Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 122 | 123 | (Page 124) | 125 | 126 | .... | 149 | newer

    0 0

    انٹرنیٹ تازہ اور خبروں کا آسان ذریعہ ہے جس تک سب کی رسائی ہے لیکن اکثر تصاویر جھوٹ کا ملغوبہ ہوتی ہیں جنہیں پہچاننا مشکل کام ہوتا ہے تاہم ایک ویب سائٹ نے یہ کام آسان کر دیا ہے۔ اب کوئی جعلی تصویر بچ نہیں سکے گی۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران بارہا چونکا دینے والی تصاویر سے سامنا ہوتا ہے جبکہ بعض تصاویر اپنی ہیئت اور منظر کشی کے باعث حیرانی میں مبتلا کر دیتی ہیں اور دل کہتا ہے کہ تصاویر سچی ہیں لیکن دماغ انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے۔ اگر آپ دل و دماغ کی اس کشمکش سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ویب سائٹ آپ کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

    ’’فوٹو فارنزک‘‘ (fotoforensics.com) نامی یہ ویب سائٹ سائنسدان نیل کراویٹز نے 2012 میں تخلیق کی تھی جس کا سب سے بڑا خاصّہ اس کا آسان استعمال ہے۔ تصویر کی حقیقیت معلوم کرنے کےلیے تصویر کو یا تصویر کے لنک کو ویب سائٹ کی مخصوص سرچ بار میں ڈالیے اور صرف ایک کلک سے نتیجہ حاصل کر لیجیے۔ ویب سائٹ کا الگورتھم تصویر کو چھوٹے سے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کر کے فوراً بتا دیتا ہے کہ وہ اصلی ہے یا نقلی۔ یہ ویب سائٹ کسی خردبین (مائیکرو اسکوپ) کی طرح کام کرتی ہے اور تصویر کے ڈیزائن میں وہ پوشیدہ خدوخال بھی سامنے لے آتی ہے جنہیں انسانی آنکھ دیکھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ 

    اس کےلیے فوٹو فرانزک ویب سائٹ ایک خاص طریقہ استعمال کرتی ہے جس میں اغلاط کی شرح کا تجزیہ (Error Level Analysis) کرتے ہوئے تصویر کے کناروں، بناوٹ اور سطح کے باریک حصوں کا بھی جائزہ لے لیتی ہے جنہیں انسانی آنکھ سے دیکھنا ناممکن ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ کا یہی تجزیاتی ٹول تصویر کے میٹا ڈیٹا کا بھی تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے تحت ویب سائٹ پتا چلا لیتی ہے کہ تصویر میں پہلی مرتبہ ترمیم کب کی گئی تھی اور آیا تصویر کو ایڈٹ کرنے کےلیے فوٹو شاپ وغیرہ کا استعمال کیا گیا تھا یا براہ راست کیمرے کے ذریعے ہی اسے ایڈٹ کر لیا گیا تھا۔ اگر تصویر کو ایک سے زائد بار ایڈٹ کیا گیا ہے تو ویب سائٹ اس کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

     


    0 0

    جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے ، میں اسے کوئی نام دینے سے قاصر ہوں۔ اگر کوئی فلسطین کی آزادی کے لئے تحریک چلا رہا ہو اور جا کر نیتن یاہو کو اس تحریک کا قائد بنا لے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟۔ اگر کوئی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ساری زندگی سرگرم عمل رہا ہو لیکن آخر میں جا کر خادم حسین رضوی کے ہاتھ پر بیعت کر لے تو آپ اسے کیا نام دیں گے؟۔ اگر کوئی سیاست سے دوغلے پن اور خوشامد کے کلچر کو ختم کرنے کے لئے ساری زندگی جتن کرتا رہا ہو لیکن آخر میں جا کر نوازشریف کو اس تحریک کا قائد اور مشاہد حسین سید کو اپنا ساتھی بنا لے تو اس شخص کی عقل پر کیا آپ ماتم نہیں کریں گے۔

    اگر کوئی سیاست سے بدتمیزی کے کلچر کو ختم کرنے کے لئے ساری زندگی سرگرم عمل رہا ہو لیکن آخر میں جا کر عمران خان سے یہ توقعات وابستہ کر لے تو اس شخص کو آپ پاگل نہیں سمجھیں گے۔ اگر کوئی سیاست سے جھوٹ کو ختم کرنے کا متمنی ہو لیکن اس مشن کے لئے شیخ رشید احمد کو اپنا قائد بنا لے تو خود اس شخص کو جھوٹا نہیں سمجھا جائے گا۔ یقین جانیے اس ملک کے حقیقی مالک آج کل یہی کر رہے ہیں اور اس لئے میں اس روش کو کوئی نام دینے سے قاصر ہوں۔ میاں نوازشریف کو کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر فارغ کیا جا رہا تھا لیکن اس شخص کو ان کے خلاف تحریک کی قیادت سونپ دی گئی جو پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں کرپشن کے سمبل (Symbol) ہیں۔

    اسی طرح سالوں سے عمران خان کو میاں نوازشریف کو آئوٹ کرنے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا لیکن جاتے جاتے ان کو آصف علی زرداری کے قدموں میں بٹھا دیا گیا۔ نوازشریف کو آئوٹ کرنے کے مشن میں منتخب ایوانوں کو منڈیوں میں تبدیل کر دیا گیا اور ظاہر ہے منڈیوں سے پھر رضاربانی نہیں بلکہ مانڈوی والا ہی نکلتا ہے۔ صادق اور امین ڈھونڈنے نکلے تھے لیکن صادق سنجرانی مسلط کر دیا گیا۔ وہ سنجرانی جو سید یوسف رضاگیلانی جیسے صادق اور نواب اسلم رئیسانی جیسے امین ہیں۔ ایک ہفتہ پہلے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے دو درجن ممبران صوبائی اسمبلی کو ایسے خریدا جیسے منڈی میں گدھوں کو خریدا جاتا ہے لیکن ہفتہ بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو ڈنڈے کے خوف سے بکریوں کی طرح ایک رسی میں باندھ کر مہار آصف علی زرداری کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

    زرداری پر ایم پی ایز کی خریداری کا الزام عمران خان صاحب نے لگایا اور اپنے سینیٹرز کو ان کے قدموں میں بھی خود انہوں نے ڈالا ۔ اب کوئی بابا ہی یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ عمران خان اور زرداری میں صادق کون ہے اور امین کون۔ کہتے ہیں کہ اس بے شرمی کا ارتکاب بلوچستان کی خاطر کیا گیا حالانکہ بلوچستان تو کیا پختونخوا اور فاٹا کی بھی اس سے بڑی بے توقیری اور کوئی ہو نہیں سکتی جو سینیٹ اور پھر چیئرمین کے انتخاب کے عمل میں کی گئی ۔ دنیا کو پیغام دیا گیا کہ بلوچستان کے منتخب نمائندے اپنی مرضی کے مالک نہیں بلکہ ڈنڈے یا دولت کے غلام ہیں ۔ کیا یہ بلوچستان کی خدمت ہے؟ ۔ 

    پختونوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ توپ اور ٹینک کے آگے بھی ڈٹ جاتے ہیں لیکن سینیٹ انتخابات کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا گیا کہ پختونخوا کے لوگوں کے منتخب ممبران نوٹ کے آگے ڈھیر ہو جاتے ہیں ۔ کیا یہ پختونخوا کی خدمت ہے ؟۔ فاٹا کے لوگ غیرت اور وفاداری کے لئے مشہور تھے لیکن سینیٹ انتخابات اور پھر چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ ان کے منتخب ممبران سب سے زیادہ بے ضمیر یا پھر نوٹ اور ڈنڈے کے آگے ڈھیر ہو جانے والے ہیں ۔ کیا یہ قبائلیوں کی خدمت ہے ؟۔

    حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا راستہ خود میاں نوازشریف اور ان کے اتحادیوں نے ہموار کیا لیکن آصف زرداری اور عمران خان نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ میاں صاحب نے چھوٹے صوبوں اور چھوٹی قومیتوں کو نظرانداز کیا اور پارلیمنٹ کو رتی بھر اہمیت نہیں دی۔ بلوچستان اور پختونخوا میں اپنی جماعت پر توجہ دینے کی بجائے انہوں نے بلوچستان اچکزئی صاحب اور ثناء اللہ زہری کو جبکہ پختونخوا مولانا فضل الرحمان اور اقبال جھگڑا کو ٹھیکے پر دیا جبکہ خود وسطی پنجاب کے وزیراعظم بن گئے۔ وہ چمچوں اور چاپلوسوں میں گھرے رہے۔ پارلیمنٹ کو کبھی اہمیت نہیں دی۔

    بلوچستان میں کرپشن کی ایسی بدترین تاریخ رقم ہوئی کہ جب ثناء اللہ زہری اور اچکزئی صاحب کی پارٹی کو اقتدار سے نکالا گیا تو پورے بلوچستان میں دو بندوں نے بھی ان کے حق میں احتجاج نہیں کیا ۔ جب اچکزئی صاحب کی جمہوریت میں ساری زندگی ان کے سیکرٹری کے طور پر کام کرنے والے اکرم شاہ لالہ گورنر شپ کے لئے نااہل اور ان کے سگے بھائی اہل قرار پائیں گے تو پھر یہی ہو گا کہ عثمان کاکڑ کی جگہ مانڈوی والا لائے جائیں گے ۔ جب اتنی مار کھانے کے بعد بھی میاں نوازشریف ایک بلوچ حاصل بزنجو کو چیئرمین بنانے کے روادار نہ ہوں اور اب بھی ان کا انتخاب جنرل ضیاء الحق کا اوپننگ بیٹسمین اور اپنا تابعدار راجہ ظفرالحق ہو تو پھر ایسا ہی ہو گا رضا ربانی کی جگہ صادق سنجرانی سنبھالیں گے۔

    تاہم افسوس یہ ہے کہ جس طریقے سے اب نوازشریف پر غصہ نکالا جا رہا ہے اور جس طرح زرداری اور عمران خان کے ذریعے سیاست کو بے توقیر کیا جا رہا ہے، اس کی وجہ سے میاں نوازشریف مظلوم اور جمہوریت کی علامت بنتے جا رہے ہیں اور شاید اس سے بڑا ظلم اس ملک اور قوم کے ساتھ کوئی نہیں کیا جا سکتا۔ حیرت ہوتی ہے ان لوگوں پر جو اس کے بعد زرداری کی سیاست کی تعریفیں کر رہے ہیں یا جو اب بھی عمران خان کو تبدیلی کی علامت باور کرا رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ زرداری سب پر بھاری نہیں۔ وہ سب کے مقابلے میں ہلکے ہو رہے ہیں ۔ جس طرح وہ ڈکٹیشن لے کر غلامی کی سیاست کر رہے ہیں، اس طرح تو کبھی عمران خان نے بھی نہیں کی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ زرداری پیپلز پارٹی پر اور عمران خان اپنی پی ٹی آئی پر بھاری ثابت ہو رہے ہیں ۔

    امپائروں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اگر ایک ہفتہ بعد عمران خان کو آصف علی زرداری کی امامت میں سیاسی نماز کی ادائیگی کے لئے کھڑا کرنا ہے تو پھر کم ازکم زرداری صاحب کو روکتے کہ وہ پختونخوا میں عمران خان کے ایم پی ایز کو نہ توڑیں ۔ سینیٹ انتخابات سے ایک روز قبل بلاول سمیت پوری پارٹی التجائیں کر رہی تھی کہ رضاربانی کو امیدوار بنا دیا جائے لیکن صرف تین بندے یعنی آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف (تینوں وہی ہیں جن کے سروں پر کیسز کی تلوار لٹک رہی ہے ) امپائر کے خاکے میں رنگ بھرنے کے حق میں تھے۔ عمران خان کو پہلے دن اسکرپٹ دیا گیا کہ چیئرمین پی پی پی اور ڈپٹی چیئرمین پی ٹی آئی کا ہو گا ۔

    اس کیلئے جہانگیر ترین کی زرداری صاحب کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کروائی گئیں لیکن جب کارکنوں اور میڈیا کا دبائو آیا تو خان صاحب مکر گئے اور یہ تاریخی جملہ کہا کہ آصف علی زرداری کے ساتھ مل جانا ایسا ہے کہ میں اپنی پوری سیاسی جدوجہد پر خاک ڈال دوں۔ اگلے دن پھر امپائر کا دبائو آیا تو خان صاحب پھر مان گئے لیکن چونکہ براہ راست پی پی پی کے چیئرمین کو ووٹ دینے سے شرما رہے تھے اس لئے یہ کلیہ نکالا گیا کہ بلوچستان کے گروپ کا چیئرمین آگے لایا جائے گا۔ چنانچہ اسی دن بلوچستان والوں کو بلایا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ چیئرمین کا خواب دیکھنا شروع کر دیں ۔ 

    یہاں یہ مسئلہ آیا کہ صادق سنجرانی چونکہ ماضی میں پیپلز پارٹی چھوڑ چکے تھے ، اس لئے زرداری صاحب ان کی جگہ کسی اور کو سامنے لانا چاہ رہے تھے لیکن پھر جب امپائر نے دبائو ڈالا تو زرداری وہ بھی مان گئے ۔ فاٹا کے سینیٹرز صبح نوازشریف کیمپ میں جاتے اور شام کو زرداری کے کیمپ میں ۔ لیکن جب زرداری اور عمران خان کی ڈیل فائنل ہو گئی تو ان کو بھی حکم ملا کہ وہ سیدھے ہو کر بلوچستان کی امامت میں کھڑے ہوجائیں ۔ یہی حکم ایم کیوایم وغیرہ کو بھی ملا ۔ ساتھ ساتھ ایک بار پھر پیسہ بھی استعمال ہوا۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ اب سینیٹ کے چیئرمین کی کرسی پر پیپلز پارٹی کے جیالے اور آصف علی زرداری کے تابعدار رضاربانی کی جگہ کسی اور کے تابعدار صادق سنجرانی براجمان ہوں گے ۔ 

    یوں زرداری صاحب کے قریبی دوست مولانا فضل الرحمان درست کہتے ہیں کہ اب زرداری سب پر بھاری نہیں بلکہ جو زرداری پر بھاری ہے، وہی سب پر بھاری ہے پیپلز پارٹی کی پہچان کرپشن ہے لیکن ہم جیسے لوگ اس کے اس سنگین جرم سے چشم پوشی اس بنیاد پر کر رہے تھے کہ اس کی جمہوریت کے ساتھ کمٹمنٹ دوسروں کی نسبت زیادہ تھی اور رضاربانی، فرحت اللہ بابر اور قمر زمان کائرہ جیسے لوگ اس جماعت کی پہچان تھے لیکن اب جب فرحت اللہ بابر کو نکال کر اور رضاربانی کو بےعزت کر کے قمر زمان کائرہ جیسے جمہوریت پسندوں کا دل توڑا گیا تو پیپلز پارٹی میں بچا کیا؟۔ 

    اسی طرح ہر کوئی جانتا تھا کہ عمران خان امپائر کے اشارے پر بدتمیزی کی سیاست کر رہے ہیں لیکن بہت سارے لوگ ان کے اس گناہ سے اس بنیاد پر چشم پوشی کر رہے تھے کہ وہ کرپشن کے خلاف ایک توانا آواز ہیں لیکن اب جب انہوں نے بھی بابر اعوان اور فردوس عاشق اعوان کو دست ہائے راست بنا کر آصف علی زرداری کو اپنا قائد مان لیا تو پھر لوگ ان سے کسی خیر کی توقع کیسے وابستہ کر لیں۔یہ عجیب ملک ہے ۔پہلے دو عشروں تک ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی دشمنی میں میاں نوازشریف جیسوں کو آگے کرکے پارلیمنٹ اور سیاست کو بے وقعت کیا جاتا رہا اور اب میاں نوازشریف کی دشمنی میں آصف علی زرداری اور عمران خان کو آگے کرکے پارلیمنٹ اور سیاست کو بے وقعت کیا جارہا ہے ۔ نہ جانے یہ کیسی حب الوطنی ہے ؟

    سلیم صافی
      


    0 0

    پاکستانی حکومت نے پھیلتی ہوئی فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ایک موبائل فون ایپ شروع کی ہے۔ اس کی مدد سے عوام نفرت انگیز تقاریر اور مواد کو رپورٹ کر سکیں گے۔ اینڈروئیڈ اور آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم کے لیے بنائی گئی اس موبائل فون ایپلیکیشن کو ’چوکس‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ ملک میں انسداد دہشت گردی کے ادارے، National Counter Terrorism Authority کی جانب سے انٹرنیٹ پر نفرت انگیز مواد کی نشر و اشاعت پر قابو پانے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے پاکستانی شہری، انتہا پسند تقاریر یا گفتگو، بینرز یا سرگرمیوں کو اپنا نام ظاہر کیے بغیر تصاویر، آڈیو، ویڈیو یا تحریری پیغامات کے ذریعے حکام کو رپورٹ کر سکیں گے۔

    جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے سے بات کرتے ہوئے NACTA کے ترجمان  نے بتایا کہ یہ اقدام معاشرے میں پھیلتے شدت پسند رجحانات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تالپور کے مطابق ایسا کوئی بھی مواد، جس سے بین المذہبی اتحاد متاثر ہو، کسی مسلک کے خلاف شدت پسند نظریات کا پرچار ہو رہا ہو یا کسی مذہبی عقیدے کے خلاف ہو، اسے نفرت انگیز مواد گردانا جائے گا۔ ان کے مطابق اس ایپ کے ذریعے جو بھی ڈیٹا اور معلومات موصول ہوں گی، اسے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس سے قبل جنوری میں بھی حکومت کی جانب سے ’سرف سیف‘ کے نام سے ایک ایپ معتارف کروائی گئی تھی جس کے ذریعے شہری ایسی ویب سائٹس رپورٹ کر سکتے ہیں جس پر شدت پسند مواد یا تقاریر موجود ہیں۔


    0 0

    انسانی مسرت اور خوشی کی عالمی درجہ بندی میں اس سال پاکستان نے بھارت کو اٹھاون درجے پیچھے چھوڑ دیا ہے. اقوام متحدہ کے جاری کردہ خوشی کے عالمی انڈیکس میں پاکستان 75 ویں پوزیشن اور بھارت 133 ویں پوزیشن پر آیا ہے۔ دو ہزار اٹھارہ کے خوشی کے انڈیکس میں سارک ممالک میں سے پاکستان پچھلے سال کے مقابلے میں 5 درجے بہتری کے ساتھ 75 ویں پوزیشن پر ہے جبکہ بھوٹان 97، نیپال 101 ، بنگلہ دیش 115، سری لنکا 116، بھارت 133 اور افغانستان 145 ویں درجے پر آیا ہے یعنی افغانستان کو چھوڑ کر جنوبی ایشیا میں بھارت سب سے پیچھے ہے۔ 

    اقوام متحدہ کے 2018 کے خوشی کے انڈیکس میں 156 ممالک کا فی کس آمدنی، سماجی سپورٹ، صحت مند زندگی، سماجی آزادی، فراخ دِلی اور شفافیت جیسے شعبوں میں جائزہ لیا گیا ۔ اس سالانہ سروے میں فن لینڈ کو دنیا کا سب سے خوش ملک پایا گیا جبکہ امریکی باشندوں میں زیادہ کمانے کے باوجود خوشی کم ہوتی جا رہی ہے،اس سال امریکہ 14 سے گر کر 18 ویں نمبر پر اور برطانیہ 19 ویں نمبر پر ہے۔
     


    0 0

    پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کے دوران بعض اطلاعات کے مطابق ’ایک زرداری سب پر بھاری کے ساتھ نیازی، زرداری بھائی بھائی کے نعرے بھی لگائے گئے‘۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے آصف علی زرداری اور عمران خان کو قریب لانے کی کوشش کی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔

    آصف زرداری یا عمران خان کی کامیابی؟
    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی پارٹی کے 13 ووٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے سپرد کیے اور ساتھ میں یہ بھی تجویز دی کہ چیئرمین بلوچستان اور ڈپٹی چیئرمیں فاٹا سے آنا چاہیے۔ تاہم پیپلز پارٹی لین دین کر کے اپنا ڈپٹی چیئرمین لانے میں کامیاب ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو اپنی جماعت کی کامیابی قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے کہا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے لیکن انھوں نے دیا۔ تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری پیپلز پارٹی کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے اور اسے خوش فہمی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چیئرمین کے انتخاب میں جتنا نقصان مسلم لیگ نون کو ہوا ہے اتنا ہی یا اس سے کم پیپلز پارٹی کا بھی ہوا ہے، کیونکہ دونوں ہی بڑی جماعتیں چیئرمین شپ کی امیدوار تھیں لیکن تحریک انصاف نے جو ترپ کا پتہ کھیلا اس کے نتیجے میں نہ صرف نواز شریف بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی اس سے محروم کر دیا۔

    پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد کیا جاری رہ سکتا ہے؟
    سینیٹ کے اراکین اور چیئرمین کے انتخابات نظریات، جذبات اور ماضی کے کردار پر نہیں صرف سیاسی ضروریات اور مفادات کے تحت لڑے گئے۔ کیا ضروریات اور مفادات پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو مزید ساتھ رہنے کے لیے مجبور کر سکتے ہیں؟ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی انتخابی اتحاد ممکن ہے یا نہیں کیونکہ کسی بھی چیز کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا اپنا ایجنڈہ ہے اور ہمارا اپنا، کسی جگہ پر ہم اکٹھے ہو سکتے ہیں کسی جگہ پر نہیں۔ 

    چوہدری منظور کے موقف کے برعکس تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری اس امکان کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی سے نہ کوئی اتحاد تھا اور نہ ہی ہونے کا امکان ہے۔ زرداری کے بارے میں ہمارے موقف میں نہ تبدیلی آئی ہے اسی طرح نہ ان کا موقف ہمارے بارے میں تبدیل ہوا ہے۔ تحریک انصاف کو کیا اخلاقی نقصان پہنچا ہے؟ تحریک انصاف کے رہنما فواد حسین چوہدری کا کہنا ہے کہ انھوں نے آزاد پینل اور آزاد امیدوار کی حمایت کی ہے۔

    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ ٹرانسپرنسی یعنی پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال صوفی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی نے سینیٹ کے چیئرمین کے لیے ایک راستہ نکال لیا لیکن تحریک انصاف کو بعد میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی، کیونکہ تحریک انصاف کے وہ لوگ جو پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے حق میں نہیں تھے اسے پسند نہیں کریں گے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار بابر ایاز بھی احمد بلال صوفی کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ تحریک انصاف کو اخلاقی نقصان ہوا ہے کیونکہ عمران خان جن اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر کھڑے رہتے تھے اب وہ نہیں رہے سکتے۔ ’انھوں نے خود اس کھیل میں حصہ لیا اور زرداری کے ساتھ سٹیج نہیں بلکہ الیکشن شیئر کیا۔‘

    پاکستان پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ
    پاکستان میں گذشتہ کئی ماہ سے سینیٹ کے انتخابات کے حوالے سے ایک غیر یقینی کی صورتحال رہی۔ تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا موقف تھا کہ انتخابات ضرور کرائے جائیں گے۔ احمد بلال صوفی کا کہنا ہے کہ جمہوری عمل آگے بڑھا یہ ایک خوش آئندہ بات ہے اس دوران کئی ایسی چیزیں ہوئی ہیں جو صحت مند نہیں تھیں جن کے بارے میں لوگوں کو شکوک شبہات ہیں کہ پارلیمنٹ کے باہر کی قوتیں ہدایت دے رہی تھیں یا پیسے کا استعمال ہو رہا تھا لیکن اس کی شہادت کوئی نہیں ہے۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار بابر ایاز کا کہنا ہے کہ ’سینیٹ کے انتخابات میں جمہوریت نے گنوایا اور اسٹیشلنمنٹ نے حاصل کیا ہے، آصف زرداری کو یہ خدشہ ہے کہ اس وقت جو دباؤ نواز شریف پر ہے کل ان کی بھی باری آ سکتی ہے اس لیے وہ یہ کردار ادا کرنے کے لیے راضی ہو گئے۔ پہلے سے ہی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کی اکثریت آنے نہیں دیں گے وہ کام پیپلز پارٹی کی قیادت نے کر دیا۔‘

    نئی سیاسی صف بندیاں؟
    سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی اتحادی عوامی نیشنل پارٹی نے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا جبکہ جمعیت علما اسلام ف جو مسلسل میاں نواز شریف کی حمایتی تھی کے ووٹ اپوزیشن جماعتوں کے پاس آئے، اسی طرح ایم کیو ایم نے اس سے قبل وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو تو ووٹ دیا تھا لیکن اس بار راجہ ظفر الحق کو ووٹ نہیں دیا۔

    ریاض سہیل
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
     


    0 0

    سینیٹ چیئرمین کے لیے بننے والا اپوزیشن کا اتحاد اپنا مقصد حاصل کرنے کے اگلے دن ہی ٹوٹ گیا۔ لیکن شاید یہ اتحاد بنایا ہی ایک دن کے لیے گیا تھا۔ اس کی مدت ایک دن ہی تھی۔ بس ٹارگٹ یہی تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب جیت لیا جائے اور شاید یہ بھی طے تھا کہ بس اگلے دن اس کو توڑ دیا جائے گا۔ یہ اتحاد ایک دن سے زیادہ قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا۔ یہ غیر فطری تھا۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شیر کی ایک دن کی زندگی کی طرح یہ اتحاد بھی شیر کی طرح ایک دن قائم رہا۔ لیکن جہاں اس کی مخالفت میں بہت سے دلائل موجود ہیں وہاں اس کے حق میں ایک ہی دلیل کافی ہے کہ یہ ایک کامیاب اتحاد تھا جس نے ایک ہی دن میں شیر کو چاروں شانے چت کر دیا۔ اپنا ہد ف کامیابی سے حاصل کیا۔ میدان سیاست میں سب کو حیران کر دیا۔ ناممکن کو ممکن کر بنایا۔ اس لیے بنانے والوں کو اس کی مزید ضرورت ہی نہیں تھی۔

    سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے لیے آصف زرداری اور عمران خان کے درمیان اختلاف اور تنازعہ بھی اسی اسکرپٹ کا حصہ ہے جس اسکرپٹ کے تحت دونوں میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے مفاہمت ہوئی تھی۔ جیسے مفاہمت طے تھی ایسے ہی لڑائی بھی طے تھی۔ اس لیے سب اسکرپٹ کے مطابق چل رہا ہے۔
    اگر یہ طے ہوتا کہ قائد حزب اختلاف تحریک انصاف کو دینا ہے تو آصف زرداری شیری رحمٰن کو نامزد نہ کرتے۔ لیکن یہ عمران خان کی ضرورت تھی۔ اس لیے شیری رحمٰن کو نامزد کر کے دوستوں نے عمران خان کی مدد کی ہے۔ انھوں نے جو زہر کا پیالہ پیا تھا اس زہر کے اثر کو زائل کرنے میں مدد کی جا رہی ہے ورنہ یہ کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ جو دوست چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا مشکل معاملہ حل کروا سکتے ہیں ان کے لیے قائد حزب اختلاف کا معاملہ حل کروانا کوئی مشکل نہیں ہے۔

    سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا اتحاد ایک ٹیسٹ بھی تھا۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ایک دن کا اتحاد ایک ٹیسٹ تھا کہ کیا یہ اتحاد چل بھی سکتا ہے یا نہیں۔ اس کو بنانے والے خوش ہیں کہ ان کا تجربہ کامیاب ہو گیا ہے۔ اب اس کو دشمن (یعنی ن لیگ ) کے خلاف بھی انتخابات میں کسی اہم موقع پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شاید اب اس کو اگلے انتخابات کے بعد ہی دوبارہ استعمال کیا جا سکے گا۔ انتخابات سے قبل دوبارہ اس کو استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تا کہ تحریک انصاف کو کسی بڑے نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ آخر تحریک انصاف بچے گی تو یہ ہتھیار کارگر ہو سکتا ہے۔
    سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں عمران خان کے لیے پیپلز پارٹی کے ساتھ چلنا پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ ڈالنا ایک زہر کا پیالہ پینے سے کم نہیں تھا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عمران خان نے دوستوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے زہر کا پیالہ پیا ہے۔

    اب زہر کا یہ پیالہ عمران خان کی سیاست پر نہایت زہریلے اثرات چھوڑ گیا ہے۔ جن پر قابو پانے کے لیے عمران خان کو شدید جدوجہد کرنا ہو گی۔ عمران خان آج کل شہر شہر پھر رہے ہیں۔ لیکن اس بار وہ اپنے مخالفین کو چت کرنے کے لیے میدان میں نہیں نکلے بلکہ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے شہر شہر جا رہے ہیں۔ ان کو اندازہ ہے کہ ان سے بہت سی غلطیاں ہو گئی ہیں جن کے اثرات کو کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔ عمران خان نے سیاسی طور پر یہ پہلا زہر کا پیالہ نہیں پیا ہے وہ اس سے پہلے بھی کئی سیاسی زہر کے پیالے پی چکے ہیں۔ انھوں نے کئی دفعہ اپنے نظریات سے انحراف کیا ہے۔

    وہ اپنی جماعت میں کرپٹ لوگوں کے خلاف کوئی بھی ایکشن لینے میں ناکام رہے۔ مخالفین کی وراثتی سیاست پر تنقید کرتے کرتے وہ خود وراثتی سیاست کی دلدل میں ڈوب گئے۔ وہ ایک طرف نااہل نواز شریف کے مزید سیاسی کردار کے خلاف ہیں اور دوسری طرف جہانگیر ترین کو نااہلی کے بعد مائنس کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ نااہل نواز شریف قبول نہیں لیکن نااہل جہانگیر ترین قبول ہے۔ اسی طرح ملک بھر میں احتساب کا مطالبہ کرنے والے عمران خان کے پی کے، کے احتساب کمیشن کو فعال کرنے میں ناکام ہو گئے۔ عمران خان اپنی جماعت کو تبدیلی کے نمونے کے طور پر بھی پیش نہیں کر سکے۔ ان کی جماعت میں ووٹ بیچنے والے بھی موجود ہیں ووٹ خریدنے والے بھی موجود ہیں۔ پیسے کی سیاست کے خلاف آواز اٹھانے والے عمران خان نے خود ہی سینیٹ کے ٹکٹ پیسے والوں کو دے دئے۔ انھوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک بڑی سیاسی ڈرائی کلیننگ فیکٹری بھی قائم کی۔ جس میں ہر جماعت کے ’’چور ڈاکو‘‘ کو صاف کر کے تحریک انصاف میں شامل کیا گیا۔

    ایسے میں یہ سوال بھی جائز ہے کہ جب فردوس عاشق اور نذر گوندل کو تحریک انصاف میں شامل کیا جا سکتا ہے تو پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ کیوں نہیں دیا جا سکتا۔ اس سب کے باوجود عمران خان کی سب سے بڑی کامیابی یہی رہی ہے کہ انھوں نے اپنا ووٹ بینک قائم رکھا ہے۔ جس طرح سب خرابیوں کے باوجود نواز شریف نے اپنا ووٹ بینک قائم رکھا ہے۔ لگتا یہ ہے کہ اب عمران خان نے ان سب الزامات کو بھی دھونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ باور کروا رہے ہیں کہ بوقت ضرورت وہ زہر کے پیالے بھی پی سکتے ہیں، مفاہمت بھی کر سکتے۔ دشمن سے ہاتھ بھی ملا سکتے ہیں۔ ان میں لچک ہے۔ وہ زرداری کے ساتھ بھی چل سکتے ہیں۔ دوسری طرف زرداری کا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو عمران خان کے مسائل تھے۔ زرداری کے لیے عمران خان کے ساتھ چلنا کوئی مشکل نہیں۔ وہ تیار ہیں۔ اب صرف انتخابات کا انتظار ہے۔ جو یہ دونوں جماعتیں الگ الگ لڑیں گی پھر نئے مینڈیٹ کے ساتھ شراکت اقتدار کر نے کی کوشش کریں گی۔ جہاں جہاں ممکن ہوا کر لیں گی۔ اس لیے ایک دن کا اتحاد ایک ٹیسٹ تھا جو کامیاب ہو گیا ہے۔ باقی انتخابات کے بعد۔

    مزمل سہروردی
     


    0 0

    درحقیقت ایسی کیا بات ہوئی جو چیئرمین سینیٹ کے منصب کیلئے رضا ربانی کا نام پیپلز پارٹی کی جانب سے نہ دیئے جانے کے حیران کن فیصلے کا باعث بنی حالانکہ ایسے واضح اشارے تھے کہ پیپلز پارٹی سینیٹ چیئرمین کے لئے رضا ربانی کو نامزد کرتی تو تمام جماعتیں متفق ہو جاتیں۔ اکثریت ان کی حامی ہونے کے باوجود رضا ربانی کا نام ترک کر دیا گیا ، کیونکہ اس بارے میں پیپلز پارٹی کے فیصلہ ساز آصف علی زر داری کی اپنی ذاتی اور سیاسی وجوہ تھیں۔ وہ تو رضا ربانی کو سینیٹ نشست دینے پر بھی آمادہ نہ تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کی مداخلت اور زور دینے پر انہیں ایوان بالا کی نشست ملی۔ آصف علی زرداری نے گزشتہ جنوری میں ذاتی بالمشافہ ملاقات کیلئے میاں رضا ربانی کی درخواست بھی مسترد کر دی جس سے انہیں اپنے انجام کے بارے میں پیغام مل گیا ہو گا۔ 

    بتایا جاتا ہے کہ اعتزاز احسن، سید خورشید شاہ ، فرحت اللہ بابر، قمر الزماں کائرہ اور حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تک نے میاں رضا ربانی کی حمایت کی تھی لیکن مختلف وجوہ سے دو سابق وزرا اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجا پرویز اشرف نے ان کی مخالفت کی، یہ سب کچھ 2015 ء میں ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری سے شروع ہوا جو زرداری کے بڑے قریبی دوست ہیں۔ ایک طرف تو زرداری نے نواز شریف سے اپنے تمام تر تعلقات توڑ لئے اور عاصم حسین کے ساتھ حکومت نے جو کچھ کیا ، اس حوالے سے بڑا سخت پیغام بھی دیا۔ وہ بھولے اور نہ ہی معاف کیا، اور پھر نواز ۔ زرداری تعلقات کبھی بحال نہیں ہوئے بلکہ پیپلز پارٹی نے شریفوں کے خلاف زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر لیا۔

    آصف زرداری کا دوسرا پیغام اپنی پارٹی قیادت اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کیلئے تھا، جنہوں نے عاصم حسین کی ممکنہ گرفتاری کے بارے میں انہیں خبردار نہیں کیا تھا۔ قائم علی شاہ کو تو اپنی وزارت اعلیٰ سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ ذرائع کے مطابق قائم علی شاہ یہ وضاحت دیتے تھک گئے کہ انٹلی جنس یا رینجرز نے آخر وقت تک انہیں آگاہ نہیں کیا۔ انہیں ہٹا کر پھر مراد علی شاہ کو لایا گیا۔ آصف زرداری اس بات پر بھی خفا تھے کہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی مذمت نہیں کی، صرف اعتزاز احسن نے دہشت گردی کا مقدمہ درج ہونے پر مذمتی بیان جاری کیا تھا لیکن انہوں نے بھی ڈاکٹر عاصم حسین کے کرپشن کیسز کا ایشو اٹھانے سے انکار کیا۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا جب 2015 میں دبئی میں اجلاس ہوا، وہاں زرادری نے عاصم حسین کے خلاف مقدمے اور اس سے نمٹنے میں ناقص حکمت عملی پر پارٹی کو ہدف تنقید بنایا۔ پیپلز پارٹی نے عاصم حسین کی حمایت میں کوئی مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ 

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تب آصف زرداری نے رضا ربانی کو عاصم حسین کا معاملہ سینیٹ میں اٹھانے کیلئے کہا جنہوں نے معاملہ سینیٹ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا لیکن رضا ربانی اور دیگر دو سینیٹرز نے زرداری کو باور کرانے کی کوشش کی چونکہ عاصم حسین سینیٹ کے رکن نہیں ہیں لہٰذا معاملہ اٹھانا ممکن نہ ہو گا۔ تاہم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ربانی نے زرداری کو مشورہ دیا اگر کوئی پارٹی سینیٹر معاملہ سینیٹ میں اٹھاتا ہے تو وہ کیس استحقاق کمیٹی کے سپرد کر سکتے ہیں۔ اس طرح ذرائع کے مطابق ربانی نے زرداری کا اعتماد کھو دیا اور پھر بحال نہ ہوا۔ جبکہ پارٹی کے کچھ مشیروں نے غلط فہمیوں اور بد اعتمادی کو مزید ہوا دی۔ 

    زرداری کو مبینہ طور پر بتایا گیا کہ رضا ربانی ان کے ساتھ ملنے سے کترا رہے ہیں اور اس دوران وہ دوبارہ نواز شریف سے مل چکے لیکن رضا ربانی کے قریبی ذرائع کسی بینہ ملاقات سے انکاری ہیں بلکہ یہاں تک کہا کہ دونوں میں ٹیلی فون پر تک بات چیت نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے اندر رضا ربانی مخالف لابی حاوی آگئی۔ ان میں سے کچھ زرداری کے اس قدر قریب آ گئے کہ رضا ربانی کے حق میں پارٹی کے ایک دیرینہ رہنما کے موقف کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ، ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران سابق چیئرمین سینیٹ نے مسلم لیگ (ن) حکومت کے خلاف جو پوزیشن لی، وہ ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے خواجہ محمد آصف سمیت ن لیگی وزرا کو معطل بھی کیا۔

    زرداری اپنے ترجمان فرحت اللہ بابر اور رضا ربانی کے مخصوص معاملات پر موقف سے بھی خوش نہیں تھے۔ جس نے اکثر ان کے نئے بیانیہ کیلئے مسائل پیدا کئے لیکن یہ ڈاکٹر عاصم حسین کا معاملہ تھا جس نے درحقیقت چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے رضا ربانی کی دوسری مدت کو نگل لیا۔ زرداری ڈاکٹر عاصم کے معاملے میں نہایت حساس ہیں، اپنی پاکستان واپسی کے بعد آصف زرداری نے ڈاکٹر عاصم حسین کی جناح اسپتال منتقلی کو یقینی بنایا۔ وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کو ان کی نگہداشت کیلئے کہا، جب وہ جناح اسپتال جا کر ڈاکٹر عاصم حسین سے ملے تو انہوں نے اپنے سے پیپلز پارٹی کے خراب سلوک کی شکایت کی اور سینیٹ میں اپنا معاملہ نہ اٹھائے جانے پر احتجاج کیا.

    گو کہ عاصم حسین پیپلز پارٹی کراچی کی صدارت کیلئے امیدوار نہیں تھے لیکن انہیں اچانک ہی کراچی میں پارٹی کی صدارت سونپ دی گئی۔ جس پر بلاول بھی حیران رہ گئے، بعد ازاں زرداری نے سندھ میں پارٹی رہنمائوں کو ہدایات جاری کیں کہ ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی وزیر عاصم حسین کی عیادت کرے گا۔ اور عدالتوں میں دوران سماعت اپنی موجودگی کو یقینی بنائے گا۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان جس انداز میں عاصم حسین کو گرفتار کیا گیا ، اس سے خوش نہ تھے لیکن جب چوہدری نثار نے ڈاکٹر عاصم حسین کے وڈیو بیان کے اجرا سے خبردار کیا تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔ 2015 کے بعد سے زرداری اور نواز شریف میں تعلقات پھر کبھی بحال نہیں ہوئے.

    اب زر داری اور ان کی پارٹی کو متبادل اتحادی کی تلاش ہے ۔ اپوزیشن کی کامیابی کے باوجود سینیٹ الیکشن کا حتمی نتیجہ کچھ سینئر پارٹی رہنمائوں کیلئے مایوس کن رہا جو رضا ربانی کا چیئرمین کی حیثیت سے دوبارہ انتخاب چاہتے تھے ۔ تحریک انصاف بھی ان کی مخالفت نہ کرتی لیکن زرداری کو ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر اکتفا کرنا پڑا، جہاں تک رضا ربانی کے سیاسی مستقبل کا تعلق ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ بلاول کی موجودگی میں زرداری کس حد تک موثر رہتے ہیں، گزشتہ چند دنوں میں جو کچھ ہوا اس سے صاف ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی میں طاقت آصف زرداری کے پاس ہی ہے اور وہ اکثریتی رائے کو بھی ویٹو کر سکتے ہیں۔ میاں رضا ربانی کے معاملے میں یہی کچھ ہوا۔

    تجزیہ / مظہر عباس

    بشکریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ڈیٹا اینالسس کمپنی نے کروڑوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا بغیر بتائے صدارتی مہم میں استعمال کیا، خبریں سامنے آنے پر فیس بک نے اینالسس کمپنی کا اکاؤنٹ معطل کر دیا۔ لاکھوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا بتائے بغیر امریکی صدارتی انتخاب میں استعمال ہونے کا انکشاف نیویارک ٹائمز اور لندن آبزرور نے اپنی رپورٹ میں کیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی اینالسس فرم کیمبرج اینالیٹکا نے پانچ کروڑ سے زائد صارفین کی ذاتی معلومات ایک ایسے سافٹ ویئر بنانے میں استعمال کیں جس کے ذریعے سے صدارتی انتخابات میں ووٹرز کا رجحان بتانے اور انتخابی نتائج سے متعلق پیش گوئیاں کی جاتی تھیں۔ اینالسس فرم کی ڈیٹا چوری کو فیس بک کی تاریخ کی سب سے بڑی ڈیٹا چوری کہا جا رہا ہے۔
     


    0 0

    چین نے بھی سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس سے روزانہ ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا پانی گوادر کے شہریوں کو فراہم کیا جائیگا وفاقی وصوبائی حکومت اور چین نے گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے اربوں روپے کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا جن کے مکمل ہونے پر گوادر میں کا فی حد تک پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے.

    گوادر کے باسیوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے دو ڈیمز جس میں سوڑ اور شادی کور ڈیم شامل ہے اس کا 80 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ان ڈیمز سے پائپ لائنز کے ذریعے پانی گوادر تک لایا جائے گا، ان منصوبوں پر چار ارب سے زائد کی لاگت آئے گی اس طرح میرانی ڈیم سے پانی کی ترسیل کے لئے فزبیلٹی رپورٹ پر کام جاری ہے اس کے لئے 15 کروڑ روپے بھی جاری کر دیئے گئے ہیں اس منصوبے پر 7سے 8 ارب روپے لاگت ائے گی. اسی طرح چین نے بھی سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جس سے روزانہ ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا پانی گوادر کے شہریوں کو فراہم کیا جائے گا. 


    0 0

    پاکستانی نژاد برطانوی رکن پارلیمنٹ سعیدہ وارثی داعش کی حمایت کا الزام لگانے پر یہودی اخبار کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت گئیں۔ برطانیہ میں یہودی اخبار جیوش نیوز میں شائع ہونے والے مضمون میں سعیدہ وارثی پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم داعش کیلئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتی ہیں۔ سابق برطانوی فوجی افسر کرنل رچرڈ کیمپ نے اپنے کالم میں سعیدہ وارثی پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے داعش میں شامل برطانوی مسلمانوں کے خلاف کارروائی کرنے کی مخالفت کی تھی۔ ادھر سعیدہ وارثی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جیوش نیوز پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا جس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ 

    عدالت میں سعیدہ وارثی کے وکیل نے کہا کہ ان کی موکلہ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، درحقیقت سعیدہ وارثی داعش کی سخت مخالف ہیں جس کا وہ کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ داعش سعیدہ وارثی کی جان کے درپے ہے اور ان کا نام ہٹ لسٹ میں شامل کر رکھا ہے۔ وکلا نے یہ بھی کہا کہ سعیدہ وارثی داعش میں شامل برطانوی مسلمانوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی پرزور حمایت کرتی ہیں۔ عدالت نے سعیدہ وارثی کے حق میں فیصلہ دے دیا اور یہودی اخبار کو 20 ہزار پاؤنڈ (تقریبا ساڑھے 20 لاکھ روپے) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ مقدمہ ہارنے کے بعد جیوش نیوز نے اپنے صفحہ اول پر سعیدہ وارثی سے معافی مانگی اور ہرجانے کی رقم بھی ادا کر دی۔ سعیدہ وارثی نے رقم کو فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

     


    0 0

    ايچ ايس بی سی بينک کی ايک تازہ رپورٹ کے مطابق موسمياتی تبديليوں سے سب سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملکوں کی فہرست ميں بھارت پہلے نمبر پر ہے جب کہ فہرست ميں دوسرا نمبر پاکستان کا ہے۔ ايچ ايس بی سی کے مطابق موسمياتی تبديليوں کے اثرات سے بچنے يا نمٹنے کے ليے تمام ملکوں ميں پاکستان سب سے کم صلاحيت کا حامل ہے۔ پاکستان، بنگلہ ديش اور فلپائن ميں غير معمولی موسمی حالات اور سيلابوں کا خطرہ سب سے زيادہ ہے۔ يہ انکشافات ايچ ايس بی سی بينک کی پير انيس مارچ کو جاری کردہ رپورٹ ميں کيے گئے ہيں۔
    رپورٹ کے ليے بينک نے سڑسٹھ ملکوں سے اعداد وشمار جمع کیے ہیں۔ نتائج تک پہنچنے کے ليے موسمی حالات ميں تبديلیوں، درجہ حرارت ميں اتار چڑھاؤ اور ديگر عوامل کا جائزہ ليا گيا۔

    فلپائن اور بنگلہ ديش بھی سب سے زيادہ متاثر ہونے والے ملکوں ميں شامل ہيں۔ بھارت ميں زراعت کا شعبہ سب سے زيادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ درجہ حرارت ميں اضافے اور بارشوں کی کمی سے سب سے زيادہ متاثر وہ بھارتی ديہی علاقے ہوں گے، جہاں آب پاشی کا مناسب نظام موجود نہيں۔ ايچ ايس بی سی کی اس رپورٹ کے مطابق موسمياتی تبديليوں سے متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار دس سر فہرست ملکوں ميں نصف سے زائد جنوبی ايشيا ميں ہيں۔ اس گروپ ميں عمان، کولمبيا، ميکسيکو، کينيا اور جنوبی افريقہ بھی شامل ہيں۔ دوسری جانب موسمياتی تبديليوں سے سب سے کم متاثر ہونے والے ملک فن لينڈ، سويڈن، ناروے، ايسٹونيا اور نيوزی لينڈ ہيں۔
     


    0 0

    چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے گٹر کے گندے پانی پر سے گزرتے جنازے کی سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی تصویر میں شہریوں کی حالت زار پر نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے ایک کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کی توجہ ایک تصویر کی طرف دلائی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوگ جنازے پڑنے جا رہے ہیں اور ناپاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سے تصویر کو دیکھ کر سوال کیا کہ یہ تصویر کس شہر کی ہے۔
    انہوں نے عدالت میں موجود میڈیا نمائندوں کو بھی تصویر دکھاتے ہوئے علاقے کی نشاندہی کرنے کا کہا۔

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ غلاظت گندگی انسانی صحت کے لئے خطرہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکیزگی کے لئے بھی یہ غلاظت خطرہ ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں نشاندہی کریں یہ تصویر کس علاقے کی ہے اور جس علاقے کی تصویر ہوئی اس علاقے کے کے رکن قمی اسمبلی، کونسلر سب سے سوال کریں گے۔ خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے 2018 کے ایجنڈا کے تحت انسانی حقوق کے امور پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جن میں ان کی خصوصی توجہ عوام کے معیاری تعلیم اور صحت پر ہے۔ چیف جسٹس کے اقدامات کو چوہدری افتخار کے دور کی طرح حدود سے باہر جانے کا نام دیا جارہا تھا۔ چیف جسٹس نے عدالتی اقدامات پر ثابت قدم رہتے ہوئے تنقیدوں کا جواب دیا اور کہا کہ کسی تنقید کی وجہ سے ہم اقدامات سے پیچھے نہیں ہٹیں جو ان کے مطابق ان کا آئینی حق ہے۔
     


    0 0

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں ’حیران کن اضافہ‘ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں مہنگائی کا ایک ’طوفان‘ آئے گا جب کہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔ آج انٹر بینک میں ڈالر کا ریٹ تقریباﹰ ایک سو پندرہ روپے سے زائد رہا جب کہ اوپن مارکیٹ میں یہ ریٹ ایک سو تیرہ روپے پچاس پیسے کے قریب تھا۔ حالیہ چند برسوں کے دوران ڈالر کی قدر میں یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ اسلا م آباد میں ایک فارن کرنسی ڈیلر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ڈالرز کی ڈیمانڈ میں اچانک اضافہ ہو گیا، جس کی وجہ سے اس کی قدر بھی بڑھ گئی ہے۔ ابھی آثار ایسے نظر آرہے ہیں کہ اس کی قدر میں اضافہ نہ صرف یہ کہ بر قرار رہے گا بلکہ اس میں مزید بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘

    اس صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق وزیرِ خزانہ سلمان شاہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم تیل، ایل این جی، کھانے کی اشیاء، زرعی اشیاء، کوکنگ آئل سمیت کئی چیزیں درآمد کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سی پیک کے پروجیکٹس کے حوالے سے مشینریاں بھی درآمد کی جا رہی ہیں۔ اس وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی تھا۔ اگر ہم نے اپنے امپورٹ بل کو کم کرنے کی کوشش نہیں کی، برآمدات کو نہیں بڑھایا، پیداواری لاگت کو کم کر کے ایکسپورٹ کے لئے اپنی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مزید مسابقانہ نہیں بنایا اور بنیادی معاشی اصلاحات نہیں کیں، تو صورتِ حال ایسی ہی رہے گی۔‘‘


    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اس قدر میں اضافہ سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ ہمارے قرضوں کا حجم مزید بڑھے گا اور سی پیک کے جو پروجیکٹس چل رہے ہیں، وہ بھی مزید مہنگے ہو جائیں گے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ چینی سرمایہ کاری ملک میں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے ہماری برآمدات بڑھ سکتی ہیں، ’’چین اگر اپنی صنعتیں یہاں منتقل کرتا ہے اور ہمارے سرمایہ کار اپنی مسابقانہ صلاحیت بڑھاتے ہیں اور اگر ہم زیادہ مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں تو یقیناً اس سے ہم کو فائدہ ہو گا اور ہمارا تجارتی خسارہ کم ہو گا، جس سے ہماری کرنسی بھی مضبوط ہو سکتی ہے۔‘‘

    معروف ماہرِمعیشت ڈاکڑ شاہدہ وزارت کے خیال میں آج اس قدر اضافہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کی تابعداری کا نتیجہ ہے، ’’مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ملک کے معاشی امور چلاتے ہیں، وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تنخواہ دار ہوتے ہیں۔ وہ ملک کے مفاد میں کم اور ان اداروں کے مفاد میں زیادہ سوچتے ہیں اور ایسی پالیسیاں بناتے ہیں، جس سے ملک کو نقصان ہو اور ان اداروں کا فائدہ ہو۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے یا ڈالر کی قدر بڑھ جانے سے ہماری ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا، یہ بالکل ایک غلط تصور ہے۔ ہم نوے کی دہائی سے دیکھ رہے ہیں کہ اس دلیل میں کوئی جان نہیں ہے لیکن ہر مرتبہ ہمیں یہی بتایا جاتا ہے۔ اس طرح جب ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو ہماری درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، جس سے ہمیں اچھا خاصا معاشی نقصان ہوتا ہے۔‘‘

    اس مسئلے کا حل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہمیں غیر ضروری امپورٹ پر فی الحال پابندی لگا دینی چاہیے۔ مثال کے طور پر مالی سال دو ہزار سولہ، سترہ (جولائی مارچ) کے دوران تقریبا تین اعشاریہ پانچ بلین ڈالرز کار اور دوسرے لگژری آئیٹمز کی امپورٹ پر خرچ ہوئے۔ ہمیں ایسی امپورٹ پر وقتی طور پابندی لگانی چاہیے اور صرف انتہائی ضروری امپورٹس، جیسا کہ سی پیک کے لئے مشینری ہیں، کرنی چاہیے۔ آپ دیکھیں کہ جب دو ہزار آٹھ میں سرمایہ دار ممالک میں بحران آیا تو انہوں نے فری مارکیٹ اور آزاد تجارت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کئی اداروں اور بینکوں کو قومی ملکیت میں لیا۔ تو ہم بھی وقتی طور پر ایسا کر سکتے ہیں۔ اور آئندہ ایسی پالیسیاں بنائیں، جو ملکی معیشت اور ملک کے لئے بہتر ہوں نہ کہ کچھ مالیاتی اداروں کے لئے۔‘‘

    لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا نے اس صورتِ حال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’آئی ایم ایف کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے بعد ہمارے فارن ریزرو صرف سات سو چوبیس ملین ڈالر رہے جائیں گے۔ اسحاق ڈار نے مصنوعی طور پر ڈالر کے ریٹ کو کم رکھا۔ حکومت نے ایسے اقدامات کئے جن سے ہماری امپورٹ بڑھی، تو ڈالر کی قدر میں اضافہ فطری تھا۔ اب اس سے مہنگائی کا سیلاب آئے گا اور ن لیگ کے لئے اگلے انتخابات میں سیاسی مشکلات پیدا ہوں گی۔‘‘

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    پاکستان میں انٹر بینک تجارت میں ڈالر کی قدر بڑھ کر 115.50 روپے تک پہنچ گئی جس کے بعد کرنسی کا کاروبار کرنے والوں اور ماہرین نے اس شک کا اظہار کیا کہ اس کی وجہ بین الاقوامی فنانشل اداروں سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے گئے وعدے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی طلب ہے لیکن سٹیک ہولڈرز نے اس وجہ کو زیادہ قابل قبول نہیں سمجھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس بات کی جانب اشارہ کرتا رہا ہے کہ ڈالر کی موجودہ قیمت اس کی قدر کی صحیح عکاسی نہیں کرتی اور اس کے مطابق اسے 120 سے 125 روپے تک لے جانا ہو گا۔ 'میرا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔'

    ظفر پراچہ نے حکومتی اہلکاروں کو اس پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ غیر ملکی دوروں میں بین الاقوامی اداروں سے وعدے کر کے آجاتے ہیں لیکن ان میں اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتی کہ وہ عوام کو سچ بتا سکیں۔ 'قدر میں پانچ فیصد اضافے کا نتیجہ مہنگائی کے طوفان کی صورت میں آئے گا۔  ظفر پراچہ نے مزید کہا کہ اس کا اثر مختلف جگہ پر نظر آئے گا۔ دوسری جانب ماہر اقتصادیات صفیہ آفتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ میں واضح طور پر درج تھا کہ پاکستان کے ذرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہت کمی آ گئی ہے جس سے انھیں قرضوں کی ادائیگی میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ انھوں نے کہا: 'میرا خیال ہے کہ ڈالر کی قیمت میں یہ اضافہ سٹیٹ بینک کی جانب سے کیا گیا ہے جیسا انھوں نے دسمبر میں کیا تھا۔'

    صفیہ آفتاب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درآمدات پر انحصار کرتی ہے۔ 'ڈالر کی قدر میں اضافے کے بعد خیال کیا جاتا ہے کہ شاید درآمدات کچھ کم ہو جائیں اور برآمدات میں اضافہ ہو لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہوتی۔ ' صفیہ آفتاب نے کہا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اثر عام عوام پر آسکتا ہے، خاص طور پر جب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہو اور یہ اضافہ مہنگائی ساتھ لے کر آئے گا۔ ادھر ظفر پراچہ نے بھی اسی موقف کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم درآمدات پر انحصار کرتے ہیں اور حکومت کو ایسا کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے سٹیک ہولڈرز سے بات کرنی چاہیے کیونکہ اس سے سب متاثر ہوتے ہیں۔ 'ڈالر کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے ملک سے سرمایہ چلا جاتا ہے اور سرمایہ دار یہاں آنا نہیں چاہتے اور یہ ہر طرح سے نقصان دہ ہے۔'

    عابد حسین
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری مجموعی قومی پیداوار کا ایک فیصد فلاح و بہبود میں صرف کر دیتے ہیں جس کے باعث پاکستان کا شمار سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔

    بلوچستان میں جہاں مالی اعتبار سے درمیانے اور نچلے درجے کے افراد کی تعداد زیادہ ہے وہاں نوے فیصد خیرات اداروں اور تنظمیوں کے بجائے براہ راست مستحق افراد کو دی جاتی ہے۔

    اس ریسرچ کے مطابق زیادہ تر دی جانی والی رقم کی مالیت کم ہوتی ہے مگر وہ باقاعدگی سے دی جاتی ہے۔ یہ امداد زیادہ تر مستحق افراد کو دی جاتی ہے۔ ان افراد تک اداروں کی نسبت پہنچنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔


    اداروں کو دی جانے والی مالی امداد زیادہ تر مساجد اور مدرسوں کو دی جاتی ہے۔ لوگوں کے گھروں میں جا کر پیسہ جمع کرنے اور محلوں چندے کے لیے ڈبوں کے رکھے جانے سے یہ ادارے زیادہ رقم جمع کر لیتے ہیں۔


    پاکستانی عوام کا ایک طبقہ اس خوف سے کہ کہیں ان کی دی ہوئی رقم ضائع نہ ہو جائے، عام فلاحی تنظیموں کو کم دیتے ہیں اور زیادہ مستحق غریب افراد کو رقم یا اشیاء عطیہ کرتے ہیں۔


    پاکستان میں صاحب حیثیت افراد نہ صرف اپنے قریبی مستحق افراد کی مدد کرتے ہیں بلکہ ان کی دولت سے خیراتی اداروں کی بھی مالی مدد کی جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مالی طور پر خوش حال افراد کے پاس خیراتی اداروں کے بارے میں معلومات بھی زیادہ ہوتی ہیں اور وہ بعض اوقات ان خیراتی اداروں سے منسلک بھی ہوتے ہیں۔


    بلوچستان میں جہاں مالی اعتبار سے درمیانے اور نچلے درجے کے افراد کی تعداد زیادہ ہے وہاں نوے فیصد خیرات اداروں اور تنظمیوں کے بجائے براہ راست مستحق افراد کو دی جاتی ہے۔


    0 0

    فیس بک کو اس وقت کیمبرج اینالیٹکا کی وجہ سے بہت بڑے اسکینڈل کا سامنا ہے اور اس سماجی رابطے کی ویب سائٹ کو چھوڑنے کی مہم بھی اس وقت ٹوئٹر پر زور و شور سے چل رہی ہے۔ مگر فیس بک نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ اس مہم میں ایسا شخص شامل ہو جائے گا، جسے اس ویب سائٹ کی بدولت اربوں ڈالرز کا فائدہ ہوا۔ جی ہاں اس وقت چل رہی مہم میں شامل بیشتر افراد وہ ہیں جنھیں فیس بک کی آمدنی سے چند ارب ڈالرز کمانے کا موقع اس طرح نہیں ملا جس طرح واٹس ایپ کے شریک بانی برائن ایکٹن کو ملا تھا، جسے مارک زکربرگ کی کمپنی نے 2014 میں 19 ارب ڈالرز یا 19 کھرب پاکستانی روپے سے زائد میں خریدا تھا۔ گزشتہ سال فیس بک سے الگ ہو جانے والے برائن ایکٹن نے گزشتہ روز ٹوئیٹ کیا جس پر لکھا تھا اب وقت آگیا ہے #deletefacebook ۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فیس بک کی وجہ سے برائن ایکٹن ارب پتی بن گئے تھے مگر اب وہی اپنے ٹوئٹر فالورز کو کہہ رہے ہیں کہ فیس بک اکاﺅنٹ ڈیلیٹ کر دیں۔
    ساڑھے 6 ارب ڈالرز کے مالک برائن ایکٹن نے اس حوالے سے مزید کچھ نہیں کہا جبکہ واٹس ایپ کے عہدیداران نے بھی اس پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔
    گزشتہ سال برائن ایکٹن نے ایک میسجنگ ایپ سگنل میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کہ واٹس ایپ کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے۔

    اس وقت فیس بک کو گزشتہ دنوں سامنے آنے والے اسکینڈل پر امریکا اور یورپ میں تفتیش جبکہ حصص کی قیمت میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ برائن ایکٹن کو آن لائن دنیا میں صارف کی پرائیویسی کے حامی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں کہ فیس بک سے الگ ہونے والے کسی عہدیدار نے اس کے خلاف بات کی ہو مگر یہ اعلیٰ ترین عہدے پر رہنے والی پہلی شخصیت ضرور ہیں جو کہ فیس بک کے لیے شرمندگی کا باعث بنا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برائن ایکٹن نے اس ٹوئیٹ کے بعد اپنی فیس بک پروفائل بھی ڈیلیٹ کردی ہے۔
     


    0 0

    آج یومِ پاکستان کے موقع پر استنبول میں براعظم ایشیا اور براعظم یورپ کو ملانے والے ترکی کے تینوں پلوں کو برقی قممقوں سے روشن کیا جا رہا ہے ۔  ترکی کی وزارتِ موصلات، خبررسانی اورجہاز رانی نے پاکستان سے اپنے جذبہ خیر سگالی کا اظہار کرنے کے لیے ایشیا اور یورپ کو ملانے والے پلوں کو 23 مارچ 2018 کی شام یوم پاکستان کے پر مسرت موقع پر پاکستانی پرچم کے رنگوں سے منور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ترک باشندوں کی پاکستان سے گہری محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ بینالاقوام پلیٹ فارم پر جب اپنے ہی ساتھ چھوڑ دے ترکی ہی واحد ملک ہے جس نے پاکستان کا ہمیشہ ، بھر پور اور کھل کر ساتھ دیا ہے اور کبھی امریکہ جیسے ملک کی بھی اس سلسلے میں ڈالے جانے والے دباو کی پرواہ نہیں کی ہے۔ ترک باشندے جن کے دلوں میں پاکستان سے محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اپنی اس محبت کی عکاسی براعظم ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع تینوں پلوں پر پاکستان کے پرچم سبز اور سفید رنگ کے برقی قممقے سجاتے ہوئے کر رہے ہیں۔ اس سے قبل کبھی بھی ترکی کے براعظم ایشیا اور یورپ کے سنگم پر واقع کسی بھی پل پر کسی غیر ملکی پرچم کو جگہ نہیں دی گئی ہے۔ اس طرح پاکستان خوش قسمت ملک ہے جس کو یہ اعزاز بخشا گیا ہے ۔
     


    0 0

    قرارداد پاکستان کے 78 سال پورے ہونے پر آج ملک بھر میں یومِ پاکستان روایتی جوش و خروش سے منایا گیا اور مرکزی تقریب وفاقی دارالحکومت کے شکرپڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں ہوئی۔ علی الصبح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملک کی ترقی، خوشحالی، سلامتی اور امن کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ آج سے 77 سال قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ 

    پاکستان میں حکومتی سطح پر ہر سال 23 مارچ کو تقریبات منعقد کی جاتی ہیں، جب کہ فوجی پریڈ کو تقریبات میں منفرد اہمیت حاصل ہے۔ یوم پاکستان کی مرکزی تقریب اسلام آباد میں شکرپڑیاں کے پریڈ گراؤنڈ میں صبح 9 بجے شروع ہوئی، جس میں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستوں نے سلامی پیش کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی صدر مملکت ممنون حسین تھے جبکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سربراہ پاک بحریہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی، ایئرچیف مارشل مجاہد انور خان، وزیر دفاع جہانگیر دستگیر سمیت اراکین پارلیمان اور دیگر رہنماؤں اور مہمانوں نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے بھی خصوصی طور پر یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب میں شرکت کی۔









    0 0

    1. آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ سیشن مسلم لیگ کی مجلس عاملہ اور شوریٰ کے اقدام کی منظوری اور توثیق کرتے ہوئے جیسا کہ ان کی قرارداد مورخہ 27 اگست‘ 17 و 18 ستمبر اور 22 اکتوبر1939ء اور 3 فروری 1940ء سے ظاہر ہے۔ آئینی قضیے میں اس امر کے اعادے پر زور دیتا ہے کہ 1935ء کے حکومت ہند ایکٹ میں تشکیل کردہ وفاق کی منصوبہ بندی ملک کے مخصوص حالات اور مسلم ہندوستان دونوں کے لیے بالکل ناقابل عمل اور غیر موزوں ہے۔

    -2. یہ (سیشن) مزید براں پرزور طریقے سے باور کرانا چاہتا ہے کہ تاجِ برطانیہ کی جانب سے وائسرائے کا اعلامیہ مورخہ 18 اکتوبر1939ء‘ حکومت ہند ایکٹ 1935ء کی اساسی پالیسی اور منصوبے کے ضمن میں اس حد تک اطمینان بخش ہے‘ جس حد تک مختلف پارٹیوں‘ مفادات اور ہندوستان میں میں موجود گروہوں کی مشاورت کی روشنی میں اس پر نظر ثانی کی جائے گی۔ مسلم ہندوستان تب تک مطمئن نہیں ہو گا جب تک مکمل آئینی منصوبے پر نئے سرے سے نظرثانی نہیں کی جائے گی اور یہ کہ کوئی بھی ترمیم شدہ منصوبہ مسلمانوں کے لیے صرف تبھی قابل قبول ہو گا اگر اس کی تشکیل مسلمانوں کی مکمل منظوری اور اتفاق کے ساتھ کی جائے گی۔

    -3. قرار پایا ہے کہ یہ آل انڈیا مسلم لیگ کا مسلمہ نقطئہ نظر ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی آئینی منصوبہ تب تک قابل قبول نہیں ہو گا‘ جب تک وہ ذیل کے بنیادی اصول پر وضع نہیں کیا جائے گا‘ وہ یہ کہ جغرافیائی طور پر ملحق اکائیوں کی علاقائی حد بندی کر کے ان کی آئینی تشکیل اس طرح کی جائے کہ جن علاقوں میں مسلمان عددی طور پراکثریت میں ہیں‘ جیسا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی حصے، ان کو آزاد ریاستوں میں گروہ بند کر دیا جائے اور اس طرح تشکیل پانے والی یہ اکائیاں مکمل آزاد اور خود مختار ہوں گی۔

    -4. یہ کہ ان اکائیوں میں موجود خطوں کے آئین میں اقلیتوں کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذہبی‘ ثقافتی‘ معاشی‘ سیاسی انتظامی اوردیگر حقوق مفادات کے تحفظ کے مناسب‘ موثر اور لازمی اقدامات یقینی بنائے جائیں اور ہندوستان کے دوسرے حصے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں‘ آئین میں ان کی مشاورت کے ساتھ ان کے مذہبی‘ ثقاتی‘ معاشی‘ سیاسی‘ انتظامی اور دیگر حقوق اور مفادات کے تحفظ کے مناسب‘ موثر اورلازمی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔

    -5. یہ سیشن مزید براں عاملہ کمیٹی کو ان بنیادی اصولوں کے مطابق دفاع‘ خارجہ امور‘ مواصلات‘ کسٹم اور دیگر ضروری معاملات کے لحاظ سے مفروضے کو حتمی شکل دینے کی غرض سے آئین سازی کی اسکیم وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
     


    0 0

    پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان انٹرنیشنل کھیلوں کی دوری کی صورت میں برداشت کرنا پڑا، تمام تر کوششوں کے باوجود ہمارے ملکی گراؤنڈز انٹرنیشنل کرکٹ سے ویران ہی رہے، پی سی بی کی انتھک کوششوں سے 2008 میں بنگلہ دیش جبکہ اگلے برس سری لنکن ٹیم پاکستان کے دورے پر آ ہی گئی لیکن لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد پاکستان غیر ملکی ٹیموں کے لئے ایک بار پھر نو گو ایریا بن گیا۔ سانحہ لبرٹی کے 6 سال کے بعد قذافی سٹیڈیم میں تو زمبابوے، کینیا اور ورلڈ الیون کی ٹیمیں ایکشن میں دکھائی دے چکیں، پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن کا فائنل بھی ہو چکا تاہم نیشنل سٹیڈیم کراچی کو 9 سال کے طویل عرصے کے بعد پی ایس ایل کے فائنل کی شکل میں کرکٹ کے بڑے میلے کی میزبانی کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

    نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی کی تاریخ کی بات کی جائے تو اسی گراؤنڈ میں پہلا میچ 26 فروری تا یکم مارچ 1955 تک پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا جبکہ آخری بار پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں 21 تا 25 فروری2009 میں ایک دوسرے کے خلاف ایکشن میں دکھائی دیں، 1955 سے دسمبر 2000 تک ہونے والے 34 ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے 17 میں فتح سمیٹی جبکہ اسے کسی ایک بھی مقابلے میں ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ پہلا ایک روزہ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 21 نومبر 1980 جبکہ آخری میچ 21 جنوری 2009 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا گیا۔ 

    اسی گراؤنڈ پر پہلا اور آخری ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ 20 اپریل 2008 میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا، پاکستان نے میچ کا نتیجہ 102 رنز سے اپنے نام کیا۔ ملک کے سب سے بڑے سٹیڈیم کو اب تک ورلڈ کپ 1987 اور عالمی کپ 1996 کے 6 میچز کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اسی گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میں 765 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے اور آسٹریلیا کو 80 کے سب سے کم سکور پر پویلین کی راہ دکھانے سمیت متعدد ریکارڈز بنانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔

    اسٹیڈیم میں 34228 افراد کے میچ دیکھنے کی گنجائش موجود ہے، کرکٹ کے دیوانوں کو شکوہ رہا ہے کہ 2 کروڑ کی آبادی والے ملک کے سب سے بڑے شہر میں یہ تعداد بہت کم ہے، پی سی بی نے متعدد بار وعدہ کیا ہے کہ یہ تعداد بڑھا کر 90 ہزار تک کر دی جائے گی تاہم ابھی تک یہ وعدہ وفا نہ ہو سکا ہے۔ ایک عشرہ تک اس گراؤنڈ میں کرکٹ کی سرگرمیاں بحال نہ ہو سکنے کی وجہ سے سٹیڈیم کا کوئی پرسان حال نہیں رہا تھا تاہم جب پی سی بی نے پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کا فائنل کراچی میں کروانے کا فیصلہ کیا تو اس کے ساتھ ہی ڈیرھ ارب کی خطیر رقم سے سٹیڈیم کی تزئین وآرائش کا کام بھی شروع کروا دیا گیا.

    میاں اصغر سلیمی

    بشکریہ ایکسپریس نیوز اردو
     


older | 1 | .... | 122 | 123 | (Page 124) | 125 | 126 | .... | 149 | newer