Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 78 | 79 | (Page 80) | 81 | 82 | .... | 147 | newer

    0 0

    ان دنوں ملک بھر میں سائبر کرائم بل 2016ء کا بے حد چرچا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 42 ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قیود و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں ۔ سائبر کرائم سے مراد الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی دنیا ،خواہ وہ بینکنگ ہو یا انٹرنیٹ سے وابستہ مختلف شعبہ جات ،میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیاں ، کمپیو ٹر سسٹم کو نقصان پہنچانا، اکاونٹس کی ہیکنگ ، انٹر نیٹ دہشت گردی ،فیس بک پر ہراساں کرنا، شہرت کو داغدار کرنا، جعلی شناخت ظاہر کرنا ،ممنوعہ و حساس معلومات تک رسائی و ڈیٹا چوری یا سوشل میڈیا کے ذریعے انتہا پسند تنظیموں کی معاونت ، فرقہ پرستی ، نفرت انگیزی یا مذہبی منافرت پھیلانے کا قبیح فعل،غیر قانونی سم کارڈ کا اجراء ،یہ سب سائبر کرائم کے زمر ے میں آتے ہیں۔
    خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں ،متاثرہ خواتین نے داد رسی کے لئے بڑی تعداد میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے زیر تحت قائم نیشنل رسپانس سنٹر برائے سائبر کرائمز سے رجوع کیا۔ ایف آئی اے اب تک ایک ہزار سے زائد شناخت کی چوری پر مبنی شکایات کی چھان بین کر رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق فیس بک و دیگر سماجی رابطوں کی سائٹس پر ایسی جعلی شناخت بنانے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ ایف آئی اے پاکستان الیکٹرک کرائم آرڈیننس 2007ء کے تحت سائبر کرائمز پر کاروائی کرنے کا خصوصی اختیار رکھتا ہے جبکہ دوسرا قانون الیکٹرانک ٹرانسیکشن آرڈیننس 2002 ء ہے۔ پاکستان الیکٹرک کرائم آرڈیننس 2007ء سائبر دہشت گردی ، ڈیٹا کو نقصان پہنچانے،الیکٹرانک فراڈ، جعل سازی ، جاسوسی اور غیر ضروری پیغامات وغیرہ بھیجنے جیسے جرائم پر کارروائی کرتا ہے ۔ کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

    خوش آئند امر ہے کہ ایوان بالانے بالآخر گذشتہ دنوں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ترمیم شدہ بل المعروف سائبر کرائم بل2016ء کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی جس کے بعد قومی اسمبلی سے حتمی منظوری اور صدر مملکت کے دستخط کے بعدیہ بل باقاعدہ قانون کی شکل میں ملک بھر میں نافذ ہو جائے گا۔ پاکستان میں کافی عرصہ سے ایسے قانون کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جس کے ذریعے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پرسوشل میڈیا پر آزادی اظہار کی آڑ میں عرصہ دراز سے شتر بے مہار کی طرح جاری غیر اخلاقی ، غیر قانونی اور ملک دشمن سر گرمیوں کا تدارک کیا جا سکے۔ خوش آئند بات ہے کہ پارلیمان کی سطح پر اتفاق رائے کو فروغ دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی 50سے زائد ترامیم کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    بعض حلقوں کی طرف سے اس قانون کی مختلف شقوں اور ان پر عملدرآمد بارے تحفظات اور شکوک و شبہات بھی سامنے آئے ہیں تاہم ہمارے ملک میں اس شعبے میں پہلی بار قانون سازی ہو رہی ہے لہذا وقت کے ساتھ بل میں موجود نقائص اورسقم کو دور کیا جا سکتا ہے جبکہ حکومتی سطح پر بھی اس بل کے سیاسی و غلط استعمال کی روک تھام یقینی بنانیکا بھرپوراعادہ کیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں قائم ہونے والے مقدمات کی سماعت کے لئے عدلیہ کے تحت خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی ۔ بل میں سائبر کرائم کے حوالے سے کئی شقیں شامل ہیں اور عدالت کی اجازت کے بغیر دو کے علاوہ کسی جرم میں گرفتاری نہیں کی جا سکتی۔ سائبر کرائم کے حوالے سے قائم خصوصی عدالتوں کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں عدالت عالیہ میں اپیل کی جا سکے گی۔اس قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی اور سال میں دو مرتبہ اس بل پر عملدرآمد بارے رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے گی۔

    مذکورہ بل میں صوبوں کے خلاف بات کرنے کو جرم قرار نہیں دیا گیا جبکہ قبل ازیں یہ قابل سزا جرم تھا۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جن ٹی وی یا ریڈیو چینلز کو لائسنس جاری کیا گیا ہے، وہ اس بل کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے۔ بل میں ایسے 21 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔ کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ متعلقہ عدالت میں بھیجنے سے پہلے ایک تحقیقاتی عمل شروع کیا جائے گا۔سکیورٹی ایجنسیوں کی مداخلت کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں گے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہ قانون سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ ہو۔سائبر کرائم بل 2016ء کے تحت جرم کے دائرہ کار میں آنے والے عوامل میں نفرت انگیز تقریر، تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش یا مذہب اور فرقے کی بنیاد پر نفرت پھیلانے پر 5 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ، بنیادی حساس معلومات کی نقل یا منتقلی پر 5 سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانہ،کسی شخص کو تشہیر کی غرض سے پریشان کن پیغام بھیجنے پر50ہزار روپے جرمانہ اور جرم دوہرا ہونے کی صورت میں 3 ماہ قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ، منفی مقاصد کیلئے ویب سائٹ قائم کرنے پر 3 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ،کسی شخص کو غیر اخلاقی حرکت کے لئے مجبور کرنے،کسی کی تصویر بغیر اجازت شائع کرنے،بے ہودہ پیغامات بھیجنے یا سائبر مداخلت پر ایک سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ،حساس ڈیٹا انفارمیشن سسٹم میں مداخلت پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ، ممنوعہ معلومات تک غیر قانونی رسائی پر 3 ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، کسی شخص کی شناختی معلومات حاصل کرنے فروخت کرنے یا اپنے پاس رکھنے پر 3 سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ،غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ کے اجراء پر 3 سال قید اور 5لاکھ روپے جرمانہ،غیر قانونی طریقے سے وائرلیس سیٹ یا موبائل فون میں تبدیلی کرنے پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ اور کسی شخص کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے پر بھی 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ پاکستان کو عرصہ دراز سے دہشت گردی کے جس ناسور کا سامنا ہے، ملک کی نازک صورتحال میں بعض صورتوں میں بدامنی پھیلانے والی قوتوں کا سوشل میڈیا پر مذموم کردار سامنے آیا ہے اسے لگام دینا انتہائی ضروری ہو چکا تھا۔

    صوبہ پنجاب میں بھی ملک کو دہشت گردی کی عفریت سے نجات دلانے کے لئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے نفرت انگیز موا د کی نشرو اشاعت اور ابلاغ کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت انگیزی کو فروغ دینے والے ہزاروں افراد کو گرفتار کرکے مقدمات درج کئے گئے اور مرتکب افراد کو جرمانے اور قید کی سزائیں دی گئی ہیں ۔ صوبہ پنجاب میں وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کی قیادت میں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمے، دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر پابندی ، دہشت گردوں کے کمیونیکیشن نیٹ ورک کو توڑنے اور انٹر نیٹ و سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کے فروغ کی بیخ کنی کے لیے جاری اقدامات میں بھی یہ سائبر کرائم بل 2016ء مو ثر کرادار ادا کرے گا ۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا سائبر کرائم بل کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے تا کہ وہ جانے انجانے میں خلاف ورزی کے مرتکب ہو کر کسی پریشانی کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ملکی سکیورٹی اور ای کامرس کے حوالے سے بھی اس قانون بارے متعلقہ افراد کی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر سائبرکرائم کے بڑھتے ہو ئے واقعات اور ان میں جدیدیت کے بعد ہمارے ملک میں بھی اس حوالے سے ضروری اقدامات کئے جانا ضروری ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس قانون کو سیاسی مقا صد کے حصول کے لیے لاگو کرنے کے حوالے سے بعض حلقوں کے خدشات غیر ضروری ثابت ہو نگے ۔ حکومت کی طرف سے ملک میں ہیکنگ اور کریکنگ کے حملوں کی روک تھام اور سائبر کرائم میں ملوث افراد کی گر فتاری کے لئے پاکستان سائبر کرائم رپورٹ کی ویب سائٹ قائم کی گئی ہے سائبر کرائم کا نشانہ بننے والوں کیلئے فارم Incident Reporting Form کو پر کرکے اپنا کیس ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔

    فارم تک رسائی کا لنک www.nr3c.gov.pk/html/incidentht.ml?ہے۔ ویب سائٹ پر دیئے گئے معلوماتی مواد کے ذریعے کوئی بھی شخص اپنے کمپیوٹر کریڈٹ کارڈ، ڈیٹا، ویب سائٹ اور ای میل کی حفاظت بخوبی کر سکتا ہے۔

    سید مبشر حسین



    0 0

    سرگودھا کا مقام: سرگودھا پاکستان کے منصوبہ کے تحت آباد یا تیار ہونے والے
    تین شہروں (باقی دو اسلام آباد اور فیصل آباد) میں سے ایک ہے۔ یہ ایک ہندو سادھو کے نام پر ہے جو کہ گول کھوہ (کنواں) پر رہتا تھا۔ جہاں دوسرے مسافر بھی آرام کرتے تھے۔ آج وہاں پر ایک خوبصورت سفید مسجد ہے جسکا نام گول مسجد ہے اور اسکے نیچے گول مارکیٹ ہے۔ انگریز راج میں یہ ایک چھوٹا قصبہ تھا لیکن اسکی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ایک فوجی ائرپورٹ بنایا گیا۔ جو آزادی کے بعد پاکستانی فضائیہ کے لیے مزید اہمیت اختیار کر گیا۔ سرگودھا پہلے شاہپور کی ایک تحصیل تھی لیکن اب شاہپور سرگودھا کی تحصیل ہے۔

    اور سرگودھا سے 7 کلو میٹر دور ایک قدیم گاؤں ہے جو کہ چک نمبر 101 شمالی کے نام سے مشہور ہے وہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کے 65 کی جنگ میں دشمن نے بم گرایا تھا جو کے چھپڑ (گندے پانی کی نکاسی کی جگہ ) میں گرا جس کی وجہ سے جانی نقصان بہت کم ہوا لیکن مالی نقصان بہت زیادہ تھا لوگوں کی بھیڑ بکریاں سب مر گئی تھی بس ایک بکری زندہ بچی تھی اور وہ میزائل آج بھی چک نمبر 101 کے چوک میں نصب ہے جس کی وجہ سے 101 بہت مشہور ہے۔

    ہلال استقلال
    پاکستان کے تین شہروں لاہور، سرگودھا اور سیالکوٹ کے شہریوں کو 1965ء کے پاک بھارت جنگ میں بہادری کے لیے ھلال استقلال سے نوازا گیا جو کہ ان کے لیے بہت فخر کی بات ہے۔ اسی طرح سرگودھا کے لوگ بھی اس پر فخر کرتے ہیں۔ جو کہ انہیں پاکستان کے باقی شہروں سے نمایاں کرتا ہے۔ سرگودھا ہمیشہ سے ہی بہادروں کی سرزمین رہی ہے۔ اورپاکستان فضائیہ کے پائیلٹ ان بہادروں میں ایک بہترین اضافہ ہیں۔

    شاہینوں کا شہر
    1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کی پاک فضائیہ نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے سرگودھا کے پاک فضائیہ طیاروں نے بہت جواں مردی کے ساتھ دشمن کا منہ توڑ جواب دیا اور سرگودھا سے پرواز کر کے دشمن کی زمین پر جا کر اسکے اہم ٹھکانوں کو نیست و نابود کیا دشمن کی طرف سے سرگودھا پہ ہونے والے اک حملے میں پاک فضائیہ نے نہ صرف حیران کن دفاع کیا بلکہ پاک فضائیہ کے ایک پائلٹ ایم ایم عالم نے محض تین یا چار سیکنڈ میں دشمن کے 4 طیارے مار گرائے جو کہ اک عالمی ریکاڑ ہے انہوں نے مجموعی طور پر 9 طیارے مار گرائے اور دو کو نقصان پہنچایا ہے اس کے علاوہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے اک یاد گار دفاع کیا اسی مناسبت سے سرگودھا کو "شاھینوں کا شہر"کہتے ہیں. 

    (پھل مالٹے) کنو سنگترے
    ضلع سرگودھا کے علاقوں میں پیدا ہونے والے خوشبودار اور لزیذ ترش پھل مالٹے سنگترے اور کنو معیار اور ذائقے کے لحاظ سے بہت مشہور ہیں یہ پوری دنیا میں بے حد پسند کیے جاتے ہیں اس وجہ سے بھی سرگودھا بے حد شہرت کا حامل شہر ہے۔ یہاں پر ترش پھلوں کے سینکڑوں مربع پھیلے باغات سے حاصل ہونے والا پھل بیرون ملک بھی برآمد کیے جائے ہیں۔ 

    یونیورسٹی آف سرگودھا

    سرگودھا میں موجود یونیورسٹی کا شمار پنجاب کی بہترین جامعات میں ہوتا ہے جس نے کم عرصے میں بہترین خدمات سر انجام دیں ہیں یونیورسٹی کے قیام کی وجہ سے بھی سرگودھا شہر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ 

    (رانجھا)تخت ہزارہ
     تخت ہزارہ کا تذکرہ ابوالفل نے اپنی کتاب آئینِ اکبری میں کیا ہے جو کہ اکبر بادشاہ کا مشہور تھا اس کے علاوہ تخت ہزارہ کی وجہ شہرت مشہور پنجانی داستان ہیر رانجھا کا کردار ہے جسے تاریخ رانجھا کے نام سے یاد کرتی ہے رانجھا کا تعلق اِسی تخت ہزارہ سے تھا۔ 

    (مغل شہزارہ) شاہ شجاع
    سرگودھا شہر سے چند کلو میڑ کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ دھریمہ ہے تاریخ میں ملتا ہے کہ اک مغل شہزادہ شاہ شجاع جو کہ شاہجہان کا بیٹا تھا اِس نے اپنے سوتیلے بھائی اورنگ زیب کے ہاتھوں شکت کھانے کے بعد اس قصبے دھریمہ میں آ کر پناہ لی اوراِس جگہ موجود اک بزرگ جن کا نام حبیب سلطان ناگہ تھا اْن کے ساتھ اپنی بقیہ عمر گزاری دی اسی جگہ پہ شاہ شجاع کی قبر بھی موجود ہے. 

    ریلوے
    سرگودھا ریلوے اسٹیشن پاکستان ریلویز کی لالہ موسیٰ - شور کوٹ برانچ ریلوے لائن پر سرگودھا کے درمیان واقع ہے۔ یہاں تمام ایکسپریس ٹرینیں رکتی ہیں۔ یہ سرگودھا - خوشاب برانچ ریلوے لائن کا جنکشن بھی ہے۔ 

    مشہور شخصیات
    ادب کے حوالے سے ضلع سرگودھا میں بہت مشہور شخصیات قابل ذکر ہیں جن میں ڈاکٹر وزیر آغا کا نام سر فہرست ہے ، احمد ندیم قاسمی بھی سرگودھا سے تعلق رکھتے تھے ان کے علاوہ ادبی شخصیات میں سید قاسم شاہ ،سید شاہد محسن، افضل گوہر راؤ، ارشد محمود ارشد ،سید عقیل شاہ اور شاکر کنڈان کا نام سر فہرست ہے۔


    0 0

    راولپنڈی، میانوالی روڈ پر میانوالی شہر سے قریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑیوں کے دامن میں ایک نہایت ہی خوبصورت جھیل ہے، جسے نمل جھیل کہتے ہیں۔ یہ جھیل فرنگی عہد میں 1913ء میں بنائی گئی۔ جھیل سے پہلے بھی یہاں کی زمین بے حد زرخیز اور سر سبز تھی۔ لوگ یہاں پر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ اس وقت اس علاقہ میں کنوؤں کی تعداد لگ بھگ سو کے قریب تھی۔ یہ علاقہ جو وادی نمل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کئی صدیوں سے آباد چلا آرہا ہے۔ اس حقیقت کا پتہ جھیل کے کنارے واقع قدیم قبرستان سے بھی ملتا ہے۔
    نمل جھیل 1200 ایکڑ پر مشتمل وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی گہرائی قریباً 20بیس فٹ ہے پہاڑوں سے آبی چشموں اور برساتی نالہ کے ذریعے آنے والا پانی جب یہاں پہنچتا ہے ،تو نمل کے کشادہ بازو اسے اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں۔ جھیل کا یہ پانی میانوالی شہر اور اس سے ملحقہ دیہات کو سیراب کرتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹا سا ڈیم تعمیر کیا گیا ہے، جب جھیل کا پانی ڈیم کے آہنی درازوں میں سے ہوتا ہوا، دوسری طرف نالے میں آبشار کی صورت میں گرتا ہے، تو اس سے خوفناک آواز پیدا ہوتی ہے۔ کنارے پر اللہ کے ایک برگزیدہ بندے حضرت حافظ جی کا مزار ہے۔ 7-6 شعبان کو حافظ جی کا عرس ہوتا ہے ۔ سالانہ عرس کے علاوہ ماہ محرم کی ساتویں اور آٹھویں تاریخوں کو بھی دور دراز سے لوگ جوق در جوق یہاں آتے ہیں اور اس مزار پر حاضری دیتے ہیں اس موقع پر یہاں میلے کا سا سماں ہوتا ہے۔ عقیدت مندوں کی غیر معمولی تعداد کے پیش نظر یہاں پر عارضی دکانیں بن جاتی ہیں۔ مزار سے ملحقہ ایک مسجد بھی ہے، جس میں آج بھی قال اللہ اور قال الرسول کی صدائے دلنشین سنائی دیتی ہے ۔
    1984ء سے مزار کا انتظام محکمہ اوقاف نے سنبھال رکھا ہے۔ مزار حافظ کے قریب ایک ریسٹ ہاؤس بھی بنایا گیا ہے ،جو دو کمروں لان اور خوبصورت صحن پر مشتمل ہے۔ یہاں سے جھیل کا منظر آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔ مزار کی جانب آبادی خانقاہ حافظ جی کے نام سے موسوم ہے جبکہ دوسری طرف کی آبادی نمل گاؤں کے نام سے موسوم ہے۔ یہ لوگ کشتیوں کے ذریعے اس جھیل کو عبور کرتے ہیں۔ کشتیوں کے علاوہ ان لوگوں کے لیے کوئی ذریعہ آمدروفت نہیں ۔نمل جھیل میں ایک فش فارم بھی بنایا گیا ہے، جس کا باقاعدہ ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ اس کا انتظام ضلع کونسل میانوالی کے سپرد ہے ،یہاں مچھلیوں کا قابل ذکر ذخیرہ موجود ہے۔ لوگ یہاں پر مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ مچھلی کے علاوہ جھیل میں مرغابیوں کا شکار بھی ہوتا ہے۔ سابق صدر فلیڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم، سابق گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان مرحوم اور دیگر اعلیٰ شخصیات یہاں شکار کرنے اور تفریح کی غرض سے آتی رہی ہیں۔ 

    حقیقت یہ ہے کہ میانوالی، خوشاب، تلہ کنگ، چکوال اور دیگر ملحقہ شہروں کے لیے یہ جھیل ایک خوبصورت اور بے مثال تفریحی مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر جمعہ کو یہاں پر لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ پکنک منانے اور ان قدرتی اور حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہاں کھچے چلے آتے ہیں۔ متذکرہ بارانی علاقوں، خشک اور بے مزہ ماحول میں رہنے والوں کے لیے نمل جھیل سے بہتر کوئی تفریحی مقام نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جھیل کے انتظام و انصرام سے متعلقہ محکمہ کے ارباب بست کشاد اسے مزید خوبصورت حسین 
    اور دلکش بنانے کے لیے خصوصی توجہ دیں تاکہ یہاں آنے والے لوگوں کو کسی تکلیف، الجھن اور پریشانی وغیرہ کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بھر پور طریقے سے ان مناظر سے لطف اندوز ہوں۔ 

    ایس انور خان
    ( ’’پاک جمہوریت‘‘سے مقتبس)
     


    0 0



    0 0



    0 0

    ملتان اور اس کا نواح سخت گرمی کے حوالے سے ملک بھر میں مشہور ہیں۔ جون، جولائی کے مہینوں میں یہاں کے باسی 50 ڈگری درجہ حرارت بھی برداشت کرتے ہیں۔ یہاں پڑنے والی اس قدر شدید گرمی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں لذیذ اور خوش ذائقہ آموں کی فراہمی کا سبب بنتی ہے ۔ پنجاب کے پرُفضا مقام مری سے 700 کلومیٹر دوری پر ہونے کی وجہ سے یہاں بسنے والے گرمیوں میں ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ پرُ فضا اور سر د مقامات پر جانا پاکستان میں ہر شخص کے بس کا روگ نہیں۔ اس لیے یہاں کے باسی صرف مری کے قصے سن کر ہی دل بہلاتے ہیں۔
     یہاں رہنے والوں کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں کہ ان کے قریب ہی صرف سوا سو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک دوسرا مری موجود ہے۔ مری کی بلندی جتنا بلند فورٹ منرو سہولتوں اور رونق کے اعتبار سے مری کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن حُسن و دلکشی او ر قدرتی نظاروں میں وہ کسی سے کم نہیں۔ فورٹ منرو جانا اس کے قریب بسنے والوں کی استطاعت میں ہے اور آسان بھی ،لیکن افسوس کہ لوگ ابھی تک اس تفریحی مقام کے بارے میں مکمل معلومات نہیں رکھتے۔ فورٹ منرو جو تاریخ میں بھی ایک مقام رکھتا ہے ۔ آج بھی کسی ایسے مہربان کا منتظر ہے، جو آکر اس کی حالت سنوارے اور اسے جنوبی پنجاب کے لیے مری بنا دے۔ اس خوبصورت مقام تک پہنچنے کے لیے ڈیرہ غازی خان سے لورا لائی کی طرف سفرکرنا پڑتا ہے اور راستے میں مشہور قصبہ سخی سرور آتا ہے۔
    خشک اور سلیٹی مائل پہاڑوں کی قدرتی تراش خراش اس قدر جاذب نظر ہے کہ دیکھنے والوں کا خدا پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے۔ ڈیرہ غازی سے ساٹھ کلومیٹر پر واقع یہ پرُ فضا مقام اپنے اندر خوبصورتی کے سمندر سموئے ہوئے ہے۔ پہاڑوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے ندی نالے جنہیں یہاں رود کوہیاں کہا جاتا ہے اپنی طغانیوں کی وجہ سے بہت مشہور ہیں۔ بارش کے دنوں میں یہاں سے گزرنے والا پانی اس قدر تیز ہوتا ہے کہ سامنے آنے والی ہر چیز بہا لیے جاتا ہے، ان رودکوہیوں کا لاکھوں کیوسک پانی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے اور یہ قدرتی وسیلہ کسی مصرف میں نہیں لایا جا رہا ہے۔ سردار فاروق احمد لغاری کی دور صدارت میں فورٹ منرو کی تعمیر و ترقی کے ساتھ رودکوہیوں کے پانی کو استعمال میں لانے کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈیموں کے کئی منصوبے بنے، لیکن عملی طور پر کچھ نہ ہوا۔

    فورٹ منرو جانے والا راستہ سیاحوں کو ہمیشہ اپنی یاد دلاتا رہتا ہے۔ پہاڑوں کے گرد بل کھاتی اور چڑھتی چڑھاتی سڑک دیکھنے والوں کے لیے دلفریب منظر پیش کرتی ہے۔ سڑک پر رینگنے اور گھوں گھوں کی آوازیں نکالتے ٹرک دور سے کھلونا محسوس ہوتے ہیں۔ جب کوئی ٹرک ہارن بجاتا ہے، تو اس کی آواز کافی دیر تک پہاڑوں میں گونجتی رہتی ہے ان پتھریلے پہاڑوں پر سفر کرتے ہوئے کئی ایسے خطرناک موڑ بھی آتے ہیں کہ جہاں سے گزرتے ہوئے نئے آنے والے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور زبان پر اللہ اللہ کا ورد ہوتا ہے، لیکن جب ڈیرہ غازی خان سے پرخطر راستہ طے کرکے لوگ یہاں پہنچتے ہیں، تو انہیں خوشگوار موسم کے سوا کوئی سہولت نصیب نہیں ہوتی۔

    یہاں چند سرکاری ریسٹ ہاؤس ہیں، جو صرف خواص کے لیے کھلتے ہیں اور عوام انہیں باہر باہر سے دیکھتے ہیں۔ کچھ وڈیروں، سرداروں اور تمن داروں نے بھی یہاں گھر بنا رکھے ہیں۔ منرو نامی انگریز کے نام پر یہاں تعمیر ہونے والے ملبے کے اب نشان باقی ہیں۔ دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر ہونے والے مضبوط قلعوں کا مٹ جانا یقینا ہمارے لمحہ فکریہ ہے۔ فورٹ منرو کے مقام پر ایک خوبصورت جھیل بھی ہے، جسے ڈیمس جھیل کہا جاتا ہے۔ یہ جھیل سیاحوں کے لیے دلکش نظارہ پیش کرتی ہے۔ پاکستان یوتھ ہوسٹل ایسویسی ایشن اور پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریش والوں کو یہاں اپنے یوتھ ہوسٹل اور ہوٹل موٹل کے قیام عمل میں لانا چاہیے، جو یہاں سیر و سیاحت کے فروغ میں ایک اہم قدم ہوگا۔ فورٹ منرو میں سب سے زیادہ رونق 14 اگست کو ہوتی ہے۔ جشن آزادی کے موقع پر یہاں ایک میلہ لگتا ہے ،جس میں لوگ دور دور سے شریک ہوتے ہیں اور رش اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ سڑک کئی کئی گھنٹے بلاک ہو جاتی ہے۔

    قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے اسلحہ یہاں ہر طرف عام ہے۔ دکانوں پر بندوقوں کی گولیوں اس طرح بکتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں ٹافیاں، کسی کے پاس اورکچھ ہو نہ ہو، بندوق ضرور ہوتی ہے۔ نوجوان ہرطرف کندھوں پر بندوقیں سجائے پھرتے ہیں۔ فورٹ منرو میں ایک اور قابل ذکر چیز یہاں کا پیالہ ہے۔ پہاڑوں سے پانی بوندوں کی شکل میں ایک پتھر پر گرتا ہے اور سالوں کے اس تسلسل نے پتھر کو پیالے کی شکل دے دی ہے۔ پہاڑوں میں موجود اس پیالے کو لوگ بڑے اشتیاق سے دیکھتے اور خوش ہوتے ہیں۔ فورٹ منرو ہی ایک مارکیٹ بھی موجود ہے  جو صرف گرمیوں کے سیزن میں ہی آباد ہوتی ہے۔ مارکیٹ کی کچی دکانیں موسم میں سج جاتی ہیں اور موسم ختم ہونے پر اجڑ جاتی ہے۔ فورٹ منرو سے تھوڑے فاصلے اہم مقام رکنی ہے، جو سمگل شدہ اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے بے حد مشہور ہے۔ رکنی صوبہ بلوچستان میں واقعہ ہے۔ فورٹ منرو آنے والوں کی اکثریت رکنی کا چکر لگاتی ہے۔ 

    (کتاب ’’پاکستان کی سیر گاہیں‘‘ سے مقتبس)  
     


    0 0

    ڈاکٹر فر قان حمید



    0 0

    کیا اچھے افراد زندگی کی دوڑ میں ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں ؟ہوسکتا ہے،یہ خیال آپ کے ذہن میں آتا ہو اور کسی حد تک یہ ٹھیک بھی ہے ،مگر ایسے افراد طویل المعیاد بنیادوں پر زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ پینسلوانیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک لینے والے، ایک دینے والے اور تیسرے مطابقت پیدا کرنے والے۔تحقیق کے مطابق لینے والے بس اپنے لیے جیتے ہیں جبکہ دینے والے پیچھے مڑ کر بھی دوسروں کی بے غرض مدد کرتے ہیں جبکہ مطابقت پیدا کرنے والے ان دونوں کے درمیان کہیں ہوتے ہیں، یعنی یہ لوگوں کی مدد تو کرنا چاہتے ہیں، مگر جواب میں مدد کی توقع بھی کرتے ہیں۔
     تحقیق میں بتایا گیا کہ دینے والے افراد اکثر عملی زندگی میں بدترین کارکردگی کے حامل ہوتے ہیں، مگر حیران کن طور پر سب سے بہترین بھی وہی ہوتے ہیں۔تحقیق کے دوران ان تینوں اقسام کے رضاکاروں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا کہ دوسروں کی بے غرض مدد کرنے والے اپنے شعبے کے بدترین 25 فیصد حصے اور بہترین 25 فیصد حصے میں شامل تھے جبکہ لینے والے اور مطابقت پیدا کرنے والے درمیان میں موجود تھے۔ محققین کا کہنا تھا کہ اچھے افراد ہوسکتا ہے کہ زندگی کی دوڑ میں میں پیچھے رہ جائیں ،مگر ان کے سب سے آگے رہنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ان کا ماننا تھا کہ سخاوت مختصر المدت کے لیے تو نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، مگر یہ طویل المعیاد بنیادوں پر روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوتی ہے۔ تحقیق کاروں کے بقول ایسے افراد درحقیقت دیگر افراد کی مدد کرکے اپنے مسائل حل کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔

     زرتاشیہ میر


    0 0

    یہ کراچی کی سب سے پرکشش عمارت ہے جو سابق کمشنر سندھ سرایچ بار ٹلے ای فرئیر کی سندھ میں خدمات کے اعتراف میں تعمیر کرائی گئی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر کا آغاز 1863ء میں ہوا تھا۔ اس کا نقشہ شاہی انجینئر کرنل کلیرولنکس نے تیار کیا تھا۔ اس کی تعمیر میں کوٹری کے زرد پتھر کے علاوہ جنگ شاہی کا سرخ اور بھورا پتھر بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اس عمارت کی تعمیر دو سال میں مکمل ہوئی تھی۔ 10 اکتوبر 1865ء کو اس وقت کے کمشنر سندھ مسٹر سیموئیل مسفلیڈ نے اس کا افتتاح کیا تھا۔ اس عمارت کی تعمیر میں ایک لاکھ اسی ہزار روپے خرچ ہوئے تھے اس رقم میں سے 22,500 روپے عوامی چندے کے ذریعے وصول ہوئے تھے جبکہ 10ہزار روپے حکومت نے مہیا کیے تھے اور بقیہ 1,47,500 روپے کراچی میونسپلٹی نے فراہم کیے تھے اس عمارت کی تعمیر کے بعد اسے ٹاؤن ہال کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
    الیگزینڈر ایف بیلی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ابتداء میں اس کے ہال کو ایک ناچ گھر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا یہاں انگریز جوڑے موسیقی کی دھن پر ڈانس کرکے اپنا دل بہلاتے تھے۔ اس 1867ء میں جب بار ٹلے فریئیر گورنر بمبئی کی حیثیت سے کراچی آیا تھا تو اس نے اس عمارت میں ایک دربار منعقد کیا تھا اس کے بعد دسمبر 1869 میں اس عمارت ہی میں ایک صنعتی نمائش بھی منعقد کی گئی تھی، جو برصغیر اور وسط ایشیا میں منعقد ہونے والی سب سے پہلی نمائش تھی اس نمائش میں برطانوی، ہندوستانی اور وسطی ایشیائی ممالک کے تاجر اور صنعت کار اپنی مصنوعات کی تشہیر کرنے اور انہیں فروخت کرنے کے لیے لائے تھے۔ اس عمارت کے اوپری دو کمروں میں 1871ء میں جنرل لائبریری اور میوزیم قائم کیے گئے تھے۔ فرئیر ہال کا خوبصورت مینار زمین سے 144 فٹ اونچا ہے یہ عمارت یونانی فن تعمیر کا بے مثال نمونہ ہے یہ ڈیڑھ صدی سے کراچی کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ 

    شیخ نوید اسلم
    مقتبس ازپاکستان کی سیر گاہیں



    0 0

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر خودکش بمبار اتنی زیادہ چیک پوسٹیں عبور کر
    کے اپنے آٹھ کلو گرام بارود سمیت سول اسپتال کوئٹہ کی ایمرجنسی تک کیسے پہنچ گیا؟ پیچھے یقیناً زبردست منصوبہ بندی تھی۔ مقامی دہشتگردوں میں تو اتنا دماغ نہیں کہ وہ ایسی غیرمعمولی پلاننگ کر سکیں کہ جب وہ بلوچستان بار کے سابق صدر بلال انور قاضی کو گولی ماریں گے تو ان کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال لائی جائے گی اور مقامی روایات کے مطابق جس وکیل کو اس واقعے کی اطلاع ملتی جائے گی وہ سول اسپتال پہنچتا چلا جائے گا اور جب سب قابلِ ذکرِ وکیل جمع ہو جائیں گے تو پھر بم پھاڑ کر انھیں ختم کر دیا جائے گا۔ ایسی سائنسی منصوبہ بندی تو کوئی اعلیٰ بدیسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اندرونی چھوڑئیے صرف یہ سوچئے کہ اس طرح کی حرکت کا کس کس غیر ملک کوفائدہ ہو سکتا ہے؟
    اب جب کہ ہم اصل واقعے کی فورنزک و انٹیلی جینس تحقیقات مکمل ہونے سے بہت پہلے ہی اصل مجرموں کی نشاندھی میں کامیاب ہو چکے ہیں تو اس جانب توجہ دی جائے کہ اے پی ایس پشاور، بڈبیر، باچا خان یونیورسٹی چار سدہ، لاہور گلشنِ اقبال پارک، واہگہ چیک پوسٹ دھماکا یا سول اسپتال کوئٹہ جیسی عوامی جگہوں پر ہونے والی وارداتوں کو پیشگی ناکام بنانا کن کن ملکی اداروں کی ذمے داری ہے؟ کالم میں اتنی جگہ نہیں کہ ہم ایک ایک مذکورہ واردات پر تفصیلاً بات کر سکیں۔ لہٰذا اپنی آسانی کے لیے تازہ اور فوری واردات یعنی کوئٹہ بم دھماکے کو روکنے کی ممکنہ ذمے داری پر بات کر لیتے ہیں۔ جو بھی نتیجہ نکل کے آئے گا وہ دیگر وارداتوں کے تجزئے کے لیے بھی ماڈل کا کام دے سکتا ہے. پہلی ذمے داری تو جیالوجیکل سروے آف پاکستان پر عائد ہوتی ہے کہ جس کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو زمین کے اندر چھپے ہوئے عناصر کا بھی کھوج نکال لیتا ہے۔ تو پھر اس کی نگاہ سے دہشتگردوں کا انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کیسے چوک گیا؟

    اب اگر جیالوجیکل سروے کے اہلکار کہیں کہ صاحب یہ ہمارا کام نہیں ہم تو صرف زمین کی اندرونی تبدیلیوں اور موادپر نگاہ رکھتے ہیں۔ تو ان حیلہ طرازوں سے کوئی پوچھے کہ گوگل ارتھ میں تمہیں صرف پہاڑ، ندی نالے ہی نظر آتے ہیں کوئی انسان یا کوئٹہ شہر کی سڑکیں یا ان سڑکوں سے گزرنے والا بارودی ٹرک یا مشکوک موٹر سائیکل نظر نہیں آتا؟ تم جیسا ادارہ جس سے زمین کا کوئی چپہ پوشیدہ نہیں صرف یہ کہہ کے تو جان نہیں چھڑا سکتا کہ دہشت گرد تلاشنا یا انھیں روکنے کے لیے بروقت اطلاع دینا ہماری ذمے داری نہیں۔

    چلیے اگر جیالوجیکل سروے اپنی بنیادی ذمے داری پوری نہیں کر سکا تو اسپتال کے گیٹ پر کیا واچ اینڈ وارڈ کا عملہ نہیں تھا؟ اُسے خود کش بمبار اسپتال میں داخل ہوتا کیوں دکھائی نہیں دیا؟ یہ تو کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتالی محافظوں کے پاس جو دستی سکینرز ہوتے ہیں وہ اصلی سکینرز کی میڈ ان چائنا فرسٹ کاپی ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی بہانہ نہیں کہ اسپتال جیسی جگہوں پر روزانہ ہزاروں افراد اور سیکڑوں مریض آتے جاتے ہیں لہٰذا چار پانچ کچے پکے تربیت یافتہ آٹھ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ والے چوکیدار کس کو روکیں اور کسے جانیں دیں؟ اگر وارادت کے بعد یہی بہانے کرنے ہیں تو اسپتال انتظامیہ ان مٹی کے پُتلوں کو تنخواہ دینے کے بجائے گھر کیوں نہیں بھیجتی؟

    حق بات تو یہ ہے کہ جتنے بھی پبلک مقامات پر دہشتگردی کا خطرہ ہے۔ ان مقامات پر دہشتگردی روکنا انھی اداروں کا کام ہے جن کے تحت یہ پبلک مقامات آتے ہیں۔ مثلاً اسکولوں کی سیکیورٹی محکمہ تعلیم کی ذمے داری ہے جسے ہر اسکول کو سرکلر بھیجنا چاہیے کہ کسی مشکوک فرد کو اسکول میں داخل نہ ہونے دیں بھلے وہ خود کو خودکش بمبار ہی کیوں نہ کہے۔ اسی طرح اسپتالوں کو دہشتگردی سے بچانا محکمہ صحت کی اور پبلک پارکس کے تحفظ کی ذمے داری متعلقہ شہر یا قصبے کی بلدیہ کے ڈائریکٹوریٹ پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کی ہے۔ ( یہ تو ہماری عدالتیں اور آئین بھی کہتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور کسی دوسرے ادارے کے دائرے میں نہیں گھسنا چاہیے)۔
    چلیے اگر مذکورہ ادارے اپنے صارفین کو تحفظ نہیں دے پا رہے تو ان کی نااہلی کا رونا رونے کے بجائے صارف کو اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کے سوچنا چاہیے کہ وہ خود کامنِ سینس (عقلِ سلیم) سے کام لیتے ہوئے اپنی حفاظت کیوں نہیں کر پا رہا؟

    اور کسی شہر کے نہ سہی مگر کوئٹہ کے وکلا کو تو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ بلوچستان بار کے صدر بلال انور قاضی کی شہادت دراصل وہ کانٹا ہے جس میں دہشتگرد وکلا برادری کو اٹکا کر شکار کریں گے۔ دہشتگردوں نے اس طرح کی تکنیک کوئی پہلی بار تھوڑا استعمال کی ہے؟ ماضی میں انھوں نے ایک پولیس افسر کو مارا اور پھر اس کی نمازِ جنازہ میں شریک دیگر پولیس افسروں پر خودکش حملہ کیا۔ وکیلوں کو تو ویسے بھی مجرموں کی نفسیات ہم سے زیادہ معلوم ہوتی ہے اور وہ باریک سے باریک موشگافی تک پہنچنے اور بال کی کھال اتارنے کے لیے مشہور ہوتے ہیں۔ تعجب ہے کہ انھیں سامنے کی بات کیوں سجھائی نہیں دی کہ دہشتگرد ایک شحض کی لاش کو چارہ بنا کر پورے قانونی غول کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ امیدہے زندہ رہ جانے والے وکلا آیندہ صرف اپنے کلائنٹس کے مفادات ہی کی نہیں بلکہ اپنی حفاظت بھی خود کریں گے۔ انھی خطوط پر اگر پبلک پارک کا تحفظ مقامی بلدیہ اپنی ذمے داری نہیں سمجھتی تو پھر والدین کو اس کا ذمے دار ہونا پڑے گا، انھیں اپنے بچوں کے اسکولوں کی بھی حفاظت کرنا ہو گی، مشکوک افراد اور اشیاء پر بھی نگاہ رکھنا ہو گی، متعلقہ حکام کو بھی مطلع کرنا ہو گا اور پھر اپنے روٹی روزگار کا بھی ساتھ ساتھ سوچنا ہو گا۔ 
    وہ کسی کا شعر ہے نا کہ
    یہ شہادتِ گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
    لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

    کوئٹہ سانحے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محمود اچکزئی سمیت کچھ افراد ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ڈال رہے ہیں۔ یہ رویہ مناسب نہیں۔ کوئٹہ کے دھماکے کو اگر جیالوجیکل سروے آف پاکستان چاہتا تو روکا جا سکتا تھا۔ اس کا الزام ایجنسیوں کی غفلت کو ٹھہرانا کسی طور مناسب نہیں۔ ایجنسیاں بچاری تو اس موقع پر دور دور تک نہیں تھیں۔ اس کے علاوہ میں سائبر کرائم بل کی پارلیمنٹ سے بروقت منظوری کا بھی خیر مقدم کرتا ہوں۔ جو لوگ ملکی سالمیت کے معاملے پر کسی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ سائبر کرائم بل کے ذریعے ان کے پیچ کس کے ایک پیج پر لانے میں مدد ملے گی۔ یوں ہم سب اس پرچم کے سائے تلے ہنسی خوشی رہنا سیکھ لیں گے۔

    وسعت اللہ خان



    0 0

    مینارِ قار داد پاکستان کی مجلسِ تعمیر کی نشست تھی، میز کے اردگرد تمام اراکین جمع تھے، میں آج ان میں پہلی بار شامل ہوا تھا۔ کاروائی کی پہلی شقِ غور کے لیے پیش ہوئی، میرا ذہن اس وقت برنارڈ شا کے اس مقولے پر غور کرنے میں مصروف تھا کہ وہ مقام جہاں خواہشِ قلبی اور فرضِ منصبی کی حدیں مل جائیں اسے خوش بختی کہتے ہیں۔ میں بلحاظ عہدہ اس مجلس کی صدارت کر رہا ہوں مگر عہدے کو ایک عہدِ وفا کا لحاظ بھی تو لازم ہے۔ میرے عہدے کا تعلق تعمیر سے ہے، میرے عہد کا تعلق تحریک سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اسے سنگ و خشت کے بجائے جہانِ نو کی تعمیر اور افکارِ نو کی تعبیر سمجھا۔ میں نے اس مینار کو با الفاظِ اقبال جلوہ گہِ جبرئیل جانا اورسوچا۔ باکہ گویم سرایں معنی کہ نورِ روئے دوست بادماغِ من گل و باچشمِ موسیٰ آتشست عرفی مینار کی تعمیر کے ابتدائی دنوں میں جب میرا اس کی تعمیر سے کوئی سرکاری تعلق نہ تھا میں محض تعلق خاطر کے واسطہ سے وہاں جا پہنچا۔

    بنیادیں بھری جا چکی تھیں، باغ میں ہر طرف ملبہ پھیلا ہوا تھا، مینار بلندی کی طرف مائل تھا، روکاربا نسوں کی باڑ میں یوں چھپی ہوئی تھی کہ عمارت تو نظر نہ آئی مگر اردو شاعری میں چلمن کا مقام مجھ پر واضح ہو گیا۔ نزدیک جانا چاہا تو چوکیدار نے سختی سے روک دیا۔ یہ تو اس چوکیدار کا ہمسر نکلا جسے مولوی عبدالحق نے وائسرائے کو ٹوک دینے پر آثار قدیمہ سے نکال کر چند ہم عصروںمیں شامل کر لیا تھا۔ اب کہاں روز روز عبدالحق پیدا ہوں گے اور کسے فرصت ہو گی کہ عصرِ نو کے ملبے میں عزتِ نفس کی تلاش کرے اور ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات پر مضمون لکھا کرے۔ میں نے چوکیدار سے پوچھا یہ کیا بن رہا ہے؟ کہنے لگا یادگار بن رہی ہے۔ آج جب کاروائی کے لئے پہلا مسئلہ پیش ہوا تو میں نے کہا اسے ملتوی کیجیے تا کہ ایک اور ضروری بات پر بحث ہو سکے۔ میز پر لغات کا ڈھیر لگ گیا۔ سب متفق ہوئے کہ یادگار وہ نشانِ خیر ہے جو مرنے کے بعد باقی رہے۔ جب یادگار کا عام تصور موت اور فنا کے تصور سے جُدا نہ پایا تو منصوبے سے یادگار کا لفظ خارج کر دیا۔ میز صاف کی گئی، لغات کی جگہ مینارِ قرار دادِ پاکستان کے نقشے پھیلائے گئے۔ جو تھوڑی بہت جگہ بچ گئی اس میں چائے کی پیالیاں سجائی گئیں۔ چائے شروع ہوئی تو بات بہت دُور جا نکلی۔ 

    کہتے ہیں جب اہرامِ مصر کا معمار موقع پر پہنچا تو اس نے صحرا کی وسعت دیکھ کر فیصلہ کیا کہ عمارت بلند ہونی چاہیئے۔ پھر اس نے بھر بھری اور نرم ریت کو محسوس کیا اور سوچا کہ اس عمارت کو سنگلاخ بھی ہونا چاہیئے۔ جب دھوپ میں ریت کے ذرے چمکنے لگے تو اسے خیال آیا کہ اس کی عمارت شعاعوں کو منعکس کرنے کے بجائے اگر جذب کر لے تو کیا اچھا تقابل ہو گا۔ ہوا چلی تو اسے ٹیلوں کے نصف دائرے بنتے بگڑتے نظر آئے اور اس نے اپنی عمارت کو نوک اور زاویے عطا کر دئیے۔ اتنے فیصلے کرنے کے بعد بھی اسے طمانیت حاصل نہ ہوئی تو اس نے طے کیا کہ زندگی تو ایک قلیل اور مختصر وقفہ ہے وہ کیوں نہ موت کو ایک جلیل اور پائیدار مکان بنا دے۔ اب جو یہ مکان بنا تو لوگوں نے دیکھا کہ عجائبِ عالم کی فہرست میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اہرام کے معمار کو اگر اقبال پارک میں لاکھڑا کرتے تو اسے نہ جانے کیا کچھ نظر آتا اور وہ اس عمارت کو نہ معلوم کیا شکل دیتا۔ اس کی غیر حاضری میں ہمیں یہ طے کرنے میں بڑی مشکل پیش آئی کہ قرار دادِ پاکستان کو علامت اور عمارت کے طور پر کیا صورت دی جائے۔ 

    باغ، جھیل، فوارے، مسجد، کتب خانہ، عجائب گھر، ہال ہسپتال دروازہ، درس گا یا مینار۔ فہرست کچھ اسی قسم کی بنی تھی اور بحث وتمحیص کے بعد کامیابی کا سہرہ سرِ مینار سجایا گیا۔ موقع و محل کی نسبت ہو یا صورت و ساخت کی نسبت ماہرین کا متفق ہونا ممکن نہیں۔ اقبال پارک کے مشرق اور شمال میں وسعت اور ہریالی،مغرب میں ایک محلہ، کچھ جھگیاں اور گندہ نالہ، جنوب میں قلعہ، گوردوارہ اور مسجد عالمگیری واقع ہے۔ سطحِ زمین سے دیکھا جائے تو تین سفید بیضوی نوک دار گنبد اور چار بلند سُرخ پہلو دار مینار اس قطعے پر حاوی ہیں۔ ذرا بلندی سے دیکھیں تو اندرونِ شہر، دریائے راوی اور جہانگیر کے مقبرے کے چار مینار بھی اس منظر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ آٹھ میناروں کے ہوتے ہوئے نویں مینار کا اضافہ کسی نے حسن جانا اور کسی نے بد ذوقی۔ اس بات کو البتہ سبھی تسلیم کرتے ہیں کہ عمارت اپنی نسبت کی حیثیت سے منفرد ہے۔

    دنیا میں کہیں کسی قرار داد کو منظور کرنے کی یاد اس طرح نہیں منائی گئی کہ جلسہ گاہ میں ایک مینار تعمیر کر دیا جائے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مینار کی ابتدائی صورت دفاعی ضرورت کے تحت وجود میں آئی، پھر اس کی علامتی حیثیت قائم ہوئی، اس کے بعد یہ دین کا ستون بنا اور آخرکار نشانِ خیر کے طور پر بنایا جانے لگا۔ مینارِ قرار داد ان ساری حیثیتوں پر محیط ہے۔ یہ نظریاتی دفاع کی ضرورت، تحریکِ آزادی کی علامت، دین کی سرفرازی کا گواہ اور ہماری تاریخ کا ایک نشانِ خیر ہے۔ دفاعی میناریوں تو میسو پوٹیمیا کی اختراع بتائے جاتے ہیں۔ مگر ان کو سب سے زیادہ استعمال کرنے والے اہلِ روم اور بازنطینی تھے۔ ان کے یہاں شہر کی فصیل سے لے کر ہر بڑی حویلی میں جا بجا مینار بنے ہوئے تھے۔ 

    ان دنوں دنیا کی آبادی مختصر اور جغرافیے کا علم کم تر تھا، فنِ حرب کا درجہ بھی پست تھا، حملہ آور گنے چُنے اور ان کے ہتھیار دیکھے بھالے تھے لہٰذا دفاع کے لئے یہ کوتاہ قامت مینار ہی بہت کافی تھے۔ علم اور آبادی دونوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ فنِ حرب کا درجہ بھی بلند ہوتا چلا گیا، جنگوں کی تعداد اور شدت میں بھی اضافہ ہو گیا۔ جگہ جگہ مضبوط سے مضبوط اور بلند سے بلند تر مینار بننے لگے۔ آبنائے باسفورس، جنوبی فرانس اور وسط چین کی مشہور فصیلیں اور مینار اسی دور کی یادگار ہیں۔ دیوارِ چین میں جو اب ہاتھی کے دانت کی طرح صرف دکھانے کے کام آتی ہے جابجا دفاعی مینار اور بُرج بنے ہوئے ہیں۔ چین گئے تو دیوار دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دیوار بھی دیکھی اور اہلِ دیوار بھی۔ معلوم ہوا کہ جو کام پہلے دیواروں سے لیا جاتا تھا وہ اب دیوانوں سے لیتے ہیں۔ جہاں لوگ شانہ بشانہ صف بصف ایک دوسرے سے پیوست ہو جائیں تو وہی سدِ سکندری ہے اور وہی سدِ یاجوج۔ ایک دن ہم دیوار کی طرف روانہ ہوئے، سڑک میدان سے گزر کر پہاڑی سلسلے میں داخل ہو چکی تھی۔ دور سے ایسا معلوم ہوا کہ جہاں پہاڑ اور افق ملتے ہیں وہاں کسی نے سیاہ پنسل سے ایک مدھم سی کلیر لگا دی ہے۔

    کچھ اور آگے گئے تو دور تک سلسلہ کوہ سنجافی نظر آیا۔ نزدیک پہنچے تو یہ مدھم سی لکیر حیرت کدۂ ہنر بن گئی اور جسے ہم نے سنجاف سمجھا تھا وہ ایک سنگلاخ حقیقت نکلی۔ دیوار عمودوار ایک پہاڑ پر چڑھتی تھی اور چوٹی پر ایک دفاعی مینار بنا ہوا تھا۔ میں نے جیب سے پچاس یوآن کا نوٹ نکالا اور ساتھیوں سے کہا کہ یہ انعام مینار پر سب سے پہلے پہنچنے والے کو ملے گا۔ سبھی بھاگ پڑے اور میں نے جانا کہ یہ نوجوان بھی پسماندہ ملکوں کی طرح زرِ مبادلہ کی دوڑ میں شریک ہو گئے ہیں۔ ذرا سی دیر میں بھاگنے والوں کا دم پھول گیا اور وہ ایک ایک کر کے فرش پر بیٹھ گئے۔ مینار اب بھی اتنا ہی دور نظر آتا تھا اور اگر اس میں یہ خوبی نہ ہوتی تو اب تک دیوارِ چین میں کئی بار نقب لگ چکی ہوتی۔ یہ کام جو بڑے بڑے ملک نہ کر سکے اُردو شاعری نے کر دکھایا شعر ہے۔ میرے شیون سے فقط قصر فریدوں نہ گرِا سدِا سکندرِ اورنگ نشین بیٹھ گئی اب صرف حضرتِ ناظم کو جن کا یہ شعر ہے کیوں قصور وار ٹھہرائیے، قصور ہے تو خود ہمارے مزاج کا۔

    دیوار چین تو نہیں البتہ دیوار چمن تو حضرتِ غالب نے بھی ڈھا دی تھی، کہتے ہیں۔ برشگالِ گر یہ عاشق ہی دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل، سوجا سے دیوارِ چمن دفاعی مینار پر چڑھنے کی جو حسرت دل کی دل میں رہ گئی تھی اسے میں نے مغربی پاکستان کے قبائلی علاقے میں جا کر پورا کیا۔ میں نے ایک سردار کے یہاں کھانا کھایا اور مہمان کا حقِ آسائش استعمال کرتے ہوئے مٹی کے اس مینار پر جا چڑھا جو حویلی ک یایک کونے میں بنا ہوا تھا۔ باہر سے تو اس کی لپائی کی ہوئی تھی مگر اندر سے مینار تاریک اور خستہ تھا۔ خاک ریز سے جو روشنی کی کرن اندر آتی تھی وہی ہمارا زینہ تھا۔ مینار کی شہ نشین میں ایک ٹوٹی کرسی اور چند کارتوس پڑے ہوئے تھے۔ پاس ہی ایک ٹرانسسٹر بج رہا تھا۔ میں نے کبھی ٹاٹ میں مخمل کا پیوند تو نہیں دیکھا مگر میسوپوٹیمیا کے دفاعی میناروں کی طرز کے ہزار ہا سال پرانے مٹی کے میناروں میں بیسویں صدی کا گاتا بجاتا پیوند لگا ہوا ضرور دیکھا ہے۔

    (آوازِ دوست از مختار مسعود)   


    0 0

     پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال ملک کے یومِ آزادی کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے نام کرنے کا اعلان کیا ہے۔
    پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم نے اس 14 اگست کو کشمیر کی آزادی کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘  یوم آزادی پر قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’اہلِ کشمیرکی نئی نسل نے نئے جذبے کے ساتھ آزادی کا عَلم اٹھایا ہے۔ میں اس سال 14اگست کو ان اہلِ کشمیر کے نام کرتا ہوں جنھوں نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا مگر آزادی کے جذبے کوزندہ رکھا ہوئے ہے۔‘
    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں علیحدگی پسند کشمیری رہنما برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔ عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جولائی سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پاکستان کے یومِ آزادی کو کشمیریوں کے نام کرنے کا اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی پاکستان سے ہونے والی معاونت ہے۔

    وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بلوچستان اور اپنے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ زیادتیوں پر بھی جواب دینا ہو گا۔  یہ پہلی مرتبہ ہے جب انڈیا نے پاکستان کے اندر ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آواز اُٹھائی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر انڈیا سے مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے پاکستان کو سرحد کے پار دہشت گردوں کی معاونت بند کرنا ہو گی۔ انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کرے گا اور جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔


    0 0

    لاہور : واہگہ بارڈر پر سبز ہلالی پرچم اتارنے کی تقریب






    0 0

    کائنات میں ہمیں ان گنت چیزیں، مناظر اور کرشمے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک
    راز سورج کے ساتھ سورج مکھی کے پھول کے لگاؤ کا بھی ہے۔ یہ پھول دن بھر افق پر چمکنے والے سورج کے اشاروں پر چلتا ہے اور ہمیشہ سورج کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کرتا ہے۔اس بات کو لے کر سائنسدان حیران تھے کہ کیوں سورج مکھی کا پودا ہر روز ابھرتے سورج کے ساتھ سارا دن اس کی روشنی کا پیچھا کرتا ہے اور شام میں سورج کی آخری جھلک پانے کے لیے پوری طرح سے اپنا رخ مغرب کی سمت موڑ لیتا ہے جبکہ رات میں سورج کی غیر موجودگی میں یہ پھول واپس مشرق کی سمت میں اپنا رخ موڑے رکھتا ہے اور سورج کی واپسی کا انتظار کرتا ہے اور بالغ یا بڑا پھول بننے تک ایسا کرتا ہے،لیکن سورج مکھی کے پودے یہ کس طرح کرتے ہیں یہ اب تک ایک راز ہی رہا ہے۔

    بالآخر علم نباتات کے ماہرین نے اس بات کا جواب بھی ڈھونڈ نکالا ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ سورج مکھی کے پھول کی سورج کے ساتھ محبت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ہیلیو ٹروپزم یا کسی پودے کی نشوونما کے دوران اس پر پڑنے والی سورج کی روشنی سے متاثر ہونے کا رجحان ہے،تاہم ماہرین یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیوں سورج مکھی کا نیا پھول سورج کا پیچھا کرتا ہے اور کیوں بالغ پودا بن جانے پر سورج مکھی کا پھول سورج کی پیروی کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ محققین نے ظاہر کیا کہ جب سورج مکھی پودا مکمل طور پر نمو پا جاتا ہے اور بعض صورتوں میں انسانوں کے قد جتنا لمبا ہوجاتا ہے، تو سورج کے رخ پر حرکت کرنا بند کر دیتا ہے اور زیرہ پاشی کرنے والے کیڑوں کو متوجہ کرنے کے لیے اپنا رخ ہمیشہ مشرق کی طرف رکھتا ہے۔ تحقیقی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سورج مکھی کے پھول کی اندرونی گھڑی سرکیڈین ردہم اور روشنی کا پتہ لگانے کی صلاحیت مل کر کام کرتی ہے اور نشوونما سے متعلق جینز کو صبح کے وقت میں سورج کے رخ کے ساتھ جھکنے کی اجازت دیتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ڈیوس میں پلانٹ حیاتیات کے شعبے سے وابستہ محققین پروفیسر اسٹیسی ہارمر اور پروفیسر ہائیگوپ ایٹ ایمین اور ان کی ٹیم نے کھیتوں، گملوں اور نمو کے چیمبر میں سورج مکھی پر اپنا مطالعہ مکمل کیا ہے۔سائنس دانوں کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری تھا کہ سورج کی روشنی کا پیچھا کرنے کا فائدہ کیا ہو سکتا ہے، لہٰذا تجربات کے ایک سلسلہ میں انہوں نے بیرونی گملوں میں سورج مکھی کے پودوں کو باندھ کر سورج کی روشنی سے باخبر رہنے سے روکا۔ نتیجے کے طور پر یہ پودے سورج کے رخ پر مڑنے والے سورج مکھی کے پودوں کے مقابلے میں کم بڑھے تھے، اس کا صاف مطلب تھا کہ سورج کی ٹریکنگ نے پودوں کی نشوونما کو فروغ دیا تھا۔ دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی تھی کہ سورج مکھی کا پودا رات میں اپنی سمت تبدیل کرتا ہے اور مغرب سے واپس مشرق کی سمت اپنا رخ موڑ لیتا ہے، جس سے محققین کو پتا چلا کہ پودے کی اندرونی گھڑی اس کی ذمہ دار ہے۔

    ایک دوسرے تجربے کے دوران محققین نے سورج مکھی کے پودے کو کمرے میں سورج سے ملتی جلتی روشنی اور اندھیرے کے حالات میں رکھا، جس سے ان کو پتا چلا کہ پودوں کا رویہ چوبیس گھنٹے کے دن کے عین مطابق تھا،تاہم جب آوٹ ڈور سورج مکھی کے پودوں کو کمرے کی مصنوعی روشنی میں رکھا گیا، تو انھوں نے چند دنوں تک مشرق سے مغرب کی سمت جھکنے کا عمل جاری رکھا، جس کا صاف مطلب تھا کہ چوبیس گھنٹے کی سرکیڈین ردہم سورج کی حرکت کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ماہرین نباتات کے لیے یہ جاننا بھی ضروری تھا کہ ان پودوں نے بنا پٹھوں کے یہ حرکت کیسے کی تھی،لیکن انہیں معلوم ہوا کہ اس کا جواب سورج مکھی کے پودے کے تنوں میں تھا۔

    انہوں نے کہا کہ دوسرے پودوں کی طرح سورج مکھی کے پودا کے تنے بھی رات کے وقت میں بڑھتے ہیں، لیکن صرف ان کی مغرب کی سمت میں، جو دن میں پودے کو مشرق کی طرف جھکنے کے قابل بناتا ہے جبکہ دن کے دوران تنا مشرق کی طرف بڑھتا ہے، جو شام میں سورج کے ساتھ مغرب کی طرف جھکتا ہے۔محققین کو معلوم ہوا کہ سورج مکھی کے پودے میں روشنی کا پتہ لگانے اور نشوونما سے متعلق مختلف جینز تھیں ،جو تنوں کے برعکس سائیڈ پر فعال ظاہر ہوئی تھیں اور اب محققین کے لیے یہ پتا لگانا باقی تھا کہ کیوں سورج مکھی کا بڑا پودا اپنا رخ ہمیشہ مشرق کی طرف رکھتا ہے؟ اس بات کے جواب میں محققین کو پتا چلا کہ مشرق کا سامنا کرنے والے پودے زیادہ گرم اور زیرہ پاشی کرنے والے کیڑوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والے تھے۔ 

    محققین نے خیال ظاہر کیاہے کہ سورج مکھی کے چھوٹے پودے مشرق کی ترجیح کے ساتھ بڑھتے ہیں اور بالغ پودے بھی مشرق کی طرف اپنی سمت کو برقرار رکھتے ہیں کیونکہ صبح کے وقت میں گرم ہونا پودوں کو فائدہ فراہم کرتا ہے، جہاں یہ بڑے پھول زیرہ پاشی کرنے والے کیٹروں یا شہد کی مکھی کا انتظار کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے بیجوں کو پھیلائیں اور نئے سورج مکھی کے پودے اگائیں اور پھر یہ سورج مکھی کے نئے پھول اسی طرح سے سورج کا پیچھا کریں۔

    نصرت شبنم


    0 0

     پاکستان کے عوام اپنے ملک کا 70واں یوم آزادی شایان شان انداز میں منارہے ہیں.











    0 0

    سچے اور کھرے، جن کے اندر کوئی بناوٹ اور تصنع نہ ہو، ایسے افراد کی تلاش ایک بڑا مشکل کام ہے اور آج کے زمانے میں تو چراغ چھوڑئیے، سرچ لائٹ لے کر نکلنے سے بھی ایسے لوگ بمشکل ملیں گے، لیکن کیا آپ ایسے لوگوں کی پہچان جانتے ہیں؟ ہوسکتا ہے کہ وہ دفتر میں آپ کے برابر میں بیٹھا ہوا شخص ہی ہو؟ آپ کو ایسے افراد کی کچھ علامتیں بتاتے ہیں، امید ہے آپ کو ڈھونڈنے میں آسانی ہوگی۔ 

    1-ایسے لوگ جیسے ہوتے ہیں، ویسے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ ایسا کرنے یا بننے کی کوشش نہیں کرتے کہ جس کی وجہ سے لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ بن جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگوں کی پروا نہیں کرتے بلکہ وہ ایسے فیصلے کرنے میں بھی نہیں چوکتے جو ہر دل عزیز نہ ہوں۔ وجہ سادہ سی ہے، سچے اور کھرے لوگوں کو دوسروں کی توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ شو بازی نہیں کرتے۔ 

    2- دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے فتوے جاری نہیں کرتے۔ یہ کھلے ذہن کے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ ان تک رسائی بھی حاصل کرتے ہیں اور دلچسپی بھی دکھاتے ہیں۔ ایسے شخص سے بھلا کون بات کرنا چاہے گا، جو پہلے ہی اپنی رائے بنا چکا ہے اور کسی کی سننے کو تیار نہیں۔ 


    3- سچے ، کھرے اور حقیقی افراد اپنا راستہ خود متعین کرتے ہیں۔ یہ اپنے اطمینان اور خوشی کے احساس کو دوسروں کی رائے پر نہیں بناتے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور یوں وہ کچھ اور بننے کی اداکاری نہیں کرتے۔ کس سمت میں جانا ہے ،اس کا تعین ان کے اندر سے ہوتا ہے، اپنے اصولوں اور اپنی اقدار سے۔ 

    4- حقیقی افراد کی ایک اور پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ سخی ہوتے ہیں۔ چاہے معاملہ آپ کو کچھ سکھانے کا ہو، کام کے گر اور راز بتانے کا ہو یا پھر مالی پریشانی میں مدد کا۔ وہ اپنے علم اور مال کو کبھی خود تک محدود نہیں رکھتے۔ ساتھ ہی وہ سب کی عزت کرتے ہیں۔ وہ کبھی خواہ مخواہ اور زبردستی کے عزت دار بننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ سب کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چاہے وہ ان کے منیجر ہوں یا جس ہوٹل میں دوپہر کا کھانا کھاتے ہیں، وہاں کا بیرا۔ 

    5- کھرے لوگوں کی ایک پہچان یہ ہے کہ وہ مادہ پرست نہیں ہوتے اور خوشی کے لیے کسی چمکتی دمکتی نئی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ آپ کو آجکل ایسے لوگ نظر آتے ہوں گے، جو زبردست اور جدید ترین چیزیں خرید کر سٹیٹس بنانے اور عزت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی خوش اور مطمئن نہیں ہو پاتے۔ خوشی دراصل اندر سے پیدا ہونے والا ایک احساس ہے، اسے باہر سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ 

    6- قابل اعتماد ہونا بھی سچے اور کھرے لوگوں کی ایک بڑی نشانی ہے۔ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، انہیں اپنا ہم راز بناتے ہیں، اپنی مشکلات سامنے رکھتے ہیں کیونکہ وہ ان پر بھروسہ کرتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ اگر وہ وعدہ کرتے ہیں، تو اسے پورا کرتے ہیں۔ 

    7- ایسے لوگوں کی آخری اہم ترین علامت یہ ہے کہ یہ انا پرست ہرگز نہیں ہوتے۔ انہیں اپنے اندر کے خوشی کے احساس کو بڑھانے کے لیے بیرونی تعریفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نہ ہی انہیں شہرت کی طلب ہوتی ہے اور نہ ہی یہ دوسرے لوگوں کی کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھتے ہیں۔ یہ منافق نہیں ہوتے، وہ جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ آپ کے سامنے کچھ اور کہتے ہوں، لیکن پس پردہ کچھ اور ہوں۔   


    0 0



    0 0

    ضلع مظفر گڑھ اور تحصیل کوٹ ادو کا قصبہ، مظفر گڑھ اور کوٹ ادو کے درمیان واقع ہے۔ 1720ء میں محمود خان گجر نے اس قصبے کی بنیاد رکھی۔ محمود خان ڈیرہ غازی خان کے آخری نواب غازی خان کا وزیر تھا۔ اس نے محمود کوٹ میں ایک پر شکوہ قلعہ تعمیر کروایا، جس کے کھنڈرات آج بھی اس کی شان و شوکت کا پتہ دیتے ہیں۔ انگریزوں کے عہد میں یہ قلعہ پولیس سٹیشن کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ بھکر اور لیہّ پر غلام نبی کلہوڑہ کی جب حکومت تھی ،تو وہ باغی ہو گیاتھا۔ اس پر شاہ زمان نے نواب مظفر خان کو اس کی سرکوبی کا حکم دیا۔ نواب نے محمد خان سدوزئی بہادر خیل کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا، جس نے محمود کوٹ اور کوٹ ادو کے قلعے تسخیر کر لیے۔

    بعد ازاں ملتان کی فتح کے بعد رنجیت سنگھ نے منکیرہ جاتے ہوئے رستے میں محمود کوٹ کے قلعے کو تخت و تاراج کردیا۔ انگریز دور میں قلعہ کی باقی ماندہ عمارت میں تھانہ رہا، پھر یہ قلعہ مقامی پنوار راجپوت زمینداروں کے حق میں واگذار ہوا۔ شیر شاہ سوری کے وقت ملتان سے براستہ مظفر گڑھ محمود کوٹ، سنانواں ڈیرہ غازی خان دو عظیم شاہراہیں گزریں تھیں۔ کچھ برس پہلے ان کو بحال کرکے پختہ کیا گیا۔ قریباً اسی راستے پر1886ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی اور ریلوے سٹیشن قائم ہوا۔ یہ ریلوے لائن ملتان، مظفر گڑھ ، محمود کوٹ اور سناواں سے ہوتی ہوئی کوٹ ادو پہنچی ہے۔ یہاں کا تھانہ 1938ء میں قائم ہوا تھا، جو آج کل قدیم قلعہ کی عمارت میں ہے۔

    طلبا و طالبات کے ہائیر سکینڈری سکول، ہسپتال بھی موجود ہیں۔ ایک تجارتی مین بازار بھی ہے۔ پیر جواں، حضرت پلین سلطان ، خواجہ محمد حسین چشتی، قلندر تراب شاہ، سلطان اکبر شہید اور امام شاہ بخاری نامی بزرگوں کے مزارات بھی ہیں، جن کے سالانہ عرس ہوتے ہیں۔ یہاں زرعی اجناس، کھجور اور لکڑی کا کاروبار عام ہوتا ہے۔ تھرمل پاور مظفر گڑھ یہاں سے 18 کلو میٹر، تھرمل پاور کوٹ ادو16 کلو میٹر ، شیخو شوگر مل سناواں 14 کلو میٹر اور فاطمہ شوگر مل تیرہ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ پارکو آئل ریفائنری بھی اس علاقے میں قائم ہے۔ 

    یہاں جنجوئے، تنگرا، پتافی، پنوار، ہانسی، کوٹانے، چانڈیہ اور چاولی وغیرہ قوموں کے افسراد آباد ہیں۔ منشی محمود کوٹی ماضی میں یہاں کے ادیب اور شاعر تھے۔ ان کا اصل نام ملک اللہ وسایا چوہان تھا۔ 1893ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور1954ء میں فوت ہوئے۔ جذبات منشی (نظم و نثر) گلدستہ منشی (نظم و نثر ) گلستان منشی (دوہڑے) گلدستہ مناقب، محبت کا پھول (مذاقیہ دوہڑے) گلدستہ نعت (مولود) آپ کی تصانیف ہیں۔ اقبال وارث بھی یہاں کے سرائیکی شاعر ہیں ’’ادڑ دی دھوڑ‘‘ ان کا شعری مجموعہ ہے۔ آصف سعیدی کا شمار بھی یہاں ایک شاعر اور فنکار کے طور پر ہوتا ہے۔ 

    (اسد سلیم شیخ کی تصنیف ’’نگر نگر پنجاب:شہروں اور قصبات کا جغرافیائی، تاریخی، ثقافتی اور ادبی انسائیکلوپیڈیا‘‘ سے مقتبس) - 


    0 0

    صفیہ بی بی اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے دوا نہیں خرید سکتیں اور دعا ہی ان کی آخری اُمید ہے۔ اُن کا 20 سالہ بیٹا سہمی سہمی آنکھوں سے کبھی انھیں اور کبھی اپنے ٹخنے پر بندھی زنجیر کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ادھار مانگ کر بیٹے کو گوجرانوالہ سے بورے والا تک لائی ہیں اور تمام رقم سفر میں خرچ ہو چکی ہے۔ تپتی دھوپ میں پسینے کے ساتھ ساتھ صفیہ بی بی کے آنسو بھی بہہ رہے ہیں۔
    ’دو سال ہو گئے مجھے اس کے پیچھے پھرتے ہوئے، میرے پیروں کے تلوے تک پھٹ گئے ہیں۔ گلیوں میں پھرتا تھا اور بچے پتھر مارتے تھے میرے بچے کو، ہم سے برداشت نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں کہ اس کا علاج کروا سکیں۔‘ پنجاب میں بورے والا کے قریب صوفی بزرگ بابا حاجی شیر کے مزار پر ملک بھر سے لائے گئے ذہنی مریض اپنی زندگی کے کئی موسم زنجیروں میں درختوں سے بندھے بسر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بیشترً افراد قابل تشخیص اور قابل علاج ذہنی امراض کا شکار ہیں لیکن یہاں پر زیادہ تر دیہی علاقوں سے آنے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہاں آ کر ان کے پیارے ایک دن صحت یاب ہو سکتے ہیں۔  مزار کے قریب ہی ایک ہسپتال بھی تعمیر ہے لیکن مزار پر سینکڑوں لوگوں کی موجودگی پاکستان میں ابھرتی جدید سائیکایٹری اور مذہبی نظریات کے درمیان تنازعے کی عکاسی کر رہی ہے۔ 
    ایک بزرگ زنجیروں سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے اور اس دوران مسلسل وہ کچھ بڑبڑا رہے تھے۔ ان کے پاس ہی بیٹھی ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ’یہ پاگل نہیں ہے ، جادو ٹونہ کرتا تھا اور اس پر جن کا سایہ ہے۔‘ تپتی دھوپ میں یہ افراد درختوں کے ساتھ جکڑے رہتے ہیں اور ان کے خاندانوں کو کسی معجزے کی امید نے جکڑ رکھا ہے۔ مزار پر دو دہائیوں سے کام کرنے والے نگران عطا محمد نے بتایا کہ گذشتہ چند سالوں سے یہاں آنے والے ’پاگلوں‘ میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’ان کو ہم لنگر دیتے ہیں، جگہ دیتے ہیں اور کیا سہولیات دیں، یہ تو پاگل ہیں۔ انھیں اسی طرح زمین پر بیٹھنا ہے اور جب ٹھیک ہو جائیں گے تو زنجیریں اپنے آپ کھل جائیں گی۔ یہ بابا جی کی دعا ہے۔‘ پاکستان میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل کا اندازہ عالمی ادارہ صحت کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جس کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد ذہنی امراض کا شکار ہیں۔

     ماہرین نفسیات کے مطابق ملک میں بگڑتے ہوئے ماحول جیسے سکیورٹی، غربت اور بے روزگاری جیسے سماجی عناصر کی وجہ سے آبادی کی بڑی تعداد کسی نہ کسی ذہنی مرض یا دباؤ کا شکار ہے۔ حکومتی ترجیحات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 18 کروڑ سے زیادہ آبادی کے لیے صرف پانچ ایسے سرکاری ہسپتال ہیں جہاں نفسیاتی امراض کا علاج ہوتا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کی تعداد 300 کے قریب ہے اور ایسے میں مجبور افراد اکثر پیری فقیری کو اپنی آخری امید مانتے ہیں۔ گو کہ بڑے شہروں میں نجی سطح پر نفسیاتی علاج کی سہولیات موجود ہیں لیکن عوام کی اکثریت یہ مہنگا علاج نہیں کروا سکتی۔
    ماہرین کے مطابق پاکستان میں ذہنی صحت کا مسئلہ جتنا بڑا ہے، اس سے نمٹنے کے ادارے اور وسائل اتنے ہی محدود ہیں اور سہولیات کے ساتھ ساتھ شعور کی واضح کمی ہے۔

    لاہور میں نفسیاتی اُمراض کے علاج کے لیے فلاحی ادارے فاؤنٹین ہاؤس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان رشید نے بتایا ’ہمارا معاشرہ ذہنی مرض میں مبتلا شخص کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ تو پاگل ہو گیا ہے، مینٹل کیس ہے وغیرہ وغیرہ اور گو کہ اکنامک فیکٹر بھی ایک رکاوٹ ہے لیکن سب سے پہلے آگاہی کے ذریعے اس سوچ کو بدلنا بہت اہم ہے۔‘ پنجاب کہ اس مزار پر بندھے ہوئے لوگ شاید پاکستان میں کروڑوں ذہنی مریضوں کی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جو اپنی دماغی اضطراب کی زنجیروں سے تب تک آزاد نہیں ہو پائیں گے جب تک معاشرتی اور ریاستی سطح پر ان کو قبولیت نہیں ملے گی۔ مزار پر لائے جانے والوں کے ساتھ اکثر ان کے لواحقین بھی پناہ گزینوں کی طرح وہیں بسیرا کر لیتے ہیں لیکن کئی مریض مزار کے ہی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ امید شاید ان کے گھر والوں کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور گھر والے ان کا۔ ایسا ہی ایک نوجوان مزار پر ہونے والی قوالی کی گونج میں دھمال ڈال رہا تھا۔ گلے میں لٹکتی زنجیروں کی آواز کے ساتھ اس کے پیر چل رہے تھے اور آنکھیں بند کیے وہ جھومے جا رہا تھا۔ ایک نگراں نے بتایا ’پتہ نہیں کب سے اسے یہاں چھوڑ گئے ہیں ، کس کا بیٹا ہے، اب یہ بس مزار کا ملنگ ہے۔

    صبا اعتزاز
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام
    بورے والا، پنجاب


    0 0

     بچے ہمیشہ ہنستے مسکراتے ہی اچھے لگتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں آنسو اور خوف دیکھنے والوں کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں اور اگر کوئی حساس فطرت کا مالک ہو تو اس کے لیے تو یہ نظارہ ناقابل برداشت ہی ثابت ہوتا ہے اور ایک تصویر اور ویڈیو نے دنیا بھر میں تہلکہ سا مچا کر رکھ دیا ہے۔ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کسی ایمبولینس کی نشست پر بیٹھا ہوا ہے اور بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ اس بات سے بے خبر ہے کہ خون اس کے چہرے پر پھیلا ہوا ہے۔
    بدحواس، مٹی میں لت پت اور الجھن میں مبتلا 5 سالہ عمر دقنیش کو کچھ سیکنڈ میں احساس ہوا اور پھر اس نے اپنے ہاتھ کو سر پر رکھ اس زخم کو چیک کیا جو شام کے شہر حلب میں جاری جھڑپوں میں آیا تھا۔

    اس بچے کو ایمبولینس میں بٹھا کر لے جانے کی تصویر اور ویڈیو کو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے دل اسے دیکھ کر تڑپ اٹھے۔ برطانوی روزنامے ٹیلیگراف کے ایک نمائندے عمر دقنیش کی تصویر کو ٹوئٹر پر شیئر کیا۔ اسی نمائندے نے علاج کے بعد بھی اس بچے کی ایک تصویر کو ٹوئیٹ کیا۔ اسی طرح یوٹیوب پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروپ حلب میڈیا گروپ نے ایک ویڈیو کو شیئر کیا، جس میں دہشت زدہ بچے کو عمارت سے ایمبولینس میں لے جاکر کرسی پر بٹھاتے ہوئے دکھایا گیا، اور وہاں ہی اسے احساس ہوا تھا کہ اسے چوٹ لگی ہے۔
    سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب کے علاقے القطرجی میں بدھ کو رات گئے حکومتی فورسز کی جانب سے فضائی حملے کیے گئے، جس سے تین افراد ہلاک اور بچوں سمیت متعدد زخمی ہوگئے۔ ننھے عمر کو ہسپتال لے جاکر نہلایا دھلایا گیا اور پھر اس کے سر کے زخم کا علاج کرکے چھٹی دے دی گئی، جبکہ اسی ہسپتال میں درجن بھر بچوں کا علاج بھی ہوا جو فضائی حملوں میں زخمی ہوئے۔ حلب کا مشرقی حصہ 2015 سے حکومت مخالف گروپس کے قبضے میں ہے جس پر روس اور شامی فورسز کی جانب سے حملے ہوتے رہتے ہیں۔
    عالمی تنظیم ڈاکٹرز ود آﺅٹ بارڈرز نے جولائی میں خبردار کیا تھا کہ ان فضائی حملوں سے طبی سہولیات فراہم کرنے والے چار اداروں کو ایک ہفتے کے اندر نشانہ بنایا گیا جس سے متاثرین کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔


older | 1 | .... | 78 | 79 | (Page 80) | 81 | 82 | .... | 147 | newer