Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 81 | 82 | (Page 83) | 84 | 85 | .... | 149 | newer

    0 0

    چھ سالہ تصمیہ رانی کبھی اپنے بابا سے نہیں ملی، باپ ان کے لیے ویڈیو چیٹ کی سکرین پر بس ایک بولتی تصویر ہے۔ بوڑھے والدین کے واحد کفیل تصمیہ کے ابا، سعودی شہر دمام میں بہتر آمدن کی امید میں محنت کرتے ہیں مگر اس سال بیٹی کے عید کے کپڑوں کی رقم تک نہیں بھیج سکیں گے۔ وہ ان پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے گھر والے مفلسی کے بھنور میں۔ تصمیہ رانی ایک ٹوٹی چارپائی پر داد کی گود میں بیٹھی فون کی سکرین کو بڑے انہماک سے دیکھ رہی ہیں۔ ’ابا آپ کب آئیں گے؟ آپ کے بغیر دل نہیں لگتا۔۔۔‘

    تصمیہ کے دادا محمد بشیر کو مستقبل کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ ابھی تو وہ قرضے چکانا بھی باقی ہیں جن کو مانگ کر اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھیجا تھا، انھوں نے کہا: ’ہم نے تو سوچا تھا باہر جائے گا اس کی اور ہماری زندگی بہتر ہو جائے گی، اب بڑھاپے میں اس کی بچی بھی پال رہے ہیں اور وہ وہاں جانے کس حال میں ہے، ہمیں نہیں پتہ تھا کہ اسے بھیج کر ہماری زندگی پہلے سے بھی زیادہ دشوار ہو جائے گی۔‘ سعودی عرب میں اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے بیشتر تعمیری پراجیکٹ منسوخ کیے جا رہے ہیں جس کی سب سے بڑی قیمت تارکین وطن محنت کش افراد چکا رہے ہیں جن میں ہزاروں پاکستانی شامل ہیں جنھیں ایک سال سے اجرتیں نہیں ملیں۔ سعودی نظام کے تحت کئی محنت کش نہ تو کوئی دوسرا روزگار ڈھونڈ سکتے ہیں اور مہینوں کی غیر ادا شدہ امدن کے بغیر وہ کس منہ سے وطن واپس لوٹیں؟
    مہینوں کی ابتر صورتحال کے بعد جب میڈیا میں یہ بات سامنے آئی تو حکومتِ پاکستان نے ان لوگوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان کیا جو سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کے مطابق دو سو ریال فی کس فی مہینہ مقرر کی گئی۔ یہ کتنے لوگوں کو ادا کی گئی اس کے لیے کیا معیار مقرر ہے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعودی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے اور سعودی انتظامیہ ان محنت کشوں کو ان کے معاملات کے حل کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا:

    ’میں نہیں جانتا آپ کیا توقع کرتے ہیں کہ ایک ملک کس حد تک جائے ان لوگوں کی سہولت کے لیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہت مشکل صورتحال ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اگر وہ لوگ وہاں پر رہ رہے ہیں تو اپنی مرضی سے، ان پر کوئی مجبوری نہیں۔‘ مگر سوال یہ ہے کہ سال کے بعد بھی اس بات چیت کا نتیجہ کیا ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ بی بی سی اردو کے قارئین کی دوسری بڑی تعداد جغرافیائی لحاظ سے سعودی عرب میں رہتی ہے جس کا ایک بڑا حصہ پاکستانی محنت کش اور کام کے لیے گئے کارکن ہیں تو یہ بات عجیب نہیں لگے گی کہ ہمارے قارئین نے اس جانب ہماری توجہ مبذول کرانا شروع کی۔
    جب اس بارے میں ہم نے اپنے قارئین سے پوچھا تو ہمیں سینکڑوں پیغامات اور درجنوں ویڈیوز اور تصاویر موصول ہوئیں۔

    ان میں جو صورتحال نظر آتی ہے اس کے بارے میں سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی نے لکھا کہ ’ایسے تو جانوروں کو بھی نہیں رکھا جاتا جیسے ہم رہ رہے ہیں۔‘ ہم سے رابطہ کرنے والے ہر پاکستانی نے سعودی عرب میں سفارت خانے کے سلوک کا ذکر کیا اور سفارت خانے کے باہر جمع ہجوم کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بہت شیئر کی گئیں۔ جن لوگوں کو سال بھر کی اجرت نہیں ملی وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر ایک دو مہینے کی اجرت کا معاملہ ہو تو ہم چھوڑ بھی دیں، یہاں تو تنخواہیں بھی ہیں اور پینشن اور دوسرے مالی مسائل بھی اور حکومت اور پاکستانی سفارت خانہ ہمیں صرف تسلیاں دے رہا ہےـ

    بی بی سی اردو نےایسے ہی ایک پاکستانی محنت کش سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے رابطہ کیا تاکہ وہاں کے حالات جان سکے۔ جدہ میں ایک کنسٹرکشن کمپنی کے ملازم محمد عمران فاروق نے بتایا کہ ان کی کمپنی میں کام کرنے والے درجنوں محنت کشوں کی نوبت فاقوں تک آنے کو ہے، طبی انشورنس ختم ہو چکی ہے اور لوگ ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار پڑ رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کمپنی نے اب بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیے ہیں اور اقامہ یعنی کام کرنے کے پرمٹ ایکسپائر ہونے کی وجہ سے سعودی پولیس ملازمین کو جیل میں بند کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہم یہاں اپنے بچوں کے لیے آئیں ہیں، ان بچوں کے لیے جن کی شکل کئی سال سے نہیں دیکھی، ہمارے سفارت کار کہتے ہیں اسلام آباد سے درخواست لے کر آؤ تب ہی کچھ ہو سکتا ہے، یہ جگہ ہمارے لیے قید خانہ بن کر رہ گئی ہے۔‘

    ان کے علاوہ درجنوں افراد نے ہمیں بتایا کہ حکومت صرف بڑی کمپنیوں کے ملازمین پر توجہ دے رہی ہے لیکن ہزاروں پاکستانی چھوٹی کمپنیوں میں بے یار و مددگار موجود ہیں۔ ہر سال لاکھوں پاکستانی محنت کش ملک میں محدود معاشی مواقعے کی وجہ سے اپنوں سے دور بہتر متسقبل کے خواب لیے دیار غیر کا سفر کرتے ہیں۔ یہ مزدور نہ صرف اپنے اہل خانہ کی قسمت بدلتے ہیں بلکہ ملک کے لیے اربوں ڈالرز زر مبادلہ کی شکل میں بجھواتے ہیں جو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک سعودی حکومت ان کمپنیوں کے معاملات کو حل نہیں کرتی یا ان محنت کشوں کے مسائل کے بارے میں ٹھوس پالیسی نہیں بناتی، خدشہ ہے کہ کسمپرسی پاکستان میں ان محنت کشوں کے گھروں کو تباہ نہ کر دے۔ سوال یہ ہے کہ اب یہ بے یارومددگار پاکستانی کس سے مدد مانگیں؟ اپنے وطن سے یا پھر اس ملک سے جس کی تعمیر اور ترقی میں ان کا خون پسینہ شامل ہے؟

    صبا اعتزاز، طاہر عمران
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


    0 0

    گذشتہ کالم میں یہ رونا رویا گیا کہ عالمی تعلیمی ریڈار پر پاکستان کی پسماندگی کس شاندار طریقے سے چمک رہی ہے اور بلوچستان کے تعلیمی بلیک ہول میں اربوں روپے جھونکنے کے باوجود سو میں سے ستر بچے جنھیں اسکول میں ہونا چاہیے اسکول سے باہر ہیں۔ مگر بلوچستان سے متصل صوبہ سندھ تو غریب یا نیم گنجان صوبہ نہیں۔ یہاں سرکاری کاغذات کو دیکھا جائے تو تھر جیسا پسماندہ ضلع بھی آ کسفورڈ اور کیمبرج کو مات کر رہا ہے۔ یقین نہیں آتا تو مارچ دو ہزار تیرہ میں بی بی سی کی ویب سائٹ پر شایع ہونے والی نامہ نگار ریاض سہیل کی رپورٹ پڑھ لیجیے۔ اس کے مطابق صوبائی محکمہ تعلیم کے ریکارڈ میں تھر کے ایک گاؤں واہوی دھورا میں لڑکوں اور لڑکیوں کے کل ملا کے تریسٹھ اسکول ہیں۔ نامہ نگار نے واہوی دھورا میں ایک کمرے پر مشتمل بند اسکول سے متصل گھر کے بچے سے پوچھا کہ اسکول بند کیوں ہے تو اس بچے نے جواب دیا کہ کون سا اسکول ؟ وہ تو ساتھ والے گاؤں کے اسکول میں پڑھنے جاتا ہے۔

    اگر محکمہ فروغ جہالت کے دعوؤں کو ایک جانب رکھ دیا جائے تو درحقیقت سندھ جو وفاق پاکستان کی آدھی آمدنی اور مالیاتی وسائل فراہم کرتا ہے وہاں ملکی و بین الاقوامی اداروں کے سروے کے سبب تصویر یوں ہے کہ معیارِ تعلیم کے اعتبار سے سندھ سے نیچے صرف فاٹا اور بلوچستان ہیں۔ جس سندھ دھرتی کے تحفظ کے لیے ہر کوئی کٹ مرنے اور خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے ( پہلا قطرہ بہانے کو کوئی تیار نہیں ) اسی سندھ دھرتی کے چھپن فیصد بچے پرائمری اسکول جاتے ہی نہیں اور جو جاتے ہیں ان میں سے بھی صرف آدھے پانچویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں اور ان بچوں کو کیا پڑھایا جاتا ہے؟ اس بارے میں الف اعلان اور ایس ڈی پی آئی کی رپورٹ کے مطابق پرائمری کے چھہتر فیصد بچے انگریزی کا ایک جملہ نہیں لکھ سکتے۔ پچپن فیصد بچے اردو کی کوئی ایک مختصر سی نصابی کہانی بھی پوری نہیں پڑھ سکتے۔ پینسٹھ فیصد بچے یہ نہیں بتا سکتے کہ دو جمع دو کتنے ہوتے ہیں یا دو میں سے دو نکالو تو کتنے بچتے ہیں۔
    کہنے کو سندھ میں چھیالیس ہزار سے زائد پرائمری اسکولوں میں ایک لاکھ چوالیس ہزار اساتذہ نئی نسل کو ’’ تے لیم ’’ دینے پر مامور ہیں۔ ان میں سے ساڑھے انیس ہزار اسکول ایک استاد کے بل پر چل رہے ہیں۔ سو میں سے ستائیس اسکولوں میں چار بنیادی سہولتیں یعنی چار دیواری ، پینے کا صاف پانی، بجلی اور بیت الخلا میسر ہے۔ سو میں سے ستتر اسکول لڑکوں کے لیے اور تئیس لڑکیوں کے لیے ہیں حالانکہ لڑکے اور لڑکیوں کی آبادی آدھوں آدھ ہے۔ تعلیمی ترقی کے لیے اپنے اپنے اضلاع میں سیاستدانوں کی کوششوں کے اعتبار سے الف اعلان کی ضلع وار فہرست پر نگاہ دوڑائی جائے تو سات بار اسمبلی کے لیے منتخب ہونے اور تین بار وزیرِ اعلی رہنے کے باوجود سائیں قائم علی شاہ کا آبائی ضلع خیرپور تعلیمی ترقی کے اعتبار سے پاکستان کے ایک سو بیس اضلاع میں سے اکہترویں نمبر پر ہے۔ جہاں تک بھوت اسکولوں کا معاملہ ہے تو آج کا تو معلوم نہیں البتہ دو ہزار چودہ تک سب سے زیادہ بھوت اسکول آصف زرداری کے آبائی ضلع نواب شاہ عرف بے نظیر آباد میں پائے جاتے تھے کہ جن کے اساتذہ صرف پہلی تاریخ کو اپنی تنخواہ کا حال معلوم کرنے کے لیے نمودار ہوتے تھے۔ 

    اگر کوئی پالیسی واقعی کامیاب ہوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ جسے کچھ نہیں آتا یا جو کسی کام کا نہیں اسے پرائمری ٹیچر بنا دو۔ اس پالیسی کے نتیجے میں جو واقعی دل و جان سے ٹیچر ہیں وہ مایوسی و ڈپریشن کی کلاس میں داخلہ لے چکے ہیں۔
    مگر سارا قصور صرف حکومت یا ’’ محکمہ تے لیم ’’ کا نہیں۔ اگر تھر کی مثال لے لیں جہاں کے ایک گاؤں واہوی دھورا میں تریسٹھ اسکول پائے جانے کا عالمی ریکارڈ موجود ہے۔ اسی تھر اور پھر دیگر اضلاع کے لوگوں نے جب سرکاری بازی گری دیکھی تو اپنی سادہ لوحی ترک کرکے خود بھی چمتکاری ہوگئے۔ کئی جگہ ایسا بھی ہوا کہ محکمہ تعلیم کو خبر تک نہیں اور مقامی ایم پی اے یا ایم این اے نے سیاسی رشوت کے طور پر لوگوں کی واہ واہ سمیٹنے کے لیے اپنے ترقیاتی فنڈ سے ایک بلڈنگ بنوا کر اسے اسکول کا نام دے دیا اور پھر اس اسکول کو چلانے کی ٹوپی محکمہ تعلیم کو پہنا دی۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام نے انتہائی پسماندہ اضلاع میں جب بچوں کا انرولمنٹ بڑھانے کے لیے پرائمری کے بچوں کو گندم اور خوردنی تیل کا راشن دینا شروع کیا تو اسکول والوں نے زیادہ سے زیادہ راشن ہتھیانے کے لیے بچوں کا جعلی انرولمنٹ شروع کردیا۔ کئی جگہ یہ بھی ہوا کہ گاؤں والوں نے محکمہ تعلیم کو یقین دلایا کہ اگر ہمیں ایک عمارت بنا دو تو استاد کی تنخواہ ہم اپنے پلے سے دیا کریں گے مگر تعلیمی اوطاق بننے کے چند ماہ بعد گاؤں والوں کو بھی اپنا وعدہ بھول گیا ، ٹیچر نے بھی کہیں اور نوکری پکڑ لی اور خالی اوطاق تین پتی کا جوا کھیلنے یا چرس نوشی کے لیے استعمال ہونے لگا۔

    کئی جگہ یہ بھی ہوا کہ اسکول کا انتظام تسلی بخش نہ ہونے پر محکمہ تعلیم نے اسکول کی دیکھ بھال کے لیے مقامی معززین پر مشتمل ایک مینجمنٹ کمیٹی بنا دی اور اسکول کی معمولی مرمت و بنیادی دیکھ بھال اور صفائی کے لیے بیس ہزار روپے سالانہ کا بجٹ بھی مینجمنٹ کمیٹی کے حوالے کر دیا۔ جب یہ بجٹ آپس میں بٹ بٹا گیا تو مینجمنٹ کمیٹی بھی فوت ہوگئی مگر اسی ماحول میں کچھ انفرادی دیوانے اور مقامی این جی اوز اپنے اپنے طور پر بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ہمت ہارے بغیر کوشاں ہیں تاہم مجموعی حالت یہ ہے کہ جس کے پاس فیس کے پیسے ہیں اس کا بچہ تو کسی قدرے بہتر جگہ پڑھنے چلا گیا اور جو کنگلا ہے اس کی اگلی نسلوں کے لیے نظام تعلیم کے سرکاری ڈھانچے نے بھی کنگلائی برقرار رکھنے کا تسلی بخش انتظام کر رکھا ہے۔

    یہ محض سندھ کے دیہی علاقوں کی کہانی نہیں۔ شہری علاقوں کا حال دیکھنا ہو تو کراچی دیکھ لیں۔ گذشتہ دور میں کئی سرکاری اسکول لینڈ مافیا اور چائنا کٹنگ کی نذر ہو گئے۔ بہت سال ہوئے جب سنا گیا ہو کہ فلاں علاقے میں حکومت ایک نیا اسکول کھول رہی ہے جس میں تمام بنیادی سہولتیں اور تربیت یافتہ عملہ ہو گا البتہ ایسی بلڈنگیں ضرور ملیں گی جن میں تین تین سرکاری اسکول ٹھنسے ہوئے ہوں گے یعنی ان اسکولوں کے اساتذہ اور انتظامیہ نے اپنی مرضی سے لمبے فاصلوں پر قائم اسکولوں کو ایک ہی بلڈنگ میں طلب کر لیا۔ جیسے کراچی کی ساحلی پٹی پر واقع مبارک ولیج اور ہاکس بے کا ایک اسکول دراصل پندرہ سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر ماری پور میں شفٹ کر دیا گیا یعنی اسکول کمیونٹی کے قریب لانے کے بجائے کمیونٹی کو اسکول کا تعاقب کرنے پر لگا دیا گیا۔
    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں حالات قدرے غنیمت ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اگرچہ لگ بھگ ساڑھے پانچ ہزار اسکول ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ان کی انسپکشن کے لیے عملے کو اسمارٹ فونز فراہم کرنے کی اسکیم وضع کی ہے تاکہ وہ موقع پر تصویر کھینچ سکیں کہ استاد ہے یا نہیں۔ ہے تو کیا کر رہا ہے اور بچے پڑھ رہے ہیں کہ نہیں۔ پنجاب میں سرکار کا دعویٰ ہے کہ اسی فیصد پرائمری اسکولوں کو چار بنیادی سہولتیں یعنی چار دیواری، صاف پانی، بجلی اور بیت الخلا کی سہولتیں فراہم کی جاچکی ہیں۔

    سوچنے کی بات یہ ہے کہ کوئی بھی صوبائی حکومت تعلیم اور صحت جیسے غیرسیاسی بے ضرر شعبوں میں گڈگورننس کا اصول لاگو کرنا چاہے تو اسے کس نے روک رکھا ہے؟ فوج نے؟ آئی ایس آئی نے؟ را نے؟ امریکا نے؟ پنجابی سامراج نے یا پھر بے حس بدنیتی نے؟ سندھ کے سابق وزیرِ تعلیم پیر مظہر الحق نے اپنے دور میں اسکولوں میں چینی زبان کی تعلیم متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ کاش کوئی حکومت چینی زبان سے پہلے اپنے نو نہالوں کی اگر انگریزی نہیں تو اردو اور سندھی ہی ٹھیک کروا دے۔ چینی وہ خود سیکھ لیں گے۔ جب میں نے اپنے والد کو انتہائی پرجوش انداز میں خبر سنائی کہ آج میں نے ایم اے کر لیا ہے تو والد صاحب نے کہا۔ چلو اچھا ہوا۔ اب لگے ہاتھوں میٹرک بھی کر ہی لو…

    وسعت اللہ خان


    0 0

    گوجرانوالہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس شہر کی آدھی آبادی کھانا بنانے اور آدھی کھانے میں مصروف رہتی ہے اور یہاں کے باسیوں کو صبح کے ناشتے کی میز پر ہی ظہرانے اور دوپہر کے کھانے پر ہی عشائیے کی فکر ستانے لگتی ہے۔
    40 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل صوبہ پنجاب کا یہ شہر جہاں فن پہلوانی کی وجہ سے مشہور ہے وہیں کھانے پینے میں بھی اپنا منفرد مقام رکھتا ہے اور یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ گوجرانوالہ والے کھانے کے معیار اور مقدار دونوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ اس شہر میں دوپہر کے کھانے کا سلسلہ بھی شام پانچ بجے تک چلتا ہے اور پھر ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد ریستوران رات کے کھانے کے لیے دوبارہ کھل جاتے ہیں۔

    ایک ڈش جو اس شہر کی دنیا بھر میں پہچان بن گئی ہے وہ یہاں کے چڑے اور بٹیرے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے پرندے جہاں ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والوں کی نظر میں اپنی معصومیت کی وجہ سے پسندیدہ ہیں وہیں اس شہر میں کوئی بھی مینیو ان کی بھُنی ہوئی شکل کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ سال کا کوئی بھی مہینہ یا موسم ہو گوجرانوالہ میں ’بار بی کیو‘ کی دکانوں پر ان کے شائقین کی بھیڑ لگی رہتی ہے کوئی انھیں بھون کر کھانے کا شوقین ہے تو کچھ ان کا کڑاہی گوشت بنوا کر کھانا پسند کرتے ہیں۔ شہباز احمد گوجرانوالہ میں ایک ایسا ہی ریستوران چلاتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ چڑے اور بٹیرے ایسی ڈشز ہیں جن کی مانگ میں کبھی بھی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ اُن سمیت دیگر ریستورانوں کے شکاریوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے ہوتے ہیں جو ان کے لیے چڑوں اور بٹیروں کا شکار کرتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ ڈش گوجرانوالہ کی ایک سوغات کے طور پر جانی جاتی ہے اور بہت سے لوگ نہ صرف دوسرے شہروں بلکہ دوسرے ملکوں سے بھی اس کھانے کے لیے شہر کا رخ کرتے ہیں۔ گوجرانوالہ کو خوش خوراک افراد کا شہر کہا جاتا ہے اور اس کی زندہ مثال یہ ڈش کھانے والے افراد ہیں جو ان پرندوں کو ہڈیوں سمیت ہی کھاتے ہیں اور اگر کوئی شخص گوشت کو ہڈیوں سے الگ کر کے کھانے کی کوشش کرتا دکھائی دے تو اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔

    شہباز احمد کے مطابق ایک عام آدمی ایک نشست میں ایک سے دو درجن چڑے اور بٹیرے کھا جاتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں اگر اس نے اس کے ساتھ کھانے کی کسی دوسری چیزوں کا بھی آرڈر دیا ہو۔ اُنھوں نے بعض ایسے گاہکوں کا بھی ذکر کیا جو ایک نشست میں ایک سو چڑے اور بٹیرے کھا جاتے ہیں تاہم اُن کا کہنا تھا کہ مہنگی ڈش ہونے کی وجہ سے ایسے گاہکوں کی تعداد کم ہے۔
    پہلوانوں کے اس شہر کے رہنے والوں میں ان پرندوں کی مقبولیت کی وجہ ان کا توانائی بخش ہونا بھی بتائی جاتی ہے۔ ریستوران میں موجود ایک شخص نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اکھاڑے میں ڈنڈ پیلنے کے بعد جسم کو جس قوت کی ضرورت ہوتی ہے، گرم تاثیر والے یہ پرندے اسے پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    گوجرانوالہ کے لوگ صرف چڑے اور بٹیرے جیسے چھوٹے پرندوں کے ہی شوقین نہیں بلکہ وہ ساتھ ہی ساتھ اونٹ جیسے بڑے جانور کے گوشت کو بھی نہیں چھوڑتے۔ شہر کے وسطی علاقے میں ایک چھوٹی سے دکان اونٹوں کی ٹکیوں کے لیے مشہور ہے جہاں روزانہ دو اونٹوں کا قیمہ بنا کر ان کی ٹکیاں فروخت ہوتی ہیں اور زبان کے چٹخارے کے لیے لوگ دو دو گھنٹے انتظار کی زحمت اٹھانے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ گوجرانوالہ والوں کا کھانا میٹھے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تو جب بات میٹھے کی ہو شہر کی شیرے والی گلاب جامنوں کا کوئی ثانی نہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے سے شہر میں قائم ایک دکان پر لوگ صرف گلاب جامن کھانے کے لیے ہی آتے ہیں اور اس دکان کے سپروائزر کے مطابق ایک دن میں دس سے بارہ من گلاب جامن فروخت ہو جاتے ہیں۔

    شہزاد ملک
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام،گوجرانوالہ


    0 0

    Rescue workers pass a stretcher with an injured passenger out of the wreckage after two trains collided near Multan, Pakistan.  






    0 0

    انڈیا میں یہ پورا ہفتہ جنوبی ہندوستان کی دو ہمسایہ ریاستوں، کرناٹک اور تمل ناڈو کے درمیان ٹکراؤ کے نام سے منسوب رہا۔ بھارت کی سیلی کون ویلی کہے جانے والے شہر بنگلور میں پر تشدد مظاہرین نے تمل ناڈو کی درجنوں بسیں جلا کر راکھ کر دیں۔ درجنوں تمل باشندوں کو صرف تمل ناڈو کا ہونے کے سبب مارا پیٹا گیا اوران کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ یہی صورتحال تمل ناڈو کی بھی تھی۔ وہاں کرناٹک کی بسوں کو جلایا گیا، مسافروں کی پٹائی گئی اور پر تشدد مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں شہری ان ریاستوں سے نکل کر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔
    دونوں ریاستوں میں یہ پرتشدد صورتحال دریائے کاویری کے پانی کی تقسیم کے تنازع سے پیدا ہوئی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک ملک کی دوہمسایہ ریاستیں نہیں بلکہ دو دشمن ملک ایک دوسرے کے خلاف بر سرپیکار ہوں۔ دریائے کاویری کرناٹک سے نکلتا ہے اور تمل ناڈو ہوتے ہوئے دوسری ریاستوں سے گزرتا ہے۔ دونوں ریاستوں کےدرمیان کاویری کے پانی کا تنازع سو برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ 1990 میں مرکزی حکومت نے ایک ٹرائیبونل قائم کیا۔ سولہ برس تک سماعت، تجزیے اور مطالعے کے بعد 2007 میں اس ٹرائیبونل نے اپنا فیصلہ سنایا۔ اس فیصلے کے تحت کرناٹک کو کاویری کا کتنا پانی تمل ناڈو کے لیے جاری کرنا ہے یہ طے کر دیا گیا ہے۔
      
    موجودہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب سپریم کورٹ نے کرناٹک کو پانی جاری کرنے کا حکم دیا۔ مون سون اس بار اچھا رہا ہے۔ دریائے کاویری میں خاصا پانی ہےاور ریاست کے پانی کے ذخائر بھی بھرے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود دونوں ریاستوں کی سیاسی جماعتیں بالخصوص کانگریس اور بی جے پی پانی کے اس تنازع کو ریاستی قوم پرستی کی شکل دے رہی ہیں۔ ماہرین ایک عرصے سے متنبہ کرتے رہے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمی تبدیلیوں کے سبب بھارت جیسے گھنی آبادی کے علاقوں میں پانی کے لیے فسادات ہوں گے ۔ بھارت میں اگرچہ سینکڑوں دریا، ندیاں اور آبی ذخائر ہیں لیکن آبادی کے بوجھ اور موسمی تبدیلیوں سے وہ کم پڑنے لگے ہیں۔ زیر زمین پانی کی سطح بھی رفتہ رفتہ نیچے ہوتی جا رہی ہے۔
    کثافت اور شہری غلاظت نے بھی بہت سی ندیوں کو گندے نالوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ بہت سے دریا جو تبت سے بھارت میں آتے ہیں ان پر چین نے بڑے بڑے ڈیم بنانے شروع کر دیے ہیں۔ ان دریاؤں میں پانی کا بہاؤ اور مقدار اب ڈیم کی ضروریات کے حساب سے گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ بھارت کا چین کےساتھ دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا اس طرح کا کوئی معاہدہ نہیں ہے جس طرح کا معاہدہ بھارت اور پاکستان کے مابین ہے۔

    بھارت میں زراعت اور پینے کے پانی کا بیشتر انحصار ندیوں اور مون سون کی بارش پر ہے۔ بارش کے تقریباً چار مہینوں میں ندیوں کا بیشتر پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے۔ پندرہ برس قبل سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے اقتدار میں ایک بڑا منصوبہ دریاؤں کو ایک دوسرے سے ملانے کا بنایا تھا۔ اس کامقصد ہر موسم میں دریاؤں میں ملک کے ہر خطے میں پانی کی فراوانی کو یقینی بنانا تھا۔
     وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنےکے بعد ایک آبی کمیشن تشکیل دیا ہے جو اس منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے۔ یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ حکومت آئندہ دنوں میں پانی کی اہمیت اور قلت دونوں کو سمجھ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں رفتہ رفتہ شدت آنےکےساتھ جنوبی ایشیا میں ایک طرف ساحلی علاقے سمندر کی اونچی لہروں سے زیر آب آنے لگیں گے اور دوسری جانب پانی کےذرائع محدود ہوجائیں گے۔

    کرناٹک اور تمل ناڈو تو ایک ہی ملک کی دو ہمسایہ ریاستیں ہیں۔ اس وقت مون سون کا موسم ہے اور دونوں ریاستوں میں پانی کی اتنی قلت بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹکراؤ کا جو منظرہے وہ مستقبل کے سنگین خطرات کا اشارہ ہیں۔
    جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت دنیا کی سب سےگھنی آبادیوں والے ملک ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ فسادات اور جنگوں سے بچنے کے لیےمستقبل کےلیے پانی کا انتظام ابھی سےکرنا شروع کردیں۔

    شکیل اختر
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی



    0 0







    0 0

     وادی سندھ کی قدیم تہذیب غالباً دنیا کی سب سے پرامن تہذیب گزری ہے جہاں

    سیکڑوں سال تک کوئی جنگ نہیں ہوئی اور نہ ہی وہاں کسی بڑے حاکم، بادشاہ یا امیر کے کوئی آثار ملے ہیں۔ وادی سندھ پر کتاب کے مصنف اور محقق اینڈریو رابنسن کے مطابق یہ ایک پراسرار تہذیب گزری ہے جس کا طرزِ تحریر آج تک نہیں پڑھا گیا ہے۔ 1900 سے 2600 قبل مسیح کے دوران اس قدیم تہذیب کا عروج تھا لیکن یہاں کے آثار، اشیا اور دیگر چیزوں میں کوئی نشانی ایسی نہیں ملی جو ہتھیار، فوج یا جنگ کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

    انڈس تہذیب 10 لاکھ مربع میل وسیع تھی جو دریائے سندھ، بحیرہ عرب اور دریائے گنگا کے کنارے موجود تھیں لیکن اس کے اہم مراکز آج کے پاکستان میں موہن جو دڑو اور ہڑپہ کی صورت میں موجود ہیں۔ رابنسن کے مطابق وادی سندھ کے تمام آثار اور دریافت ہونے والی اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ یہ ایک خوشحال، انتہائی ترقی یافتہ اور تاریخ کی عظیم ترین تہذیب تھی۔ خیال ہے کہ اس وقت پوری دنیا کی 10 فیصد آبادی اس پرامن تہذیب میں سکون سے رہتی تھی اور دریا کے وافر پانی کے پاس ان کا مسکن تھا۔  اس وقت بھارت اور پاکستان میں وادی سندھ سے وابستہ ایک ہزار سے زائد آثار ملے ہیں ۔ حال ہی میں لاکھن جو دڑو کے نام سے سکھر کے صنعتی علاقوں میں بھی آثار ملے ہیں۔ رابنسن کا کہنا ہےکہ تمام آثار میں صرف ایک ہی تصویر ایسی ملی ہے جو لڑائی کو ظاہر کرتی ہے لیکن وہ ایک دیومالائی کہانی کو واضح کرتی ہے جس میں ایک دیوی دکھائی دے رہی ہیں جس کے بکریوں جیسے سینگ اور دھڑ چیتے کا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خطے میں گھوڑے عام تھے لیکن وہ اس معاشرے کا حصہ نہ تھے۔
    اس کے علاوہ اب تک کوئی شاہی گھر، محل یا بادشاہ کی رہائش گاہ نہیں ملی جو ثابت کرتے ہیں کہ وادی سندھ میں مرکزی بادشاہی نہ تھی۔ لندن میں برطانوی میوزیم کے سابق سربراہ کا بھی خیال ہے کہ عظیم وادی مہران میں لڑائی جھگڑوں اور جدل کے کوئی آثار نہیں ملے ہیں۔ ہارورڈ میں پی بوڈی میوزیم کے سربراہ رچرڈ میڈو کا کہنا ہے کہ کوئی معاشرہ لڑائی اور تصادم کے بنا نہیں رہتا تاہم وادی سندھ کی زبان کو سمجھنے کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ آیا یہ پرامن اور بے ضرر معاشرہ تھا یا پھر وہاں جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ 1900 قبل مسیح میں موہن جو دڑو کا زوال ہوگیا لیکن اس کے آثار کی تعمیر کے لیے مزدوروں کی بہت بڑی تعداد کی ضرورت تھی اور اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ کوئی ان کا لیڈر ضرور تھا۔  تاہم 1920 سے اب تک وادی سندھ کی تہذیب کی تحریر کو پڑھنے کی 100 کوششیں کی گئی ہیں جو بہت کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔


    0 0

    امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے انٹرنیٹ صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جاسوسی سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے کمپیوٹرز کے ویب کیمروں کو ڈھانپ کر رکھا کریں۔ ایف بی آئی کے سیکیورٹی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ویب کیمروں کو کھلا چھوڑ دینا ہیکرز کو ان کو کنٹرول کرنے اور صارفین کی ہر حرکت کو دیکھنے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال کے شروع میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کی بھی ایسی تصاویر سامنے آئی تھیں جس میں انہوں نے اپنے میک بک پرو کے ویب کیمرے کو کور کر رکھا تھا۔  اب اس کا مشورہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے بھی دیا ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ وہ بہترین چیز ہے جو انٹرنیٹ صارفین کرسکتے ہیں۔
    اگرچہ لیپ ٹاپس یا ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر پر لگے یہ کیمرے کافی کارآمد ہوتے ہیں مگر یہ وہ ڈیوائس بھی ہے جس تک رسائی ہیکرز کے لیے آسان ہوتی ہے۔ ایک بار وہ ایسا کرلیں تو وہ آسانی سے اس کمپیوٹر کے ارگرد کے مناظر اور آوازیں ریکارڈ کرکے بعد ازاں انہیں لوگوں کو بلیک میل کرنے، سیکیورٹی سسٹمز توڑنے یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ ایف بی آئی ڈائریکٹر کے مطابق سرکاری دفاتر سمیت عام لوگوں کو بھی اپنے ان کیمروں کو کور کرکے رکھنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل کی دنیا میں اکثر دفاتر میں کمپیوٹر اسکرین کے اوپر ایک چھوٹا سا کیمرہ ہوتا ہے اور اگر ان کو کور کرکے نہ رکھا جائے تو ایسے لوگ آپ پر نظر رکھ سکتے ہیں جن کو ایسا کرنے سے روکنا ضروری ہے۔

    اس سے قبل امریکا کی ساﺅتھ فلوریڈا یونیورسٹی کی ایک ماہر پروفیسر کیلی برنس نے اپنے دعویٰ میں کہا کہ فیس بک ایپ لوگوں کے اسمارٹ فونز کے مائیک استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے۔ فیس بک خود بھی تسلیم کرتی ہے کہ اس کی ایپ صارفین کے ارگرد کی آوازوں کو سنتی ہے مگر اس کا مقصد یہ جاننا ہوتا ہے کہ لوگ کیا سن یا دیکھ رہے ہیں تاکہ پوسٹس کے حوالے سے ان کی پسند ناپسند کا خیال رکھا جاسکے جبکہ اس سے لوگوں کی نجی بات چیت کو ریکارڈ نہیں کیا جاتا۔

     


    0 0

    ضلع ساہیوال کا ایک شہر اور تحصیل ۔ ساہیوال سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے راوی کے کنارے پر واقع ہے۔ اس دریا کے پُل کے ذریعے یہ ضلع فیصل آباد، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور ضلع جھنگ سے مربوط ہے۔ یہ علاقہ قدیم تہذیبوں کا حصہ رہا۔ ہڑپہ یہاں سے ۲۰ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جو قریباً چار ہزار سال قدیم تہذیب کی نشانی ہے۔ چیچہ وطنی کو صدیوں پہلے ’’چچ‘‘ قبیلے نے آباد کیا تھا۔ اس لیے اسے چیچہ وطنی کہا جانے لگا۔ کئی مرتبہ یہ دریا کی نذرہوا۔ وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ پرانی چیچہ وطنی کا جغرافیہ بھی تبدیل ہو گیا اور اس بستی نے آگے بڑھ کر جرنیلی سڑک کوچھو لیا، پھر دیکھتے ہی دیکھتے پرانی بستی کے مکینوں نے جرنیلی سڑک کے دونوں اطراف میں ایک نئی بستی آباد کرلی، جسے ’’چیچہ وطنی روڈ‘‘پکارا جانے لگا۔

    انگریزوں کے ابتدائی عہد میں ۱۸۶۴ء میں لاہور تا کراچی ریلوے لائن پُرانے شہر سے پانچ کلومیٹر دور بنائی گئی تو ضرورت کے مطابق ایک ریلوے سٹیشن چیچہ وطنی روڈ کے نام سے بنایا گیا،جس کے جنوب میں ۱۹۱۸ء میں آباد کاری سکیم کے تحت نیا شہر بنایا گیا۔ ۱۹۱۹ء تک یہاں ریلوے سٹیشن کے علاوہ ڈسپنسری، ڈاکخانہ اور ٹیلیگراف آفس بن چکے تھے۔ پہلے یہاں جنگل تھا، جسے صاف کر کے آبادکاری کا آغاز ہوا۔ اردگرد اور دُور دراز کے علاقوں سے لوگ آکر آباد ہوئے، جن میں زیادہ تر گجر، آرائیں اور جاٹ قوموں سے تعلق رکھتے تھے۔ گجر زیادہ تر فیروز پور سے آکر آباد ہوئے۔ ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے بعد کئی مہاجر گھرانے بھی یہاں آگئے، جو گوجر اور راجپوت قوموں سے تعلق رکھتے تھے۔ موجودہ شہر اٹھارہ رہائشی بلاکوں کے علاوہ گئوشالہ، احمد نگر، حیات آباد، بہار کالونی، مہر آباد، علی نواز ٹائون، درویش پورہ کے علاوہ ہائوسنگ کالونی کی گنجان آبادیوںپر مشتمل ہے۔
    آج اس شہر کی حدود میلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ شہر کے شمال میں قریباً ۹ہزار ایکڑ پر مشتمل وسیع جنگل ہے۔ یہاں کی عمدہ شیشم فرنیچر سازی میں بے حد پسند کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ سفیدہ، سنبل اور شہتوت کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں۔ چھانگا مانگا کے بعد اس جنگل میں سب سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں۔ یہاں ضلعی حکومت نے تفریح کے لئے فاریسٹ پارک بنایا ہے۔ جنگل میں گیسٹ ہائوس کے علاوہ لوئرباری دوآب کا کینال ریسٹ ہائوس بھی موجود ہے۔ یہ جنگل زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے تحقیقی مقاصد کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ شکاری شکار بھی کھیلتے ہیں۔

    یہاں کی منڈی مویشیاں کا شمار ملک کی بڑی منڈیوں میں ہوتا ہے۔ گوادر سے کراچی تک کے تاجر یہاں مویشیوں کی خریدوفروخت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ یہ منڈی ہر ماہ کے آخری دس دنوں میں لگتی ہے۔ چیچہ وطنی میں کبڈی کا کھیل بہت مقبول ہے۔ قومی سطح کے کئی مقابلے یہاں منعقد ہو چکے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کی ٹیموں کے مابین بھی یہاں مقابلے ہوئے۔ یہاں فلڈ لائٹس کی سہولت سے آراستہ کبڈی سٹیڈیم موجود ہے۔ چیچہ وطنی کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ یہاں کی خاتون کھلاڑی شازیہ ہدایت نے ۲۰۰۴ء کے سرمائی اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ یہاں عیسائی بھی معقول تعداد میں آباد ہیں معروف نرس ایستھر جان کا تعلق بھی چیچہ وطنی سے تھا۔

    چیچہ وطنی کا ریلوے سٹیشن شہر سے دُور تھا، جس وجہ سے مسافر طویل فاصلہ طے کرکے وہاں پہنچتے تھے۔ پاکستان ریلوے نے شہرکے دائیں طرف جولائی ۲۰۰۷ء میں نیا ریلوے سٹیشن تعمیر کیا ہے۔ چیچہ وطنی کے بلاک ۱۲ میں واقع جامع مسجد کے اندر ایک جہادی مدرسہ مدرسہ خالدیہ کے نام سے قائم تھا۔ بعدازاں یہ مدرسہ چک ۲۔۱۲/۴۰ میں منتقل کر دیا گیا۔ صدر مارکیٹ یہاں کا معروف بازار ہے جبکہ آئس کریم کے متعدد مشہور پارلر ہیں۔ گندم، کپاس اور گنا علاقے کی اہم فصلیں ہیں۔ اس کی زرخیز زمین کپاس کا سفید سونا اُگاتی ہے۔ یہاں ایک سوجی مل، ۳۵ کے قریب آئل ملز، ۵۰۰ کے قریب جننگ فیکٹریاں ہیں جبکہ گھی کی کریسنٹ فیکٹریز لمیٹڈ صنعت کی دنیا میں نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ یہاں طلبا وطالبات کے ڈگری کالج، کامرس کالج، ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، سٹیڈیم، متعدد سرکاری و غیر سرکاری ہائی اور مڈل سکول، تحصیل سطح کے دفاتر، ہسپتال اور عدالتیں، تھانہ صدر اور تھانہ سٹی موجود ہیں۔ 

    اسد سلیم شیخ

    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)
     


    0 0

     ڈرگ جھیل کھارے پانی کی اس جھیل کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم میں دریائے سندھ کی گزر گاہ رہی ہوگی۔ اس پانی میں مون سون کی بارشوں اور قریب کے ندری نالوں میں داخل ہوتا ہے۔ آبپاشی کے لیے پانی کا رخ موڑنے اور آبی پودوں کی بہتات سے اس کی سطح اور رقبے میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ بگلوں کی کئی اقسام یہاںپر افزائش نسل میں مصروف رہتی ہے ۔ سردیوں میں ہزاروں آبی پرندے جھیل پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھیل میں آبی پرندوں کا شکار ممنوع ہے۔ 

    کینجھر جھیل میٹھے پانی کی یہ بہت بڑی جھیل ٹھٹھہ شہر سے 19 کلومیٹر شمال مشرق میں ہے۔ اس کو کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دو جھیلوں کلری اور کینجھرکو ملانے پر وجود میں آئی ہے۔ جھیل میں پانی دریائے سندھ سے نہر کے ذریعے آتا ہے ۔ جھیل کے زیریں حصے پر ایک چھوٹا سا ڈیم بنا کر پانی کو روکا گیا ہے، یہی ڈیم جھیل سے پانی کے اخراج کے کام بھی آتا ہے۔ اس کے پانی سے کراچی اور اردگرد کی آبادی کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ موسم سرما میں ہزاروں پرندے ہجرت کرکے اس جھیل کو اپنا عارضی مسکن بناتے ہیں ۔ جھیل میں واقع چھوٹے چھوٹے جزیرے پرند وں کو افزائش نسل کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔ یہاں پر آبی پرندوں کا شکار بھی ممنوع ہے۔ 

    ہالیجی جھیل میٹھے پانی کی ایک جھیل کے اطراف مستقل رہنے والے پانی اور اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا ہے۔ جھیل کے چاروں اطراف بند بنا کر پانی ذخیرہ کیا گیا ہے ،یہ اپنے بہترین محل وقوع اور ماحول کی وجہ سے پرندوں کی جنت کہلاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کی بہترین جھیلوں میں ہوتا ہے۔ نقل مکانی کے موسم میں ہزاروں پرندے اس جھیل پر آتے ہیں۔ یہ کئی اقسام کے آبی اور دیگر پرندوں کو ان افزائش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتی ہے۔ جھیل کی اہمیت کے پیش نظر اس پر ہر قسم کے شکار پر پابندی ہے۔

    شیخ نوید اسلم

    (پاکستان کی سیر گاہیں)  


    0 0

    ایک معمولی پولیس اہلکار جس کے ہم کاتب تقدیر ہیں، جس کا دانہ پانی ہم جب چاہیں روک دیں اور جب چاہیں فراخ کر دیں، جس کی عزت و ذلت بھی ہمارے ہاتھ میں ہے، جب چاہیں اسے کامیاب پولیس آفیسر قرار دے کر میڈل سے نواز دیں اور جب چاہیں بددیانتی، ماورائے قتل یا کسی اور جرم کا الزام لگا کر اسے زمانے بھر میں بدنام کر دیں۔ پولیس آفیسر بھی اس شہر کا‘ جہاں بھتہ خوروں، بوری بند لاشوں کے ٹھیکیداروں، اغواء برائے تاوان کے مجرموں، مسخ شدہ لاشوں کے تحفے دینے والوں اور انسانوں کے جسموں میں ڈرل مشینوں سے سوراخ کر کے چنگیز خان اور ہلاکو کی وحشت و بربریت کی داستانیں رقم کرنے والوں کے خلاف جب آپریشن ہوا تو ایسے سب ’’معمولی‘‘ پولیس اہلکار جو اس آپریشن کو ایک فرض منصبی سمجھ کر شریک ہوئے تھے، انھیں ایک ایک کر کے چن چن کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔

    حالت یہ ہے کہ برطانیہ میں کراچی کا ایک پولیس آفیسر پناہ کی درخواست دیتا ہے تو برطانوی جج اپنے فیصلے میں لکھتا ہے کہ اسے پناہ اس لیے دی جا رہی ہے کہ کراچی میں اس کے ساتھی دو سو پولیس آفیسروں کو قتل کر دیا ہے اور اگر یہ پاکستان واپس چلا گیا تو اسے بھی قتل کر دیا جائے گا۔ ایسے شہر میں اس پولیس آفیسر کی یہ جرأت کہ جمہوری طور پر منتخب ایک ممبر صوبائی اسمبلی اور لیڈر آف اپوزیشن کو قتل اور گھیراؤ جلاؤ جیسے فوجداری جرائم کے تحت درج مقدموں میں گرفتار کرنے جائے، اس کو اس بات کا احساس تک نہیں یہ ایک ایسی شخصیت کا گھر ہے جسے ووٹ کی طاقت نے پاکبازی و معصومیت کا سرٹیفکیٹ عطا کر دیا ہے۔
    اسے اندازہ نہیں اس نے خواجہ اظہار کو گرفتار نہیں کیا‘ جمہوریت کی عزت و حرمت پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اس کی یہ جرأت، یہ ہمت جب کہ اس ملک میں ایک ایسی حکومت ہے جس نے پاکستان کی ساری بیوروکریسی اور ساری پولیس کو پرونواز اور اینٹی نواز میں تقسیم کرنے کا ’’شرف‘‘ حاصل کیا ہے۔ اس معمولی پولیس اہلکار کو جاننا چاہیے تھا کہ ساری بیوروکریسی اور ساری پولیس جمہوری نظام کی بقاء کے لیے کیا کچھ کر گزرتی ہے اور تب جا کر ان جمہوری حکمرانوں کی آنکھوں کا تارا بن جاتی ہے۔ اسے نہیں معلوم کیسے الیکشن کے دنوں میں یہ تمام افسران رائے ونڈ اور بلاول ہاؤس میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

    اپنے اپنے عظیم ’’جمہوری‘‘ رہنماؤں کو بہترین مشوروں سے نوازتے ہیں۔ بتاتے ہیں کہ ہم نے پولنگ اسکیم کیسے بنائی ہے کہ آپ ہی جیتیں گے‘ بتاتے ہیں کہ ہم نے ان کے مخالفین کے اہم ترین لوگوں کو کیسے مقدموں میں الجھا دیا ہے۔ ہم نے کیسے دباؤ ڈال کر جعلی کیس بنا کر کتنے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ آپ کی حمایت کا اعلان کریں۔ ہم نے پولنگ اسٹیشنوں کے عملے کو انتہائی احتیاط سے تعینات کیا اور اب آپ بے فکر ہو جائیں، ہم موجود ہیں فیلڈ میں، کوئی ہم پر شک تھوڑا کرے گا کہ ہم میاں نواز شریف کے وفادار ہیں یا آصف علی زرداری کے۔ ہم پولیس اور انتظامیہ کے آفیسر ہیں، غیر جانبدار۔ جیتنے پر انعامات کی سب سے پہلی بارش انھی افسران پر ہوتی ہے۔

    ایک منظور نظر کو جب پنجاب کا چیف سیکریٹری لگایا تو وہ بہت جونیئراور دیگر سیکریٹری سینئر تھے۔ جو نالاں رہتے تھے ایک دن اس نے سیکریٹری کمیٹی میں بے لاگ اور کھرا سچ بول دیا۔ اس نے کہا دیکھو میں نے پہلے دن اس بات کا اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ نوکری اب سیاسی وفاداریوں کی نوکری بن چکی ہے۔ ضیاالحق کا دور تھا جب میں سروس میں آیا اور سب سے منظور نظر گھرانہ ماڈل ٹاؤن کا شریف گھرانہ تھا۔ میں نے ان کی چوکھٹ پر خود کو ’’سرنڈر‘‘ کیا اور آج تک ان کا وفادار ہوں۔ جب تک یہ ہیں میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ یہ نوکری عوام کی نہیں گھرانوں کی نوکری ہے۔

    اس ’’معمولی‘‘ پولیس آفیسر کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ جمہوریت کی بقا اور سسٹم کے تحفظ کے لیے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اخلاق، ضمیر، قانون اور ذاتی غیرت کو بھی میٹھی نیند سلانا پڑتا ہے۔ جمہوری حکمران تمہیں میٹنگ میں بے نقط سنائے، عوام کے سامنے بے عزت و رسوا کرے، بے شک تم پولیس کے انسپکٹر جنرل ہو جاؤ، تمہارے چہرے پر شرعی داڑھی ہو، وہ تمہیں تحقیر کے ساتھ ’’دڑھیل‘‘ کہہ کر پکارے، تمہیں سب سننا پڑتا ہے۔ تمہیں سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے کیس بنانا ہوتے ہیں۔ ان کے گھروں پر چھاپے مار کر ان کی بیٹیوں، بہنوں، بہوؤں اور ماؤں تک کو تھانے میں لا کر بٹھانا ہوتا ہے۔ تم سوچ بھی نہیں سکتے کہ کوئی ممبر اسمبلی قتل بھی کر سکتا ہے، یا کروا سکتا ہے۔ چوری کر بھی سکتا ہے یا چوروں کی سرپرستی بھی کر سکتا ہے۔ توبہ توبہ، ہزار بار توبہ۔ جس شخص کو یہ قوم منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتی ہے اس کے بارے میں ایسا سوچنا بھی تمہاری نوکری میں جرم ہے۔

    یہ تو معصوم لوگ ہیں۔ اللہ کے بنائے معصوم تو پیغمبر ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی جمہوریت کے بنائے معصوم پارلیمانی نظام کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ جمہوری نظام کے ستون، جن کے دست قدرت میں سارا نظام یرغمال ہے۔ اگر آپ کا وفادار نیب کا سربراہ ہے، ایف آئی اے کا ڈائریکٹر ہے، پولیس کا انسپکٹر جنرل ہے اور ایف بی آر کا چیئرمین ہے تو آپ پر لاکھ الزام لگے، پوری قوم کا بچہ بچہ جانتا ہو کہ آپ نے بددیانتی کی ہے، قتل کروائے ہیں، لوگوں کی جائیدادیں ہڑپ کی ہیں، آپ پاکستان کی کسی بھی عدالت میں سزا کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
    اس لیے کہ آپ کے خلاف مقدمے کے شواہد جج نے نہیں، نیب نے، پولیس نے، ایف آئی اے یا ایف بی آر نے جمع کروانے ہیں اور آپ نے کس خوبصورتی سے ان کو رائے ونڈ اور بلاول ہاؤس کی چوکھٹوں کا غلام بنا لیا ہے۔ جب ان عہدوں پر ایسے وفادار بیٹھے ہوں گے تو کون ان سیاستدانوں کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ثبوت اکٹھا کرے گا۔ 1999ء تک یہ جمہوری لیڈران تھوڑے بے وقوف تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف ثبوت اکٹھا کرتے تھے۔ اب یہ سب متحد ہو گئے ہیں۔ یہ کس کے خلاف متحد ہوئے ہیں اٹھارہ کروڑ عوام کے خلاف۔ کس ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے تمہاری جرأت تم ایک رکن اسمبلی پر ہاتھ ڈالو جس پر قتل کا الزام ہے۔ ہاتھ ڈالنے کے لیے اٹھارہ کروڑ عوام جو موجود ہیں۔ جاؤ ان کے گھروں پر چھاپے مارو، جاؤ ان کی عورتوں کو اٹھا کر تھانے لاؤ، جاؤ ان کو ننگی گالیاں نکالو، جاؤ ان کو تھانے لے جا کر اتنا مارو کے ان کی چمڑی ادھڑ جائے، ان پر بے گناہ کیس بناؤ، تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔

    لیکن خبردار جمہوری طور پر منتخب شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا اور دیکھو ہمیں قاتل، بددیانت، چور، بھتہ خور مت بولو، جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے اور جرم تمہارا باپ بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ تفتیش کرنے والے سب کے سب تو اپنی مٹھی میں ہیں، آدھے رائے ونڈ کی غلامی میں اور آدھے بلاول ہاؤس کی۔ کراچی والوں کا کیا ہے ان کو تو دو سو پولیس افسروں کی لاشیں ہی ڈرانے کے لیے کافی ہے اور جو ایسا پولیس آفیسر جرأت کرے اسے نشان عبرت بنا دو۔ اگر عدالت میں ثابت ہونے سے ہی کوئی شخص واقعی مجرم کہلاتا ہے تو کیا مسند اقتدار پر بیٹھے یا اپوزیشن کے عظیم جمہوری لیڈران اپنی بیٹیوں کا رشتہ جان بوجھ کر کسی ایسے لڑکے سے کریں گے جس کے بارے میں مشہور ہوکہ وہ قاتل ہے، بھتہ خور ہے، چوروں کا سرغنہ ہے، جوئے کا اڈہ چلاتا ہے، کئی بار خواتین کے ساتھ جنسی تشدد میں ملوث ہوا مگر ثبوت نہ ہونے پر صاف بچ نکلا۔ کیا یہ سیاست دان ایسے شخص کو اپنی شوگر مل، اسٹیل مل یا کسی دفتر میں ملازم رکھیں گے، حالانکہ اس کے خلاف کوئی جرم تو ثابت نہیں ہوا ہوتا۔ وہ بھی یہی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم پر پولیس نے ناجائز کیس بنائے ہیں۔ لیکن تمہارا فیصلہ چونکہ جمہوری بنیاد پر نہیں بلکہ بہترین مفاد کے لیے ہوتا ہے اس لیے آپ بیٹی یا بیٹے کا رشتہ اور اپنا ملازم تک اس کی شہرت دیکھ کر رکھتے ہیں۔ عدالت کے فیصلے نہیں مانگتے۔

    ان جمہوری لیڈران کو اگر اس بات کا اندازہ ہو جائے کہ ان کی شہرت کیا ہے اور اللہ اس پر انھیں شرمندہ ہونے کی توفیق عطا فرما دے تو شرم کے مارے سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں کو بھاگ جائیں لیکن کیا کیا جائے جس ملک میں جرم دھونے کی سب سے بڑی لانڈری الیکشن ہو وہاں کبھی انصاف اپنی جڑیں نہیں پکڑ سکتا۔

    اوریا مقبول جان



    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں فوجی بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے
    میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کی سی صورتحال ہے؟ انڈیا نے پاکستان میں موجود شدت پسند گروپ کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ پاکستان اس کی تردید کرتا ہے۔ اس حملے کے اگلے روز شہ سرخیوں نے دونوں ممالک کے درمیان صورتحال کی صحیح عکاسی کی۔ شہ سرخیوں میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ’کارروائی کا عزم کیا‘، جوابی کارروائی پر سوچ بچار، اور فوج نے حکومت سے کہا ہے کہ سرحد پار کارروائی کے بارے میں سوچیں۔ ایک شہ سرخی تھی ’جوابی کارروائی کی جائے گی اور جلد‘۔ نریندر مودی نے کہا ہے کہ اس حملہ کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما رام مدھو کا کہنا تھا کہ انڈیا کو ’خود پر قابو رکھنے‘ کے دن گئے۔
    سابق فوجی افسران نے بھی کہا کہ انڈیا کو جوابی کارروائی کرنی چاہیے۔ دفاعی تجزیہ کار راہل بیدی کا کہنا ہے کہ فوج جوابی کارروائی کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے پاس پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے یا پاکستان میں محدود جنگ لڑنے کی صلاحیت اور انٹیلیجنس ہے۔
    زیادہ تر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کی حکومتوں نے ایسی صلاحیت بڑھانے کے لیے کام نہیں کیا۔ میڈیا میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ فضائیہ کو پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آسان نہیں ہو گا کیونکہ پاکستان کے پاس عمدہ دفاعی نظام موجود ہے۔

    ماہرین کو اس بارے میں بھی شک و شبہات ہیں کہ انڈیا غیرروایتی مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔  دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ’پاکستان کے خلاف بیان بازی کو تو بہت بڑھا دیا ہے لیکن فوج کی صلاحیتوں اور منصوبہ بندی کے نظام کو بہتر نہیں کیا۔‘
    ’حکومت اب اپنے ہی اودھم میں پھنس گئی ہے۔ اپنے ہی شعلہ بیانی میں پھنس جانے کا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ جارحانہ جواب دینا مجبوری بن جاتا ہے اور آپ کے پاس مزید خراب ہوتی صورتحال کو قابو کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔‘ تو کیا انڈیا کی پاکستان کے خلاف روائتی ’جوابی کارروائی سے باز رہنے‘ کی حکمت عملی ہی اس کا واحد جواب ہوگا؟

    دفاعی تجزیہ کار کرسٹین فیئر کا کہنا ہے ’اگر جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو انڈیا میں کارروائیاں کرنے سے باز رکھنا ہے تو یہ حکمت عملی بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ کیا انڈیا کی اس حکمت عملی کے باعث عالمی برادری کا جھکاؤ انڈیا کی جانب ہو گیا ہے؟ نہیں۔‘ دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کے پیچھے انڈیا کی غیر معقول منطق یہ ہے کہ ایک ارب سے زائد افراد اور سب سے بڑی فوج کا ملک حملوں میں فوجیوں کی ہلاکت برداشت کر سکتا ہے اور اس پر کوئی سیاسی بحران بھی پیدا نہیں ہو گا۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ’انڈیا معاشی طور پر ترقی کر رہا ہے اور پاکستان نہیں۔ تو ہم جنگ کا خطرہ مول لیے بغیر چند سو لوگوں کی قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ ہے جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی کے پیچھے سوچ اور اس بارے میں کوئی بات نہیں کرتا۔‘

    مصنف برہما چلنی کا کہنا ہے ’جوابی کارروائی سے باز رہنے کی حکمت عملی غیر اخلاقی انتخاب ہے جس سے دشمن کی مسلسل کارروائیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اور یہ بھی غلط موقف ہے کہ انڈیا کے پاس اپنی ہی سر زمین پر پاکستان کی غیر روایتی جنگ لڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔‘چند ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا کو جوابی کارروائی پر غور نہ کرتے ہوئے غیر روائتی آپشنز کو وسیع کرنا ہو گا۔

     سوتک بسواس
    بی بی سی، دہلی



    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات اب بھی مکمل طور معمول پر نہیں آئے ہیں
    کیونکہ مظاہروں کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور ہر دن اوسطا 50 افراد گرفتاری ہو رہی ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق منگل کو 64 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کشمیر وادی میں گذشتہ آٹھ جولائی کو شدت پسند برہان وانی کی ایک تصادم میں ہونے والی موت کے بعد سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور بدامنی کی صورتحال ہے۔ پولیس کے مطابق اب تک 3500 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں علیحدگی پسند بھی شامل ہیں۔ 
    گرفتار کیے جانے والے لوگوں پر مظاہروں کے دوران تشدد کرنے، لوگوں کو تشدد پر مشتعل کرنے اور انڈیا مخالف نعرے لگانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
    انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے 11 ستمبر کو ایک معینہ مدت طے کی تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر کشمیر میں حالات معمول پر آجائیں گے اور اس کے لیے سکیورٹی فورسز کو چھوٹ دی گئی تھی۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ وادی میں سکول کھلیں گے اور تجارتی سرگرمیاں بھی شروع ہو جائیں گی لیکن ایسا اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ علیحدگی پسندوں اور مظاہرین کے خلاف شروع کی جانے والی مہم اب بھی جاری ہے۔ حالات معمول پر نہ آنے کی صورت میں حکومت ہند کے خلاف لوگوں میں غصہ بڑھ رہا ہے۔

    پہلے مظاہرے برہان وانی کی موت کے خلاف ہو رہے تھے لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اب انسانی حقوق کی بات زیادہ اٹھائی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز رات کے وقت کسی جگہ چھاپہ مار کارروائی کرتی ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں اور دوسرے دن صبح لوگ باہر آکر گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کو حراست میں لیے جانے کے خلاف درخواست پر منگل کو عدالت میں سماعت ہوئی۔ انھیں کپوارہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ خرم پرویز معذور ہیں اور ان کے وکلاء نے انھیں حراست میں لیے جانے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ انھیں جس جیل میں رکھا گیا ہے وہ معذور افراد کے لیے معقول نہیں ہے۔

    ریاض مسرور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر


    0 0

    Pakistanis peel shrimp at a shrimp farm in Karachi. They earn about Pak Rs. 200 (US$2) a day.


    0 0

    جنہیں عرف عام میں سید مودودی ؒ یا مولانا مودودیؒ کہا جاتا ہے، اسلام کے مذہبی
    اخلاقی، معاشی ، معاشرتی اور سیاسی پہلوئوں پر لا تعداد تحریروں ، مضامین ، مقالہ جات اور سو سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ مولانا مودودی ؒقرآن ، حدیث ، فقہ کے ساتھ ساتھ عمرانی مسائل ، فلسفہ ، اسلامی تاریخ ، تفسیر قرآن ، معاشیات اور علم سیاسیات کے ایک بڑے عالم تھے ۔ انہوں نے اپنی دل آویز شخصیت ، دل نشیں طرز انشاء اور دل کش اسلوب تحریر سے مسلمانوں کو اُن کا بھولا ہوا سبق سکھایا یا د دلایا ۔ لاکھوں مسلمانوں کو اپنی حرارت ایمانی پر مبنی تحریروں اور خطابت سے گرما دیا اور اُن کے دلوں میں حقیقی نصب العین ، حکومت الٰہیہ کے قیام اور تعمیر ، اصلاً رضائے الٰہی اور نجات اُخروی کے حصول کی تڑپ پیدا کردی.

    مولانا مودودی ؒ ہی ہیں ،جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں میں اسلام کے اجتماعی نظام ، تعمیر ریاست اسلامی اور اتحاد عالم اسلامی کی علامت ہیں۔ طرز تعلیم ،طرز بیان اور اسلوب تحریر کے اثرات مولانا مودودی ؒ ،اپنی خطابت ،تحریروں میں فقہی مسائل بیان کرنے کی بجائے اسلام کی مبادیات او ران کے انقلابی رخ و کردار اور انسانی زندگی کی معاشرتی ، سیاسی اور اخلاقی پہلوئوں سے تعلق رکھنے والی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نئی نسل کے فکر و ذہن کو منور کرتے ۔ جب اسلامیہ کالج میں مولانا مودودی ؒ نے ستمبر 1939ء سے لیکچر ز کا سلسلہ شروع کیا (اعزازی پروفیسر ) تو شاگردوں کے الفاظ تھے کہ ’’اسلامیات کے باغ میں ایک لخت بہار آ گئی اور اس کی قدر ومنزلت میں اضافہ ہوگیا ، سید احمد سعید کرمانی کے الفاظ میں ایک بار کوئی طالب علم لیکچر سن لیتا، تو دوسرے پیریڈ اس پر بوجھ بن جاتے۔ دوسرے شاگردوں کا کہنا تھا کہ مولانا محترم کے درس کااندازبھی نرالا تھا ، سادہ کاغذ پر چند عنوان لکھ کر لاتے تھے اور ایک ایک کی تشریح فرماتے جاتے، سوالات کے لیے صلائے عام ہوتا، بہت ہی اطمینان بخش جواب ہوتے پوری محفل بہت ہی دلچسپ ہوتی ۔
    اس درس و تدریس سے نوجوانوں کو پہلی بار پتا چلاکہ اسلام بے روح مذہبیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل اور شاندار نظام حیات ہے، جو انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں رہنمائی دیتا ہے ۔ مولانا مودودی ؒ کی یہ کوششیں یقینا انقلاب انگیز کام تھا، جس نے نوجوان نسل کے ذہن ہی نہیں بدلے بلکہ اُن کی زندگی کے طور اطوار بھی بدل ڈالے۔ مولانا مودودی ؒ ہمیشہ زور استدلال سے ہندوستان کی سیاست اور قومیت کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے اسلام کے نظریۂ سیاست کی نشاندہی کرچکے تھے، لیکن اکتوبر 1939ء میں انہوں نے مسجد شاہ چراغ ،لاہور میں منعقد ہونے والے برادر ہڈ اجلاس میں مشہور مقالہ ’’اسلام کانظریہ سیاسی پڑھا اس مقالہ کو ہر طرف سے پذیرائی ملی اور مقبول عام ہوا ۔ اس کا چرچا خوشبو کی طرح ہر طرف پھیل گیا۔ ایم اے او کالج، امرتسر کی درخواست پر مولانا مودودی ؒ نے 26 نومبر 1939ء کو ’’اسلام کا نظریہ سیاسی ‘‘ مقالہ کالج کے غلام حسن ہال میں پیش کیا ، کالج کا ہال اساتذہ ، حاضر اور سابق طلبا ، دانشور اور معززین شہر سے بھرا ہواتھا ۔ اس مقالہ نے ہر ایک کو متاثر کیا اور اس کی فکر انگیزی نے ایسا ماحول کردیا کہ طویل مقالہ ہر ایک کے ذہن کو قبولیت پر آمادہ کرتا جاتا۔ ایسے محسوس ہوتا کہ دانائے راز طالب علموں اور تعلیم یافتہ حضرات کو انگلی پکڑ کر راستہ دکھاتا جا رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب نظریۂ پاکستان روز بروز وسعت پکڑ رہا تھا اور مسلمان نوجوانوں میں ایک جداگانہ ریاست کے قیام کے ساتھ ساتھ اس کی اسلامی شناخت کی باتیں ہونے لگی تھیں۔

    ایسے عالم میں مولانا مودودی ؒ کا مقالہ اسلام کا نظریہ سیاسی خود مسلم لیگی حضرات کے بقول پاکستان جانے والی سیدھی راہ دکھاتا تھا۔ مولانا مودودی ؒ نے انفرادی ، اجتماعی اور اسلامی ریاست کے قیام اور استحکام کے لیے مسلسل اپنی تحریر ، فکر سے آبیاری کی،اسی وجہ سے آج بھی لبرل ، سیکولر مادرپدر آزادی اباہیت اور مفاد پرستی کے طوفان میں اسلامی نظریہ سیاست اور اسلامی تہذیب ومعاشرت کا چراغ ہر سو روشنی پھیلا رہاہے ،نشان منزل کو غائب نہیں ہونے دے رہا۔ فکر ، جدوجہد ،تنظیم سازی اور دعوت کی تین بنیادیں سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کے کام کو تین عنوانات میں تقسیم کیاجاسکتاہے:

    ۱۔ اسلامی حکومت کے بنیادی نظریے اور اس کے نمایاں خدوخال کو لوگوں کے سامنے کھول کر رکھاتاکہ جس چیز کی طلب اُن کے اندر پیداہوگئی ہے، ا س کی نوعیت سے وہ خوب اچھی طرح آشنا ہوجائیں۔

    ۲۔ تہذیب اسلامی کی مبہم سی خواہشیں جو مسلمانوں کے اندر اُبھری ہیں ،اس کے بارے میں انہیں پوری وضاحت سے بتایا جائے کہ اسلامی تہذیب کیا شے ہے ۔

    ۳۔ مسلم قوم پرستی اور اسلام کے نام پر کام کرنے والے افکاراور تحریکوں کا تجزیہ کرکے یہ واضح کیا کہ اسلامی نظام زندگی کااحیاء اور قیام کس قسم کی تحریک کے ذریعے ہوسکتاہے ۔

    لیاقت بلوچ


    0 0

    Read muhammad-farooq-chohan Column wazir-e-azam-ka-khitaab-aur-aafia-siddiqui published on 2016-09-23 in Daily JangAkhbar

      محمد فاروق چوہان      



    0 0

    Read dr-shahid-hasan-siddiqui Column nab-maeshat-aor-aala-adlia published on 2016-09-22 in Daily JangAkhbar

    ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی



    0 0

    بزرگ سیاستدان جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ ملکی و بین الاقوامی میڈیا نے بھارتی
    عسکری طاقت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے اور اب بھارت کے بھی 52 ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ یورپ اورایشیاء کے زیادہ ترممالک کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہیں جس کے بعد بھارت پورے خطے میں تنہا ہوگیا ہے، نریندرمودی خود کو خطے کے سیاہ وسفید کا مالک سمجھتا ہے جب کہ پاکستانی صحافیوں کو بھی چاہیئے کہ وہ بھارتی میڈیا وار کا دلیری سے مقابلہ کریں۔
    جاوید ہاشمی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سارک کے ممالک بھی بھارت کے ساتھ نہیں ہیں اورجنگ ہوئی تو پاک فوج اور قوم مردانہ وارمقابلہ کرے گی۔ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا نے بھارتی عسکری طاقت کا بھانڈا پھوڑدیا ہے جب کہ بھارت کے 52 ٹکڑے ہونے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھارت کے ذریعے اپنی سپر پاورطاقت برقراررکھنا چاہتا ہے جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو ناکام کرنے کی امریکی و بھارتی سازشیں ناکام ہوگئی ہیں۔
    سینئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ پوری قوم پاک فوج کے بہادرسپاہیوں کو خراج تحسین پیشن کرتی ہے، بھارتی انتہا پسند نواز شریف کے سر کی قیمت ایک کروڑ لگانا چاہتے ہیں جب کہ مودی کے سرکی قیمت ایک ٹکے کی بھی نہیں۔


    0 0



    0 0



older | 1 | .... | 81 | 82 | (Page 83) | 84 | 85 | .... | 149 | newer