Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 119 | 120 | (Page 121) | 122 | 123 | .... | 149 | newer

    0 0

    دنیا میں ٹیکس چوری اور ٹیکس سے بچنے کیلئے محفوظ ٹھکانے سمجھے جانے والے ملکوں پر تحقیق کرنے والے برطانوی ادارے ’’ٹیکس جسٹس نیٹ ورک‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں سوئٹزرلینڈ اور امریکا کو دنیا کا کرپٹ ترین ملک قرار دے دیا ۔ فہرست میں تیسرے نمبر پر کیمین آئی لینڈ کا نام آتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ دنیا میں ٹیکس چوروں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے والا ملکوں کا دادا، دنیا کا سب سے بڑا آف شور مالیاتی مرکز اور دنیا کا سب سے بڑا اور خفیہ ملک ہے۔ فنانشل سیکریسی انڈیکس 2018 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ خود چاہے تو امیر ملکوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتا رہتا ہے لیکن غریب ممالک کے شہریوں کو اپنی ٹیکس سے جڑی ذمہ داریوں سے بچنے کا موقع فراہم کرتا رہتا ہے۔
     


    0 0

    جس طرف دیکھیں حالات بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ لالچ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ پیسہ کمانے کے لیے انسانی جان کے ساتھ کھیلنا یہاں معمول بن گیا ہے۔ ایک طرف اگر دہشتگرد، ٹارگٹ کلر، قاتل انسانوں کو خودکش دھماکوں، بارود گولی اور دوسرے اسلحہ سے مارتے ہیں تو دوسری طرف پیسہ کی لالچ میں ملاوٹ شدہ اشیاء خوردونوش، جعلی ادویات، کیمیکل سے تیار کیا گیا دودھ اور نجانے کیا کچھ کھلے عام بیچا جاتا ہے جس سے کھانے والوں میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور ہر سال ہزاروں لاکھوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    دہشتگرد، ٹارگٹ کلر اور قاتل تو اپنا جرم سامنے کرتا ہے اور اس جرم کی پاداشت میں اس کے خلاف کارروائی بھی ہوتی ہے اور سزا بھی ملنے کی توقع ہوتی ہے لیکن لاکھوں افراد کے قاتل سے نہ کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے اور نہ ہی اُن کی طرف کسی کا خیال جاتا ہے کہ یہ بھی قاتل ہو سکتے ہیں۔ سب سے افسوس کی بات یہ ہے کہ جو بیمار ہوتا ہے جب وہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے یا سرکاری و پرائیویٹ اسپتال جاتا ہے تا کہ صحت یاب ہو سکے، اُسے وہاں شکار کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ ایک طرف دوائیں جعلی ہیں تو دوسری طرف ڈاکٹرز کی نظر مریض کے مرض کی بجائے اُس کی جیب پر ہوتی ہے۔ 

    سرکاری اسپتالوں میں صفائی کا انتظام نہیں، ٹیسٹ لیبارٹریاں قابل اعتماد نہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگ مہنگے اور ماڈرن پرائیویٹ اسپتالوں کی طرف جاتے ہیں لیکن وہاں جو ہوتا ہے اُسے دیکھ کر مسیحا کے روپ میں ڈاکٹرز کا اصل چہرہ دیکھ کر گھن آتی ہے۔ ڈاکٹرز جو مریضوں کے ساتھ کرتے ہیں اس بارے میں ہر شخص کا اپنا اپنا تجربہ ہے اور اگر لوگوں سے کسی سروے کے ذریعے پوچھا جائے تو ہزاروں کہانیاں سامنے آئیں گی کہ کس طرح پیسہ کی لالچ میں انسانی جانوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ میں یہاں گزشتہ چند دن کی وہ معلومات قارئین سے شئیر کروں گا جو میرے سامنے آئیں تاکہ پڑھنے والوں کو اس بات کی آگاہی ہو کہ اُنہیں بڑے سے بڑے ڈاکٹر اور اچھے سے اچھے پرائیویٹ یا سرکاری اسپتال پر بھی آنکھیں بند کر کے اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔

    اگر ایسا کیا تو آپ کے ساتھ وہ کچھ ہو سکتا ہے جس کے بارے میں آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو گا۔ میری ایک قریبی عزیزہ کو ٹانگ کی ہڈی میں مسئلہ تھا جس کا کوئی دو تین سال قبل راولپنڈی اسلام آباد کے ایک بڑے پرائیویٹ اسپتال میں ایک بڑے ڈاکٹر نے آپریشن کیا۔ کوئی تین لاکھ روپے فیس لی گئی۔ حال ہی میں خاتون جو ملک سے باہر تھیں معمول کے مطابق ایکسرے اور ایم آر آئی کرایا جسے ملک سے باہر ڈاکٹر کے ساتھ ساتھ یہاں بھی اُسی بڑے پرائیویٹ اسپتال کے بڑے ڈاکٹر کو دیکھایا گیا۔ باہر کے ڈاکٹر نے کہا کوئی مسئلہ نہیں۔ بڑے پرائیویٹ اسپتال کے بڑے ڈاکٹر نے کہا مجھے کچھ مسئلہ نظر آ رہا ہے۔ خاتون کی بہن جو خود بھی ایک ڈاکٹر ہیں نے ایک اور مقامی اسپیشلسٹ سرجن کو ایکسرے اور دوسری رپورٹس دیکھائیں تو وہ بھی کہنے لگا کوئی مسئلہ نہیں۔

    اس پر دوبارہ بڑے پرائیویٹ اسپتال کے بڑے ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا اور اُسے بتایا گیا کہ دوسرے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں۔ اس پر بڑے ڈاکٹر برہم ہو گئے اور کہنے لگے میں نے خاتون کا پہلے آپریشن کیا اور میں جانتا ہوں کہ مسئلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خاتون مریضہ جو اُس وقت ملک سے باہر تھیں کی ڈاکٹر بہن کو بڑے ڈاکٹر نے دھمکی کے انداز میں کہا کہ آپریشن فوری کروانا ہے تو ٹھیک ورنہ بعد میں مرض بڑھ گیا تو میرے پاس مریض کو لے کر نہ آنا۔ بتا بھی دیا کہ پیسے تین چار لاکھ کے درمیان لگیں گے۔ بڑے ڈاکٹر کے بڑے نام کی وجہ سے فوری چند ہی دنوں میں مریضہ کو بیرون ملک سے بلوایا گیا اور دوسرے ہی دن بڑے اسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔ دوسرے دن سرجری کے لیے مریضہ کو آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا۔ بے ہوشی کی دوا دینے سے قبل مریضہ نے سن لیا کہ اُس کی بائیں ٹانگ کا آپریشن کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جبکہ مسئلہ دائیں ٹانگ میں تھا ۔

    خاتون مریضہ چیخ اُٹھی کہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں جس پر اُس سے کہا گیا کہ نہیں آپریشن کے لیے تو بائیں ٹانگ کا لکھا ہوا ہے۔ مریضہ نے کہا کہ مرض مجھے ہے، میرا پہلے بھی آپریشن ہو چکا اس لیے بہتر ہے اپنا ریکارڈ درست کریں۔ اپنی متاثرہ ٹانگ کی بجائے مکمل صحت یاب ٹانگ کے آپریشن سے بچتے ہی، مریضہ کے کانوں میں ایک نرس کی طرف سے ڈاکٹر کوبتائی جانے والی یہ خبر پہنچی کہ خاتون کا ہیپاٹائٹس بی کا رزلٹ مثبت آیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس نئی خطرناک بیماری کے شاک کو ہضم کرتی اُس پر بے ہوشی کی دوا کا اثر ہو چکا تھا۔ اس نئی بیماری اور ٹیسٹ کے بارے میں آپریشن تھیٹر کے باہر موجود مریضہ کی ڈاکٹر بہن کو پتا چلا تو اُسے یقین نہیں آیا کیوں کہ حال ہی میں کرائے گئے تمام بلڈ ٹیسٹ کلئیر تھے۔

    اُس نے بڑے اسپتال کی لیبارٹری سے بلڈ سیمپل لیے اور ایک دوسرے اسپتال کی طرف دوڑی۔ ابھی رستہ میں تھی تو بڑے اسپتال سے فون آیا کہ بی بی واپس آ جائیں غلطی ہو گئی۔ بتایا گیا کہ کسی دوسرے مریض کا ٹیسٹ اُس مریضہ کے ساتھ میکس ہو گیا تھا جس کی وجہ سے غلط رپورٹ جاری ہو گئی۔ آپریشن ہو گیا جس کے بعد بڑے ڈاکٹر نے بتایا کہ ٹانگ میں کوئی خرابی نہیں تھی لیکن جہاں مجھے شبہ تھا وہاں میں نے ہڈی کی گرافٹنگ کر دی۔ جب خون کی غلط ٹیسٹ رپورٹ کے بارے میں احتجاج کیا گیا تو ڈاکٹر نے جواب دیا ’’I have taken them to task.‘‘ معلوم نہیں کتنے مریضوں کے ساتھ یہ کھیل روزانہ کھیلا جاتا ہے۔ 

    لاکھوں دے کر بھی اگر علاج کے نام پر یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے تو پھر مریض بچارے کہاں جائیں۔ گزشتہ روز میں مریضہ کی تیمارداری کےلیے گیا تو اُس نے اپنی کہانی تو بتائی ہی ساتھ ہی کہنے لگی کہ چند روز قبل ہی اُس کے جیٹھ اسلام آباد کے ایک اور بڑے پرائیویٹ اسپتال خون کے ٹیسٹ کروانے گئے۔ جب ٹیسٹ رپورٹس ملیں تو شوگر تین سو سے زیادہ ۔ خون کی کچھ دوسری رپورٹس بھی خراب تھیں۔ یہ رپورٹس دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا اور اُسی اسپتال کے ایک بڑے ڈاکٹر کے پاس چلا گیا جس نے دوائیوں کے ڈھیر لکھ دئیے۔ اپنی جان کو خطرے میں دیکھتے ہوئے تقریباً دس ہزار کی دوائیں خرید کر مایوسی کی حالت میں گھر پہنچا اور ساری روداد گھر والوں کو سنا دی۔ 

    ماں نے ویسے ہی کہا میری شوگر ٹیسٹنگ مشین سے ٹیسٹ کر لو۔ بیٹے نے گھر ہی میں ٹیسٹ کیا تو شوگر نارمل نکلی۔ دوڑا دوڑا اسلام آباد کے ایک اوراسپتال پہنچا اور ٹیسٹ کروائے جو بلکل نارمل تھے۔ ابھی حال ہی میں ہماری ایک اور جاننے والی خاتون کو بلڈ کلاٹنگ کی وجہ سے دل کا عارضہ ہوا۔ ایک بڑے پرائیویٹ اسپتال میں داخل ہوئیں، علاج ہوا گھر چلی گئیں۔ ایک ٹانگ میں سوجن ہو گئی، اسٹروک بھی ہو گیا۔ دوبارہ اُسی اسپتال پہنچیں اور داخل کر لی گئیں۔ ایک ڈاکٹر صاحب آئے اور اسٹروک کی مریضہ جس کو پہلے panic attack بھی ہو چکا تھا کو کہنے لگے کہ او ہو تمھاری تو ٹانگ کاٹنی پڑے گی۔ یہ سنتے ہی خاتون نے رونا شروع کر دیا۔ بعد میں دوسرے ڈاکٹرز آئے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ ٹانگ کاٹنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

    دو تین روز قبل ٹی وی ایکٹر ساجد حسن نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی دکھ بھری کہانی سنائی کہ کس طرح بال لگوانے کے چکر میں اُس کے سر کی بری حالت کر دی گئی ہے۔ ساجد حسن نے اپنے سر کی وڈیو بھی شئیر کی جسے دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں اگرچہ لالچ نہیں لیکن وہاں ایک طرف انفکشن کا ڈر اور دوسری طرف ٹیسٹ رپورٹس پر کوئی بھروسہ نہیں۔ ایک جاننے والے نے پیسہ کی کمی کی وجہ سے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد کے بڑے سرکاری اسپتال سے ٹیسٹ کروا لیے جائیں۔ جب ٹیسٹ کی رپورٹس آئیں تو سب کی سب غلط۔ جب رپورٹس ہی قابل اعتبار نہ ہوں تو مریضوں کا علاج کیا ہو گا۔ نجانے علاج کے نام پر روزانہ کتنے لوگوں کی یہاں جانوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے لیکن کوئی روکنے والا نہیں۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان کی سیاست میں پیسہ نے ساری سیاست کو آلودہ کر دیا ہے۔ پیسہ نے نظریات کو ختم کر دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان اب نظریات کی کوئی تقسیم نہیں رہ گئی ہے اور نظریاتی اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سب سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہو گئی ہیں۔ سینیٹ کے ٹکٹوں کی تقسیم کو ہی دیکھ لیں اقربا پروری اور سرمایہ داروں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم نظر آتی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کیا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم میں اختلافات کا بہت شور ہے۔ یہ اختلافات بھی کوئی نظریاتی نہیں بظاہر یہ بھی پیسے کی لڑائی لگتی ہے۔ فاروق ستار کسی کارکن کے حق کے لیے ساری جماعت سے نہیں لڑ رہے بلکہ یہ ایک سرمایہ دار کی لڑائی ہے۔ وہ کسی غریب کے ساتھ حق دوستی نہیں نبھا رہے بلکہ سونے کے ایک تاجر کے ساتھ دوستی نبھا رہے ہیں۔ دوسری طرف رابطہ کمیٹی کا موقف بھی کوئی خاص اصولی نہیں ہے یہ بھی حسد کی لڑائی لگ رہی ہے۔

    ایک رائے یہ بھی ہے کہ کامران ٹسوری پوری ایم کیو ایم میں فاروق ستار کے سوا کسی کو لفٹ نہیں کرواتے۔ جس کا سب کو حسد ہے کہ یہ ہمیں کچھ نہیں سمجھتا۔ بس فاروق ستار کا دم چھلا بنا ہوا ہے۔ ورنہ ایم کیو ایم میں تو ہمیشہ ہی اوپر سے فیصلے مسلط ہوتے رہے ہیں۔ وہاں تو ہمیشہ ہی آمریت رہی ہے، یہ سب کچھ وہاں کوئی پہلی دفعہ نہیں ہو رہا۔ شائد فاروق ستار الطاف حسین نہیں ہیں اسی لیے سب ان کے خلاف شور مچا رہے ہیں۔ ورنہ یہی رابطہ کمیٹی الطاف حسین کے سامنے بولنے کی جرات نہیں رکھتی تھی۔ الطاف حسین کے غلط فیصلوں کا بھی دفاع کرتی۔ یہ وہی رابطہ کمیٹی ہے جس کو الطاف حسین گھر کی لونڈی سمجھتے تھے، اس کے ارکان کو اپنا غلام سمجھتے تھے۔

    لیکن فاروق ستار کو شائد یہ احساس نہیں کہ وہ بے شک ایم کیو ایم پاکستان کے لیڈر بن گئے ہیں لیکن وہ الطاف حسین نہیں ہے۔ لوگ ان کا احترام تو کر سکتے ہیں لیکن ان سے ڈرتے نہیں ہیں۔ان کے پاس الطاف حسین والی طاقت نہیں ہے۔ اسی لیے وہ من مانی اور مرضی نہیں کر سکتے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر سونے کے تاجر کامران ٹسوری کے پاس ایسا کیا ہے کہ فاروق ستار اس کے لیے اپنی ساری سیاست داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔ کیوں کامران ٹسوری کا سینیٹ میں پہنچنا اتنا ضروری ہے کہ اس کے لیے فاروق ستار اپنی ساری سیاست داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہیں۔ ویسے یہ ایم کیو ایم میں پہلی دفعہ نہیں ہے کہ کسی کو یک دم ٹکٹ دیا جائے ۔

    بیرسٹر سیف کی مثال بھی سب کے سامنے ہے۔ وہ ق لیگ سے ایم کیو ایم میں آئے اور سیدھے سینیٹر بن گئے۔ اور بھی مثالیں ہیں۔ الطاف حسین لوگوں کو یک دم ٹکٹوں سے نوازتے رہے ہیں۔ تب تو کسی رابطہ کمیٹی نے کوئی سوال نہیں اٹھایا تھا۔ لیکن آج سوال ہے۔ کیا ایم کیو ایم بدل گئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کامران ٹسوری کو اسٹبلشمنٹ کی حمائت حاصل ہے اس لیے فاروق ستار ان کا کیس لڑ رہے ہیں۔ میں یہ نہیں مانتا کہ اس رابطہ کمیٹی میں اتنی جان ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے کسی نمایندہ کی اس طرح مخالفت کر سکے۔ ایک تو ہر کوئی اسٹبلشمنٹ کی حمائت کا دعویٰ کرنے لگتا ہے چاہے اس کا دور دور تک اسٹبلشمنٹ سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ اگر اسٹبلشمنٹ کامران ٹسوری کو سینیٹ میں لے جانا چاہتی ہو تو اتنا شور نہ مچے وہ سب کو سمجھا لیتے۔ ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو اسٹبلشمنٹ کی بات نہ سمجھ سکے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ سب پیسے کی لڑائی ہے اور فاروق ستار کی قیادت کو چیلنج کرنے کی لڑائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ فاروق ستار ایک منجھدار میں پھنس چکے ہیں۔ وہ دو کشتیوں کے سوار ہونے کی وجہ سے ڈوب رہے ہیں۔

    اب ایسے میں ان کے پاس دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ وہ قیادت سے دستبردار ہو جائیں یا وہ اپنا الگ دھڑا بنا لیں۔ جہاں تک رابطہ کمیٹی کا سوال ہے توآج جو لوگ ان کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ سب ان کے ہم عصر رہ چکے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی ان کو دل سے قائد تسلیم نہیں کیا ہے۔ عامر خان کا خیال ہے کہ انھیں قائد ہونا چاہیے فاروق ستار کیوں۔ وہ کھلم کھلا فاروق ستار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اسی طرح خالد مقبول صدیقی بھی انھیں چیلنج کر رہے ہیں۔ وسیم اختر بھی کچھ کم نہیں ہیں۔ یہ سب نمبر ون بننے کے چکر میں ہیں کوئی بھی نمبر ٹو بننے کے لیے تیار نہیں۔ ایم کیو ایم اپنی طاقت کھو رہی ہے۔ یہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی ہے۔ اس گھر کو آگ لگ رہی ہے اس گھر کے چراغ کے مصداق اب ایم کیو ایم کی مزید تباہی اس کے اپنے لیڈر خود ہی کر رہے ہیں۔ آپس کی لڑائی، قیادت کی لڑائی، پیسہ کی لڑائی۔ سب نے ایم کیو ایم کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ اگر کوئی ووٹ بینک بچ بھی گیا تھا تو وہ ختم ہو رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ساری قیادت کے درمیان جوتوں میں دال بٹ رہی ہو تو ووٹ بینک قائم رہ سکے۔

    اس آپس کی لڑائی کی وجہ سے ایم کیو ایم کا کراچی میں کنٹرول مزید کم ہو جائے گا۔ عمران خان نے کراچی کے حوالے سے شدید نا امید کیا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں ان کی جماعت کو کراچی میں اچھے ووٹ ملے تھے۔ ایک امید پیدا ہوئی تھی کہ تحریک انصاف کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ لے سکتی ہے۔ لیکن عمران خان پنجاب میں اس قدر پھنس گئے کہ ان کے پاس کراچی کے لیے وقت ہی نہیں تھا، انھوں نے کراچی کو بہت نظر انداز کیا۔ وہ کراچی کے معاملات سے لاتعلق رہے، وہ کراچی میں ایک مہمان اداکار بن گئے جس کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک گر گیا۔ اب شائد بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ چاہیں بھی تو ایم کیو ایم کی خالی کی جانے والی جگہ حاصل نہیں کر سکتے، پھر کیا ہو گا ؟

    کیا سب کچھ مصطفیٰ کمال کو مل جائے گا۔ کیا ایم کیو ایم میں اس تقسیم کا فائدہ مصطفیٰ کمال کو ہو گا۔ کیا پاک سرزمین ایم کیو ایم کا متبادل بن گئی ہے۔ ابھی تک ایسا نظر نہیں آرہا۔ لیکن لگ ایسا رہا ہے کیونکہ اور کوئی نظر نہیں آرہا۔ میدان خالی ہوتا جا رہا ہے۔ پتہ نہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت خود پلیٹ میں رکھ کر کراچی کی سیاست مصطفیٰ کمال کو دے رہی ہے۔ جس طرح جب روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ ایسے میں جب ایم کیو ایم کی بقا کو سنجیدہ خطرات درپیش ہیں قیادت آپس میں لڑ رہی ہے۔ کسی میں کسی کو برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اگر اس بار صلح ہو بھی جائے تو پھر لڑائی ہو گی۔ اس طرح لڑائیاں ہوتی رہیں گے ۔

    مزمل سہروردی
     


    0 0

    برطانوی میگزین ’ٹائمز ہائر ایجوکیشن‘ (ٹی ایچ ای) نے 2018 کی ایشیا کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کر دی۔ پہلی بار ایشیا کی 100 بہترین جامعات میں ایک پاکستانی قائد اعظم یونیورسٹی (کیو اے یو) بھی شامل ہے، جس کی رینکنگ میں 50 درجے بہتری آئی۔ ٹی ایچ ای کی فہرست میں اس بار ایشیا کی 350 یونیورسٹیز سے بھی زائد جامعات کو شامل کیا گیا ہے، جس میں پہلی بار پاکستانی جامعات کی تعداد بھی بڑھ کر 10 تک پہنچ گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی قائد اعظم یونیورسٹی ایشیا کی 100 بہترین جامعات میں سے 79 ویں نمبر آئی ہے، جب کہ پہلی بار اس فہرست میں 10 پاکستانی جامعات بھی شامل ہوئی ہیں۔
    قائد اعظم یونیورسٹی 2017 میں 121 سے 130 کے بینڈ میں شامل تھیں، لیکن ایک ہی سال میں وہ 79 ویں نمبر پر آگئی۔ ایشیا کی 130 بہترین یونیورسٹیوں میں 2 پاکستانی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں، اس فہرست میں 125 ویں نمبر پر پاکستان کی کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔ ایشیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی کا اعزاز سنگاپور کی ’نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور‘ نے حاصل کیا، وہ مسلسل تین سال سے اس پوزیشن پر موجود ہے۔ ایشیا کی دوسری بہترین یونیورسٹی کا اعزاز چین کی ’تشنگوا یونیورسٹی‘ نے حاصل کر لیا، وہ اپنے ہی ملک کی ایک اور جامعہ سے یہ پوزیشن چھیننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

    مجموعی طور پر اس فہرست میں ابتدائی 22 یونیورسٹیز کا تعلق سنگاپور، ہانگ کانگ، چین و جنوبی کوریا سے ہے، جب کہ 23 ویں نمبر پر سعودی عرب کی ’کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی‘ ہے۔ اسرائیل کی ایک یونیورسٹی 25 ویں نمبر پر ہے، جب کہ بھارت کی ’انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس‘ اس فہرست میں 29 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی قائد اعظم یونیورسٹی 79 ویں، کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی 125 ویں، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی 162 ویں، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد 251-300 ویں نمبر پر رہیں۔

    اسی فہرست میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پشاور، یونیورسٹی آف لاہور، پی ایم اے ایس ایرڈ ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈی اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہور کو 301 سے 350 بینڈ کے اندر رکھا گیا ہے۔
    جب کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی آف لاہور کو 350 سے زائد کے بینڈ میں شمار کیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر اس فہرست میں کراچی یونیورسٹی، سندھ یونیورسٹی اور پنجاب یونیورسٹی جگہ بنانے میں ناکام رہیں۔
     


    0 0

    عموماً کالج کی زندگی کو پابندیوں سے آزاد شاندار دور سمجھا جاتا ہے اورطالب علم نت نئے تجربات کے ساتھ نئی دنیا تلاش کرتے ہیں تاہم حالیہ برسوں میں ڈپریشن نے کالج طلباء کو خطرناک حد تک پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق سینٹر فار کالجیٹ مینٹل ہیلتھ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈپریشن اور تشویش کالج ًطلباء کے لئے مشاورت کی اہم ترین وجوہات ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک یونیورسٹی طالب علم ڈپریشن سے متاثر ہے، جس کے کئی عوامل ہیں۔ حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی اِن عوامل میں خطرناک ترین ہے، اِن کا حد سے زیادہ استعمال سماجی رابطوں میں کمی اور تنہائی کے احساس میں اضافے کا باعث ہوتا ہے۔

    سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال حقیقی اور مجازی زندگی کے درمیان مخصوص نوعیت کے مقابلے کو بھی فروغ دیتا ہے، جو قیمتی لمحات سے لطف اندوز ہونے کے بجائے سوشل میڈیا پر تجربات پوسٹ کرنے میں مصروف رہنے، پیغامات بھیجنے اور سیلفیز لینے کے درمیان رسّہ کشی ہے۔ بہت سے کالج طلباء دہری مجازی اور حقیقی زندگی جی رہے ہیں اور بعض اوقات مجازی زندگی حقیقی زندگی سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہ صرف ایسی چیز نہیں ہے جوہم کلینک میں دیکھتے ہیں بلکہ یہ تحقیقاتی مطالعے میں اچھی طرح سے مستند ہے۔
    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسمارٹ فون کے بے تحاشہ استعمال کے ساتھ ساتھ موبائل فون کی لت بھی نیند کی خرابی، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ سے بھی منسلک ہے۔

    مثال کے طور پر ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 50 فیصد کالج طلباء کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکسٹ پیغامات کا جواب دینے کے لئے رات بھر جاگتے ہیں، جبکہ اسی تحقیق کے مطابق جو لوگ نیند کے اوقات میں ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں اُن کی نیند خراب ہوتی ہے جو ڈپریشن کی شرح میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ بعض طلباء میں گھر سے دوری، کالج کے بڑھتے اخراجات اور تعلیم مکمل ہونے بعد ملازمت نہ ملنے کا خوف بھی ڈپریشن کا باعث ہوتا ہے۔

    معین الدین
     


    0 0

    کسی بھی ملک سے سرمائے کی بیرون ملک منتقلی اس ملک کی معیشت کے لئے سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔ ملکی امور چلانے کے لئے پیسے کا اندرون ملک گردش میں رہنا معیشت کے استحکام کی کلید ہے۔ اگر ایسا نہ ہو اور سرمایہ ملک سے باہر جاتا رہے تو ملک پر عُسرت کا آسیب اتر آتا ہے، جس کے اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں سے بیاج پر قرض اٹھانا پڑتا ہے جو چیئرمین نیب کے حالیہ بیان کے مطابق 90 کھرب تک پہنچ گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری رُکنے، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاکستان سے بوریا بستر گول کر جانے اور ملکی سرمایہ کاروں تک کے اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کرنے کی وجہ دہشت گردی اور سیاسی غیر یقینی کو قرار دیا گیا تاہم اس کی وجوہ اس کے علاوہ بھی تھیں۔ 

    خاص طور پر پاکستانی سرمایہ کاروں کا اپنا سرمایہ خلیج اور مشرق بعید کے ملکوں میں منتقل کرنا زیادہ تر اپنے جائز یا ناجائز سرمائے پر منافع کمانا یا اسے محفوظ کرنا بھی ایک سبب تھا۔ یہ سرمایہ کاری اس قدر بڑھی کہ صرف دبئی میں پاکستانیوں کی 800 ارب روپے کی جائیدادیں ہیں، باقی کاروبار اس کے سوا ہیں۔ یہی سرمایہ اگر پاکستان میں ہوتا تو اس سے ملکی معیشت کو بلاشبہ سہارا ملتا۔ بہرکیف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے دبئی میں پاکستانیوں کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے متعلق جیو نیوز کی فراہم کردہ معلومات پر معاملے کو متفقہ طور پر نیب کو بھیجنے کی سفارش کی ہے۔

    تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نے چیئرمین کمیٹی سے کہا کہ جیو کے رپورٹر کو معلومات کمیٹی میں پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس پر انہو ں نے بتایا کہ دبئی میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانی 5 ہزار سے زائد ہیں۔ قومی کمیٹی برائے خزانہ کی طرف سے یہ معاملہ نیب کو بھجوانے کا متفقہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں کمائی کر کے دولت باہر بھیجنا کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نیب اس حوالے سے اہم قدم اٹھاتا ہے تو یہ ملکی سرمایہ واپس لانے کی طرف پہلا اور انتہائی خوش آئند اقدام ہو گا۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    مہاجر قومی موومنٹ کے نام سے سفر شروع کرنے والی جماعت ایم کیو ایم سے اب تک 5 جماعتیں جنم لے چکی ہیں۔ مہاجر قومی موومنٹ سے 1992 میں ایم کیو ایم حقیقی کا دھڑا الگ ہوا پھر مہاجر قومی موومنٹ نے اپنا نام متحدہ قومی موومنٹ رکھ لیا تو حقیقی نے اپنا نام مہاجر قومی موومنٹ رکھ لیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد نے مصطفیٰ کمال کی قیادت میں 23 مارچ 2016ء کو پاک سرزمین پارٹی بنائی جبکہ باقی ماندہ متحدہ قومی موومنٹ 23 اگست 2016 کے بعد 2 جماعتوں ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن میں بٹ گئی۔ اب ایم کیو ایم پاکستان بھی 2 دھڑوں بہادرآباد اور پی آئی بی میں تقسیم ہو گئی ہے۔
     


    0 0

    سوات کے علاقے مٹہ کی لمبرو بی بی چار بیٹوں کی ماں ہیں، جن میں سے کوئی بھی اب اُن کے پاس نہیں۔ دو بیٹے پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک کی لاش مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جانے کے کچھ عرصے بعد ملی جبکہ ایک بیٹا اور داماد سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں آج بھی لاپتہ ہیں۔ لمبرو بی بی اسلام آباد میں پشتونوں کے اس احتجاجی دھرنے میں شریک رہیں جو کراچی میں قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری رہا اور حال ہی میں حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں ختم ہوا ہے۔ 

    یہ دھرنا ایک ایسا مرکز بنا جہاں مبینہ 'ریاستی ظلم'کا شکار لوگ اپنا دکھ بیان کرنے کے لیے کھنچے چلے آئے۔ لمبرو بی بی کی کہانی پاکستان میں مبینہ ریاستی جبر کی ایک طویل داستان کا حصہ ہے۔ ان کے دو بیٹے شوکت علی اور حیدر علی تین برس قبل کراچی میں ایسے پولیس مقابلوں میں مار دیے گئے جن کی سربراہی مبینہ طور پر کراچی پولیس کے وہی افسر کر رہے تھے جن پر نقیب محسود کے جعلی پولیس مقابلے کا بھی الزام ہے، یعنی راؤ انوار۔
    لمبرو بی بی کے دونوں بیٹے بنارس کالونی میں چاول مل کے ٹھیکیدار تھے
    لمبرو بی بی کا دعوٰی ہے کہ شوکت علی اور حیدر علی کو 10 جنوری اور 21 مارچ 2015 کو راؤ انوار کی سربراہی میں پولیس اہلکار کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اُٹھا کر لے گئے تھے۔ ’میرے دونوں بیٹے بنارس کالونی میں چاول مل کے ٹھیکیدار تھے۔ راؤ انوار میرے دو بیٹوں کو کراچی میں ہمارے گھر سے اٹھا کر لے گیا۔ میں نے بہت کوشش کی، کراچی ہائی کورٹ میں کیس بھی کیا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ' اُن کے مطابق شوکت علی کو 11 مئی 2015 اور حیدر علی کو 13 جون 2015 کو مار دیا گیا۔ مئی 2015 کے ایک مقامی اخبار میں ایک خبر لگی، جس میں راؤ انوار پر جعلی پولیس مقابلے کا الزام لگایا گیا۔ لمبرو بی بی نے اسی اخبار میں چھپی اپنے دونوں بیٹوں کی خون میں لت پت تصویریں آج بھی سنبھال کر رکھی ہیں۔

    اس بارے میں جب بی بی سی نے سندھ حکومت کے وزیرِ اطلاعات ناصر شاہ سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’نقیب محسود کے واقعے کے بعد اس طرح کی شکایات اور بھی سامنے آئی ہیں جن کی تحقیقات کے لیے بہت جلد ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے گی جس میں یہ ساری شکایات دیکھی جائیں گی۔‘ لمبرو بی بی نے بتایا کہ پولیس مقابلے میں اُن کے بیٹوں کو مارنے کے بعد اُن کی لاشیں 20 ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد ملیں اور اُن کے مطابق وہ بھی تب جب راؤ انوار نے اُنھیں 'راہداری'دی۔ 'میں رکشے میں راؤ انوار کے گھر گئی۔ اُن سے اپنے بیٹوں کی لاشیں وصول کرنے کے لیے راہداری لی کیونکہ تھانے والے لاشیں نہیں دے رہے تھے۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ میرے بیٹوں کو تو آپ میرے گھر سے اُٹھا کر لے گئے، پھر کیسے پولیس مقابلوں میں مارے گئے۔ وہ خاموش کھڑا تھا۔'

    یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ لمبرو بی بی کو اپنے بیٹے کی ہلاکت کا صدمہ سہنا پڑا ہو۔
    لمبرو بی بی کے مطابق اُن کے ایک اور بیٹے محمد اسحاق کو سنہ 2009 میں سوات میں جاری فوجی آپریشن کے دوران مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اُن کے گھر سے اُٹھا لیا تھا۔ محمد اسحاق کی لاش تین ماہ بعد برآمد ہوئی تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ سکیورٹی فورسز کی حراست میں ہلاک ہوئے یا نہیں۔ لمبرو بی بی کہتی ہیں 'تین ماہ کی کوششوں کے بعد ہمیں اُن کی قبر ملی، اُن کی قبر کو کھودا اور لاش کو اپنے قبرستان لے آئے۔' اس واقعے کے تین برس بعد ان کا ایک اور بیٹا اور داماد بھی مٹہ میں لاپتہ ہوا اور آج تک ان دونوں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔

    لمبرو بی بی کے مطابق ان کے چوتھے بیٹے ذکریا کو چھ سال قبل سکیورٹی فورسز مٹہ میں گھر سے لے گئے۔ عین اُسی دن اُنھوں نے ان کے داماد احسان اللہ کو بھی اپنے گھر سے اُٹھا لیا تھا۔ وہ بھی ابھی تک لاپتہ ہیں۔ سوات اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سنہ 2007 میں طالبان کے خلاف شروع کیے جانے والے پاکستانی فوج کے آپریشن میں سینکڑوں افراد لاپتہ ہوئے جن کے لواحقین پاکستانی سکیورٹی فورسز پر انھیں لاپتہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن پاکستانی حکام ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔

    'میرے ایک بیٹے اور داماد کو پھر سوات سے اُٹھا کر لے گئے اور اب چھ سال ہو گئے ہیں۔ شام کے وقت وہ مجھ سے میرا بیٹا یہ کہہ کر لے گئے کہ اُنہیں بہت جلد واپس لے آئیں گے۔ رمضان میں ان کے چھ سال پورے ہو جائیں گے۔' لمبرو بی بی کی بیٹی اور بہو نے پشاور ہائی کورٹ اور اسپریم کورٹ میں اپنے شوہروں کی عدم بازیابی پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف درخواستیں بھی دی ہیں اور یہ معاملہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔ یہ دونوں افراد اگر کسی وقت واپس آ بھی جائیں تو لمبرو بی بی انھیں صرف محسوس ہی کر پائیں گی کیونکہ ان کی یاد میں روتے روتے، سوات کی اس ماں کی بینائی جا چکی ہے۔ 'بیٹوں کی یاد میں اب میری بینائی بھی چلی گئی ہے۔ کچھ دکھائی نہیں دیتا، بس تکلیف کی زندگی ہے۔ اب ہماری زندگی میں بس رونا ہی باقی ہے اور کچھ نہیں'۔

    خدائے نور ناصر
    بی بی سی، اسلام آباد
     


    0 0

    اب تو اسلام کی وہ شکل دیئے جانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جو امریکا و یورپ کو پسند ہو۔ اس کے لیے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ایسے ’’اسلامی اسکالرز‘‘ کو بھی آگے لایا جا رہا ہے جو روشن خیال ہوں، لبرل ہوں۔ ہمارے ہاں بھی چند ایک ایسے ’’اسلامی اسکالرز‘‘ موجود ہیں جو عورت کے پردے کو نہیں مانتے، جنہیں پاکستان کے آئین کی اسلامی دفعات بلخصوص قرارداد مقاصد پر اعتراضات ہیں، جو مغرب زدہ لبرلز اور سیکولرز کے پسندیدہ ہیں اور جنہیں فحاشی و عریانیت پھیلانے والے ہمارے چینلز بہت پسند کرتے ہیں۔

    گزشتہ ہفتے اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے سرعام پھانسی دیئے جانے کے مسئلہ پر میٹنگ کے بعد جو پریس ریلیز جاری ہوئی وہ کافی confusing تھی۔ مجھے پڑھ کر محسوس ایسا ہوا جیسے اس پریس ریلیز کو جاری کرنے کا مقصد مغرب، مغرب زدہ این جی اوز اور پاکستان کی روشن خیال سوسائٹی اور میڈٖیا کو خوش کرنا تھا۔ اگرچہ اصل مسئلہ (سرعام پھانسی) پر پریس ریلیز خاموش تھی لیکن اُس میں یہ بیان کیا گیا کہ سزائوں کی شدت اور سنگینی کی بجائے سزا کی یقینیت کا اہتمام ہونا چاہیے۔ یہ پڑھ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا سزائوں کی شدت سے کیا مراد اور پھر یہ بات پریس ریلیز میں بیان کرنے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی۔ 

    میں نے کونسل کے کچھ اراکین سے بات کی جو خود حیران تھے کہ یہ کیا ہو گیا کیوں کہ سب کو معلو م ہے کہ اسلامی سزائوں کے بارے میں مغرب اور مغرب زدہ طبقہ کیا کہتا ہے۔ دوسری دن چند اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ کونسل نے سرعام پھانسی کی مخالفت کر دی۔ لیکن جب میری چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل سے بات ہوئی تو انہوں نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ کونسل کو تو سینیٹ کی طرف سے صرف یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا سرعام پھانسی دینے کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے جس پر کونسل کا جواب یہ ہے کہ موجودہ قوانین کے مطابق سر عام پھانسی دی جا سکتی ہے ۔ 

    انہوں نے مزید کہا کہ ہاں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ سپریم کورٹ کا ایک پرانا فیصلہ ہے جس میں سرعام پھانسی پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ میں نے چیئرمین صاحب سے کونسل کی متنازع پریس ریلیز پر بھی بات کی اور امید ظاہر کی کہ اسلامی نظریاتی کونسل صرف اور صرف اسلام کی بات کرے گی۔ مجھے چیئرمین صاحب نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ اُن کی طرف سے جو جواب سینیٹ کو جائے گا وہ بلکہ واضع اور صاف ہو گا۔  

    انصار عباسی


    0 0

    پاکستان کے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر اُن پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عدالت میں پیش نہ ہونے پر اٹارنی جنرل کے عہدے پر تعینات کسی شخص کو جرمانہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے متعدد وکلا کو عدم پیشی پر جرمانے کیے گئے ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ارکان پارلیمان کی ہونے والی نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل  نے عدالت میں اٹارنی جنرل کے تحریر کردہ دلائل پیش کیے جس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں۔ وقار رانا نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل اس وقت لاہور میں ہیں اس لیے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُنھیں دس ہزار روپے کا جرمانہ کر دیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے اپنے فیصلے میں نظرثانی کی درخواست پر چیف جسٹس نے اپنا یہ حکم واپس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل کو شام چار بجے تک عدالت میں پیش ہوکر دلائل دینے کا حکم دیا۔ مقررہ وقت پر بھی اشتر اوصاف سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے پیش نہ ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اشتر اوصاف لاہور میں مصروفیت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے چیف جسٹس نے اس پر اٹارنی جنرل پر 20 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا اور کہا کہ وہ یہ جرمانہ اپنی جیب سے ادا کریں گے۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر دلائل نہیں دیں گے تو پھر عدالت اپنے فیصلے میں لکھ دے گی کہ اٹارنی جنرل نے اس معاملے میں عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی۔ عدالت پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد کسی اور کو نہیں سنا جائے گا۔ 

     


    0 0

    امریکا پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی عالمی واچ لسٹ میں شامل کرانے کے لیے متحرک ہو گیا اور اس حوالے سے فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کے سامنے ایک تحریک پیش کی جائے گی، تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے اس اقدام کو ناکام بنانے کے لیے بھی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی رکن ریاست کا اجلاس آئندہ ہفتے پیرس میں ہو گا، جہاں تنظیم کی جانب سے پاکستان کے حوالے سے تحریک پیش کی جا سکتی ہے۔
    اس حوالے سے وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا اور برطانیہ کی جانب سے کئی ہفتوں قبل ہی تحریک تیار کر لی گئی تھی اور بعد میں فرانس اور جرمنی نے بھی اس میں تعاون کیا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ ہم امریکا، برطانیہ، جرمنی اور فرانس سے رابطے میں ہیں تاکہ عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کی نامزدگی کو روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ اگر امریکا نامزدگی واپس لینے پر راضی نہیں بھی ہوا تو ہم واچ لسٹ میں نام ڈالنے کے عمل کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے بھارت کے کہنے پر یہ تحریک پیش کی جا رہی ہے اور اس کی اصل توجہ حافظ سعید پر مرکوز ہے کیونکہ بھارت کی جانب سے ان پر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ ایف ٹی اے ایف ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جو لڑائی کرنے والوں کی معاونت کا عالمی معیار کا تعین کرتا ہے جبکہ 2012 سے 2015 تک پاکستان اس کی واچ لسٹ میں شامل رہ چکا ہے۔

     


    0 0

    وزارت پیٹرولیم کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔ ایکسپریس نیوزکے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزارت پیٹرولیم نے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز کی شرح کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 55 روپے 9 پیسے ہے جب کہ اِس وقت صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت 95 روپے 83 پیسے مقرر ہے۔ 

    اس طرح فی لیٹر ڈیزل پر حکومت صارفین سے 40 روپے 74 پیسے ٹیکسز وصول کر رہی ہے یعنی ڈیزل کے ہرلیٹر پرعوام سے 74 فیصد ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 50 روپے 27 پیسے فی لیٹر ہے جب کہ صارفین کے لیے پیٹرول کی موجودہ قیمت 84 روپے 51 پیسے ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول پر حکومتی ٹیکسزکی شرح 34 روپے 24 پیسے ہے۔ یعنی پیٹرول کی مد میں بھی حکومت اس کی اصل قیمت پر 68 فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے۔
     


    0 0

    تنظیم بنانے کی پاداش میں متحدہ کے قائد اور کارکنان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے تحت دوسری سیاسی طلبہ تنظیموں کے طلبہ نے اے پی ایم ایس او سے تعلق کی بناء پر اس کے قائد اور کارکنان کو زیادتیوں کا نشانہ بنا نا شروع کر دیا۔ مگر اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور طلبہ تنظیم کراچی        یونیورسٹی سے نکل کر کالجوں تک جا پہنچی۔ سلیم شہزاد اردو سائنس کا لج کے یونٹ سیکریٹری مقرر ہوئے۔ اسی طرح دیگر رہنماؤں اور کارکنان نے شہر کے مختلف کالجوں میں اپنے یو نٹ قائم کر دیئے۔ تاہم مہاجر طلبہ و طالبات کو، جو اس وقت صرف اپنی قوم کی جنگ لڑ رہے تھے، زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی کیونکہ یہ جنرل ضیا الحق کی آمریت کا دور تھا لہذا حکومت نے تمام طلبہ تنظیموں پر پا بندی عائد کر کے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

    ایسے میں طلبہ تنظیموں کے رہنماؤں کی تحریر و تقریر پر پا بندی عائد کر دی گئی۔ اخبارات اول تو ان کے بیان ہی شائع نہیں کرتے تھے اور اگر کچھ عرصے بعد بیان شائع کیا جانا شروع کیا گیا تو تمام طلبہ تنظیموں کے ساتھ کالعدم کا اضافہ ضروری تھا جس کی بنیاد پر طلبہ تنظیموں نے مل جل کر اس بات کا یہ حل نکالا کہ انہوں نے اپنی طلبہ تنظیموں کو کالعدم ہو نے سے بچا نے کے لیے تنظیموں کے ساتھ ویلفیئر اور موومنٹ کے نام جوڑنا شروع کر دیئے اور کئی ایک نے، جن میں اے پی ایم ایس او بھی شامل تھی، طلبہ سیاست چھوڑ کر ’’مہاجر قومی موومنٹ‘‘ (ایم کیو ایم) بنالی اور طلبہ تنظیموں کے دائرہ کار کو شہر بھر میں پھیلانا شروع کر دیا۔

    کیونکہ ڈاکٹر فاروق ستار، احمد جمال، عظیم احمد طارق اور طارق جاوید سمیت بیشتر رہنماؤں کا تعلق پی آئی بی کالو نی سے تھا لہذا الطاف حسین اپنی ہونڈا ففٹی موٹرسائیکل پر بیٹھ کر یہاں سیاست کےلیے آتے تھے۔ فٹ پاتھوں پر نشستیں ہوا کرتی تھیں اور ان ہی فٹ پاتھ کی نشستوں پر شہر کے مختلف علاقوں سے جلسوں کے دعوت نامے آتے۔ ایسے میں مجھے بھی لانڈھی میں ہونے والا ایک جلسہ یاد ہے جب شہر بھر میں شدید با رش ہو رہی تھی لیکن لانڈھی کے علاقے میں بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا تھا۔ تب الطاف حسین، احمد جمال کی گاڑی میں بیٹھے (جس کے اوپر ایک ہوٹر بھی لگا ہوا تھا) سائرن بجاتے ہوئے جلسہ گاہ میں داخل ہوئے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے قائد نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے شدید بوندا باندی کا لفظ تو سنا ہے کہ ایک علاقے میں ہو رہی ہے لیکن دوسرے علاقے میں نہیں، مگر کبھی شدید بارشوں کا لفظ نہیں سنا کہ تمام علاقوں میں بارش ہو رہی ہے اور لانڈھی میں بارش کا نام و نشان ہی نہیں جو اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ اللہ بھی مہاجر قوم کے ساتھ ہے اور اسی وجہ کر بارش نہیں ہو رہی تاکہ یہ جلسہ کامیاب ہو سکے۔

    پھر مہاجر رہنما اسی طرح شہر کے دوسرے علاقوں میں اپنا اثر رسوخ قائم کرتے رہے اور قوم پرست سیاستداں جی ایم سید مرحوم سے (جنہوں نے اپنی آخری سانس تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور ’’پاکستان نہ کھپن‘‘ کے نعرے لگاتے رہے) ناتہ جوڑ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مہاجر قومی موومنٹ نے برسوں کی ترقی کا سفر دنوں میں طے کر لیا۔ اسی دوران اچانک ایم کیو ایم کی جانب سے نشتر پارک میں جلسے کا اعلان کیا گیا۔ اس دن بھی شدید بارش ہو رہی تھی لیکن نشتر پارک عوام سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے میں مہاجر سیاستداں الطاف حسین نے اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہو ئے حسب معمول پارک کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک پی آئی اے کے طیارے کو دیکھ کر کہا کہ یہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ نہیں بلکہ پنجاب انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ ہے؛ اور حسب دستور اپنے خطاب میں پنجاب اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنایا۔

    پھر اپنے مخصوص لب و لہجے میں، جو انتہائی سحر انگیز ہوتا تھا، انہوں نے سی آئی اے والوں، پولیس والوں، ایجنسی والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: لکھو کہ الطاف حسین نے جب ’’ایک دو تین‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی قوم کو خاموش ہونے کو کہا تو وہاں مکمل طور پر خاموشی چھا گئی۔ اور واقعتاً جب انہوں نے ایک دو تین کی گنتی گنی تو پوری جلسہ گاہ اور اس کے اطراف کے علاقے میں، جہاں عوام کے سروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا، پن ڈراپ سائلنس ہو گیا۔ یہاں تک کہ میں نے اس بارش کے دوران صرف لوگوں کی سانسوں اور پرندوں کے پھڑپھڑا نے کے سوا اور کوئی آواز نہیں سنی۔

    اس طرح مہاجر قومی موومنٹ کی ترقی کا سفر شروع ہوا۔ یہ سفر اس تیزی سے جاری ہوا کہ شہر بھر میں مہاجر قومی موومنٹ کی ایک اجارہ داری قائم ہو گئی اور لوگوں کی قسمت یا مقدمات کے فیصلے تھانوں اور کچہری کے بجائے مہاجر قومی موومنٹ کے یونٹ اور سیکٹر آفسز میں ہونے لگے۔ پھر جب عام انتخابات سمیت بلدیاتی انتخابات ہوئے تو پتنگ کو وہ بھرپور مقبولیت حاصل ہوئی جس کا کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن اتنی مقبولیت مل جانے کے بعد یہ تنظیم کنٹرول میں آنے کے بجائے کنٹرول سے باہر ہو گئی اور اس کے عہدیداران و کارکنان نے پیسے کو اپنا ایمان سمجھ کر، لوگوں کی خدمت چھوڑ کر، پیسے کمانا شروع کر دیئے۔ خود مہاجر عوام اس چیز سے پریشان تھی کہ ایسے میں 1992 میں ریاستی آپریشن شروع کیا گیا اور بے شمار کارکنان و رہنما پکڑے گئے جبکہ ڈاکٹر عمران فاروق، سلیم شہزاد و دیگر رہنماؤں نے، جن کے سروں کی قیمت مقرر کر دی گئی تھی، بیرون ملک فرار ہونے میں ہی عافیت جانی۔ کوئی لانچوں کے ذریعے تو کوئی کسی اور ذریعے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ایسے میں الطاف حسین نے بھی بیرون ملک راہ فرار اختیار کی اور لندن میں بیٹھ کر مہاجر قومی موومنٹ کو (جسے ’’متحدہ قومی موومنٹ‘‘ میں تبدیل کیا جا چکا تھا) آپریٹ کرنا شروع کر دیا۔

    آپریشن ختم ہوا تو ایک بار پھر متحدہ قومی موئومنٹ نے اپنی صف بندی شروع کر دی اور ہو نے والے عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات میں ہمدردی کا ووٹ لے کر بھرپور انداز سے کامیابیاں حاصل کیں۔ مگر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ جانے اور بلدیاتی نظام کے تحت کراچی، حیدر آباد، سکھر، اور میرپور خاص میں کامیابی کی صورت میں اسٹریٹ پاور قائم ہوجانے کے باوجود عوام کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ اپنی تجوریاں بھر تے رہے۔ تنظیم کی اسٹریٹ پاورکا یہ عالم تھا کہ الطاف حسین کے منہ سے نکلا ہوا ہڑتال کا جملہ پتھر پر لکیر ہوتا اور شہر بھر میں ایک روز کے بجائے دو روز کی ایسی ہڑتال ہوا کرتی تھی کہ پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔ کسی کی عزت نفس محفوظ نہیں تھی۔

    متحدہ کے کارکنان جس کی چاہتے، اس کی پگڑی اچھال دیا کرتے تھے۔ ایسے میں عوام کے اندر ایک نفرت کی کیفیت تھی۔ اس کے باوجود لوگ ’’جئے مہاجر‘‘ کا نعرہ لگانے اور ووٹ دینے پر مجبور تھے۔ مگر کیونکہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، لہذا متحدہ کے رہنما، جنہوں نے اگست کے مہینے میں اپنے مطالبات کے حق میں کراچی پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتال اور دھرنا دے رکھا تھا جس سے الطاف حسین دن میں کئی کئی بار ٹیلیفونک خطاب کرتے تھے جس پر رہنما اور کارکنان بھرپور تالیاں بجا کر انہیں داد و تحسین پیش کرتے تھے۔
    اچانک 22 اگست 2016 کو قائد تحریک الطاف حسین جوش خطابت میں آکر پاکستان کے خلاف نعرے بلند کر دیئے اور دھرنے میں بیٹھے کارکنان کو میڈیا ہاؤسز پر حملے کےلیے اکسایا۔ اس پر وہ کارکنان جن کی تعداد لاکھوں سے کم ہو کر سینکڑوں میں پہنچ گئی تھی، قائد کے حکم پر ’’قائد کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے میڈیا ہاؤسز پر حملہ آور ہو گئے جس پر ریاستی ادارے بھی حرکت میں آ گئے اور انہوں نے بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے کارکنان اور عہدیداران کو گرفتار کر لیا، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔

    حکومت نے متحدہ کے قائد کی تحریر و تقریر پر مکمل پابندی عائد کر دی جس کے بعد کارکنان کی ایک بڑی اکثریت یا تو گرفتار ہو گئی یا پھر انہوں نے روپوشی اختیار کر لی۔ اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آج شاید متحدہ قومی موومنٹ کی تنظیم کا آخری دن ہے مگر اچانک ڈاکٹر فاروق ستار نے، جو متحدہ کے بنیادی کارکنان میں شمار کئے جاتے ہیں، اپنی گرفتاری اور رینجرز ہیڈ کوارٹر میں جانے کے بعد 23 اگست 2016 کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا بلکہ متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے نام سے اس تنظیم کو نئے سرے سے منظم کرنا شروع کر دیا۔

    متعدد رہنما ان کے ساتھ بھی ہو گئے اور اس طرح ایک بار پھر متحدہ کا سیاسی سفر شروع ہو گیا۔ مگر انہیں عوام میں پذیرائی نہیں مل سکی۔ اس کے باوجود وہ یہ باور کراتے رہے کہ اب متحدہ کا مکمل کنٹرول ان کے پاس ہے۔ مگر ایسا نہیں تھا کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ میں سب سے پہلے 1992 میں آفاق احمد کی قیادت میں ایک گروپ مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کی صورت میں مہاجر سیاست کا نعرہ بلند کرتے ہو ئے علیحدہ ہو گیا۔ پھر 2016 کے اوائل ہی میں مصطفی کمال نے بھی وفاق کی سیاست کے نام پر پاک سر زمین پارٹی کا اعلان کر دیا۔

    متحدہ سے جڑے، بچے کچھے کارکنان ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ تھے مگر اچانک سینیٹ کے الیکشن میں ان کی جانب سے کامران ٹیسوری کو ٹکٹ دینے کی بات ہوئی تو عامر خان سمیت اہم رہنماؤں نے اس کی سختی کے ساتھ مخالفت کی مگر فاروق ستار نے، جو الطاف حسین کی غیر موجودگی میں اپنے آپ کو ان کی جگہ تصور کرنے لگے تھے، اپنے پرانے ساتھیوں کی باتیں نظرانداز کرتے ہوئے ضد اختیار کر لی کہ چند روز پہلے ہی آنے والے کامران ٹیسوری کو (جو ڈپٹی کنوینر بھی ہیں) سینیٹ کی رکنیت کےلیے نامزد کیا جائے۔ اس پر ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر خان کے درمیان اختلافات انتہائی شدید ہو گئے۔

    عامر خان گروپ نے بہادر آباد کے مر کز میں بیٹھ کر اس فیصلے کی مخالفت جبکہ فاروق ستار نے پی آئی بی میں موجود اپنے گھر کے مرکز سے ان پر لفظی گولہ باری شروع کر دی۔ مسلسل ایک ہفتے تک میڈیا اور مہاجر عوام شدت کے پیدا ہونے والے ان اختلافات کی زد میں رہی اور پوری مہاجر قوم تماشا بنتی رہی۔
    اس ایک ہفتے کے دوران دونوں گروپوں کی جانب سے صبح شروع ہو نے والی لڑائی رات گئے تک جاری رہتی، جس کا سلسلہ سات روز تک مسلسل جاری رہا اور اس دوران دن رات کا خیال کیے بغیر لگ بھگ 50 سے زائد پریس کانفرنسز، جنرل کونسل کے اجلاس اور دوسرے اجلاس ہوتے رہے۔

    ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور بالآخر اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ متحدہ کے قائد فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین کو، جن میں اہم سینئر رہنماؤں عامر خان، خالد مقبول صدیقی، فیصل سبزواری و دیگر کو معطل کر دیا جبکہ دوسری طرف بہادر آباد نے اپنے تنظیمی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کو ان کی کنوینر شپ سے فارغ کر دیا۔ دونوں گروپوں کی جانب سے الیکشن کمیشن میں سینیٹ کی نشستوں کے لیے علیحدہ علیحدہ کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے مگر گروپ بندی کے سبب متحدہ کی سینیٹ میں نشستیں مشکوک ہو گئی ہیں جس کا فائدہ پاکستان پیپلز پارٹی کو پہنچنے کے قوی امکانات ہیں۔ اس طرح وہ تنظیم جو 38 سال پہلے پی آئی بی کالونی سے شروع ہوئی تھی، پی آئی بی کالونی میں ہی دفن ہو چکی ہے۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس تنظیم کو کیسے اور کون بچائے گا؟

    مختار احمد
     


    0 0

    پاکستان میں ماہرین امریکی سراغ رساں اداروں کی اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسلام آباد حکومت پر اب امریکا کے بجائے چینی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔
    تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان کو کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے اسے سفارتی محاذ پر نقصان ہو سکتا ہے۔ واضح رہے سرد جنگ کے دوران پاکستان امریکی اور سرمایہ دارانہ کیمپ میں رہا، جس کی وجہ سے اس کے پاس سفارتی محاذ پر امکانات کی کمی رہی۔

    نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد کے ادارہ برائے عالمی امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان اپنی مرضی یا خوشی سے چین کے قریب نہیں ہو رہا بلکہ یہ غیر دانشمندانہ امریکی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد اب بیجنگ کی طرف دیکھ رہا ہے۔ امریکا نے پاکستان کی قربانیوں کے عوض ہمیشہ اس سے مزید مطالبات کیے اور پاکستان کے تحفظات کو نظر انداز کیا۔ اس کے برعکس چین نے سفارتی اور معاشی سطح پر پاکستان کی بہت مدد کی۔ سی پیک میں چین کی طرف سے پاکستان کی بڑے پیمانے پر مدد اس بات کی غماز ہے کہ اگر امریکا پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالتا ہے تو چین مدد کے لیے تیار ہے۔ 

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی دانشمندانہ ہے کیونکہ سرد جنگ کے دوران ہم نے صرف امریکا سے دوستی رکھی جب کہ بھارت نے دونوں سپر طاقتوں سے تعلقات استوار رکھے اور اس کے علاوہ غیر جانبدار ممالک سے بھی اچھے تعلقات رکھے جس کی وجہ سے آج بھارت سفارتی محاذ پر بہت مضبوط ہے۔ لہذا ہمیں چین، روس، ایران اور امریکا سب سے بہتر تعلقات رکھنا چاہییں۔ صرف کسی ایک ملک پر انحصار دانشمندی نہیں۔‘‘ پریسٹن یونیورسٹی اسلام آبادکے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ امان میمن بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ واشنگٹن نے پاکستان کے سکیورٹی تحفظات کو نہیں سمجھا اور اسی لیے پاکستان چین کی طرف ہوتا جا رہا ہے، ’’مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان نے کئی مواقعوں پر امریکا کو افغانستان میں بڑھتے ہوئے بھارتی اثر ورسوخ کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا لیکن امریکا نے ان تحفظات کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ الٹا افغانستان میں بھارت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی۔‘‘ 

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’اب پاکستان روس، چین، ایران اور ترکی سمیت خطے کے تمام ممالک سے بہتر تعلقات بنا رہا ہے، جو ایک مثبت چیز ہے۔ پاکستان کو علم ہے کہ امریکا افغانستان میں اسلام آباد کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا، اس لیے ہماری حکومت اپنے کارڈ چالاکی سے کھیل رہی ہے۔ لیکن سارا انحصار چین پر ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ دیگر آپشنز کے حوالے سے بھی سوچنا چاہیے۔  

    بشکریہ DW اردو

     


    0 0

    آئی ایس آئی اسلام آباد کے سابق سٹیشن چیف میجرعامر نے کہا ہے پہلی افغان جنگ ہماری اپنی جنگ تھی مگر پرویز مشرف جس جنگ میں امریکی اتحادی بنے وہ ہماری نہیں امریکہ کی تھی، اگر ہم پہلی جنگ کاجائزہ لیں تو روس کیخلاف لڑائی ہم نے شروع کی، ایک بھی امریکی فوجی ہماری سرزمین پر اترا نہ ہی افغانستان گیا، کسی امریکی جہازنے لڑائی میں حصہ لیا، ہم سے ڈومور کے مطالبات ہوئے نہ ہی پاکستان پر دہشتگردی کا کوئی الزام لگا، اس جنگ کے نتیجہ میں ملک کا ایٹمی پروگرام مکمل ہوا،علیحدگی کی تحریکو ں کا خاتمہ، افغان سرزمین سے بھارتی عمل دخل ختم ہوا اور ملک میں معاشی بہتری آئی.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایریا اسٹڈی سنٹر جامعہ پشاورمیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا پوری جنگ میں ہماری کوئی سول ملٹری جانی نقصان نہیں ہوا، روس بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر دیا گیا، عالمی فورم پر پاکستان کو نیک نامی ملی مگر جب ہم موجود جنگ کا جائزہ لیتے ہیں جس میں مشرف نے ایک فون کال پر حصہ لینے کافیصلہ کیا تھا تو خوفناک حقائق سامنے آتے ہیں، افغانستان میں امریکہ اور 40 اتحادی ممالک کی ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوج موجود رہی، افغانستان پر 57 ہزار سے زائد بمباریاں کی گئیں ۔


    0 0

    متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 31 پاکستانیوں کی 60 ارب مالیت کی 55 جائدادوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حوالے سے امارات ٹیکس حکام نے 53  پاکستانی سرمایہ کاروں کی تفصیلات فراہم کی ہیں جن میں سے صرف 5 نے اپنے اثاثے ایف بی آر کو ظاہر کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق، متحدہ عرب امارات کی حکومت نے 31 امیر پاکستانیوں کی جائدادوں کی تصدیق کر دی ہے ، جن کے 55 سے زائد اثاثہ جات جن کی مالیت تقریباً 60 ارب روپے بنتی ہے، دبئی کے قلب میں موجود ہیں۔ یہ تفصیلات اس وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان نے ان پاکستانیوں کی تفصیلات متحدہ عرب امارات کے حکام کو فراہم کی تھیں ، جنہوں نے مبینہ طور پر دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی تھی۔

    ایف آئی اے کے معاشی جرائم ونگ نے متحدہ عرب امارات کی وزارت خزانہ سے 16 نومبر،2017 کو درخواست کی تھی کہ وہ امیر پاکستانیوں کی تفصیلات فراہم کریں۔ ایف بی آر حکام کی جانب سے تیار کردہ دستاویزات کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے ٹیکس حکام نے 53 پاکستانی شہریوں کی تفصیلات فراہم کی ہیں ، جس میں متعدد رئیل اسٹیٹ سے وابستہ سرمایہ کار شامل ہیں ، ان تفصیلات میں 31 کیسز میں پاسپورٹس کی نقول بھی فراہم کی گئی ہیں ، جو کہ 22 جنوری، 2018 اور 28جنوری ،2018 کو لکھے گئے خطوط میں موجود ہیں۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان 31 پاکستانی شہریوں کی تقریبا 60 ارب روپے مالیت کے 55 اثاثے دبئی کے قلب میں موجود ہیں۔ اس سے قبل پہلی مرتبہ جیو نیوز/دی نیوز نے تقریباً 7ہزار پاکستانیوں کے اثاثہ جات سے متعلق خبر بریک کی تھی ، جس کی مالیت تقریباً11 سو ارب روپے تھی جو کہ گزشتہ 15 برسوں میں دبئی کے قلب میں بنائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان افراد نے یہ اثاثے اپنے سالانہ ریٹرنز میں بھی ظاہر نہیں کیے۔ جیو نیوز کو ملنے والے دستاویزات کے مطابق، 100 پاکستانیوں کی فہرست جنہوں نے مبینہ طو ر پر متحدہ عرب امارت /دبئی میں جائدادیں خریدی تھیں ، ایف بی آر دفتر میں ڈائریکٹر، معاشی جرائم ونگ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر سے موصول ہو چکی ہیں ، جسے وزارت خزانہ کے ای او آئی یونٹ بھجوا دیا گیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے ٹیکس حکام نے 22 جنوری اور 28 جنوری کو لکھے گئے دو خطوط کے ذریعے 55 جائدادوں کی منتقلی کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں ، ان میں سے 32 پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹس کی نقول بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ان 32 میں سے 31 کے شناختی کارڈز موجود ہیں ، جب کہ 31 میں سے 29 ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ ایف بی آر ریکارڈ کے مطابق، صرف 5 افراد نے متحدہ عرب امارات کے اثاثے ظاہر کیے ہیں۔ ایف بی آر نے پاکستان کے وزارت خارجہ امور سے درخواست کی ہے کہ متبادل طریقہ کار کے طور پر ، اس مسئلے سے متعلق متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ان کی ملاقات کا بندوبست کیا جائے ۔دستاویزات کے مطابق، دفتر خارجہ نے یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کی ایمبسی میں اٹھایا ہے اور متعدد خطوط لکھے ہیں ، تاہم اس پر مزید پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

    ایف بی آر نے عدالت عظمیٰ کو بھی آگاہ کیا ہے کہ ایف بی آر اعداد وشمار کے مطابق، ان 29 افراد میں سے بیشتر انکم ٹیکس ریٹرنز باقاعدگی سے فائل کرتے ہیں۔ تقریباً 27 نے گزشتہ پانچ برسوں کے مکمل ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں ۔دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان 29 افراد نے گزشتہ 10 برسوں میں سے کم سے کم 7 برس تک ٹیکس ریٹرنز فائل کیے ہیں۔ یہ معلومات متعلقہ اداروں کو بھجوائی گئی ہیں ، تاکہ گزشتہ پانچ برسوں میں سے کسی بھی سال کے رہ جانے والے ریٹرنز فائل کرنے کو یقینی بنایا جا سکے اور یہ بھی چیک کیا جا سکے کہ خریدی گئی جائدادوں کو ٹیکس ادا کنندہ نے اپنے سالانہ ریٹرنز میں ظاہر کیا ہے یا نہیں۔ جب کہ 2 غیر رجسٹرڈ شدہ افراد کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ڈبل ٹیکس سے بچنے کے کنونشن پر 1993 میں دستخط کیے تھے۔ اس کنونشن کا آرٹیکل 27 معلومات کے تبادلے سے متعلق ہے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے 2012 میں اس کنونشن کے بہت سے آرٹیکلز میں ترمیم کی درخواست کی تھی ، جس میں آرٹیکل 27 میں ترمیم کی تجویز بھی شامل تھی تاکہ اسے او ای سی ڈی ماڈل 2010 کے مطابق کر دیا جائے۔اس ضمن میں وفاقی کابینہ کی منظوری بھی طلب کی گئی تھی تاکہ کنونشن میں ترمیم سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے اور ضروری منظوری کے بعد یہ معاملہ متحدہ عرب امارات کے حکام تک سفارتی ذرائع سے پہنچایا جا سکے۔

    یہ درخواست بھی کی گئی تھی کہ مذاکرات کے لیے باقاعدہ تاریخ اور جگہ کا بھی تعین کیا جائے ، جس سے پاکستان کو بھی جلد سے جلد آگاہ کیا جائے لیکن متحدہ عرب امارات حکام نے تاحال اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ مذکورہ معاہدے کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت کسی بھی فریق ریاست کو موصول ہونے والی معلومات خفیہ رکھی جائیں گی ، جس کی نوعیت وہی ہو گی جو کہ ریاست کے اندرونی قوانین کے تحت حاصل کردہ معلومات کی ہوتی ہے۔

    تاہم، اگر معلومات فراہم کرنے والی ریاست نے ہی اسے خفیہ کہا ہے تو یہ معلومات صرف ان اداروں کے اہلکاروں کو فراہم کی جائے گی ، جو کہ اس سے متعلق ہوں گے ، ان میں عدالتیں اور انتظامی ادارے شامل ہیں۔ ایسے افراد یا حکام اس معلومات کو صرف مذکورہ مقاصد کے لیے ہی استعمال کر سکیں گے تاہم یہ معلومات عوامی عدالتی کارروائیوں اور عدالتی فیصلوں میں بھی سامنے لائی جا سکتی ہیں۔ اسی طرح، یہ معلومات کسی دوسری ایجنسی یا محکمے یا دیگر کسی مقصد کے لیے جس کا آرٹیکل میں ذکر نہیں ، یہ معلومات فراہم نہیں کی جائیں گی۔

    زاہد گشکوری

    بشکریہ روزنامہ جنگ کراچی


    0 0

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں صحرائے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کے قریب 13 ویں چولستان ڈیزرٹ جیپ ریلی کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

    اس جیپ ریلی میں ملک بھر سے 100 سے زائد جبکہ کینیڈا اور تھائی لینڈ سے تعلق رکھنے والے تین غیرملکی ڈرائیورز بھی حصہ لے رہے ہیں۔

    صوبہ پنجاب کے محکمہ سیاحت کے جانب سے جیپ ریلی کا آغاز سنہ 2005 میں ہوا تھا جس کا مقصد پنجاب میں موٹو سپورٹس کا فروغ ہے۔

    اس جیپ ریلی کا روٹ چولستان صحرا میں تین اضلاع بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان میں تقریبا 450 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

    اس چار روزہ تقریب میں جیپ ریسوں کے علاوہ علاقائی ثقافت اور مقامی فنکاروں کے فن کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے۔



    0 0

    پنجاب کے شہر قصور کی آٹھ سالہ معصوم بچی زینب کے اغواء، اور سفاکانہ قتل کے درندہ صفت مجرم عمران علی کو گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے چار مرتبہ سزائے موت، اکتالیس لاکھ روپے جرمانے اور عمر قید سمیت سخت سزاؤں کا حکم سنا دیا ہے جس پر ملک بھر میں بجا طور پر اظہار اطمینان کیا جا رہا ہے کیونکہ اس نوعیت کے سنگدلانہ جرائم کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات کیساتھ ساتھ عبرت انگیز سزائیں بھی قطعی ناگزیر ہیں۔ تاہم یہ امر بھی نہ صرف حکومتوں بلکہ پوری قوم خصوصاً اہل فکر و دانش کی فوری توجہ کا طالب ہے کہ معاشرے میں جنس زدگی اور اخلاق باختگی کے فروغ کے اسباب کیا ہیں اور ان پر قابو پانے کیلئے کن اقدامات اور تدابیر کے اختیار کیے جانے کی ضرورت ہے.

    کیونکہ قصور کی یہ واردات کوئی منفرد واقعہ نہیں بلکہ جنسی جرائم، جن میں بچوں کیساتھ زیادتی کے واقعات خاص طور پر نمایاں ہیں، ملک بھر میں تیزی سے بڑھ رہے ہیں لیکن ان کی روک تھام کیلئے کسی بھی سطح پر کوئی فکرمندی نظر نہیں آتی۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ زینب کا واقعہ بھی قصور ہی میں اسی سفاک مجرم کا شکار ہونے والی دوسری کم و بیش درجن بھر بچیوں کے مظلومانہ قتل کی طرح پولیس اور انتظامیہ کی لیت و لعل کی نذر ہو جاتا اگر علاقے کے لوگ اس پر غیر معمولی احتجاج نہ کرتے جس میں بتدریج پورا شہر اور پھر پورا ملک شامل ہو گیا۔ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پیش آنے والی اس ہولناک اور الم انگیز واردات نے بلاشبہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ۔

    قصور سے شروع ہونے والی احتجاج کی لہر ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی جس کے نتیجے میں متعلقہ حکام اور اداروں کو بھی مجرم کا سراغ لگانے کیلئے بالآخر اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو حرکت میں لانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے تحقیقات کی براہ راست نگرانی کی اور یوں مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے اور کیفر کردار تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو گئی، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنٹفک بنیادوں پر شواہد کو شامل تفتیش کرتے ہوئے جرم کا تعین کیا گیا اور مجرم کو سزا سنائی گئی۔ لیکن یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ زینب کے قتل کا واقعہ معصوم بچیوں کیساتھ اس نوعیت کی پے در پے وارداتوں کے بعد قصور کے لوگوں کے صبر کے پیمانے کو لبریز کرنے کا سبب بن گیا اورشہر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔ 

    کچرے کے ڈھیر سے گمشدہ زینب کی لاش ملنے کے بعد اہل علاقہ نے مشتعل ہو کر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر پر دھاوا بول دیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں اور پولیس کی فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ چیف جسٹس نے زینب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی تشکیل دی۔ جس کے بعد تفتیش کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھا، انسداد دہشت گردی عدالت نے ماہ رواں کی پندرہ تاریخ کو کیس کی سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا جسے گزشتہ روز سنایا گیا۔ اس تفصیل سے واضح ہے کہ زینب کیس غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جانے کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچا.

    اگر اس کے پیچھے عوام کا یہ احتجاج اور چیف جسٹس کا سوموٹو نہ ہوتا تو غالب امکان اسی بات کا تھا کہ ان گنت معاملات کی طرح یہ کیس بھی سرد خانے کی نذر ہو جاتا یا تفتیش میں ناکامی کے عذر لنگ کیساتھ داخل دفتر کر دیا جاتا جبکہ جن معاشروں میں فی الواقع قانون کی بالادستی ہوتی ہے ان میں کسی بھی جرم کے سامنے آنے پر یکساں سرگرمی سے مجرم کو قانون کی گرفت میں لانے کیلئے پورا نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ لہٰذا سانحہ قصور جیسے ہولناک واقعات کے مستقل سدباب کیلئے ضروری ہے کہ نفاذ قانون کے ذمہ دار اداروں کی اہلیت و استعداد میں قرار واقعی اضافہ کیا جائے اور انہیں کام چوری، رشوت خوری، اقربا پروری اور بددیانتی جیسی لعنتوں سے پاک کیا جائے پھر اس کیساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے درست کردار اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے ذریعے اخلاق باختگی ، جنس زدگی اور بے راہ روی کو بڑھانے والے اسباب کی روک تھام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق پاکیزہ اور تعمیری فکر کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات عمل میں لائے جائیں۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    ٹولو خلکو تہ سلام (آپ سب کو میرا سلام )

    آپ سب کو معلوم ہے کہ ہم پشتونوں کی اردو اتنی اچھی نہیں ہوتی اس لئے میں نے سوچا تھا کہ پشتو میں ہی خط لکھوں گا تاکہ میرے جذبات و احساسات کی صحیح ترجمانی ہو سکے لیکن یہاں کراچی کے ایک ایسے اردو اسپیکنگ دوست مل گئے جنہیں زبان و بیان پر عبور حاصل ہے۔ چونکہ یہ خود بھی رائو انوار کی بدولت یہاں پہنچے ہیں اس لئے جب میں نے چٹھی لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ فوراً میرے خیالات کو صفحہ قرطاس پر منتقل کرنے کو تیار ہو گئے۔ آج پاکستان سے دو خبریں یہاں پہنچیں، ایک خبر سن کر عالم برزخ کے سب مکینوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ ہماری ننھی پری زینب کے درندہ صفت قاتل کو سزائے موت سنا دی گئی ہے اور بہت جلد یہ سفاک مجرم اپنے انجام کو پہنچ جائے گا مگر دوسری خبر جس نے مجھ سمیت یہاں موجود بیشمار لوگوں کو مشتعل کر دیا وہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کے رائو انوار سے متعلق تعریفی و توصیفی کلمات ہیں۔

    آصف زرداری کا کردار تو پہلے بھی مشکوک تھا اور بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ رائو انوار کے رسہ گیر دراصل آصف زرداری ہیں لیکن میری رائے یہ تھی کہ ایسے کرائے کے قاتل سب کو دستیاب ہوتے ہیں اور عین ممکن ہے اس نے آصف زرداری کے کہنے پر بھی ماورائے عدالت قتل کئے ہوں مگر رائو انوار کو دیگر طبقات کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔ یہ ان کا لے پالک اور منہ بولا بیٹا ہے جو سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کا ٹرائل نہیں ہونے دیتے۔ لیکن آصف زرداری نے اس بزدل ترین شخص کو ’’بہادر بچہ ‘‘ کہہ کر یہ راز کھول دیا ہے کہ قانون کی وردی میں قانون کی دھجیاں اڑانے والا یہ جلاد صفت شخص ان کا بغل بچہ ہے۔

    میں تو آصف زرداری صاحب سے بس اتنا کچھ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے بیان پر جتنا مرضی افسوس کا اظہار کر لیں لیکن سچ وہی ہے جو آپ کے منہ سے نکل گیا بس اتنا جان لیں کہ یہ ’’بہادربچے ‘‘ من کے سچے نہیں کھوٹے ہوتے ہیں. اور کسی سے وفا نہیں کرتے۔ یہ پیشہ ور قاتل کسی کو معاف نہیں کرتے۔ شاید آپ کو یاد نہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے بھی طالبان کو اپنے بچے کہا تھا اور انہی طالبان نے بینظیر کو مار ڈالا۔ ویسے برا نہ مانیں تو یہ بتا دیں رائو انوار ہو یا پھر پرویز مشرف، یہ سب ’’بہادر بچے ‘‘ قانون کا سامنا کرنے سے کیوں ڈرتے ہیں ؟

    مجھے معلوم ہے کہ آپ سب میری داستان حسرت سننا چاہتے ہیں، میں بھی آج اپنا دل چیر کر آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اتنا تو آپ سب جانتے ہیں کہ مجھے ماڈلنگ کا شوق تھا اور یہی شوق مجھے کراچی لے آیا ۔ ہمارے علاقے کو قبائلی علاقہ کہا جاتا ہے جسے آپ لوگ علاقہ غیر بھی کہتے ہیں کیونکہ یہاں پاکستان کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ میرا بھی یہی خیال تھا کہ اب میں ایک ایسے شہر میں ہوں جہاں قانون کی حکمرانی ہے۔ لیکن اب بعد از مرگ سوچتا ہوں کہ اصل علاقہ غیر تو آپ لوگوں کے یہ شہر ہیں جہاں وردی والے جب جسے چاہیں دہشتگرد قرار دیکر مار ڈالیں تو نہ صرف یہ کہ ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوتی بلکہ جمہوریت کے علمبردار انہیں ’’بہادر بچے ‘‘ کا خطاب بھی دیتے ہیں۔ چونکہ میرے خیالات منتشر ہیں اس لئے بار بار موضوع سے بھٹک جاتا ہوں ۔

    میں ماڈل بننا چاہتا تھا تاکہ شہرت حاصل کرنے کے بعد پشتونوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کہہ سکوں کہ ’’مائی نیم اِز خان اینڈ آئی ایم ناٹ ٹیررسٹ ‘‘۔ جب ماڈلنگ کا موقع نہ ملا تو میں نے سوچا فی الحال حصول رزق کے لئے کپڑے کی دکان بنا لیتا ہوں۔ کراچی کے باقی علاقے تو ہم پشتونوں کے لئے ویسے ہی علاقہ غیر ہیں تو سہراب گوٹھ میں دکان خریدنے کا فیصلہ کیا ۔ اسی اثنا میں 3 جنوری کا دن آگیا جب کالی وردی والے اغوا کارمجھے کوئی وجہ بتائے بغیر اٹھا کر لے گئے پورے پاکستان میں شاید کہیں بھی کسی پشتون کو گرفتار کرنے کے لئے کوئی وجہ درکار نہیں ہوتی بس پشتون ہونا ہی شک کے دائرے میں کھڑا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس کے بعد جو ہوا، وہ شاید آپ تو جی کڑا کر کے سن لیں مگر میں یہ دردناک داستان سناتے ہوئے ایک بار پھر مر جائوں گا ۔

    آج میں اپنی ماں سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جس ماں نے مجھے پیدا کیا ، اس کی گود میں سر رکھ کر تو میں نے کئی بار باتیں کیں مگر آج میں اپنی دھرتی ماں سے مخاطب ہوں۔ بچپن سے ہی ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ماں صرف جنم دینے والی نہیں ہوتی بلکہ مادرِ وطن بھی ماں ہوتی ہے جو اپنے شہریوں کو آغوش میں لئے رکھتی ہے اور ان پر آنچ نہیں آنے دیتی۔ لیکن تکلف برطرف، ہمیں تو اس ماں نے آج تک کبھی سینے سے نہیں لگایا ۔ اگر یہ ریاست ہم سب کی حقیقی ماں ہوتی تو اس کے پیار میں کوئی تفاوت یا تفریق نہ ہوتی ۔ لیکن یوں لگتا ہے جیسے کچھ بچے اس ماں کو محبوب و مرغوب ہیں تو بعض بچے معتوب و مصلوب بلکہ نامطلوب ہیں۔

    پشتونوں کا شمار بھی اس ماں نے ہمیشہ ان چاہے اور بن مانگے بچوں میں کیا یا کم از کم ان سے روا رکھے گئے سلوک سے یوں لگا جیسے یہ سوتیلے بچے ہیں۔ میرے اردو اسپیکنگ دوست جو یہ خط لکھ رہے ہیں ان کا بھی یہی شکوہ ہے کہ ریاست بچوں کو امتیازی سلوک کے نتیجے میں ناخلف اور گستاخ بناتی ہے اور پھر ڈائن کی طرح کھا جاتی ہے تو اسے پیار کرنے والی ماں کا رتبہ کیسے دیا جائے ؟ بلوچ بھی اپنی دھرتی ماں سے یہی گلہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنے حصے کا پیار نہیں ملا۔ یہی رائو انوار جسے آصف زرداری بہادر بچہ قرار دے رہے ہیں اس نے سینکڑوں مہاجر اور پشتون نوجوانوں کا جعلی پولیس مقابلوں میں قتل کیا ہے کیا وہ کرائے کا قاتل بہادر ہوتا ہے جو بے گناہ لوگوں کے ہاتھ اور پائوں باندھ کر گولیاں مارے؟ 

    عین ممکن ہے جن لوگوں کو پولیس مقابلوں میں مارا جاتا ہے ان میں سے بعض واقعی جرائم پیشہ ہوں لیکن کسی پر مقدمہ چلائے بغیر اسے قتل کرنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ میں آج کسی شخص یا ادارے سے مخاطب نہیں بلکہ اپنی ماں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کیسا مذاق ہے کہ بھوسے کے ڈھیر سے سوئی ڈھونڈ نکالنے کی شہرت رکھنے والے ایک مفرور کا سراغ لگانے سے قاصر ہیں یہ کیسا انصاف ہے کہ انوکھے لاڈلے کو محض ایک گمنام خط پر حفاظتی ضمانت دیدی جاتی ہے اور وہ پھر بھی سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوتا ؟ کیا ریاست اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کے لاڈلے بچے جو چاہیں کرتے پھریں ،کوئی قانون ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا ؟ کیا یہ بتانا مقصود ہے کہ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جو محض سوتیلے بچوں کو پھانسنے کے لئے بُنا جاتا ہے؟ بچوں کو احساس محرومی کے تیزاب اور سوتیلے پن کے عذاب سے بچانا ہے تو پھر ریاست کو عملاً یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ رائو انوار جیسے ظالموں کی ماں ہے یا پھر نقیب اللہ جیسے مظلوموں کی ماں ہے ؟ پشتونوں سمیت تمام مجبور و مقہور بچوں کو یہ بتانا ہو گا کہ یہ ریاست مادرِ علاتی (سوتیلی ماں ) ہے یا پھر مادرِ گیتی (دھرتی ماں )؟

    انہی الفاظ کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں ۔

    آپ کا اپنا ویر(پنجابی میں آپ لوگ بھائی کو ویر کہتے ہیں اور مجھے بھی میرے دوست ویر کے نام سے جانتے ہیں )

    نسیم اللہ محسود المعروف نقیب اللہ محسود

    بلال غوری


    0 0

    Turkish NGOs provided 225 children in Pakistan with education aid, supplying them with stationary and school bags.









older | 1 | .... | 119 | 120 | (Page 121) | 122 | 123 | .... | 149 | newer