Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Articles on this Page

(showing articles 1 to 25 of 25)
(showing articles 1 to 25 of 25)

Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...
    0 0

    چین نے عارضی طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے مالی مدد کر رہا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’ چین نے امداد، تجارت، سرمایہ کاری اور تمام عملی تعاون کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے فروغ اور تعاون کے لیے پیش کش کی تھی اور یہ پیش کش جاری رہے گی‘۔ ان کی جانب سے یہ جواب فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ سے متعلق سوال پر دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مزید قدر کم ہونے سے روکنے کے لیے کم از کم 2 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

    اس رپورٹ کے بعد چینی حکام کی جانب سے یہ پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی کہ بیجنگ نے اسلام آباد کو مالی پیکج دینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لو کینگ نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین ’تمام موسم کے اسٹریٹجک پارٹنر‘ ہیں اور دونوں متعلقہ تعاون پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ چین کی جانب سے جو امداد پاکستان کو دی جارہی ہے اس کی شرائط ابھی معلوم نہیں، تاہم یہ قیاس آرائیاں کی جارہی کہ یہ قرض زیادہ شرح پر دیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے دوران پاکستان نے رسمی طور پر چینی امداد کی کوشش کی تھی، جس کے بعد چینی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ معاشی بحران سے نکالنے میں پاکستانی کی مدد کرے گا لیکن اس بارے میں تفصیلات پر سرکاری اور ماہرین کی سطح کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    ابتدائی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ چینی پیکیج میں پاک چین تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے کرنسی کے تبادلہ کا انتظام اور چینی منڈوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں اضافہ شامل ہو گا۔ اس کے علاوہ لی کینگ نے اپنے بیان میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ایک جامع پیکیج ہو گا۔  دوسری جانب پاکستان چینی اکویٹی مارکیٹ سے ایک ارب ڈالر تک ’پانڈا بونڈ‘ بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کے علاوہ پاکستان اور چین اربوں ڈالر کے انفرا اسٹرکچر اور مواصلاتی منصوبے سی پیک کو مشترکہ طور پر شروع کیا ہوا ہے ۔  واضح رہے کہ اب تک سی پیک کے تحت کل 18 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے 22 ابتدائی منصوبے مکمل ہو گئے ہیں یا تکمیل کے مراحل میں ہے۔
    حکام کا کہنا تھا کہ سی پیک کو توسیع دی جا رہی اور 20 دسمبر کو دونوں ممالک نے مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس میں صنعتی تعاون پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جبکہ خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    بھارت نے افغانستان میں لائبریری کے قیام پر وزیر اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی ہے اور ان کے تبصرے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اسے افغانستان کے سلسلے میں مسٹر ٹرمپ کے وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بہت اچھی طرح ملے۔ لیکن وہ مجھ سے مسلسل کہہ رہے تھے کہ انھوں نے افغانستان میں ایک لائبریری قائم کی ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے پوچھا کہ آپ جانتے ہیں وہ کیا ہے؟ وہ ایسا ہے جیسے ہم نے پانچ گھنٹے صرف کیے۔ پھر انھوں نے استہزائیہ انداز میں کہا کہ اوہ! لائبریری کے لیے شکریہ۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اس کا استعمال کون کر رہا ہے۔

    بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اصل اپوزیشن کانگریس نے صدر ٹرمپ کے اس تبصرے پر نکتہ چینی کی ہے۔ بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب صدر ٹرمپ افغانستان میں ہر دوسری مدد کی مذمت کر رہے ہیں تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت افغانستان میں صرف لائبریری ہی نہیں بلکہ سڑک، ڈیم، اسکول اور پارلیمنٹ کی عمارت بھی بنا رہا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹرمپ کے تبصرے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو افغانستان میں بھارت کی امداد کے بارے میں بتائے۔ انھوں نے کہا کہ جناب صدر آپ بھارتی وزیر اعظم کا مذاق اڑانا بند کریں۔ بھارت کو افغانستان کے بارے میں امریکہ کے وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں۔

    خارجہ امور کے ماہر اور ایک سینئر تجزیہ کار قمر آغا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ایسے بیانات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ ڈپلومیٹک انداز نہیں جانتے۔ ان کے بیانات سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات سے ان کا دوہرا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ وہ نکتہ چینی اور مذمت بھی کرتے ہیں اور پھر اس ملک کے صدر یا وزیر اعظم کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ یہ ان کا مزاج بھی ہے اور ان کی حکمت عملی بھی ہے۔ لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بھارت افغانستان میں جاری اپنی امدادی سرگرمیوں میں دو ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ افغانستان نے تاحال اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی ہے۔ امریکہ افغانستان میں فوج بھیجنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالتا آیا ہے جسے بھارت مسترد کرتا رہا ہے.

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    قاضی حسین زیرک سیاستدان اور امت مسلمہ کا درد رکھنے والے ایسے رہنما تھےجنہوں نے جماعت اسلامی کو عوامی جماعت بنایا۔ قاضی حسین احمدنے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور رکن جماعت اسلامی کیا۔ اسکےبعد امیر جماعت اسلامی پشاور، امیر ضلع اور پھر صوبائی امیر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں 1978ء میں جماعت اسلامی کے جنرل سیکر ٹری اور1987ء میں امیر جماعت منتخب ہوئے وہ 2004ء تک چار بار امیر جماعت منتخب ہوئے۔

    قاضی حسین احمد دو بار سینیٹر منتخب ہوئے۔ 2002ء کے انتخابات میں دو حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے تمام دینی جماعتوں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر کے متحدہ مجلس عمل ‘‘ تشکیل دی ۔ قاضی حسین احمد کا عزم ، حوصلہ، اور مقصد سے لگن کارکنوں کے لیے ایک مثال تھی۔ ان کے عوامی کردار کی وجہ سے’’ظالمو! قاضی آرہا ہے‘‘ کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ جماعت اسلامی کو نئی فکر اور نئی جہتوں سے روشناس کروانے کا سہرا بھی قاضی حسین احمد ہی کے سر ہے۔ وہ امت مسلمہ کے اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ عمر بھر کوشاں رہے۔

     


    0 0

    سن 2018 پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا لیکن 2019 کا آغاز بھی ان کے لیے اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع دکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں پیش آئیں۔ چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ گزشتہ دس روز کے دوران چمالانگ اور دکی کوئلہ کانوں میں رونما ہونے والا یہ چوتھا واقعہ تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر دس کان کن ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر سنہ 2018 بلوچستان کی کوئلے کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا۔

    پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ سنہ 2018 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔ لالہ سلطان نے اس کی سب سے بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کے فقدان کو قرار دیا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات سے بچنے کے لیے چار پانچ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کانکنوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔

    مزدور رہنما کے مطابق بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔ لالہ سلطان نے اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری کے نظام کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔‘ لالہ سلطان کے مطابق ٹھیکیدار اور پیٹی ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کے بجائے زیادہ تر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔
    انھوں نے بتایا کہ دکی اور چمالانگ میں اس وقت سب سے زیادہ حادثات پیش آرہے ہیں۔ مزدور رہنما کا دعویٰ ہے کہ کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔ بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

    معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی
    چیف انسپکٹر مائنز افتخار احمد کا کہنا ہے کہ محکمے کی جانب سے تحفظ کے لیے جو بنیادی لوازمات ہیں ان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمے کے پاس کانوں کا معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی ہے، تاہم انسپکٹروں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افتخار احمد نے کوئلے کی کمپنیوں کے پرائیویٹ اہلکاروں اور کان کنوں کو بھی حادثات کا ذمہ دار ٹھیراتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی سیفٹی کا خیال نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنی کے لوگ اور کان کن خود سیفٹی کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کا خیال نہ رکھیں تو ان کے پاس جدید سے جدید آلات ہوں بھی تو حادثات کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں محکمہ کی جانب سے سیفٹی کے لیے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں وہاں کان کنوں کی تربیت کے لیے بھی انتظامات کیے جارہے ہیں ۔

    محمد کاظم

    بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
     


    0 0

    ماسوائے حکومت کے ہر کوئی پریشان ہے کہ ملکی معیشت کے حالات بہتری کے بجائے‘ باوجود دوست ممالک کی خاطر خواہ امداد کے، خرابی کی طرف رواں دواں ہیں۔ حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے رہنما پُرامید ہیں کہ معیشت کے حالات اب بہتری کی طرف گامزن ہوں گے، مہنگائی کم ہو گی، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھیں گی اور ملک کی صنعت اور کاروبار ترقی کرے گا۔ سارا زور ’’گا، گی، گے‘‘ پر ہے کہ یہ ہو گا، وہ کریں گے۔ گزشتہ چار پانچ ماہ کے دوران جو کچھ کیا، اُس سے تو بہتری کے بجائے معاشی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ جن کو چور، ڈاکو کہہ کہہ کر حکومتی اہلکار نہیں تھکتے، اُن کے مقابلے میں اِن چار، پانچ ماہ کے دوران مہنگائی کافی بڑھ چکی ہے، بجلی، گیس، ایل پی جی، سی این جی اور پیٹرول سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے۔

    کاروباری طبقہ معیشت کے حوالے سے بہت پریشان ہے جبکہ چند دن قبل تک تحریک انصاف حکومت کے ترجمان برائے معاشی امور‘ ڈاکٹر فرخ سلیم نے اپنے تازہ آرٹیکل میں معیشت کے جو اعداد و شمار پیش کیے، وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔ مجھے ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب جو اکثر ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں نظر آتے ہیں، نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں بتایا کہ حکومت کی معاشی پالیسی اور حکومتی ارکان کی طرف سے سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا کیے جانے پر ریاستی اداروں کو بھی پریشانی لاحق ہے۔ جنرل صاحب نے مجھے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ریاستی اداروں کی طرف سے بھی Convey کیا گیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے سے گریز کریں اور معیشت کی بہتری پر توجہ دیں۔ ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے ریٹائرڈ جنرل صاحبان کو آج کل سنیں تو وہ بھی حکومت کی معاشی پالیسی اور بلاوجہ کے سیاسی لڑائی جھگڑوں سے کافی نالاں نظر آتے ہیں۔

    حکومت کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کو احتساب کرنے دیں اور اپنے بچکانہ بیانات سے سیاسی تلخی کو اتنا نہ بڑھائیں کہ سیاسی عدم استحکام کے حالات پیدا ہوں کہ جس میں نہ کوئی قانون سازی ممکن ہے اور نہ ہی معیشت اور کاروباری حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہاں تو بہت سے حکومت کے خیر خواہ حیران ہیں کہ چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہونے والی مخلوط حکومت کے وزراء کس طرح اپنے مخالفین کی صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی بات کر کے دراصل اپنی ہی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے سیاسی ماحول میں معیشت اور کاروبار کی بہتری ناممکن ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو تحریک انصاف کی سیاسی قیادت اور وزراء کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے بجائے اس کو اپنے ہی بوجھ تلے دبتا دیکھنے کے انتظار میں ہے۔

    پاکستان کے لیے یہی بہتر ہے کہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کامیاب ہو، ہماری معیشت بہتر ہو، یہاں کاروبار بڑھے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ لیکن ایسا اُسی صورت میں ممکن ہو گا جب عمران خان کی حکومت سیاسی استحکام لانے میں کامیاب ہو گی اور اپنے ایسے وزراء اور رہنمائوں کو نکیل ڈالے گی جو دن رات اپوزیشن جماعتوں کو چور، ڈاکو کہتے نہیں تھکتے اور روز نت نئے تنازعات پیدا کر کے حکومت کے لیے محض مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ معیشت کا سیاسی استحکام سے گہرا تعلق ہے۔ اگر حکومت مستحکم نہیں ہو گی اور سیاسی عدم استحکام کے حالات کا ملک کو سامنا ہو گا تو کچھ بھی کر لیں، معیشت میں بہتری ممکن نہیں۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر آج پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے مدد کر رہے ہیں تو ایسا بار بار ممکن نہیں ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دو سال کے بعد ہماری وہی معاشی حالت دوبارہ ہو، جس کا ہمیں آج سامنا ہے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان اور سعودی عرب سرمایہ کاری کے ایک بڑے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کو تیار ہو گئے ہیں جس کے تحت گوادر میں کئی ارب ڈالر کی لاگت سے سعودی آرامکو آئل ریفائنری کی تعمیر ہو گی۔ سعودی عرب کے روزنامہ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب جلد ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے گا۔ قبل ازیں کابینہ کے ایک رکن نے تصدیق کی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان آئیں گے اور ان کی درخواست پر بننے والے پیٹروکیمکل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2018 میں منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کیا تھا جبکہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو خسارے پر قابو پانے کے لیے 3 اعشاریہ 18 کی شرح سود پر 2 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے جبکہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط بھی فروری کے پہلے ہفتے میں مل جائے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ماہانہ 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی اوسط سے تیل کی فراہمی بھی اسی مہینے شروع ہو گی۔ عرب نیوز کے مطابق فرروی میں اعلیٰ سطح کے سعودی وفد کے سامنے پاکستان آئل ریفائنری سمیت سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔ 

    سعودی عرب سے 3 برس کے دوران 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے کیونکہ پاکستان میں آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کی سرمایہ کاری سے بالترتیب 6 ارب ڈالر اور 10 ارب ڈالر کی آمدن کا تخیمنہ لگایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری کا ایک پیکیج آرہا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری ہو گی جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

     


    0 0

    وزیر اعظم عمران خان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ترکی کے 2 روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب اردوان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    عمران خان نے ترکی کے شہر قونیہ پہنچنے پر عظیم صوفی بزرگ حضرت جلال الدین رومی کے مزار پر حاضری دی، انہوں نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    وزیراعظم عمران خان قونیہ سے انقرہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکی کی وزیر تجارت رہسار پیک جان نے ملاقات کی۔

    انہوں نے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر پھول چڑھائے، وزیراعظم نے میثاقِ ملی بُرج میں محفوظ خصوصی رجسٹر پر اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔

    عمران خان نے انقرہ میں پاک ترک بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم سرمایہ کاروں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ہم انہیں سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

    انہوں نے انقرہ میں ترک صدر کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کی اور ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر آمد پر وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔










    0 0

    بہاولپور کے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کیلئے اس کی تزئین وآرائش شروع کی گئی لیکن گزشتہ سال ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود قلعے کو اصلی شکل میں بحال نہیں کیا جا سکا۔ بہاولپور کے چولستان میں قلعہ دراوڑ کی تزئین وآرائش کا منصوبہ تین سال پہلے شروع کیا گیا جس کا تخمینہ لاگت 10 کروڑ روپے لگا کر سابقہ حکومت نے تین کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے لیکن موجودہ حکومت نے منصوبے کیلئے رواں سال صرف 80 لاکھ روپے ہی منظور کیے ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ سال ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود قلعے کے 30 میٹر اونچے 40 میناروں کی تزئین وآرائش مکمل نہیں ہو سکی۔

    چولستان کے صحراؤں میں 29 چھوٹے بڑے قلعے تھے جن کے صرف آثار باقی ہیں لیکن قلعہ دراوڑ کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کی منطق ہے کہ فنڈز کی فراہمی میں تاخیر سے منصوبے کے تخمینہ لاگت میں اضافہ نہیں ہوا اور اسی لیے منصوبے کی نئی ڈیڈ لائن دو سال کیلئے بڑھا دی ہے۔ قلعہ دراوڑ کو بادشاہ رائے ججہ نے 909ء میں تجارت کی غرض سے تعمیر کرایا تاہم 1866ء میں نواب صادق کے انتقال سے عباسی خاندان کے درمیان اس کے ملکیتی اختلافات شدت اختیار کر گئے جس سے تاریخی قلعہ عدم توجہ کے باعث مزید خستہ حالی کا شکار ہو گیا۔


    0 0

    امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان امریکی صدر کا ترکی میں استقبال کریں گے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ فارن پالیسی کے مطابق امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات میں مثبت تبدیلی کی تازہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے شام سے فوج نکالنے اور علاقے کو ترکی کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ترک صدر امریکی فوج کو شام میں سخت نتائج کی دھمکیاں دیتے پائے گئے تھے۔
     


    0 0

    ایک مرتبہ پھر وزیر خزانہ نے وزارت صنعت و پیداوار کو پاکستان اسٹیل کی بحالی کے لیے منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان اسٹیل کو نجکاری کی فہرست سے نکالا تھا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ 45 دن میں اس کی بحالی کا منصوبہ پیش کرے مگر اس ہدایت پر آج تک عمل نہیں کیا جا سکا۔ محض ہدایات اور احکامات ہیں جن پر کوئی عملدرآمد بھی نہیں ہے اور کوئی اس بارے میں پوچھنے والا بھی نہیں ہے ۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ اسٹیل مل کی بحالی کے لیے حبکو پاورکی زیر قیادت ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ حبکو پاور جسے اسٹیل انڈسٹری کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ہے وہ کیوں کر اس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات تجویز کر سکے گی ۔ حکومت کی پاکستان اسٹیل میں دلچسپی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اعلیٰ اور درمیانی انتظامیہ میں کوئی افسر موجود ہی نہیں ہے یعنی پاکستان اسٹیل میں ایک بھی انتظامی ڈائریکٹر اور جنرل منیجر موجود نہیں ہے۔ 

    بس جونیئر افسران کو قائم مقام مقرر کر کے کام چلایا جا رہا ہے ۔ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک بھی میٹلرجیکل یا اسٹیل انڈسٹری کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتا۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس صورتحال میں مل کی بحالی کیوں کر اور کس طرح ہو سکے گی اور کون کرے گا۔ وزارت صنعت وپیداوار نے پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس فوری طور پر بلا کر حبکو کو ضروری ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک یہ اجلاس طلب نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے حبکو کی ٹیکنیکل کمیٹی کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہے ۔

    ایسے میں اسٹیک ہولڈرز گروپ کے یہ خدشات بالکل درست معلوم ہوتے ہیں کہ ٹیکنیکل کمیٹی کا پاکستان اسٹیل کے ساتھ مفادات کا ٹکراؤ ہے اور اسے نجی شعبے کی پاکستان اسٹیل پر اجارہ داری کے لیے سامنے لایا گیا ہے اور عملی طور پر ٹیکنیکل کمیٹی پاکستان اسٹیل کی بحالی کو سبوتاژ کر رہی ہے۔ حکومتوں کی جانب سے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے دعووں کو اس سے بھی جانچا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو آج تک ایک بھی بیل آؤٹ پیکیج نہیں دیا گیا۔ بیل آؤٹ کے بجائے اس پر قرضوں کا بوجھ چڑھا دیا گیا۔ پاکستان اسٹیل کے خسارے میں جانے کی وجوہات پر خود حکومتی اداروں میں واضح اختلاف ہے ۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ عالمی مندی کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مل خسارے میں گیا جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کہتی ہے کہ خسارے کی وجہ کرپشن ہے ۔

    موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے پاکستان اسٹیل کو مزید 16 ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہے مگر کسی نے ابھی تک وجوہات بھی نہیں پوچھیں۔ کرپشن کے خلاف نعرہ بلند کرنے والے عمران خان وزیر اعظم ہیں مگر پاکستان اسٹیل مل میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ۔ 2012 میں عدالت عظمیٰ نے نیب کو تین ماہ کا وقت دیا تھا کہ مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے تاہم ساڑھے چھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک کسی نے نیب سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔ پاکستان اسٹیل کے صرف ایک سربراہ کے خلاف تو عدالت میں کیس چلایا گیا مگر ان سے قبل کے اور بعد کے تمام سربراہان چین کی بانسری بجا رہے ہیں ۔ اب تو سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا احتساب صرف چند لوگوں کے لیے ہے ۔

    اداریہ روزنامہ جسارت


    0 0

    سعودی عرب کے وزیر توانائی، صنعت و معدنی وسائل وفاقی خالد عبد العزیز الفلیح کی زیر قیادت سعودی وفد نے مجوزہ آئل ریفائنری کے لیے مختص جگہ دیکھنے کے لیے گوادر کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے گوادر پہنچنے پر سعودی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر غلام سرور خان نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں، سعودی وزیر گوادر میں آئل ریفائنری کی جگہ دیکھنے آئے ہیں اور گوادر میں جلد آئل ریفائنری قائم جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی آمد پر آئل ریفائنری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی پاکستان میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ سعودی وفد میں آرامکو سے جڑی کمپنی البوینین گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان رواں ماہ سعودیہ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے امکانات ہیں۔
    آئندہ دو ماہ کے دوران حکومت چین، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے ساتھ بھی اسی طرح کی یادداشتوں پر دستخط کرے گی۔
     


    0 0

    اقلیدس یونانی فلسفی اور ریاضی دان تھا، وہ کہتا ہے 

    ٭ علم رکھنے والا اگر اس پر عمل نہ کرے تو وہ ایک بیمار کی مانند ہے جس کے پاس دوا ہے لیکن وہ استعمال نہیں کرتا۔ 

    ٭ دو بھائیوں میں دشمنی نہ ڈالو کیونکہ ان میں صلح ہو ہی جائے گی اور پھر تمہیں برا ٹھہرایا جائے گا۔ 

    ٭ کم کھاؤ، اس سے تمہارا نفس مغلوب ہو جائے گا۔ 

    ٭ جو اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھے وہ بہت بڑا عارف ہے۔ 

    ٭ ملازم رکھنے میں امانت اور کام کی پوری لیاقت کے سوا کسی کی ہرگز سفارش قبول نہ کرو۔ 

    ٭ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ 

    ٭ جو شخص کسی ایسی چیز کی تعریف کرے جو تم میں نہ ہو، وہ ایسی برائی بھی منسوب کرے گا جو تم میں نہ ہو گی۔ 

    ٭ دانا وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ سنے اور جو گردشِ ایام سے تنگدل نہ ہو۔ 

    ٭ غیر عادل سلطان پر، اس سخی پر جو مال بے موقع صرف کرے اور اس دولت مند پر جو حسنِ تدبیر نہ رکھتا ہو افسوس کرو کیونکہ عنقریب یہ برباد ہو جائیں گے۔ 

    ٭ اس وقت نیکی کمال کو پہنچ جاتی ہے جب آدمی اپنے بدخواہوں کا بھی خیر خواہ ہوتا ہے۔ 

    ٭ جب کسی آدمی کو اس کی بساط سے زیادہ دنیا مل جاتی ہے تو وہ لوگوں سے برا سلوک کرتا ہے۔ 

    ٭ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھو۔ 

    ٭ دوسروں کے مال پر نظر مت رکھو۔ 

    (انتخاب: شہباز علی)


    0 0

    کیا آپ دن کا زیادہ وقت سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسے فیس بک کو استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں؟ اگر ہاں تو بری خبر یہ ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں آپ کا دماغ مختلف معاملات میں کسی منشیات کے عادی شخص جیسے رویے کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں اس خیال کی جانچ پڑتال کی گئی کہ سوشل میڈیا کی لت کس حد تک انسانی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔  نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔

    اس تحقیق میں 71 رضاکاروں میں فیس بک کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے اور ایک ٹیسٹ کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جن رضاکاروں نے تسلیم کیا کہ وہ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہوں نے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں ٹیسٹ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح کے آئی جی ٹی ٹیسٹ کو دماغی انجری کے شکار افراد سے لے کر ہیروئین کے عادی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ اس سوشل میڈیا لت کو جانچنے کے لیے آزمایا گیا۔

    محققین کے مطابق اس ٹیسٹ کو سوشل میڈیا کی لت کے بارے میں جاننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے میں کافی کچھ جاننا ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس طریقہ کار کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہو گا کہ کوئی شخص کس حدتک سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے اور اس کا دماغی کس حد تک اس عادت سے متاثر ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں فی الحال فیس بک صارفین پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا مگر مستقبل میں مختلف سوشل نیٹ ورکس کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ محققین کے مطابق فیس بک کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ سب سے زیادہ مقبول ہے مگر امکان ہے کہ دیگر سوشل میڈیا سائٹس کے استعمال کے نتائج بھی اسی سے ملتے جلتے ہوں گے۔

    اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف بی ہیوئیرل اڈیکشن میں شائع ہوئے۔ اس سے پہلے 2017 میں امریکا کی ڈی پال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک کا زیادہ استعمال دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کے دو مختلف میکنزم اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک خودکار اور ردعمل کا اظہار کرتا ہے جبکہ دوسرا رویوں کو کنٹرول اور دماغی افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ یہ دوسرا نظام لوگوں کو بہتر رویے کو اپنانے اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ 

    اسی طرح امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ جو لوگ کسی المناک واقعے سے متعلق جاننے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس کو بہت زیادہ چیک کرتے ہیں، انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ویب سائٹ پر غلط معلومات کا پھیلنا بہت آسان ہوتا ہے جس سے بھی کسی فرد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ وقت گزارنا ڈپریشن کا باعث بنتا ہے اور جذباتی کیفیات متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 1100 افراد کی آن لائن عادات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    پاکستان کا اتحادی ملک سعودی عرب گوادر کی بندرگاہ پر دس بلين ڈالر ماليت کی ايک آئل ريفائنری تعمير کرنا چاہتا ہے۔ اس ممکنہ سرمايہ کاری سے سعودی عرب بھی سی پيک کا ايک پارٹنر ملک بن جائے گا۔ رياض حکومت پاکستان ميں دس بلين ڈالر ماليت کی ایک آئل ريفائنری تعمير کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ يہ بات سعودی وزير برائے توانائی خالد الفليح نے گوادر ميں بتائی۔ انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاک چين اقتصادی راہ داری ميں پارٹنرشپ کی صورت ميں اور ايک آئل ريفائنری کے قيام سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو مستحکم بنايا جائے۔‘‘ خالد الفليح نے مزيد کہا کہ اس بارے ميں حتمی سمجھوتے پر دستخط کرنے کے ليے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان فروری ميں پاکستان آئيں گے۔

    پاکستان کو ان دنوں مالياتی خسارے کا سامنا ہے، جس کی ايک وجہ بڑھتی ہوئی تيل کی قيمتيں بھی ہیں۔ ايسے ميں اسلام آباد حکومت کی کوشش ہے کہ ملک ميں سرمايہ کاری بڑھائی جائے۔ پچھلے سال سعودی عرب نے پاکستان کو چھ بلين ڈالر کے پيکج کی پيشکش کی تھی، جس ميں خام تيل کے حصول کے ليے رقوم بھی شامل تھيں۔ اس بارے ميں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزير برائے پٹروليم مصنوعات نے کہا، ’’گوادر ميں آئل ريفائنری کے قيام سے سعودی عرب سی پيک ميں ايک اہم پارٹنر بن جائے گا۔‘‘

    پاک چين اقتصادی راہ داری منصوبے يا سی پيک کے ليے چين ساٹھ بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا اعلان کر چکا ہے۔ منصوبے کے تحت پاور اسٹيشنز، شاہراہوں، ريلوے لائنوں اور بندر گاہوں کا قيام عمل ميں آئے گا۔ اس منصوبے کے ذريعے پاکستان کے راستے مغربی چين کا دروازہ دنيا کے ليے کھل جائے گا۔ سعودی نيوز ايجنسی ايس پی اے کے مطابق وزير برائے توانائی الفليح نے گوادر ميں پاکستانی وزير برائے پيٹروليم مصنوعات غلام سرور خان کے علاوہ وزير برائے بحری امور علی زيدی سے بھی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات ميں ريفائننگ، پيٹرو کيميکلز، کان کنی اور قابل تجديد توانائی کے سيکٹرز ميں سرمايہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ ليا گيا۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    جب میں پچیس برس پہلے بیجنگ آیا تھا تو ڈِنگ شیاوپِنگ کی اصلاحاتی اور چین کے دروازے دنیا کے لیے کھولنے کی پالیسیاں اپنے عروج پر تھیں۔ اگر میں سن انیس چورانوے میں چین کے بارے میں یہ پیش گوئی کرتا کہ وہ سن دو ہزار اٹھارہ میں کیسا نظر آئے گا ؟ تو اس وقت لوگ یقیناﹰ مجھے ایک پاگل قرار دیتے۔
    اُس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چین اس قدر تیزی سے، خاص طور پر حالیہ عشرے میں، مغرب کے مقابلے میں آ جائے گا۔ ایک طویل عرصے سے مغرب اور چین کے مابین طاقت کا ایک توازن برقرار تھا۔ مغرب کے پاس ٹیکنالوجی تھی اور چین ایک بہت بڑی منڈی ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے ایک فیکڑی بھی تھا۔ چین میں مغربی مصنوعات کی کاپی تیار کرنے کو کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا جاتا تھا۔

    اب چین خود ایجادات کا ملک بن چکا ہے۔ چینی کاروباری اداروں نے ’وی چیٹ پے اور علی پے‘ جیسی ایپلی کیشنز کے ساتھ بینک اور مالیاتی دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ ہواوے کے اسمارٹ فونز اپیل کی طرح جدید ہیں اور عالمی سطح پر فروخت کے معاملے میں وہ امریکی آئی فون کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی چین نے چاند کے آنکھوں سے اوجھل سائیڈ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تاریخ رقم کی ہے۔ چین میں الیکڑک بسیں ایک عام سی بات ہیں جبکہ جرمنی جیسے ملک میں یہ ابھی بھی پائلٹ پروجیکٹس کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت کی بات کی جائے تو اس میدان بھی وہ اپنے حریف ممالک سے پیچھے نہیں ہے۔

    چینی ترقی نئی نہیں
    مغرب میں بہت سے لوگ ابھی تک حیران ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ ایسے افراد اصل میں اپنے ہی دقیانوسی خیالات کا نشانہ بنے ہیں۔ یہ سمجھتے تھے کہ چینی صرف نقلی مصنوعات تیار کرنے میں تیز ہیں۔ لیکن یہ شاید ان کی چھوٹی سی بیوقوفی تھی۔ ایک اعشاریہ چار ارب انسانوں کی آبادی میں ذہین نوجوانوں کا گروہ خود کو کیوں نہیں منوا سکتا ؟ جیسے ہی اقتصادی فریم ورک نے جگہ بنائی، ایجادات کا عمل شروع ہو گیا۔ چین میں ایجادات اور ترقی کا سفر شاید مغرب کے لیے تو حیران کن ہے لیکن خود چینیوں کے لیے نہیں ہے۔ مغرب میں چین کو غیر ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا لیکن خود چینیوں کے خیال میں ان کا ملک ایک کمزور اور عارضی مرحلے سے گزر رہا تھا۔ چینی مفکرین کے خیال میں 150 برسوں بعد اب ان کا ملک معمول کے مطابق آتا جا رہا ہے۔ سن 1820ء میں چین دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی قوت تھا۔ اس کے بعد افیون جنگ سے لے کر جاپانی حملے تک ایک توہین آمیز صدی کا آغاز ہوا۔ شکر ہے اب یہ دور ختم ہو چکا ہے۔

    ڈی ڈبلیو کے فرانک زیرین بیجنگ میں بیس برس سے زائد قیام کر چکے ہیں
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں مغرب نے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے پیچھے اُس چینی سلطنت کے غرور کا بھی ہاتھ تھا، جو خود کو دنیا کا مرکز سمجھتی تھی اور جس نے اُس وقت ٹیکنالوجیکل ترقی سے منہ موڑا، جب یہ یورپ میں قدم جما رہی تھی۔ چنگ سلطنت کا خیال تھا کہ وہ اس کے بغیر بھی سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور صنعتی انقلاب کے دوران سوئی رہی۔ اس وقت کے کانگ یوائی اور لیانگ کیچاؤ جیسے اصلاحات پسندوں کو ملک چھوڑنے یا پھر موت کے پھندے کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں چین کو منظم طریقے سے چلانا ناممکن ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے یہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا۔ اب چالیس برس بعد گزشتہ دسمبر میں چین نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ مختلف معاملات کے حوالے سے اب بھی چین پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو چین اس مرتبہ کشتی پر سوار ہو چکا ہے۔ ایک سخت سبق سیکھنے کے بعد وہ باقی دنیا سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جرمنی نے بھی آغاز چین کی طرح کیا
    اس امر کو اب بھلایا جا چکا ہے کہ کبھی جرمنی نے بھی برطانوی ریل کے انجنوں کی کاپی تیار کی تھی اور ’میڈ اِن جرمنی‘ کو برطانوی اشیاء کی سستی نقل سمجھا جاتا تھا۔ ٹیکنالوجی اور صنعت کی دنیا میں جرمنی کا عروج ایک دم سے ہوا تھا لیکن اس کے برعکس چین تو پھر بھی ماضی میں کئی صدیوں تک دنیا کے جدید ممالک میں شامل رہا ہے۔ کاغذ، چینی مٹی کے برتن، بندوق پاؤڈر اور کمپاس جسیی ایجادات اسی ملک میں ہوئیں۔ مغرب کو اپنا یہ نظریہ اب ترک کر دینا چاہیے کہ چین صرف سستی نقول تیار کرنے والا ملک ہے۔ چین میں ایجادات کے لیے آزادی میسر ہے۔ نقول تو آرڈر پر تیار کی جا سکتی ہیں لیکن تخلیق اور جدت کی صلاحیت کو ایسے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چین کا مغربی دنیا پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن مغرب کا چینی مارکیٹ پر انحصار کم نہیں ہو رہا۔ جرمنی کے مشہور کار ساز ادارے وی ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹیو کا حال ہی میں کہنا تھا، ’’فوکس واگن کا مستقبل چینی مارکیٹ طے کرے گی۔‘‘

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو معاشی محاذ پر مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک میں مہنگائی کا گراف اونچا ہو رہا ہے اور کاروبار سمٹ رہا ہے۔ جس سے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔ حکومت ایک کروڑ ملازمتوں، اور پچاس لاکھ نئے گھروں کے وعدے اور کرپشن کے خاتمے کے دعوؤں کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری تھی۔
    بدعنوانی کے خلاف مہم میں حکومت نے مبینہ غیرملکی اکاؤنٹ رکھنے والے 172 افراد کے بیرون ملک سفر پر پابندی لگا دی ہے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری بھٹو، شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور سندھ حکومت کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب ملک کی ایک اور بڑی اہم سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے قائدین جیلوں میں ہیں اور ان کے کئی دوسرے راہنماؤں پر نیب میں مقدمے چل رہے ہیں۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائیوں سے تحریک انصاف کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ عمران خان نے حکومت سازی کے لیے چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت برقرار رکھنے کے لیے انہیں چھوٹی جماعتوں کے مطالبے ماننے پڑ رہے ہیں جس سے تحریک انصاف کو اپنا منشور لاگو کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ معاشیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت سدھارنے کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود حکومت کے پاس حکمت عملی کا فقدان ہے۔

    کراچی کے ایک ماہر معاشیات شاہد حسن صدیقی کہتے ہیں کہ حکومت نے سرمایہ کاری میں کمی پر قابو پانے کے لیے اسلامی بینکوں سے رابطہ کیا ہے اور اس سلسلے میں سکوک بانڈ جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ شاہد صدیقی کہتے ہیں کہ سکوک بانڈ کا نظام سود پر انحصار کرتا ہے جس کی شرح مغربی ملکوں کی شرح سود سے زیادہ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت تعلیمی بجٹ میں سے گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز نکالنا چاہتی ہے جس کے بعد وہ بنیادی تعلیم کے اہداف پورے نہیں کر پائے گی جب کہ ملک میں لاکھوں بچے ابھی تک اسکول نہیں جا پا رہے۔

    شاہد صدیقی کہتے ہیں کہ حکومت صوبائی ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دے رہی ہے۔ جب کہ اس میں نصف رقم خردبرد کر لی جاتی ہے اور یہ فنڈز بدعنوانی کی جڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پیرس یونیورسٹی میں بین الاقوامی مالیات کے پروفیسر عطا محمد کہتے ہیں کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے اور امکان ہے کہ اس کا نام بین الاقوامی دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ملکوں کی بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ لیکن دوسری جانب جب پاکستان کے معاشی منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو لگتا ہے کہ حکومت سے معیشت سنبھل نہیں رہی۔

    فیسہ ہود بھائے

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی، اسلام آباد اور مری کے منصوبوں میں غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی زمین کی مد میں 250 ارب روپے جمع کرانے کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ عدالت عظمیٰ میں جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بینچ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کی، اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اپنے خلاف تینوں مقدمات پر 200 ارب روپے جمع کرانے کی پیش کش کی گئی، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ’بحریہ ٹاؤن کے خلاف فیصلے میں زمین کی مد میں 285 ارب روپے ادا کرنے کا کہا گیا تھا، اگر جرمانے کی رقم 40 فیصد بڑھائی تو رقم 300 ارب روپے سے زائد بنتی ہے‘۔

    جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ’بحریہ ٹاؤن کے خلاف تینوں کیسز کے الگ الگ فیصلے آئے تھے، کراچی کے بحریہ ٹاؤن کی الگ پیش کش کریں‘۔ اس دوران بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ کراچی کے بحریہ ٹاؤن کی 170 ارب جبکہ باقی اسلام آباد اور مری کے لیے 30 ارب روپے کی پیش کش کرتے ہیں۔ جس پر عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی 200 ارب روپے کی پیشکش مسترد کر دی اور جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ کراچی، اسلام آباد اور مری کی مناسب طریقے سے الگ الگ پیش کش دیں۔ اس پر بحریہ ٹاؤن نے اپنی پیشکش کو بڑھا کر 250 ارب روپے کر دیا، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ وکیل صاحب یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں، نیب کو کہتے ہیں ریفرنس فائل کریں۔

    اس پر وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک ہفتے کا وقت دے دیں، اتنی بڑی غلطی نہیں ہے، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ غلطی ایک 2 کینال کی ہوتی ہے، ہزاروں ایکڑ کی نہیں۔ بعد ازاں عدالت نے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کو تینوں مقدمات کی الگ الگ پیش کش تحریری طور پر دینے کی ہدایت کر دی۔ خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بحریہ ٹاؤن کراچی کے قبضے میں موجود غیر قانونی اراضی کا قبضہ واگزار کروانے کی ہدایت کی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا تھا کہ 59 غیر قانونی ٹیوب ویل اور زمین کی خرید و فروخت کی رقم کی ادائیگی سے متعلق نیب کارروائی کرے اور اس سلسلے میں الگ ریفرنس دائر کیا جائے۔ جسٹس عظمت سعید نے مزید کہا تھا کہ اگر ریفرنس دائر نہ ہوئے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو نیب کے خلاف کارروائی کریں گے۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    پاکستان کے 25ویں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار دو برس اور 17 دن پورے کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ اگلے 11 برس میں جنوری 2030 تک آٹھ معزز چیف ججوں میں سے صرف دو ایسے ہوں گے جن کی مدتِ عہدہ دو برس سے کچھ زائد رہے گی۔ اس ملک میں جسٹس محمد منیر چھ برس، اے آر کارنیلیئس آٹھ برس، حمود الرحمان سات برس اور جسٹس محمد حلیم ساڑھے آٹھ برس تک چیف جسٹس رہے۔ مگر ان کے نام عام آدمی سے زیادہ قانون دانوں اور محققوں کو یاد ہیں۔کیونکہ افتخار محمد چوہدری سے پہلے تک عدالتِ عظمی کی جانب سے مفادِ عامہ کے نام پر ازخود نوٹس لینے کی روایت خال خال ہی تھی۔ عدالت کا ڈیکورم اور جج کا رکھ رکھاؤ لگ بھگ وہی کلاسیکی انداز کا تھا جو نو آبادیاتی دور سے چلا آ رہا تھا یعنی جج نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں۔

    افتخار چوہدری پہلے جج ہیں جنھوں نے تین قسطوں میں مجموعی طور پر لگ بھگ ساڑھے چھ برس چیف جسٹس کی کرسی کو رونق بخشی اور کئی اہم دورس فیصلے بھی کیے۔ وہ پہلے چیف جسٹس تھے جن کی عوامی پذیرائی حیرت انگیز تھی۔ وہ چاہتے تو حاصل شدہ اخلاقی طاقت کے بل پر حکومتوں سے ایسی عدالتی اصلاحات کروا سکتے تھے کہ جن کے سبب عام آدمی کے لیے حصول ِ انصاف کسی حد تک تیز رفتار اور قابلِ دسترس شکل اختیار کر جاتا اور ان کا نام تاریخ میں صرف جوڈیشل ایکٹوازم کے سبب نہیں بلکہ جدید عدالتی ڈھانچے کے معمار کے طور پر یاد رکھا جاتا۔ مگر آج افتخار محمد چوہدری صرف ایک ریٹائر چیف جسٹس کے طور پر یاد ہیں۔ 2001 میں سپریم کورٹ میں اگر 13 ہزار مقدمات زیرِ سماعت تھے تو 2013 میں افتخار چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے وقت زیرِ سماعت کیسوں کی تعداد 20 ہزار سے اوپر ہو چکی تھی۔ افتخار چوہدری کے بعد پانچ چیف جسٹس آئے مگر پچھلے پانچ برس میں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمات میں سو فیصذ اضافہ ہو چکا ہے یعنی 40 ہزار سے زائد کیسز فیصلے کے منتظر ہیں.

    پچھلے دو برس میں کرپشن، ڈیموں کی مجوزہ تعمیر، تجاوزات کی صفائی اور اسپتالوں کی حالتِ زار سمیت مفادِ عامہ کے درجنوں معاملات میں سپریم کورٹ کا بیشتر وقت صرف ہوا۔ جسٹس ثاقب نثار بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ جوڈیشل مشینری کو طویل المیعاد بنیاد پر فعال بنانے کا کام باقی ہے۔ اگر ہائی کورٹ اور زیریں عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کی تعداد کو بھی جمع کر لیا جائے تو اس وقت پاکستان کی پوری عدلیہ کو 19 لاکھ مقدمات کا فیصلہ کرنا ہے اور اس ڈھیر میں ہر برس اوسطاً ایک لاکھ مقدمات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ جس طرح کے حالات ہیں ان میں اگر کوئی فیصلہ کن تبدیلی نہ آئی تو اگلے دس برس میں انصاف کا بوجھ کم ہونے کے بجائے دوگنا تین گنا نظر آ رہا ہے۔ عدلیہ کو ماورائے آئین قوتوں سے خطرہ نہیں مگر مقدمات کا انبار ایوانِ عدل سے بھی اونچا ہو رہا ہے۔

    ایک صاحب ہیں شیخ عبدالوحید، انھوں نے 11 نومبر 1956 کو لاہور میں ایک رہائشی پلاٹ نیلامی میں خریدا۔ گذشتہ جنوری تک 62 برس بعد بھی وہ اس کا قبضہ نہیں لے پائے۔ ان کی فائل ہر چھوٹی بڑی عدالت و ٹریبونل سے ہوتی ہوئی سپریم کورٹ میں پڑی تھی۔ ایسے جانے کتنے دیوانی مقدمات ہوں گے جو تیسری یا چوتھی نسل بھگت رہی ہے۔ جہاں تک فوجداری انصاف کا معاملہ ہے تو دو مجرم ایسے بھی ہیں جنھیں پھانسی دیے جانے کے سال بھر بعد باعزت بری کر دیا گیا۔ ایسے میں کریں تو کیا کریں۔ انصاف کی امان پاؤں تو ایک بات پوچھوں؟ کیا قانون میں اپنے بارے میں بھی ازخود نوٹس لینے کی گنجائش ہے؟

    وسعت اللہ خان
    تجزیہ کار

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ مثلاً انھوں نے پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کو جس شدت اور تواتر کے ساتھ اجاگر کیا اس کے نتیجے میں وہ ڈیم بنانے کا اپنا ہدف تو ابھی تک پورا نہیں کر پائے لیکن اس دوران انھوں نے پانی کی کمی کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا اور سیاست کے مرکز تک پہنچا دیا۔ بطور چیف جسٹس آف پاکستان وہ اپنی تعیناتی کے دوران انصاف کی ممکنہ فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کر جاتے تھے جو کہ قانونی ماہرین کی نظر میں براہ راست حکومتی اور انتظامی امور میں مداخلت کے مترادف تھے۔

    صاف پانی، ہسپتالوں کی صفائی، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کی اپیل، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، یہ ایسے کام ہیں جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن ان کاموں کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔ ان مسائل کے حل کے لیے زیادہ تر از خود نوٹسز کا سہارا لیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس ایک ایسا ہتھیار ہے جسے کسی بھی وقت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے استعمال کے بارے میں وکلا کی رائے بھی منقسم ہے۔

    جہاں انہوں نے بہت اہم مقدمات میں از خود سماعت کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان پر فیصلے کیے وہیں ان کے دور میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جب جسٹس ثاقب نثار نے یہ عہدہ سنبھالا تو سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 32 ہزار تھی اور آج جب وہ جا رہے ہیں تو یہ تعداد 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں مقدمات کی سماعت کرتے تھے لیکن ان میں زیادہ تر مقدمات مفاد عامہ کے ہوتے تھے۔ تاہم انھوں نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ لوگوں کو اس طرح انصاف نہیں مل رہا جس طرح ماضی میں ملا کرتا تھا۔

    عدالت عظمیٰ کی طرف سے ازخود نوٹس کا معاملہ ان کی عدالت میں بھی زیر التوا رہا ہے جس کو اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد اگر کسی چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کی ہے تو وہ خود جسٹس ثاقب نثار ہیں۔ اُنھوں نے بطور چیف جسٹس 43 معاملات پر از خود نوٹس لیے جن میں سے زیادہ تر کو نمٹا دیا گیا ہے۔ یہ افتخار محمد چوہدری ہی تھے جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالفت کے باوجود میاں ثاقب نثار کو لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں لے کر آئے تھے جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف سنیارٹی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر تھے۔

    چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے کیے گئے عدالتی فیصلوں پر وکلا تو تنقید کرتے ہی رہے ہیں لیکن جس طریقے سے وہ عدالتی کارروائی چلاتے تھے اس پر وکلا کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھی جج صاحبان بھی اُن سے اختلاف کیا کرتے تھے۔ ان ججوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ پیش پیش ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعے سے متعلق از خود نوٹس کے معاملے پر قاضی فائز عیسیٰ نے برملا اختلاف کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے کچھ عرصے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ اُنھیں اس بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور چیف جسٹس یعنی میاں ثاقب نثار کا عمل غیر قانونی تھا۔

    ان اختلافات کی بنا پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہت کم اس بینچ کا حصہ بنتے ہوئے دیکھا گیا جس کی سربراہی چیف جسٹس کرتے تھے۔ اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔ دورۂ سندھ کے دوران اُنھوں نے لاڑکانہ کی ایک بھری عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ کئی دن تک ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر زیرِ بحث رہا اور پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا استعفیٰ بھی سامنے آیا۔ جعلی اکاونٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے کے مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار بحریہ ٹاؤن کے مالک کو یہ پیشکش کرتے رہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو اُن کے تمام مقدمات نمٹا دیے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس ان کے دور میں سپریم کورٹ نیب کی طرف سے پلی بارگین کے طریقۂ کار کے خلاف بھی رہی اور عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ قانون بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

    جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اُنھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ میاں ثاقب نثار نے پہلے پانچ ماہ خاموشی میں گزارے اور اس عرصے کے دوران صحافیوں کی زیادہ تعداد نے بھی سپریم کورٹ باقاعدگی کے ساتھ جانا چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد صحافی عدالتی وقت شروع ہونے پر ایسے سپریم کورٹ میں پہنچتے تھے جیسے وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جاتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو ایسے ٹکرز بھیجے جاتے ہیں جیسے کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے میں رہتی ہے۔

    بعض اوقات ایسے بھی ہوتا تھا کہ میاں ثاقب نثار نے اگر کسی جگہ کا دورہ کرنا ہوتا تو میڈیا کو ٹکرز کے ذریعے پہلے سے ہی مطلع کر دیا جاتا اور پھر ٹی وی چینلز پر یہ خبریں چلائی جاتیں کہ'چیف جسٹس کا اچانک چھاپہ'۔ بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ میاں ثاقب نثار کے ترکی کے دورے کے دوران نماز پڑھتے ہوئے ان کی تصویر جو کہ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کی گئی تھی، کو بھی نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے وکلا کا موقف یہ ہے کہ اس تصویر کو جاری کرنے کا مقصد شاید یہ بھی ہو سکتا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد ایک مذہبی جماعت کی طرف سے میاں ثاقب نثار کے مسلمان ہونے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

    آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا فیصلہ بھی چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہی تحریر کیا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد جس طرح ایک مذہبی جماعت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نظرثانی کی اپیل ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ تک نہیں لگائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ میاں ثاقب نثار کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کو بھی پروٹوکول ڈیوٹی دینے پر مجبور تھی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے خلاف جتنے بھی فیصلے آئے وہ سب چیف جسٹس کے صاحبزادے نے اس گیلری میں بیٹھ کر سنے جو کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد فل کورٹ ریفرنس کے لیے ان کے خاندان کے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے۔

    آباد ی پر کنٹرول کے معاملے پر سابق چیف جسٹس نے جو کانفرنس بلائی تھی اس میں وزیر اعظم عمران خان جب اس کانفرنس میں شرکت کے لیے سپریم کورٹ میں آئے تو وزیر اعظم کے ساتھ چیف جسٹس کی ملاقات میں میاں ثاقب نثار کے بیٹے کی موجودگی پر قانونی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں خاصی لے دے ہوئی۔ میاں ثاقب نثار کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔ میاں ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد جب صحافیوں نے احتساب عدالت میں میاں نواز شریف سے ثاقب نثار کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے جواب میں صرف حضرت علی کا قول دہرایا تھا کہ'جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو'۔

    شہزاد ملک
    بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    آج میں بات کرنا چاہتا ہوں طلبہ کی طاقت پر۔ دُنیا بھر میں طلبہ تاریخ کا رُخ موڑ دیتے ہیں، ان کے اندر توانائیاں تو ہوتی ہی ہیں اگر انہیں علم کی دولت میسر آجائے۔ پھر آپس میں اتحاد بھی ہو تو بڑے بڑے چیلنجوں کا بہت کامیابی سے مقابلہ کر لیتے ہیں۔ پاکستان نوجوان ملک ہے۔ اس کو 60 فیصد سے زیادہ آبادی اللہ تعالیٰ نے 15 سے 25 سال کے درمیان عطا کی ہے۔ یہی وہ عمر ہے جہاں عزائم ہیں، توانائیاں ہیں۔ نئے آفاق تسخیر کرنے کا جذبہ۔ اگر صحیح سمت میں رہنمائی ہوجائے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطّے میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ یہی طلبہ تھے، جب قائد اعظم کی قیادت میسر آئی تو انہوں نے ایک الگ مملکت قائم کر دی۔ تحریک پاکستان میں طلبہ کا کردار ناقابل فراموش رہا ہے۔

    دُنیا بھر میں طلبہ تاریخ کی سمت متعین کرتے رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، سب ملکوں میں یونیورسٹیوں نے ان معاشروں کو اندھیروں سے نکالا ۔  پاکستان کے ابتدائی ادوار میں بھی طلبہ نے قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔ پاکستان میں مہاجرین کی آباد کاری میں، نئے تعلیمی اداروں کے قیام میں، طلبہ و طالبات پیش پیش رہے ہیں۔ بحالی جمہوریت کی تحریکوں میں بھی طلبہ ہی ہر اوّل دستہ ثابت ہوئے۔ دنیا میں کہیں بھی انسانوں پر ظلم ہوتا، بھارت میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہوتا تو یونیورسٹیوں سے طلبہ سیل رواں بن کر سڑکوں پر نکلتے۔ حکمرانوں کو حرکت میں لے آتے۔ 

    مجھے اپنے طالب علمی کا زمانہ یاد آرہا ہے۔ جبل پور بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو مشرقی اور مغربی دونوں بازوئوں میں طلبہ نے ہی احتجاج کا کفارہ ادا کیا۔ کراچی، لاہور، ملتان، راولپنڈی، ڈھاکہ، چٹا گانگ، اتنے بڑے بڑے جلوس نکلے کہ غیر ملکی میڈیا بھی اس کی رپورٹنگ پر مجبور ہو گیا تھا۔ یہ ایوب خان کا مارشل لا تھا۔ اس کے باوجود سڑکوں پر ہجوم تھا۔ ایوب خان نے ڈگری کورس دو سال کی بجائے 3 سال کیا۔ یونیورسٹی آرڈیننس جاری کیا تو پاکستان کے دونوں بازوئوں میں اتنا موثر احتجاج ہوا کہ حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ میں تو ان دنوں گورنمنٹ کالج جھنگ میں احتجاج کا حصّہ تھا۔ یہیں کراچی بدر طلبہ میں سے شہر شہر سے نکالے جانے والے معراج محمد خان بھی آئے۔ پھر یہاں سے بھی نکالے گئے۔

    یہ وہ زمانہ ہے۔ جب ہر درسگاہ میں طلبہ یونینیں ہوتی تھیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں نہیں تھیں۔ طلبہ اپنی جگہ ایک قوت تھے۔ سیاسی جماعتوں کی منزلوں کا بھی وہ تعین کرتے تھے۔ آمرحکمرانوں نے طلبہ یونینیں ختم کیں۔ پھر طلبہ کی طاقت کو تقسیم در تقسیم کر دیا گیا۔ کہیں اسلام پسند اور سیکولر کے لیبل لگائے گئے۔ کہیں انہیں زبانوں کے حوالے سے الگ الگ کیا گیا۔ کہیں نسلی تعصبات کی بنیاد رکھی گئی۔ پہلے تو یہ مناظر دیکھنے میں آتے تھے کہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، کسی صوبے سے بھی ہوں، وہ انسانیت، پاکستان اور اسلام کی حرمت کے لئے متحد ہو کر نکلتے تھے۔ اقتدار کے ایوانوں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا۔ استعماری قوتیں کانپنے لگتی تھیں۔ لیکن پھر ان کے درمیان دیواریں کھڑی کر دی گئیں۔ علیحدہ علیحدہ قبیلے بنا دیے گئے۔ اب اندر یا باہر سے ان پر حملہ ہوتا تھا تو وہ اپنے تحفظات کے یرغمال بنے رہتے تھے۔ بلکہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف تلواریں سونت لیتے تھے۔ 

    کتنی مائوں کے جگر کے ٹکڑے درسگاہوں میں خون میں نہلا دئیے گئے۔ اس طاقت کو سازشوں کے ذریعے پارہ پارہ کر دیا گیا۔ اب تو کسی ایک مقصد کے لئےسب نوجوانوں کا اکٹھے نکلنا ایک خواب دکھائی دیتا ہے۔ حسرت ہی رہتی ہے کہ کشمیر میں بربریت کے خلاف کبھی سب نوجوان مل کر صرف پاکستان کا پرچم اٹھائے نکلیں۔ جہاں ظلم ہو رہا ہے، وہاں تو کشمیری نوجوان پاکستان کا پرچم لے کر سڑکوں پر آتے ہیں۔ پہلے طلبہ کو سیاسی، لسانی، علاقائی، نسلی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا، پھر کمرشلزم آگیا۔ سوشل سائنسز کو درسگاہوں سے نکالا جاتا رہا۔ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں بزنس ایجوکیشن پر زور دیا جانے لگا۔ ایم بی اے کی ڈگریاں فروخت ہونے لگیں۔ فوجی ا ور سیاسی حکمرانوں نے ملکی حالات اتنے مخدوش کر دئیے۔ پاکستان ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہتا گیا۔ پھر امریکہ، برطانیہ، جرمنی، خلیج کے ممالک کے سفارت خانوں کے باہر پاکستانی نوجوان ویزے کے حصول کی قطاروں میں نظر آنے لگے۔ 

    حکمراں طبقہ بھی خزانہ لوٹنے میں مصروف رہا۔ غیر ملکی تعلیمی وظائف بیورو کریٹ اپنے اقربا میں بانٹتے رہے۔ درسگاہوں میں سیاسی پارٹیوں، مذہبی اور لسانی تنظیموں کے مسلّح کارکنوں نے غلبہ پا لیا۔ یونیورسٹی کالج میں داخلے ان کے ذریعے آسانی سے ملنے لگے۔ ان سب سازشوں کے نتیجے میں طلبہ طاقت اب صرف یرغمال بن کر رہ گئی۔ اس قوت کی ڈور اب سیاسی جادوگروں کے ہاتھ میں ہے۔ وائس چانسلر، پرنسپل بھی ان سے خائف رہتے ہیں۔ اس لئےطلبہ اب وہ طاقت نہیں رہے جو تاریخ کے دھارے کا رُخ بدل دیتی ہے۔ جو علمی، ادبی، نظریاتی تحریکوں کو جنم دیتی ہے۔ جو ملکی معیشت میں تحقیق کے ذریعے نئے نئے راستے تراشتی ہے۔ جو پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی راہِ راست پر لے آتی ہے۔ جو شہروں، قصبوں میں نا انصافی کا راستہ روکتی ہے۔ نوجوان طلبہ و طالبات کو یہ زنجیریں توڑنا ہوں گی۔ اپنی توانائیاں، صلاحیتیں صرف اور صرف پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئےوقف کرنا ہوں گی۔ اندھی تقلید کی بجائے تحقیق کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔ تحقیق ہی تخلیق اور تشکیل کی راہ ہموار کرتی ہے۔

    محمود شام
     


    0 0

    ساہیوال میں پولیس مقابلے کی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ساری کہانی جھوٹ نکلی۔ جیو نیوز کے سینئر صحافی حامد میر کے مطابق تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سب کچھ بتا دیا۔


    @HamidMirPAK
    White lies exposed within few hours.CTD officials involved in the murder of a family in Sahiwal detained by Punjab police DC Sahiwal informed CM that deceased family never made any resistance and never attacked CTD whole story of chasing ISIS leaders was a lie

    سینئر صحافی نے انکشاف کیا کہ شواہد اور تحقیقات کے بعد داعش رہنمائوں کی گرفتاری کے لئے مبینہ پولیس مقابلے کی سی ٹی ڈی کی کہانی جھوٹ نکلی ہے۔
    جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ساہیوال میں مبینہ مقابلہ کرنے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لینے کا حکم دیا۔ حامد میر کے مطابق پولیس فائرنگ سے 3 بچے اس لئے بچ گئے کیوں باپ اور ماں نے انہیں لپٹا لیا تھا۔ ساتھ یہ انکشاف بھی سامنا آیا ہے کہ پولیس نے کرائم سین کو محفوظ کرنے کےلئے کوئی کام نہیں کیا،پولیس کے اس اقدام کو شواہد مسخ کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں عینی شاہدین نے اس بات کی ایک بار پھر توثیق کی کہ کار سواروں نے کوئی فائرنگ نہیں کی اور نہ ہی کوئی مزاحمت کی گئی۔


    0 0

    جی ٹی روڈ پر ساہیوال کے قریب سی ٹی ڈی نے مشکوک مقابلے میں ایک بچی اور خاتون سمیت چار انسانی زندگیاں چھین لیں، مرنے والوں کو داعش کا دہشت گرد قرار دے دیا، اہل کاروں نے پہلے گاڑی کے ٹائروں پر گولیاں برسائیں، گاڑی بیریئر سے ٹکرائی تو ونڈ اسکرین اور پچھلے دروازے سے فائرنگ کر کے کار سواروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے اہل کاروں نے مرنے والوں کو اُن کے چھوٹے بچوں کے سامنے گولیاں ماریں، مارے گئے ایک شخص کے بیٹے عمیر نے بتایا کہ چچا کی شادی میں بورے والا جا رہے تھے، والد نے پولیس والوں سے کہا پیسے لے لو، ہمیں معاف کر دو، گولیاں نہ مارو لیکن پولیس والوں نے ایک نہ سنی، وہ گولیاں برساتے چلے گئے، پاپا، ماما، بڑی بہن اور پاپا کے دوست کو مار دیا۔ 

    عینی شاہدین کے مطابق کار سواروں نے نہ گولیاں چلائیں، نہ مزاحمت کی، گاڑی سے اسلحہ نہیں بلکہ کپڑوں کے بیگ ملے۔ جان سے جانے والوں کے گھروں میں کہرام مچ گیا، لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ واقعے کے بعد بغیر نمبر پلیٹ کی ایلیٹ فورس کی موبائل زندہ بچ جانے والے بچوں کو پہلے ساتھ لے گئی. دوپہر بارہ بجے رونما ہونے والے واقعے میں 13 سال کی بچی، اس کی ماں، باپ اور ایک محلے دار جان سے گئے۔ 

    ہائی وے پر موجود عینی شاہدین بتایا کہ ایلیٹ فورس کے اہل کار پہلے سے موجود تھے، سفید رنگ کی آلٹو کار کو روکنے کے لیے پہلے ٹائروں پر گولیاں برسائی گئیں، گاڑی سائیڈ کے بیرئیر سے ٹکرائی تو اہل کاروں نے ونڈ اسکرین اور پچھلے دروازے سے فائرنگ کر کے کار سواروں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا، کارسواروں نے نہ گولیاں چلائیں، نہ مزاحمت کی، گاڑی سے اسلحہ نہیں بلکہ کپڑوں سے بھرے بیگ ملے۔ واقعے کے بعد بغیر نمبر پلیٹ کی ایلیٹ فورس کی موبائل کے نقاب پوش اہل کار زندہ بچ جانے والے بچوں کو ساتھ لے گئے اور آگے کہیں پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا، خلیل کے گھروالے غم سے نڈھال انصاف کی فراہمی کی دہائی دیتے رہے۔ 

    بشکریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    پنجاب پولیس کے کارناموں پہ سالہا سال سے سر دھنتے آ رہے ہیں لیکن سنیچر کے سانحے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔ یہ ہی ملتان روڈ ، یہ ہی یوسف والا ٹول پلازہ، جہاں سے میں ہفتے میں دو سے تین بار گزرتی ہوں اور سوچتی ہوں 'گر جنت برروئے زمین است۔۔'اسی ٹول پلازہ پر چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے جانے والے 'مبینہ'دہشت گرد، مہر خلیل، ان کی بیگم، 13 سالہ بچی اور ٹیکسی ڈرائیور ذیشان کو 'مبینہ'مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔ یہ سانحہ کسی غلط رپورٹ، کسی غلط فہمی، کسی بھتہ خوری، کسی وقتی اشتعال یا کسی لمحاتی غلط فیصلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چار انسانوں کی زندگیاں، تین معصوم بچوں کا مستقبل، پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے کے لیے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نہایت جاں فشانی سے قانون کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔

    اس ادارے کے پیشِ نظر اپنے اہلکاروں کی عزت اور نوکری ہے اسی لیے اس سانحے کے فوراً بعد ایک چٹھا ٹائپ کرایا گیا، جو یقیناً کسی غلط فہمی، لمحاتی غلط فیصلے یا وقتی اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا۔ اس میں مقتولین کو دیکھ لیے جانے کے باوجود انھیں داعش کے 'مبینہ'دہشت گرد بتایا گیا جو ایک امریکی شہری کے قتل اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کے اغوا میں مطلوب تھے اور ایک 'مبینہ'ریڈ بک میں ان کے نام لکھے ہوئے تھے۔ اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ان پر خود کش جیکٹ، ہینڈ گرینڈ اور دیگر اسلحہ بھی ڈال دیا گیا۔ الیکٹرانک میڈیا پر چلانے کے لیے ٹکر بھی مہیا کر دیے گئے۔ جائے وقوعہ پہ مطلوبہ خطرناک ترین دہشت گردوں کی لاشیں، راہ گیروں کی تفتیش کے لیے چھوڑ کر تین بچوں کو اٹھا کر بوکھلاتے ہوئے فرار بھی ہو گئے۔

    سوالات تو بہت سارے ہیں لیکن ایک اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا پولیس والوں کے ہاتھ میں ہتھیار دیتے ہوئے انھیں فائرنگ کا اختیار بھی دیا جاتا ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ اختیار انھیں کس صورت میں ملتا ہے ؟ کسی بھی نہتے شخص پر صرف شک کی صورت میں سیدھی فائرنگ کا اختیار پولیس کو کس نے اور کب دیا ؟ اور اگر پولیس کے پاس یہ اختیار بھی ہے تو کیا ان کی تربیت ایسی کی جاتی ہے کہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ 'مبینہ'مشکوک واقعی مشکوک ہے یا نہیں؟ اگر کوئی 'مبینہ'ریڈ بک واقعی موجود تھی اور اس میں مہر خلیل، 13 سالہ اریبہ خلیل ،نبیلہ خلیل اور ذیشان عرف مولوی کے نام بطور دہشت گرد درج تھے اور محلے داروں، رشتے داروں کے مطابق یہ شریف شہری تھے تو اس 'مبینہ'ریڈ بک کی کیا ساکھ رہ جاتی ہے؟ دوسری صورت میں کیا 'داعش'اس قدر پھیل چکی ہے کہ پورا محلہ، پورا گاؤں بلکہ اب تو پورا ملک ان 'خطرناک 'دہشت گردوں کے لیے سراپا احتجاج ہے۔ کیا ہم سب داعش کے رکن ہیں؟

    ہماری پولیس کی ساکھ کیا ہے سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آدھے سے زیادہ جرائم کا اندراج کرانے کوئی جاتا ہی نہیں۔ مجرموں سے زیادہ نقصان پولیس والے ’چائے پانی'مانگ مانگ کر پہنچا دیتے ہیں۔ اگر کوئی جی دار کیس درج کرانے کی ٹھان ہی لیتا ہے تو اس کی 'کچی رپورٹ'کو پکی 'ایف آئی آر'تک پہنچانے کے لیے سفارشوں اور رشوتوں کے پل باندھنے پڑتے ہی فٹا فٹ 'ایف آئی آر'اسی وقت درج ہوتی ہے جب کسی سے دشمنی نکالنے کو اس پر 'مدعا'ڈالنا ہو۔ غیر تربیت یافتہ، غیر ذمہ دار پولیس اہلکار، جو زیادہ تر، برادری اور سفارشوں رشوتوں کے بل پر بھرتی کیے جاتے ہیں، ایسے واقعات کا باعث بنتے ہیں۔ 

    ماورائے عدالت قتل، ہمارے خطے میں ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ الٹا ایسے پولیس والوں کو شجاعت کا نشان گردانا جاتا ہے۔ پولیس کے متضاد بیانات کا پول کبھی نہ کھلتا اگر جائے وقوعہ کی کئی ویڈیوز سامنے نہ آ جاتیں۔ یہ 2019 ہے، ہمارے ادارے آج بھی کالونیل دور میں جی رہے ہیں۔ انھیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جلیانوالہ باغ ہو، پشاور کا سن تیس ہو ، سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا ساہیوال ٹول پلازہ کا 'مبینہ'پولیس مقابلہ، ایک 'ریڈ بک 'تاریخ کے پاس بھی ہے جس میں بڑے واضح اور جلی حروف میں ظالموں کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے اور تاریخ اپنے مجرموں کو کبھی معاف نہیں کرتی ہے۔

    آمنہ مفتی
    مصنفہ و کالم نگار

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    ساہیوال ٹول پلازہ پر والد، والدہ، بچی اور گاڑی ڈرائیو کرنے والے والد کے دوست کو تو پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے ماہرین نے دہشت گرد قرار دے کر مار دیا سو مار دیا۔ اس کے ذمہ داروں کو مثالی سزا ملے نہ ملے یہ سب اب اس خاندان کے لیے بےمعنی ہے جو پلک جھپکتے میں آدھا رہ گیا۔ اگر حکومتِ پنجاب اور وفاقی حکومت میں واقعی اس سانحے کے تعلق سے رمق برابر بھی سنجیدگی باقی ہے تو اس دس سالہ بچے اور اس کی دو بہنوں کی پولیس اور میڈیا سے ہی حفاظت کر لے جو زندہ بچ جانے والے سب سے اہم عینی شاہد ہیں۔ ان جعلی مقابلوں سے بھی کہیں المناک یہ پہلو ہے کہ پشیمانی تو گئی بھاڑ میں، قاتل خود کو بچانے کے لیے جھوٹ کی ہر حد پھلانگ جاتے ہیں۔ تب اندازہ ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور وردی کی حرمت ایک خوبصورت لفظی فریب کے سوا کیا ہے؟

    شاید آپ کو یاد ہو کہ 20 مئی 2011 کو کوئٹہ کے نواحی علاقے خروٹ آباد میں ایف سی کی چوکی کے قریب دو خواتین سمیت پانچ چیچن پناہ گزینوں کو مشکوک سمجھ کر گولی ماری گئی۔ تصاویر کے مطابق ایک عورت نے زخمی حالت میں سفید رومال بھی لہرایا، تب بھی فائرنگ اس وقت تک بند نہ ہوئی جب تک ان کے مرنے کا پورا اطمینان نہ ہو گیا۔ پولیس اور ایف سی کی جانب سے فوری بیان یہ جاری کیا گیا کہ یہ سب خودکش بمبار تھے۔ انھوں نے ایف سی چوکی پر دستی بم اچھالے جس سے ایک فوجی بھی شہید ہو گیا۔ کوئٹہ کے سی سی پی او داؤد جونیجو نے پریس کانفرنس کی کہ ان کے قبضے سے 48 فیوز اور سات ڈیٹونیٹرز بھی برآمد ہوئے اور یہ پانچوں اپنے ہی دستی بم پھٹنے سے ہلاک ہوئے انھیں مسلح اہل کاروں نے نہیں مارا۔

    مگر پتہ چلا کہ مرنے والوں کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا، نہ ہی کوئی فوجی مرا۔ پوسٹ مارٹم میں بھی تصدیق ہو گئی کہ لاشوں پر گولیوں کے نشانات تھے، بارود کے نہیں۔ ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کے عدالتی کمیشن نے سی سی پی او سمیت تین پولیس والوں اور ایف سی کے ایک کرنل کو ذمہ دار قرار دیا۔ سزا کیا ملی؟ نوکری سے معطلی. گذشتہ برس کراچی کی شاہراہ فیصل پر رکشے میں سوار ایک مسافر مقصود کو ڈاکو قرار دے کر اتارا گیا اور فٹ پاتھ پر بٹھا کے گولی مار دی گئی اور پھر یہ بیان جاری ہوا کہ مقصود کو اس کے ساتھی ڈاکو ہلاک کر کے فرار ہو گئے مگر سی سی ٹی وی فوٹیج نے تمام جھوٹ چوپٹ کر دیا۔
    ایس ایس پی راؤ انوار نے نقیب اللہ محسود کو تین دیگر افراد سمیت طالبان دہشت گرد قرار دے کر مارا اور ان کے قبضے سے بھاری اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ نقیب اللہ محسود تو سو فیصد بےگناہ تھا اور اس کے ساتھ مارے جانے والوں میں سے دو وہ تھے جو مرنے سے لگ بھگ ڈیڑھ برس پہلے بہاولپور سے جبری لاپتہ ہو گئے تھے۔

    عجیب بات ہے کہ جو مجرم جیل یا تھانے میں ہلاک ہو جاتے ہیں ان میں سے 90 فیصد کو یا تو دل کا دورہ پڑتا ہے یا پھر وہ دوسری منزل سے کود کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ کئی ملزم پولیس کی نگرانی سے فرار ہوتے ہوئے جب مارے جاتے ہیں تو ان کے ہاتھ ایک ہی ہتھکڑی سے بندھے ہوتے ہیں۔ شاید انہی بندھے ہاتھوں سے وہ پولیس کا اسلحہ چھین کر اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوتے ہیں مگر پولیس والوں کو معجزانہ طور پر خراش تک نہیں آتی۔ اس طرح کی وارداتوں سے ہوتا یہ ہے کہ متعلقہ اداروں کی اچھی اور پیشہ ورانہ کارکردگی پر بھی گرد پڑ جاتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ان اداروں کے بغیر گزارہ بھی نہیں۔ 

    جب گزارہ نہیں تو پھر ایسی اصلاحات اور ڈھانچے کی تشکیل سے کیوں مجرمانہ غفلت برتی جا رہی ہے جن کے نتیجے میں تحقیق، تدارک اور خود احتسابی کے عمل کو جدیدیا کر کے ایسے واقعات کا تناسب کم سے کم کیا جا سکے؟ جیسا کہ ہوتا ہے، بس ایک آدھ ہفتے ساہیوال سانحے کا مزید شور رہے گا اس کے بعد تو کون میں کون۔ مرنے والے پہلے والوں کی طرح صرف ہندسے بن کے رہ جائیں گے اور قاتل معطل یا جبری ریٹائر ہو جائیں گے۔ تحقیقاتی رپورٹ ضرور مرتب ہو گی، مگر تحقیق ہونا اور حقائق سامنے لانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کچھ عرصے بعد مجھ جیسے ایک بار پھر ایسی ہی کسی اور واردات کا مرثیہ کہہ رہے ہوں گے۔

    وسعت اللہ خان
    بشکریہ بی بی سی اردو

     


    0 0

    ساہیوال میں پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے بھائی جلیل کا کہنا
    ہے کہ حکومت کی جانب سے ہمیں 2 کروڑ روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا گیا، ہماری قیمت 2 کروڑ لگانے والے ہم سے ڈھائی کروڑ لے لیں۔ لاہور میں مقتول خلیل کے بھائی جلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیسے نہیں چاہئیں، ہمارے پیارے واپس لا دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا ایک اور دعویٰ جھوٹا نکلا، وزیر قانون پنجاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہم سے رابطہ ہوا تھا، مگر ہم سے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ مقتول کے بھائی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں انصاف کی امید نہیں، ادارے حقائق سامنے لائیں، تحقیقات کے بغیر کسی کو دہشت گرد کیسے قرار دے دیا گیا ؟