Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 76 | 77 | (Page 78) | 79 | 80 | .... | 149 | newer

    0 0

    ٹی وی چینلز کے شور و غل میں عید الفطر بھی گذر گئی ،عجیب و غریب رپورٹیں اور جو ہے جو ہے کی رٹ نے دماغ ماؤف کر کے رکھ دیا، ایسے میں کسی اچھے پروگرام کی سرچ میں سرکاری چینل دیکھنے کا موقع ملا ، اس پر  عید کا خصوصی پروگرام اس لحاظ سے منفرد تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے راہ نما ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے اور ملک و قوم کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا عزم کرتے دکھائی دیے۔ گورنر خیبر پختون خوا اقبال ظفر جھگڑا اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ دلچسپ واقعات سنا رہے تھے، موسیقی بھی تھی اور پھر دہشت  گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کے لواحقین سے گفتگو نے وطن عزیز کے لیے اپنا تن من دھن قربان کرنے کے جذبے کو مزید تقویت دی۔

    پروگرام میں اگر کچھ نہ تھا وہ سر درد کرنے والے اشتہار تھے ممکن ہے کہ دوبارہ ٹیلی کاسٹ کرنے کی وجہ سے اشتہارات نہ ہوں اور پھر ماہانہ بجلی کے بل میں ہر پاکستانی پینتیس روپے ادا کر ہی دیتا ہے دل چاہے نہ چاہے رقم سرکار کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔ جب انٹینا تھا تب مجبوری تھی کہ ہر کوئی  ایک ہی چینل دیکھتا تھا ، جب کیبل کا زمانہ آیا تو نیوز چینلز اپنی ” بریکنگ نیوز” کی وجہ سے مجبوری بن گئے،  تاہم  پروگرام ختم ہوا تو اچانک خاتون کمپئر نمودار ہوئیں، یہ سدرہ عاصم تھیں جو ایک ایسی جگہ کھڑی تھیں کہ سرچنگ کرتی انگلیاں چینل بدل نہ سکیں۔ اولڈ ایج ہومز لاہور کے مناظرتو بھلے البتہ وہاں مقیم بزرگ شہریوں کی گفت گو دل دہلا دینے والی تھی۔ کئی بزرگ والدین جنھیں ان کے اپنے خود سے دور کسی اور کے حوالے کر گئے تھے، ماضی کی یادوں کے سہارے مستقبل کے چند دن گذارنے کی جستجو میں محو دکھائی دیے۔

    ستر سالہ بزرگ فرما رہے تھے کہ انھوں نے بڑی چاہ سے اپنی اولاد کی تربیت کی، بیٹیوں کی شادیاں کیں اور پھر ہر عید سے پہلے ٹرین کی چھت پر سفر کرتے ہوئے بیٹی کے سسرال آتے اور انھیں عیدی دیا کرتے کہ بیٹی کو سسرال والے کوئی طعنہ نہ دیں۔بیٹوں کی خوشیوں کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ، پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں اور 29 نواسے نواسیاں ہیں ،خواہش تھی کہ بیٹے پڑھ لکھ کر کچھ بنیں ،وہ سب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو گئے گھر بار کے مالک بن گئے ،مگر اپنے باپ کو اولڈ ایج ہومز چھوڑ گئے ہیں ،وہ اپنی اولاد کو برا بھلا تو کہہ سکتے ہیں لیکن بد دعا نہیں دیں گے کہ کہیں انھیں بد دعا لگ نہ جائے،اللہ اکبر!
    کاش ان بزرگ کی آنکھوں سے امڈتے آنسو بد بخت اولادکی خوشیاں چھین لیتے!
    دوسرے صاحب بولے کہ انھوں نے تیس سال بیرون ملک گذارے اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کر دیں،انھیں بہترین انگریزی اسکولوں میں تعلیم دلوائی ،اچھا کھلایا ، اچھا پہنایا پھرجب عمر ڈھلی تو اولاد انھیں اپنی خوشیوں کا کانٹا سمجھنے لگی کوئی انھیں اپنے پاس رکھنے کو تیار نہ ہوا اور منزل اولڈ ایج ہومز ٹھری!

    ایک بزرگ خاتون کہنے لگیں کہ شوہر کا انتقال ہو گیا ۔ بچوں نے جائیداد ان کے نام کرنے کا مطالبہ کیا انکار کرنے پر گھر سے نکال دیا!خاتون نے چند اشعار بھی پڑھے اور دیکھنے والوں پر عجیب کیفیت طاری کر دی۔ ایک اور والد سے گفت گو کے دوران اینکر توقع کر رہی تھیں کہ شاید وہ بدبخت اولاد کو بد دعا دیدے لیکن اس نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ توبہ کے دروازے اب بھی کھلے ہیں کاش وہ سمجھ جائیں۔ عید کے موقع پر اولڈ ایج ہومز میں مقیم سبھی اپنے پیاروں کے منتظر تھے یہ تو پتہ نہیں چل پایا کہ کوئی آیا یا نہیں مگر اس پروگرام سے مدر ڈے اور فادر ڈے منانے والوں کی حقیقت ضرور آشکارا کر دی۔ ایک طرف یہ دن منا کر یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے کہ اس دن والدین کو یاد رکھا جائے لیکن یہ دن منانے والے بھول گئے ہیں کہ ہمیں اپنے والدین کے لیے سال میں ایک دن نہیں بلکہ سال کے 365 دن منانے ہیں۔

    ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جو اپنے والدین کے بناء پروان ہی نہیں چڑھ سکتا اور ہر نسل کی کامیابیاں اس کی پہلی نسل سے مشروط ہوتی ہیں اور جب تک اپنی روایات و اقدار کو زندہ رکھنے والے موجود ہیں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑی واضح ہدایات دی ہیں۔ رب کائنات نے والدین کے حقوق کی ادائیگی کے لیے احسان کا لفظ استعمال کیا ہے فرمایا” اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو”جب اللہ نے حکم فرما دیا تو پیغمبردوجہاں نے بھی والدین کے لیے ادب و احترام اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ اور ان کی خدمت کی تاکید فرما دی اور سب سے زیادہ حسن سلوک کا مستحق ماں کو قرار دیا۔

    والدین کے لیے جو زندہ ہیں سات حقوق کثرت سے بیان کیے گئے ہیں دل و جان سے ان کی عزت و احترام کرنا ،حسن سلوک اور محبت و الفت کا معاملہ کرنا،شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ان کی اطاعت کرنا،ان کے احسانات اور کاوشوں کی قدر کرنا،ان کی ضروریات کو پورا کر کے انھیں راحت پہنچانا،ان کی شادابی اور لمبی عمر کے لیے دعا کرنا اور کثرت سے ان کی زیارت کرنا۔ کسی نے درست ہی کہا کہ اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں شریعت کی بات کرنے والے یہ بھول گئے ہیں کہ والدین کے جو حقوق شریعت نے متعین کیے ہیں سرمائے کی بنیاد پر قائم خود غرض معاشرے کے افراد اس کا عشر عشیر بھی فراہم نہ کر سکے ۔

    مجھے وہ ایک مختصر سی نظم یاد آ گئی  جس کا عنوان تھا مجھے ڈر لگتا ہے…کل رات بستر پہ مجھے…اک آہٹ نے چونکا دیا…اک نرم ہوا کا جھونکا،میری پیشانی کو چھو گیا…آنکھ کھلی تو ماں کو دیکھا…کچھ ہلتے لب، کچھ پڑھتے لب…میں دھیرے سے
    مسکرا دیا…ماں آج بھی راتوں کو اٹھ کر… میری پیشانی کو چومتی ہے…اور اپنے حصے کی سب دعائیں مجھ پر پھونکتی ہے… بس اتنا یاد ہے مجھے… اک عرصے پہلے بچپن میں،بس اک بار کہا تھا… ماں مجھے ڈر لگتا ہے!!!!
    شکریہ سدرہ عاصم اور مریم شاہ کہ آپ نے انسانیت کو جھنجوڑنے کی قابل قدر کاوش کی۔

    امجد عزیز ملک



    0 0

    مقبوضہ کشمیر میں انڈین پولیس نے بھی اپنی سپیشل فورسز کا ایک ونگ بنایا ہوا ہے جو ریگولر آرمی کی سپیشل فورسز کی طرز اور اس کی سطح کی ایک مسلح عسکری تنظیم ہے۔ 8 جولائی 2016ء کو جمعہ کا دن تھا کہ اس عسکری تنظیم نے کوکر ناگ (جنوبی مقبوضہ کشمیر) کے علاقے میں ایک گاؤں پر حملہ کیا جس کے ایک مکان میں برہان وانی اور اس کے دو ساتھی چھپے ہوئے تھے۔ اس مقابلے میں مکان کو بم مار کر تباہ کر دیا گیا اور اس میں تینوں کشمیری مجاہدین شہید ہو گئے۔ جب شہید وانی کی لاش اس کے آبائی گاؤں ترال (ضلع پلواما) میں برائے تدفین لے جائی گئی تو ساری وادی میں گویا آگ لگ گئی۔  یہ برہان وانی کون ہے جس نے کشمیری مزاحمتی تحریک میں نئی جان ڈال دی تھی؟

    برہان مظفر وانی شہید کی عمر 22 سال تھی۔ وہ 15 برس کا تھا کہ گھر سے بھاگ گیا اور حزب المجاہدین نامی تحریکِ آزادی میں شامل ہو گیا جس کا نصب العین مقبوضہ کشمیر کو بھارتی تسلط سے آزاد کروانا ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں برہان وانی نے تحریک آزادی کے ایک شعلہ نوا مقرر اور سرگرم کارکن کے طور پر اتنی شہرت حاصل کر لی کہ انڈین گورنمنٹ نے اس کے سرکی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کر دی۔ وانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے تحریک میں شامل ہونے کی ترغیب دی اور دیکھتے ہی دیکھتے درجنوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ ریاست میں بھارتی سیکیورٹی فورسز (آرمی، نیم مسلح افواج وغیرہ) برہان وانی کے حملوں سے عاجز آگئیں اور مرکز کو بارڈر پولیس کی مزید کمپنیاں/ بٹالینیں بھیجنے کی درخواست کی تاکہ اس تحریک کو کچلا جا سکے۔
    برہان وانی کے والد ایک سکول ٹیچر تھے جن کا نام مظفر احمد وانی ہے۔ اب وہ ہائر سیکنڈری سکول کے پرنسپل مقرر ہو چکے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا اور برہان وانی کا بڑا بھائی خالد مظفر وانی بھی گزشتہ برس بھارتی پولیس کے ہاتھوں شہید ہو گیا تھا۔ کہتے ہیں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کی تلاش میں جا رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔ خالد وانی کو تو وہیں شہید کر دیا گیا جبکہ باقی دو کو حراست میں لے لیا گیا۔ الزام لگایا گیا کہ خالد وانی، اپنے دوستوں کے ساتھ حزب المجاہدین جوائن کرنے جا رہا تھا! برہان مظفر وانی نے سوشل میڈیا کا زبردست استعمال کرتے ہوئے ایسی ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کیں اور کشمیری نوجوانوں کو تحریکِ آزادی میں شمولیت کی ایسی ایسی ترغیبات دیں کہ ریاستی حکومت اس نئی سوشل میڈیا تحریک کے سامنے بے بس نظر آنے لگی۔ اس کے علاوہ کشمیری مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک کی اس نشاۃ ثانیہ میں دو تین اور وجوہات و واقعات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

    آپ کو یاد ہوگا نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی مقبوضہ کشمیر کے یکے بعد دیگرے تین دورے کئے تھے۔ وہ سیاچن بھی گئے اور ٹروپس کی مادی، اخلاقی اور مالی دلجوئی کے وعدے کئے۔ مودی کی ترجیحات میں کشمیر کے مسئلے کو اولیت دینا، ان کے ماضی کے مسلم مخالف ڈاکٹرین کی ایک اور صورت تھی۔ دہلی نے مقبوضہ وادی میں دو اور بدعتیں بھی شروع کیں۔ دونوں کا تعلق نئی تعمیرات سے تھا۔ ہندو کو معلوم ہے کہ وادی کا علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ ہے اس لئے اس نے آبادی کی اس مساوات (ڈیمو گرافی) کو تبدیل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ پہلے سری نگر کے نواح میں ایک نئی کالونی آباد کرنی شروع کر دی جس کا نام ’’پنڈت کالونی‘‘ رکھا۔ وہاں کشمیر کے کٹر برہمنوں اور بھارت کے مختلف علاقوں سے پنڈتوں کو (مع ان کے خاندانوں کے) اس کالونی میں لاکر بسانے کی ترغیبات دیں۔ بھارت میں ویسے بھی نریندر مودی ’’ہندوتا‘‘ کے بل پر کانگریس کو شکست دے کر برسرِ اقتدار آئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی ’’سکیم‘‘ جاری رکھی اور مقبوضہ کشمیر کی مسلم آبادی کی اکثریت کا توڑ کرنے کے لئے پنڈت کالونی میں ہزاروں کٹر پنڈتوں اور پروہتوں کو لا کر بسانا شروع کر دیا۔

    برسبیل تذکرہ یہ اسی طرح کا حربہ ہے جیسا اسرائیل نے استعمال کر کے فلسطینی علاقوں میں نئی کالونیاں تعمیر کرنے میں اپنایا ہے اور وہاں یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل ہی نے انڈین گورنمنٹ کو یہ بات سجھائی ہے کہ کشمیر میں مسلمانوں کی عددی اکثریت ختم کرنے کے لئے نئی کالونیاں تعمیر کرو اور ان میں ہندو گھرانوں کو لاکر آباد کر دو۔۔۔ 20, 15 برس میں مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب معکوس ہو جائے گا! ۔۔۔اللہ اللہ خیر سلا!!

    انڈیا نے اسی طرح کا دوسرا حربہ یہ استعمال کیا کہ جموں و کشمیر میں صف بند اپنے فوجیوں کی رہائش گاہوں کی تعمیر کا بھی ایک وسیع و عریض پروگرام مرتب کیا اور اس میں ان بھارتی فوجیوں (افسروں اور جوانوں) کی رہائش گاہیں تعمیر کرنا شروع کر دیں جو پوری وادی میں گزشتہ سات عشروں سے مقیم ہیں۔ ان فوجیوں کو اتفاقیہ اور استحقاقیہ رخصتوں پر سال میں کئی بار بھارت کے مختلف حصوں میں بھیجنا پڑتا ہے اور نئے ٹروپس ان کی جگہ ٹرانسفر کرنے پڑتے ہیں۔ اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ جس طرح پاکستان کے مختلف گیریزنوں اور چھاؤنیوں میں عسکری فلیٹ اور مکانات بنے ہوئے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی ’’سینک کالونیاں‘‘ (Sainak Colonies) تعمیر کر دی جائیں اور ان میں ہندو اور سکھ افسروں اور جوانوں کے خاندان لا کر بسا دیئے جائیں۔ ان پنڈتوں اور فوجیوں کے بچوں اور دوسرے افراد خانہ کو وہ تمام سہولتیں دی جا رہی ہیں جن کا خواب وہ بھارت میں اپنے سابقہ شہروں میں رہ کر دیکھا کرتے تھے۔۔۔ دوسرے لفظوں میں آئندہ دس پندرہ برس میں اگر جموں و کشمیر میں رائے شماری بھی کروانی پڑی تو ہندو مسلم آبادی کا وہ تناسب جو 1947-48ء میں مسلمانوں کے حق میں تھا، تبدیل ہو کر غیر مسلموں (ہندوؤں، سکھوں اور ڈوگروں وغیرہ) کے پاس چلا جائے گا۔

    یہ سطور لکھتے لکھتے میرے ذہن میں یہ خیال بھی آیا ہے کہ ہم پاکستانی مسلمان فلسطینی مسلمانوں کے حق میں ہر طرح کے مظاہرے کرتے رہتے ہیں اور اسرائیل کے مظالم کو منظر عام پرلانے کے لئے بے تاب اور بے قرار رہتے ہیں لیکن میں نے آج تک یہ نہیں دیکھا کہ غزہ کی پٹی یا دریائے اردن کے مغربی کنارے پر بسنے والے فلسطینیوں نے کبھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں بھی کوئی آواز اٹھائی ہو۔۔۔۔ اسلامی اخوت کا یہ یکطرفہ مظاہرہ کیوں ہے اس کے بارے میں کوئی صاحب اگر مجھے بریف کر سکیں تو ان کا ازبس شکر گزار ہوں گا۔

    مقبوضہ کشمیر میں احتجاجات کا جو سلسلہ جاری ہے اس کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہندوؤں کی ایک اہم اور پوتر عبادت گاہ کی زیارت یعنی ’’امر ناتھ یاترا‘‘ بھی ملتوی کرنی پڑی ہے مزید یہ کہ ریاست نے صورت حال پر قابو پانے کے لئے مرکز سے مزید ٹروپس کی درخواست کر دی ہے، امتحانات منسوخ کر دیئے گئے ہیں، انٹرنیٹ اور موبائل کی سروسز بھی معطل ہیں، احتجاجات کی شدت جنوبی کشمیر کے اضلاع (اننت ناگ، پلواما، شوپیاں اور کلگام) میں زیادہ ہے اس لئے حزب المجاہدین نے پوری وادی میں آج (سوموار 11 جولائی 2016ء) ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ روز نامہ ’’ہندو‘‘ کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت ایک نئے قسم کے تشدد کی لہر کا منظر دیکھ رہی ہے، نوجوان طبقہ اب سیکیورٹی فورسز سے نہیں ڈرتا، کرفیو کی خلاف ورزیاں عام ہیں، ریاستی حکومت کی سیکیورٹی مشینری چونکہ اس طرح کے پُر تشدد مظاہروں کی توقع نہیں کر رہی تھی اس لئے مظاہرین اور پولیس کے درجنوں لوگ مارے گئے، یا زخمی ہو چکے ہیں، بہت سے برہمن ،پنڈت کالونی سے بھاگ چکے ہیں اور وہاں بہت سے مکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، کشمیری آبادی کا کثیر طبقہ، وانی کی شہادت پر شدید غمزدہ ہے۔

    کہا جا رہا ہے کہ وانی شہید لوگوں کے دلوں میں بستا تھا اور بستا رہے گا۔ بھارت کے سیکیورٹی اداروں نے پہلی بار برملا اعتراف کیا ہے کہ حزب المجاہدین اور تحریک آزادی کشمیر کی دوسری کسی شاخ کو لائن آف کنٹرول کے پارسے کسی اسلحہ و بارود کی سپلائی کی کوئی شہادت نہیں ملی یعنی یہ ’’لہر‘‘ خانہ ساز ہے۔۔۔ اور سب سے زیادہ معروضی اور متوازن تبصرہ ریاست کے ایک سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ کہہ کر کیا ہے: ’’متوفی برہان وانی کی لحد، اب حریت پسندوں کے عزم و حوصلے کی ایک نئی آماجگاہ بن جائے گی۔‘‘مسلم مظاہرین میں سے 100 سے زیادہ مجروحین کو سری نگر کے ’’مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال‘‘ میں لایا گیا ہے۔ باقی ہسپتالوں سے بھی ایسی ہی خبریں آ رہی ہیں۔ زیادہ تر کشمیری مسلمان ’’پتھریلی گن‘‘ سے زخمی ہوئے ہیں۔ (یہ ’’سٹون گن‘‘ ایک نئی قسم کا اینٹی مظاہرین ہتھیار ہے جس سے انسان مرتا تو نہیں لیکن شدید زخمی ہو جاتا ہے۔) جن 100 زخمیوں کو ہسپتال میں لایا گیا ہے ان میں 40 کی آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور ہسپتال کے ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ ان زخمیوں میں سے بیشتر اندھے ہو جائیں گے۔

    ممبئی اور پٹھانکوٹ کی طرح بھارت اب پاکستان پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ برہان وانی کو کسی پاکستانی ٹریننگ کیمپ میں ’’دہشت گردی‘‘ کی تربیت دی گئی ہے، نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کا اسلحہ اور گولہ بارود پاکستان سے لائن آف کنٹرول کی کسی زیر زمین سرنگ کے ذریعے کشمیر لایا گیا تھا۔ یہ ایسی تحریک ہے جو خود وادی کے باسیوں کے دلوں سے اٹھی ہے ۔ میں سوچتا ہوں کہ آج سے 51,50 برس پہلے اگست 1965ء میں جب آپریشن جبرالٹر لانچ کیا گیا تھا تو مقبوضہ کشمیرکی مساجد کے بہت سے خطیبوں نے خود جا کر انڈین آرمی یونٹوں کو خبر دی تھی کہ پاکستانی فوجی، ہماری مسجدوں میں چھپے ہوئے ہیں، ان کو آ کر پکڑ لو۔ چنانچہ ان کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ آپریشن (جبرالٹر) اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے لیکن 1965ء کی جنگ کے بعد اب کشمیریوں کی دو نسلیں جوان ہو چکی ہیں۔ برہان وانی شہید دوسری جوان نسل کا نمائندہ تھا جس نے آزادئ وطن کی خاطر اپنی جان قربان کر دی۔

    کل وزیر اعظم پاکستان نے بھارت کی اس وحشت پر جو بیان دیا ہے، نہ صرف پاکستان بلکہ ساری مسلم دنیا کو ان کی ہاں میں ہاں ملانی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ امر نہایت قابلِ مذمت ہے۔ برہان وانی کی شہادت پر مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف بھارتی فورسز نے جو کارروائی کی وہ غیر قانونی تھی اور اس میں ضرورت سے کہیں زیادہ فورس استعمال کی گئی ۔لیکن بھارت کی یہ درندگی جموں اور کشمیر کے دلیر اور بہادر لوگوں کو اس جدوجہد سے خوفزدہ نہیں کر سکتی جو وہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی آزادی کے لئے کر رہے ہیں!‘‘

    لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان


    0 0

    Confrontations and pitched battles between protesters and Indian armed forces have continued in Indian-administered Kashmir, despite a round-the-clock curfew imposed by authorities.Dozens of protesters were killed and hundreds wounded over the weekend after police and paramilitary troops opened fire on tens of thousands of Kashmiris who took to the streets to pay homage to the rebel leader Burhan Wani, who was killed on Friday. At least one police officer was also killed.

    Wani was the leader of Hizb-ul Mujahideen, a group fighting Indian control of the disputed region. He has been widely credited for reviving armed resistance in Kashmir, using social media such as Facebook to reach out to young Kashmiri men. K Rajendra Kumar, the director general of Jammu and Kashmir Police, told reporters that 100 police personnel had been wounded and that three went missing while quelling the protests. Activists and separatist leaders criticised the security forces' response to the protests, accusing them of using excessive force.









    0 0

    کتاب ’’فیوچر کرائمز‘‘ کے مصنف مارک گڈمین جو سائبر کرائمز کی روک تھام والی ایجنسیوں سے وابستہ رہے اور جنہوں نے بہت سے خطرناک افراد اور گروہوں کے نیٹ ورک ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ’’اپنی کتاب میں اعتراف کرتے ہیں کہ سائبر کرائمز سے وابستہ افراد عام طور پر آن لائن بزنس کی مروجہ ٹیکنالوجی سے بھی کچھ آگے کی ٹیکنالوجی سے آشنا ہوتے ہیں۔ وہ وہاں تک پہنچے ہوتے ہیں جہاں ان پر ہاتھ ڈالنے والے قانون کے محافظ بہت بعد میں پہنچتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ جرائم پیشہ لوگ نئی نئی ٹیکنالوجی مثلا ربوٹیکس، ورچوئیل ریالٹی،مصنوعی ذہانت،تھری ڈی پرنٹنگ، اور سن تھیٹک بیالوجی جیسے نئے علوم کی تکنیکس سے آشنا ہیں۔ مجرموں کے یہ منظم گروہ اور دہشت گرد جدید ٹیکنالوجی سے پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ 

    مصنف نے ٹیکنالوجی کے انسانی تعمیر وترقی میں انتہائی اہم کردار اور اس کے شاندار مستقبل پر یقین رکھنے کے باوجود ٹیکنالوجی کے ساتھ چمٹی ہوئی تمام برائیوں اور آلائشوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ دنیا بھر کے انسانوں کے آن لائن رابطوں اور تبادلہ معلومات سے جو شاندار نتائج حاصل ہورہے ہیں انہوں نے صدیوں پہلے سے انسان کی طرف سے جدید تر ٹیکنالوجی کے دیکھے گئے خوابوں کو حقیقت میں بدل دیا ہے،لیکن اس وقت انفرمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ لاکھوں لوگ مختلف مقاصد کے لئے منفی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    یہ لوگ اپنے منفی مقاصد کے لئے ہر ماہ بیس لاکھ کے قریب تخریبی پروگرام تیار کرتے ہیں، ہر روز انٹرنیٹ اور کمپیوٹرز پر موجود لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے دو لاکھ کے قریب کوششیں کی جاتی ہیں۔ جرائم پیشہ گروہوں کے علاوہ کمپیوٹر سافٹ وئیر یا نیٹ ورکس پر کام کرنے والے بہت سے لوگ شرارت کے موڈ میں دوسروں کو پریشان کرنے کے لئے نت نئی حرکتیں کرتے ہیں ۔ بڑی کمپنیوں کے ڈیٹا کو تحفظ دینے کے لئے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بہت سے ادارے کام کررہے ہیں، اس کام نے ایک بڑی انڈسٹری کی حیثیت حاصل کررکھی ہے 249 آن لائن ڈیٹا کا تحفظ کرنے والے ان اداروں کی سالانہ آمدنی ڈیڑھ کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے،جو امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کے مجموعی سالانہ بجٹ سے زیادہ ہے۔
    یہ واضح ہے کہ جرائم پیشہ 249 ہیکرز اور دہشت گرد موجودہ زمانے کے آن لائن رابطوں ہی کو عام لوگوں، اداروں اور حکومتوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ ان کے مقاصد میں مال بنانے سے لے کر سیاسی مقاصد اور دہشت گردی شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی کی غیر محفوظ ڈھال کے پیش نظر ان لوگوں نے خود کوایک خوفناک طاقت ثابت کیا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ مجرمانہ کارروائیاں بعض حکومتوں کے ایما پر بھی دوسرے ملکوں کے خلاف ہورہی ہیں۔ مئی2013ء میں امریکی حکومت نے الزام عائد کیا کہ چین امریکہ کے اہم دفاعی اور حکومتی نظام کی انفرمیشن چرانے کا ذمہ دار ہے۔ آہتہ آہستہ امریکیوں کو یہ بھی معلوم ہو ا کہ ان کے تین کھرب ڈالر کے دفاعی پروگرام F- 35 ، میزائل ڈیفنس سسٹم ،بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز، کمبیٹ شپ اور بعض دوسرے دفاعی سسٹمز کے راز چرا لئے گئے ہیں۔ امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی رپورٹ کے مطابق چین نے خفیہ طور پر ایک لاکھ اسی ہزار افراد پر مشتمل سائبر جاسوسوں اور جنگجوؤں کی ایک فورس تیار کررکھی ہے جو کہ امریکہ کے صرف ڈیفنس نیٹ ورک کے خلاف نوے ہزار کمپیوٹر حملے سالانہ کررہی ہے۔

    ایسے حملوں کے امریکی سلامتی پر اثرات چونکا دینے والے ہیں۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ اس طرح چین کی طرف سے امریکہ کے اہم دفاعی پروگراموں کے بلیو پرنٹس حاصل کرلینے سے ان پروگراموں کے کام کی نوعیت کے متعلق تمام اہم معلومات چین کو حاصل ہوگئی ہیں۔ اس طرح چین نے خود اپنے ہاں اس طرح کی ٹیکنالوجی کے لئے تحقیق پر خرچ کئے جانے والے اربوں ڈالر بچا لئے ہیں۔امریکیوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے ایک سو تین ملکوں میں سائبر جاسوسی کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جسے چین میں موجود سرورز کے ذریعے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ امریکہ کی سائبر سیکیورٹی فرم میڈیانٹ نے الزام عائد کیا کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ایک یونٹ کی طرف سے امریکی کمپیوٹر نیٹ ورکس پر حملے کئے جاتے ہیں ۔ اس یونٹ کا ہیڈ کوارٹر شنگھائی ڈسٹرکٹ میں ایک لاکھ تیس ہزار مربع فٹ کی ایک بارہ منزلہ عمارت میں ہے۔ جس میں موجود ہزاروں ملازم دن رات کام کررہے ہیں۔

    ان کا کام دنیا بھر کی حکومتوں، کمپنیوں اور افراد کے کمپیوٹرز سے معلومات چوری کرنا ہے۔ ایک اور امریکی کمپنی اکامائی کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے سائبر حملوں سے اکتالیس فیصد صرف چین کی طرف سے کئے جاتے ہیں۔ ان تمام الزامات کے باوجود چین کی طرف سے ایسے حملوں میں کسی طرح ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ایسے الزامات کی صورت میں چینی حکومت کی طرف سے ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ چین ہرطرح کے سائبر حملوں کے سخت خلاف ہے اور سائبر سپیس کو محفوظ بنانے کے لئے دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ ایف بی آر کے ایک سابق ڈائریکٹر رابٹ مولر کے بقول صرف چین ہی نہیں بلکہ دنیا کے ایک سو آٹھ ممالک میں باقاعدہ منظم سائبر حملوں کے یونٹ قائم ہیں جو دوسرے ممالک کے انڈسٹریل راز اور دوسری اہم تنصیبات کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔

    اسی طرح کا ایک حملہ2013ء کے اواخر میں کٹنگ سورڈ آف جسٹس نامی فرضی نام سے ہیکرز نے سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرامکو پر کیا۔ یہ حملہ کمپنی کے اپنے کسی ملازم کے ذریعے کیا گیا جس نے ایک وائرس والی ڈرائیو کمپنی کے کمپیوٹر نیٹ ورک سے منسلک ایک کمپیوٹر میں ڈال دی۔ شمعون نامی یہ وائرس جنگل کی آگ کی طرح آرامکو کے تیس ہزار کمپیوٹرز میں داخل ہوگیا۔اس حملے کا مقصد آرامکو کی تیل کی پیداوار بند کرنا تھا  جس میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تاہم ان کمپیوٹروں میں موجود کمپنی کا ڈیٹا ختم کردیا گیا ۔ پچہتر فیصد کمپیوٹرز کی ہارڈ ڈرائیوز کو بالکل صاف کردیا گیا جس سے کمپنی کی سپریڈ شیٹس، ای میل فائیلزاور ددسر ا ریکارڈ ضائع ہو گیا۔ ان فائیلز کی جگہ صرف جلتا ہوا امریکی جھنڈا نظر آرہا تھا۔ امریکہ کی طرف سے اس حملہ کے پیچھے ایرانی ہاتھ قر ار دیا گیا۔

    امریکی ماہرین کی طرف سے بہت سے امریکی بنکوں پر ایسے حملوں کے پیچھے بھی ایرانیوں کی نشاندہی کی گئی ۔2007ء میں ٹی جے میکس نام سے ایک نیا خوفناک سائبر حملہ ہوا،جس میں ساڑھے چار کروڑافراد ا ور ان کا مالیاتی ڈیٹا متاثر ہوا۔ اسی سلسلے کا ایک بڑا حملہ جون 2011ء میں سونی کے کمپیوٹر گیمز نیٹ ورک PlayStation پر ہوا۔ جس نے سات کروڑ ستر لاکھ آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرلی۔ اس حملے کا شکار ہونے والوں میں کریڈٹ کارڈ نمبرز، نام، ایڈریس، تاریخ پیدائش وغیرہ کی معلومات تھیں۔ اس حملے کی وجہ سے پلے سٹیشن نیٹ ورک کئی روز تک آف لائن رہا، جس سے دنیا بھر میں اس کے استعمال کرنے والے گاہک متاثر ہوئے اور کمپنی کو ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا۔ اسی طرح روس کے ایک سترہ سالہ ہیکر نے2013ء میں ٹارگٹ نامی امریکی سٹورز کی شاخوں سے گیارہ کروڑ اکاؤنٹس کا کریڈٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری کرلیا۔ اس بہت بڑے سائبر حملے نے بیک وقت امریکہ کی ایک تہائی آبادی کو لوٹنے کا اہتمام کیا۔ 

    دنیا کی تاریخ میں ڈاکہ زنی کا اتنا بڑا واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا کہ ایک ہی وقت میں گیارہ کروڑ افراد کو لوٹ لیا جائے۔ اس بہت بڑے سائبر حملے سے ہونے والے وسیع تر نقصانات کا اندازہ قارئین خود کرسکتے ہیں۔ اس واقعہ کے ایک ہی سال بعد اگست 2014ء میں اس سے بھی بڑا ایک سائبر حملہ روس کے ایک ہیکرز گروپ نے کیا ۔ جنہوں نے کریڈٹ اور اے ٹی ایم کارڈز استعمال کرنے والے ایک ارب بیس کروڑ افراد کے نام ،پاس ورڈز اور دوسرا ہر طرح کا خفیہ ڈیٹا حاصل کرلیا۔ اس کی اطلاع امریکی ادارے ہولڈ سیکیورٹی نے دی۔ اس کے مطابق ہیکرز نے یہ سب ڈیٹا چارلاکھ بیس ہزار ویب سائٹس سے چرایا۔

    مصنف ہر طرح کے گھناؤنے سائبر کرائمز میں مصروف انڈرورلڈ کے ایسے ڈانز کا ذکر بھی کرتا ہے جنہوں نے دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں موجود ہزاروں کمپیوٹرزکی مدد سے اپنی انڈر ورلڈ ایمپائر قائم کررکھی تھی اور جو اپنے گروپ کے کسی بھی فرد کو اپنی ٹیم کے قواعد سے ذرا بھی ادھر ادھر کھسکنے کے جرم میں قتل کرادیتے تھے۔ مصنف کا کہنا ہے کہ کمپیوٹرز اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والے عام لوگ اصل انٹرنیٹ دنیا کے پانچ فیصد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ پچانوے فیصد انٹرنیٹ سپیس جرائم پیشہ افراد کے زیر استعمال ہے۔ ان جرائم پیشہ افراد کی سائبر انڈر ورلڈ اس قدر وسیع اور گہری ہے کہ عام لوگ اس کا تصور کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

    ڈاکٹر شفیق جالندھری


    0 0

    وہ ان سب کا محبوب ساتھی تھا جسے جبرمسلسل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں ظالم حکام نے محبوس کررکھا تھا۔ اب اس کے ساتھی اس کی رہائی کے لئے فراہمی انصاف کے منتظر تھے، مگر جب قاتل ہی منصف بن جائیں تو عدل نا پید ہو جاتا ہے۔ ریاستی حکام نے عبدلقدیر کا مقدمہ بند کمرے میں چلانے کا فیصلہ کررکھا تھا، مگر عبدالقدیر کے ساتھی اس غیر منصفانہ فیصلے پر معترض ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے مقدمہ کھلی عدالت میں چلانے کا فیصلہ کر ڈالا۔ یوں کہہ لیجئے کہ نشے میں بدمست ریاستی حکام نے اس اصولی مطالبے کونظرانداز کر کے ثابت کردیا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ قدرت مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جانے والی ایک عظیم قربانی کے لئے میدان سجارہی تھی۔

    دراصل جموں و کشمیر کے مسلمان محکومین طویل مدت سے ظلم کی چکی میں پستے چلے آرہے تھے۔ انگریز راج اور پھر 1846ء میں معاہدۂ امر تسر کے تحت ریاست کی ایک ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت، دونوں مسلمانان جموں و کشمیر اور ان کے مذہبی عقائد کے لئے پیام اجل ثابت ہوئے تھے، مگر 1925ء میں جب مہاراجہ سنگھ جیسا عیار، مکار اور بدکار شخص تخت حکومت پر براجمان ہوا تو ستم اپنی انتہا کو جاپہنچا۔ ہری سنگھ کے زیرِ سایہ ڈوگرہ ہندو ملازمین نے مسلمانان جموں وکشمیر کے مال ودولت اورجان وعزت پر خوب ہاتھ صاف کئے اور ان پر عرصۂ حیات تنگ کردیا، مگر یہ ریاست گردی اس وقت بامِ عروج کو جاپہنچی جب مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر بھی قدغن لگائی جانے لگی۔
    1931ء میں پہلے ایک مسجد شہید کی گئی، مسلمانوں کے امام منشی محمد اسحاق کو ڈوگرہ ڈی آئی جی رام چند نے زبر دستی نماز عید کے خطبے کی ادائیگی سے روکا، پھر جب ایک پولیس کانسٹیبل نے جان بوجھ کر قرآن پاک کی بے حرمتی کی تو مسلمانوں کے غصے کا آتش فشاں پھٹ پڑا۔ ریاست گیر مظاہروں میں مسلمانوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ عبدالقدیر نامی نوجوان نے جگہ جگہ جلوسوں میں تقاریر کیں، جن سے ڈوگرہ حکومت بوکھلا گئی اور اسے گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا آغاز کردیا۔ ریاست کے مسلمان کھلی عدالت میں مقدمے کی سماعت چاہتے تھے، مگرریاستی حکام بند کمرے میں ہی عبدالقدیر کا کام تمام کرنا چاہتے تھے، لہٰذا 13جولائی 1931ء کو اپنے اس مطالبے کے حق میں مسلمانانِ ریاست نے جیل کا محاصرہ کرکے مظاہرہ کیا۔

    مظاہرے کے دوران نمازِ ظہر کا وقت آن پر پہنچا۔ ایک مسلمان نوجوان نے کھڑے ہوکر اذان دینا شروع کی، ابھی ایک کلمہ بھی مکمل نہیں ہونے پایا تھا کہ ایک ڈوگرہ سپاہی نے نوجوان پر گولی چلا دی اور وہ نوجوان وہیں شہید ہوگیا، مگر سبحان اللہ! وہ کیا جذبہ تھا کہ ہجوم میں سے ایک اور نوجوان اُٹھ کھڑا ہوااور وہیں سے اذان کا سلسلہ شروع کیا جہاں سے اس کے ساتھی کی شہادت پر منقطع ہوا تھا۔ دوبارہ گولی چلی اور یہ جانباز بھی شہید ہوگیا، پھر ایک اور نوجوان نے اٹھ کر وہیں سے اذان شروع کی جہاں اس کا پچھلا ساتھی چھوڑ گیا تھا، ایک اور گولی چلی جو اس کے سینے کا مقدر ٹھہری اور اس نوجوان کو بھی منصبِ شہادت پر فائز کر گئی۔

    چشمِ فلک تادیر شہادتوں کا یہ منظر دیکھتی رہی۔ بعض راویانِ روایاتِ سلف کے نزدیک تکمیل اذان تک اکیس (21)،جبکہ بعض حاکیانِ حکایاتِ شاہانِ خلف کے نزدیک ستائیں(27) مسلمان قرآنی آیت (ترجمہ:اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں، انہیں مردہ مت کہو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں) کی عملی تفسیر بن کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔ مجاہدین آزادی کی اس فقید المثال قربانی کی یاد میں اب بھی ہر سال 13جولائی کو ’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ منایا جاتا ہے۔ تحریک آزادی، کشمیر اپنے دامن میں اس طرح کی بے شمار قربانیوں کو سمیٹے ہوئے ہے اور ان میں روز بروز اضافہ بھی ہوتا چلا جارہا ہے۔ ہندو بنئے، بالخصوص انتہا پسند بھارتی جنتا پارٹی کے شرپسند غنڈوں کی حکومت کا عالمی دہشت گرد ریاست اسرائیل کے نقش قدم پر چلنا عین فطری عمل ہے۔ ’’گیدڑ کی موت آئے تو وہ شہرکی طرف بھاگتا ہے‘‘کے مصداق بھارتی حکومت بھی کشمیر میں اسرائیل کی طرز پر ہند وپنڈتوں اور سابقہ فوجیوں کے لئے الگ رہائشی کالونیاں تعمیر کرنے کے لئے 350 کنال اراضی حاصل کر رہی ہے۔ حقائق سے چشم پوشی تو اختیار کی جاسکتی ہے، مگر انہیں بدلا ہر گز نہیں جاسکتا ۔

    اسرائیل کی پیروی میں کالونیاں تعمیر کر کے بھارت جلتی پر تیل ڈال رہا ہے، مگر بھارت کو شاید یہ ادراک نہیں مجھے اسی آگ میں نئی دلی کے محلات جلتے نظر آرہے ہیں۔ یوں گمان ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنی قبر آپ کھودنے پر تُلی ہوئی ہے، جبکہ ریاست کی کٹھ پتلی حکومت جوبی جے پی کی اتحادی بھی ہے، اس شرمناک فعل کی انجام دہی میں مرکزی حکومت کے شانہ بشانہ کام کررہی ہے۔ کبھی کبھی تو دل چاہتا ہے کہ بھارتی حکومت کی ان ظالمانہ پالیسیوں کو بہ نظر استحسان دیکھوں کہ انہی کی بدولت آج تحریک آزادی اپنے جوبن پر ہے اور کامیابی کے بہت قریب ہے۔ انشاء اللہ! اب دیکھئے ناں کہ بھارتی مظالم کے ناجائز قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے وہ کشمیری مسلمان قائدین جو گزشتہ کافی عرصے سے ہزار جتن کے باوجود متحد نہیں ہو رہے تھے،سب آج ان مجوزہ کالونیوں کے خلاف متحد ہوگئے ہیں۔ اس اتحاد کا سہرا بھارتی حکومت ہی کے سر ہے۔

    بھارت اس طرح کے منصوبوں کے بدلے میں مسلمانانِ کشمیر سے کیا توقع رکھتا ہے۔۔۔ کہ وہ ان مجوزہ کالونیوں کے رہائشیوں کے راستے میں ناریل پھوڑیں؟ انہیں پھولوں کے ہار پہنائیں؟ یا ان کی آرتی اتاریں؟ یقیناً نہیں! مسلمانانِ کشمیر ان کالونیوں کو فوجی چھاؤنیاں سمجھنے میں صدفیصد حق بجانب ہیں۔ سینک کالونیوں کی شکل میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔ اگر بھارت کی نیت درست ہے تو کشمیری پنڈتوں کو ان کے گھروں میں کیوں نہیں آباد کیا جارہا ، حالانکہ ان کی جان واموال کو بھی کوئی خطرات لاحق نہیں؟ جبکہ کشمیری مسلمان ان پنڈتوں کو خوش آمدید کہنے کو بھی تیار ہیں؟ اب تو کئی ہندو پنڈت خود ان رہائشی کالونیوں کی مخالفت میں میدان میں نکل آئے ہیں؟ لامحالہ کہنا پڑتا ہے کہ اس مذہبی اقلیت کو زبر دستی اس لئے الگ رکھا جارہا ہے تاکہ مسلمان آبادیوں کو بے خوف وخطر نشانہ بنایا جاسکے۔ چانکیہ نے پراپیگنڈے کو سیاست کی بنیاد قرار دیا تھا، پس ہندو بنیا اس کا خوب استعمال کرتا ہے۔ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے ایک افسر نے کمال بے شرمی کے ساتھ مجاہدین آزادی پر یہ شرمناک الزام لگایا کہ وہ امرناتھ یا ترا کے یاتریوں پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں، غالباً وہ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ کشمیر میں مذہبی اقلیتیں غیر محفوظ ہیں، مگر حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی چند روز قبل منظر عام پر آنے والی ویڈیو نے بھارتی حکام کے اس بے بنیاد پراپیگنڈے کی قلعی کھول کررکھ دی ہے۔

    اس ویڈیو میں برہان نے یاتریوں پر حملے کے ارادے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاتری اپنی مذہبی رسومات ادا کررہے ہیں، جن سے ہمیں کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندو پنڈت باہر گئے ہوئے ہیں، وہ واپسی پر ہمیں اپنا محافظ پائیں گے، مگر مجوزہ کالونیاں ہمیں قبول نہیں۔ مجاہدین آزادی مذہبی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ہیں، جبکہ بھارت کی دہشت گرد حکومت ان پر انتہا پسندی کا الزام دھرتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتی۔ بھارتی گجرات کے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے والے شدت پسند بھارتی وزیر اعظم نے چند روز قبل اپنے ان داتا امریکہ بہادر کی سرزمین پر خطاب کرتے ہوئے بالواسطہ پاکستان کے خلاف خوب زہر اگلا اور کہا کہ ’’ہمارے ہمسایہ ملک میں دہشت گردی پروان چڑھ رہی ہے‘‘۔ حقائق کو بری طرح مسخ کرنے والے بھارتی وزیر اعظم مودی پاکستان پر الزام تراشی کرتے ہوئے غالباً یہ بھول گئے کہ سات لاکھ بھارتی مسلح فوج کشمیر میں لُڈو نہیں کھیل رہی، بلکہ وہاں کے مسلمانوں کا جینا حرام کئے ہوئے ہے۔

    محترم قارئین! اگر بھارت کو مکمل تباہی سے بچنا ہے تو اسے تاریخ سے ضرور سبق سیکھنا چاہیے۔ تقریباً دو صدیاں قبل فرانس نے محض تیس ہزار کے لشکر سے الجیریا پر قبضہ کیا، مگر چونکہ یہ قبضہ الجریا کے سوادِ اعظم کی خواہشات کے برعکس تھا، لہٰذاایک و قت ایسا بھی آیا جب فرانس کی چھ لاکھ نفوس پر مشتمل فوج بھی اس قبضے کو قائم رکھنے میں ناکام ہوگئی۔ بھارت کو سمجھنا چاہیے کہ وہ سات لاکھ کجا، سات کروڑ فوجی درندے بھی مقبوضہ وادی کے مظلوم مسلمانوں پر مسلط کردے، تب بھی بالآ خر آزادی کشمیریوں کا مقدر بن کر رہے گی! انشاء اللہ! ۔۔۔برسبیل تذکرہ یہ کہنا بھی معقول ہوگا کہ بھارت کشمیری مسلمانوں کے خلاف جتنی دولت استعمال کررہا ہے، اگر اسی دولت سے اپنے بھوکے ننگے عوام کی حالت سنوارنے کے منصوبے شروع کرلے توکچھ اور نہیں تو کم از کم کلکتہ کی سڑکوں سے آدھے بھکاری بآسانی ختم ہو سکتے ہیں۔کشمیری مسلمان ہمیشہ سے سامرا جیت کے خلاف ناقابلِ تسخیر سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوتے چلے آئے ہیں۔ بندوق کی گولی اورخون کی ہولی سے بندۂ مومن کے افکار کا قبلہ ہرگز نہیں بدلا جاسکتا، البتہ جبروتشدد سے اس کے نظریات ضرور مستحکم ہو جاتے ہیں۔ 1931ء کے عبدالقدیر سے لے کر 1984ء کے مقبول بٹ، مقبول بٹ سے لے کر 2013ء کے افضل گرو تک ، افضل گرو سے لے کر 2016ء کے برہان وانی تک مجاہدین آزادی نے ہمیشہ یہی ثابت کیا کہ ظالم چاہے انگریز ہو، چاہے ڈوگرہ راج ہویا بھلے ہی بھارت ہو۔۔۔ وادی کشمیر کے غیور مسلمان امن و آزادی سے کم کسی شے کو قبول نہیں کریں گے۔ انشاء اللہ!

    حمزہ حفیظ


    0 0
  • 07/13/16--07:03: Kashmir Martyrs' Day
  • Martyrs' Day is observed in Kashmir in remembrance of the people killed on 13 July 1931 by the state forces. On the day Kashmiris were agitating outside the jail premises, at Srinagar, where Abdul Qadeer was tried on the charge of terrorism and inciting public against the Maharaja of Kashmir.




    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر برہان وانی کی موت کے بعد سے کشمیر جیسے ابل پڑا ہو۔ ابھی تک وادی کشمیر میں پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس اور سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 36 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 1500 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں جنھیں علاج کے لیے سرینگر کے ہسپتالوں میں لایا جا رہا ہے۔ سرینگر کے شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں سینکڑوں کی تعداد میں زخمی داخل کیے گئے ہیں۔ یہاں کسی کو چھرّے لگے ہیں تو کوئی آنسوگیس کے شیل لگنے سے یا پھرگولی لگنے سے زخمی ہونے کے بعد داخل کیا گيا ہے۔
      
    ہسپتال کے ایک وارڈ میں تقریبا 60 زخمی ہیں جن میں سے بیشتر نوجوان ہیں جنھیں مظاہروں کے دوران گولیاں لگی ہیں۔ اننت ناگ کے ایک ایسے ہی نوجوان نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ مظاہروں کا حصہ نہیں تھے۔
    ان کا کہنا تھا: ’جب میں نے یہ خبر سنی کہ برہان وانی ہلاک کر دیے گئے تو یہاں لوگ سڑکوں پر مظاہرہ کرنے لگے۔ اسی دوران سکیورٹی فورسز اور نوجوانوں میں جھڑپیں شروع ہوئیں۔ میں دودھ لینے کے لیے نکلا تھا جس دوران میری آنکھ میں چھرّا لگا۔ میں گذشتہ چار روز سے ہسپتال میں ہوں۔ میں ایک آنکھ سے ابھی نہیں دیکھ پا رہا ہوں۔‘
     
    اننت ناگ کے ہی ایک اور 21 سالہ نوجوان گذشتہ پانچ دنوں سے سرینگر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ ہسپتال میں موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس نوجوان کے پیٹ اور دونوں بازوؤں میں گولی لگی ہے۔ جس وقت انھیں گولی لگی اس وقت وہ سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے۔ انھوں نے کہا: ’جیسے ہی برہان کی موت کی ہم نے خبر سنی تو ہم سے رہا نہیں گیا۔ کئی لڑکے سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہے تھے اور وہ ہم پر گولیاں برسا رہے تھے۔ اس دوران مجھے بھی گولی لگی۔ اب کشمیر کا مسئلہ حل ہونا چاہیے۔ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘
     
    ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 130 زخمی ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر چھرے لگے ہیں اور جن میں 10 سے 15 زخمیوں کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ ریزیڈسنز ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان ڈاکٹر عادل کہتے ہیں: ’یہاں زخمیوں کی بڑی تعداد ایسی لائی گئی جن کے جسم کے اوپری حصوں پر چھرے لگے ہیں۔ ایک چار سالہ بچی کو بھی چھرّا لگا ہے۔ پانچ نوجوانوں کی حالت اب بھی نازک ہے۔ جن زخمیوں کو یہاں پر لایا گیا ان میں سے 80 فیصد ایسے تھے جن کی عمریں 18 سے 20 برس کے درمیان ہے۔‘ایک زخمی کی گذشتہ چار دن سے دیکھ بھال کرنے والے بشیر احمد کہتے ہیں: ’گذشتہ چار دن سے میں نے یہاں جس کو بھی دیکھا ہے اس کے سر، چہرے، سینے یا پھر پیروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جو بھی زخمی یہاں لایا گیا اس کے جسم کے اوپری حصے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ سکیورٹی فورسز انھیں ہلاک کرنا چاہتے تھے۔‘


    0 0

    امریکی صدر اوباما فرما رہے تھے: ’’مجھے پختہ یقین ہے کہ یہ بات ہمارے
    قومی مفاد میں ہے کہ ہم اپنے افغان ساتھیوں کو کامیاب ہونے کا بہترین موقع فراہم کریں۔ بالخصوص اِس تناظر میں کہ ہم نے سالہا سال تک افغانستان میں خون پسینہ بہایا ہے اور بے بہا سرمایہ لگایا ہے۔ مَیں آج جو فیصلہ کر رہا ہوں وہ میرے جانشین کو نہ صرف یہ کہ مستقبل کی مسلسل پیشرفت کے لئے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرے گا، بلکہ دہشت گردی کے خطرے کو، وہ جہاں سے بھی سر اُٹھا رہا ہو، جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی لچک مہیا کرے گا۔ بطور صدر اور بطور کمانڈر انچیف میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں دوبارہ اپنی قوم پر دہشت گردانہ حملے کی پلاننگ کے لئے افغانستان کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دوں گا۔ میں اِس بات پر بھی پختہ یقین رکھتا ہوں کہ افغانستان کا دفاع کرنے کا فریضہ افغانوں کا اپنا ہے۔ ہم صرف ان کی صلاحیتوں کو ٹریننگ دینے پر زور دے رہے ہیں۔ ہم اس ملک میں زمینی جنگ کو ختم کر چکے ہیں اور یہاں سے اپنے90 فیصد ٹروپس واپس امریکہ لا چکے ہیں، لیکن جہاں ہم امن کے لئے کوشاں ہیں وہاں ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ دُنیا میں رونما ہونے والے حقائق کا ادراک کریں۔ ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ افغانستان میں ہماری ایک بہت بڑی چیز داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ یہ وہ مُلک ہے جہاں القاعدہ دوبارہ قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے اور جہاں داعش (ISIS) اپنی موجودگی میں اضافہ کر رہی ہے۔‘‘
    جب چند روز پہلے امریکی صدر یہ نوید اپنی قوم کو (بلکہ ساری دُنیا کو) سنا رہے تھے تو ان کے دائیں طرف وزیر دفاع آش کارٹر کھڑے تھے اور بائیں جانب چیئرمین جوائنٹ چیف، جنرل جوزف ڈن فورڈ ہاتھ باندھے کھڑے اپنے کمانڈر انچیف کے ہر جملے پر سر ہلا ہلا کر اس کی توثیق کر رہے تھے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ: ’’میرے قومی سلامتی کے مشیر نے سفارش کی ہے کہ میں اپنے اس سابق وعدے کے برعکس کہ جس میں، میں نے کہا تھا کہ 2016ء کے اواخر تک امریکی ٹروپس کی تعداد 9800 سے گھٹا کر 5500 کر دی جائے گی، نظر ثانی کروں۔ آج کل جنرل جان نکلسن جونیئر، افغانستان میں امریکی (اور ناٹو) فورسز کے کمانڈر ہیں، ان کا بھی تجزیہ ہے کہ حالیہ ایام میں افغانستان میں طالبان کے حملے تیز تر ہونے لگے ہیں۔ اس بنا پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ افغانستان سے صرف 1400 ٹروپس کو امریکہ واپس بلا کر باقی 8400 کو وہاں مقیم رکھا جائے۔ افغان سیکیورٹی فورسز کو ٹریننگ دینے کا مشن فی الحال ادھورا ہے اس لئے امریکی تربیتی ٹروپس کی تعداد میں یکدم زیادہ کمی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

    قارئین کو یاد ہو گا کہ گزشتہ ماہ اوباما نے یہ احکامات بھی صادر کئے تھے کہ افغانستان میں جب بھی ناٹو/ امریکی فورسز کو خطرہ ہو تو خواہ وہ سپیشل آپریشن مشن ہو یا نہ ہو یا کوئی تربیتی مشن ہو تو موقع کا کمانڈر امریکی فضائیہ کو طلب کر سکتا ہے۔ پاکستانی میڈیا میں اس پہلو پر کبھی بحث مباحثہ نہیں کیا جاتا کہ افغانستان میں ایک امریکی مشیر جان سپوکو (John Spoko) بھی ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ اپنے عہدے کے لحاظ سے وہ ’’انسپکٹر جنرل برائے تعمیر نو افغانستان‘‘ کہلاتے ہیں۔ ان کی ایک حالیہ رپورٹ جو کانگریس کو پیش کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ نہ خود امریکہ اور نہ ہی کوئی امریکی اتحادی یہ جانتا ہے کہ فی الوقت افغانستان میں آرمی اور پولیس سولجرز کی اصل تعداد کتنی ہے، ان میں کتنے ہیں جو روٹین کے عسکری فرائض کی انجام دہی کے لئے دستیاب ہوتے ہیں اور اس بات کا بھی کچھ علم نہیں کہ ان کی آپریشنل صلاحیتوں کا کیف و کم کیا ہے۔

    قارئین کرام! میں نے امریکہ کے ماضی و حال کے جو تاریخی حقائق پڑھے ہیں ان کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ امریکہ جتنا عسکری لحاظ سے طاقتور مُلک ہے، اتنا ہی اخلاقی اعتبار سے کمزور ہے۔ جتنی صفائی ستھرائی اور معاشرتی چکا چوند ہمیں امریکی قوم میں نظر آتی ہے، اتنی ہی وہ قوم مختلف اقسام کے حد درجہ آلودہ عوارض میں مبتلا ہے۔ یہ امریکی جتنی بھی ترقی کر رہے ہیں، نئی دنیاؤں کو تلاش اور مسخر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا جتنے بھی انسانی اقدار کے علمبردار بنتے ہیں،اندر سے اتنے ہی کھوکھلے، جاہل اور بے وقوف ہیں۔ اول اول میں بھی امریکی قوم کی صلاحیتوں کا معترف بلکہ قصیدہ خواں تھا لیکن جب ان کی گزشتہ اور موجودہ تاریخ کے گہرے اور معروضی مطالعے اور مشاہدے کا موقع ملا تو میں اس قوم سے اتنا ہی متنفر ہو گیا۔ اس قوم کے عمائدین میں بظاہر آپ کو متضاد صفات کے حامل بھی چند لوگ ملیں گے۔ لیکن اگر آج کوئی امریکی کسی ایک فیلڈ میں اوج پر کھڑا ہے تو وہی آنے والے کل میں انتہائی پستی کی طرف بھی لڑھک رہا ہو گا۔ 

    میں نے جرمن، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور برطانوی تواریخِ جنگ کا بالالتزام مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلامی جنگیں خواہ کتنی بھی قدیم تھیں،اسلامی افواج کے سلاحِ جنگ خواہ کتنے بھی دقیانوسی تھے اور ان کے حرب و ضرب کے طور طریقے خواہ کتنے بھی پرانے تھے، ان سے بڑھ کر آج تک کوئی دوسری قوم ان کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ یہ ایک نہایت بسیط موضوع ہے۔ میں یہ سطور اس لئے نہیں لکھ رہا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور مجھے اسلام کی حمایت منظور ہے۔ میں نے کئی بار غیر جذباتی ہو کر جنگ و جدل کی سیکولر مزاجی کا مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عہد حاضر کی غیر مسلم اقوام لاکھ سائنس اور عسکری اعتبار سے بلند بام ہوں گی لیکن اگر ان اقوام نے کسی دائمی ترقی سے ہمکنار ہونا ہے تو انہیں قرآن حکیم میں غوطہ زن ہونا پڑے گا۔ جدید اور ترقی یافتہ اقوام، غیر مسلم ہوتے ہوئے بھی ترقی کی چھت کے زینے کی آدھی سیڑھیوں تک چلی گئی ہیں۔

    لیکن یہ سیڑھیاں وہی ہیں جن کی بشارت قرآن میں اللہ کریم نے بار بار دی ہے۔ لیکن باقی آدھی سیڑھیاں وہ ہیں جن پر مسلمانوں نے صد ہا برس تک قدم رنجہ فرمائے رکھا۔ آج کی غیر مسلم اور جدید اقوام آدھی سیڑھیاں طے کر کے ایک دوراہے پر آکر رک گئی ہیں۔ ان کے حساب سے باقی نصف سیڑھیاں، اول نصف کا تسلسل ہونی چاہئیں۔ لیکن ایسا نہیں۔ اور یہی ان کی اصل مشکل ہے۔  مسلم اقوام کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے۔ انہیں نیچے اتر کر نصف اول کو طے کرنے کے لئے ماڈرن اقوام کی تقلید کرنی پڑے گی۔ میں کوئی مصلح یا مبلغ نہیں ہوں لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں نے اخلاقی اور روحانی زینوں کو پہلے طے کر لیا لیکن مادی زینوں سے غافل ہو گئے جبکہ غیر مسلموں نے مادی علوم و فنون کو سینے کی بیرونی سطح پر سجا کر بھی ان کو سینے کے اندر جذب ہونے کا اذن نہ دیا۔۔۔ اسی حقیقت کو مولانا روم نے اس شعر میں بیان کیا ہے۔

    علم راہ برتن زنی مارے بود
    علم را برجاں زنی یارے بود
    (ترجمہ: علم(سائنس اور ٹیکنالوجی دونوں) کو اگر جسم کے لئے استعمال کرو گے تو سانپ بن جائے گا لیکن اگر روح کے لئے استعمال کرو گے تو آپ کا یارِ جانی ہو گا)

    میں کل اپنے میڈیا میں کسی چینل پر یہ خبر دیکھ رہا تھا کہ صدر امریکہ نے اس سال کے اواخر تک افغانستان میں مقیم امریکی ٹروپس کی تعداد میں کمی کر دی ہے اور 31 دسمبر 2016ء تک 1400 امریکی ٹروپس واپس چلے جائیں گے۔ یہ خبر گویا امریکہ کی تعریف تھی کہ اس نے افغانستان میں اپنی افواج میں کمی کر دی ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ دسمبر 2016ء تک افغانستان میں غیر ملکی ٹروپس کی جو تعداد 5500 ہونی چاہئے تھی وہ اب 8400 کر دی گئی ہے۔اس طرح امریکن فورسز کی تعداد اوباما کے موعودہ بیان کے برعکس 2900 زیادہ کر دی گئی ہے۔

    امریکہ 2014ء کے بعد بھی افغانستان پر 4ارب ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔ افغان ایئر فورس کو بالخصوص نئے سازو سامان سے مسلح کیا جا رہا ہے اور افغان نیشنل آرمی کو اس قابل بنانے کی سعی کی جا رہی ہے کہ وہ طالبان سے نمٹ سکے۔ جدید ترین اسلحہ اور گولہ بارود افغان فورسز کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ لیکن زمین پر جو صورت حال ہے وہ نہ تو امریکی ٹروپس کے قابو میں آ رہی ہے اور نہ افغان حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ اگر اتنی سی بات امریکیوں کی کھوپڑی میں نہیں بیٹھ رہی کہ چودہ برس تک مسلسل ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ فارن ٹروپس کی ان تھک کوششوں اور بے تحاشا گولہ بارود کے استعمال کے باوجود بھی ایساف اور ناٹو کو افغانستان چھوڑنا پڑا تو اب یہ 8400 امریکی/ ناٹو ٹروپس کیا کر لیں گے؟۔ جس افغان نیشنل آرمی (ANA) کو ٹرین کرنے کا وہ دعویٰ کر رہے ہیں وہ اتنی جلد ٹرین نہیں ہو سکتی۔ عسکری روایات بنتے بنتے بنتی ہیں۔ اگر ٹینک، توپیں، طیارے، بکتر بند گاڑیاں، میزائل اور ان کا اسلحہ بارود کسی قوم کو ٹرین کر سکتا تو آج سعودی فورسز دنیا کی چند بہترین افواج میں شمار ہوتیں۔ یہی عرب تھے جو صدیوں تک مشرق و مغرب پر یلغاریں کرتے رہے۔ کونسی فیلڈ تھی جس میں وہ پس ماندہ تھے؟۔  لیکن آج وہی عرب ہیں جو نہ کسی فیلڈ میں ترقی یافتہ ہیں اور نہ کسی میدانِ جنگ میں سرخرو ہیں۔

    لیکن افغان ایک جنگ آزمودہ قوم ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ یہ قوم کسی منظم عسکری تنظیم میں آج تک نہیں ڈھل سکی۔ گوریلا طرز جنگ میں بے شک ان کو مہارت حاصل ہے اور چھاپہ مار کارروائیوں کا جتنا تجربہ ان کو ہے شاذ ہی کسی اور قوم کو ہوگا۔ لیکن ریگولر آرمی اور ریگولر ایئر فورس میں ڈھلنے کے لئے افغانوں کو ایک طویل عرصہ درکار ہو گا۔  کیا امریکی مزید اتنا عرصہ یہاں قیام کر سکیں گے؟ اگر طالبان کی طرف سے خود کش حملوں کا موجودہ سلسلہ جاری رہا تو اول تو اسی سال کے آخر میں صدر اوباما کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑے گا یا نئے صدر کو نئی افغان پالیسی تشکیل دینا پڑے گی۔

    صدر اوباما کا یہ دعویٰ بھی نہایت کھوکھلا ہے کہ وہ افغانستان میں پہلے کی طرح کسی دہشت گرد کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ’’محفوظ پناہ گاہوں‘‘ میں بیٹھ کر دوبارہ امریکہ پر حملے کی پلاننگ کر سکے۔۔۔۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ نو گیارہ کے حملہ آوروں میں کوئی افغان نہیں تھا۔ وہ سب کے سب (یا ان میں 90 فیصد لوگ) عرب تھے۔ انہوں نے افغانستان میں بیٹھ کر اگر نو گیارہ کی پلاننگ کی تھی تو اس میں طالبان کا کتنا ہاتھ تھا؟ طالبان کو تو بنانے والا ہی خود امریکہ تھا۔ البتہ امریکہ کو یہ فکر کرنی چاہئے کہ نو گیارہ کی پلاننگ کرنے والوں کی نفسیات کا معمار کون تھا۔۔۔۔ یہ سوال چھ ملین ڈالر کا ہے۔۔۔ اس کا جواب اوباما، آش کارٹر اور جنرل ڈن فورڈ کو ڈھونڈنا چاہئے۔ میں نے اسی لئے تو عرض کیا ہے کہ امریکی قوم بیک وقت عقلمند اور بے وقوف ہے، بہادر اور بزدل ہے، دور اندیش اور کوتاہ بین ہے اور نہیں جانتی کہ صرف اس کی مضبوط فضائیہ یا مضبوط تر بحیرہ کسی نئے نو گیارہ کو نہیں روک سکتی۔

    افغانستان کی صورت حال کا براہِ راست تعلق پاکستان کی صورت حال سے جڑا ہوا ہے اس لئے ہمیں اپنے ہمسائے میں ہر قسم کی امریکی، بھارتی، یورپی یا اسرائیلی مووز (Moves)کی خبر رکھنی چاہئے۔ ہمیں چاہئے کہ سوچیں کہ امریکہ ہمارے ہمسائے میں 8400 کی یہ نفری کیوں رکھ رہا ہے۔ کیا یہ ہزاروں لوگ افغان آرمی کی ٹریننگ تک محدود رہیں گے یا ان کا کوئی اور مشن بھی ہے؟۔ اور پھر یہ ٹریننگ افغانوں کو کس اسلحہ پر دی جا رہی ہے، کون سے ممالک ان کو گولہ بارود فراہم کر رہے ہیں، کون بھاری ہتھیار دے رہے ہیں، کون پلاننگ کی است و بود کی تدریس کر رہے ہیں؟۔۔۔ کیا ساڑھے تین لاکھ نیشنل آرمی اور نیشنل پولیس کو ٹریننگ دینے کے لئے ٹریننگ سنٹروں کا کوئی سلسلہ بھی بنایا گیا ہے؟ کیا کوئی نئی ملٹری اکیڈیمی تشکیل دی گئی ہے؟ کیا کوئی بنیادی عسکری تدریسی ادارے مثلاً (سکول آف انفنٹری، سکول آف آرٹلری، سکول آف آرمر، سکول آف سگلنلز، سکول آف انجینئرز وغیرہ) قائم کئے جا رہے ہیں؟ کیا دوسری سپورٹنگ عسکری تنصیبات قائم کی جا رہی ہیں؟۔۔۔ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو پھر یہ 8400 کی امریکی نفری وہاں کیا کر رہی ہے؟ اگر ایئر فورس کو ٹریننگ دی جا رہی ہے تو ائر اکیڈمی کا انفراسٹرکچر کہاں ہے؟ ہمارے میڈیا کے کسی چینل پر یہ تفصیلات بھی آن ایئر ہونی چاہئیں تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کہ اس امریکی نفری کے افغانستان میں قیام کا جواز کیا ہے؟۔۔۔ کیا یہ افغان آرمی، افغان پولیس اور افغان ایئر کی ٹریننگ کی جا رہی ہے یا کسی ہمسائے پر نظرِ عنایت کی تیاریاں ہیں؟

    لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان


    0 0

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ہفتے سے کرفیو جاری ہے، فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہیں اور ان حالات میں ہسپتالوں میں سینکڑوں افراد زیرِ علاج ہیں۔

    اکثر زخمیوں کو خدشہ ہے کہ پولیس انھیں ہپستال سے فارغ ہونے کے بعد ہراساں کرے گی۔ وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔ گولی کا زخم جھیل رہے 20 سالہ نوجوان نے بتایا: ’ہم نے بے شک پتھراؤ کیا، لیکن انھوں نے سیدھے فائرنگ کی۔ ایمبولینس میں مجھے منتقل کیا گیا تو کئی جگہ فورسز نے دھاوا بولا، ہم سب کو پیٹا گیا.



















    (تحریر و تصاویر: ریاض مسرور، سرینگر)


    0 0



    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حزب المجاہدین کےمسلح کمانڈر برہان وانی کی
    ہلاکت کے بعد گذشتہ ایک ہفتے میں مظاہروں اور احتجاج کے دوران 40 سے زیادہ کشمیری نوجوان سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ مظاہروں کےدوران ڈیڑھ ہزار سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ حالت ان لوگوں کی ہے جن کی آنکھوں اور چہرے پر لوہے کے چھرے لگے ہیں جبکہ ہسپتال زخمی مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کےہاتھوں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکت پر ہندوستان میں خاموشی ہے۔ بعض اخبارات میں کچھ تجزیےاور مضامین ضرور شائع ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز کی زیادتیوں کا کچھ ذکر کیا گیا ہے۔
     
    کشمیر کے سلسلے میں بیشتر ٹی وی چینل جارحانہ قوم پرستی کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ان کے بحث ومباحثے میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت اہم خبر نہیں ہوتی بلکہ ان کی توجہ اس پہلو پر مرکوز ہوتی ہے کہ سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے سبھی نوجوان ایک دہشتگرد کی حمایت میں باہر آئے تھے۔ سوشل میڈیا پر بہت بڑی تعداد میں ایسے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت کوجائز قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل کشمیر ایک ایسے مرحلے میں ہے جب انڈیا کی حکومت اور کشمیر وادی کےعوام کےدرمیان تعلق پوری طرح منقطع ہے۔ کشمیر میں مظاہرے، جلسے جلوس، میٹنگیں کرنے اور مخالفت اور مزاحمت کے ہر جمہوری طریقے پر پابندی عائد ہے۔
     کشمیری علیحدگی پسندوں کی تمام سرگرمیوں پر موثر طریقے سےروک لگی ہوئی ہے۔ کنٹرول لائن کی بہتر نگہبانی اور پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی کےسبب شدت پسند سرگرمیوں اور مسلح جد وجہد کے راستے کافی حد تک بند ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ابھی تک ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ کشمیر کے بارے میں ان کی حکومت کی پالیسی کیا ہے۔ ان سے پہلے منموہن سنگھ کی حکومت کے دوران بھی یہی صورتحال تھی۔ اٹل بہاری واجپئی کے علاوہ کسی نے بھی کشمیر کے پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ لیکن مودی حکومت نے ایک بات ضرور واضح کی ہے اور وہ یہ کہ حکومت علیحدگی پسندوں سے ہرگز بات نہیں کرے گی۔
      
    مرکز میں بی جے پی کی ایک قوم پرست حکومت قائم ہے۔ کشمیر میں بھی بی جے پی کا اقتدار ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کشمیر مسئلے کا حل پاکستان سےتعلقات بہتر کرنے میں پنہاں ہے لیکن دس برس تک منموہن سنگھ کی حکومت نے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ گذشتہ دو برس میں جو کچھ تعلقات باقی بچے تھے وہ بھی ختم ہو گئے۔ پچھلے پندرہ بیس برس یوں ہی ضائع کیے گئے۔ اس مدت میں کشمیر میں ایک نئی نسل نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے۔ مایوسی اور بےبسی ان کی نفسیات کا حصہ ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں نے گزرے ہوئے برسوں میں ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ وہ ان پر ذرہ بھر بھی اعتبار کر سکیں۔
      
    کشمیر ایک عرصے سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک حل طلب مسئلہ ہے
    گذشتہ 70 برس میں وادی کے عوام انڈیا سےکبھی بھی اتنا بدظن اور متنفر نہیں ہوئے جتنا تاریخ کی اس منزل پر ہیں۔ انڈیا میں کشمیریوں کے لیےکسی طرح کے ہمدردی کےجذبات نہیں ہیں۔ انڈیا کی نئی قوم پرست نسل کی نفسیات میں کشمیری، دہشت گرد، علیحدگی پسند، پاکستان نواز اور ملک دشمن سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ ان کے مرنے، اندھے اور اپاہج ہونے سے یہاں ہمدردی کے جزبات نہیں پیدا ہوتے بلکہ مشکل حالات میں کام کرنے کے لیےسکیورٹی فورسزکی ستائش ہوتی ہے۔
    یہ ایک مکمل تعطل کی صورتحال ہے۔ کشمیری نوجوانوں کے لیے جذبات کے اظہار کے راستے بند ہیں۔ دونوں جانب باہمی نفرتیں اپنی انتہا پر ہیں۔ برہان وانی اسی بے بسی اور گھٹن کا عکاس تھا۔ اس کے جنازے میں لاکھوں نوجوانوں کی شرکت بھی اسی گھٹن اور بے بسی کا اظہار تھی۔

    شکیل اختر
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی


    0 0

    وزیراعظم نوازشریف نے كہا كہ بھارت كشمیریوں پروحشیانہ مظالم ڈھارہا ہے، میں اور پوری پاكستانی قوم كشمیریوں كے ساتھ كھڑی ہے، كشمیری اپنی آزادی كی جنگ لڑ رہے ہیں اور بھارتی جارحیت كشمیریوں كے عزم كو اور زیادہ مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت كی طرف سے كشمیریوں كی تحریك آزادی كو دہشت گردی قرار دینا افسوسناك ہے اور اس كا پراپیگنڈہ كشمیریوں كی تحریك كو كمزور نہیں كرسكتا اور نہ ہی عالمی برادری كو گمراہ كرسكتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ كشمیر میں 7 لاكھ بھارتی فوجی كشمیریوں كی جدوجہد كو دبانے میں ناكام رہے ہیں، بھارتی افواج كی جانب سے بے گناہ كشمیریوں كا قتل خطے كے امن كے لیے خطرہ ہے۔ 












    0 0



    0 0



    0 0

    آٹھ روز سے جاری مکمل محاصرے کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں اب تک چالیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ڈیڑھ ہزار زخمی ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ معتبر انگریزی روزنامہ گریٹر کشمیر نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا  سنیچر کی صبح پولیس نے سرینگر سے شائع ہونے والے سبھی بڑے اخبارات کے دفاتر پر چھاپہ مار کر اخبارات کو ضبط اور چھاپہ خانوں کو مقفل کردیا۔ اس دوران کیبل ٹی وی نشریات کو بھی معطل کیا گیا ہے۔ سنیچر کو علی الصبح پولیس نے ہمارے دفتر پر دھاوا بول دیا۔ ہمارے اردو روزنامہ کشمیر عظمی کی پچاس ہزار کاپیاں ضبط کرلیں اور چھاپ خانے کو سیل کردیا، اور گریٹر کشمیر کی چھپائی روک دی۔ 

    انگریزی روزنامے رائزنگ کشمیر، کشمیر آبزرور، کشمیر مانیٹر اور دوسرے معتبر اخبارات کے دفاتر پر بھی پولیس نے چھاپے مار کر ان کی اشاعت روک دی ہے۔ کیبل ٹی وی کی نشریات بھی بند کردی گئی ہے۔ گذشتہ کئی روز سے بعض بھارتی نیوز چینلز کے خلاف عوام میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ چینلز کشمیر کی خبروں کو توڑ مروڑ کرپیش کرتے ہیں۔ بھارت بھر میں سول سروس امتحانات میں اول درجہ حاصل کرنے والے اعلیٰ افسر شاہ فیصل نے ان چینلز پر تنقید کرتے ہوئے فیس بک پر لکھا ’جب حکومت اپنے ہی شہریوں کو لہولہان کرتی ہو اور ٹی وی چینلز حقائق کو مسخ کرتے ہوں اور حالات بحال کرنے میں مشکلات قدرتی امر ہے۔‘
    محکمہ اطلاعات کے سابق سربراہ فاروق رینزو کا کہنا ہے کہ میڈیا، ٹیلی فون سروس اور ٹی نشریات کو معطل کرنے کا مطلب ہے کہ کشمیر میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ ’آئین میں اس سب سے مطلب ہے کہ یہ ایمرجنسی ہے۔ پھر حکومت ایمرجنسی کا اعلان کیوں نہیں کرتی۔‘ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر پہلے ہی پابندی ہے اور وادی بھر میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے۔ اس وسیع محاصرے کے دوران لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔
     
    واضح رہے آٹھ جولائی کی شام کو پولیس نے دعویٰ کیا کہ جنوبی کشمیر کے کوکر ناگ علاقہ میں مقبول مسلح کمانڈر برہان وانی کو دو ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد جنوبی کشمیر میں پرتشدد مظاہروں کی لہر پیدا ہوگئی اور جگہ جگہ فورسز کی فائرنگ کے باوجود برہان کے جنازے میں دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔ مظاہروں کی لہر اب سرینگر اور شمالی قصبوں تک پہنچ گئی ہے۔ جمعرات کو شمالی کشمیر کے پٹن اور کپوارہ میں مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ میں ایک نوجوان ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد چالیس سے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈیڑھ ہزار زخمیوں میں سو سے زائد ایسے افراد ہیں جن کی آنکھوں میں پیلیٹس یعنی چھرّے لگے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پچاس ہمیشہ کے لئے بینائی سے محروم ہوگئے ہیں۔
    حکومت کی ہند کی ہدایت پر تین ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے کشمیر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ زخمیوں کی حالت سے لگتا ہے کہ کشمیر میں جنگ جیسی صورتحال ہے۔

    دریں اثنا حکومت کی بار بار اپیلوں کے باوجود حالات شدت اختیار کررہے ہیں۔ علیحدگی پسند رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر اور یاسین ملک نے مشترکہ بیان میں پیر کی شام تک ہڑتال جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ کشمیر کے حالات سے متعلق پاکستان، ایران، امریکہ، اقوام متحدہ اور رابطہ عالم اسلامی نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مظاہرین کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کرنے کی اپیل کی ہے۔

    ریاض مسرور
    بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر



    0 0

    ترکی کے جمہوریت اور اسلام پسند بہادرعوام نے اپنے لیڈر طیب اردگان کی کال پر
    ایک نئی تاریخ رقم کر دی ورنہ اپنے ہی ملکوں کو فتح کرتی فوجوں کے سامنے عام لوگ کب آیا کرتے ہیں، ٹینکوں کا راستہ گاڑیوں سے کب روکا کرتے ہیں، بندوقوں والوں سے کب ہاتھاپائی کیا کرتے ہیں۔ ان کی تصویریں اور ویڈیوز ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر سے ترکی تک سمارٹ فونز نے حق اور سچ کے سفرکو بہت ہی آسان بنا دیا ہے مگر پاکستان میں ترکی کی ناکام فوجی بغاوت نے مٹھی بھر نام نہاد دانشوروں کے ساتھ بہت خوب کیا ہے، ان کے چہروں کو ایک مرتبہ پھر سب کے سامنے بے نقاب کر کے کررکھ دیا ہے۔ کچھ غرض مندوں نے ترکی میں فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے ساتھ ہی خوشیاں منانا شروع کر دیں، یہ بوٹ چاٹنے والے اپنی مستی میں یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ بوٹ بدیسی ہیں مگر انہیں بس بوٹ درکار تھے،ان کی طرف سے ترکی میں آمریت کے قیام کے تصدیقی اعلانات شروع ہو گئے اور ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طیب اردگان سیاسی پناہ کے لئے پاکستان آ رہے ہیں۔
    ایک قانون دان نے مجھے واٹس ایپ پر ترکی میں فوجی مداخلت کی چند تصویریں بھیجیں اور ساتھ ہی اپنی طوطا فال بھی کہ نواز شریف کے برے دن بھی آنے والے ہیں،پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے دشمن کے طور پر جانے والے قانون دان کی خوشی دیدنی تھی، میں نے انتہائی ادب اور احترام کے ساتھ پوچھا، حضور آپ خود کو قانون دان کہلوانا پسند کرتے ہیں کیا آپ نے کبھی آئین، قانون ، جمہوری نظام اور انسانی حقوق کا مطالعہ کیا ہے؟ اسی دوران سوشل میڈیا پر ترکی اور پاکستان کا موازنہ شروع ہو گیا، ایک نے کہا، ترک طیب اردگان کے لئے نکلے ہیں مگر پاکستانی کبھی نواز شریف کے لئے نہیں نکلیں گے ، دلیل بارہ اکتوبر ننانوے کی رات تھی جب ہوکا عالم طاری ہو گیا تھا، میر ا کہنا تھا،ترک بھی چار مارشل لا لگوانے کے بعد اب نکلے ہیں ورنہ اس سے پہلے تو یہ پہلا مارشل لاء لگانے اور خلافت رخصت کرنے والے کو اپنا باپ بنائے پھرتے تھے ، میں نے یہ بھی کہا، آئین اور قانون، ریاستوں اور معاشروں کے لئے ہوتے ہیں،انہیں افراد کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی فوج سے محبت مگر آمریت سے نفرت ہے تو یقینی طور پر بہت سارے چھوٹے دماغوں میں یہ بڑی بات نہیں گھس سکتی کہ یہ محض ترکی میں طیب اردگان اور پاکستان میں نوا ز شریف نامی اشخاص کا نہیں اپنے بنیادی حقوق کا دفاع ہے۔

    ویسے اگر آپ افراد کا بھی موازنہ کرنا چاہیں تو پاکستانی معاشرے کی خلیج ترک سوسائٹی کی تقسیم کے مقابلے میں عشر عشیر بھی نہیں۔ میں استنبول کی کم کپے فش مارکیٹ میں موجود تھا، وہاں شراب جاموں سے چھلک رہی تھی، میوزک اور گانوں نے ماحول رنگین بنا رکھا تھا، خواتین اپنے اپنے خاندان کے ساتھ مچھلی کھانے کے ساتھ ساتھ رقص بھی کر رہی تھیں کہ میں نے استنبول کے مئیر قادر توباش کا ذکر کر دیا، خوشی سے ہنسنے بولنے والوں کے ماتھوں پر تیوریاں پڑ گئیں، لہجوں میں تلخیاں بھر گئیں تو مجھے غلطی کا احساس ہوا۔ اتاترک کے ترکی میں اسلام پسندوں کی کامیابی نے ترکی کو دوواضح ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ کم کپے مارکیٹ کے بعد اگلے روز بلدیہ کے معروف ریستوران میں کھانا کھایا تو معاشرتی خلیج کا کھل کراحساس ہوا، وہاں شراب پیش نہیں کی جاتی، وہاں عموماًباپردہ فیملیز آتی ہیں کیونکہ اسے قادر توباش کی بلدیہ چلاتی ہے۔

    ہمارے ہاں ایک دوسر اپروپیگنڈا بھی دھڑلے سے کیا جاتا ہے کہ سیاستدان کرپٹ ہیں لہٰذا تنقید کرنے والے جمہوریت کے نہیں بلکہ کرپشن کے دشمن ہیں۔ اہل علم سے پوچھئے، کیا کسی مہذب معاشرے میں آمریت سے بڑی کوئی دوسری کرپشن ہے، میں آمرانہ اور جمہوری ادوار میں ہونے والی کرپشن کے حجم کے موازنے پر نہیں جانا چاہتا مگر یہ ثابت کر سکتا ہوں کہ سیاسی کرپشن کی ذمہ داری بھی آمروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ آپ میں سے بہت ساروں کو بھٹو صاحب پسند نہیں ہوں گے اور کچھ نواز شریف کے نام سے خار کھاتے ہوں گے مگر سیاست میں یہ نام آمروں نے ہی متعارف کروائے ہیں۔ کیاآپ جاننا پسند کریں گے کہ یہ آمریت کے گملوں میں لگے ہوئے یہ پودے تناوردرخت کب بنے، جب انہوں نے آئینی اور جمہوری حکمرانی کے اصولوں کے عین مطابق خود فیصلے کرنے شروع کئے، اینٹی اسٹیبلمشنٹ بنے تو حقیقی معنوں میں لیڈر بن گئے پھر ایک کوعدلیہ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، ماتحت عدلیہ کا جج دوسرے کو قتل کرنے کی ہمت نہ کر سکا تو اسے جلاوطن کر دیا گیا۔ 

    تیسرا پروپیگنڈا یہ کیا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت ڈیلیور ہی نہیں کر سکی، ایسے میں مجھے نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم یاد آجاتے ہیں، وہ کہا کرتے تھے کہ آپ گلاب کے پودے کو ہرروز اکھاڑ کے دیکھتے ہیں کہ یہ پھول نہیں دے رہا اور کہتے ہیں کہ اس نے جڑیں نہیں پکڑیں، آپ سے بڑھ کر بے وقوف کون ہے۔ اسے دو لخت کرنے سمیت جو نقصانات آمریت نے اس قوم کوپہنچائے ہیں ان کو چند وقتی معاشی کامیابیوں کے تناظر سے باہر نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے مگر اسکے باوجود پاکستان کا کوئی بھی سیاستدان فوج کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کرتا،کسی ڈر یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ قومی مفاد میں اس کا احترام کیاجاتا ہے۔

    میرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں مارشل لاء کی مارکیٹنگ اسی لئے نہیں کی جا رہی،’موو آن‘ جیسی کاغذی جماعتوں والے حساس علاقوں میں’ چلے آؤ‘ جیسے ہورڈنگز اسی وجہ سے نہیں لگا رہے کہ انہیں علم ہے کہ اس مرتبہ سیاستدانوں نے ڈیلیور کرنے کا عزم کرر کھا ہے۔ ایک آئینی ، سیاسی اور جمہوری دور میں اس دہشت گردی کا قلع قمع ہونے جا رہا ہے جس کے بیج ایک مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیاء الحق کے دورمیں بوئے گئے تھے۔ اگلے ڈیڑھ سے دو سال میں بجلی کے بڑے کارخانے مکمل ہوجانے جا رہے ہیں، ملک میں موٹر ویز کا جال بچھ رہا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نقل و حمل اور پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں انقلاب برپا ہو رہا ہے، سی پیک منصوبے سے پورے ملک کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے ۔ قوم کو ادراک ہو رہا ہے کہ سیاستدان حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے جا رہے ہیں۔ برسبیل تذکرہ، طیب اردگان سے قادر توباش تک پوری ترک قیادت پاکستانی حکمرا نوں کی دوست ہے، ان کے سعودی عرب اور چین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور وہ بھارت کے ساتھ بھی غیر ضروری محاذ آرائی کے مخالف ہیں۔ پہلی مرتبہ سیاست کو خدمت کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جا رہا ہے ، قوم کی زندگی میں سازشیوں کو اپنی موت نظر آ رہی ہے۔ یہاں جمہوری اور سیاسی رہنماوں کو بھی بطور برادری سوچنے کی ضرورت ہے ، اس ضرورت کو دھرنا سازش کے دوران پارلیمنٹ کی موثراور ذمہ دار جمہوری قوتوں نے پورا بھی کیا ہے۔

    پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ ان کی تین نسلوں نے آمریت میں ہی شعور کی آنکھ کھولی ، ایوب خان کے دور والے آج ہمارے بزرگ ہیں، ضیاء الحق کے دوروالے آج بااختیار ہیں اور مشرف دور والے سوشل میڈیا پر رائے عامہ ہموار کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آمریت کے قیدی جمہوریت کی تصویر کشی نہیں کر سکتے اور مجھے بھی یہ وہم کبھی نہیں رہا کہ ہمارا نظام تعلیم اور معاشرتی ڈھانچہ باغی پیدا کر سکتا ہے جو ڈگریاں تو دے رہا ہے مگر شعور نہیں، پڑھے لکھے جاہلوں کی تعداد میں خوف ناک اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شاہ دولہ کے چوہے سیاسی اور جمہوری حکومتوں کی مخالفت اور مذمت کو ہی انقلابی سوچ کا درجہ دیتے ہیں حالانکہ پاکستان اور اس جیسے دوسرے ملکوں میں ہمت ، جرات بہادری کے تقاضے کچھ اور ہیں، جو اکیسویں صدی میں ترکی کے عوام نے نبھائے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت کو درپیش کسی بھی خطرے کی صورت میں ترکوں جیسا ردعمل دے سکیں گے یا نہیں مگر اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ترک عوام نے صدیوں سے جاری روایت کے سامنے ایک نئی ، مضبوط اور خو ش کن روایت کھڑی کر دی ہے، سمارٹ فونز کے ذریعے دنیا گلوبل ویلج بن چکی، اس کے وائرس کچھ نہ کچھ تو پاکستان پہنچیں گے۔

    نجم ولی خان


    0 0

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے آئی اے ایس افسر شاہ فیصل
    نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ برہان وانی سے ان کا موازنہ کیے جانے اور کشمیر کے حالات پر وہ رنجیدہ ہیں۔ کشمیر کے علیحدگی پسند کمانڈر برہان وانی کی گذشتہ ہفتے سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد وادی میں پرتشدد لہر دیکھی گئی جس میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ شاہ فیصل سرینگر میں محکمہ تعلیم کے سربراہ ہیں اور وہ حالیہ تشدد کے دوران میڈیا کے رویے سے ناراض ہیں۔
      
    انھوں نے برہان وانی کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی تصویر دکھائے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ملک میں میڈیا کا ایک طبقہ پھر سے کشمیر میں تشدد کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے، لوگوں کو متقسم کر رہا ہے اور لوگوں میں نفرت پھیلا رہا ہے۔‘انھوں نے لکھا: ’کشمیر حال میں ہونے والی اموات پر آنسو بہا رہا ہے اور نيوز روم سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈہ کے سبب کشمیر میں نفرت اور غم و غصے میں اضافہ ہوا ہے۔‘ فیصل نے کہا: ’میں نے آئی اے ایس کی نوکری اس لیے نہیں کی جس سے میں کسی پروپیگنڈے کا موضوع بن جاؤں۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں اس طرح کے موضوعات کا حصہ بنوں گا۔ اگر ایسا جاری رہا تو میں استعفیٰ دے دوں گا۔‘
    سوشل میڈیا پر شاہ فیصل کی تصویر برہان وانی کی تصویر کے ساتھ پوسٹ کی گئی ہے اور دونوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس تصویر کو کانگریس کے رہنما سنجے نروپم نامی ایک اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ’تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ انتہا پسندی کوئی حل نہیں۔‘ (بلیو ٹک نہ ہونے کی وجہ سے اس ٹوئٹر ہینڈل کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ یہ واقعتا کس کا ٹوئٹر ہینڈل ہے)
    یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور بہت سے لوگوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ کشمیریوں کو فیصل شاہ کو ہیرو کے روپ میں دیکھنا چاہیے نہ کہ برہان وانی کو۔
       
    تشدد کی حالیہ لہر میں درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں
    بی جے پی کے ترجمان سمبت مہاپاترا نے لکھا ہے کہ ’سمجھ میں نہیں آتا کہ میرے بیان کو، وانی کے بجائے فیصل کو پوسٹر بوائے ہونا چاہیے، ہٹا دیا گیا ہے۔‘ جبکہ کانگریس رہنما دگ وجے سنگھ نے لکھا ہے کہ ’کیا (نیوز) چینل کشمیریوں کے جذبات کو مجروح کرنا بند کریں گے؟ کیا حکومت ہند انھیں قابو میں نہیں رکھ سکتی؟‘

    بشکریہ بی بی سی اردو


    0 0

    Read hamid-mir Column turkey-aor-pakistan-men-mumasilat published on 2016-07-18 in Daily JangAkhbar

    حامد میر


    0 0

    ترک فوج کے ''امن کونسل''کے نام سے ظاہر ہونے والے ایک دھڑے کی
    حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش کی تفصیل وقت کے ساتھ منظرعام پرآرہی ہے مگر اس کے ترکی اور انقرہ کی خارجہ پالیسی پر فوری طور پر مرتب ہونے والے اثرات اور مضمرات ابھی سے واضح ہیں۔ اس فوجی بغاوت کے ردعمل میں ترکی کی داخلی حرکیات نے فوری طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بظاہر آغاز سے ہی فوج منقسم نظر آرہی تھی کیونکہ اس بغاوت میں شریک افسر اور فوجی صدر رجب طیب ایردوآن ،حکومتی وزراء اور بعض جرنیلوں کی جانب سے اتحاد کے پیغام کی توقع نہیں کرتے تھے مگر صدر اور ان کے رفقاء ٹی وی چینلز پر فون کال یا فیس ٹائم اور ٹویٹر کے ذریعے پیغامات نشر کرنے میں کامیاب رہے تھے۔
    صدر ایردوآن کی لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی اپیل ،ترکی کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اتحاد کے پیغامات اور سب سے بڑھ کر ترکی کی مساجد سے ترک حکومت کے حق میں اٹھنے والی آوازوں سے اس سازش کو ناکام بنانے میں مدد ملی ہے۔

    تاہم نقصان تو ہوچکا۔ بیسیوں افراد کی ہلاکت کے بعد جھڑپیں ہوئیں۔ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور حکمراں آق پارٹی کے حامیوں نے مبینہ طور پر بغاوت برپا کرنے والوں کو سرسری سماعت کے بعد سزائیں بھی سنائی ہیں۔
    فوجی بغاوت کا فوری اثر تو فوج کی صفوں سے گولن کے حامیوں کا صفایا ہوگا۔سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی رخصتی پر اختلافات ،کرد ارکان پارلیمان کو حاصل استثنیٰ کا خاتمہ اور میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن وغیرہ،ان تمام اقدامات کو اب مہمیز ملے گی۔ اب ترک صدر مزید مضبوط بن کر سامنے آئیں گے اور فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف زیادہ سختی کریں گے۔ پارلیمان سے بھی یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ بغاوت کی سازش کرنے والوں کے لیے سزائے موت بحال کرے۔اگر پھانسی کی سزا بحال ہوتی ہے تو اس سے یقیناً ترکی یورپی یونین کے مدمقابل آجائے گا اور ان کے درمیان مڈبھیڑ ہوجائے گی۔
    سب سے اہم بات یہ ہے کہ ترکی میں گولن کے حامی عناصر کے قلع قمع سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ فتح اللہ گولن پنسلوینیا میں (خود ساختہ جلاوطنی کی) زندگی کے ایام گزار رہے ہیں۔ اس سے ایردوآن اور ان کے حامی امریکا سے نالاں ہوسکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ترکی کو گولن تحریک کے خلاف شواہد پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ شاید واشنگٹن کی اگلی انتظامیہ کو اس ادراک کا ازالے کرنے کی ضرورت ہوگی کہ امریکا گولن تحریک کے پیروکاروں کو آق کی مخالفت جاری رکھنے کی اجازت دے رہا ہے۔ اس طرح امریکا پر انچرلیک کے فضائی اڈے کو استعمال کرنے پر بھی دباؤ پڑے گا۔واشنگٹن کے خلاف اس ائیربیس کو استعمال کرنے پر اس طرح کی دھمکیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔

    سوویت فوجی بغاوت سے موازنہ
    بعض تجزیہ کاروں نے ترکی میں فوجی بغاوت کا اس کے نظم اور ناکامی کے اعتبار سے سوویت یونین میں 1991ء میں فوجی بغاوت سے موازنہ کیا ہے۔ انھیں یہ بات باور کرنے کی ضرورت ہے کہ تب فوجی بغاوت اپنی موت آپ مر گئی تھی۔
    اس بات کے امکانات ہیں کہ مستقبل میں ترکی کو اناطولیہ اور باقی ملک کے درمیان تقسیم کی وجہ سے مشکل صورت حال سے دوچار ہونا پڑے۔ مقامی مبصرین نے نوٹ کیا ہے کہ اناطولیہ گذشتہ ایک سال سے اپنی ترقی کرتی معیشت کی وجہ سے ''آزاد''بنتا جارہا ہے۔

    بعض نے اس فوجی بغاوت کا سنہ 2002ء میں وینزویلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کا تختہ الٹنے کی ناکام سازش یا 2013ء میں مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف فوجی سربراہ عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں کامیاب فوجی بغاوت سے بھی موازنہ کیا کیا ہے۔ اس طرح کے موازنے مفید ثابت نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ ترکی کی صورت حال فوجی بغاوتوں کی تاریخ اور کمال اتاترک کے نظریات کے تحفظ کہ وجہ سے بالکل مختلف ہے لیکن ایردوآن کے عزم کی وجہ سے وہ دن شاید لد چکے ہیں۔ اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی کے خطے کے لیے مضمرات پریشان کن ہیں۔ پہلا یہ کہ ترکی کی فوج کو باغی عناصر سے پاک کرنے سے اس کی مختصر مدت میں کارروائیاں کرنے کی صلاحیت پر اثرات مرتب ہوں گے۔ میرے خیال میں ایک کمزور ترک فوج سے داعش اور کرد باغیوں کے دھڑوں کو تقویت مل سکتی پے۔ دوسرا یہ کہ ایردوآن کو ترکی کی فوری ضروریات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوگی اور یہ سب کچھ انقرہ کے افریقا اور خاص طور پر لیبیا کے لیے خارجہ پالیسی کے منصوبوں کو پس پشت ڈال کر کرنا ہوگا۔

    اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے وسط سے ترکی معاشی مقاصد کے تحت اس خطے میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے کے لیے کام کررہا ہے۔ انقرہ کی لیبیا کے بارے میں پالیسی بھی شاید ناکارہ ہونے جارہی ہے کیونکہ اس نے مشرقی شہر طبرق میں قائم حکومت کو طرابلس میں قائم حکومت پر ترجیح دی تھی۔ تیسرا،اس ناکام فوجی بغاوت کے ترکی کے روس کے ساتھ تعلقات پر فوری اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ صدر ایردوآن نے حال ہی میں صدر پوتین کے ساتھ (سرد مہری کا شکار) تعلقات پر نظرثانی کی ہے۔ کریملن اس بات پر شاداں ہے کہ ترک صدر کو اندرون ملک سے جھٹکا لگ گیا ہے، اس لیے اب ماسکو اپنی شام ،قفقاز اور اس سے ماورا پالیسی کے بارے میں انقرہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مجموعی طور پر ترکی داعش کے خلاف جنگ اور شامی امن عمل کے اس نازک مرحلے میں جذباتی نکاس کے مشکل دور سے گزرا ہے۔ اس فوجی بغاوت کی لہریں آنے والے مہینوں میں بھی محسوس کی جاتی رہیں گی۔ اس سے علاقائی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے اور مبصرین اور متعلقہ فریقوں کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ ایک گہرا سانس لیں اور نیٹو کے اس رکن ملک میں آیندہ مہینوں کے دوران غیریقینی کی صورت حال کو ملاحظہ کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
    (ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک دبئی میں مقیم جغرافیائی ،سیاسی امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔ انھوں نے کیلی فورنیا یونیورسٹی لاس اینجلیس سے تاریخ میں چار شعبوں مشرق وسطیٰ ،روس اور قفقاز اور ذیلی شعبے ثقافتی بشریات (کلچرل اینتھروپالوجی) میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کررکھی ہے۔)

    ڈاکٹر تھیوڈور کراسیک



    0 0

    زندگی میں پچھتاوا کس شخص کو محسوس نہیں ہوتا مگر وہ کون سے فیصلے ہوتے ہیں جو لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتانے پر مجبور کردیتے ہیں؟ درحقیقت زندگی میں مواقعوں کو چھوڑ دینے کا پچھتاوا ایسا ہوتا ہے جو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتا۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔
    کارنیل یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے دوران عمر کی 7 ویں دہائی گزارنے والے افراد سے پوچھا گیا کہ اگر انہیں ماضی میں کچھ کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ کیا چیز دوبارہ کرنا پسند کریں گے؟
    تو جواب میں سامنے آیا کہ ایسی چیزیں جو نوجوانی میں نہیں کرسکیں وہ اس کی تلافی کرنا پسند کریں گے۔ جیسے تعلیم مکمل کرنا، کیرئیر میں ترقی کا عزم، اپنی شخصیت کا خیال رکھنا وغیرہ۔ تحقیق کے مطابق جب ہم پچھتاوے کے بارے میں سوچتے تو ہم میں سے بیشتر کے لیے سب سے بڑا پچھتاوا وہ چیزیں ہوتی ہیں جو ہم کسی نہ کسی وجہ سے کر نہیں پاتے، حالانکہ ہمارے پاس وقت، پیسے یا توانائی بھی ہوتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو سب سے زیادہ پچھتاوا اس بات کا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس موقع تھا مگر ہم نے کچھ کیا نہیں، یا ہم نے بہت زیادہ انتظار کیا۔


older | 1 | .... | 76 | 77 | (Page 78) | 79 | 80 | .... | 149 | newer