Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 23 | 24 | (Page 25) | 26 | 27 | .... | 149 | newer

    0 0

    Prime Minister Nawaz Sharif with his Mother
    Enhanced by Zemanta

    0 0






    Pakistan PM Nawaz Sharif visits Jama Masjid in Delhi ...
    Enhanced by Zemanta

    0 0


     Nawaz Sharif visit to India by Hamid Mir

    Enhanced by Zemanta

    0 0


     
     The Impact of Early Marriage on the Economy by Ahmed Sabzwari

    Enhanced by Zemanta

    0 0



    بدقسمتی سے وہی ہوا جس کے واضح امکانات تھے اور جس کے خدشات کا اظہار دودھ کے جلے لوگ چھاچھ پیتے ہوئے کررہے تھے، کہ ملک کے اس طاقت ور ادارے کے ساتھ لڑائی مشکل ہی نہیں ناممکن ہے جس کا اثر و طاقت تو مسلمہ ہے ہی، اس کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتوں، سیاسی رہنماؤں، مذہبی لیڈروں اور صحافت کے بڑے بزر جمہروں سمیت سوسائٹی کے مؤثر لوگ اس کے ایجنٹ ہونے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اس ملک کی بیشتر سیاسی جماعتیں بارہا اس ادارے کی ایجنٹی کرچکی ہیں۔ مذہبی گروہوں کا سارا کروفر اس کے دم سے ہے۔ اور صحافت کی تمام بڑی خبروں اور تجزیوں کا ماخذ یہی ادارہ ہے۔ گویا صحافت کی ساری چمک دمک ان ہی کی مرہونِ منت ہے۔

    بدقسمتی سے اس حقیقی طور پر طاقت ور ادارے کے سامنے ایک ایسا میڈیا گروپ آکھڑا ہوا تھا جس کی ساری تاریخ بچھ جانے کی ہے۔ جو کسی معمولی سرکاری افسر، تیسرے درجے کے ٹریڈ یونین لیڈر، بے نام مذہبی رہنما اور کسی چرب زبان بے وقعت سیاسی لیڈر کے سامنے کھڑے ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتا۔ جو 1981ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے احتجاج کے بعد اپنی جانب سے ایک توہین آمیز معذرت شائع کرنے پر رضا مند تھا۔ وہ تو بھلا ہو جناب لیاقت بلوچ کا جنہوں نے اس تحریر کو تبدیل کرواکے اس ادارے کو سبکی اور ذلت سے بچایا۔ اس میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو کے حوصلے کا اندازہ اس واقعہ سے لگائیے کہ جب 1998ء میں نواز حکومت نے سیف الرحمن کے ذریعے جنگ گروپ کے خلاف ٹیکس چوری کے معاملے کو اٹھایا اور اس میڈیا گروپ کو کھینچا تو دوسرے نفسیاتی حربوں اور اخباری دباؤ کے علاوہ جنگ گروپ کے مالکان اس معاملے کو سپریم کورٹ میں لے گئے۔ جبکہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ اور دستور گروپ بھی اس معاملے کو سپریم کورٹ لے آئے۔ سماعت کے موقع پر صحافی سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کرتے تھے۔ ایسے ایک موقع پر جو مظاہرہ ہوا اُس میں جناب میر شکیل الرحمن بھی سیاہ عینک لگاکر شریک ہوئے لیکن شرکاء کے شدید اصرار کے باوجود انہوں نے مظاہرین سے خطاب نہیں کیا۔ مظاہرے کے بعد اُس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو کی دعوت پر مظاہرین نے اسپیکر سے ملاقات کی۔ الٰہی بخش سومرو نے وفد کی شکایات سننے کے بعد کہا کہ وہ حکومت سے اس معاملے پر بات کریں گے اور آپ کے جذبات حکومت تک پہنچائیں گے۔

    انہوں نے وہاں موجود میر شکیل الرحمن کو مشورہ دیا کہ وہ لڑائی کے بجائے نرمی اور صلح کا راستہ اختیار کریںتاکہ معاملات سلجھ جائیں۔ اس موقع پر میر شکیل الرحمن کا تاریخی جواب ملاحظہ فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا: جناب اسپیکر میں تو ایک صلح جو آدمی ہوں۔ لڑائی میرے مزاج میں ہی نہیں۔ میں لڑائی کا عادی بھی نہیں۔ جناب اسپیکر میں تو لڑائی سے اس قدر دور بھاگنے والا آدمی ہوں کہ ریسلنگ کی فلم بھی نہیں دیکھ سکتا۔ اس گفتگو کے بعد شرکائے وفد کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس لڑائی کا کیا انجام ہونے والا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جنگ کے کارکن سڑکوں پر مظاہرے کرتے اور احتجاجی کیمپ لگاتے رہے اور جنگ کے مالکان کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے سپریم کورٹ میں ڈیٹ ان آفس کی درخواست دے دی، جس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ کبھی عدالت میں پیش نہ ہوا۔

    غالباً 1984ء میں جب جنگ گروپ نے اپنے انگریزی رسالے ’’میگ‘‘ میں ایلوس پریسلے سے متعلق ایک انتہائی قابلِ اعتراض اور فحش مضمون شائع کیا تو وفاقی حکومت نے گروپ کے اشتہارات بند کردیے، جس پر اے پی این ایس نے وفاقی وزیر اطلاعات راجا ظفرالحق سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اے پی این ایس کے اُس وقت کے صدر مجیب الرحمن شامی کے مطابق جیسے ہی ہم راجا صاحب سے ملنے اُن کے دفتر پہنچے اچانک جنگ گروپ کے سربراہ دوڑ کر آگے آئے اور راجا صاحب کے پاؤں پکڑ کر بیٹھ گئے اور معافی طلب کرنا شروع کردی، حالانکہ ہم سخت انداز میں بات کرنا چاہتے تھے۔

    یوں تو پاکستان میں آزادیٔ اظہار، صحافتی اخلاقیات اور میڈیا کی آزادیوں اور پابندیوں کی بحث بہت پرانی ہے۔ 2000ء کی ابتدا میں ٹی وی چینلز کی بھرمار اور میڈیا کی گلیمرائزیشن کے بعد ذمہ دار اور غیر ذمہ دار میڈیا کی بحث بھی شدت سے شروع ہوگئی۔ 2007ء میں عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی نے عدلیہ اور میڈیا کو ایک نئی طاقت دے دی، ساتھ ہی سول سوسائٹی بھی زیادہ بیدار اور متحرک ہوگئی۔ چنانچہ ایک طرف Vibrant Media تھا تو اس کے سامنے فعال، متحرک اور سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کی جرأت رکھنے والی سول سوسائٹی کھڑی تھی۔ یہ پاکستانی معاشرے میں ایک نیا موڑ اور سوسائٹی میں پروان چڑھنے والا نیا رجحان تھا۔

    2000ء سے پہلے عدلیہ اور میڈیا دونوں کے بارے میں معاشرے، عوام اور اداروں کا رویہ مختلف تھا۔ پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا حصہ ان دونوں اداروں کا احترام کرتا تھا اور ان پر تنقید کو ایک منفی رجحان سمجھتا تھا۔ دوسرا حصہ ان اداروں کے جاہ وجلال سے خوفزدہ تھا اور اپنے اندر ان کو چیلنج کرنے کی سکت نہیں رکھتا تھا۔ معاشرے کا تیسرا حصہ ان اداروں کی اعلیٰ سماجی، علمی اور سیاسی حیثیت کے باعث ان سے مرعوب تھا۔ جبکہ ایک اور طبقہ بے یقینی کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ ان اداروں سے بیک وقت خوفزدہ اور مرعوب تھا اور ان کے بارے میں احترام کے ساتھ کچھ تحفظات اور خدشات بھی رکھتا تھا۔ عملاً یہ طبقہ میڈیا اور عدلیہ کے بارے میں مفاہمانہ پالیسی پر گامزن تھا۔

    عدلیہ بحالی تحریک کے بعد معاشرے اور اداروں نے بیداری اور تجربے کی بنیاد پر ایک نیا رجحان اپنایا، جس کی ایک وجہ عدلیہ اور میڈیا کا اپنا رویہ اور معاملات بھی تھے۔ چنانچہ ایک طرف عدلیہ خود عوام، معاشرے، پارلیمنٹ اور میڈیا کی تنقید کی زد میں آگئی، جبکہ دوسری جانب عوام میڈیا سے بھی بے خوف ہوکر اس پر کھل کر تنقید کرنے لگے۔ ادارے میڈیا کے احتساب میں آزاد ہوگئے۔ خود میڈیا گروپس نے ایک دوسرے کو بے نقاب کرنا شروع کردیا۔ صحافیوں اور اینکرز پرسنز کے پوشیدہ معاملات اخبارات کے صفحات اور ٹی وی اسکرین پر نظر آنے لگے۔ سوشل میڈیا اور آلٹرنیٹ میڈیا نے اس سلسلے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ روایتی میڈیا نے جس معاملے کو دبانا اور جس حقیقت کو چھپانا چاہا سوشل میڈیا نے اسے پوری بے رحمی کے ساتھ ننگا کردیا۔ موبائل فونز پر بھیجے جانے والے پیغامات نے ان معاملات کو اتنی تیزی سے پھیلایا کہ روایتی میڈیا اپنی تمام تر طاقت کے باوجود اس کا راستہ نہ روک سکا۔ رہی سی کسر خفیہ اداروں نے پوری کردی جن کی عدلیہ اور میڈیا میں مداخلت کی داستانیں پبلک ہوئیں تو عوام مزید بے خوف ہوگئے۔

    جبکہ میڈیا میں خفیہ اداروں کے کاسہ لیسوں، تنخواہ داروں اور ان کی گڈ لسٹ میں شامل ہونے کے خواہش مندوں کے درمیان ایک ایسی لفظی جنگ شروع ہوگئی جس نے میڈیا گروپس اور ان سے وابستہ لوگوں کے معاملات کی تہیں اور پرتیں بھی کھول کر رکھ دیں۔ چنانچہ ہر غلاف ہٹ گیا اور ہر پردہ سرک گیا، جس کے بعد اس حمام میں خوشی سے ناچتے، انتقام اور حسد میں ایک دوسرے کو نوچتے اور مفادات کی ہڈیوں اور گوشت پوست پر بھنبھوڑتے ہوئے کردار سب کے سامنے الف ننگے کھڑے تھے۔

    اس ماحول میں 19اپریل 2014ء کا واقعہ پیش آیا تو گویا اس بند پریشر ککر کا ڈھکنا پھٹ کر دور جا گرا اور اس کے اندر 66 سال سے دھیمی اور تیز آنچ میں پکنے والی کھچڑی کا دانہ دانہ الگ ہوگیا۔ ہر دانے کی تصویر واضح ہوتی گئی، ساتھ ہی ڈوری ہلانے والوں اور تماش بینوں کے چوکھٹے بھی اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ سامنے آگئے۔ ایک جانب 6گولیوں سے گھائل ایک بڑا صحافی تھا جو جرنیلوں، مقتدر حلقوں، عسکری قوتوں اور خفیہ اداروں سے تعلقات کی شہرت رکھتا تھا، جس کی ربع صدی کی صحافت کی بہت سی اعلانیہ اور مخفی داستانیں تھیں، جس کے دوست اور واقفانِ حال طویل عرصہ سے اس طرح کے حادثے کا خدشہ ظاہر کررہے تھے اور خالد خواجہ اور کرنل امام کے واقعات کے بعد ان کے خدشات زیادہ بڑھ گئے تھے۔ دوسری جانب شدتِ غم سے نڈھال ایک بھائی تھا جو براہِ راست آئی ایس آئی جیسے طاقت ور ادارے کے سربراہ کا نام لے کر اسے حملے کا ذمہ دار قرار دے رہا تھا۔ ایک جانب معمولی حکومتی افسروں کے سامنے بچھ جانے والا میڈیا گروپ ملک کے طاقت ور ترین ادارے کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہوگیا تھا اور اس گروپ سے وابستہ اہلکار جہاد سمجھ کر اس لڑائی میں کود پڑے تھے، تو دوسری جانب منافقتوں کی تصویر بنی حکومت تھی جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہورہا تھا کہ اس کا دل کس کے ساتھ ہے اور تلواریں کس کے ساتھ۔ ایک جانب اپنے ہی ملک میں پہلی بار میڈیا ٹرائل کی زد میں آیا ملک کا سب سے طاقت ور ادارہ آئی ایس آئی تھا، تو دوسری جانب ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے خلاف سر پر کفن باندھ کر نکل آنے والے اور محرومیوں کے شکار دوسرے میڈیا گروپ تھے۔

    ایک جانب اخلاقیات سے عاری اور چھوٹی چھوٹی مصلحتوں اور مخمصوں کا شکار سیاسی جماعتیں تھیں، تو دوسری جانب آئی ایس آئی کی حمایت میں نکل کھڑے ہونے والے مذہبی گروہ۔ ایک جانب زخمی صحافی کے تکبر کے شکار اور انا کے اسیر متکبر میڈیا اونر تھے تو دوسری جانب نوکریاں بچانے کی کوشش میں لگے اس گروپ سے وابستہ بے بس افسران اور لاچار ملازمین مضحکہ خیز قسم کے دھرنے دے رہے تھے۔ ایک جانب بال کی کھال اتارنے والے نام نہاد دانشور اینکرز تھے تو دوسری جانب ٹولیوں میں تقسیم صحافتی تنظیمیں۔
    اس پس منظر میں پوری فضا ہی کرچی کرچی ہوگئی تھی اور جسدِ قومی سے رسنے والا خون ٹھٹھک کر جم گیا تھا۔ حساس آنکھیں اشک بار اور درد مند دل بے چین تھے کہ حکومت، آئی ایس آئی، میڈیا، عدلیہ، سیاسی جماعتیں، مذہبی گروہ، میڈیا ہاؤسز اور اینکرز باہم دست وگریبان بلکہ برسرپیکار تھے۔ ایسے میں حساس اہلِ وطن کی فکرمندی فطری تھی۔

    جب حالیہ جیو، آئی ایس آئی لڑائی کا آغاز ہوا تھا اور جیو نے جنرل ظہیر الاسلام کی تصویر 8گھنٹے تک مسلسل ایک سنگین الزام کے ساتھ چلائی تھی تو راقم سمیت تمام واقفانِ حال کو معلوم تھا کہ جیو گروپ کے مالکان اور ان کے مفادات کے اسیر مشیروں کو جتنا لڑائی کا شوق ہے اس سے کہیں زیادہ پسپائی کا شوق اور تجربہ ہے۔ چنانچہ اب یہ میڈیا گروپ جنرل ظہیرالاسلام، فوج اور آئی ایس آئی سے نہ صرف اشتہارات کے ذریعے معافیاں مانگ رہا ہے بلکہ گھنٹوں اس معافی پر مشتمل سلائیڈز بھی اپنے چینلوں پر چلا رہا ہے اور اس معافی پر کئی پروگرام بھی کرچکا ہے۔ جبکہ جنگ اور جیو کے دفاتر کے باہر بے بس کارکن آئی ایس آئی کے خلاف دھرنے دے رہے ہیں۔

     اب ایک طرف جنگ اخبار میں معافی کے اشتہارات اور جیو پر معافی کے پروگرام چل رہے ہیں اور دوسری جانب آئی ایس آئی مکمل خاموش ہے۔ باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ معافی کے اشتہار جنگ گروپ نے خود چلائے ہیں اور شاید ایسا پرویز رشید اور میاں شہبازشریف کے مشورے پر کیا ہے، مگر آئی ایس آئی اس پر اپنا کوئی ردعمل نہیں دے رہی۔ گویا وہ شاید اس کو قبول نہیں کررہی۔ دوسری جانب پیمرا میں حکومت کی اشیرباد سے جیو کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے جسے آئی ایس آئی شاید پسند نہ کرے۔ پھر عمران خان، زید حامد اور مبشر لقمان کے خلاف جیو کی مہم جس تیزی سے جاری ہے اس کو مختلف حلقے کس نظر سے دیکھتے ہیں یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔

    موجودہ حالات میں لگتا یہ ہے کہ جیو گروپ مشکل سے نکلا نہیں ہے۔ وہ اس کوشش میں مزید الجھنوں میں پھنس گیا ہے۔ ایک طرف معافی کے بعد اس کی اخلاقی حیثیت اور عوام میں کوئی ساکھ نہیں رہی، کہ یہ معافی ہر طرح سے اعترافِ جرم ہے۔ دوسرے گزشتہ تین چار ہفتوں کے دوران جیو اپنی پیشہ ورانہ سطح سے بھی نیچے آگیا ہے اور عوام میں اس کی ساکھ خراب اور غیر جانب داری پوری طرح مشکوک ہوگئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا کسی مرحلے پر حکومت بھی جیو کا ساتھ تو نہیں چھوڑ جائے گی۔

    سید تاثیر مصطفی

     Pakistan Media, Politicians ISI Conflict
    Enhanced by Zemanta

    0 0



    نئے بھارتی وزیر اعظم مودی سے جہاں بہت سی توقعات سے وابستہ ہیں وہیں خطے کے امن کے لئے خدشات اور تحفظات بھی ہیں۔ مودی نے امریکی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کو اپنی تقریب میں شرکت کی دعوت دے کر بظاہر آغاز تو اچھا کیا ہے، انجام خدا جانے!! مودی کس طرح وزارتِ عظمیٰ کے اعلیٰ عہدے تک پہنچے؟ یہ سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مودی جس کے حکم پر گجرات میں قتلِ عام ہوااور اسے 2 ہزار مسلمانوں کا اعلانیہ قاتل کہا جاتا ہے۔ جب اس کی پارٹی کا نام آتا ہے تو ذہن کے نہاں خانوں پر دہشت کی لکیریں اُبھرنے لگتی ہیں لیکن دوسری طرف گجرات کا وزیراعلیٰ بننے کے بعد مودی نے اس صوبے کی حالت اور عوام کی قسمت بدل ڈالی جو پہلے انفرا اسٹرکچر کے اعتبار سے تباہ حال تھا اور جہاں کے عوام پسماندہ اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ مودی نے دنیا بھر کی کمپنیوں اور ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں کو دعوت دی کہ وہ آئیں صنعتیں لگائیں اور گجرات کے عوام کو ملازمتیں دیں۔ان کے صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، انہیں ہر قسم کا تحفظ فراہم کیا 
    جائے گا۔

    مودی نے ایک کام ایسا کیا جس کی وجہ سے دھڑا دھڑ فیکٹریاں اور کارخانے 
    لگنے لگے۔ وہ یہ کہ انہوں نے صنعتیں لگانے پر ٹیکس کی چھوٹ دیدی ۔چنانچہ چند ہی سالوں میں گجرات کا نقشہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ عوام خوشحال ہونے لگے۔ معاشی پہیہ چل پڑا اور پھر مودی کی انتخابی مہم میں سارا پیسہ بھی انہی مالدار کمپنیوں نے پانی کی طرح بہایا اوراسے اپنی خفیہ چالوں سے جتوایا۔ رپورٹ کے مطابق جنتا پارٹی کی جیت میں کالے دھن نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انڈر ورلڈ نے اپنے سارے ذرائع استعمال کیے۔ بڑے بزنس مینوں نے اس پارٹی کے لئے اربوں کے فنڈز دئیے کروڑوں روپے میڈیا مہم پر صرف کئے ۔ دولت کے بل بوتے پر غریب غربا سے ووٹ خریدے گئے۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جنتا پارٹی نے 15 کروڑ ووٹ آٹے کی بوریوں، گھی کے ڈبوں، دالوں کے بیگ بانٹ کر خریدے۔ 25 کروڑ مسلمانوں کا کوئی ایک بھی نمائندہ اس پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب نہیں ہوا، کتنی تعجب خیز بات ہے!

    دوسری بات یہ ہے کہ بھارت سیکولر ملک ہے۔ بھارت کا آئین بھی سیکولر ہے۔ سیکولر ہونے کا ڈھنڈورا بھارت نے اس لئے پیٹا تھا کہ اس کثیر القومی خطے میں علیحدگی کے رجحانات کو دبایا جاسکے۔ مختلف قوموں کے لئے بھارت کو قابل قبول بنانے کا واحد راستہ یہی تھا کہ اس کی شناخت ایسی رکھی جائے جو بظاہر سب کے لئے قابل قبول ہو۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس بات کا خطرہ تھا کہ بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوجاتا۔ سیکولرازم مطلب یہ ہے تمام انفرادی واجتماعی معاملات، قومی و بین الاقوامی امور، سیاست، ریاست، تجارت، سفارت، معاشرت غرض زندگی کے ہر اہم دائرے سے مذہب کو اس طرح بے دخل کردیا جائے کہ کسی فیصلے کی بنیاد تعقل مذہبی نہ ہو، یعنی فرد اپنی ذاتی زندگی میں یا ریاست اپنی اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی فیصلہ کریں، خواہ وہ کسی معاملے سے متعلق ہو، اس فیصلے کی بنیاد کسی قسم کا تعقل مذہبی نہ ہو۔ آپ خواہ کسی دین کے ماننے والے ہوں۔ یہ دین آپ کی ذاتی اور اجتماعی زندگی میں حکم دینے کی صلاحیت سے محروم ہوجائے۔ آپ کی عقلیت اور خواہش نفس کی نص کا درجہ حاصل کرلے۔ دنیا کی اکثر مشہور لغات میں سیکولرازم کے معنی یہی لئے جاتے ہیں کہ مذہب سے آزاد ریاست کو سیکولراسٹیٹ کہا جاتا ہے۔ سیکولرازم کی تعریف وکی پیڈیا میں یوں کی گئی ہے:
    Secularism is the principle of separation of government institutions, and the persons mandated to represent the State, from religious institutions and religious dignitaries. In one sense, secularism may assert the right to be free from religious rule and teachings, and the right to freedom from governmental imposition of religion upon the people within a state that is neutral on matters of belief۔

    اس کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے۔ بھارت میں مودی کی جیت سے سیکولرازم کی موت واقع ہوجائے گی۔ بھارت میں مودی وہ واحد سیاستدان تھا جس نے ہندوازم کا نعرہ لگایا اور بین السطور عندیہ دیا کہ وہ بھارت کا حکمران بن کر ملک کا آئین تبدیل کریں گے۔ مودی کی کامیابی میں ہندوازم کے نعرے نے بھی بہت کام کیا۔ اب مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد خطرہ ہے کہ بھارت کا آئین بھی سیکولرازم سے ہندوازم میں بتدریج تبدیل ہوجائے گا۔
    تیسری بات یہ ہے کہ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد خطے کی صورتحال خطرناک ہونے کا قوی اندیشہ بھی ہے۔ جس طرح ہٹلر نے جرمن قوم کے دنیا کی بہترین اور اعلیٰ قوم ہے کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے ایک مایوس قوم کو متحد کیا۔ پھر 1933ء میں ہونے والی انتخابی مہم میں اس نے جرمن قوم کی بالادستی کا نعرہ لگایا اور الیکشن جیت گیا۔ اس کے بعد جو تباہی دیکھنے میں آئی سب اس سے واقف ہیں۔ مودی کو بھی شدت پسند ہزاروں مسلمانوں کا قاتل کہا جاتا ہے۔وہ ہندو دہشت گرد تنظیم RSS کا بنیادی اور مرکزی رُکن رہا ہے، اور اس پر اسے شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے۔ اس لئے یہ خدشہ بے جا نہیں کہ وزیراعظم منتخب ہوجانے کے بعد مذہبی شدت پسندی اور ہندوازم کی برتری کا زعم کہیں اسے مسلمانوں کے لئے ہٹلر نہ بنادے۔ ہٹلر کی طرح مودی بھی جمہوری طور پر ہی منتخب ہوا ہے۔ قارئین! ستم ظریفی تو ملاحظہ کیجیے! دنیا میں اسلامی جماعتوں کے جمہوری و آئینی جدوجہد کے نتیجے میں اقتدار میں آنے کے امکانات دیکھتے ہیں مغربی طاقتیں تو انکے خلاف یہ واویلا شروع کردیتی ہیں۔

     اقلیتوں کے حقوق غصب ہونے کا خدشہ ہے۔ مذہبی منافرت پھیلنے کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، لیکن اگر بھارت جیسے ملک میں مودی مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مہم چلاکر برسراقتدار آجاتا ہے توکسی کے ماتھے پر شکن تک نہیں پڑتی۔ اقوام متحدہ سے امریکہ تک، یورپی یونین سے برطانیہ تک… نہ صرف سب خاموش رہتے ہیں بلکہ درپردہ اس کی حمایت کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
    بہ شکریہ روزنامہ "جنگ"

    Enhanced by Zemanta

    0 0




    0 0


    Pakistan 'honour' killing'
    Enhanced by Zemanta

    0 0


    ان دنوں ہمارے حکمرانوں پر مبینہ تاریخی کام کرنے کا شوق غالب ہے یا یوں کہیں کہ بھوت سوار ہے۔ وہ ایسے منصوبے تیار کرتے رہتے ہیں جو ان کے اعداد و شمار کے مطابق مکمل ہو کر اس ملک میں انقلاب لے آئیں گے۔ ان دنوں بجلی کی ظالمانہ قلت ہے۔ بجلی نہیں ہے تو پھر کچھ بھی نہیں ہے۔ عام شہری کی زندگی چلتی بھی بجلی پر ہے اور تو اور گھر کا باورچی خانہ بھی بجلی کا محتاج ہے۔ کتنے ہی آلات ہیں جن کی حرکت بجلی کی محتاج ہے۔

    صبح کے وقت اگر بجلی نہ ہو تو ناشتہ تیار نہیں ہوتا۔ یہی حالت دو وقت کے کھانے کی ہے۔ غرض بجلی کا ہونا نہ ہونا دونوں وقت کا بڑا مسئلہ ہے اور بعض اوقات تو لوڈشیڈنگ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بھی بن جاتی ہے جب بازار کے بازار بند ہو جاتے ہیں اور لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو بنیادی ضرورت بجلی کی قلت کا شدید احساس ہے اور ہم نے اخباروں میں کئی ایسے منصوبوں کا ذکر پڑھا ہے جو ادھر مکمل ہوئے اور ادھر بجلی کا طوفان برپا ہو گیا۔ ایسے منصوبے غیر ملکوں کے تعاون سے بھی تیار ہو رہے ہیں اور خود ملک کے اندر بھی ایسے منصوبوں کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔

    بجلی کی پیداوار کے جس منصوبے کا اشتہار بھی چھپتا ہے اس اشتہار میں تعاون کرنے والے لوگوں کی تصویریں بھی چھپتی ہیں جس سے یہ اشتہار بہت بارونق ہوتا ہے اور حکمرانوں کے لیے مفید بھی۔ پیپلز پارٹی کے اخبار مساوات کے ایڈیٹر ایک دفعہ مشہور شاعر بھی بن گئے جو خیالات اور شکل و صورت سے بھی انقلابی تھے، یہ تھے ہمارے مہربان اور خصوصی کرمفرما جناب ظہیر کاشمیری۔ ترقیاتی منصوبوں کے جو سنگ بنیادی رکھے جاتے تھے اور حکمران ان منصوبوں کی خاص نگرانی کرتے تھے ایسے سنگ بنیاد کے لیے جناب ظہیر نے ایک لازوال اور بڑا ہی بھرپور انقلابی شعر کہا تھا:

    لوحِ مزار دیکھ کے میں دنگ رہ گیا

    ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا

    سر اور سنگ کے انقلابی رشتے کو شاعر نے زندہ کر دیا اور ذرا نیچے اتریں تو ترقیاتی منصوبوں کے سنگ ہائے بنیاد پر ایک شاندار استعارہ بھی بن جاتا ہے بس یوں سمجھیں ان دنوں سنگ ہائے بنیاد تو بہت ہیں مگر منصوبہ غائب ہے یا کسی سنگ بنیاد کے نیچے دب کر رہ گیا ہے، بس کچھ باقی رہا ہے تو وہ فقط سنگ ہے یعنی ہر ایک سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا ہے۔ پتھر کی وہ تختی جسے کسی قبر کا سنگ اور کتبہ بھی کہا جاتا ہے جس پر صاحب قبر کا نام وغیرہ درج ہوتا ہے اور تاریخ پیدائش و وفات۔ مجھے افسوس ہے کہ ہمارے ان ترقیاتی منصوبوں کے سنگ بنیاد پر تاریخ پیدائش تو ہوتی ہے لیکن تاریخ وفات نہیں۔

    ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پیدائش کا تو خوب پتہ ہوتا ہے مگر وفات عالم غیب کو ہی معلوم ہوتی ہے اور تاریخ وفات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی۔ سوال تو کسی منصوبے کی پیدائش کا ہے جب مٹھائی بانٹی جاتی ہے اور گھر سجایا جاتا ہے بلکہ وہ مقام بھی جہاں سنگ بنیاد نصب ہوتا ہے بڑی دھوم دھام کے ساتھ لیڈری کی یہ بھی ایک جھلک ہوتی ہے اور آج کل کی لیڈر شپ ان ہی جھلکیوں سے بنتی ہے۔ ہمارے استاد شاعر نے اس واقعے کو دوسرا رنگ دے دیا ہے۔ اگر وہ اپنی معروف نشست بیڈن روڈ لاہور پر دکھائی دیتے تو ان سے درخواست کرتے مگر اب تو خود ان کے سر کے ساتھ فقط سنگ رہ گیا ہے۔

    کسی منصوبے کی یہ یادگار تختیاں کئی کہانیاں سنواتی ہیں۔ گوجرانوالہ میں ایک بڑے پل پر وزیر اعلیٰ حنیف رامے کے نام کی تختی نصب کی گئی لیکن ابھی پل کے آثار کا دور دور تک پتہ نہیں تھا چنانچہ یہ سنگ بنیاد بھی کسی بنیاد کے بغیر ہی ایک خبر بن گیا تھا۔ اسی طرح آپ کو کئی مقامات پر ایسی یادگاری تختیاں نظر آئیں گی لیکن غور سے دیکھیں تو وہ چیز دکھائی نہیں دے گی جس پر یہ تختی نصب کی گئی لیکن یہ تو سب بعد کی باتیں ہیں، سیاست تو آج کی بات ہے اور جب آج کی سیاست میں رونق لگ جاتی ہے تو لیڈر کا خرچہ پورا ہو جاتا ہے۔ بظاہر اس علاقے کے ووٹ پکے ہو جائیں۔ سارا چکر ہی ان ہی ووٹوں کا ہے جس کے لیے کوئی صاف ستھرے کپڑوں والا لیڈر خوار ہوتا ہے اس کا انتقام وہ کامیابی کے بعد لیتا ہے اور کئی سنگ بنیاد ووٹروں کا منہ چراتے رہتے ہیں جن کے ساتھ ٹیک لگا کر ووٹر اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

    بات ہو رہی تھی کہ ان دنوں ہمارے حکمران متعدد ایسے منصوبے تیار کر رہے ہیں بلکہ تیار کر چکے ہیں کہ ان منصوبوں کے مقام پر یادگاری تختیاں نصب ہو رہی ہیں۔ لاہور میں قبرستان میانی صاحب ان کے لیے تیار کرنے والوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ میں نے یہاں کئی منصوبوں کے کتبے تیار ہوتے بھی دیکھے ہیں جو مرحومین کے ساتھ ساتھ تیار ہو رہے ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ خدا ان منصوبوں کو بھی زندگی عطا کرے اور یہ عوام کے کام آئیں جس طرح کوئی مرحوم زندگی میں خلق خدا کے کام آتا رہا ہے۔

    میں نے ایک سنگ ساز سے پوچھا کہ کتنے خرچ پر ایک کتبہ تیار ہوتا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ مرحومین کے وارثوں پر منحصر ہے اور جب پوچھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے کتبے کتنے میں تیار ہوتے ہیں تو سنگ ساز نے بتایا کہ یہ اس پر منحصر ہے کہ انھیں کون لینے آتا ہے اگر کوئی افسر ہے تو پھر کم از کم میں اور اگر کوئی کارکن ہے اور اس کے ساتھ بھی کچھ لوگ ہیں تو پھر قیمت کچھ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ لیڈر کو بتانی ہوتی ہے۔


    نشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    Nawaz Sharif Economic Policy by Sikandar Hameed Lodhi
    Enhanced by Zemanta

    0 0



     Pakistan Media Accountability By Dr. Mujahid Mansoori

    Enhanced by Zemanta

    0 0

     Metro without Peace and Motorway without Bread


    0 0


    کیسے کیسے گھبرو‘ غیرت مند پنجابی اور اپنی بڑائی کی داستانیں بیان کرنے والے زندہ دلان لاہور اس دن ہائی کورٹ میں موجود تھے جب ایک بچی اینٹوں اور پتھروں کی زد میں تھی۔ وہ تڑپتی سسکتی رہی لیکن کسی جاٹ‘ راجپوت‘آرائیں‘ کشمیری‘سید‘ گجر اور دیگر پنجابی غیرت مند اقوام کے فرد میں ہمت نہ ہوئی کہ اس کی جان بچاتااور کیونکر بچاتا۔ کہ یہ رویہ تو ان کے اپنے رگ و پے میں تین ہزار سال سے ایک روایت کے طور پر دوڑ رہا ہے کہ عورت ان کی ذاتی جاگیر ہے۔

    جاٹ کی لڑکی‘ راجپوت کی بیٹی یا گجر کی بہن کسی دوسرے خاندان میں اپنی مرضی سے شادی کر کے تو دکھائے۔ جو عورت ہماری ناک کٹوائے گی ہم اسے دنیا میں رہنے نہیں دیں گے۔ یہ عورتیں ہماری روایات کو نہیں جانتیں‘ ہمارے آبائو اجداد کا انھیں علم نہیں۔ ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کرنے نکلتے تو قلعوں میں عورتوں کو بند کر کے آگ لگا دیتے تھے تاکہ شکست کی صورت میں یہ دشمن کے ہاتھ نہ آ جائیں۔ ہم تو نسل در نسل ایک خون اور ایک ہی برادری میں رشتے کرتے تھے کہ کہیں ہماری رگوں میں کسی ادنیٰ خون کی آمیزش نہ ہو جائے۔

    یہ سب صرف پنجاب یا پنجابیوں تک محدود نہیں۔ بلوچستان میں جب کسی عورت کو سیاہ کار کیا جاتا ہے تو پورے کا پورا قبیلہ اسے بلوچی رسم و رواج کا نام دیتا ہے۔ ہر قبیلے کا ہزاروں سال سے عورتوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک اور رویہ ہے جو چلا آ رہا ہے۔مری قبائل کے لوگ اپنی عورتوں کو گوشت نہیں کھلاتے کہ وہ کہتے ہیں کہ جو خود گوشت ہے اسے گوشت کیا کھلانا۔ سیاہ کاری میں جب لڑکی کو قتل کیا جاتا ہے تو پھر پورے قبیلے پر یہ فرض عاید ہو جاتا ہے کہ اس لڑکے کو بھی قتل کریں۔

    اگر سیاہ کار عورت بھاگ کر سردار کے ہاں پناہ لے لیتی ہے تو پھر اس کی جان تو بچ جاتی ہے لیکن اس کو سندھ کے علاقے میں بیچ دیا جاتا ہے اور اس کی فروخت سے ہونے والی آمدنی میں آدھی رقم سردار کا حصہ ہوتی ہے اور آدھی گھر والوں کا۔ یہ سب بلوچ غیرت اور بلوچ رسم و رواج کے نام پر ہو رہا ہوتا ہے۔ پشتونوں میں بھی سیاہ کاری کے ویسے ہی قانون کئی ہزار سال سے نافذ العمل ہیں‘ ان کے ہاں تو صلح کی صورت میں عورتیں بدلے میں دینے کا رواج آج تک چلا آ رہا ہے۔ ’’سوارا‘‘ کی رسم اسی کا ایک روپ ہے۔

    غیرت مند سندھی بھی جو کئی ہزار سال سے اجرک‘ سندھی ٹوپی‘ ملاکھڑا‘ الغوزہ اور رقص کو اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے ہیں وہ کارو کاری کو بھی ویسے ہی ثقافت کا جزو لاینفک قرار دیتے ہیں۔ ان کے سامنے بھی اگر کسی عورت کو اس جرم میں قتل کیا جا رہا ہو تو کوئی سومرو‘ گبول‘ پلیجو‘ زرداری‘ ابڑو یا بھٹو اسے بچانے کے لیے نہیں آتا۔ کسی کو ایک مظلوم کی جان بچانے کے لیے غیرت و حمیت کی داستانیں یاد نہیں آتیں۔

    وہ بلوچ جو حرّیت کے گیت گاتے ہیں‘ اپنی بہادری کے قصوں پر نازاں ہوتے ہیں ان میں سے بھی کسی مری‘ بگٹی‘ مینگل‘ بادینی‘ جمالدینی‘ رئیسانی‘ پرکانی یا لہڑی کو آپ بہادری کا طعنہ دے کر دکھائیں اور انھیں اس مظلوم عورت کے پیچھے پورا قبیلہ پڑا ہوا ہے اور وہ جان بچانے کو بھاگ رہی ہے‘ دربدر ہو رہی ہے‘ تمہیں تمہاری شجاعت کا واسطہ اس کی جان بچائو تو کوئی آگے نہیں بڑھے گا بلکہ کتنے آرام سے کہہ دے گا کہ یہ ان کے قبیلے کی رسم ہے۔ عورت ان کی ہے میں کیا کروں اور پھر کہے گا کہ اگر میرے قبیلے میں بھی کوئی ایسی عورت ہوتی تو میں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ میں نہیں چاہتا کہ لوگ میرے بعد آنے والی میری نسلوں کو یہ طعنہ دیں کہ تمہارا باپ یا دادا بے غیرت تھا۔ بلوچستان میں ایک بڑے سردار کی بیٹی پر یہ الزام لگا تھا، پڑھا لکھا آدمی تھا، اس نے بیوی کو قتل کرنے سے انکار کر دیا ۔

    آج تک اپنے قبیلے میں وہ اور اس کی اولاد واپس نہ آ سکی۔ یہی حال پشتون معاشرے کا ہے وہاں تو ایسی باتوں کا بھی عورت پر الزام لگا کر قتل کر دیا جاتا رہا ہے کہ وہ بے چاری بکریاں چرانے گئی‘ راستے میں سوکھی گھاس پر سستانے کو لیٹ گئی‘ کپڑوں میں گھاس کے تنکے دیکھ کر خاوند نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ صدیوں پرانا نہیں بلکہ چند سال پہلے میری وہاں نوکری کا قصہ ہے۔ ایسے کتنے واقعات روز ہوتے ہیں لیکن کوئی یوسفزئی‘ کاکڑ‘ خلجی‘ غوری‘ اچکزئی اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کے لیے اپنے قبیلے کے لوگ لے کر ان عورتوں کی داد رسی کے لیے باہر نہیں آیا۔ سب اسے ایک ثقافتی مجبوری سمجھتے ہیں۔ بڑے سے بڑا پڑھا لکھا پنجابی‘ سندھی‘ بلوچ اور پٹھان اپنی اس نسلی ثقافت کا اسیر ہے۔

    لیکن میرا المیہ یہ ہے کہ جب بھی ان ’’عظیم‘‘ ثقافتوں کی بھینٹ کوئی عورت چڑھتی ہے تو میرے ملک کے اکثر ’’عظیم‘‘ دانشور اس کی سزا مسلمانوں کو گالی دینے سے دیتے ہیں۔ انھیں فوراً مسلم امہ یاد آ جاتی ہے انھیں اسلام کے نام پر بنا ہوا ایک ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ستانے لگتا ہے۔ کوئی ان لوگوں کی جانب انگلی نہیں اٹھاتا کہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تین ہزار سال سے سندھی‘ بلوچ‘ پشتون اور پنجابی ہیں‘ چند سو سالوں سے مسلمان ہیں اور تقریباً 70 سال سے پاکستانی۔ میرے آقا سید الانبیاﷺ نے جب عرب کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی تو عرب کے بدّو بھی یہی کہتے تھے کہ ہم ہزاروں سال سے عرب ہیں ‘تم یہ نئی باتیں کہاں سے لے کر آئے ہو۔

    ہم اپنی ثقافت تہذیب روایات کو کیسے چھوڑ دیں۔ کوئی کالم نگار‘ تجزیہ نگار یا اینکر پرسن آج تک یہ سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرسکا کہ تم جن ثقافتوں پر ناز کرتے ہو ان میں بھنگڑا ساگ اور ہیر کے ساتھ غیرت کے نام پر قتل بھی تو اس کا حصہ ہے۔ اجرک ٹوپی اور دھمال کے ساتھ کاروکاری‘ لیوا‘ نڑسر اور بلوچی پگڑی کے ساتھ سیاہ کاری اور اتنڑ رباب اور ٹپوں کے ساتھ ’’سوارا ‘‘بھی تمہاری تین ہزار سالہ ثقافتوں میں رچی ہوئی لعنتوں میں سے ایک ہیں۔ کوئی ان قوم پرست رہنمائوں کا گریبان تھام کر سوال نہیں کرتا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم کیسے غیرت مند پنجابی‘ پٹھان‘ بلوچ اور پشتون ہو جو مجبور اور کمزور عورتوں کو قتل کرتے پھرتے ہو۔

    ہر ایک کو مسلمان مولوی‘ اسلام اور نظریہ پاکستان یاد آ جاتا ہے۔ اس لیے کہ ان سب کے دماغوں میں صرف ایک مقصد چھپا بیٹھا ہے کہ وہ کس طرح اسلام اور رسولؐ اللہ کے فرمودات کو نشانہ بنائیں ۔لیکن ایسا کرنے کی جرات نہیں کر پاتے ۔اسی لیے جب بھی کوئی مجبور عورت جو ثقافت کے نام پر قتل کی جاتی ہے تو اس جرم کی غلاظت کو مسلمانوں‘ مولویوں اور نظریہ پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے کا ’’خوشگوار‘‘ فریضہ انجام دیتے ہیں اور پھر اس پر پھولے نہیں سماتے۔ وہ اسلام جو بے گناہ عورت کو قتل کرنے کے بارے میں قرآن کی ’’سورۃ التکویر‘‘ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی اور غصے کو کس شدت سے بیان کرتا ہے۔

    اس سورہ کا بہائو ایک خاص کیفیت میں اس غصے اور ناراضگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے‘ ’’جب سورج لپیٹ دیا جائے گا‘ جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے‘ جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا‘ جب دس مہینے کی حاملہ اونٹیوں کو بھی بے کار چھوڑ دیا جائے گا‘ جب وحشی جانور اکٹھے کر دیے جائیں گے اور جب لوگوں کے جوڑے بنا دیے جائیں گے‘ ‘۔قیامت کی یہ کیفیت بتانے کے بعد اللہ اس منظر نامے میں یہ سوال اٹھاتا ہے۔ ’’جس بچی کو زندہ گاڑھا گیا اسے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا ‘‘یعنی اللہ اس وقت قاتل کے چہرے کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرے گا۔

    یہ وہ دن ہو گا جب نہ پنجابی غیرت کام آئے گی اور نہ پشتون حمیت۔ نہ بلوچی شجاعت اور نہ ہی سندھی تہذیب۔ اس دن صرف میرے رب کا فیصلہ ہو گا لیکن میرے ملک کے عظیم دانشور جو ساٹھ سال سے اس ملک کے لوگوں کو پنجابی‘ پشتون‘ بلوچ اور سندھی بنانے میں مصروف عمل ہیں وہ انھیں مسلمان کیسے بنا سکتے ہیں۔ انھیں اپنی ثقافتوں پر فخر اور غرور سکھائو گے تو ایسے ہی ہائی کورٹ کے دروازوں پر بچیاں قتل ہوتی رہیں گی۔

    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 06/05/14--02:05: The State Bank of Pakistan

  • The State Bank of Pakistan (SBP; Urdu: بینک دولت پاکستان‎) is the central bank of Pakistan. While its constitution, as originally laid down in the State Bank of Pakistan Order 1948, remained basically unchanged until January 1, 1974, when the bank was nationalized, the scope of its functions was considerably enlarged. The State Bank of Pakistan Act 1956,[1] with subsequent amendments, forms the basis of its operations today. The headquarters are located in the financial capital of Pakistan, Karachi with its second headquarters in the capital, Islamabad.

    History

    Before independence on 14 August 1947, during British colonial regime the Reserve Bank of India was the central bank for both India and Pakistan. On 30 December 1948 the British Government's commission distributed the Reserve Bank of India's reserves between Pakistan and India -30 percent (750 M gold) for Pakistan and 70 percent for India.[2]

    Under the State Bank of Pakistan Order 1948, the state bank of Pakistan was charged with the duty to "regulate the issue of bank notes and keeping of reserves with a view to securing monetary stability in Pakistan and generally to operate the currency and credit system of the country to its advantage". A large section of the state bank's duties were widened when the State Bank of Pakistan Act 1956 was introduced. It required the state bank to "regulate the monetary and credit system of Pakistan and to foster its growth in the best national interest with a view to securing monetary stability and fuller utilisation of the country’s productive resources". In February 1994, the State Bank was given full autonomy, during the financial sector reforms.[3]

    On January 21, 1997, this autonomy was further strengthened when the government issued three Amendment Ordinances (which were approved by the Parliament in May 1997). Those included were the State Bank of Pakistan Act, 1956, Banking Companies Ordinance, 1962 and Banks Nationalization Act, 1974. These changes gave full and exclusive authority to the State Bank to regulate the banking sector, to conduct an independent monetary policy and to set limit on government borrowings from the State Bank of Pakistan. The amendments to the Banks Nationalization Act brought the end of the Pakistan Banking Council (an institution established to look after the affairs of NCBs) and allowed the jobs of the council to be appointed to the Chief Executives, Boards of the Nationalized Commercial Banks (NCBs) and Development Finance Institutions (DFIs). The State Bank having a role in their appointment and removal. The amendments also increased the autonomy and accountability of the chief executives, the Boards of Directors of banks and DFIs.

    The State Bank of Pakistan also performs both the traditional and developmental functions to achieve macroeconomic goals. The traditional functions, may be classified into two groups: 1) The primary functions including issue of notes, regulation and supervision of the financial system, bankers’ bank, lender of the last resort, banker to Government, and conduct of monetary policy. 2) The secondary functions including the agency functions like management of public debt, management of foreign exchange, etc., and other functions like advising the government on policy matters and maintaining close relationships with international financial institutions.

    The non-traditional or promotional functions, performed by the State Bank include development of financial framework, institutionalization of savings and investment, provision of training facilities to bankers, and provision of credit to priority sectors. The State Bank also has been playing an active part in the process of islamization of the banking system. The Bank is active in promoting financial inclusion policy and is a leading member of the Alliance for Financial Inclusion. It is also one of the original 17 regulatory institutions to make specific national commitments to financial inclusion under the Maya Declaration[4] during the 2011 Global Policy Forum held in Mexico.

    Regulation of liquidity

    The State Bank of Pakistan has also been entrusted with the responsibility to carry out monetary and credit policy in accordance with Government targets for growth and inflation with the recommendations of the Monetary and Fiscal Policies Co-ordination Board without trying to effect the macroeconomic policy objectives. The state bank also regulates the volume and the direction of flow of credit to different uses and sectors, the state bank makes use of both direct and indirect instruments of monetary management. During the 1980s, Pakistan embarked upon a program of financial sector reforms, which lead to a number of fundamental changes. Due to these changed the conduct of monetary management which brought about changes to the administrative controls and quantitative restrictions to market based monetary management. A reserve money management programme has been developed, for intermediate target of M2, that would be achieved by observing the desired path of reserve money - the operating target.
    State Bank of Pakistan has changed the format and designs of many bank notes which are currently in circulation in Pakistan. These steps were taken to overcome the problems of fraudulent activities.

    Banking

    The State Bank of Pakistan looks into many ranges of banking to deal with changes in the economic climate and different purchasing and buying powers. Here are some of the banking areas that the bank looks into:
    • State Bank’s Shariah Board approves essentials and model agreements for Islamic modes of financing
    • Procedure for submitting claims with SBP in respect of unclaimed deposits surrendered by banks/DFIs
    • Banking sector supervision in Pakistan
    • Microfinance
    • Small and medium enterprises (SMEs)
    • Minimum capital requirements for Banks
    • Remittance facilities in Pakistan
    • Opening of foreign currency accounts with banks in Pakistan under new scheme
    • Handbook of corporate governance
    • Guidelines on risk management
    • Guidelines on commercial paper
    • Guidelines on securitization
    • SBP Scheme for agricultural financing
    Enhanced by Zemanta

    0 0


    No Governor Took office Left office Time in office
    1
    Zahid Hussain June 10, 1948 July 19, 1953 5 years, 40 days
    2
    Abdul Qadir July 20, 1953 July 19, 1960 7 years
    3
    Shujaat Ali Hasnie July 20, 1960 July 19, 1967 7 years
    4
    Mahbubur Raschid July 20, 1967 July 1, 1971 3 years, 347 days
    5
    Shahkurullah Durrani July 1, 1971 December 22, 1971 174 days
    6
    Ghulam Ishaq Khan December 22, 1971 November 30, 1975 3 years, 344 days
    7
    S. Osman Ali December 1, 1975 July 1, 1978 2 years, 213 days
    8
    Aftab Ghulam Nabi Kazi July 15, 1978 July 9, 1986 5 years, 359 days
    9
    Vasim Aon Jafarey July 10, 1986 August 16, 1988 2 years, 38 days
    10
    Imtiaz Alam Hanfi August 17, 1988 February 9, 1989 177 days (first term)
    11
    Kassim Parekh September 5, 1989 August 30, 1990 359 days
    -
    Imtiaz Alam Hanfi September 1, 1990 June 30, 1993 2 years, 303 days (second term)
    12
    Muhammad Yaqub July 25, 1993 November 25, 1999 6 years, 124 days
    13
    Ishrat Husain December 2, 1999 December 1, 2005 6 years
    14
    Shamshad Akhtar December 2, 2006 January 1, 2009 2 years, 31 days
    15
    Salim Raza February 1, 2009 February 8, 2010 1 year, 8 days
    16
    Shahid Hafeez Kardar September 8, 2010 July 13, 2011 309 days
    Enhanced by Zemanta

    0 0
    0 0


    شاید حکمران جماعت کو قوم میں پائی جانیوالی شدید مایوسی اور بے اطمینانی کا پوری طرح ادراک ہی نہیں، اپنی معاشی بقا کی جنگ میں مصروف عمل اس عام آدمی کی اقتصادی دشواریوں کا اندازہ ہی نہیں، تبھی تو قوم کو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے بے فیض اور بے ثمر بجٹ دیا گیا جس میں لفظوں کے گورکھ دھندے کے سوا عام آدمی کی فلاح اور بہبود سے متعلق کوئی واضح ریلیف دینے سے مکمل اجتناب کیا گیا، وجہ وہی پرانی اور بوسیدہ کہ ’’ آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں‘‘۔

    موجودہ بد ترین اقتصادی اور معاشی حالات میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیا 
    جاسکتا اور پچھلے 60 سالوں سے حکمران طبقہ انھیں دو بنیادی وجوہات کو بیان کرکے ہر سال پوری قوم کے 95% فیصد لوگوں کی بجٹ سے وابستہ جائز آرزوئوں اور توقعات کا خاتمہ کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے یعنی پاکستانی قوم کتنی بھی محنت ومشقت کرلے چاہے اپنی آمدنی کا نصف حصہ بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکس کی شکل میں قومی خزانے میں جمع کروادے مگر اس کے بدلے اسے کسی بھی بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا، غربت و افلاس اور مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے لوگوں کی مشکلات کا خاتمہ کبھی بھی نہیں کیا جائے گا اور گمان غالب ہے کہ آنیوالے سالوں میں بھی مذکورہ بالا دونوں بنیادی وجوہات کا ذکر کرکے بجٹ بنانے کی روش کو برقرار رکھا جائے۔

    ثابت ہوا کہ موجودہ ظالم اور عوامی احساس سے عاری اشرافیہ جب تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہیںگے پاکستانی قوم کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا اختیار لیے ہوئے ہونگے اس وقت تک پاکستانی قوم کو لاحق انتہائی پریشان کن معاشی حالات سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ حقیقت ہے کہ ایک بھوکے شخص کا حقیقی احساس ایک بھوکا شخص ہی کرسکتا ہے، ایک بیمار شخص ہی دوسرے بیمار شخص کی تکلیف کو محسوس کرسکتا ہے، ایک پیاسا شخص ہی پانی سے محروم دوسرے شخص کی پیاس کو محسوس کرسکتا ہے۔ زندگی کو میسر تمام اعلیٰ ترین سہولیات حاصل کیے ہوئے حکمران بھلا کس طرح بھوکی، پیاسی، بیمار، بیروزگار قوم کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔

    دنیا کی تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسا واقعہ قلم بند نہیں ہے کہ کسی اشرافیہ حکومت نے اپنی غریب، مفلوک الحال اور غربت اور پسماندگی میں مبتلا قوم کی فلاح و بہبود، ان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے کے انقلابی اقدامات اٹھائے ہوں ان کی اچھی صحت اور علم سے متعلق کسی پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کی مخلصانہ کوشش کی ہو، یہ ممکن ہی نہیں چوں کہ اشرافیہ حکومتیں غربا، محنت کشوں اور مزدوروں کے استحصال پر ہی اپنا وجود قائم رکھتی ہیں، ان کا تخت حکمرانی انھی مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کے خون پسینے سے حاصل شدہ معاشی وسائل کے انتہائی غیر منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر ہی اپنا وجود قائم رکھے ہوئے ہوتا ہے۔

    ملک میں انقلابی تبدیلیاں رونما کرنے کے نام پر قائم ہونے والی حکومت جو اپنے آپ کو جمہوری انداز سے منتخب ہونے کا راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتی اسے اس بجٹ کو بناتے وقت اپنے ان وعدوں اور عوام سے کیے گئے عہد و پیمان کو ضرور یاد رکھنا چاہیے تھا جس میں اس نے عوام کو مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کے فوری خاتمے کا یقین دلایا تھا، ان کے بہتر مستقبل کی نوید سنائی تھی۔ ان کی آرزوئوں اور تمنائوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دعوے کیے تھے، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے ناقابل تنسیخ عہد وپیمان کیے تھے۔ جمہوری حکمران صرف جمہور کو مطمئن اور آسودہ کرکے ہی اپنی حکمرانی کو جاری رکھتے ہیں اور جمہور کے غیض و غضب اور ناراضگی کے نتیجے میں جمہوری حکومت کا قائم رہنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا۔
    کسی بھی کامیاب جمہوری حکومت کی اقتصادی اور معاشی کامیابی تین بنیادی اصولوں میں پنہاں ہوتی ہے۔ (1) کہ حکومت نے اپنے پچھلے مالی سال میں رکھے ہوئے اہداف کو حاصل کیا یا نہیں یعنی اپنے وسائل میں کتنا اضافہ کیا۔ (2) ملکی جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس نیٹ کو کتنا بڑھایا اور (3) وہ حکومت وقت Tax Exemption کا خاتمہ کرنے میں کس حد کامیاب ہوئی۔ موجودہ حکومت اپنے پچھلے بجٹ میں رکھے ہوئے ان اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ حکومت وقت موجودہ بجٹ میں رکھے ہوئے اپنے اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔
    ایک عوامی حکومت سب سے پہلے اپنے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرتی ہے اور ڈائریکٹ ٹیکس کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے آمدنی کے مطابق ٹیکس میں اضافہ کرتی ہے اور ان اربوں پتی اور کروڑ پتی لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی حکمت عملی وضع کرتی ہے جو اپنی آمدنی اور اثاثوں کو جعلی ناموں پر منتقل کرکے کسی نہ کسی طور ٹیکس ادا کرنے سے اپنے آپ کو بچائے رکھتے ہیں۔ ایک عوامی حکومت ملک میں موجود اپنے قدرتی وسائل کو ہر قیمت پر بڑھانے کے جنون میں مبتلا ہوتی ہے۔

    معاشرے میں موجود استحصال کی بوسیدہ روایت یعنی Tax Exemption کا خاتمہ کرنا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے اور وہ حکومت قوم کی بہتری اور ترقی کی خاطر مذکورہ بالا مقاصد کو حاصل کرلے تو پھر وہ قوم اقتصادی پسماندگی سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتی ہے، پھر اس قوم کو ترقی کرنے سے دنیا کی کوئی قوت روک نہیں سکتی مگر افسوس موجودہ حکومت ٹیکس نیٹ کو بڑھانے، ٹیکس مستثنیات کا خاتمہ کرنے اور قومی وسائل میں اضافہ کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور اسی وجہ سے حکومت وقت پہلے سے پسے ہوئے مہنگائی کے ستائے ہوئے ٹیکس دہندہ عوام پر مزید بوجھ ڈال کر اپنے اخراجات کو پورا کرنے کی روش پر گامزن ہے۔

    بین الاقوامی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی بینک،یوروبانڈز، سعودی عربیہ اور اندرونی بینکوں سے اربوں ڈالرز حاصل کرتے وقت یہ جواز پیدا کیا گیا کہ ان اربوں ڈالرز سے افراط زر کا خاتمہ کرکے معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرینگے، ملک میں عوام کو لاحق معاشی بد حالی کو فوری ختم کرنے کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا، عوام کو بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ سے فوری نجات دلائی جائے گی مگر یہ تمام وعدے اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، خدا جانے وہ اربوں ڈالرز کہاں گئے، انھیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہاہے، کچھ پتا نہیں، مہنگائی ہے کہ دن بدن بڑھتی ہی جارہی ہے، عوام غربت اور افلاس کی دبیز چادر میں لپٹے جارہے ہیں۔

    اقتصادی امور سے منسلک وفاقی وزیر صاحب اور ان کی ٹیم عوام سے متعلق اس حساس ترین معاملے پر انگریزی زبان کے مشکل ترین لفظوں پر مبنی اقتصادی زبان میں Inflation کم ہوجانے Debt Servicing اور Physical Deficit کم ہونے PSDPکو بڑھانے اور Foreign Exchange کے اضافے اور ڈالر کو Consolidated رکھنے کے وعدے کرکے اپنی بجٹ تقریر ختم کرنے کو ہی اپنی کامیابی سمجھے بیٹھے ہیں، وہ قوم کو یہ بتانے پر تیار نہیں کہ بجٹ میں بیان کیے ہوئے اعداد و شمار سے پاکستانی قوم کو اگلے سال کس قسم کے فوائد حاصل ہوںگے، بجلی کی قیمت کو کیسے کم کیا جائے گا؟ اس کی مستقل ترسیل کو کیسے ممکن بنایا جائے گا؟ ہر مہینے بڑھنے والی اشیا خورونوش کی قیمتوں کو کیسے کم نہ سہی بڑھنے سے روکا جائے گا؟

    اس سال 2800 ارب روپے ٹیکس کی شکل میں عوام سے وصول کرنے کے عوض انھیں کس قسم کی سہولیات میسر ہوںگی۔ پٹرول اور ڈیزل پر کتنی سبسڈی دے کر عوام کو ارزاں سفری سہولت مہیا کی جائیںگی، زمینداروں، کارخانہ داروں پر ان کے وسائل کے اور آمدنی کے مطابق کتنا ٹیکس وصول کیا جائے گا، عام آدمی کو معیاری صحت اور سستی تعلیم کے حصول کو کس طرح ممکن بنایا جائے گا؟ عام آدمی کے لیے گھر کے حصول کو کس طرح ممکن بنایا جائے گا۔
    یہ سوالات ہیں جو پاکستان کی غربت و افلاس کے چنگل میں پسی ہوئی عوام اپنے ذہنوں میں لیے بیٹھے ہیں مگر افسوس پچھلے 66 سالوں سے تمام پاکستانی حکمران ان سوالوں کے جواب دینے سے گریزاں ہیں اور شاید ان سوالوں کے جواب کبھی نہ مل پائیں چوں کہ اشرافیہ طبقات پر مشتمل حکمران طبقہ کسی کو بھی جواب دہ ہونا گوارہ نہیں کرتے وہ صرف حکم چلاتے ہیں اور 
    عوام سے صرف فرماں برداری کی متمنی ہوتے ہیں۔

    Enhanced by Zemanta

    0 0


     Pakistan Economy at a Crossroads by Wajahat Masood

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    نواز شریف حکومت کی ادائیں دیکھ کر مجھے آگے پیچھے جھولنے والی آرام کرسی یاد آ رہی ہے۔ اگر آپ محض حرکت کو معیا ر بنائیں تو یہ کرسی کسی گاڑی سے زیادہ یا اُس کے قریب قریب متحر ک رہنے کی استطا عت رکھتی ہے۔ مگر تمام توانائی صرف کرنے کے باوجود اس کی چال صفر ہے۔ یہ نہ اپنی جگہ چھوڑتی ہے اور نہ اس پر براجمان ہو کر کوئی ایک انچ آگے بڑھ سکتا ہے۔
    یہ ہلتی ضرور ہے مگر جا تی کہیں نہیں۔ آگے پیچھے۔ آگے پیچھے۔ بس یہی کرتی رہتی ہے۔ مسافت طے کیے بغیر سفر کا مزا دینے والی یہ ایجاد ان من موجیوں کے لیے بنائی گئی ہے جو خود کو اس مسحور کن دھوکے میں مبتلا رکھنا چاہتے ہیں کہ اُن سے زیادہ مشقت کرنے اور جان توڑنے والا کوئی اور نہیں ہے۔ لہٰذا وہ جو اُن پر سستی اور کاہلی کا الزام لگاتے ہیں۔ اُنکی نقل و حرکت سے جلتے ہوئے بغض میں سچائی سے منہ پھیر رہے ہیں۔

    نواز لیگ بڑے قومی معاملات پر اس کرسی جیسی کیفیت میں مبتلا نظر آتی ہے۔ ظاہراً بھاگ دوڑ اور گہما گہمی کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ساکن ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ جیو بحران دیکھ لیں۔ ظاہراً کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ شروع میں خطرناک اور فتنہ انگیز خا موشی اختیار کرنے کے مداوے میں ہر طرح کے پاپڑ بیلے گئے۔ وزیر اعظم اور کابینہ کے تمام اراکین اس معاملے کو اصولی بنیادوں پر سلجھانے اور انصاف کرنے کے لیے میدان میں کود پڑے۔ میا ں نواز شریف نے فوج کی تعریفوں کے پل باندھ کر اُس پل صراط کو عبور کیا جس کے بیچ انھوں نے خود کو لا کھڑا کیا تھا۔ شہید فوجیوں کے جنازوں تک میں شرکت کی۔ وزیر اطلاعات ہر دروازے پر دستک دیتے ہوئے نظر آئے۔ دبئی کا سفر بھی کر ڈالا۔

    وزارت دفاع، دفاعی اداروں کے حق میں سینہ سپر ہو گئی۔ جیو کی طرف سے ہونے والی ہرزہ سرائی پر شدید سزا اور قلمی بندش کو اپنا ہدف بنایا۔ خواجہ آصف، جنا ب وزیر دفاع نے اپنے دستخطو ں سے اس ادارے کے خلاف شکایت پیمرا تک بھجوائی۔ اور اب جزوی معطلی کے فیصلہ پر عدم اطمینان کرتے ہوئے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ یعنی حرکت کا فقدان نظر آیا۔ مگر نتیجہ کیا نکلا؟ پیمرا، جس نے قانونی طور پر اس تنازعے کو حل کرنا ہے۔ بدترین تنازعے کا خود شکار ہو چکی ہے۔ ایک گروپ نے ایک سزا تجویز کی ہے تو دوسرے نے دوسری۔ دونوں ایک دوسرے پر غیر قانونی ہو نے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ادارے کا سربراہ عبوری ہے۔

    پرویز راٹھو رکے ہاتھ میں پیمرا کی لگام ہے (یہ وہی جوانمرد ہے جس نے مرحومہ بے نظیر بھٹو کے پہلے لانگ مارچ پر اسلام آباد میں لاٹھیوں کی بارش کرائی۔ کیا مرد، کیا خواتین سب کو جمہو ری انداز میں ’دھو‘ ڈالا۔ بے نظیر راٹھور صاحب کی انتقامی کا رروائی کی زد میں بری طرح آئیں مگر چونکہ حوصلے میں چھ مردوں پر بھاری تھیں۔ لہذا اُن کی تمام تر کوششوں کے باوجود حصار توڑ کر راولپنڈی کی طرف روانہ ہو گئیں۔ راٹھور صاحب اُس وقت میا ں نوازشریف کے بہت قریب تھے آج بھی اُن کی وفاداری میں کمی نہیں آئی) پیمرا کے فیصلے پر اندرونی تنازعے نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

    متاثرہ ادارہ اس کو ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ اُس کی طرف سے آتشیں الفاظ سے بھرے ہوئے اسلحے کا استعمال بدستور جاری ہے۔ آئی ایس آئی اور پیمرا کے خلاف ہرجانے کا دعوی اُسی پالیسی کا تسلسل ہے جس نے اس مسئلے کو جنم دیا۔ دوسری طر ف فوج بھی اس جزوی سزا پر انتہائی غیر مطمئن ہے۔ وہ اس کو دوستانہ معاہدے کا حصہ گردانتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہفتوں کی کوشش کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کوئی نتیجہ یا حل نہیں نکلا۔

    ایک اور مثال طالبان کے ساتھ بات چیت کےعمل کی ہے۔ گزشتہ دنوں میں تشویش اور امید دونوں سے بھری ہوئی ایسی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جیسے اس سے بڑھ کر کوئی اور ترجیح ہے ہی نہیں۔ میڈیا سے بات چیت، بیانات، بحث، دورے، کمیٹیاں، میٹنگز، املاک، ڈرافٹ، نا راضگیاں، اتفاق رائے، کیا کچھ نہیں ہو رہا تھا۔ امن کی عید مسرت کی خبریں بنوا بنوا کر قوم کو ایک نہیں، بارہ رمضان کے برابر صبر کے روزے رکھ وائے۔ سب کو اکٹھا کیا خود ادھر گئے اُن کو پاس بلایا۔ اور تو اور عمران خان سے بھی ملاقات کر ڈالی۔ بین الاقوامی اخبارات میں بھی ہرروز خبریں چھپنے لگیں۔

    قومی ذرایع ابلاغ نے پلکیں جھپکنا بند کر دیں کہ کہیں باریک چاند جھلک دکھانے کے بعد پردہ نہ کر جائے۔ مگر نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ نتیجہ نہیں نکلا۔ آج ملک کا یہ حصہ امن سے اتنا ہی دور ہے جتنا پہلے تھا بلکہ حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ جو دھڑے پہلے ریاست پاکستان کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے سلامتی اور تحفظ کے کم سے کم نکات پر اتفاق کرتے تھے وہ اب سرکشی پر آمادہ ہیں۔ طاقت کا استعمال ہو بھی رہا ہے اور نہیں بھی۔ کارروائیاں کب اور کیوں شروع ہو گئی ہیں اور کیسے ان میں وقفہ لا کر جرگوں کو دوبارہ سے فعال کر دیا جاتا ہے۔
    ان پہلووں پر مکمل خاموشی بلکہ مکمل تاریکی ہے۔ پچھلے سال سے شروع ہونے والی امن جدوجہد میں سے کیا حاصل ہوا اب یہ معاملہ سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہ تمام دعوے اور امید افزاء بیا نات اب سکوت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ جن کی گونج کبھی تمام ملک میں سنائی دیتی تھی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ آخری مرتبہ میں نے ان مذاکرات کے بارے میں کسی بھی وزیر کے منہ سے پچھلے ہفتوں میں کوئی تفصیلی بیان سنا ہو۔ سب کچھ وہیں کا وہیں ہے۔ نہ جنگ ہے نہ امن ۔ نہ بات چیت ہے نہ کارروائی۔

    یہ ’آگے پیچھے۔ آگے پیچھے‘ کی پالیسی آپ کو ہر اہم مسئلے پر نظر آئے گی۔ حکمرانوں کے پاس کرسی تو ہے مگر وہ اس سے صرف جھولے کا کام لے رہے ہیں۔ شاید وہ سمجھتے ہوں کہ جنبش چاہے کیسی ہی ہو اس کا ہونا ہی کافی ہے۔ حکومت کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ کر نے کی ضرورت نہیں۔ اللہ کرے گا کسی بھولی بسری نیکی کے صدقے میں اس کارروائی میں برکت پڑ جائے گی۔ ایک ہی جگہ پر آگے پیچھے، آگے پیچھے۔ اللہ بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ کرسی ہے، آرام کریں۔

    "بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس 

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    ملک میں قتل و غارت گری اور ظلم و سفاکی کی وارداتیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں جنھیں دیکھ کر یا سن کر بعض اوقات عقل دنگ اور اعصاب شل ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے بعض واقعات میڈیا کوریج، این جی اوز کی پشت پناہی و دلچسپی اور غیر ملکی اداروں اور حکومتوں کی دلچسپی و دخل اندازی کی وجہ سے بڑی شہرت و اہمیت حاصل کرجاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایسے ہی دو واقعات کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر بڑی شہرت ملی، ان واقعات کا حکومتی سطح پر نوٹس لیا گیا، سپریم کورٹ نے بھی اس پر سوموٹو ایکشن لیا، ہائیکورٹ بار نے متاثرہ خاندان کو مفت قانونی امداد دینے کا اعلان کردیا۔

    ایک واقعے میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو اس کے بھائیوں نے گولیوں سے بھون ڈالا۔ دوسرے واقعے میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو عدالت میں پیشی پر آنے کے موقع پر اس کے بھائی باپ اور رشتے داروں نے اینٹیں مار مار کر ہلاک کردیا۔ ان واقعات کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اوالذکر واقعے میں مقتول خاتون نے اپنی سگی بہن کے شوہر سے ناجائز مراسم استوار کرلیے تھے، جب بہن کو اس کا علم ہوا تو وہ ان کے راستے میں رکاوٹ بنی اور والدین کو بھی اس بات سے آگاہ کیا۔ والدین نے بیٹی کو سمجھانے کی بہت کوششیں کیں لیکن لڑکی نہ مانی اور فرار ہوکر بہنوئی کے گھر چلی گئی۔

    جس نے اس کی بہن کو طلاق دے کر عدت مکمل ہونے سے پہلے ہی اپنی سالی سے شادی رچالی، جس کے مطابق بتایا گیا ہے کہ وہ پہلے سے نکاح شدہ تھی۔ اس کے خاندان کو واقعے کا بڑا ملال تھا، ملزمان کے خلاف زنا کا مقدمہ درج ہوا۔ مقتولہ کو اس کے بھائیوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر ڈالا۔ قتل کی دوسری واردات کی تفصیلات کے مطابق مقتولہ نے عمر میں اپنے سے 20، 22 سال بڑے شادی شدہ شخص سے تعلقات استوار کرلیے تھے، پہلی بیوی نے احتجاج و اعتراض کیا تو اس شخص نے بیوی کو گلاگھونٹ کر مار ڈالا۔ عدالت میں مقتولہ ماں کے بیٹوں نے وارث ہونے کے ناتے باپ سے خون بہا لے کر معاف کردیا۔ اس طرح قاتل آزاد ہوگیا اور پھر دونوں نے شادی رچالی۔

    لڑکی کے بھائیوں کو اس بات کا رنج تھا کہ بہن نے ایک بدکردار اور قاتل شخص سے شادی کرلی ہے۔ عدالت میں پیشی کے موقع پر فریقین کے افراد کے مابین تلخ کلامی، مارپیٹ ہوئی اینٹیں چلائی گئیں اور متوفیہ اینٹ لگنے سے ہلاک ہوگئی۔ وارداتوں کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مقتولہ اس قدر معصوم اور بے گناہ نہیں تھیں، جیسا انھیں ظاہر کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے پیچھے بہت سے محرکات کارفرما ہیں۔

    اس قسم کے واقعات پر ایک مخصوص سوچ اور عزم کا حامل طبقہ، میڈیا اور این جی او سے متعلق افراد اور غیر ملکی ادارے اور حکومتیں، ان کا تعلق پاکستانی معاشرے اور اسلام سے جوڑ کر مبالغہ آرائی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں۔ وہ اس کی آڑ میں اسلامی قوانین کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہیں کہ قصاص کے اسلامی اصول کی وجہ سے ریمنڈ ڈیوس آزاد ہوگیا یا کہ حالیہ قتل کی واردات میں بھی ماں باپ بہن بھائی قاتل کو خون معاف کرکے آزاد کرا لیں گے۔

    وہ ایسے واقعات صنفی جبرو استحصال سے تعبیر کرکے خواتین کی ہمدردیاں سمیٹتے ہیں۔ مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے واجبی سے مطالبات تو کرتے ہیں مگر سزائے موت کی مخالفت کرتے ہیں، بعض اسلامی تعزیرات و سزاؤں کو بربریت و جاہلیت قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اس قسم کے واقعات کو صنف یا مذہب سے جوڑنا سراسر ناانصافی ہے۔ شوہر کو زہر دے کر، گلا گھونٹ کر، سوتے میں مار ڈالنے یا آشناؤں کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرکے ڈکیتی کا رنگ دینے یا زمین میں دفنا دینے، شوہر کے سر پر توا مار کر ہلاک کردینے اور اس کو قتل کرکے اس کا گوشت پکانے جیسے جرائم کی مرتکب خواتین کے جرم کو بھی صنفی و مذہبی جرم یا معاشرتی کلچر نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اس قسم کے واقعات بلالحاظ جنس و مذہب صرف اور صرف جاہلانہ و مجرمانہ ذہنیت کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔

    متذکرہ دونوں واقعات انتہائی سنگین اور قابل مذمت ہیں، کسی شخص کو بھی قانون ہاتھ میں لینے، سڑکوں پر فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ قانون کے رکھوالوں کی بے حسی اور تماش بینی بھی قابل مذمت اور قابل گرفت ہے جو میاں بیوی کی تکرار میں تو فائرنگ کرکے شوہر کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے مگر اس بلوے کو تماش بینوں کی طرح دیکھتے رہے۔

    انسانی و نسوانی حقوق کی علمبردار شخصیات، اداروں اور حکومتوں کو سونیا ناز، ڈاکٹر شازیہ، چیچن خواتین، مزار قائد پر اغوا اور درندگی کا نشانہ بننے والی دوشیزہ، جنسی درندگی کے بعد جناح اسپتال کی بالائی منزل سے پھینکی جانے والی نرس جیسے لاتعداد جرائم نظر کیوں نہیں آتے۔ انھیں جرمن عدالت میں حجاب کا دفاع کرنے والی مرواح اشربینی کیوں نظر نہیں آتی، جسے بھری عدالت میں جج اور سیکیورٹی کی موجودگی میں خنجر کے پہ درپے 18 وار کرکے ہلاک کردیا جاتا ہے لیکن جب اس کا شوہر بچانے کے لیے آگے بڑھتا ہے تو سیکیورٹی فوراً حرکت میں آتی ہے اور اسے گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے۔ اس کمرہ عدالت میں حاملہ خاتون اور اس کے شوہر سمیت تین جانوں کے قاتلوں کی کوئی مذمت نہیں کرتا۔

    ڈاکٹر عافیہ اور اس کے بچوں کا مسئلہ بھی انھیں انسانی یا نسوانی نظر نہیں آتا ہے۔ دنیا بھر میں جنگوں، بغاوتوں، فسادات اور ریاستی جبر کے نتیجے میں ہونے والی لاکھوں عورتوں اور بچوں کی ہلاکتیں بھی ان کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتیں۔ ایدھی ذرائع کے مطابق اس کے قبرستان میں 38 ہزار لاوارث افراد کی قبریں ہیں، دیگر اداروں اور قبرستانوں میں ایسے لاوارث افراد اور لاپتہ ہوجانے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس پر کسی کو تشویش نہیں ہوتی ہے۔

    تیزاب سے متاثرہ خاتون پر بنائی گئی فلم پر آسکر ایوارڈ تو حاصل کرلیا یا نواز دیا جاتا ہے لیکن جب متاثرہ خاتون معاوضہ نہ ملنے اور دھمکیاں ملنے پر بین کرتی ہے تو کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا۔ ایک سیٹھ کی ہوس زر کی بھینٹ چڑھ جانے والے 250 محنت کشوں کی خاک پر فوٹو سیشن کرانے اور شہرت و نیک نامی حاصل کرنے والے ان کے لواحقین ان کی خاک پر بے یارومددگار چھوڑ کر شہرت کے دوسرے تھیٹروں کی تلاش کیوں شروع کردیتے ہیں۔

    یہ سب کچھ ان کے دہرے معیار اور مذموم مقاصد کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کے کچھ قبائلی ذات اور برادریاں رسومات اور روایات میں جکڑے ہوئے ہیں جن کی باگ ڈور اس قسم کے جاگیرداروں، سرداروں، وڈیروں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں میں ہیں، ان کو چھوڑ کر عام پاکستانی معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹیوں کو خاص اہمیت اور آزادی بھی حاصل ہے، باپ بھائی بیٹوں اور بہنوں کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، اپنی عمریں گنوا دیتے ہیں، پہلے بہنوں کی شادی کرتے ہیں، اس پر آنے والے لاکھوں روپے کے اخراجات کی خاطر دن رات محنت کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، گھر تک بیچ دیتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی بہن بیٹی کو حیثیت سے بڑھ کر شان و شوکت کے ساتھ رخصت کریں، اس کے دل میں کوئی خواہش یا احساس محرومی نہ رہ جائے۔ پھر ان کا یہ حق تو بنتا ہے کہ بیٹی بہن بھی ان کی عزت کا پاس رکھے۔

    آج کل اولاد کا ماں باپ سے بغاوت کرکے کورٹ میرج کرنے کا جو طوفانی سلسلہ چل نکلا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں طلاق و خلع کی خطرناک شرح نے والدین کو دہری سولی پر لٹکا دیا ہے، اس میں خود والدین، معاشرے اور حکومت کا بڑا ہاتھ ہے۔ مخلوط تعلیمی و ملازمت کا نظام، بے حجابی، ٹی وی کے واہیات پروگرام، غیر ملکی ثقافت کی یلغار، نیٹ کیفے، صبح سویرے کھلنے والے آئس کریم پارلرز، موبائل فونز، مغرب کی نقالی، فریب دھوکہ دہی، نمودو نمائش، اسٹیٹس اور جہیز کی دوڑ، بڑی عمروں تک شادی کا نہ ہونا، وہ عوامل ہیں جو خاندان کے بنیادی ادارے کو تباہ اور معاشرت کو ملیا میٹ کر رہے ہیں اور یہی کچھ قوتوں کا مطمع نظر اور پلاننگ کا حصہ ہے۔ جب تک ان اسباب کا تدارک کرنے کے لیے والدین، معاشرہ اور حکومتی ادارے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے اس سے بڑے بڑے اور سنگین واقعات رونما ہوتے رہیں گے اور ان کی شرح میں بھی روزافزوں ہوتی جائے گی۔

    عدنان اشرف ایڈووکیٹ

    Love Marriage and their consequences


older | 1 | .... | 23 | 24 | (Page 25) | 26 | 27 | .... | 149 | newer