Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 11 | 12 | (Page 13) | 14 | 15 | .... | 149 | newer

    0 0



    Ay Abdul Qadir Mulla!!! Yeh Sab Kis Kay Liye? 
    Enhanced by Zemanta

    0 0


    Who is Traitor?


    0 0
  • 12/14/13--06:15: Friends of Pakistan

  • Friends of Pakistan
    Enhanced by Zemanta

    0 0




    چین کی روبوٹک خلائی گاڑی ’یو تو‘ نے چاند کی سطح پر واقع ایک آتش فشائی میدان میں چلنا شروع کردیا ہے۔

    چین کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق ’یوتو‘ نامی اس خلائی گاڑی نے چین کی سطح پر اترنے میں 11 منٹ لگائے اور یہ ’بے آف رینبوز‘ نامی ایک آتش فشائی میدان میں اتری ہے۔ جدید ترین آلات سے لیس ’یوتو‘ میں زیر زمین اجزا کی معلومات جمع کرنے والا ریڈار بھی نصب ہے، یہ گاڑی تین ماہ تک چاند کی سطح کا جائزہ لے گی اور وہاں موجود قدرتی وسائل کا کھوج لگائے گی۔

    واضح رہے کہ ’’یوتو‘‘ کو مکمل طور پر چینی مہارین نے تیار کیا ہے، اس خلائی گاڑی کا وزن 120 کلوگرام ہے اور یہ 30 درجے کے زاویے کی چٹانیں چڑھ اور 200 میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ بھی سکتی ہے۔


    0 0


    Pain of Dhaka Fall by Ibtisam Elahi Zaheer
    Enhanced by Zemanta

    0 0



    احتجاج کا کبھی کبھی فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اپنے ساتھیوں کے مسلسل قتل کے بعد خیبرپختونخوا کے پولیو کارکنان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ انھوں نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا۔ اِس انکار نے پرویز خٹک کی حکومت میں بھی تحریک پیدا کر دی جس نے بالآخر نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کا وعدہ کیا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر نشانہ بننے کے باوجود پولیو کے کارکنان آواز بلند نہ کرتے تو ہر طرف خاموشی ہی چھائی رہتی۔ دوسری حکومتوں کی طرح خیبرپختونخوا کی حکومت بھی اپنی کمزوریوں کو نہ ماننے اور آنے والے انقلاب کا ڈھنڈورا پیٹنے میں ماہر ہے۔ حال کے اوپر توجہ دلانے کے لیے چیخ و پکار کرنی پڑتی ہے۔ اس تمام معاملے میں سے جو نیا حل نکالا گیا ہے وہ بھی حیرت انگیز طور پر تجرباتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پولیو کی مہم خود چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چونکہ ہم سب کو بڑھک بہت پسند ہے لہذا ہر طرف سے خوشی کے شادیانے بجنے کی آواز آنا شروع ہو گئی۔ اور تو اور آصفہ بھٹو کے دل میں بھی تحریک انصاف کی محبت جاگ پڑی۔ اُن سے منسوب کیے ہوئے بیان کے مطابق وہ عمران خان کی اس پولیو مہم میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیں گی۔

    یاد رہے کہ پچھلی مرتبہ اُن کا بھرپور حصہ اُن جاذب نظر تصاویر تک محدود تھا کہ جس میں محترمہ کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اور جو اُن کے والد محترم کی شدید خواہش کے نتیجے میں دیوقامت بینرز کی صورت میں پاکستان کے ہر کونے میں ہزاروں کی تعداد میں لگا دی گئی تھیں۔ تصویریں کھنچوانے کے بعد آصفہ بھٹو ہمار ے ملک کی قیادت کے بہترین طور طریقوں کے مطابق آرام سے برطانیہ تشریف لے گئیں جہاں سے انھوں نے یقنیاً پاکستان میں پولیو کے معاملے کو دوری کے باوجود انتہائی قریب سے دیکھا ہو گا۔ ظاہر ہے عمران خان اس قسم کی مدد کے بغیر بھی کام کر سکتے ہیں۔ اُن کے پاس پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کا ڈھانچہ موجود ہے۔ جس کو متحرک کر کے وہ پولیو سے بچائو کی مہم کو مزید تیز کر سکتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ مہم کو تیز یا سست کرنے کا نہیں ہے۔ چیلنج اِن علاقوں میں میں اُن عناصر سے نپٹنے کا ہے جو حکومتی اراکین بشمول پولیس اور رضا کارانہ طور پر کام کرنے والے افراد کو دن دیہاڑ ے گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ اور پھر اُن ہی محلوں میں گم ہو جاتے ہیں جہاں پولیو کی ٹیموں کی کاروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں بچے اپاہج ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

    پچھلے چند ماہ میں خیبرپختونخوا میں پولیو ٹیموں پر حملے ایک ریکارڈ ہے۔ پرویز خٹک حکومت کی بے اعتنائی اور اس معاملے سے چشم پوشی اسی ریکارڈ کا حصہ ہے۔ اس معاملے کو یا تو سات پردوں میں چھپایا جاتا رہا اور یا پھر یہ توجیہہ دی جاتی رہی کہ یہ حملے اُس دہشت گردی کا حصہ ہیں جو امریکا کے ڈرونز کی وجہ سے پاکستان میں پھیلی ہوئی ہے۔ عملی طور پر کہا یہ جا رہا ہے کہ شاید پولیو ٹیموں پر حملہ آور عناصر بھی کسی نہ کسی طرح ڈرونز کے خلاف اپنے احتجاج کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ایک مباحثے میں مردان سے پاکستان تحریک انصاف کے جواں سال قومی اسمبلی کے ممبر محمد علی بار بار اِن حملوں کو نظریاتی سوچ کا نام دیتے رہے۔ ٹوکنے اور یہ باور کروانے کے باوجود کہ یہ ایک گھناونا جرم ہے نظریہ نہیں وہ ان کارروائیوں کو ’’خا ص سوچ‘‘ ہی قرار دیتے رہے۔ بدقسمتی سے حکومت کی ذمے داریاں پوری کرنے کی جستجو اور ڈرونز کی بحث نے ایسا غلبہ پا لیا ہے کہ اُس کو ہر جگہ ہر ناکامی کی وضاحت کے طور پر بے دریغ استعمال کر دیا جاتا ہے۔ اِس کوتاہی کی نشاندہی کرنے والے کو ڈرون کا حمایتی اور امریکا کا حواری قرار دے کر منہ پھیر لیا جاتا ہے ( کیا ہی اچھا ہو کہ کسی روز کوئی تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین کی امریکا اور اُس کے اردگرد پھیلے ہوئے اثاثوں کی تفصیل جاری کر دے سب کو معلوم ہو جائے گا کہ مغرب زدہ کون ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے محترم اعظم سواتی، جو آج کل صوبے میں جماعت کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، اگر اس نیک کام میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیں تو حقائق کی مزید واضح انداز سے سمجھ آ جائے گی)۔

    جب تک یہ سوچ برقرار رہے گی اور اِن عناصر کو عام مجرموں کی طرح پکڑ کر قرار واقعی سزا نہیں دی جائے گی جو اِن حملوں کو منظم انداز سے جاری رکھے ہوئے ہیں تب تک اس مہم کو کامیاب کروانا ممکن نہیں ہو گا۔ عمران خان کے میدان میں اُترنے سے فرق یہ پڑے گا کہ پولیس مزید چست ہو جائے گی اور پولیو کارکنان کا تحفظ صوبے کی حکومت کے لیے ترجیحات میں اُوپر آ جائے گا۔ مگر عمران خان سے ایک سوال ہے اور صوبہ بہت بڑا ہے۔ کہاں کہاں جائیں گے کتنے قطرے پلائیں گے۔ اور اگر یہی کرتے رہے تو دھرنا کون دے گا۔ پارٹی کے دوسرے معاملات کون دیکھے گا۔ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کون کرے گا۔ ویسے بھی یہ قطرے ایک بار نہیں بار بار پلوانے ہوتے ہیں۔ اور پاکستان جیسے ملک میں جہاں خوراک کی کمی کے شکار بچوں کی قوت مدافعت انتہائی کمزور ہے وہاں پر اس ویکسین کو موثر کرنے کے لیے اوسط سے زیادہ استعمال کرنا ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ عمران خان کی طرف سے پولیو کمپین چلانے کی خبر کو پڑھ کے صوبے کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے اسلحہ بردار نشانہ باز اپنا ہاتھ روک لیں گے تو یہ امن عارضی ہو گا۔ خیبر پختونخوا کے ایک پولیس افسر نے مجھے پولیو ٹیموں پر حملے کے اصل محرکات سے متعلق بتایا کہ دراصل صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور، نوشہرہ اور ان سے جڑے ہوئے دوسرے اضلاع میں پولیو ٹیمیں اس وجہ سے خطرہ سمجھی جاتی ہیں وہ ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مگر ہر گھر کے دروازے کے پیچھے بچوں والے خاندان نہیں بستے۔

    دہشت گردوں نے محلے اپنے قبضے میں کیے ہوئے ہیں۔ وہ ان محلوں سے پولیس کو ہر صورت دور رکھنا چاہتے ہیں۔ لہذا جب بھی کوئی ٹیم اِن علاقوں کا رخ کرتی ہے اُس کو مار دیا جاتا ہے۔ اس جرم کا تعلق نہ کسی نظریہ سے ہے اور نہ ذاتی دشمنی سے۔ معاملہ دہشت گردی کے اڈوں کو محفوظ رکھنے کا ہے۔ میں نے اس پولیس افسر کو مشورہ دیا کہ یہ بات اپنے اعلی افسران اور سیاسی مشران تک پہنچائے میں تو محض لکھنے والا ہوں جس کو پڑھنے والے طرح طرح کی عینکیں لگائے بیٹھے ہیں۔ لکھتا کیا ہوں پڑھا کیا جاتاہے۔ کہتا کیا ہوں سنا کیا جاتا ہے۔ لہذا بہتر ہو گا کہ یہ معلومات اُن حکام تک پہنچائیں جو پشاور زیریں اور بنی گالہ بالا میں بستے ہیں۔ اُنہوں نے مسکراتے ہوئے کہا سب کو سب کچھ معلوم ہے مگر فی الحال کام پولیو مہم کو تیز کرنے کا ہے۔ ہمار ے صوبے میں سرکاری اطلاعات کے مطابق کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ چند ایک ناراض بھائی اور بہنیں ہیں جو بات چیت کے بعد غصہ تھوک دیں گے۔ اور ایک دن عمران خان کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہونگے۔ میں یہ سن کر خاموش ہو گیا۔ دل میں اُمید کی شمع روشن ہو گئی ہے۔ اب اُس دن کا انتظار ہے جب یہ کر شمہ سامنے آئے گا اور ہم قیادت کے اِس کمال پر مل کر خوشیاں منائیں گے۔ اور ہاں ان خوشیوں میں آصفہ بھٹو کی طرف سے ڈالا ہوا حصہ بھی یاد رکھیئے گا۔

    بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

    Enhanced by Zemanta

    0 0


     


     خلاقی انحطاط ہی ہماری تباہی اور رسوائی کی اصل علت ہے ۔ ہم بحیثیت قوم بدترین اخلاقی انحطاط سے دوچار ہیں لیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے ہم خارج کی طرف انگلی اٹھاتے رہتے ہیں ۔ کردار امریکہ کا بھی ہوگا ‘ ہندوستان کا بھی ‘ افغانستان کا بھی ‘ سعودی عرب کا بھی اور ایران وغیرہ کا بھی لیکن اصل خرابی ہمارے اندر ہے اور اپنے راستے میں گڑھےہم خود کھود رہے ہیں۔

    ہم بحیثیت قوم ‘اعلیٰ انسانی اور قومی اوصاف سے محروم ہوچکے ہیں۔ اس قوم کی اصل ذہنیت جاننی ہو تو کسی وقت کسی پبلک ٹائلٹ کے اندر دیواروں پر لکھی تحریروں کو پڑھ لیجئے۔ لیڈر نہیں تو کیا صحافی ٹھیک ہے؟ ‘ کیا استاد کا قبلہ درست ہے؟ ‘ کیا دانشور ‘ دانش فروش نہیں؟‘ کیا سرکاری ملازم کام چور اور رشوت خورنہیں؟کیا جج انصاف فروش اور وکیل قانون شکن نہیں ؟۔ کیا ہم بحیثیت قوم سب سے بڑی جھوٹی قوم کا ’’اعزاز‘‘نہیں رکھتے؟ ۔ کیا منافقت کی بیماری اس قوم کی رگوں میں رچ بس نہیں گئی ہے ؟۔ مجھ سمیت کون ہے جو سچ بول سکتا ‘ سچ لکھ سکتا اور سچ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو؟۔مستثنیات ہر جگہ موجود رہتی ہیں ۔ یقیناً پاکستان میں بھی ایک بڑی تعدادمیں صاحبان عزیمت موجود ہے ۔میں اگر گناہوں میں لت پت ہوں تو میرے گھر کے اندر بھی میری ماں کی صورت میں ایک عظیم انسان موجود ہے۔ اچھے لوگ ہر طبقے میں کہیں کہیں نظر آتے ہیں اور شاید انہی لوگوں کی برکت سے ابھی تک یہ ملک قائم اور ہم بنی اسرائیل کی طرح کسی بڑے عذاب سے بچے ہوئے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی ہم اخلاقی انحطاط کی آخری حدوں کو چھونے لگے ہیں۔ وجہ شاید یہی ہے کہ مصلحین سیاست میں لگ گئے ہیں ۔ فلاحی کاموں کی استعداد رکھنے والے لیڈر بننے کی کوشش کررہے ہیں۔

    استاد ‘ معلم نہیں رہا نوکر بن گیا جبکہ صحافی جج اور مفتی بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے ۔ فوجی سیاست کرتے رہے اور خفیہ ایجنسیوں والے دشمنوں کی بجائے اپنوں کے بیڈروموں کی نگرانی کرنے لگے ۔ علاج تو ایک ہی ہے کہ جس کا جو کام ہے ‘ وہ اسی کو کرنے میں لگ جائے ۔ دوسرے اداروں کی اصلاح کی بجائے ہر ادارہ اپنے آپ سے اصلاح کی کوشش کرے۔ پڑوسی اور ساتھی پر انگلی اٹھانے کی بجائے ہم میں سے ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانک لے ۔ ہم ایسا کرنے کو تیار نہیں تبھی توہم ایک دوسرے کی قدر کرنا بھول گئے ۔ محبت کی بجائے نفرت ہماری پہچان بنتی جارہی ہے ۔ اذیت دینا ہماری عادت اور سہنا ہماری مجبوری بنتی جارہی ہے ۔ لطیف احساسات رخصت رہے اور سازشی نفسیات غلبہ پارہی ہے ۔ سب سے بڑا المیہ یہ رونما ہوا کہ ہم گناہ اور جرم کے فرق کو بھول گئے۔ گناہ

    جو اللہ اور انسان کے بیچ کا معاملہ ہوتا ہے ‘ کا ہم ذکر بھی کرتے ہیں اوراس پر لوگوں کو مطعون بھی کرتے ہیں لیکن جرم ہمارے لئے قابل توجہ نہیں رہا ۔ جرم وہ ہے جس سے دوسرے انسان متاثر اور حقوق العباد مجروح ہوتے ہیں ۔ ہم چڑھتے سورج کے پجاری بنتے جارہے ہیں ۔ جانے والے کو گالی دینا او رآنے والے کے سامنے سجدہ ریز ہونا ‘ ہمارا قومی وصف بنتا جارہا ہے ۔ تازہ ترین مثال جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چوہدری کی ملاحظہ کرلیجئے ۔ وہ لوگ جنہوں نے نعوذ بااللہ انہیں مسیحا بنائے رکھا‘ جو دن رات ان کے گن گاتے رہے ‘ جو ان سے کسی غلطی کے صدور کے امکان کو ماننے پر آمادہ نہ تھے ‘ وہ لوگ بھی آج شیر بن کر ان کو گالیاں دینے پر اتر آئے ۔ اخلاقی پیمانوں پر دیکھا جائے توبابر ستار ‘ ڈاکٹر بابراعوان‘ جسٹس طارق محمود ‘ عاصمہ جہانگیر‘ فواد چوہدری ‘ بیرسٹر محمد علی سیف اور ان جیسے چند لوگوں کو ہی زیب دیتا ہے کہ افتخار چوہدری پر تنقید کریں ۔ درست یا غلط لیکن یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس وقت ان پر تنقید کی جرأت کی جب افتخار چوہدری صاحب کی طاقت کا طوطی بول رہا تھا لیکن وہ لوگ کس اخلاقی جواز کے تحت ان کے خلاف گلے پھاڑ رہے ہیں جو کل تک ان کے مدح خواں تھے۔ ہم اس اخلاقی دورنگی کے صرف افتخار چوہدری کے معاملے میں نہیں بلکہ کم و بیش ہر حوالے سے شکار ہیں ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنما ملا عبدالقادر کی پھانسی پر ہماری خاموشی اور بے حسی ملاحظہ کر لیجئے۔

    ایک وقت تھا جب بنگلہ دیش میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا فیشن تھا تو اس وقت اس قوم کے سیاستدانوں اور دانشوروں کی اکثریت جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر اور الشمس کے حق میں رطب اللسان تھی لیکن آج جب مذہبی عسکریت پسندوں کے بارے میں سوچ بدل گئی ہے تو یہاں جماعت اسلامی کے سوا پوری قوم جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ساتھ روا رکھے گئے ظلم پر خاموش ہے ۔ یہاں کی حکومت کو تھائی لینڈ میں سیاسی تبدیلیوں پر تو تشویش ہے اور فاطمی صاحب کی دفتر خارجہ نے اس پر بیان جاری کرنا ضروری سمجھا لیکن بنگلہ دیش میں پاکستان کی خاطر جان قربان کرنے والے عبدالقادر ملا کی پھانسی پر مذمتی نہ سہی تعزیتی بیان بھی جاری نہ کرسکی۔ ایک زمانہ میں سوچ اور تھی لیکن اس وقت میں جماعت اسلامی کی پالیسیوں کا شدید ناقد ہوں۔

    مجھے اعتراف ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت نے بنگلہ دیش کے المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اس کے بعد بھی پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے مہرے کا کردار ادا کرتی رہی ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش یا پھر البدر و الشمس کے اس وقت کے فیصلے اور کردار سے متعلق بھی اکثر اعتراضات کو میں درست سمجھتا ہوں لیکن وہ ایک اجتہادی غلطی تھی ۔ عبدالقادر ملا جیسے لوگ بنگلہ دیش کے غدار لیکن پاکستان کے تومحسن ہیں ۔ وہ پاکستان کا ساتھ دینے کی وجہ سے وہاں غدار قرار ٹھہرے ۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا کردار قابل اعتراض ہوسکتا ہے لیکن مشرقی پاکستان کو الگ کرنے کا آغاز اس نے نہیں کیا تھا۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ کچھ اور لوگوں نے کیا تھا ۔ بنگالیوں کے حقوق جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ مغربی پاکستان کی اشرافیہ نے ہڑپ کررکھے تھے ۔ اکثریت حاصل کرنے کے باوجود عوامی لیگ کو اقتدار دینے کی راہ میں جماعت اسلامی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی رکاوٹ ڈال رہی تھی جبکہ فوج کشی کا فیصلہ جماعت اسلامی نے نہیں بلکہ جنرل یحیٰ خان نے کیا تھا۔ اس سے بھی بڑی اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہتھیار البدر اور الشمس نے نہیں جنرل نیازی نے ڈالے تھے ۔ نتیجہ تو 65 اور کارگل کی جنگوں کا بھی پاکستان کے حق میں اچھا نہیں نکلا تو کیا ان جنگوں میں فوج کا ساتھ دینے والے بھی ہمارے ہیرو نہیں۔

    آخر ہم اپنی قوم کو کیا پیغام دے رہے ہیں ؟۔ درست یا غلط لیکن اگر ماضی میں ریاست پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دینے والوں کو ہم بھی غدار سمجھیں گے تو ہم مستقبل کے لئے بلوچ ‘ سندھی اور پختون عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں ۔ مدعا ہر گز یہ نہیں کہ پاکستانی قوم سڑکوں پر نکل آئے اور بنگلہ دیشی حکمرانوں کی بجائے اپنا نقصان کرلے ۔ عرض صرف یہ کرنا ہے کہ حکومت اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف مظالم کو اٹھائے ۔ یہ جماعت اسلامی کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا جرم اس کے سوا کچھ نہیں کہ کسی وقت انہوں نے پاکستان اور افواج پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔ بنگلہ دیشیوں کے لئے یہ جرم ہے لیکن کیا پاکستان میں بھی یہ کام جرم بن گیا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر حکومت پاکستان کی اس خاموشی کا کیا جواز ؟۔

    ایک وضاحت: میرے گزشتہ کالم کے جواب میں تحریک انصاف کے نئے نامزد کردہ (منتخب وہ نہیں) صوبائی صدر اعظم خان سواتی صاحب کا جوابی کالم 12 دسمبر کے جنگ میں شائع ہوا ہے ۔ میں اپنے کالم کے مندرجہ جات کی صحت پر قائم ہوں ۔ انہوں نے اپنے جوابی کالم میں میرے ساتھ بالمشافہ مکالمے کی پیشکش کی تھی ۔ کالم پڑھتے ہی میرے ٹی وی پروگرام کے پروڈیوسروں چوہدری خالد عمر اور عادل اعوان نے ان سے نہ صرف رابطہ کیا بلکہ التجائیں بھی کیں کہ وہ اگلے پروگرام میں آکر ون ٹوون انٹرویو کے دوران اپنا موقف پیش کردیں ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ اس وقت ڈی آئی خان میں ہیں اور اگلے دو ہفتوں تک فارغ نہیں ہیں ۔ ان کا ایس ایم ایس میرے پاس اور میری ٹیم کے پاس موجود ہے ۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اسی شام وہ خیبرپختونخوا ہائوس اسلام آباد میں عمران خان صاحب کی قیادت میں تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کی میٹنگ میں نظر آئے ۔ جہاں ان کی نامزدگی کے خلاف تحریک انصاف کے نظریاتی اراکین نے خوب احتجاج کیا۔

    اس مجلس میں ایک رکن اسمبلی نے عمران خان کی موجودگی میں گواہی دی کہ پارٹی کے صدارتی انتخابات کے موقع پر اعظم سواتی نے انہیں رقم کی پیشکش کرکے خریدنے کی کوشش کی ۔ میرے دونوں پروڈیوسر اعظم سواتی صاحب کو شو میں شرکت کے لئے منانے کی خاطر اسی وقت خود پختونخوا ہائوس چلے گئے لیکن اعظم سواتی صاحب نے ان سے ملاقات کی اور نہ شو میں آنے پر آمادہ ہوئے ۔ بہرحال ان کی پیشکش کے جواب میں ہماری آمادگی برقرارہے ۔ وہ جس وقت چاہیں میرے پروگرام میں اپنا موقف بیان کرسکتے ہیں ۔ اعظم سواتی صاحب نے اپنے جوابی کالم میں بتایا ہے کہ وہ عرصہ دراز سے میرے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں لیکن میں گریز کررہا ہوں ۔ ان کی یہ بات اپنی جگہ درست ہے لیکن اللہ گواہ ہے کہ میرا ان کے ساتھ کوئی ذاتی تنازع نہیں ۔ وہ ملنے جلنے میں ایک ملنسار انسان ہیں ۔ میری بے انتہاقدر کرتے ہیں اور بحیثیت انسان میں بھی ان کی بے حد قدر کرتا ہوں ۔ مجھے بس ان کی پیسے کے زور پر سیاست کرنے کی روش سے اختلاف ہے ۔ جب وہ ایم ایم اے میں تھے تب بھی ان پر اسی بنیاد پر تنقید کرتا رہا اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ کبھی خلوت میں نہیں بیٹھا اور اب جبکہ وہ تحریک انصاف میں بھی اسی ہتھیار کو استعمال کررہے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا ۔ تحریک انصاف سے اختلاف اپنی جگہ لیکن میرے نزدیک اس ملک کے مخلص اور انقلابی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس جماعت کو اپنی امیدوں کا مرکز بنالیا ہے ۔ وہ میرے صوبے کی حکمران ہے اور اس کی ناکامی اب میری بھی ناکامی ہے ۔ میں اعظم سواتی ‘ جہانگیر ترین اور شیریں مزاری جیسے لوگوں کے ہاتھوں تحریک انصاف کے اس نظریاتی اور مخلص لاٹ کے جذبات کا خون ہوتا دیکھ رہا ہوں ‘ اس لئے تنقید میں سختی اور شدت آجاتی ہے۔

    بشکریہ روزنامہ "جنگ"

    Enhanced by Zemanta

    0 0


     


    Enhanced by Zemanta

    0 0



    کسی بھی معاشرے میں سائنسی رسائل اور جرائد نہ صرف تحقیق و ترقی کے ہراول دستے کا کام کرتے ہیں، بلکہ ان میں شائع ہونے والی تحقیق سے معاشی ترقی کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔
    لیکن پاکستان میں گذشتہ پانچ برسوں میں تحقیق کے معیار میں اس حد تک کمی واقع ہوئی ہے کہ ملک بیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔
    اسی بارے میں یہ بات ممتاز محقق پروفیسر سلطان ایوب میو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتائی۔
    پروفیسر سلطان یورپیئن ریویو فار میڈیکل اینڈ فارماکولاجیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے ایک مقالے کے شریک مصنف ہیں۔ اس مقالے میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں شائع ہونے والے مقالہ جات کا معیار 2008 کے بعد سے تنزل کا شکار ہے۔
    مقالے کے مصنفین کے مطابق کسی بھی ملک میں ہونے والی تحقیق کی صحت کا اندازہ اس ملک میں شائع ہونے والی تحقیقی جرائد سے لگایا جا سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ تحقیق کاروں مطابق سائنسی تحقیق کا کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے۔
    امریکہ اگر ترقی کے میدان میں سب سے آگے ہے تو تحقیق کے میدان میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں۔ سائنسی رسائل کی درجہ بندی کرنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق امریکہ میں گذشتہ 16 برسوں میں 70 لاکھ تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے،
    جن اس کے بعد آنے والے چار ممالک چین، برطانیہ، جرمنی اور جاپان کے مجموعے سے بھی زیادہ ہیں

    پچھلے 16 برسوں میں مقالہ جات کی تعداد کے لحاظ سے قائداعظم یونیورسٹی پاکستان میں پہلے نمبر پر ہے
    بین الاقوامی سائنس اور علمی جرائد پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ایس جے آر کے مطابق پاکستان میں 1996 سے 2012 کے دوران 16 برس کے عرصے میں کل 58 ہزار تحقیقی مقالہ جات شائع ہوئے۔ اس کے مقابلے پر بھارت میں اسی دوران ساڑھے سات لاکھ تحقیقات منظرِ عام پر آئیں۔
    اسی دورانیے میں چین میں 26 لاکھ مقالہ جات شائع ہوئے۔
    چین نے حالیہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں قابلِ رشک حد تک ترقی کی ہے۔ چین میں سائنسی تحقیق کی اشاعت پر توجہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی اکیڈمی آف سائنسز ملک کے تحقیق کاروں کو نمایاں بین الاقوامی سائنسی جرائد میں کسی مضمون کی اشاعت پر 30 ہزار ڈالر انعام دیتی ہے۔
    تاہم مقدار ہی سب کچھ نہیں ہوتی، بلکہ تحقیق کا معیار بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ ٹامسن آئی ایس آئی رسائل کے معیار کی درجہ بندی بھی کرتی ہے، جسے ایچ انڈیکس کہا جاتا ہے۔
    اس درجہ بندی کے مطابق پاکستانی رسالوں میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق کی رینکنگ 111 ہے، جب کہ ملک کا سب سے عمدہ سائنسی جریدہ جرنل آف پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ہے، جس کی رینکنگ 23 ہے۔ اس کے بعد جرنل آف کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کا نمبر آتا ہے۔
    اس گراف میں دکھایا گیا ہے کہ 2008 کے بعد سے ان مقالہ جات کی تعداد میں 
    تیزی سے کمی آئی ہے جن کا کسی اور مقالے نے حوالہ دیا ہو۔
    ظفر سید

    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 12/18/13--11:23: Rauf Klasra
  •  
    Rauf Klasra   is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He is working as Editor Investigation in Dunya News Television and Dunya newspaper. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-eJ-Jahaan and Dunya newspaper. He is also running a web paper called Topstoryonline.com.[1] Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

    Rauf Klasra is famous for investigating political scams and scandals. Some famous stories on his credit are Sonia Naz Case, NICL Scam, RPP Scam. His most recent investigative story is the disbursments of funds by Raja Pervez Ashraf and settlement of 6 billion scam by former MNA Anjum Aqeel Khan of PML-N. Both the stories were done on the show 'Kyun' hosted by Arshad Sharif. Chief JusticeIftikhar Muhammad Chaudhry took suo-moto on both the shows and initiated proceedings.[2]

    Education 

    He is graduated from Multan University, Multan and Gold Smith University, London.[3]

    Career 

    Klasra is a leading columnist of Urdu language and has authored two books. He started his career as a reporter for Daily Dawn and was later moved to Islamabad office of Dawn. He left Dawn to move to The News and started writing columns for Jang and Akhbar-e-Jahan as well. Later he moved to The Express Tribune as Editor Investigations.

    Klasra is working in Dunya Television as Editor Investigations where he is heading the Investigations department. He frequently appears on all local television channels as a political analyst and is famous for talking a bold, unique and unpopular stance on complex issues.[4]
    Books 
    Ek Syasat Kaee Kahanian
    Enhanced by Zemanta

    0 0



    IMF and Pakistan Economy by Dr. Shahid Hassan
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    بسم اللہ الرحمان الرحیم 

    میری بہت ہی پیاری رفیق حیات! السلام علیکم و رحمتہ اللہ! 

    جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عدالت کا مکمل فیصلہ لکھا جا چکا ہے یہ کل رات یا اس کے بعد کسی وقت بھی جیل کے گیٹ تک پہنچ جائے گا اس کے بعد جیل مینول کے مطابق یقیناً مجھے کال کوٹھری میں پہنچا دیا جائے گا۔ قرین امکان ہے کہ یہ حکومت کا آخری عمل ہے اس لیے وہ اس غیر منصفانہ عمل کو بہت تیزی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائے گی۔ میرا خیال ہے کہ وہ رویو پیٹیشن کو قبول نہیں کریں گے، اگر وہ قبول بھی کر لیں تو اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ وہ اپنی دی گئی سزا کو بدل دیں البتہ یہ دوسرا معاملہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سازش میں اپنی چال چلے لیکن اس کا ابدی و دائمی قانون بتاتا ہے کہ ہر معاملہ میں دخل اندازی پسند نہیں کرتا۔

     ان جیسے لادینوں نے کئی پیغمبروں کو بغیر کسی جرم کے قتل کیا، نبی اکرم ﷺ کے کئی ساتھیوں جن میں خواتین ساتھی بھی شامل تھیں انہیں نہایت بے دردی کے ساتھ مارا گیا ان شہادتوں کے بدل میں اللہ تعالیٰ نے سچائی کے راستے میں آسانی پیدا کی اور اسلام کو فتح سے ہمکنار کیا۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے معاملے میں بھی ایسا ہی کرے گا۔انشاءاللہ کل بھارتی وزیر خارجہ نے نہ صرف عوامی لیگ کو داد دی بلکہ حسین محمد ارشاد پر دباؤ بھی بڑھایا ۔ اس نے جماعت ، شبر کے برسر اقتدار آنے سے بھی انہیں ڈرایا اس سے واضع ہوتا ہے کہ جماعت ، شبر سے اختلاف اور نفرت بھارت کے رگ و پے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ بات میں روز اول سے کہہ رہا ہوں۔

     ہمارے خلاف جو بھی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بھارت کی میز پر تیار کیے جاتے ہیں۔ عوامی لیگ اگر واپس ہٹنا بھی چاہے تو اب ان اقدامات سے پیچھے بھی نہیں مڑ سکتی کیونکہ اس بار وہ صرف بھارت کی آشیر باد سے ہی اقتدار میں آئی ہیں۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو اصولوں اور اخلاق کی بات کر رہے ہیں۔ جس طریقے سے مجھ سمیت جماعت کو ایک مخصوص بنائے گئے سانچے میں ڈالا گیا ہے اور جس طریقے سے ملکی میڈیا حکومت کے ان غیر منصفانہ اقدامات کی حمایت و مدد کر رہا ہے ان حالات میں حکومت کی طرف سے اصول اور اخلاق کی بات کس منہ سے کی جا رہی ہےجبکہ عدالتی نظام اور ٹرائل خود جلاد بن چکا ہےاور معصوم لوگوں کی جان لینے کے شوق میں مخمور ہو چکا ہے۔ کسی بھی آزاد فطری ٹرائل اور انصاف کی توقع ایسے لوگوں سے نہیں رکھی جا سکتی۔مجھے بس ایک پچھتاوا ہے کہ میں اس قوم کو واضح انداز میں بتانے سے قاصر ہوں کہ کیسے بالکل غیر منصفانہ طریقے سے ہم اور بالخصوص میں نشانہ بنایا جا رہا ہوں۔ یہ کسی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ سارا میڈیا ہمارا مخالف ہے لیکن قوم اور دنیا بھر کے لوگ جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے ۔ میری موت اس جبر کی اس حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گی اور تحریک اسلامی کی ترقی کا موجب بنے گی کیونکہ یہی انصاف کی بات ہے ان شاء اللہ کل میں نے سورہ التوبہ کی آیت 17 سے 24 دوبارہ پڑھیں۔ آیت 19 میں واضح انداز میں لکھا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرنا، خانہ کعبہ کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانے سے زیادہ افضل ہے۔ 

    اس کا مطلب ہے کہ اللہ کے نزدیک اس کی راہ میں اس لیے لڑنا کہ اسلام کا نظام قائم ہو اور بے انصافی کے خلاف لڑنا، طبعی موت مرنےسےحد درجہ افضل و اعلیٰ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی ذات مجھے جنت میں یہ افضل درجہ دینا چاہتی ہے تو میں بخوشی اس موت کو گلے لگانے کے لیے تیار بیٹھا ہوں۔ کیونکہ جلادوں کے ہاتھوں غیر منصفانہ موت تو جنت کا پروانہ ہے۔ 1966ء میں مصر کے ظالم حکمران ، کرنل ناصر نے سید قطبؒ، سید عبد القادرعدوہؒ اور دوسروں کو پھانسی گھاٹ پر چڑھا کر شہید کر دیا ۔ میں نے بہت سے لیکچرز میں یہ بات سنی جیسا کہ “تحریک اسلامی کے راستے میں ٹرائلزاورایذا رسانیاں”۔ ان لیکچرز سے بڑھ کر یہ بات کہ پروفیسر غلام اعظم میرے کاندھے پر اپنا بائیں ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ پھانسی کی رسی ان کاندھوں پر بھی پڑ سکتی ہے۔ میں آج بھی اپنا ہاتھ اپنےہی کاندھے پر پھیر کر وہی بات سوچتا ہوں اور خوشی محسوس کرتا ہوں ۔ اگر اللہ کی ذات آج تحریک اسلامی کی ترقی کا فیصلہ کر چکی ہے جو میری کامیابی ہے، اس جبر کی حکومت کے خاتمے کا فیصلہ کر چکی ہے تو جان لو یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ شہادت کے اعلیٰ مرتبے کی بات کرتے تھے تو اپنی خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ کاش انہیں بار بار یہ زندگی ملے اور بار بار اللہ کی راہ میں شہید ہوتے رہیں۔ وہ لوگ جو شہید ہو چکے ہیں وہ جنت کے اعلیٰ درجوں میں بیٹھ کر اللہ کےحضور اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ یا خالق و مالک ہمیں ایک بار پھر اس دنیا میں بھیج تاکہ ہم ایک بار پھر تیری راہ میں شہید ہوں۔ اس سچی ذات کے الفاظ سچے ہیں اور اس کی طرف بھیجے گئے صادق ﷺ کے الفاظ بھی سچے ہیں اگر ان پر کوئی شک ہے تو ہمیں اپنے ایمان اور عقیدےپر شک کرنا چاہیے۔ 

    اگر حکومت اپنے اس غیر منصفانہ قدم پر آگے بڑھ کر مجھے پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیتی ہے تو ہو سکتا ہے میری نماز جنازہ ڈھاکہ میں کروانے کی اجازت نہ دی جائے۔ ممکن ہے کہ وہ میری آخری رسومات میرے گاؤں کی مسجد اور گھر میں کرنے کا انتظام کرے اگر پادمہ دریا کے پار رہنے والے مسلمان میری نماز جنازہ پڑھنا چاہتے ہیں تو انہیں اطلاع کر دو کہ وہ پہلے سے میرے گھر کے قریب آ جائیں۔ میں اس سے پہلے بھی آپ کو اپنی قبر کے بارے بتا چکا ہوں کہ اسے میری ماں کے قدموں میں بنایا جائےاور میری قبر پر کوئی فضول خرچی نہ کی جائے جیسے قبروں کے گرد فصیل بنا کر مقبرے بنائے جاتے ہیں اس کے بجائے یتیم لوگوں پر جتنا خرچ کر سکو کرو، ان خاندانوں کا خیال رکھو جنھوں نے اپنے آپ کو تحریک اسلامی کے لیے وقف کر دیا ہے، خاص طور پر جو خاندان اس ظالم حکومت کے خلاف اپنے بیٹے اس تحریک کو دے چکے ہیں، جن کے باپ گرفتار ہو چکے ہیں، جن کے بوڑھے سزاؤں کے حقدار ٹھہرے ہیں۔ جب بھی برُا وقت آئے تو سب سے پہلے ان خاندانوں کی خیر خیریت دیافت کرو۔ حسن مودود کی تعلیم کے فوراً بعد شادی کروا دینا اور اسی طرح نازنین کو بھی اس کے اصلی گھر بھیج دینا اے پیاری ، او پیاری! میں آپ کے اور اپنے بچوں کے بہت سے حقوق پورے نہیں کر سکا، مجھے معاف کر دینا صرف یہ سوچ کر معاف کر دینا کہ اللہ کے ہاں آپ کو اس کا اجر ضرور ملے گا ۔ 

    میں اللہ کے ہاں دعا کرتا ہوں کہ جب آپ اپنے بچوں اور اس کے دین کی ذمہ داریاں پوری کر لیں تو ہمارے دوبارہ ملنے کی راہ پیدا فرما دے۔ اب دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا کی ذرہ بھر بھی محبت میرے دل میں ہو تو مجھے اس سے دور کر دے اور میرے دل کو اپنے اور اپنے رسولﷺ کی محبت سے لبا لب بھر دے۔آمین ان شاء اللہ ہم جنت کی پگڈیوں پر دوبارہ ملیں گے۔ بچوں کو ہمیشہ حلال کمائی کی نصحیت کرتی رہنا، تمام فرض اور واجب کا خیال رکھنا خصوصاً نمازوں کا۔ اور تمام رشتہ داروں کو بھی یہی ترغیب دیتی رہنا۔ میرے باپ کو ہر ممکن آرام اور ہمدردی دیتی رہنا جب تک وہ زندہ رہے۔

    آپ کا اپنا عبد القادر مولا  

    Last Letter of Mullah Abdul Qadir From Jail to His Wife Before ...

    Enhanced by Zemanta

    0 0

    India and Bangladesh Conspiracy against Pakistan
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    Darling of The West - Malala Yousuf Zai

    0 0


    ۔ نئےچیف جسٹس بھی کام سے کام رکھنے والے ٹپائی دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی جانب سے بھی کسی قسم کا فوری خطرہ نہیں۔ سب سے بڑے سیاسی صوبے ( پنجاب ) پر بھی پہلے کی طرح مکمل گرفت نظر آتی ہے۔ سب سے بڑے جغرافیائی صوبے ( بلوچستان ) میں قائم مخلوط منمناتی حکومت بھی مسلسل شریف النفسی کا صبر آزما مظاہرہ کررہی ہے۔

    سندھ کی حکومت بھی فی الحال کوئی بڑا چیلنج بننے کی پوزیشن میں نہیں اور تب سے اب تک کونے میں بیٹھی دہی کھا رہی ہے۔ عمران خان کو دل پشوری کے لئے خیبر پختون خواہ کا کھلونا ہاتھ آگیا ہے جسے وہ ایک متجسس بچے کی طرح مسلسل الٹ پلٹ کے توڑ مروڑ کے چیک کررہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کو بنگلہ دیش نے مصروف کررکھا ہے۔

    مولانا فضل الرحمان پچھلے چھ ماہ سے کام کی تلاش میں ہیں۔ بھارت کی توجہ اگلے سال بھر انتخابات اور انتخابی نتائج کے ممکنہ نتائج پر مرکوز رہے گی۔ امریکہ بھی اگلا پورا برس پاکستان کو افغانستان کی انخلائی عینک سے دیکھنے پر مجبور رہے گا۔

    اس قدر سازگار داخلی و خارجی حالات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت اپنی توجہ حکمرانی پر مرکوز کرے اور عمران خان کو پولیو مہم کا قومی رابطہ کار بنادے۔ مولانا سمیع الحق سمیت جو اصحاب بھی طالبان سے مذاکرات شروع نہ کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں انہیں طالبان کو مذا کرات کی میز پر لانے کا کام سونپ دے۔

    "وزیرِ اعظم کو موقع ملے تو اپنے برادرِ خورد سے بھی گاہے ماہے یہ شکوہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اسلام آباد سے زیادہ لاہور پر توجہ دیں اور لاہور سے زیادہ بیرونِ لاہور کے مسائل کو خاطر میں لائیں۔چندی گڑھ ، دلی ، انقرہ اور لندن جاتے رہنا بھی ٹھیک ہے لیکن اٹک، گوجرانوالہ اور راجن پور وغیرہ کی ووٹ فیکٹریوں کے کبھی کبھار دورے میں بھی کوئی حرج نہیں۔"

    جنرل شریف سے درخواست کرے کہ اگلے سال چھ مہینے تک بلوچ منحرفین پر ہاتھ ہولا رکھیں تاکہ بلوچستان حکومت کی کچھ تو عزت رہ جائے۔

    اب جب کہ مرکز میں اہم تبدیلییوں کے بعد عمومی گمان ہے کہ وزیرِ اعظم کے احساس ِ عدم تحفظ میں بھی شائد کمی ہوچکی ہے تو یہ توقع بے جا نہ ہوگی کہ وزیرِ اعظم کسی روحانی پیشوا کی طرح اپنے پارلیمانی مریدوں کو کبھی کبھار درشن دینے کے بجائے قومی اسمبلی میں دو تین ماہ میں ایک مرتبہ قدم رنجہ فرماتے رہیں تاکہ یہ تاثر مسلسل نہ رہے کہ وہ پارلیمنٹ کو کمی کمینوں کی کمین گاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ اور ایسوں ویسوں کو صرف چوہدری نثار علی جیسوں کی مدد سے ہی سیدھا رکھا جاسکتا ہے۔

    وزیرِ اعظم کو موقع ملے تو اپنے برادرِ خورد سے بھی گاہے ماہے یہ شکوہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اسلام آباد سے زیادہ لاہور پر توجہ دیں اور لاہور سے زیادہ بیرونِ لاہور کے مسائل کو خاطر میں لائیں۔ چندی گڑھ، دلی، انقرہ اور لندن جاتے رہنا بھی ٹھیک ہے لیکن اٹک، گوجرانوالہ اور راجن پور وغیرہ کی ووٹ فیکٹریوں کے کبھی کبھار دورے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

    مگر ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ حکومت بڑے، اہم اور بنیادی داخلی و خارجی معاملات کے سینگوں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے جھاڑ جھنکار اور راستے کے کانٹوں سے الجھنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے اور ہر شے کو مٹھی میں لینے کا نوے کی دہائی کا جان لیوا شوق آج بھی جان نہیں چھوڑ رہا۔ ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ شیر کا سانڈھ پر بس نہیں چل رہا تو وہ اپنی شیرانگی دکھانے کے لئے مرغوں اور بکروں کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔

    گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے

    اس تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود سرا ہاتھ آنا تو دور کی بات گڈ گورننس کے الجھے دھاگوں کے گولے کا حجم تک حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اگرچہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ پورا ہے مگر کارِ سرکار کے ٹائر روزمرہ کے کیچڑ میں پھنسے پوری طاقت سے گھوم رہے ہیں۔ اور ڈرائیور سمجھ رہا ہے کہ گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

    جیسے اس وقت ’شریف۔ نثار حکومت‘ کی پوری توجہ نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی) کے چیرمین طارق ملک کے تعاقب یا پیمرا (پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) کے سربراہ رشید احمد کی چھٹی یا اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو طاہر محمود کی شکل گم کرانے کی سرتوڑ کوششوں پر ہے۔ لیکن مذکورہ تینوں افسر بھی عدلیہ سے اپنی برطرفیوں کے خلاف سٹے آرڈر حاصل کرکے شریف نثار حکومت کی ناک پر مسلسل منڈلاتی مکھی بن چکے ہیں۔

    وہ تو شکر ہوا کہ اعزاز چوہدری کو عین آخری وقت میں فارن سیکرٹری بنا دیا گیا ورنہ وہ بھی اپنی سنیارٹی کا کیس پکڑے درِ انصاف کھٹکھٹانے کے لئے پرتول رہے تھے۔ جبکہ پنجاب پولیس کے اعلی افسران نے محکمے میں مسلسل غیر محکمہ جاتی مداخلت کے خلاف برملا اجتماعی تحفظات کا اظہار کرنا شروع کردیا ہے۔ کہیں یہ پولیس والے بھی عدلِ جیلانی کی زنجیر نہ ہلا بیٹھیں۔ اور تو اور بینک تک کہہ رہے کہ بے روزگار نوجوانوں کے لئے سو ارب کی شریف قرضہ سکیم سر آنکھوں پر لیکن واپسی کی گارنٹی آپ دیں تو ہم قرضہ جاری کردیں یا پھر قرضہ فارم پر حلوائی کی دوکان اور دادا جی کی فاتحہ ہی لکھ دیں۔

    اس تصویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ چھ ماہ گذرنے کے باوجود سرا ہاتھ آنا تو دور کی بات گڈ گورننس کے الجھے دھاگوں کے گولے کا حجم تک حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ اگرچہ ایکسیلیٹر پر پاؤں کا دباؤ پورا ہے مگر کارِ سرکار کے ٹائر روزمرہ کے کیچڑ میں پھنسے پوری طاقت سے گھوم رہے ہیں۔ اور ڈرائیور سمجھ رہا ہے کہ گاڑی فل سپیڈ سے آگے بڑھ رہی ہے۔

    وسعت اللہ خان 

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    پہلے تو ہم نے ایک گورنر امپورٹ کرنے کی کوشش کی مگر رولا پڑ گیا کہ وہ پاکستان کا وفادار نہیں ہوگا ، ملکہ معظمہ کا خدمت گار ثابت ہو گا۔ مرتا کیا نہ کرتا، امپورٹڈ آئٹم کا لیبل بدل دیا گیا اور یوں محمد سرور لاٹ صاحب بن گئے۔

    مگر وہ اپنی اصلیت نہیں بھول سکے۔ ان کے گرد ایک منڈلی تو لگی ہوئی ہے مگر ساری دساور کی۔ایک دن سنا کہ انہوں نے گلاسگو کے ایک نوجوان کو اپنا میڈیا کوآرڈی نیٹر لگا لیا ہے۔یہ نوجوان کوئی تیس برس سے ایک پاکستانی اخبار کے لندن ایڈیشن کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ظاہر ہے گلاسگو میں بیٹھ کر انہوں نے رج کر سرور کی خدمت کی ، اب ان کو صلہ دینے کا وقت آیا ہے اور گورنر صاحب نے انہیں لاہور میں لا بٹھایا ہے مگر وہ کام کریں گے یورپ اور امریکہ کے لئے،وہ گجرات کے رہنے والے ہیں، ایک روز گورنر ہاﺅس میں تھے اور ٹہکا جمانے کے لئے ماسیوں پھوپھیوں کو بڑے گھر کی سیر کرار رہے تھے۔

    چند روز پہلے مشہود شورش کا رات گئے فون آیا، میں اس وقت تک سو چکا تھا، اگلے دن میں نے جوابی کال کی ، کہنے لگے کہ گورنر صاحب نے کچھ صحافیوں کے ساتھ یاد کیا ہے، وہاں پہنچ تو گئے، کوئی پندرہ اصحاب ہوں گے، پتہ چلا کہ گورنر صاحب اجمل نیازی کو الگ بریفنگ دے رہے ہیں ، ان سے فارغ ہو کر ہمیں درشن کروائیں گے، ہمارے ساتھ ہی ڈاکٹر امجد ثاقب بھی گورنر سے وقت لے کر اذن باریابی کے منتظر تھے ، مگر ان سے گورنر صاحب نے کھڑے کھڑے ہی بات کی۔اس نفسا نفسی میں میں نے ایک جوان مگر پر اعتماد خاتون کو دیکھا ، میں نے سوچا ، وہ بھی بڑے صاحب سے ملنے کی منتظر ہوںگی تو ان کو پیش کش کی کہ وہ ہمارے ساتھ ہی بیٹھ جائیں اور موقع پا کر اپنی بات کر لیں۔ ان سے یہ پوچھنے کا موقع مل گیا کہ ان کا کیا شغل ہے، کہنے لگیں کہ وہ گورنر صاحب کے ساتھ کام کرتی ہیں، اور ایک بہت بڑا منصوبہ ہے فلٹر پانی کے پلانٹ لگانے کا،اس میں ہاتھ بٹاتی ہیں، ان کا بھی تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ بغیر تنخواہ کے انسانیت کی خدمت کے لئے گھر بار چھوڑ کریہاں آئی ہیں، پاکستان میں آنے کی کشش تو تحریک انصاف بنی تھی، پر اب وہ ن لیگ کے ساتھ ہیں ، انسان نے نیکی اور بھلائی کرنی ہو تو پھر مخصوص پارٹی کی کیا ضرورت، جہاں داﺅ لگ جائے۔

    اس سے پہلے کسی ہوٹل کے فنکشن میں گورنرکے ایک مصاحب نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اوور سیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے گورنر صاحب کی مدد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ایک سپیشل سیل کے سربراہ ہیں۔

    ہمارے ہاں پہلے تو تفتیشی صحافت کا رواج ہوتا تھا، اب بھی خال خال یہ کام کچھ نئے لوگ کر رہے ہیں ، ان میں سے کوئی صاحب صرف لاہور کے گورنر ہاﺅس پر اسٹوری کریں تو وہ ٹھیک ٹھیک بتا سکتے ہیں کہ محمد سرور کے گورنر بننے کے بعد سے کتنے اوور سیز پاکستانوں کا آناجانا لگا ہوا ہے، تو ایک دلچسپ صورت حال سامنے آئے گی، جہاں تک میں جانتا ہوں ، گورنر کی اہلیہ برطانوی شہریت کی حامل ہیں ان کے دو نوں بیٹے اور ایک بیٹی بھی وہیں کے شہری ہیں اور اگلے بچے تو پیدا ہی وہیں ہوئے ہیں اور انگریزی کے سوا شاید ہی کوئی پاکستانی زبان جانتے ہوں گے، گورنر کا حلف لینے کے بعد ایک ٹی وی پر ایک ننھے بچے نے اپنے دادا کے بارے میں شستہ انگریزی میں کلمات ریکاراڈ کروائے تھے۔یہ سب لوگ یا ان کی بڑی تعداد گورنر ہاﺅس کو مسکن بنا چکی ہو گی۔ مجھے کسی نے یہ بھی بتایا ہے کہ گلاسگو میں جتنا بزنس پھیل سکتا تھا، وہ تواللہ نے برکت ڈال دی، اب مزید برکت کے لئے پاکستان میں مواقع تلاش کئے جا رہے ہیں۔ ابھی تو نجکاری بھی ہونی ہے۔

    پاکستانی آم دساور میں دھڑا دھڑ مقبول ہو رہا ہے۔ پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل ہونے سے یورپی منڈیاں کھل گئی ہیں، اب ٹیکسٹائل کا مال جائے گا اور اس پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، گورنر صاحب نے بتایا کہ اس کے لئے انہوں نے دن رات محنت کی ہے اور پانچ مرتبہ ذاتی خرچ پر یورپ کا دورہ کیا ہے۔ میں نے بہت یرا کہا کہ یہ درجہ تو پاکستان کو پہلے بھی حاصل رہا ۔پھر یورپ اور امریکہ کو گلہ ہوا کہ پاکستان وار آن ٹیرر میں ڈبل گیم کر رہا ہے اور پھر ہمیں اس پسندیدہ لسٹ سے نکال باہر کیا۔ اب یہ درجہ حاصل کرنے کے لئے زرداری دور سے تگ ودو جاری ہے، وہ تو یورپی یونین کے اجلاس سے خطاب بھی کر چکے، اس سال مارچ میں اصولی فیصلہ بھی ہو گیا، پھر تو بعض رسمی مراحل سے گزرنا تھا ، وہ پورے ہو گئے تواس میں آپ کا کمال کیا ہے۔ گورنر صاحب نے کہا کہ ووٹنگ کے مرحلے تک ناامیدی کے بادل منڈلا رہے تھے، فرانس جیسا طاقتور ملک ہمارا مخالف تھا، بھارت اور بنگلہ دیش کی شرارتیں بھی رنگ دکھا رہی تھیں، مگر میں نے یورپی یونین کے مسلمان رکن سجاد کریم کے ذریعے زبر دست لابنگ کی اور یوں ایک ناممکن کام ہو گیا۔

    گورنر کا کہنا تھا کہ اس میں میرا کوئی ذاتی کمال نہیں ، اصل انشی ایٹو وزیر اعظم کا ہے جن کی قیادت اور گورننس کی خوبیوں کی بدولت یہ مثبت فیصلہ سامنے آیا۔سوال ہوا کہ جب ملک میں گیس اور بجلی نہیں ہے تو ٹیکسٹائل سیکٹر اس کا کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے، جواب ملا کہ وزیر اعظم نے ان مشکلات کو دور کرنے کا ٹھوس وعدہ کیا ہے۔ میں نے گرہ لگائی کہ آپ ایک ایسے فیصلے پر اترا رہے ہیں جس کا مطلب سراسر غریب ملکوں کے کشکول میں خیرات ڈالنا ہے، گورنر نے جواب دیا کہ یہ تو ٹریڈ ہے، اس میں منافع ملے گا اور اس ٹریڈ کے لئے رعائت حاصل ہوئی ہے، مطلب یہ ہے کہ کان دائیں طرف سے نہ پکڑیں، بائیں طر ف سے پکڑ لیں، ہمارے ساتھ جن دیگر ملکوں کو یہ رعائت ملی ہے ،ان کے نام سن کر ہم پاکستانیوں کا سر شرم سے جھک جائے گا کہ ہمیں کس قدر پس ماندہ ملکوں کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ میں یہ نام یہاں نہیں لکھوں گا، اپنی نوجوان نسل کے خوابوں کو چکنا چور نہیں کرنا چاہتا۔ گورنر کے خوابوں کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، انہوں نے عارضی طور پر میلہ لوٹنے کے لئے برطانوی شہریت کو خیر باد کہا ہے مگر ان کے بیوی بچے اور اہالی موالی سب برطانیہ سے امپورٹ کئے جا رہے ہیں، کیاپاکستان میں کوئی ایساہنر مند نہیں جو صاف پانی کے پلانٹ نصب کر سکے، اسی کے عشرے میں جنرل ضیا الحق نے ایف سولہ کے پرزے ڈسکہ سے بنو الئے تھے، ہم نے جے ایف تھنڈر بنا لیا اور ڈرون بھی بنا لیا،ایک فلٹر پلانٹ لگانے کے لئے ہمیں گورنر ہاﺅس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کھڑی کرنا پڑی۔

    مجھے اپنے وطن کے ہنر مندوں کی لیاقت پر اعتماد ہے، گورنر صاحب اپنی ایسٹ انڈیا کمپنی کی بساط لپیٹیں، ہمیں یہ ریمنڈ ڈیوس نہیں چاہیئں، میرے ملک کے نوجوان"تاروں پر کمندیں ڈال سکتے ہیں۔

     اسد اللہ غالب

    بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    امریکہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے حلف اٹھا کر یہ عہد کرنا پڑتا ہے کہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حفاظت کے لئے ضرورت پڑنے پر ہتھیار اٹھائوں گا اور اس کی لڑاکا فورس میں شامل ہو جائوں گا۔

    دنیا کے تمام ممالک میں شہریت کے حصول کے لئے الفاظ کے ردو بدل کے ساتھ یہ حلف وفاداری لیا جاتا ہے اور پیدائشی شہریوں پر ازخود یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جب بھی ملکی سالمیت خطرے میں ہو،وہ اپنا تن من دھن وار دیں۔ اسرائیل میں 18 سال سے زائد عمر کا ہر شہری فوج میں خدمات سرانجام دینے کا پابند ہے۔ فرانسیسی مدبر اور قائد Georges Clemenceau کے بقول جنگ اتنا اہم معاملہ ہے کہ اسے محض فوج پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔اسی لئے امریکہ جیسے ملک میں بھی کم از کم 512 نجی ملیشیاز موجود ہیں جنہیں پٹریاٹ گروپس کہا جاتا ہے۔ جب امریکہ نے ویتنام پر حملہ کیا تو لگ بھگ بیس ہزار امریکیوں نے اس جنگ میں فوج کے شانہ بشانہ ہتھیار اُٹھائے مگر میرے ملک کے عظیم دانشوروں کا خیال ہے کہ جب پاکستان دولخت ہونے لگا اور بھارت نے مکتی باہنی کی آڑ میں جارحیت کی تو اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں نے البدر و الشمس کی صورت نجی ملیشیاز بنا کر ناقابل معافی و ناقابل تلافی جرم کیا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرقی پاکستان میں انسانیت تارتار ہوئی۔ہاں یہ سچ ہے کہ قومیت کا آسیب لاکھوں انسانوں کو نگل گیا۔یہ بات بھی درست ہے کہ عصمتیں پامال ہوئیں اور آبروریزی کے واقعات ہوئے مگر کیا یہ سب زیادتیاں پاک فوج اور اس کے ساتھ لڑنے والے سویلین سرفروشوں نے کیں؟ مکتی باہنی فرشتوں کی جماعت تھی؟ علیحدگی کے لئے لڑنے والے سب بنگالی سنت عیسوی کے سچے اور پکے پیروکار تھے اور ایک تھپڑ پر دوسرا گال آگے کرتے رہے یا گاندھی جی کے بھگت تھے کہ فلسفہ عدم تشدد کو ہی حرز جاں بنائے رکھا؟ہاں اگر وہ سب باچاخان اور نیلسن منڈیلا کی مفاہمانہ روش پر کاربند رہے تو ہمیں بلا حیل و حجت بنگلہ دیش سے معافی مانگ لینی چاہئے اور نہ صرف عبدالقادر ملا کی پھانسی پر قومی اسمبلی کی قرارداد واپس لینی چاہئے بلکہ اپنے ان فوجیوں کو بھی بنگلہ دیش کے سپرد کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے جن پر الزامات ہیں لیکن اگر یہ جنگ تھی اور فریق مخالف نے ہمارے دشمن کو ساتھ ملا کر یہ جنگ لڑی تو پھر جنگوں میں یہی کچھ ہی ہوتا ہے۔ امریکی ریاست اوہائیو کے ایک معروف اخبار نے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹس کے ذریعے ایک رپورٹ شائع کی کہ 1967ء کے دوران 101 ایئر بورن ڈویژن کی ایلیٹ ٹائیگر فورس نے سیکڑوں نہتے ویتنامیوں کو ہلاک کیا اور درندگی کا یہ عالم تھا کہ امریکی فوجی لاشوں کو کاٹ کر بوٹوں کے تسموں میں پِرو کر مالا کی طرح گلے میں پہنا کرتے تھے لیکن شواہد ملنے کے باوجود امریکی محکمہ دفاع نے جنگی جرائم کی تحقیقات کرانے سے انکار کر دیا۔

    سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اب تک جتنے کالم شائع ہوئے ان میں سے کسی میں تصویر کا یہ رُخ پیش نہیں کیا گیا کہ مظلومیت کی تصویر بنے بنگالیوں نے کیا ستم ڈھائے۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن سے پہلے میجر ضیاء الرحمن نے اپنے حلف سے روگردانی کی، کرنل جنجوعہ کو چٹاکانگ کے سرکٹ ہائوس لے جا کر بیوی بچوں سمیت ذبح کر دیا اور کئی دن تک غیر بنگالیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جاتا رہا ۔آکسفورڈ یونیورسٹی کی محقق ڈاکٹر شرمیلا بوس کی کتاب Dead Reckoning کے مطابق بنگالی قوم پرستوں نے بھی انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ چٹاکانگ، جیسور،سانتاہر اور کھلنا میں اردو بولنے والوں کو چُن چُن کر مارا گیا۔ایک موقع پر پاکستانی فوج کارروائی کے لئے گئی تو بنگالی باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے افراد کی لاشوں سے دریا میں پانی کا بہائو رُک گیا تھا اور پانی سرخی مائل ہو چکا تھا۔مصنفہ کے مطابق ہزاروں غیر بنگالیوں کو ’’المناک حیوانیت‘‘ کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ غیر جانبدار مصنفہ کی تحقیق کے مطابق فوجی آپریشن میں 30لاکھ بنگالیوں کے مارے جانے کا دعویٰ بھی درست نہیں۔ اگر مبالغہ آرائی سے بھی کام لیا جائے تو ایک لاکھ افراد قتل ہوئے۔اس کتاب کی اشاعت کے بعد جب برطانوی اخبار گارڈیئن نے تبصرہ شائع کیا تو تبصرہ نگار نے لکھا’’جب بھی بنگالیوں سے پوچھا جاتا کہ کتنے لوگ مارے گئے تو وہ آنکھیں پھاڑ کر کہتے،کئی لاکھ ۔شاید ان بنگالیوں کی گنتی میں دو ہی الفاظ تھے،لاکھ اور کروڑ‘‘۔

    علیحدگی کی کامیاب تحریکوں کے نتیجے میں آج تک جتنے بھی ملک معرض وجود میں آئے،کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ پرانا حساب کتاب بیباک کیا جائے۔ براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک سوڈان کئی عشروں تک خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا کیونکہ جنوبی علاقوں میں آباد 21فیصد مظاہر پرست اور 5 فیصد عیسائی الگ ریاست کے خواہاں تھے۔امریکہ نے مداخلت کی اور جنوبی سوڈان کے نام سے 9جولائی 2011ء کو ایک نیا ملک بنا تو ڈنکا قبیلے اور نیور قبیلے میں اقتدار کی رسہ کشی ضرور ہوئی مگر کسی نے یہ ضرورت محسوس نہیں کہ 500قبائل میں سے ان 27قبیلوں کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کئے جائیں جو ان کی جدوجہد آزادی کے خلاف تھے اور سوڈانی ریاست کے وفادار تھے۔ سابق نائب صدر Riek Machar نے چند دن پہلے صدر Salva Kiir کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش تو ضرور کی لیکن ان دونوں میں سے کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ جدوجہد آزادی کے دوران ہونے والی 15لاکھ ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے کوئی کمیشن بنایا جائے۔ اگر تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور بھارت اس راہ پر چل نکلتے تو آج بھی دونوں طرف غدار پھندوں پر جھول رہے ہوتے۔نیلسن منڈیلا پرانا حساب بیباک کرنے پر آ جاتے تو آج بھی جنوبی افریقہ خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہوتا۔

    یوم سقوط ڈھاکہ سے چند روز قبل بنگلہ دیش نے عبدالقادر مُلا کی لاش کا تحفہ دیا تو میں نہیں رویا کہ سرفروشی کی تمنا ہو، جرم ِ وفا پہ ناز ہو تو دار و رسن کی شکایت کیسی۔ لیکن واں عشاق ہوں کُشتنی اور یاں کوچۂ جاناں کو گریز گفتنی تو دل فگاروں کی آنکھ کیسے نم نہ ہو اور قلم کی چشم نم سے لہو کیوں نہ ٹپکے؟ افق کے اس پار جانے والے عبدالقادر ملا کی جدائی میں نڈھال غمزدوں کو تو قرار آ ہی جائے گا، جماعت اسلامی بنگلہ دیش بھی ابتلا و آزمائش کی اس بھٹی سے کندن بن کر نکل آئے گی مگر مجھے یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ اگر خدانخواستہ کل کو پاکستان کے کسی کونے میں مشرقی پاکستان جیسی صورتحال پیدا ہوئی تو تنخواہ دار فوج تو اپنا فرض سمجھ کر لڑے گی کیونکہ شکست کی صورت میں بھی اسے بے یارومددگار چھوڑے جانے کا اندیشہ نہیں مگرعبدالقادر مُلا کے انجام سے باخبر پاکستانی اپنے حلف کے مطابق دفاع وطن کے لئے ہتھیار اُٹھا پائیں گے؟؟ اگر وطن عزیز پر کڑا وقت آیا تو البدر و الشمس کی تاریخ دہرائی جا سکے گی؟اگر اس چمن کو پھرخون کی ضرورت پڑی تو دیوانوں اور فرزانوں کے وہ گروہ میسر ہو پائیں گے جو پاکستانی کے لئے ہی قربان ہوں اور پاکستان میں ہی اجنبی قرار پائیں؟خدا جانے فیض احمد فیض اور عبدالقادر ملّا افق کے اس پار کیا سوچتے ہوں گے فیض نے ملّا سے رسم و راہ کی ہو گی یا نہیں البتہ شہید پاکستان کی زبان پر یہ الفاظ ضرور مچل رہے ہوں گے

    ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مامقاتوں کے بعد

    پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد

    کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

    خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

    محمد بلال غوری

    بشکریہ روزنامہ "جنگ"


    0 0



    Double Standards of Pakistani Seculars  by Amir Khakwani
    Enhanced by Zemanta

    0 0



     Business, Youths, Loans and Nawaz Sharif Youth Loan Scheme
    Enhanced by Zemanta

    0 0





    Selection of new Army chief in Pakistan
    Enhanced by Zemanta

older | 1 | .... | 11 | 12 | (Page 13) | 14 | 15 | .... | 149 | newer