Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 96 | 97 | (Page 98) | 99 | 100 | .... | 149 | newer

    0 0

    اداریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    یہ قیاس ہوتا ہے کہ سندھ کی ’’سلطنت‘‘ (اگر اس کی وسعت کی وجہ سے اسے یہ
    نام دینا جائز ہے) کے خاتمے کے بعد تمدنی انتشار کا ایک لمبا دور گزرا۔ کچھ اسی طرح کے حالات نے سندھ کی تہذیب کو جنم دیا تھا مگر اب ان حالات میں کچھ دُور افتادہ بیرونی عناصر بھی شامل ہو گئے تھے۔ ہڑپہ میں تہذیبِ سندھ والے شہر کی جگہ شاید خاصی مدت گزر جانے کے بعد ’’قبرستان ایچ‘‘ کا تمدن وجود میں آیا۔ یہ نام اسے ایک قبرستان کی وجہ سے دیا گیا ہے جو حقیقی ہڑپہ تمدن کے کھنڈرات کے ساتھ پایا گیا ہے۔ قبرستان ایچ والے لوگ بھدی اور بے ڈھنگی عمارتیں اور اچھی نقاشی والے مٹی کے برتن بناتے تھے۔

    ان میں کچھ نیم ہڑپہ عناصر موجود ہیں مگر بنیادی طور پر وہ اپنی مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمدن وسطی سندھ کے ایک ٹکڑے تک محدود تھا لیکن اس کی کافی کھوج ابھی نہیں ہوئی ہے۔ موہنجو داڑو کے 80 میل جنوب میں سندھ کی تہذیب کے چھوٹے قصبے چاہنو داڑو کی جگہ پر نچلے درجے کے ایک کے بعد ایک کر کے دو غاصب تمدن قائم ہوئے۔ انہیں مقامی ناموں ’’جُھکر‘‘ اور ’’جھنگر‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تیس میل دور آمری میں بھی یہی ہوا۔ جُھکر والے دیہاتی مٹی کے برتن بناتے تھے اور گول بٹن جیسی مہریں استعمال کرتے تھے جن پر عموماً گول یا چوکور خانے دار نمونے بنے ہوئے تھے۔ یہ شمالی ایران اور کاکیشیا میں دوسرے ہزار سالہ قبل مسیح قرن میں پائے جانے والے نمونوں کے مشابہہ ہیں۔
    شمالی بلوچستان کی ژوب وادی میں مغل فنڈی مقام پر قبروسائی نشاندہی کرنے والے ڈھیروں سے ایک تین پایوں والا مرتبان‘ گھوڑے کی گھنٹیاں‘ انگوٹھیاں اور چوڑیاں پائی گئی ہیں۔ ان کا موازنہ وسطی ایران میں سیالک کے مقام پر ’’قبرستان بی‘‘ سے برآمد ہونے والے سامان سے کیا گیا ہے۔ یہ سامان لگ بھگ ایک ہزار سال قبل مسیح کا ہے‘ لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد کا ہی ہو۔ کچھ اِکادُکا چیزیں دریافت ہوئی ہیں‘ جو اسی طرح مغرب میں ایران اور کاکیشیا کی طرف اشارہ کرتی ہیں‘ ان کی مثالیں ہیں۔ لگ بھگ بارہویں صدی قبل مسیح کا کانسے کا مشہور چُھدا جو سندھ کے مغرب میں کوہ سلیمان میں واقع فورٹ مندو سے ملا ہے اور تانبے کا ایسا محور والا کلہاڑا جو افغانستان کی سرحد پر قدم وادی میں پایا گیا ہے۔

    اس تھوڑے سے سامان سے مجموعی طور پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی کم مایہ تمدنوں کو کچھ تو اپنی نیم سندھی وراثت سے ملاتی اور کچھ عناصر انہوں نے شمالی مغرب سے حاصل کرکے اپنے اندر سمو لئے تھے۔ حسب سمت سے درحقیقت آریوں کے حملے ہوئے تھے۔ مادی طور پر وادئ سندھ میں عظیم تہذیبِ سندھ اور اس کے بعد وجود میں آنے والے کم مایہ تمدنوں کے درمیان کوئی حقیقی تسلسل نہیں تھا۔ اس تسلسل کی غیرموجودگی غور طلب ہے۔

    زبیر رضوی


    0 0

    دنیا کی بے ثباتی کا کون گواہ نہیں‘ زندگی کی بے وفائی کا کسے احساس نہیں‘ رنگ و بُو کے اس جہاں میں کیسے کیسے ذیشان لوگ آئے‘ آب وگل کی اس کائنات میں عظیم ہستیوں نے جنم لیا۔ ان کی جلائی ہوئی شمعیں اپنی ضوفشانیوں سے زندہ قوموں کو ہمیشہ راستہ دکھاتی رہتی ہیں۔ دعوت و عزیمت کے ایک ایسے ہی کارواں کے قائد کو دنیا احسان الٰہی ظہیر کے نام سے جانتی ہے۔ ان کا شمار ملک کے نامور علماء دین اور بے باک سیاستدانوں میں ہوتا تھا۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ مگر ان کی شعلہ نوا خطابت‘ ان کی بے خوف سیاست اور ان کی دبنگ شخصیت کی مہک بیس برس کے بعد بھی ابھی تک وطن عزیز کی فضائوں میں رچی بسی ہے۔ 
    چھیالیس سال کی مختصر سی زندگی میں وہ اپنے کردار وعمل سے صدیوں کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ یہاں صر ف آقائے نامداررسول کریم ﷺ سے ان کی سچی محبت اور والہانہ عشق کے مختلف گوشوں اور شعلہ نوا خطابت کے تناظر میں کچھ گزارشات پیش ہیں۔ تحریک ختم نبوتؐ میں ان کا کردارپوری دنیا پر آشکار تھا۔ جس کا اعتراف لندن سے شائع ہونے والے ایک جریدے نے بھی کیا۔ اس نے برصغیر پاک وہند کے بارے ایک مضمون میں حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ‘ علامہ اقبال‘ پنڈت جواہر لال نہرو اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصاویر شائع کیں۔ علامہ اقبالؒ کی تصویر اس لئے شائع ہوئی کہ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے اسلامی مملکت کا تصور پیش کیا۔ حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر اس لئے کہ انہوں نے علامہ اقبالؒ کے تصور کو عملی جامہ پہنایا۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی تصویر اس لئے شائع کی کہ انہوں نے انگریز کی سازش سے برصغیر کے مسلمانوں میں قادیانیت کے نام سے ایک فرقے کی بنیاد رکھنے والے غلام احمد قادیانی کی پس پردہ سرپرستی کی تھی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر کی تصویر اس لئے شائع کی کہ اس نوجوان عالم دین نے قادیانیت کی سازش کو بے نقاب کر کے اسے خارج از اسلام قرار دلوانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ 

    انہوں نے مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد وطن واپس آ کر وقت کی سیاسی تحریکوں اتحادوں اور مسجد چینیانوالی میں اپنی خطابت کے وہ جوہر دکھائے کہ انہیں لوگوں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری ثانی ؒ قرار دیا۔ وہ فِرق کے عالم تھے انہیں اپنی شعلہ نوا خطابت پر فخر تھا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ’’ میں حضرت نبی اکرمؐ کے ختم الرسل ہونے پر مکمل یقین رکھتا ہوں ۔ میں نبوت کے جھوٹے دعویدار غلام احمد قادیانی کو مرتد اور کاذب کہتے وقت مصلحتوں سے کام کیوں لوں۔ میں اپنے ایمان اور عقیدے میں سیاسی مصلحتوں کی آلودگی قبول کر کے اپنی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ میں اس ملک میں قیامت تک اقتدار میں نہ آئوں مجھے کوئی غم نہیں ہو گا۔ میں کلمہ حق کہنے سے کبھی نہیں ہچکچائوں گا۔‘‘ وہ سچے عاشق حضرت رسول اکرمؐ تھے۔ ‘‘ ان کی ایمان افروز تقریروں نے جذبات اور احساسات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔

    ان کی یادیں دلوں میں خزاں کا عالم برپا کئے ہوئے ہیں۔ طلب ثروت ان کا مقصد حیات نہ تھا۔ بلکہ دنیا کی جاہ و حشمت کو ٹھوکر لگا کر وہ ہمیشہ آرزوئے مغفرت کے طلبگار رہے۔ آپ مدینہ یونیورسٹی کے طالب علم رہے‘ یہاں سے امتیازی شان کے ساتھ امتحانات میں کامیاب ہوئے تھے۔ مدینہ ان کا دوسرا گھر تھا۔ ان کی زندگی مدینے والے کے پیغام ہی کو عام کرنے کیلئے وقف تھی۔ وہ اسی شہر میں موت کی تمنا کرتے تھے ،ان کی یہ خواہش رب نے پوری کر دی۔ وہ جنت البقیع میں حضرت امام مالکؒ کے پہلومیں دفن کئے گئے ۔ توحید کا ترانہ انہوں نے اس شان سے گایا کہ سننے والا جھوم جھوم اٹھے۔ قادیانیوں کے خلاف انہوں نے معرکے کی تحریریں لکھیں۔ اس گروہ کے خلاف ان کا قلم تلوار بنا ہوا تھا۔ احسان الٰہی ظہیر کو اس کے معاصرین سے بھی خوب داد ملی۔ آغا شورش کاشمیری انکے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’انشاپردازی ان کی جیب کی گھڑی اور تقریر و خطابت ان کے ہاتھ کی چھڑی تھی‘‘۔

    ممتاز عالم دین مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے شاہی مسجد کے باطل شکن اجتماع میں ان کی خطابت کی جلوہ سامانیوں اور بگڑے ہوئے حالات پر قابو پانے کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں پر آفرین کہتے ہوئے انہیں شیرقرار دیا۔ عرب کے شہرہ آفاق خطیب ڈاکٹر مصطفی السبائی نے کہا کہ ان کے لب و لہجے اور اسلوب بیان نے قدیم عرب کے خطباء کی یاد تازہ کر دی ہے اور ہم نے عالم اسلام میں ان سے بڑا خطیب نہ دیکھا اور نہ سنا ہے۔ ان کے الفاظ کا جادو مخالفین کے سر چڑھ کر بولتا رہا۔ ان کی تقریریں خوف نکال باہر کرتی تھیں۔ طاقتوروں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتی تھیں۔ کمزوروں کے دل سے کمزوری کااحساس ختم کر دیتی تھیں۔ وہ اسلام اور اپنے وطن سے بے حد محبت کرتے تھے۔

    سانحہ مشرقی پاکستان پر وہ بہت رنجیدہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار سقوط ڈھاکہ کے اگلے روز چینیاںوالی مسجد میں تاریخی خطبہ جمعہ میں کچھ یوں کیا تھا۔ ’’کہ آج ہماری اٹھی ہوئی گردنیں جھک گئی ہیں ‘آج ہمارے تنے ہوئے سینے سکڑ کر رہ گئے ۔ ہماری آوازیں کجلا گئی ہیں ۔ آج ہماری روح مرجھا گئی ، آج ہمارے دل بیٹھ گئے اور ہمارے اعصاب ٹوٹ گئے ۔ آج ہمارے جسم چھلنی ہو گئے ۔ آج ہمارے دل زخمی ہو گئے اور آج ہمارے جگر پھٹ کر رہ گئے ہیں۔ آج یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ آج ڈھاکہ کی مسجد بیت المکرم ہمارے پاس نہیں رہی۔ آج ہم اس لئے اپنی آنکھوں کے سامنے جالے محسوس کرتے ہیں کہ آج چٹاگانگ کی عید گاہ ہم سے چھن گئی ہے۔ ‘‘

    انہوں نے سلطانی جمہور کا پرچم بلند کئے رکھا اورکتاب وسنت کے نفاذ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ وقت کے حاکموں کے ظالمانہ اقدامات کوزبان و قلم کے وار سے روکنے کی پوری کوشش کی۔ حریت فکر کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ انہوں نے جوانوں میں عقابی روح پیدا کی۔ اپنی ولولہ انگیز خطابت سے ان میں بے باکی پیدا کی۔ سیاسی پنڈتوں کے جال توڑنے میں کبھی شکست نہ کھائی اور ہمیشہ اذان حق بلند کی۔ وہ شرک وبدعت کے قاطع اور قرآن وسنت پر فاتح نظر آئے۔ ان کے اعمال میں سنت تھی، توحید تھا۔ سیاست کے نشیب وفراز میں انہیں جہاد اور شہادت کی امنگ رہتی۔ قرآن و سنت کی تعلیمات کے پھیلانے اور پھر اپنے اس پاکیزہ مقصدکے حصول کیلئے ہمہ تن مقابلہ کرنا ان کا شغف عین تھا۔ ان کی زبان میں زہر نہیں تھا لیکن تاثیر اتنی زیادہ ہوتی تھی کہ شہد مخالفین کے دل میں زہر بن کر انہیں گھائل کر دیتا۔ ان سے جواب نہ بن پاتا تو تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے۔ 

    انہیں موت کی دھمکیاں ملتیں ۔ لیکن احسان الٰہی ظہیر نے آخری لمحے تک باطل سے مفاہمت نہ کی۔ سچ کا ساتھ نہ چھوڑا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ :’’ آگ اور خون کا ایک دریا ہے‘ جس پر ہمیں حق اور سچائی کا پل تعمیر کرنا ہے‘ پھر اسے پاٹنا ہے تب جا کے ایک انقلاب آئے گا‘ نہ جانے اس جدوجہد میں ہم سے کون اس دریا کی نذر ہو جائے۔‘ ‘ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’میں کسی بزدل کا بیٹا نہیں مجھے اس ماں نے جنا ہے جو مجھے تختہ دار پرلٹکتا دیکھ کر یہ کہے گی کہ ابھی اس خطیب کے منبر سے اترنے کا وقت نہیں آیا۔‘‘

    بن یوسف

     


    0 0

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خدمت انسانیت کے علمبردار مرحوم عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں 50 روپے مالیت کا یادگاری سکہ جاری کر دیا۔ اس سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب میں گورنر اسٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا نے خصوصی سکے عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی کو پیش کیے۔ یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی وہ واحد سماجی کارکن ہیں جن کے نام پر یادگاری سکے جاری کیے گئے ہیں۔ پاکستان میں اب تک یہ اعزاز صرف پانچ شخصیات کو حاصل ہے جن میں قائداعظم محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محترمہ فاطمہ جناح، محترمہ بے نظیر بھٹو اور اب عبدالستار ایدھی بھی شامل ہیں۔

    اس سکے کا کل وزن 13.5 گرام ہے جبکہ یہ 75 فیصد تانبہ اور 25 فیصد نکل پر مشتمل ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کے مطابق ابتدائی طور پر پانچ ہزار سکے جاری کیے گئے ہیں جو 16 مراکز پر دستیاب ہونگے جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید سکے جاری کر دیے جائیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے اس موقع پر عبدالستار ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات کو سراہا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ تقریب میں موجود فیصل ایدھی نے کہا کہ ’میں اسٹیٹ بینک کا مشکور ہوں جنہوں نے عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری سکے جاری کیے‘۔ فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ ’عبدالستار ایدھی عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور لوگوں کی فلاح کے لیے ان کا مشن ہمیشہ جاری رہنا چاہیے‘۔
    سکے پر سامنے کی جانب عبدالستار ایدھی کا سال وفات درج ہے جبکہ سکے کے عقبی رخ پر عبدالستار ایدھی کی تصویر اور عرصہ حیات بھی درج ہے۔
    خیال رہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی رواں ماہ 8 جولائی کی شب 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے، انہیں گردوں کا عارضہ لاحق تھا۔
    گزشتہ برس جولائی میں ہی وزیراعظم نواز شریف نے اسٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کی تھیں کہ سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کی یاد میں یادگاری سکے جاری کیے جائیں۔ پاکستان میں عبدالستار ایدھی کو انسانیت کی خدمت کے اعتبار سے لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے، انہوں نے خالی ہاتھ اپنا سفر شروع کیا اور ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ ایدھی اور ان کی ٹیم نے میٹرنٹی وارڈز، مردہ خانے، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اولڈ ہومز بھی بنائے، جس کا مقصد معاشرے کے غریب و بے سہارا لوگوں کی مدد کرنا تھا۔

    اس ادارے کا نمایاں کارنامہ 1500 ایمبولینسوں پر مبنی ایمبولینس سروس ہے جو ملک میں دہشت گرد حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔ سنہ 2000ء میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ایدھی فاؤنڈیشن کا نام دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ایمبولینس سروس کے طور پر درج کیا گیا تھا۔


    0 0

    ست پارہ جھیل اپنے پانی کے گہرے، انتہائی گہرے سبز رنگ، وسط میں واقع ایک چھوٹے سے جزیرے اور اپنی وسعت کے باعث مجھے بے حد محبوب تھی ۔ اب یہاں ست پارہ ڈیم بنایا جا رہا ہے۔ بلندی سے دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پتھر کی انگشتری میں ایک گہرا سبز زمرد جڑا ہوا ہے۔ جو قریب آنے پر پھیل کر ست پارہ جھیل بن جاتا ہے۔ دیوسائی سے واپسی پر پہلے ست پارہ گائوں آتا ہے۔ اور ہرے بھرے کھیت اور سبز درختوں کے جھنڈ اس پتھریلے منظر میں رنگ بھرنے لگتے ہیں۔ پھر بائیں ہاتھ جھیل کو رکھتے ہوئے راستہ سکردو شہر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ ڈیم کی تعمیر جاری تھی اور جھیل کی سطح بلند ہو کر کافی وسیع ہو چکی تھی۔ اور اس کے درمیان چھوٹا سا ٹاپو بہت حد تک ڈوب چکا تھا اور اب صرف اس کا بالائی سرا اور چند درختوں کی چوٹیاں دکھائی دیتی تھیں۔
    اس جھیل سے سکردو کو پینے کا پانی بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ جو ایک تندوتیز پختہ نالے کی شکل میں آپ کے ساتھ ساتھ سکردو تک چلتا ہے۔ جب ہم کچی پگ ڈنڈی پر چلتے اس ٹیلے پر پہنچے جہاں بدھ کے مجسمے والی چٹان زیرِ آسمان پڑی موسموں کے تغیر جھیل رہی ہے تو یہ دیکھ کر دکھ ہوا اس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔  بس اس کے گرد خاردار تار کی باڑ لگا کر کانٹوں والی جھاڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ (پہلے تو یہ بھی انتظام نہیں تھا)۔ پھر ہمارے بھائیوں نے نہایت بھدے اور جلی حروف میں سرخ روغن سے اس تاریخی چٹان پر ’’نظر سے قتل کرڈالو نہ ہو تکلیف دونوں کو۔‘‘ جیسے بازاری شعر اور اپنے نام پتے ’’دائود خان آف ------ ‘‘ وغیرہ مع ٹیلی فون نمبروں کے درج کر دئیے ہیں۔ مجھے نہیں علم کہ اس کام کا مقصد یا فائدہ کیا ہے؟ البتہ یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی غیر اسلامی ملک میں مسلمانوں کے کسی مقدس مقام کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے تو ہمارے جذبات اور احساسات کیا ہوں گے؟ ہم کچھ دیر خاموش بیٹھے سستاتے رہے۔ اگر آپ بدھ صاحب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوں تو آپ کی دائیں جانب دور تک سکردو کی آبادی اور اس سے پرے افق میں گم ہوتا صحرائی منظر پھیلا دکھائی دیتا ہے.

    عمران الحق چوہان

     


    0 0

    سیاستدان ہو کہ صحافی دونوں کو زندہ رہنے کے لیے خبر چاہیے۔ اور خبر بھی کراچی، لاہور، پشاور یا اسلام آباد میں چاہیے۔ پارہ چنار میں 24 افراد کی ہلاکت اور 74 کا زخمی ہونا ایک اور افسوس ناک واقعہ ضرور ہے مگر خبر نہیں۔ اگر ہے بھی تو تین بلیٹنز کے بعد چوتھے گھنٹہ وار بلیٹن کی شہہ سرخی بننے کے قابل نہیں۔ خیبر ایجنسی میں نمازِ جمعہ کے موقع پر ایک مسجد میں بم پھٹنا اور تیس سے زائد نمازیوں کا مرنا کافی نہیں۔ آپریشن ضربِ عضب کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم کراچی ایئرپورٹ پر حملے میں دس دھشت گرد مارے جائیں۔

    نیشنل ایکشن پروگرام اور فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے کوئٹہ کی ہزارہ برادری کی نسل کشی اور ہزاروں کی تعداد میں ہجرت اور یوحنا آباد اور گوجرہ کی کرسچن بستیوں کا جلنا کافی نہیں تاوقتیکہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں ڈیڑھ سو بچے اور اساتذہ نہ مریں۔ آپریشن ردّ الفساد اور فوجی عدالتوں کا احیا تبھی ممکن ہے جب لاہور کے چیئرنگ کراس پر دس شہریوں کی ہلاکت اور پاک افغان سرحد بند کرنے کے لیے سیہون میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو جائے۔ کوئٹہ سول اسپتال میں پچاس وکلا اور شاہ نورانی کے مزار پر ساٹھ سے زائد لاشیں گرنے سے کام نہیں چلے گا۔
    حالانکہ پارہ چنار پاک افغان سرحد سے ایک پتھر کی مار پر ہے مگر یہ کوئی ایسا بڑا واقعہ تو نہیں جس کے لیے کابل حکومت سے رسمی احتجاج بھی کیا جا سکے۔ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بڑے بڑے واقعات ہوتے ہی رہتے ہیں۔ چلڈرن آف لیسر گاڈ۔۔۔ خبر تو اصل میں یہ ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنایا جائے گا کہ نہیں۔ خبر یہ ہے کہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو چھ ماہ کے لیے قومی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا۔ خبر تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ خبر تو یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی نے کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف دو گھنٹے کے لیے شاہراہِ فیصل بند کر دی۔

    اور سب سے بڑی خبر تو یہ ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی تا کہ یہ یقین کیا جا سکے کہ جنرل صاحب آج بھی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں کہ نہیں۔ یہ چیک کیا جا سکے کہ تھرڈ ایمپائر کی انگلی اب بھی کام کرتی ہے کہ نہیں۔ اور اس سے بھی بڑی خبر مریم نواز کی یہ ٹویٹ ہے کہ وزیرِ اعظم کے گردے میں ایک چھوٹی سی پتھری ہے مگر آپریشن کی ضرورت نہیں۔ وزیرِ اطلاعات مریم اورنگ زیب نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے پیٹ میں کچھ درد سا اٹھا تاہم اللہ تعالی کے فضل و کرم سے وزیرِ اعظم اپنے فرائض بخیر و خوبی انجام دے رہے ہیں۔

    یہ اتنی بڑی خبر ہے کہ دو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں ان اسباب کا سیر حاصل تجزیہ بھی ہو گیا کہ ایسے وقت جب پاناما کیس کا فیصلہ سر پر ہے وزیرِ اعظم کے پیٹ میں درد اٹھنے کا مطلب اور مقصد کیا ہے؟ کیا یہ ججوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش تو نہیں؟ کہنے کو پاکستان کا رقبہ سات لاکھ چھیانوے ہزار پچانوے مربع کلومیٹر اور آبادی اٹھارہ سے بیس کروڑ کے درمیان ہے۔ لیکن میڈیا کے خبری نقشے کا پاکستان دیکھا جائے تو یہ ملک چھ شہروں (اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور کراچی) پر مشتمل ہے جس کا رقبہ دس ہزار دو سو تئیس مربع کلو میٹر اور آبادی پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ اس میڈیائی پاکستان کو چھینک بھی آجائے تو بریکنگ نیوز ہے۔ اور باقی پاکستان خود کشی کر لے تب بریکنگ نیوز ہے۔
    پیمرا جب لائسنس بانٹ رہا تھا تو جانے عقل کہاں بٹ رہی تھی؟

    وسعت اللہ خان
    تجزیہ کار


    0 0

    کچھ عرصہ پہلے ایک چینل کے اینکر نے ایک کالم میں سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید سے ایک ملاقات کا ذکر کیا، جس میں ان کے بقول اُنہیں پی ٹی وی میں ڈائریکٹر نیوز کی پوسٹ کی پیشکش کی گئی تھی، جو انہوں نے ٹھکرا دی، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ایک معنی خیز تبصرہ کیا کہ اگر وہ یہ پیشکش قبول کر لیتے تو آج پرائیویٹ سیکٹر میں صحافت کی دُنیا میں وہ مقام حاصل نہ کر پاتے جو اُنہیں اِس وقت حاصل ہے۔ ان کی یہ بات غور طلب ہے کہ کیا واقعی پی ٹی وی نیوز میں ٹیلنٹ کی کوئی گنجائش نہیں یا وہاں ایسی فضا قائم ہے جو ٹیلنٹ کی قاتل ہے پرائیویٹ چینلوں میں اس وقت اوروں کے علاوہ طلعت حسین، کاشف عباسی، قطرینہ حسین،عاصمہ شیرازی وغیرہ بڑے کامیاب اینکر سمجھے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی وی سے اڑان بھری ہے اور ان بلندیوں پر پرواز کر رہے ہیں۔ ثابت ہو گیا کہ پی ٹی وی میں ان کا قیام ان کی پرواز میں کوتاہی کا باعث نہیں بنا۔ تاہم یہ سب لوگ پی ٹی وی میں وزیٹر تھے۔ مستقل ملازمین کے کردار کا جائزہ لیں تو اوپر ذکر کئے گئے اینکر کی بات میں کچھ صداقت نظر آتی ہے۔
    یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی وی کے بڑے کامیاب لوگ بھی ریٹائرمنٹ کے بعد نجی شعبے میں کہیں نظر نہیں آئے۔ اس میں شاید نجی چینلوں میں اچھی پوزیشن پر موجود ان لوگوں کا تعصب بھی کام کر رہا ہو جو پی ٹی وی سے ہو کر گئے تھے تاہم یہ بھی صحیح ہے کہ پی ٹی وی میں سرکاری پالیسیوں کی گھٹن اور لیڈر شپ کی طرف سے جدت اور Initiative کی حوصلہ شکنی نے ورکرز کے ٹیلنٹ کو ناکامی سے دوچار کیا۔ پالیسی کی حد تک سیاسی اور فوجی حکومتوں کا اتفاق رائے رہا ہے،52 سال کی پی ٹی وی کی تاریخ میں بہت مختصر چند وقفے آئے جب پی ٹی وی کو ایڈیٹوریل آزادی ملی۔ ایک دفعہ تو وزیر اطلاعات جاوید جبار کو اسی شوق میں وزارت بھی قربان کرنا پڑی۔ یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا ابتدائی دور تھا۔ اب نجی چینلوں کی بھرمار سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر پی ٹی وی کو لبر الائز کرنے کی ضرورت اور موقع تھا، لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور عجب ستم ظریفی ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہی نجی چینل بنے ہیں۔ ہوا یہ ہے کہ نجی چینلوں کی اکثریت نے شعوری یا غیر شعوری طور پر منفی ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے یہ حکومت کے لئے بھی منفی ہے اور وسیع تناظر میں معاشرے کے لئے بھی، ان چینلوں نے حکومت کا تقریباً بائیکاٹ کر رکھا ہے اور صرف منفی خبریں دی جاتی ہیں۔

    ایک صحافی کی حیثیت سے مَیں بعض دفعہ یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ کوئی غیر ملکی وزیر خارجہ یا کوئی اور اہم آدمی پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو نجی چینل اس کا تقریباً بائیکاٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم کسی ترقیاتی منصوبے کا افتتاح کر رہے ہیں تو اس کا بھی بائیکاٹ مثلاً حال ہی میں اسلام آباد میں اہلِ قلم کانفرنس ہوئی، جس میں مُلک بھر سے چار پانچ سو اہلِ قلم کے علاوہ کچھ غیر ملکی مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے افتتاح اور صدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کیا ،لیکن کسی چینل نے لائیو نہیں دکھایا اور نہ ہی شاید کسی نے کوئی پروگرام کیا۔ اس قسم کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ اس صورتِ حال میں حکومت کا پی ٹی وی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔

    پی ٹی وی ہی ایک چینل ہے، جس کے ذریعے حکومت اپنا نقطہ نظر لوگوں تک پہنچا سکتی ہے۔ پی ٹی وی اور وزارتِ اطلاعات کے ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ اِن حالات میں پی ٹی وی کو مضبوط کرنے کی بڑی ضرورت ہے، لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ انہوں نے پی ٹی وی سے سرے سے توجہ ہٹا لی ہے اور اس قومی ادارے کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ اس وقت پی ٹی وی میں قیادت کا شدید بحران ہے، ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کی پوسٹ خالی ہے۔ ایم ڈی کی پوسٹ ایک سال سے خالی ہے اور ابھی تک بھرتی کے لئے اشتہارہی نہیں دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کی پوسٹ پر ہفتوں اور مہینوں میں تبدیلی ہو رہی ہے۔ انگریزی چینل پی ٹی ورلڈ بھی ایک کنٹرولر کے حوالے ہے، نہ اس کا کوئی ڈائریکٹر ہے اور نہ چینل ہیڈ۔ ڈائریکٹر نیوز حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔

    اس سے پہلے ایک کنٹرولر کے پاس بڑی دیر چارج رہا، اس شخص کی کنٹرولر کی پوسٹ پر ترقی بھی مشکوک طریقے سے کی گئی تھی۔ نتیجہ حسبِ توقع بہت خراب نکلا اور پی ٹی وی کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار باب کا اضافہ ہو گیا اور اس شخص کو ملازمت سے ڈسمس کر دیا گیا، لیکن بعد از خرابی بسیار۔ یہ ساری صورتِ حال پی ٹی وی میں قیادت کے خلاسے پیدا ہوئی ہے، اب بھی وقت ہے کہ ادارے کی تنظیم نوکی جائے اور ایک فل ٹائم ایم ڈی مقرر کیا جائے۔ ایک تجربہ کار شخص کو پی ٹی وی نیوز کا چینل ہیڈ مقرر کیا جائے، جو صورتِ حال کو سنبھال سکے۔ انگریزی چینل کے لئے بھی ایک سینئر آدمی کی ضرورت ہے۔

    پی ٹی وی کے زوال کی کہانی کئی عشروں پر محیط ہے ہر حکومت اور شاید ہر ایم ڈی نے اس میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بے شمار لوگوں کو صرف سیاسی بنیادوں پر ملازم رکھا، جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں پی ٹی وی اور وزارت اطلاعات میں ایسے پارٹی وفا داروں کی تنخواہوں پر کروڑوں روپے سالانہ خرچ ہوتے تھے۔ میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری بہت برسوں سے عروج پر ہے۔ باہر سے آنے والے منیجنگ ڈائریکٹروں نے بھی ایک آدھ کے سوا ادارے کے وسائل کا اپنے فائدے کے لئے بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اندر کام کرنے والوں کی نسبت دس گنا تنخواہوں پر اپنے دوستوں کو نوازا اور پی ٹی وی کے مستقل ملازمین میں میرٹ کو نظر انداز کر کے ایسے فیصلے کئے، جن کے دور رس منفی اثرات نکلے۔ پھر نجی شعبے میں میڈیا کا دور شروع ہوا تو ہماری انتظامیہ نے اس چیلنج کے لئے تیاری نہیں کی، نتیجہ ظاہر ہے کہ پی ٹی وی کا گراف بہت نیچے چلا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ اگر اب بھی صورت حال کو نہ سنبھالا گیا تو ادارے کی اندرونی صورتِ حال بد سے بد ترین ہو جائے گی اور یہ ایک مجرمانہ غفلت ہو گی۔ کیا پی ٹی وی کا انجام بھی سٹیل مل، پی آئی اے اور ریلوے جیسا ہو گا؟

    اے خالق سرگانہ


    0 0

    تین اسلامی ثقافتوں عربی، ایرانی اور ملتانی طرز تعمیر کا شاہکار مقبرہ حضرت شاہ رکن عالمؒ ملتان کے مستریوں کی مہارت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اس کی چار دیواری 1081 فٹ طویل ہے۔ برصغیر کے عظیم روحانی پیشوا شیخ الاسلام حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی ؒکے پوتے، حضرت صدرالدین عارف باللہ اور فرغانہ کی شہزادی حضرت بی بی راستی کے فرزند حضرت شاہ رکن الدین عالم کا 7 صدیوں پرانا مقبرہ اپنے دیدہ زیب طرز تعمیر کی وجہ سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی تاریخی ورثہ کی لسٹ میں شامل ہے۔ مقبرے کے طرز تعمیر کی وجہ سے ملتان پوری دنیا میں نمایاں ہے۔
    یہ مقبرہ برصغیر کے اونچے ترین مقبروں میں شامل ہے، تین تہوں پر مشتمل مقبرے کا گنبد 170 فٹ بلند ہے جبکہ گنبد میں قیمتی لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے جو دیمک سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ مقبرہ کی اونچائی 110 فٹ اور اندرونی جانب سے 48 فٹ کھلا جبکہ بیرونی جانب سے لمبائی چوڑائی 78 فٹ بنتی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اس پرکشش مزار کو سلطان غیاث الدین تغلق نے دیپال پور کی گورنری کے دوران 1320ء سے 1324ء کے درمیان تعمیر کرایا۔ تعمیر کے کچھ عرصے بعد ہی حضرت شاہ رکن عالم ؒکی اس مقبرے میں تدفین کی گئی۔

    مستطیل رقبہ زمین پر تعمیر یہ ہشت پہلو مقبرہ روغنی ٹائلوں سے مزین ہے، مقبرہ پر نقش و نگار، کاشی کاری اور گلکاری نمایاں ہے۔ محکمہ اوقاف کی جانب سے 10 اکتوبر 1971ء کو ایک وسیع منصوبہ بندی کے تحت مقبرے کی مرمت کرائی گئی تھی مگر اس کے بعد کبھی صحیح معنوں میں مرمت نہیں کی گئی،محکمہ اوقاف کی اس نااہلی کے باعث یہ تاریخی مقرہ اپنا حسن کھو رہا ہے۔

    اشفاق احمد



    0 0

    پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے محنت (آئی ایل او) کے نمائندے ظہیر
    عارف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچوں سے محنت و مشقت سے متعلق 21 سال پرانے اعدادوشمار دستیاب ہیں جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں سمیت بدترین اقسام کی چائلڈ لیبر شامل نہیں ہیں۔ غیر رسمی شعبوں میں بچوں سے کروائی جانے والی محنت مشقت پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانھوں نے بتایا کہ 'ہم سب جانتے ہیں کہ گھروں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد ڈومیسٹک ورکرز کے طور پر کام کرتی ہے، اس کے علاوہ چوڑیاں بنانے کے کام سے لے کر سرجیکل آلات، کھیلوں کے سامان اور گہرے پانیوں میں ماہی گیری جیسے خطرناک پیشوں کی ایک پوری فہرست ہے جو 'ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر'یا بچوں سے مزدوری کی بدترین اقسام میں آتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کوئی اعدادوشمار نہیں ہیں۔'

    واضح رہے کہ پاکستان کے ادارہ برائے شماریات نے بچوں سے محنت مشقت کےاعدادوشمار آخری بار ایک سروے کے ذریعے سنہ 1996 میں جمع کیے تھے جس کے مطابق ملک میں 33 لاکھ بچہ مزدور تھے۔ آئی ایل او کے کنونشن فار ورسٹ فارم آف چائلڈ لیبر پر پاکستان نے سنہ 2001 میں دستخط کیے تاہم اب تک اس بارے میں کوئی اعداد وشمار اکھٹے نہیں کیے جا سکے ہیں۔ انھوں نے کہا: 'تعلیم و آگہی نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے۔ وہ ٹریفکنگ میں آ سکتا ہے، دہشت گرد کاروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔ خطرناک پیشوں میں کام کرنے کی وجہ سےاس کی جان جا سکتی ہے۔'
    ظہیر عارف نے تشویش ظاہر کی کہ اعدادوشمار اکھٹے نہ کرنے کی جانب حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے اس بنیادی مسئلے کو جڑ سے ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 'شاید یہ حکومت کی ترحیجات میں شامل نہیں ہے۔ کسی مسئلےسے نمٹے کے لیے پہلے تو ہمیں یہ پتا ہو کہ ہمارے ہاں کس حد تک چائلڈ لیبر ہے۔'آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں نے چائلڈ لیبر سے متعلق قانون سازی تو کی ہے لیکن اس پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے ایک مربوط میکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔ صوبوں کےمحکمہ لیبر کی استعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے ظہیرعارف نےکہا کہ 'محکمہ لیبر کے پاس انسپکٹرز موجود ہیں لیکن انھیں اتنی آگہی نہیں ہے جتنی کہ ضرورت ہے۔ (آئی ایل او) اس سلسلے میں ان کی تربیت کرتا ہے۔'
    بچہ مزدوری کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں یہ بات قابل قبول ہے کہ بچوں سے کام کرایا جائِے۔ 'سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہوتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ بچوں کو کام پر اس لیے رکھا جاتا ہے کہ ایک بالغ آدمی کو انھیں پوری مزدوری دینا پڑے گی جبکہ بچہ سستے میں یا مفت میں کام کر دے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بچہ ایک نوجوان کی نسبت زیادہ دیر تک اور زیادہ انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جا سکتا ہے۔'

    بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں آئی ایل او کا کیا لائحہ عمل ہوتا ہے؟ اس پران کا مؤقف تھا کہ'عام طور پر حکومتیں جن کنونشنز پر دستخط کرتی ہیں ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ان پر پوری طرح سےعمل کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکومت کو مطلع کیا جاتا ہے اور ادارہ میکینزم بنانے میں ان کی مدد کرتا ہے۔'انھوں نے سیالکوٹ میں سرجیکل آلات کی صنعت میں کسی حد تک بچہ مزدوری کنٹرول کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ'ہم نےسیالکوٹ چیمبرآف کامرس، ایمپلائیز ایسوسی ایشنز، ٹریڈ یونینزاور ورکرز فیڈریشن کےساتھ مل کرکام کیا تا کہ آجر اور مزدور دونوں کی یونین کے نمائندگان کو آگاہی دی جا سکے۔'

    شمائلہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق گزشتہ رات لاہور کے نزدیک پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے دس افراد کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے۔ ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن نے بی بی سی کی نامہ نگار نادیہ سلیمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو مارنے کے بعد یہ کہہ دینا آسان ہے کہ 'یہ سب دہشت گرد تھے اس لیے مارے گئے ہیں۔ یہ سب ماورائے عدالت قتل ہیں۔'انھوں نے کہا اگر کسی پہ دہشت گردی کا الزام ہے اور پولیس ان کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو انھیں گرفتار کر کے قانون کے مطابق چوبیس گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا ضروری ہے۔
    پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب لاہور کے نواحی علاقے مناواں میں پولیس مقابلے کے دوران کالعدم تنظیم کے 10 مبینہ دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ پریس ریلیز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں لاہور کے مال روڈ پر ہونے والے دھماکے کا سہولت کار بھی شامل تھا۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے مزید کہا کہ عدالت سے یہ فیصلہ ملنا ضروری ہے کہ کوئی دہشت گرد ہے یا نھیں: 'پولیس کے کہنے پہ یقین نھیں کیا جا سکتا کہ جو لوگ مارے گئے ہیں وہ لوگ دہشت گرد ہیں۔'انھوں نے کہا کہ مرنے والوں کے بارے میں پولیس کا یہ موقف تسلیم کر لیا جاتا ہے کہ وہ دہشت گرد تھے اس لیے مقابلے میں مارے گئے جب کہ مقابلے میں عام طور پر پولیس والوں کو کوئی نقصان نھیں ہوتا۔

    انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کہتی ہیں کہ ماورائے عدالت قتل کی اجازت نہ ہمارا قانون دیتا ہے اور نہ ہمارا آئین۔ طاہرہ عبداللہ نے کہا کہ نوّے کی دہائی میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا قیام، اس کے بعد پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ، پھر فوجی عدالتوں کا قیام اور حال ہی میں ان کی مدت میں توسیع، ان سب قوانین کی موجودگی میں ماورائے عدالت ہلاکتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔


    0 0

     بلوچستان نہ صرف حسین قدرتی مناظر سے سجی سرزمین ہے بلکہ یہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے یہاں نایاب اور خوبصورت جانور بھی پائے جاتے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں، یہاں پائے جانے والے جنگلی بکرے مارخور کو قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بلوچستان میں چنکارہ ہرن، گولڈن چیتا، اڑیال،لومڑی، مخصوص بلی یعنی سینڈ کیٹ sand cat اور مختلف اقسام کے سانپ، کچھوے، چھپکلی اورکئی اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں، نایاب جانوروں میں کئی ایسے بھی ہیں جن کے ختم ہوجانے کا خدشہ لاحق ہے۔
    اس کی بڑی وجہ غیرقانونی شکار اور ان کےلئےضروری مخصوص ماحول اور سہولیات کی کمی ہے، جس کےباعث ان کی تعداد کم سےکم تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اب ہزارگنجی نیشنل پارک میں سلیمان مارخور کی تعداد چند سو رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے کنزرویٹر جنگلی حیات ونیشنل پارکس شریف الدین بلوچ نے بتایا کہ بلوچستان میں کافی اہم وائلڈ لائف species ہیں ،اس حوالے سے بلوچستان کی خاص اہمیت ہے ، جنگلی حیات میں صوبے میں کئی رینگنے والے اور دیگر mammals جانور ، اور reptiles کی سب سے زیادہ اقسام بلوچستان میں پائی جاتی ہیں،اسی طرح کئی طرح کے پرندے بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔


    یہ امر خوش آئند ہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے صوبائی محکمے متحرک اور فعال ہیں اور اس سلسلے میں کوئٹہ کے نواح میں چلتن پہاڑ کےدامن میں تین لاکھ پچیس ہزار ایکڑ رقبے پر ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک اور ہنگول میں نیشنل پارک قائم کیا گیا ہے۔ ہنگول نیشنل پارک کی ملک میں منفرد حیثیت کا حامل ہے، اس پارک کا ایریا بلوچستان کے تین اضلاع لسبیلہ، گوادر اور آوارا ن میں آتا ہے ، جبکہ ایک ہزار 650 مربہ کلومیٹر پر پھیلے اس پارک کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کا کچھ حصہ مکران کےساحلی علاقے سے بھی ملحق ہے۔ محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات بلوچستان کی جانب سے اب تیسرا نیشنل پارک زیارت میں قائم کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے، یہ سلیمان مارخور کےتحفظ کےلئے ہو گا، تاہم محکمہ جنگلی حیات کو عملے کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔


    ماہرین کے مطابق جنگلی حیات کو بچانے کے لیے عوام میں شعور بیدا ر کرنے کے علاوہ قدرتی ماحول کےتحفظ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کرنا ضروری ہیں۔
    اس حوالے سے نایاب جنگلی حیات کےغیرقانونی شکار پر عائد پابندی پر سخت عملدرآمد کی بھی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں کوئٹہ کےنواح میں مارخور کےشکار پر کارروائی کرتے ہوئے صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز بگٹی کےخلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا، یہ الگ بات ہے کہ اس کے کچھ دنوں بعد صوبائی سیکرٹری جنگلی حیات کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، صوبائی حکومت کےایک نوٹیفکیشن کےمطابق سیکرٹری جنگلی حیات کا یہ تبادلہ public interest یعنی عوامی مفاد میں کیا گیا ہے۔

    راشد سعید



    0 0
  • 04/11/17--01:47: مردم شماری
  • سخت گرمی، دھوپ اور پیاس میں سارا دن گلیوں میں گھومنا۔ دھول مٹی کا سامنا۔
    میں مردم شماری ٹیم میں شامل تھا۔ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور لوگوں کے عجیب و غریب رویوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔ گھر گھر جانا اور لوگوں کے کوائف اکھٹے کرنا۔ ایک تھکا دینے والا مشکل کام۔ جو ہمیں روز کرنا پڑتا ہے۔ اس دن ہم سندھ کے دور افتادہ علاقے میں چھوٹے سے گھر تک پہنچے۔ ٹوٹے ہوئے دروازے پر لٹکا ہوا ٹاٹ کا پردہ گھر کی زبوں حالی چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’مردم شماری ٹیم!‘‘میں نے دروازہ بجاتے ہوئے آواز لگائی۔ کچھ دیر میں ایک بوڑھی عورت اپنی پیوند زدہ چادر سنبھالتی ہوئی باہر آ گئی۔ زندگی میں آنے والے نشیب و فراز ، ہزاروں جھریاں بن کر اس کے چہرے پر ثبت ہو گئے تھے۔ 
    ہمیں دیکھ کر وہ یوں مسکرائی گویا ہمارا ہی انتظار کر رہی ہو۔ ’’اماں! گھر میں کتنے افراد ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’بس میں اور میرا بیٹا۔‘‘ وہ اپنا پوپلا منہ کھول کر بولی۔ ’’اچھا! کیا نام ہے اس کا؟‘‘ میں رجسٹر پر لکھنے لگا۔ ’’ساجد وہ بھی تیری طرح فوج میں ہے۔ لاہور میں مردم شماری ڈیوٹی لگی ہے۔‘‘ اس نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر آنکھوں کو سورج کی روشنی سے بچاتے ہوئے کہا۔ ’’مگر وہ یہاں نہیں رہتا۔ صرف چھٹیوں میں آتا ہے۔ ‘‘وہ کچھ سوچ کر اداس ہو گئی۔ میرا دل بجھ گیا۔ ایک اکیلی بوڑھی عورت جس کی آنکھیں اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتی ہونگی۔ ’’ہاں اماں! نام تو لکھنا پڑے گا ناں۔ ‘‘میں نے سوچوں کو جھٹک دیا۔ ’’ٹھہر میں تیرے لئے پانی لاتی ہوں۔‘‘ وہ بمشکل اٹھی اورمسکرا کر اندر چلی گئی۔ وطن کے لئے ہم فوجیوں کو کتنی جدائیاں سہنا پڑتی ہیں۔ مجھے اپنی ماں یاد آنے لگی۔

    کچھ لمحے گزرے ہونگے کہ اندر سے اس کے رونے کی آواز آنے لگی۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی لیکن کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میں بے چین ہو گیا۔ اندر جانا خلاف ڈیوٹی تھا۔ اضطراب میں پہلو بدلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد وہ آنسو پونچھتی ہوئی باہر آ گئی۔ میں سوال کرنے ہی والا تھا کہ وہ بولی۔ ’’بیٹا! ساجد کا نام لکھا کیا لسٹ میں؟‘‘ ’’ہاں اماں ! لکھ لیا‘‘میں جلدی سے بولا۔ ’’کاٹ دے۔‘‘وہ روتی ہوئی وہیں دروازے پر گر پڑی۔ میں آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ’’بیدیاں روڈ پر دھماکہ ہو گیا ہے۔ ظالموں نے اسے مار ڈالا۔‘‘وہ چلا رہی تھی۔ میری ٹیم کے ساتھی بھاگ کر وہاں جمع ہو گئے۔ جو اپنوں کو شمار کرنے نکلا تھا، اب خود شمار نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے چکر آنے لگے۔ رجسٹر میرے ہاتھ سے گر گیا۔

    ذیشان یاسین

     


    0 0

    یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جو ہنوز زیر استعمال ہے اور یہ شہر ٹھٹھہ میں ہے مقامی تواریخ کے مطابق یہ شہنشاہ شاہجہان کا ایک تحفہ تھا جو اس نے شہر کی مہمان نوازی کے اعتراف کے طور پر دیا جب وہ اپنے والد سے باغی ہو کر کچھ عرصہ یہاں پناہ گزین رہا تھا یہ 1644ء میں شروع ہوئی اور 1647ء میں مکمل ہوئی لیکن اس کی فرش بندی گیارہ سال بعد تک ہوتی رہی اس پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی یہ ایک کاروان سرائے کی شکل میں بنی ہے ایک بڑا صحن ہے جس کے اردگرد 90 گنبد ہیں کمروں کی غلام گردش ہے جبکہ ایک طرف کے وسط میں اصل مسجد ہے اور اس کے مقابل اس کا مثنیٰ ہے یہ 190X315 ہے اور 6316 مربع گز زمین گھیرے ہوئے ہے بیرونی حصہ بالکل سادہ اور سفید ہے جبکہ پورا اندرونی حصہ زمین سطح سے بلند ترین گنبد کے مرکز تک رنگین ٹائیلوں سے بنا ہوا ہے جن میں نہایت حیرت انگیز تنوع کے خوبصورت نمونے کنندہ ہیں۔ 
    پہلوئوں کے چھوٹے چھوٹے گنبد ایسے نمونوں سے لائے ہوئے نہیں ہیں لیکن شروع میں وہ بھی ایسے ہی تھے یہ عمارت بہت بری طرح مرمت طلب تھی جب سربارٹل فریدے نے 1855ء میں چندہ جمع کر کے اسے بچا لیا جس میں حکومت نے بھی 5 ہزار روپے دیے تھے۔ 1894ء میں اس طرح ساڑھے 20 ہزار روپے جمع کیے گئے اور ہالہ اور ملتان میں بنی ہوئی ٹائیلوں سے دیواروں کے عریاں چہروں کو بحال کیا گیا۔ نیا کام پرانے کے معیار کا تو نہیں ہے لیکن خوش قسمتی سے دیواروں کے زیریں حصوں پر ہی زیادہ کام کی ضرورت تھی جہاں نمونے نسبتاً سادہ ہوتے ہیں اوپر کی طرف نمونے مربع یا چھ طرفی ٹائیلوں پر کنندہ نہیں کیے گئے جیسا کہ مکلی پہاڑیوں کے مقابر پر ہیں بلکہ ان پر مختلف رنگوں اور شکلوں کی باریک ٹائیلوں کے ساتھ پچی کاری کی گئی ہے۔

    شیخ نوید اسلم

     


    0 0

    فیس بک بہت مقبول ہے اور ایسا بلاوجہ نہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے اور نئے لوگوں سے ملنے کا جذبہ اور شوق کم و بیش ہر فرد میں ہوتا ہے۔ فیس بک اس کی تکمیل کا ایک ذریعہ بن چکی ہے۔ کون نہیں چاہے گا کہ خوب سے خوب تر نظر آئے لیکن چند کام ایسے ہیں جو ناسمجھی میں کر لیے جاتے ہیں مگر جنہیں دوسرے ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک حد سے زیادہ تصاویر شیئر کرنا ہے۔ کچھ لوگوں کی عادت بن جاتی ہے کہ وہ اپنی، اپنے کپڑوں اور ساتھیوں وغیرہ کی ایک کے بعد دوسری تصویر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ اگر خاندان کے افراد یا دوستوں کی تصاویر زیادہ تعداد میں شیئر کی جائیں گی تو انہیں برا بھی لگ سکتا ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ان کی تصاویر سرعام دیکھی جائیں۔ بعض دوست یا خاندان کے افراد اپنی مرضی کی تصاویر ہی شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ 

    فیس بک پر بہت زیادہ فرینڈز بنانا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ زیادہ تر ان افراد کو پسند کیا جاتا ہے جو سوچ سمجھ کر فرینڈز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جن کے بہت زیادہ فیس بک فرینڈز ہوں ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ فیس بک پر ضرورت سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں یا انہیں توجہ حاصل کرنے کا جنون ہے۔

     فیس بک پر انتہائی نجی معاملات کو بیان کرنے والوں یا ان پر بحث کرنے والوں کو اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ ان کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ عام زندگی میں بھی لاپرواہ ہوں گے۔ اسی طرح دوسروں کے نجی معاملات پر گفتگو بھی غیر اخلاقی اور نامناسب خیال کی جاتی ہے۔ دوسروں کی ٹوہ لگانا اور بار بار سوال کرنا بھی ناموزوں ہوتا ہے۔ ایسا کرنے والوں کے بارے میں اچھی رائے قائم نہیں ہوتی۔

    فیس بک پر بہت قریب سے لی گئی تصویر کو پروفائل پکچر کے طور پر نہیں لگانا چاہیے۔ یہ عام طور پر بدنما لگتی ہے۔ اسی طرح ہر مرتبہ سنجیدہ تصاویر شیئر کرنابھی اچھا نہیں ہوتا۔ سنجیدگی کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر بھی نظر آنی چاہئیں۔ فیس بک پر خودنمائی مت کریں۔ چاہیے آپ کو معلوم نہ ہو لیکن دل ہی دل میں آپ کے فرینڈز جان لیں گے کہ آپ ایسا کر رہے گے۔ اسی طرح خود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی اچھا خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض افراد جب بھی کسی مہنگے ہوٹل، ایئرپورٹ یا اچھے ریسٹورنٹ میں جاتے ہیں اپنی تصویر یا مقام فیس بک پر ضرور شیئر کرتے ہیں۔ یہ خودنمائی دوسروں کو آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے۔  


    0 0

    خوش رہنے کی دعا عام طور پر دی جاتی ہے جس سے اس انمول شے کی اہمیت
    کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم خوشی ہر ایک کا نصیب نہیں ہوتی۔ زندگی میں غم اور دکھ ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ ان سے چھٹکارہ پانے اور خوشی حاصل کرنے کے طریقوں کا پتا چلایا جائے۔ بعض اوقات انسان خوشی پانے کے ہنر سے آگاہ نہ ہونے پر بھی زندگی کا لطف نہیں اٹھا پاتا۔ ان لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کریں جن سے آپ کو مسرت اور دلی سکون ملتا ہے۔ عام طور پر ہمارا دن تین حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ گھر، دفتر اور دوست۔ تینوں میں خوشی کی تلاش اور پریشانیوں سے نجات کے لیے قدرے مختلف حکمت عملی ضرورت ہوتی ہے۔
    گھر میں شریک حیات کے ساتھ بہتر اور خوش گوار تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔ دفتر میں اپنے ہنر کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کام کرنے والوں سے اچھا تعلق ہونا چاہیے۔ ایسی جگہ کام کرنے کو ترجیح دینی چاہیے جہاں کا ماحول آپ کو پریشان نہ کرے۔ منفی خیالات اور جذبات کو اپنے ذہن میں نہ آنے دیں کیونکہ یہ ہماری خوشی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ان اندرونی خیالات کی وجہ سے بیرونی خوشی کا احساس نہیں ہو پاتا۔ آئیے اس بارے میں مزید جانتے ہیں۔ خوشی کاارادہ کریں خوش رہنے کے لیے شعوری فیصلہ کرنا چاہیے ۔ 

    معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل اپنی کتاب کنکوئسٹ آف ہیپینس میں کہتے ہیں کہ خوشی انعام کی صورت میں نہیں ملتی اسے پانا پڑتا ہے۔ اسے پانے کے لیے انسان کو اپنی اندرونی اور بیرونی دنیا کو بدلنے کی کوششیں کرنا ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق خوش رہنے کے لیے خوش رہنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔ اپنے آپ سے خوش رہنے اور پریشان نہ ہونے کا عہد کرنا ہوتا ہے۔ خوشی کو اپنی زندگی کے بڑے مقاصد میں سے ایک بنانا پڑتا ہے۔ خوشی کے چھوٹے سے موقع کو بھی اہم جاننا چاہیے۔ دوسروں کی تعریف کریں شاید ہی کوئی فرد اپنی تعریف نہ سننا چاہے لیکن دوسروں کی تعریف کرنے میں کنجوسی پرتی جاتی ہے۔ اگر کسی نے تھوڑا سا بھی اچھا یا نیکی کا کام کیا ہے تو اس کی تعریف ضرور کرنی چاہیے اور شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ یہ کھلے دل کی علامت ہے۔ تنگ دل لوگ نہ خود خوش ہو پاتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو خوش دیکھ پاتے ہیں۔ ان میں خود کو شامل مت کیجیے۔ لوگوں کی مناسب انداز میں تعریف کر کے آپ نا صرف ان کے لیے مسرت کا سامان پیدا کریں گے بلکہ وہ آپ کے بارے میں مثبت تاثر قائم ہوتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر تعریف کرنے سے لوگوں کے رویے بہتر ہوتے ہیں۔ 

    اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بے جا تعریف کی جائے۔ معاف کرنا سیکھیں کسی نے آپ کے ساتھ کچھ برا کیا ہو تو دکھ اور تکلیف کا ہونا فطری ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ دل و دماغ پر چھا جائے توانسان ہمہ وقت کوفت میں رہتا ہے جس سے خوشی جاتی رہتی ہے۔ بعض اوقات معاف نہ کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ ہمیں پریشان کیے رکھتا ہے ۔ یہ تشویش اورمایوسی کو بڑھا کر ہماری خوشی چھین لیتا ہے۔ اس سے چھٹکارہ پانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن یہ ناممکن بھی نہیں۔ اگر کسی نے دھوکا دیا ہے تو معاف کرنے کی جانب پہلا قدم یہ ہو گا کہ آپ دھوکا دینے والے کے نکتہ نظر سے حالات کا جائزہ لیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس نے ایسا کیوں کیا ہو گا۔ اس وقت کو یاد کریں جب آپ نے کسی کو معاف کیا تھا۔ اپنے آپ سے کا عہد کریں کہ آپ درگزر سے کام لیں گے اور پھر اس پر قائم رہیں۔ منفی خیالات دور بھگائیں جسمانی صفائی کی طرح ذہنی صفائی بھی لازمی ہے۔

    جسم سے میل اور گندگی کو صاف کرنا پڑتا ہے تو ذہن سے منفی خیالات کو۔ان خیالات کی آمد از خود ہوتی ہے تاہم انہیں ذہن سے نکالنے کے لیے شعوری کوشش کرنا پڑتی ہے۔ یہ مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس وقت کویاد کرنا چاہیے جب منفی خیالات وارد نہیں ہوئے تھے۔ اس کے بعد زندگی کے مثبت پہلوؤں کی جانب توجہ مبذول کرنی چاہیے۔ متعدد سرگرمیاں منفی خیالات کو ذہن سے نکالنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان میں مراقبہ، سیروسیاحت اور کتب بینی شامل ہیں۔ دولت خوشی نہیں خرید سکتی زندگی کی بنیادی ضروریات کا پورا ہونا ضروری ہے جس کے لیے دولت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر دولت ہی کو خوشی سمجھ لیا جائے تو خوشی روٹھ جاتی ہے۔

    دولت کو سب کچھ سمجھ کر اس کی دوڑ میں بعض لوگ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال پاتے۔ یقینا دولت چاہیے ہوتی ہے لیکن اسے خوشی کی قیمت پر حاصل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھے دوست بنائیں ان افراد سے دوستی کریں جو آپ کا خیال رکھتے ہیں اور جن کے ساتھ وقت بتا کر مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ تعداد میں اچھے دوست رکھنے والے افراد زیادہ خوش و خرم رہتے ہیں۔ پس نئے اور اچھے دوستوں کی تلاش شروع کیجیے۔ مقصد تلاش کریں روزمرہ کی زندگی میں بہت سے کام ہماری ضرورت ہوتے ہیں چاہے ہم انہیں پسند کریں یا نہ کریں۔

    مثال کے طور پر ہمیں بعض اوقات اس جگہ بھی ملازمت کرنی پڑتی ہے جہاں ہم کرنا نہیں چاہتے۔ تاہم کچھ فارغ وقت بھی ملتا ہے جسے بہت سے لوگ ٹی وی، فلم یا انٹرنیٹ پر ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ زندگی میں مقصد نہ ہونا ہے۔ زندگی کا بامعنی اور بامقصد ہونا ضروری ہے ۔ جتنا وقت ملے اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اپنی زندگی کا کوئی مثبت مقصد بنائیں اور اسے پانے کے جتن کریں۔ اس سے خوشی اور روحانی سکون بھی ملے گا اور دوسروں کا بھلا بھی ہو گا۔

    محمد اقبال


    0 0

    مردان یونیورسٹی میں ایک طالب علم کو توہین مذہب کے الزام پر یونیورسٹی کے
    ہی طلبہ نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ نہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کی گئیں، نہ ہی معاملہ پولیس اور عدالت کے پاس گیا بلکہ ہجوم نے خود ہی الزام لگایا، اپنی عدالت لگائی اور سزا بھی دے دی۔ اس واقعہ کی وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، مولانا سمیع الحق، مفتی محمد نعیم اور دوسرے کئی سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے مذمت کی جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا اور متعلقہ پولیس ڈی آئی جی کے مطابق ابھی تک کی تحقیقات میں توہین مذہب کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے معاملہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملہ کا سو موٹو نوٹس بھی لے لیا ہے۔

    امید ہے آئندہ چند ہفتوں میں کیس کے تمام حقائق سامنے آ جائیں گے اور یہ کہ مشال خان پر لگائے گئے الزامات کی نوعیت درست تھی یا غلط یا کہ اُسے کسی سازش کا نشانہ بنا کر اس طرح قتل کروایا گیا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ریاست کے ہوتے ہوئے کسی بھی گروہ یا افراد کے مجمع کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ الزام کے بنیاد پر قانون ہاتھ میں لے کر کسی کی جان لے لیں۔ الزام کیسا بھی ہو اس کے لیے معاملہ پولیس، عدالت اور ریاست کے حوالے کیا جائے۔ اگر ہجوم اور گروہوں کو الزام لگا کر لوگوں کو مارنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر تو یہاں کوئی بھی نہیں بچے گا اور خصوصاً ایک ایسے معاشرے میں جہاں سنگین سے سنگین الزامات لگانے کا رواج عام ہو اور اس کام کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کو خوب استعمال کیا جاتا ہو۔ 
    یہاں ریاست اور ریاست کے ذمہ داروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ آخر ہماری ریاست گستاخی کے الزام میں سزا پانے والوں میں سے کسی ایک کی سزا پر بھی عمل درآمد میں کیوں ناکام رہی۔ ریاست کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ شہریوں کو قانون کی عمل داری نظر آئے تا کہ ہر کسی کو یقین ہو کہ کسی بھی قسم کا جرم کرنے والا سزا سے نہیں بچ سکتا۔ مردان واقعہ کا ایک ا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مشال خان کے قتل کا حوالہ دے کر ایک طبقہ نے اسلام، blasphemy law اور ماضی قریب میں عدالت، حکومت اور پارلیمنٹ کی طرف سے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو بلاک کرنے اور گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات پر سوال اٹھانے شروع کر دیئے۔ کچھ نے کہا کہ مردان یونیورسٹی کا واقعہ blasphemy law کا غلط استعمال ہے۔ 

    کوئی ان سے پوچھے یہ قانون کہاں کسی مجمع یا گروہ کو الزام کی بنیاد پر کسی بھی فرد کو مارنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ قانون تو ریاست کو گستاخی کے الزام پر کارروائی کی ہدایت دیتا ہے۔ جو کچھ حال ہی میں عدلیہ، پارلیمنٹ اور حکومت نے سوشل میڈیا پر سے گستاخانہ مواد کو ہٹانے کے لیے کیا وہ انتہائی قابل تعریف اقدام ہے اور اس کا مقصد ایک ایسے فتنہ پر قابو پانا ہے جو کسی بھی اسلامی معاشرے میں اشتعال انگیزی، نفرت اور غم و غصہ کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایک واقعہ کا بہانہ بنا کر کوئی اگر یہ چاہے کہ blasphemy law کو ہی ختم کر دیا جائے یا کوئی آزادی ٔرائے کے مغربی standards کو یہاں لاگو کیا جائے تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا کیوں کہ اس سے فتنہ بڑھے گا۔ مردان کا واقعہ کسی مدرسہ میں نہیں بلکہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہوا جس میں ملوث طلبہ کی اکثریت کا مبینہ طور پر ایسی سیاسی جماعتوں کی طلبہ تنظیموں سے تعلق ہے جو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتی ہیں لیکن افسوس کہ بحث ساری اسلام کے متعلق کی جا رہی ہے۔

    ایسے موقعوں پر ہی ٹی وی چینلز کو علماء کرام کو بلا کر یہ پوچھنے کا موقع ملتا ہے کہ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ مردان واقعہ پر عدلیہ اور حکومت دونوں نے نوٹس لے لیا اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس معاملہ میں پورا پورا انصاف ہو گا لیکن کیا چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم نواز شریف، عمران خان، دوسرے رہنما اور ہمارا میڈیا زرا اس بات پر غور کرے گا کہ ہر ایسے موقع پر ہم اسلام کو لا کر کٹہرے میں تو کھڑا کر دیتے ہیں لیکن اسلام کی تعلیمات کو فروغ دینے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم اسکولوں میں، اپنے گھروں میں، میڈیا کے ذریعے اور حکومتی سطح پر معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں کریں گے اور اس ضد پر قائم رہیں گے کہ ریاست کا مذہب کے معاملات میں کوئی کردار نہیں تو پھر اسلام سے شکایت کیسی۔ 

    میں چوہدری نثار علی خان سے متفق ہوں کہ مشال خان کے وحشیانہ قتل کو مذہب کے ساتھ جوڑنا قابل افسوس ہے۔ میری حکومت، پارلیمنٹ ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ لوگوں کو اسلام پڑھانے اور معاشرہ کو قرآن و سنت کے مطابق ماحول فراہم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں جیسا کہ آئین پاکستان کی منشاء ہے۔ جہاں تک توہین مذہب اور گستاخی کے جرم کا تعلق ہے تو اس بارے میں ایک اصول پر ہم سب کو کاربند رہنا چاہیے اور وہ یہ کہ جس پر یہ جرم ثابت ہو گیا اُسے نشان عبرت بنائیں جس نے کسی پر جھوٹا الزام لگایا اُس پر قذف لگائیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کو روکا جائے اور ایسا کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔

    اس کے ساتھ ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں پر توہین مذہب کے جھوٹے الزامات لگانے والوں سے بھی سختی سے نپٹا جائے، انہیں سزائیں دی جائیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے مواد (جھوٹے الزامات) کو بھی سوشل میڈیا پر بلاک کیا جائے اور میڈیا پر ان کی تشہیر کو سختی سے روکا جائے۔ ہمیں نوجوانوں اور بچوں کو یہ تعلیم بھی دینی چاہیے کہ وہ نہ صرف ہر صورت میں اپنے دین اور مقدس ہستیوں کا احترام کریں بلکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کے مذاہب کو بھی بُرا مت کہیں۔

    انصار عباسی



    0 0

    خوبصورت قول ہے: ’’زندگی بھی پہاڑ کے مانند ہے۔ اس پر چڑھنا کٹھن ہے، مگر جب انسان چوٹی پر پہنچ جائے، تو متحیر کر دینے والے نظارے اس کے منتظر ہوتے ہیں۔‘‘ بلند و بالا پہاڑ فطرت کا شاہکار ہیں۔ خوش قسمتی سے خطہِ پاکستان فطرت کی ان ہیبت ناک اور دیوہیکل نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ چناں چہ دنیا کے مشکل ترین مشغلوں میں سے ایک، کوہ پیمائی کے عاشق ارض پاک کی جانب کھینچے چلے آتے ہیں۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی، کے ٹو پاکستان میں واقع ہے۔ مگر کم ہی لوگوں کو علم ہے کہ دنیا کی بلند ترین ’’دوشیزہ چوٹی‘‘ بھی ارض پاکستان کی زینت ہے۔ کوہ پیمائی کی اصطلاح میں دوشیزہ چوٹی سے مراد وہ چوٹی ہے جو ابھی تک سر نہ ہوئی ہو۔ اس پاکستانی چوٹی کا نام ’’موشو چیش‘‘ (Muchu Chhish) ہے جو 7453 میٹر (24452 فٹ) بلند ہے۔ یہ دنیا کی ساٹھویں جبکہ وطن عزیز کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ یہ قراقرم سلسلہ ہائے کوہ کے ذیلی سلسلے، ’’سبتورا موز تاغ‘‘ کا حصہ ہے۔
     
    سبتورا موز تاغ کے پہاڑ وادی ہنزہ کے مغرب میں واقع ہیں۔ یہ پہاڑ قراقرم کو ہندوکش اور پامیر کے سلسلہ ہائے کوہ سے جدا کرتے ہیں۔ سبتورا موز تاغ کے پہاڑ پہلو بہ پہلو دور تک چلے گئے ہیں۔ اس ذیلی پہاڑی سلسلے کی بلند ترین چوٹی ’’سبتورا سار‘‘ کہلاتی ہے۔ یہ 7795 میٹر بلند چوٹی پاکستان کی دسویں جبکہ دنیا کی پچیسویں بلند ترین چوٹی ہے۔ سبتورا موز تاغ میں اکثر برفانی تودے گرتے رہتے ہیں۔ مزید براں علاقے میں طوفانی ہوائیں چلنا بھی معمول ہے۔ ان پہاڑوں کا بیشتر ڈھلوانی حصّہ بھی چپٹا ہے۔ یہ عوامل سبتورا موز تاغ کی چوٹیاں سرکرنا انتہائی مشکل بنا دیتے ہیں۔

    2014ء میں برطانیہ کے مشہور کوہ پیما، پیٹر تھامسن نے موشو چیش سر کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم نہایت سخت برف نے اسے چھ ہزار میٹر بلندی سے واپس ہونے پر مجبور کر دیا۔ یوں وہ دنیا کی بلند ترین کنواری چوٹی سر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ سائنس و ٹیکنالوجی میں محیر العقول کارنامے سرانجام دینے کے بعد حضرت انسان کائنات کی وسیع پہنائیوں میں کمندیں ڈال رہا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی کرہ ارض پر موشو چیش جیسے مقامات موجود ہیں جو اس کی ہمت و جرات کو چنوتی دیتے اور جذبہ مہم جوئی ابھارتے ہیں۔

    یاد رہے، اعداد و شمار کی رو سے بھوٹان میں واقع چوٹی ’’گنگھڑ پوینسم‘‘ (Gangkhar Puensum) دنیا کی بلند ترین دوشیزہ چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 7570 میٹر ہے۔ مگر حکومت بھوٹان نے دیومالا اور مقامی روایات کی وجہ سے اس پر چڑھنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اسی لیے قانونی طور پر پاکستان کی موشو چیش ہی کرہ ارض پر بلند ترین دوشیزہ چوٹی سمجھی جاتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں کون ہمت کا متوالا اس پاکستانی چوٹی پر انسانی دلیری و عزم کے جھنڈے گاڑتا ہے۔

    سید عاصم محمود


    0 0

    پاکستان کا نیا دارالحکومت اسلام آباد خوبصورت علاقہ میں واقع ہے۔ ہمالیہ کی سی
    چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھرا ہوا اسلام آباد ایسے ابتدائی کیمپ کی طرح ہے جو ہمالیہ کی کسی چوٹی کی تسخیر کے لیے لگایا گیا ہو۔ نئے دارالحکومت کا علاقہ سطح مرتفع پوٹھوار میں واقع ہے جہاں انسانی زندگی کے آثار آج سے پانچ لاکھ سال پہلے نمودار ہوئے۔ یہ منصوبہ جون 1959 ء میں وجود میں آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس طرح کراچی پر بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔ کراچی میں صنعت، سیّاحت، تجارت اور بیشمار دوسری چیزیں اس طرح گڈ مڈ ہو گئی تھیں کہ جگہ بالکل باقی نہ رہی تھی۔ 

    صدر ایوب نے کہا:۔ ’’دارالحکومت کو تجارتی یا صنعتی مرکز نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو صرف دارالحکومت ہونا چاہیے جہاں عوام کی بہبود کے لیے ملک کی انتظامیہ کام سنبھالے۔‘‘ اس بات پر پوری طرح عمل ہوا ہے۔ کام شروع ہونے کے بعد چار سال سے کم عرصہ میں مری کی پہاڑیوں کے دامن میں ایک نیا شہر ابھر آیا ہے آج اسلام آباد زندگی سے بھرپور ہے۔ جہاں تعمیر کا کام زورشور سے جاری ہے اور یہ شہر اس ترقی پذیر ملک کے نئے دارالحکومت کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔ کسی بھی نظریہ سے جانچئے، جتنا ترقیاتی کام ہو چکا ہے حیران کن ہے۔ خوبصورت نئی سڑکیں بچھائی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کے لیے مکانات بنائے گئے ہیں اور انہوں نے اپنے نئے ماحول میں گھر بسا لیا ہے بیشتر دفاتر کی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں اور باقی تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ 

    ان میں قابلِ ذکر پاکستان ہائوس ہے۔ اس عظیم الشان سہ منزلہ عمارت کے آگے وسیع میدان پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ سیّاحوں کے لیے جدید طرز کا ہوٹل ہے جہاں اس کے لیے تمام آسائشیں اور سہولتیں موجود ہیں۔ پاکستان ہائوس سے وسیع میدانی علاقہ راول جھیل اور راول ڈیم کا دلفریب نظارہ دکھائی دیتا ہے یہ ہوٹل ائرکنڈیشنڈ ہے اور ہر کمرہ میں ریڈیو اور ٹیلیفون موجود ہے۔ اسلام آباد میں پارک ، تفریح گاہیں ، سکول، لائبریریاں، مساجد ، بازار اور نئی شاہراہیں بن چکی ہیں اور پنڈی سے دارالحکومت تک لمبا راستہ بے حد خوشگوار ہے پہاڑیوں کے پس منظر نے اس نئے شہر کو ملکوتی حسن بخش دیا ہے۔ خوبصورت ترین عمارات میں سے ایک ایٹمی سائنس کا مرکز (Nuclear Science Centre) ہے جو امریکی امداد سے تعمیر کیا گیا ہے یہ عمارت ہر دور میں قومی افتخار، اتحاد اور انسانیت کی خدمت کا مظہر رہے گی۔ 

    نئے دارالحکومت کا پلان یونان کی مشہور فرم ڈوکیا ڈیز نے تیار کیا ہے جنہوں نے کراچی میں بنجر زمین پر کورنگی تعمیر کی ہے۔ راولپنڈی کے لوگوں کو اپنے گرد ابھرتا ہوا یہ علاقہ پریوں کی کہانی کی طرح معلوم ہوتا ہے اور ابتدائی رسمی باتوں کی جگہ اب ان جملوں نے لے لی ہے ’’ہماری عزت کتنی بڑھ گئی ہے؟‘‘کیا یہ اعزاز نہیں ہے؟ ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں۔ جس روز پاکستان کے صدر سرکاری طور پر کراچی (وہاں وہ پاکستانی فوج کے سپہ سالار کی حیثیت سے رہتے تھے) سے واپس لوٹے تو سڑکوں کو جھنڈیوں، پھولوں اور رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا، فضا پر تہوار کا رنگ چھایا ہوا تھا۔ شہر میں اس وقت پہنچنے والے مسافر بھی خوشی کی رو میں بہہ رہے تھے۔ سیّاح ہر حال میں ایک مہمان ہے اور لوگ اسے دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ ریلوے سٹیشن ہر وقت کھچا کھچ بھرا رہتا ہے اور آدمی سوچتا ہے ’’کیا یہ سب لوگ مجھے خوش آمدید کہنے آئے ہیں؟‘‘

    کیمی میرپوا


    0 0

    ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ انسان کو دیمک کی طرح کھوکھلا کرتا
    ہے۔ یہ بیماری کسی بھی فرد کو زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنی گرفت میں لے سکتی ہے لیکن عموماً چالیس برس کے بعد گھیرتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا مریض کو بعض اوقات برسوں معلوم نہیں ہوتا اورکسی وقت اچانک کسی وجہ سے جب وہ اپنا بلڈ پریشر چیک کرواتا ہے تو اس پر یہ راز عیاں ہوتا ہے ۔ وہ پریشانی کے عالم میں کسی دوافروش سے دوائیاں خرید کر اپنے پریشر کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف دوائیاں لینے سے ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ محلے کے بزرگ، نقلی پیر فقیر، دوافروش، لوکل ڈاکٹر، نیم حکیم وغیرہ پرہیز کے نام پر انہیں گمراہ کرتے ہیں اور انہیں صرف ادویات استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ 
    حقیقت یہ ہے کہ ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لئے صرف ادویات کا استعمال کافی نہیں بلکہ کئی اور باتوں پر بھی عمل کرنا لازمی ہے۔ ان میں مناسب غذائی پلان ہے شامل ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہائی بلڈ پریشر کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر گردوں اور دل کی بیماریوں ، فالج اور دماغی شریان کے پھٹنے کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ غذا اور ہائی بلڈ پریشر کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ عام خیال کے برعکس بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ (120/80 ملی میٹر مرکری سے 130/90 ملی میٹر مرکری) بھی صحت کے لئے مضر ہے۔ بلڈ پریشر جتنا بڑھتا جائے انسانی جسم کے لئے اتنی پریشانیاں بڑھتی جاتی ہیں۔

    ماضی میں محققین اور سائنس دانوں نے ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لئے مریضوں میں جدا جدا نمکیات و معدنیات آزمائے تا کہ یہ دیکھا جائے کہ کون سی اشیائے خوردنی ہائی بلڈ پریشر کو قابو کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ایک ایسی غذا جس میں چکنائی اور کولسٹرول بہت کم، مگر تازہ سبزیاں اور میوہ جات (تازہ اور خشک) زیادہ ہوں، کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کوبڑی آسانی سے کم کیا جا سکتا ہے۔ تازہ سبزیاں اور میوہ جات سے مریضوں کے ہائی بلڈ پریشر میں نمایاں کمی ہوتی ہے۔ ایک دن میں کتنی بار غذا کھائیں گے اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ کو کتنے حراروں (کیلوریز) ضرورت ہے۔ آپ کا وزن کتنا ہے، آپ کام کیا کرتے ہیں اور آپ کتنی فعال زندگی گزار رہے ہیں۔

    آپ کو روزانہ کئی بار سالم اناج (Cereals) سبزیاں، تازہ اور خشک میوہ جات کھانے ہیں، شاید یہ آپ کی عادت نہ ہو لیکن آپ کو بیماری کو بھگانے کے لیے یہ کرنا پڑے گا۔ مندرجہ ذیل مشوروں پر عمل کریں۔ 
    1۔ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز کریں۔ 
    2۔اپنا وزن عمر اور قد کے حساب سے اعتدال میں رکھیں۔ وزن زیادہ ہو تو اسے کم کریں۔ 
    3۔ نمک اور چینی کا کم استعمال کریں۔ 
    4۔ ذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریں۔ 
    5۔ خون میں چربی (کولسٹرول اور ٹرائی گلسرایڈ) کی سطح نارمل حدود میں رکھنے کی کوشش کریں۔ 
    6۔ خون میں شکر کی سطح کو اعتدال میں رکھیں۔ 
    7۔ ایک مرتب، منظم، پاکیزہ اور فعال طرزِ زندگی اپنانے کی کوشش کریں۔

    محمد اختر


    0 0

    ہمارے ملک میں مختلف انواع کے جنگلی جانوروں پائے جاتے ہیں لیکن چند ایک
    کے بارے میں معلومات عام نہیں۔ ان میں سے ایک برفانی چیتا ہے۔ یہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت ، افغانستان، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس کا مسکن کوہ ہندو کش اور قراقرم کا پہاڑی سلسلہ ہے۔ یہ گلگت بلتستان، خیبرپختون خوا اور آزاد کشمیر میں نظر آتا ہے۔ یہ کسی بڑی اور خونخوار بلی کی مانند دکھائی دیتا ہے۔ سر سے لے کر دم تک ان کی لمبائی 30 سے 50 انچ ہوتی ہے۔ البتہ اس کی دم بہت لمبی ہوتی ہے۔ ان کا وزن 27 سے 55 کلوگرام تک ہوتا ہے۔

    دنیا میں برفانی چیتوں ان کی آبادی کے درست اعدادوشمار نہیں ملتے کیونکہ دشوار گزار علاقے میں رہنے والے ان جانوروں کا پتا چلانا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اندازاً ان کی تعداد چار سے آٹھ ہزار بتائی جاتی ہے۔ یہ جانور سطح سمندر سے 8700 فٹ یا اس سے بلند مقامات پر رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ نسبتاً کم بلند پہاڑوں میں بھی رہائش اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے جسم پر گھنے اور قدرے لمبے بال ہوتے ہیں۔ یہ باآسانی سرد اور برفانی موسم میں رہ لیتے ہیں۔ ان کے بال، موٹی جلد اور چھوٹے کان سردی سے بچانے میں معاون ہوتے ہیں۔ ان کے پنجے چوڑے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے لیے برف پر چلنا آسان ہوتا ہے اور یہ پھسلتے نہیں۔ قدرت نے انہیں لمبی دُم بلا مقصد عطا نہیں کی۔ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں دُم توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ ان کی دم موٹی ہوتی ہے جسے وہ سوتے وقت کسی کمبل کی طرح چہرے پر ڈال لیتے ہیں تاکہ سردی سے محفوظ رہ سکیں۔
    یہ اکیلا رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ اپنے اردگرد دوسرے برفانی چیتوں کا آنا ناپسند کرتے ہیں اور اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ اچھے شکاری ہیں اور گوشت کھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ گھریلو جانوروں کا بھی شکار کرتے ہیں۔ یہ اپنے سے چار گنا وزنی جانور کا شکار بھی کر سکتے ہیں جن میں مارخور، گھوڑا اور اونٹ شامل ہیں۔ چھوٹے پرندے بھی ان کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ ان علاقوں میں اگنے والی گھاس اور سبزیاں بھی کھا لیتے ہیں۔ پیدائش کے وقت برفانی چیتے کے بچے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔

    ان کی آنکھیں چند دنوں کے بعد کھلتی ہیں۔ 18 سے 22 ماہ تک بچے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے بعد آزادانہ زندگی بسر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ برفانی چیتا دو سے تین سال کی عمر میں سن بلوغت کو پہنچتا ہے۔ ان کی عمر 15 سے 18 برس ہوتی ہے۔ برفانی چیتے کا شمار دنیا میں جانوروں کی تیزی سے ختم ہوتی نسلوں میں ہوتا ہے۔ شکار اور بے جا انسانی مداخلت کی وجہ سے برفانی چیتا نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ ایک اندازے ایک مطابق پاکستان میں برفانی چیتے کی تعداد تیزی سے کم ہوئی ہے اور اب یہ 200 کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔ اس کمی کی مختلف وجوہ ہیں۔ جس میں انسانی آبادی میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہے ۔ جن علاقوں میں یہ رہتے ہیں وہاں قیام پاکستان سے اب تک آبادی کم و بیش چار گنا بڑھی ہے۔

    اس اضافے سے وہ علاقہ کم ہو گیا ہے جس میں برفانی چیتے آزادانہ گھومتے اور شکار کرتے تھے۔ دوسری وجہ ان جانوروں کا انسانوں کے ہاتھوں شکار کے سبب کم ہونا ہے جو برفانی چیتے کی خوراک بنتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق قیام پاکستان سے اب تک جنگلی بکریوں کی آبادی 50 فیصد کم ہوئی ہے۔ یہ بکریاں ان چیتوں کی خوراک ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں گلہ بانی کرنے والوں کو اکثرشکایت رہتی ہے کہ برفانی چیتا ان کی بھیڑ بکریوں کا شکار کرتا ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے یا بدلہ لینے کے لیے چیتے کا شکار بھی کیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں یہ چیتا پایا جاتا ہے ان کی تعداد 12 ہے۔ چند سال قبل ان ممالک نے ایک معاہدہ کیا جسے بشکک ڈیکلیئریشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

    اس میں اتفاق کیا برفانی چیتا قدرت کا انمول تحفہ، ہماری پہچان اور پہاڑی علاقوں میں ماحولیاتی توازن کے لیے اہم ہے۔ اس موقع پر برفانی چیتے کی نسل کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے کا عہد کیا گیا۔ اس نایاب جانور کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے 2015ء کو برفانی چیتے کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا ۔ ملک میں ان کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور عین ممکن ہے کہ یہ جانور ناپید ہوجائے۔ پاکستان میں اس جانور کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کے مؤثر اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام میں آگاہی پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔

    رضوان مسعود


older | 1 | .... | 96 | 97 | (Page 98) | 99 | 100 | .... | 149 | newer