Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 120 | 121 | (Page 122) | 123 | 124 | .... | 149 | newer

    0 0

    پاکستان میں ہر تیسرا فرد پژمردگی، ذہنی دباؤ (ڈپریشن) کا شکار ہے جب کہ نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کا تناسب 34 فی صد تک بتایا جاتا ہے یعنی ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار ہے معاشرتی ناہمواری، غربت، بیروزگاری سمیت دیگر عوامل نے پاکستان کی 34 فیصد آبادی کو ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے مگر ایک اور رپورٹ میں یہ تناسب 44 فیصد تک ہے اور اس رپورٹ میں پاکستانی مردوں سے زیادہ خواتین کو ڈپریشن کا شکار بتایا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق 5 کروڑ پاکستانی عمومی ذہنی امراض کا شکار ہیں اور ان میں 57.5 خواتین اور 25 فی صد مرد شامل ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق ایک تہائی اور دوسری رپورٹ کے مطابق 44 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے وہیں ماہر امراض دماغ (سائیکاٹریسٹس) کی تعداد محض 800 سو ہے جہاں تک بچوں کی نفسیات کا تعلق ہے تو 40 لاکھ بچوں کے علاج کے لیے ایک سائیکاٹریسٹ موجود ہے اور پاکستان میں پوری آبادی کے لیے 4 اسپتال نفسیات کے علاج کی سہولت مہیا کر رہے ہیں۔ 2015 اور 2016 میں 35 شہروں میں خود کشی کے واقعات کا ایک جائزہ لیا گیا تب 1473 کیسز میں سے 673 کیس سندھ میں، 645 پنجاب میں،121 خیبر پختونخوا میں اور 24 کیس بلوچستان میں رپورٹ ہوئے ان کی بڑی وجوہ میں بے روزگاری، بیماری، غربت، بے گھر ہونا اور خاندانی تنازعات تھے۔

    طبی ماہرین کے مطابق بچوں میں خود کشی کے رجحانات کا ایک انتہائی سبب دوران پیدائش بچے کے ماں باپ کے آپس کے جھگڑے ہیں، ماں باپ لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ دوران حمل بچہ سب کچھ محسوس کر رہا ہے اس لڑائی جھگڑے کے اثرات ان کے ناپختہ ذہنوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں ایسے بچے جرائم کی دلدل میں بھی پھنس سکتے ہیں، یہ اپنا انتقام دوسروں سے لیتے ہیں اور خود بھی خود کشی کر سکتے ہیں۔ یہ رجحانات ایسے بچوں میں پائے جاتے ہیں سروے میں افسوس ناک نتائج سامنے آئے جب پتہ چلا کہ مردوں اور عورتوں میں خود کشی کا تناسب 2-1 کا ہے یعنی 66 فیصد مرد اور 33 فیصد خواتین ہیں سال بھر میں پاکستان کے 35 شہروں میں 300 افراد کی خودکشی کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ اکثریت کی عمریں 30 سال سے کم تھیں جب کہ مرنے والوں میں غیر شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورتوں کی تعداد زیادہ تھی۔
     


    0 0

    معاشرے کی درست تشکیل و تعمیر کے لیے سماجی انصاف بنیادی حیثیت رکھتا ہے، تاہم بلوچستان میں سماجی انصاف کی حالت کچھ زیادہ بہترنہیں ہے۔ بلوچستان میں تعلیم ، صحت، پینے کے صاف پانی کی مناسب سہولتیں اور روزگار کا نہ ہونا سماجی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 37 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، عوام اس صورتحال پرنالاں ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے بنیادی نوعیت کے مسائل ہیں جن کا حل ہونا ناگزیر ہے اس طور سماجی انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ بلوچستان میں 12 لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جنہوں نے اسکول کی شکل تک نہیں دیکھی، صحت کے شعبے کا حال یہ ہے کہ زچگی کے دوران ماؤں اور بچوں کی شرح اموات پورے ملک سے زیادہ ہے.

    رہی بات پینے کے صاف پانی اور روزگارکی فراہمی کی تو شہریوں کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح روز بروز گرتی جا رہی ہے لیکن شاید ارباب اختیار کو اس کا احساس تک نہیں۔ یہاں درحقیقت حکمرانوں کو احساس نہیں ہے وہ کس قسم کے مسائل سے کیسے نمٹ سکیں تعلیم، صحت، امن و امان کے حوالے سے کافی کام کرنا پڑے گا جب تک عوام کو بنیادی سہولیات نہیں ملیں گی یہ بات پوری نہیں ہو سکے گی۔ سماجی انصاف کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں کیونکہ تمام لوگوں کویکساں بنیادی سہولتیں نہ ملنے سے سنگین معاشرتی مسائل اور المیے جنم لیتے ہیں۔ شہریوں کو مساوی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔

     


    0 0

    پاکستان دنیا کے ان ملکوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں پیدائش کے بعد ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کر جانے والے بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ عالمی ادارے نے رپورٹ میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک میں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم کرنے کے لیے قابلِ ذکر پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے جن 10 ممالک میں نوزائیدہ بچوں کا ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں انتقال کا خطرہ سب سے زیادہ ہے ان میں اکثریت افریقہ کے صحارا خطے اور جنوبی ایشیا کے ممالک کی ہے۔

    پاکستان میں یہ شرح ایک ہزار میں سے تقریباً 46 ہے جب کہ ہر 22 بچوں میں سے ایک نوزائیدہ بچے کو موت کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں رپورٹ میں ترقی یافتہ ملکوں میں جہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات خاصی کم ہے، جاپان کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہاں 1111 نوزائیدہ بچوں میں سے ایک کے انتقال کر جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یونیسف کے مطابق افریقی ممالک میں غربت کی وجہ سے حاملہ خواتین کو مناسب طبی امداد میسر نہیں ہوتی اور بعض ممالک میں جاری تنازعات کے باعث وہاں کمزور انتظامی ڈھانچے کی وجہ سے بھی اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

    پاکستان جہاں ماضی کی نسبت زچہ و بچہ کے لیے طبی سہولتوں میں بہتری آئی ہے اور زچگی کے لیے قدرے بہتر ماحول اور تربیت یافتہ طبی عملہ بھی موجود ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں نوزائیدہ بچوں کی شرحِ اموات کم نہیں ہو سکی ہے۔ ماہرین اس کی عمومی وجہ حاملہ خاتون کی صحت کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، غذائیت کی کمی اور زچگی کے بعد نوزائیدہ بچے کے لیے ضروری طبی نگہداشت کے مناسب انتظامات کا نہ ہونے بتاتے ہیں۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 26 لاکھ بچے اپنی پیدائش کے ایک ماہ کے اندر ہی انتقال کر جاتے ہیں۔
     


    0 0

    ٹیکسٹائل کا شعبہ جسے ہماری قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل رہی ہے ، گزشتہ دس بارہ سال سے ملک میں بجلی اور گیس کے بحران کے سبب شدید مشکلات کا شکار چلا آرہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل نہیں رہیں اور پاکستانی کپڑے کے بڑے بڑے خریدار دوسرے ملکوں کو منتقل ہو گئے۔ تاہم بجلی اور گیس کی پیداوار کی فراہمی میں نمایاں بہتری کے بعد ٹیکسٹائل کے شعبے کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کا عمل میں لایا جانا ضروری ہے۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل نے گزشتہ روز جنگ سے بات چیت میں اسی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے بقول سو سے زائد بند ٹیکسٹائل ملوں کی بحالی ملکی برآمدات میں سالانہ پانچ ارب ڈالر مالیت کے اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    اس کے لئے انہوں نے ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے ملک بھر میں گیس کے یکساں نرخ مقرر کرنے، بجلی اور خام مال کی قیمتیں اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کر کے ٹیکس کی شرح کم کرنے نیز ڈیوٹی ڈرا بیک کی فوری ادائیگی کی ضرورت کا اظہار کیا ہے۔ اپٹما کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ 65 سے 70 فی صد تک رہا ہے لیکن خطے کے دوسرے ملکوں میں ٹیکسٹائل کی صنعت کو حاصل مراعات اور بجلی و گیس کی ارزاں نرخوں کے سبب پاکستان کو اس شعبے میں شدید مسابقت کا سامنا ہے جس کے باعث قومی معیشت کی ترقی میں ٹیکسٹائل کی صنعت اپنا بھرپور کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔

    پنجاب میں ٹیکسٹائل ملوں کے لیے گیس کے نرخوں کا دوسرے صوبوں کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہونا ، جس کی جانب اپٹما کے عہدیدارنے خاص طور پر توجہ دلائی، یقیناً ایک فوری حل طلب معاملہ ہے۔ ان کا یہ شکوہ کہ 180 ارب کے برآمدی پیکیج میں سے صرف دس فی صد پر عمل ہوا ہے، حکومت کی جانب سے وضاحت کا متقاضی ہے ، اور اگر ایسا ہے تواس کے ازالے کے لیے مالی سال کی بقیہ مدت میں جو کچھ کیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جانی چاہیے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کا معاملہ تین ماہ کیلئے موخر ہونے کو ماہرین نے خوشخبری قرار دے دیا۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگانے کی امریکی کوششیں ناکام ہونے پرماہرین نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ماہر مالیاتی امور اسد رضوی کہتے ہیں کہ تین ماہ مختصر عرصہ ہے جس میں پاکستان کو بہت کچھ کرنا ہو گا۔ معاشی تجزیہ کار شبر زیدی کہتے ہیں ڈیڑھ ماہ کے دوران قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سابق سفارتکار نجم الدین شیخ نے کہا کہ اس معاملے پر فوری قانون سازی کی ضرورت ہے کیوں کہ تین ماہ کے وقفے کے دوران الیکشن قریب آ جائیں گے ۔
     


    0 0

    یہاں ہم اس مقبول سروس کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق بیان کریں گے ۔ واٹس ایپ کے بانی جان کوم اور برائن ایکٹن نے 2007 میں ایک کمپنی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسکے بعد انھوں سے فیس بک میں ملازمت کیلئے درخواست دی، جس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فروری 2009 میں انھوں نے واٹس ایپ کا آغاز کیا اور صرف پانچ سال بعد، 2014 میں، واٹس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے فیس بک نے اس کو 19 ارب ڈالر کی ناقابل یقین قیمت میں خرید لیا تھا۔ جن میں سے 4 ارب کیش جبکہ باقی رقم فیس بک شئیرز کی صورت میں دی گئی، یوں یہ دونوں فیس بک میں 12 فیصد شئیرز کے مالک ہیں۔ جبکہ نوکیا جیسی کمپنی کا موبائل ڈویژن مائیکروسافٹ نے تقریباً ساڑے 7 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ واٹس ایپ کی فروخت کو ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے مہنگا سودا کہا جا سکتا ہے ۔

    ایک ارب صارفین

    واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فعال صارفین کی تعداد ایک اارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ یعنی دنیا میں ہر 7 میں سے ایک آدمی کے پاس واٹس ایپ کا اکاؤنٹ موجود ہے۔ ایک سال پہلے کمپنی نے 50 کروڑ صارفین حاصل کرنے کا سنگ میل عبور کیا تھا۔ صرف ایک سال میں 50 کروڑ افراد نے اکاؤنٹس بنائے ہیں.

    روزانہ 42 ارب پیغامات کی ترسیل 

    واٹس ایپ کے مطابق اس ایپلیکیشن کے صارفین روزانہ 42 ارب میسجز کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہی نہیں، واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہر 24 گھنٹوں میں ڈھائی کروڑ وڈیوز بھی ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی ہیں۔ 

    مفت سروس

    اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سروس مفت دستیاب ہے۔ پہلے تک اس سروس کی فیس ایک ڈالر سالانہ تھی مگر کمپنی نے جنوری 2016 سے وہ بھی ختم کر دی۔ ہر صارف بغیر کسی خرچ اور اشتہارات کی جھنجٹ کے، واٹس ایپ استمال کر سکتا ہے۔ 

    واٹس ایپ وائس کال

    واٹس ایپ نے اکتوبر 2014 میں مفت وائس کال فراہم کرنے کی سروس کا آغاز کیا بہت سے لوگوں کیلئے اب یہ فون کال کا متبادل ہے اورمفت انٹرنیٹ وائس کال فیچر کی وجہ سے یہ مائیکروسافٹ کی مقبول عام سروس "سکائپ"کے مقابلے پر بھی آ چکی ہے۔

    بڑھتا ہوا مقابلہ

    گرچہ واٹس ایپ بین الاقوامی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ سروس ہے لیکن بہت سے ممالک میں مقامی میسجنگ ایپس کی حکمرانی ہے، جیسا کہ میسجنگ ایپ "وی چیٹ"کے چین میں 50 کروڑ صارفین ہیں۔ اسی طرح "لائن "جاپان جبکہ"کاکئو ٹک "کوریا میں مقبول ترین میسجنگ ایپس ہیں۔ 

    پیسے بنانے کی نرم پالیسی

    واٹس ایپ میں دیگر ایپس کی طرح سبسکرپشن فیس، اشتہارات یا سٹکرز بیچ کر پیسے نہیں کمائے جاتے۔ کمپنی کے بانی کم جان کوم کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر انسان کو قابل بھروسہ اور کم خرچ سروس کی ذریعے دنیا بھر سے رابطہ رکھنے کے قابل بنایا جائے۔
     


    0 0

    عدالت ِعظمیٰ نے معزول وزیراعظم میاں نواز شریف کو ایک مرتبہ پھر ’’نکال‘‘ دیا ہے لیکن اس مرتبہ انھیں حکمراں جماعت کی صدارت کے عہدے سے نکالا ہے اور چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے قرار دیا ہے کہ آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا ۔ عدالت عظمیٰ میں گذشتہ سال پارلیمان میں منظور کردہ متنازع الیکشن ایکٹ 2017ء کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت میاں نوازشریف کی قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہلی کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ کے عہدے پر برقرار رہنے کی راہ ہموار کی گئی تھی۔

    حزب اختلاف کی جماعتوں پاکستان تحریکِ انصاف،عوامی مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور دوسرے درخواست گزاروں نے عدالتِ عظمیٰ میں الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف ایک جیسی درخواست دائر کی تھیں۔ اس مقدمے کی سماعت کے بعد عدالت ِعظمیٰ کے چیف جسٹس ، جسٹس میاں ثاقب نثار نے فیصلہ پڑھ کر سنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ جس شخص کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو، وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کسی امیدوار کی نامزدگی کے کاغذات پر بھی دستخط نہیں کر سکتا‘‘۔ انھوں نے قرار دیا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق نواز شریف کی نااہلی کی مدت سے ہو گا۔

    اس سے قبل عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ کے روبرو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کی دفعہ 17 ہر شہری کو سیاسی جماعت بنانے کا حق فراہم کرتی ہے اور آئین کی کسی دوسری دفعہ کے تحت اس بنیادی حق کو ختم نہیں کیا جا سکتا جبکہ قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ عدالت صرف آرٹیکل 17 کو مدنظر رکھے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے وکیل فروغ نسیم نے جواب الجواب دلائل شروع کیے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارٹی سربراہ ربڑ اسٹمپ نہیں ہو سکتا کیونکہ پارٹی سربراہ کاعہدہ بہت اہم ہوتا ہے تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں۔ لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوتے ہیں۔ ہمارے کلچرمیں سیاسی جماعت کے سربراہ کی بہت اہمیت ہے۔ یاد رہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے 28 جولائی 2017ء کو پاناما پیپرز کیس میں میاں نواز شریف کو آئین کی دفعہ 62 اور 63 کے تحت قومی اسمبلی کی رکنیت کا نااہل قرار دے دیا تھا اور انھیں اس فیصلے کے تحت وزارت ِعظمیٰ کے عہدے سے معزول ہونا پڑا تھا۔ 


    0 0

    گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ نے بیان دیا تھا کہ چینی زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا جا رہا مگر سی پیک اور تجارتی سرگرمیاں بڑھنے کے تناظر میں کراچی سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں میں چینی زبان سکھانے کے اداروں کا قیام بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سن 2017ء کے اوائل میں کراچی شہر میں ایسے اداروں کی تعداد 4 تھی جو رواں برس بڑھ کر 18 ہو گئی ہے۔ یہ ادارے زیادہ تر ایک ایک ماہ کے دو سیشن کر رہے ہیں جو ہفتے میں دو دن دو گھنٹے کی کلاسوں پر محیط ہوتے ہیں۔ فی سیشن 30 ہزار سے 50 ہزار فیس وصول کر رہے ہیں۔ ایک ادارہ چار ماہ سے 16 ماہ کا تفصیلی کورس بھی پیش کر رہا ہے۔ ایک اور ادارہ 6 لیول پر مشتمل کورس کروا رہا ہے اور فی کورس فیس 30 ہزار روپے ہے۔ یہ ادارے انٹرپریٹر اور ٹلانسلیٹر کی خدمات بھی پیش کر رہا ہے۔

    کچھ اداروں نے لیڈی ٹیچر کی خدمات بھی لے رکھی ہیں۔ ایک ادارے نے ہنگامی ایگزیکٹو کلاسوں کا انعقاد بھی کر رکھا ہے۔ کراچی میں اس وقت گلشن اقبال میں این ای ڈی یونیورسٹی کے مقابل، ایک بیت المکرم مسجد کے نزدیک اور ایک ڈسکو بیکری کے قریب، ماڈل کالونی میں ایک، کلفٹن میں دو، ایک ڈی ایچ اے سینٹرل لائبریری میں۔ مذکورہ زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں میں جہاں یہ کورس کروائے جا رہے ہیں، ان میں ڈسکہ، اوکاڑہ کینٹ، قلات، مانسہرہ، نارووال، سیالکوٹ، کوٹ سلطان، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوادر، مریدکے، راولپنڈی، سکھر، لکی مروت، پشاور، ٹیکسلا، مردان اور بہاولپور شامل ہیں۔

    اسد ابن حسن
     


    0 0

    چیف جسٹس افتخار چوہدری تو تب قوم کے دل کی دھڑکن بنے تھے جب انھیں پرویز مشرف نے جبراً برطرف کر دیا تھا۔ مگر جسٹس ثاقب نثار عزت مآب کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت تو خود ان کے جرات مندانہ فیصلوں اور خالی از مصلحت بیانات و اقوال کی مرہونِ منت ہے اور ہر آنے والا دن ملک و قوم کے لیے پہلے سے زیادہ امید افزا لگ رہا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب میرے شہر کراچی میں دو برس پہلے جنرل راحیل شریف کی مدتِ عہدہ میں توسیع کے لیے پوسٹرز چپکائے گئے تو کچھ شکی مزاجوں نے بکنا شروع کر دیا کہ یہ پوسٹرز ایجنسیوں نے لگائے ہیں۔ مگر آج کراچی میں سندھ سیکریٹیریٹ کے آس پاس میں نے کسی لائرز فرنٹ کی طرف سے ’’ برائیوں کے خلاف جنگ جسٹس ثاقب نثار کے سنگ والے پوسٹرز برقی کھمبوں سے لٹکتے دیکھے تو دل کو اطمینان سا ہوا کہ وکلا برادری جو اپنے تئیں کسی کو کچھ نہیں سمجھتی اور ان میں سے کچھ کالے کوٹوں نے زیریں عدالتوں میں توڑ پھوڑ کر کے اور کچھ ججوں کو پھنڈ کے اپنی برادری کے لیے خجالت کا جو سامان کیا۔ وہ بھی اپنے افعال پر نادم ہونے کے بعد بطور کفارہ چیف جسٹس کے شانہ بشانہ اس معاشرے سے برائیوں کے خاتمے اور انصاف کے بول بالے کے لیے کھڑے ہیں.

    اور کچھ وکیل اپنی جیب سے پوسٹرز چھپوا کر اظہارِ عقیدت کر رہے ہیں۔ یہ بے مثال اظہارِ عقیدت چیف جسٹس کے جرات مندانہ فیصلوں کے سبب ہے ورنہ تو اس ملک میں کئی قاضی القضاہ آئے اور چلے گئے۔ چیف جسٹس نے یونہی دلوں کو نہیں چھوا۔ ان میں ایک عوامی کشش ہے۔ وہ پروٹوکول کو بالائے طاق رکھ کے لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔ مصلحت کوشی سے کوسوں دور ہیں اور جو بات دل میں وہی زبان پر ہے۔ وہ اس کہاوت کی مکمل تصویر ہیں کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آنا چاہیے۔ پرسوں ہی آپ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے کیفے ٹیریا میں اچانک قدم رکھا اور وکلا کے ساتھ چائے پے چرچا کی۔آپ نے فرمایا کہ ہم سماجی برائیوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اور اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش جاری رکھیں گے کہ شہریوں کو صاف پانی ، صحت مند ماحول ، خالص دودھ اور صاف ستھرے گوشت کی فراہمی سمیت بنیادی سہولتیں دستیاب ہوں۔ کسانوں کو ان کی فصل کی مناسب قیمت ملے۔ آپ نے فرمایا کہ ممکن ہے اعلی عدلیہ کبھی اپنی سمت سے ادھر ادھر بھی ہو گئی ہو مگر دیر آئید درست آئید اب اعلی عدلیہ نے معاشرے سے ناانصافی کے خاتمے کی بنیاد ڈال دی ہے۔ وکلا میرے سپاہی ہیں۔

    اب یہ ان پر منحصر ہے کہ بنیاد پر عمارت کی تعمیر مکمل کریں۔ آپ بربنائے عہدہ چونکہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بھی سربراہ ہیں لہذا جب وکلا نے آپ کی توجہ کونسل میں ججوں کے خلاف طویل عرصے سے پڑے ریفرینسوں کی جانب مبذول کروائی تو آپ نے کمال فراغ دلی سے فیصلوں میں تاخیر کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ جتنے بھی ریفرینسز سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ہیں ان سب کا فیصلہ جون تک کر دیا جائے گا تاکہ کوئی یہ انگلی نہ اٹھا سکے کہ عدلیہ خود احتسابی سے تساہل برت رہی ہے۔ اس موقع پر بعض وکلا نے جذباتی ہو کر آپ کی موجودگی میں برتے جانے والے ادب آداب کا خیال نہ کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی کے خلاف بھی نعرے لگائے مگر آپ نے اسے الیکشن مہم کی گرما گرمی جان کر درگزر فرمایا۔

    مجھے معلوم ہے کہ کچھ بال کی کھال نکالنے والے ضرور کہیں گے کہ سماجی انصاف اور عوامی سہولتوں کو یقینی بنانا عدلیہ کی براہِ راست ذمے داری نہیں بلکہ عدلیہ کو یہ کام حکماً حکومت سے کروانا چاہیے۔ اگر عدلیہ نے اپنے ذمے آٹے دال کا بھاؤ سیدھا کرنے کا بھی کام لے لیا تو پھر پہلے سے موجود انیس لاکھ مقدمات کے فیصلوں میں اور تاخیر ہو سکتی ہے۔ ایسے بال کی کھال نکالنے والوں کو میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ جب پارلیمنٹ یہ تمیز کھو دے کہ اسے کون سا قانون بنانا ہے کون سا نہیں بنانا ، جب وہ ایماندار اور بے ایمان قیادت میں فرق نہ کر سکے اور جب وہ محض کروڑوں ووٹوں سے منتخب ہونے کے زعم میں بس خود کو ہی عوامی امنگوں کا ترجمان سمجھنے لگے اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جائے کہ عدلیہ کا بس یہی کام ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے بنائے قوانین کی حدود میں رہ کر فیصلے کرے یا ان قوانین کی تشریح تک خود کو محدود رکھے تو پھر تو جمہوریت کے نام پر اندھیر نگری مچنی ہی ہے جو کہ مچ رہی ہے۔ ایسے میں کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ دیگر مقتدر ادارے بشمول عدلیہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے تماشا دیکھتے رہیں۔

    یہ ٹھیک ہے کہ آئین پارلیمنٹ نے جنم دیا اور اس میں ترمیم و اضافہ بھی پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے۔ مگر پارلیمنٹ آئین کی جسمانی ماں ہے۔ آئین کی نگہداشت، تربیت اور اس پر نگاہ رکھنے اور اس کے تحت کیے جانے والے اقدامات کی تشریح اعلی عدلیہ کا حق ہے۔ وہ آئین کی نفسیات بہتر سمجھتی ہے۔ اسی لیے اس کے تمام فیصلوں کو پارلیمانی فیصلوں پر برتری حاصل ہے۔ جو اس اصول کو نہیں مانتا اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ آپ کو بھی اچھے سے معلوم ہے۔ اعلی عدلیہ کو ایک طعنہ یہ بھی دیا جاتا ہے کہ ماضی میں اس نے وہ فیصلے بھی کیے جن سے فوجی آمروں کو قانونی جواز ملا اور انھوں نے آئین سے جیسے چاہے کھلواڑ کیا۔عدلیہ اس بابت ایک سے زائد بار اعتراف کر چکی ہے۔ اب آپ اور کیا چاہتے ہیں۔

    وہ زمانے گئے جب فوج تختہ الٹ دیتی تھی اور ماورائے آئین اقدامات کو بھی زبردستی قانونی جیکٹ پہنوانے کی کوشش کرتی تھی۔ آج کی دنیا میں فوجی کودیتا آؤٹ آف فیشن ہو چکا ہے۔ لہذا مملکت کا قبلہ درست رکھنے اور اداروں کے درمیان چیک اینڈ بیلنس برقرار رکھنے کے لیے اعلی عدلیہ کی ذمے داریاں اور بڑھ گئی ہیں۔ ویسے بھی جوڈیشل ایکٹو ازم اور ازخود نوٹس کے دور میں کسی ادارے کی جانب سے ماورائے آئین قدم اٹھانے کا جواز بے معنی ہو چکا ہے۔ اب جو بھی تبدیلی آنی ہے وہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے آنی ہے۔ یہ سب ایک آزاد خود مختار عدلیہ کے سبب ہی ممکن ہوا ہے۔ مگر عدلیہ کے فیصلے تب تک موثر نہیں ہو سکتے جب تک اسے عوامی تائید و حمائیت حاصل نہ ہو۔ یہ امر نہائیت حوصلہ افزا ہے کہ اس وقت اعلی عدلیہ کو مملکت کے دیگر مقتدر اداروں اور عوامی جذبات کی ترجمانی کرنے والی ایک آدھ کے علاوہ سب سیاسی و مذہبی جماعتوں کی حمائیت حاصل ہے۔ حالانکہ انصاف کو کسی کی تائید و مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر فیصلوں کی روح سمیت مکمل نفاذ میں یقیناً آسانی ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک کو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ لہذا چیف جسٹس کی ذات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان حملوں کی نوعیت سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون اس ملک میں اداروں کی حکمرانی چاہتا ہے کون نہیں چاہتا۔

    رکیک حملوں کے معیار کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس نے جب گذشتہ برس کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریکِ پاکستان میں ایک جانب مسلمان تھے اور دوسری جانب وہ قوم جس کا میں نام بھی لینا نہیں چاہتا تو کچھ حاسدوں نے اس جملے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ چیف جسٹس جس قوم کا نام نہیں لینا چاہتے تھے وہ دراصل ہندو ہیں۔ حالانکہ چیف جسٹس کا اشارہ غالباً ان انگریزوں کی طرف تھا جنہوں نے برِصغیر کو دو سو برس غلام بنا کے رکھا۔ اسی طرح جب ایک بار چیف جسٹس نے فنِ تقریر کے محاسن بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ تو کسی خاتون کے اسکرٹ کی طرح اتنی چھوٹی ہو کہ تشنہ لگے اور نہ ہی اتنی طویل کہ سننے والا بور ہو جائے۔ تو بعض جہلا نے یہ شور مچا دیا کہ ہا ہائے یہ تو خواتین کی توہین ہے۔ اگر اعتراض کرنے والے بھی وسیع المطالعہ ہوتے اور انھوں نے چرچل کو بھی پڑھا ہوتا تو شائد وہ خاموش ہو جاتے۔ چیف جسٹس صاحب نے بھی شائد یہی گمان کر کے یہ مثال دی ہو گی کہ میرے سامنے جو حاضرین بیٹھے ہیں انھیں کم ازکم اتنا تو معلوم ہو گا کہ یہ کس کا قول زریں ہے۔ پر مجھے دکھ ہوا کہ سادہ دل چیف جسٹس کو سامعین بھی ملے تو کیسے نابلد و تنگ دل۔

    مجھے ابھی سے یہ دکھ لاحق ہے کہ چیف جسٹس صاحب اگلے برس فروری میں ریٹائر ہو جائیں گے۔ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ اس ملک پر برے لوگ لمبے لمبے عرصے تک مسلط رہتے ہیں اور جن لوگوں کو لمبے عرصے تک رہنا چاہیے وہ آنکھ پوری جھپکنے سے پہلے ہی ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ حضورِ والا آپ بابا رحمت نہیں خدا کی رحمت ہیں اور خدا کبھی اپنی رحمت سے منہ نہیں موڑتا۔ بس اتنی سی تمنا ہے کہ آپ کے بعد آنے والا بھی آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے آپ کے مشن کو مزید آگے بڑھائے۔

    آمین ، ثم آمین 

    وسعت اللہ خان

     


    0 0

    ذیابیطس پوری دنیا میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ اِس بیماری کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کی ذیابیطس عموماً بچپن میں شروع ہوتی ہے اور فی الحال ڈاکٹر یہ نہیں جانتے کہ اِسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔ اِس مضمون میں ہم ذیابیطس کی دوسری قسم کے بارے میں بات کریں گے۔ ذیابیطس کے تقریباً 90 فیصد مریض اِس دوسری قسم کا ہی شکار ہوتے ہیں۔ ماضی میں دیکھا گیا تھا کہ ذیابیطس کی دوسری قسم کا شکار صرف بڑے ہوتے تھے لیکن حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ بچے بھی اِس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس بیماری کے خطرے کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اِس بیماری کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے سے آپ کو فائدہ ہو سکتا ہے۔

    ذیابیطس جسے عموماً شوگر بھی کہتے ہیں، ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون کے اندر شکر یعنی گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ عموماً خون کے ذریعے شکر ان خلیوں تک پہنچتی ہے جنہیں توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ذیابیطس میں یہ عمل صحیح طرح کام نہیں کرتا۔ اِس وجہ سے جسم کے کچھ اعضا کو نقصان پہنچتا ہے۔ اِس کے علاوہ خون کی گردش میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بعض صورتوں میں مریض کے پاؤں کا انگوٹھا، انگلیاں یا پورا پاؤں کاٹنا پڑتا ہے، مریض اندھا ہو سکتا ہے یا اسے گردوں کی بیماری ہو سکتی ہے۔ ذیابیطس کے بہت سے مریض دل یا فالج کا دورہ پڑنے سے مرتے ہیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کی ایک بڑی وجہ جسم میں بہت زیادہ چربی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹ اور کمر کے گرد بہت زیادہ چربی ہونے سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 

    خاص طور پر لبلبے اور جگر میں چربی سے جسم میں گلوکوز پہنچنے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ لیکن آپ ذیابیطس کے خطرے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ذیابیطس کے خطرے کو کم کرنے کے تین طریقے مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ اگر آپ کو ذیابیطس ہونے کا خطرہ ہے تو اپنی شوگر چیک کروائیں۔ دوسری قسم کی ذیابیطس ہونے سے پہلے اکثر ایک شخص کو پری ذیابیطس ہوتی ہے جس میں خون کے اندر شکر معمول سے تھوڑی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اور دوسری قسم کی ذیابیطس، دونوں ہی نقصان دہ ہیں لیکن اِن میں ایک فرق ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس میں خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول تو کیا جا سکتا ہے لیکن فی الحال اِس بیماری کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

    مگر دیکھا گیا ہے کہ پری ذیابیطس کے کچھ مریض اپنے خون میں شکر کی مقدار کو دوبارہ معمول پر لے آئے۔ پری ذیابیطس کی علامات اِتنی واضح نہیں ہوتیں۔ ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دنیا میں تقریباً 31 کروڑ 60 لاکھ لوگ پری ذیابیطس کا شکار ہیں اور اِن میں سے زیادہ تر کو اِس بارے میں پتہ بھی نہیں ہیں، مثلاً امریکہ میں پری ذیابیطس میں مبتلا تقریباً 90 فیصد لوگ نہیں جانتے کہ وہ اِس کا شکار ہیں۔ پری ذیابیطس، دوسری قسم کی ذیابیطس کا باعث تو بنتی ہی ہے لیکن حال ہی میں دیکھا گیا ہے کہ اِس سے بھولنے کی بیماری کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے، آپ جسمانی طور پر چست نہیں رہتے یا آپ کے خاندان میں کسی کو ذیابیطس ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ پری ذیابیطس کا شکار ہو چکے ہیں۔ 

    اِس لیے اپنے خون کا ٹیسٹ کروائیں۔ 2۔ صحت بخش غذا کھائیں۔ اِن مشوروں پر عمل کرنے سے آپ کو بہت فائدہ ہو گا: معمول سے کم کھانا کھائیں۔ ایسی مشروبات نہ پئیں جن میں بہت زیادہ چینی یا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہو۔ اِن کی بجائے پانی، چائے یا کافی پئیں۔ سفید آٹے یا چاول کی بجائے اپنی خوراک میں خالص گندم، چاول اور پاستا اِستعمال کریں۔ بغیر چربی کا گوشت کھائیں۔ اِس کے علاوہ مچھلی، خشک میوے، دالیں اور پھلیاں کھائیں۔ 3۔ ورزش کریں۔ ورزش کرنے سے آپ اپنے خون میں شکر کی مقدار کو کم کر سکتے ہیں اور اپنے وزن کو بھی بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ اِس سلسلے میں ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ ٹی وی دیکھنے کی بجائے کچھ دیر ورزش کریں۔ یہ سچ ہے کہ اگر آپ کے خاندان میں ذیابیطس کی بیماری چلی آ رہی ہے تو آپ کو بھی یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ لیکن اپنے طرزِ زندگی میں کچھ تبدیلیاں کرنے سے آپ اِس بیماری سے ایک حد تک بچ سکتے ہیں۔ اپنی صحت کو ٹھیک رکھنے کے لیے آپ جتنی کوششیں کریں گے، آپ کو اتنا ہی فائدہ ہو گا۔

    عبدالحمید


     


    0 0

    اس علاقے کو انتہائی ممتاز تاریخی مقامات میں کہا جا سکتا ہے، مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس مقام کے بارے میں جسے ’’رنی کوٹ کا قلعہ‘‘ کہا جاتا ہے، پاکستان کے باقی علاقوں کے عوام کو تو شاید کچھ پتہ بھی نہیں مگر خود سندھ کے عوام کی اکثریت اس مقام اور اس کے نام سے لاعلم ہے، ہم بچپن سے اس کے بارے میں سنتے رہے ہیں کہ سندھ کے ضلع دادو میں رنی کوٹ کے نام سے ’’منی چائنیز وال‘‘ موجود ہے‘ یہ اعزاز کچھ عرصہ پہلے حکومت سندھ کی طرف سے سندھ کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے قائم کئے گئے ادارے ’’انڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ‘‘ کو حاصل ہوا ہے جو 17 فروری کو کراچی، حیدرآباد کے علاوہ سندھ کے دیگر شہروں سے صحافیوں، تعلیمی ماہرین، طلباء، آرکیالوجی کے پروفیسرز کو گاڑیوں میں سوار کر کے رنی کوٹ کا قلعہ دکھانے کے لئے لایا ، ان خوش نصیبوں میں، میں بھی شامل تھا۔ 

    یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ یہاں سیاحوں کے لئے سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں اور اس کے بارے میں سندھ ، ملک بھر میں اور عالمی طور پر تشہیر کیوں نہیں کی گئی۔ ہمارے ٹی وی چینلز کا بھی تو فرض ہے کہ وہ ملک کے ایسے تاریخی مقام کی تشہیر کرتے، بہرحال انڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ جو 2008 ء میں قائم کیا گیا اس نے رنی کوٹ کے تاریخی قلعے کو اہمیت دی،اس عرصے کے دوران قلعے کی مرمت شروع کی گئی ۔ سیاحوں اور مرمت کے کام کا جائزہ لینے کے لئے آنے والے افسران کے لئے ایک دو دن کی رہائش اور کھانے پینے کا کسی حد تک انتظام بھی کیا گیا ہے۔

    بہرحال رنی کوٹ کے کچھ حصوں کو دیکھنے کے بعد اس بات سے اتفاق کرنا پڑا کہ واقعی رنی کوٹ منی دیوار چین ہے جبکہ اسے Great wall of sindh ’’سندھ کی بلند ترین دیوار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں آکر یہ احساس اور بڑھ گیا کہ کیا اس ریجن میں سندھ کی ثقافت کا کوئی Match ہے؟ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ چھوٹے پیمانے پر ہی صحیح، اس عظیم تاریخی مقام کا پہلی بار Exposure کا جو اہتمام کیا گیا ہے وہ ایسے وقت پر کیا گیا جب سندھ صوفی تحریک کے ذریعے ایک ایسے ثقافتی انقلاب کو اپنے کندھوں پر سوار کر کے اپنی تاریخی بلندیوں کی طرف پرواز کرنے لگا ہے، اس قلعے کے وسیع حصوں کا معائنہ کرنے کے بعد جب انڈومینٹ فنڈ کے افسران سے میڈیا کی بات چیت ہوئی اور جب مجھ سے بھی رائے معلوم کی گئی تو میں نے اس مقام کی تعریف کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ذہن میں سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ اتنے بلند پہاڑوں پر اتنے بڑے فاصلے پر اتنی بلند اور موٹی دیوار قائم کرنے کا کارنامہ کس نےانجام دیا، اتنے فاصلے پر اتنی بلند و بالا دیوار قائم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، یہ دیوار کب تعمیر کی گئی؟

    اس وقت ان سوالات میں سے کسی بھی سوال کا جواب نہیں، کیا یہ حکومت پاکستان اور حکومت سندھ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ بتائیں کہ ان بلند و بالا پہاڑیوں پر اتنی بلند و بالا دیوار کس نے تعمیر کرائی اور کیوں کرائی؟ اگر رنی کوٹ کے بارے میں ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لئے دنیا بھر سے آرکیالوجی کے ماہرین کو مدعو کیا جائے، تاریخ دانوں اور جغرافیہ دانوں کو مدعو کیا جائے۔ انہیں یہاں مطلوبہ تحقیق کرنے کے لئے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں، دنیا کے مختلف ملکوں کے ٹی وی چینلز پر اس تاریخی مقام پر بنائی گئی ڈاکیو منٹری ٹیلی کاسٹ کی جائیں تو میرا دعویٰ ہے کہ یہاں ہر وقت دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں اور قدیم آثاروں کے ماہرین کے میلے لگے ہوئے نظر آئیں گے انڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ (آئی ایف ٹی) کے افسران کی طرف سے رنی کوٹ کے قلعے کے بارے میں جو بریفنگ دی گئی وہ اہم ہے۔

    اس بریفنگ کے مطابق رنی کوٹ جسے ’’گریٹ وال آف سندھ‘‘ کہا جاتا ہے جس کا شمار دنیا کے بلند ترین اور وسیع ترین تاریخی قلعوں میں ہوتا ہے، دادو ضلع، سندھ کے مشہور پہاڑی سلسلے ’’کھیر تھر‘‘ ریجن میں ایک بلند ترین پہاڑی چوٹی پر واقع ہے، اس کی بلندی مختلف مقامات پر 500 سے 1500 فٹ تک ہے، رنی کوٹ کے قلعے کو دنیا کے وسیع ترین فوجی قلعوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، رنی کوٹ کے قلعے کا بیرونی دائرہ 32.15 کلو میٹر وسیع ہے جو انسانوں نے تعمیر کی ہے، بلند ترین اور انتہائی موٹی دیواریں تعمیر کی گئی ہیں، قلعے کی دیواریں پتھر اور Lime Mortar سے بنائی گئی ہیں، ان غیر مثالی دیواروں کی لمبائی 7.25 کلو میٹر ہے.

    قلعہ میں داخل ہونے کے پانچ دروازے ہیں، مشرقی دیوار کا گیٹ ’’سن گیٹ‘‘ شمال کی طرف ’’آمری گیٹ‘‘ مغربی دیوار میں ’’موہن گیٹ‘‘ جنوبی دیوار میں ’’شاہیر گیٹ‘‘ اور جنوب مشرقی دیوار میں ’’ٹوری ڈھورو گیٹ‘‘ ہے جبکہ دیوار کے کچھ حصوں میں شگاف بھی پائے جاتے ہیں جن میں سے بارش کا پانی قلعے میں داخل ہو جاتا ہے، رنی کوٹ میں دو اور چھوٹے قلعے بھی ہیں جن کے نام ہیں میری کوٹ اور شیر گرہ، ان میں سے ہر قلعے میں پانچ برج ہیں۔ بعد میں (آئی ایف ٹی) کی رپورٹ کے ممبر اشتیاق انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تجویز دی کہ سندھ کے قلعوں اور کوٹوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ایک اتھارٹی قائم کی جائے۔ 

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ہم نے اپنے ان اثاثوں کا تحفظ نہ کیا تو یہ سارے قلعے اور کوٹ، مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے، اس مرحلے پر سندھ کے مختلف مقامات پر جو قلعے اور کوٹ واقع ہیں، کی ایک مختصر فہرست بھی پیش کی گئی ان کے نام یہ ہیں۔ حیدرآباد کا پکا قلعہ، سہون کا قلعہ، کراچی کا کوٹ، منوڑہ کا کوٹ، رنی کوٹ، کلان کوٹ، دھلیل کوٹ، عمر کوٹ، نند کوٹ، رانو کوٹ، کھیر تھیر کوٹ، کوٹ ڈیجی، حیدرآباد کا کچا قلعہ، ملانی کوٹ، لاہاری بندر اور انڑ کوٹ شامل ہیں۔ اس موقع پر آئی ایف ٹی کے افسران نے بتایا کہ اس سیزن میں تقریباً 65 ہزار سیاح رنی کوٹ کی بلند و بالا دیواریں دیکھنے کے لئے آئے۔ یہ بڑی بات ہے کہ ٹوٹے پھوٹے اور خطرناک راستوں کے باوجود بیرونی سیاح اتنی تعداد میں رنی کوٹ دیکھنے کے لئے آئے.

    ہماری موجودگی میں ہی بیرونی سیاحوں کی 5 ٹیمیں وہاں پہنچیں ان لوگوں نے بھی اس دن رنی کوٹ کا معائنہ کیا ان سب کی متفقہ رائے تھی کہ اگر اچھی اور محفوظ سڑکیں تعمیر کی جائیں اور سند ھ کی اس عظیم دیوار کی تعمیر کا کام کافی حد تک مکمل ہو جائے تو شاید روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح ہر وقت وہاں موجود ہونگے، بیرونی سیاحوں کی طرف سے یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بیرونی دنیا کی سندھ (پاکستان) کے بارے میں رائے ہو گی کہ اس علاقے کی تہذیب اور ثقافت بہت عظیم ہے۔

    جی این مغل
     


    0 0

    ایک سال کے دوران پاکستان کے بیرو نی قرضوں میں 13 ارب 13 کروڑ ڈالر کا اضا فہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ذمے بیرونی قرضے 89 ارب ڈالر ہو گئے۔ اسلام آباد سے اشرف ملخم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضے گذشتہ سال کے دوران 13 ارب 13 کروڑ ڈالر کے اضافے کے ساتھ 89 ارب ڈالر ہو گئے۔ جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔  گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کہتے ہیں ملکی معیشت بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ بیرونی قرضوں کی تفصیلات کے مطابق حکومتی قرضہ 70ارب 50 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے ۔ ان میں طویل المدتی قرضوں کا حجم 59 ارب 45 کروڑ ڈالر اور قلیل المدتی قرضوں کا حجم ایک ارب 16 کروڑ ڈالر ہے۔ حکومتی کنٹرول میں مختلف اداروں کے ذمے 3 ارب 10 کروڑ کا قرضہ ہے جبکہ حکومتی ضمانت پر نجی شعبے کی طرف سے لئے جانے والے قرضوں کا حجم 7 ارب 24 کروڑ ڈالر ہے۔ مختلف بینکوں نے بیرون ملک سے 4 ارب 70 کروڑ ڈالر کا قرض لیا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کو 5 ارب 91 کروڑ ڈالر ادا کرنے ہیں جبکہ 3 ارب 50 کروڑ ڈالر براہ راست سرمایہ کاروں کو اد اکئے جانے ہیں۔
     


    0 0

    برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ گوادر پاکستان اور چین دونوں کے لیے اہم شہر ہے، یہ مستقبل میں دوسرا دبئی بن سکتا ہے اور اس سے ایشیا میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو گا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے اپنی ایک رپورٹ میں    پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ چین کی جانب سے گوادر شہر میں سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کو بہت فائدہ پہنچے گا اخبار کے مطابق پاکستان کو بجلی اور توانائی کے شدید بحران کا سامنا ہے اور بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے اور ترسیلی اور مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسے 30 سے 35 ارب ڈالر درکار تھے تاہم پاکستان اپنے ذرائع سے اتنی بڑی رقم فراہم نہیں کر سکتا تھا ۔ ایسے میں چین کی جانب سے گوادر بندرگاہ تک رسائی کے لیے شروع کیا جانے والا اقتصادی راہ داری کا منصوبہ پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
    چین کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے پر 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی جس کے نتیجے میں پاکستان کی قومی معیشت میں مجموعی طور پر بہتری آئے گی جبکہ چین کو اپنا مال یورپی منڈیوں تک پہنچانے کے لیے ایک بہترین اور مختصر راستہ میسر آجائے گا۔ اخبار کے مطابق چین کے اس منصوبے سے ایشیا میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو گا کیونکہ چین بحیرہ عرب کے اطراف میں اپنی پوزیشن بتدریج مستحکم کر رہا ہے اور میانمار، سری لنکا میں بحری اڈے قائم کر رہا ہے جس کا مقصد اپنے مال بردار جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے ۔
     


    0 0

    ڈاکٹرز نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک کے اسپتالوں میں اب دل کا اسٹنٹ ڈالنے کے اخراجات 3 لاکھ سے کم ہو کر ایک لاکھ روپے رہ جائیں گے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے غیر معیاری اسٹنٹ کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر بنائی گئی سینئر ڈاکٹرز کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کردی۔ ڈاکٹر اظہر کیانی نے رپورٹ میں بتایا کہ دل میں اسٹنٹ ڈالنے کا کل خرچہ ایک لاکھ روپے ہو گا۔

    چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ 3 لاکھ کا خرچہ ایک لاکھ تک لانا معجزہ ہے، ڈاکٹر نے جو خوشخبری سنائی اس کی قیمت قوم ادا نہیں کر سکتی، میرے لئے تو رپورٹ خوشخبری ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈاکٹر کیانی نے ملک کے بہت سے لوگوں کی جان بچائی۔ عدالت نے حکم دیا کہ کمیٹی کی رپورٹ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)، صوبائی وزارت اطلاعات، نیشنل ہیلتھ کو بھیجی جائے، تمام ادارے 10 روز میں اسٹنٹ کمیٹی رپورٹ پر اپنی رائے دیں۔ کیس کی سماعت دس روز تک ملتوی کردی گئی۔
     


    0 0

    دنیا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ کے ٹو کو سر کرنے والے پولش کوہ پیماؤں کی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کا ایک ساتھی گروپ کا ساتھ چھوڑ کر اکیلے پہاڑ سر کرنے نکل پڑا ہے۔ قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع کے ٹو کو آج تک موسم سرما میں کسی بھی کوہ پیما نے سر نہیں کیا ہے۔ بی بی سی کو بتایا گیا ہے کہ 44 سالہ روسی پولش نژاد کوہ پیما ڈینس اروبکو نے اپنے ساتھیوں سے بحث مباحثہ ہونے کے بعد ٹیم سے علیحدہ ہو گئے اور اپنے مشن پر نکل پڑے۔

    ایک کوہ پیما نے موسم سرما میں کے ٹو کو اکیلے سر کرنے کی کوشش کو 'خود کشی'کے مترادف قرار دیا۔ کوہ پیمائی کے ماہر مائیکل لیک سنسکی نے کہا کہ ان کے خیال میں ڈینس اروبکو کی کوشش ہے کہ وہ فروری کے مہینے میں ہی چوٹی سر کر لیں تاکہ ان کی کوشش موسم سرما میں گنی جائے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگلے 48 گھنٹے نہایت اہم ہوں گے اور وہ اروبکو پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ خود کو اور اپنی ٹیم کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے۔

    لڑائی کیوں ہوئی؟
    خبروں کے مطابق اروبکو ریڈیو کے بغیر ہی چلے گئے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک پورٹر نے بتایا کہ 'اروبکو اپنے گروپ کو فروری میں ہی چوٹی سر کرنے پر زور دے رہے تھے اور ان کی گروپ کے سربراہ کے ساتھ کافی گرما گرمی بھی ہوئی تھی جس کے بعد وہ بغیر کوئی بات کیے گروپ چھوڑ گئے۔'

    اکیلے کے ٹو عبور کرنا کتنا خطرناک ہے؟
    کوہ پیمائی کے دیگر ماہرین نے اروبکو کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسا کرنا پاگل پن ہے۔ پاکستانی کوہ پیما مرزا علی بیگ نے کہا کہ 'سردیوں میں کے ٹو اکیلے سر کرنے کی کوشش کرنا بالکل خود کشی کرنے کے جیسا ہے۔'
    ایک اور کوہ پیما کریم شاہ نے کہا کہ اروبکو بہت زبردست اور ماہر کوہ پیما ہیں اور انھیں کوہ پیمائی کے حلقوں کے 'ہمالیہ کا ماہر'سمجھا جاتا ہے لیکن ان کا یہ فیصلہ غلط ہے۔'

    ڈینس اروبکو کتنے ماہر ہیں؟
    روسی پولش کوہ پیما ڈینس اروبکو کو بہت قابل کوہ پیما سمجھا جاتا ہے جنھوں نے 8000 میٹر سے اونچی دنیا کی تمام چوٹیاں عبور کی ہوئی ہیں۔ گذشتہ ماہ ڈینس اروبکو اور ان کے ساتھیوں کا نام خبروں کی زینت بنا تھا جب اپنے تین اور ساتھیوں کے ہمراہ انھوں نے حیران کن بہادری اور مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نانگا پربت پر فرانسیسی کوہ پیما الزبتھ ریول کو بچایا تھا۔ واضح رہے کہ کے ٹو کو دنیا کا مشکل ترین پہاڑ سمجھا جاتا ہے اور ان مشکلات کی وجہ سے اسی 'وحشی پہاڑ'بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی اونچائی ساڑھ آٹھ ہزار میٹر سے بھی زیادہ ہے۔

    بشکریہ بی بی سی اردو 


    0 0

    نارووال میں ن لیگ کے ورکرز کنونشن کے دوران وزیر داخلہ احسن اقبال پر وہاں موجود کسی شخص نے جوتا اچھال دیا۔ خبر کے مطابق احسن اقبال بچ گئے۔ ملزم کو پولیس نے پکڑا اور بعد میں وزیر داخلہ کے کہنے پر چھوڑ بھی دیا۔ اس واقعہ پر پی ٹی آئی کے ایم این اے علی محمد خان نے ایک ٹویٹ کیا جو قابل تحسین ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے اور بُرا بھلا کہنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے اور اس کام میں ن لیگ اور پی ٹی آئی خود پیش پیش ہیں، علی محمد خان کی طرف سے ایک ایسی بات کہی گئی جو نہ صرف قابل تقلید ہے بلکہ اس کی ہماری سیاست کو تہذیب کے دائرہ میں واپس لانے کے لیے اشد ضرورت ہے۔

    اس واقعہ کے متعلق اپنے ٹویٹ میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا: ’’آج احسن اقبال کے ساتھ نارووال میں جوتا پھینکنے والے واقعہ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن کسی کو کسی کی بے عزتی کا کوئی حق نہیں۔ یہ کوئی مناسب روایت نہیں۔ نہ ہی ہمارا مذہب اور نہ ہی ہماری تہذیب اور کلچر اس کی اجازت دیتا ہے۔‘‘ کتنا اچھا ہو کہ سیاست میں اس شائستگی اور تہذیب کو پھیلانے کے لیے تمام رہنما اپنا اپنا کردار ادا کریں ورنہ تو یہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں۔پاکستانی سیاست کی ایک اور حوصلہ افزا خبر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے حوالے سے ملی۔

    ایک خبر کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی رولز میں تبدیلی کرتے ہوئے نہ صرف ارکان اسمبلی کو اسپیکر کے سامنے جھکنے سے منع کر دیا بلکہ کوئی بھی رپورٹ یا بل اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے beg کا لفظ ختم کر کے اُس کی جگہ ’’درخواست‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے ہیں۔ اسپیکر کی طرف سے کہا گیا کہ جب کوئی رکن اسمبلی ایوان میں داخل ہوتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیٹھنے سے قبل سپیکر کے سامنے جھکے جو ٹھیک روایت نہیں ہے ۔ Beg کے لفظ کے بارے میں سپیکر نے کہا یہ لفظ بھی انگریز دور سے چلا آ رہا ہے۔ ایاز صادق کا کہنا تھا کہ انگریز کی غلامی کا دور ختم ہو چکا اس لیے غلامی کے دور کی عکاسی کرنے والی روایات بھی ختم ہونی چاہیں۔ اسپیکر کے ان اقدامات پر اسمبلی اراکین نے اُن کو خراج تحسین پیش کیا۔

    اسپیکر کی طرف سے اس قابل ستائش کام پر جہاں ایاز صادق مبارکبار کے مستحق ہیں وہیں اسپیکر سمیت اراکین اسمبلی سے میری درخواست ہے کہ وہ انگریز دور کی کئی اور غلامانہ اور غیر اسلامی روایات جن پر اب بھی سرکاری طور پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے اُن کو ختم کیا جائے کیوں کہ بحیثیت ایک قانون ساز اور پالیسی ساز ادارہ مقننہ کی ذمہ داری پوری ریاست کے امور تک پھیلی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر سول سروس ہو یا فوج یا حکومت عدلیہ ،کوئی بھی سرکاری تقریب ہو کھانا کھانے کے لیے انگریز کے رواج کی یہاں تقلید کی جاتی ہے۔ کھانے کی میز پر کانٹے کو بائیں طرف اور چھری کو دائیں طرف رکھا جاتا ہے۔

    اسلام ہمیں سیدھے ہاتھ سے کھانے کی تعلیم دیتا ہے اور الٹے ہاتھ سے کھانے سے منع کرتا ہے لیکن پاکستان کے قیام کو ستر برس ہو چکے لیکن سول و ملٹری اکیڈمیوں اور ایوان صدر اور حکومتی و سرکاری ظہرانوں میں آج بھی ہم کانٹے کو بائیں ہاتھ کی طرف ہی رکھتے ہیں۔ اسی طرح مرنے پر جب کسی کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا ہے تو میت کو قبر میں اتارنے اور مٹی ڈالنے کے بعد باجا بجایا جاتا ہے۔ جناح کیپ، شیروانی، کلہ وغیرہ جو ہمارا روایتی لباس ہے اُس کو انگریز نے گیٹ کیپرز، سرکاری دفاتر میں قاصد اور نائب قاصد وغیرہ کو پہنا دیا اور افسران کے لیے انگریز کا لباس ہی لازمی رکھا۔ افسوس کہ یہ سلسلہ اب بھی پاکستان میں چل رہا ہے چاہے سول حکومت ہو، فوج یا عدلیہ۔

    سرکار کے علاوہ بھی پرائیویٹ ہوٹلوں میں بھی انگریز کی انہی رواجوں کی تقلید کی جاتی ہے۔ امید ہے اسپیکر صاحب ایوان کے اندر کے ساتھ ساتھ ہر طرف پھیلی انگریز کی غلامی کی اُن نشانیوں کو ختم کرنے میں ضرور اپنا کردار ادا کریں گے جو ہمارے دینی اور معاشرتی اقدار اور روایات سے ٹکراتی ہیں۔ ویسے شیروانی، جناح کیپ، شلوار قمیض ہمارا قومی لباس ہے لیکن ہماری ذہنی غلامی کی حالت دیکھیں کہ حکمران ہوں، سیاستدان، وزیر مشیر، جج یا جنریل اکثر غیر ملکی دوروں اور سرکاری تقریبات میں وہی لباس پہننا پسند کرتے ہیں جو انگریز اُن کو پہنا کر دھایوں پہلے یہاں سے جا چکا ہے۔ یہ تو بھلا کرے ہمارے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا جو بڑے فخر اور سادگی کے ساتھ اپنا قومی لباس پہن کر دنیا بھر کا دورہ کرتے ہیں جس سے اُن کی عزت اور احترام میں اضافہ ہوا۔ کتنا اچھا ہو ہمارے دوسرے سیاستدان، فوجی جرنیل، جج حضرات وغیرہ بھی بیرون ملک دوروں اور یہاں سرکاری تقریبات میں اپنا قومی لباس پہنیں۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان کی ایک عدالت نے سکیورٹی خدشات کو بنیاد بنا کر موبائل فون سروس معطل کرنے کو غیر قانونی اقدام قرار دیا ہے۔ موبائل فون سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ایک شہری کی طرف سے دائر درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ ستمبر میں فیصلہ محفوظ کیا تھا جو پیر کو جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور انتظامیہ کی طرف سے فون سروس بند کرنا خلافِ قانون اور اختیارات سے تجاوز ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے اہم مواقع خصوصاً مذہبی تہواروں کے موقع پر ملک کے تقریباً سب ہی بڑے شہروں میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کی جاتی رہی ہے۔


    حکام کے مطابق دہشت گرد موبائل فون کو بم دھماکا کرنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں جس کے باعث احتیاطی تدبیر کے طور پر یہ اقدام کیا جاتا ہے۔ عدالت عالیہ میں دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ موبائل فون سروس معطل کرنا بنیادی حقوق کے منافی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 1996ء کی خلاف ورزی ہے لہذا اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

    عدالت عالیہ نے اس بارے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر رکھا تھا۔

    پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ خود یہ اقدام نہیں کرتی بلکہ حکومت کی طرف سے ملنے والی ہدایت پر ہی فون سروس معطل کرتی ہے۔ وفاق کی طرف سے عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ حکومت ٹیلی کام ایکٹ کی شق 54 (2) کے تحت سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر فون سروس بند کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ جنگ یا پاکستان کے خلاف کسی بھی مخاصمانہ کارروائی چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی، کی صورت میں ملک کے تحفظ اور سلامتی کے لیے وفاقی حکومت کو کسی بھی مواصلاتی نظام پر مقدم اختیار حاصل ہے۔


    0 0

    ترک خبررساں ادرے کے مطابق عالمی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوبصورتی میں بڑا مقام رکھنے والے دس ممالک کے دارالحکومتوں میں اسلام آباد دوسرے نمبر پر ہے۔ تقریبا دو ملین کی آبادی کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں تیسرا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ سب سے زیادہ کثیر نسلی شہروں میں سے ہے۔ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد جس کا شمار نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں بھی کیا جاتا ہے۔ 

    ویب سائٹ کے مطابق لندن دنیا کا خوبصورت ترین دارالحکومت ہے جس کے بعد اسلام آباد کا نمبر آتا ہے۔ شہر کی طرز تعمیر یونانی معمار ڈاکسی ایسوسی ایشن کمپنی نے کی تھی۔ اس فہرست میں برلن تیسرے، واشنگٹن چوتھے، پیرس پانچویں، روم چھٹے، ٹوکیو ساتویں، بڈاپسٹ آٹھویں، اوٹاوا نویں جبکہ ماسکو دسویں نمبر پر ہے۔ اسلام آباد کی وجہ شہرت سرسبز و شاداب درخت، آسمان سے باتیں کرتے مارگلہ کے پہاڑ، آبشاریں، سواں کا موجیں مارتا دریا ہے۔ اس شہر کو 1964 میں پاکستان کے دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ اس سے پہلے کراچی کو یہ درجہ حاصل تھا۔

    اسلام آباد کا شمار دنیا کے چند خوبصورت ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا سب سے زیادہ شرح خواندگی والا شہر ہے۔ اسلام آباد پاکستان میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ شہر کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ شہر اقتدار اسلام آباد میں شکر پڑیاں، مونومینٹ میں جاسمین گارڈن، ایف 9 میں پارک، راول اے پارک، چڑیا گھر، پلے لینڈ، لوک ورثا کے علاوہ دامن کوہ پیر سواہا کے مقامات واقع ہیں اور 2011 کے بعد سینٹورس شاپنگ مال اسلام آباد بھی ایک خاص مقبولیت رکھتا ہے۔اسلام آباد کے بارے میں ترکی کے سابق صدر عبدللہ گل کہہ چکے ہیں کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کے دارالحکومتوں کا دورہ کر چکے ہیں لیکن انہوں نے اسلام آباد جیسا خوبصورت اور سرسبزو شاداب کہیں نہیں دیکھا یہ شہر حسین پارک کا منظر پیش کرتا ہے۔
     


    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کی خفیہ شاخ نے حکومت سے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے جنازوں میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت سے نوجوان مسلح تشدد کی طرف راغب ہو جاتے ہیں لہٰذا اگر کوئی شدت پسند مارا جائے تو اس کے جنازے میں عوام کی شرکت پر پابندی عائد کی جائے۔ گو یہ ابھی باقاعدہ سرکاری پالیسی نہیں ہے اور نہ اس بارے میں کوئی اعلان ہوا ہے تاہم اس حوالے سے کشمیر میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے اضلاع پلوامہ، کولگام، اننت ناگ اور شوپیاں میں شدت پسندوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ یہاں رہنے والے اکثر نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہند دراصل اُس حقیقت سے ڈرتی ہے جو ان جنازوں کے دوران عیاں ہو جاتی ہے۔

    شوپیان کے میر اقبال کہتے ہیں: 'شدت پسندوں کے جنازوں میں شرکت کے لیے لاکھوں لوگ جمع ہو جاتے ہیں، وہ آزادی کے حق میں اور انڈیا کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں۔ یہ اجتماعی جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ یہی سب تو انڈیا دیکھنا یا سننا نہیں چاہتا۔' میر اقبال اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ 'کشمیرمیں اب جنازے بھی انڈیا کی سلامتی کے لیے خطرہ بن گئے۔' پلوامہ کے ایک نوجوان نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر کہا کہ ’مقامی نوجوان مارا جائے تو اس کے جنازے میں لوگ کیوں شرکت نہیں کریں گے، میرا بھائی بھی مجاہد ہے، کل کو شہید ہو جائے گا تو اس کے جنازے میں لاکھوں لوگ آئیں گے، کیا آپ انھیں قتل کردو گے؟'

    قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا نہ صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی امور میں حکومت کی مداخلت ہے۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی انجمنوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں: 'قانونی طور تو یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کسی جنازے پر پابندی عائد کر دیں لیکن پھر بھی یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’انڈیا نے محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی کے بعد جیل میں دفن کیا اور لاشیں لواحقین کے سپرد نہیں کیں۔ امن و قانون کے نام پر یہ لوگ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔'

    خرم مزید کہتے ہیں کہ کشمیر میں مسلح سرگرمی میں اضافہ کی بنیادی وجہ انڈین فورسز اور حکام کی زیادتیاں ہیں۔ 'اگر حکومت کو لگتا ہے کہ شدت پسند کے جنازے کو محدود کر کے حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ سب سے بڑا مغالطہ ہے۔'
    پولیس کے ایک اعلی افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: 'یہ کوئی پالیسی نہیں محض ایک تجویز ہے لیکن تجویز کے پیچھے دلیل ہے۔ شدت پسند کی لاش کو ایک علامت بنایا جاتا ہے، لاکھوں لوگ نعرے بازی کرتے ہیں اور اس جذباتی ماحول میں چند نوجوان بندوق اُٹھانے کی ٹھان لیتے ہیں۔ تشدد کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔ اسی سب کو روکنے کے لیے یہ مشورہ دیا گیا ہے۔'

    مذکور افسر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو سال کے دوران اکثر ایسا ہوا کہ کسی شدت پسند کمانڈر کے جنازے میں ہی کئی نوجوانوں نے ٹھان لی کہ انھیں مسلح تشدد کی طرف جانا ہے۔ خیال رہے کہ نو جولائی سنہ 2016 جب مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی ایک تصادم میں دو ساتھیوں سمیت ہلاک ہو گئے تو کشمیر کے اطراف سے لاکھوں لوگ ان کے آبائی قصبہ ترال کی طرف چل پڑے لیکن انھیں جگہ جگہ روکا گیا اور ہجوم نے مزاحمت کی تو ان پر گولیاں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے درجنوں لوگ مارے گئے۔ اسی کاروائی کے ردعمل میں ایک طویل احتجاجی تحریک چھڑ گئی جس کے دوران 100 سے زیادہ نوجوان مارے گئے اور 15 ہزار زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں اکثریت ان کی تھی جو چھروں کے شکار ہوئے۔ چھروں کی وجہ سے سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھیں متاثر ہوئیں اور درجنوں ایسے ہیں جو بینائی سے محروم ہو گئے۔

    ریاض مسرور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
     


    0 0

    جب ہم کسی ویب سائٹ، ای میل سروس، ایپ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نیا اکاؤنٹ بناتے ہیں تو ان کی دی ہوئی ہدایات پر عمل نہ کرتے ہوئے انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کمزور پاسورڈ عمل میں آتا ہے جو آسانی سے ہیک ہو جاتا ہے اور آپ کے لیے بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ البتہ ماہرین نے مضبوط ترین پاسورڈ بنانے کے کچھ طریقے بیان کیے ہیں۔ محفوظ پاسورڈ کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ کم از کم 12 کیریکٹرز پر مشتمل ہو۔ اور پاسورڈ ایسا ہو کہ اگر کسی کو اس پاسورڈ کا کوئی ایک کیریکٹر پتا بھی چل جائے تو وہ اس سے اگلے کیریکٹر کا اندازہ ہی نہ لگا سکے۔

    کوشش کیجیے کہ پاسورڈ کے شروع میں انگریزی کا کوئی بڑا حرف (کیپٹل لیٹر) نہ ہو اور نہ ہی اس کا اختتام کسی خصوصی علامت (اسپیشل کیریکٹر) پر ہو۔ آپ پاسورڈ میں مخصوص حروف، اعداد و شمار اور خصوصی علامات کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پاسورڈ کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔ افراد، پالتو جانوروں، مقامات اور مشہور ٹیموں کے ناموں اور تاریخ پیدائش کا پاسورڈ کا استعمال بھی اسے کمزور بناتا ہے۔ کوشش کیجیے کہ اگر کوئی پاسورڈ پہلے سے استعمال کر رکھا ہے تو اسے دوبارہ استعمال نہ کیجیے ۔

    کشف منیر


     


older | 1 | .... | 120 | 121 | (Page 122) | 123 | 124 | .... | 149 | newer