Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 47 | 48 | (Page 49) | 50 | 51 | .... | 149 | newer

    0 0


    0 0

    بھارت نے اپنی لاکھوں مسلح افواج کی طاقت سے کشمیر میں رائے شماری سے متعلق اقوام متحدہ کی دو قراردادوں پر عملدرآمد کیخلاف 42 سال مزاحمت کی، جب 90ء کے اوائل میں کشمیری تنظیموں نے مشترکہ پلیٹ فارم انتفادہ کی طرز پر اقوام متحدہ کی قرارداد پر عملدرآمد کرانے کیلئے پرامن لیکن انتہائی منظم جدوجہد کا آغاز کیا تو بھارت کیلئے اسے قابو کرنا مشکل ہو گیا۔ کشمیریوں نے لاکھوں کی تعداد میں ریلیز ، آزادی مارچ ، جلوسوں اور پبلک مقامات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا جس سے گھبرا کر بھارت نے پہلے تو نئی دہلی میں مقیم بڑی تعداد میں تعینات صحافیوں پر مقبوضہ کشمیر کو رپورٹ کرنے پر پابندیا لگائیں۔ وہ پرمٹ لے کر ہی سری نگر جا سکتے تھے جو اکاد کا صحافیوں کو وقفے سے ہی ملتا تھا۔
    پھر بھارتی فوج نے جلسے جلوسوں پر لاٹھی چارج شروع کیا جو جلد ہی اوپن اور سیدھی فائرنگ میں تبدیل ہو گیا، نتیجتا شہادتوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کشمیری نوجوان بڑی تعداد میں گرفتار کر کے راجھستان کے تپتے ہوئے جیلوں اور ٹارچر سیلز میں پہنچائے جانے لگے۔ گویا اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کی کشمیریوں کی تحریک کیخلاف روایتی حکومتی سفاکانہ اقدامات کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن تحریک اور شدت سے ابھرتی گئی۔ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی سیاسی اور بھرپور سفارتی معاونت کا سلسلہ شروع ہو گیا کہ ساری دنیا پاکستان کو ہی عالمی مسئلہ کشمیر کے اولین فریق کے طور پر جانتی ہے جس کا ایک ہی اور اٹل موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی منظور قراردادوں کے مطابق کشمیر میں رائے شماری (جسکا ایک ہی سوال ہوگا کہ کشمیریوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا ہے یا بھارت کے ساتھ؟) کرا کر حل کیا جائے، پاکستان کی موجودہ سول اور فوجی قیادتوں نے واضح کیا ہے کہ اسکے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی دوسرا حل قابل قبول نہیں ہو گا۔ واضح رہے کہ جب مقبوضہ کشمیر کی متذکرہ تحریک حصول حق خوددارادیت میں شہادتوں کا سلسلہ بڑھنے سے تحریک بھارتی افواج کے کنٹرول سے باہر ہو گئی اور نہتے کشمیری نوجوانوں نے سروں پر فائرنگ کے مقابل مجبورا پتھراؤ کا سلسلہ شروع کیا تو بین الاقوامی میڈیا انسانی جانوروں کے روز مرہ ضیاع پر کشمیر کی تحریک کو بہت حد تک کور کرنے پر مجبور ہو گیا ۔

    اس صورت حال پر قابو پانے کے لیے بھارت نے سفاکی کی شہرت کے حامل گورنر کو سرینگر میں تعینات کیا جس کی انتظامیہ کے سائے میں کشمیری خواتین کو گھروں سے نکال کر جلوسوں سے گرفتار کر کے بھارتی درندہ فوج نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گینگ ریپ کی دہشت گردی کا سلسلہ شروع کیا ۔ یہ واقعات کوئی اکادکا یا دو چار نہیں ، بلکہ بڑی مکاری سے دہشت گردی کا سلسلہ وہاں بڑھ چڑھ کر کیا گیا جہاں تحریک زور پکڑتی۔ بھارتی فوج کے اس بزدلانہ شرمناک اور دہشت گرد منصوبے نے افغان جنگ 1979ء سے 1990ء تک کی پیداوار جہادی تنظیموں (جن کی بڑی تعداد پاکستان قبائلی علاقوں میں اور کچھ شہروں میں تھی) کو مشتعل کر دی اور انہوں نے کشمیریوں کی معاونت کے لئے انتہائی نامساعد جغرافیائی حالات اور پاکستانی انتظامیہ کی رکاوٹوں کے باوجود تربیت یافتہ کچھ نہ کچھ مجاہدین کو خفیہ طریقے سے کشمیر بھیجنے کا سلسلہ شروع کر دیا جن کے گوریلا ٹائپ ایکشن سے بھارت ہراساں ہو گیا اور اس نے ساری دنیا میں پاکستان کے کشمیر میں ‘‘دہشت گرد’’ بھیجنے کا واویلا شروع کیا۔

    حالانکہ پاکستانی حکومت انہیں لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لئے ممکنہ حد تک روکتی رہی۔ اس پس منظر میں بھارتی دہشت گردی کا آغاز اس میں اضافہ اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا کافی حد تک کامیاب پروپیگنڈہ بہت واضح ہے۔ ادھر مغرب میں افغان جنگ کے اختتام پر امریکہ اور نیٹو ممالک میں سوویت ایمپائر کے منتشر ہونے کے بعد مسلم فنڈامینٹل ازم یعنی مسلم بنیاد پرستی کو مغرب کے لیے نئے خطرے کے طور پر پیش کیا گیا حالانکہ کوئی مسلم ریاست انتہا پسندانہ رجحانات میں مبتلا تھہ نہ ہی کسی اسلامی ملک میں عوامی سطح پر ایسے رجحانات تھے حقیقت یہ ہے کہ وہ وقت تھا جب بھارت میں بنیاد پرستی بھارتی حدود میں پروان چڑھ رہی تھی یا اس کے رد عمل میں سکھوں کی آزاد خالصتان کی ایسی تحریک نے جنم لیا جسے بھارت نے ریاستی دہشت گردی سے ہزار ہا سکھوں کا قتل عام وقتی طور کر کے پوری طاقت سے کچل دیا تھا لیکن حقیقت میں یہ مصلحتی طور پر دوبارہ منظم کرنے کے لئے لوپروفائل میں چلی گئی۔ اب اس کے دوبارہ ابھرنے کے عندیئے مل رہے ہیں ۔ بھارت میں ہندو بنیاد پرستی کا گہرا اثر چھوٹ ذات کے ہندوؤں خصوصا نچلی ذات کے ہندوؤں پر پڑا جس کے نتیجے میں دلت لیڈر ہزار ہا کارکنوں کے ہمراہ اپنے نظریاتی لیڈر ڈاکٹر ایمبیڈکر (بھارتی آئین کے آرکیٹکٹ) کی پیروی کرتے ہوئے ہندو مت چھوڑ کر بدھ مت میں داخل ہونے لگے۔

    بھارتی سرکار نے ان خبروں کو روکنے کے لئے بڑے ہاتھ پاؤں مارے لیکن خبریں آ ہی گئیں اور سکھوں کی طرح دنیا بھر میں دلت نیٹ ورک تیزی سے بڑھنے لگا۔ مودی کی حکمران جماعت کے تربیت یافتہ عسکری ونگ اگر بھارت بھر میں مقامی دلت لیڈروں کو گلی محلوں اور دیہات میں بڑی مکاری سے ہراساں نہ کرتے رہتے تو ڈاکٹر ایمبیڈکر کی پیروی میں لاکھوں نہیں کروڑوں اچھوت بدھ اور مسلمان ہو چکے ہوتے۔ امر واقعہ ہے کہ اندرون بھارت اوائل 80ء سے زور پکڑتی ہندو بنیاد پرستی نے آج عملا بھارت کو سیسکولر سے بنیاد پرست ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جہاں گجراتی مسلمانوں کے قتل عام میں واضح طور پر ملوث مودی بھارتی اکثریت سے وزیر اعظم بن گیا۔ جو اپنے اقدامات اور جسکے پارٹی ورکر گھر واپپپسییی کے نام پر مسلمانوں اور عیسائیوں کو تشدد سے ہندو بنانے کی تحریک شروع کئے ہوئے ہیں۔

    کلام اور باڈی جیسٹر سے یکدم ہندو بنیاد پرست ہی معلوم دیتے ہیں وزیر اعظم بن کر انہوں نے بھارت میں ہندوازم کے اختیار کی پہلے ایکسٹرنل اپروچ سے زیادہ انٹرنل غلبے کی بات کھل کر کی اور پاکستان سے مذاکرات کی بحالی کو ٹالا اور جب انکی بنیاد پرستی اندرون بھارت رنگ دکھانے لگی تو پھر گزشتہ سال منتخب ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان کی مشرکی ورکنگ بارڈر پر پاکستانی سرحدی دیہات پر فائرنگ کا بلااشتعال لیکن طویل دور شروع کر دیا جبکہ پاکستان نے اپنی اندرونی دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ شروع کردی جسکو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے لیکن بھارت میں اتنا حوصلہ کہاں کہ پاکستان کے اندرون ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ خاموش رہے وہ تو اس جنگ کو بڑھانے اور طوالت دینے کے لئے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں جتنی ہو سکتی ہے براہ راست دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ برما کے اندر جا کر علیحدگی پسندوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کی رنگون سے تردید نے برما کو دہشت زدہ کرنے کی خواہش تو آشکار کردی۔

    برسراقتدار آتے ہی مودی نے چند ہی ہفتوں بعد نیپال کے تاریخی مندروں کا دورہ کیا اور واضح کیا کہ نیپال ان کے بہت زیر اثر ہندو ریاست ہے ۔ بنگلہ دیش کے حالیہ دورے میں بھی اس نے بنگلہ دیشیوں پر واضح کیا ہے کہ اسکا قیام بھارتی قربانیوں کے مرہون منت ہے اور بنگالیوں کو یاد دلایا کہ آزاد بنگلہ دیش کے قیام کے لئے وہ انکے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلے ۔ ادھر افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی برآمد کرنے کے ثبوت پاکستانی خفیہ اداروں نے حاصل کر کے پوری دنیا میں بھارت کی دہشت گردی کو آشکار کرنے کی کوشش کی ہے کیا اس کوشش کو مزید بڑھایا نہیں جا سکتا کہ بھارت کے متذکرہ دہشت گردانہ کردار کو پوری دنیا پر واضح کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت ایک عرصے سے اپنے اندر اقلیتوں اور کمزور طبقات کو دہشت زدہ کر رہا ہے اور اس کارِ بد میں ملوث شخص جب بھارتی وزیر اعظم بن گیا ہے تو بھارتی ریاستی دہشت گردی چاروں طرف سے اس کی سرحدوں سے باہر آ رہی ہے کیا ہم اسے پوری دنیا پر آشکار کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔؟

    ڈاکٹر مجاہد منصوری

    بشکریہ روزنامہ جنگ



    0 0

    امی نے اپنے چند ڈبے زیورات ایک بڑے سے ٹرنک میں واپس رکھ لیے اور ابا جی حسب معمول اپنی تسبیح اٹھا کر چھت پر چلے گئے۔ ان کا معمول تھا کہ رات دیر گئے چھت پر بچھے ایک کھجور کے تنکوں والے مصّلے پر لیٹے تسبیح ہاتھ میں گھماتے اور ستاروں کی گردشوں میں کھوئے رہتے۔ کبھی کبھی میں نے اپنے والد کو طویل سجدوں میں روتے اور اللہ سے دیر تک گفتگو کرتے دیکھا۔ وہ اپنی دن بھر کی کہانیاں میری ماں کو آ کر سناتے جو اس دوران اسی چھوٹے سے صحن میں کبھی کپڑے دھو رہی ہوتی، کھانا پکانے میں مصروف ہوتی یا پھر ہمارے کپڑوں کی پیوندکاری میں مگن، مگر رات کو اللہ سے گفتگو میں ان کی باتیں کچھ اور ہوتیں جو میرے پلے نہ پڑتیں۔ میٹرک کے بعد کا یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک تو فراغت اور دوسرا گھر کے نزدیک میونسپل کمیٹی کی کنگز لائبریری تھی۔

    امام مسجد کے نواسے اور پوتے کے دل میں الحاد نے جنم لینا شروع کیا تو میری ماں پریشان ہو گئی۔ بارہ سال کی عمر، جو پڑھتا ذہن پہ نقش ہو جاتا اور امی کے سامنے آ کر اگل دیتا۔ وہ مجھے حیرت سے تکتی رہتیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا امی پریشان سی رہنے لگی ہیں۔ تسبیح اب ان کے ہاتھ میں بھی آ گئی تھی۔ نہیں معلوم کیا کچھ پڑھتیں اور پھر ایک گلاس پانی پر پھونک مار کر مجھے پینے کو دیتیں۔ دہریت کا خمار چڑھے تو آدمی ایسی تمام چیزوں کے اثرات پر یقین کھو دیتا ہے۔ میں پانی پی لیتا اور مسکراتے ہوئے امی سے کہتا، امی آپ اتنی محنت کیوں کرتی ہیں، ان چیزوں کا کوئی اثر تھوڑا ہوتا ہے۔ امی سمجھتیں مجھ پر کوئی آسیب آ گیا ہے۔ کسی نے مجھ پر جادو کر دیا ہے۔

    دیکھو اللہ کو ہی نہیں مانتا۔ والد سے شکوہ کرتیں تو وہ خاموشی سے مسکرا دیتے۔ بس اتنا کہتے، کہیں نہیں جاتا، بھاگنے دو اسے جتنا چاہے بھاگ لے، واپس آئے گا، میں نے اسے درود شریف کی لوریاں دے کر پالا ہے۔ لیکن ماں کے دل کو قرار کہاں۔ ایک دن مجھے ساتھ لیا، بس پر سوار ہوئیں اور گکھڑ کے قریب ایک گاؤں میں لے گئیں جہاں ایک بابا، جادو، نظر اور جنات کا علاج کرتا تھا۔ عورتوں کا ایک ہجوم اس کی چار پائی کے ارد گرد اور وہ چادر تان کر لیٹا ہوا۔ اچانک اس کے اندر کوئی روح حلول کرتی اور وہ موٹی موٹی آواز میں بولنے لگتا، ہر کوئی اپنی حاجت بیان کرتا، وہ ایک مہنگا سا نسخہ بتاتا، لوگ ساتھ کھڑے آدمی کو پیسے دیتے اور باہر چلے جاتے۔ میں نے دیکھا امی یقین و بے یقینی کے عالم میں آ گئیں ہیں۔ سب دیکھ کر باہر نکل آئیں، بس پر سوار ہوئیں اور مجھے لے کر گھر آ گئیں۔ سارا رستہ چپ۔ گھر آئیں اور بس اتنا کہا، ایسا مت ہو جانا کہ نانا دادا اپنی قبروں میں شرمندہ ہو جائیں۔

    میں کالج داخل ہو گیا۔ ابا جی نے گجرات سے بیس کلو میٹر کے فاصلے پر وزیر آباد کے نزدیک ایک فیکٹری میں ملازمت کر لی۔ بڑھاپا، روزانہ دو بسیں بدل کر دفتر پہنچنا، بیمار ہوئے، میری صابر و شاکر ماں نے صرف اتنا کہا، ہمیں آپ کا سایہ سر پر چاہیے، رزق تو اللہ دیتا ہے۔ اللہ کچھ لوگوں کے فقرے عرش معلیٰ تک جانے سے پہلے ہی قبول کر لیتا ہے۔ میری ماں نے یہ فقرے منہ سے نکالے ہی تھے کہ درسی ادارہ گجرات کے یونس بٹ نے گھر کے دروازے پر دستک دی، ان کے ساتھ ان کے بڑے بھائی صادق بٹ بھی تھے۔ کہنے لگے ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ درسی ادارے کا اکاؤنٹنٹ چھوڑ کر چلا گیا ہے، آپ وہاں آ جائیں۔ یہ ادارہ میرے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر تھا۔ زندگی کسی حد تک ڈگر پر آ چکی تھی، لیکن پھر بھی تنخواہ قلیل تھی اور اب تو ہم آٹھوں بہن بھائی کالج اور اسکول جانے لگے تھے۔ گھروں کے کرائے بڑھنے لگے تھے اور ہر چند سالوں بعد جب کوئی مالک مکان کرایہ بڑھانے کو کہتا تو ہم مزید چھوٹے گھر میں منتقل ہو جاتے۔

    ایک دفعہ ہم شاہدولہ روڈ پر منتقل ہوئے۔ یہ جگہ ذرا دور تھی۔ ہمارا سامان گدھا گاڑیوں پر منتقل ہوا۔ اس دوران وہ سارے برتن جو امی نے سوکھے ٹکڑے، پرانے جوتے اور کپڑے دے کر خریدے تھے، ٹوٹ گئے۔ برتنوں کے ٹکڑے اٹھا اٹھا کر پھینکتی جاتیں اور کہتیں، چونکہ اب ہمارے گھر کوئی مہمان ہی نہیں آتا، اس لیے اللہ نے یہ فالتو برتن بھی ہم سے لے لیے۔ تسلیم و رضا کی کونسی ایسی منزل ہے جو میں نے اپنی ماں سے نہ سیکھی ہو۔ ہر حال میں خوش رہنا، ہر بڑے سے بڑے نقصان میں اللہ کی جانب سے حکمت اور خیر کا پہلو نکالنا۔ دست سوال تو بہت دور کی بات ہے، بندوں کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار تک نہ کرنا۔ ہم سب بہن بھائیوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے وافر رزق اور نعمتوں سے نوازا ہے۔

     گزشتہ چھتیس سال سے میں نوکری کر رہا ہوں۔ ان چھتیس سالوں میں ایک لمحہ بھی ایسا نہیں کہ میری ماں نے کبھی مجھ سے کوئی فرمائش کی ہو، کسی لباس، آسائش کا سامان، یہاں تک کہ کسی موسم کے پھل کی بھی۔ یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں، کسی بہن بھائی سے بھی انھوں نے کوئی فرمائش نہ کی۔

    کالج کے موسم کی ہوا میں آوارہ گردی کے جراثیم ہوتے ہیں۔ چھوٹے شہروں میں شام ڈھلے منڈلیاں لگنا شروع ہوتی ہیں۔ ٹیلی ویژن نے یہ سب ختم کر دیا تھا لیکن ہمارے گھر میں تو ٹیلی ویژن تھا ہی نہیں۔ ایک ریڈیو تھا جو ابا جی کے پلنگ کے ساتھ طاق میں پڑا رہتا۔ شام کو چھت پر جا کر اس کا ایریل سیدھا کرنا میری ذمے داری ہوتی۔ میں نے رات دیر سے گھر آنا شروع کر دیا۔ والد ناراض تھے، لیکن امی مجھے ان کی ڈانٹ سے بچا لیتیں۔ ان کی ناراضگی کا اظہار یہ تھا کہ وہ خود اٹھ کر دروازہ نہ کھولتے، میرے دروازہ کھٹکھٹانے پر آواز آتی، آ گیا ہے تمہارا لاڈلا۔ امی دروازہ کھولتیں اور اس وقت چولہا جلا کر روٹی پکا کر دیتیں۔

    کبھی ایسا نہ ہوا کہ میری لیے پکا کر رکھ دی ہوں۔ امی کی آنکھ سے میں نے ان تمام مصائب و آلام میں کبھی آنسو بہتے نہیں دیکھے۔ البتہ اتوار کی شام وہ اپنا تمام کام جلد سمیٹ کر میرے والد کی پائنتی آ کر بیٹھ جاتیں۔ ریڈیو سے بانو قدسیہ کا ڈرامہ آتا۔ امی پورے ڈرامے کے دوران آنسو بہاتی رہتیں۔ مجھے بانو قدسیہ پر بہت غصہ آتا کہ یہ کیسی عورت ہے جو میری ماں کو ہر ہفتے رلاتی ہے۔ جب بانو آپا سے ملاقات ہوئی تو میں نے یہ گلہ کیا۔ کہنے لگیں اگر تمہاری ماں میرے ڈراموں کے بہانے نہ روتیں تو تم لوگوں کو صبر اور شکر کے معنی کیسے پتہ چلتے۔

    پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ ہاسٹل میں رہنا۔ اخراجات کا طوفان۔ میرے والد ہر ماہ لاہور آتے اور مجھے دو سو روپے دے جاتے۔ باقی میں اخبار میں مضامین لکھ کر پورا کرتا۔ مجھے حیرانی ہوتی جس شخص کی تنخواہ ڈھائی سو روپے ہے وہ دو سو روپے مجھے دے کر باقی بچوں کو کیسے پالتا ہے۔ لیکن میرے متوکل باپ نے کبھی یہ عقدہ مجھ پر نہ کھولا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں استاد ہو گیا۔ یونیورسٹی میں گھر ملا۔ میں نے امی سے کہا کہ سب بہن بھائیوں اور ابا جی کو ساتھ لے کر میرے پاس آ جائیں۔ بولیں یہ اولاد اللہ نے ہمیں پالنے کے لیے دی ہے، تمہیں نہیں۔ یہ ہمارا بوجھ ہے۔ سختی سے منع کر دیا اور اپنی روز مرہ معمولات میں مصروف ہو گئیں۔

    سول سروس کا امتحان پاس کیا، اکیڈمی جانے سے پہلے گجرات ابا جی اور امی کے پاس گیا۔ ابا جی بہت خوش تھے۔ گلے ملے تو دیر تک درود پاک کا ورد کرتے رہے۔ امی ساتھ کھڑی تھیں۔ کہنے لگیں یہ نوکری صحیح ہے، لیکن مجھے تو تمہارے پیدا ہونے سے پہلے خواب میں کچھ اور دکھایا گیا تھا۔ میں نے کریدا۔ پورا خواب بیان کیا تو میں نے کہا، امی یہ تو بہت بڑی منزل ہے، بڑی آزمائش ہے، بہت کٹھن راستہ ہے۔ میری ماں نے زندگی کا نچوڑ میرے سامنے رکھ دیا۔ کہنے لگیں۔ کیا ہم خود رستہ منتخب کرتے ہیں، خود اس پر چلتے ہیں۔ جو اللہ اس راستے پر ڈالتا، اس پر چلنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔

    اچھے دن آ گئے، امی کو بیٹیاں بھی ایسی ملیں کہ انھیں ہاتھ کا چھالا بنا کر رکھتیں۔ خدمت میں حد سے گزر جانے والی۔ لیکن امی کے لباس سے سادگی گئی اور نہ رہن سہن میں بناوٹ آئی۔ 1999ء میں ابا جی چلے گئے۔ وہ ابا جی جن کی زندگی سے میں نے ایک عشق سیکھا اور وہ تھا عشق رسولؐ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم کا نام آتا تو آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی، حالت غیر ہو جاتی، کبھی کبھی تو ہچکیوں کی آواز اتنی بلند ہوتی کہ امی آ کر سنبھالتیں اور کہتیں، پڑوس میں آواز جائے گی۔ مدینے جانے کی خواہش ان کے دل میں مچلتی تھی۔

    ہمارے حالات بہتر ہوئے تو ان کی صحت نے وہاں جانے کی اجازت نہ دی۔ میں عمرے پر گیا، واپس آیا میں نے کہا کہ آپ کا سلام روضہ رسولؐ کے سامنے عرض کر دیا تھا، گھنٹوں روتے رہے اور اس دن کے بعد سے مجھے اوریا صاحب کہنے لگے کہ میں مدینے سے ہو کر آیا ہوں۔ 2010ء میں امی کو عمرے پر لے کر گیا۔ مکے سے مدینہ جانے سے پہلے مجھے ایک جانب لے گئیں اور کہنے لگیں تمہارے باپ کو مدینے جانے کا کتنا شوق تھا، ہر ماہ تھوڑے سے پیسے جمع کرتے، میں خرچ کروا دیتی۔ پنشن آئی، اکٹھے دس ہزار روپے ملے، بہت خوش تھے کہ اب تو مدینے سے بلاوا آ ہی گیا ہے لیکن میں نے سارے پیسے تیری پڑھائی پر لگوا دیے۔

    اوریا مقبول جان


    0 0

    فلم اسپائیڈر مین  میں ہیرو کا چاچا اس سے کہتا ہے کہ ’’طاقت کے ساتھ بہت بڑی ذمے داری بھی آتی ہے، اپنی طاقت کا صحیح استعمال کرو‘‘۔ یہ بات بالکل صحیح ہے، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس وہ طاقت ہوتی ہے جس سے وہ ہزاروں لوگوں کی زندگیوں کا فیصلہ کچھ سیکنڈوں میں کرسکتے ہیں اور انھیں اس طاقت کو صحیح طرح استعمال کرنا چاہیے۔
    دنیا کے بڑے بڑے سیاست دان، صدور یا پھر ٹاپ 100 امیر ترین لوگ جو 80 فیصد اکانومی چلاتے ہیں یا پھر وہ کمپنیاں جن کی پروڈکٹ کی لت میں ہم مبتلا ہیں جیسے فیس بک۔

    دنیا کی آبادی اس وقت لگ بھگ سات بلین ہے، جس میں سے 1.4 بلین چائنا میں ہے، فیس بک 2008 سے چائنا میں بند ہے، اس کے باوجود فیس بک پر 1.6 بلین ایکٹیو یوزرز ہیں جب کہ دنیا میں اس وقت ہر تین میں سے ایک آدمی یہ سہولت استعمال نہیں کرپاتا، لیکن پھر بھی فیس بک کی پاپولیشن بڑھتی ہی جارہی ہے، جو اس کو دنیا کی سب سے طاقتور کمپنی بناتا ہے۔

    فیس بک کے پاس اس سے کہیں زیادہ طاقت ہے جسے اسپائیڈر مین کے انکل نے سنبھال کر استعمال کرنے کو کہا تھا اور آج فیس بک اپنی اس طاقت کو استعمال کرنے جا رہا ہے جو کئی ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کے حساب سے پاور کا غلط استعمال ہے۔

    دنیا میں تین میں سے دو لوگ ایسے ہیں جن کے علاقے میں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے اور فیس بک انٹرنیٹ کو ان ہی لوگوں کے لیے مفت کرنے والا ’’انٹرنیٹ ڈاٹ او آر جی‘‘ ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو فیس بک نے بنائی ہے اور اس کو آپ بغیر کسی بھی انٹرنیٹ کنکشن کے کمپیوٹر یا موبائل فون سے کھول سکتے ہیں۔

    انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ پر جانے کے بعد آپ کو مزید ویب سائٹ ملتی ہیں جنھیں آپ مفت استعمال کرسکتے ہیں جس میں فیس بک بھی شامل ہے، بیشتر انٹرنیٹ ایکسپرٹس اس بات سے خوش نہیں ہیں، انھیں لگتا ہے کہ یہ قدم فیس بک کو پرائیویٹائز کرنے کا ہے جس سے وہ مستقبل میں ہر چیز کو خود کنٹرول کریںگے۔
    انڈیا سے لے کر امریکا تک انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کے خلاف آرٹیکلز لکھے گئے ہیں یہاں تک کہ اگر آپ انٹرنیٹ پر سرچ کریں تو بیشتر کالمز اس اقدام کے خلاف نظر آتے ہیں۔ لوگوں کے خیال کے مطابق پہلے تو فیس بکس مفت انٹرنیٹ کی عادت ڈالے گا اور اس کے بعد لوگوں کو وہ ویب سائٹس دکھائے گا جو وہ پروموٹ کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ جو بھی اشتہارات انٹرنیٹ پر ہوںگے انھیں وہ خود کنٹرول کریںگے۔

    یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسا 1995 میں مائیکرو سافٹ نے براؤزر انٹرنیٹ  ونڈو 95 کے ساتھ مفت شامل کردیا تھا جب کہ باقی براؤزر مارکیٹ میں فری نہیں تھے، مائیکرو سافٹ پر لاء سوٹ بھی ہوا۔ انھیں ہر دن کا ایک ملین ڈالر بطور پینالٹی بھی بھرنا پڑی، کئی مہینے تک، لیکن اس کے بعد براؤزر کی زیادہ تر کمپنیاں بند ہوگئیں اور براؤزر ہمیشہ کے لیے مفت ہوگئے۔

    اس وقت انٹرنیٹ پر تین ٹریلین ڈالرز سالانہ سے زیادہ کا بزنس ہوتا ہے اور لوگوں کو ڈر ہے کہ فیس بک اپنے فری انٹرنیٹ کے ذریعے یہ تمام بزنس ہڑپ کر لے گا، ایکسپرٹس نے انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کو کنٹرولڈ انٹرنیٹ کا نام دے کر برا بھلا کہنا شروع کردیا ہے جس سے عام لوگوں کو لگتا ہے کہ کچھ سال میں انٹرنیٹ صرف مفت ہی میں استعمال ہوپائے گا جس کو پوری طرح کچھ کمپنیاں کنٹرول کریںگی یعنی آپ کب کتنا اور کیا انٹرنیٹ پر دیکھ پائیں اس کا فیصلہ کوئی اور کرے گا۔
    انڈیا میں ایڈ کمپین سے لے کر کالم اور یہاں تک کہ فیس بک پر لوگوں نے پرائیویٹ ویڈیوز تک بنائی ہیں، انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ کے خلاف ’’ہم سے ہمارا انٹرنیٹ مت چھینو‘‘ جیسے میسج آج عام ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو دیکھا دیکھی اور سنی سنائی پر یقین کررہے ہیں۔ جب کہ اس فری انٹرنیٹ کا سچ کچھ اور ہے۔

    ایک ضروری بات یہ ہے کہ 40 فیصد لوگ انٹرنیٹ اپنے موبائل کے ذریعے استعمال کررہے ہیں، جن پر انٹرنیٹ موبائل فون کمپنی مہیا کرتی ہے جو کسی بھی حال میں فری نہیں۔ انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ صرف ان جگہوں کے لیے ہے جہاں سرے سے انٹرنیٹ ہے ہی نہیں، جس میں پاکستان جیسے ملک کے بھی کئی علاقے ہیں، یہ ان ملکوں کے لیے نہیں ہے جہاں پہلے سے انٹرنیٹ ہر جگہ دستیاب ہے جیسے امریکا، انگلینڈ وغیرہ۔

    آپ اگر ایسے علاقے میں ہیں جہاں سرے سے انٹرنیٹ ہے ہی نہیں یا پھر وہاں کے لوگ اسے افورڈ نہیں کرسکتے تو اس صورت میں آپ کے لیے یہ سروس بہترین ہے لیکن آپ کو انٹرنیٹ اگر آسانی سے دستیاب ہے تو یہ سروس آپ کے لیے نہیں ہے۔

    فیس بک اگر صرف اپنے لیے سوچ رہا ہوتا تو امریکا میں آسانی سے اپنی سروس مفت کردیتا لیکن انھوں نے ایسی مارکیٹ میں یہ سروس متعارف کرانے کا سوچا جہاں ایڈورٹائزنگ میں کوئی خاص فائدہ نہیں اور نہ ہی صرف اپنی سروس فری کی بلکہ اور بھی کئی ویب سائٹس کو مفت کردیا جو انٹرنیٹ سے کٹے ہوئے لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

    پاکستانی ہونے کی وجہ سے ہم کو اس سروس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے، پاکستان میں اس وقت بے روزگاری کا تناسب 15% فیصد سے زیادہ ہے اور آفیشل نمبرز کے حساب سے تعلیم کا تناسب 46% ہے جس میں سے لڑکیوں کی خواندگی کی شرح محض 26% ہے، ساتھ ہی پاکستان میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کا گھر سے باہر نکلنا یا تعلیم حاصل کرنا بالکل منع ہے، ایسے میں فیس بک جب پاکستان میں تعلیم سے متعلق ویب سائٹس کو مفت کرتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔

    انٹرنیٹ ڈاٹ آرگ پر اس وقت پندرہ مفت ویب سائٹس ہیں جس میں ’’مستقبل‘‘ اور ’’علم کی دنیا‘‘ جیسی ویب سائٹس شامل ہیں۔ ’’مستقبل‘‘ جس پر کوئی بھی شخص ملازمت تلاش کرسکتا ہے اور دوسری سائٹ جوکہ تعلیم سے متعلق ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اس قسم کی ویب سائٹس سے نوکری کا مسئلہ یا جہالت ختم ہوجائے گی لیکن یقیناً ایک بہتر ذریعہ پاکستان کے عوام کو ملے گا۔ جنھیں وہ بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں جن کے بارے میں مغرب میں رہنے والے سوچتے بھی نہیں۔

    فیس بک کا یہ قدم اچھا ثابت ہوگا یا برا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن فی الحال پاکستانیوں کے لیے یہ فائدہ مند ہی نظر آرہاہے اس لیے عوام کو اس سے خاطر خواہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    وجاہت علی عباسی
     


    0 0

    اگر آپ کشتی کے ذریعے آسٹریلیا آنے کے خواہش مند ہیں تو یہ ذہن میں رکھیے کہ آپ کو آسٹریلیا کے بجائے پاپوا نیوگنی پہنچا دیا جائے گاـ
    جی یہ آسٹریلیا میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے آسٹریلوی حکومت کے پیغام کا لبِ لباب ہے۔

    آپ شاہد دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ملک میں نئی زندگی کے آغاز کے خوشامند ہوں لیکن آپ پہنچ جائیں گے دنیا کے ایک غریب ترین ملک میں۔
    پاپوا نیو گنی کا مانس جزیرہ وہ جگہ ہے جسے آسٹریلیا دنیا کی آنکھوں سے اوجھل رکھنا چاہتا ہے۔
    آسٹریلیا کی جانب سے پناہ کے متلاشی افراد کے لیے قائم کیے جانے والے حراستی مراکز میں سے ایک مانس جزیرے پر واقع ہے جہاں تقریباً ایک ہزار افراد کو قید کر کے رکھا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اسے بحرالکاہل کا گوانتانامو کہتے ہیں۔

    ہم آسٹریلوی حکام سے اپنا کیمرہ چھپا کر اس مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔صحافیوں کے لیے اس جزیرے پر جانے کے لیے ویزہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ اسی لیے ہم سیاحوں کا رو پ دھار کر وہاں گئے۔
    ہمیں وہاں پناہ کے متلاشی افراد حراستی مرکز کی باڑ کے ساتھ منہ جوڑے نظر آئے اور ان میں سے کچھ مانس جزیرے پر گزشتہ دو سالوں سے قید ہیں۔
    ان میں سے اکثر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے اور یہ لوگ اپنے ممالک میں جاری جنگوں اور در پیش دیگرمسائل کی وجہ سے وہاں سے بھاگ کر آئے ہیں لیکن یہاں پر انھیں بظاہر غیر معینہ قید کا سامنا ہے۔

    مانس جزیرے پر قائم اس حراستی مرکز میں حالات گزشتہ ایک برس سے کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں پر کئی بار فسادات پھوٹ چکے ہیں جن کے نتیجے میں ایک ایرانی شہری کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
    سینکڑوں افراد بھوک ہڑتال کیے ہوئے ہیں اور کچھ نے تو احتجاجاً اپنے ہونٹ بھی سی لیے تھے۔
    اطلات کے مطابق ایک شخص تو اتنا تنگ آگیا تھا کہ اس نے بلیڈ نگل لیے تھے۔
    یہاں پر قید لوگ بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔

    لیکن ہم مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص احمد (حفاظت کے پیشِ نظر نام مخفی رکھا جارہا ہے) سے بات کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے اس مرکز میں اٹھارہ ماہ تک اسیر رکھنے کے بعد حکام نے مانس جزیرے پر ہی قائم ایک اور جیل جہاں پر قید افراد کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہے منتقل کر دیا تھا۔

    ہم سے بات کرتے ہوئے احمد کا کہنا تھا کہ ’ قید میں میری حالت بہت بری تھی، ایک چھوٹے سے کمرے میں چار افراد کو رکھا گیا تھا، یہ زیادتی ہے۔
    آسٹریلوی حکومت انسانی حقوق کی خلاف وزی کی مرتکب ہو رہی ہے اور ہمارے بارے میں اس کی کوئی واضع پالیسی نہیں ہے۔
    اس کا کہنا تھا کہ ’ اگر میں واپس گیا تو وہ مجھے مار دیں گے۔

    احمد اپنا گھر بار خاندان سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
    ’میری صرف ایک بہن ہے جس سے میں بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے میرے والدین بھی بہت عزیز ہیں اور ان حالات میں اپنے خاندان کے بغیر یہاں رہنا بہت مشکل ہے پر کیا کروں میرے پاس اور کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں اپنی زندگی کا آغاز کرنا چا رہا ہوں حقیقی زندگی کا۔‘

    احمد کا شمار ان درجن بھر پناہ کے متلاشی افراد میں ہوتا ہے جنھوں نے مانس جزیرے پر آباد ہونے پر اتفاق کیا ہے۔
    اس بنیاد پر وہ حراستی مرکز سے نکلنے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اس کے حالات میں زیادہ بہتری نہیں آئی ہے۔
    وہ اب سخت حفاظتی پہرے میں قائم کیے گئے دوبارہ آباد کاری کے مرکز میں رہتے ہیں۔
    انھیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور وہ صبح چھ سے شام چھ تک ہی مرکز سے با ہر نکل سکتا ہے۔

    سنہ 2013 میں آسٹریلوی حکومت نے پاپوانیوگنی سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت پاپوا نیو گنی کو پناہ کے متلاشی افراد کے لیے حراستی مرکز بنانے اور انھیں اپنے ملک میں میں آباد کرنے پر آسٹریلیا کی جانب سے30 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔
    یہ ایک واضع پیغام تھا کہ آسٹریلیا آنے کے خواہشمند پناہ کے متلاشی افراد کو پاپوانیوگنی میں ہی آباد کیا جائے گا۔

    آسٹریلوی حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے کشتیوں کے ذریعے آسٹریلیا آنے کی کوشش کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اس خطرناک سفر کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں بھی کمی آے گی۔
    یہ حکمتِ عملی کافی کامیاب رہی کیونکہ سنہ 2013 تک ہزاروں افراد یہ سفر کر رہے تھے اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں اموات بھی ہوئی تھیں لیکن دو سال بعد ا ب یہ سفر اختیار کرنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
    دوسری جانب مانس جزیرے پر بسنے والے افراد کا اس بارے میں ملا جلا ردِعمل ہے۔

    حراستی مراکز میں مقامی لوگوں کو بڑی تعداد میں نوکریاں ملی ہیں جس پر کچھ لوگ خوش بھی دکھائی دیتے ہیں۔
    ایک مقامی رہنما کا کہنا ہے کہ ’ اگرچہ نوکریاں جزیرے کے لوگوں کو مل رہی ہیں لیکن بڑے ٹھیکے صرف آسٹریلوی کمپنیوں کو ہی ملتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہے کہ جیسے ایک ہاتھ سے دینا اور دوسرے سے واپس لے لینا۔
    ایک بات تو واضع ہے کہ اس حکمتِ عملی نے آسٹریلیا آنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کا مسئلہ کافی حد تک حل کر دیا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے وزیرِاعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ یورپ کو بھی ایسی ہی حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے اگر وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔
    دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمں نے آسٹریلوی اقدامات کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ نے تو مانس جزیرے پر حراستی مراکز میں لوگوں کو قید کرنے کو تشدد کے مترادف قرار دیا ہے۔ان سب باتوں سے قطہ نظر ایک چیز واضع ہے کہ جزیرے پر قید لوگوں کا مستقبل انتہائی تاریک ہے۔

    جان ڈانیسن
     بی بی سی ، پاپوا نیو گنی




    .


    0 0

    دنیا کے دو سو میں سے نوے ممالک میں پھانسی قانوناً جائز ہے۔ لیکن ان میں سے صرف بائیس ممالک نے پچھلے ایک برس میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔ سالِ گذشتہ میں جن دس ممالک میں سب سے زیادہ پھانسیاں دی گئیں ان میں پاکستان کا نام کہیں نہ تھا۔ مگر پچھلے چھ ماہ میں لگ بھگ ایک سو باسٹھ مجرموں کو تختہِ دار پر لٹکا کے پاکستان ٹاپ ٹین ممالک میں اول نمبر پر آ گیا اور ایران ، سعودی عرب ، عراق ، امریکا ، چین اور شمالی کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس وقت پاکستان میں آٹھ ہزار سے زائد قیدی موت کے منتظر ہیں اور اکثریت یہ انتظار کم از کم دس برس سے کر رہی ہے۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق سزائے موت سننے والے لگ بھگ ایک ہزار مجرم وہ ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ واردات کے وقت وہ کم عمر یعنی جوینائل کیٹگری میں تھے۔

    موت کے لگ بھگ آٹھ ہزار قیدیوں میں سے وہ قیدی صرف آٹھ سو اٹھارہ ہیں جنھیں انسدادِ دھشت گردی کی خصوصی عدالتوں سے سزا ہوئی۔ دیگر کو عام عدالتوں نے سزا سنائی۔ ان میں سے دو سو ستاون کو غیر سنگین جرائم میں سزائے موت سنائی گئی۔باقیوں پر دھشت گردی ، اغوا ، منشیات کی اسمگلنگ ، ہائی جیکنگ ، ریلوے نظام کو نقصان پہنچانے ، ریپ اور توہینِ مذہب سمیت ستائیس میں سے کسی ایک یا ایک سے زائد سنگین جرائم میں سزا سنائی گئی۔ فہرست میں آخری اضافہ دو ہزار آٹھ میں ہوا جب سائبر دھشت گردی بھی سنگین جرائم کی فہرست میں شامل ہو گئی۔
    ہر ملک اور سماج کو حق ہے کہ وہ اپنے اخلاقی مجرموں سے جیسے چاہے قانوناً نمٹے۔ مگر کچھ آفاقی اصول ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔ مثلاً قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ، انصاف ہر زی روح کا بنیادی حق ہے ، انصاف کی آنکھوں پر پٹی ضرور ہو مگر جج کی آنکھیں کھلی رہیں ، انصاف کے نام پر بے انصافی یا مشکوک انصاف ہو تو اس کا معاوضہ و مداوا اور ازسرِ نو مقدمہ یا بریت بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے کیونکہ پھانسی کے بعد معلوم ہو کہ غلط شخص مارا گیا تو اس کا کیا مداوا ہو اور اگر یہ پتہ چلے کہ جسے پھانسی کی سزا ہوئی اسے عمر قید کے برابر عرصہ بھی کال کوٹھڑی میں گذارنا پڑا اور پھر رسے سے بھی لٹکنا پڑا تو اسے انصاف گردانا جائے یا قتل بذریعہ عدل ؟ ایسے سوالات بہت بار اٹھائے گئے مگر تب تک اٹھائے جاتے رہیں گے جب تک کوئی منصفانہ جواب اور حل دستیاب نہیں ہوتا۔

    پاکستان میں ایک مدت تک عمر قید چودہ برس تصور کی جاتی تھی پھر بڑھا کر پچیس برس کر دی گئی ۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر دو ہزار سات میں سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے حق میں بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کی تو حمائتیوں میں پاکستان بھی شامل تھا۔ زرداری حکومت کے پانچ برس اور نواز شریف حکومت کے ابتدائی ڈیڑھ برس کے دوران سزائے موت پر عمومی عمل درآمد معطل رہا۔

    مگر چودہ دسمبر دو ہزار چودہ کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے قتلِ عام کے بعد سزائے موت پر یہ کہہ کر عمل درآمد بحال کیا گیا کہ صرف انھیں ہی پھانسی پر لٹکایا جائے گا جن کا دھشت گرد ہونا ثابت ہو جائے۔ پارلیمنٹ سے فوجی عدالتوں کے قیام کا بل بھی یہی کہہ کے منظور کروایا گیا کہ فوجی عدالتوں میں صرف ’’ جیٹ بلیک ’’ دھشت گردوں پر مقدمات چلیں گے جنھیں وفاقی و صوبائی حکومتیں سماعت کے لیے ارسال کریں۔ پھر یوں ہوا کہ ایک روز دبے پاؤں سزائے موت پر عمل درآمد کا دائرہ تمام مجرموں تک بڑھا دیا گیا۔دھشت گردوں کو پھانسی دینے کے نام پر ہٹائی گئی پابندی کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد مجرم رسے پر جھلا دیے گئے۔مگر ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو غیر دھشت گرد مجرم ہیں۔اب تک صرف بیس کے لگ بھگ ایسے مجرموں کو پھانسی دی گئی جن پر دھشت گردی ثابت ہو چکی تھی۔

    سزائے موت پانے والے یا اس کے منتظر مجرموں میں کچھ وہ بھی ہیں جنہوں نے جرم تو انفرادی سطح پر کیا لیکن مقدمہ عام عدالت کے بجائے انسدادِ دھشت گردی کی خصوصی عدالت میں بھیج دیا گیا۔جیسے شفقت حسین کا مقدمہ۔اس پر دو ہزار چار میں ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کا الزام تھا۔

    آفتاب بہادر مسیح کا کیس بھی اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ ہے۔اسے انیس سو بانوے میں پندرہ برس کی عمر میں جن دو افراد کی بنیادی گواہی پر قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ انھوں نے بعد ازاں اپنا بیان واپس لے لیا۔
    شفقت حسین کو تو ریاست نے اپنی کم عمری ثابت کرنے کی سہولت چار بار فراہم کی لیکن آفتاب بہادر مسیح کے وکیل کی جانب سے اپنے موکل کی کم عمری ثابت کرنے کی مہلت دینے کی درخواست یہ کہہ کے مسترد کردی گئی کہ جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس جس کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر کے ملزم کو پھانسی نہیں دی جا سکتی سن دو ہزار میں نافذ ہوا لہذا آفتاب بہادر کو رعائیت نہیں مل سکتی کیونکہ اس نے جرم آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے کیا۔چنانچہ نو جون کو آفتاب بہادر کی اپیل تکنیکی بنیاد پر مسترد ہوئی اور گزشتہ روز اسے کوٹ لکھپت جیل میں تئیس برس کے انتظار کے بعد لٹکا دیا گیا۔یعنی پہلے تو آفتاب بہادر نے ریاستی نا اہلی کے سبب تئیس برس کی وہ قید کاٹی جو اسے کسی عدالت نے نہیں دی اور پھر اس سزائے ناحق کے عوض کم عمری کے آرڈیننس کا فائدہ دینے کے بجائے پھانسی دے دی گئی۔

    ایک دو مثالیں ایسی بھی ہیں کہ عدالت نے مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے احکامات چند گھنٹے پہلے جاری کردیے مگر یہ احکامات جیل حکام کو بروقت نہ مل سکے اور مجرم کو لٹکا دیا گیا۔

    سزائے موت کی موجودہ وبا میں ایک اور کیس بھی بہت عجیب نوعیت کا ہے۔ذوالفقار علی خان کو انیس سو اٹھانوے میں قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی مگر اس پر عمل درآمد میں سترہ برس لگ گئے۔اس دوران ذوالفقار کی بیوی کینسر سے مرگئی اور دو بچیاں بڑی ہوگئیں۔ بی اے پاس ذوالفقار نے جیل میں ایک لمحہ ضایع کیے بغیر مسلسل پڑھ کر ہومیو پیتھی کا چار سالہ ڈپلوما ، صحافت  ابلاغ ِ عامہ ، میڈیکل ایڈ ، اسلامیات اور دورہِ حدیث میں ایک ایک سال کا ڈپلوما ، علمِ تعزیر میں چھ ماہ کا ڈپلوما ، انگریزی اور پولٹیکل سائنس میں ڈبل ایم اے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ہربل میڈیسن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    ڈاکٹر ذوالفقار کے بارہ قیدی شاگردوں نے گریجویشن ، تئیس نے انٹر میڈیٹ اور اٹھارہ نے میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔جیل حکام نے ڈاکٹر ذوالفقار کو قیدیوں کی تعلیم کا غیر رسمی مشیر بنا دیا اور اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ایک صبح پھانسی پے چڑھا دیا۔( ڈاکٹر ذوالفقار جیل کے قیدیوں اور عملے میں ’’ دی ایجوکیشنسٹ ’’ کے لقب سے مشہور تھا )۔

    اس وقت جتنے بھی قیدی کال کوٹھڑی سے نجات پا چکے یا آخری دن گن رہے ہیں ان میں سے بہت سوں کی کہانی یوں بیان کی جاتی ہے کہ وہ معاشی طور پر کمزور تھے۔یا تو ان کے پاس ابتدائی گرفتاری کے فوراً بعد ایف آئی آر کٹنے سے پہلے رہائی کے لیے بھاری رشوت کے پیسے نہیں تھے لہذا تشدد کے نتیجے میں پولیس نے جو بھی ان سے لکھوایا لکھ دیا۔یا پھر وہ کوئی اچھا مہنگا وکیل کرنے سے قاصر رہے۔ چنانچہ ان کا کیس بھی کسی نیم دل سرکاری وکیل نے لڑا جس پر پہلے ہی بیسیوں مقدمات کا بوجھ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی مقدمے پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا۔( مالی لحاظ سے کمزور لوگوں کے لیے سرکاری وکیل اور سرکاری اسپتال یکساں مفید و مضر ہیں )

    یا اگر کسی کیس میں معاملہ تصفیے کے مرحلے تک پہنچا بھی تو مجرم اور اس کے اہلِ خانہ اس قابل نہ تھے کہ خوں بہا کی رقم ادا کر کے معافی حاصل کرسکیں۔ نہ وہ اتنے طاقتور یا بااثر تھے کہ متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکا کے راضی نامہ لے سکیں۔

    مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سزائے موت کے تمام فیصلے ناقص ، مشکوک یا بدانصافی پر مبنی ہوتے ہیں۔اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سزائے موت کی چکی میں گیہوں زیادہ اور گھن کم پستا ہے۔بس اتنا ہے کہ ایک بار جو مر گیا سو مرگیا۔بعد میں آپ کتنے ہی ری ٹرائیل کرلیں ، کتنی بار ہی بے گناہ قرار دے لیں ، معذرت کرلیں۔پنچھی تو اڑ گیا۔۔۔

    تو کیا ہزاروں غیر دھشت گرد مجرموں سے کال کوٹھڑیاں خالی کروانے سے دھشت گردی رک جائے گی ، ریاستی رٹ بحال ہوجائے گی ، دھشت گرد ماسٹر مائنڈ ڈر جائیں گے ، سیدھی راہ پے آجائیں گے ؟

    یہ سوال مجھ سے ، خود سے یا ریاست سے کرنے کے بجائے اس شخص سے کیجیے جو سزائے موت کے خطرے کے باوجود ریپ کی تیاری کر رہا ہے یا غیرت کے نام پر خنجر تیز کرچکا ہے یا خاندانی دشمنی چکانے چل پڑا ہے یا کسی سے سپاری لے کر کسی انجان کا نشانہ باندھ چکا ہے۔

    یا اس لڑکے سے کیجیے جو اس وقت کہیں جنت کے تصور میں مست بیٹھا اپنی بارودی جیکٹ آخری بار چیک کررہا ہے ، یا موٹرسائیکل پر سوار ہونے سے پہلے نائن ایم ایم کی کافر شکن گولیاں گن رہا ہے۔اس کے لیے تو کسی بھی شکل میں موت محض ایک سرنگ ہے جسے عبور کرتے ہی آزادی ہی آزادی۔۔۔
    اگر جڑوں کو اکھاڑنے کے بجائے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے سے زمین ٹھنڈی اور پاک ہو سکتی ہے تو پھر کر لیجیے۔مگر یہ بھی سوچئے گا کہ جن ممالک میں سزائے موت نہیں دی جاتی وہاں سنگین جرائم کی شرح کم ہونے کا راز کیا ہے۔انھوں نے اپنے سماج کا علاج کیسے کیا ؟

    وسعت اللہ خان


    0 0


    0 0

    گزشتہ دنوں مجھے ایک شناسانے جو ایک نجی ٹی وی چینل میں اکاؤنٹینٹ کے عہدے پر فائز ہیں ان کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں آپ کے کالم بڑے شوق سے پڑھتا ہوں۔ مجھے بھی کچھ لکھنے کا شوق ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ایک اچھا مضمون یا کالم کیسے تحریر کیا جاتا ہے میں اس حوالے سے قطعی لاعلم ہوں۔ آپ چونکہ مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں، اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ اس پر ضرور قلم اٹھائیں تاکہ میں اور میرے جیسے دیگرادب دوست اور مطالعہ کی طرف راغب نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔ امید ہے کہ آپ اس پر ضرور غور فرمائیں گے۔

    ان کی جانب سے کالموں کی پسندیدگی کا شکریہ ۔ خود میرے حلقہ احباب میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مضمامین یا کالم لکھنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ میں نے اپنی دانست کے مطابق کچھ نکات تحریر کیے ہیں جن کو ذہن میں رکھا جائے تو ایک اچھا اور معیاری مضمون یا کالم لکھا جاسکتا ہے۔ فن تحریر کے میدان میں آنے سے قبل آپ کو تین امور پر عبور حاصل ہونا ضروری ہے۔

    سب سے پہلے آپ کو علم حاصل کرنا ہوگا۔ علم سے مراد کسی شے کا فہم ہے، فلسفے میں علم کسی موضوع کے متعلق مربوط، مکمل اور صحیح واقفیت کا نام ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کو انسانی جسم کے اعضا کے متعلق واقفیت ہو مگر یہ واقفیت علم الابدان کا درجہ نہیں رکھتی۔ جس طرح اینٹوں کا ایک ڈھیر عمارت نہیں کہلاتا اسی طرح غیر مربوط اور نامکمل واقفیت علم کہلانے کا مستحق نہیں۔ ہمارے ذہن میں انواع و اقسام کی باتیں یا چیزیں نہایت بے ترتیبی کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ انھیں اپنے شعور اور مشاہدات کی قوت سے ازسرنو مربوط شکل اور ترتیب دینا اور انھیں بامعنی بنانا ہی تحریر نگار کا اصل کام ہے۔
    دوسری بات جو ضروری ہے وہ ہے مطالعہ۔ پڑھنے کا عمل  کہلاتا ہے جب پڑھنے کے ساتھ آپ کو پڑھنے کی لذت محسوس ہونے لگے تو یہ عمل  بن جاتا ہے۔ ایک لکھاری کے لیے ضروری ہے کہ وہ مطالعے کی عادت کو اپنائے۔ تیسری اہم بات ہر لفظ کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا ہے خواہ ہم اسے بیان کرسکیں یا نہ کرسکیں اس کو  کہتے ہیں۔ اس لیے جو بھی لفظ بالخصوص اصطلاحی لفظ جب آپ پڑھیں یا لکھیں اس کا مطلب آپ کے ذہن میں واضح ہونا چاہیے۔ اس کے لیے مختلف موضوعات کی اصطلاحات پر مبنی کتب کا مطالعہ کرلیا جائے تو یہ عمل تحریر نگاری کے لیے سب سے زیادہ معاون ثابت ہوگا۔

    ان تینوں امور پر عبور حاصل کرنے کے بعد آپ لکھنے کا ذہن بنا لیجیے۔ تحریر کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ موضوع کا تعین کیا جائے۔ مثلاً آپ تعلیم کے مسائل کے موضوع پر لکھنا چاہتے ہیں تو خیال رکھیں کہ یہ ایک وسیع موضوع ہے۔ اس کے مسائل کے کئی جز ہیں مثلاً نظام تعلیم میں خرابیاں، طبقاتی نظام تعلیم، نصاب کا یکساں نہ ہونا، ذریعہ تعلیم کا ایک نہ ہونا، امتحانی نظام میں خرابیاں ، تعلیمی اداروں کی حالت زار وغیرہ وغیرہ۔ لکھنے سے پہلے آپ کسی ایک مسئلے کا تعین کیجیے تاکہ تحریر الجھنے نہ پائے۔ موضوع اور اس کے ایک پہلو یا جز کے تعین کے بعد اس موضوع پر مضامین، کتابیں، رسائل اور دیگر تحریری مواد پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی بھی تحریر نہیں لکھی جاسکتی۔

    اس مطالعے کے اس موضوع سے تعلق رکھنے والے افراد سے گفتگو ضروری ہے جو اس حوالے سے نہ صرف علمی معلومات رکھتے ہوں بلکہ عملی تجربہ بھی رکھتے ہوں۔ یعنی پیشہ ورانہ افراد سے گفتگو مفید ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ عدالتی مسائل پر لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے لیے آپ قانون کی تدریس کا عمل انجام دینے والے استاد سے گفتگو یا تبادلہ خیال کرتے ہیں تو آپ کا یہ عمل زیادہ مفید نہ ہوگا۔ کیونکہ ایک استاد پڑھانے کا عمل ایک مشینی انداز سے کرتا ہے وہ مسئلے کے زمینی حقائق سے واقفیت نہیں رکھتا اس لیے ضروری ہے کہ تبادلہ خیال ایسے افراد سے کیا جائے جو نہ صرف علم رکھتے ہوں بلکہ زمینی حقائق سے بھی واقفیت رکھتے ہوں۔

    مطالعہ اور گفتگو کے بعد آپ کو بھی تحریری مواد حاصل ہوجائے گا۔ اس حاصل شدہ اور مطالعہ شدہ مواد کو بار بار پڑھیے اسے اپنے ذہن کی ہانڈی میں مناسب وقت تک پکنے دیجیے۔ یہ مناسب وقت ایک دن بھی ہوسکتا ہے اور کئی ماہ بھی۔ اس دوران اہل علم لوگوں سے تبادلہ خیال جاری رکھیں۔ موضوع پر غور و فکر کے بعد جب آپ کو خود احساس ہو جائے کہ آپ اس موضوع پر لکھ سکتے ہیں تو لکھنے کا آغاز کیجیے۔ تحریر لکھتے وقت آپ کے ذہن میں تحریر کا مرکزی خیال واضح ہونا چاہیے۔ اس سے مضمون کو دائرے میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

    مضمون کی سرخی یا عنوان سب سے اہم ہے آپ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ آپ خود بیشتر کالم اور مضامین کا انتخاب سرخی پڑھ کر کرتے ہیں۔ اس لیے عنوان ایسا تحریرکیا جائے کہ وہ پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ مضمون کا پہلا پیراگراف یا ابتدا اہم چیز ہے۔ عنوان کے بعد پڑھنے والا ابتدائی پیراگراف پڑھ کر مضمون کو مکمل پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس لیے ابتدائیہ دلچسپ ہونا چاہیے اور پورے مضمون کے اہم نکات کا خلاصہ بھی۔

    ابتدائی پیرا گراف کے بعد اپنی بات کو منطقی انداز میں ترتیب کے ساتھ آگے بڑھائیے۔ مضمون کا آخری پیراگراف جسے اختتامیہ کہا جاتا ہے اس کو اس طرح لکھیے کہ آپ کی بات مکمل ہوجائے اور پڑھنے والے کو مضمون ختم کرنے کے بعد یہ احساس نہ ہو کہ اس کو کسی سوال کا جواب نہیں ملا۔

    مضمون مکمل کرنے کے بعد اسے ایک دن یا ایک ہفتے بعد پوری توجہ سے پڑھیے۔ جہاں کہیں کوئی جملہ غیر ضروری ہو یا کہیں نامناسب بات لکھنے میں آگئی ہو، کہیں کوئی جملہ نا مکمل یا الجھا ہوا نظر آئے ان تمام خامیوں کو دور کیجیے اور خوشخط لکھ کر اشاعت کے لیے ارسال کر دیجیے۔ اگر آپ کی تحریریں معیاری اور قابل اشاعت ہونے لگیں تو ہماری آپ کے لیے یہی دعا ہوگی کہ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ہوجائے۔

    تحریر کے حوالے سے ایک ضروری بات ذہن میں رکھیں کہ انسانی ذہن جو سوچنے کا عمل انجام دیتا ہے اس سوچ کے تحت وہ پہلے مقدمات بناتا ہے اور اس سے نتائج اخذ کرکے مناسب ردعمل یا رائے کا اظہارکردیتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بعض لکھنے والے پہلے ایک رائے قائم کرتے ہیں پھر اس کے حق میں دلائل تلاش کرکے اس کی حقانیت کو ثابت کرتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں یہ طریقہ درست نہیں ہے اس انداز فکر سے صلاحیتیں دھندلا جاتی ہیں۔ میرے نزدیک جو کچھ لکھا جائے وہ آزاد انداز فکر اور سچائی کے ساتھ لکھا جائے۔ سچائی کے ساتھ لکھی جانے والی تحریریں دل کش اور پراثر ہوتی ہیں اور ایسی تحریریں ہی معاشرے میں تبدیلی کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔ اس لیے آج ہی قلم اٹھائیے اور فن تحریر کے شہسواروں کے کارواں میں شامل ہوکر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کیجیے۔

    جبار قریشی


    0 0



    0 0
  • 06/17/15--02:21: علم کی فیکٹریاں


  • 0 0



    0 0



    0 0

    اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے نے بتایا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں بے گھر ہو جانے والے افراد کی تعداد 6 کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ہر 122 افراد میں سے ایک یا تو مہاجر ہے یا آئی ڈی پی ہے اور یا کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ کی تلاش میں ہے۔پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر اینٹونیو گویٹریز کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کے دربدر ہو جانے پر بہت تشویش ہے ۔

    لوگوں کا اپنا گھر بار چھوڑنے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک وجہ اپنی جان اور عزت بچانے کی ہوتی ہے تاہم وطن چھوڑنے والوں کی سب سے بڑی تعداد اقتصادی اور معاشی مجبوریاں ہوتی ہیں جب اپنے ملک میں روزی روٹی کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو پھر ظاہر ہے کہ تلاش معاش کے لیے نوجوانوں کو دنیا کی وسعت میں رزق تلاش کرنا پڑتا ہے۔

    کئی ممالک میں ہونے والی خانہ جنگی کے باعث پھر لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔ویسے تو ساری زمین اللہ کی ہے اور اس حساب سے تمام انسانوں کا ساری زمین پر حق ہے مگر چونکہ دنیا کو مختلف ممالک میں تقسیم کر کے ان ممالک کی سرحدوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لیے فصیلیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔

    لہٰذا باہر سے آنے والوں کے لیے اندر جانا آسان نہیں ہوتا اس کے باوجود بہت سے لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دوسرے ممالک میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اگر کامیاب ہو جائیں تو ان کے روز گار کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے ورنہ وہ ساحلی محافظوں کی گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں یا ان کی کشتی سمندر میں غرق ہو جاتی ہے۔ دنیا میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو جائے اور پسماندہ ممالک میں معاشی ترقی کا آغاز ہو تو بے گھرافراد کی تعداد میں حیران کن حد تک کمی ہو سکتی ہے۔


    0 0


    ڈی جی رینجرز نے ایپکس کمیٹی کو جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں بہت ساری چونکا دینے والی انکشافات کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سندھ خصوصاً کراچی میں 230 ارب روپوں کی کرپشن ہوئی ہے، ڈی جی نے اس حوالے سے بعض اداروں، افراد اور جماعتوں کی بھی نشان دہی کی ہے جس پر مختلف جماعتوں کی طرف سے اعتراض اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    متحدہ کو شکایت ہے کہ کراچی میں رینجرز کی موجودگی کی مدت میں اضافے کے لیے بھی آرمی ایکٹ میں ترمیم کی گئی ہے اس کا طریقہ کار غلط ہے، سو متحدہ اپنی اس شکایت کے ساتھ احتجاج کررہی ہے۔ پچھلے دنوں ہمارے وزیراعظم نے ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ ’’کراچی میں مکھی بھی مرجائے تو ہڑتال ہوجاتی ہے‘‘ واضح رہے کہ متحدہ نے اپنے ایک کارکن کی پر اسرار ہلاکت کے خلاف سندھ بھر میں ہڑتال کرادی تھی، وزیراعظم نے اپنی تقریر میں مکھی کا جو ذکر کیا تھا، متحدہ نے اس حوالے سے سخت احتجاج کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وزیراعظم متحدہ کے کارکنوں کو مکھی کا توہین آمیز نام دے رہے ہیں، وزیراعظم کی اس تقریر کے خلاف متحدہ نے نصف دن کی ہڑتال کا اعلان کیا اور نصف دن کی یہ ہڑتال پورے سندھ میں ہوئی، یہ مکھی کی اصطلاح کے خلاف احتجاج بھی تھا اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ متحدہ سندھ میں اب بھی سندھ کی ایک بالادست طاقت ہے۔
    اس شکایت پر وزیراعظم نے بطرز معافی وضاحت بھی پیش کردی لیکن ہمارے وزیر دفاع حضرت خواجہ آصف نے ایک اور توپ داغ دی موصوف نے فرمایا کہ صرف مشرقی پنجاب سے آنے والے لوگ ہی اصلی مہاجر ہیں ’’باقی سب جعلی مہاجر ہیں‘‘ اس ’’باقی سب‘‘ کو متحدہ اردو اسپیکنگ قرار دیتے ہوئے، خواجہ آصف سے معافی کا مطالبہ بھی کررہی ہے اور سندھ میں سڑکوں پر احتجاج بھی کررہی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمے داری کا احساس کرتے ہوئے بہت احتیاط کے ساتھ زبان کھولنی چاہیے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب مسئلے پر اختلاف پیدا ہوا ہے وہ ہے لفظ مہاجر ،کیا 68 سال گزرنے کے بعد جب کہ مہاجروں کی دو نئی نسلیں آئی ہیں اور ہر یہ نسلیں سندھ ہی میں پیدا ہوئی ہیں کیا اب بھی لفظ مہاجر کا استعمال منطقی اور قوم و ملک کے مفادات کے مطابق ہے؟

    اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ سندھ یا کراچی میں جس بڑے پیمانے پر کرپشن کی کہانیاں گردش کررہی ہیں اور سنگین جرائم کی جو بھرمار ہے اس نے عوام کی زندگی عذاب کردی ہے اور ان دو خطرناک بیماریوں کے خلاف کوئی غیر جانبدارانہ آپریشن ہوتا ہے تو عوام اس کی مکمل حمایت کرے گی ۔ حالت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے رہنما مظفر شجرہ نے کہاہے کہ سندھ کے محکموں میں بھاری کرپشن ہورہی ہے۔

    ڈی جی رینجرز کے انکشافات اگرچہ حیرت انگیز بھی ہیں اور ناقابل یقین بھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سیاست دان اس پر محض چراغ پا ہونے کے بجائے اور شدید رد عمل ظاہر کرنے کے بجائے یہ مطالبہ کرتے کہ ان انکشافات کی غیر جانبدارانہ اعلیٰ سطحی تحقیقات ہونی چاہیے تو ان کا یہ مطالبہ حقیقت پسندانہ بھی ہوتا اور منطقی بھی لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے بلکہ اس رپورٹ کو سیاست دانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کہا جارہا ہے۔

    یہ درست ہے کہ رپورٹ میں بہت سارے سیاست دانوں کے نام بھی آرہے ہیں جو نئی بات نہیں ہے بلکہ پاکستان کی پوری جمہوری تاریخ سیاست دانوں کی ناراضگی بے جواز ہی کہلاسکتی ہے بلکہ ہمارے سیاست دانوں کو جرائم اور کرپشن کے خلاف کی جانے والی ہر کارروائی پر آپریشن کی حمایت کرنی چاہیے اور اس حوالے سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور کرپشن کے بارے میں رپورٹ کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ کیا اہل سیاست اس حقیقت سے واقف ہیں کہ صرف کراچی میں روزانہ اربوں روپوں کی کرپشن کا ارتکاب کیا جارہا ہے۔ آج ہمارے ملک کے 18 کروڑ عوام کو غربت سمیت جن سنگین مسائل کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی وجہ اعلیٰ سطحی اربوں کھربوں کی کرپشن ہے، کیا عوام کرپشن اور سنگین جرائم کے خلاف کارروائی کی مخالفت کریںگے۔؟

    سب سے زیادہ بلکہ ناقابل یقین رد عمل آصف علی زرداری کی طرف سے آیا ہے۔ یہ رد عمل اس قدر شدید اور حیرت انگیز ہے کہ کسی کے حلق سے اتر ہی نہیں پارہا ہے۔ اسلام آباد میں فاٹا کے ’’منتخب عمائدین‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زرداری صاحب نے فرمایا ہے کہ ’’ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے، ہماری کردار کشی کرنا چھوڑدو اگر ہم نے آپ کی کردار کشی شروع کی تو پتہ نہیں پاکستان بننے سے آج تک کتنے جنرلز اس کی زد میں آجائیں گے۔
    ہمیں پتہ ہے کہ کتنی عدالتوں میں کتنے کیس چلارہے ہیں اور کتنے چلنے والے ہیں ان کی لسٹ لے کر ہم نے پریس کانفرنسوں بیان کی تو آپ کی ’’اینٹ سے اینٹ بج جائے گی، آپ کو تین سال رہنا ہے اور ہمیں ہمیشہ رہنا ہے، پیپلزپارٹی ایک بڑی طاقت ہے ہم جس کو روک لیتے ہیں وہ رک جاتا ہے ہم جس کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں وہ پروان چڑھ جاتا ہے، زرداری نے کہاکہ اگر تم نے تنگ کرنا نہیں چھوڑا اور ہم کھڑے ہوگئے تو کراچی سے فاٹا تک سب بند ہوجائے گا اور میرے کہنے پر ہی کھلے گا۔

    عام خیال ہے کہ عوامی حمایت کے حوالے سے پیپلزپارٹی کا گراف مسلسل گرتا آرہا ہے اگر یہ تاثر درست ہے تو پھر آصف زرداری اتنی بڑی لڑائی کس کے بھروسے پر لڑنے جارہے ہیں؟ اس میں ذرا بابر شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی سیاست دان نے اس جرأت اور بہادری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اس قدر استقلال کے ساتھ بات نہیں کی۔

    جس جرأت اور اعتماد کے ساتھ زرداری بات کررہے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں کرپشن، بد عنوانیوں کے حوالے سے عموماً سیاست دان ہی بدنام رہے ہیں اور عوام میں ہمیشہ یہ تاثر موجود رہا ہے کہ فوجی حکمران کرپٹ نہیں، اگر زرداری کے پاس کرپٹ جنرلوں کی ایسی کوئی لسٹ ہے تو یہ ان کی ذمے داری ہی نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ اپنے قول کے مطابق یہ لسٹ لے کر پریس کانفرنس کریں اور عوام کو بتائیں کہ 68 سالوں میں کتنے جنرلوں نے کتنے ارب کی کرپشن کی تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوسکے۔

    ظہیر اختر بیدری


    0 0

    People rush to buy food to break their daylong Ramadan fast at a fruit and vegetable market in Islamabad, Pakistan. Muslims throughout the world are marking Ramadan - a month of fasting during which the observants abstain from food, drink and other pleasures from sunrise to sunset. Ramadan is meant to be a time of reflection and worship, remembering the hardships of others and being charitable.

    0 0


    0 0

    Kashmiri Muslims prepare to start their Iftar (breaking of fast) meal during the holy month of Ramadan outside a mosque in Srinagar.

    0 0

    مسلمانوں میں کسی حکمران کا جو تصور پایا جاتا ہے اس کو دیکھیں تو ہماری موجودہ حکومت کو اپنے وجود کا کوئی جواز حاصل نہیں ہے بلکہ ہمارے حکمران تو کم از کم معیار پر بھی پورے نہیں اترتے اور یہ معیار مسلمانوں کے ہاں تو تاریخ کی کتابوں اور روایتوں میں ہی ملتا ہے جب کہ غیر مسلم ملکوں میں یہ معیار بہت پہلے سے موجود ہے اور کسی حکمران کی کیا مجال ہے کہ وہ اپنے ووٹروں اور عوام سے لاپروائی کا ایک لمحہ بھی گزار دے۔ ہمارے ہاں ہمارے حکمران گھر سے باہر نکلیں تو ان کی حفاظت کے لیے راستے بند ہو جاتے ہیں۔

    خلق خدا کو غائب کر دیا جاتا ہے اور جب سرکاری سواری خیریت سے گزر جاتی ہے تو گھروں اور راستوں کے بند کھلتے ہیں اور لوگوں کو باہر نکلنا اور کاروبار میں جانا نصیب ہوتا ہے لیکن اسی زمانے میں ناروے کے وزیر اعظم نے اسمبلی سے گزارش کی کہ مجھے میری گاڑی کو اس راستے سے گزرنے کی اجازت دی جائے جو اسکولوں کے لیے محفوظ ہے تا کہ میں وقت پر آپ کے پاس پہنچ کر کاروبار مملکت میں آپ کا ہاتھ بٹا سکوں۔

    اس پر غور ہوا اور طے یہ پایا کہ وزیر اعظم کو دفتر پہنچنے میں جتنی دیگر لگتی ہے وہ اتنے وقت پہلے گھر سے روانہ ہوا کریں تا کہ وہ بروقت پہنچ سکیں۔ وزیر اعظم نے سر جھکا کر بات تسلیم کر لی۔ وزیر اعظم ہر ہفتہ اسلام آباد سے سے لاہور جاتے ہیں اور ہر ہفتہ خبر چھپتی ہے کہ وزیر اعظم کو سخت ترین سکیورٹی میں بحفاظت جاتی امرا پہنچا دیا گیا۔
    اس سکیورٹی پر کتنا وقت اور کتنا خرچ اٹھتا ہے یہ کوئی یکم رمضان المبارک کو لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنے والوں سے پوچھے۔ حکمرانوں سے تو جب کبھی پوچھا جائے گا ہمیں کیا معلوم ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ہمارے خرچ پر ہمارے خون پسینے کی کمائی پر ہمارے اوپر حکومت کرنے والوں سے یہاں کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ خبر چھپتی ہے کہ ہمارا کوئی حکمران سرکاری تام جھام کے بغیر بازار میں دیکھا گیا ہے بلا خوف و خطر گھومتا پھرتا اور اپنی شجاعت اور بے خوفی کی داد دیتا ہوا۔ بازار والے اپنے حکمران کو اس بے خوفی کی حالت میں دیکھ کر تالیاں بجاتے ہیں اور بھارت کے نریندر مودی کو سبق سکھانے کا اعلان کرتے ہیں۔

    ہمارے حکمرانوں کے یہی بے خوف و خطر اعزاز ہیں کہ سال بھر کا مبارک ترین مہینہ جب شروع ہوتا ہے تو اس پہلے روزے کی سحری اور افطاری اندھیرے میں آتی اور چلی جاتی ہے جب کہ وزیر اعظم تک نے یہ اعلان کیا ہوتا ہے کہ ان اوقات میں بجلی نہیں جائے گی۔ یہ اعلان یوں درست تھا کہ وزیر اعظم کے ہاں نہ سحری کے وقت بجلی گئی نہ افطاری کے وقت۔ اگر گئی تو وہاں گئی جہاں اسے کوئی عوام دکھائی دیا۔ بجلی نے ادھر کوئی نامحرم عوام دیکھا وہ فوراً پردے میں چلی گئی۔

    ہمیں کیا لیکن بہرحال ایک عوام حکمرانوں سے عرض کرتا ہے کہ سرکار عوام کو لعنت بھیجیں اس سے ڈریں جس نے رمضان المبارک اور اس کے پہلے روزے کی برکات بیان کی ہیں اور جس کا اعتراف آپ نے بھی کیا ہے اور آپ چونکہ حکمران ہیں اس لیے آپ کی بات بالکل دوسری ہوتی ہے۔ عوام کی بات سے مختلف، بجلی کے چور اور کرپشن کرنے والے آپ کے سامنے پھرتے ہیں اور سابق وزیر اعلیٰ کا پروٹوکول بھی لیتے ہیں لیکن آپ کی سیاست آپ کے ہاتھ باندھ دیتی ہے اور یہ عذاب عوام کو منتقل ہو جاتا ہے۔

    اس وقت میرے ذہن میں مسلمان حکمرانوں کے کئی واقعات کی یاد تازہ ہو رہی ہے لیکن میں ان واقعات کو بیان کر کے خود بھی شرمندہ نہیں ہونا چاہتا اور نہ اپنے ماضی کے حکمرانوں کو شرمندہ کرنا چاہتا ہوں کیونکہ انھوں نے حکمرانی کی سختیاں اور آزمائشیں جھیل کر آنے والی نسلوں کے لیے مثالیں قائم کی ہیں۔ اس امید کے ساتھ کے آنے وال حکمران اپنی رعایا کو ایسا ہی سکھ دیں گے جیسا وہ آج اپنے عوام کو دے رہے ہیں اور خود ہر دکھ جھیل رہے ہیں۔

    ہمارے ان دنوں کے حکمرانوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نماز روزہ کے پابند ہیں۔ نماز روزے کے پابند تو ان کے عملے کے کئی اور لوگ بھی ہوں گے۔ مگر ان کی نیکی ان کی ذات تک جب کہ حکمرانوں کی نیکی لاکھوں کروڑوں عوام تک۔ ایک نیک نام افسر آ جائے تو محکمے کی بدعنوانی ختم ہو جاتی ہے یا کم پڑ جاتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارے اعلیٰ ترین حکمران اس قدر بے فیض ہیں کہ ان کی حکمرانی کو ان کے ماتحت بھی محسوس نہیں کرتے نہ کسی کو ان کی آمد کا پتہ چلتا ہے۔

    نہ کسی کو ان کے جانے کا۔ صرف وہ چند لوگ سامنے آتے ہیں جو ان کے دور میں ہاتھ گرم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور آپ کی طرح میں بھی حیرت زدہ ہوں کہ سندھ میں رشوت کے کئی کیس سامنے آ رہے ہیں جن میں رشوت کا سرمایہ لاکھوں کروڑوں میں نہیں اربوں میں ہے اور ایسی مثالیں بھی ہیں کہ مختلف شعبوں میں سے کرپشن کا ایک معقول حصہ ہر ماہ پیش کیا جاتا تھا۔ داد دیجیے ان سیاستدان حکمرانوں کی جو اربوں کھا گئے اور اب ہر کسی کو للکار رہے ہیں۔

    شاید اس لیے کہ انھیں معلوم ہے کہ وہ جن کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں وہ بھی کبھی ان کے ہمنوا تھے اور شاید اب بھی ہوں۔ میں نے ایک دو دن پہلے سولیوں کے گاڑنے کی بات کی تھی جب تک چوراہوں پر سولیاں نہیں گڑیں گی اور برے لوگ ان پر لٹکتے دکھائی نہیں دیں گے تب تک ہماری حالت یہی رہے گی کہ یکم رمضان المبارک کو بھی لوڈشیڈنگ۔ پہلے برے اور غلط لوگوں کی لوڈشیڈنگ ضروری ہے۔ پھر شاید اس کی ضرورت ہی نہ رہے۔

    عبدالقادر حسن


    0 0





    0 0

    پاکستان نے سری لنکا سے گال ٹیسٹ جیت کر بہت عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے مصباح نے ٹاس جیت کر ایک بارش زدہ وکٹ پر سری لنکا کو پہلے کھیلنے کی دعوت دیکر جیت کی بنیاد رکھ دی تھی اس ٹیسٹ میں پہلے دن کا کھیل ہی نہ ممکن ہو سکا اور ٹیسٹ کے دوران بارش کی وجہ سے کھیل رکا رہا اس لئے بھی پاکستانی ٹیم کی جیت کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے سری لنکا 300 رنز پر آؤٹ ہو گیا مگر پاکستان 118 رنز پر 5 اہم وکٹ کھو کر سرفراز اور اسد شفیق کی عمدہ اننگز کی بدولت لیڈ لینے میں کامیاب ہو گیا اور بہت مدت کے بعد پاکستان کے آخری کھلاڑیوں نے سو رنز سے اوپر سکور فراہم کیا اور ذوالفقار بابر کی نصف سنچری کو مدتوں یاد کیا جائے گا۔ 
    یاسر شاہ نے سعید اجمل کی کمی پوری کر دی میرے نزدیک لیگ سپنروں میں عبدالقادر کے بعد یاسر شاہ ایک عمدہ باؤلر بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اپنی لیگ سپن کا لوہا منوا لیا ہے۔ پاکستانی کرکٹ کے لئے ایک بری خبر ہے کہ محمد حفیظ کا باؤلنگ ایکشن ایک مرتبہ پھر رپورٹ ہو گیا جس کا مطلب ہے کہ اگر حفیظ پر اب پابندی لگی تو وہ عمر بھر کے لئے باؤلنگ نہ کروا سکیں گے۔

     پاکستان کی سری لنکا کے خلاف عمدہ جیت پر پوری قوم پاکستانی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کیونکہ سری لنکا کو سری لنکا کے اندر شکست دینا آسان کام نہ تھا ویسے جب چوتھے دن سنگا کارہ آؤٹ ہو گیا تو پاکستان کی جیت کے 75 فیصد چانسز بن گئے تھے گو سری لنکا نے گال کی وکٹ سلو بنائی تھی مگر بارش اور نمی کی وجہ سے وکٹ نے ضرورت سے زیادہ سپن لی جو پاکستان کی جیت کا سبب بنا۔ پاکستان کے پاس سنہری موقع ہے سری لنکا سے ٹیسٹ سیریز جیتنے کا اور یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

    محمد صدیق


older | 1 | .... | 47 | 48 | (Page 49) | 50 | 51 | .... | 149 | newer