Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 128 | 129 | (Page 130) | 131 | 132 | .... | 149 | newer

    0 0

    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں نوجوانوں کے قتل اور مظاہرین کو زخمی کیے جانے کے خلاف سری نگر میں مکمل ہڑتال، احتجاج کیا گیا اور بھارت سے آزادی کے نعرے لگائے گئے۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک روز قبل ضلع شوپیاں میں بھارتی فورسز کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کے دوران بھارتی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کیا تھا اور اس دوران فائرنگ کر کے ایک کم عمر لڑکے سمیت 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا تھا۔ بھارتی فورسز کی اس کارروائی کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی تھی جس پر حریت رہنماوں نے سوگ اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت حریت رہنماوں کو نظر بند کردیا گیا۔











    0 0

    امراض قلب کا مرض ہولناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے 3 سال کے دوران اس مرض میں 100 فیصد اضافہ ہو گیا جو غیر معمولی ہے۔ پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے نوجوانوں اوربچوں میں سوشل میڈیا کا بے دریخ استعمال سے بھی یہ مرض جنم لے رہا ہے، دل کے مرض میں اضافے کے ساتھ قومی ادارہ امراض قلب کی انتظامیہ نے کراچی کے مختلف آبادیوں کے اطراف 20 چیسٹ پین کلینکس قائم کیے جا رہے ہیں ان میں سے 6 مرکز فعال کر دیے گئے جہاں دل کے 42 ہزار مریضوں کو علاج اور ان میں سے 2 ہزار مریضوں کو ہارٹ اٹیک کی تشخیص کی جا چکی ہے جنھیں اسپتال میں علاج کی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    امراض قلب کے اسپتال میں یومیہ 3 ہزار دل کے مریض اپنی پیچیدگیوں کی وجہ سے رپورٹ ہو رہے ہیں، دل کا مرض لاپرواہی، مرغن غذاؤں، جسمانی ورزش نہ کرنے، سہل طلب زندگی گزارنے سے بھی جنم لیتا ہے۔ قومی ادارہ امراض قلب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر نے ایکسپریس سے بات چیت میں بتایا کہ کراچی سمیت صوبے میں گزشتہ 5 سال میں عوام کی اکثریت نے طرز زندگی تبدیل کر کے پرتعیش زندگی گزارنے کو ترجیح دے رکھی ہے جبکہ نوجوان نسل اور کم عمر کے بچوں سوشل میڈیا سے حد سے منسلک ہو چکے ہیں اس دوران انھیں اپنی غذا اورصحت کی بھی پرواہ نہیں ہوتی. کھانے کے بعد سوشل میڈیا سے رابطے کرنے کے لیے مسلسل الیکٹرانک کا استعمال انھیں ذہنی دباؤ کا شکار کر رہا ہے۔

    نوجوان اور بچے سوشل میڈیا سے اپنے جواب کے حصول میں رات گئے جاگتے ہیں نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انھیں ذہنی دباؤ اورتناؤ کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے دوران خون بلند فشار بھی ہونے لگتا ہے انھوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران دل کی بیماریوں میں 100 گنا اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے قومی ادارے امراض قلب میں مریضوں کو غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اسپتال میں یومیہ 3 ہزار دل کے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں جو ایک خطرناک صورت ہے۔ پروفیسر ندیم قمر کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ نے حکومت سندھ کی ہدایت پر کراچی کی مختلف آبادیوں کے اطراف 20 چیسٹ پین کلینکس قائم کر رہی ہے ان میں سے 6 چیسٹ کلینکس قائم کر دیے گئے جہاں جولائی سے اب تک 42 ہزار دل کے مریضوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں ان میں سے 2 ہزار افراد ہارٹ ٹیک کے تشخیص کیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ میں 7 سیٹلائٹ کارڈیک یونٹ بھی قائم کر دیے گئے ہیں ان میں لاڑکانہ، سکھر، مٹھی، حیدرآباد، سیہون، نواب شاہ بھی شامل ہیں، پروفیسر ندیم قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی باراسٹیٹ آف آرٹ بچوں کے دل کی سرجری اور دل کی دیگر بیماریوں کے علاج کیلیے 7 منزلہ پیڈیاٹرکس کارڈیک اسپتال قائم کیا جا رہا ہے جہاں 250 بستر مختص کیے گئے ہیں یہ منصوبہ حکومت سندھ کے اشتراک سے شروع کیا گیا اس منصوبے پر مجموعی طورپر ایک ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی یہ منصوبہ اسپتال کی حدود میں زیر تعمیر ہے جو جلد مکمل کر لیا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ قومی ادارہ امراض قلب جب وفاقی حکومت کے ماتحت تھا تب اس کی گرانٹ 400 ملین تھی تاہم جب سے یہ حکومت سندھ کے ماتحت کیا گیا حکومت سندھ نے اس کی گرانٹ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا اور اب صوبائی حکومت اسپتال کو سالانہ 4.35 بلین روپے فراہم کر رہی ہے یہی وجہ ہے اب اسپتال میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، دل کی سرجری سمیت کسی بھی دل کے بیماریوں کا علاج مفت کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر ندیم قمر نے والدین سے درخواست کی ہے کہ کم عمر کے بچوں کوامراض قلب سے محفوظ رکھنے کیلیے سوشل میڈیا سے بچائیں کیونکہ رات گئے اس کے استعمال سے بچے ذہنی دباؤ، تناؤ کا شکار رہتے ہیں ، نیند پوری نہ ہونے سے نوجوان بچوں کا بلڈ پریشر بھی بڑھ رہا ہے۔

    بشکریہ ایکسپریس اردو
     


    0 0

    سن ۱۸۵۷ء برصغیر ہند وپاکستان کی تاریخ کا ایک اہم سال ہے۔ جس طرح نحیف سے نحیف جسم بھی شدید بیماری کی صورت میں ایک نہ ایک مرتبہ اپنی ساری توانائیوں کو سمیٹ کر مرض کو دفع کرنے کے لئے پورا زور صرف کر دیتا ہے کم و بیش ایسا ہی واقعہ ۱۸۵۷ء میں پیش آیا جب کہ ہند وپاکستان کے لوگ جو اندرونی زوال اور بیرونی تسلط کی دوہری مار سے پس چکے تھے ایک مرتبہ پھر منظم ومتحد ہوئے اورانھوں نے اجنبی اقتدار کے جوئے کو کاندھے سے اتار پھینکنے کے لئے غیرمعمولی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ آغاز تو ایسا ہی ہوا جیسا کہ اکثر بیان کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ ہندوستانی فوجیوں کو اپنے حکام کے ساتھ متعدد شکائتیں پیدا ہوگئی تھیں جو رفتہ رفتہ عام فوجی بے چینی کا باعث بن گئیں۔

    یہی وہ بے چینی اور بے اطمینانی ہے جو ۱۸۵۷ء میں جنگ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ لیکن چونکہ یہی وہ زمانہ تھا جبکہ برصغیر کے مختلف طبقات نے جو قطع نظر جذبۂ آزادی کے اور دوسری وجوہ کی بناپر اجنبی تسلط سے بیزار تھے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ چنانچہ یہ واقعہ جس کا آغاز تو فوجی شورش سے ہوا بالآخر قومی جنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ مگر حال کے جن مورخین نے مسئلہ کو اسی طرح سمجھا ہے ان کی تصانیف کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں داستان کی تکمیل اور نتائج کے اخذ کرنے میں اس رول کو ملحوظ نہیں رکھا گیا جو کہ مسلمان علما نے اس جنگ آزادی میں ادا کیا۔

    جہاں تک واقعات کا تعلق ہے یہ بھی جانتے ہیں کہ انگریز برصغیر میں تاجروں کی حیثیت سے داخل ہوئے لیکن یہاں کے سیاسی حالات بالخصوص درباری رقابتوں سے فائدہ اٹھا کر پہلے تو انھوں نے دکن میں اپنا عمل دخل بڑھایا اور کچھ عرصے بعد بنگال کے علاقے کے مالک بن بیٹھے۔ البتہ ابتدا ہی سے انگریز پیش قدمی اور توسیع اقتدار کی پالیسی پر کارفرما رہے اور نت نئے طریقوں سے بالواسطہ یا بلاواسطہ سارے برصغیر پر قابض ہو گئے۔ بیرونی غلبے کا فوری اثر یہ پڑا کہ حکمراں طبقہ اقتدار سے محروم ہو گیا اور امرا اپنا اثر و رسوخ کھو بیٹھے۔ سیاسی محرومی اپنے جلو میں معاشی ابتری بھی لئے ہوئے تھی۔ پہلی بڑی معاشی مار زمیندار طبقے پر پڑی جس سے وہ طبقہ بھی متاثرہوا جو ان سے کسی نہ کسی طرح پر وابستہ تھا۔ تاجر و صنعت کار طبقے بھی انگریزی حکومت سے خوش نہیں رہ سکے۔ 

    ملک کی صنعتیں اور حرفتیں ملک کے نئے حالات میں پنپ نہ سکیں۔ یہاں کی صنعتیں حکومت کی سرپرستی کے بغیر آزاد مقابلے کی تاب نہ لاسکتی تھیں۔ سیاسی و معاشی غلامی میں ظاہر ہے کہ ملکی تہذیب بیرونی اثر سے آزاد نہیں رہ سکتی، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انگریزی تہذیب رفتہ رفتہ ملک میں اثر و نفوذ کرنے لگی جو دور رس نتائج کا باعث بنی۔ ان حالات میں ایک غیور قوم کا اجنبی حکومت کو للکارنا ایک فطری امر تھا۔ ہندو اور مسلمان طویل سیاسی اور تہذیبی مقاصد میں ہمیشہ سے الگ الگ رہے ہیں لیکن بیرونی غلبے سے آزادی حاصل کرنا ایسا جذبہ تھا جس میں ہندو اور مسلمان دونوں برابر کے شریک تھے۔ اس موقع پر جو نقطۂ اتحاد دونوں قوموں کے لئے قابل قبول ہو سکتا تھا وہ مغل شہنشاہ کی ذات تھی مانا کہ مغل بادشاہ کا وجود اب برائے نام تھا لیکن اس کی قانونی حیثیت اب بھی مسلم تھی۔

    مزید برآں عوام کی وفاداری کی دیرینہ روایات بھی مغل خاندان سے وابستہ تھیں۔ ان ہی وجوہ کی بنا پر قیادت کے لئے ہندو اور مسلمان دونوں کی نظریں مغل شہنشاہ پر پڑیں۔ لیکن ملک کی سیاسی بے چینی ابھی منظم تحریک کی پختہ صورت نہ اختیار کر پائی تھی کہ فوج میں بغاوت کی چنگاری اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلے کی شکل میں برصغیر کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس جنگ میں امیر وغریب، عالم وجاہل سب ہی شامل تھے۔ مرد تو مرد عورتوں نے بھی اس موقع پر غیرمعمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ نتائج کے اعتبار سے بھی یہ جنگ برصغیر میں پہلی جنگ آزادی کہلانے کی مستحق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انگریزوں کو نکال باہر کرنے میں کامیابی نہیں ہوئی لیکن ان کی یہ ناکامی عوام کے جذبۂ حریت کو پامال نہ کر سکی۔ بیرونی اقتدار کے خلاف جذبہ روز بروز بڑھتا رہا ہے، حصول آزادی کی متواتر کوششیں مختلف سمتوں میں جاری رہیں، جس کا پھل بالآخر مکمل آزادی کی صورت میں ۱۹۴۷ ء میں ملا۔ 

    تاریخ میں اختلاف رائے ایک معمولی امر ہے یہ تحقیق حق میں کسی طرح حارج نہیں تاریخی مساعی میں اختلاف رائے کا پایا جانا ایک اعتبار سے ضروری بھی ہے۔ علم تاریخ میں ایک فرد کی کوشش بالکل ناکافی ہوتی ہے کیونکہ کسی مورخ کی آنکھ میں اتنی تیزی نہیں کہ واقعہ کو اس کے پورے پس منظر میں دیکھے۔ مختلف آنکھوں کی مدد ہی سے وہ بصیرت حاصل ہو سکتی ہے جس سے واقعہ کی ماہیت کو اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر سے مسئلے کے سمجھنے میں الجھاؤ ضرور پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن دلائل کی تنقیدی جانچ سے اس الجھاؤ کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ بنیادی طور پر ایک ایسا علم ہے جس میں تنقید کے ذریعہ ہی سے حقیقت تک پہنچا جاتا ہے۔ 

    جہاں تک ۱۸۵۷ء کا تعلق ہے اس پر اب تک جو کام ہوئے ہیں اور خاص طور پر ۱۸۵۷ء میں صد سالہ یادگار کے موقع پر جو کتابیں شائع ہوئی ہیں اپنی اپنی جگہ پر مستحسن ہیں لیکن ان کو کافی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قطع نظر اختلاف رائے کے جو بات قابل ذکر ہے وہ یہ کہ ابھی تک کوئی ایسا مبسوط کام نہیں کیا گیا ہے جس میں مسلمان علما کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہو۔ ناکامی کے بعد محبان وطن پر جو جھوٹے مقدمات چلائے گئے اور ان کے خلاف بربریت اور وحشت کے جو افسانے گھڑے گئے وہ سب مورخ کی ناقدانہ جانچ کے محتاج ہیں۔ ضرورت ہے کہ مورخین اس طرف متوجہ ہوں۔

    ڈاکٹر محمود حسین


     


    0 0

    بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سڑکوں پر ہونے والے پتھراؤ کے دوران چنئی شہر کے ایک سیاح کی موت اور ایک مقامی لڑکے کے زخمی ہونے کا واقعہ چونکا دینے والا تھا۔ جس کی تنقید سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی سے لے کر حریت تک نے کی۔ سبھی نے اسے کشمیر کی مہمان نوازی کی روایات کے خلاف کہا۔ زیادہ تر معاملات میں مقامی لوگ یا سیاح پتھر بازوں کے نشانے پر نہیں ہوتے تھے۔ اس واقعہ سے کشمیر میں سیاحت پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے جو پہلے سے ہی شورش کے سبب متاثر ہو رہا ہے۔ کشمیر کے موجودہ حالات کے سبب عام زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم ، صحت یہاں تک کے لوگوں کی سکیورٹی بھی خطرے میں ہے۔ اور سکول کالج کے طالب علموں کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے پتھر ہیں اور اب لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی مظاہروں میں شامل ہو رہی ہیں۔ ان بچوں کو معلوم ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔  2016 کے بعد سے کشمیر میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ جیسے ہی کسی گاؤں کے لوگوں کو یہ خبر ملتی ہے کہ ان کے ہمسایہ گاؤں میں مسلح فوجی شدت پسندوں کو مارنے پہنچے ہیں وہ نہتے ہی انہیں بچانے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔

    کچھ نوجوان اب پتھر بازوں سے بندوق باز بن رہے ہیں اور اب کچھ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل نوجوان بھی علیحدگی پسندوں سے وابستہ ہو رہے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کی تعداد اب تیزی سے بڑھ رہی ہے اور انکاؤنٹر میں مارے جانے والوں کی تعداد میں بھی دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سڑکوں پر مظاہرے شورش کی علامت بن چکے ہیں جس میں کشمیری نوجوان پتھر ہاتھوں میں لیکر مسلح فوجیوں سے لڑنے کو تیار ہوتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان فوجیوں کا رویہ ظالمانہ ہو گا۔ فوجی کارروائیوں کے ضابطوں کی بھی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

    پتھر پھینکنا کوئی بیماری نہیں ہے اور یہ بھی طے ہے کہ یہ نوجوان کسی فائدے کے لیے خود کو موت کے منھ میں نہیں دھکیل رہے۔ جیسا کہ حکام اس بات کا دعوی کرتے آئے ہیں۔ آخر یہ حالات پیدا ہی کیوں ہوئے۔ لوگوں کا غصہ سڑکوں پر آنے کی وجہ سیاسی خواہشات پوری نہ ہونا اور تنازعے ہوتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ فوجی کارروائی میں اضافہ، انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں اور پر امن مظاہروں کو روکنے کی کوششوں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ مسلسل پر تشدد واقعات کشمیری نوجوان کو بے قابو کر رہے ہیں وہ اکثر مظالم کا شکار ہوتے ہیں جن کے بارے میں قومی سطح پر بات ہی نہیں ہوتی۔

    اس سلسلے کو تبھی ختم کیا جا سکتا ہے جب بنیادی وجوہات پر بات ہو۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مرکزی حکومت فوجی کارروائی سے مخالفت کو کچلنے کی امید کر رہی ہے۔ مرکزی حکومت ان کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہی تاکہ ان کے ساتھ بات چیت کر کے اس مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
    آج جو حالات ہیں ایسے ناامید صورتِ بلبلے میں پھنستے جا رہے ہیں اور بغیر کسی متبادل کے غائب ہو رہے ہیں۔ کئی تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان لکھ کر ، پینٹنگز کے ذریعے اور بات چیت سے مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت کو اس بارے میں سوچنا چاہئیے اور کشمیر کے بارہ کے لوگوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئیے کہ کشمیری نوجوان یہاں تک کیسے پہنچے اور اس بارے میں رائے عامہ بنانی چاہئیے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو کشمیر میں یہ سب چلتا رہے گا۔

    انورادھا بھسین

    سینیئر صحافی، کشمیر

    بشکریہ بی بی سی اردو

     


    0 0

    پاکستان کی شہری ہوا بازی کے ادارے کے ایک اہم عہدیدار نے عدالت عالیہ میں انکشاف کیا کہ پی آئی اے کے 24 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی ہیں جبکہ 3 نجی ایئر لائنز کے سی ای اوز کو بھِی عدالت نےطلب کیا جن میں وزیراعظم عباسی بھی شامل ہیں۔ اس انکشاف کے بعد پی آئی اے کی حفاظت اور سلامتی کے اصولوں پر زبردست بحث شروع ہو گئی ہے۔ ادارے کے نمائندے ساجد الیاس بھٹی نے عدالتِ عالیہ کو بتایا کہ عملے کے دیگر 67 ارکان بھی جعلی ڈگریوں کے حامل ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اے کے 451 پائلٹس میں سے 319 کی تعلیمی اسناد کی تصدیق ہو گئی ہے جب کہ 124 کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ سات جعلی ڈگری کے حامل پائلٹس نے عدالت سے حکم امتناعی لیا ہوا ہے اور وہ کام کر رہے ہیں۔
    پی آئی اے کے ترجمان مشہور تاجور کا یہ کہنا ہے کہ ان جعلی ڈگری کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ماہر پائلٹس نہیں تھے۔

    انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگریوں کا معاملہ کافی پرانا ہے۔ 24 میں سے 17 پائلٹس کو نکالا جا چکا ہے اور 7 نے عدالتوں سے حکمِ امتناعی لیا ہوا ہے۔ زیادہ تر لوگوں نے میڑک کے سر ٹیفیکیٹ میں یا تو تاریخِ پیدائش میں ردو بدل کیا ہے یا کسی اور اسناد میں نمبر یا نام میں ہیر پھیر کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جعلی پائلٹ تھے۔ انہوں نے کمرشل پائلٹ کے لا ئسنس لیے ہوئے تھے جو پائلٹس کو تربیت مکمل کرنے کے بعد دیے جاتے ہیں۔ جن پائلٹس کو ہم نے جعلی ڈگری پر نکالا ان میں سے کچھ غیر ملکی ایئر لائنز میں کام کر رہے ہیں۔ ادارے کے ایک افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان جعلی ڈگریوں کو حاصل کرنے کے مقاصد کچھ اور ہیں، زیادہ تر پائلٹس انتظامی نوکریاں بھی کرتے ہیں اور جہاز بھی اڑاتے ہیں۔

    اس حوالے سے پی آئی اے نے قوانین میں نرمی کی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر پی آئی اے کے بورڈز آف ڈائریکڑز ہی دیکھ لیں اس میں کئی پائلٹس بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر افراد میٹرک یا انٹر میڈیٹ کر نے کے بعد جہاز کی ٹریننگ لیتے ہیں اور پائلٹ بن جاتے ہیں۔ پی آئی اے میں شمولیت اختیار کر کے انہیں انتظامی نوکری کرنے کا بھی شوق ہو جاتا ہے کیونکہ اس طرح ان کی آمدنی بہت بڑھ جاتی ہے لیکن اس طرح کے کام کے لیے گریجویشن یا ماسٹرز کی ڈگریا ں چاہیے ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ پائلٹس پھر جعلی ڈگریاں بنواتے ہیں اور کوالٹی ایشورینس، ایئر ٹریفک مینیجمنٹ، فلائیٹ سیفٹی اور ایئرپورٹ سروسز سمیت کئی اداروں میں انتظامی عہدوں پر کام کرتے ہیں۔
     


    0 0

    ملک میں شریف خاندان کے خلاف جاری احتساب عمل کے حوالے سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے۔ ملتان میں نااہلی کے خلاف نکالی گئی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے دوران دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے اور اہل خانہ کے خلاف جاری احتساب کے عمل کے بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، اس کے لیے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔
    ڈان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابقہ اراکین کے بارے میں کہا کہ ’وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، اُنہیں لے جایا گیا ہے‘ اور ساتھ ہی سوال کیا کہ انہیں کون لے کر گیا؟

    ان کا جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر وہ واقع ’محاذ‘ تھا تو وہ 2 دن بھی اس پر کیوں نہ ڈٹ سکے اور فوری طور پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے اُنہیں کس نے مجبور کیا ؟ واضح رہے گزشتہ برس وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف کا جنوبی پنجاب کے کسی بڑے شہر کا یہ پہلا دورہ تھا جو انہوں نے ملتان ریلی میں شرکت کر کے کیا، انٹرویو کے دوران نواز شریف علاقائی سیاست سے زیادہ شکایات پر گفتگو کرنے میں دلچسپی لیتے نظر آئے۔ اس موقع پر انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ رواں ہفتے جہلم میں نکالی گئی ریلی میں شرکاء کی کم تعداد، عوام میں ان کی حمایت اور مقبولیت میں کمی کا اشارہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ ریلی کا انعقاد جس مقام پر کیا گیا وہ چھوٹا تھا لیکن مکمل طور پر عوام سے بھرا ہوا تھا، لوگوں میں ’مجھے کیوں نکالا ؟‘ کا نعرہ بہت مقبول ہے اور لوگ اس حوالے سے خاص جذبات رکھتے ہیں۔

    تاہم جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کون کرے گا اور کیا شہباز شریف ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ کے اگلے امیدوار ہوں گے، تو انہوں نے اس سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی خدمات کے سب ہی معترف ہیں، آپ شہر پر نظر دوڑائیں انہوں نے اس کا حلیہ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم اپنے دور حکومت میں شروع کیے گئے سڑکوں، بجلی کے منصوبوں اور معاشی شرح نمو اچھی ہونے کا تذکرہ کرنے میں زیادہ پرجوش نظر آئے، گفتگو کے دوران وہ مسلسل اس بات کی نفی کرتے رہے کہ ان کی حکومت بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہی، چاہے وہ معاشی اصلاحات ہوں ، قانونی یا پھر سیاسی۔

    تاہم انہوں نے 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے تناظر میں کہا کہ جب پہلے سال سے ہی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جائیں گی تو اصلاحات کیسے ممکن ہوں گی؟ جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کر لیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
    اس بارے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہو سکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے ، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کر دیں۔

    یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 7 فیصد ہو سکتی تھی لیکن نہیں ہے۔ انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پھر حکومت ملی تو وہ اس سے مختلف کچھ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین سب سے مقدم ہے اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں، ہم نے ایک آمر کے خلاف مقدمہ چلایا جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا، یہ بات انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے حوالے سے کہی۔

    جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ماضی کی طرح حراست سے بچنے کے لیے جلاوطنی اختیار کرنے کے لیے ڈیل کی کسی پیشکش پر دوبارہ غور کریں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں 66 پیشیاں بھگتے کے بعد ایسا کیوں کروں گا جب کہ مجھے اتنی بھی مہلت نہیں دی گئی کہ لندن میں زیر علاج اپنی اہلیہ سے ملاقات کرنے جا سکوں، دور رہنا آسان نہیں ہے۔ ریلی سے خطاب کرنے کے لیے جانے سے قبل انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یہ کھیل بہت عرصے سے جاری ہے اب کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔ لیکن نواز شریف جیسا اعتماد اور دلجمعی ان کے ساتھیوں میں نہیں دیکھی جا رہی، اور حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی جماعت کے مزید ارکان کی جانب سے وفاداریاں تبدیل کیے جانے کا امکان ہے، جس سے انہیں مضبوط انتخابی نعرہ اور ہمدرد دانہ ووٹ تو مل جائیں گے لیکن پارلیمنٹ میں ان کے ارکان کی تعداد میں کمی ہو جائے گی۔

    سیرل المیڈا
    یہ خبر ڈان اخبار میں 12 مئی 2018 کو شائع ہوئی.
     


    0 0

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پی آئی اے کے جہازوں پر جھنڈے کی جگہ مارخور کی تصویر لگانے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کام کو عارضی طور پر روک دیا۔ ایم ڈی پی آئی اے سپریم کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس ثاقب نثار نےاستفسار کیا کہ ہمیں پتا چلا ہے آپ ہمارے جھنڈے کی جگہ کسی جانور کی تصویر لگانا چاہتے ہیں، بتائیں جہاز کی ٹیل پر کس جانور کی تصویر لگا رہے ہیں ؟ ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ قومی جانور مارخور کی تصویر لگا رہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ آپ کو پتا ہے ایک جہاز پر کتنی رقم خرچ ہو گی، جواب میں ایم ڈی نے بتایا کہ ایک جہاز پر تصویر لگانے میں لگ بھگ 27 لاکھ لگیں گے جس پر جسٹس ثاقب نثار کی کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہیں ایک جہاز پر 34 لاکھ لگیں گے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں رپورٹ جمع کروائیں، اسٹیکر لگانے کا ٹھیکا کس کو دیا ہے؟ جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی آئی اے سے استفسار کیا کہ آپ کی بھانجی پی آئی اے میں کیا کر رہی ہیں ؟ جس پر ایم ڈی پی آئی اے نے جواب دیا کہ میرا کوئی رشتہ دار پی آئی اے میں نہیں ہے۔ دروان سماعت عدالت نے پی آئی اے کو جہازوں پر مارخور کی تصاویر لگانے کا کام عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران گزشتہ روز اپنی فلائٹ لیٹ ہونے پر ایم ڈی پی آئی اے سے وضاحت مانگ لی اور سوال کیا کہ آپ کو معلوم ہے میں رات کتنے بجے اسلام آباد پہنچا ہوں؟ ایم ڈی پی آئی اے نے بتایا کہ آپ سوا ایک بجے پہنچے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ بتائیں، ایم ڈی پی آئی اے نے کہا کہ کچھ تکنیکی وجوہات کی بناء پر دیر ہو گئی. جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کی کارکردگی کا جائزہ بھی لوں گا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ایم ڈی پی آئی اے سے استفسار کیا کہ آپکی قابلیت کیا ہے، ایک اکانومسٹ کا پی آئی اے میں کیا کام ہے؟
     


    0 0

    چین کے صدر شی جن پنگ نے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن دنیا کی طاقتور ترین شخصیت کا اعزاز چھین لیا ہے جبکہ کئی برس بعد پہلی بار ایک پاکستانی شخصیت بھی اس فہرست کا حصہ بنی ہے۔ امریکی میگزین فوربس نے سال 2018 کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست جاری کی جس میں دنیا بھر سے 75 افراد کا انتخاب کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس فہرست میں شامل واحد پاکستانی شخصیت ہیں جبکہ ٹاپ 10 میں بھی ایک مسلم رہنما موجود ہیں ۔  پاکستانی آرمی چیف دنیا کے 68 ویں طاقتور ترین شخص قرار پائے .

    واضح رہے کہ فہرست مرتب کرنے کے لیے منتخب کیے گئے افراد کے حوالے سے سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کا، آبادی کے کتنے حصے پر اثر و رسوخ قائم ہے۔ اس کے بعد یہ جانچ کی جاتی ہے کہ ان افراد میں سے ہر ایک کو، مالیاتی وسائل پر کتنا اور کس حد تک کنٹرول حاصل ہے۔ سربراہان مملکت کے حوالے سے ملک کی جی ڈی پی دیکھی جاتی ہے جبکہ کمپنی مالکان کے لیے ان کے اثاثوں اور ریونیو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ فہرست میں شامل کیے جانے والے افراد کے حوالے سے تیسرے نمبر پر اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ انہیں کتنے شعبوں میں اثر و رسوخ حاصل ہے۔ چوتھے نمبر پر اس بات کا یقین کیا جاتا ہے کہ فہرست میں شامل افراد اپنی طاقت متحرک طور پر استعمال کر رہے ہیں یا نہیں۔

     


    0 0

    وادی نیلم میں کنڈل شاہی پل ٹوٹنے سے 40 سے زائد سیاح دریائے نیلم کے ’نالہ جاگراں‘ میں جا گرے جن میں سے اب تک 5 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق مظفر آباد میں وادی نیلم میں خستہ حال کنڈل شاہی پل ٹوٹ گیا جس کے باعث پل پر کھڑے سیاح نالہ جاگراں میں گر گئے۔ ڈوبنے والے پانچوں افراد فیصل آباد کے نجی کالج کے طالب علم تھے جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ 6 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے جب کہ باقی لاپتہ سیاحوں کی تلاش کے لیے امدادی اداروں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ دریا کا بہاؤ انتہائی تیز ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پل پر خواتین اور بچوں سمیت 40 سے زائد سیاح کھڑے تھے کہ اچانک پل ٹوٹ گیا اور تمام لوگ نالے میں بہہ گئے۔ نالہ جاگراں بلندی سے نیچے اترنے والا انتہائی تیز رفتار نالہ ہے جس میں پانی بہت تیز رفتاری سے بہتا ہے لہٰذا گرنے والے سیاحوں کے بچنے کی امید بہت کم ہے۔ ڈپٹی کمشنر نیلم راجہ شاہد محمود کا کہنا ہے کہ خستہ حال پل گنجائش سے زیادہ افراد کا بوجھ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا۔ نیلم حادثے میں متاثرہ افراد کی اکثریت کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور سرگودھا سے ہے۔ دریا میں گرنے والے سیاحوں میں فیصل آباد کے نجی کالج کے طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں جن میں سے پانچ طالبعلموں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جب کہ دو طالبات اور ایک طالبعلم کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ پاک آرمی بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف عمل ہے۔  


    0 0

    ممبئی حملے کے حوالے سے نواز شریف کے حالیہ بیان کے بعد ان پر تنقید کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اس ضمن میں ایک سوال جو سب کے ذہنوں میں ہے وہ یہ ہے کہ آخر اس موقعے پر یہ بیان دینے کی وجہ کیا بنتی ہے اور نواز شریف اس سے کیا مقصد یا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ہم نے تجزیہ کاروں سے بات کر کے اس سوال کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

    مظلومیت کارڈ کھیلنا
    نواز شریف خاصے عرصے سے 'خلائی مخلوق'اور اس کی خود سے دشمنی کا ذکر کرتے چلے ہیں۔ وہ یہ بیانیہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی نااہلی کے پیچھے اس خلائی مخلوق یعنی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ معروف تجزیہ کار عمیر جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ان کی جماعت کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ان کا راستہ روکا جا رہا ہے۔ اس حالیہ بیان کا مقصد ان کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ مضبوط کرنا ہے۔
    دوسری طرف چونکہ سارے ایلیکٹیبلز (مضبوط انتخابی امیدوار) تحریکِ انصاف یا پیپلز پارٹی میں جا رہے ہیں، اس لیے نواز شریف چاہتے ہیں کہ جب الیکشن کے نتائج ان کے خلاف آئیں تو وہ کہہ سکیں کہ انھیں سسٹم کو چلینج کرنے کی سزا دی گئی ہے۔

    بین الاقوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں موڑنا
    نواز شریف کے بیان کا انڈیا میں خاصا ردِ عمل ہوا ہے اور وہاں اسے پاکستان کے تین بار وزیرِ اعظم رہنے والے نواز شریف کی جانب سے انڈیا کے موقف کی تائید سمجھا جا رہا ہے۔ تو کیا نواز شریف ملک سے مایوس ہو کر مدد کے لیے بیرونِ ملک دیکھ رہے ہیں؟ عمران خان سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کا یہی مقصد ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا یہ بیان ایک سلسلے کی کڑی ہے جس میں ڈان لیکس اور ختم نبوت کی شق کا معاملہ بھی شامل ہے اور اس کا مقصد بین الاقوامی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ 

    سینیئر صحافی سہیل وڑائچ کے خیال سے نواز شریف کو یقین ہو چکا ہے کہ اگلے انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات کو ختم کر دیا جائے گا، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے موقف کو عالمی پذیرائی ملے۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ان کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ امریکہ، انڈیا، چین، روس وغیرہ کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ آپ کہتے تھے پاکستان کے اندر مسئلہ ہے، وہ میں اٹھاتا رہا ہوں لیکن میری سنی نہیں گئی۔‘

    لیکن کیا اس حکمتِ عملی کا کوئی فائدہ ہو گا ؟
    نواز شریف اس سے قبل جنرل مشرف کی حکومت میں ڈیل کر کے اپنے لیے مراعات حاصل کر چکے ہیں، لیکن اس بار ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ 'پہلی ڈیل میں سعودی عرب اور برطانیہ کا بڑا ہاتھ تھا، لیکن اب وہ حالات نہیں رہے۔ سعودی عرب خود اندرونی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے، اس لیے انھیں وہاں سے مدد نہیں ملے گی۔' یہی حال امریکہ کا بھی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی پاکستان کے ساتھ پہلے ہی سفارتی کشیدگی چل رہی ہے، اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ وہاں سے کوئی مدد آ سکے۔

    اپنی تاریخی حیثیت بدلنا
    نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز متعدد بار جیل جانے کا ذکر کر چکے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں ان کی آمد کی توقع میں صفائی کی جا رہی ہے۔ سہیل وڑائچ کے مطابق نواز شریف اپنے جیل جانے سے قبل چاہتے ہیں کہ ان پر عائد الزامات کی نوعیت بدعنوانی سے بدل کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جنگ ہو جائے۔ 'وہ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی جنگ یا اختلاف بدعنوانی نہیں بلکہ دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔'

    سول بالادستی کو یقینی بنانا
    افتخار احمد کے مطابق نواز شریف کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ وہ 'سول بالادستی چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پارلیمان اتنا مضبوط ہو جائے کہ اس کے تحت جتنے ادارے ہیں وہ اسی کو جواب دہ ہوں، جن میں فوج بھی شامل ہے اور عدالتی و احتسابی ادارے بھی۔' ان کا کہنا تھا کہ 'یہ الگ بات ہے کہ وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، اور کیا انھوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس مقصد کی خاطر کوئی سنجیدہ کوشش کی یا نہیں۔'

    فوج کو دباؤ میں لانا
    نواز شریف کے بیان کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فوج کو بیک فٹ پر لایا جائے تاکہ انھیں کسی قدر سہولت مل جائے۔ لیکن کیا وہ اس مقصد میں کامیاب ہوئے یا ہو سکتے ہیں؟ عمیر جاوید کو اس سے اتفاق نہیں۔ 'فوج نے نہ تو پہلے ڈان لیکس کے معاملے پر دباؤ لیا تھا، اور نہ اب لے گی۔ کیوں کہ ان کے پاس ردِ عمل دکھانے کے آلات اتنے مضبوط ہیں کہ ان کو اس طرح کے بیانات سے دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔ 'نواز شریف کے بیان کے فوراً بعد سارے چینلوں نے مذمت کی، ساری سیاسی جماعتوں نے اس کے خلاف بیان دیا۔ اس لیے الٹا دباؤ انھی پر پڑا ہے، فوج نے دباؤ نہیں لیا۔ بلکہ اس طرح کی صورتِ حال میں فوج کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی اثر و نفوذ کو دوبارہ سے لاگو کر سکیں۔'

    ظفر سید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    پاکستان کی حکومت نے اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے میں متعیّن دفاعی اور فضائی اتاشی کرنل جوزف عمانوایل ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق انھیں سوموار کو امریکا کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان سے افغانستان لے جایا گیا ہے۔ کرنل جوزف نے 7 اپریل کو اسلام آباد کی شاہراہ مارگلہ پر واقع دامن کوہ چوک میں دو موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کو اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی تھی جس سے ایک نوجوان عتیق بیگ موقع پر جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق یہ حادثہ کرنل جوزف کی غیر ذمے دارانہ ڈرائیونگ اور سرخ اشارے پر نہ رکنے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ( ایف آئی اے) نے دو روز پہلے امریکی دفاعی اتاشی کی پاکستان سے فرار کی کوشش ناکام بنا دی تھی اور انھیں افغانستان سے لینے کے لیے آنے والا امریکا کا سی 130 طیارہ راولپنڈی کے نور خاں ائیربیس سے خالی لوٹ گیا تھا۔ ایف آئی اے نے ان کا پاسپورٹ بھی اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
    پاکستانی حکومت نے مبینّہ طور پر امریکی حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کرنل جوزف ہال کو ملک سے جانے کی اجازت دی ہے کہ ان کے خلاف امریکی قوانین کے مطابق امریکا میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں پاکستان کی سابقہ حکومت نے دو شہریوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو بھی امریکا کی جانب سے ایسی یقین دہانی پر ملک سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

    گذشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ امریکی دفاعی اتاشی کو مکمل سفارتی اسثنا حاصل نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائی کور ٹ میں مقتول نوجوان عتیق بیگ کے والد نے کرنل جوزف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں شامل کرنے کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی تھی۔ اس پر عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے سے متعلق معاملے کا دو ہفتے میں فیصلہ کرے لیکن اس فیصلے سے قبل ہی حکومت نے انھیں ملک سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالتِ عالیہ اسلام آباد کے جج نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ سفارتی تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت میزبان ملک میں سفارت کاروں کو گرفتاری اور حراست میں رکھنے کا استثنا حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکی محکمہ خارجہ کو یہ استثنا ختم کرنے کے لیے ایک خط بھی لکھا تھا۔ واضح رہے کہ امریکی عہدہ دار ایلس ویلز نے حال ہی میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا اور کرنل جوزف کے معاملے پر پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی۔

    اسلام آباد ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ


     


    0 0

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان کے باعث شدید مندی دیکھی گئی اور ’کے ایس ای 100 انڈیکس‘ میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کی کمی ہوئی۔ مارکیٹ میں مندی کا رجحان متنازع بیان کے بعد طلب کیے گئے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد بھی جاری رہا اور 100 انڈیکس ایک ہزار 96 پوائنٹس کی کمی سے 42 ہزار 499 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ مجموعی طور مارکیٹ میں 17 کروڑ 60 لاکھ شیئرز کا لین دین ہوا جن کی مالیت 7 ارب 13 کروڑ روپے رہی۔ کُل 337 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں سے صرف 35 کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، شدید مندی کے باعث 291 کمپنیوں کے شیئرز کی قدر میں کمی جبکہ 11 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ کاروباری حجم کے لحاظ سے کمرشل بینکس کا شعبہ نمایاں رہا جس میں 2 کروڑ 3 لاکھ شیئرز کا کاروبار ہوا۔
     


    0 0

    بات سیدھی بھی ہے اور سادی بھی ۔ کوئی سمجھنا چاہے تو سمجھنے میں دقت
    نہیں ہونی چاہئے۔ میاں نوازشریف اور ان سے ناراض ادارے ایک دوسرے کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ عملاً جنگ کے اصول نہیں ہوتے۔ یہاں جنگ میں اور محبت میں سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے ۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مخاصمت کی بنیاد ذاتی، ادارہ جاتی یا سیاسی ہے لیکن اس کو رنگ کچھ اور دیا جارہا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف عدالت، میڈیا اور سیاسی میدان میں جو کچھ کروایا جارہا ہے ، اس سے ملک کی کوئی نیک نامی نہیں ہورہی لیکن ان کی دشمنی میں مخالفین اس قدر غضب ناک ہو گئے ہیں کہ وہ ملکی مفاد کا خیال رکھ رہے ہیں اورنہ اداروں کے مفاد کا ۔ 

    دوسری طرف خود نوازشریف صاحب بھی مکمل جنگی رویے پر اتر آئے ہیں۔ وہ اب ضد اور انتقام کے جذبات کا شکار ہیں اور مخالفین کو زیر کرنا چاہتے ہیں خواہ اس عمل میں اداروں کا نقصان ہو، ملک کا ہو یا خود ان کے سگے بھائی اور پارٹی کا ہو۔ قومی سلامتی کے اداروں کا خیال ہے کہ نواز شریف ان پر پوری قوت کے ساتھ حملہ آور ہیں۔ اسی جنگ کے ضمن میں نوازشریف صاحب یہ دھمکی دیتے رہے کہ ان کا سینہ رازوں سے بھرا پڑا ہے اور وقت آنے پر وہ زبان کھول سکتے ہیں۔ شاید ممبئی حملوں سے متعلق سوالات اٹھانے کا ان کا مقصد بھی یہی ہے کہ وہ متنبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں مزید چھیڑا گیا تو وہ اسی طرح کے سوالات کے جواب دینے لگ جائیں گے۔ 

    میاں صاحب کی نیت جو بھی تھی لیکن بیان چھپتے ہی ہندوستانی میڈیا نے طوفان کھڑا کر دیا۔ ہندوستانی میڈیا اور سیاستدان اسے اس انداز میں پیش کرنے لگے کہ پاکستان کے ایک ذمہ دار سیاستدان نے اعتراف کر لیا کہ ممبئی حملہ پاکستان سے کیا گیا تھا اور یہ کہ پاکستانی ریاست، غیر ریاستی عناصر کو ہندوستان کے اندر کارروائیوں سے نہیں روک رہی ہے ۔ یوں تو ان دنوں ہر وقت ہندوستانی میڈیا میں پاکستان کے خلاف اسی طرح کا شوروغوغا رہتا ہے لیکن چونکہ ہم آپس میں الجھے رہتے ہیں ، اس لئے کبھی ان کی طرف توجہ دینے یا جواب دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ جس بھی غرض سے ہو لیکن بہ ہر حال نوازشریف صاحب نے بہت بڑے بلنڈر کا ارتکاب کر لیا اور اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پوری قوم اور سیاسی و عسکری ادارے مل کر ہندوستان کے اس پروپیگنڈے کا جواب دیتے ، آئینے میں اسے اس کا بھیانک چہرہ دکھاتے اور کلبھوشن یادیو جیسے ان کے ریاستی دہشت گردوں کی مثالوں سے اسے خاموش کرتے ۔

    خلوتوں میں یا کسی مناسب قومی فورم پر میاں نوازشریف سے اس بیان کا حساب مانگتے اور ایسا میکنزم بناتے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کا بیان نہ دیتے لیکن چونکہ مخالفین بھی نوازشریف سے کم نہیں اس لئے ان کی اس حرکت کو دوسرا ’’نیوز لیکس‘‘ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ہو سکتا ہے ہندوستان کی دو تین دن کی بکواس کے بعد یہ معاملہ دب جاتا لیکن نوازشریف کی دشمنی میں پاکستان کے اندر اس معاملے کو اس قدر اچھالا گیا کہ اب اس پر نہ جانے کہاں تک بحث ہوتی رہے گی اور نہ جانے اس عمل میں نواز شریف اور ان کے مخالفین ہندوستان جیسے دشمنوں کو مزید کتنا مواد فراہم کریں گے ۔

    پہلے پورے اہتمام کے ساتھ ایک نجی ٹی وی کا وہ انٹرویو صحافتی اور سیاسی حلقوں میں پھیلایا گیا اور پھر پورے تزک واحتشام کے ساتھ نوازشریف کے سیاسی مخالفین کو میدان میں اتارا گیا ۔ کسی نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے تو کسی نے عدالتوں کا رخ کیا۔ میڈیا پر کسی نے ہندوستانی خرافات کا جواب دینے کی زحمت تو گوارا نہیں کی لیکن پاکستان کے اندر نوازشریف کی حمایت اور مخالفت میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ اگلے روز ملک کے اہم ترین اور طاقتور ترین ادارے یعنی کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس بلایا گیا ۔ اس اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں ایک انگریزی اخبار میں شائع ہونے والے ممبئی سے متعلق بیان کوغلط ، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا گیا ۔

    اعلامیہ میں مزید حوالے دے کر وضاحت کی گئی کہ ممبئی حملہ کیس میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمہ دار بھارت ہے۔ اب یہاں پر معاملہ ختم یا کم ازکم دفن ہو جانا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ جس وقت یہ اجلاس منعقد ہو رہا تھا، اسی وقت میاں نوازشریف احتساب عدالت کے سامنے کھڑے ہو کر میڈیا کے سامنے اپنے بیان کو دوبارہ پڑھ کر اس کے درست ہونے پر اصرار کر رہے تھے۔ دوسری طرف قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ سے یہ تاثر ابھرا کہ جیسے پارٹی یا کم ازکم حکومت نے میاں نوازشریف کے بیان سے اپنے آپ کو الگ کر لیا اور ایک ایسے اجلاس میں میاں نوازشریف کے بیان کی مذمت کی گئی جس کی صدارت ان کے نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی کر رہے تھے ۔ چنانچہ عدالت سے واپس آتے ہی میاں نواز شریف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کر لیا اور ان سے ملاقات کے فوراً بعد شاہد خاقان عباسی نے ہم اینکرز کو وزیراعظم ہائوس طلب کیا۔

    یہاں انہوں نے جو موقف اپنایا اس نے معاملے کو مزید الجھا دیا ۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ کمیٹی میں میاں نوازشریف کی نہیں بلکہ غلط رپورٹنگ یا پھر اس کی غلط تشریح کی مذمت کی گئی ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی ایک بار پھر واضح کیا کہ میاں نوازشریف کل بھی ان کے قائد تھے ، آج بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے ۔ ادھر عمران خان صاحب نے میاں نوازشریف کو میرجعفر اور غداری کا مرتکب قرار دے دیا اور بہت سارے لوگوں نے غداری کا مقدمہ کرنے کے لئے عدالتوں سے رجوع کر لیا ۔ جواب میں بونیر میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے ایک بار پھر اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے تحقیقات کے لئے قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

    صرف اس پر بس نہ ہوا بلکہ اگلے روز انہو ں نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کے بیان کو مسترد کر دیا اور سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر قومی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ لگتا ہے کہ اب یہ معاملہ لمبا چلے گا اور جتنا یہ لمبا ہو گا اتنا ہی ہم اپنے خلاف دشمنوں کو مزید مواد دیتے رہیں گے ۔ اب آپ ہی بتائیے ان حالات میں ہم پاکستانیوں کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت ہے اور کیا ہم خود اپنے لئے کافی نہیں ؟۔ وزیراعظم کی پریس کانفرنس کے دوران میں نے ان سے افغان نائب وزیر خارجہ کی زیر قیادت پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے وفد کے بارے میں پوچھا لیکن نوازشریف کے بیان کے غلغلے کی وجہ سے وہ اس پر بات کر سکے اور نہ ہم میڈیا والوں نے معاملے کو اس طرف جانے دیا۔ 

    میں نے ان سے پوچھا کہ کیا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا مرجر اور پشتون تحفظ موومنٹ پر بھی کوئی بات ہوئی لیکن وہ اس معاملے پر بات کرنے کے روادار تھے اور نہ کسی صحافی کو اس میں دلچسپی تھی۔ پاکستان میں غدار غدار اور توتو میں میں کا یہ کھیل ایسے وقت گرم ہے کہ جب امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدگی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں اور پاکستانی سفارتکاروں پر امریکہ میں قدغنیں تک لگائی گئی ہیں۔ امریکہ اور ہندوستان یک جان دو قالب ہو چکے ہیں اور ہمیں روز پاکستان کے سلامتی کے محافظین کی طرف سے بتایا جارہا ہے کہ دشمن پوری قوت کے ساتھ فاٹا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کراچی میں سرگرم عمل ہے جو لسانی ، مذہبی اور سیاسی بنیادوں پر نفرتوں کو ہوا دے رہا ہے۔ ہمارے پڑوس میں افغانستان ایک نئی تباہی کی طرف جارہا ہے جس سے نہ صرف ہم بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ذمہ دار بھی ہمیں قرار دیا جارہا ہے ۔

    ملکی معیشت تباہی کی طرف گامزن ہے اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو تنہائی جیسی صورت حال کا سامنا ہے ۔ صدائیں یہ بلند ہو رہی ہیں کہ ملک نازک صورت حال سے دوچار ہے لیکن کوئی وزارت عظمیٰ چھن جانے کی وجہ سے پاگل ہو رہا ہے ، کوئی وزیراعظم بننے کے لئے پاگل ہو رہا ہے ، کوئی ذاتی انا کی وجہ سے پاگل ہو رہا ہے تو کوئی ادارہ جاتی مفاد کی وجہ سے آپے سے باہر ہے۔ سب اپنی اپنی جگہ اس ملک کے دشمنوں کا کام آسان کر رہے ہیں لیکن ہر کوئی اس زعم کا شکار ہے کہ اس ملک کی فکر ہے تو صرف اسے ہے ۔ میاں نوازشریف کو یاد رکھنا چاہئے کہ سیاست کی جنگ میں لاکھوں لوگ ان کا ساتھ دیں گے لیکن اگر اس جنگ کا نشانہ پاکستان بن جائے تو پھر ان کا سگا بھائی بھی ساتھ نہیں ہو گا ۔

    اسی طرح ان کو دیوار سے لگانے والوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نوازشریف نیلسن مینڈیلا ہے اور نہ پاکستان کا کوئی اور سیاسی لیڈر ۔ انہیں دیوار سے لگایا جائے گا تو وہ اسی انداز میں جواب دیں گے ۔ یہ صرف میاں صاحب کا نہیں بلکہ پاکستان کے ہر سیاسی لیڈر کا رویہ ہے ۔ نوازشریف سے تو اقتدار چھینا گیا لیکن عمران خان کو جب اقتدار نہیں دلوایا گیا تو کیا وہ اسی طرح فوج پر حملہ آور نہیں ہوئے ۔ ابھی چند روز قبل انہوں نے فوج پر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور کیا وہ ماضی میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق نوازشریف سے زیادہ سخت زبان استعمال نہیں کر چکے ہیں ۔ یوسف رضا گیلانی کو اقتدار سے ابھی نہیں نکالا گیا تھا لیکن جب ان پر دبائو آیا تو اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر انہوں نے ریاست در ریاست کی دہائی دے کر سوال اٹھانے شروع کئے کہ اسامہ بن لادن کو ویزا کس نے دیا۔

    سلیم صافی
     


    0 0

    یوں تو کائنات کا ہر رنگ، ہر نعمت انمول اور قدرت کا بیش بہا خزانہ ہی نظر آتی ہے، لیکن قدرت نے سرزمین پاکستان کو جو حسن وجمال عطا کیا ہے و ہ شاید ہی کسی دوسرے ملک کے حصے میں آیا ہو، وطن عزیز پر قدرت کی بیش بہا مہربانیاں ہیں، یہاں بہتے قدرتی چشمے ہیں، دیوقامت پہاڑ ، ندی نالے، جھرنے، دریا، سمندر، صحرا ، ریگستان اور برف پوش چوٹیاں خوب صورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ سوات، کالام اور ہنزہ جیسی پرکیف وادیاں ، سیف الملوک جیسی دل موہ لینے والی جھیلیں ، جہاں اس کے حسن کو چار چاند لگاتی ہیں، وہیں اس خطہ زمین کو تاریخی لحاظ سے بھی بیش قیمت نوادرات سے نوازا گیا ہے۔ ایسا ہی ایک تاریخی مقام سندھ میں کیرتھر پہاڑی سلسلوں پرواقع ’’قلعہ رنی‘‘ کوٹ ہے۔ یہ حیدرآباد شہر سے اسّی کلومیٹر دور واقع ہے۔

    ماہرین آثارقدیمہ کا کہنا ہے کہ رنی کوٹ چھبیس کلومیٹر (سولہ میل ) رقبے پر مختلف پہاڑیوں کے مابین پھیلا ہوا ہے۔ قلعہ تک رسائی کے لیے قصبہ سن سے تیس کلومیٹر پختہ سڑک موجود ہے۔ یہ حقیقت اب تک سامنے نہیں آسکی ہے کہ یہ کس نے تعمیر کروایا تھا، تاہم مورخین کا کہنا ہے کہ اسے ساسانی، سیتھین، یونانی یا پارتھیائی اقوام میں سے کسی ایک نے بنایا۔ یہ قلعہ فن تعمیر کا قدیم نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے کئی اہم ادوار اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ قبل مسیح کے دور کے بعد یہ عربوں کی فتوحات کے زمانے، مغل دور اور تالپور دور میں بھی وقت کے حکمرانوں کے زیر استعمال رہا۔ رنی کوٹ قلعے کے اندر میری کوٹ اور شیر گڑھ کے نام سے دو اور قلعے واقع ہیں۔

    ان دونوں چھوٹے قلعوں کے دروازے رنی کوٹ کے دروازوں جیسے ہیں۔ دفاعی نکتہ نگاہ سے میری کوٹ محفوظ پناہ گاہ تھا، جہاں رہائشی حصّہ اور زنان خانہ موجود تھا۔ اس مقام سے کئی تاریخی واقعات منسوب ہیں، جن میں سے بیش تر پر ابھی مستند تحقیق ہونا باقی ہے۔ قلعے کے اندر مختلف مقامات سے بھی کئی دیومالائی کہانیاں منسوب ہیں۔ مثال کے طور پر قلعے کے اندر مغربی حصے سے پھوٹنے والا چشمہ جس کو پریوں کا چشمہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چودھویں کی رات یہاں پریاں اترتی ہیں۔

    قلعے کی مختلف دیواریں، جو پہلے ہی خستہ اور زبوں حالت میں تھیں، انہیں بارشوں نے مزید تباہ حال کر دیا ہے۔ میری کوٹ، شیر گڑھ اور خود اصل قلعے کی جنوبی دیوار بہت کمزور ہو چکی یہ تمام دیواریں پوری توجہ سے مرمت کی طلب گار ہیں، مگر قلعے میں سیاحوں کے لیے کوئی سہولت نہیں، کوئی شیڈ ہے ، نہ بیٹھنے یا بیت الخلاء کا مناسب انتظام ہے۔ 1980ء کے عشرے میں میری کوٹ میں ضلع کونسل نے ایک ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا تھا، جو اب تباہ حال ہو چکا۔ یہاں تک کے چھت بھی گر چکی ہے، اس مقام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے، عدم سہولتوں کے باوجود قلعے کی سیر کرنے، روزانہ درجنوں سیاح آتے ہیں۔ رنی کوٹ کے اندر حکومت نے میری کوٹ تک پختہ سڑک تعمیر کرائی تھی۔ یہ سڑک بھی ٹوٹ پھوٹ چکی ہے۔

    پچھلے چند برس سے منتظمین کی بے رخی کے باعث قلعہ کے اندر ناجائز تجاوزات وجود میں آنے لگی ہیں۔ مقامی آبادی قلعے کے علاقوں میں ٹریکٹر گھما کر اس تاریخی مقام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ میری کوٹ کے قریب زیر تعمیر پل کے پاس بدھ دور کی جگہ دو کمرے زیر تعمیر نظر آتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر ایک مقامی بااثر شخص ہوٹل بنانا چاہتا ہے۔ میری کوٹ سے مغرب میں گبول قبیلے کا ایک گاؤں قلعے کے اندر واقع ہے۔ یہ لوگ یہاں پر چھوٹی موٹی کاشت کاری بھی کرتے ہیں۔ رنی کوٹ دنیا کا سب سے بڑا قلعہ بتایا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود حکام یہاں سیاحت کو فروغ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ کراچی سے قلعے تک رسائی آسان ہے اور قومی شاہراہ کے ذریعے یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ کراچی سے نکلنے کے بعد دادو کی جانب انڈس ہائی وے پر سفر کریں۔ اس سڑک کی حالت بہترین ہے، سندھی قوم پرست لیڈر، جی ایم سید کے آبائی قصبے سن تک ایک گھنٹے کا سفر ہے۔

    اس قصبے سے کچھ آگے ایک دوراہا آتا ہے۔ ایک زنگ آلود بورڈ پر اعلان کیا گیا ہے کہ رنی کوٹ یہاں سے لگ بھگ تیس کلو میٹر دور واقع ہے، گرچہ سڑک کافی خراب ہے پھر بھی یہ فاصلہ تیس سے چالیس منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔ یہاں روزانہ کئی سیاح آتے ہیں، یہاں ایک دن کے اندر گھوم پھر کر واپس آسکتے ہیں۔یہ قلعہ سندھ کی شاندار اور بہت اہم آثار قدیمہ کی باقیات میں سے ہے، لیکن سیاحوں کی حفاظت اور قیام کے انتظامات ناقص ہیں۔ اگر حکومت یہ انتظامات بہم پہنچا دے، تو نہ صرف دنیا بھر سے سیاح رنی کوٹ آئیں گے بلکہ لوگوں کی آمدورفت بڑھنے سے مقامی آبادی کو کاروبار کے بہترین مواقع میسر آ سکتے ہیں۔

    ممتاز اُسامہ

    بشکریہ روزنامہ جنگ


     


    0 0

    ایک انتہائی اہم پیش رفت کے تحت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) نے یورپی یونین کے خلاف پاکستان کے حق میں تاریخی فیصلہ دے دیا۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز جینوا میں معروف پی ای ٹی ڈیوٹی تلافی کیس میں ڈبلیو ٹی او کے تنازعات طے کرنے والے اعلیٰ ترین ادارے نے دیا۔ پولی ایتھلین ٹیئرف تھلیٹ (پی ای ٹی) جو عام طور پر گوند اور بوتل گریڈ پولی یسٹر چپ ہے اور منرل واٹر اور مشروبات کی ڈسپوزیبل بوتلوں کی تیاری میں کام آتا ہے۔ ڈبلیو ٹی او کے تین رکنی اپیلٹ ادارے نے 28 قومی یورپی یونین کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اپنے 6 جولائی 2017 کو دیا گیا پاکستان کے حق میں فیصلہ برقرار رکھا۔

    ایک بین الاقوامی فورم پر یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔
    یورپی یونین نے 2010 میں پاکستان پر یہ مفلوج کردینے والی ڈیوٹی عائد کی تھی جس سے پاکستان کو 30 کروڑ یورو کا نقصان ہوا۔ جس کے خلاف پاکستان نے مارچ 2015 میں یورپی یونین کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ بین الاقوامی تجارتی قوانین کے ماہرین نے اسے پاکستان کی تجارتی سفارت کاری میں بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ پاکستان کی برآمدات کے تحفظ کے حوالے سے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی ادارہ تجارت میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر توقیر شاہ چین میں ای کامرس پر پاکستانی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔
     


    0 0

    ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور دیہی آبادی کی بنسبت شہری آبادی میں دل کا دورہ پڑنے کا رجحان زیاہ دیکھا جا رہا ہے ۔ کم عمر میں دل کا دورہ پڑنے کی وجہ دفاتر میں کام کا دباؤ ہے، اس کے علاوہ مغربی طرز کے کھانے بھی ہماری صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ورزش نہ کرنا ، سگریٹ نوشی، موٹاپا بھی نوجوانوں میں دل کی بیماریوں کی وجوہات میں شامل ہے۔ ذیابیطس، ہائپرٹینشن اور کولیسٹرول کی سطح میں اتار چڑھاؤ بھی دل کی بیماری کی دیگر وجوہات ہیں۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لئے چند تجاویز پیش کی جاتی ہیں جن کو اپنانے سے کسی حد تک دل کو قابو کیا جا سکتا ہے۔

    پہلی تجویز میں ’ نو اسموکنگ‘ سر فہرست ہے، نو جوانوں کو چاہئے کہ تمباکو نوشی سے اجتناب برتیں۔
    دوسری تجویز : اگر آپ کو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا ہائی کولیسٹرول ہے تو انہیں سخت کنٹرول میں رکھیں۔
    تیسری تجویز : ہر ہفتے پانچ سے سات دن ورزش کرنا لازمی بنا لیں جس کا دورانیہ 45 سے 60 منٹ پر مشتمل ہو ، اگر ورزش نہیں کر سکتے تو روز پانچ سے چھ کلو میٹر کی چہل قدمی کریں۔
    چوتھی تجویز : ذہنی تناؤ کم کریں، یوگا، باغبانی، موسیقی یا کسی بھی دوسرے مشغلے میں خود کو مصروف رکھ کر ذہنی تناؤ کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تناؤ سے چھٹکارا حٓصل کرنے کے لئے دفتر میں کام کے درمیان وقفہ لینا بھی اہم ہے۔
    پانچویں تجویز: 25 سال کی عمر کے بعد سے باقاعدہ طبی چیک اپ کروانا لازمی ہے، اگر آپ کو خاندان کی طرف سے ہائی بلڈ پریشر یا ذیابطیس ہے تو اپنے معالج کو ضرور اس بات سے آگاہ کریں۔
     


    0 0

    بدنام زمانہ این آر او کو سپریم کورٹ نے 2009 میں کالعدم قرار دیا۔ پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے درمیان سودے بازی کے تحت ختم کئے جانے والے مقدمات دوبارہ کھول دیئے گئے۔ اعلیٰ عدلیہ کی نگرانی میں متعارف طریقہ کار متعارف کرایا گیا تاکہ کرپٹ عناصر کے لئے سزا کو یقینی بنایا جا سکے اور لوٹی گئی رقوم بلا تاخیر قومی خزانے میں واپس لائی جا سکے۔ 9 سال گزر گئے، یہ 2018 ہے ، لیکن این آر او کیسز میں ملوث کسی ایک بھی نامی گرامی شخص کو سزا دی گئی اور نہ جیل میں ڈالا گیا۔ اس کے متضاد انتہائی اہم این آر و مقدمات میں طاقتور ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ جواز یہ دیا گیا کہ احتساب عدالتوں کے رسوا رکن فیصلوں میں دستاویزی ثبوت موجود نہیں تھے۔

    نیب اپنے رازداری کے دبیز پردے میں این آر او مقدمات کی تفصیلات دینے پر آمادہ نہیں ہے جس میں ان مقدمات کا انجام، برّیت اور سزائیں وغیرہ شامل ہیں۔ چیئرمین نیب اور نہ ہی اس کے ترجمان استفسار پر کوئی جواب دیتے ہیں اور نہ ہی موبائل فون کالز سنتے ہیں۔ جبکہ نیب ذرائع کا اصرار ہے کہ این آر او کیسز کو اب دیکھنے کا مطلب نیب کے خلاف بڑے اسکینڈلز کو کھولنے کی راہ ہموار کرنا ہو گا۔ نیب میں ذرائع کے مطابق 9 سال بعد این آر او مقدمات دوبارہ کھولے جانے کے باوجود 50 این آر او مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرالتوا ہیں جن میں سے 12 احتساب عدالتوں اور 34 سپریم اور ہائی کورٹس میں زیرسماعت ہیں۔ 

    بتایا جاتا ہے کہ این آر او کالعدم قرار دئے جانے کے بعد مجموعی طورپر عدالتی مقدمات، انکوائریز اور انوسٹی گیشنز کو دوبارہ کھولا گیا ہے جن میں 6 کیسز سپریم کورٹ، 30 ہائی کورٹس اور 99 احتساب عدالتوں سے متعلق ہیں۔ ان کے علاوہ 5 انکوائریز اور 15 انوسٹی گیشنز بھی ہیں۔ ان 155 میں سے 105 کیسز کے انجام کا علم نہیں ہے۔ اس وقت صرف 50 مقدمات زیرالتوا ہیں۔ آخری تین بڑے مقدمات میں سابق صدر کو ’’لاپتہ دستاویزی ثبوت‘‘کی بنیاد پر بری کیا گیا۔ ایس جی ایس، کوٹیکنا اور اے آر وائی گولڈ کیس میں اہم شخصیت کے ساتھ شریک ملزمان کو بھی بری کیا گیا۔ انہیں پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں دو احتساب عدالتوں کے انتہائی مشکوک فیصلوں کے تحت بری کیا گیا۔ 

    سوئس مقدمات بھی نہیں کھل سکے کیونکہ پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت نے ہچکچاہٹ سے کام لیا اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سوئس حکام کو خط لکھنے سے انکار کی پاداش میں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا۔ نیب کی جانب سے اس بات کی کوئی وضاحت دستیاب نہیں کہ 9؍ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مقدمات اپنے انجام کو کیوں نہیں پہنچے۔ ان کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی جو حساس نوعیت کے اہم مقدمات میں ثبوت اور شہادتیں گم کرنے میں ملوث تھے اور وہ جن کا رسوا کن مقدمات کے فیصلوں میں کردار رہا یا وہ جو دوستانہ استغاثہ اور این آر او مقدمات میں تاخیر کے ذمہ دار رہے۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے این آر او کیس میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں مانیٹرنگ سیلز بنانے کا حکم دیا تھا۔ تاکہ کیسز میں پیش رفت پر نظر رکھی جا سکے لیکن اس کے باوجود این آر او ملزمان کےفائدے میں سنگین کوتاہیاں کی گئیں۔ این آر او فیصلے میں کہا گیا ’’سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یا ان کے مقرر کردہ سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل مانیٹر این آر او مقدمات میں کارروائیوں پرنظر رکھے (تفصیلی وجوہ میں وضاحت دی گئی ہے) اسی طرح تمام صوبوں کی ہائی کورٹس مانیٹرنگ سیلز بنائے جائیں۔ ان مقدمات پر نظر رکھی جائے جن میں ملزمان کو این آر او 2007 کے تحت بری کیا گیا۔ 

    اسی این آر او کیس میں سپریم کورٹ نے سیکرٹری قانون کو بھی ہدایت کی کہ وہ مقدمات کو سرعت کے ساتھ نمٹانے کے لئے احتساب عدالتوں کی تعداد میں اضافے کے لئے اقدامات کریں۔ تاہم عدالت عظمیٰ کی ان ہدایات کے باوجود این آر او کرپشن کیسز میں تمام متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے تساہل کے ساتھ کام لیا گیا۔ پیپلزپارٹی حکومت کے دور میں نیب نے حکومت کو اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث 248؍ سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کی فہرست پیش کی لیکن جنہیں این آر او کے ذریعہ نیب نے چھوڑ دیا۔ اس فہرست میں سرفہرست پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت تھی جبکہ ان کے سیاسی و بیورو کریٹ متعدد قریبی معاونین بھی سامنے آئے۔ فہرست جس میں ہر نام کےساتھ ختم این آر او کے تحت مقدمات کا مختصر تعارف دیا گیا اس میں اس وقت حاضر و سابق وزرا، وفاقی اور صوبائی سیکریٹریز، سابق چیف سیکریٹریز موجودہ اور سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر شامل ہیں۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    نجانے اصغر خان کیس کا میڈٖیا، سیاستدان، عدالتیں، سول سوسائٹی سب کیوں اتنا پیچھا کر رہے ہیں اور اُسے ایسا بنا کر پیش کر رہے ہیں جیسے یہ ہماری تاریخ میں ایسا بُرا کام ہوا ہو جس کی نہ کوئی نظیر ملتی ہے۔ یعنی تاثر ایسا دیا جا رہا ہے کہ جو کام جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی نے کیا وہ بہت بُرا عمل تھا اور ویسا عمل ہمارے لیے کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں۔ اصغر خان کیس کے معاملے میں بحیثیت قوم ہم ایسے behave کر رہے ہیں جیسے یہاں بڑے اصولوں کی سیاست ہوتی ہو، جہاں آئین اور قانون کی عملداری ہو اور فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت سب اپنا اپنا کام کرتے ہوں اور ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت کو گناہ سمجھا جاتا ہو۔ 

    حقیقت میں ایسا یہاں کچھ نہ کل تھا اور نہ ہی آج ہے۔ جنرل بیگ اور جنرل درانی تو پھر بھی اچھے ہیں کہ اُن دونوں نے کم از کم یہ تو تسلیم کیا کہ سیاسی معاملات میں انہوں نے مداخلت کر کے ایک ایسے سیاسی اتحاد کو بنانے میں مدد دی جس کا مقصد پیپلز پارٹی کو الیکشن جیتنے سے روکنا تھا کیوں کہ ایسا کرنا قومی مفاد میں تھا۔ ملکی و قومی مفاد کے لیے اُس وقت استعمال کیے جانے والے سیاستدانوں میں نواز شریف بھی شامل تھے۔ آج اُسی نواز شریف کو اور اُس کی جماعت کو قومی مفاد میں الیکشن ہرانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ۔ 

    کل اگر بے نظیر بھٹو کی پاکستانیت پر شک تھا تو اب نواز شریف کو ایسے ہی شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔ تین دہائیاں قبل نواز شریف کو بے نظیر کے خلاف اہمیت دی گئی تو آج 2018 میں نواز شریف کو کچلنے کے لیے عمران خان کی مدد کی جا رہی ہے۔ کل تک بہت کچھ جو چھپ چھپا کر ہو رہا تھا اب کھلم کھلا ہوتا ہے لیکن کسی کو بولنے کی اجازت نہیں سیاست اور صحافت گواہ ہیں اُس سیاسی توڑ جوڑ کے جو آج کھلے عام کارروائی جا رہی ہے لیکن ملکی مفاد میں آج اس معاملہ پر بات کرنے پر پابندی ہے۔ آئندہ سالوں میں جب قومی مفاد کے تناظر میں عمران خان بھی مشکوک بن جائیں گے تو پھر آج کے معاملات پر بات کرنے کی اجازت ہو گی۔ 

    مشرف کے دور میں بھی گنگز پارٹی بنائی گئی جس کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کو توڑا گیا۔ اگر 1988 میں جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کا آئی جے آئی کو بنانے میں کردار تھا تو 2002 میں جنرل مشرف اور جنرل احتشام ضمیر نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ٹکڑے کیے اور ق لیگ اور پی پی پی پیٹرائٹ کے نام سے کنگز پارٹیز بنائیں۔ آج بھی یہی کام خوب زور و شور سے جاری ہے لیکن اس آج کی کہانی پر آج بات کرنے پر پابندی ہے۔ اگرچہ کل تبصرہ کے لیے یہ معاملہ بھی کھل جائے گا لیکن یاد رہے کہانی وہی ہے جسے بار بار دُہرایا جا رہا ہے صرف کردار بدلتے ہیں۔ 

    قومی مفاد میں اگر کل نیب کو استعمال کیا گیا تاکہ وہ سیاستدان جو کنگز پارٹی میں شامل ہونے سے گریزاں تھے اُنہیں یہ سمجھایا جا سکے کہ اُن کی اپنے ذات کے وسیع تر مفاد میں بھی یہی بہتر ہے کہ وہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کو خیر باد کہہ کر گنگز پارٹی میں شامل ہو جائیں، تو آج ایسا کرنے سے نیب کیوں ہچکچائے گی۔ کرپشن کا خاتمہ تو کبھی نیب کا مقصد تھا ہی نہیں۔ کرپشن تو بہانہ ہے اگر ایسا نہیں تو کوئی اس بات کا جواب دے سکتا ہے کھربوں کی کرپشن کے این آر او مقدمات کو کھلے نو سال گزرنے کے باوجود ایک بھی اہم ملزم کو نہ جیل بھیجا گیا اور نہ ہی اُس سے مبینہ لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لی گئی۔ 

    نیب تو سیاسی جوڑ توڑ اور حکومتوں کو بنانے گرانے کے کام میں ہمیشہ پیش پیش رہا۔ اب کوئی کیسے مان لے کہ باقی سب کو بھول کر ن لیگ کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات بنا بنا کر نیب واقعی کرپشن کے خاتمہ کا خواہاں ہے۔ نیب تو ایک مہرہ ہے۔ اس لیے جو لوگ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کا احتساب چاہتے ہیں وہ ضرور غور کریں کہ کیا آئی جے آئی کے بعد سیاسی معاملات میں مداخلت کا کام بند ہو چکا ؟ کیا سول حکومتوں کو کمزور کرنے اور اُنہیں بنانے گرانے جیسے معاملات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں؟ اگر ایسا نہیں تو پھر جنرل اسلم بیگ اور جنرل درانی کے خلاف یہ شور و غوغا کیسا۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    بھارت، پاکستان کو زک پہنچانے اور روایتی دشمن کا کردار نبھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی نے لداخ میں لیہہ کے مقام کا دورہ کیا اور متنازع ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کشن کنگا ڈیم کا افتتاح کر دیا۔ یہ پاور اسٹیشن پاکستانی سرحد کے قریب لگایا گیا ہے جو پاکستان کے حصے کا پانی استعمال کرتے ہوئے 330 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ یہ سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کشن کنگا ہائیڈرو پاور اسٹیشن پر کام کا آغاز 2009ء میں ہوا تھا۔

    اس دوران پاکستان نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور دریائی پانی کے بہاؤ میں رخنہ ڈالنے کا مقدمہ عالمی بینک کے سامنے پیش بھی کیا تھا اور عالمی بینک نے کشن کنگا منصوبے پر پاکستان اور بھارت کے مابین دو بار مذاکرات بھی کروائے تھے، مگر بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وہ بے سود ثابت ہوئے۔ بھارت کی جانب سے آبی معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھانے کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف کی سربراہی میں اپنا اعلیٰ سطحی وفد واشنگٹن بھیجا ہے۔

    وفد میں وزارت پانی و بجلی کے اعلیٰ حکام، انڈس واٹر کمشنر اور وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شریک ہیں۔ ایسی صورت میں کہ جب پڑوسی ملک ہمیں پانی کی بوند بوند کیلئے ترسانے پر کمر بستہ ہے اور ہمارے دریاؤں پر ڈیم بنا رہا ہے، ملک میں نئے آبی ذخائر کی تعمیر ناگزیر ہے۔ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی اداروں سے رجوع کرتے ہوئے اُنہیں بھارتی آبی جارحیت کیخلاف متحرک کیا جائے اور بھارت کیساتھ سندھ طاس معاہدے کے متعلق محض مذاکرات پر اکتفا کرنے کے بجائے اپنے موقف کو پر زور انداز میں پیش کرتے ہوئے بھارت کو آبی جارحیت کا ادراک کروایا جائے۔ پاکستان کے آبی ذخائر میں مسلسل کمی کے پیش نظر بھارتی آبی جارحیت کیخلاف خاموشی یا اسے نظر انداز کرنا موجودہ تشویشناک صوتحال کی سنگینی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات ادارے کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے احکامات پر شروع کی گئی ہیں۔ بیان کے مطابق چیئرمین نیب نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف تفتیش کو تین ماہ میں قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ خیال رہے کہ چار مئی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی اراضی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

    عدالت نے اپنے اس فیصلے میں معاملہ نیب کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت کا عمل بھی روکنے کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ زمین کا تبادلہ قانوناً ممکن ہے لیکن تبادلے کی شرائط اور قیمت کا تعین عدالت کا عمل درآمد بینچ کرے گا۔
     


older | 1 | .... | 128 | 129 | (Page 130) | 131 | 132 | .... | 149 | newer