Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 49 | 50 | (Page 51) | 52 | 53 | .... | 149 | newer

    0 0


    0 0



    0 0

    Kashmiri Muslim orphans wait to eat Iftar, the meal traditionally taken after sunset prayers to break the Ramadan daily fast, at the Jammu and Kashmir Orphanage at the Bemina crossing in Srinagar, the summer capital of Indian Kashmir.

    0 0

    ’ملک سے غداری اورقتل دو ایسے جرائم ہیں جو سب جرائم سے زیادہ سنگین، حتی ٰکہ قومی خزانے کی لوٹ مار، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور منی لانڈرنگ جیسے بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز( جو نیم غداری کے مترادف ہیں کہ ان سے کروڑوں لوگوں کے حقوق غصب ہوتے ہیں) پر بھی بھاری، لیکن یہ جس قدر حساس جرائم ہیں، انہیں عائد کرنے اور ان پر مقدمہ قائم کرنے میں بھی اسی درجے کی ذمہ داری، احتیاط اور واضح قانونی جواز کی موجودگی لازمی ہے‘‘۔ 

    پاکستان کے چونکا دینے والے حالات حاضرہ کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ خاکسار کے متذکرہ بیانیے سے شروع ہوتا ہے، جو آج کے کالم کی روح ہے، بیانیے کی حقیقت کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا حساس بیان کئے گئے جرائم (قتل و غداری) پھر بھی یوں سمجھیں کہ اگر اپنے آپ سے ہی سوال کریں کہ اگر کوئی آپ کو قتل کرکے آپ سے جینے کا حق چھین لے اور آپ کے لواحقین میں زندگی بھر کے لئے ایک اذیت ناک خلا، پیدا کردے تو اسے سزا ملنی چاہئے؟ اور اگر کوئی شہری، لوگوں کا گروہ یا تنظیم یا اس کے ذمہ داران دشمن ملک سے ساز باز کرکے مالی وسائل حاصل کرے اور اپنے ہی ملک میں دہشت پھیلائے، اسے غدار قرار دینا چاہئے یا نہیں؟

    اگر جواب’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر اسے قانون کی روشنی میں سزا بھی ملنی چاہئے؟ جواب پھر ہاں میں ہے تو متذکرہ بیانیہ، ناقابل ردحقیقت ہے، ایسی کہ جسے ملزم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وضاحت طویل ہوگئی، آپ جان گئے ہیں کہ ملکی حالات حاضرہ کے کس موضوع کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ لکھا گیا۔ کراچی میں غیر معمولی گرمی کی لہر کی قدرتی آفت، شہر کو کرپشن سے غداب میں تبدیل کردینے، سندھ حکومت کے تباہ کن کرتوت اور اس کے دفاع کے لئے کھسک جانے والے لیڈر کی للکار، سب سے بڑھ کر ایم کیو ایم کی قیادت کے بھارت سے فنڈز وصول کرنے اور وہاں کارکنوں کو تربیت دلانے کے الزامات پر مبنی بی بی سی کی ڈاکومنٹری میڈیا کے ایجنڈے اور سیاسی ابلاغ میں چھائے ہوئے ہیں۔
     ان میں سے آخر ا لذکر، سول ،ملٹری قیادت کے لئے ایسا مشکل چیلنج بن گیا ہے کہ انہیں ہر غدار کا کڑا احتساب تو لازماً کرنا ہی ہوگا۔ سندھ حکومت کی ایک سے بڑھ کر ایک کرپشن کہانی بے نقاب ہونے پر جس طرح خبروں میں بیان کئے گئے ذمہ داران دبئی سدھارے ہیں اور جس آزادی سے انہیں جانے دیا گیا ہے۔

    اس صورت حال سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات سے عوام کو آگاہ کرنا بھی اب سرگرم قیادت کے لئے ایسا چیلنج ہے جس سے وہ منہ موڑ نہ پائے گی۔ معاملہ بہت واضح ہے، یہ فقط روایتی بلیم گیم نہیں کیونکہ ایم کیو ایم کے اہم ذمہ داروں پر چونکا دینے والے الزام ہیں جس میں برطانیہ کا مرکزی کردار ہے جو اپنے ایک شہری کے قتل کے الزام میں دوسرے شہری کے خلاف تحقیق کی آخری حد تک جارہا ہے کہ یہ اس کے شہرہ آفاق نظام انصاف کے اعتبار کا معاملہ ہے۔ تحقیق کے دوران ہی ایک اور جرم منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا جس کی زد میں پاکستانی سیاسی جماعت کے خود ساختہ جلا وطن رہنما آگئے، برطانیہ کو لندن میں ہونے والے پاکستانی نژاد شہری کے قتل کا کھوج لگانے کے لئے حکومت پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے کہ قتل کے مبینہ اور معاون ملزمان اس وقت اس کی حراست میں ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان کے خلاف غداری کا ارتکاب بھی لندن میں ہوا ہے جس کے الزام کا رخ پاکستانی سیاسی جماعت کے لندن بیسڈ قائد کی طرف ہے۔ خبروں کے مطابق الزامات کی مضبوط شہادتیں دینا خصوصاً پاکستانیوں کو چونکا دینے والی کہانی کا سنسنی خیز حصہ ہے۔ سو پاکستان کو بھی حقائق تک پہنچنے کے لئے برطانیہ کا تعاون ناگزیر ہے کہ پاکستان سے غداری کی جو کھچڑی مبینہ طور پر 1994ء سے تیار ہورہی ہے، وہ لندن میں ہورہی ہے۔ معاملہ صرف ملزموں تک پہنچ کا ہی نہیں، بھارت کے پاکستان دشمن کردار کو بے نقاب کرنے کی شدید سفارتی ضرورت کا بھی ہے۔ اب چونکہ دونوں حکومتیں (برطانیہ اور پاکستان کی) ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہیں، سو کہانی انجام کی طرف بڑھتی معلوم دیتی ہے۔

    انجام دہی بہتر ہونا ہے جو منطقی ہو۔ برطانیہ تو یہاں (منطقی انجام) تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،اسٹوری واضح ہونے کے باوجود پاکستان کیلئے منطقی انجام تک پہنچنا ایک کار محال ہے جبکہ اس سے حسب روایت جان بھی نہیں چھڑائی جاسکتی۔ ایک تو معاملہ ملکی سلامتی کا ہے، جو اصل میں حکومت پر شدید عوامی دبائو کی شکل میں آئے گا جو بذریعہ میڈیا پڑے گا۔ یقیناً یہ ایک مشکل چیلنج ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کی ایک پارلیمانی طاقت سے جڑتا ہے لیکن چیلنج ناگزیر ہے۔ حکمت عملی پر بہت انحصار کرنا ہوگا، خود ایم کیو ایم کی یہ شدید ضرورت بن گئی ہے کہ الزام کی تحقیق ہو اور یہ قانون کی روشنی میں اپنے اصلی انجام کو پہنچے، وگرنہ ایم کیو ایم خود اپنے لئے کراچی اور پورے ملک کے لئے ایک ’’اذیت ناک‘‘ ’’سیاسی طاقت‘‘ کے طور پر ہی رہے گی۔ اس کا اپنا شفاف ہونا ہی اب اس کی بقاء کا واحد ساماں ہے۔ یہ تو تھا ’’غداری کی کہانی‘‘ کا ایک تجزیہ۔

    جہاں تک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی شدیدکرپشن اور نااہلیت کا معاملہ ہے، یہ بھی دہشت گردی کی کتنی ہی شکلوں سے جڑ گئی ہے۔ سو یہ اس کی بیخ کنی کے لئے سرگرم سول، ملٹری قیادت کے لئے ایک اور مشکل چیلنج ہے اور ناگزیر بھی کہ اب کسی صورت کراچی کو نااہل اور اس قدر کرپٹ حکمرانوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پی پی حکومتوں نے وفاق اور سندھ میں اقتدار کی باریاں لے کر پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی فقط ایک تصویر پی پی کے قیام سے آج تک خیر خواہ سینئر ایڈیٹر اور کالمسٹ نے اپنے حالیہ کالم میں دکھائی ہے۔

     چند دن سے پی پی کے کتنے ہی لیڈروں کی ملک سے اڑان پر رقمطراز ہیں’’سندھ میں بی بی شہید کے خون کے صدقے چند نشستیں مل گئیں، جن کے بل بوتے پر وہ اور ان کا خاندان سندھ پر راج کرتے رہے۔ بہن نے پارٹی پر کنٹرول کیا، بھائی نے صوبہ مٹھی میں لیا اور پھر جس فن میں زرداری صاحب کی شہرت تھی، انہوں نے پوری مہارت سے اس کا مظاہرہ کیا۔ اب زرداری خاندان پاکستان کے نقد سرمایے رکھنے والے خاندانوں میں سرفہرست ہے۔ بیرونی جریدوں کے مطابق کو میاں منشا کو امیر ترین آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن تاثر ہے کہ جتنی دولت زرداری خاندان کے پاس ہے، سات میاں منشا بھی اکٹھے ہوجائیں تو انکے پاس نہیں ہے‘‘۔

    پی پی لیڈروں کی اڑان کے موسم پر لکھے گئے اس کالم میں جو نیوز اسٹوریز بریک کی گئی ہیں، انہیں ڈیویلپ کرلیا جائے تو پی پی کی موجودہ قیادت اور سندھ کے حکمرانوں کے خلاف ایک پورا وائٹ پیپر تیار ہوجائے۔ تازہ ترین یہ کہ کراچی میں حادثاتی زخمیوں اور لاچار مریضوں کو فوری ریلیف کیلئے 1122 کی جو ایک سو ایمبولینسز خریدی گئی تھیں ان میں سے چھ زرداری صاحب کے ایک بہت قریبی بطور ویگن تبدیل کرچکے۔ کتنی ہی گرد و غبار سے اٹی پڑی کھڑی ہیں کیونکہ کراچی میں 1122 نام کا کوئی سیٹ اپ ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد کراچی کربلا نہ بنتا تو کیا بنتا کہ جب حکمران پینے کا پانی بھی قبضے میں لے کر بیچنا شروع کردیں۔ وفاقی حکومت اور سول، ملٹری مصروف آپریشن قیادت اس چیلنج سے نپٹنے سے کیونکر بچ سکتی ہے، وگرنہ وہ بھی اس حوالے سے قابل احتساب نہیں ہوجائے گی؟

    ڈاکٹر مجاہد منصوری
    بہ شکریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    اب سے ایک سو ایک برس پہلے اٹھارہ جولائی انیس سو چودہ کو پہلی جنگِ عظیم کا بگل بجا تو اس روز عالمی جغرافیہ کچھ یوں تھاکہ ہندوستان سے آبنائے ملاکا تک کا علاقہ سلطنتِ برطانیہ کا مقبوضہ تھا۔شام تا یمن کا مشرقِ وسطیٰ سلطنتِ عثمانیہ کا مقبوضہ تھا اور شمالی افریقہ برطانیہ ، فرانس ، اٹلی اور اسپین نے عثمانیوں سے چھین کے بانٹ رکھا تھا۔اس نوآبادیاتی جغرافیے کا سب سے محکوم کردار عام مسلمان تھا۔لہذا کسی بھی دو طرفہ جھگڑے میں اس کے ساتھ بندر کی بلا طویلے کے سر والا معاملہ ناگزیر تھا۔

    بقول ضمیر جعفری
    آقا جو لڑکھڑایا تو نوکر پھسل گیا

    نومبر انیس سو چودہ کے دوسرے ہفتے میں سلطنتِ عثمانیہ کے مفتیِ اعظم نے استنبول کی الفتح مسجد کے منبر سے فتویٰ جاری کیا کہ تمام مسلمانوں پر ملعون برطانیہ ، فرانس ، روس اور ان کے دیگر ساجھے داروں کے خلاف جہاد فرض ہوگیا ہے۔ مشکل بس یہ تھی کہ جتنے مسلمان سلطنتِ عثمانیہ میں بستے تھے لگ بھگ اتنے ہی ملعونوں کے مقبوضات میں بھی رہ رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب کے مقبوضہ مسلمان سامراجی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان آ گئے۔
    برطانیہ نے اپنے زیرِ نگیں مصر سے مختلف جنگی خدمات کے لیے ایک ملین افراد بھرتی کیے۔فرانس نے اپنی نوآبادی الجزائر سے ایک لاکھ ستر ہزار ، تیونس سے اسی ہزار اور مراکش سے پینتالیس ہزار مقامی افراد جبری بھرتی کرکے یورپی محاذ پر روانہ کیے۔جنگ کے خاتمے پر ان میں سے پچیس فیصد سپاہی گھر واپس نہیں لوٹے۔ تیونس کے مورخ خلیل شریف کے مطابق فرانسیسیوں نے نوآبادیاتی سپاہیوں کو اگلے مورچوں پر اور گورے سپاہیوں کو زیادہ تر خندقوں کی جنگ میں استعمال کیا۔اس لیے غلام فوجی زیادہ مرے۔
    نوآبادیاتی سپاہی جبراً لڑ رہے تھے، اس لیے فرانسیسی جرنیل ان سپاہیوں کے ڈسپلن کے بارے میں اکثر فکرمند رہتے۔جرمن مسلسل پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مفتی اعظم کے فتویٰ کے بعد کسی بھی مسلمان کا سلطنت عثمانیہ اور اس کے اتحادیوں (جرمنی وغیرہ) سے لڑنا حرام ہے۔چنانچہ فتوے کے دو ہفتے بعد تیس نومبر انیس سو چودہ کو تیونس کے فوجی قلعے بیضرت میں بغاوت ہوگئی اور مقامی رنگروٹوں نے مارسیلز (فرانسیسی بندرگاہ) جانے والے جہاز میں سوار ہونے سے انکار کردیا۔ اس خبر کو الجزائر اور مراکش کے مقبوضات تک پھیلنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور مورخ فیصل شریف کے مطابق سو سے ڈیڑھ سو کے درمیان تیونسی باغیوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کردیا گیا۔

    محاذِ جنگ پر بھی نوآبادیاتی فوجیوں میں ڈسپلن قائم رکھنے کے لیے فرانسیسی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہر دس میں سے ایک کو نشانِ عبرت بنانے کی قدیم رومن فوجی روایت کو شمالی افریقی رنگروٹوں پر لاگو کیا۔پندرہ دسمبر انیس سو چودہ کو ’’ رجمنٹ دو مکس الجئیرز ’’کی دسویں بٹالین کے بیس الجزائری و تیونسی سپاہیوں نے جرمن پوزیشنوں کی طرف پیش قدمی سے ہچکچاہٹ دکھائی تو جنرل لا کورے نے انھیں نہتا کرکے دشمن مورچوں کی طرف بڑھنے کا حکم دیا اور اگر اس دوران دشمن سے بچ نکلیں تو ان ھی کے کامریڈ انھیں گولی سے اڑا دیں۔ فرانسیسی محقق گلبرٹ مینئر کے مطابق انیس سو پندرہ تک مختلف محاذوں پر ایسی سرسری سزائیں دینے کے تحریری احکامات جنگی ریکارڈ میں موجود ہیں مگر بعد میں ایسے احکامات زبانی جاری ہونے لگے۔

    فرانسیسیوں کی جبری بھرتی مہم کے خلاف انیس سو پندرہ، سولہ میں لیبیا کی سرحد کے قریب تیونسی قصبے کبیر میں دو بغاوتیں ہوئیں جو جنگ کے بعد بھی گوریلا مزاحمت کی شکل میں جاری رہیں۔ انھیں دبانے کی کوشش میں سیکڑوں فرانسیسی فوجی ہلاک ہوئے۔ان بغاوتوں کے سرغنہ خلیفہ بن عسکر اور محمد دغباچی تھے۔ دغباچی کو انیس سو چوبیس میں پکڑ کے پھانسی دیدی گئی مگر اس کا نام لوک گیتوں کا حصہ بن گیا۔ایسی بغاوتیں عثمانی مقبوضات میں بھی ہوئیں مگر یہاں وہاں اکا دکا بغاوتوں سے قطع نظر اکثریت کے لیے فوجی بھرتی سے انکار دونوں جانب ممکن نہ تھا۔

    اپریل دو ہزار پندرہ میں پہلی بار جرمنوں نے بلجئیم میں فلانڈرز کے محاذ پر کلورین گیس کے پانچ ہزار کنستر استعمال کیے۔لگ بھگ چھ ہزار فوری ہلاکتیں ہوئیں اور سیکڑوں زخمی بینائی کھو بیٹھے۔ فرانس کا پینتالیسواں اور ستاسی واں ٹیریٹوریل ڈویژن اولین کیمیاوی حملے کی زد میں آیا۔دونوں ڈویژنوں میں شمالی افریقی رنگروٹوں کی اکثریت تھی۔برطانوی مورخ ایڈورڈ سپئیرز کے بقول بعد کے گیس حملوں میں برطانوی ، فرانسیسی اور کینیڈین فوجی زیادہ متاثر ہوئے۔
    عسکری تاریخ کے اس پہلے کیمیاوی حملے میں استعمال ہونے والی کلورین گیس جنگ سے دو برس پہلے ( انیس سو بارہ) برلن میں قائم ہونے والے کیسر ولیہلم انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل کیمسٹری میں تیار ہوئی۔ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے ڈائریکٹر فرٹز ہیبر کو انیس سو اٹھارہ میں امونیا گیس سے مصنوعی کھاد بنانے کے فارمولے پر کیمسٹری کا نوبیل انعام ملا۔ اب تک اس انسٹی ٹیوٹ کے تینتیس سائنسداں نوبیل انعام حاصل کرچکے ہیں۔

    یورپ کے وسطی محاذ پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جنگی تعطل پیدا ہوگیا اور فریقین نے خندقوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو مصروف رکھنے کی حکمتِ عملی اپنالی۔ اس تعطل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانوی ایڈمرل ونسٹن چرچل نے جرمن اتحادی ترکی کی فیصلہ کن پٹائی کا منصوبہ بنایا۔مقصد یہ تھا کہ استنبول پر قبضہ کرکے روس تک کمک پہنچانے کے لیے بحیرہ اسود تک کا راستہ کھولا جائے۔ ویسے بھی انیسویں صدی سے کوئی بھی عثمانیوں کو خاطر میں نہیں لا رہا تھا۔اس دوران عثمانیوں سے بلقان اور یونان چھن گئے۔ پھر الجزائر سے مصر تک کے شمالی افریقی مقبوضات یورپئیوں نے ہتھیا لیے۔ انیس سو گیارہ میں لیبیا بھی اٹلی نے جھپٹ لیا۔ لے دے کے شام ، فلسطین ، ولایت بغداد و موصل ، جزیرہ نما عرب اور یمن ہی عثمانیوں کے ہاتھ میں رہ گئے۔ زار نکولس اول کا یہ کہنا کچھ غلط نہ تھا کہ یورپ کے اس مردِ بیمار سے اب کوئی نہیں ڈرتا ورتا۔

    چنانچہ پچیس اپریل انیس سو پندرہ کو برطانیہ ، فرانس ، یونان ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی مشترکہ افواج بحیرہ ایجین کے کنارے گیلی پولی کے ساحل پر اترنی شروع ہوئیں تو یہاں بس ایک ترک فوجی یونٹ متعین تھا۔آسٹریلوی مورخ بل سیلرز کے بقول جب تھکا ہارا ترک یونٹ پسپائی کی تیاری کر رہا تھا تو اسے مصطفیٰ کمال نامی ایک اعلی فوجی افسر کا پیغام ملا ’’ میں تمہیں لڑنے کا نہیں مرنے کا حکم دیتا ہوں۔تمہاری موت ہمیں اتنا وقت دے جائے گی کہ ہم تمہاری جگہ لے سکیں‘‘۔

    مصطفی کمال کی انیسویں کور کے تین لاکھ فوجیوں میں سے پچھتر فیصد کا تعلق ولائیتِ شام و فلسطین سے تھا۔ تین میں سے دو رجمنٹیں عرب تھیں۔ گیلی پولی کا معرکہ سات ماہ جاری رہا اور ترکوں نے اتحادیوں کو اکھاڑ پھینکا۔ دونوں طرف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ فوجی کام آئے۔مگر مصطفی کمال کو معروف عرب شاعر خالد شوقی کی طرف سے خالد بن ولیدِ ثانی کا خطاب مل گیا۔

    ادھر جرمنی نے یورپ کے وسطی اور مشرقی محاذ پر اتحادیوں کے جو سپاہی جنگی قیدی بنائے ان میں سے روس کی طرف سے لڑنے والے تاتاری مسلمانوں کو دیگر مسلمان جنگی قیدیوں سے الگ رکھا گیا۔شمالی افریقہ اور ہندوستان کے تین سے چار ہزار قیدی برلن کے نزدیک ہوفمین کیمپ پہنچائے گئے۔

    شمالی افریقہ اور ہندوستان کے مسلمان قیدیوں کو باقیوں سے الگ رکھنے کی حکمتِ عملی مشرقِ وسطی میں ایک عرصے تک خدمات انجام دینے والے جرمن قانون دان اور ماہرِسفارت میکسویل اوپن ہائم کا آئیڈیا تھا۔( ان صاحب کا ذکر آگے بھی آئے گا)۔ حکمت یہ تھی کہ سرکردہ ترک اور عرب مذہبی رہنما کیمپ کا دورہ کریں اور اپنے ہم مذہب قیدیوں کو سمجھائیں کہ ترکوں اور ان کے اتحادیوں سے نبرد آزما ’’ مسلمان دشمن قوتوں’’ کی حمایت میں لڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔بعد ازاں کئی قیدی جرمنوں کی طرف سے اپنے سابق آقاؤں کے خلاف لڑے بھی۔

    ہوفمین کیمپ میں ہی کیسر ولیلہم نے جیبِ خاص سے ایک چوبی مسجد بنوائی جس میں پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش تھی۔جنگ کے بعد ہوفمین کیمپ ختم ہوگیا مگر مسجد کو برلن میں رہنے والے مسلمانوں نے آباد رکھا۔ پھربرلن شہر میں ایک پختہ مسجد بن گئی اور ہوفمین کیمپ والی جرمنی کی اولین مسجد رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی۔سوال یہ ہے کہ برطانیہ ، فرانس اور روس کی طرح جرمنی بھی غیر مسلمان تھا۔تو پھر ایسا کیوں تھا کہ جرمنی کو تو عثمانی سلطان قابلِ اعتماد برادر سمجھتے رہے اور باقی یورپی طاقتوں کو کٹر دشمن ؟ اس پالیسی کے کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوئے اور اس پالیسی سے مسلمان دنیا کو کیا ملا اور کیا چھنا؟ ( داستان جاری ہے)۔

    وسعت اللہ خان
    بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس


    0 0


    0 0


    0 0

    تقسیم ہند سے قبل شکار پور کا شمار برصغیر کے امیر ترین اضلاع میں ہوتا تھا۔یہاں کے تاجروں کی ساکھ وسط ایشیاء تک کام آتی اور محض ایک پرچی پر مطلوبہ سامان یا رقم مہیا کر دی جاتی۔آج سے سو سال قبل جب گھروں میں پانی کے ہینڈ پمپ کا تصور نہیں تھا،تب بھی شکار پور کے بیشتر گھروں میں سوئمنگ پولز ہوا کرتے تھے۔بلا ناغہ سڑکیں پانی سے دھوئی جاتیں ۔گھوڑا گاڑی جسے اس وقت کی شاہی سواری کا درجہ حاصل تھا،اس کے مالک پر لازم تھا کہ گھوڑا گاڑی کے پیچھے کوئی کپڑا باندھ کر چلے تاکہ سڑک پر گندگی نہ پھیلے ۔جو شخص اس ضابطے کی خلاف ورزی کرتا ،اسے جرمانہ ادا کرنا پڑتا۔

    حالانکہ اس وقت لالٹین بھی کم یاب ہوا کرتی تھیں مگر شکار پور میں بجلی کی فراہمی کےلئے ایک پاور ہائوس موجود تھا جو 60ء کی دہائی تک کام کرتا رہا۔صحت و تعلیم کی سہولیات کا یہ عالم تھا کہ رائے بہادر اودھے داس تارہ چند ہاسپٹل اور ہیرا نند گنگا بائی اسپتال میں بلا تخصیص مفت علاج ہوتا۔ وادی ء سندھ میں پہلے گرلز اسکول کا قیام ہو یا پھر پہلے کالج کی ابتداء ہو، شکار پور کی سرزمین کو ہی یہ اعزاز حاصل ہوا۔ جب پورے سندھ میں گنتی کے محض 7 گریجویٹ ہوا کرتے تھے تو شکار پور میں 70 گریجویٹ موجود تھے۔

    سندھ اسمبلی کے پہلے اسپیکر آغابدرالدین ہوں یا پھر پہلے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سومرو،ان کا تعلق شکار پور سے تھا۔ اسی سرزمین نے سندھ دھرتی کے عظیم صوفی شعراء سچل سرمست ،سامی اور شیخ ایاز کو جنم دیا۔بھلے وقتوں میں شکارپور میںایک شاہی باغ ہوا کرتا تھا جس میں انواع و قسام کے پھول اور پودے آنکھوں کو خیرہ کرتے،اس باغ میں ایک چڑیا گھر بھی تھا جس میں چیتے، شیر اور ریچھ سمیت سینکڑوں جانور ہوا کرتے تھے مگر یہ جانور کراچی کے چڑیا گھر منتقل کر دیئے گئے اور آج باغ کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ مگر آج شکار پور پسماندگی و غربت کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔

    سائیں آصف علی زرداری کہتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے ، انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے ان کی بات درست ہو۔ عین ممکن ہے انہیں دھرنوں کے دوران جمہوریت کو بچانے کی سزا دی جا رہی ہو۔ مگر شکار پور جیسے ترقی یافتہ شہروں کو سخت جدوجہد کے بعد اس حالت تک پہنچانے کی سازش کس نے پروان چڑھائی؟ قائم علی شاہ جیسے قابل احترام بزرگ کے نازک کندھوں پر تیسری بار وزارت اعلیٰ کا بوجھ لا دنے کی سازش کس نے تیار کی؟ جب ہمایوں کی وفات کے بعد اکبر تخت نشین ہوا تو 13 سالہ اکبر کی رہنمائی کےلئے بیرم خان نے ریجنٹ کے فرائض سنبھاللئے۔

     مگر عدم بلوغت کا طعنہ دیئے بغیر ہی بیرم خان نے پانچ سال بعد اقتدار اکبر کے حوالے کیا اور خود حج کی نیت سے نکل پڑا۔اگر بیرم خان شریک بادشاہ کی حیثیت سے اقتدار سے چمٹا رہتا تو درباری سازشیں کیوں نہ جنم لیتیں؟سر تسلیم خم کہ رینجرز کو سیاستدانوں کا احتساب کرنے کا مینڈیٹ حاصل نہیں اور بدعنوانی کی تحقیقات نیب ہی کر سکتا ہے مگر کیا اس بات کی تردید کی جا سکتی ہے کہ سندھ حکومت گردن تک کرپشن کی دلدل میں دھنس چکی ہے؟اگر آپ نے محض بھٹو کو زندہ رکھنے کے بجائے ،اس کے طرز سیاست کو زندہ رکھا ہوتا،روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کیا ہوتا۔دودھ اور شہد کی نہریں نہ سہی محض پانی کی نہریں ہی بہا دی ہوتیں تو کیا کسی کو آپ کے خلاف سازش کا موقع میسر آتا؟

    چند روز قبل سائیں قائم علی شاہ نے اسی شکار پور کے علاقے گڑھی یاسین میں موجود محکمہ جنگلات کی 9600 ایکڑاراضی افواج پاکستان کو دینے کا فیصلہ کیا۔پاک فوج نے 2001ء میں حکومت سے درخواست کی تھی کہ ’’گولو داڑو‘‘ میں موجود یہ 35521 ایکڑ زمین ہمیں دی جائے تاکہ اسے 500 شہداء کے خاندانوں میں تقسیم کیا جا سکے۔ جب وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران یہ معاملہ زیر بحث آیا تو جنگلات کے صوبائی وزیر نے بتایا کہ ان کے پاس 9600 ایکڑ کے مالکانہ حقوق ہیں ،اگر یہ زمین پاک فوج کو الا ٹ کر دی جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ ہر قوم اور ملک اپنے شہداء کے ورثاء کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے اوروطن کی آبرو کےلئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کےلئے زمین کا یہ تحفہ بہت حقیر ہے مگر نہ جانے کیوں اس کی منظوری میں اس قدر تاخیر کی گئی۔

    آپریشن ضرب عضب کے دوران 347 آفیسرز اور جوان شہید ہوئے، اس سے قبل آپریشن راہ حق،آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات میں بھی بیشمار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ان تمام شہداء کے ورثاء کو باوقار زندگی مہیا کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران اس مٹی کو اپنے خون سے سینچنے والوں میں اور بھی نام شامل ہیں۔ بم دھماکوں میں مرنے والے سویلین تو کسی قطار شمار میں نہیں مگر پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جن ہزاروں اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ، کیا ان کے ورثاء کی طرف بھی کوئی نظر کرم ہو گی؟

    جنوری 2004ء سے دسمبر 2014ء تک کے عرصہ میں صرف خیبر پختونخوا میں 15000کے لگ بھگ پولیس ،خاصہ دار اور لیویز فورس کے اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ان میں صرف پولیس کے 1100 آفیسرز اور اہلکار شامل ہیں۔عابد علی ،ملک سعد اور صفوت غیور جیسے بہادر و جری آفیسرز نے جام شہادت نوش کیا۔ان پولیس اہلکاروں کی جان اس قدر ارزاں تھی کہ انہیں محض پانچ لاکھ دیکر جان چھڑا لی جاتی ۔وہ تو بھلا ہو اے این پی کا جس نے شہید پولیس اہلکار کے ورثاء کو دیا جانے والا معاوضہ بڑھا کر 30 لاکھ کر دیا۔ کراچی میں بلا ناغہ پولیس والے مارے جاتے ہیں۔ 2013ء میں 171 جبکہ 2014ء میں 143 پولیس اہلکار مارے گئے مگر تاحال ان کے خاندانوں کو معاوضے کی رقم ہی ادا نہیں کی گئی۔کیا ان وردی والوں کے لہو کا رنگ سرخ نہیں ہوتا یا پھر ان کے ورثاء دوسرے درجے کے شہری ہیں ؟کیا ان شہداء کے ورثاء کو گھر مہیا کرنا ،زرعی زمین دینا اور دیگر سہولیات فراہم کرنا ریاست اور سماج کی ذمہ داری نہیں؟

    یہ سیاستدان تو ہیں ہی بدعنوان اور نااہل مگر میرے ہم عصر کالم نگاروں اور بیشتر اینکرز کاخیال ہے کہ بہت عرصہ بعد پاکستان کو جنرل راحیل شریف کی صورت میں ایک مسیحا میسر آیا ہے جو ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے بجائے راحیل شریف ملک سنوار سکتا ہے اور تین سال کے دوران اس نے تیس سال کا گند صاف کرنے کا عہد کر رکھا ہے تو سوچا کیوں نہ ان شہداء کے بارے میں راحیل شریف سے ہی اپیل کر لی جائے۔حضور والا! آپ تو شہداء کے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ،یہ سمجھنا کتنا مشکل ہے کہ بیٹا کسی بھی وردی میں وطن کی آبرو پر قربان ہو ،اس کی جدائی کا دکھ ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں زندہ انسانوں کے درمیان تقسیم کی لکیریں بہت گہری ہیں،شہداء کے درمیان تو لکیر نہ کھینچیں ، جنرل صاحب !ان شہداء کی کفالت کا بیڑہ بھی آپ ہی اٹھالیں۔

    محمد بلال غوری
    بہ شکریہ روزنامہ  جنگ


    0 0
  • 07/04/15--02:14: Gujranwala Train accident

  • Gujranwala- Train Accident 









    0 0

      فریدہ بی بی آٹھ بچوں کی ماں ہیں اور نارتھ کراچی کی ایک کچی آبادی میں ایک کمرے کے مکان میں رہتی ہیں۔
    پچھلے ہفتے ان کے سُسر 70 سالہ یوسف علی شدید گرمی کی وجہ سے دم توڑ گئے۔
    ’پہلے انہیں بخار چڑھا، ٹنکی میں پانی گرم تھا۔انہوں نے گرم پانی سے ہی نہا لیا اور اوپر جا کے سوگئے، پھر بچوں نے جا کے دیکھا تو وہ اپنی حالت میں ہی نہیں تھے۔
    فریدہ نے بتایا کہ ان کے سُسر کو ہسپتال میں داخل کیا گیا مگر اگلے دن انہوں نے دم توڑ دیا۔

    کراچی میں حکام کے مطابق پچھلے دنوں شدید گرمی کے باعث ساڑھے 12 سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے اور اب تک یہ سوال کیا جا رہا کہ چند دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں انسانی اموات کیسے ہوگئیں؟
    جہاں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور صحت کی نامناسب سہولیات کو اموات میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا جا رہا ہے وہیں صحت کے حکام اور ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا ایک سبب کراچی کی بہت بڑی آبادی کا طرز رہائش بھی ہے۔
    فریدہ کے شوہر سلیم بے روزگار ہیں اور وہ دوسروں کے گھروں پر کام کاج کر کے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ جس بستی میں رہتی ہیں وہ چونکہ غیرقانونی طور پر آباد ہوئی ہے اس لیے وہاں نہ بجلی ہے نہ پانی۔ ایسے میں شدت کی گرمی نے قیامت ڈھا دی۔

    ’بجلی بالکل بھی نہیں ہوتی ہے یہاں اور گرمی اتنی ہوتی ہے کہ یہ دیکھو ہم سارا دن بچوں کو ننگا رکھتے ہیں۔ باہر بھی لال بیگ گھوم رہے ہوتے ہیں، گٹروں کی بدبو آتی ہے۔ نہ باہر سکون ہے نہ گھر میں سکون ہے۔ ساری رات ایسے ٹہل ٹہل کے گزارتے ہیں کبھی روڈ پہ جاتے ہیں کہ یہاں سے ہوا لگے تو کبھی میدان میں جاتے ہیں کہ وہاں سے ہوا لگے۔‘
    حکومت سندھ کے مطابق 21 سے 30 جون کے درمیان شدید گرمی سے متاثرہ 65 ہزار سے زیادہ لوگ کراچی کے ہسپتالوں میں لائے گئے جن میں سے 1250 سے زیادہ ہلاک ہوگئے۔

    کراچی میں واقع جناح ہسپتال پاکستان کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے۔ جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی نگراں ڈاکٹر سیمیں جمالی نے بتایا کہ ان کے ہسپتال میں میں گرمی سے متاثرہ پونے چار سو افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 40 فیصد سے زیادہ لوگ مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے مگر بیشتر افراد میں ایک چیز یکساں تھی۔

    ’ان میں زیادہ تر ایسے لوگ تھے جو بڑی عمر کے تھے جنہیں مختلف عارضے لاحق تھے اور یہ زیادہ تر کم آمدنی والے لوگ تھے جو چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہتے تھے، گنجان آباد تنگ علاقوں میں رہنے والے لوگ۔ یہ ایسے لوگ نہیں تھے کہ جو بڑی بڑی عمارتوں یا کھلے علاقوں میں رہتے ہوں۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کراچی کی نصف آبادی، لگ بھگ ایک کروڑ لوگ، بغیر منصوبہ بندی کے بننے والی تنگ گلیوں اور چھوٹے چھوٹے مکانوں پر مشتمل بستیوں میں رہتی ہے۔

    کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی کے آرکٹکچر اینڈ پلاننگ ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نعمان احمد کہتے ہیں کہ شہر میں کچی آبادیاں تو نئی بات نہیں مگر آبادی کے مسلسل دباؤ نے ان بستیوں میں ایک نئے رجحان کو جنم دیا ہے۔
    ’شروع میں جب یہ آبادیاں قائم ہوئی تھیں تو ان میں ایک گراؤنڈ سٹوری مکانات تھے لیکن جیسے جیسے آبادی کا دباؤ بڑھا تو پھر انہی مکانات پر کئی کئی منزلہ عمارتیں بنیں۔

    انہوں نے بتایا کہ 45 سے 60 مربع گز کی جگہ پر کئی کئی منزلہ عمارتیں بن گئی ہیں جن میں ہر منزل پر ایک کمرہ اور اس کے ساتھ باتھ روم اور کچن ہوتا ہے۔
    ’اور اس میں اوسطاً آٹھ سے بارہ لوگ رہائش پذیر ہوتے ہیں اور ان عمارتوں کی تعمیر میں چونکہ کسی بھی قسم کے تعمیراتی معیار اور ضابطوں کا خیال نہیں رکھا جاتا لہذٰا اس کے جو اندرونی رہائشی حالات ہوتے ہیں وہ بہت ہی ناگفتہ بہ ہوتے ہیں۔ شدید گرمی میں جب نہ ہوا ہو نہ بجلی تو یہ مکانات موت کے جال بن جاتے ہیں۔‘

    ڈاکٹر نعمان احمد نے کہا کہ شہر کی آبادی میں اضافہ زیادہ تر کم آمدنی والے طبقات میں ہو رہا ہے اس لیے موسم کی شدت یا دوسری قدرتی آفات سے ہونے والی اموات کو روکنے کے لیے پرانی اور نئی کچی آبادیوں پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

    ’اور نئی آبادیاں جو بن رہی ہیں جو شہر کے مضافاتی علاقوں میں ہیں وہاں پر بھی اب یہ مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بات کا اندازہ لگائیں کہ کم آمدنی والے طبقات کی رہائشی ضروریات کو ہم بہتر انداز میں کیسے پورا کر سکتے ہیں اور کیسے ان کے لیے ایسی سہولتیں پیدا کر سکتے ہیں جس سے ان کے رہنے کا ماحول سازگار ہو سکے۔

    گرمی پر تو کسی کا زور نہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا سینکڑوں افراد کی موت کے بعد حکومت نے یہ سوچنا شروع کیا ہے کہ کراچی کے غریب علاقوں کو بنیادی سہولتوں اور شہر میں نئی بستیوں کی تعمیر کو منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

    احمد رضا
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


    0 0




    0 0

    سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایک عظیم الشان قلعے کی باقیات موجود ہیں۔ کبھی اس کی شان و شوکت کے چرچے ہر جگہ ہوا کرتے تھے۔آج اس شان و شوکت کا صرف کچھ حصہ ہی باقی بچا ہے۔ ہاں ایک دیو ہیکل دروازہ اب بھی موجود ہے، اور اپنی خستہ حالی کی دہائی دیتا نظر آتا ہے۔ پکے قلعے کی کہانی ایک دلچسپ کہانی ہے، جس میں مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں موجود ہیں۔ قلعے کی باقیات اب بھی اس کے شاندار ماضی سے لے کر اس کی موجودہ حالت ِزار کی کہانی بیان کرتی نظر آتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ خدا آباد میں مسلسل آنے والے سیلابوں نے سندھ کے حکمران میاں غلام شاہ کلہوڑو کو تنگ کر کے رکھ دیا تھا۔

    بالآخر 1760ء کی دہائی کے اختتام میں انہوں نے خدا آباد کو خدا حافظ کہنے، اور اپنا دارالحکومت کسی نئے دیار میں بسانے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے نیا دارالحکومت گنج یا گنجو نامی ایک پہاڑی پر قائم ماہی گیروں کے ایک قدیم گاؤں کے کھنڈرات پر بسانے کا ارادہ کیا۔ مقامی زبان میں گنجو کے معانی بنجر کے ہیں۔ یہ قدیم گاؤں جسے کبھی نیرون یا نیرون کوٹ بھی کہا جاتا تھا، کی تاریخ موریہ عہد (185-322 قبل مسیح) جتنی پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہاڑی پر قائم اس قلعے کی تعمیر دیوان گدومل کی زیر نگرانی ہوئی تھی، جو کہ ایک قابل درباری تھے۔ اس کام کے لیے انہیں میاں غلام شاہ کلہوڑو کی جانب سے دو کشتیاں بھر کر سرمایہ دیا گیا تھا۔ وہ اس کی تعمیر کے دوران یہیں مقیم رہے، جو کہ 1768ء میں مکمل ہوئی۔ 
    اس عظیم الشان قلعے کی تعمیر میں پکی اینٹوں کا استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اسے سندھی میں پکو قلعو اور اُردو میں پکا قلعہ کہا جاتا ہے۔یہ قلعہ میاں غلام شاہ کلہوڑو کا پایہ تخت تھا ،جہاں سے وہ اپنے نئے دارالحکومت حیدرآباد کا ارتقا دیکھ سکتے تھے۔ صرف کچھ سالوں بعد 1771-72ء میں ان کی اچانک وفات کے بعد کلہوڑا دور کی تنزلی کا آغاز ہوا۔ بلوچ سرداروں کے قتل، اور علاقے میں عدم اعتماد کی فضا پھیلنے کے باعث حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک بلوچ قبیلے تالپور اور کلہوڑوں کے بیچ 1782ء میں ہالانی کی جنگ لڑی گئی۔ تالپوروں کی قیادت میر فتح علی خان تالپور نے کی تھی، اور ان ہی کی قیادت میں کلہوڑو دورِ حکومت کا خاتمہ ہوا۔جنگِ ہالانی کے بعد تالپوروں نے دارالحکومت واپس خداآباد منتقل کیا، لیکن میر فتح علی خان تالپور کے دور حکومت میں ہی دریائے سندھ کے تبدیل ہوتے ہوئے بہاؤ کی وجہ سے دارالحکومت واپس حیدرآباد منتقل کردیا گیا۔ 

    ان ہی کے دورِ حکومت میں قلعے نے شان و شوکت کی بلندیاں دیکھیں۔ نئی عمارتیں تعمیر کرائی گئیں، پرانی عمارتوں کی مرمت کی گئی۔ میر حرم، جو کہ اب بھی موجود ہے، میر فتح کے دورِ حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آنے والے تالپور حکمرانوں نے بھی قلعے میں کئی عمارتوں اور دیگر اسٹرکچرز کا اضافہ کیا۔ 1848 ء میں شائع ہونے والی کتابScenes in a Soldier's Life میں مصنف جے ایچ ڈبلیو ہال قلعے کی منظرکشی ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’قلعے کی دیواریں اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی ہیں اور بے حد موٹی ہیں۔ یہ تقریباً آدھے اسکوائر میل پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں 1800ء کے قریب رہائشی مکانات ہیں، جن میں سے زیادہ تر سندھ کے امرا کے محلات ہیں۔ اس کے اندر ایک بلند و بالا مینار بھی ہے، جس میں اوپر تک پہنچنے کے لیے 76 زینے ہیں
    جہاں پر فارسی ساخت کی 84 پاؤنڈ والی چار توپیں موجود ہیں‘‘۔مدراس کے گھڑ سوار دستے کے ایڈورڈ آرچر لینگلے اپنی کتابNarrative of a Residence at the Court of Meer Ali Mooradمیں لکھتے ہیں ’’قلعہ اور فصیل کافی بلند ہیں، یہاں سے پورے شہر پر نظر رکھی جاسکتی ہے، جبکہ دریا سے یہاں کا نظارہ بالکل کسی تصویر کی مانند خوب صورت ہے‘‘۔ لینگلے نے جس دریا کا ذکر کیا ہے وہ دریائے سندھ ہے جو کسی زمانے میں شہر میں سے ہو کر بہتا تھا۔تاریخوں میں ملتا ہے کہ یہ قلعہ کبھی باغات، بڑے محلات، درباروں اور دیگر خوبصورت تعمیرات سے بھرا ہوا تھا۔ 33 ایکڑ پر قائم یہ قلعہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا، لیکن اس کی تنزلی کا دور 1843ء میں شروع ہوا، جب چارلس نیپیئر کی سربراہی میں برطانوی فوج اور میر تالپوروں کے درمیان جنگ ہوئی۔ 

    جنگ میں برطانیہ کو فتح بھی حاصل ہوئی، اور سندھ کی حکمرانی بھی۔ جنگ کے دوران قلعے کو شدید نقصان پہنچا۔ برطانوی فوج اس معاملے میں کافی بے رحم تھی اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ زیادہ تر عمارتیں منہدم کردی جائیں، جو عمارتیں باقی بچ گئیں، وہ برطانوی افسران کے لیے آفسوں کا کام دینے لگیں۔ گیٹ کے قریب کا حصہ بعد میں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ قلعے میں قائم میناروں کو بھی گرا دیا گیا تاکہ بعد میں ہونے والی کسی بغاوت میں ان کا استعمال نہ کیا جاسکے۔1947ء میں تقسیم کے بعد ہندوستان سے مہاجرین کی بڑی تعداد میں آمد کے باعث حکام نے قلعے کو عارضی طور پر کیمپ میں تبدیل کردیا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عارضی کیمپ ایک بے ہنگم قصبے جیسی اپنی موجودہ حالت اختیار کرتا گیا۔ 

    لوگوں کی جانب سے قلعے پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات بھی مسائل میں سے ایک ہیں۔ حکومت کی جانب سے 90 کی دہائی میں کی جانے والی کوششوں کے باوجود لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر جانے کو تیار نہیں، حالانکہ اس میں رہنا اب کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں ہے۔ نکاسی آب کا کوئی مناسب انتظام بھی نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ روز بروز خستہ حالی کی جانب مائل ہے۔ قلعہ اصل میں بیضوی شکل کا تھا اور اب اس کا بہت کم حصہ ہی اپنی اصل حالت میں برقرار ہے۔ اس کا مغربی دروازہ شاہی بازار کی جانب کھلتا ہے، لیکن اب انتہائی خستہ حالت میں ہے۔ تھوڑا سا چلیں اور بائیں جانب مڑیں، تو کچھ قدم اور چلنے کے بعد میر حرم ہے۔اس کے ساتھ ہی ایک بڑی عمارت ہے جو کبھی تالپوروں کے زیر استعمال ہوا کرتی تھی اور بعد میں اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

     دیوار کے اوپر نقش و نگار بنائے گئے تھے جو ماہ و سال کی سختیوں کی وجہ سے تقریباً مٹ چکے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ میوزیم سے وقت کے ساتھ ساتھ کئی نوادرات چوری ہوچکے ہیں، جبکہ محکمہ آثارِ قدیمہ کا یہاں موجود کیش بھی چرا لیا گیا ہے۔ میر حرم کے سامنے ایک آفس بلڈنگ ہے، جو کہ اب حکومت کے زیرِ استعمال ہے۔ میر حرم کے ساتھ ہی بائیں جانب لکڑی کا ایک بہت بڑا دروازہ ہے۔ اس پورے دروازے پر لوہے کی سیخیں جڑی ہوئی ہیں۔ قلعے کی باقی رہ جانے والی تعمیرات میں سے ایک ایسی چیز بھی ہے، جس کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں۔ 

    یہ قلعے کی مشرقی جانب کچھ تنگ گلیوں میں سے گزرنے کے بعد سامنے ایک دروازہ موجود ہے، اور اس کے سامنے کچھ زینے ہیں۔ یہاں پر ایک نمایاں قبر موجود ہے اور کچھ سرنگیں بھی ہیں۔ایک مقامی شخص نے مجھے بتایا کہ نشے کے عادی افراد کی جانب سے سرنگوں کے استعمال کے بعد ان کو لوگوں نے سیل کردیا ہے۔ سرنگیں کہاں جاتی ہیں؟ اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔اس کے بائیں جانب خیمے نماں اسٹرکچر ہے جو کہ کبھی شاہی اصطبل ہوا کرتا تھا۔ اس کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

     اب یہ انتہائی خراب حالت میں ہے اور اب اس میں موجود کچرے کے ڈھیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا استعمال کچرہ کنڈی کے طور پر کیا جارہا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک تاریخی عمارت اس حالت کو جاپہنچی ہے۔ اس کی دیواریں آہستہ آہستہ گر رہی ہیں جبکہ لوگ اس کے اندر اور اس کی دیواروں کے سائے تلے اب بھی رہائش پذیر ہیں۔ کاش میں اس کے مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید ہوسکتا،جو تباہ ہوچکا ہے اسے تو واپس نہیں لایا جاسکتا، لیکن جو ہے اسے بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ورنہ ایک اور قدیم ورثہ صفحہ ہستی سے مٹ کر صرف کتابوں کے صفحات تک محدود رہ جائے گا۔
      
    ذیشان احمد


    0 0

    People visit the beach, during a hot summer's day in Karachi, Pakistan.

    0 0



    A man carries strands of vermicelli, a specialty eaten during the Muslim holy month of Ramadan, to dry at a factory in Lahore, Pakistan.

    0 0


    0 0

    گزشتہ کئی زور سے اسلام آباد کے شہریوں کو ایک بل بورڈ کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہورہی ہے جس میں وفاقی دارالحکومت کو دنیا کا دوسرا سب سے خوبصورت دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔
    تاہم سب سے پہلے ان کے ذہنوں میں یہ سوال آتا ہے کہ اس دعویٰ کی تشہیر سے قبل کیا معیار اپنایا گیا۔

    اسلام آباد کے ایک رہائشی نعیم احمد کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد ہائی وے پر اپنے اہل خانہ کے ساتھ ڈرائیو کر رہے تھے جب ان کی اس بورڈ پر نظر پڑی جو I-8 چوک پر لگا ہے۔
    بورڈ پر وزیراعظم نواز شریف کی ایک تصویر کے ساتھ زیرو پوائنٹ انٹرچینگ کی تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔

    نعیم صاحب کے مطابق ان کی بیوی نے کہا کہ اگر اسلام آباد واقعی دنیا کا دوسرا سب سے خوبصورت دارالحکومت ہے تو ہم سب کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد کی خوبصورتی کے حوالے سے سنتے رہتے تھے لیکن ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ دنیا کا دوسرا سب سے خوبصورت دارالحکومت ہے۔
    کمپنی کی ملکیت میں چلنے والے بورڈ کے ایک نمائندے محمد علی کا کہنا تھا کہ انہیں بورڈ پر لگانے کے لیے اشتہار ملتے رہتے ہیں لیکن سی ڈے اے سے معاہدے کے تحت وہ بھی انہیں استعمال کرسکتی ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ سی ڈی اے نے یہ اشتہار اسلام آباد ہائی وے کو وسعت دینے کے کام سے قبل لگایا تھا۔ ہمیں اشتہار کے بارے میں کچھ نہیں پتہ۔
    دوسری جانب متعدد ویب سائٹس نے دنیا کے دس خوبصورت ترین دارالحکومت کی خبر شائع کی ہیں۔
    ایک ویب سائٹ کے مطابق لندن دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے جس کے بعد اسلام آباد کا نمبر آتا ہے۔
    اس فہرست میں برلن تیسرے، واشنگٹن چوتھے، پیرس پانچویں، روم چھٹے، ٹوکیو ساتویں، بڈاپسٹ آٹھویں، اوٹاوا نویں جبکہ ماسکو دسویں نمبر پر ہے۔
    سی ڈی اے ایک افسر نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب یہ اشتہار لگایا جارہا تھا، انہوں بھی اس کی رینکنگ کے معیار کے بارے میں سوچا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ میں نے اس بارے میں پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ سبز علاقوں، منصوبہ بندی، انفرااسٹرکچر اور پہاڑوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ رینکنگ جاری کی گئی۔
    انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام آباد دنیا کے خوبصورت ترین اور منصوبہ بندی والے شہروں میں سے ایک ہے اور اسی وجہ سے اسے اس فہرست میں دوسرا نمبر ملا۔


    0 0




    0 0

    مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1986 ء کے عالمی کپ میں پاکستانی ہاکی ٹیم کے گیارہویں نمبر پر آنے پر پاکستان کے اخبار روزنامہ حریت نے شہ سرخی لگائی تھی’ پاکستانی ہاکی کا جنازہ اٹھ گیا۔ انااللہ وانا الیہ راجعون۔‘
    یہ پاکستانی ہاکی کے عروج کا دور تھا جس میں کسی کو بھی یہ گوارا نہ تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ایسی مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا پورے ملک میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا اور پاکستانی ہاکی کے مرد آہن بریگیڈئر عاطف کی برطرفی تک کا مطالبہ زور پکڑگیا۔

    لیکن آج جب پاکستانی ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے بعد اب اولمپکس میں بھی شرکت سے محروم ہوگئی ہے۔ اسے اس حال پر پہنچانے کے ذمہ داران کی برطرفی کا مطالبہ تو دور، وہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
    یہی وہی لوگ ہیں جنھوں نے سیاسی طاقت کے بل پر پاکستان ہاکی فیڈریشن میں قدم رکھا اور آج بھی انھیں یقین ہے کہ یہی سیاسی طاقت انھیں پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باہر کیے جانے سے روکے رکھے گی۔

    اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت نے شدید ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنادی ہے۔ عام طور پر ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے یہی ہوتا ہے کہ پہلے سخت نوٹس اور پھر ایک کمیٹی کا قیام۔
    پاکستانی ہاکی پچھلے سات آٹھ سال کے دوران سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ دیکھتی آ رہی ہے۔
    پاکستانی ہاکی کی موجودہ تباہی درحقیقت اس وقت شروع ہوئی تھی جب کچھ سابق اولمپیئنز فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور گو جمالی گو کے نعرے بلند کیے۔

    اسی دوران ایک وفاقی وزیر کی آشیرباد حاصل کر کے آصف باجوہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں داخل ہو کر پی ایچ ایف کے سیکریٹری اور 1971ء کے عالمی کپ کے فاتح کپتان خالد محمود کوگھر جانے کا راستہ دکھایا اور خود سیکریٹری بن گئے۔

    پھر حالات ایسے پیدا کر دیے گئے کہ میر ظفر اللہ جمالی کو بھی گھر جانا پڑگیا۔
    پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور قاسم ضیا نے سنبھالی اور انھیں یہ عہدہ اس روایت کے تحت دیا گیا کہ کھیلوں کی فیڈریشنز اور کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے ٹیکنوکریٹ کے بجائے اس شخص کو تلاش کیا جاتا ہے جو حکومت کے قریب تر ہو۔

    قاسم ضیا، آصف باجوہ، اختر رسول اور رانا مجاہد چاروں ہاکی اولمپیئنز رہے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سب منیجمنٹ میں یکتا ہونے کے سبب نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے فیڈریشن میں آئے۔

    پہلے آصف باجوہ اور پھر قاسم ضیا کے ادوار میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو حکومت سے بے حساب پیسے ملتے رہے جنھیں ہاکی کے نام پر خرچ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا۔

    تاہم اگر ایسا ہوتا تو پاکستانی ہاکی ٹیم آج اس حال پر نہ پہنچتی کہ انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لیے فیڈریشن کو مخیر حضرات سے ’بھیک‘ مانگنی پڑتی اور کھلاڑی ڈیلی الاؤنسز تک سے محروم رہتے۔
    پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بھی مسلم لیگ نون کے اثرات ظاہر ہوگئے۔

    قاسم ضیا کے دور میں ٹیم کے ہیڈ کوچ بنائے جانے والے اختر رسول نے مسلم لیگ ن کی جانب سے الیکشن لڑ کر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن میں قدم رنجہ فرمائے اور ان کے ہوتے ہوئے پاکستانی ہاکی ٹیم کو پہلی بار عالمی کپ میں شرکت سے محرومی کا داغ بھی سہنا پڑا۔
    موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ رانا مجاہد کو ہوا جو قاسم ضیا کے دور میں ایسوسی ایٹ سیکریٹری تھے اور اختر رسول کے آتے ہی وہ آصف باجوہ کی جگہ سیکریٹری بن گئے۔

    ماضی میں ٹیم کی خراب کارکردگی کا رونا روتے ہوئے کم ازکم اس بات کی تو ڈھارس تھی کہ ٹیم کم از کم باہر جاکر کھیلتی تو ہے لیکن اب تو ورلڈ کپ اور اولمپکس میں شرکت کی محرومی نے پاکستانی ہاکی کو اس کی تاریخ کے پست ترین مقام پر پہنچا دیا ہے۔

    عبدالرشید شکور

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


    0 0




    0 0
  • 07/11/15--03:09: ڈرون ٹیکنالوجی

older | 1 | .... | 49 | 50 | (Page 51) | 52 | 53 | .... | 149 | newer