Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 32 | 33 | (Page 34) | 35 | 36 | .... | 149 | newer

    0 0


    آج کل پاکستان اور دنیا (بشمول مسلم دنیا)کے سارے ذرائع ابلاغ خصوصاً مغربی کارپوریٹ میڈیا ملالہ کی تعریفوں اور اسلامیان کی جہالت اور طالبان کی درندگی کے بارے میں ایک طوفان اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ گوروں کی جدید سامراجی پالیسیوں کا ایک جزو ہے تاکہ باور کرایا جاسکے کہ ایشیائی اور افریقی اقوام کتنی جاہل اور درندہ صفت ہیں اور ان کو عقل و شعور اور تہذیب و تمدن سکھانے کے لیے گورے آقائوں کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ نوبل انعام کمیٹی کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کن مسکینوں، جاہلوں، قدامت پرستوں اور ناشکروں کو یہ انعام پکڑا دیا کہ جو ایک اچھی بات کو محسوس تک نہیں کرسکتے۔

    تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ایک کم عمر پاکستانی لڑکی کو نوبل انعام ملنے کی مغربی دنیا اور پاکستانی ذرائع ابلاغ میں تشہیر میں یہ فرق ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ واہ واہ کے طوفان کے ساتھ پاکستانی معاشرے کی بھرپور مذمت اور تحقیر لیے ہوئے ہیں۔

    اس تحقیر کی وجہ پاکستان کا یہ ’’جرم‘‘ ہے کہ اِس کے عوام نے اس اعزاز کو پانے کے بعد جشن منانے کے لیے گلیوں میں کوئی رقص نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ذرائع ابلاغ کے دوش بدوش خوشی سے دیوانے ہوئے۔ پاکستانی عوام کی ’’بدتہذیبی‘‘ کی حد تو اُن کی یہ جسارت ہے کہ وہ ایوارڈ دینے والوں سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ ملالہ نے ایسا کیا کام کردیا جو اس کو یہ انعام دیا گیا ہے؟ اور صرف یہی نہیں بلکہ الٹا یہ سوال بھی کررہے ہیں کہ اس انعام کے پیچھے آپ (مغربی سامراج) کے کیا مقاصد اورکیا سازشیں کارفرما ہیں؟ اِن پاکستانی ’’بدتہذیب‘‘ عوام نے اُن تمام بے ہودہ الزامات کو رد کردیا جو وہ اس انعام یافتہ نوجوان لڑکی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین ِ اسلام اور اُس کے شعائر کے خلاف لگوا رہے تھے۔

    واشنگٹن پوسٹ کی ایک جلی شہ سرخی کہہ رہی ہے: ’’نوبل انعام جیتنے والی ملالہ پاکستان میں تنہا تنہا رہنے والے اجنبی لوگوں کے حلقے کی ایک رکن بن گئی‘‘۔

    کم و بیش 75 سال کی شب و روز کی محنت سے جدید ذرائع ابلاغ مسلم دنیا میں اسلام اور سنتِ محمدیہؐ سے ملنے والے شعائر کے خلاف جس زہرافشانی اور برین واشنگ کا اہتمام کررہے ہیں اور اس کے نتیجے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو انہوں نے اب تک کتنا خراب کرلیا ہے؟ اس سوال کا جواب واشنگٹن پوسٹ کی اس ایک سرخی میں پوشیدہ ہے! ایک بے چاری کو خراب کیا ہے لیکن نہ معلوم وہ بھی کب غلام احمد پرویز یا غلام جیلانی برق اور اس قبیل کے بہت سارے لوگوں کی طرح واپس اپنے دائرے میں آجائے۔

    اس دور میں سب روٹی کھاتے ہیں جیسے پہلے کھاتے تھے، کوئی گھاس نہیں کھاتا… غیروں کو بے وقوف بنانا مشکل ہوتا ہے تو اپنوں کو بھی بنانا آسان نہیں ہوتا! تھوڑے لوگوں کو کچھ دیر اور بہت لوگوں کو تھوڑے وقت بے وقوف بنایا جاسکتا ہے، مگر سارے انسانوں کو ہمیشہ کے لیے اُلّو نہیں بنایا جاسکتا! سادہ سا ایک سوال ہے جس کا جواب دنیا کا ہر انسان جانتا ہے مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی… وہ سوال یہ ہے کہ ملالہ نے انعام کسی مقابلے میں جیتا ہے یا اُس کو شعوری طور پر مقاصد کے تحت نوازا گیا ہے؟ اس کا جواب تو ملالہ اور اُس کے دوربیں چالاک و عیار ابّاجان کو بھی معلوم ہے۔

    آپ ایک مقابلے کی میراتھن دوڑ میں مطلوبہ منزل تک سب سے پہلے پہنچ کر جیتتے ہیں، ہزاروں لاکھوں لوگ آپ کو براہِ راست اور ٹی وی اسکرین پر جیتتے ہوئے دیکھتے ہیں، کوئی آپ پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ آپ نے ججوں کو رشوت دی ہے، یا غذائی اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے ججوں سے سازباز کرکے کچھ مطلوبہ غذائی فارمولے (diet products) جو آپ استعمال کرتے ہیں اُن کی تشہیر کے لیے آپ کو جتا دیا ہے! اگر کوئی ایسا کہے گا تو دنیا اُسے پاگل کہے گی۔ آج کیوں سب کو یہ یقین ہے کہ نوبل پرائز ملالہ پر نوازش ہے انعام نہیں؟ نوازش بھی کیا، ایک سیاسی فیصلہ ہے ایسے بددیانت ججوں کے ہاتھوں جو ایک سیاسی حکمتِ عملی کے تحت کام کرتے ہیں اور جس کی اُنہیں مزدوری ملتی ہے، اور وہ حکمت عملی صرف یہ ہے کہ مغربی سامراج ایشیا اور افریقہ پر غالب رہے، کہیں مسلم دنیا جاگ کر غاصبوں سے دنیا کی زمامِ کار نہ چھین لے!

    ایوارڈ کے اعلان کے موقع پر نوبل کمیٹی کا اعلامیہ سیاسی عزائم سے اتنا لت پت ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا بھی جان لے کہ یہ انعام امن کی جدوجہد میں کسی کارنامے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کچھ سیاسی توقعات پر عنایت کیا جارہا ہے۔ اعلامیہ ملاحظہ فرمائیں:

    ’’نوبل کمیٹی محسوس کرتی ہے کہ ایک ہندو اور ایک مسلمان، ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی کے لیے یہ مشترکہ انعام تعلیم کے فروغ اور انتہا پسندی کی بیخ کنی کی جدوجہد کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔‘‘

    صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی آپ کے سیاسی مقاصد سے متفق نہ ہو تو وہ اِن مقاصد کے حصول کے لیے کیے جانے والے فیصلوں کی حمایت کیوں کرے گا؟ وہ اس انعام کے ملنے پر کیوں خوش ہوگا؟ جس طرح میراتھن ریس (دوڑ) میں جیتنے والے کو سب مل کر سراہتے ہیں، اس طرح اس نوازشِ بے جا کو پاکستان میں نہیں سراہا جاسکتا۔ آخر مغربی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں کو بیان کردہ یہ معمولی سی حقیقت کیوں سمجھ میں نہیں آتی؟ وہ کیوں پاکستانیوں سے اس نوبل پرائز کے ملنے پر خوشیاں نہ منانے پر ناراض ہیں؟ پاکستان میں نوبل پرائز اس سے پہلے بھی کسی کو ملا؟ سارے پاکستانی اہلِ علم طبعی علوم میں اُس عبقری اور ماہرانہ کام کے معترف ہیں، سارے عوام فزکس کے اتنے ماہر نہیں کہ اُس اعلیٰ علمی کام کا معمولی سا بھی ادراک کرسکیں۔ پاکستان کا پورا نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ہے، اور اس ملک کے عوام کی واضح ترین اکثریت کو جمہوریت سے زیادہ پاکستان، اور پاکستان سے زیادہ اسلام عزیز ہے۔ یہ بات پاکستان میں دھڑکنے والے ہر دل پر نقش ہے، اس کا کیا کریں؟ یہ زندہ حقیقت اسلام کا مذاق اڑانے والی ملالہ کو اُس کی اس کار کردگی پر نوبل پرائز ملنے سے پاکستانیوں کو افسردہ کرتی ہے۔

    ہماری قوم میں سے جن بے وقوفوں نے ملالہ کے اس ایوارڈ پر خوشی محسوس کی وہ مغربی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر خود اعتمادی کھو چکے ہیں۔ وہ تو بھکاریوں کی مانند ہر چیز پر جھپٹ سکتے ہیں اور اس طرز عمل کے لیے معذور ہیں۔ انہوں نے احساسِ کمتری کا بدترین مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اس جھوٹ کا اقرار کررہے ہیں جس کے خود انکاری ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انعام کسی مقابلے میں شامل ہوکر محنت سے جیتنے کی بنا پر ملا ہے، یا وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اچھی چیز پرکسی بدنیتی کا شبہ کرنا بری بات ہے۔ ہم اِن جنت الحمقاء کے باسیوں کے تینوں اشکالات (Confusions) کا تجزیہ کرتے ہیں۔
    یہ حضرات بھی انکاری ہیں کہ ملالہ کی کتاب خود اُس کی لکھی ہوئی ہے! ہر ذی عقل جانتا ہے کہ اُس کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی لغویات کو پاکستان میں کوئی بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہے، کوئی اس کا دفاع کرنے پر آمادہ نہیں ہے، پاکستانی عوام نے اس کتاب کو خریدنے کے لیے کتابوں کی دکانوں پر دھکم پیل تو کجا، پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ یہ کسی اور کے ہاتھ سے لکھا گیا غیروں کا ایجنڈا ہے۔ پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ اس پر ملنے والے نوبل انعام پر پاکستانی خوشیاں منائیں۔ کیا ہماری عقلوں کا جنازہ نکل گیا ہے!

    یہ خیال کہ ایک مسلمان لڑکی کو یہ ایوارڈ اس کی خوبیوں کی بنا پر ہی دیا جاسکتا ہے، کیسی بچکانہ اور دور از فہم بات ہے۔
    اُن کی دلیل کہ ہر اچھی چیز کسی اچھی نیت کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوتی ہے، انتہائی احمقانہ ہے۔ ہمارے دشمن دنیا میں تمام جال… خواہ وہ نظریاتی ہوں، سیاسی یا معاشی… ہمیں پھانسنے کے لیے بدنیتی ہی سے لگاتے ہیں، ہماری کسی خیر خواہی میں وہ کچھ نہیں کرتے۔

    تعلیم تو ایک عمدہ اور اعلیٰ چیز ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ کس چیز کی تعلیم؟ ملالہ کا معاملہ بالکل صاف ہے۔ اُس کے نام سے جوکچھ چَھپا ہے اُس کے مطابق وہ ایمانیات کے معاملے میں کسی تعلیم کو جائز نہیں سمجھتی، اُس کو اسلامیات بالکل پسند نہیں ہے، تعلیم کے لیے اُسے دینی مدارس پر سخت اعتراض ہے، وہ اُن بے گناہ لڑکیوں سے نفرت کرتی ہے جو لال مسجد سے ملحق لڑکیوں کے اسکول میں فاسفورس بموں کا نشانہ بنیں، گویا وہ اسی قابل تھیں! یہ ہے تعلیم کا وہ ایجنڈا جس کے پرچار پر تعلیم کے لیے اسے نوبل انعام دیا گیا ہے۔

    تعلیم سے ہٹ کر ملالہ کے اُن تمام ایشوز پر بیانات ہیں جن سے آج پاکستان دوچار ہے، یا جن میں مغرب پاکستان اور امتِ مسلمہ کو ملوث کرنا چاہتا ہے۔ مثلاً توہینِ رسالت کا قانون، سلمان رشدی کے خلاف مظاہرے، تعزیری ضابطوں کی اسلامائزیشن (شرعی بنانے کا عمل)، حدود آرڈی ننس وغیرہ وغیرہ… اور ان تمام معاملات میں اُس کے منہ سے بس طوطے کی طرح وہی کچھ نکلتا ہے جو اس کے اتالیقوں نے سکھایا ہے۔ ہرذی عقل یہ بات جانتا ہے کہ سوات کے اسکول سے یہاں پہنچانے تک اور نوبل انعام دلانے تک کے سارے ڈرامے کا کل خاکہ (Script) بہت عیار اور چالاک لوگوں نے لکھا اور نوبل کمیٹی کے ایوارڈ دہندگان کی ان خاکہ نویسوں سے کامل ہم آہنگی تھی۔

    اس سارے واضح معاملے کے باوجود اگر مغربی پریس اور اُس کے دانش ور حیرانی اور پریشانی سے سراپا سوال بن جاتے ہیں کہ آخر اتنی بڑی کامیابی پرپاکستانی لوگ خوش کیوں نہیں ہوتے؟ تو انہیں اپنی عقلوں پر ماتم کے ساتھ ساتھ اپنی حیرانی اور پریشانی سے تھوڑا سا باہرنکلنا چاہیے، کہ ہمارے پاکستان اور باقی مسلم دنیا میں بھی اور ہمارے ہم مذہب (جنہیں مسلم کہتے ہوئے شرم آتی ہے) سیکولرپنڈت اور اُن کے ہم خیال بوجھ بجھکڑ بھی بستے ہیں۔
    دیوانگی کے ساتھ نوبل انعام پر مرے جانا بجائے خود مغرب سے مرعوبیت کا مظہر اور غلامانہ ذہنیت کی باقیات میں سے ہے۔ کیا کسی ذی ہوش کی عقل میں آنے والی بات ہے کہ تعلیم کی عَلم بردار تو ملالہ ہے اور طالبان علم کے دشمن ہیں! کیا انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ سب بکواس مغرب کی پروپیگنڈا مشینوں کی پیداوار ہے! ملالہ تعلیم کی کون سی چیمپئن یا ہیرو ہے! پاکستان میں لاکھوں لوگ ساری زندگی غریبوں اور امیروں کو تعلیم دیتے دیتے قناعت کے ساتھ روکھی سوکھی کھا کر اپنی قبروں میں پہنچ گئے، کسی نے اُن کو پوچھا تک نہیں۔ ملالہ نے کتنے اسکول بنائے؟ کتنے بچے پڑھائے؟ پاکستان کی کتنی یونی ورسٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دینا سکھائی؟ فلسفہ تعلیم پر وہ کون سی تھیوری پیش کی جس نے اس ملک کی قسمت بدل دی؟ اُس نادان نے تو بس ایک کام کیا کہ اپنے آپ کو ملک و ملت کے دشمنوں کے حوالے کردیا کہ وہ جو کچھ سکھاتے پڑھاتے جائیں وہی وہ اپنے حلق سے اگلتی جائے۔ نوبل پرائز دراصل اس بات کا سرٹیفکیٹ ہے کہ وہ حصولِ تربیت میں صاحبِ کمال نکلی۔

    اُس بے ہودہ کتاب کو جس پر اس کا نام بطور مصنف لکھ دیا گیا ہے، پڑھنے کے بعد جو نرم ترین بات کہی جا سکتی ہے وہ صرف اتنی ہے کہ وہ بچی ہے اور بچے معصوم ہوتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اُسے ہماری تہذیب کی دشمن طاقتوں نے استعمال کیا۔ ہمارا یہ ادعا ہمیں اُس کے لیے دعائیں کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ وہ اغوا کنندگان دہشت گردوں کے چنگل سے نکل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں واپس آجائے!

    ملت کی بیٹیاں تو پہلے بھی بہت اغوائے شیطانی کا شکار ہوئیں مگر یہ ایک ایسی بیٹی ہے جسے اُس کے برضا و رغبت اغوا ہونے پر نوبل پرائز ملا ہے۔ آئیے اُمت کی اِس بیٹی کے اغوا کا ماتم کریں… اور ماتم کریں اُس جشن کا بھی جو ہمارے بعض حلقوں میں اس اغوا پر ہورہا ہے!!! (ماتم بہ معنی اظہارِ افسوس ہے، سینہ کوبی مراد نہیں)

    تسنیم احمد


    0 0


    پاکستان اور انڈیا کے درمیان بارڈر پر حالیہ جھڑپوں نے کئی سویلینز کی جانیں لی ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ ویسے تو معمول ہے، اور اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ لیکن لائن آف کنٹرول کی اہمیت کیا ہے، کیا یہ ایک ڈی فیکٹو بارڈر ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا یا جس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی؟ پاکستان کے لیے اس کی کیا سیاسی اور قانونی اہمیت ہے؟

    1949 کے کراچی ایگریمنٹ کے تحت لائن آف کنٹرول کو ایک سیزفائر لائن کی صورت میں قائم کیا گیا۔ اس کی حد گلیشیئرز کے شمالی طرف "خور"تک تھی۔ انڈیا نے 1984 میں یک طرفہ طور پر سیاچن گلیشئر پر قبضہ کر کے لائن آف کنٹرول کو طاقت کے ذریعے NJ9842 سے آگے پاکستان کی جانب دھکیلنے کی کوشش کی، جو کہ کراچی ایگریمنٹ اور 1972 کے شملہ معاہدے کی خلاف ورزی تھی۔

    دنیا کے زیادہ تر آفیشل میپس میں پاکستان کی پوزیشن گلیشئر کے شمالی جانب ہے، اور لائن آف کنٹرول شمال مغربی جانب سے قراقرم پاس کی تک پھیلی ہوئی ہے۔

    کراچی ایگریمنٹ کے تحت سیزفائر لائن کی مانیٹرنگ، اور کسی بھی خلاف ورزی کی رپورٹ کرنا اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرورز کا کام تھا، اور 1951 میں یہ کام پاکستان اور انڈیا میں اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ (UNOMGIP) کو سونپ دیا گیا۔ شملہ معاہدے کے تحت سیزفائر لائن کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنی پچھلی پوزیشن میں بحال کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول میں تبدیل کردیا گیا۔
    شملہ معاہدہ دونوں ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کا احترام کریں، اور اس لائن کی خلاف ورزی کرنے سے پرہیز کریں۔ اس کے علاوہ یہ یک طرفہ طور پر لائن آف کنٹرول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر بھی پابندی عائد کرتا ہے۔ معاہدے کے بعد انڈیا نے موقف اختیار کیا کہ UNMOGIP کا مینڈیٹ ختم ہوچکا ہے، کیونکہ کراچی معاہدہ بھی اب ختم ہوچکا ہے، پر اس دعوے کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مسترد کردیا۔

    عالمی قانون کے تحت کراچی اور شملہ معاہدے کو ایک سات پڑھا جانا چاہیے۔ اس ایک مسئلے پر دو معاہدوں کی تشریح اسی طرح کی جاتی ہے، جب تک کہ دونوں معاہدوں کے درمیان ایک اختلافی نکتہ موجود نہ ہو۔ پاکستان UNMOGIP کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں رپورٹ کرتا رہتا ہے، لیکن انڈیا نے 1972 سے ایسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کچھ ماہ پہلے انڈیا نے UNMOGIP کو اس کا دہلی آفس خالی کرنے کے لیے کہا، کیونکہ انڈیا کے مطابق اس کی اہمیت باقی نہیں رہی تھی۔ UNMOGIP نے کسی دوسری جگہ آفس قائم کرنے پر حامی بھری، لیکن اپنے مینڈیٹ کے تحت اپنا کام جاری رکھنے پر زور دیا۔

    عالمی قانون کے تحت ایک بامقصد اور پروفیشنلی تیار کیا گیا نقشہ کسی بھی باؤنڈری لائن کا ایک مضبوط ثبوت ہوتا ہے۔ اب اس بات کو تسلیم کرلیا گیا ہے کہ نقشہ کسی بھی ریاست کے ارادوں اور کسی بھی بارڈر کے تسلیم کرنے پر اس کی آمادگی کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس کے بعد اگر کسی علاقے پر قبضہ کر لیا جائے، تو نقشے اس تنازعے کے حل میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، ورنہ انہیں کسی بھی قانونی معاہدے وغیرہ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ عالمی ٹریبونلز نقشوں، سرویز، اور اسی طرح کے دوسرے مٹیریل کو اہم ثبوت کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ یہ بات 2002 میں اریٹریا-ایتھوپیا باؤنڈری کمیشن، جو کہ ایک مستقل ثالثی عدالت کے تحت کام کررہا تھا، کے فیصلے سے بھی واضح ہے۔

    آج انڈیا کے سرکاری نقشوں میں جموں و کشمیر کو انڈیا کا مستقل حصہ دکھایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے سرکاری نقشوں، خاص طور پر سروے آف پاکستان کی جانب سے تیار کیے گئے نقشے میں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ دکھایا جاتا ہے۔

    لیکن تاریخی طور پر پاکستان لائن آف کنٹرول کو سرکاری نقشوں میں دکھانے میں ہچکچاتا رہا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ایسے اقدام سے اس عارضی باؤنڈری کو مستقل سرحد تسلیم کرلیا جائے گا، جس سے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ لائن آف کنٹرول کو نقشے کا حصہ بنانے کا مطلب اس کے مغربی جانب واقع تمام علاقے کو انڈیا کی ملکیت تسلیم کر لینا ہوگا۔
    لیکن پاکستان کو اب لائن آف کنٹرول کو سرکاری نقشوں میں واضح کرنا چاہیے، کیونکہ اگر مستقبل میں انڈیا پاکستان کے زیرِ اثر جموں و کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوئی کوشش کرے، تو عالمی قانون کے تحت اسے اپنی اس کوشش کا جواز پیدا کرنے میں مشکل ہوگی۔

    لائن آف کنٹرول کو سرکاری نقشوں پر دکھانا ایک سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے، لیکن پاکستان کو اپنی قانونی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایسا ضرور کرنا چاہیے۔ لائن آف کنٹرول کو قراقرم پاس تک واضح طور پر نظر آنا چاہیے، تاکہ پورا سیاچن گلیشیئر اس کے مغربی جانب دکھائی دے۔

    اس کے علاوہ نقشوں پر واضح الفاظ میں یہ بتا دیا جائے، کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے مابین کراچی ایگریمینٹ، جس کو شملہ معاہدے کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، کہ تحت ایک عارضی سیزفائر لائن ہے؛ یہ کہ اسے سیکیورٹی کونسل کی قرارداد 91 (1951) کے تحت UNMOGIP مانیٹر کرتا ہے، اور یہ ایک ڈی فیکٹو بارڈر ہے، جب تک کہ مسئلہ کشمیر کا حل حقِ خودارادیت کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے تحت نہیں نکل آتا۔

    سکندر احمد شاہ

    Line of Control

    0 0
  • 10/24/14--09:02: گھوڑا گلی.....




  • گلیات کا ایک اور خوبصورت پہاڑی مقام جو سطح سمندر سے 1691 میٹر بلند تھا اور یہ تحصیل مری کی ایک یونین کونسل ہے، گھوڑا گلی کی انفرادیت یہاں کی گیارہ سو فٹ لمبی چیئرلفٹ تھی جو گھوڑا گلی سے پنڈی پوائنٹ تک جاتی ہے، جبکہ یہاں کا لارنس کالج بورڈنگ کے لحاظ سے پاکستان بھر میں مقبول ہے جبکہ یہاں کا کیڈٹ کالج بھی کافی شہرت رکھتا ہے۔


    0 0
  • 10/24/14--09:21: نتھیا گلی.....
  • نتھیا گلی گلیات کا سب سے معروف پر فضا سیاحتی مقام ہے جو ضلع ایبٹ آباد میں مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی سڑک پر 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔ یہاں گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے اور اس موسم میں یہ سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا نظر آتا ہے، جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں یہاں شدید سردی جبکہ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس کی حدود میں داخل ہوں تو ایک بڑے پتھر پر پیراڈائز آف پاکستان لکھا نظر آتا ہے اور اس دعوے کو وہاں گھوم کر آنے والے یقیناً درست تسلیم کرلیں گے، کوہ مکشپوری اور کوہ میرانجانی قریب ہی واقع ہیں۔


    0 0
  • 10/24/14--09:24: ٹھنڈیانی....
  • گلیات کا یہ خوبصورت مقام جس کے نام سے ہی ظاہر ہوجاتا ہے کہ کافی ٹھنڈا ہے اور اس کی وجہ اس کا سطح سمندر سے نو ہزارفٹ بلند ہونا ہے، اس کے مشرق میں دریائے کنہار اور کشمیر کا پیر پنجال سلسلہ کوہ واقع ہے۔ شمال اور شمال مشرق میں کوہستان اور کاغان کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ شمال مغرب میں سوات اور چترال کے برف پوش پہاڑ ہیں۔
    اس بلند مقام سے ارد گرد کی بلندیوں اور ڈھلوانوں پر سیاہی مائل سبز جنگلات عجب منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جنگل اس قدر گھنے ہیں کہ اکثر جگہ تو سورج کی روشنی بھی زمین تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس وجہ سے درختوں کے نیچے اور سایہ دار جگہوں پر گرمیوں کے موسم میں بھی سفید برف جمی رہتی ہے اور گھنے درختوں کے بیچ میں دور سے چمکتی نظر آتی ہے۔


    0 0
  • 10/24/14--10:31: ڈونگا گلی......
  • گلیات کا یہ خوبصورت سیاحتی مقام 8200 فٹ بلندی پر ہے اور ایوبیہ نیشنل پارک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہاں سے نتھیا گلی تین کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ڈونگا گلی میں ماکش پوری ہائیکنگ ٹریک ہے جس کی چوٹی پر پہنچ کر آس پاس دیکھا جائے تو سرسبز پہاڑوں کا نظارہ کسی کے بھی ہوش گم کرسکتا ہے، وہاں موجود چشمے کا شفاف میٹھا پانی بھی ایسا صحت بخش ہے کہ اسے پینے سے بھوک مٹنے کا احساس ہوتا ہے۔


    0 0

    ایوبیہ نیشنل پارک مری سے 26 کلومیٹر دور واقع ہے سابق صدر ایوب خان کے نام پر اس علاقے کا نام ایوبیہ رکھا گیا۔ چار مختلف پہاڑی مقامات گھوڑا گلی، چھانگلہ گلی، خیرہ گلی اور خانسپور کو ملا کر ایوبیہ نیشنل پارک بنایا گیا۔ پکنک مقامات، سیرگاہوں اور سرسبز علاقوں کہ علاوہ یہاں ایک چیئر لفٹ بھی سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ پاکستان میں یہ اپنی طرز کی پہلی تفریحی سرگرمی تھی، یہ چیر لفٹ علاقے کی سیاحت کا ایک بہتر ذریعہ ہے۔
    پارک میں کئی اقسام کے پرندے جیسا کہ سنہری عقاب، جنگلی کبوتر، گدھ وغیرہ پائے جاتے ہیں جبکہ جانوروں میں کالا ریچھ، جنگلی لومڑی اور لگڑبگھڑ پائے جاتے ہیں۔


    0 0

    ملکہ کوہسار مری پاکستان کا مشہور ترین سیاحتی مقام قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو کہ اسلام آباد سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔اسلام آباد سے آئے یا ایبٹ آباد کی جانب سے مری کا سفر سر سبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور رقص کرتے بادلوں کے حسین نظاروں سے بھرپور ہے، گرمیوں میں سر سبز اور سردیوں میں سفید رہنے والے مری کے پہاڑ سیاحوں کے لیے بہت کشش کاباعث ہیں۔
    مری سطح سمندر سے 2300 میٹر بلندی پر واقع ہے، مری کی بنیاد 1851 میں رکھی گئی تھی اور یہ برطانوی حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔ یہاں سے آپ موسمِ گرما میں کشمیر کی برف پوش پہاڑیوں کا نظارہ کر سکتے ہیں جبکہ بارشوں کے دنوں میں بادلوں کے کھیل تماشے اور سورج کے غروب ہونے کا منظر تو روز ہی نظر آتا ہے۔ اس تفریح گاہ کے کچھ حصے خصوصاً کشمیر پوائنٹ جنگلات سے بھرپور اور انتہائی خوبصورت ہیں۔


    0 0
  • 10/24/14--10:44: بھوربن....
  • بھوربن صوبہ پنجاب کا ایک چھوٹا شہر اور گلیات کا ایک پہاڑی مستقر ہے، اس جگہ کا نام ایک قریبی جنگل کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ مری سے تقریبا 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اپنے منفرد سرسبز پہاڑیوں کی بناء پر یہ سیاحوں کی جنت تصور کیا جاتا ہے جبکہ قریب ہی ایوبیہ نیشنل پارک ہونے کی بناء پر ہائیکنگ کے شائقین کے لیے بھی یہ کسی نعمت سے کم نہیں، بھوربن ہل اپارٹمنٹ یہاں کا خوبصورت ریزورٹ ہے جہاں جانے والے لوگوں کا واپس آنے کا دل ہی نہیں کرتا۔


    0 0

    A polio vaccine is administered to a boy while a colleague takes notes nearby, along a street in a slum in Karachi, Pakistan.

    0 0


     کوشش کریں کہ زندگی میں خواہشیں کم سے کم ہوں ***** ایک شخص نے دیکھا کہ ایک بہت بڑے ہاتھی کو معمولی سی رسی کے ساتھ باندھے ہوئے اس کا مہاوت لیے جا رہا ہے۔ وہ شخص بہت پریشان ہوا کہ اتنا بڑا ہاتھی اور ایک معمولی سی رسی ہاتھی کو کنٹرول کیسے کیے ہوئے ہے جب کہ یہ اتنا زور آور جانور ہے کہ مضبوط سے مضبوط زنجیریں تک توڑ ڈالتا ہے۔ اس سے رہا نہ گیا اور اس نے مہاوت سے پوچھا کہ اتنا بڑا ہاتھی ایک معمولی سی رسی کے ساتھ آپ نے کیسے قابو کیا ہوا ہے؟ مہاوت نے جواب دیا کہ جب ہاتھی چھوٹا ہوتا ہے بلکہ پیدا ہونے کے بعد ہی ہم اس کے پائوں میں رسی ڈال دیتے ہیں۔ تب یہ اس رسی سے نجات پانے کی بہت کوشش کرتا ہے ،مگر اس وقت رسی اس کی طاقت سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے، لیکن جوں جوں یہ بڑا ہوتا جاتا ہے، تو رسی کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتا ہے۔ 

    یوں اس کا ذہن بن جاتا ہے کہ میں اس رسی کو توڑ نہیں سکتا۔ اسی لیے یہ ساری زندگی اس رسی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس ہاتھی کی طرح ہم میں سے کتنے لوگ ہیں، جو خود پر اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ زندگی میں کچھ کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کئی لوگ ہیں جو زندگی میں کسی کام کے لیے صرف ایک بار کوشش کرتے ہیں اور ناکام ہو جاتے ہیں، تو دوبارہ اس کام کو انجام دینے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ناکامی ہی کامیابی کا اصل زینہ ہوتی ہے۔ ان کو تاریخ کی یہ بات بھی یاد نہیں کہ محمود غزنوی نے جب ہندوستان کو فتح کرنا چاہا تو وہ 17بار ناکام ہوا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ اپنی منزل سے جنون کی حد تک عشق کر رہا تھا اور مکمل بہادری، ہمت، حوصلہ، صبر، استقامت اور مسلسل جدوجہد کے بعد آخر اس نے اپنی منزل کو حاصل کر لیا، مگر آج کے نوجوان میں نہ تو حوصلہ ہے نا ہمت، تدبر، تفکر، جستجو، خواہش، پر امیدی اور عرق ریزی جیسی خصوصیات کا نام و نشان تک نہیں ۔ 

    خیالوں ہی خیالوں میں وہ آسمان پر کمند ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ،مگرعملاً وہ ایک مرغا بھی ذبح نہیں کر سکتے۔ آج کے نوجوانوں میں ہمت اور برداشت نہیں۔ وہ جلد باز اور مستقل مزاجی سے عاری ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر کام آسانی سے اور بٹن دبانے سے ہو جائے، مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا کیونکہ جب تک آپ کسی کام میں محنت اور جدوجہد نہیں کریں گے تب تک آپ کو منزل نہیں ملے گی۔ کئی لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر دو چار ماہ ان کو ملازمت نہ ملے تو وہ حوصلہ چھوڑ بیٹھتے ہیں اور ہزاروں کہانیاں ان کے دماغ میں اتر آتی ہیں۔ کئی لوگ تو یہ تک کہنے لگ جاتے ہیں کہ پڑھنا لکھنا صرف امیر لوگوں کا کام ہے۔ 

    غریب لوگوں کو تو ملازمت ملتی ہی نہیں، لہٰذا پڑھنے کا فائدہ! جب آپ یہ سوچ کہ پڑھیں گے کہ میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہا ہوں تو آپ کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ آپ جب تعلیم حاصل کریں تو دماغ میں یہ بات رکھیں کہ آپ علم حاصل کرنے کے لیے پڑھ رہے ہیں۔ تو یاد رکھیں تعلیم حاصل کر جائیں گے بلکہ زندگی کے عملی میدان میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔ اکثر لوگ جو ملازمت کر رہے ہیں، ان کی ماہانہ آمدنی بھی بہت اچھی ہے مگر وہ مطمئن نہیں ، کیوں؟ کیونکہ وہ ملازمت پر اس لیے جاتے ہیں کہ ان کے دماغ میں ہوتا ہے، ہمیں پیسے ملیں گے۔ اگر وہ یہ بات ذہن سے نکال دیں اور کام کو انٹرٹینمنٹ (Entertainment) سمجھ کر ملازمت پر جائیں تو وہ کبھی بھی زندگی میں ڈپریشن کا شکار نہیں ہوں گے اور ان کی زندگی پُر سکون ہو گی۔ 

    پیسا زندگی کو گزارنے کے لیے ضروری چیز ہے مگر اتنا ضروری نہیں ہے کہ آپ زندگی ہی دائو پر لگا دیں۔ کسی شخص نے کیا خوب کہا تھا کہ انسان پیسا کمانے کے لیے اپنی صحت برباد کر دیتا اور پھر صحت پانے کے لیے پیسا، تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہر چیز اعتدال میں اور اپنے مرتبہ و معیار کے مطابق ہی اچھی لگتی ہے۔ کوشش کریں کہ زندگی میں خواہشیں کم سے کم ہوں۔ جتنی آپ کی خواہشیں کم ہوں گی اتنی ہی آپ کی زندگی پْرسکون اور خوب صورت ہو گی۔ انسان جب اپنی خواہشوں کو بڑھا لیتا ہے تو پھر ان کو پورا کرنے کے لیے تمام جائز و ناجائز ہتھکنڈے کو اپنا لیتا ہے جس کے باعث اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ ناکامیوں سے ہنس کر گلے ملنے والا شخص ہی کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھتا ہے۔ اپنی سوچ کو تعصب اور حسد سے ہمیشہ پاک رکھیں۔ آپ کے اردگرد کئی ایسے لوگ ہوں گے جو خوشیوں سے لدے پھندے ہوں گے۔اگر آپ ان کے چہروں پر پھیلی مسکراہٹ کو دیکھتے رہے اور اپنی زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے کچھ نہیں کیا تو نہ صرف آپ بُری طرح ناکام ہوں گے بلکہ اپنے اندر دوسروں کے خلاف حسد بھی پیدا کر بیٹھیں گے۔ حوصلہ کامیابی کی کنجی ہے جس کی صبر کے ساتھ حفاظت کی جا سکتی ہے۔ اپنے آپ کو منوانے کے لیے آپ کی سوچ کا صاف ہونا اور ارادے کا نیک ہونا بھی ضروری ہے۔ 

    آپ اپنے اندر موجود خوبیوں اور صلاحیتوں کو پہچانیں، اس کے بعد عملی طور پر انھیں بروئے کار لائیں، تب ہی جا کر آپ زندگی میں کامیاب ہو سکیں گے۔ کامیابی حاصل کر کے تو ہر شخص مسحور ہوتا ہے، مگر عظیم وہ ہے جو ناکامی میں بھی نہیں گھبراتا۔ زندگی میں ان عوامل اور وجوہاہ کی طرف زیادہ توجہ دیں جو آپ کی ناکامی کا سبب بنتی ہیں ورنہ آپ ناکام ہی ہوتے رہیں گے۔ اپنے اندر وہ تمام صفات پیدا کریں جو آپ کو آسانی سے آپ کی منزل تک لے جا سکیں۔ کبھی بھی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے کسی دوسرے شخص کا کندھا ہرگز استعمال نہ کریں کیونکہ آپ کسی اور کے سہارے تھوڑا بہت تو آگے چلے جائیں گے مگر آپ کو منزل تک پہنچنے کے لیے وہ سہارا کبھی نہیں ملے گا۔ کبھی کسی ناکامی یا رکاوٹ سے مجبور ہو کر زندگی سے منہ نہیں موڑا۔ بلکہ زندگی کو اپنے اشاروں کے مطابق چلایا۔ 

    زندگی کو ایک کہکشاں بنائیں، جس کے سائے میں نہ صرف آپ کی زندگی رنگین ہو بلکہ آپ کے قریب رہنے والے بھی اس سے مستفید ہوں۔ آپ کا حوصلہ اورعزم آپ کی خواہشوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہمیشہ جوان ہو۔ کبھی بھی اپنے حوصلے اور ہمت کو مایوسی اور ناکامی کی نذر مت کریں۔ اس سے آپ کی زندگی میں ہمیشہ اندھیرا ہی رہے گا۔ زندگی میںکرنے کے لیے انسان کو بہت کام ہوتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اپنے عزم اور حوصلے کو صبر اور استقامت کے ساتھ منزل کو پانے کی جستجو میں صرف کرے۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے والے کو کامیابی کبھی جھلک نہیں دکھلاتی۔ جب آپ شان کے ساتھ چل کر کامیابی کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو چاہے آپ جتنے بھی مسائل میں گھرے ہوئے ہوں، کامیابی آپ کے قدموں کی دھول کو پہچانتے ہوئے آپ تک ضرور آ کھڑی ہوتی ہے۔ 

    غلام سجاد
     


    0 0



     محنت میں عظمت پنہاں ہے، مگر محنت تب ہی رنگ لاتی ہے جب اس کے پیچھے حتمی فیصلے کی قوت ہو اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی صلاحیت ہو۔‘‘ یہ الفاظ ہیں جاپان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف بزنس ٹائیکون سویشیرو ہنڈا کے، جن کی شخصیت سے کوئی واقف ہو نہ ہو مگران کے نام سے ضرور دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے۔ جی ہاں ایک سروے کے مطابق سویشیرو ہنڈا کے انتقال کے بیس سال کے بعد بھی دنیا بھر میں ان کا نام ہر سیکنڈ میں دس بار لیا جاتا ہے کیوں کہ انھوں نے اپنی مصنوعات کا نام اپنے نام پر رکھا تھا… ہنڈا۔
    سویشیرو ہنڈا کی کہانی جہد مسلسل اور عزم و حوصلہ کی ایک لازوال داستان ہے۔ وہ جاپان کے ایک دور افتادہ دیہات میں ایک لوہار کے گھر پیدا ہوئے، غربت میں پرورش پائی اور تعلیمی میدان میں بھی اسکول سے آگے نہ بڑھ سکے۔ گھریلو اور ملکی حالات ایسے تھے کہ اس سے زیادہ تعلیم حاصل کرنا ان کے لیے ممکن بھی نہیں تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب عالمی جنگ کی وجہ سے جاپان اپنی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار تھا۔ 
    تباہی کے عفریت نے گو ایٹمی حملے سے پہلے ہی جاپان کو اپنے حصار میں لے لیا تھا، مگر اگست کے ایک بھیانک دن جب جاپان پر ایٹمی حملہ ہوا تو گویا ہر طرف موت کے بادل چھاگئے، ہر چیز تباہ ہو گئی۔

    ان بدترین حالات، غربت، مروجہ نصابی تعلیم کے نہ ہونے کے باوجودایک عام سے موٹر مکینک سویشیرو ہنڈا نے جان توڑ محنت، صحیح فیصلے اور عزم و حوصلے کی قوت سے بالآخر آٹو موبائل انڈسٹری کی تاریخ بدل دی۔ اس کی بنائی گئی ہلکی، دلکش، اعلیٰ معیار اور قیمت میں کم موٹرسائیکلز پوری دنیا پر چھا گئیں۔ ایک دیہات میں واقع بوسیدہ سے گیراج سے شروع ہونے والا سفر ہنڈا کارپوریشن کے قیام پر ختم ہوا، جو نہ صرف جاپان کی صف اول کی کمپنی بنی بلکہ آج دنیا کی چند بڑی آٹو موبائل کمپنیوں میں سے ایک ہے، جس میں ایک لاکھ سے اوپر ملازم ہیں۔

    سویشیرو ہنڈا کی کامیابی کی مکمل داستان نہایت دلچسپ اور سبق آموز ہے جو ہمارے ان نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی خداداد ذہانت، دیانت اور ملک کے لیے کچھ کرنے کی لگن کے باوجود سسٹم میں موجود چند کالی بھیڑوں کی وجہ سے بہت جلد مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں، وہ جب مسٹر ہنڈا کی کہانی پڑھیں گے (جو تفصیل سے وکی پیڈیا پر پڑھی جاسکتی ہے) توکبھی مایوس نہیں ہوں گے۔ وہ جان جائیں گے کہ حتمی فیصلہ، لگن ، محنت اور حوصلے سے ہر کام کیا جاسکتا ہے۔ وہ سویشیرو کی داستان سے نفرت کے بجائے مثبت سوچ کے ثمرات بھی سیکھیں گے۔ مسٹر ہنڈا کی ہی زندگی سے مثبت و تعمیری سوچ کے ثمرات کا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے۔

    جب سویشیرو کی ہنڈا موٹر سائیکل پوری دنیا میں مشہور ہوگئی تو ایک دن ایسا بھی آیا کہ امریکا کے چند صنعت کاروں نے ان کی موٹر سائیکل امریکا میں لانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جاپانی میڈیا میں اس خبر پر گرماگرم بحث چھڑ گئی کہ جس ملک نے جاپان کے ہزاروں شہریوں پر آگ و خون کی بارش کردی، کیا اس کے ساتھ بزنس کیا جاسکتا ہے؟ کئی اخبارات نے اسے ملکی سلامتی کا مسئلہ قرار دے دیا، کئی ملکی دانشوروں نے یہاں تک کہا کہ سویشیرو امریکا کو انکار کرکے جنگ عظیم کا بدلہ لے سکتا ہے۔ صورت حال بے حد جذباتی اور حساس ہوگئی، مگر ہنڈا نے بالآخر ہر دباؤ کو برداشت کرتے ہوئے وہ فیصلہ کیا جو ایک مثبت سوچ رکھنے والا ہی کرسکتا ہے۔

    انھوں نے اس پیشکش کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا: ہم نے دشمن سے بدلہ لینے کا فیصلہ کیا ہے مگر ہم جنگ کے ذریعے بدلہ نہیں لیں گے، کیوں کہ جنگیں یاسیت لے کر آتی ہیں، ہم بدلہ لیں گے معاشی ہتھیار سے، جو دور جدید کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس فیصلے کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر امریکا میں ڈیلرشپ شروع کرنے کے بعد جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہنڈا موٹر سائیکلیں اور پھر ہنڈا کاریں پوری دنیا میں چھا گئیں اور اس کے بعد جاپان کی مصنوعات کو عالمی سطح پر قبول عام حاصل ہوا۔

    مسٹر ہنڈا کی زندگی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ان کی ایک اور خوبی کا ادراک ہوتا ہے، وہ ہے ان کی دوسروں کے ساتھ خیر خواہی۔ خود بے حد مقبولیت اور دولت حاصل کرنے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزاری اور کئی فلاحی منصوبے شروع کیے، یقیناً ان کی کامیابی کے پیچھے قوت فیصلہ اورمستقل محنت کے ساتھ ان کی فلاحی سوچ بھی تھی۔

    میدان کوئی بھی ہو، مایوس ہوئے بغیر درست سمت میں مستقل مزاجی سے محنت اور درد انسانیت دو ایسی کنجیاں ہیں، جو ساتھ ہوں تو گویا تدبیر اور تقدیر ایک نکتے پر جمع ہو کر انسان پر کامیابی کے در وا کردیتی ہیں۔ انسانیت پر اپنی محنت کی کمائی خرچ کرنے سے نہ صرف آنے والی بلائیں ٹلتی ہیں بلکہ ازروئے حدیث اﷲ پاک کم ازکم دس گنا کرکے واپس بھی لوٹاتے ہیں۔ گویا یہ سراسر نفع کا سودا ہے۔
    صرف ہنڈا ہی نہیں بلکہ دنیا کی کئی شخصیات ایسی ہیں، جنھوں نے خالی ہاتھ کام شروع کیا، کئی بار ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑا مگر انھوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا، مسلسل محنت کرتے رہے اور بالآخر اپنا آپ منوا کر رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کامیابیوں کو انسانیت پر خرچ کے ذریعے سے ضرب دینا شروع کیا تو آج وہ خود بھی اربوں کھربوں میں کھیل رہے ہیں اور ان کے ذریعے لاکھوں انسانوں کے درد کا درماں بھی ہو رہا ہے۔

    خود ہمارے احباب میں ایسے دو دوست ہیں، ان دونوں نے انتہائی غربت سے سفر شروع کیا مگر صحیح فیصلہ اور پھر مسلسل محنت نے انتہائی حیرت انگیز طور پر ایک عشرے میں انھیں اپنے میدان میں قابل رشک کامیابی سے نواز دیا۔ ان میں سے ایک ہمارے کلاس فیلو ہیں جن کا نام سفیان احمد علوی ہے۔ سفیان نے ہر طرح کی نہایت غربت کے باوجود نہایت ثابت قدمی سے تعلیم جاری رکھی اور آخر اپنے ادارے سے گولڈ میڈل لے کر کینیڈا میں بہترین جاب حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ آج اس کے پاس بہترین مستقبل ہے مگر اس نے اپنے چھوٹے سے شہر اور وہاں کے غریب باسیوں کو نہیں بھلایا، جس کا نتیجہ ٹنڈوآدم جیسے پسماندہ شہر میں بچوں کے ایک بہترین فری کلینک کی صورت ظاہر ہے، جہاں غرباء کے لیے علاج اور دوائیں بالکل مفت ہیں۔

    ہمارے دوسرے دوست ارشد حسین قاضی نے بھی انتہائی غربت اور مشکل حالات میں جدوجہد شروع کی۔ اس نے پان کا کیبن بھی چلایا، ریڑھی بھی لگائی مگر ذہن کو وسیع رکھا۔ مارکیٹنگ کے شعبے میں دس برس تک شدید محنت کی، کئی بار شدید نقصان بھی اٹھایا مگر بالآخر قدرت مہربان ہوئی اور اس کی محنت کا پھل انھیں یوں ملا کہ آج وہ اندرون سندھ میں اپنے شعبے کی مارکیٹنگ کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ اس کی بھی اہم خوبی صدقے کی عادت تھی۔ ہم نے ہمیشہ دیکھا کہ اس نے کبھی کسی کو خالی ہاتھ واپس نہیں کیا، شاید یہی وجہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے بھی اسے بہت نوازا۔

    ان باتوں کو اپنی گرہ سے باندھ لیں تو انشاء اﷲ تعالیٰ کامیابی ضرور قدم چومے گی۔ ایک خوب غوروفکر کے بعد درست میدان کا انتخاب، پھر اپنے فیصلے پر جم جانا، اس کے بعد اپنا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے شدید اور مسلسل محنت، اور ان تمام تدابیر کے ساتھ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیرخواہی کی عادت۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص ان صفات کو زادِ راہ بنالے گا، اﷲ کے فضل سے ضرور پھل پائے گا۔

    محمد فیصل شہزاد


    0 0



    0 0


    اپنی جھگی کی دہلیز پر بیٹھی سیاہ آنکھوں میں آنسو چھپائے گھاگھرا کرتی پہنے وہ اپنے تین سالہ بیٹے کو گود میں لئے نجانے کس کی راہ تک رہی تھی۔ خوف اس کی آنکھوں سے چیخ رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا اب نہیں بچے گا۔وہ خود بھی بھوکی اورپیاسی تھی لیکن اسے اپنی بھوک کی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کے بے حرکت جسم کی فکر تھی۔پچھلے ایک سال میں اس گاؤں کے کتنے ہی بچے دم توڑ گئے اورجو باقی ہیں انہیں بھی موت اپنی آغوش میں لینے کیلئے بیتاب ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کا بیٹا بھی مر جائے گا۔ کیسی قیامت ہے ایک ماں خود ہی اپنے بچے کو موت کی آغوش میں دینے کے لیے وقت کا انتظار کررہی تھی اورپھرچند گھنٹوں بعد اس کا بچہ مر گیا۔

    یہ کہانی ہے تھرکے دورافتادہ گاؤں کی ہے۔ ہم لوگ حیدرآباد سے کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد مٹھی اورپھروہاں سے اسلام کوٹ کے اس چھوٹے سے گاؤں میں پہنچے تھے۔ ہم اگرچند گھنٹے پہلے پہنچ جاتے تو شاید اس بچے کی جان بچ جاتی، ہم لوگ فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے ساتھ اس علاقے میں پہنچا تھے جہاں پیاسا تھراب تک ایک درجن سے زائد بچوں کو نگل چکا تھا۔ ہمارے پاس پانی کی بوتلیں ،بسکٹ ،آٹا،چاول، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات تھیں۔ ہم نے یہ سامان غم سے نڈھال ان لوگوں میں تقسیم کیا ، چند گھنٹے ان کے ساتھ گزارے اور پھر دوسرے علاقوں میں نکل گئے۔

    ان دنوں ایسے مناظرتھرکے ہرگاؤں میں نظرآتے ہیں۔ جہاں بھوک سے بلکتے معصوم پھول بن کھلے مرجھا گئے۔ موت ہے کہ ایک ایک کرکے سب کو نگل رہی ہے۔ حکومتی اعدادوشمارکے مطابق رواں ماہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 27 جبکہ یکم جنوری 2014 سے اب تک 405 تھری قحط سالی کا شکار ہوکرموت کے منہ میں جاچکے ہیں۔

    بارش زندگی ہے اس کا ادراک تھریوں سے زیادہ اور کوئی نہیں کر سکتا ، جس کی ایک بوند سے تھری جھوم اٹھتے ہیں ۔ بارش ہوئی تو ان کے نصیب جاگ اٹھے اور نہ ہو تو قحط سالی کا بھوت انہیں نگلنے کو تیار ہوتا ہے۔ جب بھی تھر کے آسمانوں پہ بجلی چمکتی اور بادلوں کا رخ صحرائے تھر کی جانب ہوتا ہے تو شہروں میں امیروں کے گھروں میں جھاڑو برتن کرکے روزی روٹی کمانے والی تھری عورت کے منہ سے بے اختیار’’مارو تھر برسیو رے’ نکلتا اور اسکی آنکھوں کے کونے گیلے ہو جاتے ہیں۔ بارشوں کا سوکھا پن خوفناک ڈائن کی مانند ان تھریوں کو چاٹ رہا ہے ،یہاں کی عورتیں سورج نکلنے سے پہلے ہی پانی کے برتن لئے صحرا کی طرف چل پڑتی ہیں، منہ اندھیرے کنویں سے پانی کھنچنے کے لئے باری کے انتظار میں وہ سورج کا تڑکا اسی کنویں کی منڈیر پہ دیکھتی ہیں۔ کنواں سوکھا ہو تو پانی کھینچنے کے لئے گدھے یا کسی اور جانور کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔

    یہ پانی پیاس تو نہیں بچھا پاتا لیکن اس سے زندگی ضرور دھکیلی جاتی ہے۔اور اس دھکیلی جانے والی زندگی کو صحرائے تھر کے کنووں کا یہ کھارا پانی کتنا روگی بنا دیتا ہے یہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تھری بچے ہوں یا خواتین اور بزرگ، یہاں کے سب ہی باسی بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔ تھری سہولیات تو کجا زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں۔ پینے کا پانی چاہے گدلا ہی کیوں نہ ہو، انہیں میسر نہیں، علاج معالجہ اور مناسب رہائش جیسے الفاظ شاید ان لوگوں نے کبھی سنے بھی نہ ہوں۔ یہاں زندگی بلاشبہ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔

    بچوں کی اموات کی خبروں کے بعد تمام تر امدادی کارروایوں کا مرکز مٹھی بنا ہوا ہے، لیکن درحقیقت تھر ایک بہت وسیع علاقہ ہے جس کے دوردراز علاقوں میں کوئی امدادی کاروائی نظر نہیں آتی ،اور اسی وجہ سے قحط سے متاثرہ لوگ ابھی تک میرپورخاص، سانگھڑ، بدین اور دوسرے علاقوں میں نقل مقانی کرنے پر مجبور ہیں۔ تھر میں کام کرنے والے فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے کارکنوں نے بتایا کہ تھر کے بیشتر علاقے اب بھی امدادی ٹیموں کی پہنچ سے دور ہیں،جہاں کوئی امدادی کاروائی نہیں کی جارہی، جس سال بارشیں ہوتی ہیں، اسی سال میٹھا پانی دستیاب ہوتا ہے ورنہ کنویں کا کڑوا اور ناقابلِ استعمال پانی پینا تھریوں کی قسمت ہے۔اس کے علاوہ غذا، پانی اور دوا کی عدم موجودگی کے باعث حاملہ مائیں بیمار ہوجاتی ہیں اور ان کے بچے بھی بیمار پیدا ہوتے ہیں، ساتھ ہی مویشی مرجاتے ہیں، لہذا بچوں کو نہ ماں کا دودھ ملتا ہے اور نہ مویشیوں کا۔

    فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کی طرف سے رواں ماہ 25 کنویں اورہینڈپمپ لگوائے گئے ہیں جبکہ 70 زیرتعمیرہیں۔ جو کام ہماری سوئی ہوئی حکومت کو کرنا چاہئے وہ مختلف فلاحی ادارے سرانجام دے رہے ہیں۔ تھر کے دوردراز گوٹھ گولیو، مورانو، کیہڑی، تانیلو، گنگا لچ ، سگروڑ، تانیلی، ڈاندو بھیل، وہیلنجا اور کاری ہرسمیت بیشتر گوٹھوں میں اب تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں اوریہاں اب بھی موت کا رقص جاری ہے۔

    آصف محمود
     


    0 0


    مجھے اسلام آباد کے پوش ایریے میں ایک کلر فل بینر نظر آیاجس پر’ یوتھ‘ اور’ کشمیر ‘کے الفاظ ساتھ ساتھ پڑھ کے میں بے اختیار گاڑی کو سڑک کی سائیڈ پر کھڑنے پر مجبور ہوگیا تاکہ تفصیل سے اس بینر کو پڑھ سکوں۔ اس بینر پر کشمیر کے لیئے کام کرنے والے کسی یوتھ فورم کی طرف سے اسلام آباد کے رہائشیوں کو ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

    کانفرنس اور فورم کا نام مجھے کافی دلچسپ لگا اور مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں اس کے بارے میں مزید تفصیلات معلوم کروں، دیئے گئے نمبر پر رابطہ کیا تو ایک مہذب اور نرم لہجہ میرے کانوں میں پڑا اور بولنے والے نوجوان نے انتہائی شستہ اردو میں اپنا تعارف کروانے کے بعد مجھ سے میرا نام پوچھا، میں نے اپنا تعارف کروانے کے بعد اس نوجوان سے کانفرنس کی تفصیلات معلوم کیں اور فورم کے آفس کا ایڈریس معلوم کر کے آفس پرنچ گیا، وہاں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آفس ورک میں مصروف تھے،ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جنہیں عرفِ عام میں’ ممی ڈیڈی یا برگر‘کہا جاتا ہے۔

    فون پر بات کرنے والے نوجوان نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور میرے سوال پر جب اپنے فورم کے ورک ایریاز پر روشنی ڈالی تو میں حیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ ان برگر بچوں کو کشمیرجیسے سنجیدہ موضوع میں ایسا کیا نظر آیا جو یہ یہاں کام کرنے چلے آئے؟میں دل کی بات زبان پر لایا تو مجھے بتایا گیا کہ ہم کشمیر کو ایک سنجیدہ اور روایتی طریقے سے پیش کر نے کی بجائے امن ومحبت کے ساتھ ایک دلچسپ اور مختلف زاویے سے پاکستان اور کشمیر کی یوتھ اور دنیا کے سامنے لا رہے ہیں کیوں کہ مسئلہ کشمیر کے پیچھے چلے جانے کی وجہ ہی یہی ہے کہ اسے بورنگ اورافسردہ تھیمز کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے، مجھے فورم کی تفصیلات پر مشتمل لٹریچر دیا گیا جو میں لے کر واپس آ گیا۔
    گھر پہنچ کر میں یہ سوچتا رہا کہ ہمارے معاشرے میں ممی ڈیڈی اور برگر بچوں کے بارے میں کتنا غلط تاثر موجود ہے کہ وہ بس شغل میلہ اورسیر سپاٹا کرنا ہی جانتے ہیں، انہیں انگریزی بولنے اورفیشن کرنے کا کریز ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ لیکن وہاں معاملہ الٹ تھا،اتنی پُرجوش یوتھ میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور وہ بھی کشمیر جیسے مسئلے کو اجاگر کرنے کیلئے جو خطے کا سب سے اہم مسئلہ ہے،میرا دل یقین سے بھر گیا کہ ایسے نوجوان جس ملک میں ہوں اسے کوئی کسی بھی میدان میں پیچھے کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ ایسے نوجوان کسی بھی ملک کا وہ سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں جسے کبھی زوال نہ ہو، بس انہیں مثبت انداز میں استعمال کر نے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اس خطے کے سب سے اہم مسئلے میں نوجوانوں کی دلچسپی ایک انتہائی حوصلہ افزاء پہلو ہے، ان کا کام قابلِ ستائش ہے اور ہر نوجوان کو ان کا ساتھ دینا چاہیئے کیوں کہ اس خطے کی ترقی کا راز مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے، ان نوجوانوں کومیرا مشورہ ہے کہ وہ ہندوستان، پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کی یوتھ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں اور مل کر اس مسئلے کے حل کے لیئے کام کریں کیونکہ ہم پرلے ہی چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور اب خطہ مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، مسئلہ کشمیر ایک ایٹمی جنگ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
    مسئلہ کشمیر کا حل شملہ معاہدے سے ہو یا اقوام متحدہ میں پیش کردہ قرارداد سے ، دونوں ملکوں کو سنجیدگی اورصبر سے کام لینا ہوگا اور کسی نہ کسی معاملے میں لچک دکھانے کی ضرورت ضرور پیش آئے گی ، ہندوستان، پاکستان اور آزاد و مقبوضہ کشمیر کی یوتھ کو اس وقت آگے بڑھ کر اس طرح کی کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کروانے کی ضرورت ہے جو دونوں حکومتوں کو امن واستحکام اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ابھارے اور ان پر مسئلے کے حل کیلئے دباؤ ڈالے تاکہ دونوں طرف سے سنجیدہ کوششوں کی شروعات ہو سکیں۔
    موجودہ پاکستانی حکومت کے اقدامات قابلِ ستائش ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بھی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ بند کرہوئے مسئلے کو مذاکرات کی ٹیبل پر آنا ہوگا اور میری ناقص رائے میں یہی ایک حل ہے جو خطے کے معاملات کی بہتری کا بھی سبب بن سکتاہے ۔

    محمد حسان


    0 0



    0 0



    0 0



    0 0


    آج میں آپ کو اپنے محلے کے چند مصلحین و مفکرین سے ملواتا ہوں۔ان میں سے ہر ایک بلاشبہہ ملک و سماج کا خیرخواہ ہے ۔

    یہ ہیں رفیق ہیئر ڈریسر صاحب۔ ان کا فلسفہِ نجات بہت سادہ ہے۔ یعنی اس ملک کو ایک خیمنی کی ضرورت ہے جو تمام کرپٹ افسروں، ڈھیلے جنرلوں، ڈاکو سیاستدانوں اور حمید کانسٹیبل کو گولی مار دے جو پچھلے پانچ برس سے رفیق نائی کے سالے کے مکان پر قابض ہے ( حمید کانسٹیبل ایس پی صاحب کی آنکھ کا تارہ ہے اور ایس پی صاحب کی جونئیر جج صاحب سے دعا سلام ہے اور جونئیر جج کے پاس رفیق نائی کے سالے کی فائل پچھلے چار برس سے پڑی ہے )۔

    اور ان سے ملیے۔ عزیز ڈرائی کلینر۔ خود بھی پنج وقتہ نمازی ہیں اور سال میں دو تین بار دکان بیٹے کے حوالے کرکے تبلیغ پر بھی جاتے ہیں۔ان کا فلسفہِ نجات یہ ہے کہ جب تک آدمی خود کو حرص و طمع ، جھوٹ اور رزقِ حرام سے پاک نہیں کرے گا اور بہو بیٹیوں کی شرم نہیں کرے گا۔ تب تک خدا بھی ان حریصوں، جھوٹوں، حرام خوروں اور بے غیرتوں کی نہیں سنےگا۔ بھلے آپ کتنے ہی دھرنے دے لیں۔ ( محلے کے چند بزرگ کہتے ہیں کہ عزیز دھوبی کی جوانی میں اتنی دہشت تھی کہ ایس ایچ او بھی اچھو پائی جان کہتے ہوئے کرسی سے کھڑا ہوجاتا تھا۔ایک دن اچھو آپ سے آپ ہی تائب ہو کر عزیز ڈرائی کلینر ہوگیا ۔ابھی پچھلے سال ہی تو قتل کے پانچویں اور آخری مقدمے سے بری ہوا ہے )۔

    اور آپ ہیں اکھنوری دوا خانے والے حکیم نور محمد ۔آپ کا خیال ہے کہ جو کچھ بھی اچھا برا ہو رہا ہے سب اوپر والے کی منشا ہے۔وہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے جس کے دل پر چاہتا ہے مہر لگا دیتا ہے۔ جیسے آدمی بدقسمتی اور خوش قسمتی کے دائروں میں داخل ہوتا نکلتا رہتا ہے اسی طرح قومیں بھی ان دائروں میں نہ اپنی مرضی سے داخل ہو سکتی ہیں نہ نکل سکتی ہیں۔اس لیے اپنی ناقص عقل لڑانے کے بجائے خدا کا رحم طلب کرتے رہو۔( حکیم صاحب کا اکلوتا بیٹا ڈیڑھ برس پہلے ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوگیا۔ تب سے حکیم صاحب چپ چپ سے رہنے لگے ہیں۔کبھی کبھی بہت زور دینے پر ہی کچھ کہتے ہیں)۔

    طالب قصائی (کسی زمانے میں بھٹو صاحب کا جیالا تھا ) ویسے تو دھیمے مزاج کا آدمی ہے پر جب وہ دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں میں چھری پھنسا کر آرمی بینڈ ماسٹر کی اسٹک کی طرح تیزی سے گھماتا ہے تو سب اس کی بات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ طالب قصائی کا نظریہ ہے کہ یہ قوم خود کو بھیڑ بکری سمجھنے لگی ہے اور بھیڑ بکریوں میں کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی بھی انہیں ہنکار سکتا ہے اور سب چھری تلے آنے تک میں میں بھیں بھیں ہی کرتے ہی رہ جاتے ہیں۔ ہماری کھال ، سری ، پائے، اوجھڑی ، آنتیں ، چیچھڑے ، بال سب بک جاتے ہیں۔ جب تک زندہ ہیں بس چارہ ہی ملے گا۔ جس دن ان بھیڑ بکریوں نے اپنے سینگ پہچان لیے میرے جیسے قصائی کی دکان بند ہوجاوے گی۔

    اور یہ ہیں حضرت مولانا فیضِ عالم۔ جب محلے کی مسجد کمیٹی نے انہیں خادم سے موزن اور موزن سے پیش امام کے منصب پر فائز کیا تب سے ان کے افکار بھی ہویدا ہونے لگے۔ مولانا کا نظریہ یہ ہے کہ جب تک تمام مسلمان ( یعنی سنی ) اپنے فروعی اختلافات بالائے طاق رکھ کے ایک رہنما ( یعنی مولانا فضل الرحمان ) اور ایک نظریہ ( یعنی دیوبند ) نہیں اپنائیں گے تب تک پاکستان اسی طرح اغیار کے پروردہ سازشیوں ( یعنی بلدیہ کے کلرک کلبِ عباس جعفری اور سکول ماسٹر مرزا تاج احمد وغیرہ ) ، امریکی ایجنٹوں ( یعنی محلے کا خاکروب نذیر مسیح ) اور بھارتی فتنہ پردازوں کے نرغے میں رہے گا ( یعنی کنہیا لال کلاتھ مرچنٹ ۔جو مولانا کو برسوں سے لٹھا ادھار دے رہا ہے اور کبھی کبھی دبا دبا تقاضا بھی کردیتا ہے )۔

    بیشتر قومی رہنماؤں کی طرح میرے محلے کے یہ مفکر و مصلح بھی کوئی بہت زیادہ پڑھے لکھے نہیں اور نہ ہی کسی شے کے بارے میں بہت زیادہ جاننا یا سر کھپانا چاہتے ہیں۔ مگر سب کے سب صاحبِ نظریہ ہیں۔ جن پر قسمت مہربان ہوئی وہ کسی سیاسی جماعت کے قائدین ہو گئے یا پارلیمنٹ میں بیٹھ گئے، فوجی و سول افسر بن گئے یا میڈیا میں چلے گئے۔ جو قسمت کے ہیٹے رہ گئے وہ رفیق ہیئر ڈریسر، عزیز دھوبی ، حکیم نور محمد ، طالب قصائی اور مولانا فیضِ عالم ہی رہ گئے۔ بس اتنی سی بات ہے۔


    0 0



older | 1 | .... | 32 | 33 | (Page 34) | 35 | 36 | .... | 149 | newer