Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 91 | 92 | (Page 93) | 94 | 95 | .... | 149 | newer

    0 0

    2016ء عرب دنیا کے لیے ایک خونیں سال رہا ہے۔ عرب دنیا کے بیشتر حصوں پر جنگوں ،خانہ جنگیوں ،اقتصادی ابتری اور ناامیدی کے طویل اور گہرے سائے چھائے رہے ہیں۔ عرب بہار سے مطلق العنان حکمرانوں کے جبر واستبداد کی راہ ہموار ہوئی اور اس نے عرب جہاز کو ایک ایسے طوفان کے بھنور میں پھنسا دیا ہے کہ اگر اس کو فوری طور پر نہ نکالا گیا تو اس سے ہمارے مزید انتشار اور توڑ پھوڑ کی راہ ہموار ہو گی کہ جس کا ازالہ بھی نہیں ہو سکے گا۔ برسوں سماجی ترقی کے عمل کو نظرانداز کرنے ،آمریت ، فوجی حکمرانی اور مہم جوئی وغیرہ سب نے ہمیں اس جہنم زار میں لا کھڑا کیا ہے۔

    بہت سے عرب ممالک اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ یہ جنگ غیرملکی قوتوں کے خلاف نہیں بلکہ ان عفریتوں کے خلاف لڑرہے ہیں جو عدم تفہیم اور اپنے ہی عوام کی خواہشات کو دبانے والے مطلق العنان حکمرانی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ مقبوضہ فلسطین میں جبرو استبداد اور سنگ دل صہیونی حکومت نے سیکڑوں بے گناہ بچوں اور خواتین کو قتل کر دیا ہے لیکن اس کو دنیا نے نظر انداز کر دیا اور وہ امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹس کے ساتھ الجھی رہی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو غائب ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم عرب از خود اس صورت حال سے نکل سکتے ہیں اور 2017ء میں صورت حال کی تبدیلی کے لیے ایک قابل عمل خاکا وضع کر سکتے ہیں۔
    اور یہ خاکا کیسا ہونا چاہیے؟ اس میں پہلے نمبر پر پائیدار اقتصادی ترقی ہے اور یہ تنازعے کی عدم موجودگی سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں ایک فعال معاشرہ ، ترقی کرتی معیشت اور ترقی پسند قوم کی تشکیل کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اتفاق رائے ہونا چاہیے اور درپیش بڑے خطروں پر نظر ہونی چاہیے۔ عرب لیگ کی تشکیل نو ہونی چاہیے۔ اس کو نیا مشن بیان وضع کرنے کے لیے با اختیار بنایا جانا چاہیے اور سربراہ اجلاسوں اور کانفرنسوں پر کوئی وقت ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس وقت حقیقی چیلنج یہ ہے کہ ہمیں جو بڑے مسائل درپیش ہیں ،ان پر توجہ مرکوز کی جائے۔ یہ سوچنا بالکل غیر حقیقت پسندانہ ہوگا کہ یہ کوئی آسان کام ہے۔

    عرب ریاستوں کو ایک جدید معاشرے کے طور پر آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ اقدار تلاش کرنی چاہییں۔ تبدیلی کے بغیر ترقی ناممکن ہے اور عرب لیڈروں کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لوگ اپنے ذہن تبدیل نہیں کریں گے، وہ کچھ بھی تبدیل نہیں کرسکتے ہیں۔ انھیں معاشرے کے تمام طبقات اور تمام متعلقہ فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا اور ان سب کو قومی تعمیر نو کے عمل میں اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا چاہیے اور بنیادی ایشوز سے متعلق ایک بین الاقوامی تفہیم پیدا کرنی چاہیے۔ یہی بات ہماری بقا کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

    ہمارے پاس ایسے لاکھوں نوجوان ہیں جو دہشت گردوں اور پسماندگی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ انھیں اپنی توانائیوں کو بروئے کار لانے کے لیے رہ نمائی اور کوشش کی ضرورت ہے۔ وہ افسر شاہی کے موجودہ مزاج کے ساتھ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ انھیں ہماری زندگیوں کو کنٹرول کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟
    نئی نسل کو ہمیشہ درمیانے درجے کی ذہنیت کے حامل لوگوں کی جانب سے متشدد مزاحمت کا سامنا رہا ہے جو لوگ اقتدار میں ہیں، انھیں نئی نسل کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ہمیں اس نسل پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی اور انھیں اظہار رائے کی آزادی اور اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھنے کا حق دینا ہو گا۔ انھیں نظرانداز کرنا ہمارے لیے بہت خطرناک ثابت ہوگا۔ اگر وہ انتہا پسند گروپوں کے ہتھے چڑھ گئے تو اس کا یہ مطلب یہ ہوگا کہ 2017ء بھی گذرے سال سے کوئی مختلف نہیں ہوگا۔

    حرف آخر یہ کہ ہمیں ایک تعلیمی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہو گی، مختلف نقطہ نظر اور رواداری کو قبول کرنا ہو گا تا کہ ہم بیشتر عرب معاشروں میں موجود عدم رواداری اور تعصبات کو چیلنج کرسکیں۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ نظریات سے تحریک پانے والے لوگوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ ان سمتوں کی جانب بھی رُخ موڑ سکتا ہے جو ایک جدید اور ترقی کرتی ریاست کے لیے شاید ناقابل قبول ہو کیونکہ اس ریاست میں درحقیقت تمام لوگوں کے لیے اظہار رائے کی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے۔

    خالد المعینا


    0 0

    انڈیا میں بی ایس ایف یعنی بارڈر سکیورٹی فورسز کے ایک جوان نے اپنی خوراک کے معیار سے متعلق اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر نشر کرکے جو تہلکہ مچایا اس نے نہ صرف بی ایس ایف اور بھارتی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ ٹویٹر پر سامنے آنے والا ردعمل بھی دلچسپ ہے۔ سپاہی تیج بہادر یادو نے اپنے ویڈیو کلپ میں سینیئر فوجی حکام پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ ٹویٹر پر 'ہیش ٹیگ بی ایس ایف سولجرز فیسِنگ فوڈ کرائسِس'کے عنوان سے اس پر نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان سے بھی بہت سی ٹویٹس ہو رہی ہیں۔

    تیج بہادر یادو کی ویڈیو کے بعد بی ایس ایف کو اپنے دفاع میں بیان دینا پڑا۔
    انڈین نیوز چینل 'زی نیوز'نے بی ایس ایف حکام کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'سپاہی تیج بہادر شرابی ہیں۔ ان کا ماضی مشکلات میں گزرا ہے۔'
    اس پر انڈین صحافی ہریندر بویجا نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ 'اگر بی ایس ایف کے جوان کا ڈسپلین خراب تھا اور وہ مدہوش تھا تو اس کے خلاف اس وقت ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ اب کیوں، جبکہ اس نے ویڈیو پوسٹ کی؟'
    اپنے پیغام میں تیج بہادر نے الزام لگایا تھا کہ جوانوں کے لیے سامان کی کمی نہیں ہے لیکن ان کے حصے کا راشن فوجی افسر بازار میں فروخت کر رہے ہیں اور انھیں مناسب کھانا تک نہیں ملتا ہے۔ روہِت کمار گپتا، سوشل میڈیا ایکٹیوِسٹ ہیں۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'یہ ایک شرمناک واقعہ ہے۔ سچ بولنے پر انھیں سزا نہیں ملنی چاہیے۔ آئیں ان کی حمایت کریں۔'

    اس خبر اور اس پر ظاہر کیے جانے والے ردعمل کو بڑے ذرائع ابلاغ نے بھی آج اپنا موضوع بنایا ہے۔

    'جنتا کا رپورٹر'نامی انڈین نیوز ویب سائٹ نے ٹویٹ کیا ہے کہ سپاہی کی حالتِ زار پر شرمناک بیان کے بعد بی ایس ایف کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 

    پاکستانیوں نے اس خبر پر اپنے زاویہ نظر سے ٹویٹس کی ہیں۔ مثلاً بلاگر احمد علی نے تبصرہ کیا ہے: 'انڈین حکومت اپنے فوجیوں تک کو تو کِھلا نہیں سکتی اور دعوٰی کرتی ہے پاکستان کے خلاف سرجیکل سٹرائک کا۔'

    فوٹوگرافر ارم احمد خان نے اپنی ٹویٹ میں بھارتی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ 'پاکستان کے اندر جعلی سرجیکل سٹرائیکس کی منصوبہ بندی کی بجائے اپنی بھوکی فوج کا پیٹ بھرو۔'

    پاکستانی کالم نگار شاہزیب خان نے ٹویٹ کیا 'بی ایس ایف کے سپاہی یادو نے انڈین آرمی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور سپاہیوں کے لیے خوراک کی کمی کو طشت از بام کر دیا ہے۔'

    انڈیا میں شوبز کی معروف شخصیت نوید جعفری نے اپنے ٹیوٹیر اکاؤنٹ پر حکام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: 'حکامِ اعلی کچھ شرم کرو! وہ لوگ ہماری حفاظت پر مامور ہیں۔ ہم اپنے جوانوں کو سلام کرتے ہیں۔'

    سوشل میڈیا پر کئی کامنٹس میں طنزاً کہا جا رہا ہے 'تو اب وزرا کو بولنے پر مجبور کرنے کے لیے ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا پڑیں گی۔'

    ماضی میں بھی عام شہریوں کی ایسی کئی پوسٹس کی کئی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے اپنے تخلیق کاروں کو شہرت اور مقبولیت سے ہمکنار کیا ہے۔ اب ان میں سپاہی تیج بہادر یادو کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔


    0 0

    کسی بھی ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز اداروں کو اس ملک کی صحیح آبادی کا علم ہو۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ریاست کے متعلقہ ادارے اس بات کے آئینی طور پر پابند ہیں کہ ہر دس سال میں ایک بارملک بھر میں مردم شماری کرائیں۔ ملک میں شرح تعلیم ، بیروزگاری کی شرح، مردوں، خواتین اور بچوں کی تعداد کتنی ہے، یہ سب مردم شماری سے ہی معلوم ہوتا ہے۔ آبادی کی بنیاد پر ہی ملک کے اندر صوبوں اور وفاق کا بجٹ تیار کیا جاتا ہے۔ صحیح معنوں میں آبادی معلوم ہونے کے بعد اداروں کی تشکیل اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں ہر اس عمل کے خلاف سیاسی جماعتیں صف آرا ہوتی ہیں جس سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہو۔ اپنے چھوٹے چھوٹے گروہی، سیاسی اور ذاتی مفاد کی خاطر یہ سیاسی جماعتیں ہمیشہ احتجاج اور بائیکاٹ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتیں۔

    دوسری جانب یہی جماعتیں اس بات پراحتجاج نہیں کرتیں کہ گزشتہ 19 سال سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ کیوں کہ ان سیاسی شعبدہ بازوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں صحیح مردم شماری سے ان حلقوں میں تبدیلی ممکن ہے اور ان کا سیاسی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ الیکشن ہوں یا مردم شماری ہر اس عمل کے خلاف ان سیاست دانوں نے ہمیشہ تنازع ضرور کھڑا کیا۔ وطنِ عزیز کو ستر سال ہوئے مگراب تک صرف پانچ بار مردم شماری ہوئی ہے۔ وہ بھی بروقت نہیں۔ ملک میں پہلی بار مردم شماری 1951، دوسری دس سال بعد یعنی 1961 جب کہ 1971 میں ملک میں ایک جنگ دشمن کے خلاف لڑی جا رہی تھی، جس کے باعث مردم شماری 1972 میں ممکن ہو ئی۔ چوتھی مردم شماری سنہ 1991 اور آخری بار ملک میں مردم شماری 1998 میں کرائی گئی۔

    غلام یاسین بزنجو




    0 0

    عالمی ادارہء صحت نے اپنی تازہ مطالعاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ تمباکو نوشی عالمی اقتصادیات پر سالانہ ایک کھرب ڈالر سے زائد کے بوجھ کا باعث بن رہی ہے اور اس سے ہونے والی بیماروں سے اموات کی شرح میں 2030ء تک ایک تہائی اضافہ ہو جائے گا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر سال 2013، 2014 میں تمباکو پر عائد ٹیکسز کی مد میں 296 ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے لیکن اس کے منفی اثرات کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’تمباکو سے ہونے والی بیماریوں سے اموات 60 لاکھ سالانہ سے 2030ء تک 80 لاکھ سالانہ ہونے کا اندازہ ہے اور ان میں سے 80 فیصد کا تعلق کم اور متوسط آمدن والے ممالک سے ہے‘‘مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی عالمی سطح پر قابل علاج بیماریوں سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اس مطالعے میں 70 سے زائد سائنسی ماہرین سے بھی مشورہ کیا گیا اور اس کے مندرجات کا ان سے تبادلہ کیا گیا۔ اس میں مزید بتایا گیا کہ’’ہر سال تمباکو نوشی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے علاج پر تقریباً ایک کھرب ڈالر کے اخراجات آتے ہیں‘‘ رپورٹ میں ان اخراجات کے بڑھنے کی توقع ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ گو کہ حکومتوں کے پاس تمباکو نوشی اور اس سے ہونے والی اموات میں کمی کے لیے ذرائع موجود ہیں لیکن ان میں سے بہت ہی کم پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔

    ’’حکومتوں کو خدشہ ہے کہ تمباکو نوشی کو ضابطے میں لانے سے اقتصادیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے لیکن یہ وضاحت کسی طور بھی درست نہیں۔ سائنس بالکل واضح ہے، یہ عمل کرنے کا وقت ہے‘‘تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے اس صنعت پر بھاری ٹیکسز اور اس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اس کی ممانعت سے متعلق مہم چلانے پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تمباکو پر عائد ٹیکسز سے حاصل ہونے والی رقم کو انسداد تمباکو نوشی کی بھرپور مہم پر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ طبی سہولتوں میں تعاون کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ڈبلیو ایچ اور کے اندازوں کے مطابق سال 2013، 2014 میں حکومتوں نے انسداد تمباکو نوشی پر ایک ارب ڈالر رقم خرچ کی -  


    0 0

    امریکا میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کی جو ایک آسان راہ
    دکھائی دے رہی ہے اس کی مدت نہایت کم بچی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ایوان بالا میں روایتی خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی محض ایک ’خط‘ کی محتاج ہے جو صدر مملکت یا وزیراعظم پاکستان کی جانب سے امریکی حکومت کو لکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ مارچ 2016 میں عافیہ کے امریکی اٹارنی اسٹیفن ڈاؤنز سے امریکی انتظامیہ نے رابطہ کرکے کہا تھا کہ صدر بارک اوباما اپنی دوسری صدارتی مدت مکمل کرنے سے قبل قیدیوں کی سزائیں معاف کرکے رہائی دیں گے لیکن چونکہ ڈاکٹر عافیہ پاکستان شہری ہیں اس لیے ان کی رہائی کے لیے صدر مملکت یا وزیراعظم پاکستان کا ایک خط لازمی طور پر درکار ہوگا۔
    چونکہ بارک اوباما کی صدارتی مدت 20 جنوری 2017 کو مکمل ہورہی ہے اس لیے صائب ہوگا کہ حکومت پاکستان اس معاملے کو نمٹاتے ہوئے ایک خط لکھنے کی ’زحمت‘ گوارا کر ہی لے تاکہ قوم کی بیٹی کو وطن واپس لایا جاسکے۔ عافیہ وہ مظلوم پاکستانی شہری ہے جسے اس کے تین معصوم بچوں سمیت کراچی سے اغوا کرکے امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا، عافیہ صدیقی کو ایک امریکی عدالت نے 86 برس کی سزا سنائی، دوران اسیری ان سے متعلق افسوسناک خبریں میڈیا کی زینت بنیں، بعض ماہرین قانون نے اسے انصاف کا قتل قرار دیا تھا۔ عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ پر صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ کئی امریکی اور یورپی صحافیوں نے بھی خامہ فرسائی کی ہے جس میں برطانوی نومسلم صحافی اور مصنف ایوان رڈلی نے غیر معمولی تجزیاتی رپورٹس لکھیں۔ ایوان رڈلی کا کہنا ہے کہ عافیہ کیس میں امریکا سے زیادہ پاکستان کا کردار اہم ہے۔

    ان کی تحقیقات کے مطابق بھی امریکی عافیہ کو پاکستان کی تحویل میں دینے پر راضی ہیں۔ عافیہ کی بے گناہی اور معصومیت کی ساری دنیا قائل ہو چکی ہے اور اب جب کہ امریکی انتظامیہ نے عافیہ کی رہائی کے لیے خود رابطہ کیا ہے بلکہ خط تحریر کرنے کی رہنمائی بھی دی ہے تو حکمرانوں کو وقت ضایع نہیں کرنا چاہیے۔ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بھی عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی سے 2013 میں برسر اقتدار آنے کے فوراً بعد عافیہ کو 100 دن میں وطن واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدے کے ایفا کا وقت آچکا ہے۔ حکمرانوں کے ایک خط سے قوم کی معصوم بیٹی کی 14 سالہ اذیت ناک قید کا خاتمہ اور جلد وطن واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔

    اداریہ ایکسپریس نیوز


    0 0
  • 01/16/17--00:29: Hanna lake frozen in Quetta
  • People visit the Hanna Lake after a snowfall on the outskirts of Quetta, Pakistan.


    0 0

     کوئٹہ میں گزشتہ شب شروع ہونے والی برف باری کا سلسلہ رات تک جاری رہا ، برف باری کے بعد قندھاری ہواؤں نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا جس سے کوئٹہ کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے نیچے گر گیا. 










    0 0

    وطن ِعزیز (پاکستان) خوبصورت اور عجب مقامات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے شمالی علاقے اور کشمیر شاندار سیاحتی مقامات میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ ملک کا یہ حصہ (کشمیر) اپنے آسمانوں کو چھوتے پہاڑوں، دلکش اور سرسبز دیہاتوں، خوبصورت جھیلوں اور حیران کن حیوانی زندگی کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔ ملک کے اس حصہ کے مرکزی سیاحتی مقامات میں نیلام، سوات اور ہنزہ شامل ہیں۔ یہ تمام مقامات دنیا کی حقیقی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان میں سیرو تفریح کے لیے با کمال آثارِ قدیمہ بھی موجود ہیں، جس وجہ سے ہر سال بڑی تعداد میں سیاح،اس دیس کا رُخ کرتے ہیں۔ دنیا کے 7 عجوبوں میں تاج محل، دیوارِ چین، پیسا ٹاور، پیٹرا، کولوسییم، چیچن عتزا اور ماچو پیچو شامل ہیں جبکہ پاکستان کی شاہراہ قراقرام کو دنیا کا آٹھواں عجوبہ سمجھا جاتا ہے۔
    شاہراہ قراقرم
    پاکستان کے عجوبوں کی بات کی جائے، تو ان سب میں سرفہرست اور دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم ہے۔ یہ ہائی وے N-35 اور نیشنل ہائی وے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ زمین سے 15,397 فٹ کی بلندی پر واقع قراقرم ہائی وے پاکستان اور چائنا کی گہری دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1300 کلومیٹر طویل یہ ہائی وے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع حسن ابدال سے شروع ہو کر گلگت بلتستان، خنجراب پاس پر ختم ہوتا ہے۔ پاکستان چائنا بارڈر کے اُس پار چائنا کا نیشنل ہائی وے 314 شروع ہو جاتا ہے۔ شاہراہ قراقرام کے خوبصورت اور دلکش مناظر دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ شاہراہ قراقرم کو دنیا کے سب سے اونچے اور پکے ہائی وے ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ قراقرم ہائی وے کی اس قدر بلندی کی وجہ سے اسے کئی قسم کے موسمی حالات سے بھی نپٹنا پڑتا ہے، اسی لیے اس کی مرمت وقفے وقفے سے جاری رہتی ہے۔ قراقرم ہائی وے پر دوران ِسفر کئی خوبصورت پہاڑ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں، جن میں نانگا پربت ، راکا پوشی اور دیران سرفہرست ہیں۔ مشہور برطانوی اخبار دی گارڈینز کے مطابق سیاحوں متوجہ کرنے کے حوالے سے شاہراہ قراقرم پاکستان میں تیسرے نمبر پر آتی ہے۔ اس شاہراہ کے ساتھ کئی غمناک یادیں بھی وابستہ ہیں، جیسا کہ دورانِ تعمیر قریباً 500 پاکستانی اور چائنیز مزدوروں کی موت واقع ہوئی، اسی وجہ سے اسے دنیائے تاریخ کا سب سے غیر یقینی اور خوفناک انجینئرنگ منصوبہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس ہائی وے کی تعمیر 1978ء سے شروع ہو کر 1982ء کو اختتام پذیر ہوئی ، تاہم بین الاقوامی سیاحوں کے لیے اسے 1986ء میں کھولا گیا۔ 
    موہنجو داڑو موہنجو داڑو جس کے اُردو میں معانی ’’ مردہ لوگوں کا ٹیلا‘‘ کے ہیں، پاکستان کے صوبہ سندھ میں آثار قدیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ آج بھی اس کے اصل نام کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ماہرین کی بڑی تعداد ’’کوکو ترما‘‘ یعنی مرغے کی لڑائی پر اتفاق کرتی ہے۔ ایک اندازے اور تاریخی شواہد کے مطابق موہنجوداڑو کی تعمیر 2500BCE یعنی آج سے 4500 سال قبل مکمل ہوئی۔ موہنجوداڑو وادیٔ سند ھ کی قدیم تہذیب اور ماضی میں یہاں کے لوگوں کے عروج و زوال کی بھرپور نشاندہی کرتا ہے اوراس کا شمار دنیا کے قدیم ترین گنجان آباد اور ماضی کے ترقی یافتہ علاقوں میں کیا جاتا ہے، جہاں پورے برصغیر سے لوگ جوق در جوق تجارت کے سلسلے میں آیا کرتے تھے۔ 19ویں صدی میں موہنجوداڑو کی تباہی اور زوال کے بعد بڑی تعداد میں لوگ یہاں سے ہجرت کر گئے۔ اس کے بعد 1920ء تک اسے دوبارہ دریافت نہ کیا گیا۔ بعدازاں 1980ء میں اسے بین الاقوامی ادارے ’’UNESCO ورلڈ ہیری ٹیج سائٹ‘‘ یعنی دنیا کے قدیم ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا گیا، تاہم آج یہ قدیم ثقافتی ورثہ غیرمناسب دیکھ بھال اور موسمی تبدیلی کی وجہ سے بد حالی سے دوچار ہے۔ اس سب کے باوجود بھی ہر سال بڑی تعداد میں بین الاقوامی سیاح اس قدیم تہذیب کو دیکھنے کی غرض سے پاکستان کا رُخ کرتے ہیں۔

    بلتت فورٹ
    بلتت فورٹ کا شمار بھی پاکستان کی خوبصورت اور پرُاسرار جگہوں میں ہوتا ہے۔ بلتت فورٹ گلگت بلتستان کے ایک گاؤں ہنزہ میں واقع عجیب و غریب مقام ہے۔ بلتت فورٹ کی تاریخ 700 سال پرانی ہے اور اس طویل عرصہ میں کئی بار اسے مختلف حکومتوں کے ادوار میں مرمت و تعمیر کیا جاتا رہا ہے۔ 16 ویں صدی میں ایک مقامی راجہ نے بلتستان کی رانی سے شادی رچائی، تو ماسٹر بلتی (ماضی میں بلتستان کے مشہورمعمار) کے کاریگروں کو خرید لیا اور بلتت فورٹ کی تجدید اور توسیع میں لگا دیا۔ بلتت فورٹ دراصل بلتستان کی رانی کی جاگیر تھی، جو شادی کے بعد راجہ کی ہو گئی۔ ایک لمبے عرصے بعد 1945ء میں یہا ں کے مقامی لوگوں نے شدید سردی اورضروریاتِ زندگی کے وسائل کی کمی کی وجہ سے اس جگہ کو چھوڑ کر نچلی پہاڑیوں میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد لندن کی رائل جیوگرافیکل سوسائٹی نے یہاں کا معائنہ کیا اور اس جگہ کو ایک میوزیم میں بدل دیا اور اس میں کئی متعلقہ چیزیں بھی رکھیں،جن میں تصاویر، پرانے برتن ،اوزار اور ہتھیاروغیرہ شامل ہیں۔ بلتت فورٹ اور اس مقام سے دکھنے والے خوبصورت مناظر کی نظیر دنیا بھر میں کہی نہیں ملتی۔ 
    جھیل سیف الملوک
    سیف الملوک بڑے بڑے دیو قامت پہاڑوں میں گھری ایک خوبصورت اور دلکش جھیل ہے۔ یہ جھیل پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شمالی آخر کاغان میں واقع ہے۔ یہ جھیل سمندری سطح سے قریباً 10578 فٹ اُونچائی پر ہے۔ سیف الملوک کا شمار پاکستان کی سب سے اونچی جھیلوں میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے خوبصورت مناظر اور سال بھر رہنے والے پر لطف موسم سے محظوظ ہونے، ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں لوگ اُمنڈ آتے ہیں۔ اس شاندار جھیل کے قریب ہی کاغان کی سب سے اونچی چوٹی ’’ملکہ پربت‘‘ بھی واقع ہے۔ آج سے قریباً 3 لاکھ سال پہلے یہ جھیل سرد تر موسم کی وجہ سے منجمد رہی ۔ بعدازاں بدلتے موسموں نے کاغان کی برفانی پہاڑیوں کو براہِ راست متاثر کیا اور آخر یہ برف پگھل کر اس جھیل کی صورت میں اُبھر آئی۔ سیف الملوک کی خوبصورتی اور دلکشی کے پیشِ نظر ماضی کے کئی شعرا اور اُدبا اس کی تعریفوں کے پُل باندھ چکے، جن میں مشہورِ زمانہ صوفی شاعر میاں محمد بخش بھی شامل ہیں۔ میاں محمد بخش اس جھیل کے بارے لکھتے ہیں کہ فارس کا ایک مشہور راجا شہزادہ سیف الملوک، اسی جھیل کے کنارے پری نما شہزادی بدری جمالہ کے پیار میں گرفتار ہو گیا تھا اور تب سے آج تک یہ جھیل ’’سیف الملوک‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ 

    دانش احمد


    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ اشرفیہ ( لاہور) کے شیخ الحدیث اور عالم اسلام کی عظیم علمی و اصلاحی شخصیت حضرت مولانا عبد الرحمن اشرفیؒ کا تعلق ان علمائے حق سے ہے، جو کہ تمام زندگی قال اللہ و قال الرسولؐ کی صدا بلند کرتے اور لاکھوں لوگوں کو شرک و بدعت اورگمراہی کے گڑھوں سے نکال کر ان کے دلوں میں توحید الہٰی اور عشق نبی ؐکی شمعیں روشن کر کے ان کے ایمان کی حفاظت اور جنت کی طرف راہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ آپ کی خوبصورت ، باوقار اور ایمان پرور شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ آپ ایک کامیاب مدرس، زبردست خطیب و ذہانت و ظرافت ، حاضر جوابی اور نفاست طبع کے حسین مرقع اور پوری دنیا میں جامعہ اشرفیہ کی پہچان ، تعارف اور ’ٹائٹل‘ تھے۔

    آپ نے کم و بیش پچاس سال تک جامعہ اشرفیہ میں درس و تدریس اور خطابت کے فرائض انجام دیئے۔ آپ تمام مسالک کے ہاں انتہائی قابل احترام تھے، جس کی وجہ سے دیگر مسالک کے لوگ بھی محبت و عقیدت کے ساتھ آپ کے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں آتے۔ آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن، جامعہ اشرفیہ کے بانی اور حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفہ مجاز تھے اور انہی کے نام کی نسبت سے لاہور میں جامعہ اشرفیہ کے نام سے معروف دینی ادارہ قائم کیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے حکم پر آپ کے والد حضرت مولانا مفتی محمد حسن نے علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مفتی حضرت مولانا محمد شفیع اور دیگر علماء دیوبند کے ہمراہ مسلم لیگ کا ساتھ دیتے ہوئے تحریک پاکستان میں بھر پور حصہ لیا، جس کے نتیجہ میں پاکستان بننے کے بعد مشرقی و مغربی پاکستان پر آزادی کا پرچم لہرانے کی سعادت ’’بزم اشرف‘‘ کے روشن چراغ اور دار العلوم دیوبند کے قابل فخر سپوت علامہ شبیر احمد عثمانی اور مولانا ظفر احمد عثمانی کو حاصل ہوئی۔ 
    مولانا عبدالرحمن اشرفی بھی حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی شخصیت اور تصنیفات سے بڑے متاثر تھے ۔ فرقہ واریت کے خاتمہ اور اتحاد بین المسلمین کے فروغ کیلئے مولانا اشرف علی تھانوی کے اس زریں اصول کہ اپنے مسلک کو چھوڑو نہیں اور کسی کے مسلک کو چھیڑو نہیں کو متعارف کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور یہ اصول آج پاکستان کی قومی و صوبائی اور دیگر امن کمیٹیوں کا ضابطہ اخلاق بن چکا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا عبد الرحمن اشرفی کو بے پناہ محبوبیت و مقبولیت سے نواز ا، جس مجلس میں ہوتے میر محفل اور مرکز نگاہ بن جاتے جوبھی آپ سے ملتا، آپ کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے متأثر ہو کر آپ ہی کا ہو کر رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوت استدلال ، الفاظ پر گرفت، غضب کا حافظہ اور ذہانت کی دولت سے نوازا تھا. 

    مشکل سے مشکل الفاظ بھی بڑی خوبصورتی اور تسلسل روانی کے ساتھ ’تسبیح‘ کے دانوں کی طرح ایک خاص تربیت اور انداز کے ساتھ آپ کے منہ سے ادا ہوتے چلے جاتے، کسی بھی مسئلہ کو سمجھانے کیلئے قرآن و حدیث سے دلائل و براہین کے انبار لگا کر دیکھنے اور سننے والے کو حیران کر دیتے ۔ آپ کا دماغ معلومات کا خزانہ اور کمپیوٹر محسوس ہوتا، دوران تقریر حضور اکرمؐ ، صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ، اولیاء کرامؒ اور اکابرین و اسلام کے حالات و واقعات کو انتہائی تسلسل اور پر اثر انداز میں بیان کرتے کہ سننے والا متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ ہر کام میں سے اسلام اور مسلک کی خدمت کا کوئی نہ کوئی پہلو ضرور نکال لیتے ، مشکل اور پیچیدہ مسائل کو منٹوں میں حل کر لیتے، آپ اتحاد امت کے بہت بڑے داعی تھے۔ مولانا عبد الرحمن اشرفی ایک سچّے عاشق رسولؐ تھے۔ حضور اکرم ؐکا نام مبارک لیتے ہوئے عقیدت و محبت سے آبدیدہ ہو جاتے ۔ جمعۃ المبارک کو بعد ا ز نماز عصر جامع مسجد حسن میں بڑی باقاعدگی کے ساتھ درود شریف کی محفل ہوتی، ہر سال 12 ربیع الاول کو حضور اکرم ؐ کے موئے مبارک کی زیارت اپنی نگرانی میں کراتے ، ختم بخاری شریف اور رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو تقریر اور پھر بڑے ہی رقت آمیز انداز میں دعاء کراتے جس میں علماء و طلباء سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد شرکت کرتے۔ آپ نے ہمیشہ شہرت اور سرکاری منصب سے راہِ فرار اختیار کرتے سرکاری منصب و ممبری پر مسجد و مدرسہ اورممبر و محراب کو ترجیح دیا، لیکن اس کے باوجود لاکھوں لوگ آپ سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔

    خدمت خلق کا جذبہ بھی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، غریب و مستحق افراد اور طلباء کی ہر ممکن مدد کرتے مخلوقِ خدا کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے اور ان کیلئے رو رو کر دعائیں کرتے معاشی تنگی اور قرض کے بوجھ سے تنگ افراد کی طرف سے خودکشی کے جواز کا فتویٰ پوچھنے، زلزلہ زدگان اور سیلاب متأثرین کے جانی و مالی نقصان پر انتہائی پریشان و مضطرب ہو کر خطبات جمعۃ المبارک  ذرائع ابلاغ اور میڈیا کے ذریعہ آپ نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں اعلان کر دیا کہ ان حالات میں مسلمان نفلی حج و عمرہ میں اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے انسانیت کی خدمت، سیلاب متأثرین اور خود کشیوں پر مجبور لوگوں کی مالی مدد کریں اس سے کئی حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔ آپ فرماتے تھے کہ معاشرہ میں غربت و سفید پوشی کی وجہ سے ماں باپ اپنی بچیوں کی شادی کے اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے شدید پریشان ہیں، جوان بچیاں بڑھاپے کی جانب بڑھ رہی ہیں شادی کیلئے ان کی مالی مدد کرنا خدا کو راضی کرنے اور جنت کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔ آپ کی علمی و روحانی مقام کی پوری دنیا معترف ہے۔

    آپ کی تفسیر ’’ نکات القرآن‘‘ سمیت دیگر تصانیف علمی حلقوں میں انتہائی مقبول ہیں ۔ سیرت النبی ؐکے موضوع پر کئی کئی گھنٹے اپنے مخصوص انداز اور عشق نبویؐ میں ڈوب کر بیان کرتے، تو عقیدت و محبت میں خود بھی روتے اور سامعین کو بھی رلاتے ۔ آپ کی روشن زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ تمام زندگی دعوت و تبلیغ، درس وتدریس ، تحریر و تصنیف ، قیام امن اتحاد بین المسلمین کے فروغ ، اسلام اور وطن عزیز کی سالمیت اور مختلف باطل فتنوں کے علمی تعاقب میں گزری ۔ آخر کار 22جنوری 2011ء کو علم کا یہ آفتاب و ماہتاب اپنے بیٹوں صاحبزادہ احمد حسن اشرفی، حماد حسن اشرفی اور صاحبزادہ محمد حسن اشرفی سمیت ہزاروں شاگردوں اور لاکھوں عقیدت مندوں کو روتا اور تڑپتا چھوڑ کر غروب ہوگیا۔ آپ کے وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی، پوری دنیا سے لوگ ٹیلیفونوں کے ذریعہ تصدیق کر رہے تھے۔  

     مولانا مجیب الرحمن انقلابی


     


    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0
  • 01/21/17--22:34: اٹھارہ ہزاری
  • اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ کا ایک مشہور قصبہ ہے، جو براستہ تریموں ہیڈورکس جھنگ سے قریباً چوبیس کلومیٹر دُور ہے۔ مخدوم تاج الدین اٹھارہ ہزاری کی نسبت سے اس قصبے کا نام پڑا۔ یہ بزرگ یہیں دفن ہیں اور ان کا مزار اس علاقے کی شہرت کا سبب ہے۔ حضرت مخدوم تاج الدین المعروف اٹھارہ ہزاری دراصل غزنی کے رہنے و الے تھے۔ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں اعلیٰ عہدیدار تھے۔ جب آپ تریموں پہنچے، تو اس جگہ قدرتی حُسن سے متاثر ہو کر دریائے جہلم کے کنارے کیمپ لگا لیا۔ یہیں آپ کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ جب سلطان محمود کو آپ کی وفات کی خبر ملی، تو وہ سخت رنجیدہ ہوا اور آپ کی قبر پر پختہ مزار تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

    بعض روایات کے مطابق سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود نے ہندستان میں سب سے پہلے جو عمارت تعمیر کروائی، وہ یہی مزار تھا۔ سیلاب کے باعث یہ قدیم مزار گر گیا، تو حضرت اٹھارہ ہزاری کے جسد خاکی کو موجودہ جگہ لا کر دفن کیا گیا۔ یہاں ہر سال ان کا عرس میلہ لگتا ہے، جس میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔  آپ سلطان محمود غزنوی کی فوج میں اٹھارہ ہزاری کے منصب پر فائز تھے اور جب آپ اس علاقے میں وارد ہوئے تو اٹھارہ ہزار فوجی آپ کی کمان میں تھے۔ یہ روایت زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ انگریزی عہد میں یہاں تھانہ اور ڈسپنسری قائم ہوئے۔

    اب یہاں طلبا و طالبات کے سکول ، ہسپتال، شفا خانہ حیوانات، بینکوں کی شاخیں بھی موجود ہیں۔ اٹھارہ ہزاری کے طلبا و طالبات کے ہائی سکول قریبی قصبہ واصُو میں موجود ہیں، یہاں ایک مین بازار سبزی منڈی اور قریب ہی حق باہو شوگر مل اور شکر گنج شوگر مل کے صنعتی یونٹس بھی ہیں۔ پانچ مرلہ سکیم، آبادی اٹھارہ ہزاری اور رتیڑی محلہ یہاں کی رہائشی آبادیاں ہیں۔ معروف لوک گلوکار منصور ملنگی کا تعلق اسی قصبے سے تھا۔ 

    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) - 


    0 0

    فاروق چوہان



    0 0

    20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے، ان کی حلف
    برداری کی تقریب کے موقع پر کئی نامور شخصیات وہاں موجود رہیں، تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس تقریب کی کچھ اور ہی منظر کشی کی۔ اس تقریب کے آغاز سے اختتام تک سوشل میڈیا پر لوگوں نے ہر جذبے، غلطی اور دلچسپ لمحات پر اپنے تبصرے دینا شروع کردیئے۔

    یہاں دیکھیں کہ ٹوئٹر پر صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کو کیسا پایا:

    ایک صارف نے کہا 'ٹرمپ اپنی اہلیہ کو پیچھے بھول گئے، اوباما نے انہیں سکھایا کہ خواتین کے ساتھ کیسا برتاؤ کرنا چاہیئے'۔

    ایک خاتون کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ نے اس موقع پر بھی مشعل اوباما کی نقل کی۔

    کسی نے کہا 'لگتا ہے میلانیہ ٹرمپ کا تحفہ، مشعل اوباما کو کچھ زیادہ پسند نہیں آیا'۔

    ایک صارف نے ہلیری کلنٹن کی غصہ والی تصویر شیئر کرکے لکھا، 'ہلیری، ڈونلڈ کی حلف برداری کی تقریب میں جادو گرنی بن کر آئی ہیں'۔

    کسی نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کو سن کر ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں جرمن زبان میں بات کرنی چاہیے تھی۔

    جبکہ کسی کا کہنا تھا 'جب بھی میں ٹرمپ کے خطاب میں کچھ نیا سنتا مجھے کوئی خوفناک کہانی یاد آجاتی'۔

    ایک صارف نے ٹرمپ کے خطاب کو فلم 'بیٹ مین'کے ولن کے ایک جملے کی نقل کہا۔
    کسی نے لکھا 'جہاں آج کچھ لوگ دکھی ہیں، وہیں کچھ پلاسٹک کی تھیلی سے کھیلنا پسند کررہے ہیں'۔

    ایک صارف نے مشعل اوباما کے عجیب و غریب جذبات کی ویڈیو شیئر کرکے لکھا 'میں آپ کو سمجھ سکتا ہوں'۔

    کچھ لوگوں نے میلانیہ اور ٹرمپ کے پہلے ڈانس کا بھی مذاق اڑایا۔

    تاہم پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کی پوسٹ نے شاید سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    انہوں نے لکھا 'امریکا کو آصف علی زرداری اور نواز شریف جیسے صدر کا انتخاب کرنے پر مبارکباد'۔


    0 0

    16 جنوری کو کئی خیراتی این جی اوز اور اداروں کی مشترکہ تنظیم ’’آکسفیم‘‘ کی ایک انتہائی اہم رپورٹ جاری کی گئی۔ اس رپورٹ کو سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے موقع پر جاری کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کو عالمی میڈیا میں تو بھرپور کوریج ملی، مگر پاکستان میں ایک دو بڑے اخبارات اور ایک دونیوز چینلوں کے سوااس انتہائی اہم رپورٹ کو نظرانداز کیا گیا۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے انکشافات دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ رپورٹ خاص طور پر ایسے ماہرین معیشت کے لئے بھی اہمیت کی حامل ہے جو دن رات مغرب، خاص طور پر امریکی سرمایہ داری نظام کا راگ الاپتے ہیں، پاکستان سمیت تیسری دنیا کے ملکوں کے لئے اسی نظام کو ماڈل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نظام کو اپنانے سے تیسری دنیا کے تمام معاشی مسائل حل ہو جائیں گے۔

    امریکی سرمایہ داری نظام کی چمک دمک سے مرعوب افراد کے لئے آکسفیم کی اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے۔ آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے صرف آٹھ امیر ترین انسان اتنی دولت رکھتے ہیں، جتنی اس دنیا کی نصف آبادی، یعنی 3.6 بلین افرادکے پاس کل دولت ہے۔ ان آٹھ ارب پتی افراد میں سے چھ کا تعلق امریکہ سے ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں انتہائی امیر مگر تعداد میں کم اشرافیہ اور عام اکثر یتی آبادی کے مابین دولت کی تقسیم میں فرق بہت زیادہ تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ کے اعداد وشمار کے مطابق 2015ء میں 62 افراد ایسے تھے ، جن کے پاس دنیا کی نصف آبادی کے برابر دولت تھی، مگر اب صرف آٹھ انسانوں کے پاس ہی کل عالمی آبادی کے نصف کے برابر دولت ہے۔ آکسفیم کے مطابق اس وقت دنیا کے ایک فیصد امیر طبقے کے پاس کل دنیا کی دولت کا 90 فیصد ہے اور گزشتہ 25 سال میں اس ایک فیصد امیر طبقے کی دولت اور سرمائے میں دنیا کی90 فیصد سے زائد آبادی کی دولت کے مقابلے میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔
    سابق امریکی صدر ریگن اور سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں سرمایہ داری نظام کو ایک طر ح کا جواز بخشنے کے لئے Trickle-down effect کی اصطلاح سامنے لائی گئی تھی، جس کے مطابق اگر امیروں کی جیبیں اتنی زیادہ بھر دی جائیں تو دولت خود بخود ان بھری جیبوں سے نیچے کی جانب منتقل ہو جائے گی، یوں عام طبقات بھی امیروں کی دولت سے مستفید ہو پائیں گے، مگر آکسفیم کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ 25 سال کے دوران کسی بھی قسم کا ٹریکل ڈاؤن اثر دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ امیر اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافے کے باوجود یہ دولت سماج میں نچلے طبقات تک نہیں پہنچ پا رہی۔ امریکہ کے کاروباری میگزین ’’فاربس‘‘کے مطابق 1,810 ارب پتی افراد کے پاس 6.5 کھرب (ٹریلین) ڈالرموجود ہیں، جبکہ کل آبادی کے 70 فیصد کے پاس ملا کر بھی اتنی دولت نہیں ہے۔

    اگلے 20 سال کے عرصے میں500 امیر افراد اپنے وارثوں کو 2.1 کھرب ڈالر وراثت کے طور پر منتقل کریں گے۔ یہ رقم ایک ارب تیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔آکسفیم کی اس رپورٹ میں معروف ماہر معیشت تھامس پیکیٹی کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ تیس سال سے امریکہ میں عام طبقات کی آمدنیوں میں معمولی سا اضافہ ہوا، مگر اسی عرصے کے دوران ایک فیصد امیر ترین امریکیوں کی آمدنیوں میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا۔ آمدنی میں اس قدر تفاوت کی مثالیں صرف امریکہ میں ہی نہیں ملتیں، بلکہ غریب ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ جیسے ویت نام کا امیر ترین فرد فام ناٹ وانگ ایک دن میں اتنا زیادہ کماتا ہے، جتناویت نام کا غریب فرد 10 سال میں بھی نہیں کما سکتا۔

    آکسفیم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے انتہائی منظم نظام کے تحت یہ ساری دولت امیروں کو مزید امیر بناتی چلی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں ہونے والے بڑے بڑے منافعوں کو مالک اور چند اعلیٰ عہدوں پر فائز ٹاپ ایگزیکٹو ہی اڑا کر لے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹرز میں بڑی بڑی تنخواہ پر ایسے افراد کو تعینات کیا جاتا ہے ، جو ٹیکس چوری کرنے کے’’قانونی‘‘ طریقے تلاش کر کے بتاتے ہیں۔ جیسے’’ایپل‘‘ جیسی اتنی بڑی عالمی کمپنی اپنے یورپی منافعوں پر صرف 0.005 فیصد ٹیکس ادا کرتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر سال 100 بلین ڈالرزکا خسارہ اس لئے ہو تا ہے، کیونکہ ان ممالک سے حاصل ہونے والے منافع میں سے ٹیکس ہی ادا نہیں کیا جاتا، جبکہ کارپوریٹ سیکٹرز اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے مزدورں کو جائز اجرتیں بھی نہیں دی جاتیں۔

    اس رپورٹ میں انٹرنیشنل لیبرآرگنائیزیشن کی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق دنیا میں لگ بھگ 21 ملین افراد ایسے ہیں جن سے جبری مشقت لی جا رہی ہے اور اسی جبری مشقت سے ہرسال 150 ارب ڈالر کا منا فع بھی بنایا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طاقت کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے، اگر صرف ٹیکس یا ریوینو کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس وقت دنیا کے69 بڑے معاشی ادارے کارپوریشنز ہیں نہ کہ ممالک۔ اس کی انتہائی دلچسپ مثال یہ ہے کہ دنیا کی 10 بڑی کمپنیاں جن میں ’’وال مارٹ‘‘ ’’شیل‘‘ اور ’’ایپل ‘‘ بھی شامل ہیں، ان سب کا ریونیو دنیا کے 180 ممالک کی حکومتوں کے کل ریوینوسے بھی زائد ہے۔

    ایسے اعداد وشمار سے واضح ہو رہا ہے کہ سرمایہ داری نظام میں کارپوریٹ سیکٹرز کا کردار اب کئی معاملات میں ریاستوں سے بھی زیادہ ہو چکا ہے، اس لئے کارپوریٹ سیکٹر آج کی بڑی ریاستوں کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں معروف ماہر معیشت گبرئیل زیک مین کی اس تحقیق کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے مطابق لگ بھگ7.6 ٹریلین ڈالرز کی دولت کو آف شور اکاونٹس یا ایسے ممالک میں خفیہ طور رکھا گیا ہے، جہاں ٹیکس کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جیسے اگر صرف براعظم افریقہ کے ممالک میں رکھی گئی ناجائز اور خفیہ دولت پر ٹیکس لیا جائے تو افریقہ کو اس سے ہرسال 14 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ اس رقم سے افریقہ کے چارملین بچے، جو بھوک کا شکار ہیں، ان کو آسانی سے خوراک مل سکتی ہے۔

    آکسفیم کی اس رپورٹ کو دیکھ کر آسانی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ موجودہ عالمی سرمایہ داری نظام سراسر حرص، لالچ اور لوٹ کھسوٹ پر مبنی نظام ہے۔اس نظام کے غیر منصفانہ کردار کے باعث جہاں ایک طرف مشرقی ممالک سیاسی عدم استحکام اور سما جی بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں تو دوسری طرف آج امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسے مسخرے اور یورپ میں دائیں بازو کی انتہا پسند قوم پرست جماعتیں عام لوگوں کے مسائل پر جذباتیت کو بھڑکا کر مقبول ہو رہی ہیں، حالانکہ عوام کے مسائل کا حل انتہا پسندی پر مبنی قوم پرستی میں نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس نظام کو سمجھا جائے جس کے اندر رہتے ہوئے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہی نہیں۔

    عمر جاوید


    0 0

    آج کل کے نوجوان سمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور ویڈیو گیمز کھیلتے ہوئے سکرین کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں اور اب یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ درحقیقت ان کی شخصیت کے لیے فائدہ مند عادت ہے۔ برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران ابھرنے والی ٹیکنالوجی کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اس پر بہت زیادہ وقت صرف کرنے کے نتیجے میں نوجوانوں کی سماجی صلاحیتیں اور ذہنی صحت متاثر ہوتی ہیں، تا ہم ڈیڑھ لاکھ کے قریب 15 سال کے نوجوانوں میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ڈیوائسز کے استعمال کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزانہ چار گھنٹے تک کمپیوٹر کے سامنے وقت گزارنا شخصیت پر کسی قسم کے نقصان کا باعث نہیں بنتا جبکہ سمارٹ فونز میں یہ وقت دو گھنٹے اور ڈیڑھ گھنٹہ ویڈیو گیمز کو دیا گیا ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ یہ ڈیوائسز درحقیقت تخلیقی سوچ اور رابطوں کی صلاحیت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں اور اس حوالے سے خدشات بے بنیاد ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی رپورٹس میں ڈیجیٹل سکرین کے سامنے گزارے جانے والے وقت اور ذہنی صحت کو کچھ زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا حالانکہ جدید ٹیکنالوجی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں، تاہم حد سے زیادہ ان کے سامنے وقت گزارنا ضرور نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تحقیق کے دوران سکرینز کے سامنے بہت زیادہ وقت گزارنے سے جسمانی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ نہیں لیا گیا۔ اس سے قبل 2014ء میں چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بہت زیادہ وقت انٹرنیٹ پر گزارنے کے نتیجے میں دماغ سکڑتا ہے۔ 

    (یہ تحقیق آکسفرڈ یونیورسٹی کی تحقیق جریدے سائیکولوجیکل سائنس میں شائع ہوئی ہے)  


    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    ضلع جھنگ کا قصبہ، جھنگ صدر سے شور کوٹ روڈ پر ۲۶ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی بنیاد ۱۷۷۰ء میں قریشی خاندان کے بزرگ بہادر شاہ نے رکھی اور سیال حکمران عنایت اللہ خان کے عہد میں اسے جنگی نوعیت کی اہم چوکی کا درجہ حاصل تھا۔ یہیں پر ڈیرہ غازی خان کی سمت جانے والی افواج تیار کی جاتی تھیں۔ بہادر خان قریشی سیال حکمران کا قابلِ اعتماد مشیر اور وزیر تھا۔ بعد میں یہ علاقہ بطور جاگیر اس کی اولاد کو عطا ہوا۔ اس قصبہ سے نامور لوگ پیدا ہوئے ،جن میں مخدوم کبیر، شیخ یوسف شاہ (مرحوم)، اختر علی قریشی، انور شاہ قریشی شامل ہیں۔

    سیّد مظفر علی ظفر اور غلام یٰسین حیرت کے نام شعری اور ادبی حوالے سے قابلِ ذکر ہیں۔ سیّد مظفر علی ظفر کو غزل اور نظم دونوں پر عبور حاصل تھا۔ ہندی میں گیت بھی لکھے اور تُلسی داس کے نام سے ان کا مجموعہ کلام ’’ظفر موج‘‘ کے عنوان سے مرتب ہوا۔ ان کی ایک کتاب ’’جدید سیاسی جغرافیہ ضلع جھنگ‘‘ (طنز و مزاح) ۱۹۶۶ء میں شائع ہوئی۔ غلام یٰسین حیرت کا تعلق یہاں کے قریشی خاندان سے تھا۔ قومی نظموں اور نعتیہ شاعری میں ان کی شہرت تھی۔ یہاں صحت و تعلیم کی سہولتیں دستیاب ہیں۔ 

    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) -  


    0 0

    جی ہاں! ہم جانتے ہیں کہ آپ کے فون کی بیٹری کبھی آپ کی توقع پر پوری نہیں اُترتی بلکہ زیادہ تر تو یہ دن بھر بھی مشکل چلتی ہے، لیکن اس میں آپ کے فون کا قصور کم اور آپ کا زیادہ ہے کیونکہ آپ اسے ہمیشہ غلط ہی انداز میں چارج کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فون کو بار بار اور تھوڑا تھوڑا چارج کرنا اس کی بیٹری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت چارج کریں جب اس کی بیٹری ختم ہونے کے قریب ہو، لیکن یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ ایک بیٹری کمپنی کیڈیکس کی ویب سائٹ ’’بیٹری یونیورسٹی‘‘ بتاتی ہے کہ ہمارے سمارٹ فونز کی لیتھیم آیون بیٹریاں کس طرح کام کرتی ہیں اور کتنی حساس ہوتی ہیں۔ انسانوں کی طرح اگر یہ بھی مسلسل تناؤ اور دباؤ کا شکار رہیں تو انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کی زندگی کم ہو سکتی ہے۔

    اگر آپ اپنے سمارٹ فون کی بیٹری کو بہترین حالت میں رکھنا چاہتے ہیں، تو چند باتوں کا دھیان رکھیں: بیٹری یونیورسٹی کے مطابق مکمل چارج ہو جانے کے بعد بھی چارجر نہ نکالنا بیٹری کی زندگی پر بُرے اثرات ڈالتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ رات کو سونے سے پہلے موبائل کو چارج پر لگا دیتے ہیں اور صبح اُٹھ کر نکالتے ہیں بیٹری ہمہ وقت استعمال ہوتی رہتی ہے، لیکن جب 100 فیصد چارج ہونے کے بعد جیسے ہی 99 اعشاریہ کچھ ہوتی ہے چارج پر لگے رہنے کی وجہ سے پھر بھرنے لگتی ہے۔ یوں ہمہ وقت چارج ہونے کی وجہ سے سخت تناؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک مرتبہ مکمل چارج ہو جانے کے بعد بیٹری کو بجلی سے نکال لیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہو گا جیسا کہ سخت ورزش کے بعد پٹھوں کو آرام دینا۔

    اگر آپ سخت ورزش کے بعد بھی پٹھوں کو گھنٹوں تک بغیر کسی وقفے کے سخت تناؤ میں رکھیں تو کیا ہو گا ؟ بالکل وہی بیٹری کے ساتھ ہو سکتا ہے۔ دوسرا خیال یہ رکھیں کہ اسے 100 فیصد تک چارج نہ کریں۔ بیٹری یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ لیتھیم آیون بیٹریوں کو مکمل چارج ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اوپر جس تناؤ کا ذکر کیا ہے، اس سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے کبھی 100 فیصد تک نہ پہنچنے دیں۔ اس کے علاوہ، بجائے یہ کہ ایک ہی سیشن میں پوری بیٹری چارج کی جائے، بہتر یہی ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے مختلف اوقات میں چارجنگ کی جائے۔ یہ بیٹری کو بہتر رکھنے کا اہم نسخہ ہے۔ پاکستان جیسے گرم ملک میں، فون کو ٹھنڈا رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے پہلے تو یہ کام کریں کہ جب بھی فون کو چارج پر لگائیں اس کا کور اُتار لیں ،خاص طور پر جب آپ دیکھیں کہ چارجنگ کے دوران آپ کا فون زیادہ گرم ہو جاتا ہے، پھر اسے دھوپ سے بھی بچائیں۔ یہ اقدامات آپ کے فون کی بیٹری کی لمبی صحت اور زندگی کے ضامن ہوں گے۔   


older | 1 | .... | 91 | 92 | (Page 93) | 94 | 95 | .... | 149 | newer