Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 80 | 81 | (Page 82) | 83 | 84 | .... | 149 | newer

    0 0

    مجھے معلوم ہے اس وقت بہت جذباتی فضا ہے اور ایسی فضا میں کسی ایسے
    موضوع پر لکھنا جو ابھی آہستہ آہستہ کھل رہا ہو، دشوار ہوتا ہے، لوگ اُسے اپنے اپنے خیالات کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے کہ اس لمحے اس کے سوا کوئی اور موضوع پوری سیاست پر محیط نظر بھی تو نہیں آتا۔ میری مراد ایم کیو ایم کے حالات اور اُس میں فاروق ستار کے کردار کی ہے ویسے تو جس قدر ذکر فاروق ستار کا آج کل ہو رہا ہے، وہ اچھا ہی ہے، اس کے نتیجے میں لندن والے بھائی صاحب بھولتے جا رہے ہیں اور فاروق ستار منظر پر غالب آ رہے ہیں۔ البتہ ایک شک ہے جس نے ساری فضا کو گدلا کر رکھا ہے۔ یہ شک فاروق ستار کی صلاحیت اور پھر ان کی اپنے پرانے قائد سے وفاداری کی وجہ سے چھایا ہوا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو کالعدم جماعت ہونے سے بچانے کے لئے یہ سارا ڈرامہ رچا رہے ہیں وگرنہ آج بھی ایم کیو ایم بھائی کے احکامات پر چل رہی ہے اور خود فاروق ستار اور ان کے ساتھی بھی انہی کی چشم و ابرو کے محتاج ہیں لیکن میں ایسا نہیں سمجھتا، اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگ مجھ پر تنقید کر سکتے ہیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میں ایک ایسی جماعت کے باقی رہنے کی حمایت کر رہا ہوں جس کے قائد اور کارکنوں نے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے۔
    نہیں صاحب ایسا ہرگز نہیں ہے۔ میں تو اس سوال میں الجھا ہوا ہوں کہ کیا ایم کیو ایم پر پابندی لگانا درست فیصلہ ہوگا یا اسے ایک سیاسی جماعت کے طور پر کام کرنے کا موقع دینا مناسب رہے گا؟ میں دوسرے آپشن کے حق میں ہوں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے بطور سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک شخص کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خرابیوں کا باعث بنا۔ کراچی کے لاکھوں عوام ہرگز ظالم یا دہشت گرد نہیں ہو سکتے انہیں استعمال کیا گیا، مہاجر کارڈ کے ذریعے ایم کیو ایم کو سیاسی جماعت کی بجائے پریشر گروپ کے طور پر چلایا جاتا رہا جس پر خوف اور دہشت کی فضا طاری رکھی گئی اسٹیبلشمنٹ ان باتوں سے مصلحتاً صرفِ نظر کرتی رہی اور معاملات بگڑتے چلے گئے، لیکن یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ ہر مہاجر دہشت گرد تھا یا ہر مہاجر نے پاکستان کے خلاف سوچا، اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں بسنے والے مہاجروں کی اکثریت محب وطن ہے یہی وجہ ہے کہ 22 اگست کو پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی، اس نے کھیل کا پانسہ ہی پلٹ دیا اور عوام کی اکثریت نے اس کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا خوف و دہشت کی فضا چھٹتے ہی کراچی کے عوام بھی آزاد ہو گئے۔ حالیہ دنوں میں جب ایم کیو ایم کے سرکاری زمینوں پر بنے دفاتر گرائے گئے تو لوگوں نے احتجاج کی بجائے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے۔

    موجودہ حالات میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجرم سے مظلوم بننے میں دیر نہیں لگتی۔ اس وقت سب سے اہم ٹاسک یہ ہے کہ کراچی میں بسنے والے مہاجروں کو احساسِِ محرومی اور احساس عدم تحفظ سے بچایا جائے۔ الطاف حسین نے 24 برسوں سے اُنہیں مہاجر کارڈ کے نام پر یرغمال بنائے رکھا تو ساتھ ہی یہ احساس بھی دلایا کہ اس کے بغیر مہاجروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں رہے گا۔ آج سب مہاجر یہ جانتے ہیں کہ انہیں ایک دھوکے اور جھانسے میں رکھ کر مفادات اور ’’را‘‘ کی ایجنسی کا کھیل کھیلا گیا۔ وہ جس ملک کے لئے لاکھوں جانیں قربان کر کے آئے تھے۔ اُسے اندر ہی اندر سے بیچا جاتا رہا، کھوکھلا کیا جاتا رہا۔ اب انہیں یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ کراچی کے اصل مالک ہیں، ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، انہیں کسی قسم کے عدم تحفظ میں مبتلا ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ یہ کام ایم کیو ایم کے بغیر نہیں ہو سکتا اس جماعت سے کراچی کے پر امن مہاجروں کی ربع صدی سے وابستگی ہے۔ اگر اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے تو مہاجروں میں احساسِ محرومی اور احساسِ عدم تحفظ دو چند ہو جائے گا۔ لیکن دوسری طرف ایم کیو ایم کی ایک فعال سیاسی جماعت کی حیثیت سے موجودگی مہاجروں کے لئے ایک ڈھال ثابت ہو گی۔ پھر اب بدلی ہوئی فضا میں وہ ایم کیو ایم کو بھی ایک بدلی ہوئی پر امن سیاسی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں۔ ربع صدی میں لاشیں تو زیادہ تر مہاجروں ہی کی گری ہیں۔ اس کارڈ کو بے دردی سے استعمال کرنے والوں نے اس تکنیک کے ذریعے ایک طرف مہاجروں میں خوف و ہراس پھیلایا تو دوسری طرف مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر اپنے لئے مراعات و مفادات حاصل کئے۔

    اس تناظر میں میرا نقطہ نظر تو یہی ہے کہ فاروق ستار کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ مانا کہ وہ قابلِ اعتبار نہیں یہ بھی تسلیم کیا کہ ان میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ لندن والوں کے دباؤ کا سامنا کر سکیں چلیں یہ بھی تسلیم کر لیتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات سے نکلنے کے لئے ایک ڈرامہ کر رہے ہیں لیکن صاحبو! کوئی یہ تو بتائے کہ فاروق ستار کے سوا ایم کیو ایم کے منظر نامے پر اور کون سی شخصیت ہے جو ان حالات میں اس پارٹی کی کمان سنبھال سکے۔ ساری قیادت تو ملک چھوڑ کر بھاگ گئی، جو ملک میں ہیں وہ استعفے دے رہے ہیں یا پاک سر زمین پارٹی میں جا رہے ہیں۔ اگر ہم الطاف حسین کی لندن سے مداخلت روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں ایم کیو ایم پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دینا چاہئے۔ اس سے بہت سے فائدے ہیں جو رفتہ رفتہ سامنے آئیں گے سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ ایم کیو ایم کا عسکری ونگ اب ختم ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فاروق ستار یا ان کے ساتھی یہ نہیں چاہیں گے کہ پھر شہر میں لاشیں گریں اور پھر ایم کیو ایم کے کارکن پکڑے جائیں اور یہ اقرار کریں کہ انہوں نے پارٹی کی قیادت کے حکم پر یہ سب کچھ کیا ہے۔ ویسے بھی دفاتر کے نیٹ ورک کی مسماری کے بعد کسی نیٹ ورک کا قائم رکھنا آسان نہیں، ایسے میں جبکہ رینجرز، پولیس اور ایجنسیاں ایسے افراد کو سونگھتی پھر رہی ہیں، اگر پاکستان میں قیادت کا خلاء نہیں آتا اور ایم کیو ایم نارمل طریقے سے کام کرتی رہتی ہے تو اس کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ الطاف حسین کا نام معدوم ہوتا جائے گا۔

     یہ بات تو طے ہو چکی کہ اب کراچی میں الطاف حسین کا خطاب کبھی نہیں ہوگا کیونکہ جب ایم کیو ایم نے ہی انہیں ڈس اون کر دیا ہے تو ان کے جلسے کا انتظام کون کرے گا اور سامعین کیسے اکٹھے ہوں گے۔ گویا پہلے ریڈیو ٹی وی پر الطاف حسین کی تقریر بند تھی، اب کراچی اور حیدر آباد کی سڑکوں اور چوراہوں پر بھی ان کی آواز نہیں دھاڑ سکے گی، اب تک حالات سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکن یا رہنما نظریاتی نہیں بلکہ وقتی ہیں، کیونکہ جس تیزی کے ساتھ وہ تبدیل ہوئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی الطاف حسین سے وابستگی صرف خوف کی وجہ سے تھی۔ اس لئے امکان یہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الطاف حسین بھی قصۂ پارینہ بن جائیں گے، بشرطیکہ پاکستان میں سیاسی طور پر ایم کیو ایم کو کام کرنے کی مکمل آزادی دی جائے۔ اس ٹاسک کو فاروق ستار کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت انہیں کمزور نہیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر وہ کمزور ہوئے تو ماضی کی طرف لوٹ جائیں گے۔
    انہیں ماضی سے جدا کرنا ہے تاکہ وہ ایم کیو ایم کو بھی پاکستان کی ایک خود 
    مختار، پر امن اور دہشت گردی سے پاک جماعت بنا سکیں۔ کچھ لوگ میری اس بات پر ہنسیں گے کہ میں کیسی کیسی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہوں اور فاروق ستار سے امید باندھ رہا ہوں کہ وہ ایم کیو ایم کو پنجۂ استبداد سے نکالنے میں کامیاب رہیں گے حالانکہ وہ جسمانی ہی نہیں عزم و ارادے کے لحاظ سے بھی بہت کمزور ہیں لیکن میں پھر کہوں گا کہ ہمیں فاروق ستار کو معجزہ دکھانے کے لئے بھرپور موقع اور وقت دینا چاہئے، کیونکہ اس کے سوا ہمارے پاس جو آپشن ہے وہ ملک دشمنوں کو مدد تو دے سکتا ہے۔ ہمارے کسی کام کا نہیں۔

    نسیم شاہد


    0 0

    پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اندورنی اور بیرونی
    دباؤ کے پیش نظر حکومت نے سنہ 2011 میں اس کے حل کے لیے ایک کمیشن جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک 1,800 سے زیادہ افراد کے مقدمات نمٹا دیے ہیں۔ ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے قائم اس کمیشن نے اپنا کام یکم مارچ سنہ 2011 کو شروع کیا تھا۔
    جسٹس جاوید اقبال کو جو کہ اس وقت ریٹائرمنٹ کے قریب تھے کو اس کی سربراہی کی پیشکش کی گئی جو انھوں نے قبول کر لی۔

    جبری گمشدگیوں کے کیس اور پیش رفت
    حکومت اس کمیشن کی مدت میں وقتاً فوقتاً چھ ماہ کا اضافہ کرتے رہی لیکن اب اس کی مدت آئندہ برس ستمبر تک بڑھا دی گئی ہے۔ کمیشن کو یہ مینڈیٹ دیا گیا کہ وہ حبری طور پر لاپتہ افراد کا اتا پتہ معلوم کرے اور اس مسئلے سے متعلق اندرون اور بیرون ملک معاملات سے نمٹے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کوئی ہدف مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) ڈاکٹر غوث محمد اور سابق سینیئر پولیس اہلکار محمد شریف ورک اس کے ممبر ہیں۔
    کمیشن کو اس سال مارچ تک 3,178 کیس موصول ہوئے۔ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 1,824 مقدمات حل کر لیے گئے ہیں اور 1,354 مقدمات اب بھی حل طلب ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جبری طور پر لاپتہ افراد کے مقدمات کی تعداد اکثر لوگ کئی گنا زیادہ بتاتے ہیں جو کہ درست نہیں ہوتیں۔ تاہم اب خفیہ ایجنسیاں زیادہ سے زیادہ افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد عدالتوں میں پیش کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق حالات میں بہتری آئی ہے لیکن مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک دہشت گردی کا مسئلہ اس خطے میں مکمل طور پر حل نہیں ہوتا ہے۔

    ہارون رشید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد



    0 0

    سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے ایشیا کے دورے کے پہلے مرحلے میں اتوار کی شب اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر اُترے تو اس سے قبل ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی حج کا فریضہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے تھے۔ اس کو علامتی قرار دیجیے ،قریبی گہری دوستی یا خیرسگالی سمجھیے ،یہ دونوں ملکوں کے درمیان طویل اور منفرد تعلقات کی ایک مثال ہے۔
    الریاض اور اسلام آباد کے بہت سے شعبوں میں باہمی مفادات مشترکہ ہیں۔ اگر پاکستان کی توانائی کی ضرورت اہمیت کی حامل اور دیرینہ ہے تو سعودی عرب میں پندرہ لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کی موجودگی دونوں ملکوں کے لیے سود مند ہے۔ دہشت گردی ان دونوں کی مشترکہ دشمن ہے اور یہ سکیورٹی کے شعبے میں مسلسل تعاون اور سیاسی افہام وتفہیم کی متقاضی ہے۔ اس محاذ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو اس طرح کے دوروں سے تقویت ملے گی۔

    اس دورے سے دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان دلچسپ ربط وتعلق کا منظر سامنے آتا ہے۔ دنیا کے نوجوان وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں داخلی اصلاحات پر توجہ مرکوز کررہے ہیں اور وہ سعودی مملکت کے بیرون ملک تعلقات کو از سرنو استوار کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے پاکستان میں ایک ایسے وزیراعظم سے ملاقات کی ہے جو سعودی عرب میں قریباً ایک عشرہ جلا وطنی کی زندگی گزار چکے ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور اپنے سیاسی کیرئیر کی اونچ نیچ سے قطع نظر پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف الریاض کو خصوصی درجہ دینے کے پابند ہیں جس کا وہ حق دار ہے۔ وزارت خارجہ کا قلم دان بھی وزیراعظم کے پاس ہی ہے جس کی وجہ سے ان کی حیثیت زیادہ منفرد ہو گئی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ گرم جوشی کے معاملے میں میاں نواز شریف کو ملک کی طاقتور مسلح افواج کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی نائب ولی عہد نے نواز شریف سے مسلح افواج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں ملاقات کی ہے۔
    بہت سے تجزیہ کار یہ توقع کر رہے تھے کہ پاکستانی پارلیمان میں یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی کارروائیوں میں ملک کو فعال شرکت سے روکنے کے لیے قرارداد کی منظوری کے بعد دو طرفہ تعلقات کو دھچکا لگے گا لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔ اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات اور اب اس دو روزہ دورے سے دونوں ملکوں میں بیشتر امور درست سمت میں استوار ہو جائیں گے۔
    شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب کی کونسل برائے اقتصادی اور ترقی امور (سیڈا) کے سربراہ ہیں۔ ان کے اس کردار سے دونوں ملکوں میں اقتصادی تعاون کے فروغ کو ترجیح حاصل رہے گی۔ فوڈ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کو باہمی مفاد میں تعاون جاری رکھنا چاہیے۔ فوڈ سکیورٹی میں وہ ماضی میں بھی تعاون کرتے رہے ہیں۔

    سعودی عرب نے پاکستان کو گذشتہ برسوں کے دوران فراخدلانہ انسانی امداد مہیا کی ہے اور توقع ہے کہ یہ عمل آیندہ بھی جاری رہے گا۔ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں کے دوران دو طرفہ تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے مگر ابھی ایسے بہت سے شعبے ہیں جن میں دوطرفہ تعاون کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس وقت توازن تجارت سعودی عرب کے حق میں ہے کیونکہ پاکستان اپنی ضروریات کے لیے زیادہ تر تیل سعودی مملکت سے ہی درآمد کرتا ہے۔ سعودی نائب ولی عہد کا پاکستان کا یہ دورہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے بعد وہ اگلے مرحلے میں چین گئے ہیں جس کے ساتھ پاکستان کے شاندار تعلقات استوار ہیں۔چین کی پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی اور طویل المیعاد شراکت کی ایک وجہ اس کی خلیج تک رسائی کی خواہش ہے۔ اس دورے سے اس حوالے سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اورمزید تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا ہوں گے۔

    سعودی عرب نے خطے اور اس سے ماورا تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال کے تناظر میں ایشیا کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کا انتخاب کیا ہے۔ ان حالات میں الریاض کے لیے یہ بات درست نظر آتی ہے کہ وہ ان ممالک سے آغاز کرے جو اس کے قریب تر ہیں اور جو ایشیائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی استواری میں پُل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان الریاض کی ''مشرق کی جانب دیکھو''حکمتِ عملی کے لیے ایک سنگِ بنیاد مہیا کرتا ہے اور یہ ملک اس حیثیت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اگر یہ دورہ پہلے سے موجود کثیرالجہت تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مزید پرتوں کا اضافہ کرتا ہے تو دونوں ممالک یقیناً اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

    احتشام شاہد

    احتشام شاہد العربیہ انگلش کے مینیجنگ ایڈیٹر ہیں۔ وہ گذشتہ قریباً دو عشروں کے دوران خلیج کے خطے اور بھارت میں مختلف اخباری اداروں اور خبررساں ایجنسیوں کے ساتھ مدیر ،نامہ نگار اور بزنس لکھاری کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ ان سے ٹویٹر پر اس پتے پر برقی مراسلت کی جا سکتی ہے۔ @e2sham.
    احتشام شاہد


    0 0



    0 0

     ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے شہری علاقوں کا احساس محرومی
    دور کرنے کے لئے سندھ میں کوٹہ سسٹم ختم کرنے کی تجویز پیش کردی۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہوا جس میں گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان، آئی جی  سندھ اے ڈی خواجہ، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار سمیت اہم صوبائی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور کراچی میں جاری آپریشن کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     اس موقع پر ڈی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے اجلاس کو ستمبر 2013 میں کراچی میں شروع کئے گئے آپریشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 848 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا جا چکا ہے جس میں  654 کا تعلق ایم کیو ایم کے عسکری ونگ اور 95 کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے، گرفتار ملزمان نے ٹارگٹ کلنگ کی 5 ہزار 863 وارداتوں کا اعتراف کیا۔ ڈی جی رینجرز نے اجلاس کے دوران شہری علاقوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لئے صوبے میں رائج کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ دیہی کوٹہ 60 فیصد جب کہ شہری کوٹہ 40 فیصد ہے، جرائم سے بیزاری کے لئے احساس محرومی کو ختم کرنا ہو گا، صرف آپریشن سے پرامن سندھ کا خواب پورا نہیں ہوگا بلکہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ پر عمل کرنا ہوگا۔
    اجلاس کے دوران مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سندھ حکومت کا تیار کردہ مسودہ پیش کیا جس کے تحت دینی مدارس کو 3 اداروں سے رجسٹریشن کرانی ہوگی۔ اس کے علاوہ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل دینی مدارس کی مشاورت سے ہی نافذ العمل کیا جائے گا جسے تمام شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اجلاس میں  متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے تمام فیصلوں پر مکمل عمل درآمد کروایا جائے گا۔



    0 0

    پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے بعد ایک ایسی تنظیم یا ادارے کی ضرورت کو
    محسوس کیا گیا جو امن قائم رکھنے میں معاون ثابت ہو اور دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھ سکے چنانچہ اسی مقصد کے لیے مجلس اقوام کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے قیام میں بڑی طاقتوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اس تنظیم نے مختلف ملکوں کے درمیان تنازعات کے حل میں مدد دی اور کئی مسائل کو کامیابی سے حل بھی کیا اس کے علاوہ انسانی فلاح و بہبود کے لیے کام کیے لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود یہ تنظیم اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ہو گئی اور 1939ء میں دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں دنیا نے پہلے سے بھی زیادہ تباہی و بربادی کا سامنا کیا اس طرح دنیا دوسری عالمی جنگ کے بعد شدید بحران کا شکار ہو گئی اور شدت سے ایک بار پھر بین الاقوامی تنظیم کے قیام کی ضرورت محسوس کی جانے لگی جو سابقہ تنظیم کے نقائص سے پاک ہو اور جس کا اولین مقصد قیام امن ہو ان مقاصد کی تکمیل کے لیے جو ادارہ 24 اکتوبر 1945ء کو قائم کیا گیا اسے اقوام متحدہ کہا جاتا ہے۔

    ماضی کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار پر روشنی ڈالی جائے تو بخوبی معلوم چلتا ہے اس نے کس طرح مختلف مسائل (خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے حوالے) سے ان کے حل کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماضی کے حوالے سے مشرق وسطیٰ میں سلامتی کونسل کا کردار موثر رہا اور اس نے مختلف اوقات میں سر اٹھانے والے مختلف مسائل کو کامیابی سے حل کرایا۔ لیکن اگر موجودہ دور میں اس کے کردار و افادیت پر نگاہ ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں اس کا کردار نہایت افسوسناک ہے خاص طور پر مسلم ممالک کے حوالے سے اس کا کردار متنازعہ بنتا جا رہا ہے اور مسلم ممالک کا اس پر سے اعتبار کم ہوتا جا رہا ہے۔
    مسلم دنیا کے لیے اس نے دہرا معیار اپنایا ہوا ہے اور مسلم دنیا کے ساتھ اس کا رویہ نہایت افسوسناک ہے۔ عراق، افغانستان، فلسطین میں کیا کچھ ہو رہا ہے، اس سے سلامتی کونسل چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہے اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا جا رہا ہے۔ فلسطین، افغانستان، عراق و کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور اس کے کردار میں کوئی حرارت نظر نہیں آتی۔ مسلم دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے مسلمان مارے جا رہے ہیں، بے گھر کیے جا رہے ہیں، ان کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ عالمی برادری کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل بھی ان حالات میں منہ میں انگلیاں دبائے بیٹھی ہے۔

    26 نومبر 2008ء کو بمبئی میں خودکش دھماکے ہوئے اور بھارت کی طرف سے اس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا تب یہ بڑی طاقتیں بیدار و سرگرم ہو گئیں۔ انھیں نظر آ گیا کہ پھر مسلمانوں نے دہشتگردی کر دی اس موقعے پر سوئی ہوئی سلامتی کونسل بھی حرکت میں آ گئی۔ اسرائیل فلسطین میں کیا کچھ کر رہا ہے یہ اسے کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ اسرائیل کے معاملے پر سلامتی کونسل و مغربی طاقتیں کیوں بے بس ہیں کیوں اس قدر بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسرائیل فلسطین میں جو کچھ کر رہا ہے یا بھارت کشمیر میں جو کچھ کر رہا ہے یا امریکا نے عراق و افغانستان میں جو کچھ کیا وہ دہشتگردی نہیں وہ کھلی بدمعاشی نہیں تو پھر اور کیا ہے۔ اقوام متحدہ یا اس کی سلامتی کونسل دنیا کو اس بات کا کیا جواب دے سکتی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان حالات میں سلامتی کونسل بے بس ہے کھلی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہی ہے اور کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ بڑی طاقتوں کا اس پر تسلط و اجارہ داری قائم ہے جس کی وجہ سے وہ وہی کچھ کرنے پر مجبور ہے جو یہ بڑی طاقتیں چاہتی ہیں۔

    عراق نے کویت پر حملہ کیا تو وہ عراق کی کویت پر دہشتگردی تھی، غیر قانونی عمل تھا چنانچہ سلامتی کونسل فوراً حرکت میں آ گئی اور چند ہی دنوں میں اس نے عراق کا کویت پر سے قبضہ ختم کرا دیا، لیکن جب امریکا نے عراق پر حملہ کیا (اور آج تک مداخلت موجودہ ہے) اس کی بقا وسالمیت کو نقصان پہنچایا تو کیا یہ قانونی تھا؟ اسرائیل آج فلسطین پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے اور جب چاہتا ہے وہ ایسا کر گزرتا ہے تو کیا یہ سب وہ قانون کے دائرے میں رہ کر اور بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق کر رہا ہے؟

    امریکا کی بدمعاشی اور دہشتگردی اسے کیوں نظر نہیں آ رہی؟ عراق کے بعد اس کی نظریں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر ہیں خاص طور پر ایران، شام و سعودی عرب وغیرہ پر ان حالات میں سلامتی کونسل کیا سوئی ہوئی ہے یا نزاع کی حالت میں ہے یا پھر اس نے جان بوجھ کر ان حالات سے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے اور محض رسمی سا بیان دے کر کیوں خاموش ہو جاتی ہے۔ مطلب صاف ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ سلامتی کونسل میں کون سے فرشتے بیٹھے ہیں جو انصاف، قانون اور بین الاقوامی ضابطوں کی پاسداری کریں گے۔ سلامتی کونسل میں بھی تو پانچ بڑی طاقتوں کے نمایندے ہی بیٹھے ہیں جن میں امریکا، برطانیہ، فرانس، چین و روس شامل ہیں اور انھیں ہی ویٹو پاور کا حق حاصل ہے اور اس کے 10 غیر مستقل ارکان کی شاید کوئی حیثیت نہیں اور پھر یہ ممالک کون سے مسلمانوں کے دوست و ہمدرد ہیں کہ مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کریں گے۔ پھر دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا شدید فقدان ہے یہ اندرونی طور پر مضبوط و مستحکم نہیں ہیں تب ہی تو غیر مسلم طاقتیں ان کی اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں تمام اسلامی ممالک کو مسئلے کے حل کے لیے عملی و ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہو۔

    اقوام متحدہ کی تشکیل و قیام کے درج ذیل مقاصد تھے۔
    (1)۔ بین الاقوامی امن و سلامتی کو قائم رکھنا
    (2)۔ ایسے اقدامات کرنا جس سے عالمی امن کو خطرات کم ہوں۔
    (3)۔ جارحانہ اقدامات کی روک تھام کرنا۔
    (4)۔ بین الاقوامی تنازعات کو انصاف وبین الاقوامی قوانین کے تحت حل کرنا۔
    (5)۔ دنیا سے جہالت، بے روزگاری وغربت کے خاتمے کے لیے مل جل کر کام کرنا۔
    (6)۔ ایک دوسرے کی حقوق وآزادی کا احترام کرنا۔
    (7)۔ معاشی، سماجی، ثقافتی یا انسان دوستی کی نوعیت کے بین الاقوامی مسائل طے کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون حاصل کرنا وغیرہ اس کے اہم اغراض و مقاصد تھے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اقوام متحدہ حقیقی معنوں میں اپنے تشکیل و قیام کے مقاصد پر پورا اترے اور دیگر اقوام اور ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم امہ اور دنیائے اسلام کے مسائل بھی بلاامتیاز اور تمام تر سیاسی مصلحتوں اور تعصبات سے بالاتر ہو کر حل کرے، بصورت دیگر اس کا قیام، اغراض ومقاصد، وجود، اختیارات وفرائض بدستورغیر موثر اور بے معنی ہی رہیں گے۔

    ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی


    0 0

    وٹس ایپ کو آپ دنیا کی مشہور ترین ایپلی کیشنز میں سے ایک کہہ سکتے ہیں۔

    وٹس ایپ کے شیدائی آپ کو قریباً دنیا بھر میں نظر آئیں گے، یہاں تک کہ پاکستان میں بھی وٹس ایپ کو انتہائی مقبولیت حاصل ہے۔ وٹس ایپ ہر قسم کے موبائل سافٹ وئیر کیلئے الگ الگ بنایا گیا ہے۔ اس وجہ سے آپ بآسانی کسی بھی موبائل میں اسے انسٹال کر سکتے ہیں۔ یہ ہر انٹرنیٹ یا سمارٹ فون استعمال کرنے والے کی دسترس میں ہے۔ لوگوں کی وٹس ایپ تک بآسانی رسائی ہی اس کی مقبولیت کی وجہ بنی،تاہم اس کے فوائد سے مستفید ہو کر نقصانات کو نظر انداز کر دینا کسی طور بھی سمجھداری نہیں، جہاں وٹس ایپ نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے، وہی اس کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ جیسا کہ ہر وقت وٹس ایپ پر چیٹنگ میں مصروف رہنا اور اپنے قریبی رشتے داروں، دوست احباب کو نظر انداز کر دینا معاشرے میں ایک بُرا تاثر چھوڑتا ہے۔

    پروفائل پکچر، دوستوں کا سٹیٹس اور فولکس وٹس ایپ کے شائقین کو ہر وقت مصروف رکھتے ہے، مثال کے طور پر یہ سوچنا کہ آپ کے دوست کا سٹیٹس کوئی میسج ہے یا پھر طنز، اپنے دوست سے چیٹنگ پر پوچھنا شروع کر دینا کہ اس کے عجیب یا پھر خوشی والے سٹیٹس کے پیچھے راز کیا ہے۔ یہاں تک کہ کئی لوگ جب کوئی چیٹنگ یا پھر ٹیکسٹ نہیں کر رہے ہوتے تو وٹس ایپ کی ہوم سکرین کو اِدھر اُدھر سکرول کرنا شروع کر دیں گے کہ کہیں کوئی اپ ڈیٹ ان دیکھی نہ رہ جائے۔ جب پہلی دفعہ وٹس ایپ لانچ ہوئی ،تو صارفین کو سالانہ فیس (0.99 ڈالر) ادا کرنا پڑتی تھی جبکہ 19 فروری 2014ء میں فیس بک کی ملکیت میں آنے کے بعد اسے مکمل طور پر فری کر دیا گیا اور کئی مزید فیچرز بھی اس میں شامل کیے گئے۔ فیس بک کے ڈیزائنرز نے وٹس ایپ میں ہر وہ چیز شامل کی، جس کی عام مواصلاتی زندگی میں لوگوں کو ضرورت ہے۔ یہ بھی ایک خاص وجہ ہے کہ دنیا بھر میں وٹس ایپ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔


    وٹس ایپ کوقریباً پوری دنیا میں بالکل فری کر دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ پاکستان میں بھی کئی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیز نے وٹس ایپ کی فری سروس جاری کی ہے۔ اس لیے کاروباری طبقے سمیت نوجوانوں کی بڑی تعداد پر وٹس ایپ کا بھوت سوار ہے۔ وٹس ایپ پر ایک اور دلچسپ چیز جو زیادہ تر دیکھنے میں آئی ہے، وہ یہ ہے کہ پُش نوٹی فکیشن دیکھتے ہی لوگ وٹس ایپ استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ پُش نوٹی فکیشن نہ ہو ،تو آپ اپنی مرضی کا تھوڑا سا وقت نکال کر وٹس ایپ استعمال کر سکتے ہیں، لیکن پُش نوٹی فکیشن ہر وقت آپ کو اپ ڈیٹ رکھتا ہے اور آپ بار بار ان اپ ڈیٹس کو دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے بچاؤ کیلئے آپ اپنے سمارٹ فون کی سیٹنگ میں جائیں پھر ایپلی کیشن منیجر میں جا کر وٹس ایپ سرچ کریں، مل جانے پر وٹس ایپ کے آئیکن پر کلک کریں۔ اس کے بعد آپ کے سامنے تین چار آپشنز آ جائیں گی، ان میں سے ایک ’’شو نوٹی فکیشن‘‘ بھی ہو گی۔ بس آپ نے یہ کرنا ہے کہ شو نوٹی فکیشن پر کلک کر کے اسے ان شو کر دینا ہے۔ اس طرح پُش نوٹی فکیشن بار بار آپ کے سمارٹ فون کی سکرین پر آویزاں نہیں ہو گا۔ 

    آئیے وٹس ایپ کے فوائد اور نقصانات پر ایک سرسری سی نظر دوڑاتے ہیں۔

     وٹس ایپ کے فوائد 
    1۔ آپ وٹس ایپ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے میں بآسانی مفت میسج بھیج سکتے ہیں۔ 
    2۔ وٹس ایپ کی طرف سے مہیا کیے گئے تمام ٹولز نہایت آسان ہیں۔ 
    3۔ یہ ایپ خودکار طور پر آپ کے تمام کانٹیکٹس سم سے انپورٹ (درآمد) کر لیتی ہے اور ساتھ ہی آپ کو یہ بھی بتاتی ہے کہ آپ کے کانٹیکٹس میں کون کون وٹس ایپ استعمال کر رہا ہے۔ 
    4۔ آپ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی تصویریں، لوکیشن، ویڈیوز، اور سٹیٹس شیئر کر سکتے ہیں۔ 
    5۔ آپ کو اپنے دوستوں کے ساتھ فون پر بات کرنے کے لیے کسی قسم کوئی ادائیگی نہیں کرنی پڑتی۔ 
    6۔ آپ وٹس ایپ کو کمپیوٹر پر بھی بالکل ایسے ہی استعمال کر سکتے ہیں ،جیسے کہ موبائل فون پر۔ 

    وٹس ایپ کے نقصانات جہاں ہر چیز کا کوئی پلس پوائنٹ ہوتا ہے، وہی اس کا نگیٹو پوائنٹ بھی ہوتا ہے، تو یہاں اس شاندار ایپلی کیشن کے کچھ نقصانات سے بھی آگاہ ہو جائیں: 
    1۔ آپ کی پروفائل پکچر ہر اس شخص کے لیے ویزیبل (نمودار) ہوتی ہے، جس کے پاس آپ کا فون نمبر ہو۔ 
    2۔ اگر آپ نے اپنے موبائل پر کسی کا وٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا میسج پڑھ لیا ہے، تو آپ اسے قطعاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’ میں نے آپ کا میسج نہیں پڑھا‘‘ کیونکہ میسج پڑھ لینے کے بعد بھیجے والے کے موبائل میں نیلے رنگ کا ٹک کا نشان نمودار ہوتا ہے ،جو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا بھیجا گیا میسج پڑھ لیا گیا ہے۔ 
    4۔ وٹس ایپ کیونکہ ایک اٹریکٹو (پُر کشش) اور آسان اپیلی کیشن ہے، اس وجہ سے زیادہ تر لوگ اسے دوسری ایپلی کیشنز پر ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہاں اس کا نگیٹو پوائنٹ یہ ہے کہ آپ اپنے قریب موجود دوست احباب کو نظر نداز کر وٹس ایپ پر موجود دوستوں سے چیٹنگ کرنا پسند کرتے ہیں، جو قطعاً درست نہیں۔ 
    5۔ زیادہ تر طالب علم وٹس ایپ پر لیٹ نائٹ چیٹنگ کرتے ہیں اور ویڈیوز شیئر کر کے اپنا اور اپنے دوستوں کا دل بہلاتے ہیں، لیکن اسی اثنا میں سونے کا وقت گزر جاتا ہے، جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نہایت بُرا ہے۔ 

    دانش احمد



    0 0

    الطاف حسین کا لندن میں بیٹھ کر پاکستان میں تشدد کی آگ بھڑکانے کا ناقابل

    رشک ریکارڈ ہے۔ تاریخ میں کسی بھی اور لیڈر کے بس میں یہ صلاحیت نہیں کہ لاشوں کی سیاست سے کھیلے، ان لاشوں میں اس کے اپنے پیروکار ہوں یا دیگر معصوم افراد اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ 22 اگست کو زینب مارکیٹ کے علاقے میں جمع ہونے والے ہجوم کی جو کچھ کیا وہ کسی فوری فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ باقاعدہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان اور پاک فوج کے خلاف نہایت زہریلا پراپیگنڈا کیا گیا۔ مسلح افراد دو قریبی بینکوں کے اندر چھپے ہوئے تھے جب کہ مبینہ طور پر بینک کے افسروں کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا۔ رینجرز کے سربراہ میجر جنرل بلال اکبر نے تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کے جن چھ کلیدی کارکنوں کو رینجرز نے گرفتار کیا انھوں نے بتایا ہے کہ انھیں کس نے ایسا کرنے کی ہدایات دیں اور ہتھیار وغیرہ کس نے فراہم کیے تھے۔ اصل میں کشمیر میں ہونیوالے ظلم و تشدد سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے را نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت منظم کارروائیاں کرنا چاہیں لیکن اس کی منصوبہ بندی ناکام ہو گئی۔
    جن ٹی وی اسٹیشنز پر حملہ کیا گیا وہ چینلز ایم کیو ایم مخالف نہیں بلکہ حکومت مخالف تھے۔ اس طرح بھارت کی پاکستان کا بین الاقوامی امیج خراب کرنے کی سازش میں پاکستان حکومت بھی غیر ارادی طور پر را کی آلہ کار بن گئی۔ ملٹری نے فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ ابھی صوبائی اور وفاقی حکومت شش و پنج میں مبتلا تھے کہ بظاہر وزیراعلیٰ سندھ کے ’’حکم‘‘ پر ایم کیو ایم کے بے شمار یونٹ آفس مسمار کر دیے گئے۔ شاہین صہبائی کے مطابق ’’ایم کیو ایم کے دفاتر جس سرعت کے ساتھ رینجرز نے مسمار کیے ہیں جس میں الطاف حسین کے نائن زیرو عزیز آباد میں واقع گھر کی تالہ بندی بھی شامل ہے، اس سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ آرمی والے سیاستدانوں کا ’’ریڈ لائن‘‘ عبور کرنا کسی طور برداشت نہیں کریں گے۔‘‘

    اس بات سے مکمل اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ ملٹری قیادت 22 اگست کے واقعہ کے بعد ایکشن لینے میں مکمل سنجیدہ تھی۔ الطاف حسین کی سیاسی طاقت آج سے کچھ عرصہ قبل بھی اتنی زیادہ تھی کہ صرف ایک کال پر کراچی جیسا بڑا شہر مکمل بند ہو جاتا تھا۔ 95-96ء میں بینظیر کے دور میں جنرل نصیر بابر کی قیادت میں کیے جانے والے آپریشن نے ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کا کافی حد تک صفایا کر دیا تھا۔ لیکن مشرف کی 2002ء کے بعد سیاسی مفاہمت کے باعث نہ صرف ایم کیو ایم کی عسکری طاقت بحال ہو گئی بلکہ NRO کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی ساری کرپشن بھی معاف کر دی گئی۔ کرپشن کی اس طریقے سے ’’ادارہ جاتی‘ قانون سازی‘‘ کرنے سے پاکستان کو جو نقصان پہنچایا گیا اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

    ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کے ساتھ ساتھ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے عسکری بازوؤں نے بھی تقویت پائی اور کراچی جرائم اور کرپشن کی آماجگاہ بن گیا جس کو مکمل سیاسی اور حکومتی سرپرستی حاصل تھی۔ لوگوں نے بندوق کے سائے میں زندگی گزارنا ناگزیر سمجھ لیا۔ 2012ء میں اس وقت کے ڈی جی رینجر میجر جنرل اعجاز چوہدری نے اس مشکل صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ایم کیو ایم کے عسکری بازو کو ہدف بنایا۔ اس کے بعد میجر جنرل رضوان اختر اور اب میجر جنرل بلال اکبر نے اس آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھا اور اس کے ثمرات آج سب کے سامنے ہیں۔ شاہین صہبائی کے مطابق ’’فاروق ستار کے پاس بچ نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی۔ یا تو وہ اپنے قائد سے لاتعلقی اختیار کرتے یا پھر حکومت کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک کالعدم پارٹی قرار دیا جاتا کیونکہ راولپنڈی سے کافی سخت احکامات جاری کیے گئے تھے۔‘‘ اگر فاروق ستار مستعفی ہو جاتے یا اپنی پارٹی پر پابندی لگوا لیتے تو قومی اسمبلی کی 25 اور سندھ اسمبلی کی 60 نشستیں خالی ہو جاتیں جن پر نئے سرے سے الیکشن کروانا پڑتا‘‘

    فاروق ستار کے پارٹی کی قیادت کرنے کے فیصلے سے یہ امکان ختم ہو گیا کہ ان کی پارٹی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ لیکن جن پارٹی کارکنوں نے اس نعرے تلے پروان پائی ہے کہ ’’جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے‘‘ ان پر اب بھی الطاف حسین کے سحر کا اثر باقی ہے۔ ایم کیو ایم کو جمہوریت کا حصہ ضرور ہونا چاہیے لیکن الطاف حسین کے بغیر جو کھلے عام پاکستان مخالف نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ وہ اگر بھارت کو اتنے ہی محبوب ہیں تو بھارت ان کو اپنا سکتا ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہ ہو گا۔

    GHQ کے نامزد کردہ وفاقی سیکریٹری برائے دفاع کا تقرر کرنے سے حکومت اور آرمی کے مابین جاری چپقلش کا یقینا خاتمہ ہو گیا ہو گا۔ لیکن ن لیگ کے عمومی رویے سے لگتا ہے کہ انھوں نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا اور اب بھی فوج مخالف رویہ ان کے اقدامات سے نمایاں ہے۔ شہباز شریف نے حال ہی میں ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کو کچلنے پر ترک حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ کچھ مناظر میں دیکھا گیا کہ ترک پولیس والے بغاوت کرنے والے سینئر فوجی افسران کو ہتھکڑی لگائے عدالت لے جا رہے تھے۔ کیا اس سے یہ سبق تو نہیں لینا چاہیے کہ رانا ثناء اللہ جیسے لوگ فوج کو کوئی ڈھکا چھپا پیغام دے رہے ہوں۔

    پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی پٹیشن کو اعتراض کے ساتھ مسترد کر دیا گیا جس پر بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ عدلیہ کی افادیت اور غیر جانبداری پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ بلاول کے والد محترم وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اس لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر نہیں کیے کیونکہ خوش قسمتی سے ملک کا صدر ایسا کرنے سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ زرداری نے بھی کرپشن کرنے کی ’’ادارہ سازی‘‘ کی۔ اس لیے بلاول کو عدلیہ کے بارے میں بیان دینے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے۔ خیر، یہ ضرور خوش آیند ہے کہ پاک فوج نے ایم کیو ایم پر ایکشن لے کر ایک واضح پیغام دیا ہے جو یقینا سیاستدانوں کو اپنے رویے بدلنے پر مجبور کرے گا۔

    اکرام سہگل



    0 0

    چند روز قبل امریکہ اور بھارت کے ما بین ہونے والے ملٹری لاجسٹک معا ہدے کو
    کئی اعتبا ر سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل معا ہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خود امریکی اور بھارتی میڈیا کے مطابق۔ Logistics Exchange Memorandum of Agreement (LEMOA) ۔ کے نام سے کئے جانے والے اس معا ہدے کے اثرات چین، روس، پاکستان سمیت مشرق بعید تک ہوں گے۔ اس معاہدے کے مطابق اب بھارت اور امریکہ ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو بھر پور طریقے سے استعما ل کر پا ئیں گے۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے اس دورے کے دوران امریکہ کی جانب سے بھارت کو جیٹ انجن ٹیکنالوجی اور ڈرون طیارے فراہم کرنے کے حوالے سے بھی با ت چیت کی گئی۔ LEMOA معاہدے کو 29 اگست کو عملی شکل دی گئی، مگر اس معا ہدے کے متن کو بھارتی وزیر اعظم مودی کے جون کے دورۂ امریکہ کے دوران ہی طے کر لیا گیا تھا ۔

    اس معا ہدے پر امریکہ کے اہم جریدے’’ Forbes magazine‘‘ میں بہت اہم آرٹیکل۔ "China and Pakistan beware - this week, India and US sign major war pact,"۔ کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس آرٹیکل کے مطابق اس معا ہدے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو روکا جا سکے۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی خارجہ پا لیسی اور عسکری امور کے کئی ما ہرین نے حکومت کو اس نوعیت کے معا ہدے سے روکنے کے لئے اس دلیل کا سہا را لیا کہ اس نوعیت کے معاہدے سے بھارت کا پرانا حلیف روس بھی بھارت سے خوش نہیں ہوگا،مگر مودی حکومت کسی بھی صورت میں امریکی قربت سے دوری اختیار نہیں کر سکتی ۔ اب امریکہ، روس کے مقابلے میں بھارت کو زیا دہ اسلحہ دے رہاہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے بھارت نہ صرف امریکہ، بلکہ اس کے اتحادی ممالک جیسے جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ بھی لاجسٹک معا ہدے کر رہاہے۔
    گزشتہ سال ستمبر میں امریکہ ، جاپان اور بھارت کے ما بین سہ فریقی ڈائیلاگ کا آغاز ہوا اور اس سال موسم گرما میں ان تینوں ممالک نے بحیرۂجنوبی چین کے متنا زعہ پا نیوں میں بحری مشقیں بھی کیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس وقت امریکہ جس ملک کے ساتھ سب سے زیا دہ فوجی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے، وہ بھا رت ہی ہے ۔ اسی آرٹیکل میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس نوعیت کے معا ہدے ، بھارت کو جیٹ انجن اور ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگا۔ پا کستان کا دفتر خارجہ بھی اس معا ہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا اس معا ہدے کو بھارتی عوام اور دنیا کے سامنے اس تا ثر کے ساتھ پیش کر رہے ہیں کہ اگر ایک طرف بھارت نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعما ل کرنے کی اجازت دی ہے تو دوسری طرف امریکہ نے بھارت کو بھی اپنے اڈے استعما ل کرنے کی اجازت دی ہے، مگر یہاں پر اس حقیقت کو مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا رہا ہے کہ امریکہ جیسی ایک عالمی سپر پا ور کے مقابلے میں بھارت کو اپنے مقاصد کے لئے دنیا بھر میں پھیلے کتنے امریکی اڈوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کی طرح اس(LEMOA) معا ہدے میں جس فریق کا پلڑا بھا ری رہے گا وہ امریکہ ہی ہو گا ۔

    اس معا ہدے کے ساتھ ہی امریکی بحر الکاہل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل ہیری بی ہیرس کی جانب سے یہ بیا ن بھی سامنے آ گیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ امریکہ مستقبل قریب میں بحرالکاہل،بحرہند اور بحیرۂ جنوبی چین میں بھارت کے ساتھ مشترکہ بحری گشت کرے۔ اس بات کو اگر سادہ انداز میں کیا جا ئے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ جیسا ایک بڑا چودھری اپنے تابع دار تھانہ دار یعنی بھارت کے ساتھ مل کر ان علاقوں میں اپنے اثر ورسوخ کی نگرانی کرے گا۔ مودی حکومت جنوری2015ء سے ہی بحرجنوبی ہند جیسے انتہا ئی اہم ایشو پر بھی مکمل طور پر امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا رہی ہے۔امریکہ کے ساتھ LEMOA معا ہد ہ کرکے بھارت نے امریکی سامراجی کیمپ کی جانب ایک اور بڑا اہم قدم بڑھا دیا ہے،بلکہ اب بھارت، چین کے خلاف ایک طرح سے امریکہ کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔

    بھارت کی آزادی کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ کسی اہم عسکری قوت کی افواج بھارتی اڈوں کو استعما ل کر سکیں گی۔ امریکہ نے اس صدی کے آغاز کے ساتھ ہی بھارت کو اپنے حربی مقاصد کے لئے استعما ل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔ بش انتظامیہ نے2005 میں بھارت کے ساتھ عالمی اسٹرٹیجک پاٹنر شپ قائم کرنے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی بھا رت کوLEMOA کی طرح کے معا ہدوں کی پیش کش کی تھی، کیونکہ سر د جنگ کے خاتمے کے بعد امریکی سامراج کو نئے تقاضوں کے مطابق بھا رت کی اہمیت اس لئے زیا دہ محسوس ہو ئی، کیو نکہ بھارت ، جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ساتھ ساتھ بحر ہند جیسے انتہا ئی اہم سمندری راستے تک بھی رسائی رکھتا ہے۔ اس وقت کی کانگرسی حکومت نے امریکہ کے ساتھ عسکری اور حربی شعبوں میں تعاون کو بہت زیا دہ فروغ دیا، مگر کا نگرس نے LEMOA معا ہدہ اس خطرے کے پیش نظر نہیں کیا کہ اس سے بھا رت کی اسٹرٹیجک خود مختاری متا ثر ہو گی ۔

    اب بھارت عملی طور پر امریکہ کا دست نگربن جائے گا اور روس جیسے اہم حلیف سے بھی تعلقات متا ثر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کانگرس اور با ئیں بازو کی جماعتیں LEMOA معا ہدے پر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔     کانگرس کے موقف کے مطابق مودی سرکا رنے یہ معا ہدہ کرکے عملی طور پر بھا رت کی غیر جانبداری پر مبنی پا لیسی کو سرے سے ختم کرکے بھارت کو امریکی کیمپ میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی حکمران طبقات نے آزادی کے بعد کئی عشروں تک اس با ت پر فخر کیا کہ بھارت نے عالمی طور پر کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کی بجائے غیر جانبداری پر مبنی پالیسی اپنا ئی۔ پہلے بھا رتی وزیر اعظم جواہر لعل نہروکو غیر وابستہ تحریک (NAM) کا بانی تسلیم کیا جا تا ہے۔17 سال بھارت کا وزیر اعظم رہتے ہوئے نہرو بڑی حد تک اس پالیسی پر گامزن بھی رہے۔

    نہرو کے بعد آنے والے حکمرانوں نے بھی ایک حد تک اسی پالیسی پر عمل کیا، مگر اب گز شتہ دو عشروں سے بھا رت ، امریکہ نواز پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ سرد جنگ اور اس کے بعد جتنے ممالک نے بھی امریکہ نواز پالیسیوں کو اختیار کیا انہیں کہیں نہ کہیں ان پالیسیو ں کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ خود آج پاکستان دہشت گردی سمیت بہت سے ایسے مسائل سے اس لئے دوچار ہے کہ پاکستانی حکمران طبقات نے شروع سے ہی آنکھیں بند کر کے امریکہ نواز 
    پالیسیوں کو اختیار کیا۔ بھارت کو یہ زعم ہے کہ وہ بڑا ملک ہے اس لئے امریکہ کے ساتھ دفاعی اور عسکری معا ہدوں کے باوجود اسے نقصان نہیں ہوگا، مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چا ہیے کہ صرف امریکہ کی خوشنودی کی خاطر چین اور روس جیسی اہم طاقتوں کو ناراض کرنا کسی بھی صورت سود مند نہیں ہوگا۔

    عمر جاوید


    0 0

    ایوب، ضیا اور مشرف پاکستان کے ایسے حکمران ہیں جنھوں نے ملک پر تیس

    برسوں تک حکومت کی۔ کارنیلس، حلیم اور چوہدری ایسے ججز ہیں جنھوں نے آٹھ آٹھ برسوں تک ان آمروں کے دور میں ملک کی عدلیہ کی سربراہی کی۔ ایک پختون جنرل ایوب خان نے آگرہ میں پیدا ہونے والے مسیحی اے آر کارنیلس کو چیف جسٹس کیوں بنایا؟ ضیا نے ’’اپنی بات نہ ماننے والے‘‘ جسٹس حلیم کو کیوں کر پاکستانی عدلیہ کی سربراہی سونپی؟ کیا حالات تھے کہ مشرف نے جسٹس افتخار چاہدری کو چیف جسٹس بنا کر اپنے اقتدار کے خاتمے کی بنیاد رکھی؟ تین ججز اور تین آمروں کی کشمکش ہمیں تیس عشروں کے واقعات سے آگاہ کرسکتی ہے۔ اگلے تین سو سیکنڈز میں یہ کوئی مہنگا سودا نہیں کہ اس میں ہمیں پاکستان کی تابندگی کو پرکھنے کا موقع ملے گا۔

    مسیحی گھرانے میں پیدا ہونے والے Alvin Robert Cornelius نے آزادی کے موقع پر پاکستان کا انتخاب کیا۔ ملکی تاریخ کے اہم موقع پر اصول پسندی دکھانے کے باوجود ایوب نے انھیں 1960 میں چیف جسٹس نامزد کیا۔ اہم موقع کون سا تھا اور اصول پسندی کیا تھی؟ گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو برطرف کردیا تو وہ خاموش رہے۔ ڈیڑھ سال بعد جب اس سربراہ مملکت نے اسمبلی توڑ دی تو اسپیکر مولوی تمیز الدین نے سندھ کی اعلیٰ عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جمہوریت کے حق میں فیصلہ حاصل کرلیا۔
    حکومت نے اپیل کی۔ اس وقت پاکستان کی عدلیہ کے سربراہ جسٹس منیر تھے۔ انھوں نے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسٹس اے آر کارنیلس نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ ایک مسیحی جج کی اصول پسندی یا ڈٹ جانے کے باوجود جب موقع آیا تو ایک فوجی حکمران نے میرٹ اور سینیارٹی کی بنیاد پر انھیں پاکستان کی عدلیہ کا سربراہ نامزد کیا۔ جسٹس کارنیلس اسی عہدے پر آٹھ سال تک برقرار رہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آگرے میں پیدا ہونے والے مسیحی کا عدلیہ کا سربراہ ہونا ہماری اعلیٰ ظرفی کا مظہر ہے۔ اگر جسٹس چوہدری کا دور اتنا طول نہ پکڑتا تو جسٹس رانا بھگوان داس بھی عدالت عظمیٰ کے سربراہ ہوسکتے تھے۔
    لکھنو میں پیدا ہونے والے جسٹس محمد حلیم ایک اہم موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج تھے۔ جنرل ضیا کا مارشل لا اور بھٹو کا مقدمہ قتل۔ لاہور ہائی کورٹ کے پانچ ججوں نے متفقہ طور پر سابق وزیراعظم کو محمد احمد خان قصوری کے قتل پر پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ جب اپیل سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھی تب نو میں سے دو ججز ریٹائرڈ ہوگئے، ایک بیماری کے سبب اور دوسرے 65 سال کی عمر ہوجانے پر۔ سات میں سے چار ججز نے بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ برقرار رکھا اور تین نے انھیں بری کردینے کا فیصلہ دیا۔

    اکثریتی فیصلے پر عمل ہوا اور رحم کی اپیل مسترد ہونے پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جنرل ضیا اور ججز تاریخ کے کٹہرے میں ہیں کہ فیصلہ چار تین سے ہوا۔ اگر ایک جج صاحب بھی اپنا فیصلہ بھٹو کے حق میں دیتے تو ان کی جان بچ سکتی تھی۔ جنرل ضیا کے مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے ججز پر دباؤ ڈالا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس میں کتنی حقیقت ہے؟ جسٹس حلیم کا فیصلہ اور پھر ان کی بعد کی زندگی ہمیں ضیا بھٹو کشمکش کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ چار ججز نے بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ سنایا، وہ ایس انوار الحق، محمد اکرم، نسیم حسن شاہ اور کرم الٰہی چوہان تھے۔

    حیرت ہے کہ جسٹس حلیم کا نام ان میں شامل نہیں۔ جسٹس دراب پٹیل اور صفدر شاہ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے انھوں نے بھٹو کو بے گناہ قرار دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے اس بات کو مان لیتے ہیں کہ جنرل ضیا نے سپریم کورٹ کے ججز پر بھٹو کو پھانسی دینے کے لیے دباؤ ڈالا۔ یوں جسٹس حلیم نے اپنے دو برادر ججوں کے ہمراہ ان کی بات نہیں مانی۔ پھر 81 میں جنرل ضیا نے جسٹس حلیم کو چیف جسٹس کیوں بنایا؟ وہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک عدالت عظمیٰ کے سربراہ رہے۔ پونے نو سال۔ مارشل لا کے دوران جب جنرل ضیا غیر ملکی دورے پر جاتے تو جسٹس حلیم قائم مقام صدر ہوتے۔ اتنا زیادہ اعتماد اس شخص پر جس نے بھٹو کو معافی دینے کا فیصلہ دیا۔ ایک حکمران کا اپنی مخالفت میں اتنا اہم فیصلہ دینے والے جج کو اعلیٰ منصب دینا کیا ظاہر کرتا ہے؟ بھٹو کے مقدمہ قتل میں عدلیہ پر کتنا دباؤ تھا؟ جسٹس حلیم کی زندگی ان سوالوں کا جواب ہے۔

    کوئٹہ میں پیدا ہونے والے جسٹس افتخار چوہدری بہت جلد سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔ جسٹس غیور مرزا کی اچانک وفات اور جسٹس مری کے قتل نے عدالت عظمیٰ میں بلوچستان کی نمایندگی ختم کردی۔ یوں کم عمر جسٹس چوہدری کو عدلیہ کا سربراہ بننے کا موقع ملا۔ دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کے سامنے نہ افتخار چوہدری کی کوئی اصول پسندی تھی اور نہ کوئی حیران کن فیصلہ۔ 2005 میں عہدہ سنبھالنے والے اسٹیل مل پر ’’ناپسندیدہ‘‘ فیصلے کے بعد استعفیٰ طلب کیا گیا، انکار پر قید کرلیا۔ یوں وکلا تحریک شروع ہوگئی۔ کالے کوٹ والے آمر سے ٹکرا گئے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی اور پھر گرفتاری نے ایک بار پھر تحریک کو جنم دیا۔ دو سال بعد حکومت تمام ججوں کو ان کی نشستوں پر براجمان کرنے پر مجبور ہوئی۔ جسٹس چوہدری اپنی میعاد مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے۔ ان کا کردار اور اعمال تاریخ کے رو برو ہیں۔ انتہائی پسندیدگی کے بعد ناپسندیدگی ہم سب کے سامنے ہے۔ لیکن یہ طے ہے کہ مشرف کا سوا نیزے پر چمکتا دمکتا اقتدار ماند پڑا تو وہ جسٹس چوہدری کی بدولت۔ بے نظیر اور نواز شریف پاکستان واپس آسکے تو وکلا تحریک کے بعد۔

    بانیان پاکستان کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرنے والے ایم کیو ایم کے مہاجروں اور ان کے ’’سابقہ قائد‘‘ کے لیے ان واقعات میں بڑے سبق پوشیدہ ہیں۔ آگرہ میں جنم لینے والے اے آر کارنیلس کو ہزارہ میں پیدا ہونے والے ایوب خان نے چیف جسٹس بنایا۔ لکھنو میں پیدا ہونے والے جسٹس حلیم کو مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں جنم لینے والے جنرل ضیا نے چیف جسٹس بنایا۔ دہلی میں پیدا ہونے والے مشرف کو لاہور کے رہنے والے وزیراعظم نے چیف آف آرمی اسٹاف بنایا۔ لندن کی ایم کیو ایم کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان میں تمام فیصلے ڈومیسائل دیکھ کر نہیں کیے جاتے۔ اکثر و بیشتر میرٹ ہوتی ہے اور جائے پیدائش پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔

    ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کا اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا کام کرتا ہے کہ وہ فرزند زمیں ہیں کہ وہ افغان مہاجروں کو دیکھیں۔ بھارت کے مسلمانوں کی حالت زار اور پارلیمنٹ میں کم تر نمایندگی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں سے زیادہ گائے کی عزت اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تمام پاکستانیوں کو ایک زوردار نعرہ لگانے پر مجبور کرتی ہے۔ ہر طرف گونجتا نعرہ یقیناً ایک ہی ہے کہ پاکستان زندہ باد۔

    محمد ابراہیم عزمی ایڈووکیٹ



    0 0

    ہمارے اردگرد بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو پریشان کن ہے، لیکن بہت کچھ ایسا
    بھی ہورہا ہے کہ جس سے امیدکی کرنیں پھوٹ رہی ہیں، بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں اور امید کا چراغ ہے کہ روشن سے روشن تر ہو رہا ہے لیکن کئی دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور میڈیا تاجروں کی نظر کسی بھی مثبت اشارے کو سمجھنے تو کیا دیکھنے تک سے قاصر ہے۔ انہوں نے مچھلی بازار گرم کر رکھا ہے یا یہ کہیے کہ شور محشر برپا کرڈالا ہے۔ وہ کسی ایک خرابی کو دور کرنے کے لئے اس سے بڑی خرابی پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ کسی ایک زخم کو بھلانے کے لئے اس سے بڑا زخم لگانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک دردِ سر کا علاج یہ ہے کہ درد جگر پیدا کر دیا جائے کہ جگر میں تکلیف ہو گی تو سر کس کو یاد رہے گا؟۔۔۔ حکمت اور دانائی کا نام بزدلی اور حماقت رکھا جا رہا ہے اور آتشیں الفاظ کے استعمال کو بہادری اور جرات سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

    خیبرپختونخوا میں ایک ہی دن (مردان اور وارسک میں) دہشت گردوں نے حملے کئے۔ سیکیورٹی اداروں نے کمال مستعدی اور بہادری کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور ایک جگہ چاروں حملہ آور مار ڈالے گئے۔ دوسری جگہ اپنی جان پر کھیل کر پولیس کے نوجوان۔۔۔جُنید۔۔۔ نے دہشت گرد کا راستہ روک دیا۔ اس کے سامنے اپنے عزم کی دیوار کھڑی کر دی۔ اس نے اپنے آپ کو دروازے ہی پرپھاڑ ڈالا، کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لیکن بہت بڑی تباہی ٹل گئی۔ عمران خان صاحب کے بقول کوئٹہ جیسا بڑا سانحہ برپا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ اس پر پولیس اور دوسرے حفاظتی اداروں کے جوانوں کی پیٹھ تھپکنے کی بجائے اگر سینہ کوبی شروع کر دی جائے تو کوئی فاتر العقل ہی اس کی داد دے سکتا ہے۔ جان سے ہاتھ دھونے والوں کے لواحقین کو پُرسا دینا ضروری ہے۔ زخمیوں کے لئے مرہم بھی لازم ہے، لیکن اگر معمول کی ریاستی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کی جائے تو اس کی مذمت ضروری نہیں ہے۔ اسے حوصلے اور عزم کی علامت سمجھا اور سمجھایا جا سکتا ہے کہ زندہ قوموں کا یہی شعار ہوتا ہے وہ اپنے غم کو بھی طاقت بنا لیتی ہیں اور اس کے سامنے سرنگوں ہونے کے بجائے سربلند کرکے اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔
    کراچی میں الطاف حسین نے جو ستم ڈھایا اور بدزبانی کے ذریعے اہل وطن کا دل دکھایا اور اپنی برسوں کی کمائی بھی لٹا ڈالی، اس پر پوری قوم جس طرح یک آواز ہوئی، اس نے ہر شخص میں نئی توانائی پھونک دی۔ الطاف حسین کی اپنی جماعت نے ان سے جس طرح اظہار برات کیا، بیرون ملک بیٹھے ہوئے اپنے رہنماؤں کو اپنے معاملات سے جس طرح بے دخل کیا اور پاکستان کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا جس طرح اظہار کیا، قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قراردادِ مذمت کے حق میں ووٹ دے کر اپنے آپ کو جس طرح قومی جذبات سے ہم آہنگ رکھا، اس میں پہلو در پہلو اطمینان ڈھونڈاجا سکتا ہے۔ اس کے باوجود دوڑیو، پکڑیو، ماریو، جانے نہ دیجیو کا ہنگامہ برپا ہے۔ کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ فاروق ستار اور ان کے رفقا پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ موقع ملتے ہی الفاظ بدل لیں گے۔ اپنی آج کی پشیمانی پر پشیمان ہونا شروع کر دیں گے۔ یہی نہیں، الیکٹرانک میڈیا پر ایسے ایسے بزرجمہر موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ مودی، الطاف اور نواز شریف ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ موجودہ حکومت معاملات کو درست نہیں کر سکتی، فوج کو اقتدار سنبھال کر ہر چیز اپنے ہاتھ میں لے لینی چاہیے۔ ان احمقوں کا خیال ہے کہ اس طرح حالات چٹکی بجاتے درست ہو جائیں گے، جبکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بیج پرویز مشرف کے اپنے ہاتھوں سے بوئے گئے تھے۔ ریاست کا اجتماعی نظم درہم برہم کرنا، دشمنوں کو خوش تو آ سکتا ہے دوستوں کو نہیں۔ بھارت میں تو اس پر گھی کے چراغ جلائے جا سکتے ہیں، لاہور اور کراچی میں نہیں۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے کا اس سے بہتر ذریعہ کوئی اور نہیں ہو سکتا کہ سیاسی اور دفاعی اداروں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا جائے۔ سرحدوں کا دفاع، سرحدوں کے اندر دھینگا مشتی سے کرنے کا نسخہ تاریخ عالم میں جب بھی آزمایا گیا ہے۔ سرحدیں سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ یہ خودکشی کا تیربہدف نسخہ ہے، جس کے غیر موثر ہونے کی ایک تو کیا زیروپوائنٹ ایک فیصد بھی امید نہیں کی جا سکتی۔

    جنرل راحیل شریف نے جہاں اپنے ایک حالیہ بیان میں دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کا غیر متزلزل عزم ظاہر کیا ہے، وہاں یہ یقین بھی دلایا ہے کہ حالات بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ گویا ہم جس شاہراہ پر سفر کر رہے ہیں وہ منزل ۔۔۔مضبوط اور خوش حال پاکستان۔۔۔ تک لے کر جائے گی۔ راستے کی مشکلات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ راستہ ہی بدل لیا جائے یا منزل کی طرف پیٹھ کر لی جائے۔ یاد رکھا جائے کہ دستور پاکستان کے دائرے میں رہ کر اپنا اپنا کردار ادا کرنے ہی سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہو سکتا ہے۔ ہر ادارہ ثابت قدمی اور دلجمعی سے منصوبہ سازی کرے گا تو ملک ترقی سے بھی ہم کنار ہوگا۔ ڈگڈگی بجانے سے صنعتیں لگ سکتی ہیں، سرمایہ کاروں کو ترغیب دی جا سکتی ہے نہ بیروزگاری کے خاتمے کا خواب دیکھا جا سکتا ہے۔ ریاستی امور غصے اور انتقام کے جذبے میں ڈوب کر نہیں چلائے جا سکتے۔ یہاں کہیں کشتی کو ٹھہرانا پڑتا ہے اور کہیں موجوں کو جنبش دینا پڑتی ہے۔ غداری اور نمک حرامی کے سرٹیفکیٹ بانٹ کر بھی طاقت کا سامان نہیں کیا جا سکتا۔ جو شخص پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہا ہے، اس کی قدر کیجئے، اسے ساتھ ملایئے، اسے دیوار سے نہ لگایئے۔ اسے اپنی طاقت بنایئے۔ دلوں کو توڑنے سے نہیں دلوں کو جیتنے سے معاشرے مستحکم ہوتے ہیں۔ اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو کمزور نہ کیجئے،نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو کر ہر شخص کو دشمن نہ قرار دیجئے، غداروں کی سرکوبی کے نام پر ان میں اضافہ نہ کیجئے۔ نوابزادہ نصراللہ کیا خوب یاد آئے کہ وہ یہ شعر اکثر پڑھا کرتے تھے ؂

    آنے والے کسی طوفان کا رونا رو کر
    ناخدا نے مجھے ساحل پہ ڈبونا چاہا

    زاہد ملک مرحوم
    انگریزی روزنامے ’’پاکستان آبزرور‘‘ کے چیف ایڈیٹر زاہد ملک طویل علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ پاکستان بھر میں ان کی وفات پر اظہار غم کیا گیا اور ہر مکتب فکر نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا تفصیلی تذکرہ پھر ہوگا، آج یہی حرفِ تحسین کہ وہ پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے ایک مضبوط محافظ تھے۔ ان کے قلم نے اپنے وطن کو مستحکم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ بہت سال پہلے انہوں نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر کوچہ ء صحافت میں قدم رکھا تھا۔ پہلے ہفت روزہ ’’حرمت‘‘ ، پھر روزنامہ ’’الاخبار‘‘ اس کے بعد ’’پاکستان آبزرور‘‘ کے ذریعے پاکستانی صحافت کے اعتبار میں اضافہ کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے ۔ان کی رفیق حیات، ان کے بچوں فیصل، گوہر، عمر اور سعدیہ کو ان کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

    مجیب الرحمٰن شامی


    0 0

    بلوچستان جہاں اپنے جغرافیائی، سیاسی، معدنی، تاریخی اور تہذیبی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہاں دلفریب، خوبصورت، سحر انگیز اور پرُکشش مقامات کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس وجہ سے سال بھر سیاحوں کے علاوہ مقامی لوگ بھی ان تفریح گاہوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بلوچستان میں کئی تفریح گاہیں ہیںجن میں زیارت، ہزار گنجی چلتن نیشنل پارک، ہر بوئی کے جنگلات، ہنگول نیشنل پارک، زنگی ناور جھیل، حب ڈیم وغیرہ قابل ذکر ہیں، لیکن اس وقت صرف ایک تفریح گاہ درون نیشنل پارک کا تذکرہ مقصود ہے۔ درون نیشنل پارک، لسبیلہ شہر کے مغرب میں 115 کلومیٹر کے فاصلے پر سب تحصیل جھاہو ضلع آواران قلات ڈویژن میں واقع ہے۔


    یہ نیشنل پارک، پاکستان کا دوسرا بڑا نیشنل پارک ہے۔ اس کے شمال میں کوہاڑندی، جنوب میں دریائے ہنگول مشرق میں دریائے آراء اور مغرب میں دریائے نال واقع ہیں۔ اس نیشنل پارک کی سب سے اونچی چوٹی کا نام ’’سرکوہ‘‘ ہے، جو 5185 فٹ بلند ہے،اس چوٹی پر ہندوستان سے فرار ہونے والے بادشاہوں اور شہزادوں نے ایک واچ پاور بنوایا تھا تاکہ ان کے تعاقب میں آنے والوں کی نگرانی کی جاسکے اس ٹاور کے مقام سے لسبیلہ ’’اوتھل‘‘ اور کراچی کے اکثر علاقہ کو دیکھا جاسکتا ہے ۔ یہ ٹاور اب بھی خستہ حالت میں موجود ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل نے اپنے دور اقتدار میں اس علاقے کے 300667 ہیکٹر رقبے کو گیم سنی کچری ایسا علاقہ جہاں جنگلی حیات کا شکار نہ کیا جاسکے بنوایا تھا اور باقی علاقے کو شکار گاہ کی حیثیت سے باقی رکھا تھا تاکہ شکاری قانونی طور پر شکار لائسنس پر شکار کھیل سکیں۔ 

    1988ء میں درون کے تمام علاقے کو جس کا رقبہ 167,700 ہیکٹر ہے، حکومت بلوچستان نے نیشنل پارک قرار دے دیا نیشنل پارک اس علاقے کو کہا جاتا ہے، جہاں قدرتی مناظر، نباتات اور حیوانات وغیرہ کو ان کی قدرتی حالت میں محفوظ رکھنا مقصود ہو۔ درون نیشنل پارک میں سراح بکرا، اڑیال، چنکارہ ہرن، خرگوش، جنگلی مور، بجو، چیتے، بھڑیئے، جنگلی بلی، چیتا بلی، لومڑی، گیڈر چرخ اور پرندوں میں تیتر، سیسی، کوہی، کبوتر، نرگٹ وغیرہ ملتے ہیں اژدھے، زیریلے سانپ، گوہ اور مور خور بھی ہیں کئی مقامات پر دریاؤں اور چشموں میں مہاشیر مچھلی بھی پائی جاتی ہے۔ وحشی جانوروں میں چیتے کی مرغوب غذا پہاڑی بکرے اور اڑیال کا گوشت ہے مگر یہ درندے بعض اوقات مقامی لوگوں کے پالتو جانوروں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں۔ روایتی اور تاریخی مقامات درون نیشنل پارک انتہائی دلچسپ اور پرُاسرار مقامات اور روایات کے لیے مشہور ہے۔ 

    بیلہ سے درون جاتے ہوئے لکھ جاہو کے مقام پر راستے میں شیریں فرہاد کا مقبرہ ہے، سرکوہ یعنی خستہ ٹاور تک جانے کا راستہ نہایت دشوار گزار ہے۔ ایک مقام پر تیس چالیس فٹ عمودی چٹان کو اسی کی مدد سے ہی عبور کیا جاسکتا ہے ۔مقامی لوگوں نے وہاں رسی اور تار لٹکا رکھی ہے اور دینی کھچو، ایک تل اور چاکہ کور کے مقامات پر شبہ غیب کے نام سے زیارت گاہیں موجود ہیں۔ سیر کوہ کے مقام پر ہندوستان سے فرار ہونے اور شکست خوردہ بادشاہوں اور شہزادوں کا بنوایا ہوا ٹاور ہے۔ کروچھب کے مقام پر ایک چٹان پر ایک گھوڑی اور اس کے بچے کے پاؤں کے نشانات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر کمان کے تیر نظر آتے ہیں۔ بری کے مقام پر ایک قبرستان ہے، جسے گبروں آتش پرستوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔ اس کی قبروں کے سرہانے مختلف سمتوں میں ہیں۔ ہنکینی بینٹ کی ایک چٹان پر چھوٹے بچے کے پاؤں کے نشانات ہیں۔

    کچکول کے مقامات پر کچکول نما تالاب ہے، جہاں پہاڑی بکرے پانی پینے آتے ہیں یہ تالاب سو فٹ سے بھی زیادہ گہرا ہے لاکرو کے مقام پر ایک بڑا اژدھا ہے، جہاں لوگ ڈر اور خوف سے نہیں جاتے یہ اژدھا دور سے ایک اونٹ کے بچے کی مانند نظر آتا ہے کنڈی کے مقام پر ایک پہاڑی سے ہر سال گرمیوں کے موسم میں گڑگڑاہٹ کے ساتھ شعلے نکلتے ہیں اور ہلکے پیلے رنگ کا لاوا دور دور تک پھیل جاتا ہے۔ 

    (بحوالہ :سہ ماہی NCS جریدہ) 


    0 0

     دیپالپور اوکاڑہ سے ۲۵کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دیپالپور ایک انتہائی قدیم شہر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے سری چند نے آباد کیا تھا اور اس کا نام سری نگر رکھا تھا۔ دیپالپور کا موجودہ نام دیپا کے نام سے منسوب ہے ،جو راجہ سالواہن کا بیٹا تھا۔ اس نے شہر کو دوبارہ تعمیر کرایا تھا۔ بعض دیگر روایات بھی دیپالپور کے نام کے بارے میں بیان کی جاتی ہیں۔ جنرل کننگھم کے مطابق اس کا نام راجہ دیو پالا کے نام سے ہے جبکہ ایک اور روایت کے مطابق اسے کھتری بیجا چند نے آباد کیا تھا۔

    درحقیقت اسے ابتداً سری چند نے ہی آباد کیا تھا اور اس کا نام سری نگر رکھا تھا۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ہر سنگھ نے یہاں فصیل تعمیر کرائی اور بعد ازاں اس کا نام دیپالپور ہو گیا۔ سکھوں کے عہد میں دیپالپور کی حیثیت ایک تعلقہ کی تھی۔ ۱۸۱۰ء تک یہ نکئی خاندان کی جاگیر رہا۔ نکئی خاندان سے لینے کے بعد کنور کھڑک سنگھ اور ۱۹۲۸ء میں سردار جوند سنگھ موکل کی جاگیر میں شامل ہوا۔ ۱۸۴۰ء میں اس کی موت تک وہ اس کی جاگیر میں رہا، پھر اس کے بعد اس کا بیٹا بیلا سنگھ اس کا جانشین بنا۔ انگریزوں کے پنجاب پر قبضے تک وہ جاگیر پر قابض رہا۔ یہاں متعدد قدیم عمارتوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ان میں لالو جسراج کا مندر، شاہ جہاں دور کے وزیر خان خاناں کی تعمیر کردہ مسجد، امام شاہ اور محمود شاہ نامی بزرگوں کے مزارات قابلِ ذکر ہیں۔ 

    ۱۹۱۹ء کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ قصبہ ضلع ساہیوال (منٹگمری) کی تحصیل تھا اور یہاں ڈسپنسری، تحصیل دفتر، تھانہ، ڈاکخانہ و ٹیلیگراف آفس موجود تھے۔ یہاں طلبا و طالبات کے الگ الگ ڈگری کالج، تحصیل سطح کی عدالتیں، دفاتر، اہم قومی بنکوں کی شاخیں، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال متعدد ہائی، مڈل اور پرائمری سکول موجود ہیں۔ کپاس، گندم، گنا یہاں کی اہم زرعی پیداوار ہیں جبکہ شہر میں تجارت کی متعدد مارکٹیں اور بازار ہیں۔ پرانا شہر تین دروازوں ٹھٹھیاری دروازہ، ملتانی دروازہ اور شمالی دروازہ کے اندر ہے جبکہ کئی جدید آبادیاں ان کے گرد آباد ہو چکی ہیں۔ ان میں خلیل آباد، ماڈل ٹائون ، ضیاء الدین کالونی اور محلہ اسلام پورہ قابل ذکر ہیں۔ ادبی اعتبار سے دیپالپور میں سب سے پُرانی بزم ’’بزمِ ادب دیپالپور‘‘ قائم ہوئی تھی۔ اس بزم کے ابتدائی ارکان میں فیض صحرائی،خادم جعفری، دلاور خان لودھی (مرحوم)، سیّد محمد غوث المعروف چن پیر (مرحوم) اور ثاقب حیدر گیلانی شامل تھے۔ 

    بعد میں منیب بُرہانی، ن م آصف، قیس جالندھری، فاخر گیلانی، رائو زاہد حسین، سرور جاوی، منیر جاوید رامش اور منظورایاز شامل ہوئے۔ ایک اور ادبی تنظیم بزمِ اقبال کے نام سے قائم ہوئی، جس میں فاخر گیلانی، اکرم ناصر اور چوہدری جاوید شفیع کمبوہ پیش پیش تھے۔ اس کے بعد یہاں تنویر ادب نام کی ادبی تنظیم قائم ہوئی، جس کے کرتا دھرتا ن م آصف تھے، پھربزمِ فکروفن وجود میں آئی، جس میں منیب بُرہانی اور اے ڈی نسیم شامل تھے۔ منیب بُرہانی کا ایک شعری مجموعہ ’’پرتو خیال‘‘ بھی شائع ہوا تھا۔ بزمِ حدید، مرزا حدید نے قائم کی۔ آخر پر یہ سب ادبی تنظیمیں بزمِ ادب دیپالپور میں مدغم ہو گئیں، جس کے روحِ رواں منیر جنجوعہ تھے۔ ایک اور تنظیم بزمِ احباب سخن بھی ہے، جس کے روحِ رواں سرفرازمہار ہیں۔ 

    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب : شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) - 


    0 0








    0 0

     وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر نے سینیٹ میں انکشاف کیا کہ
    پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی آلودہ اور مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن کے سوال کے جواب میں رانا تنویر نے کہا کہ پاکستان کونسل فار ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) نے ملک بھر میں پانی کا معیار جانچنے کے حوالے سے کئی مانیٹرنگ پروجیکٹس شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے 24 اضلاع میں موجود 2 ہزار 807 گاؤں سے جمع کیے جانے والے پانی کے نمونوں میں سے 69 سے 82 فیصد نمونے آلودہ اور مضر صحت پائے گئے۔

    رانا تنویر نے بتایا کہ پی سی آر ڈبلیو آر کی رپورٹ کے مطابق پانی میں آلودگی زیادہ تر فضلے میں پیدا ہونے والے جراثیموں، زہریلی دھات، گدلاپن، حل شدہ مضر عناصر، نائٹریٹ اور فلورائیڈ کی موجودگی کی وجہ سے ہوئی۔ ایوان بالا کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملک بھر میں اسٹیٹ آف دی آرٹ 24 واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کرنے کے علاوہ پانی کو صاف کرنے کے لیے دیگر اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ان اقدامات میں مائیکرو بائیولوجیکل ٹیسٹنگ کٹس، کم قیمت آرسینک ڈٹیکشن کٹس، کلورینائزیشن اور ڈس انفیکشن ٹیبلٹس کی تیاری شامل ہے۔
    ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی میں مضر صحت جراثیم پائے گئے اور اس کی شرح 69 فیصد تک بلند پائی گئی جبکہ بعض علاقوں میں پانی میں مضر صحت دھاتوں کی شرح 24 فیصد اور گدلے پن کی شرح 14 فیصد پائی گئی۔  پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق پانی میں موجود خرد حیاتیاتی (microbiological) آلودگی ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائیڈ وغیرہ جیسی بیماریوں کی اہم ترین وجہ ہے۔ پانی میں موجود مضر صحت دھاتوں کی وجہ سے مختلف اقسام کی ذیابیطس، جلدی امراض، گردے، دل کے امراض، بلند فشار خون، پیدائشی نقائص اور کینسر بھی ہوسکتا ہے۔

    پی سی آر ڈبلیو آر کے سینئر عہدے دار نے ڈان کو بتایا کہ ان کی لیبارٹریز کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرپارہے۔
    1.2 ارب روپے کی لاگت سے شروع کی جانے والی ان لیبارٹریز کا مقصد پینے کے پانی میں آلودگی کی جانچ کرنا اور شہریوں تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ 2007 میں شروع ہونے والے ’پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ کے پروجیکٹ کو بھی فنڈز کی کمی کہ وجہ سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عملے کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جاسکی ہیں، عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ تکنیکی اہلیت کے حامل لوگ، جن میں کئی پی ایچ ڈیز بھی شامل ہیں، بہتر مواقع کی تلاش میں ادارے کو چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی سی آر ڈبلیو آر کے چیئرمین ڈاکٹر محمد اشرف پروجیکٹ کو آپریشنل رکھنے کے لیے کافی جدوجہد کررہے ہیں اور دیگر محکموں سے فنڈز اکھٹے کرکے اسے چلانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ یہاں کام کرنے والے 200 ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

    جمال شاہد



    0 0

    ضلع اوکاڑہ اور تحصیل دیپالپور کا قصبہ جو دیپالپور سے ۲۳ کلومیٹر دور لاہور
    پاکپتن ریلوے سیکشن پر واقع ہے۔ روایت کے مطابق اسے سکھوں کے بصیر نامی شخص نے آباد کیا تھا، جو چھچھرقوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس قوم میں مُلّا فرید مسلمان ہوئے تھے۔ ان کا مزار آج بھی بصیر پور میں ہے۔ زمانہ قدیم میں یہاں ایک قلعہ بھی تھا۔ اس قلعہ کے چار گنبد اب بھی موجود ہیں اور یہاں زیادہ تر مہاجرین قابض ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ سیّدوں کے زیر اثر تھا۔ جب پنجاب میں طوائف الملوکی پھیلی اور سکھوں نے مختلف علاقوں کی طرف کارروائیاں شروع کیں، تو بصیر پور کا علاقہ بیدی صاحب سنگھ کی جاگیر میں آگیا۔ اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا بشن سنگھ اور پھر اس کا بیٹا عطر سنگھ جانشین بنا۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کے دور میں عطر سنگھ کے بیٹوں بابا سمپورن سنگھ اور کھیم سنگھ نے قبولہ اور بصیر پور کے بہت سے دیہات باہم بانٹ لیے تھے۔
    ان کی یہ جاگیر انگریزوں کے پنجاب پر قبضہ تک برقرار رہی۔ اس وقت تک یہ تعلقہ قبولہ میں شامل رہا۔ ابتداء میں یہ قصبہ نوٹیفائیڈ ایریا تھا، پھر اسے ٹائون کمیٹی اور بعدازاں میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہوا۔ ۲۰۰۱ء میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسے دو یونین کونسلوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہاں صحت و تعلیم کی سہولتیں عام دستیاب ہیں۔ دو سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ پانچ پرائیویٹ ہسپتال بھی موجود ہیں جبکہ طلباو طالبات کے د و علیحد ہ علیحدہ ڈگری کالجز، ہائی سکول اور متعدد سرکاری و غیر سرکاری مڈل اور پرائمری سکول بھی موجود ہیں۔ دفتر بلدیہ، دفتر زراعت، تھانہ اور تمام اہم بنکوں کی شاخیں بھی موجود ہیں۔ غلہ منڈی بھی موجود ہے، جہاں تمام اہم اجناس کا کاروبار ہوتا ہے۔ آلو، گندم، چاول، گنا اور مکئی علاقے کی اہم فصلیں ہیں جبکہ ڈیری پھلوں کی پیداوار میں بھی یہ علاقہ اہمیت رکھتا ہے۔ بصیر پور میں دینی تعلیم کے اہم مدرسے بھی موجود ہیں جن میں دارالعلوم حنفیہ فریدیہ، منظور اسلامک اکیڈمی اور دارالعلوم جامعہ فرید یہ نظامیہ قابلِ ذکر ہیں۔ جبکہ بابا فریدچشتی، خواجہ محمداکبر اور محمد نور اللہ نعیمی محدث اور صوفی بزرگ حامد سچیار کے مزارات بھی ہیں جن کے سالانہ عرس میلے بھی منعقد ہوتے ہیں۔ 

    ان میں سے محمد نو ر اللہ نعیمی محدث بصیر پوری ۱۰جون ۱۹۱۴ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا ابوالنور محمد صدیق اور مولانا احمد دین سے حاصل کی، پھر علامہ فتح محمد بہاولنگری، مولانا سعید محمد دیدار علی شاہ اور علامہ ابو البرکات سیّد احمد قادری سے فیض حاصل کیا۔ مولانا سیّد محمد نعیم الدین مراد آبادی سے بیعت کی۔ تعلیم الکتابتہ النسا اور الادب المفرد کے عنوان سے اصلاحی رسالے لکھے۔ ۱۹۸۳ء میں وفات پائی۔ آپ کا مزار بصیر پور میں مرجع خلائق ہے۔ جہاں ہر سال ۲۷۔۲۸ جون کو ان کا عُرس ہوتا ہے۔ یہاں زیادہ تر چھچھر، ارائیں، راجپوت، وٹو اور پٹھان قبیلوں کے لوگ آباد ہیں۔ ہندوئوں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی عمارتوں گوردوارہ اور مندر کے آثارابھی تک موجود ہیں۔ غوث پورہ، محلہ درس، ابراہیم چک، محلہ پٹرول پمپ، محلہ افشیں، محلہ غلہ منڈی، نئی آبادی، محلہ ریلوے سٹیشن، گلی پروکیاں والی، محلہ کھتاناں والا، محلہ مراماں اور اکیڈمی محلہ وغیرہ یہاں کی رہائشی بستیاں اور مین بازار، غلہ منڈی، سبزی منڈی، حویلی روڈ، منڈی احمد آباد روڈ، ریلوے روڈ اور صرافہ بازار اہم تجارتی مراکز ہیں۔ یہاں دو کاٹن فیکٹریاں بھی ہیں۔ 

    کھانے پینے میں یہاں شفیع حلوائی کی برفی مشہور ہے جبکہ دستکاری میں پُرانی اون کی جرسیاں یہاں عام تیار ہوتی ہیں۔ سیّد، چاچڑ، راجپوت، ارائیں، وٹو، پٹھان، مرزا وغیرہ قوموں کے افراد یہاں آباد ہیں۔ ادبی اعتبار سے یہاں کے شعراء رفیق نسیم، قمر آفتاب قمر، اظہر جلیل اور تنویر عباس حیدری قابلِ ذکر ہیں۔ معروف ادیب امجد علی شاکر کا تعلق بھی بصیرپور سے ہے۔ ان کی کتب اُردو کتب، ابوالکلام معاصرین کی نظر میں، اقبالیات، کھوٹے سِکّے کھری باتیں اور دستک نہ دو شائع ہوئیں۔ ماضی میں مولانا نور اللہ نعیمی بصیرپوری یہاں کے معروف عالم دین اور شاعر تھے۔ آپ ۱۹۱۴ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۸۳ء میں وفات پائی۔ فتاویٰ نوریہ (۶ جلدیں) حدیث الحبیب، نغمائے بخشش (نعت) اور نور نعیمی آپ کی تصانیف ہیں۔ بصیر پو رکی آبادی ۱۹۸۱ء میں ۲۴۰۳۲ اور ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق ۳۶۶۲۸افراد پرمشتمل تھی۔ اب اس کی آبادی ۵۰ ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    اسد سلیم شیخ
    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)




    0 0
  • 09/08/16--01:11: حویلی لکھا
  • ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کا قصبہ جسے وٹو قبیلے نے آباد کیا تھا۔ دیپالپور سے ۳۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ ستلج کے دونوں کناروں پر آباد ہوئے اور بڑے رقبے کے مالک بنے۔ اسی وٹو قبیلے کا ایک سردار لکھا تھا، جو ۱۷۵۰ء کے لگ بھگ نہ صرف یہ کہ اس بڑے علاقے کا مالک تھا بلکہ اس نے خود مختار حیثیت سے اس علاقے پر حکومت بھی کی اور اسی دوران حویلی کے نام سے گائوں کی بنیاد بھی رکھی۔ پہلے پہل اس نے یہاں ایک بڑی حویلی قائم کی تھی۔ اسی کے نام پر قصبہ حویلی لکھا مشہور ہوا۔ موجودہ قصبہ اس جگہ پر موجود نہیں، جہاں یہ حویلی تعمیر کی گئی تھی۔ لکھا وٹو کے انتقال کے بعد اس کا پوتا احمد یار خاں اس کاجانشین بنا، جو ہیرا سنگھ نکئی کی شکست کے وقت موجود تھا۔ بعد ازاں بھنگی سرداروں نے وٹوئوں کے اس علاقے پر قبضہ کرلیا۔ 
    بھنگی مثل کے سرداروں نے زرعی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا البتہ ۱۷۸۳ء میں قحط کی وجہ سے بُدھ سنگھ نے اپنی جائیداد لوگوں کے ہاتھ بیچ ڈالی تھی۔ ۱۸۰۷ء میں حویلی لکھا سمیت علاقے پر رنجیت سنگھ قابض ہو گیا اور یہاں کاہن سنگھ نکئی کو نگران مقرر کیا۔ کھڑک سنگھ کی موت تک یہ پہلے کلال خاندان اور پھر مہان سنگھ دت کی جاگیر رہا۔ ۱۸۴۹ء میں انگریزوں کے ماتحت آگیا اور اسے ابتداً ضلع گوگیرہ، پھر ضلع منٹگمری یعنی ساہیوال میں شامل کیا گیا، پھر اوکاڑہ ضلع بننے پر اس میں شامل ہوا۔ ۱۹۱۹ء کی رپورٹ کے مطابق یہاں تھانہ، ڈاکخانہ اور ریسٹ ہائوس موجود تھے۔ پہلے اسے ٹائون کمیٹی کا درجہ حاصل تھا۔ ۲۰۰۱ء کے بلدیاتی نظام کے تحت اسے تین یونین کونسلوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ بنیادی طور پر یہ ایک زرعی علاقہ ہے اور آلو، گندم، چاول اور مکئی یہاں کی اہم فصلیں ہیں۔ حویلی لکھا کو ایک زرعی منڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی زمانے میں یہاں کے حُقّے بڑے مشہور تھے۔ کسی حد تک اب بھی بنتے ہیں۔

    یہاں طلبا و طالبات کے کالجز، سکول، ہسپتال اور دیگر دفاتر موجود ہیں۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ میاں محمد یسٰین وٹو (مرحوم) اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کا تعلق اسی قصبے سے ہے۔ ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق حویلی لکھا کی آبادی ۶۱۷۴۱ افراد پر مشتمل تھی جبکہ آج کل اس کی آبادی ۷۵ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ یہاں کے اہم قبائل میں چشتی، پٹھان اور وٹو شامل ہیں جبکہ دیگر ذاتوں کے لوگ بھی آباد ہیں۔ صدربازار، مارکیٹ کمیٹی بازار، چھوٹی گلی، غلہ منڈی، سبزی منڈی، ہیڈ سلیمانکی روڈ، منور سعید روڈ اور حجرہ روڈ اہم کاروباری مراکز جبکہ جھنڈی محلہ، ہتھوڑاں والا محلہ، محلہ پیر اسلام، ڈھکی محلہ، گرین سٹی، المعصوم ہائوسنگ سکیم، محلہ شکور آباد، محلہ درس، محلہ مال منڈی، اسلام نگر اور الکرامت سٹی وغیرہ رہائشی علاقے ہیں۔ ہیڈ سلیمانکی یہاں سے ۱۸کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ شعر و ادب کے حوالے سے مزمل احمد یہاں کی قابلِ ذکر شخصیت ہے۔ آپ ۱۹۶۳ء میں پیدا ہوئے۔ پنجابی قاعدہ، اُردو ضرب الامثال اور کہاوتیں، پنجابی ضرب الامثال اور کہاوتیں، نیلی دے لوک گیت، فارسی ضرب الامثال اور کہاوتیں، انگریزی کہاوتیں اور پنجابی انسائیکلوپیڈیا آپ کی کتب ہیں۔ 

    (کتاب ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس)
     


    0 0

    وادی کرم کے آبی مقامات جن میں دریائے کرم، بادان ڈیم اور مولو گلی ڈھنڈ شامل ہیں، آبی پرندوں کی نقل مکانی کے راستہ پر واقع ہونے کی وجہ سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔ 

    چشمہ بیراج
    اس آبی مقام کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں نقل مکانی کرکے آنے والے دو لاکھ سے زیادہ آبی پرندے عارضی قیام کرتے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان میں موجود کسی بھی آبی مقام پر آنے والے پرندوں کی تعداد سے زیادہ ہے دریائے سندھ پر یہ آبی مقام میانوالی شہر سے 25 کلومیٹر جنوب مغرب میں پانچ چھوٹی چھوٹی جھیلوں پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر کا اصل مقصد آبپاشی کے لیے پانی ذخیرہ کرنا، بجلی پیدا کرنا اور ماہی پروری تھا، مگر اب یہ آبی پرندوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
     اچھالی جھیل
     نو شہر ہ کے مغرب میں 13 کلومیٹر پر سلسلہ کوہ نمک میں واقع اس جھیل کی سطح سمندر سے بلندی قریباً 700میٹر ہے۔ جھیل میں پانی کا انحصار قدرتی چشموں او ربارشوں پر ہے۔ یہ جھیل کی گہرائی او رپرندوں کی تعداد پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ نقل مکانی کے دوران سینکڑوں آبی پرندوں کے ساتھ سفید سر والی مرغابی جو کہ ایک نایاب بطخ ہے اس جھیل کو اپنا مسکن بناتی ہے۔ جھیل میں آبی پرندوں کے شکار پر پابندی ہے۔ 

    زنگی ناور جھیل
    کھارے پانی کی یہ جھیل مختلف اطراف سے ریت کے ٹیلوں پر گھر ی ہوئی ہے۔ اس میں پانی کا انحصار بارشوں پر ہے، جو نہ صرف اس کی گہرائی پر اثر انداز ہوتی ہیں بلکہ اس کے کھارے یا نمکین ہونے کا دارومدار بھی انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔ مرغابی کی ایک نایاب نسل جس کو Morbled Teal کہتے ہیں ،اس جھیل پر افزائش نسل کرتی ہے۔ 

    تونسہ بیراج
     دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کا ذخیرہ کوٹ ادو سے 20 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے، یہاں پر آبی پودوں اور درختوں کی بہتات نے آبی پرندوں اور دوسرے جانوروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا ہے اور کئی اقسام کے پرندے اور جانور یہاں پر افزائش نسل کرتے ہیں، اس مقام کی اہمیت اندھی ڈولفن کی وجہ سے بھی بڑھ جاتی ہے جو کہ دریا کے پانی میں بآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔ 

    شیخ نوید اسلم

    (پاکستان کی سیر گاہیں)
     


    0 0

    A man uses a scissors to make intricate decorative patterns on a camel's back before displaying it for sale at a makeshift cattle market ahead of the Eid al-Adha festival in Karachi, Pakistan.


    0 0

    15 برس پہلے 11 ستمبر کو کراچی پریس کلب کے لان میں آج جیسی ہی ایک شام تھی۔ ہوا بھی کم و بیش اسی رفتار سے چل رہی تھی۔ محمد حنیف لندن سے آئے ہوئے تھے۔ کلب میں چند پرانے دوستوں سے ملنا چاہتے تھے۔ کسی نے کہا جلدی اندر آؤ دیکھو ٹی وی پر کیا چل رہا ہے۔ ہم نے دیکھا سی این این پر ہالی وڈ کی کوئی ایکشن مووی چل رہی تھی جس میں کوئی طیارہ کسی عمارت سے ٹکراتا ہے۔ لیکن جب یہ منظر بار بار دہرایا جانے لگا تب لگا کہ یہ فلم نہیں ہو سکتی۔
    حنیف اور میں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ کچھ کہنےکی ضرورت ہی کیا تھی۔ برے دن آ چکے تھے۔ اور پھر ہمارے روزمرہ میں نئے الفاظ گھستے چلے گئے۔ وار آن ٹیرر، شاک این آ، کولیٹرل ڈیمیج، ڈیزی کٹر، ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن (ڈبلیو ایم ڈی)، ابو غریب، ڈرونز، گوانتانامو، سرجیکل سٹرائکس، آئی ڈی پیز، آئی ای ڈیز، ڈو مور، کولیشن سپورٹ فنڈ، خود کش بمبار، ٹارگٹ کلر، سہولت کار، ہوم لینڈ سیکورٹی، پوپا ( پروٹیکشن آف پاکستان آرڈینینس )، نیشنل ایکشن پلان، داعش، کومبنگ آپریشن وغیرہ وغیرہ۔

     پہلی جنگِ عظیم چار سال تک جبکہ دوسری چھ سال تک جاری رہی جنگِ عظیم اول امریکی صدر وڈرو ولسن کے دور میں شروع ہوئی اور چار سال میں ختم ہوگئی۔ جنگِ عظیم دوم دو امریکی صدور روزویلٹ اور ٹرومین کا بیشتر وقت لے گئی مگر چھ سال بعد تھم گئی۔ جنگِ ویتنام تین امریکی صدور جانسن، نکسن اور فورڈ کے دس برس کھا گئی۔ مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ بش اور اوباما کی دو دو صدارتی مدتیں ہضم کرنے کے بعد اب اگلے یا اگلی امریکی صدر کو منتقل ہونے والی ہے۔
    کچھ بعید نہ ہوگا اگر نائن الیون کو شروع ہونے والی جنگ برطانیہ اور فرانس کے مابین لڑی جانے والی 100 سالہ جنگ کے بعد کی سب سے طویل لڑائی لکھی جائے۔ فرق بس یہ ہے کہ اس جنگ میں دشمن ہمسایہ نہیں سایہ ہے اور سائے کا تعاقب تو قیامت تک ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی امریکہ نے اب تک یہ جنگ کچھ ایسے سلیقے سے لڑی ہے کہ ایک دہشت گرد کو مارنے کی کارروائی نے دس اور دہشت گرد پیدا کر دیے۔ دہشت گردوں کی تلاش میں پوری دنیا کا نظام ایسے تلپٹ کیا گیا جیسے پنجاب پولیس مجرم کی تلاش میں دیوار پھاند کر گھر کی رضائیاں تک پھاڑ دیتی ہے اور چاچی اور دادا کو بھی تھانے میں بٹھا لیتی ہے۔

    نتیجہ یہ نکلا کہ عراق، افغانستان اور لیبیا کے بعد اب شام ادھڑ رہا ہے اور داعشی رائتہ نائجیریا سے انڈونیشیا تک پھیل چکا ہے اور عالمی اعتماد کے جسم میں انتہائی خود غرض بد اعتمادی کا زہر پھیل چکا ہے۔ اگر یہ جنگ آج رک بھی جائے تب بھی جسم سے زہر نکالنے میں کئی عشرے لگ جائیں گے۔ اگر اس بدتری میں سے کوئی بہتری برآمد ہوئی ہے تو بس یہ کہ یہ دنیا مختصر عرصے کے لیے واحد سپر پاور کے رحم و کرم پر رہنے کے دور سے نکل کر ایک بار پھر کثیر طاقتی دور میں داخل ہو گئی ہے۔ ہم جیسے ممالک کو درے تو اب بھی پڑیں گے مگر پہلے کے مقابلے میں سانس لینے کا موقع ذرا زیادہ مل جائے گا۔ البتہ کام وہی پرانا ہی رہے گا۔ یعنی بڑی طاقتوں کی قے صاف کرنے اور پھر پنجے دبانے اور پھر قے صاف کرنے کی ملازمت۔

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


older | 1 | .... | 80 | 81 | (Page 82) | 83 | 84 | .... | 149 | newer