Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 93 | 94 | (Page 95) | 96 | 97 | .... | 149 | newer

    0 0

    ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلبہ کی تقریباً 16.7 فیصد تعداد انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا ہے اور اس سے لڑکے اور لڑکیاں دونوں یکساں طور پر متاثر ہیں۔ پاکستان جرنل آف میڈیکل سائنسز کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی ایک مقالے کے مطابق آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے جن طلبہ نے تحقیق میں حصہ لیا، ان میں سے 16.1 فیصد انٹرنیٹ کے درمیانے نشے میں مبتلا پائے گئے، جب کہ 0.6 فیصد کو اس نشے کا شدید طور پر شکار کہا جا سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹرنیٹ کا عادی ہونے کے معاملے میں کوئی صنفی امتیاز نہیں پایا گیا اور طلبہ اور طالبات تقریباً یکساں شرح سے اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    تحقیق میں ایک اور بات یہ سامنے آئی کہ جو طلبہ کسی قسم کے کھیلوں یا جسمانی سرگرمی میں حصہ لیتے تھے، ان کے اس مخصوص نشے میں گرفتار ہونے کی شرح دوسروں کے مقابلے پر کم تھی۔ انٹرنیٹ کو عام ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا، لیکن حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ انٹرنیٹ کے نشے کے لیے باقاعدہ طبی اصطلاح 'انٹرنیٹ ایڈکشن ڈس آرڈر'یا آئی اے ڈی وضع کی جا چکی ہے، جس کی تعریف کچھ یوں ہے: 'انٹرنیٹ کے استعمال میں خود پر قابو نہ رکھ پانا، جس کی وجہ سے مریض جسمانی، نفسیاتی اور سماجی مسائل کا شکار ہو سکتا ہے۔'
    انٹرنیٹ جہاں ایک طرف طلبہ کو رابطے، معلومات اور تفریح کا سستا اور سہل وسیلہ فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب یہ ان نوجوانوں کو کسی نشے کی طرح اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں ہمارے ملک میں انٹرنیٹ کا استعمال جنگل کی آگ کی طرح پھیلا ہے۔ سوشل میڈیا مینیجمنٹ کے ادارے ہُوٹ سویٹ کی رپورٹ 'ڈیجیٹل ان 2017'کے مطابق 2016 کے مقابلے پر حالیہ برس میں پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اب ملک بھر میں ساڑھے تین کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جن کا 72 فیصد حصہ موبائل فون کے ذریعے آن لائن ہوتا ہے۔

    ظاہر ہے کہ اس تعداد کا بہت بڑا حصہ طلبہ پر مشتمل ہے، جو اپنی پڑھائی کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ پر تعلیمی وسائل کی کوئی حد نہیں اور یہ میڈیم طلبہ کو تعلیم و تحقیق میں بہت مدد دے سکتا ہے، لیکن کسی بھی طالبعلم کو پڑھائی کے دوران توجہ کے ارتکاز کی اشد ضرورت ہوتی ہے، لیکن انٹرنیٹ اس کے بالکل برعکس توجہ بٹانے کے بےشمار مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے طالبعلم بھٹک کر کسی اور طرف نکل جاتا ہے۔ جرنل آف میڈیکل سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق طلبہ و طالبات یکساں طور پر انٹرنیٹ کے اسیر تھے۔ تاہم ہانگ کانگ اور ایران میں اسی قسم کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکے زیادہ اس عارضے کا شکار ہوتے ہیں۔

    اس کے علاوہ جو طلبہ کسی قسم کی جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، ان کے اندر اس نشے کا شکار ہونے کی شرح کم تھی، کیوں کہ ایسے طلبہ جلدی سونے کے عادی تھے اور وہ اپنے وقت کا خاصہ حصہ موبائل یا لیپ ٹاپ سے دور کھیل کے میدان میں گزارتے تھے۔ عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ تحقیق تحقیقی مقالے کے مرکزی مصنف لیفٹیننٹ کرنل پروفیسر عالمگیر خان آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں پروفیسر آف فزیالوجی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: ’انٹرنیٹ کا نشہ کسی بھی دوسرے نشے کی مانند ہوتا ہے اور اس کے چھوٹنے کی بھی ویسے ہی جسمانی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔'

    اس نشے میں اور دوسرے نشوں میں کیا فرق ہے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 'نشے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی چیز کے عادی ہو جائیں اور وہ چیز آپ کو نہ ملے تو اس سے زندگی میں دلچسپی ہی ختم ہو جائے، کوئی چیز اچھی نہ لگے، آپ چڑچڑے پن کا شکار ہو جائیں، یا ڈیپریشن میں چلے جائیں۔'انھوں نے کہا کہ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’انٹرنیٹ کے نشے کا شکار لوگوں سے آپ ان کے گیجٹ لے لیں تو انھیں لگتا ہے کہ جیسے زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔'

    اس سے قبل پروفیسر عالمگیر اور ان کے ساتھیوں کی ایک اور تحقیق سے ظاہر ہوا تھا کہ انٹرنیٹ کا نشہ طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں پر بری طرح سے اثرانداز ہوتا ہے۔ جرنل آف اسلامک انٹرنیشنل میڈیکل کالج میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق عام طلبہ کے مقابلے پر انٹرنیٹ کے عادی طلبہ میں امتحانات میں ناکامی کی شرح ڈھائی گنا زیادہ تھی۔ پروفیسر عالمگیر کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کا کردار بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، خاص طور پر ایسے بچوں پر نظر رکھیں جن کی تعلیمی کارکردگی اچھی نہیں ہے اور دیکھیں کہ کہیں وہ انٹرنیٹ کے نشے کا شکار تو نہیں ہو گئے؟

    پاکستان میں کیے جانے والے ان مطالعہ جات سے یہ بات کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی طرح انٹرنیٹ بھی دودھاری تلوار کی مانند ہے اور یہ بےتحاشا فائدے کے ساتھ ساتھ بے پناہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اس معاملے میں طلبہ، والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سب کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

    ظفر سید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام


    0 0

    بھارتی میڈیا میں ایک فوجی تیج بہادر کی اچھا کھانا نہ ملنے کی ایک چھوٹی سی ’’بہادری ‘‘یعنی شکایت کو انکے اعلیٰ فوجی حکام اور حکومت نے کتنی ’’ بزدلی یعنی سختی سے لیا اس کا اندازہ ان خبروں سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہلدی ملی دال، جلے ہوئے پراتھے اور رات کو بھوکے پیٹ سونے کی دہائیاں دینے والا بھارتی فوجی تیج بہادر تا حال لاپتہ ہے ۔ یہ پاکستانی میڈیا نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا کہہ رہا ہے کہ ظلم کی انتہا دیکھئے کہ تیج بہادر کے اہل خانہ حبس بے جا زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، تیج بہادر کی بیوی دہائیاں دے رہی ہے ، شوہر کو ایک نظر دیکھنے کیلئے اس نے ہاتھ جوڑ لئے ہیں ۔ تیج کے خاندان نے عدالت میں حبس بے جا کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔

    فی الحال بھارت میں تیج بہادر اور اس کے مظلوم خاندان کو انصاف ملنے کی دور دور تک کوئی’’ آشا ‘‘نہیں ہے ۔ تیج بہادر کی ’’بہادری ‘‘ کو دیکھتے ہوئے بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوان نے بھی افسروں کے رویے کیخلاف وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو خط لکھ دیا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں اس خط کا ’’جواب کب اور کیسے آتا ہے ۔ ان واقعات نے سیکولر ازم کے دعویدار بھار تی معاشرے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ،بھارت کے اندر پڑھا لکھا ، غیر جانبدار طبقہ اس سوچ میں مبتلا ہے کہ جہاں فوجیوں کو پیٹ بھر ، صاف ستھرا کھانا دستیاب نہیں وہاں ’’خفیہ نیو کلیئر سٹی ‘‘ کے خواب دیکھنا کہاں کی دانشمندی ہے ، بیشتر تو اسے ’’بغاوت ‘‘ سے تشبیہہ دے رہے ہیں ۔ ایک بھارتی لکھاری نے تیج بہادر اور ان جیسے کئی فوجیوں کی اچھا کھانا نہ ملنے کی شکایت پر کچھ اس طرح سے بزور قلم احتجاج کیا کہ ہم بھی مجبور ہو گئے کہ ان کے الفاظ ان ہی کی زبانی آپ تک پہنچا دیں ۔
    یہ بھارتی لکھاری ایک پروفیسر ہیں اور مسلمان بھی ہیں اس لئے ہم یہاں ان کا نام ظاہر کر کے ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا نہیں چاہتے ، مقصد ان کی تحریر میں چھپا کرب اور نا انصافی بتانا ہے لہٰذا ہم اپنا کام کئے دیتے ہیں ۔ بھارتی پروفیسر لکھتے ہیں ’’ہم اپنی بیٹی کیساتھ ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے کہ اچانک ایک منظر پر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ، سکرین پر ایک کٹورا نظر آ رہا تھا جس میں تھوڑی سی دال تھی، بیٹی نے فوراً پوچھا ’’یہ دال اتنی پتلی کیوں ہے ؟ ‘‘میں نے جواب دیا ، نہیں بیٹا وہ تو کیمرے کی آنکھ سے پتلی نظر آ رہی ہے۔ بیٹی نے جواب دیا ’’ آپ غور سے دیکھیں کٹورے میں صرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے۔‘‘ جی چاہا ہم کٹورے میں کو د جائیں اور پانی کے درمیان تیرنے والی دال کے کچھ ذروں کو نکال کر اپنی بیٹی کو پیش کر دیں ۔ اتنے میں کیمرے نے روٹی کو فوکس کیا جو جل کر تقریباً سیاہ ہو چکی تھی ۔ ’’یہ یا ہے ابو ؟‘‘شاید روٹی ہے جو اتفاق سے کچھ زیادہ پک گئی ہے ۔ ’’نہیں ، ابو ، یہ جلی ہوئی روٹی ہے ۔‘‘ میرا خیال ہے کیمرے میں کچھ خرابی ہے۔’’ابو ، سنئے یہ رپورٹر کیا کہہ رہا ہے ‘‘ہم نے تصویروں سے آنکھیں بند کر کے کمنٹری سننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف ) کے کوئی تیج بہادر یادو ہیں جنہوں نے اپنے موبائل فون کے کیمرے سے دال اور روٹی کو فیس بک پر وائرل کر دیا ہے اور یوں ساری دنیا کو بتا رہے ہیں کہ سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو کیسا کھانا دیا جاتا ہے ۔

    ہم نے اپنی بیٹی کے کان مین سرگوشی کی ’’یہ ضرور ہمارے دشمنوں کی سازش ہے ، بھلا کوئی حکومت اپنے فوجیوں کو اتنا خراب کھانا کیسے دے سکتی ہے ؟ لیکن کیمرہ تو دال اور روٹی کی شکل صاف صاف بتا رہا ہے’’ بیٹا ، دشمن کچھ بھی کر سکتے ہیں ‘‘ ابو کیمرہ ہمارے اپنے فوجی کا ہے اور لگتا ہے کہ وہ اس طرح حکومت تک اپنی شکایت پہنچانا چاہتا ہے ’’ وہ اپنے سینئرز سے بھی تو کہہ سکتا تھا ’’ ہو سکتا ہے کہا ہو مگر دال اور روٹی ویسی ہی ملتی رہی ہو تو بیزار ہو کر اپنی شکایت وائرل کر دی ہو ۔‘‘بیٹا ، آپ بہت دور کی سوچنے لگتی ہیں کہیں اپنی شکایتیں نہ وائرل کر دینا ۔ پتلی سی دال اور جلی ہوئی روٹی کے مناظر اتنے تکلیف دہ تھے کہ ٹیلی ویژن بند کرنے کے بعد بھی ہمیں نظر آتے رہے ۔ کیا واقعی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو ایسا کھانا دیا جاتا ہے ؟ پتہ نہیں یہ بے چارے کب سے ایسا کھانا کھا رہے ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی شکایت پر کسی نے کان نہ دھرا ہو ۔

    پتہ نہیں ماضی میں موسموں کی شدت نے ان پر کیا قیامت ڈھائی ہو ۔ ویسے فوجی محکمے کے آڈیٹر صاحبان نے یہ منکشف کیا ہے کہ فوجیوں کو جس معیار کا کھانا دیا جاتا ہے اس سے وہ مطمئن نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دو باتیں ایسی بتائیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ اتنی اہم سرکاری رپورٹ کے بعد بھی بھارتی حکومت بیدار کیوں نہیں ہوئی ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جو راشن فوجیوں میں تقسیم کیا گیا اس کی Expiry Date تین ماہ پہلے ختم ہو چکی تھی ۔ دوسرے فوجیوں کے کھانے سے سبزیاں اور پھل مجوزہ مقدار سے 74 فیصد کم کر دئیے گئے ہیں (اور اس پر پتلی دال اور جلی ہوئی روٹی ) یہ اتنی تکلیف دہ بات ہے کہ جس کسی کو اس بد دیانتی کی خبر لگے گی وہ حیران ہوگا کہ جس کرپشن کو ختم کرنے کیلئے بھارتی وزیر اعظم نریند رمودی اپنی ساری طاقت صرف کر رہے ہیں ، وہ کرپشن فوج میں جاری و ساری ہے ۔ وہ فوج جس کے متعلق آج تک یہ خیال کیا جا تا تھا کہ یہ ادارہ بد عنوانی سے پاک ہے ، وہاں بھی بے ایمانی نے اپنے گھر بنا لئے ہیں ۔

    اب جبکہ ’’پنڈورہ بکس ‘‘ کھل ہی چکا ہے تو جان لیجئے کہ سیکیورٹی فورس اور بیوروکریسی میں ایک عرصے سے سرد جنگ جاری ہے. معذور فوجیو ں کیخلاف حکومت نے عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے ، پنشن، چھٹی کی تنخواہ کینٹین کی سہولت ، میڈیکل سہولت اور شہید کہلانے کا حق یہ سب عام فوجیوں کو جھولی میں اتنی آسانی سے ڈال دیا گیا ہے کہ دیگر فوجیوں میں احساس کمتری جنم لینے لگا ہے ۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کا کوئی جوان اس تعصب کی شکایت کر دے تو اسے فوری طور پر کسی پُر خطر مقام پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے ۔ حال ہی میں ایک بی ایس ایف جوان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے نشے کی حالت میں اپنے سینئر افسر پر گولی چلا دی تھی ۔ اولاً تو اس کے پاس پستول کیسے برآمد ہوا یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا ۔ رہا شرابی ہونے کا الزام لگا کر سزا دینے کی بات تو یہ نسخہ اتنے برسوں سے آزمایا جا رہا ہے کہ اس الزام کو سنتے ہی لوگ حقیقت بھانپ جاتے ہیں ۔

    بہر حال ہمیں شکایت ہے تو ایسے عام لوگوں سے جو حب الوطنی اور دیش بھگتی کی باتیں کرتے نہیں تھکتے اور جہاں کسی نے حکومت کیخلاف ایک لفظ بھی منہ سے نکالا کہ اسے باغی اور دشمن قرار دے کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ شاید تیج بہادر یادو کا بھی وہ حشر ہو ا (انہیں لاپتہ کر دیا گیا ہے ، گھر والے پریشان ہیں لیکن ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ) اس طرح ہر فوجی تک یہ پیغام پہنچ گیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال کرو گے یا حکومت کیخلاف زبان چلائو گے تو یہی حشر تمہارا ہو گا ۔ جو ملتا ہے ، چپ چاپ کھالو ، جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے، برداشت کر لو اگر شکایت کی تو سزا کیلئے بھی تیار ہو جائے ۔ دوسری طرف نریندرمودی بھارت کو ڈیجیٹل ملک بنانا چاہتے ہیں ، کرپشن ختم کر کے ایک کیش لیس ملک کی شکل دینا چاہتے ہیں ، وہی وزیر اعظم ایسے اہم ترین ادارے کی بدعنوانیاں دیکھ کر چپ ہے ۔ کیا انہیں اندازہ نہیں ہو گا کہ یہ کھچڑی برسوں سے پک رہی ہو گی اور جب کوئی راستہ نظر نہیں آیا ہو گا تو ابل پڑی ہو گی ۔

    انہیں تو یہ بھی اندازہ ہو گا کہ ان فوجیوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگاری سے نجات حاصل کرنے کیلئے فوج میں بھرتی ہوئی ہے ۔ اور ایک انسان ہونے کے ناطے انہوں نے ایک حد تک ذلت برداشت کی ہے یہ مصلحتوں کا دبائو تھا کہ ابھی تک خاموش رہے تھے ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت فوج کے بظاہر پر سکون ماحول میں اٹھنے والی آندھیوں پر قدغن لگائے اور ان کی جائز شکایتوں کا ازالہ کر کے فوج کا امیج درست کرے، لیکن یہ سب کیسے کیا جائے ؟ اس تعلق سے کچھ کہنے کا مطلب ہو گا اپنی خامیوں کا اعتراف کرنا اور اپنی خامیوں کا اعتراف تو دور کی بات رہی ان کا ذکر کرنا بھی ہمیں منظور نہیں ۔ ابھی ہماری سوچوں کا سلسلہ جاری تھا کہ ہمارے لئے کھانا چنا گیا اور ہم بھول گئے کہ کسی تیج بہادر یادو نے دال روٹی کی شکایت کی تھی ۔ ہم کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے کوئی دشمن پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔ دراصل بھوک میں کھانا نظر آ جائے تو آدمی سب کچھ بھول کر صرف کھانے کا ہو جاتا ہے اور خوش قسمتی سے کھانا ذائقہ دار ہو تو پھر کب رکنا چاہئے ، یاد نہیں رہتا ۔ اس دوران ہماری بیٹی نے یاد دلایا کہ ابو جی ، کبھی ان کو بھی یاد کر لیا کریں جنہیں ذائقہ دار کھانا میسر نہیں کٹورے میں دال تو ہے مگر اس پر صرف دال کا گمان ہوتا ہے ، روٹی ہے مگر جلی ہوئی ۔ 

    ہم نے فوراً اپنی بیٹی کو روکا کہ کیا دال روٹی کا ذکر اسی وقت کرنا ضروری تھا ؟ ابو، ابھی چند دن بھی نہیں گزرے کہ بھارت اس غریب کی دال روٹی بھول گیا ، کم از کم آپ تو نہ بھولیں ۔‘‘ جنگی جنون اور برتری کے غرور میں مبتلا ممالک میں کچھ ایسی ہی کہانیاں جنم لیتی ہے جن کا جھوٹ یا خوابوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ تیج بہادر جیسے لوگ تو اس کہانی کا ایک صفحہ ہیں پوری کہانی پڑھی جائے تو نا جانے کیا کیا تلخ حقیقتیں سامنے آئیں ۔

    طیبہ بخاری

     


    0 0

    بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے۔ ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں ۔ یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے۔ جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟ عشق ایک کیفیت کا نام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے۔
    اس کے جواب میں جو آپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے۔ اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو ونما کررہا ہے ۔ ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یا نہ جانیں وہ چلا رہا ہے ۔ پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیا اگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے ﷲ تک نہیں پہنچ سکتے ، تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ؐسے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کر دی۔ اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کا اتنا زیادہ بھلا چاہنے والا کون ہے ؟۔ 

    اگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے ۔ جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا، انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ۔ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش و بودو باش الگ ہوتی ہے، طریقے الگ ہوتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ کسی انگریز کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کر رہے ہوتے ہیں؟

    آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کر کے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟ کسی امریکن، کسی یورپین کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ، پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے، ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔

    محمد اکرم اعوان
     


    0 0

    مغلوں نے 1526ء سے 1700ء تک ہندوستان میں حکومت قائم رکھی۔ جب برطانیہ
    نے یہاں قبضہ جمایا تو مغلوں کے بارے بہت سے واقعات رپورٹ کیے گئے۔ جن میں سے بیشتر حالات مغل بادشاوں نے اپنے قلم سے نوشتہ ہیں۔ مغلوں نے اپنے راج میں آئے دن تہذیب و ثقافت، فن تعمیر ادب و موسیقی کی صورت میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ان میں بدقسمت محبت کا افسانہ انارکلی بھی منسوب ہے جس نے آج بھی لوگوں کے دل و دماغ کو گرفتہ کر رکھا ہے۔ بعض مورخین تو واشگاف الفاظ میں انارکلی کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور جو کرتے ہیں وہ بھی انار کلی کی موت کے بارے میں خاموش ہیں۔ سلیم جو بعد میں جہانگیر کے نام سے حکمران بنا انار کلی کی محبت میں گرفتار ہو گیا۔ اکبر نے شیشے میں دیکھا کہ انارکلی شہزادہ سلیم کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی ہے اسے شک ہوا کہ جہانگیر کے ساتھ سازباز میں انارکلی شریک ہے لہٰذا اس نے سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنوانے کا حکم دیا۔ سلیم کو اس کی موت کا افسوس ہوا تو اس نے اس جگہ ایک عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا۔
    سید لطیف لکھتا ہے! یہاں عظیم الیشان سفید مثمن ہشت پہلو مقبرہ تعمیر کرایا گیا. جو آج بھی اپنے برجوں کے ساتھ آج بھی پنجاب کے سول سیکرٹریٹ میں موجود ہے۔ آج مقبرہ کے وسط کی بجائے یہ قبر کا تعویذ ایک سمت پڑا ہے جس پر دو تاریخیں ابھرواں انداز میں یوں درج ہیں۔ 1599ء اور 1615ء اغلباً انارکلی کے مرنے کی تاریخ 1599ء جبکہ 1615ء مقبرہ کی تعمیر کی تاریخ ہو سکتی ہے جہانگیر نے بادشاہ بننے کے دس سال بعد یعنی 1615ء میں اس کی تعمیر کرائی ہو گی۔ سکھوں نے اپنے عہد میں اس مقبرے کو خاصا نقصان پہنچایا۔ مقبرے کی بنیادیں خشتی اور چبوترہ سنگ مرمر کا تھا جو راجہ رنجیت سنگھ نے اکھاڑ دیا۔ قبر کے تعویذ پر 99 اسماء الٰہی اور اشعار درج ہیں۔ انگریزی دور میں اس عمارت کو گرجا میں تبدیل کر دیا گیا اور اس کا نام سینٹ جین چرچ رکھ دیا گیا۔ اب اس عمارت کو ریکارڈ آفس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کے مطابق یہ مقبرہ جہانگیر کی بیوی صاحب جمال کا ہے۔

    قبر کے تعویذ پر مندرجہ ذیل عبارت درج ہے: آہ گرھن بازینم روی یار خویش را تاقیامت شکر گویم کردگار خویش را مجنوں سلیم اکبر 1008ء ہزار دہشت کتبات قبور کے لحاظ سے لاہور میں یہ خوبصورت نستعلیق کی ابھروں انداز میں بہترین مثال ہے اس میں الفاظ سنگ مرمر کے ایک ہی ٹکڑے پر انتہائی چابکدستی میں کتابت کئے گئے ہیں اور اللہ اکبر لکھا گیا ہے۔ 1642ء میں داراشکوہ نے سفتیہ الاولیاء اولین تصنیف کی جس میں انارکلی کے مقبرہ اور باغ کے بارے میں لکھا مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس مقبرے میں کون دفن ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی کا بیان اس ضمن میں درست لگتا ہے کہ یہ مقبرہ جہانگیر کی چوتھی بیوی صاحب جمال کا ہے جو1599ء میں لاہور میں فوت ہوئی جو مزار پر کندہ ہے مگر جہانگیر نے اس مقبرے کے بارے میں کوئی بھنک نہیں ڈالی۔

    شیخ نوید اسلم
     (پاکستان کے آثارِ قدیمہ)
     


    0 0

    مجھے تو رتی بھر حیرت نہیں ہوئی کہ طیبہ کے والدین نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن
    جج اور ان کی اہلیہ کو تشدد کرنے پر معاف کر دیا ہے اور دونوں ملزموں سے صلح کر لی ہے، جس کے بعد یہ قصہ بھی تمام ہو گیا ہے۔ ایسے تو ہزاروں واقعات میری زندگی میں فلم کی طرح گزرے ہیں، جب کسی بااثر کے خلاف کمزور انصاف کے لئے کھڑا ہوا، دو چار دن انصاف کے رکھوالوں نے بھی اس کا ساتھ  دیا اور معاشرہ بھی اس کے ہمرکاب ہوا، لیکن پھر خبر آئی کہ اس کمزور نے ایک طاقتور کو معاف کر دیا ہے۔ اب بہت سے بقراطی دانشور بھی کہہ سکتے ہیں کہ معاف کر دینا تو عظمت کی نشانی ہے، مگر وہ اس بات کا شاید ہی جواب دے سکیں کہ ہر بار کمزور ہی کیوں معاف کرتا ہے، کبھی کسی طاقتور کو بھی غریب اور مظلوم کو معاف کرتے دیکھا ہے، اسے تو وہ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے، اس پر کتے چھڑواتا ہے، اس کی ٹانگیں تڑواتا ہے، آنکھیں نکلوا دیتا ہے اور ظلم کا ہر حربہ اختیار کرتا ہے، پھر بھی اس کی تشفی نہیں ہوتی۔

    جب قانون کچھوے کی چال چلے گا تو طیبہ جیسے کیس کے مدعی کب تک کسی طاقتور کا دباؤ برداشت کریں گے؟ سب کچھ تو سامنے آ گیا تھا۔ پولیس کی تفتیش، میڈیکل رپورٹ اور زمینی حقائق نے تو ثابت کر دیا تھا کہ طیبہ پر بدترین تشدد ہوا ہے اور انہی دونوں ملزموں نے کیا ہے، مگر انہیں ایک دن بھی جیل نہیں بھیجا گیا، گرفتار کرکے تفتیش نہیں کی گئی، قانون کی موشگافیاں ان کی ڈھال بنتی رہیں۔ادھر طیبہ کے والدین اسلام آباد میں رلتے رہے، پھر انہیں چند ٹکوں کی پیش کش کی گئی ہو گی، یہ بھی باور کرایا گیا ہوگا کہ ایک جج کے خلاف تمہیں انصاف نہیں ملے گا، یہ چند ٹکے جو مل رہے ہیں، انہیں وصول کرو اور صلح نامہ لکھ دو۔ ویسے بھی تم نے پاکستان ہی میں رہنا ہے، یہاں سے بھاگ نہیں جانا، تمہارے لندن یا امریکہ میں فلیٹس نہیں کہ جہاں تم یہاں سے جا کر شاہانہ زندگی گزار سکو، اس لئے جو ملتا ہے لو اور طیبہ کو اس صدمے کے ساتھ، جو اب اس کے دماغ سے ساری زندگی نہیں نکلے گا، کسی محفوظ جگہ لے جاؤ اور زندگی گزارو۔ سویہ سب کچھ تو ہوتا آیا ہے، ہوتا رہے گا۔ انصاف کے اسی طرح شادیانے بجتے رہیں گے، عدل کا اسی طرح بول بالا ہوتا رہے گا۔ آج طیبہ تھی تو کل کوئی رضیہ اسی طرح سامنے آئے گی، سوموٹو ایکشن کے ذریعے ملک بھر میں انصاف کی دہائی مچ جائے گی، پھر یہ خبر ملے گی کہ رضیہ کے والدین نے فی سبیل اللہ بااثر شخصیت کو معاف کر دیا ہے اور اب ہنسی خوشی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے زمانے میں بھی میری طرح پوری قوم یہ دیکھتی تھی کہ ظلم و زیادتی کے کسی واقعہ پر سپریم کورٹ بڑی شدومد اور جانفشانی سے ازخود نوٹس لیتی۔ آئی جی، چیف سیکرٹری اور نجانے کون کون سے با اختیار افسر طلب کئے جاتے، ملزموں کی گرفتاری کا حکم دیا جاتا، ہٹو بچوکی صدائیں گونجتیں اور پھر اس ساری مشق کے بعد تان صلح نامے پر ٹوٹتی اور سب ہاتھ جھاڑ کر اللہ اللہ خیر سلا کا ورد کرنے لگتے۔ مَیں نے تونہیں سنا یا دیکھا کہ کسی مظلوم کے مقابلے میں کسی ظالم طاقتور کو سزا ملی ہو۔ بس دو چار دن کا میڈیا پر تماشا ضرور دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ملک میں انصاف سوئے ہوئے ببر شیر کی طرح اچانک دھاڑتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوتا ہے، لیکن پھر انگڑائی لے کر سو جاتا ہے اور معاملات کسی اگلے ظلم کے واقعہ تک جوں کے توں چلتے رہتے ہیں۔ مَیں تو پہلے دن سے سمجھتا تھا کہ طیبہ کیس میں ایک بے جوڑ مقابلہ رکھ دیا گیا۔ 
    ممولے کو شہباز سے لڑانے کا مقابلہ، چیونٹی سے ہاتھی مروانے کا مقابلہ، عفریتوں میں گھرے مظلوم کو طاقتور کے سامنے کھڑا کر دینے کا مقابلہ، اس مقابلے کا کیا انجام ہونا ہے اس مملکتِ خدا داد میں، یہ تو اندھے کو بھی پتہ ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم یہ مزاحیہ فلم بڑے شوق سے دیکھتے ہیں اور بڑی بڑی توقعات وابستہ کرلیتے ہیں ۔ شیدے ریڑھی والے کے خلاف کوئی مقدمہ شقدمہ ہو جائے تو پولیس آؤ دیکھتی ہے نہ تاؤ، صبح دیکھتی ہے نہ شام، ثبوت مانگتی ہے، نہ تفتیش کرتی ہے، سیدھا اٹھا کے تھانے میں باقی سارے مراحل اس کے بعد طے ہوتے ہیں۔ مگر کسی بااثر شخص کے خلاف ثبوت بھی آ جائیں اور تمام شواہد بھی، اسے ضمانت قبل از گرفتاری کی شاہانہ سہولت فراہم کی جاتی ہے اور اس وقت تک یہ سہولت واپس نہیں لی جاتی جب تک اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے والا مظلوم اسے معاف نہ کر دے۔ ایسے حالات میں مظلوم فریق کی حالت مرتا کیا نہ کرتا، جیسی ہوتی ہے۔

    آپ دیکھیں کہ پاکستان میں معاملات کو کتنی خوبصورتی سے نمٹایا جاتا ہے۔ طیبہ کیس کے بعد جب ایک صلح نامہ تیار کیا جاتا ہے تو پورے ملک میں دہائی مچ جاتی ہے کہ ایک حاضر سروس جج نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اُٹھا کر طیبہ کے والدین کو صلح پر مجبور کر دیا۔ عدلیہ پر تنقید ہونے لگتی ہے تو سوموٹو ایکشن کے ذریعے یہ معاملہ ایک نئی شکل اختیار کر جاتا ہے، طیبہ کو برآمد کرایا جاتا ہے، جج کو معطل کر دیا جاتا ہے، پولیس سے رپورٹ طلب کی جاتی ہے، کیس میں تشدد ثابت ہو جاتا ہے اور یہ بھی کہ تشدد جج صاحب کی اہلیہ نے ہی کیا اور شوہر نے معلوم ہونے کے باوجود اسے نہیں روکا۔ دو چار دن کی پیشیوں کے بعد جب گرد بیٹھتی ہے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ابتدا ہی میں نکل آیا تھا، یعنی صلح ہوجاتی ہے۔ پہلی صلح اگر غیر قانونی قرار پائی تھی تو دوسری قانونی قرار پاتی ہے۔ ہر ایسے کیس کی، جس میں ایک طرف طاقتور اور دوسری طرف کمزور ہو، یہی کہانی نکلتی ہے اور اس کا نتیجہ بھی یہی ہوتا ہے۔

    اس کے بعد حالات پھر اسی ڈگر پر چل نکلتے ہیں۔ پولیس آئے روز شہریوں پر تشدد کرتی ہے، جعلی پولیس مقابلوں میں بندے مارتی ہے۔ گھسی پٹی ایک ہی کہانی گھڑتی ہے، سب کو معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ اور فریب سے اس کہانی کو تیار کیا گیا ہے، مگر کسی پولیس والے کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا۔ 302 کے مقدمات تک درج ہو جاتے ہیں، لیکن آج تک کوئی بتائے کہ کسی پولیس والے کو سزا ہوئی ہو، اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ وہ مدعیوں پر دباؤ ڈال کر صلح نامہ لکھوائے اور پھر کسی جعلی پولیس مقابلے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس بار ذرا معاملہ مختلف تھا۔ پولیس کی بجائے ایک حاضر سروس جج مظلوم کے مقابلے میں آ کھڑے ہوئے تھے۔ ملک میں عدلیہ کے نئے کردار کی بازگشت بھی سنائی دے رہی تھی،اس لئے خواہ مخواہ یہ امید پیدا ہوگئی تھی کہ اس بار کم از کم ایک اچھی مثال قائم کر دی جائے گی۔ ریاست پوری طرح طیبہ اور اس کے خاندان کی پشت پر آ کھڑی ہو گی۔ ایک تیز رفتار عمل سے گزار کراس کیس کا فیصلہ کیا جائے گا، تا کہ ملک بھر میں یہ پیغام جائے کہ آئندہ کسی نے ایسا ظلم کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، مگر صاحب کہاں؟ طبقہ اشرافیہ کی گرفت اتنی کمزور تو نہیں، جو طیبہ جیسی کسی معصوم بچی کے ہاتھوں ٹوٹ جائے۔ اس میں اتنی طاقت تو ہے کہ وہ اس ملک کے لولے لنگڑے نظام کو اپنے گٹھ جوڑ سے مفلوج کرکے رکھ دے اور غریبوں کو یہ سوچنے کی بھی جرأت نہ ہو کہ انہیں طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکتا ہے۔

    مَیں بھی ایک خوش فہم آدمی ہوں۔ ایسا خوش فہم جو تنکوں سے بھی دریا پار کرنے کی اُمیدیں باندھ لیتا ہے۔ طیبہ کیس سامنے آیا اور سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے بعد جس طرح پورے ملک میں ہاہا کار مچی، میرا خیال تھا کہ اب حالات بہتری کی طرف ضرور جائیں گے۔ خاص طور پر چائلڈ لیبر کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔ اسے محکمہ لیبر کی دسترس سےنکال کر پولیس کی دسترس میں دے کر قابل دست اندازی پولیس بنا دیا جائے گا۔ طیبہ کیس ملک میں ایک بہت بڑی مثال ثابت ہو گا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ اس کا نتیجہ بھی’’ڈھاک کے تین پات‘‘ ہی نکلے گا۔ جو اشرافیہ اسمبلیوں کے اندر بیٹھی ہے، اس کے تو ڈیرے ہی ایسے غریبوں کے بچوں سے آباد ہیں۔ معصوم بچوں کو ان کی بیگمات اپنی خدمت کے لئے وقف رکھتی ہیں اور غلامی کا یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا ہے۔ بڑا شوروغوغا ہوتا ہے کہ بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کے خلاف یہ ہو جائے گا، مگر ہوتا اس لئے کچھ نہیں کہ گھروں میں کام کرنے والی بچوں کی فوج تو ہے ہی بااثر افراد کی غلام۔

    طیبہ کیس توکسی وجہ سے سامنے آ گیا، گھروں میں کام کرنے والی بچیوں کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہے، اس کی تو صرف کہانیاں ہی سامنے آتی ہیں، کاش ایسی کہانیاں بھی سامنے نہ آئیں۔ کاش طیبہ کیس جیسے واقعات پر پردہ پڑا رہے، تا کہ ہم اپنے نظام انصاف کی تعریفیں سن کر بھنگڑے ڈالتے رہیں، لیڈروں کے اس بیان پر تالیاں بجاتے رہیں کہ کسی غریب پر ظلم کو برداشت نہیں کیا جائے گا، قانون سب کے لئے برابر ہے وغیرہ وغیرہ۔ طیبہ کیس ایک بار پھر ہمارے نظام انصاف کی چولیں ہلا گیا ہے۔ ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایسے واقعات کا خوشگوار انجام یہی ہوتا ہے کہ مظلوم ہاتھ جوڑ کر صلح کرلے اور طاقتور کو اس طرح معاف کرے کہ اس کا ظلم، طاقت اور کروفر مزید شدت کے ساتھ نمایاں ہو جائے۔ طیبہ کیس کے اس ’’خوشگوار‘‘ انجام پر ملک کے غریبوں کو بہت بہت مبارک باد کہ اس میں کم از کم انہیں کسی کو معاف کرنے کا جھوٹا سچا موقع تو ملا، وگرنہ تو ان کی ساری زندگی طاقتوروں سے معافیاں مانگتے ہی گزر جاتی ہے۔

    نسیم شاہد


    0 0

    آصف علی بھٹی


    0 0

    پنجاب کے روایتی پکوان سادہ مگر ذائقے سے بھرپور رہے ہیں۔ چونکہ دیہاتی ماحول میں گائے بھینسوں کا دودھ اور اس کی ذیلی پیداوار گھی اور مکھن کی صورت میں عام تھی اس لئے گھروں میں سالن پکانے کے لیے دیسی گھی استعمال ہوتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آبادی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور دیہاتوں نے شہروں کا روپ دھارنا شروع کیا تو تن آسانی اور پیداواری قلت کی وجہ سے دیسی گھی کی جگہ بناسپتی گھی نے لے لی اور مزید وقت گزرنے کے ساتھ اور صحت کے مسائل سے آگہی اور تعلیم کے نسبتاً عام ہونے کے ساتھ خوردنی تیل کا استعمال بھی شروع ہو گیا۔ آج بھی پکانے کے لیے دیسی گھی کی شدید قلت اور دیہاتی زندگی میں حکمرانوں کی عدم دلچسپی، مویشی پالنے کے جدید طریقوں سے لاعلمی اور زراعت کو ترجیح نہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے اس قلت میں اور اضافہ ہوا۔

    اس لیے آج کل پنجاب کے دیہات میں بناسپتی گھی زیادہ اورخوردنی تیل بہت کم استعمال ہو رہا ہے۔ روایتی مزیدار پکوان آج کل کھانے کو تو کم کم ملتے ہیں، تاہم یہاں ان کے ذکر سے ضرور لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی پنجاب کا پرلطف اور سادہ ترین کھانا سرسوں کی نرم و گداز گندلوں سے تیار کیا ہوا سالن… جس میں مکھن کی بہتات ہوتی ہے، مکئی کے آٹے سے بنی روٹی کے ساتھ کھانا پنجاب کی پہچان تھا۔ آج شہروں میں تو کیا دیہاتوں میں بھی یہ کھانا معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجوہ بھی سہل انگاری اور تن آسانی ہی کہی جا سکتی ہے۔ سرسوں کا ساگ پکانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور پکانے میں توجہ اور محبت درکار ہوتی ہے،جو شاید کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس طرح یہ روایتی ذائقہ اب عام نہیں رہا، تاہم ابھی بالکل ختم نہیں ہوا۔ بینگن کا بھرتا تنور ہماری پنجابی تہذیبی روایت کا جزو لازم رہا ہے۔ گھروں میں تنوریاں موجود تھیں جہاں خواتین خود روٹیاں پکاتی تھیں۔
    ان کے علاوہ دیہاتوں میں تنور پیشہ کے طورپر بھی موجود تھے۔ جہاں اجرت کے طورپر گندھا ہوا آٹا لے کر روٹیاں لگائی جاتیں، پھر وقت گزرنے کے ساتھ معاشی حالات میں بہتری کی وجہ سے پیسے دے کر تنور سے روٹیاں لگوائی جاتیں۔ انہی تنوروں میں بینگن کا بھرتا (آگ پر پکانا) تیار کیا جاتا ہے۔ بینگن کا پکا ہوا گودا نکال کر دہی میں ملایا جاتا ہے۔ ہری مرچیں اور پیاز ملا کر تنور کی روٹی سے کھایا جانا والا بھرتا مزہ ہی مزہ دیتا تھا۔ یہ ڈش بہت جلد تیار ہو جاتی ہے اس لیے گرمیوں میں بطور خاص پسند کی جاتی ہے۔ کڑھی پکوڑا، کڑھی پکوڑا بھی پنجاب کا مصالحے دار اور مزے دار پکوان رہا مگر آج کل سوغات بن چکا ہے۔ بیسن کے پکوڑے تلے جاتے جو خوب چٹ پٹے اورمصالحے دار ہوتے۔ چاٹی کی لسی میں بیسن کو پکال کر سالن تیار کیا جاتا۔ اس میں پکوڑے ڈالے جاتے اور تنوری روٹی سے کھانے کا لطف اٹھایا جاتا۔ کڑھی پکوڑا آج شہروں میں ہوٹلوں میں عام ملتا ہے مگر یہ روایتی دیہاتی کڑھی پکوڑے کے ذائقے کو چھو بھی نہیں سکتا۔ پنجیری مٹھائی پنجابی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ 

    گنے کے استعمال سے لیکر گڑ، شکر اور چینی کا استعمال پنجاب کی روایت ہے۔ کوئی تقریب مٹھائی کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔ مٹھائیاں گھروں میں بھی تیار کی جاتی ہیں اور دکانوں میں بھی۔ پنجیری کا بطور خاص تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ یہ گھریلو مٹھائی ہے اور ہر گھرمیں اپنی معاشی طاقت کے مطابق اپنے طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کے اجزائے ترکیبی میں گندم کا ان چھنا آٹا (whole wheat) بنیادی جزو ہے اس آٹے کو دیسی گھی میں خوب بھونا جاتا ہے۔ اس بھنے ہوئے آمیزے میں چینی یا شکر ملا دی جاتی ہے۔ اس کے بعد بادام، مغزیات، کھوپرا، گوند کتیرا، سونف، کمرکس، اجوائن، سونٹھ، الائچی اور اخروٹ کی گریاں ملائی جاتی ہیں۔ 

    تاہم دیگر اہل خانہ بھی شوق سے یہ پنجیری کھاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ مزیدار ڈش بھی غائب ہو رہی ہے۔ شاید ڈرائی فروٹ کی آسمان کو چھوتی قیمتیں اس مزیدار مٹھائی کو پنجاب کے منظر نامے سے غائب کر کے چھوڑیں گی۔ پوٹوں (پوروں ) کی سویاں پنجاب کی نفاست (Delicacy) ہاتھ کی پوروں کی مدد سے بنی سویاں ایک مزیدار شیرینی (Desert) جو آج تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ راقم کے بچپن کی ایک خوبصورت یاد، خواتین اکٹھی ہو کر گرمیوں کی دوپہروں میں خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ سوجی کے گندھے ہوئے آٹے کو انگلیوں کی پوروں کی مدد سے باریک چاول نما بل دار سویاں تیار کرتیں۔ گندم کی بالیوں سے بنی خوبصورت چنگیروں میں سویاں کسی مشین کی سی تیزی سے گرتیں اور چنگیر سویوں سے بھر جاتی۔ 

    ان کو خشک کیا جاتا اور پھرناشتے میں ان سویوں کو روایتی طریقے سے چینی کے شیرے میں پکایا جاتا۔ آج یہ ڈش تقریباً ناپید ہے۔ چڑوے پنجاب کی دوسری اہم فصل چاول، مونجی کے کاشت والے علاقوں میں فصل اٹھانے کے بعد چڑوے بنائے جاتے۔ ایک خاص طریقے سے مونجی بھگو کر بڑے بڑے چٹوئوں میں بھاری بھر کم ڈنڈوں سے خواتین یہ چڑوے بناتیں چھلکے الگ کئے جاتے اور چپٹے چڑوے تیار ہو جاتے۔ یہ میٹھا ملا کر بھی کھائے جاتے اور اس کی نمکو بھی بنتی، کمرشل بنیادوں پر شایدچڑوے آج بھی ملتے ہیں مگر گھر پر تیار کرنے کا عمل ختم ہو چکا ہے۔

    غلام نبی شاکر
    (’’میرا گمشدہ پنجاب ‘‘ سے اقتباس )
     


    0 0

    امریکا کے 35 ماہرینِ نفسیات اورمعالجین کا ایک مشترکہ خط  نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی مریض اور صدارت کے لیے نااہل ہیں۔ یہ خط 9 فروری کے روز اسی اخبار میں سیاسی تجزیہ نگارچارلس ایم بلو کے ایک کالم کی تائید میں لکھا گیا ہے جس میں چارلس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر نہیں بلکہ ’’فاتح‘‘ بننا چاہتے ہیں۔ 13 فروی کو شائع شدہ اس خط میں 35 امریکی نفسیاتی ماہرین اورمعالجین نے یہی خیالات آگے بڑھاتے ہوئے مشترکہ مؤقف پیش کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے الفاظ اورطرزِ عمل، دونوں سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دوسروں کےلیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور ان میں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی بالکل بھی صلاحیت نہیں۔
    علاوہ ازیں وہ اپنے مخالفین کا منہ بند کرنے اورانہیں کچلنے کےلیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ رہتے ہیں جو نفسیاتی طور پر بیمار ہونے کی علامات میں شامل ہیں۔ اس خط میں امریکی نفسیاتی ماہرین نے امریکن سائیکیٹرک ایسوسی ایشن کے 1973 میں منظورکردہ رضاکارانہ ’گولڈواٹررول‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس اصول کی وجہ سے امریکی نفسیاتی معالجین کی سب سے بڑی انجمن نے مشہور شخصیات کی دماغی حالت کے بارے میں خاموش رہنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا ہوا ہے لیکن اس نازک وقت پر کچھ نہ کہنا امریکہ کےلیے بدترین نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔ ان تمام شواہد کومدنظر رکھتے ہوئے اس خط کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی خراب دماغی حالت کی بناء پر امریکی صدر رہنے کےلیے نااہل ہیں۔


    0 0

    لاہور کی پنجاب اسمبلی کے سامنے ہونے والے خودکش دھماکے سے پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ خودکش دھماکے کے نتیجے میں ٹریفک سیکشن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کیپٹن (ر) احمد مبین اور سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز زاہد گوندل سمیت 13 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے جبکہ 85 زخمی بھی ہوئے۔








    0 0

    اسلامی و مغلیہ طرز تعمیر کا عظیم شاہکار 121 سالہ پرانی مرکزی جامع مسجد راولپنڈی کا شمار پوٹھوہار ریجن کی چند تاریخی مساجد میں ہوتا ہے ، تاریخی مسجد کا سنگ بنیاد پیرمہرعلی شاہ گولڑہ شریف اور پیر آف میرا شریف پیر اللہ بخش نے 1896ء میں رکھا اور 1902ء میں تعمیر مکمل ہوئی۔ شہر کی جس مصروف شاہراہ پر یہ تاریخی مسجد واقع ہے اس سڑک کا نام بھی جامع مسجد روڈ رکھ دیا گیا۔ 18 کنال رقبے پرمحیط مسجد اسلامی آرٹ کا شاہکار ہے، مسجد کے 3 گنبد اور کئی چھوٹے چھوٹے مینار ہیں ۔ مسجد کی تعمیراور تزئین وآرائش میں جو غیرروایتی رنگ، میٹریل اور طرز تعمیر مقامی تاریخ کی ترقی وعروج کی ایک مثال ہے۔ مرکزی جامع مسجد کا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ 
    مسجد کے خطیب حافظ محمداقبال رضوی کے مطابق جب 1896ء میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو مقامی سکھ آبادی نے روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ، جس پرمقامی مسلمان آبادی نے گولڑہ شریف اورمیرا شریف کے پیر صاحب سے رابطہ کیا اورپھر پیرمہرعلی شاہ اور پیر اللہ بخش نے سنگ بنیاد رکھا اور اختلاف ختم کرایا۔ یہ تاریخی مسجد آج بھی راولپنڈی شہرکی سب سے بڑی مسجد ہے جہاں ہزاروں افراد نماز جمعہ کیلئے خصوصی طور پرجمع ہوتے ہیں ۔ معروف شاعروادیب عطاالحق قاسمی کے والد مولانا بہائوالحق قاسمی جامع مسجد کے پہلے خطیب تھے اور اس وقت مسجد میں ایک ڈویژنل خطیب، ایک خطیب، ایک نائب خطیب، ایک موزن، ایک مدرس، دو خادم اور ایک خاکروب کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ اوقاف پلازا کی آمدنی میں سے محکمہ اوقاف ادا کرتا ہے۔

    ڈاکٹرزاہداعوان

     


    0 0

    انصار عباسی


    0 0
  • 02/18/17--23:14: سیہون شریف سے
  • وزیر اعلیٰ سندھ کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں PCR سے دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر سکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں اور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہولہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 100 تک پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی اور اس سے زیادہ دل گرفتگی نے ایسا بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُجڑی ہوئی سڑکیں اور دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔
    سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں آگ اُگلنے لگیں۔ ’’سائیں‘‘ درجن بھر ایمبولینس بھی نہیں تھیں۔ فرلانگ بھر کے فاصلے پر ٹراما سینٹر جہاں 100 ڈاکٹروں کو ہونا تھا 10 بھی نہیں تھے۔ وزیر اعلیٰ جس کے اپنے شہر میں قیامت برپا تھی آٹھ گھنٹے بعد پہنچے۔ میڈیا کی DSNG گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہ ہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گُم ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔

    بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہائوس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلجنس نے اجازت نہیں دی۔ زخمیوں کو دیکھنے سابق صدر آصف زرداری کے شہر نوابشاہ چلے گئے ہیں جو بینظیر آباد کہلاتا ہے۔ یہ خبر بھی اُس تصویر سے ملی جو سرکاری طور پر جاری ہوئی تھی اور جس میں وہ ایک ہسپتال میں ایک بچی کو تسلی دے رہے تھے۔ وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کیلئے دروازے کھول دیئے گئے۔

    ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند ایک بار پھر وجد میں آ کر دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشتگردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی شریعت کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دینگے۔ نہ وہ اب تک کامیاب ہوئے ہیں اور نہ انشاء اللہ اُنکی درندانہ خواہشیں اور خواب کبھی 
    پورے ہونگے۔

    مجاہد بریلوی



    0 0

    سندھ کے صوفی بزرگ درگاہ لعل شہباز قلندر کے سیہون میں موجود مزار پر عقیدت مند اور زائرین کی بڑی تعداد موجود تھی، ایسے میں  دہشت گردی نے ان میں سے کئی افراد کے گھر اُجاڑ دیئے۔ سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر خودکش دھماکا ہوا، جس میں 80 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکا اس وقت ہوا جب مزار میں دھمال جاری تھا، اس کے موقع پر لوگوں کی کثیر تعداد وہاں موجود ہوتی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں مردوں اور خواتین کے ساتھ 7 بچے بھی شامل تھے۔










    0 0

    افغانستان کا امن و سکون گزشتہ تقریباً چار دہائیوں سے درہم برہم چلا آرہا ہے۔ دسمبر 1979ء میں سابقہ سوویت یونین نے اس سرزمین پر فوج کشی کر کے وہاں قابض ہونے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے۔ اس وقت یہ امریکہ کے بعد دنیا کی دوسری بڑی دفاعی طاقت تھی، اس لئے افغانستان کے پسپا ہونے کے خدشے سے امریکی حکومت نے افغانستان کی دفاعی مدد کرنے کی حکمت عملی اپنانے کو ترجیح دی۔ پاکستان کو بھی روس کی فوجی یلغار سے اپنی دفاعی حیثیت کو خطرات محسوس ہوئے۔ یوں پاکستان حکومت نے افغانستان کے لوگوں کی مدد کا فیصلہ کیا۔ بیرونی فوجی حملوں سے پاکستان کی علاقائی سلامتی کے دفاع کے لئے میدان عمل میں آ کر برسر پیکار ہونا، بلاشبہ بہت ضروری تھا۔ سوویت یونین کی طرف سے افعانستان پر مسلط جنگ کا مقابلہ، افغانستان کے جفا کش اور جواں ہمت لوگوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیوں سے کیا۔

    اس دوران، امریکی مالی اور دفاعی امداد بھی اہل افغانستان کے لئے کافی کار آمد اور موثر ثابت ہوتی رہی۔ پاکستان کے طول و عرض میں گاہے گاہے بہت تباہ کن دھماکے اور خودکش حملے، وقوع پذیر ہوتے رہے۔ جن میں ہزاروں بے قصور افراد، خواتین اور بچے جان بحق ہوتے رہے۔ امریکی حکومت افغانستان میں سوویت یونین سے برسر پیکار لوگوں کو باقاعدگی سے دفاعی امداد فراہم کرتی رہی۔ ان حالات میں تقریباً دس سال بعد، سوویت یونین کی ایک لاکھ سے زائد افواج سخت مزاحمت کے مقابلے میں اپنی جارحانہ اور ظالمانہ جنگی پالیسی جاری نہ رکھ سکیں، کیونکہ ان حملہ آور افواج کو اپنی کامیابی کا کوئی یقینی امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اس طرح سوویت یونین کی مخدوش و مفلوج معاشی حالت جنگ جاری رکھنے سے قاصر ہو گئی۔ نتیجتاً سوویت یونین اپنی شکستہ حال اور بچی کھچی افواج واپس اپنے علاقوں میں لے جانے پرمجبور ہو گیا اور سوویت یونین میں شامل ریاستوں نے یکے بعد دیگرے محض چند ماہ کے عرصے میں اس بڑے اتحاد سے علیحدگی کے اعلانات کر کے آزادی اختیار کرلی۔
    اس کے بعد امریکہ بہادر نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر دیگر اتحادی ممالک کی مسلح افواج کے ساتھ حملہ کر دیا اور ملک کے چپے چپے پر شب و روز بمباری اور گولہ باری کی، جو بعض علاقوں پر آج کل بھی جاری ہے۔ سابقہ مجاہدین کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے جان و مال کو نقصان سے دو چار کرنے کے لئے ہر ممکن حربے اختیار کئے۔ اس عرصے میں افغانستان میں لاکھوں بے قصور لوگ اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہونے کے علاوہ اپنی بے شمار قیمتی املاک کی تباہی سے دو چار ہو گئے ہیں۔ دیگر لاتعداد افراد بے گھر، زخمی اور اپاہج ہو گئے ہیں۔ جن کا ذرائع ابلاغ میں ذکر بہت کم پڑھنے اور سننے میں آیا ہے۔ یہ ہے امریکہ بہادر کا اصل کارنامہ۔۔۔ ایک غریب اور دور دراز خطہ ارض پر واقع ملک افغانستان کے عوام کے ساتھ، جو اب بھی بے سروسامانی کے حالات کے باوجود، امریکہ کی بڑی قوت کے مقابلے میں، جو انمردی سے نبرد آزما ہیں۔

    مقبول احمد قریشی ایڈوکیٹ


    0 0

    دنیا کے تیز ترین سفر کا عالمی ریکارڈ بنانے والی 27 سالہ امریکی خاتون
    کیسینڈرا ڈیپکول نے 18 ماہ کے عرصے میں دنیا بھر کے 196 ممالک کا سفر طے کیا۔ کیسینڈرا ڈیپکول نے ان تمام ممالک جہاں کا انہوں نے دورہ کیا، میں سے ٹاپ 10 ممالک کی فہرست ٹیلی گراف ٹریول کو دی ، اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔ کیسینڈرا ڈیپکول کی فہرست میں پاکستان 5 ویں نمبر پر موجود ہے۔ امریکی خاتون نے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس حوالے سے انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ بھی کی: 

    انہوں نے لکھا 'پاکستان میں اب تک ہونے والی میزبانی خاص طور پر کراچی میں شاندار رہی، پاکستان آنے کے دوران گلف ائیر میںمیری نشست کو مفت بزنس کلاس میں اپ گریڈ کیا گیا، جبکہ آئی بی ایم میں طالبعلموں، میئر کراچی وسم اختر سے ملاقاتیں کیں اور پودا لگایا، میرا پاکستان میں وقت اب شروع ہوا ہے جو کہ اس سفر کے تعلیمی اور ثقافتی تجربے کے چند زبردست تجربات میں سے ایک ہے، کسی کتاب کو اس کے رنگ یا کسی ملک کو میڈیا سے جج نہ کریں، پاکستان کے لیے بہت زیادہ محبت'۔

    The hospitality I've received so far in #Pakistan and specifically #Karachi has been astounding! From being offered a random, free upgrade to business class on @gulfair to being graced with the amazing hospitality of the crew and entering the cockpit and meeting the Pilot (the Captain knew about my Expedition before I even told him!), speaking to the students at the Institute of Business Administration, meeting the Mayor of Karachi, Mr. Wasim Akhtar, for the planting of the Cedrus Deodara tree (the National Tree of Pakistan) 🌲, coming back to my beautiful (sponsored) hotel and seeing my story and Mission on the front page of Traveller International, and finally, meeting with @rotaryinternational tonight! So incredibly humbling. Also, just comes to show (for those who think I'm not seeing anything in the countries I visit and that 2-5 days isn't enough) that it's all about time management and maximizing every moment of your time to make the most with what you have. But same applies to everything else in life, doesn't it? My time here in Pakistan has just begun and has been one of the many wonderfully educational and culturally enriching experiences on #Expedition196. Don't judge a book by its color or a country by the media. Much love ❤️🇵🇰 #peacethroughtourism • • • ✨Snapchat @ cassiedepecol To view all videos from today including the tree planting and meeting with the Mayor, head to Facebook.com/expedition196 ✨
    A post shared by Cassie De Pecol | Official (@expedition_196) on Dec 13, 2016 at 4:34am PST

    کیسینڈرا ڈیپکول کے مطابق ہر کسی کو پاکستان کا دورہ کرنا چاہیے، جسے یہاں 
    کی ثقافت اور کھانے کا لطف اٹھایا جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں پاکستان کا ویزا حاصل کرنے میں 4 ماہ کا انتظار کرنا پڑا لیکن انہیں اس بات کی کوئی مایوسی نہیں، کیوں کہ پاکستان میں گزارا ہوا ان کا وقت ان کے سفر کا سب سے یادگار تجربہ رہا۔

    Today is a monumental day for #expedition196... why? Because after 4 months my Pakistani visa is finally approved and ready for pick up!!!! WOOHOO!!!! So eager to go!!! ❤️😁🌎 • • • #regram photo by @fictionography #pakistan
    A post shared by Cassie De Pecol | Official (@expedition_196) on Nov 18, 2016 at 8:24am PST

    کیسینڈرا ڈیپکول کی جانب سے ریلیز کی گئی فہرست میں عمان، منگولیا، پیرو کے نام بھی شامل ہیں.


    0 0

    پاکستان میں پنجاب رینجرز ویسے تو صوبے کے بعض ضلعوں کے علاوہ ملک
    کے دیگر علاقوں میں بھی اندرونی سلامتی سے متعلق فرائض انجام دے رہی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ اس نیم فوجی دستے کو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں قیامِ امن کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان رینجرز کو ملک کا سب سے بڑا نیم فوجی دستہ تصور کیا جاتا ہے جس کے قیام کا مقصد ملک کی مشرقی سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کے دو صوبوں سندھ اور پنجاب کی سرحد انڈیا کے ساتھ ملتی ہے اس لیے ان دو صوبوں میں پاکستان رینجرز کے صدر دفاتر بنائے گئے ہیں۔

    صوبہ سندھ میں 'سندھ رینجرز'کئی دہائیوں سے سرحدوں کے علاوہ شہری علاقوں میں بھی قیام امن کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ پنجاب رینجرز کی ویب سائٹ پر شائع تفصیلات مطابق سرحدوں کی حفاظت کے علاوہ پنجاب ریجنرز بوقت ضرورت ملک کے اندر قیام امن کی ذمہ داری بھی ادا کرتی ہے۔ ضرورت کے مطابق قلیل مدت کی تعیناتی کے علاوہ ملک کے بعض علاقوں میں پنجاب رینجرز قیام امن کے لیے مستقل بنیادوں پر بھی تعینات ہیں جن میں گلگت بلتستان، اسلام آباد، تربیلا، راجن پور کے علاوہ صوبہ سندھ کا ضلع کشمور بھی شامل ہے۔ رینجرز کی صوبائی سطح پر سربراہی میجر جنرل رینک کا فوجی افسر کرتا ہے جو وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتا ہے۔
    رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک بلوچستان میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ادا کرتا ہے جب کہ دوسرا حصہ خیبر پختونخوا اور وفاقی کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں تعینات ہے۔ رینجرز کی طرح اس نیم فوجی دستے کی قیادت بھی صوبے کی سطح پر میجر جنرل کے رینک کا فوجی افسر کرتا ہے اور وہ اصولی طور پر وزارت داخلہ کو جوابدہ ہوتا ہے۔ لیکن ان دونوں صوبوں میں جاری شورش اور شدت پسندی کے باعث فرنٹئیر کور کے اختیارات رینجرز کے مقابلے میں بہت مختلف اور زیادہ ہیں جن پر بعض سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں کی جانب سے گاہے بگاہے تنقید بھی سامنے آتی رہتی ہے۔

    فرنٹیئر کانسٹیبلری
    ملک کے چاروں صوبوں میں ان بڑے نیم فوجی دستوں کے علاوہ بعض دیگر نیم فوجی دستے بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیام امن کے لیے پولیس کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ فرنٹیئر کانسٹیبلری ان میں نمایاں ہے۔ یہ فورس بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں قیامِ امن کے لیے پولیس کی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی لیکن اہم مقامات، خاص طور پر غیر ملکی سفارت کاروں کے تحفظ کے لیے اس فورس کے اہلکار ملک بھر میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اس فورس کو باقاعدہ طور پر وفاقی نیم فوجی دستہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس کی سربراہی پولیس افسر کرتا ہے جسے وفاقی وزارت داخلہ براہ راست تعینات کرتی ہے۔

    لیویز
    یہ نیم فوجی دستہ صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں کے مختلف اضلاع میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ ان دستوں کی قیادت تو پاکستان کی بری فوج کے افسر کرتے ہیں لیکن ان میں مقامی افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں کو قائم کرنے کا مقصد ان افراد کا اپنے علاقوں کے بارے میں معلومات کو استعمال کرنا بھی بتایا جاتا ہے۔ ان مقامی نیم فوجی دستوں میں چترال سکاؤٹس، خیبر رائفلز، سوات لیویز، کرم ملیشیا، ٹوچی سکاؤٹس، ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس، ژوب ملیشیا اور گلگت سکاؤٹس شامل ہیں۔

    دیگر نیم فوجی دستے
    ملکی بندرگاہوں، سمندری حدود اور ہوائی اڈوں کی حفاظت کے لیے چھوٹے چھوٹے نیم خود مختار نیم فوجی دستے بھی بنائے گئے ہیں جن کا مینڈیٹ مخصوص علاقوں یا تنصیبات کی حفاظت تک ہی محدود ہوتا ہے۔

    انسداد دہشت گردی کی خصوص فورسز
    گذشتہ چند برسوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے خود مختار حفاظتی دستے بھی تیار کیے ہیں جن کے بارے میں زیادہ معلومات جاری نہیں کی جاتیں۔ ان میں پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی خصوص فورس، پولیس اور دیگر انٹیلیجن ایجنسیوں کے اپنے نیم فوجی دستے شامل ہیں۔ ان تمام نیم فوجی دستوں کی تعداد کو خفیہ رکھا جاتا ہے تاہم بعض اندازوں کے مطابق ان تمام فورسز کی مجموعی تعداد پانچ لاکھ کے قریب ہے۔

    آصف فاروقی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد


    0 0

    سر سید احمد خان انیسویں صدی کے عظیم مسلم رہنما تھے۔ وہ دہلی میں ۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ء کو پیدا ہوئے۔ وہ مسلمانوں کے معلم کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے دور میں مسلمان سیاسی ، معاشی، ثقافتی اور تعلیمی لحاظ سے بہت کمزور تھے۔ وہ جب تھوڑے سے بڑے ہوئے تو انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا۔بڑے ہو کر انہوں نے مسلمانوں کی علمی تربیت شروع کردی ۔ برصغیر کے مسلمانوں کے دل میں علم کی لگن پیدا کی۔ جس کا منہ بولتا ثبوت ’’ دو قومی نظریہ‘‘ ہے۔ جسے علامہ محمد اقبال اور قائدِ اعظم جیسے لیڈروں نے پایہ ء تکمیل تک پہنچایا۔ محنت اور جفا کشی بھی سر سید کے خاص اوصاف میں سے تھی۔ قطع نظر اس کے کہ ابتدا ء سے ان کو کام کرنے کی عادت رہی۔ ان میں فطرتاََ مشکلات کے برداشت کرنے اور ہر کام سے ہمت نہ ہارنے کی استعداد تھی۔ اور ظاہر ان کی غیر معمولی ذہانت بھی ان کے دائمی غوروفکر اور دماغی محنت کا نتیجہ تھی۔

    کیونکہ بچپن میں جیسا کہ خودسرسید احمد خان سے معلوم ہوا کہ وہ با اعتبار ذہانت و جودت کے اپنے ہم عصروں میں کچھ زیادہ امتیاز نہ رکھتے تھے مگر چونکہ انہوں نے اپنے تما م قویٰ سے جو خدا تعالیٰ نے ان کوودیعت کئے تھے ۔ پورا پورا کام کر لیا تھا۔ اور اس لئے ان کے ذہن و حافظہ اور عقل سب کو جلا ہو گئی تھی۔ سر سید نے میدانِ صحافت میں بھی ایسے رجحان ساز کارنامے سرانجام دیئے جن کی یاد صدیوں تک باقی رہے گی۔ سر سید کی صحافت پر اربابِ علم و دانش نے کوئی زیادہ توجہ نہ دی۔ سر سید نے صحافت کو قومی اصلاح کا وسیلہ جانا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس عہد میں جب مسلمان مغلوب و محکوم تھے۔ انہوں نے اپنے رسائل میں ایسے مضامین چھاپے جن کا منشا و مقصد بر صغیر کے مسلمانوں کی راہنمائی تھی۔ ان کے صحافتی مضامین جہاں عہد جدید کے تقاضوں سے پورے طور پر ہم آہنگ تھے۔ وہاں ان کی ایک ایک سطر برصغیر کے مسلمانوں کو ترقی کی راہ پرگامزن ہونے کی ترغیب دلاتی تھی۔
    ان کی صحافتی تحریروں نے زوال پذیر اور محکوم مسلم قوم کو خواب خرگوش سے بھی بیدار کیا۔ انہیں نئے ماحول میں وقار اور عزت سے جینے کا قرینہ بھی سکھایا ۔ حقیقت یہ ہے کہ سر سید احمد خان کے صحافتی مضامین کا پہلا اور آخری مقصد برصغیر کے مسلمانوں میں انتشار اور بد نظمی کی کیفیت کو ختم کرنا تھا۔ سر سید دنیا کی ان عظیم شخصیتوں میں سے ہیں جو اپنے زمانے کو اپنی بے پناہ قوتِ ارادی و عمل سے متاثر کر سکتی ہیں۔ سر سید نے انیسویں صدی کے ہندوستانیوں خصوصاََ مسلمانوں کی تقدیر بدلنے اور بنانے میں جو کام کیا ہے وہ تاریخ کے صفحات پر مستند حروف میں ثبت ہیں۔ وہ قدرت کے ان شاہکاروں اور دنیا کے ان مشاہیر میں سے تھے جو اپنے اندر مختلف نوع کی طاقتیں اور صلاحیتیں رکھنے کی بنا پر کسی قوم کے ایک پہلو کو نہیں بلکہ کئی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہیں۔ اور ان میں انقلاب برپا کرتے تھے۔ 

    سر سید کے اصل میدان دو تھے۔ مذہب اور سیاست ۔ صحافت ان کا الگ میدان نہیں بلکہ مذکورہ میدانوں پر احاطہ کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔ سر سیدنے اخباری دنیا سے وابستہ ہو کراپنے مقاصد کی تکمیل چاہی تھی۔ انہوں نے علی گڑھ انسٹیٹیوٹ گزٹ ، تہذیب الاخلاق، لائل محمڈنز آف انڈیا جیسے رسائل یا اخبارات کو منزل کے حصول کا ذریعہ ہے۔ سر سید کا دور اگرچہ ہندوستانی اخبارات خصوصاََ اردو اخبارات کا ابتدائی دور تھا۔ اور یہ اخبارات ایسے دور ہیں جو منصہء شہود پر آئے تھے۔ جب انگریز حکمران کا دبدبہ ہندوستانیوں پر عموماََ اور مسلمانوں پر خصوصاََبہت زیادہ تھا۔ اس پر آشوب دور میں سر سید نے بے خوفی اور صداقت کو ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا۔ ایسے حالات میں جب خطرات سر پر منڈلا رہا ہواور معاشرہ بھی ترقی یافتہ نہ ہو ، صحافت کی سچائی اور صداقت کی بنیادوں پر قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ سر سید نے اردو صحافت کی روایات کو ابتدائی دور ہی میں اس ستونوں پر ستوار کر دیا جو آج کے ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتے ہیں۔

    کاشف حسین

     


    0 0

    تھرپارکر ، سندھ کے جنوب مشرق میں واقع صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہے جس کا ہیڈ کوارٹر مٹھی میں ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 21 ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی13 لاکھ ہے معروف سندھی مؤرخ و محقق دوست ڈیپلائی کے مطابق تھر کے لفظی معنی صحرا ہیں۔ کسی زمانے میں یہاں راجہ کی ریل چلا کرتی تھی لہٰذا تھر کی سماجی زندگی باقی سندھ سے کٹی ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے تھر کی زبان ثقافت اور رسم و رواج باقی ماندہ سندھ سے الگ ہیں۔ 
     قدیم دور میں یہ علاقہ سرسوتی دریا کے ذریعے سیراب ہوتا تھا۔ بعد ازاں ’’مہرانوں نہر‘‘  کے ذریعے اسے سیراب کیا جاتا رہا۔ اس کے علاوہ تھرپارکر کی سیرابی کے لیے دریائے سندھ سے ایک بڑی نہر’’باکڑو‘‘ نکلا کرتی تھی‘ جسے 17 ویں صدی میں کلہوڑا حکم رانوں نے سیاسی مخالفت کی بنیاد پر بند کروا دیا جس کے سبب تھر مزید خشک سالی کا شکار ہوا ان جزوی انتظامات کے باوجودپانی کی دستیابی تھر کا صدیوں سے اہم مسئلہ رہا ہے۔
    اس حوالے سے کئی مقامی محاورے مشہور ہیں۔ ’دو سے تہ تھ نہ تہ بر‘‘ یعنی اگر بارش ہو تو تھر گلستان بن جاتا ہے ورنہ بیابان کی مانند ہے۔ دوسری کہاوت ہے کہ تھر آھے کن تے یادھن تے‘‘ یعنی تھر کا انحصار بارشوں کی بوند پر ہے یا بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر ہے۔ تھر کے مقامی لوگ کرنل تھروٹ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے 1882ء میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کئی مقامات پر تالاب بنوائے تھے جہاں سے عام لوگوں کو پانی دستیاب ہوتا۔
    اس کے علاوہ سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ نے بھی تھر کے باشندوں کے کرب کو بھانپتے ہوئے ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں بھی تھر کی برسات سے قبل اور بعد کی کیفیات کو قلم بند کیا ہے تھر کے لوگوں کا شہارا ہی میگھ (بارش) ہے میگھا برسا تو لوگ خوش ورنہ دربہ در خاک بہ سر۔ نہ تو کوئی زرخیز زمین ہے نہ جاگیر ان کازیادہ تر انحصار بھیڑ بکریوں پر ہوتا ہے۔ دس بارہ بھیڑ بکریاں نہ بجلی نہ گیس نہ موٹر نہ کار کہیں دور جانا ہو تو اونٹ پر چلے جاتے ہیں ورنہ ساری زندگی اپنے ’’دیس‘‘ تھر میں ہی بسر کریں گے۔‘

    ڈاکٹرآصف محمود جاہ

     


    0 0

    انسٹاگرام پر اب بیک وقت 10 تصاویر پوسٹ کرنا ممکن 

    بہترین میگا پکسلز سے لیس اسمارٹ فونز نے حالیہ دور میں یادگار لمحوں کو محفوظ بنانا قدرے آسان بنا دیا ہے۔ کبھی کبھی ان یادگار لمحات کی بے شمار تصاویر میں سے کسی ایک کا انتخاب مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام ہی تصاویر ہمارے لیے اہم ہوتی ہیں۔ آخر کار انسٹاگرام کو صارفین کی اس پریشانی کا خیال آ گیا، اسی لیے مشہور فوٹو شیئرنگ ایپلی کیشن نے اپنے صارفین کو ملٹی پکچر پوسٹ کرنے کا آپشن فراہم کر دیا ہے۔ آسان الفاظ میں آپ اب انسٹاگرام پر بیک وقت کئی تصاویر پوسٹ کر سکتے ہیں جو کسی البم کی شکل میں نیوزفیڈ پر نظر آئیں گی۔ انسٹاگرام کے بلاگ پر شائع ہونے والی اس نئی اپ ڈیٹ کی تفصیلات کے مطابق اب صارفین ایک وقت میں 10 تصاویر اور ویڈیوز ایک ساتھ پوسٹ کر سکیں گے۔

    ان تصاویر اور ویڈیوز کو دائیں اور بائیں جانب سوائپ کر کے دیکھا جا سکے گا۔کسی کی سالگرہ ہو یا شادی یا آپ نے کسی پسندیدہ ترکیب کو اپنے فالوورز سے شیئر کرنا ہو، انسٹاگرام کے نئے فیچر کی مدد سے باآسانی ایسا کیا جا سکے گا۔انسٹاگرام انتظامیہ کے مطابق صارفین کی اپ ڈیٹڈ انسٹاگرام ایپلی کیشن میں ایک نیا آئیکن دکھائی دے گا، جہاں سے ایک ساتھ 10 تصاویر کو پوسٹ کرنے کے لیے شیئر کیا جا سکے گا۔ صارفین تصاویر کی ترتیب اپنی مرضی سے تبدیل کر سکتے ہیں اور مختلف فلٹرز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں، تاہم ان سب تصاویر کے ساتھ فی الوقت صرف ایک ہی کیپشن پوسٹ کیا جا سکے گا۔ جبکہ صارفین کے فالوورز تصویر کے ساتھ نظر آنے والے بلیو ڈاٹس کی مدد سے جان سکیں گے سوائپ کرنے پر مزید تصاویر ان کی منتظر ہیں۔ 

    وائبر میں اب اشیاء کی خریداری بھی ممکن

     واٹس ایپ کے مقابلے پر سرگرم میسجنگ ایپ وائبر نے اپنے صارفین کے لیے ایک اہم فیچر متعارف کرا دیا ہے جس سے وہ مختلف اشیاء کی خرید و فروخت کرسکیں گے۔ جی ہاں وائبر میں ایک شاپنگ بیگ آئیکون پر مبنی ایک بٹن اسکرین کے نیچے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے ذریعے صارفین مختلف چیزوں کو خرید سکیں گے۔ یہ فیچر سب سے پہلے 6 مارچ کو امریکا میں متعارف کرایا جائے گا جس کے بعد یہ بتدریج دنیا بھر میں پیش کر دیا جائے گا۔کمپنی کے مطابق یہاں لوگ الیکٹرونکس، گھریلو مصنوعات اور فیشن پراڈکٹس وغیرہ خرید سکیں گے۔

    اس مقصد کے لیے وائبر مختلف کمپنیوں سے شراکت داری کرے گی جبکہ صارفین ڈائریکٹ اس ایپ سے اشیا خرید نہیں سکیں گے بلکہ ایک ڈیپ لنک کے ذریعے اس برانڈ کی ایپ سے جڑیں گے یا موبائل ویب سائٹ پر جائیں گے۔ تا ہم وائبر کے مطابق طویل المدتی بنیادوں پر یہ خریداری وائبر پر ڈائریکٹ ہونے لگے گی تاہم ابتداء میں تجربے کے لیے اسے بلاواسطہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ہم وائبر کو ایسا پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں جہاں صارفین اچھی مصنوعات کی خریداری کر سکیں اور احمقانہ اشتہارات سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ وائبر نے گزشہ دنوں چیٹ ایکسٹیشنز نامی اپ ڈیٹ بھی متعارف کرائی تھی جو کہ ایک سرچ فیچر ہے جس کے ذریعے تھرڈ پارٹی سروس سے ڈیٹا، جی آئی ایف یا دیگر تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ 

    (نیٹ سے ماخوذ)  


    0 0

     پاک فوج نے آپریشن ”رد الفساد“ میں پنجاب رینجرز کی معاونت اور کسی بھی مشکوک شخص اور سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے فون نمبرز جاری کر دئیے ہیں۔ پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دینے کیلئے 042-99220030 یا 042-99221230 پر رابطہ کر سکتے ہیں. 
    جبکہ واٹس ایپ پر اطلاع دینے کیلئے 0340-8880100 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق عوام اگر کسی مشکوک شخص یا سرگرمی سے متعلق ایس ایم ایس کے ذریعے اطلاع دینا چاہتے ہیں تو اس مقصد کیلئے 0340-8880047 نمبر استعمال کیا جا سکتا ہے جبکہ ای میل ایڈریس help@pakistanrangerspunjab.com  پر بھی اطلاع دی جا سکتی ہے۔


older | 1 | .... | 93 | 94 | (Page 95) | 96 | 97 | .... | 149 | newer