Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 5 | 6 | (Page 7) | 8 | 9 | .... | 149 | newer

    0 0

    صرف ایک بین الاقوامی موبائل کمپنی کے عہدیداروں کے زیراستعمال گاڑیاں فروخت کرنے سے جو رقم حاصل ہوگی، اُس سے روانڈا، برونڈی اور ایتھوپیا کا قحط دُور ہوسکتا ہے۔

    دنیا کی دس بڑی کمپنیاں اپنے دفتروں میں سالانہ جتنی اسٹیشنری استعمال کرتی ہیں اس کی مالیت دنیا کے پندرہ غریب ملکوں کے تعلیمی بجٹ کے برابر ہے۔

    جاپان میں ہر سال 35 ارب ڈالر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مہمانوں کی خاطر تواضع پر خرچ کیے جاتے ہیں، یہ دنیا کی صحت کے کل بجٹ کی ایک چوتھائی رقم ہے۔
    ...

    شراب بنانے والی محض چار کمپنیاں اپنے منافع سے دنیا کے تمام نشئی افراد کا علاج کرسکتی ہیں۔ صرف ایک ملٹی نیشنل کمپنی چاہے تو دنیا بھر کی بارودی سرنگیں صاف کی جاسکتی ہیں۔

    صرف ایک کمپنی پوری دنیا کے معذوروں کو مصنوعی اعضاء بنا کر دے سکتی ہے۔ ایک کمپنی اگر اپنا ایک سال کا منافع دنیا بھر میں تقسیم کردے تو ہر شخص کو ایک کار مفت فراہم ہوسکے گی!

    اس طرز کی معلومات کا سمجھیے کہ ایک دفتر موجود ہے، جس میں سے ہم نے آپ کے سامنے صرف ایک جھلک ہی پیش کی ہے!

    یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملٹی نیشنل کمپنیز ایسا کریں گی؟

    کیا وہ دنیا سے غربت، بھوک، افلاس اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوں گی؟

    اور دنیا کیا واقعی جنت کا ایک نمونہ بن جائے گی؟

    جی نہیں!

    ایسا ہرگز نہیں ہوگا!

    اس لیے کہ سرمایہ پرستوں کی طرزِ فکر تو یہ ہے کہ غریبوں کے ہاتھ سے لقمہ بھی چھین لیا جائے!

    دنیا کو عالمی گاؤں کے طور پر متعارف کرانا اور WTO کے قوانین کا نفاذ کا مقصد یہی ہے کہ وسائل پر عالمی سطح کے سرمایہ داروں کی مکمل اجارہ داری قائم ہوجائے، مزید یہ کہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے تہذیبی تصادم کا شوشہ بھی چھوڑ دیا گیا ہے۔ درحقیقت تہذیبی تصادم ملٹی نیشنلزکا اسپانسرڈ پروگرام ہے، جو بہت باریک بینی کے ساتھ اور برسوں کی سوچ بچار کے بعد تشکیل دیا گیا۔

    جمییل خان
     
    Growing World Poverty and Industrialized world
     
    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/09/13--12:58: Tauqir Sadiq Arrested

    1. پاکستان میں آئل اور گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

      انہیں ساڑھے 82 ارب روپے کے میگا کرپشن اسکینڈل میں مرکزی مل...زم کی حیثیت سے مقدمہ کا سامنا ہے۔

      وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پشی کے دوران انہوں نے نہ صرف صحت جرم سے انکار کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ مجھے جان سے مارنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جو کچھ نہیں کیا وہ بھی قبول کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

      توقیر صادق کو سخت سیکورٹی میں ہتھکڑیاں لگا کر اسلام آباد کی احتساب عدالت میں لایا گیا۔

      ان کے خلاف کرپشن کیس کی سماعت احتساب عدالت نمبر ایک کے جج محمد بشیر نے کی۔

      سماعت کا آغاز ہوا تو توقیر صادق نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران مجھ پر تشدد کیا گیا، مجھے مکے اور ٹھوکریں ماری گئیں اور نیب کی جانب سے مجھے ٹانگیں توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

      توقیر صادق نے کرپشن کیس میں ملوث ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف ابھی تک چارج شیٹ پیش نہیں کی گئی۔

      انہوں نے کہا کہ میرے اوپر الزامات لگانے والوں میں کون کون ملوث ہیں جلد بتاؤں گا، بڑے بڑے نام بے نقاب کروں گا۔

      اس موقع پر تفتیشی افسر وقاص احمد نے توقیر صادق کی جانب سے تشدد کے الزام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ سابق اوگرا چیئرمین جھوٹ بول رہے ہیں۔

      انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انٹرپول نے کہا تھا توقیر صادق کا خیال رکھنا کہیں خود کو نقصان نہ پہنچائے،اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔

      عدالت کو بتایا گیا کہ توقیر صادق گرفتاری سے بچنے کے لیے افغانستان رکشے کے ذریعے فرار ہوئے۔

      عدالت نے توقیر صادق سے استفسار کیا کہ وہ افغانستان جانے کے لیے انہوں نے رکشہ کیوں استعمال کیا جس پر توقیر صادق نے دلچسپ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا دل چاہ رہا تھا کہ رکشے پر سفر کروں‘۔

      اس دوران نیب پراسیکیوٹر نے عدالت سے توقیر صادق کا 14 روزہ ریمارنڈ دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے توقیر صادق کا چودرہ روزہ ریمانڈ دے دیا جب کہ ان کا طبی معانئہ بھی کرانے کی ہدایت کی۔

      عدالت میں سماعت ختم ہونے کے بعد میگا کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم کو دوبارہ نیب دفتر منتقل کردیا گیا۔

      یاد رہے کہ نیب نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ توقیر صادق نے اختیارات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو 82 ارب روپے کا نقصان پہنچایا،ملزم نے اوگرا کے ایشیائی ترقیاتی بنک اور عالمی بینک کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کی، ریگولر آمدن کو غیر ریگولر آمدن میں تبدیل کردیا۔

      اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ توقیر صادق نے بھاری رشوت کے عوض متعدد سی این جی اسٹیشنز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت دے دی، نیا سی این جی اسٹیشن لگانے کی بولی 5 لاکھ روپے مقرر تھی، اوگرا میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی تقرریاں کی گئیں اور اسٹاک مارکیٹ کی بڑی مچھلیوں کو عوامی مفاد قربان کر کے فائدہ پہنچایا۔S    e
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    جو گھر سے دور ہوتے ہیں
    بہت مجبور ہوتے ہیں
    کبھی باغوں میں سوتے ہیں
    کبھی چھپ چھپ کے روتے ہیں
    گھروں کو یاد کرتے ہیں
    ...
    تو پھر فریاد کرتے ہیں
    مگر جو بے سہارا ہوں
    گھروں سے بے کنارہ ہوں
    انہیں گھر کون دیتا ہے
    یہ خطرہ کون لیتا ہے

    بڑی مشکل سے اک کمرہ
    جہاں کوئی نہ ہو رہتا
    نگر سے پار ملتا ہے
    بہت بے کار ملتا ہے
    تو پھر دو چار ہم جیسے
    ملا لیتے ہیں سب پیسے
    اور آپس میں یہ کہتے ہیں
    کہ مل جل کر ہی رہتے ہیں
    کوئی کھانا بنائے گا
    کوئی جھاڑو لگائے گا
    کوئی دھوئے گا سب کپڑے
    تو رہ لیں گے بڑے سکھ سے

    مگر گرمی بھری راتیں
    تپش آلود سوغاتیں
    اور اوپر سے عجب کمرہ
    گھٹن اور حبس کا پہرہ
    تھکن سے چور ہوتے ہیں
    سکوں سے دور ہوتے ہیں
    بہت جی چاہتا ہے تب
    کہ ماں کو بھیج دے یا ربّ
    جو اپنی گود میں لے کر
    ہمیں ٹھنڈی ہوا دے کر
    سلا دے نیند کچھ ایسی
    کہ ٹوٹے پھر نہ اک پل بھی

    مگر کچھ بھی نہیں ہوتا
    تو کر لیتے ہیں سمجھوتا
    کوئی دل میں بلکتا ہے
    کوئی پہروں سلگتا ہے
    جب اپنا کام کر کے ہم
    پلٹتے ہیں تو آنکھیں نم
    مکاں ویران ملتا ہے
    بہت بے جان ملتا ہے
    خوشی معدوم رہتی ہے
    فضا مغموم رہتی ہے

    بڑے رنجور کیوں نہ ہوں
    بڑے مجبور کیوں نہ ہوں
    اوائل میں مہینے کے
    سب اپنے خوں پسینے کے
    جو پیسے جوڑ لیتے ہیں
    گھروں کو بھیج دیتے ہیں
    اور اپنے خط میں لکھتے ہیں
    ہم اپنا دھیان رکھتے ہیں
    بڑی خوش بخت گھڑیاں ہیں
    یہاں خوشیاں ہی خوشیاں ہیں

    0 0

    High Blood Pressure Silent Killer
    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/13/13--05:29: Amazing Manora Beach Karachi
  •  Amazing Manora Beach Karachi


























    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/13/13--05:41: Fatima Bhutto
  • Fatima Bhutto
    Fatima Bhutto (
    Fatima Bhutto (Urdu: فاطمہ بھٹو‎) born, Fatima Murtaza Bhutto (Urdu: فاطمہ مُرتضیٰ بھُٹّو‎) on 29 May 1982, is a Pakistani poet and writer.[1] She is granddaughter of former Prime MinisterZulfikar Ali Bhutto, the niece of former Prime MinisterBenazir Bhutto, and daughter of Murtaza Bhutto.
    She came to public note after the publication of her first book, a collection of poems, "Whispers of the Desert". She received notable coverage for her second book, "8:50 a.m. 8 October 2005".[2][3][4] She is active in Pakistan's socio-political arena,[5] supporting her stepmother Ghinwa Bhutto's party the Pakistan Peoples Party (Shaheed Bhutto), but has no desire to run for political office.[6] Fatima Bhutto was ranked 26th on Desiclub.com’s list of the 50 Coolest Desis of 2008. She also writes columns for Pakistani and international newspapers and other publications.
     

    Personal life

    Background

    Bhutto was born on 29 May 1982 to Murtaza Bhutto, the son of former Pakistani president and prime minister Zulfiqar Ali Bhutto and an Afghan Pashtun mother, Fauzia Fasihudin Bhutto, the daughter of Afghanistan's former foreign affairs official.[4] in Kabul, while her father was in exile during the military regime of general Zia-ul-Haq. Her parents divorced when she was three years old and her father took Bhutto with him moving from country to country and she grew up effectively stateless. Her father met Ghinwa Bhutto, a Lebanese ballet teacher in 1989 during his exiled in Syria and they married. Bhutto considers Ghinwa to be her real mother and political mentor.[4][7] Her father was killed by the police in 1996 in Karachi during the premiership of his sister, Benazir Bhutto, and her mother unsuccessfully attempted to gain parental custody of Bhutto.[4]
    She lives with her stepmother, and her half-brother Zulfiqar Ali Bhutto Jr.[8] in Old Clifton, Karachi.[4]

    Education

    Bhutto completed her B.A. degree in Middle Eastern studies[9] from Barnard College, Columbia University[2][10] in Manhattan, USA, after receiving her secondary education at the Karachi American School. She received a master's degree in South Asian Studies from the School of Oriental and African Studies at the University of London.[11]

    Politics

    Following the assassination of her aunt, Benazir Bhutto, her entrance into politics has been speculated. In interviews, she has stated that for now she prefers to remain active through her activism and writing, rather than through elected office[4] and that she has to "rule a political career out entirely because of the effect of dynasties on Pakistan" referring to the Bhutto family dynasty and its ties to Pakistani politics. Although Bhutto is politically active, she is not affiliated with any political party.[12] She also expressed great sadness at her estranged aunt, Benazir Bhutto's death.[13]

    Publications

    The title of Bhutto's book 8.50 a.m. 8 October 2005 marks the moment of the 2005 Kashmir earthquake; it records accounts of those affected. She has also written a book of poetry, Whispers in the Desert. A memoir, Songs of Blood and Sword, was published in April 2010.[14]
    Enhanced by Zemanta

    0 0


     Allama Iqbal Life in Pictures








    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/15/13--00:57: Mohammed Morsi Achivements
  • الجزیرہ کے معروف میڈیا پرسن احمد منصور لکھتے ہیں:
    صدر مرسی نے اپنی سال بھر کی حکومت میں جو کیا اور جو آپ نہیں جانتے وہ درج ذیل ہیں۔
    مرسی نے "روٹی ونان" کے ایشو میں مصر کو امریکا کی غلامی سے نکالا اور روٹی کےمسئلے کو حل کرتے ہوئے 70 فیصد خود کفالت حاصل کی
    مرسی نے ایک اور پروجیکٹ کی سرمایہ کاری شروع کی جوکہ بحری جہازوں کی مرمت کے حوالے سے تھا تاکہ دس سال کے اندر اندر مصر کی آمدنی میں 3 ارب سے 100 ارب ڈالر تک سالانہ بنیادوں پر بڑھوتری ہو۔یہ ایک ایسا عمل تھا کہ جسنے تل ابیب اور دبئ والوں کو غضبناک کردیا
    مرسی نے ایک مل ایریا کا فتتاح کیا جوکہ قطری حکومت کے تعاون سے ہوا
    ...
    اور دوسرا مل ایریا کا آغاز کیا جو کہ ترک حکومت کے تعاون سے ممکن ہوا۔
    مرسی نےمارکیٹنگ کے لیے سامسنگ کمپنی کی کئی برانچ کا افتتاح کیاتاکہ مصریوں کو بڑی تعداد میں روزگار کے مواقع مل سکیں
    مرسی نے مصری آئی پوڈ کی سرپرستی کی ۔ایسا آئپوڈ جوکہ تمام مصری صنعتی مھارتوں اور خوبیوں سے آراستہ ہو۔

    آپ مرسی سے کیا چاہتے ہیں کہ جو صدارت کی کرسی تک پہنچے اورحال یہ تھا کہ اندرونی اور بیرونی قرضے 300 سو ارب ٹریلیین پاؤنڈ تک پہنچ چکے تھے اور مرسی کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا
    آپ مرسی سے کیا چاہتے ہیں کہ جنھوں نے انتخابات سے پہلے مصر کے اسمگلنگ ہونے والی اشیاء پر پیشرفت کی حالانکہ ابھی وہ منصب صدارت پر فائز نہیں ہوۓ تھے
    مرسی کےلیے کیسے ممکن تھا کہ وہ ایک سال کے عرصے میں وہ اصلاحات قائم کرے کہ جسے سیکولرز نے 60 سال میں تباہ وبرباد کردیا تھا
    آپ مرسی سے کیا چاہتے ہیں کہ جسنے بے لگام آزادی دی پس عوام نے مرسی کے اس ایک سال میں وہ حاصل کیا جووہ سیکولرز فاسد کے کسی دور میں نہ حاصل کرسکے ۔مرسی نے قیدخانوں سے قیدیوں کو رہائی دی حالانکہ جیلیں قیدیوں سے پٹی ہوئی تھیں جہاں ظلم اور عذاب کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا۔۔۔
    Mohammed Morsi Achivements
     
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    ہم کہ ٹھہرے اجنبی اِتنی ملاقاتوں کے بعد
    پھر بنیں گے آشنا کتنی مُداراتوں کے بعد

    کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
    خون کے دھبّے دھُلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
    ...

    تھے بہت بے درد لمحے، ختمِ دردِ عشق کے
    تھیں بہت بےمہر صبحیں مہرباں راتوں کے بعد

    دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی
    کچھ گِلے شِکوے بھی کرلیتے مُناجاتوں کے بعد

    اُن سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کئے
    ان کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد
     
    Faiz Ahemd Faiz
    Enhanced by Zemanta

    0 0



    0 0
  • 07/17/13--01:32: Amazing Beauty of Kashmir
  • 0 0
  • 07/17/13--05:03: Very Beautiful Mosques
  • 0 0

    Professor Ghulam Azam Sentence by Abdul Qadir Hassan
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    Mumbai Terrorist Attacks by Talat Hussain
    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/23/13--06:53: Shah Noorani Bluchistan
  • 0 0
  • 07/25/13--01:55: Mamnoon Hussain
  • Mamnoon Hussain is an old loyalist of Sharif and remained with the PML-N during the regime of former military ruler Pervez Musharraf, who exiled Sharif to Saudi Arabia and created a new party by breaking the PML-N.
     
    He served as Governor of southern Sindh province for a short period during June-October 1999 and lost the post after Musharraf led a military coup against Sharif.
     
    Hussain belongs to Sindh and lives in Karachi, where he owns a textile business.
     
    In 1993, he came closer to the party leadership when Nawaz Sharif was contesting his removal from the prime minister’s office by then president Ghulam Ishaq.
     
    Since Mr Hussain belonged to Sindh, his party could counter the PPP’s propaganda that the PML-N was accommodating only Punjabi politicians at the centre, analysts said.
     
    Members of the national and provincial assemblies along with senators will elect the new president on Aug 6, 2013.
    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 07/25/13--02:16: Ibne Safi Great Urdu Writer
  • Ibne Safi Great Urdu Writer
    Ibn-e-Safi (also spelled as Ibne Safi) (Urdu: ابنِ صفی) was the pen name of Asrar Ahmad (Urdu: اسرار احمد), a best-selling and prolific fiction writer, novelist and poet of Urdu from Pakistan. The word Ibn-e-Safi is an Arabian expression which literally means Son of Safi, where the word Safi means chaste or righteous.[1] He wrote from the 1940s in India, and later Pakistan after the partition of British India in 1947.[2]
    His main works were the 125-book series Jasoosi Dunya (The Spy World) and the 120-book Imran Series, with a small canon of satirical works and poetry. His novels were characterized by a blend of mystery, adventure, suspense, violence, romance and comedy, achieving massive popularity across a broad readership in South Asia

    Biography

    Ibne Safi was born on July 26, 1928 in the town 'Nara' of district Allahabad, India. His father's name was Safiullah and mother's name was Naziran Bibi.
    He received a Bachelor of Arts degree from Aligarh Muslim University. In 1948, he started his first job at 'Nikhat Publications' as an Editor in the poetry department. His initial works date back to the early 1940s, when he wrote from India. After the partition of Indian and Pakistan in 1947, he began writing novels in the early 1950s while working as a secondary school teacher and continuing part-time studies. After completing the latter, having attracted official attention as being subversive in the independence and post-independence period, he migrated to Karachi, Pakistan in August 1952. He started his own company by the name 'Israr Publications'.[4]
    He married to Ume Salma Khatoon in 1953. [1] Between 1960 - 1963 he suffered an episode of severe depression, but recovered, and returned with a best-selling Imran Series novel, Dairrh Matwaalay (One and a half amused). In fact, he wrote 36 novels of 'Jasoosi Duniya' and 79 novels of 'Imran Series' after his recovery from depression. In the 1970s, he informally advised the Inter-Services Intelligence of Pakistan on methods of detection. He died of pancreatic cancer on July 26, 1980 in Karachi, which was coincidentally his 52nd birthday. He is survived by his son Omar Alboukharey.

    Works 

    Ibne Safi's prose work can be classified into two categories:
    • Mystery novels
    • Short stories and articles of humor and mockery
    Ibn-e-Safi started writing poetry in his childhood and soon earned critical acclaim in whole South-Asian community. After completing his Bachelor of Arts, he started writing short stories, humor and satire under various names such as "Siniki (Cynic) Soldier" and "Tughral Farghan." In the Nakhat magazines, he published several satirical articles which commented on various topics ranging from politics to literature to journalism. His early works in the 1940s included short stories, humor and satire.
    According to one of his autobiographical essays, someone in a literary meeting claimed that Urdu literature had little scope for anything but sexual themes. To challenge this notion, Ibn-e-Safi began writing detective stories in January 1952 in the monthly Nikhat, naming the series Jasoosi Dunya.
    In 1955, Ibn-e-Safi started the Imran Series, which gained as much fame and success as Jasoosi Dunya. Ibne Safi's novels – characterized by a blend of adventure, suspense, violence, romance and comedy – achieved massive popularity by a broad readership.
    So strong was Ibne Safi's impact on the Urdu literary scene that his novels were translated into several regional languages. It was not unusual for Safi's books to be sold at black market prices in Pakistan and India, where they were originally published every month.
    The settings in Ibne Safi's novels are such that the reader is never told the national origin of the heroes. Since Jasoosi Duniya was created before the partition of the subcontinent, the names of the characters and their locales suggest that the novel takes place in India. The advent of the Imran Series came post-independence, and the reader is set up to assume that the narrative is situated in Pakistan. Besides their native countries, the main characters of both Jasoosi Duniya and Imran Series have had adventures around the world – Spain, Italy, England, Scotland, Pacific Islands, Zanzibar, South Africa, the United States of America, and various other places. Considering that Ibne Safi never left the Indian Subcontinent, the detailed descriptions he provides of the diverse localities are surprisingly accurate.
    Many a time, Ibne Safi created fictitious settings for his stories. The magical web of his writing is so captivating that these fantasy lands have become real in the minds of readers. Avid fans of the author are experts on the people and cultures of Shakraal, Karaghaal, Maqlaaq, Zeroland, and many other imaginary domains. In cities around India and Pakistan, one can find discothèques, bars, night clubs, and hotels named after venues found in Ibne Safi's novels. Some places worth mentioning are: Dilkusha, Fizaro, Niagara, Tip Top, High Circle, etc.
    Besides humor and satire he also wrote some short adventures, namely Baldraan Ki Malika (The Queen of Baldraan), Ab Tak Thee Kahaan? (Where had you been?), Shimal Ka Fitna (The Trouble from North), Gultarang, and Moaziz Khopri. In these adventures, Ibne Safi takes the reader to various fictitious, exotic lands of his own imagination.
    Ibne Safi also directed a film 'Dhamaka' based on his novel 'Bebakon ki talash'. The film did not get the publicity and fame which it deserved, and remains mostly forgotten.
    In 1959, Ibne Safi started writing Aadmi Ki Jarain, a book based on human psychology. However, it remained incomplete due to his illness.

    In translation

    The first English translations of Ibne Safi's mystery novels began appearing in 2010, with The House of Fear from the Imraan Series, translated by Bilal Tanweer and published by Random House India.[5] In 2011, Blaft Publications in association with Tranquebar released four more novels, this time from the Jasusi Duniya series, translated by the highly acclaimed Urdu critic Shamsur Rahman Faruqi.[6]

    Bibliography

    List of his non-series work
    • Aadmi ki Jarain (Urdu for The Roots of The Man) - Incomplete
    • baldaraan ki malikaa (Urdu for The Queen of Baldaraan)
    • Ab tak thee kahaan (Urdu for Where Had You Been?)
    • Diplomat murgh (Urdu for The Diplomat Rooster)
    • saarhe paanch baje (Urdu for Half Past Five)
    • tuzke do-piazi (Urdu for The autobiography of Do-Piaza) - Incomplete
    • shumaal ka fitna (Urdu for The Trouble From North)
    • mata-e Qalb-O-Nazar - Collection of Poetry (to be published)

    Quotes from Ibn-e-Safi's books

    In Urdu script: آدمی سنجیدہ ہو کر کیا کرے جب کہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے اپنی سنجیدگی سمیت دفن ہوجانا پڑے گا۔
    Translation: Why should man ever become serious when he knows full well that one day he will be buried along with his seriousness? (Black Picture)
    In Urdu script: صرف عمل اور ردعمل کا نام زندگی ہے. منطقی جواز تو بعد میں تلاش کیا جاتا ہے۔
    Translation: Life is only action and reaction. The rationalizations are added later. (AdLava)
    In Urdu script: حماقت پر افسوس کرنا سب سے بڑی حماقت ہے۔
    Translation: Regretting stupidity is the biggest stupidity of them all.
    In English (translated from Urdu By Dr. Ahmad Safi, son of Ibne safi): Why is it that an ordinary clerk has to pass the examination for clerkship, a police constable has to go through training as a recruit before he could be commissioned and on the other hand vegetable-selling middlemen, good-for-nothing feudals and imbecile merchants go sit in the Assemblies directly and start legisltating and some even become members of the cabinet (Jungle Ki Sheriyat. In Urdu script: جنگل کی شھریت -Imran Series:102)
    In English (translated from Urdu By Dr. Ahmad Safi, son of Ibne safi): I know that crimes committed by governments are not called crimes but diplomacy. A crime is only that which is committed in an individual capacity. (Jonk Ki Wapsi. In Urdu script:چونک کی ؤاپسی Imran Series)
    In English (translated from Urdu By Dr. Ahmad Safi, son of Ibne safi): Nuclear and Hydrogen Bomb experiments were beyond their comprehension. They could not figure out why a person is incarcerated in a mental asylum when he turns mad and why when a nation turns mad, we start calling it a Power (Anokhay Raqas. In Urdu script: انوکھے رقاص - Jasoosi Dunya:65)

    Dhamaka - A film by Ibn-e-Safi

    "Dhamaka" was produced by Muhammad Hussain Talpur, based on the Imran Series novel Baibaakon Ki Talaash (Urdu for In Search of the Outreageous). Actor Javaid Sheikh (then Javaid Iqbal) was introduced as Zafarul Mulk, the main character. Muhammad Hussain Talpur (film producer) played the role of Jameson and actress Shabnam played the role of Sabiha. Imran and X-2's team was not shown in the movie. The voice of X-2 was recorded by Ibne Safi himself. Actor Rahman played the role of a Villain for the first time. The film featured a rendition of a ghazal by Habib Wali Muhammad, "Rah-e-talab mein kaun kisi ka", which was written by Ibn-e-Safi. The movie was released on December 13, 1974.

    Poetry

    (Note: Most of the English translations of Urdu poetry and titles are literal and do not capture the true essence of the language. Some meaning is definitely lost in translation.)
    Ibn-e-Safi was also a poet. He used to write poems under the pen name of "Asrar Narvi". He wrote in various genres of Urdu poetry, such as Hamd, Naat, Manqabat, Marsia, Ghazal, and Nazm. His collection of poetry, Mata-e Qalb-o-Nazar (Urdu for The Assest of Heart & Sight), remains unpublished.
    Following is the list of his Ghazals:
    • Daulat-e-Gham (Urdu for The wealth of sorrow)
    • Zahan se Dil ka Bar Utra Hai (Urdu for Heaviness of the heart is unloaded by the mind)
    • Chhalakti aayay (Urdu for [The liquor] shows up overflowing)
    • Kuch to ta-alluq ... (Urdu for Some affiliation ...)
    • Aaj ki raat (Urdu for Tonight)
    • Baday ghazab ka ... (Urdu for Of much might ...)
    • Yun hi wabastagi (Urdu for Casual connection)
    • Lab-o-rukhsar-o-jabeen (Urdu for Lips and Cheeks and forehead)
    • Rah-e-talab mein kaun kisi ka (Urdu for In the path of demands, no one recognizes anyone)
    • Kuch bhi to apne paas nahin ... (Urdu for Do not have anything ...)
    • Aay nigaraan-e-khoobroo (Urdu for O gorgeous sculptures)
    • Kabhi sawab ki hain ... (Urdu for Sometimes, of virtuousness ...)
    • Kabhi qatil ... (Urdu for Sometimes killer ...)
    • Qafas ki daastaan hai ... (Urdu for It is the tale of imprisonment ...)
    • Maan (Urdu for Mother)
    • Shakist-e-talism (Urdu for Defeat of the magic)
    • Talism-e-hosh-ruba (Urdu for The breath-taking magic)
    • Tanhayee (Urdu for Solitude)
    • Bansuri ki awaaz (Urdu for The sound of flute)

    Death

    Ibne Safi died on the mid night of July 25, 1980 at 5.00 AM. He was buried in Paposhnagar graveyard on July 26, 1980. The body was laid in the grave by Mushtaq Ahmed Qureshi (ex treasurar and joint secretary of All Pakistan Newspaper Society). Funeral was attended by a large number of citizens, admirers, journalists etc. The details of his last moments is mentioned in an article named bayad ibne safi. [2].[3]
    Enhanced by Zemanta

    0 0

    IMF and Pakistan by Abdullah Tariq Sohail
    Enhanced by Zemanta

    0 0
    0 0

older | 1 | .... | 5 | 6 | (Page 7) | 8 | 9 | .... | 149 | newer