Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 123 | 124 | (Page 125) | 126 | 127 | .... | 149 | newer

    0 0

    امریکہ، برطانیہ، یورپ، چین اور خلیجی ممالک سمیت دنیا بھر میں 23 مارچ کو پاکستان سے عہد وفا دہرایا گیا، دبئی، ابوظبی اور ترکی میں بلند و بالا عمارتیں پاکستانی پرچم میں تبدیل ہو گئیں۔ 23 مارچ کو صرف پاکستان ہی نہیں دوست ممالک نے بھی سبز ہلالی پرچم سے پاکستان کی اونچی شان کا شاندار مظاہرہ پیش کیا جبکہ دنیا کی بلند ترین عمارت پاکستانی پرچم کے رنگ میں رنگی دکھائی دی۔
    ابوظبی میں بھی پاکستان سے اظہار یک جہتی کے لیے کورنیش سینٹر، کیپٹیل ٹاور، مرینا مال اور ریاست کی بلند ترین عمارت ایڈنوک ٹاور پر بھی روشنیوں سے پاکستانی پرچم سجائے گئے۔

    دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں بھی پرچم کشائی کی تقاریب ہوئیں۔ اقوام متحدہ میں مندوب ملیحہ لودھی نے پاکستان ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم قائداعظم کے مقصد کوحقیقت میں بدلنے کے لیے پرعزم ہیں۔
    پاکستانی ہائی کمیشن برطانیہ میں بھی پروقار تقریب ہوئی، جس میں اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی شریک ہوئے۔ فرانس، اسپین، بلجیم، نیدر لینڈ اور پرتگال سمیت یورپ بھر میں بھی سبز پرچم لہرایا گیا۔
     


    0 0

    وہ طبقہ جواس ملک کو گزشتہ ستر برس سے کھا رہا ہے وہ ان دنوں بہت پریشان ہے اس لیے نہیں کہ اس کے پاس اتنا اندوختہ نہیں کہ وہ اپنی شاہانہ زندگی کو جاری رکھ سکے بلکہ اس لیے کہ اس ملک کو مزید کھانے کے لیے اس میں کچھ بچا ہی نہیں ہے اور اسے اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے لیے تازہ خون میسر نہیں چنانچہ اس طبقہ کے ماہرین معاشیات طویل غور اور سوچ بچار کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اب اس ملک ہی کو بیچا جائے یعنی اس کے جو اثاثے حکومت کے پاس ہیں ان کو فروخت کر دیا جائے۔

    اگر کھانے پینے کے لیے اس ملک کے وسائل میں سے کچھ بچ جاتا اور اس کی پیداوار میں اتنی گنجائش ہوتی کہ وہ ملک کے روز مرہ کے اخراجات چلا سکتی جن میں اس طبقہ کے اخراجات بھی شامل ہیں کیونکہ یہ طبقہ اس ملک کے وسائل پر زندہ رہتا ہے تو شاید گھر کے اثاثے فروخت کرنے کی نوبت نہ آتی لیکن اب اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ اس اونچے طبقے کے پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے سرکاری یعنی قومی املاک کو فروخت کر کے جو مال جمع ہو اس کو نوش جاں کیا جائے۔

    اس پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے عالمی ساہوکاروں سے لامتناعی قرضے ہم پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں اور اب ان کی ادائیگیاں شروع ہو نے والی ہیں جو کہ ملک بیچ کر ادا کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ ہماری حکومت نے اس مقصد کے لیے ایک ایک نج کاری کمیشن بنا رکھا ہے جس کا ان دنوں وزیر میرا بھتیجا چوہدری انور عزیز کا بیٹا دانیال ہے جو کہ بہت عجلت میں دکھائی دیتا ہے یا شاید اس کو حکومت کی جانب سے یہ خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے کہ حکومت کے آخری دو ماہ میں ملک کے اہم ترین اداروں کی بولی لگا کرمال کھرا کر لیا جائے حالانکہ اس سے پہلے ہم ٹیلی فون جیسا منافع بخش محکمہ اور اس جیسے کئی دوسرے ادارے بیچ کر اپنا دائمی نقصان کر چکے ہیں جن کا حاصل وصول بھی کچھ نہیں ہوا تھا سوائے ان اداروں کے بے روزگار ملازمین کی بد دعاؤں کے۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ ایوب خان اور اس سے پہلے کی حکومتوں نے صنعت کاری پر خاصی توجہ دی تھی ۔

    گوہر ایوب صاحب کی گندھارا انڈسٹری بھی اسی دور کی پیداوار تھی جس کی صورت میں سرکاری سطح پر اعلیٰ کرپشن کی پہلی صورت سامنے آئی تھی۔ بھٹو صاحب جو کسی نادیدہ انقلاب کے شوقین تھے ان کے ساتھیوں میں بھی مختلف قسم کے سرخے شامل تھے جن میں کوئی روسی پیروکار تھا تو کوئی چین کا پیرو کار تھا چونکہ ان ملکوں میں صنعتوں کو قومیا لیا گیا تھا اس لیے بغیر سوچے سمجھے ہمارے نام نہاد انقلابیوں نے بھی یہاں صنعتوں کو قومیا لیا اور صنعتی ترقی کا جو سلسلہ ’’ڈیڈی‘‘ نے شروع کیا تھا وہ روک دیا گیا بلکہ پہیہ الٹا گھما دیا گیا اور آج ہماری حکومت انھی اداروں کو فروخت کرنے کی کوشش میں ہے ۔

    پہلے پہل تو یہ خبریں گرم رہیں کہ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا تیا پانچہ کر دیا جائے گا مگر اب خبر آئی ہے کہ ان سے پہلے پاکستان کے ایئر پورٹس کی نجکاری کی جائے اور عذر یہ دیا جا رہا ہے کہ پاکستان کا ایئر پورٹ کا محکمہ جو کہ ملک کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی ایئر پورٹس کو چلا رہا ہے‘ یہ اس قابل نہیں کہ ملکی ائر پورٹس کو چلا سکے اور اسلام آباد میں نئے تعمیر کیے جانے والے ائر پورٹ کو اس کا اصل محکمہ بالکل ہاتھ بھی نہ لگائے کہ کہیں وہ ایئر پورٹ استعمال ہونے سے قبل ناپاک نہ ہو جائے اس لیے عجلت میں کوئی ایسا گاہک ڈھونڈا جا رہا ہے جو اس ائر پورٹ کا انتظام سنبھال لے۔

    مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستان میں بہترین افرادی قوت موجود ہے قابل اور ماہر ترین افراد بھی ہیں ایئر پورٹس پہلے سے ہی کامیابی سے چل رہے ہیں اور ملک کے لیے منافع بخش ادارے کے طور پر کام کر رہے ہیں مجھے حیرانگی ہے کہ حکومت کیوں ان کو ٹھیکے پر دینا چاہتی ہے اس میں یقینا کچھ لوگوں کا ذاتی مفاد وابستہ ہے اور یہ ڈرامہ جس عجلت میں کھیلا جا رہا ہے اس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہی ہو رہا ہے اور اس طرح کی مشکوک سوداگری پر پردہ ڈالنا مشکل ہو رہا ہے۔

    مجھے اس بات کا بھی اچھی طرح ادراک ہے کہ ہمارے لکھنے لکھانے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا لیکن ہم لوگوں کا یہ فرض ہے کہ جہاں ملکی سالمیت کے اداروں کو نقصان پہنچانے کی بات ہو رہی ہو اس کی نشاندہی ضرور کریں تا کہ ان کا کام کچھ مشکل ہو جائے ورنہ ان حربوں سے یہ چوری کہاں رکی ہے یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں بیچنے والے بھی اور خریدنے والے بھی سب مل جل کر اس ملک کے اہم ترین اداروں کوکھانے کے چکر میں ہیں اور کوئی ان کا بازو پکڑنے والا نہیں سوائے ان غریب ملازمین کے جو کہ اپنی روزی کے چھن جانے کا واویلا مچاتے رہتے ہیں لیکن ان کی بھی کوئی نہیں سنتا اور ڈرا دھمکا کران کو خاموش کرا دیا جاتا ہے ۔ اس ملک کے عوام کو روزی روٹی میں الجھا دیا گیا ورنہ وہ اپنے قابل حکمرانوں سے آج یہ پوچھ رہے ہوتے کہ ان کے منافع بخش ادروں کی بولی کیوں لگائی جا رہی ہے۔

    اس وقت ہمارا حکمران طبقہ جس میں سیاستدانوں کے ساتھ افسر لوگ بھی شامل ہیں سخت پریشان ہے کیونکہ وہ اپنی مراعاتی زندگی سے دستبردار ہونے پر تیار نہیں اور نہ ہی ان فالتو کاروائیوں کو بھول پایا ہے جو ایک نسبتاً خوشحال یا رواںدواں ملک میں اسے حاصل تھیں۔ باہر کے قرضے تو سابقہ قرضوں کی ادائیگیوں پر خرچ ہو رہے ہیں ملک کے اندر نام نہاد ترقیاتی منصوبے بند ہیں جو فالتو آمدنی کا ذریعہ ہوا کرتے تھے اب اگر کوئی صورت دکھائی دیتی ہے تو وہ یہ ہے کہ ملک کے اندر جو کچھ بکتا ہے اس کوبیچو اور حلوہ کھاؤ۔ ہمارا نج کاری کمیشن دن رات اسی فکر اور کوشش میں ہے کہ اداروں کی نیلامی سے کچھ رقم جمع کر سکے لیکن نیلامی میں شرکت کرنے والے شاید اس کمیشن کے لوگوں سے زیادہ ہوشیار ہیں جو ان کی کمزوری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی مجبوری پر نفع اندوزی کی فکر میں ہیں دیکھیں اس جنگ میں کس کی جیت اور کس کی ہار ہوتی ہے۔

    عبدالقادر حسن
     


    0 0

    پاکستان کے الیکشن کمیشن نے متحدہ قومی موومنٹ کے تنظیمی انتخابات کو مسترد کر دیا ہے جس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار تنظیم کے کنوینر نہیں رہے۔
    ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے رہنما خالد مقبول صدیقی، فروغ نسیم اور دیگر نے ڈاکٹر فاروق ستار کی کنوینر شپ کو چیلینج کیا تھا، الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلے میں ان کا دعویٰ قبول کر لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے قبل سینیٹ کے انتخابات میں بھی ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے حمایت یافتہ امیدوار کامران ٹیسوری کو شکست ہوئی تھی جبکہ مخالف گروپ کے بیرسیٹر فروغ نسیم نے کامیابی حاصل کی۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے اس الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ایک سیاہ باب قرار دیا ہے اور کہا کہ اس فیصلے کو بھی جسٹس منیر کے فیصلے کی طرح یاد رکھا جائے گا کیونکہ یہ بھی غیر منصفانہ اور غیر آئینی ہے۔ اس سے قبل تنظیمی انتخابات اور تنظیمی کے اندرونی اختلافات پر الیکشن کمیشن نے کبھی کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

    ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ انھیں الطاف حسین کے سامنے کھڑے ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ 21 اگست کو ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے متنازع تقریر کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار نے لندن قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔ انھوں نے اندرونی اور بیرونی سطح پر دباؤ اور سیاسی اور صحافتی محاذوں پر مخالفت کے باوجود جماعت کو قومی سیاست سے جوڑے رکھا۔ سینیئر تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ 22 اور 23 اگست کی درمیانی کی شب کو جو کچھ بھی ہوا اس کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار مسلسل دباؤ میں رہے، ان کی تنظیمی صلاحیت اپنی جگہ لیکن وہ تنظیمی معاملات کو منظم انداز میں لے کر نہیں چل پا رہے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار پچھلے کئی سالوں سے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر تھے یعنی جب متحدہ واقعی متحد تھی ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان دو علیحدہ چیپٹر تھے لیکن مل کر کام کرتے تھے۔ اس وقت ڈاکٹر فاروق ستار پر اس طرح دباؤ نہیں آتا تھا جو بھی صورتحال ہوتی تھی اس میں حتمی فیصلہ ایم کیو ایم لندن یا الطاف حسین کا ہوتا تھا تو اس میں انھیں اس طرح کے دباؤ کا سامنے نہیں کرنا پڑتا تھا۔ 

    شناخت کا مسئلہ یہ ہے کہ جس تنظیم کی بنیاد الطاف حسین نے ڈالی اور وہ ان کی شخصیت کے گرد چلتی تھی۔ اب وہ پارٹی میں نہیں رہے، ان کے بغیر کیا نئے نعرے ہوں گے کیا پالیسی ہو گی یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اب جب الطاف حسین نہیں رہے تو پارٹی کا سربراہ کون بنے گا یہ بھی طے نہیں ہو پا رہا۔ یہ ہی دو وجوہات ہیں جن کی وجہ سے یہ موجودہ بحران نظر آتا ہے۔ فرحان صدیقی کے مطابق ڈاکٹر فاروق ستار نے وہ ہی پوزیشن حاصل کرنے کی کوشش کی جو الطاف حسین کی ہوتی تھی یعنی وہ اپنے طور پر فیصلہ لیں گے اور یہ فیصلے ہی حتمی ہوں گے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ وقت کوئی ثالث نہیں ہے جو ان تنازعات کو حل کرا سکے جب الطاف حسین کی قیادت تھی تو وہ ثالثی کا کام بھی سر انجام دیتے تھے یعنی کسی کو تنظیم سے خارج کر کے تو کسی کو منا کر واپس لانا۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان بھی اس وقت دو دھڑوں میں موجود ہے، جن میں ایک دھڑے کی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کر رہے ہیں، جس میں کامران ٹیسوری، علی رضا عابدی اور دیگر شامل ہیں جبکہ دوسرے کو بہادرآباد گروپ کہا جا رہا ہے، اس گروپ میں خالد مقبول صدیقی، عامر خان، کنور نوید، فروغ نسیم، نسرین جلیل، میئر وسیم اختر، فیصل سبزواری اور دیگر شامل ہیں۔

    ڈاکٹر فاروق ستار کا مستقبل
    ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی رضا عابدی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجو ع کرنا چاہیے جبکہ ڈاکٹر فاروق کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ خالد مقبول صدیقی اور وہ ایک مشترکہ ایڈہاک کمیٹی بنائیں جو معاملات دیکھیں لیکن بعد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مائنس الطاف حسین کے بعد مائنس ڈاکٹر فاروق فامولے پر عمل کیا گیا ہے۔ 

    تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اگر ڈاکٹر فاروق ستار کنارہ کش ہوجاتے ہیں تو اس سے ایم کیو ایم کو نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ کے لیے بڑا امتحان ہو گا کہ اگر ڈاکٹر فاروق تمام معاملات ان کے حوالے کر دیتے ہیں تو کیا وہ ان کے بغیر پارٹی چلا پائیں گے؟ تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار اگر خالد مقبول گروپ کے سائے میں چلے جاتے ہیں جو ایک مشکل فیصلہ ہو گا پھر تو ایم کیو ایم الیکشن سیاست میں موجود رہ پائے گی ورنہ اس کے مزید بکھرنے کے امکانات موجود ہیں، کیونکہ جب ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت کو قبول نہیں کیا گیا تو خالد مقبول صدیقی کی قیادت کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے، ان کا درجہ بھی چھوٹا ہے اور ویژن بھی اس طرح کا نہیں ہے۔

    کراچی میں آنے والے انتخابات میں ایم کیو ایم سے مقابلے کے لیے مصطفیٰ کمال کی زیر قیادت پاک سرزمین پارٹی کے علاوہ تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی متحرک ہے جس نے شہر میں ترقیاتی منصوبوں کی تعداد اور رفتار میں پچھلے سالوں کے مقابلے میں اضافہ کیا ہے۔ تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کی زیر قیادت ایم کیو ایم پی آئی بی خاموش ہو جاتی ہے تو بھی ایم کیو ایم کے اندرونی مسائل ختم نہیں ہوں گے، اگر ڈاکٹر فاروق ستار کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں تو ان کے دیگر کئی ساتھی بھی وہ ہی راہ اختیار کر سکتے یا پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہو جائیں گے، جس سے ایم کیو ایم کے لیے مشکلات پھر بھی کم نہیں ہوں گی۔

    ووٹر ٹرن آؤٹ کم ہونے کا امکان
    ایم کیو ایم کے دونوں دھڑوں نے علیحدہ سینیٹ انتخابات لڑنے کے علاوہ یوم تاسیس کی تقریبات بھی الگ الگ منعقد کیں، قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ جو اوپر کی سطح پر نظر آرہا ہے کہ یومِ تاسیس مختلف جگہوں پر منائے گئے جن میں لوگوں کی شرکت کافی کم تھی۔ 'اندرونی اختلافات کو ووٹراچھی نظر سے نہیں دیکھ رہے نتیجے میں انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ کافی کم ہو سکتا ہے، جس کا فائدہ دیگر جماعتیں اٹھا سکتی ہیں۔ آنے والے انتخابات میں سب سے بڑا خطرہ ایم کیو ایم کے لیے یہ ہے کہ اگر وہ اپنا منظم ووٹ بینک ایک جگہ پر نہیں لاتے تو یہ امکان ہے کہ دوسری جماعتیں یہ نشستیں لے جائیں گی۔ 

    ریاض سہیل
    بی بی سی اردو، کراچی
     


    0 0

    روس اور وسطی ایشیائی ممالک نے افغان تنازعے میں زیادہ دلچسپی لینا شروع کر دی ہے۔ ازبکستان میں ایک اجلاس اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ طالبان کے ساتھ مبینہ روابط کی وجہ خطے میں اسلامک اسٹیٹ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ہے۔
    ازبکستان نے دو روزہ بین الاقوامی ’افغانستان امن کانفرنس‘ کی میزبانی کی ہے۔ تاشقند میں ہونے والے اس اجلاس میں وسطی ایشیائی ممالک، امریکا، جرمنی، چین، پاکستان اور روس کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ افغان صدر اشرف غنی، ان کے ازبک ہم منصب شوکت میر زییویوو اور یورپی خارجہ امور کی سربراہ فیدیرکا موگیرینی بھی تاشقند میں موجود تھے۔


    اس کانفرنس کے مقصد طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ بات چیت پر راضی کرنے کے لیے راستے تلاش کرنا تھا۔ تاہم طالبان نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث اس اجلاس کی کامیابی کے امکانات انتہائی محدود تھے۔ اس کے باوجو ازبک اور افغان صدر علاقائی سطح پر اتفاق رائے بڑھانے کے حوالے سے پر امید ہیں، تا کہ سترہ سال سے زائد سے جاری یہ تنازعہ ختم کیا جا سکے۔ ازبک صدر شوکت میر زییویوو نے اس اجلاس کے افتتاحی خطاب میں کہا، ’’افغانستان کی سلامتی ازبکستان کی بھی سلامتی ہے اور یہ وسطی اور جنوبی ایشیا میں استحکام کا ایک راستہ ہے۔‘‘

    ازبک صدر نے اس موقع پر طالبان سے کہا کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ امن بات چیت شروع کریں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ازبکستان کی خدمات کی بھی پیشکش کی۔ کابل حکام 2010ء سے طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی کوششوں میں ہیں اور اس عسکریت پسند گروہ نے اس معاملے میں کبھی بھی سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ تاہم طالبان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے کیوں کہ ان کے خیال میں امریکا ہی افغان جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    فیس بک صارفین کے لیے ایک اور بری خبر ہے کہ فیس بک اینڈروئیڈ فونز استعمال کرنے والے صارفین کی فون کالز اور ٹیکسٹ پیغامات کا ڈیٹا بھی جمع کر لیتی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کیمبرج اینالیٹکا اسکینڈل میں پھنسی فیس بک کے لیے ایک نئی پریشانی کھڑی ہو گئی۔ فیس بک کو اب اینڈروئیڈ فونز پر فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی فون کالز اور میسیجز کا ڈیٹا جمع کرنے کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ ان الزامات کا انکشاف اس وقت ہوا ہے جب فیس بک نے صارفین کا ڈیٹا بلا اجازت استعمال کرنے کا اعتراف کیا۔ 

    فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی جانب سے گزشتہ روز امریکا اور برطانیہ کے اخبارات میں ایک صفحے کا معافی نامہ چھپوایا گیا۔ اس کے بعد کچھ صارفین نے سوشل میڈیا پر اپنا ڈیٹا اپ لوڈ کیا جس میں دیکھا گیا کہ اینڈروئیڈز فون استعمال کرنے والے صارفین کے فون کالز کا ریکارڈز بشمول تاریخیں، وقت، کال کا دورانیہ، کال کرنے والے فرد کا نام اور فون نمبرز وغیرہ تک کا ڈیٹا فیس بک جمع کر لیتی ہے۔ 

    فیس بک انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا صرف اُن صارفین کے ساتھ ہو سکتا ہے جنہوں نے اینڈروئیڈ جیلی بین (ورژن 4.1) استعمال کیا ہو جس کےلیے فیس بک پہلے آپریٹنگ سسٹم میں فون کونٹیکٹس تک رسائی کے ساتھ کال اور ٹیکسٹ لاگز تک بھی رسائی کی اجازت مانگتی تھی۔ اجازت ملنے کے بعد رسائی حاصل کر لی جاتی تھی تاہم چند سال بعد اس آپشن کو ختم کر دیا گیا تھا لیکن تب تک جن افراد کا ڈیٹا جمع کیا چکا تھا اسے ختم نہیں کیا جا سکا ۔  واضح رہے کہ کوئی بھی صارف اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی سیٹنگز میں جا کر ’جنرل‘ میں موجود آخری آپشن ’ڈاﺅن لوڈ اے کاپی آف یور فیس بک ڈیٹا‘ پر کلک کر کے فیس بک کی جانب سے صارف کی جمع کی گئی معلومات کو دیکھ سکتا ہے۔
     


    0 0

    ہمارے ایک دوست یونیورسٹی میں استاد ہیں، اکثر اوقات سماجی موضوعات پر تحقیق میں مصروف رہتے ہیں، پچھلے سال لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی الیکشن سے چند روز قبل اس ناچیز نے ایک کالم لکھا جس کا عنوان تھا ’’تینوں میں کوئی فرق نہیں‘‘ اس کالم میں یہ عرض کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن)، تحریک ِ انصاف اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے قول و فعل میں تضاد سے جمہوری نظام کمزور ہو رہا ہے، تینوں جماعتوں میں اصولوں کی خاطر ڈٹ جانے کی ہمت نہیں لیکن تینوں میڈیا کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہتی ہیں اور اگر آپ ایک پر تنقید کریں تو وہ آپ کو دوسرے کا ’’زرخرید‘‘ قرار دے دیتے ہیں۔ اس کالم میں یہ بھی کہا گیا کہ جو کچھ نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ ہو چکا، وہ دنیا نے دیکھ لیا کہیں تیسرے کا انجام بھی انہی دونوں جیسا نہ ہو۔

    اس کالم کے شائع ہونے پر میر ے دوست پروفیسر نے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ کئی دن سے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ این اے 120میں ووٹروں کے نظریاتی رجحانات پر تحقیق کر رہا ہے اور اسے یہ جان کر حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کے دل لاہور میں قومی اسمبلی کے اس حلقے کے اکثر ووٹروں کو اپنے پسندیدہ
    سیاستدانوں کے نظریے کا کچھ علم نہیں، وہ یا تو کسی کی نفرت اور محبت کی وجہ سے ووٹ دیتے ہیں یا اسے ووٹ دیتے ہیں جو ان کے گلی محلے کے مسائل حل کرتا ہے اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو پیسے لے کر ووٹ دیںگے۔ ہمارے دوست کی یہ تحقیق ایک خالص تدریسی سرگرمی تھی لہٰذا لوگوں نے ان کے ساتھ کھل کر بات کی۔

     پروفیسر صاحب نے این اے 120 کے ایک ایسے خاندان سے بھی ملاقات کی جس کے تین افراد نے مسلم لیگ (ن) ، ایک نے تحریک ِ انصاف اور ایک نے پیپلزپارٹی کو ووٹ بیچا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ ووٹ کیوں بیچتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ بڑی جماعتیں پیسے والوں کو اپنا ٹکٹ دیتی ہیں تاکہ وہ حکومت میں آ کر مزید پیسہ بنائیں، تو پھر ہم پیسے کیوں نہ کمائیں؟ ہمارے پروفیسر دوست کا خیال تھا کہ بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر جمہوریت کو مضبوط نہ کیا اور نظریاتی لوگوں کو اہمیت نہ دی تو اگلے چند سال میں یہ جماعتیں مزید کمزور ہو جائیں گی اور ان کی جگہ نئی جماعتیں آجائیں گی۔ میں نے ازرا ہِ تفنن پوچھا کہ کیا ہر طرف پاک سرزمین پارٹی چھا جائے گی؟ تو دوست نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی پارٹیوں کا انجام مسلم لیگ (ق) سے مختلف نہیں ہو سکتا لیکن بڑی جماعتوں کے کمزور ہونے سے علاقائی، لسانی اور فرقہ وارانہ جماعتیں مضبوط ہوں گی۔

    پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے میں ریاستی اداروں کا اہم کردار رہا ہے۔ نیشنل عوامی پارٹی پر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پابندی لگائی گئی۔ جنرل ضیاءالحق نے پیپلزپارٹی کو کمزورکرنے کے لئے غیرجماعتی انتخابات کرائے۔ ان غیرجماعتی انتخابات کے بطن سے سے محمد خان جونیجو نے ایک نئی مسلم لیگ پیدا کر لی لیکن جنرل ضیاءالحق کو یہ مسلم لیگ بھی نہ بھائی اور انہوں نے جونیجو حکومت برطرف کر کے مسلم لیگ (ن) کے قیام کی راہ ہموار کی۔ جب مسلم لیگ (ن) سے دل بھر گیا تو جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ (ق) بنا ڈالی اور اب نون اور ق لیگ میں سے ایک اور جماعت نکال کر کوئٹہ میں کھڑی کر دی گئی ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن اس نئی کنگز پارٹی کا مقام وہی ہوگا جو 1990 میں ن لیگ اور 2002 میں ق لیگ کا تھا۔ اسی قسم کا ایک انقلاب بہت جلد پنجاب میں بھی آنے والا ہے۔

    پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے اندر بے چینی عروج پر ہے۔ پچھلے چند ماہ میں نواز شریف کے ہم نوائوں نے قوم پر ایک نئے مزاحمتی بیانیے کی دھاک بٹھائی اور دعوے کئے کہ نواز شریف کا بیانیہ ایک انقلاب کی نوید بن چکا ہے۔ یہ بیانیہ دراصل پاکستان کی فوج اور عدلیہ پر مختلف نوعیت کے الزامات پر مشتمل تھا۔ جب بھی کسی نے نواز شریف کو یاد دلایا کہ ماضی میں آپ خود بھی فوج اور عدلیہ کے ساتھ مل کر جمہوریت کے خلاف سازش کرتے رہے ہیں، تو نواز شریف کے حامیوں نےایسے گستاخوں کو انتہائی غلیظ گالیوں سے نوازا اور ثابت کیا کہ وہ گالی گلوچ میں تحریک ِ انصاف والوں کو بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ افسوس کہ اس گالی گلوچ بریگیڈ کی قیادت ایک خاتون کے پاس ہے۔ جس کسی نے بھی خاتون سے گزارش کی کہ سیاسی بیانیہ سازشی مفروضوں کے بجائے ٹھوس سیاسی حکمت ِ عملی کو سامنے رکھ کر بنایا جائے تو اسے بوٹ پالشیا اور بابا رحمتے کا وظیفہ خوار قرار دیا گیا۔ 

    جب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا پر یہ کہا کہ انہوں نے اپنے وزرا کو ہدایت کی ہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی نہ کریں تو ناگواری کا اظہار کیا گیا۔ پھر اسی شریف آدمی کو قومی اسمبلی کے فلور پر یہ کہنا پڑا کہ ہم ایوان میں ججوں کا کنڈکٹ زیربحث لائیں گے۔ ایک طرف ججوں پرالزامات لگائے جا رہے تھے، دوسری طرف اعلیٰ فوجی افسران سے رابطے کئے جارہے تھے۔ جب فوجی قیادت نے واضح کر دیا کہ وہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑی ہے، تو پھر شاہد خاقان عباسی کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا گیا۔ اس ملاقات کے بارے میں سپریم کورٹ کا اعلامیہ سامنے آچکا ہے.

    لیکن ایک اعلامیہ وہ ہے جو آپ کو صرف اور صرف اس ملاقات کے بارے میں عام لوگوں کی مسکراہٹوں میں نظر آئے گا۔ ان مسکراہٹوں کے پیچھے آپ کو ایک بہت بڑے بیانیے کی عمارت زمین بوس ہوتی نظر آئے گی کیونکہ اس عمارت کی بنیادیں نظریاتی طور پر بہت کمزور تھیں۔ نظریاتی لوگ صبح صبح ججوں کو سازشی مہرے قرار دے کر شام کو اپنا بندہ ان سے ملاقات کے لئے نہیں بھیجتے۔ اس ملاقات کی ٹائمنگ نے اسے غیر معمولی بنا دیا ہے لیکن اس غیرمعمولی ملاقات کے نتیجے میں کوئی سیزفائر ہو جائے تو یہ خوش آئند ہو گا۔ اس ملاقات نے شہباز شریف کو صحیح اور نوازشریف کو غلط ثابت کیا۔ 

    اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی ناکام ہو چکی اب اگر نواز شریف اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کر رہے ہیں تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔ انہوں نےاعتراف کیا کہ میموگیٹ اسکینڈل میں پیپلزپارٹی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست گزار بننا غلطی تھی۔ انہیں یہ اعتراف بھی کرنا چاہئے کہ جنرل راحیل شریف کی ناراضی کے خوف سے 2015 میں آصف زرداری کے ساتھ لنچ منسوخ کرنا بھی غلط تھا۔ مشرف کو پاکستان سے فرار کرانا بھی غلطی تھی، نیوز لیکس میں پرویز رشید اور طارق فاطمی کو ان کے عہدوں سے ہٹانا بھی غلطی تھی۔

    دوسری طرف پیپلزپارٹی کو بھی اعتراف کر لینا چاہئے کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا راستہ روکنے کےلئے صادق سنجرانی کی حمایت ایک غلطی تھی اور عمران خان بھی مانیں کہ پاکستان کی ’’سب سے بڑی بیماری‘‘ کے نامزد امیدوار برائے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو ووٹ دے کر انہوں نے یوٹرن لیا۔ عمران خان پاور پالیٹکس کر رہے ہیں، زرداری اور نواز شریف بھی یہی کر رہے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نظریاتی نہیں لیکن سب کو نظریاتی کہلوانے کا شوق ہے۔ زرداری اور عمران کو چاہئے کہ کم از کم نواز شریف کو اپنی اہلیہ کی عیادت کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت کی حمایت کریں تاکہ ہم یہ تو کہہ سکیں کہ ہمارے دوست ’’نظریاتی‘‘ نہ سہی ’’انسانیت نواز‘‘ ضرور ہیں۔

    حامد میر
     


    0 0

    پاکستان میں موسم گرم ہوتے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ کا معاملہ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک میں اب بھی کئی علاقوں کو عوام کو 16 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ گو کہ حکومت میں آنے کے ساڑھے چار سال بعد حکمران جماعت نے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں 'زیرو لوڈشیڈنگ'کا اعلان کیا تھا لیکن اب بھی 39 فیصد فیڈر ایسے ہیں جہاں کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ 16 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ جن فیڈرز پر بجلی کی چوری دس فیصد سے کم ہو گی وہاں بجلی نہیں جائے گی.

    بی بی سی کو ملنے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق ملک میں بجلی سپلائی کرنے والے 8600 فیڈرز میں سے اس وقت 5297 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کے 60 فیصد بجلی کے صارفین کو لوڈشیڈنگ کا سامنا نہیں ہے لیکن 40 فیصد صارفین کو کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ 16 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ ان میں سے 28 فیصد صارفین کو چار سے چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑ رہی ہے جبکہ ایک فیصد سے بھی کم یعنی ایک لاکھ 76 ہزار صارفین کو 12 سے 16 گھنٹے تک بجلی دستیاب نہیں ہے۔

    زیادہ لوڈشیڈنگ والے علاقے
    حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں تقریباً 39 فیصد یعنی 3303 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اور ان فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ دو سے 16 گھنٹے تک ہے۔
    دستاویز کے مطابق 1541 فیڈرز اب بھی روزانہ کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ چھ گھنٹے بجلی نہیں ہوتی ہے جبکہ 811 فیڈرز پر زیادہ سے زیادہ آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ حکومت کے ترتیب دیے گئے لوڈ مینجمنٹ پلان کے تحت مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے 580 فیڈرز ایسے ہیں جہاں 10 گھنٹے تک بجلی نہیں ہوتی ہے۔ ملک بھر میں 301 فیڈرز اب بھی ایسے ہیں جہاں روزانہ 12 سے 16 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔

    زیرو لوڈشیڈنگ والے علاقے
    حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی وافر پیدوار کے سبب 61 فیصد فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔ دستاویز کے مطابق ملک میں زیرو لوڈ شیڈنگ قرار دیے گئے 5297 فیڈرز میں سے سب سے زیادہ لاہور میں ہیں اور لاہور الیکٹراک سپلائی کارپوریشن کے 1227 فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے مستشنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ الیکٹراک سپلائی کاریوریشن گیپکو کے 748 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے 896 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ ملتان الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعینی میپکو کے769 فیڈرز کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن یعنی آئیسکو کے 710 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔ خیبرپختونخوا کے پورے صوبے کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی پشاور الیکٹراک سپلائی کارپویشن کے صرف 309 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی۔ اندرون سندھ میں میرپورخاص، حیدر آباد، تھر پارکر سمیت بیشتر زیریں سندھ کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن حیسکو کے صرف 204 فیڈرز پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔ بلوچستان کو بجلی فراہم کرنے والے کمپنی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کوئٹہ کے صرف 61 فیڈرز لوڈ شیڈنگ فری قرار دیا گیا ہے۔ سب سے کم لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ فیڈرز سکھر الیکٹراک سپلائی کارپوریشن سیپکو کے ہیں، جس کے صرف 24 فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ سیپسکو سکھر، لاڑ کانہ، شکار پور، نوشہرو فیروز ،گھوٹکی اور جیک آباد کے علاقوں میں بجلی فراہم کرتا ہے۔

    سارہ حسن
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    اب جب کہ موجودہ حکومت کے ختم ہونے میں ٹھیک ایک ماہ باقی ہے ایسے میں یہ حکومت ملک کے لیے معاشی مسائل کا ایک انبار چھوڑ کر جا رہی ہے۔ ملکی معیشت کی کوئی کل اٹھا کر دیکھ لیں ہر سمت معاشی مشکلات منہ کھولے کھڑی نظر آتی ہیں۔ بیرونی قرضے کا حجم دیکھیں تو یہ 90 ارب ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے۔ عوام اور مجموعی ملکی معیشت اس کا کس طرح بوجھ اُٹھائے گی۔ اس کا پتا نہیں، زرمبادلہ کی آمدنی کا اہم ذریعہ برآمدات ہیں، وہ 22 ارب ڈالر سے آگے نہیں جا سکیں اور اس طرح تجارتی خسارہ 33 ارب ڈالر متوقع ہے، یہ خسارہ کس طرح پورا ہو گا اس کا جواب حکومتی حلقوں کے پاس نہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل مل کا خسارہ 500 ارب روپے ہو چکا ہے، کب تک ملکی معیشت اس خسارے کو برداشت کرے گی، سیاسی پارٹیوں کو اس کی کوئی فکر نہیں.

    سماجی خدمات کی فراہمی مثلاً تعلیم و صحت کے معاملے میں سرکاری بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، چناں چہ غریب آدمی کی حالت کیسے بہتر ہو گی اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ لیکن آج کے کالم میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 20 مارچ کے اس اقدام کی بات ہو گی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی کر دی گئی اور اس طرح امریکی ڈالر جو 19 مارچ تک 110 روپے کا مل رہا تھا اب اس کی قیمت 115 روپے ہو گئی، یعنی قدر میں 4 فی صد کمی۔ اسی طرح کا ایک اقدام اسٹیٹ بینک کی جانب سے 8 دسمبر کو کیا جا چکا ہے جب روپے کی قدر میں 4.3 فی صد کمی کر دی گئی تھی اور ڈالر کی قیمت 104 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہو گئی تھی۔ اس طرح گویا صرف چار ماہ میں روپے کی قدر میں 8 سے 9 فی صد کمی ہو گئی اور ڈالر 115 روپے تک چلا گیا۔

    ڈالر کی بے قدری کی جو وجوہ بتائی جا رہی ہیں ان میں یہ کہا جا رہا ہے کہ روپے کی قدر پر بہت دباؤ تھا، زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے کم ہو کر 11 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ جولائی 2017ء سے لے کر فروری 2018ء تک کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8 ارب ڈالر ہو گیا ہے، کمزور روپے کی قدر برآمدات کو بڑھانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہو گی ۔ ڈالر پر دباؤ کم ہو گا لیکن جن امیدوں پر یہ اقدام کیا گیا ہے وہ شاید پوری نہ ہوں مگر ملکی معیشت اور عام آدمی پر جو برا اثر پڑے گا وہ یقینی ہے۔ مثلاً ڈالر مہنگا ہونے سے ملک میں آنے والی درآمدات مہنگی ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں خشک دودھ، چائے، ادویات، کاسمیٹکس، صنعتوں میں استعمال ہونے والا خام مال، پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔ 

    روزمرہ کی بعض اشیا کی قیمتوں کے بڑھ جانے سے اور ٹرانسپورٹیشن کی لاگت بڑھ جانے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا کمشنر کراچی نے اعلان کردیا ہے جو اب 94 روپے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہو گا۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تجارتی سرگرمیوں کے بار برداری کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر آئے گی۔ اسی طرح درآمدی خام مال، کیمیکل اور مشنری کے مہنگا ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا تو ملکی مصنوعات کے علاوہ برآمدات بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ اس طرح حکومت کا برآمدات میں اضافے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ اسی سلسلے میں پاکستان کا گزشتہ بیس پچیس سال کا ماضی گواہ ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کرنے کے باوجود پاکستان میں برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

    برآمدات میں اضافے کے لیے پیداواری لاگت میں کمی، کوالٹی میں اضافہ، ویلیو ایڈیشن سرمایہ کاری اداروں میں کرپشن اور بدانتظامی میں کمی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی ختم کر دی اور ان کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔ اس طرح پیداواری لاگت بڑھ گئی اور برآمدات کے معاملے میں پاکستان، انڈیا، چین اور ویت نام سے پیچھے رہ گیا۔ جب کہ مشینری، آٹو موبائل اور خام مال کی درآمدات میں اضافے سے برآمد و درآمد کا فرق بہت بڑھ گیا جسے تجارتی خسارہ کہا جاتا ہے۔ چناں چہ موجودہ حکومت یا آنے والی نگراں حکومت اگر واقعی تجارتی خسارہ کم کرنا چاہتی ہے تو روپے کی قدر میں کمی کے بجائے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن سے پیداواری لاگت میں کمی ہو اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی برآمدات باآسانی اپنی جگہ بنا سکیں، اسی طرح تجارتی خسارہ کم ہو گا اور ڈالر پر دباؤ میں کمی آئے گی، ورنہ روپے کی بے قدری سے سوائے مہنگائی میں اضافے کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

    ڈاکٹررضوان الحسن انصاری
     


    0 0

    دنیا کے تیزی سے پھیلتے 100 بڑے شہروں میں پاکستان کے بھی 8 شہر شامل ہیں، اس لحاظ سے گجرانوالہ شہر کا پاکستان میں پہلا نمبر ہے جس کی عالمی فہرست میں27ویں پوزیشن ہے جبکہ فیصل آباد کا نمبر 33 واں، راولپنڈی کا 34 واں، پشاور کا 36 واں اور کراچی کا 39 واں نمبر ہے۔ دنیا کے تیزی سے پھیلتے شہروں کی فہرست میں چین کا شہر بی ہائی سر فہرست ہے جو دنیا کا سب سے زیادہ تیزی سے پھیلتا شہر ہے یہ شہر 10 اعشاریہ 58 فی صد کے تناسب سے پھیل رہا ہے۔ 

    جب کہ بھارتی شہر غازی آباد کا نمبر دوسرا اور یمن کا شہر ثناء تیسرے نمبر پر برا جمان ہے۔ اس فہرست میں کابل کا نمبر 5 واں اور بنگلہ دیش کے شہر چٹا گانگ کا نمبر دسواں ہے۔ تیزی سے پھیلتے شہروں کی فہرست میں پاکستان کے کل آٹھ شہر شامل ہیں ان میں گجرانوالہ 27 ، فیصل آباد 33 ، راولپنڈی 34 ، پشاور 36 کراچی 39 ،لاہور 41، ملتان 45 ، حیدر آباد 54 ویں پوزیشن پر ہے۔
     


    0 0

    کوئی پانچ سات سال قبل مرحوم قاضی حسین احمد نے سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو ایک خط لکھا اور درخواست کی کہ فحاشی و عریانیت کی روک تھام کےلیے سوموٹو لیتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی جائیں تاکہ ہماری آئندہ نسلوں کو اس گندگی اور اس کے سنگین نتائج سے بچایا جا سکے۔ جسٹس افتخار چوہدری نے اس کیس کا سو موٹو لیا۔ ایک طرف متعلقہ محکمے سے کہا گیا کہ پھیلائی جانے والی فحش سائیٹس کو پاکستان کے اندربلاک کیا جائے تو دوسری طرف اُس وقت کےمتعلقہ حکام کوبلا کر پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے کہا کیا لیکن متعلقہ حکام جن کے لیے فحاشی و عریانیت کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس پر اعتراض کرنے والے اُن کی رائے میں تنگ نظر تھے، نے عدالت عظمیٰ کو جواب دیا کہ پہلے فحاشی کی تعریف تو کر دیں کہ فحاشی دراصل ہے کیا۔ 

    پھر کیا ہوا،متعلقہ ادارے کو ہی کہا گیا کہ فحاشی کی تعریف کریں، ایک کمیٹی بظاہر اس کام کے لیے بنائی لیکن مقصد دراصل اس مسئلہ کو ایسا الجھانا تھا کہ کوئی سلجھانے کو کوشش کرے تو اُسے فحاشی کی تعریف کے پیچھے لگا
    دیں ، پٹیشن کبھی سپریم کورٹ کے کسی ایک یا کبھی دوسرے بنچ کے سامنے لگا دی جاتی، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ریٹائر ہو گئے، اُس کے بعد دوسرے، تیسری، چوتھے، پانچویں اور پھر چھٹے چیف جسٹس تشریف لے آئے۔ نہ فحاشی کی تعریف ہوئی، نہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ بلکہ اس دوران فحاشی و عریانیت کا سیلاب مزید تیزی سے پھیلتا رہا اور اب یہ حالت ہے کہ اگر کوئی فحاشی و عریانیت کی بات کرے تو اُسے شدت پسندی اور قدامت پسندی سے جوڑا جاتا ہے۔ 

    انفرادی طورپر بات کریں تو سب کہتے ہیں حدیں پار کر دیں، جج بھی یہی کہتے ہیں لیکن مسئلہ کا حل کوئی نہیں نکالتا۔ اس کیس کی سماعت کے دوران بعض اوقات جج حضرات کی طرف سے بھی شکایات کا اظہار کیا جاتا رہا کہ حدود پار کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کا تو کہنا تھا کہ فحاشی پھیلانے میں امریکا سے بھی آگے نکل گئے۔ لیکن افسوس کہ اس کینسر کو جو ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے اُس کے علاج کے لیے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود مرحوم قاضی صاحب کی پٹیشن کی سپریم کورٹ میں موجودگی سے کم از کم ایک امید ضرور تھی کہ ہو سکتا ہے آج نہیں تو کل سپریم کورٹ اس اہم مسئلہ کی سنگینی کا خیال رکھتے ہوئے کوئی ایسا فیصلہ دے گی کہ اس بیماری سے اس قوم کی بچایا جا سکے گا۔

    مگر افسوس کہ گزشتہ ہفتہ سپریم کورٹ نے یہ امید بھی چھین لی۔ خبر کے مطابق: ’’ فحش مواد سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے، فاضل عدالت نے متعلقہ ادارے میں دائر شکایت پر 90 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ فحاشی نہیں ہونی چاہیے، ڈانس کا نوٹس لیا تھا، نوٹس لینے پر ایکشن لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ہو گا متعلقہ محکمہ اس معاملے پر پہلے خود کچھ کرے، فحاشی کی کوئی حتمی تعریف نہیں دے سکتا، فحاشی کے حوالےسے عدلیہ تو لغت کی تعریف پر انحصار کرتی ہے۔

    اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مرحوم قاضی حسین احمد کے انتقال کے بعد ان کے ورثا کیس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا بظاہر یہ بڑا ایشو ہے، یوٹیوب کے مواد کو روک نہیں سکتے، متعلقہ ادارے نے ریگولیٹ کرنا ہے، اس سے رپورٹ مانگ لیتے ہیں قابل اعتراض مواد پر کیا کیا؟ متعلقہ ادارے کے پاس اختیار ہے، کسی کو شکایت ہے تو اس سے رجوع کرے، قابل اعتراض مواد پر ایکشن نہ لے تو متعلقہ فورم موجود ہیں،یہ حکم دیا جا سکتا ہے کہ قابل اعتراض مواد کی روک تھام کرتے ہوئے نوٹس لے عریانی اور فحاشی والا مواد نہیں ہونا چاہیے، اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ، قابل اعتراض مواد کی کسی صورت اجازت نہیں ہے، بعدازاں عدالت نے متعلقہ ادارے کو شکایات پر90 میں فیصلہ دے۔ عدالت نے فحش مواد کیس نمٹا دیا.‘‘

    خبر سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ جج حضرات کو اس بات کا احساس ہے کہ فحاشی و عریانیت کو پھیلایا جا رہا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اس کے باوجود انہوں نے معاملہ متعلقہ محکمے کے سپرد کر دیا اور مشورہ دے دیا کہ جس کو اعتراض ہے وہ اس سے رجوع کرے اور یوں سپریم کورٹ نے اپنے اوپر سے بوجھ اتار دیا۔ پہلے تو ادارے نے فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے شاید ہی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہو لیکن جب معاشرتی دبائو کی وجہ سے یہ ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو اس میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں اور سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ کی طرف سے سامنے آئی۔ قاضی صاحب کی پٹیشن سے جان چھڑانی ہی تھی تو سپریم کورٹ کم از کم اُس بات پر غور کر لیتی جو ابصار عالم بار بار کہہ چکے ہیں لیکن اُن کی کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

    ابصار عالم کے مطابق متعلقہ محکمے کو تو عدالت کے اسٹے آرڈرز ہی کام نہیں کرنے دیتے بلکہ ادارہ کی رٹ ہی ان اسٹے آرڈرز کی وجہ سے ختم ہو چکی ہے۔ جب کسی کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے فوری عدالتی اسٹے آرڈر لے آتے ہیں اور یوں فحاشی و عریانیت ہو، دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانے یا پگڑیاں اچھالنے کا دھندہ نہ صرف اُسی طرح چلتا رہتا ہے بلکہ پہلے سے خلاف ورزی میں شدت اختیار کر دیتا ہے کیوں کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو معلوم ہے کہ نوٹس کا بہترین علاج عدالتی اسٹے آرڈر ہے۔ چلیں کوئی نہیں عدالت عظمیٰ نے اس کیس سے اپنی جان تو چھڑالی لیکن اس برائی کے خلاف جدو جہد نہیں رکنے والی چاہے عدلیہ کچھ نہ کرے اور بے شک کوئی کتنا طاقت ور کیوں نہ ہو جائے کیوں کہ اس کا تعلق ہماری نسلوں کے مستقبل اور ہماری آخرت سے ہے۔

    انصار عباسی


    0 0

    بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں اور ضلع اسلام آباد میں مختلف مسلح کارروائیوں کے دوران 17 نوجوانوں کو نشانہ بنایا اور 100 کے قریب زخمی ہو گئے جن کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ ضلع شوپیاں اور ضلع اسلام آباد میں کارروائیوں کے دوران جاں بحق نوجوانوں کی نماز جنازہ کی ادائیگی کے دوران بھارتی فوج نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 4 مزید نوجوان موقع پر دم توڑ گئے جس کے بعد جاں بحق نوجوانوں کی تعداد 17 ہو گئی جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہو گئے جنھیں سری نگر کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں مزید دو نوجوان جاں بحق ہو گئے۔











    0 0

    ملک بھر میں ’نامعلوم ‘ افراد کی جانب سے ہزاروں شہریوں کے جبری اغواء اور پھر لاپتہ کر دیے جانے کے سلسلے کا برسوں سے جاری رہنا ، پارلیمنٹ ، وفاقی و صوبائی حکومتوں ، آزاد و خود مختار ہونے کی مدعی اعلیٰ عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت پوری پاکستانی قوم کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیا اس کے باوجود ہم ایک پابند آئین و قانون ملک اور مہذب معاشرہ کہے جانے کے حق دار ہیں؟ بدقسمتی سے تمام آئینی ادارے اس لاقانونیت کو روکنے میں مکمل طور پر بے بس نظر آتے ہیں جس کا ایک واضح ثبوت قومی احتساب بیورو کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم جبری طور پر لاپتا افراد کے کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ ہے۔ 31 مارچ کی شام منظر عام پر آنے والی اس رپورٹ کے مطابق سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں ان واقعات میں ماہ بماہ اضافہ ہوا ہے۔

    جنوری میں یہ تعداد 80 تھی جو فروری میں 116 اور مارچ میں 125 تک پہنچ گئی۔ 31 مارچ کو ملک بھر میں لاپتا افراد کی کل تعداد 1710 تھی، جن میں سے 67 کا تعلق اسلام آباد، 300 کا پنجاب، 144 کا سندھ، 937 کا خیبر پختونخوا، 146 کا بلوچستان، 90 کا فاٹا،21 کا آزاد کشمیر اور 5 کا گلگت بلتستان سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سات برسوں میں 3274 لاپتہ ہونے والے افراد بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جبکہ گزشتہ فروری تک لاپتہ کیے جانے والے افراد کے مجموعی طور پر 4804 واقعات کمیشن کے علم میں لائے گئے۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ سوال یہ ہے کہ ملک بھر میں ان واقعات پر اظہار تشویش کے باجود یہ معمہ حل کیوں نہیں ہوتا کہ یہ نامعلوم افراد کون ہیں اور انہیں قانون کے دائرے میں لانے کی کوششیں کا میاب کیوں نہیں ہوتیں۔ اگر ہمیں ایک مہذب معاشرے کی حیثیت سے دنیا میں اپنا مقام بنانا ہے تو پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج سمیت تمام ریاستی اداروں کو اس بے انصافی اور ظلم کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر پیش قدمی کرنی ہو گی۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    بلاشبہ سوشل میڈیا نے دنیا کو گلوبل ویلیج کی صُورت دے دی ہے، کیوں کہ اِس نے ایک دوسرے سے ہزاروں میل دُور بسنے والوں کو آمنے سامنے بٹھا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بہت سی سماجی، تعلیمی اور معاشی سہولتیں فراہم کی ہیں‘ وہیں اُس کے کچھ نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ فیس بُک ہی کو دیکھ لیجیے، اس نے ایک’’ عالمی برادری‘‘ تو تشکیل دی، جس کے ذریعے ہم بہت سے فوائد سمیٹ رہے ہیں، لیکن اس کے نقصانات بھی کچھ کم نہیں۔ سب سے خطرناک بات جو سامنے آئی کہ فیس بُک سے لوگوں کی پرائیویسی ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

    آئی ٹی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ’’ فیس بُک انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک ایسی کوئی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس سے لوگوں کی نجی زندگی مکمل طور پر محفوظ ہو۔ اگر ہم پرائیویسی سے متعلق فیچر بند کریں، تو فیس بُک اکائونٹ ہی بند ہو جاتا ہے۔‘‘ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایک بار فیس بُک ایپلی کیشن ڈائون لوڈ کرنے کے بعد، فیس بُک انتظامیہ ہر نوعیت کی بات چیت ریکارڈ کر سکتی ہے اور یوں اسے اہم مُلکی رازوں تک رسائی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    بعض لوگوں کا خیال ہے کہ فیس بُک کے اس آپشن کے ذریعے جرائم ،خاص طور پر دہشت گردی کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس سب کچھ کے باوجود، حقیقت یہی ہے کہ فیس بُک نے انسان کی پرائیویسی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
    ماہرین کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کا فیس بُک اکائونٹ لاگ اِن نہ ہو، تب بھی یہ ریکارڈنگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کیوں کہ آپ کے موبائل فون میں فیس بُک کی ایپلی کیشن تو ڈائون لوڈ ہے اور اس ڈائون لوڈنگ کے لیے آپ نے جن قواعد و ضوابط کو قبول کیا تھا، اُن میں گفتگو ریکارڈ کرنے کی اجازت بھی شامل تھی۔ سو، فیس بُک انتظامیہ جب چاہے، آپ کی باتیں سُن سکتی ہے اور اُسے ایسا کرنے کی اجازت آپ نے خود دی ہے، لہٰذا آپ اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں کر سکتے۔ بس یہی ہو سکتا ہے کہ جب تک گفتگو کی ریکارڈنگ کا کوئی توڑ سامنے نہ آئے، آپ فیس بُک کے استعمال میں احتیاط کریں اور اپنے’’ رازوں‘‘ کو اس سے دُور ہی رکھیں۔

    حنا شہزادی 


    0 0

    پاکستان میں جنگ گروپ کا ٹی وی چینل جیو نیوز حکومت کے اعلان کے باوجود مختلف شہروں میں کیبل پر بحال نہیں کیا جا سکا۔ یہ چینل ماضی میں بھی کئی بار بند کیا جا چکا ہے۔ جیو کی انتظامیہ اور کارکن ہر بار شديد احتجاج کرتے رہے ہیں لیکن ماضی کے برعکس چینل کی انتظامیہ خاموش ہے۔ گزشتہ روز الیکٹرونک میڈیا کی ریگولیٹری اتھارٹی پیمرا نے کہا تھا کہ چینل بند کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ دو کیبل آپریٹرز کو نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت چینل بحال کروا ئے گی۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ چینل بند کروانے والے ان سے زیادہ بااختیار ہیں۔

    پاکستان میں صحافیوں کی ملک گیر تنظیم پی ایف یو جے کے سابق صدر مظہر عباس نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو قانونی طریقے موجود ہیں جنہیں استعمال کر کے چینل پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ پیمرا کا ایک طریقہ کار ہے جس پر عمل ہونا چاہیے۔ کیبل آپریٹرز کے پاس یہ اختیار نہیں کہ کسی چینل کو بند کر دیں یا آخری نمبر وں پر پھینک دیں۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر چینل کی بندش آزادی صحافت کے لیے بہت بڑا سوال ہے۔ کیا ریاست کے اندر ریاست قائم ہے؟

    کیبل آپریٹرز ایسوی ایشن کے عہدے دار تسلیم کرتے ہیں کہ جیونیوز کسی کے کہنے پر بند کیا گیا ہے۔ لیکن وہ بے بس ہیں اور یہ تک نہیں بتا سکتے کہ چینل کس کے کہنے پر آف ایئر کیا گیا ہے۔ صحافیوں کی تنظیم سیفما کے عہدے دار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کی نشریات روکنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ چینل کی انتظامیہ معاملات ٹھیک کرنے کے لیے ملٹری اتھارٹیز سے مذاكرات کر رہی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ ڈان نیوز کے سینیر صحافی مبشر زیدی کہتے ہیں کہ ایک فون کال آتی ہے اور چینل بند ہو جاتے ہیں۔ سب لوگ جانتے ہیں کہ چینل کس نے بند کرائے ہیں۔

    ’جیو بہت عرصے سے یک رخی کوریج کر رہا تھا لیکن دوسری جانب ایسے چینل بھی ہیں جو خادم حسین رضوی کے ساتھ دھرنا دینے والوں کو کھانا بھجوا رہے تھے۔ ایک چینل اور ہے، وہ بھی یک رخی کوریج کر رہا ہے لیکن چونکہ وہ ڈیپ اسٹیٹ کے مفاد میں ہے اس لیے اس کی نشریات جاری ہیں‘۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آزادی صحافت کو اسی طرح پابند کیا جاتا رہا تو جیونیوز کے بعد دوسرے چینلوں کی باری بھی آ سکتی ہے اور چند ماہ بعد ہونے والے عام انتخابات کی شفاف کوریج پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    گزشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک دکھی ماں کا سسکیوں بھرا آڈیو پیغام سننے کو ملا۔ پیغام ریکارڈ کراتے وقت اس ماں کا رونا رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا لیکن اس کے اس پیغام میں ایک گلہ تھا تو ایک امید بھی تھی۔ یہ گلہ اور یہ امید دونوں پاکستان سے متعلق تھے اور یہ پیغام بھی پاکستان ہی کے لیے تھا۔ روتے روتے درد بھری آواز میں مقبوضہ کشمیر کی یہ ماں کہنے لگی کہ پاکستان میں بسنے والوں کو یہ کہہ دیجیے کہ پورا مقبوضہ کشمیر لہو لہان ہے، یہاں اس وقت بھی جہاں ایک طرف لوگ لاشیں گن رہے ہیں وہیں پاکستان کے ترانے بج رہے ہیں، مسجدوں کے لائوڈ اسپیکر سے پاکستان زندہ باد کے نعرہ لگائے جا رہے ہیں.

    اس لیے کم از کم اُن (پاکستان اور پاکستانیوں) سے کہہ دیجیے کہ کچھ نہیں تو پاکستان میں یوم سیاہ کا اعلان ہی کر دیں، صرف ایک دن کا یوم سیاہ، اپنے کشمیری مسلمانوں کے لیے، مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر صرف ایک دن کا یوم سیاہ منا لیں، کب تک مریں گے لوگ یہاں، اس لیے آپ یہ پیغام پہنچا دیں جہاں جہاں تک پہنچا سکتے ہیں، اور انہیں (پاکستانیوں
    کو) کہہ دیجیے کہ کشمیر کے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، آپ کو پتا ہے کہ یہاں (مقبوضہ کشمیر میں) کون سے ترانے گونج رہے ہیں، اس پرچم (پاکستانی پرچم) کے سائے تلے اب آنا ہے اور اپنے پاکستان کو بچانا ہے.

    لیکن ہمارا پاکستان تو خاموش ہے۔ جس درد اور دکھ کے ساتھ اس کشمیری ماں نے پاکستان کے لیے یہ آڈیو پیغام بھیجا ہے اُسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دہائیاں گزر گئیں لیکن کشمیر پر بھارتی مظالم نہ رکنے کا نام لے رہے ہیں اور نہ ہی ان کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی نصیب ہو رہی ہے۔ بلکہ ظلم ہے کہ روز بروز بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے خلاف اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی نہ رکنے والی ریاستی دہشتگردی کے جواب میں پاکستان میں روایتی طور پر مذمتی بیان جاری کر دیے جاتے ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ چند روز قبل بیس کے قریب کشمیری نوجوانوں کی شہادت کے نتیجے میں پاکستان میں ماضی کی طرح ایک بار پھر مذمتی بیانوں کی روایت کو دہرایا جا رہا ہے۔ 

    آئندہ جمعہ کے دن کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ یوم یکجہتی کیسے منایا جائے گا اس کی کوئی تفصیل ہمیں معلوم نہیں۔ کیا ہمارے ملک کے تمام سیاسی رہنما ایک پلیٹ فارم پر مل کر کشمیریوں کے حقوق کے لیے ملین مارچ کر سکتے ہیں؟ کیا پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، وزارت خارجہ اور خارجہ امور کے ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ کر پاکستان کے روایتی ردعمل سے بڑھ کر کشمیرکے مسئلہ کے حل کے لیے کوئی حکمت عملی بنا سکتے ہیں جس سے دہائیوں کی غم بھری اس کہانی کا خاتمہ ہو سکے؟ صرف یوم سیاہ یا یوم یکجہتی کشمیر منانے سے یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ پاکستان اگر تنہا اس مسئلہ پر بات کرے گا تو اس کی بات بھی سنی ان سنی کی جاتی رہے گی۔ 

    اقوام متحدہ تو امریکا کی لونڈی ہے اور امریکا کو بھارت اپنے مفاد کے لیے انتہائی عزیز ہے اس لیے بھول جائیں کہ امریکا اور اقوام متحدہ کشمیر کے لیے کچھ کریں گے۔ پاکستان کو پاکستان کے طور پر نہیں بلکہ اسلامی امہ کا اہم رکن کے طور پر کشمیر سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے حکمت عملی طے کرنی ہو گی۔ اگر ایسا نہیں ہو گا تو پھر بھول جائیں کہ پاکستان کی کوئی سنے گا یا اقوام متحدہ کی کشمیر کے متعلق قراردادوں پر کبھی عمل ہو گا۔ ایک اسلامی ملک ہونے کی حیثیت سے کشمیر، فلسطین سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے دکھ اور درد کا مداوا کرنے کے لیے پاکستان کو مسلم امہ کے ضمیر کو جھنجوڑنا ہو گا۔ ایک طرف کشمیر میں بھارتی مظالم رکنے کا نام نہیں لیتے تو دوسری طرف اسرائیل بلا روک ٹوک بے شرمی اور ڈھٹائی سے فلسطینیوں کے قتل عام میں آگے سے آگے بڑھتا جا رہا ہے۔ 

    مسلمانوں پر یہ ظلم صرف کشمیر یا فلسطین تک محدود نہیں بلکہ اسے ہر طرف پھیلایا جا رہا ہے۔ عراق، افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرنے کے بعد بھی ابھی اسلام دشمنی کی آگ نہیں بجھ رہی۔ چند روز قبل ہی افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک مدرسے پر امریکی و نیٹو افواج کی طرف سے میزائل حملہ کر کے ایک سو سے زیادہ معصوم بچوں کو شہید کر دیا گیا جن کی تصویریں سوشل میڈیا میں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اس ظلم کے خلاف تو روایتی مذمتی بیان بھی پڑھنے کو نہیں ملے۔ پاکستان کے ذمہ دار خود جانتے ہیں کہ یہاں کیسے دہشتگردی کو ہوا دی گئی، کیسے پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں.

    کون کون پاکستان کو کمزور کرنے کا کھیل کھیل رہا ہے۔ یہی کھیل سعودی عرب کے خلاف کھیلے جا رہے ہیں، اسی طرح لیبیا، شام، عراق، یمن میں آگ و خون کے دریا بہائے گئے، برما میں روہنگیا مسلمانوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے، اُن کے گھروں کو آگ لگائی جا رہی ہے، خواتین کی بیحرمتی کی جا رہی ہے ، یورپ اور امریکا میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑایا جا رہا ہے اور یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ ہم مسلمان امہ کی بجائے وطنیت کی بنیاد پر اپنی اپنی قوم پرستی کو پوجتے رہیں ۔ مسلمانوں پر دنیا بھر میں ہونے والے مظالم کو روکنا ہے تو ہمیں مسلمان بن کر سوچنا ہو گا اور اس میں پاکستان کو پہل کرنی چاہیے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    بھارت میں نچلی ذات سمجھی جانے والی ’دلت‘ کمیونٹی کے دو سیاسی رہنماؤں کے گھر جلائے جانے کے بعد سیکنڑوں سکیورٹی اہلکاروں نے راجھستان کے ایک ضلع میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت میں سیاحت کے لیے مشہور ریاست راجھستان میں دلت ذات سے تعلق رکھنے والے افراد اور ان کے مخالفین کے درمیان شدید تناؤ کی صورتحال ہے۔ دلتوں کے احتجاج سے ناراض لگ بھگ پانچ ہزار مشتعل افراد نے راجھستان کے ضلع کاراولی میں دلت ذات کے دو سیاست دانوں کے گھروں کو جلا دیا۔ اس وقت دونوں سیاست دان گھر پر موجود نہیں تھے۔

    ضلع کے سینئر اہلکار ابھیمانیو کمار نے بتایا، ’’ہم نے کچھ افراد کو تشدد کے جرم میں گرفتار کیا ہے، کرفیو بھی نافذ ہے اور چھ سو سے سات سو سکیورٹی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔‘‘ اس واقعے سے قبل بھارت کے مختلف شہروں اور اضلاع میں ہزاروں دلت سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس میں ان کے حقوق سے متعلق قانون کی ایک شق میں تبدیلی کا حکم دیا گیا تھا۔ ان احتجاجی مظاہروں میں لگ بھگ نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایک وقت تھا جب دلتوں کو ’اچھوت‘ کہا جاتا تھا۔ بھارت کی 1.25 ارب آبادی میں سے لگ بھگ 200 ملین افراد دلت ذات سے تعلق رکھتے ہیں جسے بھارتی معاشرے میں سب سے نچلی ذات تصور کیا جاتا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں حکم دیا تھا کہ دلتوں کو ہراساں یا ان کے ساتھ زیادتی کرنے کے جرم میں فوری گرفتاری کے قانون کو تبدیل کیا جائے گا۔ اب اس نئے حکم کے بعد دلت کمیونٹی کے کسی فرد کی جانب سے شکایت کیے جانے کے بعد سات روز تک تحقیقات کی جائیں گی جس کے بعد ہی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ اس قانون کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم دلت رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب ان کی کمیونٹی زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے ملک بھارت میں اگلے برس پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہو گا اور اس سے قبل مختلف مذاہب اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک ایک اہم سیاسی معاملہ بنا ہوا ہے۔ بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں پر ان مظاہروں کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا ہے۔ بی جے پی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس عدالتی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کر دی ہے۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    امریکی حکام کی جانب سے کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 16 سال کی سخت محنت اور 70 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود امریکا افغان فورسز کو ’ مکمل باصلاحیت‘ بنانے میں ناکام رہا۔ افغانستان کی بحالی پر مامور امریکا کے خصوصی انسپکٹر جنرل ( سیگار) نے اپنی پیش کردہ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ افغانستان کی بری فورسز اب فضائی مدد چاہتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے افغان ایئرفورس کے لیے یہ ضروری ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے اور ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ بنانے سے روکنے کے لیے افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز ( اے این ڈی ایس ایف) کو مکمل باصلاحیت بنانا بھی امریکی قومی سلامتی کا مقصد تھا۔ کانگریس کے سامنے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2002 کے بعد سے اے این ڈی ایس ایف پر امریکی حکومت کے 70 ارب ڈالر کی سیکیورٹی امداد خرچ کرنے، ان کی تربیت، مشاورت اور معاونت کرنے کے باوجود افغان فورسز اپنی ہی قوم کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں۔

    اس حوالے سے امریکی محکمہ دفاع کے ایک اور سینئرعہدیدار میرن استرمیکی نے خبردار کیا کہ ’ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دشمن مضبوط ہے بلکہ افغان حکومت بہت کمزور ہے‘۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی اور افغان حکام میں افغانستان میں قومی فوج کی نوعیت اور دائرہ کار پر شروع سے ہی اختلاف تھا اور افغان ایک بڑی فوج چاہتے تھے جو پاکستان کا سامنا کر سکے، تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ افغانستان میں استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان نہیں بلکہ گروپوں کی لڑائی ہے۔
     


    0 0

    چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ میں ’ہر قیمت‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں چینی مصنوعات کی درآمد پر مزید ایک سو بلین ڈالر مالیت کے ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتصادیات سے متعلق ملکی محکمے کو چینی مصنوعات پر درآمدی ٹیکس دوگنا کر کے مزید ایک سو بلین ڈالر تک لے جانے کو کہا ہے۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر پچاس ارب ڈالر کی برآمدی محصولات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ چین نے ٹرمپ کے ان اقدامات پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے چین میں درآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات پر بھی ’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘ کے اصول کے تحت اتنی ہی مالیت کے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ علاوہ ازیں صدر ٹرمپ کی بے چینی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے چین نے یہ معاملہ بین الاقوامی تجارتی ادارے ’ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ میں بھی لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اب امریکی صدر نے درآمدی محصولات ایک سو ارب ڈالر تک لے جانے کا عندیہ دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’’چین کی جانب سے ناجائز جوابی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے امریکی تجارتی نمائندہ تنظیم سے درخواست کی ہے کہ وہ چینی مصنوعات پر ایک سو بلین ڈالر مالیت کے اضافی ٹیکس نافذ کرنے کا جائزہ لیں۔‘‘ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ تجارت سے متعلق امریکی ماہرین کے جائزوں کے مطابق چین کو مسلسل امریکی 'انٹیلکچوئل پراپرٹی‘ کے ناجائز حصول میں ملوث پایا گیا ہے۔

    ان نئے ممکنہ امریکی اقدامات کے باعث امریکا اور چین کے مابین تجارتی جنگ میں شدت آتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ممکنہ تجارتی جنگ کی صورت میں ’ہر قیمیت‘ ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ چین کی وزارت تجارت کی طرف سے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر امریکا بین الاقوامی کمیونٹی اور چین کے خلاف یک طرفہ اقدامات لے گا تو بیجنگ حکومت بھی ہر ممکن اقدام کرے گی۔ چینی وزارت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’چین امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہم پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے‘۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نقیب اللہ محسود کے والد سے ملاقات کر کے ان کے بیٹے کی موت پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں نقیب اللہ محسود کے والد سے ملاقات اور مرحوم کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی۔ آرمی چیف نے یقین دہانی کرائی کہ فوج آپ کو انصاف دلانے کیلیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔ اس موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے مرحوم نقیب اللہ محسود کے بچوں کو پیار بھی کیا۔ 




    0 0

    پاک چین دوستی، یہ لفظ بچپن سے سنا۔ چین کو ہم نے دیونہ وار چاہا، چین نے بھی ہم سے محبت کی۔ اس محبت کو ہم متوسط طبقے کی گھٹی ہوئی مجبور اور ستوانسی محبتوں کی طرح دل میں دبائے نہیں پھرے، بلکہ دونوں ملکوں نے اپنی وفاؤں کا بارہا اور برملا اظہار کیا۔ اسی محبت کی ایک نشانی، سی پیک کی صورت میں ابھی میوں میوں چلنا شروع ہوئی تھی کہ کچھ اجڈ اور عاقبت نااندیش پاکستانی اور چند احمق چینی اس پہ اپنے گندے جوتوں سمیت دھم سے کود گئے۔
    شناسائی، دوستی، محبت، وفا، عشق اور پھر جنوں، شاید انسانی تعلقات میں مانوسیت کے جذبے کو ان مدارج میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ شاید اس لیے کہا کہ انسانی تعلقات کے بارے میں کوئی بھی بات حتمی طور پہ نہیں کہی جا سکتی۔ انسان اپنے جذبوں کے بارے میں بہت عجیب واقع ہوا ہے۔

    انسان اس پہ ایشیائی انسان اور اس سے بھی بڑھ کے جنوبی ایشیائی اور پاکستانی انسان تو اپنے تعلقات اور جذبات اور وفاداریوں کے بارے میں بہت ہی عجیب واقع ہوا ہے۔ اس خطے کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، باہر سے آ نے والوں کے لیے دو طرح کے رویے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ ان نو واردوں سے سخت خوف کھاتے ہیں اور اسی خوف کے تحت ان سے نفرت کرتے ہیں اور موقع آنے پہ ان کے درپئے ہونے کو بھی ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ نئے آنے والوں کے لیے خیر سگالی کے جذبے سے اس قدر معمور ہوتے ہیں کہ اکثر یہ جذبہ ان کے ظرف کے پیمانوں اور ہوش و خرد کی حدوں سے باہر چھلک جاتا ہے۔ ہر دو صورتوں میں نقصان اس خطے کے باشندوں کا ہی ہوتا ہے۔ قاعدہ ہے کہ جو قوم، اپنے ملک اور علاقے سے نکل کر کسی دوسرے علاقے کا رخ کرتی ہے یقیناً اپنے رشتے کی پھوپھی سے ملنے تو نہیں آتی اور نہ ہی اس کے پیشِ نگاہ سیاحت کا جذبہ ہوتا ہے۔

    ظاہر ہے، دوسرے خطوں میں موجود مادی فوائد ہی انھیں وہاں سے کھینچ کر لاتے ہیں۔ گھر بار کا سکھ چھوڑ کے آ نے والے، اپنے بن باس کی پوری قیمت وصول کرتے ہیں۔ برِصغیر نے بارہا یہ قیمت ادا کی۔ یہ دھرتی اتنی زرخیز ہے کہ جانے کتنی نسلوں کو خود میں جذب کر چکی ہے۔ اس لیے ہمیں کسی چینی اور ترکی سے تو بالکل بھی کسی قسم کا خوف نہیں۔ لیکن بہر حال، تعلقات کے قرینے ہوتے ہیں۔ پاکستانی پولیس اور چینی کارکنوں کے جھگڑے کی وجہ مبینہ طور پر چینی کمپنی کی طرف سے پولیس کیمپ کی بجلی پانی بند کرنا اور جواب میں پولیس والوں کا ان کی نقل وحرکت کو محدود کرنا، اس پہ چینیوں کا بھڑک کر لڑنا اور بعد ازاں پٹنا سمجھا جا رہا ہے۔

    سبھی نے اس واقعے کی ویڈیو دیکھی اور بارہا دیکھی۔ سب سے تکلیف دہ اور غصہ دلانے والا لمحہ وہ ہے جب پولیس کی گاڑی پہ بنا پاکستانی پرچم چینی کارکن کے جوتے سے نیچا نظر آ رہا ہے۔ ٹھنڈے سے ٹھنڈے دل و دماغ کا انسان بھی اس منظر کو دیکھ کر جذباتی ہو سکتا ہے۔ میں تو یوں بھی پاکستانی جھنڈے اور ترانے کے سلسلے میں بےحد جذباتی مشہور ہوں۔ کہیں ترانہ بجا نہیں اور میرے آنسو بے قابو۔ جھنڈے کا یہ ہے کہ بنے بنائے جھنڈے کی بجائے ہمارے ہاں ہمیشہ گھر کا سلا ہوا پرچم لہرایا گیا۔ اس پرچم پہ چاند تارہ ٹانکنا اتنا آسان نہیں، وہ بھی ایسے کہ تارے کا کوئی کونا بے ڈھب نہ ہو، چاند کی گولائی کہیں بے ڈھنگی نہ ہو اور کہیں سے بھی کوئی پھونسڑا نہ نکلے۔ اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ مغرب کے بعد کبھی پرچم لہراتا نہ رہ جائے اور یومِ آ زادی گزرنے کے بعد اسے بے حد احترام سے ململ کی تہوں میں لپیٹ کے اگلے سال کے لئے سینت لیا جاتا ہے۔

    یہ جھنڈا میرے مرحوم ساس سسر نے عین سرکاری پیمائش پہ تیار کیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے اس ملک کے لیے کی جانے والی جدو جہد میں حصہ لیا، 1945-46 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالے اور پھر انسانی تاریخ کی خوفناک ترین اور سب سے بڑی ہجرت کی۔ آج وہ لوگ دنیا میں نہیں اور شاید اچھا ہی ہے کہ ایسے وقت سے پہلے نہ رہے۔ دنیا داری کے، بین الاقوامی تعلقات کے، انسانی اور قومی مصلحتوں کے بہت سے تقاضے ہوتے ہیں، لیکن ہر بار جب اس ملک کی خود مختاری کا مذاق اڑاتے ہوئے، کوئی ڈرون حملہ ہوتا ہے، کسی بھرے شہر میں کسی کو مارنے والا دندناتا ہوا نکل جاتا ہے، کسی ملک کی پراکسی لڑنے کے لیے ایک پوری نسل کو جنگ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے، کسی ملک کے امرا شکار کے بہانے مستاتے پھرتے ہیں، کوئی 'آپریشن نیپچون سپیئر'ہوتا ہے، کسی حلیف ملک کے جنگی جہاز بمباری کرتے ہیں اور کسی دوست ملک کا شہری پاکستانی پرچم سے اوپر پاؤں لیے پھنپھناتا ہے تو ساری مصلحتیں، ساری دنیا داری، سب سفارتی عیاریاں اور قومی مفاد کے لیے اختیار کیا گیا تمام تحمل رفو چکر ہو جاتے ہیں اور اس کی جگہ ایک خالصتاً پاکستانی جذباتیت اڑ کے کھڑی ہو جاتی ہے اور چلا چلا کے کہتی ہے، 'کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے، قومی مفاد ہی نہیں کوئی قومی وقار بھی ہوتا ہے۔‘

    آمنہ مفتی
    مصنفہ و کالم نگار

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


older | 1 | .... | 123 | 124 | (Page 125) | 126 | 127 | .... | 149 | newer