Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 42 | 43 | (Page 44) | 45 | 46 | .... | 149 | newer

    0 0

    Comprehensive agreement on the Iranian nuclear program ...

    0 0


    0 0



     محسن قوم اور وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاہے کہ جنرل پرویز مشرف نے انہیں امریکہ کے حوالے کرنے کیلئے طیارہ تیار کر وا رکھا تھا اور انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی سے کہا کہ وہ ڈاکٹر قدیر کو امریکہ کے حوالے کرنے کیلئے کابینہ سے منظوری حاصل کریں تاہم میر ظفر اللہ جمالی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور اپنی وزارت عظمیٰ کی قربانی دے کر انہیں امریکہ کے حوالے کرنے سے بچایا۔ڈاکٹر اے کیو خان نے پیر کی شام لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف منگلا کے کور کمانڈرتھے توانہوں نے میزائل ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی کیلئے جنرل چوہان کے ذریعے مجھ(ڈاکٹر اے کیو خان ) سے رابطہ کیا۔

     میں نے اس بارے میں آرمی چیف جنرل جہانگر کرامت سے اجازت حاصل کی۔ ڈاکٹر اے کیو خان ٹرسٹ ہسپتال کے بارے میں منعقدہ تقریب میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے کے بعد ٹرسٹ ہسپتال کی تعمیر میرے ایک خواب کی تکمیل ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے سلسلہ میں یہ انکشاف کیا کہ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اس منصوبے کا آغاز کیا۔ بھٹو، جنرل ضیاء اور غلام اسحاق خان نے ایٹم بم کی تیاری میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 1986 میں ایٹم بم کی تیاری کا کام مکمل ہو چکا تھا۔ اس وقت کی حکومت کو میں نے ایک خط لکھ کر بتا دیا کہ ہم ایک ہفتے کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں۔

     ایٹم بم کی تیاری کے بعد پاکستان کے خلاف بھارتی جارحانہ عزائم کو ناکام بنا دیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ ایٹمی طاقت بنانے میں نواز شریف کا کوئی ہاتھ نہیں مگر انہوں نے عالمی دباؤ کے باوجود چاغی میں ایٹمی دھماکہ کیا۔ فوج کے زیر انتظام سول انجینئر بریگیڈیئر نے چاغی میں دھماکے کے لئے پلیٹ فارم بنا رکھا تھا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے ڈاکٹر اے کیو خان کو بتایا کہ میں ملتان میں نواب صادق مرحوم کے وائٹ ہاؤس میں بطور اخبار نویس شریک تھا جہاں بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ ڈاکٹر عثمانی نے ایٹم بم نہ بنانے کیلئے جو مؤقف پیش کیا وہ بھٹو نے قبول نہ کیا۔

     اس پر منیر احمد خان کو ایٹمی منصوبہ کا انچارج بنانے کا فیصلہ ہوا۔ڈاکٹر اے کیو خان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جب جناب بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا تو اس وقت منیر احمد خان نے منصوبہ بنایا کہ ایک لمبی نالی والی توپ میں بارود بھر کر مری کی پہاڑیوں میں چلا دیا جائے گا اور بھٹو سے کہا جائے گا کہ ایٹمی دھماکہ ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے بتایا کہ ہم نے میزائل ٹیکنالوجی کے ذریعے لمبے فاصلے تک مارکرنے والے میزائل تیار کئے ہیں جو سادہ اور ایٹمی وار ہیڈ لے جا سکتے ہیں اور بھارت کے تمام علاقے ہماری دسترس میں ہیں۔ 

    ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کو بھارت سے بہتر میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی اور پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے امریکہ سے جوہری تنازعہ حل کر کے اچھا اقدام کیا اگر نہ کرتا تو امریکہ پابندیوں کے ذریعے ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتا تھا۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے ریڈ کراس سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر سعید الٰہی کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماہر فزیشن ہیں۔ ڈاکٹر سعید الٰہی نے بتایا کہ ڈاکٹر اے کیو خان نے 1976 میں پلاٹ خرید کر مکان تعمیر کیا جس میں وہ اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں اور چار نواسیوں کے ہمراہ مقیم ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان کا تعلق بھوپال سے ہے اور اہل بھوپال کسی سے کچھ لینے کی بجائے کچھ دینے پر یقین رکھتے ہیں۔

     انہوں نے متعدد اداروں، ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر اے کیو خان ٹرسٹ ہسپتال رحمن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مینار پاکستان کے سایہ میں واقع 200 بیڈ کا ہسپتال ہے۔ محسن پاکستان رحمان فاؤنڈیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔ اس ہسپتال کوان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سات منزلہ عمارت پر مشتمل جدید ترین بین الاقوامی معیار کا ہسپتال بنانے کا سفر شروع ہو چکا ہے۔ علاج کی بہترین سہولتیں ایک چھت کے نیچے میسر ہوں گی۔ جس میں غریب اور مستحق مریضوں کو بلا کسی تفریق ہر طرح کے امراض کے لئے بین الاقوامی معیار کی سہولتیں فراہم کرے گا۔

     بے روزگاروں کو روزگار ، ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لئے اعلیٰ ٹریننگ کے مواقع بھی فراہم کرے گا۔ اے۔کیو۔خان ہسپتال میں گردوں، جگر کی بیماری کے مریضوں پر خاص فوکس کیا جائے گاکیونکہ یہ بیماریاں پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ ڈاکٹر اے کیو خان نے کہا کہ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی تعمیر میری زندگی کی شدید خواہش ہے۔ یہ ضرور تعمیر ہو گا اور مکمل ہو گا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مینارِ پاکستان کے سائے میں تعمیر ہونیوالے سات منزلوں کے 200 بیڈز پر مشتمل عالمی معیار کے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی تعمیر اور تکمیل میں ہر پاکستانی اپنا کرداراد ا کرے۔


    ریاض احمدچودھری


    0 0
  • 04/11/15--01:59: The disappeared of Kashmir
  • Kashmiri members of the Association of Parents of the Disappeared (APDP) take part in a protest in front of a banner depicting those missing during a demonstration in Srinagar. Indian forces in Kashmir are often blamed for grave rights abuses like widespread torture, rape, custodial murder and enforced disappearences in the Muslim-majority region which is divided and administered separately by India and Pakistan but claimed in full by both.

    0 0




    0 0



    Sikh devotees bid farewell sitting inside a special pilgrimage train bound for Pakistan at the ralway station in Amritsar, India.

    0 0

    Pakistani children browse through a pile of rotten oranges thrown by vendors at a fruit market in Lahore.

    0 0



    0 0



    0 0



    0 0




    0 0


    Balochistan has the largest area of Pakistan's four provinces, constituting approximately 44% of the country's total land mass, and the smallest population, being home to less than 5% of the country's population. Balochistan province is bordered by Afghanistan to the north and north-west, Iran to the south-west, the Arabian Sea to the south, Punjab and Sindh to the east, and Khyber Pakhtunkhwa and Federally Administered Tribal Areas to the north-east. Quetta is the capital and largest city of Balochistan.

    The main ethnic groups in the province are Baloch, Pashtuns and Brahuis, and there are relatively smaller communities of Iranian Baloch, Hazaras, Sindhis and other settlers, including Punjabis, Uzbeks, and Turkmens. The name Balochistan means "the land of the Baloch" in many regional languages.





















    0 0


    سعودی عرب ہمارے لئے حجازِ مقدس کی پاک سرزمین ہونے کے باعث اور حرمین شریفین کے حوالے سے ہمیشہ سے ہی عقیدت و احترام کا محور اور ایمان و اسلام کا مرکز ٹھہرا ہے۔صرف جذبہ ایمانی و محبت کے باعث نہیں، بلکہ اپنی سچی دوستی،مخلصانہ بھائی چارے اور بے شمار احسانات کے باعث دُنیا بھر کے ممالک میں پاکستان اور پاکستانیوں کے سب سے زیادہ قریب رہا ہے۔ کوئی سا بھی مرحلہ اور کوئی سا بھی موقع ہو، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے کندھے کے ساتھ کندھا ملائے رکھا۔ سعودی عرب کے حکمران ہوں یا عوام الناس ہر کوئی پاکستان کی خوشی میں خوش اور اس کے غم میں غمگین ہوتا ہے۔

     سعودی عرب سے پاکستان کا صرف سفارتی تعلق ہی نہیں، بلکہ اوپر سے لے کر نیچے تک، ہر سطح اور ہر شعبہ حیات سے متعلق عوام و خواص کا وہ تعلق خاطر ہے جس کی جڑیں اسلامی جذبہ اخوت سے مضبوط تر ہیں اور اس کا ہر فرد پاکستان پر اپنی محبتیں نچھاور کرتا دکھائی دیتا ہے۔ افغان مہاجرین کا بوجھ ہو یا سیاچن گلیشیر کی لڑائی، ایٹمی طاقت کا حصول ہو یا ایف16طیاروں کی خرید، کوئی بھی مرحلہ ہو یا کوئی اہم معاملہ سعودی عرب نے ہمیشہ، سب سے بڑھ کر پاکستان کا ساتھ نبھایا۔

    شاہ فیصل مرحوم تو برملا پاکستان کو اپنا مُلک اور اسلام کا قلعہ قرار دیتے تھے۔جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنا تو شاہ فیصل شہید ہی تھے جو دھاڑیں مار مار روتے تھے اور فرماتے تھے ’’آج میرا کوئی بیٹا ہلاک ہو جاتا تو مجھے اتنا دُکھ نہ ہوتا جتنا پاکستان کے ٹوٹنے کا ہوا ہے‘‘۔ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تو سعودی عرب کے عام لوگ بھی خوشی سے اچھلنے اور نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے لگے تھے جیسے وہ خود ایٹمی طاقت بن گئے ہیں۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکہ و دیگر ممالک نے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگائیں تو سعودی عرب نے پاکستان کے لئے اپنے خزانوں کے مُنہ کھول دیئے اور عرصہ دراز تک پاکستان کو مفت تیل دیتا رہا۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ سعودی عرب کا حسن سلوک ایسا ہمہ جہتی اور اتنا بھرپور ہے کہ اس کا احاطہ کسی کے لئے ممکن نہیں، نہ اس کا شمار ہو سکتا ہے اور نہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    شاہ عبداللہ مرحوم جب ولی عہد تھے وہ پاکستان آئے تو ان کے اعزاز میں شالیمار باغ لاہور میں ایک شاندار استقبالیہ دیا گیا۔ وہاں انہوں نے بے تکلفانہ انداز میں کہا تھا ’’پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے‘‘۔کچھ اِسی طرح کے جذبات شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے تھے جب یہ ولی عہد تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو پاکستان میں لا کر بسانے کے لئے سعودی عرب کے ادارے’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ نے 15ملین ڈالر کی خطیر رقم سے رابطہ ٹرسٹ قائم کیا جس کے چیئرمین موجودہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف تھے، جبکہ اس کے ممبران میں چودھری شجاعت حسین، میاں شہباز شریف، راجہ ظفر الحق اور مجید نظامی جیسی شخصیات تھیں۔ اس رابطہ ٹرسٹ کے تحت میاں چنوں اور دیگر علاقوں میں بستیاں قائم کر کے کتنے ہی پاکستانیوں کو لا کر بسایا گیا۔

    آزاد کشمیر اور سرحد میں جب تباہ کن زلزلہ آیا تو اس وقت سعودی ٹی وی نے سعودی عوام کو اعانت کے لئے پکارا تو شاہ فہد مرحوم کی بیوہ نے اپنا سارا زیور امدادی فنڈ میں جمع کروا دیا۔ شاہ عبداللہ مرحوم نے اپنی جیب خاص سے 2کروڑ ریال، ولی عہد اور سابق بادشاہ سلطان بن عبدالعزیز نے ایک کروڑ ریال اور سابق وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز نے50لاکھ ریال پہلی جنبش کے طور پر دیئے۔اس کے بعد یہ سلسلہ ایسا چلا کہ ایک دن میں 80کروڑ ریال کی خطیر رقم تک جا پہنچا۔ ریاض کا سٹیڈیم امدادی سامان سے بھر گیا۔

     یہ سامان اور رقوم پاکستان کے سیلاب متاثرین تک پاکستان کی وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سعودیہ کی معاون تنظیموں کے ذریعے پہنچایا گیا اور پھر اُس وقت کے سعودی سفیر بنفسِ نفیس ایک رضا کار کی طرح اپنے پاکستانی بھائیوں کے دُکھ بانٹ رہے تھے۔ دیکھنے والے اُن کے کیچڑ سے لتھڑے لباس اور اُن کی انتھک جدوجہد کو دیکھتے تو انہیں احساس ہوتا کہ سعودی عرب کے خواص لوگوں کی محبت کا یہ عالم ہے تو عوام کی محبت کا عالم کیا ہو گا؟ پھر اسی سعودی سفیر نے کہا تھا:’’ کہ اہلِ پاکستان کو ہمارا شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں، پاکستان ہمارا اپنا وطن ہے، جس کی خدمت کرنا ہم پر واجب ہے‘‘۔ پاکستان اور اہلِ پاکستان پر جب بھی کڑا وقت آیا سعودی عرب نے پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خزانوں کے مُنہ کھول دیئے۔

    ابھی 2014ء میں پاکستان کو سعودی عرب کی طرف سے ڈیڑھ ارب ڈالر کا تحفہ ملا۔ جس سے پاکستانی معیشت کو سہارا ملا اور ڈالر112سے98روپے پر آ گیا۔ یہ سعودیہ کی پاکستان اور اہلِ پاکستان سے مُنہ بولتی محبت کا ثبوت ہے۔ اس بے لوث دوست اور محسن مُلک کو اب پاکستان کی معاونت کی ضرورت پڑی ہے تو ہم چوں چرا میں کیوں پڑیں، ہمیں کھل کر سعودی عرب کا ساتھ دینا چاہئے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اہلِ پاکستان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے خوب کہا ہے کہ’’ہم اپنے برادر مُلک، سعودی عرب کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے‘‘۔

    اور اگر حکومتِ پاکستان نے کہنے کے باوجود ’’کندھے سے کندھا‘‘ نہ ملایا اور دوستی کو صرف باتوں سے نبھانے کی کوشش کی تو (خاکم بدھن) تنہائی کے اس دور میں ایک بے لوث دوست، مخلص محسن اور ہمدرد مُلک کی دوستی سے ہاتھ دھو کر واقعتا تنہا ہو جائیں گے

    رانا شفیق پسروری


    0 0


    کراچی کا حلقہ این اے 246 اس وقت پورے ملک کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ حلقہ ایم کیو ایم کا گڑھ ہے۔ جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار عمران اسماعیل 23اپریل کو ایم کیو ایم کے امیدوار کنور نوید جمیل کا مقابلہ کریں گے۔ یہ سیٹ ایم این اے نبیل گبول کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی تھی۔ نبیل گبول پہلے پیپلز پارٹی میں تھے۔ بعد میں پارٹی سے بعض اختلافات کی بنا پر مستعفی ہوئے اور ایم کیو ایم میں شامل ہو گئے۔ الطاف حسین کے سپاہی بن کر حلقہ 246میں الیکشن لڑا اور اپنے مدمقابل کو ہرا کر بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔

    اُنہیں ایک لاکھ 40ہزار ووٹ ملے، لیکن اپنی اس واضح برتری اور کامیابی کو انہوں نے چند روز پہلے ایک میڈیا ٹاک میں یہ کہہ کر مسترد کر دیا اور اپنی ہی کامیابی اور برتری پر پانی پھیر دیا کہ پولنگ والے دن اُن کے حلقے میں ووٹرز نکلے ہی نہیں، جبکہ ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت نے انہیں کہا کہ وہ گھر پر بیٹھے رہیں۔ کامیاب ہو جائیں گے اور بالآخر شام کو یہ نوید آ گئی۔ گبول کا الزام ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی اتنی دہشت ہے کہ کسی ریٹرننگ افسر اور سرکاری پولنگ عملے سمیت کسی دوسرے امیدوار کے پولنگ ایجنٹوں یا کسی اور شخص کو یہ جرأت ہی نہیں تھی کہ وہ پولنگ سٹیشن پر ہونے والی اُس دھاندلی کو روکتا جو ایم کیو ایم کی جانب سے اپنے امیدوار، یعنی انہیں جتوانے کے لئے بڑی ڈھٹائی ، دلیری اور کھلے انداز سے کی جا رہی تھی۔ 

    ایک کمرے میں ووٹرز کے بغیر ٹھپے لگائے جا رہے تھے اور ووٹوں کی پرچیاں ڈالی جا رہی تھیں۔ نبیل گبول کا یہ ایسا بیان ہے، جس پر ہر شخص نے سر پکڑ لیاہے۔ انکار تو نہیں کیا جا سکتا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ہو گا۔ لیکن سوچنے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آج دو سال بعد اچانک نبیل گبول کو یہ خیال کیسے آ گیا کہ وہ اس حلقے کے بارے میں اتنے سنگین انکشافات کریں۔ اگر وہ اتنے ہی سچے اور اچھے ہیں، نیک نیت بھی، تو انہیں یہ کام کب کا کر لینا چاہئے تھا۔ ایم کیو ایم والے دوست یہ الزام لگاتے ہیں کہ نبیل گبول نے اس قسم کا بیان محض اس لئے دیا کہ وہ خود تحریک انصاف میں جانے والے ہیں اور تحریک انصاف کو خوش کرنے اور فائدہ پہنچانے کے لئے اس قسم کا بیان دے رہے ہیں۔

     یہی نہیں نبیل گبول نے چند روز پہلے یہ بیان دے کر بھی خاصی سنسنی پھیلا دی کہ الیکشن والے روز کوئی امیدوار قتل ہو سکتا ہے، جس کے باعث حلقہ این اے 246کا ضمنی الیکشن ملتوی کیا جا سکتا ہے اور یہ اُس وقت ہو گا جب ایم کیو ایم کو یہ یقین ہو جائے گا کہ وہ یہ الیکشن ہار رہی ہے۔ نبیل گبول کے اس بیان سے تحریک انصاف کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں، ایم کیو ایم جیت جاتی ہے یا اپنے ہی گھر سے ہار جاتی ہے ، فیصلہ ہونے میں کچھ ہی دن باقی ہیں۔ فیصلہ ہو جائے گا تو یہ بھی سامنے آ جائے گا کہ ایم کیوایم اب بھی کراچی کی مقبول جماعت ہے یا نہیں؟ اس بار تمام الیکشن سٹیشنوں پر پولیس تو ہوگی ہی، رینجرز والے بھی ہوں گے، جن کی تعیناتی کا مطالبہ تحریک انصاف کی جانب سے کیا گیا تھا۔ 

    اُن کے مطالبے اور کراچی کے مخصوص حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور وفاقی وزارت داخلہ نے 23اپریل کو پولنگ والے دن رینجرز کی حلقہ 246میں تعیناتی کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اب رینجرز کے افسر اور جوان پولنگ اسٹیشن کے اندر اور باہر تعینات ہوں گے۔ ہارنے والے کا اب یہ گِلہ نہیں رہے گا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ اس ضمنی الیکشن کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت جو اقدامات اُٹھا سکتی ہے، وہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ اچھی بات ہے۔ خود عمران خان گزشتہ ہفتے اپنے امیدوار عمران اسماعیل کی الیکشن کمپین کے سلسلے میں اپنی بیگم ریحام خان اور دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ عزیز آباد کی جناح گراؤنڈ آئے۔

     اگرچہ ریلی کے اختتام پر ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا جو دونوں گروپوں کی لڑائی بھڑائی کا تھا، لیکن اس کو قابو کر لیا گیا اور یہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ نہ بنا۔ اب کون ہارتا ہے؟ کون جیتتا ہے؟ فیصلہ جلد ہو جائے گا، لیکن تحریک انصاف سے زیادہ ایم کیو ایم کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اگر اس سیٹ پر اُس کی شکست ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا ’’اپ سیٹ‘‘ ہو گا۔ تاہم اس کے امکانات کم ہی ہیں۔ یہاں جماعت اسلامی کا بھی خاصا ووٹ بینک ہے۔ اگرچہ کے پی کے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا حکومت میں اشتراک ہے اور دونوں ایک دوسری کی اتحادی جماعتیں ہیں لیکن کراچی کی اس سیٹ پر دونوں جماعتیں یعنی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ایک دوسرے کے مقابل ہیں جو اس حلقے میں ایم کیو ایم کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کا بھی مقابلہ کر رہی ہیں۔ 

    جس سے وہ ووٹ جو ایم کیو ایم کو نہیں جانے والا، ہر صورت تقسیم ہو گا اور فائدہ ایم کیو ایم ہی اُٹھائے گی۔ عوام کی نظر یں اب 23اپریل کو ہونے والے اس الیکشن اور نتیجے پر ہیں۔ تاہم ایم کیو ایم کو سیاسی، سماجی، اخلاقی اور قانونی طور پر کئی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ الطاف حسین کو نہ صرف لندن میں منی لانڈرنگ کیس کا سامنا ہے بلکہ اب ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں کراچی سے معظم خان نامی ایک شخص کی گرفتاری کے بعد اس میں پیش رفت ہوتی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا بہت سرگرم ہے اور اس ضمن میں آنے والی رپورٹس نے ایم کیو ایم کی عزت و مقبولیت کے تابوت میں جو کیل ٹھونک دی ہے، اُس کے این اے 246کے الیکشن پر بُرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ضمنی الیکشن ایم کیو ایم کی مقبولیت اور عزت و وقار کا بہت بڑا ٹیسٹ ہے۔ نتیجہ سامنے آ جائے گا تو یہ سب چیزیں بھی واضح ہونا شروع ہو جائیں گی۔

    سعد اختر



    0 0









    0 0
  • 04/18/15--01:03: Fields of flowers





  • Fields of flowers


    0 0

     
    سب کی میڈیائی نظریں یمن پر ہیں، اس سے پہلے غزہ پر تھیں، اس سے بھی پہلے لیبیا پر اور اس سے بھی پہلے مصر پر لیکن ان سب المیوں کو اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تب بھی شام کے ساتھ پچھلے پانچ برس میں جو کچھ ہوگیا اس کا وزن بھاری ہے۔شام کا جتنا بڑا المیہ اتنی ہی کم اس کی شنوائی اور شنوائی بھی بس ٹکڑوں میں۔ کسی کو صرف دولتِ اسلامیہ دکھائی دے رہی ہے، کسی کو بس بشار الاسد نظر آ رہا ہے، کوئی شامی آثارِ قدیمہ کی بربادی پر نمناک ہے تو کوئی بیرونی مداخلت پر فوکس کیے بیٹھا ہے تو کوئی سنی، شیعہ، علوی کرد میں پھنسا ہوا ہے۔مگر اس ملک کے انسانوں پر اب تک کیا گذرگئی اس کے ٹکڑے جمع کرکے ایک مجموعی قیامت مصور کرنے سے شاید کسی کو یوں دلچسپی نہیں کیونکہ شام سفاکی کی بساط پر خود غرض کھلاڑیوں کے لیے ایک مہرے سے زیادہ کچھ نہیں اور مہرہ بھلا پوری بساط کے برابر توجہ کیوں حاصل کرے؟

    اب سے چار برس ایک ماہ پہلے جب جنوبی شام کے شہر دورہ میں مقامی لوگوں نے سرکاری دستوں کے ہاتھوں کچھ نوجوانوں کی ہلاکت پر جلوس نکالا تو ان کے فرشتوں کو بھی علم نہ تھا کہ وہ ڈائنا مائیٹ کے ڈھیر پر بیٹھے فلیتے کو آگ لگا رہے ہیں، وہ دن اور آج کا دن شام زندہ درگور ہوگیا۔اب تک 2,20,000 شامی باہمی لڑائی میں ہلاک اور 15 لاکھ زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سنی، شیعہ، علوی، کرد سب شامل ہیں۔ان شہریوں پر اس عرصے میں کیمیائی ہتھیاروں، کلسٹر اور بیرل بم، سکڈ میزائیل، ٹینک، توپیں، خود کش بمبار، گلا کاٹ خنجر سمیت کونسا جدید و قدیم ہتھیار ہے جو نہیں آزمایا گیا؟
    ایک ہزار سے زائد طبی ماہرین کی ہلاکت کے سبب 70 فیصد ڈاکٹر فرار ہوچکے ہیں۔ 50 فیصد ہسپتال اور چھوٹے طبی مراکز مٹ چکے ہیں۔ حلب شہر میں خانہ جنگی شروع ہونے سے پہلے 800 ڈاکٹر تھے، آج صرف تین ہیں، خود حلب شہر بھی کہاں۔ملک کی 22 ملین آبادی میں سے 11.50 ملین بے گھر ہوگئی۔ ان میں 7.5 ملین کو جان بچانے کے لیے اپنا گھر یا شہر چھوڑنا پڑا اور چار ملین سے زائد کو ترکی، اردن، عراق، لبنان اور مصر میں پناہ لینا پڑی۔(اسرائیل کے ہاتھوں عشروں پہلے دربدر ہونے والے وہ پانچ لاکھ فلسطینی بھی اس بے خانمائی در بے خانمائی کا حصہ ہیں۔ خانہ جنگی سے پہلے دمشق کے مضافات میں فلسطینوں کے سب سے بڑے کیمپ یرموک میں ڈیڑھ لاکھ فلسطینی رہتے تھے، آج 18 ہزار زندہ ڈھانچے باقی ہیں اور دولتِ اسلامیہ اور اسد کے فوجی دستوں کے درمیان لڑائی کا چارہ ہیں)۔یہ بتانا تو ضروری نہیں کہ ان میں آدھے بچے اور عورتیں ہیں۔ 30,000 میں سے پانچ ہزار سکول بالکل برباد ہوگئے۔ 51 فیصد شامی بچوں نے عرصے سے سکول نہیں دیکھا کیونکہ سکول کی عمارتیں یا تو دربدروں کو پناہ دے لیں یا پھر تعلیم دے لیں۔ حلب اور الرقہ میں پانچ برس کی عمر کے 90 فیصد بچے یہی نہیں جانتے کہ تعلیم کس پرندے کا نام ہے؟خانہ جنگی سے پہلے شام خوراک میں خودکفیل تھا۔ آج 22 میں سے 12.5 ملین کو خوراک کے بحران کا سامنا ہے۔

    اقوامِ متحدہ نے پانچ ماہ پہلے ان بدقسمت افراد کے لیے8.5 ارب ڈالر ہنگامی امداد کی اپیل کی تھی تاہم اب تک بمشکل آدھے پیسے جمع ہو پائے ہیں۔خانہ جنگی سے پہلے 50 فیصد آبادی متوسط یا نیم متوسط تھی۔ آج 80 فیصد شامی خطِ غربت سے نیچے ہیں اور ان میں بھی 30 فیصد وہ ہیں جنھیں یہ نہیں پتہ کہ اگلا نوالہ کون دے گا؟ پچھلے پانچ برس میں شامی معیشت 45 فیصد تک سکڑ چکی ہے اور اب تک ریاست کو 202 ارب ڈالر کا معاشی چاقو لگ چکا ہے۔یہ تباہی بڑی محنت سے لائی گئی ہے جو تحریک بشارالاسد کی آمریت سے نجات پانے کے لیے شروع ہوئی تھی وہ چند ماہ بعد ہی ہائی جیک ہوگئی۔

    اب شام ہر طرف سے ہر ایک کے ہاتھوں ریپ ہو رہا ہے۔ کیا روس، کیا ایران، کیا لبنانی حزب اللہ، کیا امریکی سی آئی اے، برطانیہ، فرانس، ترکی، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، القاعدہ، پرائیویٹ فنانسرز اور لگ بھگ 100 ممالک سے ثوابِ جہاد لوٹنے والے 15 سے 22 ہزار دولتِ اسلامیہ کے جنگجؤوں سمیت سب شامل ہیں۔کسی سرپنچ کو کوئی جلدی نہیں ہے پر کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ پہلے بشارالاسد کو چلتا کرنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ یا القاعدہ سے نمٹنا ہے۔

    متحارب فریقوں کے درمیان جنیوا میں بات چیت کے اب تک دو ناکام دور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تین مصالحت کار اب تک تبدیل ہوچکے ہیں۔ بیرونی طاقتیں کئی گھوڑے بدل چکی ہیں مگر کسی ترکیب سے کوئی افاقہ نہیں۔ شام کی بطور ریاست کلینکل ڈیتھ ہوچکی پر آکسیجن ماسک ہٹانے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ عالمی مردہ خانے میں پہلے ہی کئی لاشیں پڑی ہیں ایک اور سہی۔ہاں تو یمن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا آئیے اس پر بات کرتے ہیں۔ کیا ایران جوہری پروگرام سیمٹنے کے وعدے سے مکر تو نہیں جائیگا آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔ کیوبا اور امریکہ کے تعلقات نارمل ہونے سے لاطینی امریکہ پر کیا اثرات پڑیں گے آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب میں کون جیت رہا ہے ایم کیو ایم ، جماعتِ اسلامی یا پھر تحریکِ انصاف آئیے اس پے بات کرتے ہیں۔


    وسعت اللہ خان



    0 0















    0 0


    چینی صدر کا حالیہ دورہ پاکستان، جنوبی ایشیا اور خطے کے سیاسی اور اقتصادی مستقبل کی نئی راہیں متعین کر رہا ہے۔ چین کے صدر شی چِن پنگ بیروز پیر سے پاکستان کے دو روزہ دورے پر آرہے ہیں۔ چینی صدر منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ اُنہیں پاکستان کا اعلی ترین سول اعزاز "نشان پاکستان"بھی دیا جائیگا۔ دورے کے دوران پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں اور پاکستان میں توانائی اور مواصلات کے وسائل کو بڑھانے، دفاعی سازوسامان کی فراہمی کیلئے 45ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط ہونگے۔ چینی صدر کا یہ دورہ گزشتہ سال ستمبر /اکتوبر میں شیڈول کیا گیا تھا لیکن عمران خان اور طاہرالقادری کے دھرنوں نے اس دورے کو ملتوی کروا دیا۔ اس طرح پاکستان کی اقتصادی لائف لائن کا یہ منصوبہ آٹھ ماہ کی تاخیر کا شکار ہو گیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان دھرنوں کے پس منظر میں جہاں نواز حکومت کو ختم کرنا تھا اور اس اقتصادی راہداری منصوبے کو بھی تارپیڈو کرنا تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت کو گرانے کی اس قدر منظم منصوبہ بندی کامیاب نہ ہو سکی۔

    گوادر بندر گاہ کی ترقی اور پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ابتداءہی سے پاکستان کی مخالف قوتوں کی نظروں میں کھٹک رہا تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششیںکامیاب ہوتی رہیں۔ اب پہلی بار یوں محسوس ہو رہا ہے کہ گوادر کی بندر گاہ اور اقتصادی راہداری کا منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔ پاک چین دوستی گہرے تعلقات کی بہترین مثال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ساٹھ برسوں سے قائم یہ مثالی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہو رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی اور معیشت سمیت مختلف شعبوں میں ہونیوالے اربوں ڈالر کے معاہدے خطے کی تقدیر بدل کر رکھ دینگے۔

    پاکستان 1950میں چین کو تسلیم کرنیوالا تیسرا غیر کمیونسٹ اور پہلا اسلامی ملک تھا۔ 1951 میں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ 1955 انڈونیشیا کے شہر پنڈونگ میں غیروابستہ تحریک کا اجلاس پاکستان اور چین کے تعلقات میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔ وزیراعظم چوان لائی اور وزیراعظم محمد علی بوگرا کی اوپر تلے دوملاقاتوں نے دوطرفہ تعلقات کی راہیں کھول دیں۔ پاکستان کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے چین کا پہلا سرکاری دورہ کیا۔ پاکستانی وزیراعظم کے دورے کے دو ہی ماہ بعد وزیراعظم چوان لائی نے اہل پاکستان کو میزبانی کا شرف بخشا۔ 1961 میں پاکستان نے یواین او کی جنرل اسمبلی میں چین کی رکنیت کی بحالی کا ووٹ ڈال کر چینی عوام کے دل جیت لئے۔

     چین کے وزیراعظم چوان لائی نے 1964میں دوسری مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ ایوب خان پاکستان کے سربراہ مملکت کی حیثیت سے دسمبر 1964 میں چین کے دورے پر بیجنگ گئے۔ 1965کی جنگ میں چین نے سفارتی اوردفاعی محاذ پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ جنگ کے بعد چین کے صدر لیوسوچی مارچ 1966 میں پاکستان آئے۔ 1971 میں ذوالفقارعلی بھٹو نے اقتدار سنبھالنے کے بعد چین کے ساتھ دوستی کے معمار کی حیثیت سے تعلقات کو نئی جہت دی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیں دونوں ملکوں کے تعلقات محاورہ بن گئے۔ 1970 میں پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیرِخارجہ ہینری کسنجر کے خفیہ دورہ بیجنگ کے انتظامات ممکن بنا ئے۔ پاکستان کی کوششوں سے 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن چین کا سرکاری دورہ کرنیوالے پہلے مغربی رہنما بنے۔

      چین اور پاکستان کے درمیان واحد زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ قراقرم ہائی وے کی تعمیر سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور رابطوں میں اضافہ ہوا۔ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں روسی افواج کے داخل ہونے پر چین نے پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی۔ گزشتہ 20برسوں کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور تعاون میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان اورچین کے درمیان کئی مشترکہ فوجی اور اقتصادی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ محمد نوازشریف کے گزشتہ دونوں ادوارمیں پاکستان اور چین کی قیادت اور عوام کی سطح پر رابطوں کو فروغ ملا۔ صدر غلام اسحاق خان، فاروق لغاری، پرویز مشرف، آصف زرداری، وزرائے اعظم میر ظفراللہ جمالی، شوکت عزیز، یوسف رضاگیلانی نے چین کے ساتھ تعلقات کو یکساں اہمیت دی۔ 

    قراقرم ہائی وے، ہیوی میکینکل کمپلیکس، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا، چشمہ نیوکلیئرپاور پلانٹ، جے ایف سیونٹین تھنڈر کا مشترکہ منصوبہ، گوادر بندرگاہ اور پاک سیٹ آئی آر کی کامیاب لانچنگ دونوں ملکوں کی دوستی کی روشن مثالیں ہیں۔ چین نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مو¿قف کی حمایت کی ۔ پاکستان عالمی برادری کے مو¿قف کے برعکس تائیوان اور تبت کے تنازعات پرچین کے مو¿قف کا حامی رہا۔

    دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بھی مثالی ہے۔پاکستان اورچین کا دفاعی میزائل پروگرام میں قریبی اشتراک باہمی دوستی کی مثال ہے۔ دفاعی تعاون کے سمجھوتوں کی بدولت 2007 میں چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنیوالا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 میں دستخط کیے گئے۔ 1999 میں چین کی جانب سے چشمہ میں 300 میگا واٹ کا جوہری بجلی کا پلانٹ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ پاکستان کی جغرافیائی، دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین بندرگاہ گوادر بھی چینی تعاون سے ہی تعمیر کی گئی۔ بندرگاہ کی تعمیر کے تمام مراحل میں پاکستان کو چین کی تکنیکی اور افرادی مدد بھی حاصل رہی۔

    دونوں ممالک کے درمیان 2008 میں "فری ٹریڈ معاہدہ"بھی ہو چکا ہے۔ معاہدے کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگارہا ہے۔ گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر، چھ رویہ سپر ہائی وے اور گوادر ائرپورٹ کی تعمیر میں بھی چین کی مالی اور تکنیکی معاونت ایک انتہائی اہم قدم ہے۔2008 میں دونوں ممالک نے قراقرم ہائی وے کے ساتھ ساتھ ریل روٹ بچھانے پر بھی اتفاق کیا۔ ریل کے اس رابطے سے چینی مصنوعات کو براہِ راست گوادر پورٹ تک رسائی ملے گی۔ چین اپنے صوبے سنکیانگ سے منسلک پاکستانی علاقے گلگت بلتستان میں بھی ہائی ویز اور کئی دیگر پروجیکٹس کی تعمیر میں سرمایہ کاری کررہا ہے۔

    پاکستا ن اور چین کے درمیان قائم مثالی اور لا زوال دوستی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جو جنوبی اور وسط ایشیاءکے ساتھ ساتھ عالمی بحری اور زمینی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کریگی۔ اگر حالات توقع کے مطابق رہے اور اقتصادی راہداری منصوبہ وقت مقررہ پر مکمل ہو گیا تو آئندہ عشرہ پاکستانی عوام کی ترقی اور خوشحالی کی ایسی نوید لائے گا جس پر دنیا رشک کریگی۔

    رضا الدین صدیقی


    0 0

    پاکستان میں کْشتی کے حوالے سے ایک معروف خاندان کا اکھاڑا اس فن کے نامور پہلوان پیدا کرتا رہا تھا تاہم اب یہ اکھاڑا قبرستان کا روپ دھار چکا ہے۔ فن پہلوانی کے زوال کی یہ محض ایک علامت ہے۔بھولو برادران ،برگد کے صدیوں پرانے اس درخت کے نیچے دفن ہیں جو ان کے سابق اکھاڑے کے کنارے کھڑا ہے۔ صفائی کرنے والے کارکن قبرستان کی صفائی تو کرتے رہتے ہیں مگر کچا اکھاڑا اور اس کے قریب ہی ورزش کے لیے بنائے گئے جِم اور چھوٹے سے اجاڑ باغیچے پر ایک پراسرار خاموشی طاری رہتی ہے۔حکومت کی طرف سے اس کھیل کی عدم سرپرستی، بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری کے سبب پاکستانی پہلوانوں کے نام اب تیزی سے لوگوں کی یاد داشت سے گْم ہوتے جا رہے ہیں۔

     اس وقت اس فن سے تعلق رکھنے والے معدودے چند ہی ایسے لوگ ہیں جو اس کھیل کو آئندہ نسل تک پہنچانے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔پاکستان نے 1954ء سے 1970ء کے دوران دولت مشترکہ کھیلوں میں کْشتی کے 18 طلائی تمغات جیتے تھے، جبکہ اسی عرصے کے دوران ایشیائی کھیلوں میں بھی پانچ گولڈ میڈل جیتے گئے۔ اس کے علاوہ 1960ء کے اولمپک مقابلوں میں بھی پاکستان نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ تاہم ان بین الاقوامی کامیابیوں کے باجود اس کھیل کے فروغ کے لیے کوئی خاطر خواہ پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔

     وہ اکھاڑے جہاں پہلوانوں کو زور کرتا دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہوا کرتے تھے، اب شائقین سے خالی نظر آتے ہیں۔ 1991ء میں 31 سال کی عمر میں جھارا کے انتقال کے ساتھ ہی بھولو خاندان کی میراث بھی کہیں گْم گئی کیونکہ ان کے چھوٹے بھائی عابد نے پہلوانی کے تاریک ہوتے ہوئے مستقبل کو دیکھتے ہوئے تجارت کے پیشے کو ترجیح دی۔بھولو خاندان 1850ء سے فن پہلوانی میں نامور حیثیت رکھتا ہے۔ بھولو خاندان کی دھاک بٹھانے والی نسل جسے اس خاندان کی گولڈن جنریشن بھی کہا جا سکتا ہے ان میں بھولو برادران، اعظم، اسلم، اکرم اور گوگا پہلوان شامل ہیں۔

     یہ عظیم پہلوان مینار پاکستان کے سامنے حضرت گنج بخش ہجویری کے مزار کے پیچھے بنے ہوئے اکھاڑے میں زور اور تیاری کیا کرتے تھے اور عالمی سطح پر یہ چیمپئن تھے۔بھولو پہلوان نے 1953ء میں امریکی پہلوان لیو تیزاور بھارتی پہلوان دارا سنگھ کو چیلنج دیا، تاہم اس وقت کے عالمی چیمپئن ان دونوں پہلوانوں نے ان کا چیلنج قبول نہیں کیا۔ انہوں نے 1967ء میں عالمی سطح پر یہ چیلنج دیا کہ جو کوئی بھی انہیں ہرائے گا وہ انہیں پانچ ہزار برطانوی پاؤنڈز کا انعام دیں گے۔ اسی برس انہوں نے اینگلو فرنچ ہیوی ویٹ چیمپئن ہنری پیری کو لندن میں پچھاڑ کر ورلڈ ہیوی ویٹ کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا تھا۔

    اسلم پہلوان اور اعظم پہلوان نے 1950ء کی دہائی میں دنیا بھر میں کامیابیاں سمیٹیں جبکہ اکرم پہلوان کو 1953ء میں یوگنڈا کے چیمپئن عیدی امین کو شکست دینے کے بعد ڈبل ٹائیگر کے نام سے یاد کیا جانے لگا تھا۔اب بھولو برادران کا ایک سپوت عابد بھولو ایک تعمیراتی کمپنی کے علاوہ ایک منی ایکسچینج آفس اور لاہور اسلام آباد موٹر وے کے قریب ایک رہائشی اسکیم کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس بھی ہے۔ وہ اس وقت اس قدر پیسہ کما رہے ہیں جو پہلوانی کا پیشہ اختیار کرنے کی صورت میں وہ زندگی بھر نہ کما پاتے۔

    منصور حسین


older | 1 | .... | 42 | 43 | (Page 44) | 45 | 46 | .... | 149 | newer