بحال ہوچکے ہیں۔ حتیٰ کہ وزیر خارجہ جان کیری نے ریاض رابطہ کرنے سے پہلے تہران رابطہ کیا جو کہ دیرینہ امریکہ۔سعودی اتحاد کے پیش نظر ایک عجیب سفارتی حرکت تھی۔

    ایران کے عزائم

    ثالثی کے لئے ہر موقع کو استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ عملی مقاصد اور مخصوص اہداف کے بغیر کھلی دشمنی کا کوئی فائدہ نہیں۔ ریاض نے تہران کو واضح پیغام دے دیا ہے اور یہ اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد دنیا کی ان کوششوں کو ناکام بنانا ہے جن کے تحت ایران کو امن کا نمائندہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ حالانکہ ایران، شام کی جنگ میں ایک کھلا فریق ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں ملیشیا بھرتی کر کے اور اپنے مشیر بھی بھیج رہا ہے، جس پر عالمی برادری چشم پوشی کر رہی ہے۔

    سعودی سفارتی مشنوں پر ایران کے دانستہ حملوں سے اس کے عزائم واضح ہو چکے ہیں۔ تاہم ایسے میں جب امریکہ، ایران کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھا رہا ہے اور ایٹمی معاہدے کے نام پر اس کی اشک شوئی اور تلافی کر رہا ہے، عالمی برادری کی یادداشت بہت کمزور ہوگئی ہے۔

    عملیت پسندی کا تقاضہ ہے جذبات اور غصے کے بجائے ہوش مندی سے کام لیا جائے۔ سعودی عرب نے شام کے لئے اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا کا استقبال کر کے عقلمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کو ریاض بان کی مون کے موقف کی وجہ سے اقوام متحدہ کا بائیکاٹ نہیں کرے گا اور ویانا مذاکرات میں شرکت کرتا رہے گا۔ اس سے سعودی سفارتکاری کی دانشمندی اور دانائی کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

    عملیت پسندی کا تقاضہ ہے کہ جنگوں اور ان کے مقاصد کا چناؤ سوچ سمجھ کر کیا جائے تاکہ ایک وقت میں کئی محازوں پر اور ایک حد سے ذیادو لڑائی نہ کی جائے مبادا وہ فوجی اور معاشی طور پر دیوالیہ پن تک نہ پہنچادے۔ اس کا تقاضہ ہے کہ ترجیحات، ہار جیت اور ان کے اثرات کا دانشمندی سے تعین کیا جائے۔
    ۱۹۷۹ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے بعد سے ایران اپنے انقلاب کو دوسرے اسلامی ممالک کو برآمد کرنے کی حکمت عملی پر سختی سے کاربند رہا ہے۔ تہران نے اپنے لئے یہ جنگ منتخب کر لی ہے۔

     آج ایران اور روس ایک مضبوط اتحاد کو صورت میں شام میں موجود ہیں جس کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی کمزوریاں ہیں۔ روس۔ایران۔حزب اللہ کا محور جسے چین کی آشیر باد حاصل ہے، بشار الاسد کے اقتدار کی بقا کا ضا من ہے، اور بدلے میں ان ممالک کو شام اور مشرق وسطی میں ایک طویل عرصہ تک اثرورسوخ کی ضمانت ملتی ہے۔

    دوسری جانب ایران، امریکہ کے معاشقہ پر پورا اعتماد کرتا ہے اور محبوب کی انگوٹھی کی طرح اس کی نمائش بھی کرتا ہے۔ جارج بش نے ایران کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر عراق پیش کیا تھا اور باراک اوباما نے شام میں اپنی ناکامی ایران کو تحفے میں دی ہے۔ ان دونوں امریکی صدور نے ایران کو ایک طاقتور علاقائی لیڈر بنا دیا ہے۔ دونوں ہی ایران کے دہشت گرد حملوں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزیوں اور انقلاب برآمد کرنے کی غرض سے عرب ممالک می مداخلت سے چشم پوشی کرتے رہے۔

    عملیت پسندی کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ عرب اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے ماضی کے مضبوط تعلقات میں بگاڑ اور اس کی وجوہات اور اثرات کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے، اور اس کا بھی جائزہ لیا جائے کہ واشنگٹن اب عرب اتحادیوں کی جگہ ایرانی اتحادیوں کو دینے پر کیوں آمادہ ہے؟

    سچ تو یہ ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ واشنگٹن، شام میں روس، ایران اور حزب اللہ کی کامیابی پر خوش ہوگا۔ اس پر بھی غور کیا جائے کہ اسرائیل پھر بشار الاسد کے اقتدار کی حمایت کر رہا ہےاور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات اگر شام میں سنًیوں کے خلاف جنگ میں کھلے تعاون پر مبنی نہیں ہیں تو کم از کم اس کی خوشنودی حاصل کرنا اس کی ترجیح ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ نائن الیون حملوں کی قیمت عربوں کو چکانا پڑ رہی ہے اور اب عربوں کا تیل امریکہ کی ضرورت نہیں رہا ہے۔

    داخلی سلامتی

    تمام خلیجی ریاستوں کی داخلی سلامتی اولین اور قطعی ترجیح ہونی چاہئے۔ اس کے لئےسرخ لکیروں کا تعین ضروری ہے تاکہ پیش قدمی کرنے، معاملات سے باہرنکلنے اور مخالفین کی قوت کا اندازہ لگانے حکمت عملی طے کی جاسکے۔ خلیج تعاون کونسل کے متفقہ معاہدے کا موضوع سعودی قومی سلامتی ہے۔ اگر روس یا سلطنت آف اومان، سعودی عرب اور ایران میں ثالث بننے کی پیشکش کرتے ہیں تو ان سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ایران سے پختہ عہد لیں کہ وہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے اور بحرین میں مداخلت اور بغاوت کی سازش بند کردے گا اور اس پر امریکی ضمانت بھی لی جائے۔ یہ ایک لازمی ترجیح ہے جسے خلیج تعاون کونسل نے اپنے لئے جنگ کے طور پر چننا ہے۔

    دوسری جنگ یمن ہے جو سعودی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ ایران نے یمن میں سعودی عرب کے خلاف پراکسی جنگ کا چناو کیا ہے تاکہ اسے سعودیہ کا ویت نام بنا سکے۔ دوسری طرف ایران نے امریکی حمایت سے کی جانے والی روسی مداخلت کے باعث شام کو اب تک اپنے لئے ویت نام بننے نہیں دیا ہے۔

    جس طرح روس شام میں ایران کے لئے کر رہا ہے اس طرز کی کوئی اتحادی کارروائی سعودی عرب کو یمن میں میسّر نہیں ہے اس لئے یمن سے باہر نکلنے حکمت عملی تلاش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ یمن کے لئے مقصد اقوام متحدہ کے ایلچی ولد شیخ احمد کی سفارتی کوششوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    شام ایک ایسی جنگ ہے جو بد قسمتی سے جیتی نہیں جاسکتی۔ عالمی برادری نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسی حکومت سے نہیں لڑے گی جو اپنے عوام کا قتل عام کر رہی ہے بلکہ وہ داعش سے لڑنا چاہتی ہے خواہ اس کے لئے ‘شیطان’ سے اتحاد کرنا پڑے۔ شام عالمی ضمیر پرہمیشہ ایک بد نما داغ کی طرح رہے گا، ایک ایسے زخم کی طرح جو کسی فتح کا جشن نہیں منانے دے گا۔

    عملیت پسندی کا تقاضہ ہے کہ جنگ کا انتخاب کے ساتھ نقصانات کا اندازہ بھی لگایا جائے۔ عملیت پسندی یہ بھی سکھاتی ہے کہ کوئی چیز ہمیشہ باقی نہیں رہتی اور آج کا نقصان آنے والے کل کی سرمایہ کاری بھی بن سکتا ہے اگر جذبات کے بجائے دانائی سےکام لیا جائے۔

    ایران کا اسلامی انقلاب ایرانی ملّاؤں کے لئے کامیابیاں لایا ہے مگر اس سے ایران کو چار دہائیوں تک عالمی تنہائی اور اس کے ساتھ ساتھ ترقی اور خوشحالی سے محروم رہنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ یہ کوئی فتح نہیں ہے۔ اس کے برعکس خلیجی ممالک نے چار دہائیوں میں ترقی کی اور حیرت انگیز شہر بسائے ہیں، اگرچہ آزادیوں پر کچھ قدغنیں رہی ہیں۔

    آخر میں، تاریخ امریکی اتحادی حکومت کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتی۔ امریکی حکومتیں دوستی اور وفا کے لئے نہیں جانی جاتٰیں بلکہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کو دغا دینے اور ترک کر دینے کے لئے بدنام ہے۔ سعودی۔ایران تعلقات میں جذباتی اور انتقامی رد عمل سے ہر صورت گریز کرنا چاہئے۔

    راغدہ درغام


    0 0

    آج سے ٹھیک اکتیس سال اور تین ماہ قبل اٹھارہ اکتوبر 1984ء کو سول سروس کے ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ (ڈی ایم جی) کے فرد کی حیثیت سے میں سول سروسز اکیڈمی میں داخل ہوا اور آج ساٹھ سال کی عمر کو پہنچنے پر میں بیورو کریسی کے خوشنما اور دلفریب شکنجے سے آزاد ہوا ہوں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر جس نے غرور و نخوت، لالچ و حرص، نشۂ حکمرانی، خوشامد و چاپلوسی، فریب، منافقت اور اس جیسے کئی خوفناک مگر مچھوں کے درمیان اس پرآشوب دریا کو عبور کرنے کی ہمت، طاقت اور استطاعت عطا کی۔

    اگر اس اللہ کی نصرت میرے شامل حال نہ ہوتی تو میں شاید واپس مڑ کر اس دریا کو حسرت و یاس سے دیکھ رہا ہوتا، چند سال اس میں اور رہنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتا، عمر گزرنے کا تأسف چہرے پر چھایا ہوتا، دل ملول ہوتا، لیکن کس قدر کرم ہے اس مالک ارض و سما کا کہ آج میرے دل کے کسی چھوٹے سے کونے میں بھی اس سروس میں مزید وقت گزارنے کی خواہش موجود نہیں اور نہ ہی اس سے وابستگی کو اپنے لیے افتخار کی تمنا موجود ہے۔ سب میرے اللہ کی عطا اور توفیق ہے۔ بے شک وہ بہت مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔

    سول سروسز اکیڈمی کا پہلا دن بہت عجیب ہوتا ہے۔ ہر کوئی آنے والے عرصۂ اقتدار کے نشے میں مست ہوتا ہے۔ وہ جس علاقے، بستی، خاندان یا قبیلے سے بھی آیا ہو، امتحان کی کامیابی سے لے کر اکیڈمی میں داخلے تک لوگوں کے رویے نے اس میں فرعونیت کے آثار تھوڑے بہت ضرور پیدا کردیئے ہوتے ہیں۔ ادھر اکیڈمی اور اکیڈمی میں آنے والے ’’قدیم‘‘ اور ’’عظیم‘‘ بیورو کریٹ جو سول سروس کی گزشتہ دو سو سالہ اقتدار اختیار کی دنیا کے قصہ گو ہوتے ہیں، وہ زوال کا نوحہ بھی گاتے ہیں اور ماضی کی طرف لوٹ جانے کے خواب بھی دکھاتے ہیں۔
    وہ سارا زمانہ یوں لگتا ہے جیسے اکیڈمی میں آنے والے یہ افراد یونان کی شہری ریاستوں کے وہ شہزادے ہیں جنھیں اصول جہانبانی سکھانے کے لیے دیگر ریاستی درباروں میں بھیجا جاتا تھا۔ ڈی ایم جی والوں کے لیے گھڑ سواری لازمی تھی۔ اس کی کیا ضرورت، لیکن کمال ہے ان کا جنہوں نے 1773ء سے سیکھا ہوا سبق آج بھی یاد رکھا ہوا ہے، بتایا گیا کہ یہ گھڑ سواری ایک تربیت ہے، یہ بتانے کے لیے کہ ایک منہ زور طاقت ور چیز پر کیسے قابو پایا جاتا ہے اور پھر وہ کس طرح ایڑی کے ہلکے سے اشارے سے سرپٹ بھاگنے لگتا ہے اور لگام کو ہلکا سا کھینچنے سے فوراً رک جاتا ہے۔

    یہ سب آپ کو سمجھانے کے لیے ہے۔ آپ میں یہ حوصلہ پیدا کرنے کے لیے ہے کہ عوام کے منہ زور گھوڑے کو کیسے کنٹرول کرنا ہے۔ کون تھا جو وہاں لیکچر دینے آتا اور اس کی یادوں میں یہ فقرہ نہ گونجتا ’’میں جب ڈپٹی کمشنر تھا‘‘ انگریز کے بتائے ہوئے اس ’’منی وائسرائے‘‘ کی طاقت کا نشہ ان بیچاروں کو ساری زندگی چڑھا رہتا ہے۔ بیورو کریسی ایک ایسا طبقہ جس سے لوگ نفرت بھی کرتے ہیں لیکن اسی گروہ میں خود بھی شامل ہونے کی آرزو کرتے ہیں اور اپنی اولادوں میں بھی یہ مستقبل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی طاقت سے خوفزدہ بھی ہوتے ہیں اور اس کی شان و شوکت سے مرعوب بھی۔

    لیکن کس قدر مقام شکر و سجدہ ریزی ہے کہ اس کا کرم میرے ساتھ ایسے شامل حال رہا کہ ایک دن کے لیے بھی نہ اس کی شان و شوکت مجھے بھلی لگی اور نہ ہی اس طاقت پر فخر کرنا نصیب ہوا۔ اکیڈمی ختم ہوئی تو میری تعیناتی صوبہ سندھ میں کر دی گئی۔ کہا جاتا تھا کہ حکمرانی کے مزے لوٹنے ہوں تو سندھ اور پنجاب کہ جہاں وڈیرے اور چوہدری بیورو کریسی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے صدیوں سے عوام پر حکمران ہیں۔ جنرل ضیاالحق اکیڈمی کی پاسنگ آؤٹ میں تشریف لائے۔ میں سندھ نہیں جانا چاہتا تھا کہ وہاں جانے سے مزاج میں فرعونیت کا تڑکا لگنے کا خدشہ تھا۔

    بلوچستان کا قبائلی معاشرہ مجھے اچھا لگتا تھا کہ جہاں انگریز بھی بلوچوں کو عزت و تکریم دے کر حکمرانی کر سکا۔ میں نے جنرل موصوف کو اپنا ارادہ بتایا، اردگرد کھڑے مملکت خداداد پاکستان کی بیورو کریسی کے اعلیٰ ترین دماغوں کے لیے یہ حیران کن تھا، یہ تو پاگل پن ہے، ایک نے میرے کان میں کہا، بلوچستان کون جاتا ہے، دوسرے نے سرگوشی کی، ضیاالحق نے دوبارہ سوال کیا، میں نے ہاں کی، مجھے فقرہ آج بھی یاد ہے، اس بندۂ صحرائی کا نوٹیفکیشن آج ہی ہو جانا چاہیے۔

    آفتاب احمد خان سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ تھے۔ انھوں نے سر ہلایا اور پھر میری تعیناتی بلوچستان ہو گئی جہاں میں نے سول سروس کے بیس سال گزارے۔ بلوچستان خود اپنی مرضی سے جانے کا یہ میرا دوسرا موقع تھا۔ 6 مارچ 1980ء کو میری جیب میں ملازمت کے دو پروانے تھے، ایک اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ہیڈکوارٹر جنیوا میں اور دوسری بلوچستان یونیورسٹی میں لیکچرر شپ، لیکن میرے جنون کو یونیورسٹی کی ملازمت پسند تھی۔

    اس لیے میں نے بلوچستان یونیورسٹی میں پڑھانے کو ترجیح دی اور انھی پانچ سالوں نے مجھے بلوچستان کے معاشرے کے خدوخال سے محبت سکھائی اور مجھے فیصلے پر مجبور کیا کہ میں سندھ کے بجائے نوکری کے بیشتر سال وہاں گزاروں۔ اسسٹنٹ کمشنر چمن، پشین اور کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنر مستونگ، سبی اور چاغی، یہ وہ ذمے داریاں تھیں کہ جن کی وجہ سے مجھے اس ملک کی غریب و پسماندہ لیکن باغیرت و عزت نفس کی امین آبادی کے قریب آنے کا موقع ملا۔ میں نے مفلوک الحال بلوچ کو بھی غیرت میں مست دیکھا، دست سوال دراز کرتے ہوئے نہیں۔

    بلوچ عوام کی محبتیں سمیٹنے کا جتنا موقع مجھے ملا وہ مجھ پر اللہ کا خاص کرم ہے۔ مجھے اپنی زندگی کا وہ دن نہیں بھولتا، میں ڈپٹی کمشنر چاغی تھا، میرا ٹرانسفر ہو گیا، نیا ڈپٹی کمشنر تعینات ہو گیا۔ عمومی دستور یہ ہے کہ لوگ نئے آنے والے ڈپٹی کمشنر کی استقبال کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں لیکن چاغی کے لوگ میرا تبادلہ رکوانے کے لیے ہڑتال پر چلے گئے، آر سی ڈی بائی بلاک کر دی گئی۔ اختر مینگل وزیر اعلیٰ تھے۔ حیران تھے کہ نہ میں ان کے قبیلے سے ہوں، نہ ہم زبان، پھر یہ بلوچ میرے لیے سراپا احتجاج کیوں ہیں۔ میرا تبادلہ منسوخ کر دیا گیا۔ ایسا کبھی بیوروکریسی میں ہوتا ہے۔

    یہاں اللہ کے حضور سجدۂ شکر واجب نہیں۔ اظہار اور حرف اظہار تو بچپن سے اپنا اوڑھنا بچھونا رہے ہیں۔ شاعری ایک مدت سے اپنی رفیق رہی ہے۔ بات کہنے کو اظہار کا راستہ نہ ملنے تو ایک عالم حبس ذہن پر طاری ہو جاتا ہے۔ بیوروکریسی میں تو یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر روز ایک نئے وبال کا سامنا ہوتا ہے، ایک نئی آفت سے آشنائی ملتی ہے، ایسے میں بولو نہ تو مر جاؤ۔ شاعری ساتھ دیتی رہی، 1988ء میں پہلا مجموعہ ’’قامت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

    سوچا یہ تو ادھورا سچ ہے، اشارے میں بات  کی گئی ہے، افسانہ پہلے بھی لکھتا تھا، ٹیلی ویژن پر ڈرامہ لکھنا شروع کر دیا، کردار تو روز آنکھوں کے سامنے گھومتے تھے۔ ان کو زبان دینا تھی، بس پھر کیا تھا، روزن، گرد باد، شہرزاد، قفس اور قافلہ نام سے پانچ سیریل لکھ دیں۔ لیکن شاید اب بھی تسلی نہیں ہوتی تھی۔ یہ تو ایسا سچ ہے کرداروں کی زبان بولتا ہے، پکڑے جانے پر آپ مکر بھی سکتے ہو، دل مجبور کرتا تھا کہ واضح بات کرو، جو سوچتے ہو ہوبہو لکھو، نوکری اب اس مقام پر آ چکی تھی جب آپ صوبائی محکموں کے سربراہ لگتے ہیں۔ وہ زمانہ جب بیوروکریسی کی طاقت سے لطف اٹھانے کا دور ہوتا ہے۔

    کتنے لوگ تھے جو سمجھاتے کہ جب ریٹائر ہو تو سچ بول لینا، ابھی کالم لکھنے کی کیا ضرورت ہے، ابھی نوکری کے پندرہ سال پڑے ہیں۔ مشرف کی نئی نئی آمریت تھی، بیوروکریسی پر عذاب نازل ہو چکا تھا۔ جنرل تنویر نقوی کو بیوروکریسی کی کمر توڑنے پر لگایا گیا۔ ایسے میں یہ فیصلہ کہ میں کالم لکھوں، سب کچھ کھول کھول کر بتاؤں، بہت مشکل تھا۔ لیکن ایک بار پھر میرے مالک نے حوصلہ عطا کیا۔ اس سے صرف ایک وعدہ کیا تھا جب تک لکھوں گا ہزار خوف و لالچ کے باوجود اللہ اور اس کے دھڑے کی طرف داری میں لکھوں گا۔ ان پندرہ سالوں میں مجھ پر کیا بیتی، یہ الگ کہانی ہے۔

    لیکن جس کسی کو بھی اللہ کے قادر مطلق ہونے پر یقین نہیں وہ صرف میری نوکری کے یہ پندرہ سال دیکھ لے، کون کون تھا جو اقتدار کے اعلیٰ ترین مقام پر متمکن ہوئے اور میرے کالموں پر شدید خفا ہونے کے باوجود مجھے نوکری سے نہ نکال سکا۔ نوٹس، انکوائریاں چلتی رہیں، مردہ محکموں کی سربراہی ملتی رہی کہ تنگ آ جاؤں گا، لیکن میرا اللہ ان محکموں میں بھی جان ڈال دیتا تھا۔ یہ کہانی بہت طویل ہے لیکن اس کے ہر لمحے پر سجدہ شکر لازم ہے، ہر لمحہ یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ یہ صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ تو کٹھ پتلیاں ہیں، اصل حاکم تو میرا اللہ ہے اور وہ میری کس شاندار طریقے سے حفاظت کرتا ہے۔ کوئی اعلان تو کرے کہ وہ اس کے دھڑے کا ہے، پھر اپنے دھڑے والوں کی نصرت وہ خود کرتا ہے۔

    آج اکتیس سال اور تین ماہ بعد ایک حساب جاں سب کے سامنے رکھا ہے۔ میں نے آج تک سرکار کا کوئی پلاٹ حاصل نہیں کیا۔ میں نے یا میری کسی اولاد نے سرکار کے خزانے سے وظیفہ پر کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں میرے پاس کوئی ذاتی گھر نہیں، بس ایک پلاٹ ہے جس پر ملنے والی پنشن سے گھر بنایا ہے، جی پی فنڈ پر سود نہیں لیا کہ اللہ کے سامنے پیش ہونے سے ڈرتا ہوں۔ آج مجھے تیس لاکھ کے قریب جی پی فنڈ کم ملے گا لیکن اللہ نے مجھے یہ خسارہ برداشت کرنے کی توفیق عطا کی ہے۔ کوئی ذاتی گاڑی نہیں ہے۔

    البتہ اب پنشن کی رقم سے خرید لوں گا۔ لیکن دل بہت مطمئن ہے۔ پرسکون ہے، یہ سکون اور طمانیت اللہ کی دین ہے، عطا ہے،  فضل ہے، آپ سے درخواست ہے کہ آپ میرے لیے صرف ایک دعا کریں، وہ ایک ہی دعا ہے، حسن خاتمہ کی دعا، موت کے وقت نفس مطمئنہ کی دعا، درگزر، معافی اور مغفرت کی دعا کہ صرف میں خود ہی جانتا ہوں کہ میں کتنا گناہگار ہوں اور مجھے کتنی زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے۔

    اوریا مقبول جان



    0 0

    Muslim devotees pray after boarding over-crowded trains on the last day of an Islamic congregations’ second and final phase in Tongi, 20 kilometers (13 miles) north of Dhaka, Bangladesh.

older | 1 | .... | 63 | 64 | (Page 65) | 66 | 67 | .... | 149 | newer