Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 70 | 71 | (Page 72) | 73 | 74 | .... | 149 | newer

    0 0




    0 0




    0 0



    0 0

    بنگلہ دیش میں 2010ء سے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ ان ٹربیونلوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔2010 ء سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے۔

    بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے خلاف میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں۔اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ۔

    بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کا12 دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ’’فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں‘‘۔ کیا کوئی جمہوری حکومت فوج , انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے ابھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟
     لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگ کی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔

    بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ’’ جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔‘‘حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔

     پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماؤں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا؟مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اپنے باپ سے زیادہ بھارت کی وفادار ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کو کھلے عام ظاہر کرتی ہے۔ حسینہ واجد جو بھارت کی وفاداری میں میرجعفر کا روپ دھار کراپنے ہی لوگوں کو پھانسی چڑھارہی ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتی،حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے۔
    پاکستان کی وزارت اطلاعات نے 1971ء میں ایک کتاب "ٹیررز ان ایسٹ پاکستان"چھاپی۔ اس کتاب میں وہ تصاویر موجودتھیں جو انسانیت کو شرمارہی تھیں۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے جارہے تھے، بچوں کے پیٹوں میں بندوقوں کی سنگین ڈال کر اْنکو مردہ حالت میں اٹھاکر ناچا جارہا تھا۔ اور یہ سب کچھ وہی مکتی باہنی کررہی تھی جسکا ذکر بنگلہ دیش کے حالیہ دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کیا اور اپنی دہشتگردی کا برملااظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی اوربھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ ملکرلڑی تب ہی بنگلہ دیش کو آزادی نصیب ہوئی"۔

     بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے برملا اور سینہ ٹھونک کر اِس کا بھی اعتراف کیا کہ وہ 1971ء میں مکتی باہنی کی حمایت میں ستیہ گرہ تحریک میں بطور نوجوان رضاکارشرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔ نریندر مودی کی طرف سے 1971ء کے سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعتراف نے اْسکی پاکستان دشمنی کو پورئے طریقے سے ننگا کردیا ہے۔ دہشتگرد نریندر مودی نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران چار مرتبہ پاکستان کا نام لیا اور دہشتگردی کے حوالہ سے بے بنیاد الزام تراشیاں کیں۔

    اب حسینہ واجد 26 مارچ کو ایک اور تقریب سجانے جا رہی ہیں جس میں ان پاکستانی فوجیوں پر جھوٹے مقدمات چلائے جائیں گے اور ان کو سزائیں دی جائیں گی جنہوں نے ان کے خیال میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا یا بنگالی عوام کی قتل و غارت میں حصہ لیا۔ حالانکہ یہ سب کچھ بھارتی فوج نے کیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے دلوں میں موجود پاکستان مخالفت کی نفرتوں کو دوبارہ عروج پہ پہنچانے میں کسی اور نہیں ،بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے اپنی مذموم مہم جوئی کی جس کا نتیجہ ہم گزشتہ ایک دو برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔

     جب سے حسینہ واجد نے بھارت نوازی کا ’چولا ‘ پہنا اور عوامی لیگ کی سینٹرل سطح کے فیصلے کرنے والی کرسیوں پر’را‘ کے ایجنٹوں کو بیٹھایا وہ دن ہے اور آج کے یہ افسوس ناک اور شرم ناک لمحات، بنگلہ دیش اور پاکستانی قوم کے درمیان فاصلے اور دوریاں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

    یہاں ہم اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی یہ بتا نا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر گہری اور عمیق نظریں رکھے۔ گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ہونے والی ’سیاسی پھانسیوں ‘ پر پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کسی ردِ عمل کا اظہار کیوں نہیں کیا ۔ پاکستان دشمنی اور پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی عوامی حلقوں میں ریاستی پیمانے پر فضا ہموار کی جارہی ہے اور یہاں ’مسلم بنگلہ دیش ‘ اور بنگلہ دیشی برادری ‘ کے پْرفریب نعرے لگائے جارہے ہیں۔

    اگر یہ کہا جائے تو یقیناًبے نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش پاکستان دشمنی میں بھارت سے بھی آج ایک قدم آگے نکل آیا ہے۔ پاکستانی قوم بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت کے اِس بہیمانہ طرزِ یکطرفہ طرزِ عمل پر شدید اور سراپا احتجاج کرتی ہے یعنی اب ہم بنگلہ دیش کو بھی ’بھارتی صوبہ ‘ یا بھارتی ریاست تصور کریں چونکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ’را‘ کے بتائے ہوئے نقشِ قدم پر چلنے سے باز آتی دکھائی نہیں دیتیں ہماری حکومت کے لئے یہ لمحات ’لمحہِ فکریہ ‘ ہیں۔

    ریاض احمد چودھری


    0 0

    پاکستان میں زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے جس کی
    تقویت سے قوی اقتصادیات ، مضبوط اور جس کا انحطاط معاشی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زراعت پر جہاں دو تہائی آبادی کا براہ راست انحصار ہے وہاں بڑی بڑی صنعتوں کا دارو مدار بھی زرعی شعبہ پر (Agro Based)ہے جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کا بیشتر حصہ بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ اسی شعبہ سے حاصل ہوتا ہے

     ان زمینی حقائق کے پیش نظر ارباب حل و عقد بالخصوص اکنامک مینجرز کو ملکی ضروریات کی فراہمی اور غیر ملکی احتیاج سے نجات کی خاطر پوری سنجیدگی سے اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اگر یہ شعبہ سال بہ سال ترقی کی مطلوبہ شرح کی بجائے روبہ زوال ہے تو اس کے دوررس منفی اثرات سے بچنے کیلئے جن ٹھوس تدابیر کی ضرورت ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر پختہ عزم کے ساتھ رو بہ عمل لایا جائے ۔

     ظاہر ہے زرعی شعبہ کے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے جہاں دیہات میں خوشحالی کا دور دورہ نظر آئیگا وہاں ٹیکسٹائل ، رائس شیلرز، شوگر، آئل ، فلور ملز اور لیدر جیسی صنعتوں کا پہیہ سارا سال رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔ زرعی خام مال کو مشینری سے گزار کر قیمتی اشیاء (Value added) میں تبدیل کرنے سے در آمدات میں کمی اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن کو بڑھاوا(Boost) ملتا ہے دوسری طرف زراعت کے انحطاط پذیر ہونے پر اس کا منفی پہلو بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔

     دیہی آبادی میں مالی بدحالی کے نتیجہ میں مایوسی اور اضمحلال پیدا ہونے سے آبادی کے شہروں میں منتقل ہونے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے جس سے وہاں پر انتظامی سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ زرعی پیداوار کے بحران کا شکار ہونے پر صرف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت ہی متاثر نہیں ہوتی شہروں میں تجارتی سرگرمیاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں ۔ دیہی آبادی اپنی زرعی اشیائے ضرورت کے علاوہ صحت تعلیم لباس جیسی بنیادی ضروریات کیلئے شہروں میں جا کر خریدوفروخت کرتی ہے اس لئے اس کی آمدن بری طرح متاثر ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بازار میں دوکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے گاہکوں کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں جو اپنی تنگدستی کے باعث بازار کا رخ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

    زرعی پالیسی ۔۔ منفی اثرات:
    بدقسمتی سے پچھلے دو تین سال سے ملک کے بیشتر حصوں میں یہ انتہائی منفی اور ناخوشگوار صورتحال کارفرما ہے ۔ دو بڑی فصلیں کپاس اور چاول سنگین بحران سے دوچار ہیں ان کی پیدواری لاگت (Cost of Production) میں اضافہ پیداوار میں کمی اور قیمت میں اتنی گراوٹ آچکی ہے کہ کسان اگلی فصل کی کاشت کے تقاضے پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور بہت سے یہ آبائی پیشہ ترک کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ کوئی متبادل روزگار بھی دسترس میں نظر نہیں آرہا۔
    دوسری طرف ملک کی معیشت کا جو نقشہ سامنے آرہا ہے وہ انتہائی تاریک مستقبل کا آئینہ دار لگتا ہے خدانخواستہ۔ سٹیٹ بنک اور دوسرے مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ملک 181ارب ڈالر کا مقروض ہے جس کی اقساط ادا کرنے پر قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف ہوجاتا ہے جبکہ دفاع کے علاوہ تعلیم صحت و دیگر بنیادی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سخت مشکلات کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا کڑی سیاسی و اقتصادی شرائط پر مزید قرضہ لینے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ موجودہ تشویش ناک حالات برقرار رہنے کی صورت میں 65/70 فیصد دیہی آبادی کا 90فیصد حصہ شدید مالی بد حالی کا شکار ہونے کے باعث دیوالیہ پن کے قریب پہنچ جائے گا جس کے دوررس سماجی انتظامی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔

    کپاس اور چاول کا بحران:
    اس وقت ملک کی بڑی فصلیں شدید بحران سے دوچار ہیں ۔ پچھلے سال کپاس کی فصل انتہائی خراب رہی فی ایکڑ پیداوار بوجوہ بہت کم رہی ۔ برداشت کے موقع پر مارکیٹ شدید مندے کا شکار ہوئی جس سے کاشتکاروں کو بھاری خسارہ اٹھانا پڑا۔ اب ٹیکسٹائل کی صنعت کا پہیہ چالو رکھنے کیلئے بھارت سے روئی در آمد کی جارہی ہے۔ جبکہ ملکی جننگ فیکٹریاں بری طرح متاثر ہوچکی ہیں۔ دوسری بڑی غذائی و بر آمدی جنس، چاول کا حال اس سے بھی دگر گوں ہے۔ گزشتہ تین سال سے چاول کالاکھوں ٹن سٹاک گوداموں میں پڑا سڑ رہا ہے ۔

     سرمایہ منجمد ہونے سے برآمد کنندگان اور ڈیلر بری طرح زیربار ہیں ۔ اس کیفیت کے نتیجہ میں جہاں ملک کی دو ڈھائی ارب ڈالر کی سالانہ آمدن متاثر ہوئی ہے وہاں چاول کی کاشت اور کاشتکاروں پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حالیہ سیزن میں نرخوں میں 50 فیصدگراوٹ سے کسانوں کے اخراجات کاشت بھی پورے نہیں ہوئے ۔ گنے کے کاشتکاروں کا بھی بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے۔ 

    گنے کی قیمت میں مناسب اضافہ سے انکار کے ساتھ قیمت کی ادائیگی سے 
    مہینوں بلکہ سالوں تک محروم رکھا جاتا ہے ۔ شوگر ملیں کروڑوں اربوں روپوں کی نادہندہ ہیں۔ کسان سراپا احتجاج ہیں اور حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جبکہ بیشتر شوگر ملیں حکمران کی اپنی ملکیت ہیں۔ گندم کی حالت یہ ہے کہ لاکھوں ٹن غلہ سرکاری گوداموں میں پڑا تلف ہورہا ہے۔ پاسکو، محکمہ خوراک زیر بار ہے لیکن حکومت اسے برآمد کرنے کیلئے کوئی اقدام کرنے کی جیسے ضرورت ہی محسوس نہیں کر رہی۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ گزشتہ سال وافر سٹاک ہونے کے باوجودیو کرائن سے 7لاکھ ٹن گندم درآمد کر لی گئی جو کافی عرصہ تک معمہ بنی رہی ابھی تک یہ سکینڈل بے نقاب نہیں ہوسکا۔

    زرعی تحقیق کا فقدان۔
    ایک المیہ:ہمارے ملک میں زراعت کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس شعبہ کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تحقیق (Research) کے پہلو کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر متعدد ممالک نے جہاں زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کئے وہاں پیداواری لاگت (Cost of Production) میں نمایاں کمی کے طریقے دریافت کرنے پر فوری توجہ دی۔ پھر اس تحقیق کے ثمرات سے بہرہ ور ہونے کیلئے کسانوں کو اس کی مکمل آگاہی دینے کے ساتھ بیج کھاد پانی ادویہ جیسی ضروریات کاشت (Input) کی بآسانی فراہمی کو بھی یقینی بنایا ۔

    اس طرح امریکہ و یورپ ہی نہیں مشرق وسطی جنوبی ایشیا اورمشرق بعید کے ممالک نے بھی کسان کی انفرادی اور ملک کی مجموعی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ہماری سرحد کے اس پار بھارت ترقی دادہ بیجوں اور کھاد بجلی ادویہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی سے نہ صرف خوفناک قحط کی صورتحال سے نکل چکا ہے بلکہ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اس کی برآمدی اجناس بھاری زرمبادلہ حاصل کر رہی ہیں۔ جبکہ ہم جو کبھی کپاس اور چاول جیسی فصلوں کی برآمد کے سلسلے میں عالمی منڈی میں ممتاز مقام رکھتے تھے بین الاقوامی مارکیٹ سے باہر ہو چکے ہیں اور پیاز ٹماٹر جیسی سبزیاں بھارت سے در آمد کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں نہ ہی اپنی کوتاہیوں کے ازالے کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ اس پرکسان سراپا احتجاج ہیں۔

    کسانوں پر کمر توڑ بوجھ:
    یہ معاشی المیہ زرعی پالیسی کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ ہم اپنے چاول ’’ سپر باسمتی‘‘ کے اعلیٰ بیج سے محروم ہو چکے ہیں کائنات یا انڈین باسمتی کے نام سے جو بیج کاشت کیا جا رہا ہے وہ بھی اپنی پیداواری صلاحیت کھورہا ہے۔ اسی طرح چارہ سبزیات کے ترقی دادہ بیج امریکہ و یورپ کے علاوہ بھارت سے بھی در آمد ہورہے ہیں جو ہمارے ارباب بست و کشاد کیلئے بڑا چیلنج ہے:

    ا یک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے
    ہماری حکومتیں زرعی تحقیق کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ پیداوار کی قیمت کو لاگت کے ساتھ منسلک کرنے کی بھی قطعی روا دار نہیں حتیٰ کہ اپنی ہی مقررہ امدادی قیمت پر کسانوں کی جنس خریدنے میں اداروں کی بے حسی اور کرپشن کے باعث کاشتکاروں کی زبردست حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ زراعت پر فکسڈ زرعی ٹیکس کے ساتھ اب کمر توڑ زرعی انکم ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے جو مرے کو مارے شاہ مدار کی عملی تفسیر ہے۔

    اصلاح احوال کے تقاضے:
    وطن عزیز معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عالمی اداروں اور بعض حکومتوں کے سخت دباؤ میں ہے جس سے نجات کیلئے لازم ہے کہ زراعت کی بحالی و ترقی کیلئے ہنگامی منصوبہ پر کام کیا جائے ۔ تحقیقی اداروں کو پوری طرح فعال کر کے چاول گندم کپاس گنا چارہ سبزیوں کے ترقی دادہ بیج اور پیداواری لاگت کم کرنے کے طریقے دریافت کرنے کا ٹاسک دیا جائے اور مکمل وسائل مہیا کئے جائیں۔

    اس طرح ایک طرف ہم غذائی خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں آنے پر چاول کپاس گندم اور پھلوں سے بھاری زرمبادلہ بھی حاصل کر سکیں گے تو دوسری طرف خام مال ارزانی و فراوانی سے میسر آنے پر صنعتیں سارا سال چلتی رہنے سے برآمدات کے علاوہ روزگار کے مواقع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا جو قرضوں کی لعنت اور عالمی اداروں کی کڑی شرائط سے نجات اور عالمی برادری میں باوقار اور خوشحال قوم کے طور پر اپنا مقام بنانے کا باعث بنے گا۔

    امان اللہ چٹھہ


    0 0


    0 0


    0 0




    0 0




    0 0



    0 0

     23 مارچ کو یوم پاکستان پر روایتی پریڈ کا انعقاد کیا گیا جس دوران مسلح افواج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
    23 مارچ کے دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوا۔
    75 سال قبل 1940ء کو اس دن لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان کی منظوری دی گئی جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کیلئے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔












    0 0

    امریکی قوم کے تہذیبی تفاخرو نسلی برتری کے احمقا نہ تصور کو جس طرح ایلکس ہیلے نے اپنے شہرہ آفاق ناول ’’روٹس‘‘میں پیش کیا ،وہ یقینا بے مثال ہے۔ ایلکس ہیلے ایک سیا ہ فام امریکی تھا، جو 1970ء کی دہا ئی میں امریکی نیوی کی ملازمت سے ریٹا ئرہونے کے بعد تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہوا۔ ایلکس ہیلے نے اپنی تہذیبی و خاندانی تا ریخ کی تحقیق کرنے کا بیڑہ اُٹھا یا ۔ بارہ سال کی مسلسل تحقیق کے دوران اس نے ا فریقہ کے کئی دورے کئے۔ وہ اپنی اس تحقیق کے لئے افریقہ میں کئی لوگوں سے ملا اور با رہ سال کی انتھک محنت کے بعد اس نے اپنی تحقیق کے نچوڑ کو ’’روٹس‘‘ کی صورت میں دُنیا کے سامنے پیش کیا ۔

    اس تحقیق سے ہیلے کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں کی ماں کے باپ اور اس با پ کی ماں کے با پ کو 1750ء میں امریکیوں نے گھا نا (افریقہ )کے علا قے سے پکڑ کر زبردستی اپنا غلام بنا لیا۔ کنٹی کنٹاجو گھا نا کے قبیلے کے ایک سردار کا بیٹا تھا اور اپنے گھر اور قبیلے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا تھا کہ1750ء میں چند امریکی تاجر جو اس وقت افریقہ سے لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کو پکڑ کر ان کو اپنا غلام بنا لیتے تھے اور ان کو امریکہ لے جا کر ان سے ہر طرح کے مشکل اور پُر خطر کام کرواتے تھے۔
    امریکی، کنٹی کنٹاکو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے گئے۔لا کھوں افریقی انسانوں کی طرح اس کو بھی غلام بنا کر بیچا گیا۔ اس کو شدید نسلی تحقیر کا نشانہ بنا یا گیا۔اس کو زنجیریں پہنا کر اس پر تشدد کیا گیا۔ اس سے اس کی تہذیبی اساس ،حتیٰ کہ اس کے نا م سے بھی زبردستی محروم کر کے اس کو امریکی آقا ؤں نے اپنی پسند کا نام دیا۔ جب اس کی شادی کے بعد اس کی ایک بیٹی پیدا ہوئی تو اس بیٹی کو بھی کسی اور امریکی آقا کے ہا تھوں بیچ دیا گیا۔ نسلی امتیا ز کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہااور کنٹی کنٹاکی ساتویں نسل کے ایک فرد ایلکس ہیلے نے اس سارے سلسلے کو ایک نا ول میں سمیٹ کر رکھ دیا۔

    اب 2016 ء میں امریکی صدراتی انتخابات کی مہم کو دیکھ کر یہ لگ رہا ہے ، جیسے ابھی روٹس ناول کا اختتام نہیں ہوا، بلکہ یہ ناول جاری ہے۔امریکہ کی حالیہ سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسا فرد ریپبلکن پارٹی کا صدراتی امیدوار بننے جا رہا ہے ، جو اعلانیہ اپنے مخالفین کے خلاف تشدد کی حما یت کر ہا ہے،سیاہ فام افراد کے خلاف سفید فام امریکیوں کو بھڑ کا رہا ہے،امریکہ کے لو گوں کو قائل کررہا ہے کہ امریکہ میں عشروں سے رہنے والے امریکی مسلمان شہری امریکہ کے وفا دار نہیں ہیں۔

    ٹرمپ اپنے سیا سی عزائم کے لئے اس سما جی خلفشار سے فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ جو امریکہ میں بڑے پیما نے پر بے روزگا ری ، اجرتوں میں کمی اور معاشی زوال کے باعث پیدا ہوا۔ تاریخ بتا تی ہے کہ کو ئی بھی فا شسٹ تحریک یا سیاست دا ن اپنے فاشسٹ اور نسل پر ستانہ عزائم کے لئے محروم طبقات کو ان کی محرومی کی حقیقی وجوہات بتانے کی بجائے ان کو نسلی تعصب کی جانب لے جا تا ہے۔ 20ویں صدی میں اس کی سب سے بڑی مثال ہٹلر کی صورت میں ہما رے سامنے ہے ، جس نے اسی سماجی خلفشار کو بنیاد بنا کر نسل پرستی کا نعرہ لگا کر جرمن قوم کی اکثریت کی حمایت حاصل کر لی ۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ سفید فام امریکیوں کی حما یت حاصل کر نے کے لئے یہ موقف اپنا رہا ہے کہ سفید فا م امریکی اس لئے بے روز گار ہو رہے ہیں ،کیونکہ ان کے حصے کی نو کریاں سیا ہ فا م اور میکسیکو کے شہری لے جاتے ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابی جلسوں میں خاص طور پر سیاہ فام افراد پر حملے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ابھی 12مارچ کو امریکی ریا ست شما لی کیرولینا میں ٹرمپ کے جلسے کے موقع پر جب سیاہ فا م افراد کا ایک گروہ ٹرمپ کے نسل پرستانہ موقف کے خلاف پُر امن احتجا ج کر رہاتھا تو ٹرمپ نے جلسے میں اعلان کیا کہ ان کو چپ کر وایا جائے، یہ سنتے ہی ٹرمپ کے حامیوں نے ان نہتے افراد پر ہلہ بو ل دیا، جس سے 20 سے زائد سیا ہ فا م افراد بری طرح سے زخمی ہو ئے۔ اس واقعہ کے صرف دو روز بعد شکا گو میں ایک بار پھر ٹر مپ کی مو جو دگی میں سیاہ فام افراد کے ایک گروہ پر حملہ کیا گیا ۔

     فلوریڈا میں بھی ٹرمپ کے جلسے کے دوران اسی نوعیت کا واقعہ دیکھنے میں آیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہر انتخابی تقریر میں سیاہ فام افراد، میکسیکو اور دیگر غریب ممالک کے امیگرنٹس اور مسلمانوں کے خلاف کو ئی نہ کو ئی با ت ضرور کی جا تی ہے، جب ٹی وی انٹرویوز میں ٹرمپ سے اس حوالے سے با ت کی جاتی ہے تو ٹرمپ بڑی ڈھٹا ئی سے نسل پرستی پر اپنے انتہا پسندانہ موقف کی حما یت کر تا ہے۔ نسلی تعصب پر مبنی ٹرمپ کی انتخابی مہم کی مماثلت 1968ء میں امریکی ’’انڈی پینڈنٹ پا رٹی ‘‘کے صدراتی امیدوار جارج ویلس سے کی جارہی ہے۔

    جارج ویلس 1963ء سے 1967ء تک امریکی ریاست البا مہ کا ڈیمو کریٹک گورنر رہا، تا ہم سفید فام پرستی پر مبنی انتہا پسندانہ نظر یا ت کے باعث اس نے نسل پرست جما عت ’’ انڈی پینڈنٹ پارٹی‘‘ کی جانب سے 1968ء کے صدراتی انتخابات میں حصہ لیا۔ 1968ء کے امریکی انتخابات اس حوالے سے اہم تھے کہ اس سال اپریل میں سیا ہ فام رہنما ما رٹن لو تھر کنگ کو ہلا ک کیا گیا تھا۔ جارج ویلس نے اپنی انتخابی مہم میں ما رٹن لو تھر اور سیاہ فام افراد کے خلاف تقریریں کیں، تاہم صدراتی انتخابات میں جارج ویلس بری طرح سے نا کام رہا ۔

    اگر جارج ویلس کا ڈونلڈ ٹرمپ سے تقابلی جائزہ کیا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ 2016ء میں نسلی تعصب1968ء کے مقابلے میں بھی بڑھ چکا ہے، کیونکہ جارج ویلس کو اس کے انتہا پسندانہ نظریا ت کے با عث دونوں بڑی جماعتوں ڈیمو کریٹس اور ریپبلکن نے 1968ء میں قبول نہیں کیا تھا، مگر اس مرتبہ تو جارج ویلس کی طرح کے نظریات رکھنے والے ڈونلڈٹرمپ کو ریپبلکن پا رٹی جیسی بڑی جماعت کی تا ئید حاصل ہے۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس وقت امریکہ میں نسلی امتیاز کی کیا صورت حال ہے۔

    امریکہ میں سیاہ فام افراد کی اکثریت پہلے ہی مشکلات کا شکا ر ہے۔امریکی اخبا ر دی ’’واشنگٹن پو سٹ‘‘ کے مطا بق امریکہ میں 50ملین افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں اور ان میں واضح اکثریت سیا ہ فام افراد کی ہے۔سیاہ فام نو جوان نو کریاں نہ ملنے کے با عث جرائم کی طرف بھی زیا دہ ما ئل ہیں۔امریکہ میں ہمیں کو نڈ ا لیزا رائس، کو لن پاول اور سب سے بڑھ کر اوباما کی صورت میں ایسے سیا ہ فا م افراد بھی نظر آتے ہیں 

     جو امریکہ کے اعلیٰ ترین ریا ستی عہدوں تک پہنچے، مگر دُنیا کے دیگر ممالک کی نسلی و لسانی اور مذہبی ا قلیتوں کی طرح جب کسی اقلیت کے چند افراد کئی طرح کے سمجھوتوں کے بعد اعلیٰ عہدے یا پو زیشنیں حاصل کر لیتے ہیں تو وہ طبقاتی حوالے سے اشرافیہ کا ہی حصہ بن جا تے ہیں۔ 2016ء کے امریکی صدراتی انتخابا ت کی مہم میں جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ بڑھ چڑ ھ کر نسلی امتیاز کا پرچار کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر جس طرح اسے تیزی کے ساتھ ریپبلکن پا رٹی کی حما یت بھی حاصل ہو رہی ہے تو یہ دیکھ کر یہی احساس ابھرتا ہے کہ اپنے ظاہر میں تو بے شک امریکی معا شرہ ترقی پسند ، لبرل اور سیکو لر ہو چکا ہے، مگر اپنے با طن میں وہ اب بھی ’’روٹس ‘‘نا ول کے عہد میں رہ رہا ہے۔

    عمر جاوید



    0 0

    آئی سی سی ورلڈٹوئنٹی20 میں پاکستانی داستان تنازعات اورمایوسیوں سے بھری رہی، بھارت روانگی سے قبل ہی ٹیم مسائل کے بھنور میں پھنسی رہی اور ٹورنامنٹ میں بھی افسوسناک اندازمیں اختتام کیا، میدان کے اندر اور باہر تنازعات نے پاکستان کرکٹ ٹیم کا پیچھا نہ چھوڑا جبکہ اب ایونٹ سے باہر ہونے کے بعد بھی تنازعات ٹیم سے چمٹے ہوئے ہیں، سلیکٹرز نے ایشیاکپ کے فوراً بعد ٹیم میں تبدیلیاں کیں جبکہ ایونٹ میں شرمناک ہار کے بعد تحقیقاتی ٹیم بھی بنا دی گئی، اس کے 2 رکن مصباح الحق اور یونس خان اجلاس کے لیے دستیاب ہی نہ تھے، یہ کمیٹی اب حالیہ شکست  کی بھی تحقیقات کرے گی۔

    بھارت جانے سے پہلے بھی حکومت کی جانب سے ٹیم بھیجنے اور نہ بھیجنے جیسی صورتحال نے اچھا خاصا تماشہ لگائے رکھا، کبھی خبر ملتی کہ ٹیم جا رہی ہے لیکن تھوڑی دیر بعد ہی پتہ چلتا کہ ابھی کلیئرنس کا انتظار ہے، اسی شش و پنج میں ایک وارم اپ میچ سے بھی گرین شرٹس کو ہاتھ دھونے پڑے، کولکتہ پہنچتے ہی کپتان آفریدی نے بیان داغ دیاکہ بھارت میں پاکستان سے بھی زیادہ پیار ملتا ہے، اس پر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا ۔
    جس کی وجہ سے انھیں شائقین اور سابق کرکٹرز کی شدید تنقید سہنا پڑی، بھارت سے ہائی وولٹیج میچ سے قبل عمران خان کی کولکتہ آمد کے بعد ٹیم سے ملاقات ہوئی، عمر اکمل ان سے شکایت کر بیٹھے کہ انھیں اوپر کے نمبرز پر نہیں کھلایا جاتا،کوچ وقار یونس نے نیوزی لینڈ سے شکست کے بعد تو یہاں تک کہہ دیا کہ سفارش  پر آگے کے نمبر پر آکر کھیلنے والوں نے موقع ملنے کے باوجود پرفارمنس نہیں دکھائی، بھارت سے تو خیر روایتی طور پر ٹیم ہاری ہی تھی لیکن کیویز سے شکست کے بعد ٹیم میں گروپنگ کی خبریں آنے لگیں، حفیظ کی انجری کوبھی بعض حلقوں کی جانب سے مشکوک قرار دیا جانے لگا۔

    آفریدی نے موہالی میں میچ کے بعد کشمیر سے آئے شائقین کی سپورٹ پر شکریہ ادا کیا، یہ بات بھارتی کرکٹ بورڈ سے ہضم نہ ہوسکی، سیکریٹری انوراگ ٹھاکر نے انھیں سیاسی بیان بازی سے گریز کا مشورہ دے دیا مگر آفریدی باز نہ آئے اور آخری میچ کے بعد پھر کشمیریوں کا شکریہ ادا کر بیٹھے،قبل ازیں چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے بھی دوران ایونٹ ہی قوم کو مایوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ٹیم سے لوگ امید نہ رکھیں، ان کے اس بیان پر بھی خاصی تنقید کی گئی ۔



    0 0

    بلوچستان میں حساس اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک بڑا ایجنٹ گرفتار کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بھارتی بحریہ میں کمانڈر ہے، اور ان دِنوں اس کی خدمات ’’را‘‘ نے حاصل کر رکھی ہیں۔ اس کا نام کل بھوشن یادیو بتایا گیا ہے، بلوچستان میں یہ حسین مبارک پٹیل کے فرضی نام سے مصروفِ عمل تھا۔ مختلف تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے، اور اس سے بھارتی ایجنسی کی پاکستان میں مداخلت کا ایک انتہائی کھلا ثبوت ہاتھ لگ گیا ہے۔

     اس شخص کے قبضے سے دستاویزات اور نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں، اور دورانِ تفتیش اس نے اپنی سرگرمیوں کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا ہے۔ اِس کے بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند عناصر اور فرقہ وارانہ تصادم کے لیے کام کرنے والی ایک مذہبی تنظیم سے بھی روابط تھے۔ اسے بذریعہ طیارہ اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اِس سے تفتیش جاری رہے گی، اور باخبر ذرائع کے مطابق مزید حیرت انگیز معلومات ملنے کی توقع ہے۔

    اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ حسین مبارک پٹیل کی بے نقابی اور گرفتاری انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔ بھارت نے یہ تو مان لیا ہے کہ کل بھوشن بھارتی نیوی کا افسر تھا جو اب ریٹائر ہو چکا ہے۔ بھارت نے قونصلر کی سطح پر رسائی بھی مانگی ہے جو بظاہر اپنی ’’چہرہ بچائی‘‘ کی کوشش ہی لگتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کے معاملات میں بھارتی خفیہ اداوں کی مداخلت کا تعلق ہے، اِس بارے میں(پاکستان کے اندر تو کم از کم) دو رائیں نہیں ہیں۔ تاریخ کا جائزہ لیں تو قدم قدم پر اس کا ثبوت فراہم ہو گا۔
     مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک کی بنیاد رکھنے ، اسے بڑھاوا دینے اور پھر منطقی نتیجے تک پہنچانے میں بھارتی کردار کے دستاویزی ثبوت اب پوری دُنیا کے سامنے ہیں۔ بھارت کے اپنے فوجی اور غیر فوجی اہلکاروں کے قلم سے سب کچھ منظر عام پر آ چکا ہے۔ اگرتلہ سازش کیس سے لے کر پلٹن میدان کے وقوعے تک واقعات کاایک تسلسل ہے، بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مشرقی پاکستان میں زبان کے نام پر چلنے والی تحریک کے بعد سے اگرتلہ سازش تک موجود کڑیاں جوڑی جا چکی ہیں۔ چند ہی ہفتے پہلے وزیراعظم نریندر مودی بنگلہ دیش گئے تو انہوں نے بنگلہ دیش کی آزادی(یا پاکستان سے علیحدگی) کی تحریک میں بھارت کے اور اپنے کردار کا بڑے فخر سے تذکرہ کیا، اور آنے والی نسلوں کو بھی اسے یاد رکھنے کا مشورہ دیا۔

    سندھ پر بھی ’’را‘‘ کی خصوصی توجہ رہی ہے، بلوچستان میں تو کئی برسوں سے جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اب اپنی شہادت آپ دے رہا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی جب اپنے دورِ اقتدار میں مصر گئے تھے تو شرم الشیخ میں ان کی ملاقات اپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ سے ہوئی تھی، انہوں نے انہیں اس طرف اس کامیابی سے متوجہ کیا تھا کہ مشترکہ اعلامیے میں اس مسئلے نے باقاعدہ جگہ پا لی تھی۔ بھارتی وزیراعظم جب واپس پہنچے تو میڈیا اور مخالفانہ سیاست نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا، اور بلوچستان میں بھارتی مداخلت کو باقاعدہ مذاکرات کا حصہ بنانے پر خوب لتے لئے، اور وہ دبک کر رہ گئے۔

     مودی جی مہاراج کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول بھی خفیہ اداروں میں کام کرنے کی تاریخ اور خصوصی مہارت رکھتے ہیں، اور اس حوالے سے ان کی کار گزاریوں کا تذکرہ عام ہے۔ وہ پاکستان میں بھی انڈر کور کام کرتے رہے ہیں۔ ان کی ایک تقریر تو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں وہ پاکستان کے اندر بہت کچھ کر دکھانے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس مقصد کے لیے طالبان کو بھی امرت دھارا قرار دے رہے ہیں۔ ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ میں گزشتہ ماہ بھارت کے ایک سابق ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر ستیش چندرا نے ڈنکے کی چوٹ لکھا ہے کہ بھارت کو اپنے افغان دوستوں کی مدد سے بلوچستان میں لازماً حرکت کرنی چاہئے۔ پاک چین راہداری کے حوالے سے بھی بھارتی بے چینی کی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں، اور یہ بات برملا کہی جا رہی ہے کہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے فنڈز بھی مختص کر دیے گئے ہیں، اور کارندے بھی۔

    ایم کیو ایم کے بعض عناصر کے ’’را‘‘ کے ساتھ روابط بھی کسی ثبوت کے محتاج نہیں رہے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ اور لندن پولیس کی جو دستاویزات سامنے آئی ہیں وہ اپنا ثبوت آپ ہیں۔ ایم کیو ایم کے مختلف رہنماؤں کے اعترافی بیانات ان کا بھانڈا پھوڑ چکے ہیں، اس جماعت کے باغیوں کی زبان پر بھی ان سب معاملات کی تفصیل موجود ہے، اور توقع لگائی جا رہی ہے کہ برطانوی اداروں کے لیے اس سب کچھ کو ہضم کرنا بہت مشکل ہو گا۔

     قدرت کے ڈھنگ نرالے ہیں، ایم کیو ایم کے بہت سے افراد نے برطانیہ کو ’’محفوظ جنت‘‘ سمجھ کر وہاں ڈیرہ جمایا تھا۔ جب الطاف حسین صاحب کو برطانوی شہریت ملی تو اس کا دُنیا بھر میں جشن منایا گیا، لیکن اب یہ کہنے والے کم نہیں ہیں کہ برطانیہ کو اپنا وطن بنانے والے دراصل اللہ کی پکڑ سے دو چار ہونے والے تھے۔ قدرت نے ان کے لیے ایسا جال بچھایا تھا، جو بہت سنہری نظر آ رہا تھا، لیکن اب اس میں تڑپتے پھڑکتے انہیں صاف دیکھا سکتا ہے۔ برطانیہ میں جو کچھ کہا گیا، اور کیا گیا، اگر وہ پاکستانی اداروں کی طرف سے سامنے آتا تو 

    اس کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا، لیکن ع
    حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

    پاکستان کے حفاظتی اداروں کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ صورتِ حال سے نبٹنے کی اپنی سی کوشش کر رہے ہیں، لیکن معاملہ کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ انتظامی کارروائیاں ضروری ہیں، لیکن کافی نہیں ہیں۔ ہمیں اپنے اندر موجود ’’فالٹ لائنز‘‘ کی خود خبر لینا ہو گی۔ میڈیا اور سیاست کو اپنے آپ پر گہری نظر رکھنا ہو گی، کہ اختلافات کو ہَوا دینے اور پاکستانی ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر سرگرم نہ ہونے پائیں۔ 

    مذہب، نسل، علاقے اور رنگ کے نام پر ایک دوسرے پر چڑھ دوڑنے والوں، اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے والوں کو بہر صورت لگام دینا ہو گی۔ جہاں یہ ضروری ہے کہ پاکستان کے دستور کی بالادستی بہرقیمت برقرار رکھی جائے، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ بدنظمی اور افراتفری کے فروغ کی اجازت کسی کو نہ ہو۔ اہل سیاست ایک دوسرے کا مُنہ کالا کرنے سے باز رہیں، اور سیاسی اختلافات کے اظہار کے قرینے ملحوظ خاطر رکھیں۔

     دشمن کے عزائم جو بھی ہوں، اگر انہیں ناکام بنانے کے لیے ہمہ جہتی کوشش جاری رہے گی تو پھر اس کے دانت کھٹے رہیں گے، لیکن اگر اس کے ایجنڈے کو بروئے کار لانے والے، دستوری ترتیب کو تہہ وبالا کرنے کی خواہش رکھنے والے ،دستورِ پاکستان کا مذاق اڑانے والے سیاست اور صحافت کو اپنا آلۂ کار بنا گزریں گے، تو پھر دشمن کے راستے میں ’’ریڈ کارپٹ‘‘ بچھا دیا جائے گا۔ اجتماعی نظم کو برباد کرنے کی خواہش رکھنے والے دراصل ’’حسین مبارک پٹیل‘‘ کی نقاب اوڑھنے والے ’’کل بھوشن یادیو‘‘ہیں۔۔۔ اچھی طرح ان کو پہچان لیا جائے۔

    مجیب الرحمان شامی 


    0 0

    ایک را کا ایجنٹ گرفتار ہو گیا ہے۔ کافی شور مچ گیا ہے۔ ایک عجیب سی بحث شروع ہو چکی ہے ۔ کچھ ایسا ماحول بن گیا ہے۔ جیسے کوئی بڑا بریک تھرو ہو گیا ہے۔ ایک بہت بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ بس اس را کے ایجنٹ کے پکڑے جانے سے ساری گیم ہی بدل جائے گی۔ اب بھارت پھنس جائے گا۔

    یہ کوئی پہلا را کا ایجنٹ نہیں جو پاکستان میں گرفتار ہوا ہے۔ یہ کوئی پہلی دفعہ نہیں کہ را نے پاکستان میں اپنی کاروائیوں کے لئے کوئی ایجنٹ بھیجا ہو۔ سب ایک کھلی کہانی ہے۔ بچہ بچہ جانتا ہے۔ لیکن پھر بھی شور ہے۔ ایک انجانی سی خوشی کا ماحول ہے۔ جیسے کوئی بڑی کامیابی مل گئی ہو۔ بڑے بڑے اہم لوگ اس پر ہی بات کررہے ہیں۔ ایک کہانی یہ بھی ہے کہ میڈیا اور عسکری حلقوں نے زیادہ شور مچایا ہوا ہے۔

     جبکہ سیاسی قیادت خاموش ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت سمجھداری سے کام لے رہی ہے۔ حساس اور اہم معاملہ پر غیر ذمہ داری نہیں دکھائی جا سکتی۔ حکومتیں اس طرح بینڈ باجے اور شادیانے نہیں بجا سکتیں ۔ جیسے میڈیا اور کچھ ریٹائرڈ عسکری لوگ بجا رہے ہیں۔ حکومت کے کہے ہوئے لفظ کی عالمی سطح پر ایک اہمیت ہو گی۔ اس لئے خاموشی ہی بہتر ہے۔

    ایک سوال یہ بھی ہے کہ بیچارے ایجنٹ کو قابو آئے ابھی چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہو ئے ہیں۔ میڈیا میں ساری تفتیش آگئی ہے۔ پاسپورٹ کی کاپی بھی میڈیا اور سوشل میڈیا میں عام ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں نے تو یہ تک بتا دیا ہے کہ ایجنٹ نے کون کون سے اہم رازں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ شائد سب کچھ بہت جلدی میں ہو رہا ہے۔
     لیکن اس کی ایک تو جیح یہ بھی پیش کی جا رہی ہے کہ بھارتی میڈیا بھی تو ایسا ہی کرتا ہے۔ وہ بھی تو کسی ایک واقعہ کے چند لمحوں کے اندر ہی سارے تانے بانے پاکستان کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ وہ بھی تو اسی قسم کے ثبوت لیکر پاکستان کے خلاف چڑھ دوڑتے ہیں۔ تو بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دینے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ بھارت کو صرف اس کی اپنی زبان ہی سمجھ آسکتی ہے۔ اس لئے سب ایسا ہو رہا ہے۔

    آئی ایس آئی اور راء کے درمیان یہ پراکسی لڑائی کوئی نئی نہیں۔ یہ لڑائی قیام پاکستان سے ہی چل رہی ہے۔ دونوں ایجنسیاں ایک دوسرے کے ملک میں اپنا اپنا نیٹ ورک قائم رکھتی ہیں۔ پوائنٹ سکورنگ بھی جاری رہتی ہے۔ لیکن اب اس پراکسی لڑائی میں میڈیا کا بھی اہم کردار ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کی ایجنسیاں اب اپنے اپنے ملک اور دوسرے ملک کے میڈیا کو بھی اس پراکسی لڑائی میں استعمال کرتی ہیں۔ اسی لئے دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے نیوز چینلز کو بین کر دیا گیا ہوا ہے۔

     تا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے خلاف پراپیگنڈا کو دیکھ نہ سکیں۔ پاکستان میں بھارتی نیوز چینلز پر پابندی ہے اور بھارت میں پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی ہے۔ اس لئے بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف جو شور مچاتا ہے اس کا پاکستان میں بہت کم اثر ہو تا ہے۔ اور پاکستانی میڈیا جو شور مچاتا ہے اس کا بھارت میں بہت کم اثر ہو تا ہے۔ اس لئے جو طوفان اس وقت پاکستان میں نظر آرہا ہے۔ یہ ایک عام بھارتی کو نظر نہیں آرہا ہو گا۔

    بھارت کو پاکستان پر ایک ہی برتری حاصل ہے۔ وہ سفارتی محاذ ہے۔ یہ ماننا ہو گا کہ بھارت کو سفارتی محاذ پر ہمیشہ پاکستان پر برتری حاصل رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس کے سفارتخانہ پاکستانی سفارتخانوں سے زیادہ متحرک ہیں ۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ لیکن یہ وجہ قابل قبول نہیں۔ ہمیں اس ضمن میں اپنی کو تاہی قبول کرنا ہو گی۔

    را کا یہ ایجنٹ جو ہم نے پکڑ لیا ہے۔ اس کی تفتیش کا مواد میڈیا میں جاری کرنے کی بجائے اس کی تفتیش سائنٹفک بنیادوں پر کی جانی چاہئے۔ اسے میڈیا میں عام کرنے کی بجائے پاکستان کے دوست ممالک کے ساتھ شئیر کرنا چاہئے۔ دیگر خفی ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہئے۔ اگر واقعی یہ ایجنٹ اتنا ہم ہے تو اس کو را کا باقی نیٹ ورک توڑنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔

    جہاں تک اس کے انکشافات کا تعلق ہے۔ تو ایک دوست نے کہا کہ جلد ہی اس کی ویڈیومنظر عام پر آجائے گی۔ لیکن ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اس کے ویڈیو بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔ دنیا کہے گی کہ وہ آپ کے قبضہ میں ہے۔ آپ جو چاہیں بیان لے سکتے ہیں۔ آپ کے اسی شور کی وجہ سے بھارت نے اس تک اپنے قونصلر کے ذریعے رسائی مانگ لی ہے۔ اب اگر ہم رسائی دیں تو پھنستے ہیں۔ نہ دیں تو پھنستے ہیں۔ اس لئے میڈیا ایسے معاملات میں مددگا ر کم ہی ہو تا ہے۔

    ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ را کے ایجنٹ کے پکڑے جانے کے بعد اب پٹھانکوٹ پر پاکستان کی جس تفتیشی ٹیم نے بھارت جانا تھا۔ وہ اب نہیں جائے گی۔ اور بیچارے سرتاج عزیز نے جو معاملہ ٹھیک کیا تھا وہ پھر پٹری سے اتر گیا۔ پاک بھارت حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہو جائیں گے۔ سیاسی حکومت کو ایک اور ایک قدم پیچھے آنا ہو گا۔ مودی کا لاہور آنا مزید ڈوب گیا۔

    راء پاکستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ یہ سوال بھی اٹھا یا جا رہا ہے کہ گرفتار ہونیو الے ایجنٹ کے پاس ایران کا ویزہ تھا۔ وہ ایران کے راستے پاکستان آیا۔ بھارت ایران میں چاہِ بہار کی بندر گاہ پر بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ سرمایہ کاری گوادر کے خلاف ہے۔ لیکن ایران کے صدر پاکستان کے دورہ پر ہیں۔ دوستی کی بات بھی ہے۔ یہ دنیامفادات کا کھیل ہے۔ اس کو مفاد کی آنکھ سے دیکھیں تو سمجھ آئے گی۔

    مزمل سہروردی


    0 0

    آج پاکستانی سوشل میڈیا پر مبلغ عرف ریٹائرڈ پاپ گلوکار جنید جمشید کی اسلام

    آباد ایئرپورٹ پر دھنائی زیرِ بحث ہے۔ کوئی مذمت کر رہا ہے اور کوئی پٹائی کی کمی کا شکوہ، کوئی ریاست کو فروغِ عدم برداشت کا بانی کہہ رہا ہے تو کوئی اس ’جنیدی ٹھکائی‘ کو ایک فرقے کے چند سر پھروں کے ہاتھوں دوسرے فرقے کے سر پھرے پر حملہ قرار دے رہا ہے۔

    وجہ کچھ بھی ہو مگر حیرت کسی کو بھی نہیں، نہ پٹنے والے کو، نہ پیٹنے والوں کو ، نہ فیس بکی مذمتیوں کو اور نہ ہی ٹویٹری حمایتیوں کو۔
    حیرت کو کیا رونا کہ سماج سے طائر ِشک کب کا اڑ چکا۔ اب یہاں منطق، دلیل، درگزر، صلہ رحمی و تلافی وغیرہ کی حیثیت کھوٹے سکے سے زیادہ کی نہیں۔
    تو کیا یہ معجزے کے برابر نہیں کہ ہم سب آنکھوں پر یقین کی موٹی پٹی باندھے اپنے سوا سب کو صاف صاف پورا پورا دن رات دیکھ سکتے ہیں۔

    یہ یقین ہی ہے کہ مفتی بھی میں، قاضی بھی میں، داروغہ بھی میں، سامنے والے کے الفاظ، اشارات، کنایات و نیت کا شارح بھی میں اور اس شرح کی روشنی میں سامنے والے کو کیفرِ کردار تک پہنچانے یا بری کرنے والا بھی میں اور سامنے والے کو دوزخ یا جنت الاٹ کرنے والا بھی میں۔
    جس سماج میں کم و بیش ہر کوئی وبائی خود یقینی میں مبتلا ہو وہاں اپنے سوا کوئی بھی مثالی مسلمان دکھائی دے ہی نہیں سکتا۔ سارا دھیان دوسرے کے اعمال و افعال و آخرت سنوارنے میں لگ جاتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا کہ ہم دوسرے کو ٹھیک کرتے کرتے کب انسانی زینے سے اترتے ہوئے قاتل یا مجرم بن گئے۔
    مگر فکر نہ کیجئے۔ ہر وہ شخص جو سامنے والے کا عقیدہ درست کرتے کرتے اس کے قتل کا مرتکب ہو بھی جائے تو بھی سودا گھاٹے کا نہیں ۔ بس خود کو اتنی ہی تسلی تو دینی ہے کہ قاتل یا پیٹنے والے کا فعل بھلے کیسا بھی ہو اگر نیت بھلی ہے تو زمینی قوانین توڑنا بالکل جائز ہے ۔اور جس نے بھی کیا ٹھیک کیا۔

    یہی وہ سوچ ہے جس کے تحت خود کو مسلمان کہنے والا کوئی بھی جنید جمشید کی زدوکوبی عین ثواب قرار دے سکتا ہے۔ ایسے کسی فیصلے تک پہنچنے کے کسی دور میں علمی و فقہی پس منظر کی ضرورت ہوتی ہو تو ہو لیکن آج الحمداللہ دورِ سرشاری ہے اور سرشاری کو کسی فیصلے تک پہنچنے کے لئے کسی منطق  اہلیت یا علمی پس منظر کی حاجت نہیں۔ خود پر، اپنی رائے اور سامنے والے کے ایمان کی کمزوری پر پختہ یقین ہی تو ہے جس سے ہم سب بری طرح سرشار گھوم رہے ہیں۔

    بس کوئی دن جاتا ہے کہ ہم میں سے ہر ایک سامنے والے کے لئے سلمان تاثیر ، ممتاز قادری اور جنید جمشید میں سے کوئی بھی کبھی بھی کہیں بھی بن جائے گا۔ ہم جس شاہراہِ شک پر یقینِ محکم سے مسلح چل نکلے ہیں اس کا آخری پڑاؤ کسی نے نہیں دیکھا حتی کہ ایک دوسرے کی جان لینے اور دینے والوں نے بھی نہیں ۔
    اب نہیں کوئی بات خطرے کی

    اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے ( جون ایلیا )

    مجھے یقین ہے کہ جو آخری آدمی ہلاک ہونے سے بچ جائے گا وہی اچھا سچا مسلمان ہوگا۔ کم ازکم ایسا مسلمان جو کسی اور کے ایمان پر انگلی نہیں اٹھا سکے گا۔

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی



    0 0

    لوگوں کو حیرت ہے کہ بھارت پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کے لیے
    ایران کی سرزمین استعمال کر رہا تھا، لیکن وہ لوگ جو صد ہا سال سے بلوچستان میں رہتے ہیں اور وہ پڑوسی ایرانیوں کو جانتے ہیں، ان کے لیے یہ بالکل چونکا دینے والا واقعہ نہیں تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک اعلیٰ سطح کا عہدیدار’’کل بھوشن یادیو‘‘ چاہ بہار میں بیٹھ کر بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور فرقہ وارانہ کارروائیوں کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہا تھا اور اس کے حوصلے اسقدر بلند ہو گئے تھے کہ وہ بے دھڑک پاکستان آ جا رہا تھا۔

    ایران اور پاکستان کا بارڈر کوئی افغانستان کی طرح نہیں ہے کہ جس سے ہر کوئی مختلف غیر معروف راستوں سے ادھر ادھر آتا جاتا رہا ہے۔ ایرانی انقلاب کے بعد ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحد کو شاندار اور مضبوط قسم کی تاروں سے بنی جالی سے بند کر دیا تھا جس پر رات دن ان کا گشت جاری رہتا تھا۔ 2007ء میں ایران نے اپنی سرحد پر 3 فٹ چوڑی اور دس فٹ بلند دیوار کھڑی کرنے کا منصوبہ شروع کیا جو سات سو کلو میٹر لمبی سرحد پر بنائی جانا تھی۔ اس پوری سرحد کو ایرانی ہی کنٹرول کرتے ہیں اور کوئی ان کی مرضی کے بغیر سرحد پار نہیں کر سکتا۔

    اس لیے کسی بھارتی کا بھیس بدل کر پاکستانی سرحد میں داخل ہونا ایرانی سرحدی عہدیداران جنھیں مرزبان کہتے ہیں، ان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ البتہ وہ اسمگلروں کے قافلوں میں گھس کر آ سکتا ہے۔ لیکن یہ اس قدر خطرناک ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسمگلروں نے سدھائے ہوئے اونٹ پالے ہوئے ہیں۔
    وہ انھیں افیم وغیرہ کھلاتے ہیں اور پھر بارڈر پر کسی ایسی جگہ سے جالی وغیرہ توڑ کر داخل کرتے ہیں جہاں ایرانی سپاہ کی آمد و رفت کم ہو۔ اونٹ تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے ایرانی سرحد میں موجود کسی گودام کے کھلے گیٹ میں داخل ہو جاتے ہیں، گیٹ بند ہو جاتا ہے، سامان اترتا ہے، لادا جاتا ہے اور اونٹ واپس روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس سارے عرصے میں کوئی اونٹ پر سوار موجود نہیں ہوتا۔ اسی لیے آپ اگر براستہ تفتان ایران میں داخل ہوں تو آپ کو اردگرد صحرا میں پاسداران یا کسٹم حکام کی فائرنگ سے مرے ہوئے اونٹ نظر آئیں گے۔
    ایران سے پٹرول بھی ایرانی اور پاکستانی حکام کی سرپرستی میں پاکستان میں اسمگل ہوتا ہے۔ سرحد کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپ بنائے گئے ہیں جہاں بلوچ عوام گدھا گاڑیوں پر ٹینکیاں رکھے پٹرول بھرواتے ہیں، پھر انھیں ڈرموں میں ڈال کر پک اپ پر رکھ پاکستان اسمگل کیا جاتا ہے۔

    ایران میں بسنے والے بلوچ عوام کی یہی گزر بسر اور یہی معاشرتی حیثیت ہے۔ ایران میں ان کی تعداد اتنی ہے جتنی پاکستان میں بلوچوں کی، لیکن کھیتی باڑی، اسمگلنگ اور چھوٹے موٹے کاروبار سے زیادہ انھیں آگے بڑھنے نہیں دیا جاتا۔ تمام سرکاری عہدوں پر فائز لوگ نسلی ایرانی ہوتے ہیں جو دیگر صوبوں سے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ محفلوں، سرکاری دفاتر اور دیگر جگہوں پر بلوچی بولنا بدتہذیبی کے زمرے میں آتا ہے جس کی سزا قطع تعلق پر ختم ہوتی ہے۔

    پاکستان میں  میڈیا پر بیٹھا کوئی مبصر، تجزیہ نگار یا پاکستانی میں ایران کا بلا وجہ دفاع کرنے والااگر یہ دعویٰ کرے کہ چاہ بہار میں مقیم بھارتی را کا ایجنٹ ایرانی حکومت کے اہلکاروں کی مدد کے بغیر بلوچستان میں گھومتا رہا، یہاں سرمایہ اور خاص طور پر اسلحہ بھی فراہم کرتا رہا تو اس جھوٹ پر پاکستان میں آباد باقی لوگ تو یقین کر لیں گے جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے لیکن مند سے لے کر رباط تک پھیلے سات سو کلو میٹر پر مشتمل ایرانی بارڈر کے اس طرف رہنے والے بلوچوں کو یقین نہیں آ سکتا کہ وہ تو روز اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھتے ہیں۔

    آپ مند سے سفر کرنا شروع کریں، پھر کرک، گراوٹ، ماشخیل، تالاب، تفتان سے ہوتے رباط تک جائیں اور وہاں کی مقامی آبادی سے ایرانی سرحدی گارڈز کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں سوال کریں تو وہاں آپ کو ناقابل یقین باتیں سننے کو ملیں گی۔ کیسے پاکستان کے مفرور قاتل، چور، اسمگلر اور جرائم پیشہ افراد، ایران میں پناہ لیتے ہیں ، کس طرح گلگت بلتستان سے لے کر پاکستان کے چپے چپے سے لوگ وہاں جاتے ہیں۔ بارڈر کے اردگرد رہنے والے بلوچ سب جانتے ہیں کہ زائرین کون ہوتے ہیں اور دوسرے لوگ کون اور کہاں رہتے ہیں۔

    یہ سب تو گزشتہ تیس سالوں سے چلتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت اور ایران کے رومانس کی کہانی زیادہ پرانی نہیں۔ یوں تو ہندوستان سے ایران کے رشتے اس وقت استوار ہوئے تھے جب سے صفوی بادشاہ تہماسپ نے جلا وطن ہمایوں کو مدد فراہم کی تھی اور اس نے برصغیر کے سب سے قابل حکمران شیر شاہ سوری کے جانشینوں کو شکست دے کر اقتدار واپس حاصل کر لیا تھا۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ تعلق مختلف وجوہ کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ زیادہ مضبوط ہو گیا۔

    دونوں ملک سرد جنگ کے زمانے میں امریکا کے ساتھ کھڑے تھے، اس لیے ایران نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا جب کہ بھارت روس اور غیر جانبدار ممالک کی تنظیم سے وابستہ تھا اس لیے بھارت کے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی 15 مارچ 1950ء یعنی آزادی کے تین سال بعد قائم ہوئے۔ انقلاب ایران کے بعد بھارت کے ایران سے تعلقات اچانک بہتر ہوئے اور لکھنؤ اور قم کے درمیان ایک مضبوط تعلق قائم ہوا۔ چونکہ بھارت صدام حسین کے عراق کے ساتھ تھا اس لیے تعلقات میں کمی آئی۔ لیکن کچھ عرصے بعد دونوں ممالک کو ایک نکتے پر اکٹھا ہونا پڑا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت بن گئی جو پاکستان کے لیے ایک بہت بڑی نعمت تھی۔

    گزشتہ ڈیڑھ سو سال بعد پاکستان کا مغربی بارڈر محفوظ ہوا تھا۔ طالبان کی حکومت کی مخالفت میں ایران شمالی اتحاد کی ہر طریقے سے مدد کر رہا تھا۔ بھارت بھی افغانستان میں طالبان کی شکست چاہتا تھا۔ یہاں سے بھارت اور ایران کا وہ رشتہ مستحکم ہوا جس میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا گیا۔ شمالی اتحاد کو ہر طرح کی امداد تین ملکوں سے میسر تھی، بھارت، ایران اور امریکا، تینوں کا یہ خفیہ معاشقہ کئی سال چلتا رہا۔ یہی وہ دور تھا جب ایرانی سفارت کاروں کے روپ میں پاسداران باقاعدہ افغانستان میں ٹریننگ دیتے۔

    گیارہ ستمبر کے بعد جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تو کامیابی کے بعد ایرانی پاسداران کے سربراہ نے بیان دیا تھا کہ ہم امریکیوں کے شانہ بشانہ طالبان کے خلاف لڑے تھے۔ فتح کے بعد ایران نے بیس ہزار افغانی سپاہیوں کو ٹریننگ دی۔ باربرا سلاون Barbra Slavin   کی فتح کی وہ تفصیلی رپورٹ کہ کس طرح ایران نے افغانستان میں موجود طالبان کے بارے میں نیٹو اور امریکا کو معلومات فراہم کیں اور بھاگنے والے القاعدہ کے رہنماؤں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا۔

    ایران کا طالبان مخالف بننے والی حکومت پر اس قدر اثر و نفوذ تھا کہ جب امریکا نے فتح کے بعد جرمنی کے شہر بون میں حکومت سازی کے لیے کانفرنس بلائی تو امریکا چاہتا تھا کہ حامد کرزئی حکومت بنائے۔ شمالی اتحاد نہیں مان رہا تھا۔ امریکی نمایندہ جمیز ڈوبنز James Dobbins کہتا ہے کہ ہمارے کہنے پر ایرانی نمایندہ جاوید ظریف شمالی اتحاد کے نمایندے یونس قانونی کو ایک جانب لے گیا، اس کے کان میں سرگوشی کی اور پھر ایک منٹ بعد معاہدہ طے پا گیا۔ شمالی اتحاد کی حکومت بھارت کا بھی ایک خواب تھا اور ایران کا بھی منصوبہ۔

    طالبان کی حکومت ختم ہوئی تو اس کے بعد 15 اگست کی پریڈ پر لال قلعہ دہلی سے وزیراعظم اٹل بہاری باجپائی نے للکارتے ہوئے کہا تھا کہ اے پاکستان کے حکمرانوں کہاں ہیں تمہارے طالبان جن کے بل بوتے پر تم ہمیں ڈراتے تھے‘‘۔
    امریکا، ایران اور بھارت یہ تینوں اس مسئلے پر پاکستان کے خلاف متحد تھے۔ ہر کسی کا اپنا اپنا مفادہے اور ہر کوئی آج بھی اسی مفاد کو حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ یہ مفاد اس قدر مضبوط ہے کہ پوری دنیا نے ایران پر پابندیاں لگا رکھی تھیں لیکن بھارت ایرانی پٹرول خریدتا تھا۔ 2007ء میں یہ تجارت 13 ارب ڈالر کی تھی۔ 

    لیکن 2008ء متحدہ عرب امارات کے ذریعے یہ تجارت30 ارب ڈالر تک جا پہنچی۔
    بھارت کا چالیس فیصد تیل ایران سے آتا رہا۔ جون 2009ء میں بھارت نے ایران میں تیل اور گیس کے ذخائر پر کام کرنے کے لیے پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ امریکا نے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل خرید رہا ہے اور عالمی بینکاری نظام کے بجائے Asian  Clearing Unionکو استعمال کرتا ہے۔

    یہ امریکی غصہ بھی ایک دکھاوا تھا۔ بھارت نے جواب دیا کہ ایرانی ایٹمی پروگرام سے بھارت کو کوئی خطرہ نہیں اور وہ ایران سے تیل بھی خریدتا رہا اور وہاں سرمایہ کاری بھی کرتا رہا۔ امریکا، ایران اور بھارت کا مفاد ایک اور جگہ پر مشترک ہوتا تھا اور وہ ہے بلوچستان اس خطے کی اہمیت اس وقت اور زیادہ اہم ہو گئی جب پاکستان نے چین کے ساتھ گوادر سے سنکیانگ تک راہداری کا منصوبہ شروع کیا۔

    اس کے ٹھیک ایک ہفتے بعد بھارت نے ایران سے مل کر چاہ بہار کی بندرگاہ پر کام شروع کیا اور اس بندرگاہ کا انتظام بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ چین پاکستان راہداری کو ناکام بنانے کے لیے بھارت نے چاہ بہار، ملاک، زرنج اور دلارام کے راستے 213 کلو میٹر روڈ پر 750 ملین ڈالر سے کام شروع کیا تا کہ افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کو ملایا جائے۔

    یہ سب اس لیے شروع کیا گیا کہ گوادر سنکیانگ راہداری کی ناکامی بہت ضروری تھی اور اس کے لیے بلوچستان پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اس لیے مجھے تو کوئی تعجب نہیں ہوا اور نہ ہی بلوچستان کے بلوچوں کو کوئی حیرت ہے کہ اسی چاہ بہار سے ایک ’’را‘‘ کا ایجنٹ پاکستان میں علیحدگی، تخریب کاری اور دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا۔ اس میں تو تینوں ملکوں کا مفاد وابستہ تھا، بھارت، ایران، امریکا۔ تینوں کا ہدف ایک ہے بلوچستان۔

    اوریا مقبول جان


    0 0

    پاکستان میں گزشتہ 2 عشروں کے دوران جنگلات کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی آنے کا انکشاف ہوا ہے، اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات مجموعی طور پر کل  16 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہیں جو مجموعی ملکی رقبے کا محض 2.2 فیصد بنتا ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی جنگلات کی تعداد میں سے کل 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر رقبے پر مشتمل جنگلات پلانٹڈ ہیں، اس رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2010 کے دوران پاکستان میں سالانہ 42 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات سے محروم ہو رہا ہے جو کل رقبے کا 1.66 فیصد بنتا ہے، ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں جنگلات کی شرح میں کمی والے کل143 ملکوں کی فہرست میں پاکستان 113نمبر پر موجود ہے۔
    اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے برعکس پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کی جانب سے 2011 کے دوران جاری سروے کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر کل45 لاکھ 49 ہزار507 ہیکٹر ارضی جنگلات پر محیط ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 5.1 فیصد بنتا ہے۔
    اس سروے کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ جنگلات آزاد کشمیر میں 4 لاکھ 35 ہزار 138 ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں جو آزاد کشمیر کے کل رقبے کا 36.9 فیصد بنتا ہے، خیبر پختونخوا میں 20.3 فیصد، اسلام آباد میں 22.6 فیصد، فاٹا میں 19.5 فیصد،گلگت بلتستان میں 4.8 فیصد، سندھ میں 4.6 فیصد، پنجاب میں2.7 فیصد اور بلوچستان میں محض 1.4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔

    شبیر حسین



    0 0

    پاکستان میں سمارٹ فون تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ پاکستانی نئی نسل میں
    اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم والے سمارٹ فون زیادہ مقبول ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہر مہینے ایسے سمارٹ فون سامنے آ جاتے ہیں جن کے پروسیسر زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ چناں چہ ان کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے۔ یوں پرانا فون سست رفتار لگنے لگتا ہے۔ اگر آپ کے پرانے اینڈرائیڈ فون کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے تو ایک اچھی خبر سنئیے۔ وہ یہ کہ ہر سمارٹ فون میں کچھ ایسی خفیہ سیٹنگز اور ایپلی کشنز موجود ہوتی ہیں جن کی مدد سے آپ چند سیکنڈ میں اپنے فون کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک اپلیکشن بھی آپ کے اینڈرائیڈ سمارٹ فون کی رفتار بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے ۔اس کا نام کروم ہے۔ یہ گوگل کا تیارکردہ براؤزر ہے۔ یہ نیٹ پر ڈیٹا کو ’’پچاس فیصد‘‘تک کمپریس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔چناں چہ فون پر ویب سائٹس تیزی سے کھلتی ہیں۔ بعض اوقات زیادہ ایپس انسٹال کرنے سے بھی فون سست ہو جاتا ہے۔ آپ خاص طور پہ فیس بک ایپ ڈیلیٹ کرکے بھی رفتار بہتر بناسکتے ہیں۔
    اسمارٹ فون کی رفتار پرگرافکس بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسمارٹ فونوں میں ٹرانزیشنز اور انیمیشنز (Transitions & Animations) کا استعمال بہت ہوتا ہے مگروہ فون کی رفتار کم کر دیتے ہیں۔ اس امر سے بچنے کے لیے اینڈرائیڈ فون میں ایک خفیہ ڈویلپر آپشن مینیو موجود ہے ۔ اس کے ذریعے اینیمیشن پلے کرنے کی رفتار کو کنٹرول کرنا ممکن ہے۔ اگر آپ ان کی رفتار دوگنا بڑھا دیں تو فون بھی پہلے سے زیادہ تیز ہوجاتا ہے۔

    یہ کام کرنے کے لیے فون کی سیٹنگز میں جاکر نیچے موجود About phone کے آپشن پر کلک کیجیے۔ اس کے بعد Build number پر کلک کریں اور یہ عمل 7 بار دہرائیں۔ اب بیک بٹن پریس کریں تو آپ کے سامنے نیا ڈویلپر آپشن مینیو آجائے گا جو About phone کے اوپر ہوگا۔ اس مینیو کے اندر جاکر نیچے اسکرول کریں اور ان سیٹنگز کو تلاش کیجیے:
    Windows animation scale، Transition animation scale اور Animator duration scal۔
    ان تینوں سیٹنگوں میں 1x سیٹ ہوگا ۔آپ انہیں بدل کر 5x کردیں۔اس کے بعد اپنا فون استعمال کیجیے،آپ کو فون کی رفتار میں نمایاں فرق محسوس ہو گا۔


    0 0
  • 03/30/16--06:32: یہ حیدرآباد ہے
  • پچھلے دنوں ہمیں کچھ عرصے کے لئے حیدرآباد (سندھ) جانے کا اتفاق ہوا۔ لاہور سے بزنس ٹرین کے اے۔ سی سٹینڈرڈ درجے میں دو سیٹیں، سفر سے دودن پہلے محفوظ کرائی تھیں خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا۔ جب خوبصورت ڈبے اورآرام دہ نشستیں دیکھیں۔ اے۔ سی بھی ہماری امید سے زیادہ ٹھنڈک پیدا کر رہا تھا۔ ہم کہ جو پہلے ہی زیادہ سردی کے مارے ہوئے تھے۔ اس اضافی سردی کی وجہ سے ٹھٹھرنے لگے۔ 

    وہ تو بھلا ہو ایک ریلوے اہلکار کا،جو کمبل اورتکیے ہاتھوں میں تھامے آیا اورایک تکیہ اور ایک کمبل بہ عوض سور وپیہ کرایہ ضرورت مندوں کے حوالے کرنے لگا۔ لیکن جب ٹرین چلی تو یہ موسمی حالت یک دم تبدیل ہونے لگی۔ یاردوستوں نے انکشاف کیا کہ یہ ریلوے والوں کی ایک چال تھی۔ تکیے اورکمبل کرائے پر دینے کی! جب یہ کمبل خاصی تعداد میں مسافروں نے لے لئے تو انہوں نے اسے۔ سی ’’ٹھنڈا‘‘ کردیا۔ خیر! کوئی بات نہیں۔ تھوڑی دیر بعد باتھ روم جانے کا ارادہ کیاتو وہاں ایک چھوٹی سی لیکن اہم اوربڑی خرابی نظر آئی۔ یعنی اس کا دروازہ اندر سے لاک نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ یہ ٹوٹا ہوا تھا۔

     اورظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کوئی بھی شریف آدمی یکسوئی سے مسافروں سے بھری ٹرین میں ایسے باتھ روم میں اپنے حوائج ضروری سے فارغ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا متبادل کے طور پر دوسرا باتھ روم استعمال کیا۔ اورسکون کے ساتھ آکر اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ ایک رات سفر کے بعد اگلی صبح مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹہ تاخیر کے ساتھ حیدر آباد پہنچے۔ یہ ہمارا اپنی زندگی میں حیدرآباد کا دوسرا سفر تھا۔ یہاں ہمارا قیام اپنی بیٹی کے ہاں لطیف آباد یونٹ نمبر6میں تھا۔ ہمیں یہاں حالات کے بارے میں زبانی کلامی پہلے سے آگاہ کیا چکا تھا۔ جس میں یہاں کے صحت، صفائی اورپانی کے معاملات فہرست ہیں۔ ان کے علاوہ گلی محلوں میں سڑکوں کی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔
     یہیں ہمارے ایک عزیز نے ایک عجب واقعہ سنایا کہ وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے جام شورو گئے۔ تووہاں انہوں نے ایک غلاظت بھری گلی میں بڑی بڑی پراڈو ٹائپ کئی گاڑیاں کھڑی ہوئی دیکھیں استفسار پر پتہ چلا کہ اعلیٰ حضرت جناب قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ اپنے آبائی گھر تشریف لائے ہیں۔ ان سے جب کسی صاحب نے علاقے کی ابتر حالت کے بارے میں ذکر کیا تو انہوں نے ترنت جواب دیا’’چھوڑیں اس بات کو، کوئی اور بات کریں‘‘!یا مظہر العجائب ! یعنی جس صوبے کے وزیر اعلیٰ کا اپنے ہی صوبے بلکہ اپنے ہی گھر کے گلی محلے کے ترقیاتی کاموں سے بیگا نگی، بے ،رحمی بے اعتنائی اورلاپرواہی کا یہ عالم ہو تو پھر عوام کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

    حیدر آباد شہر پاکستان کا ایک قدیم، تاریخی،مخصوص تہذیب وتمدن اورثقافت کا حامل شہر ہے۔ خواتین کے فیشن اورپہناوے کے لحاظ سے یہاں بے شمار اشیاء دستیاب ہیں۔ جن کی نہ صرف مقامی طور پر بلکہ ملکی و غیر ملکی سطح پر بہت زیادہ مانگ ہے۔ جن میں چوڑیاں،سلائی کڑھائی کا کام، لباس اورچادروں پر شیشے کا کام،رلیاں، سندھی اجرک، خواتین کے خوبصورت بیگ اورپاؤچ،مردانہ اورزنانہ کڑھائی والے سوٹ قابل ذکر ہیں۔

    یہاں کے تاریخی مقامات میں پکا قلعہ، کچا قلعہ اوقدم گاہ مولا علی ؑ سر فہرست ہیں۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں اورحکومت وقت کی روائتی بے حسی کی وجہ سے پکا قلعہ اورکچا قلعہ کی حالت دگر گوں ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے عوام ان تاریخی مقامات کو مسمار کر کے یا جزوی طور پر نقصان پہنچاتے ہوئے اپنی ناجائز تجاوزات و تعمیرات کھڑی کر کے پوری کردیتے ہیں۔ یہ تو خیر پورے ملک کے طول و عرض میں پائے جانے والے تاریخی اورقیمتی عمارات کے ساتھ ہونے والے بد ترین’’سلوک‘‘ کا ایک حصہ ہے۔

     اس ضمن میں صرف ایک مثال لاہور میں واقع’’شاہی قلعہ‘‘ کی کافی ہے۔ جس کے صدر دروازے کی تزئین و آرائش کی بحالی کے لئے عرصہ دراز سے ایک یادو کاریگر کبھی کبھار کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جو کہ یقیناًاس عظیم الشان ثقافتی اورتاریخی ورثہ کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ ہم بذات خود یہ دل آزار مذاق سال ہا سال سے ہوتے ہوئے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔

    انہی دنوں ایک شام ہمارے داماد نے ، جو کہ ایک ملٹی نیشنل ٹوبیکو کمپنی میں انجینئر ہیں، کوٹری بیراج پرواقع ایک ریسٹورنٹ پر چلنے اوروہاں مچھلی کھانے کی دعوت دی۔ سو جب ہم وہاں پہنچے تو سورج ڈھل چکا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی تیز ہوائیں چل رہی تھی۔ ریسٹورنٹ کی اپنی عمارت میں نہ تو روشنی کا انتظام تھا اورنہ گاہکوں کے اندر بیٹھنے کا !سبزہ زار میں البتہ کچھ میزیں اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ اورچند بلب جل رہے تھے۔ 

    جن پر بے شمار پتنگے قطار اندر قطار اپنی جان، جانِ آفریں کے حوالے کررہے تھے۔ اورکچھ ہمارے سروں اور منہ پربِھنبِھنارہے تھے چند ایک گستاخ اور بد تمیز قسم کے پتنگوں نے تو ہمارے باتیں کرنے کے دوران کھلے دہانے کو دیکھتے ہوئے منہ میں گھسنے کی ناکام کوشش بھی کی جس کا ہمیں بہت برا محسوس ہوا۔ اتنی دیر میں ہم نے مچھلی کی تیاری کا آرڈر دے دیا تھا لیکن مدہم روشنی، بیٹھنے کے ناکافی اورغیر تسلی بخش انتظامات اور پتنگوں کی یلغار سے بچنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کھانا پیک کراکے ساتھ لے جانا بہتر ہے۔ گھر جا کر تسلی و اطمینان کے ساتھ کھائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اب کیا کہا جائے کہ ایسے بہترین محل وقوع اور بیراج کو ضائع کیاجارہا ہے۔ جہاں اگر حکومت کا کوئی ادارہ نہ سہی پرائیویٹ سیکڑہی آگے بڑھ کر کچھ سرمایہ کاری کر کے اس جگہ کو تفریحی مقام کی شکل میں بدل دے تو اس پُر آشوب دور میں حیدرآباد کے معصوم عوام کو اپنا اوراپنے بچوں کا دل بہلانے کے لئے ایک گوشۂ تسکین و مسرت مل سکتا ہے۔

    شہر میں صفائی کی صورت حال سب سے زیادہ ابتر ہے اورجلد از جلد حکام بالا کی توجہ کی متقاضی ہے۔ گھروں کے آگے تو لوگوں نے اپنی تھوڑی بہت شرم و حیا بچا کررکھی ہوئی ہے۔ لیکن گھروں کے ساتھ پچھلی گلیاں’’ڈسٹ بن‘‘ کی واضح ترین مثال قائم کرتی نظر آتی ہیں۔ اس حساب سے تو شہر کے ڈویلپرز حضرات دادو تحسین کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے متعلقہ حکومتی اداروں کی نااہلی چھپانے اورعوام کو آسانیاں اورسہولتیں میسر کرنے کے لئے ان کے گھروں کے پیچھے کافی کھلی گلیاں چھوڑ رکھی ہیں۔ تاکہ وہ اپنا تمام کوڑا، کچرا وہاں پھینک دیا کریں۔ اور میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو پھر ۔۔۔؟

    امتیاز کاظمی


older | 1 | .... | 70 | 71 | (Page 72) | 73 | 74 | .... | 149 | newer