Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 57 | 58 | (Page 59) | 60 | 61 | .... | 149 | newer

    0 0

     قدرت کے دلکش مناظر پر کرائے جانے والے وکی لوز ارتھ مقابلہ فوٹو گرافی میں شریک ہزاروں شرکا میں سے پاکستانی فوٹو گرافر زعیم صدیقی کی خوبصورت اور دل کی دھڑکنوں کو تیز کردینی والی تصویر نے پہلا انعام حاصل کرکے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔

    وکی لوز ارتھ کے تحت زمین کے قدرتی مناظر کا عالمی مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں حصہ لینے والے افراد نے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے قدررتی مناظر کی تصاویر کھینچیں اور انہیں وکی لوز کے لیے اپ لوڈ کردیا، اس مقابلے میں 8900 افراد کی ایک لاکھ 8 ہزار تصاویر شامل کی گئیں جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف پاکستان سے 1500 افراد نے اس مقابلے کے لیے 11 ہزار سے زائد تصاویر ارسال کیں اور یوں پاکستان مقابلے میں حصہ لینے والوں کے لحاظ سے دوسرا بڑا اور تصاویر کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک بن گیا۔


    0 0

    معاشرتی اقدار کے حوالے سے راقم نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک کالم میں جامعہ کراچی کے شعبہ سیاسیات کے ایک پروفیسر ڈاکٹر سید ارشد کریم کا ذکرکیا تھا جنھوں نے اپنی عمر کا ایک طویل عرصہ امریکا میں گزارا تھا اور ایک عرصے بعد جب وہ پاکستان آئے تو انھوں نے جامعہ کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے مسائل کی ایک بڑی وجہ ہمارا اپنی معاشرتی اقدار سے دور ہونا ہے اور اپنی معاشرتی اقدارکو دوبارہ سے اپناکر ہم پستی سے نکل سکتے ہیں۔

    مذکورہ پروفیسر ایک تجربہ کار اور جہاندیدہ شخص ہیں ان کی کہی ہوئی بات راقم کے مشاہدے کے مطابق سو فیصد درست نظر آتی ہے بلکہ اپنے معاشرے میں ہر روزکوئی نہ کوئی ایسا واقعہ مشاہدے میں آتا ہے کہ جب احساس ہوتا ہے کہ واقعی ہم اپنی معاشرتی اقدار سے دور ہوچکے ہیں اورہمیں واپس لوٹنے کی اشد ضرورت بھی ہے۔اپنی معاشرتی اقدارکواہمیت دینے والوں کی ایک تعداد آج بھی موجود ہے گوکہ پہلے کی نسبت یہ تعداد بہت کم ہوچکی ہے۔

    اس اقدار کا مظاہرہ گزشتہ دنوں ہمیں اپنے بھتیجے کے انتقال کے موقعے پر دیکھنے میں آیا۔ یہ ایک 23 سالہ نوجوان اور داؤد انجینئرنگ کالج میں سال آخر کا طالبعلم تھا۔ ایک ایکسیڈنٹ کے بعد کوئی 12 روز آئی سی یو میں رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس دوران ان کے محلے والے از خود محلے میں مختلف آیات کا وردکراتے رہتے اجتماعی دعا کراتے رہے اور مذکورہ خاندان کی ہر قسم کی مدد کرتے رہے لیکن ایک پائی بھی اس خاندان سے وصول نہ کی۔
    اسی طرح انتقال کے موقعے پر بھی تمام انتظامات کررہے  تھے، محلے کے بزرگوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے کبھی تمام محلے داروں کو اس طرح مل کر کبھی کوئی کام کرتے نہیں دیکھا یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ نماز جنازہ میں آدھی تعداد سے زائد نوجوان شامل تھے، وائس چانسلر اور فیکلٹی ممبر و طلبا کی جانب سے پھولوں کی خصوصی چادر مرحوم کی قبر پر چڑھائی گئی اور جامعہ کی جانب سے تعزیتی خط والدین کو لکھا گیا۔میں سوچ رہا تھا کہ اتنی اچھی معاشرتی اقدارکا مظاہرہ کیونکر ممکن ہوا؟ غورکرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ نوجوان ’’فاخرعدنان‘‘ اخلاق کا بہت اچھا تھا،کبھی کسی سے لڑتا نہیں تھا، ہر ایک کے کام آتا تھا، بچوں تک سے اس کے اچھے مراسم تھے، اسی لیے جنازے کے وقت بڑوں اور بچوں کی آنکھیں نم تھیں۔

    اخلاق سے پیش آنا اور دوسروں کے کام آنا ہماری معاشرتی اقدارکا ایک اہم خاصا ہے۔ ان خوبیوں میں بہت طاقت ہے جس کا مظاہرہ ہم نے اپنے بھتیجے کے انتقال کے موقعے پر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آج یہ معاشرتی خوبیاں معاشرے سے تیزی کے ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہیں بلکہ لوگ آج کل ایک دوسرے کو اخلاق سے عاری کردار اپنانے کا مشورہ دیتے ہیں اور خود بھی ایسا کرتے ہیں۔

    زندگی کے معاملات میں اختلاف کی صورت میں ہمارے دوست احباب مشورہ دیتے ہیں کہ اپنے مخالف سے اخلاق کا مظاہرہ نہ کرو، اس کے کام نہ آؤ بلکہ اس کو مزا چکھاؤ۔ چنانچہ یہ ہمارے روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ جب ہم گاڑی ڈرائیوکر رہے ہوتے ہیں وہاں بھی اخلاقیات کے بجائے خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو بھی گزرنے کا حق نہیں دیتے جس کا پہلے گزرنے کا قانونی حق ہے، اس عمل میں ہم خطرناک حادثے کا بھی رسک لیتے ہیں۔
    گھر میں ساس بہو اور نند توکیا بھائی اور باپ جیسے رشتوں میں بھی ایک دوسرے کے لیے برداشت و اخلاقیات کا مظاہرہ کم ہی نظر آتا ہے، دفتر میں بھی کام کرتے ہوئے مخالفین کے لیے ہم حد درجہ بداخلاقی کا مظاہرہ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک کالم میں تذکرہ کیا تھا کہ ایک ہمارے دوست اپنی موٹرسائیکل کے ساتھ ایک چھوٹی بوتل بھی رکھتے ہیں کہ اگر کہیں راستے میں کسی دوسرے موٹرسائیکل سوارکا پٹرول ختم ہوجائے اور اس کو مددکی ضرورت ہو تو وہ اپنے پاس سے یہ بوتل پٹرول بھرکر دے دیں۔

    یقینا ایسے انسان اور بھی ہوں گے مگر ان کی تعداد بہت کم ہے۔مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں دوسرے لوگوں کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے لوگوں کی تعداد کم نظر آتی ہے خاص کر اپنے مخالفین کو ہم معاف کرنا تو دور کی بات انھیں ہر وقت نقصان پہنچانے کے منتظر نظر آتے ہیں۔

    ہماری اکثریت تو بحیثیت مسلمان ہے جن کا اس قرآن پر ایمان ہے کہ جس میں سورہ آل عمران میں (اور بھی کئی جگہ) ارشاد ہوتا ہے کہ (مفہوم) جو لوگ دوسروں کو معاف کردیتے ہیں اور غصے کو پی جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپنا دوست بنا لیتا ہے۔ اب ذرا غورکیجیے اللہ تعالیٰ کن لوگوں کو دوست بنا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا وعدہ (ہمارے ایمان کے مطابق) سچا ہوتا ہے لہٰذا اگر ہم ایک دوسرے کو معاف کردیں اور غصہ ختم کردیں تو یقینا اللہ تعالیٰ ہمارا دوست ہوگا اور جس کا دوست اللہ تعالیٰ ہو جائے اسے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ہی کامیابی ہوتی ہے۔ افسوس ہم اپنی دینی تعلیمات اور احکامات کو بھی نظرانداز کرکے اپنی اپنی زندگی کو جہنم بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

    غورکیجیے اللہ تعالیٰ جس خوبی پر دوستی کا اعلان کر رہا ہے وہ (دین سے ہٹ کر بھی) ہمارے معاشرے کی ایک اہم قدر تھی۔ یہ وہ معاشرہ تھا کہ جس کے بارے میں لارڈ میکالے نے تاج برطانیہ کو مطلع کیا تھا کہ ہندوستان کے لوگ پولیس سے ڈرکر نہیں بلکہ پڑوسیوں کے خوف سے چوری چکاری نہیں کرتے۔تھوڑی دیرکو غورکیجیے اگر ہم اپنی معاشرتی اقدارکی صرف یہ دوخوبیاں اپنا لیں یعنی اخلاقیات اور دوسروں کے کام آنا تو پھر یقینا ہمارے ہاں ٹریفک حادثات بھی کم ہو جائینگے اس کے نتیجے میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بھی کمی ہوجائے گی کیونکہ ان حادثات کی ایک بڑی وجہ دوسروں کا حق مارکر آگے گاڑی نکالنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے کے کام آنے کی تڑپ بھی پیدا کرلیں تو پھر ہم ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہوں گے نہ کہ کسی کی ٹانگ کھینچنے، نقصان پہنچانے اوردوسرے کی کامیابی پر جیلس ہو رہے ہوں گے۔

    اس عمل سے ذہنی تناؤ اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے بھی بچ سکیں گے اور سب سے بڑھ کر جب اس دنیا سے رخصت ہوں گے تو ہمارے اردگرد تمام ہاتھ ہی نہیں دل بھی ہمارے لیے دعا گو ہوں گے اور ہر آنکھ نم ہوگی، اور شاید آج اس انسان سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہ ہو کہ جب وہ دنیا سے رخصت ہو تو ہر آنکھ اس کی محبت میں نم ہو اور دل سے اس کے لیے دعائیں نکل رہی ہوں! آئیے دو منٹ غور کریں۔

    ڈاکٹر نوید اقبال انصاری


    0 0

    بھارت میں گائے کے معاملے پر مسلمانوں کو انتہا پسند ہندو ہجوم کے ہاتھوں زندہ درگور ہوتے دیکھ کر ہم کیوں پریشان ہو رہے ہیں؟ جو کھچ بھارت میں ہو رہا ہے اس پر تو پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہئے کہ بالآخر بھارتیوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ سیکولرازم کوئی چیز نہیں ہوتی، ریاست وہی ہوتی ہے جو اکثریتی مذہب والوں کی ہو ، اس میں باقی مذاہب کے ماننے والوں کے لئے جگہ نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو انہیں اکثریت کی شرائط کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ اگر وہ ان شرائط پر زندگی نہیں گزار سکتے تو کسی دوسرے ملک میں پناہ لے لیں یا اپنا مذہب تبدیل کر لیں یعنی مسلمانوں پر دباؤ ہے کہ یا تو وہ پاکستان چلے جائیں یا پھر ہندو بن جائیں۔ ہمارے ہاں بھی مسیحیوں نے جانیں بچانے کے لیے اپنے نام مسلمانوں والے رکھ لیے ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کا جینا حرام ہورہا ہے۔ بھارت کی جو طاقت تھی وہ کمزوری مٰن بدل رہی ہے۔ اس کی طاقت اور خوبصورتی سیکولرازم میں تھی۔ ایک سیکولر ریاست میں ہی سیکڑوں نسلوں، زبانوں اور مذاہب کے انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ پہلے بھارتی دانشوروں اور سیاستدانوں کو اور کوئی بات نہ ملتی تو ہم پاکستانیوں کو یہ طعنے دیتے تھے کہ دیکھو ہندوستان کا آئین سیکولر ہے۔ یہاں سکھ، مسلمان، شودر، چائے بیچنے والا، ہندو کوئی بھی ملک کا وزیر اعظم یا صدر بن سکتا ہے، ملک کے کسی بھی عہدے پر تعینات ہوسکتا ہے، پاکستان کے آئین میں یہ گنجائش موجود نہیں ہے۔ ہم کرپٹ ترین سیاستدان کو وزیر اعظم یا صدر بنا لیں گے، چاہے اس پر نیب کے مقدمات ہوں، لیکن آئین میں ایک ہندو ، مسیحی یا سکھ کو یہ حق نہیں دیا گیا۔

    ہمیں ایک اچھے ، ایماندار ، محب وطن ہندو، مسیحی یا سکھ سے زیادہ وہ کرپٹ مسلمان سیاستدان عزیز ہے جو مسلمان گھر میں پیدا ہوا ہے، چاہے وہ پورا ملک لوٹ کر سوئش ، لندن یا دبئی کے بینکوں میں لے جائی، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔ چیف جسٹس کارنیلیس، جسٹس بھگوان داس اور سیسل چوہدری جیسے کئی پاکستانی ثابت کر چکے ہیں کہ ان سے اچھے اور ملک سے محبت کرنے والے شاید کوئی اور ہوں۔
    انہیں موقع ملا تو ثابت کیا کہ انہیں مذہب سے زیادہ اپنے وطن سے محبت تھی۔ مجھے کمینی سی خوشی ہورہیی ہے کہ بھارت بھی دھیرے دھیرے ہندو ریاست بننے کی جانب گامزن ہے۔ کمازکم میرے جیسے لوگوں کی اپنے بھارتی دوستوں کے طعنوں اور طنزیہ ہنسی سے جان چھوٹ جائے گی لیکن لگتا ہے انتہا پسند ہندوؤں کے لیے یہ کام اتنا آسان نہیں ہوگا۔ راکھ میں دبی ہوئی چنگاری بھڑک سکتی ہے۔

    جہاں مودی پوری کوشش کر رہے ہیں، ہندوستان کا آئین بدل دیا جائے ، ہندوستان کا صدیوں پرانا کلچر تبدیل کر دیا جائے وہاں ایسی طاقتیں بھی موجود ہیں جو شدت پسند بھارتیوں سے لڑ رہی ہیں، جو بھارت کو سیکولر چاہتی ہے۔ تین بہادر اور انسان دوست ہندو لڑکوں کی کہانی پاکستانی میڈیا کو پسند نہیں آئی کہ کیسے انہوں نے اپنی جان خطرے مٰں ڈال کر ستر مسلمان ہمسایوں کو ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں مرنے سے بچایا۔ شاید ہم ڈر گئے کہ کہیں پاکستانی ان ہندو لڑکوں کو اچھا نہ سمجھ بیٹھیں۔

    ہمارے میڈیا میں یہ خبر بھی جگہ نہ بنا سکی اور نہ ہی اس پر کوئی ٹاک شو ہوا کہ اکتالیس ادیبوں اور شاعروں نے بھارتی حکومت کو وہ تمام سرکاری ایوارڈ احتجاج واپس کر دیے ہیں جو انکی ادبی خدمات کے صلے میں دیے گئے تھے۔ یہ سارے ادیب احتجاج کر رہے ہیں کہ مودی کے بھارت میں جس طرح عدم برداشت اور سیکولرازم کا جنازہ نکالا جا رہا ہے، وہ سرکار کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن وہ ایوارڈ واپس کر سکتے ہیں جو انکے گلے میں بھارتی سرکار نے ڈالے تھے۔ ہمارے دانشوروں، ادیبوں اور کالم نگاروں کے نزدیک شادی یہ بھی 41 بھارتی ادیبوں اور شاعروں کا ڈرامہ ہوگا۔ سب کہیں گے اس سے کیا فرق پڑے گا۔ ویسے جب کوٹ رادھاکشن میں ایک مسیحی جوڑے کو جلایا گیا تو کتنے ادیبوں یا شاعروں نے احتجاجا اپنے ایوارڈ واپس کیے تھے؟

    ہمارے ہاں سیکولرازم کو گالیاں دینا فیشن ہے۔ ہمارے نزدیک جو بھی واقعات ہوتے ہیں وہ بھارتی سیکولرازم کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ مجھے ایک بات کی کبھی سمجھ نہیں آٗی ہم بھارتی سیکولرازم سے نفرت کرتے ہیں چڑتے ہیں اور اسے بھارت کا ڈرامہ سمجھتے ہیں، لیکن شاید جب بھارتی سیکولرازم سے ہماری نفرت سے متاثر ہو کر خود کو ہندو ریاست بنانے کا سفر شروع کرتے ہین یعنی یہ کہ بھارت کو ایک ایسی مذہبی ریاست بنایا جائے جس مٰں صرف ہندو رہ سکیں تو بھی ہم اس پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھا ہم نہ کہتے تھے کہ ہندو ہمیشہ سے ہندو ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ہم بھارت کو ہندو ریاست بنتے دیکھ کر ناراض ہو جاتے ہیں۔

    سیکولر انڈیا بھی ہمیں پسند نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہندو بھی ہماری طرح ایک مذہبی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اعتراض کیوں ہو رہا؟ ہو سکتا ہے کہ ہندوؤں کو اب احساس ہوا ہو کہ انکا سیکولرازم کی طرف جھکاؤ غلط تھا، انہیں بھی پہلے دن سے ایک ہندو مذہبی ریاست کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ چلیں دیر آید درست آید۔ وہ اگر آج گاندھی اور نہرو کو غلط ثابت کر رہے ہیں تو ہمیں کیوں تکلیف ہے؟ ہم کیوں ان سے ناراض ہیں؟ حالانکہ وہ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو ہم چاہتے ہیں اور کہتے ہیں وہ سیکولرازم کا ڈرامہ بند کرے دنیا کو بتائے کہ وہ ہندو ریاست ہے، جیسے ہم مسلمان ریاست ہیں ، یا اسرائیل یہودی ریاست ہے۔ اب وہ اپنا ڈرامہ بند کر رہے ہیں۔

    کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اگر ہمیں سیکولرازم پسند نہیں ہے، ہندو ریاست بھی پسند نہیں ہے تو پھر ہندوستان کو اپنے لیے کونسا نظام اپنانا چاہیے جس میں سیکڑوں مذاہب، زبانیں ، ثقافتیں اور قومیں ایک دوسرے کا خون بہائے بغیر آرام سے رہ سکیں، جیسے اللہ کے فضل سے ہم پاکستان مٰں رہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاں نہ تو عیسائی جوڑے کو جلایا جاتا ہے نہ لاڑکانہ میں ہندوؤں کے مندروں کو جلایا جاتا ہے، نہ گوجرہ مٰن نومسیحیوں کو جلایا جاتا ہے ۔ لاہور کی جوزف کالونی مٰں بھی کوئی غلط نہیں ہوتا۔ ہزارہ شیعوں کا قتل عام نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں سے ہزاروں کی تعداد میں اقلیتوں کے کؤلوگ دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں لیکن ہم پھر بھی خوش ہیں کہ ہمارے ریاست مٰں اقلیتوں کا وہ حشر نہیں ہورہا جو بھارت میں مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔

    ویسے کبھی ہم نے سوچا، ہندوستان میں رہنے والے بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کی زندگیاں آسان بنانے اور انہیں بھارت مٰں سر اٹھا کر جینے کے لیے ہم نے کیا آسانیاں فرہم کی ہیں؟ کیا ہم نے کبھی اپنے کچھ مفادات ققربان کر کے ان مسلمانوں کو ہندوستان میں آسانیاں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے؟ 2004ء میں پاکستانی صحافیوں کا ایک گروپ ہندوستان گیا تو ایک مسلمان رکن پارلیمنٹ نے جو بات کہی وہ آج تک میرے ذہن میں ہوں گے کیونکہ آپ کو پانی وہیں سے ملتا ہے، لیکن کبھی ہندوستان کے بیس کروڑ مسلمانوں کے لیے بھی ہندوستان سے لڑائی کی ہے؟ تینوں لڑائیاں کشمیر کے لیے لڑی گئیں۔

    کبھی ہمارے لیے بھی لڑائی نہ سہی، ہندوستان سے کوئی کمپرومائز کیا ہے جس سے ہماری زندگیاں آسان ہو سکتیں؟ کیا ساٹھ لاکھ کی اہمیت ہم بیس کروڑ سے زیادہ ہے؟ آپ کو ملک مل گیا، اسکے بعد آ پ لوگوں نے کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کک جو رہے گئے تھے انکا کیا ہوا۔ اور کچھ نہیں ہو سکتا تھا تو ہندوستان سے ایسے تعلقات رکھتے کہ ہماری زندگیاں محفوظ رہتیں۔ الٹا نہر ولیاقت معاہدے میں پابند کر دیا گیا کہ دونوں ملکوں کے شہری اب واپس نہیں لوٹ سکتے۔ میں نے جواب دیا تھا کہ یہ سب باتیں میرے جیسوں کے بس سے باہر ہیں۔ اس پر اس مسلمان رکن پارلیمنٹ تلخ انداز میں کہا تھا کہ پھر آپ دانشوری کرنا بند کر دیں، ایسے سوالات نہ پوچھیں اور نہ ہم سے ملا کریں، ہم جانیں اور ہندوستان جانے ہمارا رونامت روئیں اور مگرمچھ کے آنسو نہ بہایا کریں۔

    میرا خیال ہے کہ پاکستانیوں کو خوش ہونا چاہیے کہ بھارت کے سیکولرازم کا جنازہ نکل رہا ہے۔ بھارتی وہی کر رہے ہیں جو ہم چاہتے تھے۔ وہ سیکولرازم سے جان چھڑا رہے ہیں۔ ہمیں ان انتہا پسندوں کو گاندھی اور نہرو کو غلط ثابت کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کر کے ایک شدت پسند ہندو ریاست بنانے میں مدد کرنی چاہیے نہ کہ دن رات مذمت! اب ماشاءاللہ نیوکلیئر بموں سے لیس اور صدیوں کی نفرت سے سرشار مسلمان اور ہندو ریاستیں ایک دوسرے کی ہمسایہ ہوں گی۔ اب خطے مین تاریخی امن قائم ہوگا۔ فتح ہماری ہوئی ہے۔ بھارت ایک شدت پسند ہندو ریاست بن رہا ہے۔ بھارت سیکولرازم شکست کھا گیا، جو ہم چاہتے تھے۔ سب کو مبارک ہو!-

    رؤف کلاسرا
    بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘


    0 0

    دنیا بھر میں سیاحت کا شعبہ تیزرفتاری سے ترقی کر رہا ہے اور ٹوراِزم انڈسٹری کا سالانہ حجم 7.5 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچا ہے۔ مگر گزشتہ برس ایک عالمی ادارے نے سیاحت کے بارے میں بہت دلچسپ تحقیقی رپورٹ شائع کی کہ اب لوگ محض سیر و تفریح کی غرض سے سفر نہیں کرتے۔ دنیا گھومنا اور چھٹیاں گزارنا بھی مقصود ہوتا ہے مگر ایجنڈے میں سرفہرست کوئی اورعنصر شامل ہوتا ہے مثال کے طور پر ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ یورپی شہری طبی سیاحت کی غرض سے بھارت آتے ہیں اور نہ صرف سستے علاج کی سہولت حاصل کرتے ہیں بلکہ تاج محل کی سیر بھی کر لیتے ہیں ۔

    میڈیکل ٹوراِزم سے بھارت کو سالانہ 2بلین ڈالر کی آمدنی ہو رہی ہے اور اس میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیاحت میں بڑی حد تک مقدس مقامات کی زیارت اور مذہبی یاتر ا کا عنصر شامل ہو چکا ہے ۔اب ٹوراِزم انڈسٹری کا انحصار بڑی حد تک ان زائرین، عازمین اور یاتریوں پر ہے جو عبادت کی غرض سے طویل سفر کر کے بیرون ملک جاتے ہیں اور اپنے عقیدے کے مطابق منتیں مُرادیں پاتے ہیں۔ یورپ کا چھوٹا سا شہر ویٹی کن اس لئے خوشحال ہے کہ ہر سال کم از کم پچاس لاکھ مسیحی یہاں حاضری لگوانے آتے ہیں۔

    اٹلی جو سیاحت کے اعتبار سے سرفہرست دس ممالک میں شمار ہوتا ہے وہاں 65 فیصد ٹورسٹ مذہبی مقامات کی زیارت کرنے آتے ہیں۔ مکہ اور مدینہ میں حج اور عمرے کی نیت سے جانے والے عازمین سے سعودی عرب کو سالانہ 16.5ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جو اس کی جی ڈی پی کا 3 فیصد ہے۔ یروشلم میں پابندیوں کے باجود بیت المقدس دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہے ۔شیعہ زائرین باقاعدگی سے دمشق، تہران ، نجف،مشہد ،کربلا اور کوفہ کا رُخ کرتے ہیں۔ اس رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ بیان کیا گیا کہ روایتی سیاحتی شعبہ تو عالمی کساد بازاری جیسے مسائل کا شکار ہوتا ہے مگر مذہبی یاترا (Religious Tourism ) کا سلسلہ بلا توقف وبلا تعطل جاری و ساری رہتا ہے کیونکہ لوگ عین عبادت سمجھ کر عازم سفر ہوتے ہیں۔
    لہٰذا دنیا بھر میں یہ رجحان ہے کہ مختلف مذاہب کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش کا اہتمام کر کے سیاحوں کو اپنی جانب مائل کیا جاتا ہے۔پاکستان میں مذہبی یاترا کے وسیع اور لامحدود مواقع موجود ہیں ۔یہاں ہندوئوں ،سکھوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کیلئے اس قدر تاریخی مقامات ہیں کہ اگر ایک مرتبہ ان کی توجہ مبذول کرو الی جائے تو یہ ملک سکھوں کا ویٹی کن ،ہندوئوں کا قبلہ و کعبہ اور بدھ مت کے پیروکاروں کا مرکز بن سکتا ہے ۔کراچی سے لسبیلہ روڈ پر 270کلومیٹر کے فاصلے پر ہنگلاج ماتا جی ’’تیرتھ ‘‘ ہے ۔مندر اور تیرتھ میں فرق یہ ہے کہ مندر تو کہیں بھی بن سکتا ہے مگر ’’تیرتھ ‘‘ کی اہمیت اس مقام کی وجہ سے ہے ۔

    اس ماتا جی کی ہندواِزم میں وہی اہمیت اور مقام و مرتبہ ہے جو مسلمانوں کے ہاں حضرت حوا ؑ کے حصے میں آتا ہے ۔یہاں گزشتہ حکومت نے ایک چھوٹا آبی ذخیرہ اور پاور پلانٹ بنانے کی حماقت کی تھی ،وہ تو بھلا ہو متروکہ وقف املاک بورڈ کے موجودہ چیئرمین کا جنہوں نے اس کی اہمیت و افادیت کا اِدراک کرتے ہوئے اس منصوبے پر نظر ثانی کرنے کو کہا اور اب یہاں ہندوئوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔اسی طرح کٹاس راج مندر دنیا بھر کے ہندوئوں کیلئے عقیدت و احترام کا دوسرا بڑا مرکز ہے ۔جہاں سے ہندو زائرین پانی بھر کر لے جاتے ہیں اور ان کے عقیدے کے مطابق اس پانی میں شفا ہے۔
    اسی طرح گردوارہ دربار صاحب ،گردوارہ ڈیرہ صاحب ،گردوارہ پنجہ صاحب اور گردوارہ گرونانک جیسے مقامات سکھوں کیلئے انتہائی معتبر و محترم ہیں۔
    پاکستان میں موجود مختلف مذہبی مقامات کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری متروکہ وقف املاک بورڈ پر عائد ہوتی ہے مگر افسوس کہ اس ادارے کے پہلے سربراہ سے سابق چیئرمین تک جتنے بھی لوگ آئے ،ان کی اکثریت نے اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنے اور دونوں ہاتھوں سے مال بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔بالخصوص پیپلز پارٹی کے دور میں تو ایسی اندھیر نگری مچائی گئی کہ یہ منافع بخش ادارہ خسارے میں چلا گیا ۔نیب اور ایف آئی اے میں ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک جو مقدمات سامنے آئے ہیں ان کے مطابق اس شخص نے ادارے کو دس ہزار ملین روپوں کا نقصان پہنچایا۔

    2اکتوبر 2014ء کو جب صدیق الفاروق جیسے ہونہار ،دیانت دار اور فرض شناس شخص نے اس ادارے کی باگ ڈور سنبھالی تو متروکہ وقف املاک بورڈ کا سالانہ خسارہ 15کروڑ روپے تک پہنچ چکا تھا مگر جن افراد نے نواز شریف کے گزشتہ دور حکومت میں ایچ بی ایف سی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی کارکردگی دیکھی تھی انہیں یقین تھا کہ یہ شخص جو اسم بامسمیٰ ہے ،کوئی انہونی ضرور کر دکھائے گا ۔اور وہی ہوا ،محض نو ماہ بعد ہی پہیہ الٹا گھومنے لگا اور جو ادارہ خسارے کا شکار تھا ،وہ 13.5کروڑ سرپلس ہو گیا ۔

    ناجائز قابضین سے 160ایکڑ 11کینال اراضی واگزار کروائی گئی ،نااہل اور کام چور افراد کو فارغ کیا گیا اور یوں مجموعی طور پر ریونیو میں 371.12ملین کا اضافہ ہوا۔دستیاب معلومات کے مطابق گرونانک ننکانہ صاحب میں ’’امرت جل ‘‘ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا گیا ہے ۔ رنجیت سنگھ کی سمادھی میں 200کمروں کی تز ئین و آرائش کا سلسلہ جاری ہے ،کٹاس راج میں چیئرلفٹ لگائی گئی ہے ،چڑیا گھر اور جھیل بنانے کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وزیر اعظم کی خصوصی دلچسپی سے ننکانہ صاحب میں گرونانک یونیورسٹی اور ٹیکسلا کے قریب گندھارا یونیورسٹی بنائی جا رہی ہے۔

    لیکن یہ کام اونٹ کے منہ میں زیرے سے بھی کم ہیں ۔ سکھوں اور ہندئوں سے زیادہ گوتم بدھ کے پیروکاروں کو مذہبی یاترا کیلئے پاکستان کی جانب مائل کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سکھوں کی تعداد 27ملین ہے مگر بدھ مت کے پیروکاروں کی تعداد 300 سے 500 ملین بتائی جاتی ہے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ، میانمار، بھوٹان، مالدیپ، سری لنکا، ویت نام، جاپان، تائیوان ،کمبوڈیا سمیت بیسیوں ممالک میں آباد بدھ مت کے ماننے والوں کیلئے پاکستان میں ان گنت مقدس مقامات ہیں۔ اگر تخت بھائی ،سوات اور ٹیکسلا میں موجود بدھ عبادت گاہوں اور دیگر تاریخی مقامات تک رسائی کو آسان اور باسہولت بنا دیا جائے تو ہماری معیشت چیونٹی کی مانند رینگنے کے بجائے خرگوش کی رفتار سے دوڑنے لگے ۔

    اگر متروکہ وقف اِملاک بورڈ کو مختصر مدت میں منافع بخش بنایا جاسکتا ہے تو مذہبی یاتر یوں کو مائل کرنے کی اس منزل کا حصول بھی ناممکن نہیں ۔ہاں اس کیلئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو اس ادارے کے اشتراک سے ملکر کوششیں کرنا ہونگی اور محکمہ سیاحت پر قابض بدعنوان افراد سے نجات حاصل کر کے دیانت دار ،اہل اور فرض شناس افراد کو آگے لانا ہوگا۔بصیرت ،عزم اور اخلاص کے ساتھ ساتھ اس مقصد کیلئے درکار ہیںتو بس چند ’’صدیق‘‘ اور چند ’’فاروق‘‘ جو اسم بامسمیٰ ہوں ۔
     
    محمد بلال غوری
    بہ شکریہ روزنامہ 'جنگ'


    0 0

    مریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے قیام میں توسیع کا جو اعلان کیا ہے ، اس کے ہمارے خطے کے حالات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ اس خطے کی سیاسی معیشت اور نئی صف بندیوں کے حوالے سے جو فیصلے ہو رہے تھے ، وہ 2016ء میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کو سامنے رکھ کر کئے جا رہے تھے ۔ اس خطے کی سیاسی حرکیات ( Dynamics ) کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے چین ، روس ، ایران اور دیگر اہم کھلاڑیوں کو اپنی حکمت عملی میں تھوڑی تبدیلیاں کرنا پڑیں گی ۔

    امریکی صدر نے اگلے روز اپنی قوم سے خطاب میں امریکی افواج کے انخلاء کے پروگرام میں جس تبدیلی کا اعلان کیا ، وہ غیر متوقع نہیں ہے ۔ خطے کے بدلتے ہوئے حالات اور یہاں امریکی مفادات کے لئے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ اس خطے سے اپنی فوجی موجودگی ختم نہیں کرے گا ۔ باراک اوباما نے امریکی فوج کے قیام میں اگرچہ صرف ایک سال کی توسیع کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ 2016ء کے بعد بھی امریکی فوج افغانستان میں موجود رہے گی اور ان کے پیش رو امریکی صدر یہ فیصلہ کریں گے کہ 2017 ء کے بعد کیا کرنا ہے

    لیکن یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی کہ امریکہ افغانستان سے نکل جائے گا ۔ پہلے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اعلان کیا تھا کہ 2014ء میں مکمل فوجی انخلاء ہو جائے گا ۔ پھر اس میں 2016ء تک توسیع کی گئی اور اب امریکی فوج کے قیام میں بظاہر ایک سال لیکن حقیقتاً غیر معینہ مدت تک توسیع کی گئی ہے ۔ امریکی صدر کے اعلان کے بعد پاکستان کو بھی اپنی حکمت عملی ازسر نو مرتب کرنا پڑے گی۔

    اس خطے میں امریکہ کی مستقبل کی پالیسی کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان پر حملے کے پس منظر کو سمجھنا ہو گا 2001ء میں ’’ نائن الیون ‘‘ کے واقعہ کے بعد امریکہ نے پہلے خفیہ طور پر اور بعد ازاں 7 اکتوبر 2011ء کو ’’ آپریشن انڈیورنگ فریڈم ‘‘ کے نام سے باقاعدہ طور پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا ۔ نائن الیون سے پہلے اس خطے میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے ، جن کا آج تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امریکہ نائن الیون کے بعد اس خطے میں اپنی مداخلت کے لئے پہلے سے انتظام کر چکا تھا ۔
    12 اکتوبر 1999 ء کو پاکستان میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا اور نائن الیون سے صرف دو روز پہلے 9 ستمبر 2001ء کو شمالی اتحاد کے رہنما اور افغانستان کی سیاست کے اہم کردار احمد شاہ مسعود کا قتل ہوا ۔ نائن الیون کے واقعہ سے پہلے ہی مغربی میڈیا افغانستان میں طالبان کی حکومت اور اس کے نظریات کے بارے میں پورے یورپ کو متنفر کر چکا تھا ۔ نائن الیون کے واقعہ کے بعد طالبان حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ القاعدہ کا خاتمہ کرے اور اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کر دے ۔ افغانستان کے طالبان حکمرانوں نے سفارت کاری والا رویہ اختیار نہیں کیا اور امریکہ کو واضح طور پر یہ کہہ دیا کہ اسامہ بن لادن کو حوالے نہیں کیا جائے گا ۔

    افغانستان کی طالبان حکومت نے افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کا پورا جواز بنا کر دیا اور جب 7 اکتوبر 2001ء کو امریکی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو طالبان نے کسی مزاحمت کے بغیر اقتدار چھوڑ دیا اور فرار ہو گئے ۔ یہ سارے ڈرامائی واقعات اس وقت اگرچہ سمجھ نہیں آتے تھے لیکن اب حالات بالکل واضح ہو چکے ہیں ۔ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کو 14سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے ۔ اسے ’’ افغانستان میں امریکہ کی جنگ ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ تاریخ کی طویل ترین جنگ ہے ، جو امریکہ نے اب تک لڑی ہے ۔ اس جنگ کا نتیجہ کیا نکلا ؟

    صدر باراک اوباما اب بھی یہ بات کہہ رہے ہیں کہ بطور کمانڈر ان چیف وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنے اور امریکی قوم پر حملے کئے جائیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مقصد کے لئےیہ جنگ شروع کی گئی تھی ، وہ مقصد پورا نہیں ہوا ہے اور یہ مقصد شاید کبھی پورا ہو گا بھی نہیں کیونکہ امریکہ اس خطے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے ۔ اسے احساس ہو گیا ہے کہ چین ، روس ، ایران اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر ممالک اس خطے میں امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کر رہے ہیں اور اس خطے کی کیمسٹری تبدیل ہو رہی ہے۔

    نئی صورت حال میں خطے کے ممالک کو کیا کرنا چاہئے ۔ اس کے لئے خطے کے ممالک کا آپس میں اتفاق نہیں ہے لیکن سب اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کے لئے طالبان کے ساتھ ساتھ داعش اور دیگرانتہا پسند تنظیموں کو مزید مضبوط کرے گا اور اس خطے میں عدم استحکام پیدا کرے گا ۔ اس حقیقت کا ادراک سب سے پہلے عرب دنیا نے کیا کیونکہ افغانستان اور پاکستان کے بعد امریکی پالیسیوں کے باعث عرب دنیا ہی سب سے زیادہ تباہی کا شکار ہوئی ۔ داعش نامی تنظیم کے خلاف نام نہاد امریکی آپریشن میں عرب ملکوں کی بہت سی حکومتوں نے براہ راست حصہ نہیں لیا اور انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ اس دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیم کے خلاف خود کارروائی کریں گے۔

    روس نے عرب دنیا کے اس ادراک کو سمجھا اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے کئے ۔ روس کی اس حکمت عملی نے دیگر عرب ممالک کو بھی راستہ دکھا دیا ہے اور وہ جان چکے ہیں کہ امریکہ کی ضرورت کے مطابق پیدا ہونے والے دہشت گرد گروہ امریکی مفادات کو پورا کر رہے ہیں اور امریکہ کے نام نہاد آپریشن سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو گا ۔ عرب دنیا میں روس کے عالمی کردار کی بحالی کو سراہا جا رہا ہے اور اس بارے میں سوچا جا رہا ہے کہ داعش اور دیگر انتہا پسند گروہوں کے خلاف اس طرح حقیقی کارروائی کی جائے ، جس طرح شام میں کی جا رہی ہے ۔

    شام میں امریکہ کا دہرا کردار بے نقاب ہو چکا ہے ۔ افغانستان اور پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں بھی انتہا پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئےامریکی ڈسپلن سے نکلنا ہو گا اور اس خطے کے ممالک کو دہشت گردی کے خلاف اپنی حکمت عملی بنانا ہوگی ۔ ورنہ اس خطے کے بہتر مستقبل کے لئے جو نئی صف بندی ہو رہی ہے اور نئے منصوبے بن رہے ہیں ، انہیں نقصان ہوگا ۔

    عباس مہکری
    بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘


    0 0

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے امپائر علیم ڈار کو جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان جاری کرکٹ سیریز کے بقیہ میچوں میں امپائرنگ کے فرائص انجام دینے سے روک دیا ہے۔

    آئی سی سی کے امپائروں کے ’ایلیٹ پینل‘ کے رکن علیم ڈار سیریز کے پہلے تین ایک روزہ کرکٹ میچوں میں امپائرنگ کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں اور انھیں چنئی اور ممبئی میں ہونے والے چوتھے اور پانچویں میچوں میں بھی امپائرنگ کرنا تھی۔
     
    کرکٹ کی عالمی تنظیم نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ علیم ڈار کو بقیہ میچوں سے دستبردار کروانے کا فیصلہ ممبئی میں انتہاپسندوں کی جانب سے انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے دفاتر پر حملے کے بعد کیا ہے۔
    بیان کے مطابق ان مظاہرین نے دھمکی دی تھی کہ وہ پاکستانی امپائر کو اتوار کو ممبئی میں ہونے والے پانچویں ایک روزہ کرکٹ میچ میں امپائرنگ نہیں کرنے دیں گے۔
    علیم ڈار کو ہٹانے کے فیصلے پر آئی سی سی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ صورت حال کے پیش نظر، علیم ڈار سے یہ توقع کرنا غلط ہو گا کہ وہ اپنے فرائض اچھی طرح سے نبھا پائیں گے۔‘
    کونسل کے مطابق ان کی جگہ اب کسی دوسرے امپائر کا انتخاب کیا جائے گا اور آئندہ چند دنوں میں اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔‘

    خیال رہے کہ پیر کی صبح بھارت کی ہندو نواز جماعت شیو سینا کے حامیوں نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے روابط بحال کرنے کے لیے بات چیت کرنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کر دیا تھا۔
    اس حملے کی وجہ سے پاکستانی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان اور بی سی سی آئی کے صدر کے درمیان ملاقات بھی نہیں ہو سکی تھی۔


    0 0




    0 0


    0 0




    0 0

    The picture of illiteracy in Pakistan is grim. Although successive governments have announced various programmes to promote literacy, especially among women, they have been unable to translate their words into action because of various political, social and cultural obstacles.

    Official statistics released by the Federal Education Ministry of Pakistan give a desperate picture of education for all, espcially for girls. The overall literacy rate is 46 per cent, while only 26 per cent of girls are literate. Independent sources and educational experts, however, are sceptical. They place the overall literacy rate at 26 per cent and the rate for girls and women at 12 per cent, contending that the higher figures include people who can handle little more than a signature. There are 163,000 primary schools in Pakistan, of which merely 40,000 cater to girls. Of these, 15,000 are in Punjab Province, 13,000 in Sind, 8,000 in North-West Frontier Province (NWFP) and 4,000 in Baluchistan.

    Similarly, out of a total 14,000 lower secondary schools and 10,000 higher secondary schools, 5,000 and 3,000 respectively are for girls, in the same decreasing proportions as above in the four provinces. There are around 250 girls colleges, and two medical colleges for women in the public sector of 125 districts. Some 7 million girls under 10 go to primary schools, 5.4 million between 10 and 14 attend lower secondary school, and 3 million go to higher secondary schools. About 1.5 million and 0.5 million girls respectively go to higher secondary schools/colleges and universities.

    Alarming situation in rural areas

    The situation is especially alarming in rural areas due to social and cultural obstacles. One of the most deplorable aspects is that in some places, particularly northern tribal areas, the education of girls is strictly prohibited on religious grounds. This is a gross misinterpretation of Islam, the dominant religion in Pakistan (96 per cent of the population), which like all religions urges men and women to acquire education.

    The situation is the most critical in NWFP and Baluchistan, where the female literacy rate stands between 3 per cent and 8 per cent. Some government organizations and non-governmental organizations have tried to open formal and informal schools in these areas, but the local landlords, even when they have little or nothing to do with religion or religious parties, oppose such measures, apparently out of fear that people who become literate will cease to follow them with blind faith. Unfortunately, the government has not so far taken any steps to promote literacy or girls= education in these areas. It is even reluctant to help NGOs or other small political or religious parties do the job, because in order to maintain control, it needs the support of these landlords and chieftains who, as members of the two major political parties, are regularly elected to the national assembly.

    "I want to go to school to learn but I cannot because my parents do not allow me to do so," said 9-year old Palwasha, who has visited the biggest city of Pakistan, Karachi, with her parents and seen girls like herself going to school. She lives in a village located in Dir district (NWFP), where education for girls does not exist. "We have only one school for boys," she said, adding, Aone of my friends goes school, but she is now in Peshawar (capital city of NWFP)".

    Work but no school

    Poverty is also a big hurdle in girls' education. According to UNICEF, 17.6 per cent of Pakistani children are working and supporting their families. Indeed, children working as domestic help is a common phenomenon in Pakistan, and this sector employs more girls than boys.
    "Khanzadi, [a 10-year old girl with blue eyes working in a rich neighbourhood of Karachi] is lucky she's with us, her mistress says "We can spare some food and help her grow". But Khanzadi is miserable. Every day when she sees girls like herself going to school she becomes restless, but she has to stay in the house and do all the work.

    Jamila, 11, also works as a domestic servant. At first her job was only to look after the baby , but as she grew older , the other servant in charge of housecleaning and cooking was dismissed and Jamila was asked to do all the work. "I want to go to school like other children, but my parents can't afford it. So I have to work and help support my family, she said. In big cities and towns, people are joining together to send their daughters to school. In any case, because of better facilities, girls' literacy is higher in big cities such as Karachi, Lahore, Islamabad, Rawalpindi, Faisalabad, Hyderabad, Gujranwala, Peshawar and Quetta.

    Ray of hope

    Even though there is a lack of concern on the part of government to promote girls' education, some religious groups, political parties and NGOs are working actively to do so despite all barriers.
    Alkhidmat, a countrywide NGO, is running almost 100 non-formal schools in small villages of Sind, Baluchistan and NWFP Provinces, where not merely girls but adult women are admitted for basic primary education.

    "We think women's education is equally important. When women become literate, they can build a better nation, said Mrs Abida Farheen, a graduate of Karachi university and the head of Alkhidmat's education wing.

    In Sind province, NAZ, a Khairpur-based NGO, is running fifty formal and non-formal girls' schools in the city's outskirts; the NGO Resource Center, a Karachi-based organisation, is operating scores of girls' schools while Green Crescent, another Karachi-based NGO, is running twenty non-formal schools for girls in villages throughout the province. In Punjab, the Al-Ghazali Education Trust, a Lahore-based organization, is operating some 200 formal and non-formal schools, mostly for girls and women, all over the province.

    Government efforts

    The ousted government of Nawaz Sharif had introduced the idea of non-formal education for women throughout the country. To do this, he had established the prime minister's literacy commission and was preparing to set up some 100,000 non-formal schools for girls and women. But now the project is in the doldrums because of the change of government and continuing political instability is seriously jeopardizing its future. Nonetheless, some 1,500 non-formal schools for girls and women, set up under former prime minister Benazir Bhutto and President Zia ul-Haq, continue to function in rural areas.

    Although the media have played an effective role in convincing people to send their daughters to schools, the situation remains dramatic in the villages and small towns where almost 70 per cent of the country's population resides.

    0 0

     Pakistani school children sit in a trolley as they cross a polluted stream on the outskirts of Islamabad.

    0 0

    پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور سکیورٹی کونسل کے ارکان کو بھارتی ایجنسی را کی مداخلت کے بارے میں ٹھوس معلومات اور ثبوتوں پر مبنی جو تین دستاویزات فراہم کی ہیں کیا یہ دستاویزات ’ملزم‘ کو بھی کسی سفارتی بیلف کے ذریعے بھجوائی گئیں؟ یا پھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو ان دستاویزات کا مہر بند اضافی لفافہ تھمایا گیا کہ جس پر لکھا ہو، ’برائے ملاحظہ وزیرِ اعظم شری نریندر مودی معرفت بان کی مون صاحب، ڈاکخانہ خاص نئی دلی۔‘
     
    اگر ایسا کچھ نہیں ہوا تو پھر اس دستاویزی مشقت کا مقصد سوائے اس کے کیا ہے کہ ملزم کے علم میں فردِ جرم لائے بغیر جیوری سے کہا جائے کہ فیصلہ سنائیے۔ اور وہ کیا مصلحت ہے جس کے تحت پاکستانی عوام اور میڈیا کو ان دستاویزات کی تفصیلات سے دور رکھا جا رہا ہے۔ بھارت تو دوست ملک بھی نہیں جس کے بارے میں ’حساس‘ معلومات عام کرنے سے تعلقات خراب ہوجائیں گے۔
    مجھ جیسے یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہیں کہ بھارتی وزیرِ اعظم کے دورہِ امریکہ کے دوران 23 ستمبر کو جاری ہونے والا مشترکہ اعلامیہ پاکستانی میڈیا کی نگاہ سے کیسے اوجھل ہوگیا جس میں امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری اور بھارتی وزیرِ خارجہ سوشما سوراج نے عہد کیا کہ:
    (الف) اوباما مودی ویژن کے مطابق امریکہ بھارت تعلقات کو 21 ویں صدی میں انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری ( پارٹنر شپ ) میں تبدیل کیا جائے گا۔

    (ب) دونوں ممالک متفق ہیں کہ القاعدہ اور اس کے ساتھی، لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد، ڈی کمپنی ( یعنی داؤد ابراہیم )، حقانی نیٹ ورک اور دیگر علاقائی گروہ جنوبی ایشیا کے استحکام کے درپے ہیں۔

    (ج) فریقین مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان 2008 ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔

    (د) دونوں ممالک 27 جولائی کو گورداسپور اور پانچ اگست کو اودھم پور جموں و کشمیر میں دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔
     
    چند روز بعد وزیرِ اعظم نواز شریف سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن امریکہ کے باضابطہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ سلامتی کونسل کے اس مستقل رکن کو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی بھارتی مداخلت سے متعلق تینوں دستاویزات پہلے ہی فراہم کرچکی ہیں۔ نیویارک میں وزیرِ اعظم نواز شریف جان کیری سے پہلے ہی چوبیس منٹ کی ملاقات کر چکے ہیں۔ ہوسکتا ہے انہوں نے امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیے کے بارے میں اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ہو۔

    چند روز بعد جب نواز شریف واشنگٹن میں صدر اوباما اور ان کی ٹیم سے اجتماعی و انفرادی طور پر ملیں گے تو اس کے بعد مشترکہ اعلامیہ بھی جاری ہوگا۔ کیا اس اعلامیے میں یہ ہوگا کہ:

    (الف) اوباما شریف ویژن کے مطابق امریکہ پاکستان تعلقات کو 21 ویں صدی میں انسدادِ دہشت گردی کی شراکت داری ( پارٹنر شپ ) میں تبدیل کیا جائے گا۔
    (ب) امریکہ اور پاکستان متفق ہیں کہ حساس بھارتی اداروں کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت جنوبی ایشیا کے استحکام کے منافی ہے اور اسے فوراً روکا جائے۔

    ( ج) فریقین مطالبہ کرتے ہیں کہ نواز شریف نے جنوبی ایشیا میں قیامِ امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو چار نکاتی فارمولا پیش کیا ہے اس کی روشنی میں بھارت اور پاکستان دو طرفہ بات چیت کا عمل بحال کریں۔
    (د) امریکہ اور پاکستان سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا جلد از جلد پر امن حل نکلے تاکہ جنوبی ایشیا کے عوام پر ترقی کے دروازے کھل سکیں اور علاقے میں جوہری اور غیر جوہری اسلحے کی دوڑ تھم سکے۔

    اگر ایسا یا اس کا بھی آدھا اعلامیہ جاری نہیں ہوسکتا تو پھر اتنی بھاگ دوڑ اور پھرتیاں کس لیے؟ جب صاحب لوگ ( عالمی برادری ) ہی مونچھوں کی تعریف نہ کریں تو اپنے خانسامے، ڈرائیور، مالی، چوکیدار اور آئینے کے سامنے اپنی مونچھوں کو تاؤ دینے کا فائدہ ؟

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام


    0 0


    بس قیامت کا ایک منظر تھا، جو کچھ کتابوں میں قیامت کے متعلق سنا اور پڑھا تھا اسکی ایک ہلکی سی جھلک ضرور محسوس ہوئی۔
     
    زلزے کے ابتدائی جھٹکے جب شروع ہوئے تو میں فوراً کمرے سے نکل کر چھت کے پہلی منزل پر آیا گیا، سوچا کہ تھوڑی دیر کے بعد جھٹکے رک جائیں گے لیکن آ ہستہ آہستہ شدت بڑھتی گئی۔ پھر کیا تھا میں پلک چھپکتے ہی بچے کو ایک ہاتھ میں اٹھا کر نیچے سڑک پر پہنچ گیا تھا اور میری بیوی مجھ سے آگے آگے بھاگ رہی تھی۔

    گھر سے باہر آیا تو ہر طرف گلی میں چیخ و پکار، کلمہ طیبہ کا ورد اور لوگوں کے گھروں سے تیزی سے باہر نکلنے کی آوازیں اور دوردرازوں کی بند ہونے کا شور تھا۔
    ہمارے گھر کے کونے پر واقع ایک عمارت پر موبائل فون کا لمبا ٹاور نصب ہے زلزلے کے دوران وہ ٹاور اپنی جگہ سے ایسے ہل رہا تھا جیسے کوئی جھولا جھولتا ہو۔ لوہے کے بنے ہوئے ٹاور میں چھوٹے چھوٹے تاروں کے شور سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے لوہے کا لمبا ٹاور ابھی گرنے والا ہے۔
    زمین ایسی سِرک رہی تھی جیسے کوئی کسی کو ہاتھ سے پکڑ کر اسے زور سے جھٹکے دے رہا ہو اور یہ سلسلہ تین سے چار منٹ تک جاری رہا۔ ایک وقت مجھے ایسا لگ کہ جیسے خدا نخواستہ ہمارے اردگرد تمام عمارتیں بس گرنے والی ہے۔

    صوبائی درالحکومت پشاور میں خوف کی کفیت بدستور پائی جاتی ہے، آفٹر شاکس کے خوف کی وجہ سے شام کے وقت مختلف علاقوں میں لوگ دیر تک گھروں سے باہر رہے۔
     
    زلزلے کے نتیجے میں پشاور میں ہلاکتوں کی تعداد تو کم ہوئی تاہم لاتعداد افراد زخمی ہوئے ہیں جو ہسپتالوں میں زیرغلاج ہیں
    پشاور شہر میں جانی نقصانات اتنے زیادہ پیمانے پر نہیں ہوئے جس طرح یہاں زلزلے کی شدت محسوس کی گئی۔

    مقامی اور سرکاری ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شہر میں مجموعی طورپر 100 کے قریب گھروں کو نقصان پہنچا ہے جہاں درجنوں کی تعداد میں گھروں کی چھتیں منہدم اور دیواریں گر گئیں۔ پشاور میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق زلزلے کی وجہ سے سب زیادہ خیبر پختونخوا کا ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ باجوڑ متاثر ہوا ہے۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان ضلع چترال ، شانگلہ ، آپر اور لوئیر دیر میں ہوا ہے جہاں ساٹھ سے ستر کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

    ملاکنڈ ڈویژن کے دیگر آٰضلاع سوات اور بونیر میں بھی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم دور افتادہ پہاڑی علاقے ہونے کی وجہ ان آضلاع سے جانی و مالی نقصانات کی مکمل رپورٹ سامنے آنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
    ملاکنڈ ڈویژن میں گھروں کو بھی بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں۔
     
    پشاور کے علاوہ کے پی کے دیگر علاقے بھی متاثر ہوئے، کوہاٹ میں متاثرہ 

    چترال میں مواصلاتی نظام پہلے ہی سے درھم برھم ہونے کی وجہ سے وہاں سے اطلاعات ملنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
    زلزلے کے بعد پشاور سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی ترسل بند رہی جبکہ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سروس بھی معطل رہی۔ صوبے کے مختلف علاقوں سے بدستور رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ 
    ہلاکتوں اور دیگر نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آرہی۔

    رفعت اللہ اورکزئی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام 


    0 0

    Geeta along with Officials from Edhi Foundation meeting with President of India, Shri Pranab Mukherjee at Rashtrapati Bhavan 




    0 0

    گھر بناتے وقت ان لوگوں نے وہ تمام تدابیر کی تھیں جو سیلاب، آندھی اور طوفان میں گھروں کو محفوظ رکھتی ہیں۔ یہ سب صاحبِ حیثیت لوگ ہیں جو گھروں، دفتروں، دکانوں، پلازوں اور دیگر عمارتوں کو بنانے کے لیے ایسے ماہرین کا انتخاب کرتے ہیں جنہوں نے جدید علم کی روشنی میں عمارتوں کو اس طرح ڈیزائن کرنا سیکھا ہوتا ہے جو زلزلے، طوفان اور سیلاب وغیرہ میں قائم رہیں۔ یہ تو اکیسویں صدی کے سائنس پروردہ انسان ہیں۔ زلزلے سے محفوظ عمارات بنانے کا فن تو انسان صدیوں سے جانتا ہے۔

    کوئی حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے آثار مدائنِ صالح میں جا کر دیکھے کہ کیسے انھوں نے پہاڑ تراش تراش کر گھر بنائے تھے جو آج بھی صحیح سالم ہیں، ان پر ہزاروں سال سے آنے والے زلزلوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اللہ فرماتا ہے “ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو ہلاک کر ڈالا، اب یہ گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں”۔ (النمل 51-52)  دنیا میں عبرت کے طور پر موجود جتنے بھی مقام ہیں ان کی ساخت ایسی ہے کہ زلزلوں اور سیلابوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ تاج محل کی پوری عمارت کی بنیادیں نوے فٹ گہری ہیں اور ان کے نیچے 40 فٹ ریت ہے تا کہ اگر کبھی زلزلہ آئے تو پوری کی پوری عمارت ریت کے اندر گھوم جائے اور زلزلہ اس پر اثر انداز نہ ہو۔
    انسان جب سے پیدا ہوا ہے  قدرتی آفات کے مقابلے میں احتیاطی تدابیر کرتا چلا آیا اور اس میں کامیاب بھی ہے۔ لیکن جس وقت یہ آفت اسے گھیر لیتی ہے، اسوقت اسے سوائے اللہ کی ذات کے اور کچھ نہیں سوجھتا۔ یہ سارے لوگ جو آج سائنس کی منطقیں بگھار رہے ہیں، ان سب کو اپنی عمارتوں کے مضبوط ہونے کا مکمل یقین تھا، لیکن گزشتہ زلزلے کے وقت یہ سب کے سب کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں، دکانوں، پلازوں اور دفتروں سے ایسے بھاگ رہے تھے جیسے سیلاب میں چوہے بلوں سے نکل کر بھاگتے ہیں۔

    اس وقت نہ کسی کو سائنس کی دنیا یاد آئی، نہ اس بات پر بھروسہ اور ایمان قائم رہا کہ یہ عمارت تو زلزلہ پروف ہے۔ اللہ کی بدترین نافرمانی اور گناہ میں مشغول افراد بھی اسی کا ورد کرتے گھروں اور علاقوں میں موت کے خوف سے بھاگتے پھر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی یہ آفت تھمی ہے فوراً  ارضیات اور فزکس کی کتابیں کھول کر ہر کسی سے بحث کر نے لگے کہ یہ سب تو ایک معمول کی کاروائی ہے جو وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس کا تعلق اللہ کے غصے اور ناراضی سے کیسے ہو گیا۔
    موجودہ سیکولر علم کی بنیاد دو اصولوں پر ہے۔ پہلا ہر وہ چیز جسے تجربے اور مشاہدے کے بعد درست ثابت کر دیا جائے اسے سچ مان لیا جاتا ہے۔  جسے وہ سائنسی سچائی  کہتے ہیں اور دوسرا اصول یہ ہے کہ اس دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ اس تصور کو علت و معلول  کہتے ہیں۔ سائنسی تحقیق زلزلے کے بارے جو منطق پیش کرتی ہے، وہ سائنسدانوں کے مشاہدے پر مبنی ہے کیونکہ زمین کی بالائی سطح جسے کہتے ہیں ابھی تک انسان اس کے رازوں سے بھی آشنا نہیں ہو سکا جب کہ اس کے نیچے آگ کا کھولتا ہوا سمندر ہے جس تک رسائی یا اس کے اندر آنے والی تبدیلیوں تک پہنچنا تو ایک خواب لگتا ہے۔

    مشاہدات اور سائنسی منطق کی بنیاد پر زمین کی بالائی سطح جو چند کلو میٹر موٹی ہے اس کے بارے میں ایک سائنسی کہانی  مرتب کی گئی ہے کہ اس بالائی سطح کی مختلف بڑی بڑی پلیٹیں ہیں جو آہستہ آہستہ سرک رہی ہیں اور صدیوں سے سرکتی چلی آ رہی ہیں۔ ایک دن ہندوستان کی پلیٹ چین اور یورپ کی بڑی پلیٹ سے ٹکرائی تھی تو اس کے نتیجے میں ہمالیہ اور دیگر پہاڑ وجود میں آ گئے تھے۔ ظاہر ہے ان پلیٹوں کو مناسب طریقے سے کاٹا تو نہیں گیا تھا اس لیے اوپر سے تو سب مل گئے، لیکن نیچے خلا باقی رہ گئے۔ ان خلاؤں کو جیالوجکل فالٹ کہا جاتا ہے۔

    چونکہ پلیٹیں مستقل حرکت کر رہی ہیں اس لیے جب کبھی یہ حرکت تیز ہو تی ہے تو زلزلہ آ جاتا ہے۔ اس تھیوری کو سچ ثابت کرنے اور اس حرکت کو ناپنے پر ابھی کام جاری ہے۔ سب مفروضے ہیں۔ سیکولر علم کا ایسے موقع پر ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ یہ نیچر کی بھول بھلیاں  ہے اور ہماری جستجو جاری ہے۔ سیکولر علم کی بنیاد پر سوچنے والا ایک تصور بنا لیتا ہے کہ اللہ بھی اپنے کسی ارادے کو تکمیل دینے کے لیے اسباب کا محتاج ہے۔

    جب کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا دعویٰ ہے کہ وہ خالق اسباب ہے۔ وہ “باری” ہے یعنی ایسا مصور اور تخلیق کار جس کے پاس اسباب نہ ہوں، تو بھی وہ خلق کرتا ہے۔ اسی لیے نہ تو ہمیں اللہ کے تصورِ عذاب کی سمجھ آتی ہے اور نہ ہم سے اس کی اس دینا پر آفتیں اور مصیبتں نازل کرنے کی گتھی سلجھائی جاتی ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ دنیا جزا و سزا کی دنیا نہیں ہے۔ یہ تو ایک امتحان کا عرصہ ہے۔ جزا و سزا کے لیے تو ایک دن مقرر ہے جسے روزِ محشر کہتے ہیں۔

    اسی لیے اللہ زمین پر نازل کی جانے والی آفت یا عذاب کا مقصد خود بیان کرتا ہے۔ “اور ہم انھیں لازماً مزہ چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے قبل، شاید کہ یہ رجوع کر لیں” ۔ (السجدہ21: )۔  یہاں وہ کسی فرد پر عذاب نازل نہیں کرتا بلکہ پورے گروہ یا قوم میں سے کسی کو استثنیٰ نہیں دیا جاتا۔ وہ فرماتا ہے: “اور ڈرو اس وبال سے جو تم میں سے صرف ظالموں کو ہی لاحق نہیں ہو گا”۔ 
    (الانفال:25 ) یہ بھی اسی کا اختیار ہے کہ وہ کبھی کبھی نیک لوگوں کو اپنے عذاب سے خاص طور پر محفوظ رکھتا ہے اور اس میں بھی صرف ایسے لوگوں کو اللہ بچاتا ہے جو لوگوں کو برائی سے روکتے رہے تھے۔” ہم نے بچا لیا ان لوگوں کو جو برائی سے روکتے تھے”۔

     الاعراف:165 ) اس آیت کے آغاز میں اللہ ان لوگوں کا بھی ذکر کرتا ہے جو لوگوں کو کہتے تھے: “تم ان لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا سخت عذاب دینے والا ہے” ۔ (آلِ عمران:164) اللہ نے برائی پر خاموش رہنے والوں کو بھی عذاب میں مبتلا کر دیا۔ برائی سے روکنے والوں کا استثنیٰ بھی اللہ کا اپنا فیصلہ ہے، وہ چاہے تو بچائے اور چاہے تو ہلاک کر دے، اس لیے کہ موت صرف ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقلی کا نام ہے اور روزِ قیامت عذاب کے دوران ہلاک ہونے والے فرداً فرداً پیش ہوں گے۔

    جس کے اعمال اچھے ہوں گے وہ جنت میں جائے گا اور جس کے اعمال برے ہوں گے وہ جہنم کا مزہ چکھے گا۔ یہ ہے وہ فلسفہ جس کے تحت اللہ لوگوں کو جھنجھوڑنے اور اپنی جانب لوٹ آنے کے لیے عذاب نازل کرتا ہے۔ وہ تو کسی ظالم بادشاہ کو بھی اپنا عذاب ہی کہتا ہے اور پھر قوموں کو یاد دلاتا ہے کہ میں نے اس ظالم سے تمہیں نجات دلائی” جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر بڑی بلا (امتحان) تھی” ۔ (البقرہ:49 ) لیکن علت و معلول اور سائنسی سچائی کو حرف آخر سمجھنے والے اس سب کو دنیا کے عوامل سمجھتے ہیں۔

    اسی لیے جب کہا جاتا ہے کہ عذاب میں اللہ کی طرف رجوع کرو، اس سے اجتماعی استغفار کرو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ لیکن میرا اللہ تو حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی مثال دے کر شدید خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ قومیں اس سے اجتماعی توبہ کریں۔ یونس ؑ کی قوم اجتماعی طور پر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو گئی تھی اور اللہ نے عذاب ٹال دیا تھا۔ اللہ فرماتا ہے:  “بھلا کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایسے وقت ایمان لے آتی کہ اس کا ایمان اسے فائدہ پہنچا سکتا۔

    البتہ صرف یونسؑ کی قوم کے لوگ ایسے تھے۔ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دینوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے اٹھا لیا اور ان کو ایک مدت زندگی کا لطف اٹھانے دیا”۔ ( یونس:98) یہ ہے قوموں اور نبیوں سے اللہ کی شدید خواہش۔ لگتا ہے ہم اللہ کی خواہش پر، اس کے سامنے جھکنے پر ابھی تک راضی نہیں۔ زلزلے کے بعد ایک صاحبِ نظر سے درخواست کی کہ اس قوم کے لیے رحم کی دعا فرمائیں، فرمانے لگے یہ اللہ کے سامنے جھکنے کو تیار ہیں۔ شاید نہیں، ہر کوئی خوفزدہ ہے، صاحبانِ نظر کانپ رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ زلزلہ تو ایسے تھا جیسے چوٹ لگانے کے لیے ہتھوڑے کی نشانی لی جاتی ہے اصل چوٹ سے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ کاش ہم حضرت یونس کی قوم جیسے ہو جائیں اور اللہ ہمیں زندگی سے لطف اٹھانے کا موقع فراہم کر دے۔

    اوریا مقبول جان 



    0 0

    جس صبح میں جھیل سیف الملوک کو منجمد حالت میں دیکھنے اور برف میں آوارگی کی غرض سے نکلا، اس دن دور ہندوکش کے پہاڑوں پر جاتے جاتے پھر سے برف پڑ چکی تھی۔ گاڑی چکراتے ہوئے پہاڑوں پر دوڑتی رہی۔ سفر شروع ہوا۔ وادی ٔکاغان کا نام کاغان نامی قصبے سے پڑا۔ دریائے کنہار اس وادی کے قلب میں بہتا ہے۔ یہ وادی 2134 میٹر سے درۂ بابوسر تک سطح سمندر سے 4173 میٹر تک بلند ہے اور 155 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔

     مذکور علاقہ جنگلات اور چراگاہوں سے اٹا ہوا ہے اور خوبصورت نظارے اس کو زمین پر جنت بناتے ہیں۔ یہاں 17 ہزار فٹ تک بلند چوٹیاں بھی واقع ہیں، جن میں مکڑا چوٹی اور ملکہ پربت شہرت کی حامل ہیں۔ میری منزل ناران نہیں بلکہ برف میں ڈھکی جھیل سیف الملوک تھی کہ جس کی برف ابھی تک نہیں پگھلی تھی، اور آدم زاد بڑی محنت اور تپسیا کے بعد ہی پہنچ سکتا تھا، برف سے نبرد آزما ہو کر اپنی قوتِ ارادی کے طفیل۔ ناران بازار سے گزر کر تھوڑا آگے ایک راستہ بلندی پر واقع دیدہ ور مقام لالہ زار کی طرف مڑ جاتا ہے۔ 
    یہ تنگ اور خطرناک جیپ ٹریک ہے مگر منزل پر پہنچ کر مسافر کی خوشی کا ٹھکانہ بھی نہیں رہتا۔ چیڑ کے لمبے درختوں میں گھِرا قدرے ہموار میدان سا جس میں سرسبز فصلیں کھڑی ہوتی ہیں۔ یہاں آلو اور لوبیا کی فصل زیادہ کاشت ہوتی ہے۔ چار گھنٹوں کی مشقت کے بعد جھیل نے اپنی جھلک دکھائی اور یوں دکھائی کہ میں ساکت ہو کر رہ گیا۔ ہر سو سفیدی تھی۔ جھیل نہ تھی بلکہ برف کا میدان تھا۔ جھیل تو کہیں برفوں کی تہہ کے نیچے تھی، پردہ کیے ہوئے۔ عقب میں اور اردگرد جو پہاڑ تھے وہ بھی سفید چادر اوڑھے کھڑے تھے۔ 

    ایک ہوٹل کی سرخ چھت سارے منظر میں واحد رنگ تھا، باقی سارا جہان برف کے نیچے تھا۔سیف الملوک کے برفانی میدان کو دیکھتے دیکھتے اس کے کناروں پر پہنچا اور وہیں اپنا کیمپ لگا کر لیٹ گیا۔ تھکاوٹ سے برا حال تھا اور دھوپ کی شدت ایسی تھی کہ برف سے بھی تپش نکلتی جو جِلد کو جلانے لگتی۔ سانس بھی کم کم آتا تھا۔ کیمپ میں لیٹ کر وقت گزارتا رہا کہ مجھے جھیل کو شام کی ہلکی روشنی میں دیکھنا تھا اور ہو سکے تو پورے چاند کی رات میں ایک جھلک دیکھنا چاہتا تھا۔
     گائیڈ ہر گھنٹے بعد آ کر بولنے کی کوشش کرتا ’’چچ چچ چ چ چ چ چلیں صاحب‘‘تو میں جملہ پورا ہونے سے پہلے ہی آنکھیں موندے کیمپ میں پڑے کہہ دیتا ہاں چلتے ہیں کچھ دیر بعد۔۔۔! سارا دن کیمپ میں لیٹا اسی جھیل کی یادوں میں گزار دیا کہ جب گرما میں آنا ہوتا تو کیسی رونق اس کے کناروں پر ہوتی، لوگوں کی چہل پہل، ٹھیلے والوں کی آوازیں، کشتی بانوں کی تانیں، بدرالجمال کی کہانی سنانے والوں کی سرگوشیاں۔ جھیل کے کناروں پر موجود گندگی، جوس کے خالی ڈبے، کافی اور چائے کے خالی کپ، آئس کریموں کے ریپرز، بچوں کے پیمپرز۔ 

    اب سب گندگی برف کی تہہ کے نیچے تھی۔ جھیل سیف الملوک کے ساتھ لوگوں نے ایسا سلوک کیا ہے کہ کوئی دشمن سے بھی نہ کرے۔ گندگی کی وجہ سے اس جھیل کی رفتہ رفتہ موت واقع ہو رہی ہے اور اس کا حسن گہنا رہا ہے۔ شام ڈھلی اور چاند نکلا۔ جھیل مکمل منجمد تھی۔ سیف الملوک پر چاند ٹِکا تھا۔ پورا چاند۔ چاندنی نے برف پوش پہاڑوں اور جھیل جو کہ ایک کھلا برفانی میدان ہی لگتی تھی، کو ایسے اجال دیا تھا کہ منظر کی چکاچوند آنکھوں کو خیرہ کرتی تھی۔ میرے پیروں کے نیچے سے لے کر چاند تک بس سفیدی ہی سفیدی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا کہ جھیل اور اردگرد کے پہاڑوں نے ایک ہی سفید چادر اوڑھ رکھی ہو۔ ایک جادوئی داستان۔ بدر الجمال کی کتھا میری آنکھوں کے سامنے جاری تھی مگر پری ناپید تھی صرف دیو تھا۔ دیو بھی حیرت زدہ۔ گنگ۔ خاموش۔ چٹکی ہوئی چاندنی میں ستارے دھیمے دھیمے ٹمٹما رہے تھے۔

    احمد مشتاق کا شعر ذہن میں مسلسل گونج رہا تھا: چاند بھی نکلا ستارے بھی برابر نکلے مجھ سے اچھے تو شبِ غم کے مقدر نکلے سیف الملوک کی برفانی اور اداس تنہائی میں دو آدم زادوں کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ بس اسی منظر کی چاہ میں چار گھنٹے برف سے نبرد آزما ہوتے اور چڑھائی چڑھتے، رکتے، گرتے، پڑتے، سارا سفر کیا تھا جو اب آنکھوں کے سامنے تھا۔ ناران بازار سے جھیل تک کا ٹریک اتنا چڑھائی والا ہوگا سوچا نہ تھا مگر اسی منظر کی دھن مجھے آگے بڑھنے پر اکساتی رہی تھی۔ میں منجمد جھیل دیکھ کر ساکت رہ گیااور پھر منظر ناقابل برداشت ہوتا گیا۔ دیوانگی بڑھنے لگی اور سردی بھی۔

     غرق ہونے یا ڈوب مرنے کو کہیں پانی بھی نہیں تھا۔ میرے گائیڈ کی چ چ چچ چچ کی فریکوئنسی بھی تیز ہو چکی تھی۔ اب کی بار وہ ’’چ‘‘ کے ساتھ چلیں نہیں بلکہ ’’چیتا‘‘ کہتا رہا تھا۔ اسے ڈر تھا یا مجھے ڈرا کر واپس لے جانا چاہتا تھا کہ یہاں چیتا بھی آ سکتا ہے اور میں کسی بھی ڈر کے زیر اثر نہیں آ رہا تھا۔ میں اپنے آپ میں نہیں تھا۔مجھے بھی ان برفانی دیواروں سے اب کون اتارتا۔ ہکلا تو مقامی تھا، وہ پھسلتا اور برف پر سلائیڈ بناتا جاتا۔ پھر نیچے پہنچ کر مجھے اشارے کرنے لگتا کہ میں بھی سلائیڈ لیتا نیچے آؤں۔ 

    پہلے پہل تو میں شرمایا بھی، گھبرایا بھی، لیکن اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا، اور ویسے بھی آس پاس کون دیکھنے والا تھا کہ فنکار صاحب بچوں کی طرح کھلے میں برف پر سلائیڈ لے رہے ہیں، چنانچہ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ جھیل سیف الملوک سے بہہ کر آتے نالے کے ساتھ ساتھ چلتے ایک سرد آہ نکلی اور پانی کے کناروں پر بہتی نمزدہ ہَوا میں جذب ہو گئی۔ آنکھیں جلنے لگی تھیں۔ برف کے سفر اور تھکن کا اثر ہو گا شاید۔ واپسی کے سفر کی اداسی شاملِ حال بھی ہونے لگی۔

     گزر چکے اپنوں کی یاد بھی ستانے لگی تھی۔ ایسا لگنے لگا جیسے صبح سے اب تک صرف ایک ہی کیفیت رہی ہو۔ اداسی۔۔۔! میں جب بھی دور دراز کے سفر سے تھکا اپنے بستر پر پڑا اپنے بدن کو سہلاتا ہوں کہ جس میں جگہ جگہ سے ٹیسیں اٹھ رہی ہوتیں ہیں، اور ٹانگوں کے پٹھے کھنچے جا چکے ہوتے ہیں، تو جھیل سیف الملوک کا چاندنی نہایا منظر یاد کر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلنے لگتی ہے۔ ساری تکلیف بھول جاتی ہے۔

    مہدی بخاری
     


    0 0

    اقبال نے ایک جانب اپنی شاعری میں مغرب کے حوالے سے یہ سوال اٹھایا ہے:
    کب ڈوبے کا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
    اور دوسری جانب یہ اعلان کیا ہے:

    تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
    جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

    اقبال کے تمام تر احترام کے باوجود بہت سے لوگوں کو اقبال کی یہ بات ”شاعرانہ“ محسوس ہوتی ہے۔ شاعرانہ سے ان کی مراد خواب و خیال کی بات ہے۔ یہ بھی رعایت ہے۔ اقبال کے سوا یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی تو لوگ اسے پاگل کہتے۔ لیکن اقبال کے علم اور ان کی شخصیت کا رعب ایسا ہے کہ کہنے والے اقبال کی بات کو شاعرانہ کہہ کر رہ جاتے ہیں۔

    البتہ کچھ لوگ اس سے ذرا آگے جاکر یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ آخر مغربی تہذیب کب خودکشی کرے گی؟ اقبال کی پیشگوئی کو زیادہ نہیں تو 60 برس تو ہو ہی گئے ہیں مگر مغربی تہذیب کی خودکشی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ اس بات پر یہ اضافہ بھی اکثر کردیا جاتا ہے کہ مغرب برا سہی مگر وہ پوری دنیا پر غالب ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی قابل قدر بات بھی ضرور ہوگی۔ چنانچہ مغرب کے ناقدروں کو فرصت ملے تو انہیں اس بات کا جائزہ لے لینا چاہیے۔

    اقبال کا یہ شعر سیدھا سادا ہے اور اس کے کم و بیش تمام ہی قاری سمجھتے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے ہیں‘ لیکن ہمارے قلوب‘ نفوس اور اذہان کی جو حالت ہے اس کی وجہ سے سیدھی باتیں ہماری سمجھ میں مشکل ہی سے آتی ہیں‘ البتہ تمام ٹیڑھی باتیں ہم فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ چنانچہ اقبال کے اس شعر پر ایک بار پھر غور کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس شعر کو کسی اور طرح سمجھا ہو۔

    اس شعر کے مصرعہ اولیٰ کا کلیدی اور اہم ترین لفظ ”خنجر“ ہے۔ یہاں خنجر کا مطلب ”ہتھیار“ ہے اور ”ہتھیار“ دفاع کے لیے ہوتا ہے‘ خودکشی کے لیے نہیں۔ لیکن یہاں اس کا مصرف الٹ گیا ہے۔ دفاع کے لیے رکھی گئی چیز خودکشی کے کام آرہی ہے۔ اس کا مفہوم کیا ہے؟

    آپ کو فرعون کا قصہ یاد ہے‘ اسے اپنی تین قوتوں پر بھروسا تھا: جادو‘ فوج اور اس کا عجیب الخلقت خواب۔ اور جب اس کی یہ تینوں قوتیں ناکام ہوگئیں تب اس پر منکشف ہوا کہ وہ پہلے دن سے غلط تھا۔ مطلب یہ کہ اس کے ہتھیار ہی اسے لے ڈوبے‘ اور جب غفلت کا پردہ اٹھا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔ اس سلسلے میں قرآن پاک کی تعلیم یہ بتاتی ہے کہ وہ غافلوں کی رسّی دراز کرتا ہے تاکہ انہیں اپنے درست ہونے کا پورا یقین ہوجائے‘ اور جب یقین پختہ ہوجاتا ہے تو پھر وہ رسّی کھینچ لیتا ہے۔ اقبال کے اس مصرعے کا ایک پہلو تو یہ ہے۔

    دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہاں خنجرکا لفظ مغرب کے لیے لغت اور محاورے دونوں اعتبار سے درست ہے۔ لغوی اعتبار سے یہ مغرب کی عسکری قوت کی علامت ہے جو مغرب کا ”امتیاز“ ہے۔ محاورے میں یہاں خنجر سے مراد مغرب کی قوت کے تمام مظاہر ہیں.... اس کی فوجی و اقتصادی قوت‘ اس کے علوم‘ اس کے فنون۔ اس اعتبار سے اقبال کے اس مصرعے کا مفہوم یہ ہے کہ جو چیزیں بظاہر مغرب کے عروج کا باعث ہیں اس کا زوال بھی انہی سے برآمد ہوگا۔

    اقبال کے اس شعر کے دو مصرعوں کا باہمی تعلق یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں ایک دعویٰ ہے: تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی۔ اور دوسرے مصرعے میں اس دعوے کی دلیل ہے: جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کے اس مصرعے میں ”شاخِ نازک“ سے مراد کیا ہے؟

    صرف ایک.... سرتاپا انسانی ساختہ نظام۔ یعنی Men made system۔ مسلم دنیا میں ایسے احمقوں کی کمی نہیں جو فرماتے ہیں کہ دنیا کا ہر نظام ہی انسانی ساختہ ہے‘ کیا قرآن و حدیث کی تعبیر کرنے والے انسان نہیں ہیں؟

    کیا فقہی نظام مرتب کرنے والے ائمہ اربعہ انسان نہیں تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں نظام کے اصول تو آسمانی ہیں‘ مغرب میں تو اصول بھی انسانی ساختہ ہیں اور خود نظام بھی۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اسلام میں بلاشبہ نظام بنانے والے انسان ہی ہوتے ہیں مگر ایسے انسان جن کے قلوب و اذہان پر وحی و الہام کی کیفیات کا غلبہ ہوتا ہے‘ چنانچہ ان کی انسانی کاوش بھی اس طرح ”انسانی“ نہیں رہتی جس طرح مغرب میں ہوتی ہے۔ اس طرح اقبال کے مصرعے کا مفہوم یہ ہواکہ مغرب کا پورا بندوبست انسانی ساختہ ہے‘ چنانچہ وہ پائیدار ہو ہی نہیں سکتا‘ اس کی تعمیر میں ہی خرابی کی صورت مضمر ہے۔ تو پھر مغرب کا غلبہ؟

    اس لفظ کے معنی تناظر کے ساتھ بدل جاتے ہیں۔ سو نہتّے لوگوں کے سامنے ایک شخص پستول لے کر کھڑا ہوگیا اور ان پر حکم چلانے لگا۔ اس صورت ِحال کو غلبہ کہا جاتا ہے۔ مگر کیا یہ واقعتاً غلبہ ہے؟ ہم نے مغرب کی سیکڑوں چیزوں کو اختیار کرلیا۔ کیا یہ غلبہ ہے؟ بھلا کون ہے جو نقالی کو غلبہ کہے گا؟ تہذیب اور نظام کے حوالے سے غلبے کا صرف ایک مفہوم ہے‘ اور وہ یہ کہ ہم اسے کافی یا Adequate سمجھنے لگیں۔

    لیکن اقبال کے الفاظ میں جس تہذیب کے علوم کی بنیاد ”محسوس“ پر ہو وہ اس تہذیب کے لیے کیسے کافی ہو سکتی ہے جس کے دائرے میں ”محسوس“ کُل کا محض ایک جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی شعور نے پہلے دن سے مغرب کی مزاحمت کی ہے اور ایک چھوٹا سا طبقہ مکمل طور پر مغرب کے زیراثر گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مغرب کا غلبہ کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے؟

    رہا یہ سوال کہ مغرب باقی یا کہنے والوں کے الفاظ میں غالب ہے تو اس میں کوئی تو قابلِ قدر چیز ہوگی؟ اس سوال کا جواب اس سطح پر موجود ہی نہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ یا تو مغرب کے اصول اور اس کی نہاد درست ہے یا غلط ہے۔ غلط ہے تو اصول کی وضاحت اور تفصیل بھی غلط ہوگی۔ اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ محض باقی رہ جانے سے کسی چیز کا قابلِ قدر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ حضرت نوحؑ ساڑھے نو سو سال تک تبلیغ کرتے رہے مگر اکثریت گمراہی پر اصرار کرتی رہی۔ تو کیا اس بنیاد پر یہ کہا جائے کہ اس کے اصرار میں یقینا کوئی قابلِ قدر بات ہوگی! ایسی بات جو انسانوں کو سیکھنی چاہیے۔ لیکن اس مسئلے کو سمجھنے کی ایک بلند سطح بھی ہے۔

    اسلام اور جدید مغربی فکر کے درمیان وہی تعلق ہے جو غیب اور ظاہر کے درمیان ہوتا ہے۔ اسلام کے غیب کا ظاہر بھی ہے‘ لیکن مغرب کے ظاہر کا کوئی باطن نہیں۔ تاہم اس سے قطع نظر اسلام کی اصل غیب پر ہے اور اس کی شہادتیں بھی ایک تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہیں۔ لیکن مغرب تو سرتاپا ظاہر ہے اور ظاہر میں خواہ معنی بالکل بھی نہ ہوں مگر وہ فوراً ہی انسان کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے۔ مغرب کی ”دلکشی“ کی اس کے سوا کوئی حقیقت نہیں۔ یہ ایسی بات ہے جیسے بلندی کی طرف سفر دشوار ہوتا ہے اور پستی کی طرف آسان۔ اس سفر میں انسان کو اپنی قوت صرف نہیں کرنی پڑتی‘ پستی کی کششِ ثقل خود ہی اسے اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔

    اب اگر کسی کو اس کی عادت ہوجائے تو پھر وہ بلندی کی طرف سفر کے قابل ہی نہیں رہ جاتا۔ اگر یہی مغرب کی قابلِ قدر بات اور قابلِ قدر اہلیت ہے تو اس سے خدا ہی بچائے۔ اس پر بہرحال کسی معقول شخص کی رال تو کم از کم نہیں ٹپک سکتی۔ لیجیے بات کہاں سے شروع ہوئی تھی اور کہاں آپہنچی۔ اقبال کی شاعری کا یہی کمال ہے‘ وہ قاری کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتی ہے۔

    عشق کی تقویم میں عصر رواں کے سوا
    اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

    شاہنواز فاروقی



    0 0
  • 11/01/15--01:50: مجرم کو سزا

  • 0 0




    0 0



older | 1 | .... | 57 | 58 | (Page 59) | 60 | 61 | .... | 149 | newer