Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 127 | 128 | (Page 129) | 130 | 131 | .... | 149 | newer

    0 0

    پاکستان نے 'واٹر ایمرجنسی'کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس سلسلے میں موثر اقدامات نہیں کیے گئے تو پانی کی قلت کا بحران ملک کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ میاں شہباز شریف، سید مراد علی شاہ، پرویز خٹک اور عبدالقدوس بزنجو نے اسلام آباد میں مشاورت کے بعد ’پاکستان واٹر چارٹر‘ پر اتفاق کیا ہے جس پر وفاق اور صوبوں کے پانچوں نمائندوں کے دستخط موجود ہیں۔ اس چارٹر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی آزادی کے وقت فی کس پانی کی دستیابی 5200 مکعب میٹر سالانہ تھی جو کم ہو کر اب ایک ہزار مکعب میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جس سے سرکاری طور پر پاکستان پانی کی قلت والے ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔ اس دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 1950 سے لے کر 1990 تک کی تین دہائیوں میں انڈس ریور سسٹم سے قابل ذکر پانی حاصل کیا گیا۔ اس وجہ سے پاکستان خوراک میں خود کفیل ہو گیا لیکن ماضی میں جو کوششیں کی گئیں وہ خطرے سے دوچار ہیں۔

    اس چارٹر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماہرین کے مطابق پاکستان موسمی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے ممالک میں شامل ہے۔ ’اگر گلیشیئر کے پگھلنے میں 40 فیصد اضافہ ہوا تو آنے والے دنوں میں ہم شدید سیلابوں کا سامنا کریں گے، جس سے دریاؤں کے سالانہ بہاؤ میں کمی آئے گی۔ یہ تمام عوامل سے بارشوں کی طرز میں تبدیلی ہو گی جس سے زراعت اور غزائی ضروریات کا نظام تباہ ہو جائے گا۔‘
    چارٹر میں بتایا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے شہروں کی طرف نقل مکانی کی وجہ سے تازہ پانی کی طلب اور فراہمی میں فقدان پیدا ہو رہا ہے۔ 

    چاروں صوبوں اور وفاق نے زراعت کے پائیدار اور متبادل ذرائع اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ نے اتفاق کیا ہے کہ انڈس ریور سسٹم میں شامل کرنے کے لیے مزید پانی دستیاب نہیں، لہٰذا پاکستان کو پانی کے مزید ذخائر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مون سون میں پانی سمندر میں جا کر ضائع نہ ہو لیکن اس حوالے سے سمندری کی سطح بلند ہونے اور ماحولیاتی نظام کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان واٹر چارٹر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں 80 فیصد بیماریوں کی وجہ آلودہ پانی ہے۔ اس دستاویز کے مطابق ان بیماریوں کی وجہ سے کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں۔

    حکومت پاکستان نے طے کیا ہے کہ پانی کے شعبے کو اولیت دی جائے گی اور اس کے علاوہ قدرتی آفات کے انتظام اور گندے پانی کی نکاسی وغیرہ کے لیے رقوم میں اضافہ کیا جائے گا۔ ’ایک فریق سے دوسرے فریق کی طرف اقتدار کی منتقلی اس شعبے کو متاثر نہیں کرے گی۔ منظورہ شدہ منصوبے مقررہ لاگت اور مدت تک جاری رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مخلصانہ کوششوں سے پاکستان کی آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی دستیابی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔‘

    ریاض سہیل
    بی بی سی اردو، کراچی
     


    0 0

    There workers do not see a moment's relief even on the day that commemorates their hardship. The Labour Day is being observed in Pakistan and rest of the world today to promote the dignity of labourers and pay tribute to labour leaders who sacrificed their lives for the rights of workers. In Pakistan, the Labour Day is marked by different rallies, seminars and other functions in different parts of the country, including Khyber Pakhtunkhwa and Fata, to highlight the fundamental and basic rights of workers. Labour organisations have chalked out special programmes to highlight the significance of the day. A public holiday is being observed in Pakistan in connection with the Labour Day and all the government and private institutions are closed. However, most of labourers in Pakistan are not observing the holiday as they have to earn livelihood for their families because it is impossible for them to stay at home due to poor condition.






    0 0

    A government official said authorities have launched a new polio vaccination drive, aiming to reach 38.7 million children under the age of five. Pakistan is one of few countries where polio is still endemic, along with Afghanistan and Nigeria. Dr Rana Mohammad Safdar, the national coordinator for polio eradication, says that some 260,000 polio workers will take part in the campaign. He says authorities hope a similar campaign will soon be launched in the tribal regions. Polio workers and their police escorts often come under attack by militants. The attacks stepped up after it was revealed that a CIA fake hepatitis vaccination campaign was used as a ruse to find Osama bin Laden in Pakistan. The al-Qaida leader was killed by US commandos in 2011.





    0 0

    انڈیا میں حکام نے کہا ہے کہ حالیہ طوفان گردوباد کے اتنے مہلک ہونے کی وجہ ان کے آنے کا وقت تھا کیونکہ طوفان کے وقت لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔ 125 ہلاکتوں میں سے زیادہ تر اموات عمارتوں اور دوسری تعمیرات کے گرنے سے ہوئی ہیں۔ لیکن محکمۂ موسمیات نے تباہ کن طوفان کے بارے میں یہ بات بھی کہی ہے کہ ہوا کا نیچے کی طرف شدید دباؤ تھا جسے 'ڈاؤن برسٹ'کہا جاتا ہے۔ ہوا افقی کے بجائے عمودی تھی اور اس لیے اس کے عمارتوں میں پر زیادہ تباہ کن اثرات مرتب ہوئے اور نتیجتاً زیادہ اموات ہوئيں۔

    بہت زیادہ درجۂ حرارت کے بعد یہ طوفان آيا
    سرحد پار پاکستان میں مقامی میڈیا کے مطابق نواب شاہ شہر میں 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گيا جو کہ اپریل کے مہینے میں ایک ریکارڈ ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زیادہ درجۂ حرارت کا شدید قسم کے طوفان کی آمد میں اہم کردار ہوتا ہے جو کہ انڈیا کے شمال مغربی علاقے میں پیدا ہوا۔
    لیکن یہ جب پنجاب اور اترپردیش اور مزید مشرق کی جانب پہنچا تو یہ صرف طوفان گردوباد نہ رہا بلکہ آسمانی بجلی اور تیز بارش والا طوفان بن گيا۔

    موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال سے اٹھنے والی ہوا نے فضا میں نمی بکھیر رکھی تھی جو کہ مغرب سے اٹھنے والی تباہ کن ہوا سے مل گئی۔
    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طوفان کے لیے زیادہ درجۂ حرارت، نمی اور فضا میں ہلچل موزوں ترین مرکب ہوتے ہیں۔ انڈیا کے محکمۂ موسمیات نے بتایا ہے کہ گذشتہ 20 سال میں اس طوفان سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے۔
    انھوں نے مزید خراب موسم کا انتباہ بھی جاری کیا ہے اور کہا کہ آنے والے چند دنوں میں آسمانی بجلی اور طوفانی بارشیں آ سکتی ہیں۔ یہ شدید گردوباد اور بجلی بارش والا طوفان اس وقت آیا ہے جب انڈیا کی کئی ریاستوں میں تیزی سے ریگستان کے بڑھنے کے عمل پر تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔

    وزیر ماحولیات کا کہنا ہے کہ ملک کی ایک چوتھائی زمین ریگستان ہوتی جا رہی ہے جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ زیادہ ریگستان ہونے کا مطلب زیادہ تباہ کن اور شدید طوفان ہیں۔ ماحولیات کے سائنسدانوں نے پیش گوئی کی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے سبب جنوبی ایشیا کے اس خطے میں قحط سالی مزید شدید ہو جائے گی۔ اور اس کی وجہ سے حالیہ طوفان گرودباد جیسے طوفان جلدی جلدی اور بار بار آئيں گے۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے ایک بڑے ادارے 'بحریہ ٹاؤن'کے خلاف زمینوں کی خرید وفروخت سے متعلق تین مختلف مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے ادارے کی طرف سے زمینوں کی خرید وفروخت کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ان مقدمات کا فیصلے جاری کیے۔ عدالت عظمیٰ نے ادارے کو بحریہ ٹاؤن کراچی منصوبے میں زمینوں کی فروخت یا الاٹمنٹ سے اس بنا پر روک دیا کہ یہ زمین سندھ حکومت سے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ "سرکاری زمین حکومت کے پاس واپس جائے گی اور جس زمین کے بدلے بحریہ ٹاؤن کو یہ زمین دی گئی تھی وہ بحریہ ٹاؤن کو واپس کی جائے۔" جن لوگوں کو بحریہ ٹاؤن پہلے ہی یہاں زمین فروخت کر چکا ہے اس بابت عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا کہ چونکہ یہاں بحریہ ٹاؤن کی طرف سے قابل ذکر ترقیاتی کام کیا جا چکا ہے اور سیکڑوں لگوں کو الاٹمنٹ ہو چکی ہے لہذا یہ ادارے کو فراہم کرنے کے لیے بورڈ آف ریونیو قانون کے مطابق نئے سرے سے اجازت دے۔ بینچ نے اس مقصد کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کی کہ وہ ایک بینچ تشکیل دے کر اس فیصلے کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔
    مزید برآں احتساب کے قومی ادارے "نیب"کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف چھان بین کر کے کارروائی کرے۔

    بینچ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری اراضی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی سمیت مختلف ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو بحریہ ٹاؤن کی نسبت زیادہ کم نرخ پر فروخت کی گئیں، لہذا اگر یہ درست ہے "تو ہم چیف جسٹس سے درخواست کرتے ہیں کہ اس کا از خود نوٹس لیا جائے۔" اسی طرح بحریہ ٹاؤن کو اسلام آباد کے قریب واقع ایک علاقے میں محکمہ جنگلات کی زمین پر تجاوزات کا ذمہ دار بھی قرار دیا گیا اور عدالت عظمیٰ کے بینچ نے زمین کے اس تبادلے کو غیرقانونی قرار دے دیا۔ اس معاملے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنی ملکیت میں موجود 765 کنال اراضی محکمہ جنگلات کو دی تھی اور محکمے کی ایک ہزار کنال سے زائد زمین حاصل کی تھی۔ بینچ نے محکمہ جنگلات، محکمہ محصولات اور سروے آف پاکستان کو علاقے کی از سر نو حد بندی کرنے کا حکم بھی دیا۔ بینچ نے ایک تیسرے مقدمے میں نیو مری ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بھی کام بند کرنے کا حکم دیا۔ اس منصوبے سے پر ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کی طرف سے بھی کڑی تنقید دیکھنے میں آ چکی ہے۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ


     


    0 0

    عالمی ماہرین کے مطابق گلوبل وارمنگ موجودہ د ور کا سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ گزشتہ 100 سال کے دوران دنیا کے درجہ حرارت میں 0.6 درجے سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر ماحول خراب کرنے کی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہیں تو رواں صدی کے اختتام تک 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے سے نہ صرف دنیا کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا بلکہ انسانی زندگی بھی دائو پرلگ جائے گی۔ پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2017 میں پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرملکوں میں پہلے نمبرپر آ گیا ہے۔

    ان خدشات کا اظہار گزشتہ روز پروگرام ’’جیو پاکستان‘‘ میں ماہر ماحولیات پروفیسر ڈاکٹرعالیہ رحمٰن نے بھی کیا۔ موسموں کے آنے جانے میں تیزی آگئی ہے۔ اکتوبر، نومبر کے شروع دنوں میں یہ سموگ کا چھا جانا ، دھند پیدا ہونا، بارش نہ ہونا، اگر ہو تو سیلاب آ جانا اور تباہی پھیلانا، اس بات کا عندیہ ہے کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت جنگوں سے زیادہ انسان کو درجہ حرارت میں اضافے سے خطرہ ہے۔ گلوبل وارمنگ کی بڑی وجہ کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنا، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں ہے۔ گلیشیر پگھلنے سے جو شہر سطح سمندر سے نیچے ہیں وہ ڈوب جائیں گے۔ 

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2050 تک کراچی مکمل طور پر ڈوبنے کا خدشہ ہے جس کی تازہ مثال ٹھٹھہ اور بدین کے کچھ ساحلی علاقوں کا سمندر برد ہونا ہے۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری، خاص طورپر بڑے بڑے صنعتی ممالک سرجوڑ کر بیٹھیں اور انسانیت کو لاحق اس خطرے سے نجات دلانے کا مستقل حل ڈھونڈیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف ہماری موجودہ حکومت بلکہ آنے والی حکومت کو بھی جنگلات کی کٹائی روکنے اور عالمی معیار کے مطابق 2 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد رقبے پر جنگلات لگائے جانے پر بھرپور توجہ دے تاکہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں گلوبل وارمنگ کے عذاب سے محفوظ رہ سکیں۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لوگ اپنے فون اور کمپیوٹر کی سکرین کی طرف بار بار اور بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ دراصل ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں اوسطاً ایک بالغ ہفتے میں ساڑھے پانچ گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ اس کا مطلب ہے سال میں 12 دن۔ اگر آپ کو اس امر سے حیرت نہیں ہوتی تو جان لیجیے کہ آپ سمیت بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے نشے کا شکار ہیں۔ لائیک، کومنٹ اور ری ٹویٹ کی صورت جو میں سکون آپ پاتے ہیں وہ آپ کے دماغ کو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کی طرف کھینچتا ہے۔ 

    اگر آپ اس نشے کے بارے میں اپنا امتحان لینا چاہتے ہیں تو اپنے آپ سے پوچھیے: کیا سوشل میڈیا آپ کو آپ کے سب سے ضروری کام سے روکتا ہے، کیا یہ صلاحیتوں کے اظہار کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ سوشل میڈیا کے مرض نے آپ کو شکست دے رکھی ہے۔ کسی بری عادت کا حل یہ ہے کہ اسے اچھی عادت سے بدل دیا جائے۔ ذیل میں وہ اقدامات تجویز کیے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے نشے میں گرفتار کسی فرد کو چھٹکارہ دلانے میں مفید ثابت ہوں گے۔ ۱۔ ’’کیوں‘‘ کی تلاش : خود سے سوال کیجیے: آپ آخر انسٹاگرام اور فیس بک کھولتے کیوں ہیں؟ کیا اس کا جواب ہے، ’’کوئی وجہ نہیں، میں بس انسٹاگرام کی فیڈ کو سکرول کرنا پسند کرتا ہوں‘‘؟ 

    اگر ایسا ہے تو اپنے محرک پر گہرائی سے غور کیجیے۔ یہ دیکھیے کہ کیا یہ آپ کے کام کو بور کر دیتا ہے، آپ اس کے لیے ذہنی دباؤ محسوس کرتے ہیں یا اس کے باعث خود کو بیرونی دنیا سے کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں؟ پہلا قدم آپ کی اس ضرورت کو پہچاننا ہے جو آپ کو سکرین کی طرف دیکھنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ ۲۔ دوری: دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے تین چار طریقے اپنانے پڑیں گے جو سوشل میڈیا سے دوری میں معاون ہوں گے۔ ان میں سوشل میڈیا ایپس کو ڈیلیٹ کرنا، کمپیوٹر پر نیوز فیڈ بُلاکر استعمال کرنا، اپنے بیڈروم سے فون اور کمپیوٹر کو دور رکھنا شامل ہے۔ 

    یاد رکھیے سوشل میڈیا کونشہ بنانے کے لیے دنیا کے بہترین دماغوں میں سے چند نے خوب محنت کر رکھی ہے۔ اس سے چھٹکارے کا فیصلہ کرنا اور پھر قدم اٹھانا آسان نہیں۔ اس کے لیے خاصی ہمت کی ضرورت ہے تاکہ اپنے حقیقی کاموں کی طرف متوجہ ہوا جا سکے۔ ۳۔ متبادل : تیسرا قدم یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو چیک کرنے کی روٹین کو ایک نئی روٹین سے بدل دیں۔ ایسا کرتے ہوئے آپ کو خیال آتا ہے کہ اب تو ’’میں بور ہونے لگا ہوں‘‘ یا ’’میرا ذہن بار بار وہی کچھ کرنے کو چاہ رہا ہے۔‘‘ لیکن آپ اس طرح کے احساسات کو کسی مثبت اور پیداواری کام میں بدل سکتے ہیں۔ 

    مثال کے طور پر فیصلہ کریں کہ جب میں کام کے دوران بور ہوں گا تو چند قدم چل لوں گا، یا جب میں ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوں گا تو تین منٹ کے لیے گہرے سانس لوں گا۔ اگر آپ اپنے دماغ کو ایسے کاموں کی جانب راغب کر لیں گے تو سوشل میڈیا کی طلب کم ہو جائے گی۔ ۴۔ احتساب : چوتھا قدم نئی عادتوں کو بار بار دہرانا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب لوگ ہار جاتے ہیں کیونکہ اس کے لیے خاصے ہمت و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ نظم و ضبط کو خود ہی کرنے کی بجائے اسے کسی دوسرے کے حوالے کر دیں تو بہتر ہے۔

    دوسرا آپ کو زیادہ اچھا کنٹرول کر سکتا ہے۔ کسی دوست کی خدمات حاصل کریں یا کوئی کوچ رکھیں جو آپ کا احتساب کرے کہ آپ نے جو فیصلے کیے تھے ان پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ یعنی آپ سوشل میڈیا سے دوری کی جانب گامزن ہیں یا نہیں۔ اس کا ایک فوری حل احتساب کرنے والی ایپ کا استعمال ہے۔ ایک معروف کمپنی نے ’’اکاؤنٹی بیلٹی ایپ‘‘ بنائی ہے۔ اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ۵۔ انعام: پانچواں قدم یہ ہے کہ اپنے دماغ کو انعام دے کر خوش کریں۔ جب آپ اپنی نئی عادات پر اچھی طرح عمل کر رہے ہوں تو اسے اس کا صلہ ملنا چاہیے۔ نئی عادات کو اپنانا تشدد سہنے کی طرح نہیں ہونا چاہیے۔ 

    نئی عادات کو مضبوط بنانے کے لیے، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر خود کو صلہ دیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایک گھنٹے سے سوشل میڈیا سے دور ہیں، تو دس منٹ کے لیے بطور انعام وہ کچھ کریں جو آپ کو پسند ہے اور جسے کرنے سے آپ کو خوشی ہوتی ہے۔ اگر آپ پورا دن سوشل میڈیا سے دور رہتے ہیں تو آپ شام کا ایک گھنٹہ اپنی مرضی سے گزاریں۔ اپنی ذات پر دیگر کئی نوازشیں کی جا سکتی ہیں۔ نئی عادات اپنا کر آپ پراگندہ خیالی کی زنجیروں اور وقت کے زیاں سے نکل آئیں گے۔

    تلخیص و ترجمہ: رضوان عطا


     


    0 0

    لندن پولیس نے معروف قانون دان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل نعیم بخاری کے ساتھ 27 اپریل کو پیش آنے والے واقعے کو ‘اقدام قتل’ قرار دے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق تفتیش کاروں کو مشتبہ شخص کی تلاش ہے جس نے نعیم بخاری کا پیچھا کر کے لندن کے ماربل ارچ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ مشتبہ شخص نے مبینہ طور پر نعیم بخاری کو دھکا دیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور لندن کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ مذکورہ واقعہ کے بعد برٹش ٹرانسپورٹ پولیس (بی ٹی پی) نے بتایا کہ ‘ایشیائی نژاد’ مشتبہ شخص کی تلاش میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد حاصل کی جارہی ہے۔

    ان کے مطابق نعیم بخاری پر حملہ کرنے کے بعد مشتبہ شخص بھیڑ میں غائب ہوگیا، تاہم بتایا جارہا ہے کہ تفتیش کاروں کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے جس میں مشتبہ شخص کو آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ نعیم بخاری پلیٹ فارم پر گرنے سے زخمی ہوئے تھے، بعد ازاں سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی تصاویر میں ان کے ماتھے اور آنکھ پر گہرے زخم اور دائیں باوز پر بندھی پٹی کے بعد واقعے کی نوعیت پر تحفظات اٹھنے لگے۔ واقعہ کے فوری بعد سوشل میڈیا پر افواہوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ایک الزام یہ بھی عائد کیا گیا کہ نعیم بخاری شراب کے نشے میں تھے، جنہیں بعض لوگوں نے پال مال نائٹ کلب سے باہر پھینک دیا لیکن یہ محض افواہ ثابت ہوئی جس کی تصدیق پال مال نائٹ کلب نے پولیس کو فون پر کی۔

    لندن پولیس حکامم کے مطابق اگر کسی شخص پر لوہے کی راڈ سے حملہ کیا جائے تو یہاں ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
    بی ٹی پی نے اپنی ویب سائٹ پر شہریوں سے درخواست کی کہ ماربل ارچ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن میں 27 اپریل کو 3 بج کر 10 منٹ پر پیش آنے والے واقعے سے متعلق معلومات کی صورت میں فوری رابطہ کریں۔ ویب سائٹ پر کہا گیا کہ تفتیش کار اقدام قتل کیس پر کام کر رہے ہیں جس میں مشتبہ شخص نے نعیم بخاری کو ایسٹ باؤنڈ ٹریک کی جانب دھکا دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق نعیم بخار کا علاج جاری ہے جبکہ ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

    یہ خبر 06 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
     


    0 0
  • 05/06/18--02:03: Journalism is not a crime
  • More than 2,500 journalists have been killed since 1990, and media rights groups warn, on World Press Freedom Day on 3 May, of a growing trend of journalists being targeted for the work they do. Monday was one of the most deadly days for journalists, with 10 media professionals killed in two separate incidents in Afghanistan. After a suicide bombing in Kabul, journalists gathered at the scene to report on the aftermath. Within 15 minutes, a second suicide bomber, disguised as a journalist, arrived to target them. The Islamic State group (IS) said it carried out the twin bombings that left nine journalists and photographers dead, with many more seriously injured. In a separate attack in the Khost region, BBC reporter Ahmad Shah was murdered later the same day. Two unidentified gunmen on a motorbike shot the 29-year-old as he cycled home in an area that was familiar to him.










    0 0

    کوئٹہ سے پچاس کلو میٹر دور، مار واڑ اور سنجدی میں کوئلے کی دو کانوں میں میتھین گیس بھرنے سے ہونے والے دھماکوں کے باعث 23 کان کنوں کا جاں بحق اور13 شدید زخمی ہو جانا بلاشبہ نہایت المناک سانحہ ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ایمبو لینس اور ریسکیو اہلکار مو قع پر پہنچے اور رات گئے تک جاری آپریشن میں کان میں پھنسے تمام زخمیوں اور لاشوں کو باہر نکال لیا گیا۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد کوئٹہ منتقل کر دیا گیا اور کوئٹہ سول اسپتال میں ضروری کارروائی کے بعد تمام لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نےمارواڑ پیر اسماعیل کی کان سے 18 مزدوروں کی لاشیں نکالنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام جاں بحق افراد کا تعلق سوات کے علاقے شانگلہ سے ہے۔ حادثہ کے حوالے سے ارضیاتی ماہرین کا کہنا تھا کہ ہفتہ کو ڈیرہ بگٹی میں مسلسل آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے باعث کانیں بیٹھ گئیں۔ بد قسمتی سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ آئے دن کوئلے کی کانوں میں حادثات کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ صدیوں پرانی اِن کانوں میں اب تک سینکڑوں مزدور اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ناکافی انتظامات کے باعث ہونے والے حادثات کو قدرتی آفات نہیں کہا جا سکتا ۔ 

    بہتر منصوبہ بندی اور سیکورٹی کے فول پروف انتظامات سے ایسے حادثات پر قابو پایا جا سکتا یا کم از کم جانی اور مالی نقصان کی شرح کو کم کیا جا سکتا ہے۔ہمارے ہاں عموماًحادثات کی صورت میں امداد اور ریسکیو کے لئے انتظامات ناقص ثابت ہوتے ہیں اور ان کا مقصد بسا اوقات محض خانہ پری ہوتا ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کان انتظامیہ ایسے حادثات کو کم کرنے کیلئے مزدوروں کی فول پروف سیکورٹی فراہم کرے اور ان حفاظتی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ بھی لیا جاتا رہے ۔ حکومت کو بھی مزدوروں کی صحت اور سیکورٹی کے اقدامات کو انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کے مطابق بنانے میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کرنا چاہئے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ 
     


    0 0

    برطانیہ سےتعلق رکھنے والی بیک پیکر نامی سوسائٹی نے پاکستان کو دنیا کا بہترین سیاحتی مقام قرار دیا ہے، سوسائٹی نے پاکستان کو پر امن، بہترین مہمان نواز اور دوست ملک بھی قرار دیا ۔ بیک پیکر سوسائٹی کی جانب سے جا ری کی جانے والی سیاحت کیلئے دنیا کے20 بہترین مقامات کی فہرست میں پاکستان کے علاوہ روس، ترکی کرغزستان، چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔ بیک پیکر سوسائٹی کے سیموئل جونسن اورایڈم سلوپر نے یہ فہرست دنیا کے 101 ممالک کے دورے کے بعد مرتب کی ہے، دونوں کا ایک خلیجی اخبار سے گفتگو کرتے ہو ئے کہنا تھا کہ پاکستان نے اس فہرست میں واضح طور پر اپنی جگہ بنائی، قدرتی حسین مناظر اور وہاں کے لوگوں کی زبردست مہمان نوازی نے ہمارے دل جیتے اور یقینی طور پر پاکستان کرہ ارض کا دوست ترین ملک ہے۔

    سیاحت کے شوقین افراد کو ہم مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سیاحت کے لئے پاکستان کا انتخاب کریں، خاص طور پر شاہراہ قراقرم سے اسلام آباد اور پھر درہ خنجراب تک سفر ضرورکریں، سیاحت کا مزہ آ جائے گا۔ سیموئل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آپ کے خیال سے بھی زیادہ حسین مناظر آپ کے منتظر ہیں جو آپ کے ذہن پر نقش ہو جائیں گے اور آپ ان کے سحر میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ جنوبی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے26 سالہ سیموئل اور26 سالہ سلوپر نے موسم گرما میں پاکستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چند دن لاہور ، راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزارے جس کے بعد وہ کاغان ویلی سے ناران اور بعد ازاں بابو سر شمالی گلگت تک جا پہنچے ان کا یہ سفر ہنزہ ویلی تک رہا جہاں سے کریم آباد کے مقام سے انہوں نے ھون پاس پرچڑھنے انتخاب کیا ۔

    ھون پاس پر چڑھنے کیلئے منتخب کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس جگہ کا انتخاب برطانیہ کے معروف کوہ پیما ایرک شپٹن کے نقش قدم پر چلتے ہو ئے ان نظاروں سے لطف اندوز ہو نا تھا جسے انہوں نے دریافت کیا اور بعد ازاں انہوں نے ان خوبصورت اور حسین مناظر کا ذکر بھی کیا ،اس موقع پر سیموئل نے اپنے سفر کو یاد کرتے ہو ئے بتایا کہ واقعی یہ قدرتی مناظر دنیا میں کہیں اور نظر نہیں آئے اور ان مناظر نے ہم پر سحر طاری کر دیا ۔ سیموئل کا کہنا تھا کہ دنیا میں جو لوگ کوہ پیمائی کا شوق رکھتے ہیں ان کے لئے مشورہ ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ حسین مقام انہوں نے نہیں دیکھا ہو گا وہ اس مقام پر ضرور جائیں اور یہاں کے سحر زدہ مناظر سے لطف اندوز ہونے کیلئے یہاں کا سفر ضرور کریں ۔ انہوں نے ہنزہ ویلی اور یہاں کی چوٹیوں کے مناظر کو دنیا کے بہترین قدرتی مناظر قرار دیا ۔ مہم جو سیاحوں کا اصرار ہے کہ دنیا کے سیاح اسلام آباد سے چین کی سرحد خنجراب کا سبشفر بذریعہ شاہراہ قراقرم ضرور کریں یہ دنیا کا زبردست اور یاد گار سفر ہو گا۔

    بشکریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    شمالی کوریا محض چند ماہ قبل تک جوہری اسلحے اور بین الابراعظمی میزائلوں کے تجربوں اور دھمکیوں کی زبان بول رہا تھا، جسے نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم گذشتہ ماہ کی 27 تاریخ کو اسی شمالی کوریا نے وہ کام کر دکھایا جو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ اس نے جنوبی کوریا کے ساتھ سنہ 1953 کے بعد سے جاری جنگ باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جارحانہ عزائم اور بظاہر آمرانہ شخصیت کے حامل سمجھے جانے والے شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے خود چل کر دونوں ممالک کے درمیان قائم عارضی سرحد کو پار کیا۔

    جزیرہ نما کوریا پر ہونے والے اس بڑے واقعے کے بعد جنوبی ایشیا میں بھی خصوصا سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ 'اگر دونوں کوریا ایسا کر سکتے ہیں تو انڈیا اور پاکستان کیوں نہیں؟' دو مختلف تاریخ رکھنے والے خطوں کے مابین ایسی مماثلت کھینچنے کے خیال پر ماہرین کی رائے تقسیم کا شکار ہے تاہم خطے کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کم از کم پاکستان کی جانب سے ایسے اشارے دیے گئے ہیں کہ وہ انڈیا کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ ایسے اشارے خصوصا پاکستان کی فوج کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے کا آغاز رواں برس مارچ میں ہوا جب تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام آباد میں انڈین سفارت خانے کے دفاع کے اتاشی کو پاکستان ڈے کی پریڈ پر مدعو کیا گیا۔

    رواں برس ہی دونوں ممالک کی افواج شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن کے تحت ستمبر میں روس میں منعقد ہونے والی مشترکہ فوجی مشقوں میں بھی حصہ لینے کے لیے تیار ہو گئی ہیں۔ تاہم کشمیر میں انڈین فوج کو جارحیت کا سامنا ہے جس کے لیے وہ اکثر پاکستان کو ذمہ دار قرار دیتا ہے، جبکہ گذشتہ کچھ ماہ سے لائن آف کنٹرول پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستان انڈیا پر پہل کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ چند ہی روز قبل پاکستان کی جانب سے خیر سگالی کے طور ایک بیمار انڈین قیدی کو رہا کیا گیا اور اس سے قبل ایک انڈین شہری کو واپس بھیج دیا گیا جو غلطی سے سرحد پا کر آیا تھا۔ 

    فوج کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟

    کیا پاکستانی فوج کی جانب سے ایسے دوستانہ اقدامات کو انڈیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی طرف خواہش کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے؟ دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کے خیال میں کچھ ایسا ہی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی قیادت کا یہ خیال ہے کہ گذشتہ 70 برس سے ایک دوسرے کے ساتھ تصادم اور چار جنگوں کے باوجود کشمیر سمیت سیاچن تک کسی مسئلے کا حل نہیں نکلا ہے۔ اگر آئندہ 300 برس بھی تصادم رہے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔ بلکہ دونوں ممالک ترقی نہیں کر پائیں گے۔ 'اس لیے یہ ایک سوچ ضرور پائی جاتی ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ انڈیا یہاں سے ہاتھ پکڑ کر آگے چلتا ہے یا نہیں۔ بدقسمتی سے انڈیا کی حالیہ حکومت انتہائی پاکستان مخالف خیالات رکھتی ہے۔'

    ڈاکٹر الحان نیاز اسلام آباد کی قائدِاعظم یونیورسٹی میں شعبہ تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور جنوبی ایشیا کے حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کا مؤقف گذشتہ دس پندرہ برس سے یہی ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو کشمیر سمیت تمام مسائل بات چیت سے حل کرنا چاہییں۔ اگر پاکستانی فوج مثبت اشارے دے رہی ہے اور اگر انڈیا اس کو مثبت طریقے سے وصول کرتا ہے تو اچھی بات، تاہم ان کے مطابق 'بنیادی طور پر دونوں ریاستوں کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔

    سوچ کی تبدیلی کی وجہ کیا؟
    لاہور کی پنجاب یونیورسٹی میں شعبئہ سیاسیات کے پروفیسر اور تجزیہ کار شبیر احمد خان کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے حالیہ اشارے چین کی طرف سے چائنا پاکستان اکنامک کاریڈور کی کامیابی کے خواہش کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ 'میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ پاکستان پر دباؤ ہے تاہم اثر و رسوخ ضرور استعمال ہوا ہو گا۔' وہ بھی شمالی کوریا کی مثال دیتے ہیں۔ 'چائنا نے ایسا ہی کچھ جزیرہ نما کوریا میں کیا۔ کہاں شمالی کوریا دھمکیاں دے رہا تھا اور کہاں اس نے اچانک دنوں میں جنگ ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔'

    جبکہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد کہتے ہیں کہ شنگھائی کواپریشن آرگنائزیشن کے تحت ہونے والی مشقوں میں انڈیا اور پاکستان کی افواج کی شراکت کے حوالے سے پس پردہ جو شرط رکھی گئی ہو گی وہ یہی ہو گی کہ یہ دونوں ممالک اپنی دشمنی ایس سی او میں مت لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید اس بات کا احساس بھی پایا جاتا ہے کہ 'ہمارا کشمیر کا بیانہ چل نہیں رہا، دنیا بھر میں کوئی اسے خرید نہیں رہا۔ اس میں پاکستان کو نئی سوچ اور فکر لانی چاہیے۔' 'کشمیر پر پاکستان کا اصولی مؤقف ہے اور اس کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ مگر دنیا میں باقی ممالک ہیں جو مسائل پر اپنا مؤقف تبدیل کیے بغیر بھی اکٹھے کام کر رہے ہیں، آپ انڈیا اور چین ہی کو دیکھ لیجیے۔'

    انڈیا اور چین کے ایک دوسرے سے زمین کے اور سرحدی تنازعات ہیں اور وہ دونوں اپنے موقف پر آج بھی قائم ہیں مگر اس کے باوجود دونوں میں بات چیت بھی ہوتی ہے اور تجارت بھی چل رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان کے خیال میں پاکستان کی سیاسی قیادت اور فوج کو مل کر اس مقصد کے لیے کام کرنا ہو گا تو ہی کامیابی ہو گی۔ اگر سیاسی قیادت پیچھے رہے یا انہیں اجازت نہ ہو اور صرف فوج ہی یہ کام کرے تو یہ چل نہیں سکے گا۔

    باجوہ ڈاکٹرن یا کیانی ڈاکٹرن؟
    کیا یہ تبدیلی فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ڈاکٹرن یا نظریے کا نتیجہ ہے؟ پروفیسر شبیر احمد خان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے یہ ممکنہ نظریاتی تبدیلی موجودہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے نظریات کے نتیجے میں سامنے آئی ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں پہلی بار پاکستانی فوج کی جانب سے ایک لفظ سامنے آیا تھا کہ 'پاکستان کی سلامتی کو جو خطرہ لاحق ہے وہ انڈیا سے نہیں بلکہ ہوم گرون یعنی گھر سے پیدا ہونے والا ہے۔'اس کے بعد فوج کے اگلے سربراہ جنرل راحیل شریف آئے اور انھوں نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع کیے۔ حال ہی میں جنیوا میں جنرل باجوہ نے بھی کہا کہ 'پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ ہم نے 40 سال پہلے پیدا کیے تھے۔'ان کے خیال میں یہ جنرل اشفاق کیانی ہی کے ڈاکٹرن کا تسلسل ہے۔

    کیا انڈیا مثبت جواب دے گا؟
    شبیر احمد خان سمجھتے ہیں کہ انڈیا پاکستانی فوج کے ان اشاروں کا مثبت جواب دے گا کیونکہ وہ بھی نہیں چاہے گا کہ وہ پاکستان کی طرف سے کسی مسئلے میں الجھے۔ 'انڈیا ایک بہت بڑی منڈی بن چکا ہے جس پر مغرب سمیت تمام دنیا کی توجہ مرکوز ہے اور اس کا 'شائننگ انڈیا'کا خواب بھی ہے اس لیے اس کے مفاد میں ہے کہ وہ مطمئن ہو جائے کہ پاکستان کی طرف سے اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ 'میرے خیال میں انڈیا کو سفارتی طریقے سے سمجھایا گیا ہے کہ بہت ہو چکا۔ اور انڈیا کی پاکستان کے حوالے سے دکھاوے کی پالیسی مختلف ہے اور بیک ڈور پالیسی کچھ اور ہے۔

    'پاکستان نے خود کو بہت تبدیل بھی کیا ہے۔ انڈیا کا مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے اور پاکستان ایک عرصے سے وہی کر رہا ہے۔' ڈاکٹر الحان نیاز کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج کے حالیہ اشاروں کے باوجود اس وقت پاکستان اور انڈیا کے درمیان سنجیدہ بات چیت کا عمل بحال ہونے کی زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے۔ وہ اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ 'پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایسے مسائل پر بات چیت کے لیے پہلے سے فورم موجود ہیں جیسا کہ دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ یا فوج کی سطح پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز ملتے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت بھی کرتے رہتے ہیں۔ مسئلہ بنیادی مسائل کے حل کا ہے۔' دوسرا تدابیری مسئلہ ہے۔ پاکستان میں جلد نئے انتحابات ہونے جا رہے ہیں۔ جو بھی نئی حکومت آئے گی اس حوالے سے اس کا ردِ عمل کیا ہو گا یہ دیکھنے کا انتظار کرنا ہو گا۔

    کیا کوریا کا ماڈل کارگر ہو سکتا ہے؟
    ڈاکٹر الحان نیاز کی نظر میں پاکستان اور انڈیا کے مسئلے پر کوریا کی مثال 'انتہائی کمزور مماثلت ہے۔ دونوں خطوں کی تاریخ مختلف ہے۔ جزیرہ نما کوریا میں جو ہوا وہ سرد جنگ کا نتیجہ تھا اور پھر دنیا کی بڑی طاقتوں سمیت سب نے اس معاملے کو پگھلانے کی کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہو سکی۔ 'کوریا میں دونوں اطراف کے سربراہان کے درمیان حالیہ ملاقات فوٹو کھنچوانے کا اچھا موقع تھا۔ ایسا پاکستان اور انڈیا کےدرمیان بھی ہوا تھا جب وزیرِ اعظم نریندر مودی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی سالگرہ کے موقع پر ان کے گھر پہنچ گے تھے۔ تاہم فوٹوگرافی سے مسائل کا حل نہیں نکلتا۔' ان کا کہنا تھا کہ مسائل اس وقت حل ہوں گے جب دونوں اطراف میں سیاسی عزم ہو کہ اب برصغیر میں ہم نے امن میں کام کرنا ہے۔ اور وہ سٹریٹیجک فیصلہ پاکستان اور انڈیا دونوں میں سے ابھی تک کسی نے نہیں کیا۔

    عمر دراز ننگیانہ
    بی بی سی اردو لاہور
     


    0 0

    خیبر پختون خوا کے ضلع شانگلہ بالخصوص غور بند کے علاقے میں پیدا ہونے والے مرد بھی باقی انسانوں کی طرح فانی ہیں مگر ان میں سے کم ہی ایسے ہیں جو بوڑھے ہو کر مرتے ہیں اور مرتے بھی ہیں تو اپنی زمین پر نہیں بلکہ کم ازکم گیارہ سو کلو میٹر پرے، بلکہ یوں کہئے کہ جاتے تو روزگار کے لیے ہیں مگر آتے تابوت میں بند۔ ان تابوتی لاشوں میں سے شائد ہی کوئی ایسی ہو جو پچاس برس کی عمر کا ہندسہ پار کر سکی ہو۔ اکثر اٹھارہ سے پتنتیس چالیس تک کے ہی مر جاتے ہیں۔ اب آپ کو ثبوت بھی چاہیے ہو گا، تو اس کے لیے یہ چار روز پرانی خبر حاضر ہے کہ بلوچستان میں دو روز میں کوئلے کی کانیں بیٹھنے کے یکے بعد دیگرے دو حادثات میں تئیس کان مزدور جاں بحق اور گیارہ زخمی ہو گئے۔ ان تئیس مرنے والوں میں سے اکیس کا تعلق ضلع شانگلہ سے ہے۔

    کوئٹہ سے ساٹھ کلو میٹر پرے سر کے علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی ایک کان بیٹھ جانے سے سات مزدور دب کر جاں بحق ہوئے جب کہ ماروار کے علاقے میں ایک کان میں میتھین گیس بھر جانے سے دھماکے میں سولہ کانکن مارے گئے۔ سن دو ہزار گیارہ میں سر کے علاقے میں ہی ایک کان میں گیس بھر جانے سے تینتالیس مزدور جاں بحق ہوئے تھے۔
    پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کا اندازہ ہے کہ سالانہ ڈیڑھ سو سے دو سو کانکن مختلف حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں۔ مگر یہ اموات معمول کی بات ہیں۔ ان کی جگہ اور مزدور زیرِ زمین چودہ سو سے لے کر تین ہزار فٹ تک کے اندھیروں میں جانے اور قسمت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

    یہ جو کوئلہ نکالتے ہیں اس کی قیمت بہرحال ان مزدوروں کی جان سے زیادہ ہے۔کان مالکان اور سرکاری ادارے اسی کوئلے کی فروخت اور محصولات کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے کما رہے ہوں تو مزدوروں کی بہبود پر لگانے کی کیا ضرورت۔ سر ، لورالائی کی تحصیل دکی ، ہرنائی ، مچھ ، سندھ میں جھمپیر اور پنجاب و خیبر پختون خوا تک زندگی اور موت کی ایک ہی کہانی تسلسل سے جاری ہے۔ جو کانکن دب کے یا گیس سے نہیں مرتے وہ کوئلے کی خاک پھیپڑوں میں اتار کے ، دمے ، ٹی بی ، جلدی امراض کے سبب مر جاتے ہیں۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یورپ میں کانکنوں کی جیسی زندگی پانچ سو برس قبل تھی۔ آج پاکستان میں کان مزدوروں کی زندگی ویسی ہی ہے۔ اور یہ سارا جوا بارہ سو سے پندرہ سو روپے ہفتہ دھاڑی کے لیے کھیلا جاتا ہے۔

    کہنے کو پاکستان میں برطانوی نوآبادیاتی دور کا مائنز ایکٹ مجریہ انیس سو تئیس لاگو ہے۔ جس میں کانکنوں کے اوقات ، جسمانی صحت ، جان کے تحفظ اور رہائش وغیرہ کے معیار کی بابت تمام بنیادی معاملات پر شق وار وضاحت ہے۔ مگر اس ایکٹ میں ایک شق ایسی ہے جو سارے دیگر قوانین کو نگل لیتی ہے۔ یعنی کانوں کے معائنے پر مامور چیف انسپکٹر حالاتِ کار و حادثات سے متعلق جو بھی رپورٹ تیار کرے گا، وہ چند متعلقہ افسران کے علم میں لانے کا مجاز ہے، اس رپورٹ کو عام کرنے کا مجاز نہیں۔ چنانچہ بیشتر اموات اور حادثات کا یا تو ریکارڈ نہیں رکھا جاتا اور اگر رکھا بھی جاتا ہے تو ایٹمی راز کی طرح الماری میں بند ہوتا ہے۔ لہذا بہت کم حادثات ایسے ہیں جن میں ذمے داری یا غفلت کا تعین ہو سکا۔ یوں موت کے کھیل سے دولت پیدا کرنے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    خود قانون کتنے موثر انداز میں حرکت میں آتا ہے اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ مچھ میں انسپکٹر آف مائنز کے دفتر سے اب سے دو برس پہلے جو تفصیلات میسر آئیں ان کے مطابق کئی برس کے دوران بیس کانکن کمپنیوں کے خلاف مجرمانہ غفلت کی فردِ جرم ٹریبونل میں پیش کی گئی۔ ان سب کمپنیوں کو صرف دس سے بیس ہزار روپے جرمانہ دینا پڑا۔ انھیں ایک عدد اضافی تنبیہہ تھمائی گئی اور کلین چٹ دے دی گئی۔ نظام ہی کچھ اس طرح کا ہے کہ کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ صوبائی حکومت چھوٹے چھوٹے علاقوں میں نجی مالکان کو کانیں لیز پر دیتی ہے۔ ان مالکان کو مزدوروں کے اوقاتِ کار ، ہیلتھ اور سیفٹی کے معیارات سے زیادہ اس سے دلچسپی ہوتی ہے کہ کس طرح کانکنی کے انفرا اسٹرکچر پر کم سے کم پیسہ لگائے بغیر زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹا جا سکے۔

    صوبائی محکمہ لیبر کے پاس اگرچہ کانوں کی انسپکشن اور انھیں بہتر بنانے کے سلسلے میں وسیع اختیارات ہیں مگر اس کا عملی کام بس اتنا ہے کہ جب بھی کوئی حادثہ ہو جائے تو ایک رسمی رپورٹ تیار کر کے داخلِ دفتر کر دے۔ ویسے بھی کوئی کان مالک ایسا نہیں جس کے اوپر تک کنکشن نہ ہوں۔ ان کے آگے ایک معمولی انسپکٹر کی حیثیت ہی کیا ہے۔ دو ہزار تیرہ میں جو سرکاری منرل پالیسی سامنے آئی، ان میں کان مالکان اور ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ کا تو ذکر ہے مگر مزدوروں کے تحفظ کا کوئی ذکر نہیں۔ چونکہ زیادہ تر کان مزدور ان پڑھ اور پردیسی ہیں لہذا انھیں سودے بازی کا بھی تجربہ نہیں ہوتا۔ بنیادی طبی سہولتیں ان کا قانونی حق ہے مگر کبھی اگر کسی نے کانکنوں کے لیے مختص کسی فعال اسپتال کا تذکرہ سنا ہو تو مجھے بھی مطلع کرے۔ ان کانکنوں کا وجود سوشل سیکیورٹی کے رجسٹر پر بھی نہیں ہے۔ چنانچہ جب کوئی کانکن حادثے میں زخمی ہوتا ہے یا مر جاتا ہے تو یہ مالک کی صوابدید ہے کہ وہ کتنا معاوضہِ ازالا دیتا ہے۔ خدا ترس ہے تو پچاس ہزار تک دے دے گا۔ نہیں ہے تو پچیس میں بھی ٹرخا دے گا اور کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں۔

    یہ کانکن مزدوری کی جگہ کے قریب خود ہی پلاسٹک شیٹس ، گھانس پھونس یا کچی پکی اینٹیں جوڑ کر جھونپڑی یا کمرہ بنا کر مشترکہ طور پر رہتے ہیں ، ایک نل سے نہاتے ہیں اور آٹھ دس مل کے کھانا پکا لیتے ہیں ، کپڑے دھو لیتے ہیں۔ اورذرا ہی فاصلے پر کان مالک یا مینیجر کا شاندار ریسٹ ہاؤس ، اوطاق یا گھر ان کا منہ چڑا رہا ہوتا ہے۔ حالات اتنے دگرگوں ہیں کہ کانکنوں کے بچوں کے نام پر جو تعلیمی اسکالرشپس جاری ہوتی ہے وہ بھی راستے میں غتربود ہو جاتی ہیں۔
    کہنے کو پاکستان کوئلے کی کانکنی ، پیداوار اور ذخائر کے اعتبار سے عالمی رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔ کل قومی پیداوار میں کانکنی کا حصہ تین فیصد کے لگ بھگ ہے۔ مگر کانکنوں کے لیے سہولتوں ، حفاظتی آلات کے اعتبار سے جس نمبر پر چاہیں رکھ لیں۔ ان بے چاروں کو تو یہ تک نہیں معلوم کہ دنیا کے سب سے مشکل اور خطرناک پیشوں میں سے ایک ہونے کے سبب باقی دنیا میں کان مزدوروں کو کیا سہولیات میسر ہیں۔

    شائد اسی لیے ریاستِ پاکستان نے بین الاقوامی لیبر فیڈریشن کے سیفٹی اینڈ ہیلتھ ان مائنز کنونشن مجریہ انیس سو پچانوے کی آج تک توثیق نہیں کی۔ تاکہ مزدوروں کو یہ نہ پتہ چل جائے کہ امریکا ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ جیسے معدنی دولت سے مالا مال ممالک میں بہت جدوجہد کے بعد کانکنوں کی تنخواہ مراعات ان کے پیشے کی خطرناکی کے اعتبار سے اوسط قومی اجرت سے کم ازکم ڈیڑھ گنا زائد ہیں۔ اس وقت اس خطرناک پیشے میں کام کرنے والے ستر فیصد مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے اور تیس فیصد کا تعلق افغان ہزارہ قبائل سے ہے۔غربت اتنی ہے کہ ایک مرتا ہے تو اس کی جگہ دو لینے کے لیے آ جاتے ہیں۔ ایک آدھ مر جائے تو پتہ بھی نہیں چلتا۔ سنگل کالم اخباری خبر یا چینل کی پٹی بننے کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم پانچ سات کانکن ایک ساتھ مریں۔ میں بھی کہاں یہ مضمون لکھتا اگر ایک ساتھ تئیس کے مرنے کی خبر نہ آتی۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    ڈاکٹر محمد رفیع بٹ چند روز قبل سلجھے ہوئے دانشور، مقبول پروفیسر اور بہترین محقق کے طور جانے جاتے تھے۔ انھوں نے 5 مئی کی دوپہر کو کشمیر یونیورسٹی کے شعبئہ سماجیات میں اپنا آخری لیکچر دیا اور روپوش ہو گئے۔ صرف 40 گھنٹے کے بعد حزب المجاہدین کے 4 مسلح شدت پسندوں کے ہمراہ وہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع میں محصور ہو گئے اور مختصر تصادم کے بعد مارے گئے۔ ان کی نئی شناخت ان کی سابقہ اہلیتوں پر غالب آ گئی۔ لوگ اب انھیں ‘مجاہد پروفیسر’ کہتے ہیں۔ سری نگر کے مشرقی ضلع گاندر بل میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر رفیع غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھوں نے سوشیالوجی میں ماسٹرز کرنے کے بعد انڈیا کا قومی سطح کا امتحان دو مرتبہ پاس کیا اور اس کے لیے انھیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے فیلو شپ بھی ملی۔ انھوں نے بعد میں اپنے مضمون میں پی ایچ ڈی کی اور گزشتہ برس ہی کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی میں لیکچرر تعینات ہوئے۔

    ڈاکٹر رفیع کے اکثر طلبا بات کرنے سے کتراتے ہیں اور جو بولنے پر آمادہ ہیں وہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے چند طلبا نے بتایا کہ ڈاکٹر رفیع کے بارے میں ایسا خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا جا سکتا تھا کہ وہ مسلح مزاحمت پر آمادہ ہیں۔ وہ تو ہمیں تحفے میں کتابیں دیتے تھے۔ انھوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ مابعد جدیدیت پر مجھے ایک کتاب دیں گے۔ میرا دماغ پھٹ رہا ہے کہ یہ سب کیا ہوا اور کیوں ہوا ؟ ڈاکٹر رفیع کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ جب وہ میڈیا میں ہلاکتوں یا زیادتیوں کی تفصیلات دیکھتے تھے تو پریشان ہو جاتے تھے لیکن انھوں نے ایسا کوئی اشارہ کبھی نہیں دیا کہ وہ ہتھیار اٹھا کر لڑنا چاہتے ہیں۔

    جموں کشمیر پولیس کے سربراہ شیش پال وید کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر رفیع کے دو کزن مارے گئے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے وہ انتہائی قدم اٹھانے پر آمادہ ہو ئے ہوں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انتہا پسند رحجان بھی ڈاکٹر رفیع کے ذہنی ارتقا کا باعث ہو سکتا ہے۔ چند ماہ قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی سکالر منان وانی بھی روپوش ہو کر حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے تھے، تاہم ڈاکٹر رفیع پہلے پروفیسر ہیں جنھوں نے باقاعدہ مسلح گروپ میں شمولیت کی۔
    30 سال قبل جب یہاں مسلح شورش شروع ہوئی تو کئی پروفیسر مسلح گروپوں کے حمایتی ہونے کی وجہ سے پراسرار حالات میں مارے گئے ۔ ان میں ڈاکٹر عبدالاحد گورو، پروفیسر عبدالاحد وانی، ڈاکٹر غلام قادر وانی اور جلیل اندرابی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
     


    0 0

    سپریم کورٹ نے اصغر خان کی آئینی درخواست پر جاری کئے گئے فیصلے کیخلاف سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اورسابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی کی نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے عدالتی فیصلے پر حکم امتناع نہ ہونے کے باوجود عدم عملدرآمد کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دئیے ہیں، دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے پر چھ سال میں عملدرآمد کیوں نہیں ہوا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے ذمہ داروں کا تعین بھی کرینگے، سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ قسم کھاتا ہوں الیکشن اور اسکے نتائج سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ 

    کیس کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ نے کیس کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اصغر خان نے 16 جون 1996 کو اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے نام لکھے گئے ایک خط میں بیان کیا تھا کہ سابق آرمی چیف، مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، اسد درانی نے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ سازش کر کے پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد بنانے کیلئے ملک بھر کے مختلف سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں میں کروڑوں روپے تقسیم کئے تھے، اس حوالے سے انہوں نے جنگ اخبار کی ایک خبر کا حوالہ بھی دیا تھا، جس پر فاضل چیف جسٹس نے اسی خط کو ہی آئین کے آرٹیکل 184 (3) میں تبدیل کرتے ہوئے کیس کی سماعت شروع کر دی اور بعد ازاں فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں مرزا اسلم بیگ، اسد درانی اور یونس حبیب کو ذمہ دار قرار دیا تھا.

    یونس حبیب اس وقت حبیب بنک کے صوبائی سربراہ تھے اور سماعت کے دوران معلوم ہوا کہ مہران بنک نہیں بلکہ حبیب بنک سے یہ رقوم نکالی گئی تھیں، اس معاملہ میں انکے ساتھ جلال حیدر ، روئیداد خان اور ایم آئی سندھ کا سربراہ بھی شامل تھا کہ انہوں نے ایوان صدر میں ایک سیل کھولا ہے، جسکا مقصد بے نظیر بھٹو کا راستہ روکنا تھا ، یہ انتخابات 1990 میں منعقد ہونے تھے اور اس میں اپوزیشن کو سہولت فراہم کرنے کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ اس مقصد کیلئے رقم ریلیز کر کے انتخابات کو فکس کیا گیا تھا.

    سلمان اکر م راجہ نے کہا کہ ان افراد کا یہ عمل جہاں کرپٹ پریکٹس اور آئین و قانون کی پامالی تھی وہیں پر ان افسران نے اپنے حلف کی بھی روگردانی کی ہے، یہ اعلیٰ سطح کے افسران تھے اور یہ اپنے اس اقدام کے حق میں کسی قسم کا کوئی دفاع بھی پیش نہیں کر سکے ہیں، مرزا اسلم بیگ بطور آرمی چیف اور اسد درانی بطور سربراہ آئی ایس آئی آئین پر چلنے کے پابند تھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین عوام کو اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیتا ہے، جس کیلئے یہ انکا حق ہے کہ یہاں پر صاف اور شفاف انتخابات منعقد کئے جائیں ، لیکن عام انتخابات 1990 کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کا نتیجہ تھے، اس میں مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے ایوان صدر میں الیکشن سیل تشکیل دیا گیا اور اور ایک مخصوص گروپ (آئی جے آئی ) سے متعلق رکھنے والے سیاستدانوں میں رقوم تقسیم کی گئیں ،حالانکہ صدر ریاست کے اتحاد کی علامت ہوتا ہے۔  

    بشکریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کے سیاسی منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں بہت ساری مذہبی جماعتیں دیکھنے کو ملیں گی، مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ مذہبی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتیں کبھی برسر اقتدار نہیں آئیں۔ پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت مسلمان ہے، مسلمان اسلام سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ اگر جذباتی وابستگی، فکری وابستگی سے محروم ہو تو بامقصد نتائج کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آنے والے ملک کی عوام نے ہمیشہ اپنے لیے ایسی قیادت کا انتخاب کیا جس کا مذہبی رجحان کم ہو، یا جس کی کسی مسلک اور عقیدے سے وابستگی ظاہر نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایک عام پاکستانی کیسا اسلامی نظام چاہتا ہے؟

    اسلامی حکومت کے بارے میں ایک عام شہری سے بات کی جائے تو اس کے ذہن میں خلافت راشدہ کا دور ابھرتا ہے۔ اس کے ذہن میں وہ حکمران آتا ہے جس سے ایک عام شہری بھی جواب طلب کر سکتا تھا کہ یہ دوسری چادر تمہارے پاس کہاں سے آئی اور مال میں یہ اضافہ کیوں ہوا ہے؟ اس دور میں قاضی کی عدالت میں ایک حکمران کا بھی وہی مقام تھا جو ایک غریب شہری کا تھا اور دونوں برابر تھے۔ قانون دونوں پر یکساں طور پر لاگو کیا جاتا تھا۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر دور میں آنے والی حکمران جماعت نے ہمیشہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھا۔ اگر ہم 2002 کے الیکشن کی بات کریں جس کے نتائج بہت ہی حیرت انگیز تھے، تو معلوم ہو گا کہ 2002 کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایک بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری۔ ایم ایم اے نے، جس میں چھ مذہبی و سیاسی جماعتیں شامل تھیں، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کی اور کے پی کے میں صوبائی حکومت بنالی جبکہ بلوچستان میں مخلوط صوبائی حکومت کا حصہ بنی۔

    ایک لمبے عرصے کے بعد دینی جماعتوں کو اقتدار میں براہ راست آنے کا موقعہ ملا۔ یہ ایک لحاظ سے بڑی کامیابی تھی۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت مذہبی جماعتوں کی اس شاندار کامیابی کی وجہ کیا تھی؟ انہیں کیوں اور کیسے حکومت ملی؟ نتائج کیا رہے اور کیا آئندہ ایسا ممکن ہے؟ اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کی ملکی تاریخ میں پہلی بار تمام مسالک کی جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور ایک ساتھ ووٹرز کے پاس گئیں۔ بہت سے لوگوں نے انہیں آزمانے کے لیے بھی ووٹ دیئے، خاص طور پر خیبر پختونخواہ کے ووٹرز نے اپنا ووٹ مولوی صاحبان کی جھولی میں ڈال دیا۔ خیبر پختونخواہ میں پانچ برس تک مذہبی جماعتیں بلا شرکت غیرے حکومت کرتی رہیں اور جے یوآئی (ف) کے اکرم درانی وزیراعلیٰ بنے۔ حکومت میں غالب حصہ بھی اسی جماعت کا تھا، مگر صد افسوس! ایم ایم اے کی پانچ سالہ کارکردگی کہیں سے بھی مثالی نہیں کہی جا سکتی۔ 

    کرپشن کے بہت سے الزامات بھی صوبائی وزراء پر، بالخصوص جے یو آئی (ف) کے رہنماﺅں پر عائد کئے گئے۔ اس خاص موقعے پر ایم ایم اے کا کردار نہایت مایوس کن رہا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو عوام یہ چاہتے ہیں کہ مذہبی جماعتیں اقتدار میں آئیں اور نہ ہی مذہبی جماعتیں اقتدار میں آنے کےلیے سنجیدہ ہیں۔ ایسی صورت حال میں صرف نام ہی کا اسلامی جمہوریہ پاکستان رہے گا۔ پاکستان کی خاطر تمام مذہبی جماعتوں کو ایک پیج پر آنا ہو گا اور عوام کے سامنے اپنا مثبت کردار ادا کر کے ایماندار اور سنجیدہ قیادت ہونے کا ثبوت دینا ہو گا۔ امید کرتا ہوں کہ 2018 کا الیکشن پاکستان کےلیے مثبت ثابت ہو۔

    حافظ محمد زبیر
     


    0 0

    غیر معمولی عجلت اور قابل اعتراض انداز سے نیب چیئرمین نے کھل کر یہ ہدایت 
    دی کہ میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات کی تصدیق کی جائے کہ نواز شریف نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے 4.9؍ ارب ڈالر بھارت بھجوائے۔ توقع کے عین مطابق یہ خبر شام سے شہ سرخیوں میں آنا شروع ہوئی جس میں نواز شریف کو شرمندہ کیا جاتا رہا۔ تاہم، بعد میں اسی شام یہ اطلاع ’’جعلی‘‘ ثابت ہوئی جس سے یہ سنگین سوالات پیدا ہونا شروع ہو گئے کہ آخر وہ کیا وجہ تھی جس نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو غیر شائستہ جلدبازی میں اُس غیر مصدقہ معاملے پر پریس ریلیز جاری کرنے پر مجبور کیا جو ملک کے سرکردہ سیاسی رہنما یعنی نواز شریف کی ساکھ اور ان کے نام سے جڑا تھا۔

    نیب پریس ریلیز میں میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ورلڈ بینک کی دستاویز کا ذکر کیا گیا تھا اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ نواز شریف کا نام 4.9؍ ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ کے ساتھ شامل ہو۔ پریس ریلیز میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ رقم بھارت بھیجی گئی تھی۔ نیب کے اقدام کے چند گھنٹوں بعد ہی، پہلے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مذکورہ رقم کی منی لانڈرنگ کے الزامات کو مسترد کیا اور بعد میں ورلڈ بینک نے بھی اسے مکمل طور پر مسترد کیا۔ ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز، میڈیا میں ورلڈ بینک کی ترسیلات اور ہجرت رپورٹ 2016ء کے حوالے سے کچھ اطلاعات سامنے آئیں۔ یہ میڈیا رپورٹس غلط تھیں۔ 

    ورلڈ بینک کی مذکورہ رپورٹ دنیا بھر میں ہجرت اور ترسیلات کے اندازوں پر مبنی تھی۔ رپورٹ میں منی لانڈرنگ کا ذکر تھا اور نہ ہی اس میں کسی شخص کا نام شامل کیا گیا تھا۔ نیب کے ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ کسی بھی شکایت کی تصدیق کیلئے ادارے کے اندر کے احکامات کے حوالے سے پریس ریلیز جاری کی گئی ہو۔ ایک ذریعے نے کہا کہ یہ اقدام اس طرح کے معاملات پر بحث و مباحثے کیلئے اسلام آباد میں نیب کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے ایک دن قبل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ بیورو کے کچھ انتہائی متعلقہ افسران کو اس پیشرفت کا علم نہیں تھا کیونکہ تصدیق سے پہلے ہی اس معاملے کو جاری کرنے کی ہدایت چیئرمین آفس سے آئی تھی۔ 

    نیب ہیڈکوارٹرز کے کچھ اہم افسران کو اس ایشو کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا، میڈیا پر نواز شریف کیخلاف یہ ’’اسکینڈل‘‘ بھرپور انداز سے چھایا رہا۔ جس دن نیب نے انتہائی متنازع پریس ریلیز جاری کی، دی نیوز نے تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی کہ نیب کس طرح احتساب کے نام پر قبل از وقت ہی لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے میں ملوث ہے۔ منگل کو نیب کے اقدام نے دی نیوز کی خبر درست ’’احتساب سے بالاتر نیب لوگوں کو مارنے کا لائسنس استعمال کر رہا ہے‘‘، ثابت کر دی. اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ ادارے میں کسی بھی طرح کی روک ٹوک کے بغیر اور سیاسی بنیادوں پر ہدف بنانے کی اپنی سابقہ ساکھ پر پورا اترتے ہوئے نیب اب بھی ایک کو چھوڑو اور دوسرے کو پکڑو کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ 

    خبر میں بتایا گیا تھا کہ بیورو کو جب بھی درست لگتا ہے وہ قبل از وقت ہی اپنے ہدف، خصوصاً سیاست دان، کی تضحیک و توہین میں ملوث ہو جاتا ہے لیکن بعد میں وہ اپنی توجہ کسی اور پر مرکوز کر لیتا ہے اور اپنے سابقہ کیسز کو انجام تک پہنچانے کی زحمت تک نہیں کرتا۔ خبر میں بتایا گیا تھا کہ ادارہ انکوائریز اور انوسٹی گیشنز شروع کرتا ہے، پھر جب ادارے کو کنٹرول کرنے والوں کا ایجنڈا پورا ہو جاتا ہے تو یہ انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز بند ہو جاتی ہیں، اور کسی اور کے سیاسی فوائد کیلئے یہ مقدمات پھر کھول لیے جاتے ہیں۔ ادارے کے قیام سے لے کر ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے لیکن نیب کے ایک بھی چیئرمین کا اس بات پر احتساب نہیں کیا گیا کہ کئی برسوں تک مختلف انکوائریاں اور انوسٹی گیشنز کیوں جاری رکھیں گئیں حتیٰ کہ دہائیاں پرانے کیسز بھی ہیں جو اب تک چل رہے ہیں، اور انہیں سیاسی وجوہات کی بنا پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس خبر کو نیب نے خود ہی ثابت کر دیا۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    راکٹ انٹرنیٹ ایس ای نامی کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ چینی ای کامرس کمپنی علی بابا گروپ نے جنوبی ایشائی ای کامرس پلیٹ فارم ’دراز‘ کو مکمل طور پر خرید لیا ہے۔ راکٹ انٹرنیٹ کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق علی بابا نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس نے کتنی رقم کے عوض دراز کو خریدا ہے۔ دراز کی بنیاد 2012 میں پاکستان میں رکھی گئی تھی اور تب سے یہ آن لائن شاپنگ کی بہت مقبول ویب سائٹ بن گئی ہے۔ آج دراز بنگلہ دیش، میانمار، سری لنکا اور نیپال میں بھی کام کر رہی ہے۔ ان پانچ جنوبی ایشائی ممالک کی کل آبادی 460 ملین ہے اور ان میں سے ساٹھ فیصد 35 سال سے کم عمر ہیں۔ میڈیا کے لیے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ اس ملکیت کی تبدیلی اور رقوم کی ادائیگی کے بعد بھی دراز پاکستان میں اسی نام کے ساتھ اپنا کاروبار جاری رکھے گا۔

    راکٹ انٹرنیٹ کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ دراز کی علی بابا کو فروخت ظاہر کرتی ہے کہ راکٹ انٹرنیٹ کمپنیوں کی ترقی میں اہم کردار بھی ادا کر سکتی ہے اور مارکیٹ پر چھائی ہوئی کمپنیوں سے علیحدگی بھی اختیار کر سکتی ہے۔ اس کمپنی کا کہنا ہے،’’ علی بابا کے زیر انتظام جانا دراصل دراز کمپنی میں کام کرنے والی ٹیم کی کامیابی ہے۔‘‘ ای کامرس کی چینی کمپنی علی بابا کچھ عرصے سے پاکستانی مارکیٹ میں شامل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ برس اس نے پاکستان کی وزارت برائے کامرس کے ساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کیے تھے اور اس سال کے آغاز سے دراز کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی۔
     


    0 0

    پاکستان اور چین کے تعلقات کے چرچے تو مسلسل سننے کو ملتے ہیں اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں نمایاں بہتری بھی آئی ہے لیکن حالیہ برسوں میں تعلیم کی غرض سے چین جانے والے پاکستانی طلبہ کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں تعلیم کے لیے چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں جانے والے پاکستانی طلبہ کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ کر 22 ہزار تک ہو گئی ہے۔ پاکستانی طالبِ علم چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، میڈیکل سائنسز اور میڈیا اسٹڈیز سمیت کئی دیگر شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

    چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے منصوبوں کے تحت توانائی اور مواصلاتی ڈھانچے کی تعمیر میں تیزی بھی باہمی تعلیمی روابط میں اس اضافے کا سبب بنی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی حکومت اس خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستانی طلبہ کو اس وقت سب سے زیادہ تعلیمی وظائف دے رہی ہے۔ روایتی طور پر پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں جاتے رہے ہیں اور اب بھی ایک بڑی تعداد میں وہاں جا رہے ہیں۔ لیکن چین کی طرف سے دیے جانے والے تعلیمی وظائف سے بھی اب ہزاروں پاکستانی نوجوان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں ’چائنا پاکستان اسٹڈی سینٹر‘ سے وابستہ نیلم نگار کہتی ہیں کہ چین نے تعلیم کے شعبے میں کافی سرمایہ کاری کی ہے اور اس ملک کی بہت سی یونیورسٹیاں ایسی ہیں جن کا شمار دنیا کے بہترین تعلیم اداروں میں ہوتا ہے۔ چین کے تعلیمی اداروں میں پاکستانی طلبہ کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں تعلیم، رہائش اور دیگر اخراجات یورپ اور امریکہ سے قدرے کم ہیں۔ چین میں زیرِ تعلیم ایک پاکستانی طالبہ سدرہ کہتی ہیں کہ حال ہی میں بیجنگ کی طرف سے پاکستانیوں کو فراہم کی جانے والی اسکالرشپس میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اُن کے بقول یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستانی طالب علم چین جا رہے ہیں۔

    اُن کا کہنا ہے کہ چین کی یونیورسٹیوں میں داخلے کا طریقۂ کار امریکہ اور یورپ کے تعلیمی اداروں کی نسبت قدرے آسان ہے جب کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں چین میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستانی نوجوانوں کو ’سی پیک‘ منصوبوں میں ملازمتیں بھی مل جائیں۔ واضح رہے کہ امریکہ بھی پاکستانی طلبہ کو اسکالرشپس دینے والا بڑا ملک ہے۔ امریکہ پاکستان سمیت دنیا میں 150 ممالک کے ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپس یا تعلیمی وظائف مہیا کرتا ہے۔ امریکہ کی فل برائٹ اسکالر شپ کو دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی وظیفہ کہا جاتا ہے جس کے تحت سب سے زیادہ پاکستانی طالبِ علم امریکہ جاتے ہیں۔ اب تک ہزاروں پاکستانی نوجوان اعلٰی تعلیم کے لیے امریکہ جا چکے ہیں اور اب بھی بڑی تعداد میں وہاں زیرِ تعلیم ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں تعاون کے لیے 'یونائٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان' (یوایس ای ایف پی) نامی دو قومی کمیشن 1950ء میں قائم کیا گیا تھا جس کا مشن تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے امریکی اور پاکستانی عوام کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینا ہے۔

     


    0 0

    مالی سال 2018-19 کا 1890؍ ارب روپے کے خسارے کا وفاقی بجٹ مفرضوں اور تضادات پر مبنی ایک ایسا غیر حقیقت پسندانہ بجٹ ہے جس میں انتخابی سال کے مناسبت سے مختلف طبقات کو زبردست مراعات دی گئی ہیں مگر پہلے سے مقرر کردہ معیشت کی شرح نمو اور برآمدات کے اہداف میں زبردست کمی کر دی گئی ہے۔ معیشت کو اس وقت جو زبردست چیلنجز اور خطرات درپیش ہیں، یہ بجٹ ان سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا 2018-19 میں معیشت کی شرح نمو ٹیکسوں کی وصولی، برآمدات اور بجٹ خسارے کے اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے جبکہ جاری حسابات کا خسارہ اور مہنگائی بڑھے گی۔

    گزشتہ کئی برسوں سے حکومت اور کچھ ماہرین کی جانب سے یہ دعویٰ تواتر سے کیا جا رہا ہے کہ سی پیک سے پاکستان کی قسمت بدل جائے گی۔ واضح رہے کہ چین نے سی پیک اپنے مفاد میں شروع کیا تھا جس سے پاکستان میں زبردست بہتری آنےکی یقینا گنجائش ہے۔ اس حقیقت کو بہرحال تسلیم کرنا ہو گا کہ کسی بھی ملک کی سرمایہ کاری سے دوسرے ملک کی قسمت نہیں بدلا کرتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’کسی قوم کی حالت نہیں بدلتی جب تک وہ اپنے اوصاف نہیں بدلتی (الرعد آیت 11 ) سی پیک منصوبوں کے ضمن میں ابھی تک شفافیت کا فقدان ہے اور ماضی میں مختلف طبقات کی طرف سے متعدد تحفظات و تجاویز پیش کی جاتی رہی ہیں جن کو وفاق، چاروں صوبوں اور ریاستی اداروں نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ 

    یہ بات 2014ء میں ہی واضح ہو چکی تھی کہ سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے بڑے پیمانے پر مشینری کی درآمدات کرنا ہوں گی چنانچہ یہ انتہائی ضروری تھا کہ برآمدات میں تیزی سے اضافہ کیا جائے۔ بدقسمتی سے وفاق، چاروں صوبوں اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر نے جو پالیسیاں اپنائیں ان کے نتیجے میں پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ لگاتار تین سال مالی سال 2016 ,2015 اور 2017ء میں پاکستانی برآمدات گرتی رہیں چنانچہ تجارتی خسارہ بڑھتا رہا۔ گزشتہ حکومت کے دور میں مالی سال 2009ء مالی سال 2013ء کے پانچ برسوں میں تجارتی خسارہ 88.7 ارب ڈالر اور جاری حسابات کا خسارہ 20.8 ارب ڈالر رہا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے 4 سال 9 ماہ میں تجارتی خسارہ 125.7 ؍ارب ڈالر اور جاری حسابات کا خسارہ 34.9 ارب ڈالر رہا۔ 

    مالی سال 2017 اور 2018ء میں معیشت کی شرح نمو 5.3 فیصد اور 5.8 فیصد رہنے کا دعویٰ فخریہ کیا جا رہا ہے مگر یہ بات فراموش کر دی گئی ہے کہ وژن 2025 میں کہا گیا تھا کہ 2018ء سے معیشت کی شرح نمو 8 فیصد سے زائد رہے گی۔ مالی سال 2019ء کے لئے شرح نمو کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا ہے جو کہ مایوس کن ہے۔ مالی سال 2018 ء میں برآمدات کا ہدف 35؍ ارب ڈالر تھا جبکہ برآمدات اس ہدف سے 10؍ ارب ڈالر کم رہ سکتی ہیں۔ یہ ناکامیاں سی پیک منصوبوں کو گیم چینجر بنانے کے عزم کیلئے بڑا جھٹکا ہیں۔ 

    یہ ناکامیاں اسلئے ہوئیں کہ چینی سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے معاشی پالیسیوں میں جن اصلاحات کی ضرورت تھی وہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں نے کی ہی نہیں کیوں کہ ان سے طاقتور طبقوں کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے جبکہ ریاست کے کچھ اہم ستون اپنی حدود سے تجاوز کرتے رہے اور ملک میں قومی یکجہتی کا فقدان رہا۔ یہی نہیں، دہشت گردی کی جنگ میں دل و دماغ جیتنے کے سبق کو بھلا دیا گیا جبکہ اسمگلنگ، ہنڈی کا کاروبار اور ملک سے سرمائے کا فرار ہوتا رہا اور دہشت گردوں کی فنانسنگ روکنے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہی نہیں گئے۔

    دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین اور بھارت کے درمیان متعدد تنازعات ہیں جبکہ چین اور پاکستان دوست ملک ہیں۔ کئی ہزار ارب ڈالر کے بیلٹ اور روڈ منصوبوں کے علاوہ چین نے برازیل، روس، بھارت اور جنوبی افریقہ سے مل کر ’’برکس‘‘ کے نام سے عالمی مالیاتی ادارہ قائم کیا ہے۔ چین نے ایشیا انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک بھی قائم کیا ہے۔ چین اب عالمی مالیاتی نظام اور عالمی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے اپنے آپ کو ایک ذمہ دار ریاست کےطور پر پیش کر رہا ہے۔ ہم فخریہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی معاملات میں پاکستان اور چین کا موقف یکساں ہے مگر چین کے قائم کردہ ادارے ’’برکس‘‘ نے پہلی مرتبہ 4 ستمبر 2017ء کو اپنے اعلامئے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جو کہ امریکہ اور بھارت کے موقف کی توثیق ہے۔ بھارت اور چین کی آپس کی تجارت کا حجم 80 ؍ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

    بھارت کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے چین بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تعاون کرنے سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔ سی پیک کا ایک اہم مقصد خطے کے ممالک کو آپس میں منسلک کرنا ہے۔ امریکہ آنے والے برسوں میں بھی افغانستان پر اپنا فوجی قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ چنانچہ امریکہ کی حکمت عملی یہ نظر آرہی ہے کہ اگلی دہائی میں بھی پاکستان اور افغانستان کو غیر مستحکم رکھا جائے تاکہ ’’نیو گریٹ گیم‘‘ کے استعماری مقاصد کے حصول کی طرف پیش قدمی جاری رہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کو ان تمام امور پر غور کرنا ہو گا۔

    پاکستان جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی وصولی، مجموعی سرمایہ کاری اور قومی بچتوں کی مد میں تقریباً 11 ہزار ارب روپے سالانہ کم وصول کر رہا ہے۔ اگر اس کمی کو پورا کر کے ریاست کے مالی وسائل کو دانشمندانہ اور دیانتدارانہ طریقوں سے استعمال کرنے کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور بیرونی ممالک سے آنے والی ترسیلات کو تجارتی خسارے کی مالکاری کے لئے استعمال کرنے کی پالیسی ترک نہیں کی جاتی تو 8 فیصد سالانہ سے زائد کی شرح نمو حاصل کرنا اور برآمدات میں سال بہ سال اضافہ کر کے 2025ء تک برآمدات کا 150؍ ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ یہ ناکامی اس بات کا مظہر ہو گی کہ پاکستان سی پیک کے ثمرات حاصل نہیں کر رہا۔ 

    ہم نے سی پیک کے ضمن میں اپنی گزارشات ’’چین کی تاریخی سرمایہ کاری۔ ثمر آوری کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے اپنے 20 نومبر 2014ء کے کالم میں پیش کی تھیں۔ اس سے اگلے برس ’’گیم چینجر تو ہوسکتے ہیں مگر…!‘‘ کے عنوان سے 15 جنوری 2015ء کو مزید گزارشات پیش کی تھیں۔ ہم نے ان ہی کالموں میں ’’سی پیک۔ تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے؟‘‘ (جنگ 18 مئی 2017ء) اور ’’سی پیک، پاناما اسکینڈل اور نیو گریٹ گیم‘‘ (جنگ 27 جولائی 2017ء) کے عنوانات سے سی پیک کو گیم چینجر بنانے کی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا تھا۔ اگر مندرجہ بالا کالموں میں دی گئی تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ سی پیک سے پاکستان کی قسمت بدلنے کا خواب پورا نہ ہوسکے گا بلکہ الٹا خدانخواستہ لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
     


older | 1 | .... | 127 | 128 | (Page 129) | 130 | 131 | .... | 149 | newer