Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 30 | 31 | (Page 32) | 33 | 34 | .... | 149 | newer

    0 0


    آج کل تو ٹریفک کا لفظ سنتے ہی دِل ڈوبنے لگتا ہے ۔لیکن کریں کیا! روز مرہ زندگی کے لوازمات حاصل کرنے کیلئے اس میں ڈبکی لگانا ہی پڑتی ہے۔دُنیا بھر میں اسکا بڑھتا ہوا حجم ہر ملک کیلئے ایک لمحہ ِفکریہ ہے ۔کیونکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں کئی کئی گھنٹے آگے بڑھنے کا انتظار کرتی رہتی ہیں۔اسکے علاوہ تیز رفتاری کے باعث حادثات بھی اہم عُنصربن چکا ہے۔جسکی اہم وجہ اُن قوانین کی خلاف ورزی ہے جن کا پرچار و کتابچہ ہر ملک جاری تو کرتا ہے لیکن چند ممالک کے علاوہ اس پر عمل کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ان میں ہمارا ملک پاکستان بھی سر فہرست ہے۔

     پاکستان میں روڈحادثات کی شرح :تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2002ء سے 2014ء تک ایک لاکھ 22ہزار بڑے حادثات ہوئے جن میں 53ہزار 790 افراد جان کی بازی ہار گئے۔اسکے علاوہ ایک لاکھ 6ہزار افراد زخمی ہوئے اور کم وبیش ڈیڑھ لاکھ گاڑیاں تباہ ہوئیں۔2001 ء تک گاڑیوں کی تعداد 50لاکھ تھی جو اب اڑھائی کروڑ سے بھی زائد ہے۔لیکن نہ تو ماضی میںہمیں کہیں ٹریفک کے قوانین کی پابندی نظر آتی ہے اور نہ آج اس تعداد میںاضافے کے بعد۔لہذٰا پہلے یہ غور طلب ہے کہ وہ وجوہات کیا ہیں جو حادثات میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں؟ 

    حادثات میں اضافے کی وجوہات: ٭کم عمر ڈرائیور وں کا ڈرائیونگ لا ئسنس کیلئے ٹیسٹ دیئے بغیر کسی بھی قسم کی گاڑی کا چلانا۔ ٭تعلقات استعمال کر کے مکمل ٹیسٹ دیئے بغیر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔٭ٹریفک قوانین کے اصولوں کے بارے میں کچھ خاص سوالات پوچھے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کا اجراء۔٭سُرخ بتی پر بے چینی سے انتظار کرنا اور سبز بتی ہونے پر یک دم آگے بڑھنے کی کوشش کرنا۔٭اگر اشارے (ٹریفک سگنل) پر کوئی اہلکار کھڑا نہ ہو تو اشارہ توڑتے ہوئے نکل جانا۔ ٭ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے پکڑے جانا اور پھر کسی تعلق سے رابطہ کر کے بچ جانا۔٭تیز رفتاری و غفلت کا اپنی جگہ سب سے اہم ہونا۔٭اہم شاہراہوں پر نوجوانوں کا موٹرسائیکل پر باقاعدہ ریسیں لگا نا و کرتب دکھانا۔ ٹریفک کے قوانین: جیسے جیسے ذرائع آمدورفت بڑھنے لگے ویسے ہی اُنکے قواعد و ضوابط واضح کیے جانے لگے۔ کہیں بائیں ہاتھ کی ٹریفک نے ترتیب پائی اور کسی ملک میں دائیں کی۔

    اشاروں کی بتیوں کے رنگوں کے ذریعے چلنے اور روکنے کی ترتیب بنائی گئی ۔سبز رنگ کی بتی جلے تو گاڑی کو آگے بڑھنا ہے ،لال رنگ کی بتی پر رُک جانا ہے۔ درمیان میں پیلی رنگ کی بتی دونوں اشاروں میں وقف کی علامت رکھی گئی۔سڑک پار کرنے کیلئے زیبرا کراسنگ کا خیال انتہائی اعلیٰ سوچ کا مظہر نظر آیا اور دُنیا بھر میں پیدل چلنے والوں کی ٹریفک کے بہائو کے درمیان بھی اہمیت کو برقرار رکھا گیا۔لیکن اسکے ساتھ مزید اہم حفاظتی معاملات کو زیر ِغور رکھتے ہوئے اُنکے مطابق عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔جن میں: ڈرائیور کا نارمل ہونا: کسی بھی گاڑی کو چلانے کیلئے سب سے اہم ہے ڈرائیور کا صحت مند ہو نا۔یعنی وہ دماغی طور پر مکمل حاضر ہو ۔کسی معذوری کا شکار نہ ہو اور نہ ہی کسی بھی قسم کے نشے کی حالت میں ہو کہ وہ اپنی جان کے ساتھ دوسری جانوں کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو جائے۔

     گاڑی کی حالت: آمدورفت کے جدید ذرائع جہاں ایجاد کر کے انسان کے سفر کیلئے آسانیوں کا سامان کیا گیا وہاں اُسکے منفی پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اُن میں زیادہ سے زیادہ ایسے کارآمد پُرزے و اشیاء لگائی گئیں جن سے کافی حد تک ممکنہ حادثات سے بچا جا سکے۔مثلاً اِن میں گاڑی کو دائیں بائیں موڑنے کیلئے "انڈیکیٹر"اور شیشوںکا استعمال،ضرورت کے مطابق ہارن کا استعمال،اَور ٹیک کیلئے سڑک کی لین کی ترتیب کا خیال ،سامنے سے آنے والی گاڑی سے راستہ مانگنے کیلئے ’’فلیش‘‘ (یعنی ہیڈ لائٹ)کرناوغیرہ بہت اہم ہیں۔ گاڑی کا غلط طرف سے آنا: عام طور پر بڑی شاہراہوں پر روز بروز ٹریفک کا بوجھ بڑھنے کی وجہ سے ایک موڑ سے دوسرے موڑ کے فاصلے بڑھا دیئے گئے ہیں تاکہ ٹریفک کا بہائو زیادہ دُور تک رواں دواں رہے۔ لیکن زیادہ تر موٹر سائیکل ، گاڑیوں اور لوڈر چلانے والے پٹرول بچانے کیلئے کسی بھی سروس روڈ سے نکل کر سامنے کی طرف جانے کی بجائے اگر قریب موڑ ہو تو پیچھے کی طرف مُڑ جاتے ہیں۔ جو کہ انتہائی خطر ناک حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ بسوں کے ذریعے سفر:ڈرائیور حضرات کی نااہلی اور مسافروں کی جلد بازیوں کی وجہ سے بس بھی حادثات کا شکار ہو جاتی ہے۔

    مثلاً بعض دفعہ ڈرائیور خیال نہیں کرتا کہ مسافر بس سے اُتر رہا ہے یا چڑھ رہا ہے یا مسافر یہ جانتے ہوئے کہ بس مسافروں کا انتظار کرنے کے بعد سٹاپ سے آگے بڑھ چکی ہے چلتی بس میں چڑھنے کی کوشش کرتاہے یا پھر چھت پر چڑھ کر بھی سفر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ان تمام صورتوں میں کسی بھی وقت حادثے کا پیش آنا بعید نہیں رہتا ہے۔ موٹر سائیکل والے: ترقی پذیر ممالک میں عوام کیلئے یہ بھی بہت بڑی نعمت ہے کہ وہاں کی ٹریفک اَتھارٹی اہم شاہراہوں پر بھی موٹرسائیکل چلانے سے نہیں روکتی ۔لیکن اسکے لیے ہیلمٹ کا پہننا سب سے ضروری قرار دیا جاتا ہے ۔اسکے ساتھ دوسرا سب سے اہم ہینڈل پر لگے دو شیشے ہیں۔بیک لائٹ کا جلنا مزید فائدے مند ہے۔رفتار کی حد اور موٹر سائیکل چلانے کی لین واضح کی گئی ہے۔لیکن چند افراد کے علاوہ شاید ہی کوئی ان اصولوں پر عمل کرتا ہو۔ احتیاطی،لازمی و معلوماتی اشارے: ڈرائیور حضرات کیلئے سڑکوں پر مختلف قسم کے اشارے بھی بورڈ کی شکل میں لگائے جاتے ہیں تاکہ اُنکو سمجھ کر گاڑی چلائی جائے اور اپنے ساتھ دوسروں کیلئے بھی آسانی پیدا کی جاسکے۔اُن میں تکون کے اندر بنائے گئے اشارے’’ احتیاطی اشارے‘‘ کہلاتے ہیں۔

    ’’لازمی اشارے‘‘گول دائرے کے اندر بنائے جاتے ہیں ۔یہ ٹریفک کی درپیش صورتحال کے پیش ِنظر کوئی نہ کوئی حکم دیتے ہیں۔انہی ٹریفک کے اشاروں میں نیلے،سبز یا سیاہ رنگ میں جتنے بھی اشارے ہیں ’’معلوماتی اشارے‘‘ کہلاتے ہیں ۔یہ سڑکوں پر مختلف قسم کی اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ خصوصی طور راستوں کی رہنمائی ان سے ہی ہوتی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا:ایک دور تھا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر باقاعدہ چند منٹ کیلئے ٹریفک قوانین کے بارے میں عملی طور پر فلمی معلومات فراہم کی جاتی تھیں۔جس سے واقعی ڈرائیور حضرات نے استفادہ کیا تھا۔ لیکن آجکل الیکٹرونک میڈیا پر کئی نشریاتی چینلز ہونے کے باوجود اس شعبے پر کم توجہ دی جارہی ہے۔اگر آج بھی ماضی کی طرح کوئی ایک چینل بھی ٹریفک کے قوانین کی آگہی کیلئے چند منٹ اہم معلومات روزانہ کی سطح پر فراہم کر دے تو شاید عوام کئی ٹریفک حادثات سے محفوظ ہو جائے۔ ٹریفک پولیس: اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ گرمی ہو ،سردی ہو یا بارش و طوفان وہ اس خدمت میں لگی ہوئی ہے کہ ٹریفک کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے ۔لہذا عوام الناس کو اُنکے ساتھ ہر قسم کا تعاون کر نا چاہیے۔اسکے ساتھ ہر ڈرائیور کو اپنے پاس ٹریفک قوانین کا کتابچہ بھی رکھنا چاہیے اور تاکہ اُسکے مطالعہ سے جانا جا سکے کہ ہم کس حد تک ٹریفک کے سلسلے میں آگہی حاصل کرنے کے پابند ہیں۔کیونکہ یہ نہ سوچئے کہ صرف آپکی غفلت حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔بلکہ دوسروں کی غلطیوں کیلئے بھی تیار رہیں اور ان کے رویئے کو فوراً جاننے کی کوشش کریں۔معاملہ چند سیکنڈوں کا ہی ہوتا ہے۔

    Trafic Violations in Pakistan

    0 0


     



    Al-Khidmat Foundation Flood Relief Activities

    0 0


    اس کا شمار پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے1906ء میں یہ پہلے سے تعمیر شدہ میموریل ہال میں قائم کیا گیا تھا۔ آثار قدیمہ کے مشہور و معروف ماہر سرارل سٹین اس کے سب سے پہلے مہتمم تھے۔ یہ عجائب گھر گورنمنٹ ہائوس کے قریب اس بڑی شاہرہ پر واقع ہے جو پرانے شہر کو چھائونی ریلوے اسٹیشن سے ملاتی ہے۔ عجائب گھر کے تین مشہور حصے گندھارا، مسلم اور قبائلی ہیں۔ اس کی شہرت گندھارا آرٹ کے خوبصورت اور قیمتی مجسموں کی مرہون منت ہے یہاں تخت بھائی وغیرہ سے لائے ہوئے مہاتما بدھ کے مجسّمے ملتے ہیں اس کے علاوہ ایسے مجسّمے بھی ہیں جو فن سنگ تراش کا شاہکار ہیں اور مہاتما بدھ کی زندگی کے مختلف پہلوئوں کی عکاسی کرتے ہیں بدھ مت کے بادشاہ اشوک اور کنشک شہنشاہ کی جو غالباً ان سب میں عظیم ترین تھے مہریں اور نقوش نمایاں طور پر ملتے ہیں۔

    مختلف سائز میں پتھر اور پلاسٹر کے بنے ہوئے گوتم بدھ کے مجسّمے اس عجائب گھر کی اہمیت اور شہرت کا باعث ہیں اس میں مختلف دور کے نادر سکوں کا بھی خزانہ موجود ہے تاہم اس کا انمول خزنیہ پشاور کے نواح میں واقع شاہ جی کی ڈھیری سے 1908ء میں آثار قدیمہ کی کھدائی کے دوران ملنے والا کنشک کا زیورات کا صندوقچہ ہے اس منقش صندوقچے میں گوتم بدھ کی ہڈیوں کے تین ٹکڑے پائے گئے تھے انگریزوں نے اسے برما کی بدھ سوسائٹی کو دے دیا تھا جس نے مانڈے کو ایک مقدس زیارت گاہ بنا دیا البتہ یہ نادر صندوقچہ بطور بے مثل یاد گار اس عجائب گھر کی اب تک زینت ہے۔ پشاور عجائب گھر کے زیادہ ذخیرے گندھارا تہذیب سے متعلق ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے یہ علاقے آج سے اڑھائی ہزار برس پہلے بھی کسی عظیم الشان تہذیب کا مرکز تھے۔ سکندر اعظم کے حملے سے پہلے موجودہ وادی پشاور کو گندھارا کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا دارالخلافہ پشکاراوتی تھا جسے ہم آج کل چارسدہ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ واقعہ 327-326 قبل مسیح کا ہے۔ پشاور کے عجائب گھر میں زیادہ مجسّمے چارسدہ سری بہلول، سروان، تخت بھائی، شاہ جی کی ڈھیری اور جمال گڑھی کی کھدائیوں سے دستیاب ہوئے ہیں۔ عجائب گھر میں جو مجسّمے ہیں ہیں ان سے رائج الوقت رسم و رواج کے متعلق بہت معلومات فراہم ہوتی ہیں۔

     ان کے عقائد ان کی پوشاک ہمیں تصویروں کی شکلوں میں نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی فنی قابلیت کے متعلق بھی علم ہو جاتا ہے مثال کے طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ آرٹ کے اعتبار سے بڑی مجسموں کے کان اور پیشانی فنی لحاظ سے قابل تعریف نہیں۔ مہماتما بدھ کے مجسّمے سب سے پہلے گندھارا ہی میں بنائے گئے اور بعد میں جنوبی ہندوستان میں ان مجسموں پر مزید ترقی کی گئی۔ امیر سے لے کر غریب تک کی پوشاک اور حالت کا اندازہ ان مجسموں سے لگایا جا سکتا ہے گھروں کے حالات، جنگ کے ہتھیاروں زرہ بکتر، ہیرے جواہرات، ہودے، گاڑیاں رتھیں، گھوڑے، ان کے سازو سامان، زراعتی اوزار اور موسیقی کے آلات بھی دکھائے گئے ہیں۔ لوگ کام کرکے کھیلتے، عبادت کرتے شادیوں میں مشغول قربانیاں ادا کرتے وغیرہ جیسی حالتوں میں نظر آتے ہیں۔ عام رسومات میں رقص کرتے ہوئے، گانے والے سیاح، پہلوان اور ڈاکو وغیرہ بھی اپنی اپنی جگہ اہمیت واضح کرتے ہیں۔

     یہ مجسّمے دلچسپ واقعات رومان اور عقیدت سے لبریز دکھائی دیتے ہیں۔ عجائب گھر میں جو دوسرے مجسّمے ہیں ان سے عجیب و غریب حالات کا پتہ چلتا ہے۔ عجائب گھر میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ کو ہر بتی اور زرخیزی کی دیوی اس کے بچے اور پنچیکا کے بڑے مجسّمے ہیں۔ پشاور عجائب گھر گندھارا کے بہترین ذخائر کا مجموعہ رکھتا ہے ان واقعات کے علاوہ عجائب گھر میں پرانے سکے موجود ہیں ایک طرف قدیم کتبے ہیں۔ پتھر میں کندہ کتبے کسی کنوئیں کی تعمیر کی یاد گار ہیں پرانے زمانے کے مٹی کے برتن جن پر نقش و نگار بھی ہیں قدیم صنعت کاروں کی فنی قابلیت کا پتہ دیتے ہیں۔  ٭

    Peshawar Museum

    0 0


    آپ ہر روز بہت سے کام کرتے ہیں۔ یہ کام آپ کی مثبت سوچ کے اثر سے سرانجام پاتے ہیں۔ آپ کو مسلسل ذہن سے تجاویز ملتی رہتی ہیں اس طرح آپ نے ذہن میں اپنے بارے میں جو کچھ پروگرام بنا رکھا ہوتا ہے وہ عمل میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر آپ انپے بارے میںعمومی طور پر سوچیں گے کہ آپ مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں تو ویسی ہی صلاحیتیں اور خوبیاں آپ کے ذہن میں بننا شروع ہو جائیں گی۔ آپ نے اپنے ذہن میں اپنی زندگی کے متعلق جو تصور بنا رکھا ہے کہ آپ کا گھر کیسا ہوگا۔ آپ کا کام کیسا ہوگا، آپ کی صحت کیسی ہوگی اور آپ کا معیارِ زندگی کیسا ہوگا؟ یہ وہ خواب ہیں جو آپ دن میں بھی دیکھتے ہوں گے اور ایسے ہی احساسات آپ رکھتے ہوں گے یہ سارا کچھ آپ کی آئندہ زندگی کا لائحہ عمل آپ کے ذہن میں تیار ہوتا ہے اور پھر آپ کے لاشعور میں یہ سب کچھ جمع ہو جاتا ہے اور اس کے بعد عملی زندگی میں یہ سب کچھ آپ کے لیے حقیقت بن جاتا ہے:   

     آپ کے تخیل میں آپ کی آئندہ زندگی کی تصویر: سب سے پہلے آپ کے ذہن میں وہ تصویر ابھرتی ہے جو کچھ کہ آپ بننا چاہتے ہیں۔ انسان کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ ذہنی تصور کے طاقت ور طریقے سے جیسا چاہے بن سکتا ہے۔ پھر یہ آپ کے ذہنی تصورات آپ کے لیے حقیقت بن جاتے ہیں آپ کی شدید خواہشات اور آپ کے پختہ یقین سے آپ اپنی قوت ارادی کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے مستقبل کو تعمیر کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں بہت زیادہ طاقت ہے جس سے کام لے کر آپ زندگی کا لائحہ عمل تیار کر سکتے ہیں۔ آپ کے ذہنی تصور میں مستقبل کی تصویر کشی کے چار عناصر ہیں۔ ان عناصر میں پہلا عنصر فریکوئنسی ہے۔ یہ آپ کے ذہنی تصور کو مستقبل کی کامیابی اور رویے کو مثبت کرنے میں طاقتور کردار ادا کرتی ہے یہ فریکوئنسی آپ کی سوچ، آپ کے احساسات اور آپ کے عمل کو بھی مثاتر کرتی ہے۔ جو لوگ غیر معمولی کارنامے سرانجام دیتے ہیں وہ اسی فریکوئنسی کی طاقت سے اپنے ذہنی تصور میں مستقل مثبت نتائج حاصل کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر وقت سوچتے رہتے ہیں کہ جو کچھ وہ چاہتے ہیں وہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ وہ اپنی ذہن کی تصویر پر اپنے مستقبل کے مناظر کو عموماً دیکھتے رہتے ہیں۔ دراصل اس فریکوئنسی کی مدد سے آپ اپنے ذہن کی تصویر کو ہی صاف نہیں دیکھ سکتے بلکہ اس سے آپ کے اندر خواہش بھی شدید ہو جاتی ہے اور آپ کا یقین بھی پختہ ہو جاتا ہے۔ دوسرا عنصر آپ کے ذہن کی تصویر کا واضح ہوتا ہے اگر آپ کے ذہن میں مستقبل کی کامیابیوں کی واضح تصویر ہوگی تو پھر بڑی تیزی سے آپ کی خواہش کے مطابق نتائج برآمد ہوں گے۔ 

    آپ نے اکثر تجربہ کیا ہوگا کہ آپ کو جس چیز کی شدید خواہش ہوتی ہے آپ اس کے بارے میں زیادہ شدت سے سوچتے ہیں اور پھر آپ کے ذہن میں اس چیز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ خواہش پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آپ کے ذہن میں اس کا واضح تصور ابھرنا شروع ہو جاتا ہے اس حالت میں اگر آپ اپنی آنکھیں بند کریں تو آپ اپنی اس خواہش کے مطابق اپنے مقصد کی تمام جزویات کو واضح طورپر دیکھ سکیں گے۔ یہ واضح تصور آپ کو ہر صورت میں کامیابی کے قریب لے جاتا ہے۔ کامیاب لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق واضح تصور رکھتے ہیں لیکن ناکام لوگ اپنے اس تصور میں واضح طور پر اپنی کامیابی کو دیکھ ہی نہیں سکتے اس طرح ان کی ذہنی صلاحیتیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں لیکن اگر ہم اپنے مقصد کو ذہن کی تصویر میں واضح طور پر دیکھ لیں تو پھر بہت سے ذہنی قوانین حرکت میں آ جاتے ہیں اور آپ کی خواہش کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیتے ہیں۔ تیسرا عنصر آپ کے ذہنی تصور کی شدت ہے۔

     اس سے آپ کے جذبات میں اور آپ کے ذہنی تصور میں ایک خاص ربط پیدا ہو جاتا ہے۔ جس قدر آپ کی خواہش شدید ہوگی اس قدر آپ کی ذہنی صلاحیتیں آپ کے مقصد کے حصول میں تیزی سے عمل کرنا شروع کر دیں گی۔ اس سے آپ کی ذہنی طاقت سے زبردست لہریں پیدا ہوںگی جو آپ کی تمام ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو مضبوط بنا دیں گی۔ والڈو ایمرسن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی مقصد شدید جذبے کے بغیر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ناکام لوگ اپنے اندر خواہشات کی شدت کا فقدان ہونے کی وجہ سے ناکام رہتے ہیں کیونکہ جذبے کی شدت کی کمی ان میں بہت کم توانائی پیدا کرتی ہے جس سے ان کی صلاحیتیں متحرک نہیں ہوتیں۔ چوتھا عنصر آپ کی ذہنی تصویر کا دورانیہ ہے جس قدر آپ کے ذہن کی تصویر کا دورانیہ طویل ہوگا اس قدر آپ کی خواہش شدید ہوگی اور آپ کے لاشعور میں آپ کے حصول مقصد کی تصویر زیادہ گہری ہوتی چلی جائے گی اور اس سے آپ کا ذہنی تصور تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہو جائے گا۔ کیا آپ ایک نئی کار چاہتے ہیں؟ اس کے لیے آپ کار ڈیلر کے پاس جائیں اور اس سے نئی کار لے کر چلائیں۔ اس کے بعد اس کار کا معلوماتی کتابچہ گھر لے آئیں اور اس کار کی تصویریں جگہ جگہ چپکا دیں جہاں آپ کی نظر پڑتی رہے۔

     اس طرح سب عناصر اس وقت کام کرنا شروع کر دیں گے یعنی فریکوئنسی، ذہنی تصویر کا واضح تصور، شدید خواہش اور ذہنی تصویر کا دورانیہ۔ پھر آپ کے لیے ایسے حالات بننا شروع ہو جائیں گے کہ آپ کے اندر تمام چھپی ہوئی صلاحیتیں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی اور آپ اپنے اندر اس قدر مثبت جذبہ محسوس کریں گے کہ مطلوبہ کار کے آپ مالک بن جائیں گے۔ بہت زیادہ کامیاب لوگ اپنے اندر اس صلاحیت کو پیدا کر لیتے ہیں اور بار بار ایسی کامیابیوں سے گزرنے کے بعد وہ واضح طور پر اپنے مستقبل کے منصوبوں کو دیکھ لیتے ہیں اور پھر یقین کی قوت سے وہ اپنے اس ذہنی تصور کو حقیقت کا روپ دے لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے لوگ عام پبلک میں تقریر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ وہ بہت سے ناظرین کے سامنے کھڑے ہی نہیں ہو سکتے دراصل یہ ان کے اندر کا خوف ہوتا ہے لیکن اس خوف پرذہنی پروگرامنگ کی تکنیک سے قابو پایا جا سکتا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنے متعلق سوچیں کہ آپ بھی عام انسانوں کی طرح ایک باصلاحیت انسان ہیں۔ پھر خیال کریں کہ اگر آپ نے بہت اچھی گفتگو کی تو لوگ آپ کی تعریف کریں گے۔ اس کے لیے عملی طور پر پہلے تو آپ اپنے دوستوں یا خاندان کے افراد کے سامنے تقریر کرنے کی مشق کریں۔ اپنے جذبات کو پُرسکون رکھیں، اپنے اندر عتماد پیدا کریں اور یہ تصور کریں کہ آپ دوسرے لوگوں سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ آپ سے کم معلومات رکھتے ہیں یہ حقیقت آپ کو زیادہ اعتماد دے گی اور آپ اپنے آپ پر فخر کریں گے۔

     اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ جو لوگ بھی کسی مقرر کی تقریر سننے آتے ہیں وہ اپنی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس بہت زیادہ معلومات ہیں، علم ہے، تجربہ ہے اور آپ یہ سب کچھ دوسروں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ جب یہ سب کچھ آپ کے تصور میں ہوگا تو آپ کو سامعین سے زیادہ داد ملے گی۔ جس سے آپ کا مورال بلند ہوگا اور آپ کا اعتماد بڑھے گا۔ آپ اپنے ذہن سے ناکامی کے تمام منفی خیالات جھٹک دیں تو پھر آپ اپنے آپ کو پرسکون، پر اعتماد محسوس کریں گے۔ آپ اپنے ذہن کی مثبت صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے تو تمام حالات آپ کے حق میں ہوتے جائیں گے۔ آپ کا خوب آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گا اور آپ اعتماد سے دوسرے لوگوں کو اپنے علم اور معلومات سے مستفید کرتے جائیں گے۔ -2 مثبت گفتگو: ذہنی پروگرام کی دوسری تکنیک مثبت گفتگو کا استعمال ہے۔ یہ مثبت گفتگو تین بنیادی حوالوں سے ہونی چاہیے۔

     مثبت گفتگو میں طاقتور الفاظ کا استعمال ضروری ہے اس سے آپ کے لاشعور اور تحت الشعور میں تبدیلی پیدا ہوگی۔ گھٹیا اور فرسودہ گفتگو سے پرہیز کریں۔ مثبت عادات، مثبت خیالات اور مثبت رویے کو اپنانا ضروری ہے۔ ’’ میں اپنے آپ کو پسند کرتا ہوں‘‘ یہ فقرہ مثبت فعل حال اور اپنی ذات کے متعلق ہے۔ جب اس فقرے کو بار بار دہرائیں گے تو آپ اپنے متعلق بہتر محسوس کریں گے۔ آپ جو کوئی بھی کام کریں گے بہتر ہوگا۔ اس سے آپ کا ذاتی وقار بڑھے گا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کے ذہن میں بہت زیادہ طاقت ہے۔

     اس فقرے کو بار بار دہرانے سے یہ آپ کے لاشعور کا حصہ بن جائے گا اور اس سے آپ کی ذات اور شخصیت میں فوراً تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو جائیں گی اس سے آپ کا جذبہ اور حوصلہ بڑھے گا۔ آپ خودپر قابو پانے کی صلاحیت کو بڑھا سکیں گے۔ آپ کے لاشعوری ذہن پر بہت طاقتور اثر پڑے گاوہ اثر آپ کے یقین کی طاقت کا ہوگا جوکہ آپ اپنی ذات کے متعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ کہیں گے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا یا میں سال میں تین سو ڈالر سے زیادہ نہیں کما سکتا تو یہی چیز آپ کا ذاتی تصور بن جائے گا اور اسی کے مطابق آپ کو نتائج ملیں گے۔ آپ کے ذاتی تصور سے بھی آپ کی ذات کے اندر تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہی کچھ آپ کو خارجی ماحول میں ملتا ہے۔ آپ کا لاشعوری ذہن بہت ہی سادہ ہے۔ آپ اس میں جو بھی بات رکھنا چاہتے ہیں وہ اپنی سوچ کے ذریعے رکھ سکتے ہیں۔ آپ جو مثبت گفتگو کرتے ہیں اس سے آپ سکون محسوس کرتے ہیں۔ آپ کا لاشعوری ذہن سادہ اور مثبت الفاظ کو بہت جلدی قبول کر لیتا ہے۔ 

    مثال کے طور پر اگر میں کہوں کہ اب میں مزید سگریٹ نوشی نہیں کروں گا تو یہ ایک منفی فقرہ ہوگا اور اس کا تعلق مستقبل سے ہوگا لیکن اگر آپ بہت ہی سادہ فقرہ کہیں کہ میں اب سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو یہ فقرہ سادہ مثبت اور فعل حال سے تعلق رکھتا ہے اور پہلے فقرے کی نسبت بہت زیادہ طاقتور ہے تو ایسے ہی سادہ اور مثبت فقرات سے آپ اپنے ذہنی لاشعور میں زبردست تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں۔ ہم سگریٹ نوش حضرات کے ساتھ عموماً کئی قسم کے دلچسپ تجربات کرتے رہتے ہیں لیکن سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نوشی کو چند دن کے لیے ترک کرکے پھر شروع کر دیتے ہیں۔ 

    مجھ سے ایک گریجویٹ لڑکا ملنے آیا اس نے کہا کہ میں سگریٹ چھوڑنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ سادہ سے الفاظ ہر روز دہرایا کریں کہ میں سگریٹ نہیں پیتا۔ وہ روزانہ دو ماہ تک یہ الفاظ دہراتا رہا اور دو ماہ کے بعد اس کی یہ عادت چھوٹ گئی۔ آپ کسی بھی عادت کو ایک دو دن میں تبدیل نہیں کر سکتے اس کے لیے آپ کو صبر، مثبت گفتگو اور مثبت رویہ کی ضرورت ہوگی۔ -3اونچی آواز میں پکارنا: اپنے ذہن کو قابو میں رکھنے کے لیے اور اس سے طاقتور نتائج حاصل کرنے کے لیے تیسری، تکنیک اونچی آواز سے پکارنا ہے یعنی آپ دوسروں کے ساتھ اونچی آواز میں بات کریں یا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بہت ہی صاف اور جذباتی آواز میں کہیں ’’میں یہ کام کر سکتا ہوں! میں یہ کام کر سکتا ہوں! میں یہ کام کر سکتا ہوں! ‘‘یہ بہت ہی طاقتور الفاظ ہیں جو آپ کے اندر اعتماد پیدا کریں گے اور آپ مستقبل میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کر سکیں گے۔ جب آپ دوسروں سے بار بار کہیں گے کہ آپ یہ کام کر سکتے ہیں یا آپ یہ کام کر سکیں گے اس سے آپ کے ذہن پر ایک طاقتور اثر پڑے گا اور آپ کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے گی کہ آپ ہر کام کر سکتے ہیں۔ کئی کھلاڑی کھیل سے پہلے آپس میں اونچی آواز میں یک آواز ہو کر کہتے ہیں ہم جیتیں گے، ہم جیتیں گے۔

     اس طرح ان کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ انہیں جیتنا ہے اور پھر وہ جیت جاتے ہیں۔ آپ روز مرہ کی گفتگو میں ایسے الفاظ مت استعمال کریں جو ڈر اور خوف پیدا کریں بلکہ ایسے الفاظ استعمال کریں جو مثبت ہوں۔ ہمیشہ محتاط رہیں کہ آپ کو منفی الفاظ کا استعمال نہیں کرنا تو پھر آپ ایسی کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے جوکہ لامحدود ہوں گی۔

      عمل کرنا: ذہنی پروگرامنگ کی چوتھی تکنیک ایسا ہی عمل کرنا ہے جیسا کہ آپ اپنی خواہش کے مطابق بننا چاہتے ہیں۔ آپ اپنے ذہن میں تصور کریں کہ آپ ایسا ہی شخص بن چکے ہیں جیسا بننا چاہتے ہیں اپنی چال ڈھال کو ایسا بنا لیں۔ اپنے رویے کو بھی ایسا ہی بنالیں۔ آپ ایسا عمل کریں کہ جیسے آپ کی ہر کوئی عزت کرتا ہے احترام کرتا ہے۔ آپ اپنے ذہن میں ایسا ہی محسوس کریں کہ بنک میں آپ کی بہت بڑی رقم ہے۔ اس تکنیک سے آپ بہت ہی طاقتور نتائج حاصل کریں گے۔ اس قانون کا کہنا ہے کہ جب آپ مثبت اور پرامید محسوس کرتے ہیں تو آپ کے احساسات ایسے عمل اور رویوں کو پیدا کرتے ہیں جوکہ پرامید اور مثبت ہوتے ہیں۔ اس تکنیک سے آپ اپنے عمل کو اپنی خواہش کے مطابق بننے والے فرد کے حوالے سے بنالیں گے تو یہ آپ کی ذات کے اندر ویسی ہی خصوصیات پیدا کرنا شروع کر دے گا۔ اس سے آپ کے حوصلے، اعتماد اور ذہانت میں بے پناہ اضافہ ہوگا اور آپ کے اندر ویسی ہی صلاحیتیں پیدا ہونا شروع ہو جائیں گی۔ ان چاروں تکنیکوں کے استعمال سے آپ اپنے ذاتی تصور کو مکمل طور پر تبدیل کرلیں گے اس سے آپ کی شخصیت میں بھی تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔

     ذہنی غذا: اس تکنیک کے حوالے سے آپ الفاظ، تصورات اور خیالات سے مسلسل اپنے ذہن کو خوراک دیتے رہتے ہیں۔ آپ جو کتابیں اور رسالے پڑھتے ہیں، جو کچھ ذاتی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے سیکھتے ہیں، اس سے آپ کی ذات کی نشونما ہوتی ہے۔ اس طرح آپ جو بھی ہنر، فن یا علم سیکھتے ہیں یہ سب کچھ آپ کی ذہنی غذا کا حصہ ہے۔ اس لیے آپ کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے۔ زیادہ سے زیادہ سننا چاہیے۔ اپنے مشاہدے اور تجربے کو وسیع کرنا چاہیے۔ اپنے مخصوص دلچسپی کے موضوع کو زیادہ سے زیادہ معلومات کے ذریعے بہتر کرنا چاہیے۔ اس سے آپ کا اعتماد بڑھے گا اور آپ کی صلاحیتیں زیادہ سے زیادہ موثر ہوں گی۔ اس لیے اپنے ذہن کی خوراک کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہنا چاہیے اس سے آپ کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا ہو کر آپ کو مثبت نتائج دیں گی۔

      مثبت قسم کے لوگوں سے تعلق رکھنا: چھٹی تکنیک بہت ہی سادہ ہے کہ آپ اپنے اردگرد رہنے والے ان لوگوں سے تعلق رکھیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں اور کامیاب لوگ ہوں۔ انگریزی میں کہاوت ہے۔ "Fly with the eagles rather than scratching with the turkeys"اچھے، مثبت، نیک اور کامیاب لوگوں کا آپ پر اثر بہت گہرا پڑتا ہے۔ اس لیے آپ کو محتاط رہنا چاہیے کہ آپ ایسے لوگوں سے تعلق نہ رکھیں جو منفی سوچ رکھتے ہوں، اپنا وقت ضائع کرتے ہوں اور زندگی میں ناکام ہوں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ نے پچیس سالہ تحقیق کے بعد نتائج اخذ کئے کہ برے لوگوں کے ساتھ رہنے سے ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جوکہ ناکامی کی طرف لے جاتی ہے یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص اپنے دوستوں کی محفل کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ کے رویے، آپ کے تصورات اور آپ کاکردار معاشرے کا مرہون منت ہوتا ہے۔

     جیسا آپ کا معاشرہ اور آپ کے دوست ہوں گے ویسے ہی اثرات آپ کی ذات میں نمودار ہوں گے۔ اس لیے آپ کو اچھے، مخلص، کامیاب اور مثبت لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیے جن کے ساتھ آپ وقت گزار سکیں۔ آپ کے دوست، احباب آپ کی کامیابی کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی معیت سے آپ طاقتور اثرات حاصل کرتے ہیں۔

       دوسروں کو سکھانا: آپ نے جو کچھ سیکھا ہے اگر وہ آپ دوسروں کو سکھائیں گے تو اس سے آپ کی ذہنی استعداد بڑھے گی۔ آپ کو اس سکھانے کے عمل میں اپنی ذات کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے جس سے آپ بلا ارادہ اور لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں بہت سے مثبت خیالات کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ دوسروں کو کوئی بات سمجھاتے ہیں تو پہلے اس بات کو خود سمجھتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو سکھانے سے آپ کے اعتماد میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کے اندر نئی عادات، نئے تصورات، نئے خیالات ابھرتے ہیں جو آپ کی ذات کی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اس سے آپ نئی عادات اپنا سکتے ہیں اور پرانی عادات سے پیچھا چھڑا سکتے ہیں۔ آپ اپنے ماضی کو بھلا کر نیا مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔

     (برائن ٹریسی کی کتاب ’’اعلیٰ کامیابی کا حصول‘‘ سے ماخوذ)

    How to Improve Your Life

    0 0


      اگست کو لاہور سے نکلنے والے ہجوم میں ایک بڑی تعداد خواتین کی تھی۔ یہ خواتین آزادی و انقلاب مارچ کا حصہ تھیں جن کی تعداد ہزاروں میں ہے، لاہور سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد مردوں کے ساتھ ان ہزاروں خواتین کو بھی سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ موسلا دھار بارش، سخت گرمی، نامساعد حالات میں یہ ہزاروں خواتین جن میں ایک بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں کی بھی ہے انتہائی منظم انداز میں ایک ماہ سے اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    پارلیمنٹ کے سامنے سے انھیں ہٹانے کے لیے پولیس نے طاقت کا استعمال کیا اس سے جہاں کچھ لوگ جاں بحق ہوئے وہیں لوگ شدید زخمی بھی ہوئے۔ اس خوفناک تشدد کی فضا میں جہاں آنسو گیس کے شیلوں کی بارش ہو رہی تھی خواتین کی پریشانی کا سبب وہ بچیاں تھیں جو اس بھگڈر میں بچھڑ گئی تھیں۔ مائیں اپنی بچھڑی ہوئی بچیوں کو ڈھونڈ رہی تھیں اور پنجاب پولیس ان پر بارش کی طرح آنسو گیس کے شیل برسا رہی تھی۔

    موسلا دھار بارش جھلسا دینے والی دھوپ آنسو گیس کے گولوں کی بارش اور بھوک کی شدت کے باوجود مردوں کے ساتھ یہ ہزاروں خواتین اب تک ڈٹی ہوئی ہیں۔ وہ کون سا جذبہ ہے جس نے انھیں ان شدید مشکلات کے باوجود روکے رکھا؟ وہ نہ صرف ڈی چوک میں موجود ہیں بلکہ اپنی ثابت قدمی اپنی جرأت اپنی استقامت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بھنگڑا بھی ڈال رہی ہیں۔ رقص بھی کر رہی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بنا کر پارلیمنٹ کے اندر پناہ لیے جمہوریت پسندوں کو بتا رہی ہیں کہ فتح آخر کار حق اور انصاف کی ہو گی۔

    حیرت ہے کہ جبہ و دستار سے آوازیں آ رہی ہیں کہ یہ عورتیں ہماری اخلاقی زندگی کو تباہ کر رہی ہیں یہ ناچ رہی ہیں یہ گا رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان خواتین کی جرأت اور بہادری کو خراج تحسین پیش کیا جاتا لیکن الٹا ان کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں۔
    آج سے 225 سال پہلے کے فرانسیسی عوام کو بھی ایسے ہی ظالموں کا سامنا تھا جس قسم کے ظالموں کا پاکستان کے غریب عوام کو 67 سال سے سامنا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں اصلاحی تحریک کی کامیابی کے بعد یورپ میں کلیسائی نظام کا تو خاتمہ ہو گیا لیکن کلیسائی نظام کے بعد یورپ میں جو مطلق العنان بادشاہتیں قائم ہو گئیں ان کے خلاف عوام میں بے چینی بڑھنے لگی بادشاہتوں کے محافظ اور لوٹ مار میں بادشاہوں کے اتحادی امرا اور جاگیرداروں کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے تھے ٹیکسوں کی بھرمار روٹی سے محرومی کا عالم یہ تھا کہ فرانس کے احتجاجی عوام سڑکوں پر ’’روٹی سستی کرو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے اور ملکہ کہہ رہی تھیں کہ روٹی نہیں ملتی تو عوام کیک کیوں نہیں کھاتے۔ بادشاہوں کی مطلق العنانی کا عالم یہ تھا کہ عدالتی عہدے کھلے عام فروخت ہوتے تھے۔

    بادشاہوں کی مطلق العنانی کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے اس نام نہاد قومی اسمبلی کا اجلاس بھی 1614ء کے بعد 1789ء تک یعنی 175 سال تک بلانے کی زحمت نہیں کی۔ جب 1789ء میں عوام سڑکوں پر نکل آئے تو 175 سال بعد اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ اسمبلی کو اس طرح تشکیل دیا گیا تھا کہ اس کے کل 1214 ارکان میں امرا اور جاگیرداروں کی تعداد 285 تھی۔ پادریوں کی تعداد 308 اور عوامی نمایندوں کی تعداد تو 621 تھی لیکن فیصلے کثرت رائے کے بجائے طبقاتی اکثریت پر کیے جاتے تھے۔

    یعنی امرا اور پادری جس فیصلے کو منظور کرتے وہی فیصلہ مسلط کر دیا جاتا، عوام اپنی اکثریت کے باوجود فیصلے کرنے سے معذور تھے۔ اس پارلیمانی دھاندلی کے خلاف عوام ڈٹ گئے اور بادشاہ کی محکوم پارلیمنٹ کے خلاف عوام کی اسمبلی بلائی بادشاہ نے اس اسمبلی کو روکنے کے لیے اسمبلی کے دروازے بند کرا دیے۔ عوام نے ایک ٹینس کورٹ میں اسمبلی کا اجلاس بلا لیا۔ عوام نے 9 جولائی 1789ء کو عوامی اسمبلی کو آئین ساز اسمبلی بنانے کا اعلان کر دیا۔

    بادشاہ لوئی ملکہ میری انتوینت سازشوں میں مصروف رہے 14 جولائی 1789ء کو یہ افواہ پھیلی کہ سرکاری فوجیں ’’باغیوں‘‘ پر حملہ کرنے کے لیے آ رہی ہیں۔ عوام سرکاری فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مورچہ بند ہوگئے لیکن پتا چلا کہ جو فوجیں آ رہی ہیں وہ بادشاہ سے بغاوت کر کے عوام کا ساتھ دینے آ رہی ہیں ۔یہ خبر انقلابیوں کے لیے بہت بڑی خوش خبری بن گئی اور عوام نے فوج کا بھرپور استقبال کیا۔ 14 جولائی کو عوام گروہ درگروہ سڑکوں پر نکل آئے جن میں خواتین بہت بڑی تعداد میں شامل تھیں۔

    اس دور میں فرانس میں Bastille بیستل کا قلعہ ہمارے لاہور کے قلعے کی طرح مشہور تھا اس قلعے میں سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد مقید ہونے کی افواہ تھی۔ مظاہرین کا رخ بیستل کی طرف ہو گیا۔ انھوں نے بیستل پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑا لیا۔ بیستل کی حفاظت پر معمور فوج کو قتل کر دیا گیا۔ 14 جولائی کا یوم آزادی امریکا کے 4 جولائی 1776ء کی طرح فرانس کی تاریخ میں یادگار بن گیا۔ بیستل کی فتح کی خبر جب فرانس کے کسانوں کو پہنچی تو انھوں نے جاگیرداروں اور امرا کی بستیوں کا رخ کیا اور فرانس کی سڑکیں جاگیرداروں اور امرا کے خون سے سرخ ہو گئیں۔

    16 جولائی کو پیرس کے بھوکے عوام جن کی قیادت خواتین کر رہی تھیں، روٹی کی قلت اور مہنگائی کے خلاف ملکہ ماری انتوینت کے محل کی طرف چل پڑیں، خواتین نے ملکہ کے محل کا محاصرہ کرلیا اور محل کے اندر گھس گئیں۔ عوام کی طاقت سے خوفزدہ بادشاہ نے اپنی کٹھ پتلی اسمبلی سے ایک قانون پاس کرالیا جس کے ذریعے مظاہروں کو روکنے کے لیے مسلح طاقت استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس قانون سے عوام خوفزدہ ہونے کے بجائے اور مشتعل ہوگئے اور سارا فرانس اس انقلاب فرانس کی طرف آ گیا ۔ اس انقلاب کی ایک کمزوری یہ تھی کہ نہ اس کی کوئی نظریاتی قیادت موجود تھی نہ اہداف متعین تھے جس کی وجہ سے یہ انقلاب وہ نتائج حاصل نہ کرسکا جو اتنے بڑے انقلاب کا نتیجہ ہوسکتے تھے۔

      اگست سے شروع ہونے والی اس تحریک کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس تحریک نے ملک کے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اس میں ذرہ برابر ابہام موجود نہیں کہ 14 اگست سے شروع ہونے والی اس تحریک کو ملک کی خاموش اکثریت کی مکمل حمایت حاصل ہے لیکن وہ اس تحریک میں عملاً اس لیے شریک نہیں کہ انھیں باہر لانے کی کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی، اس تحریک کو ملک کے تمام شہروں تک اسی طرح وسیع کرنے کی ضرورت تھی جس طرح 1968ء اور 1977ء میں کی گئی تھی لیکن بوجوہ ایسا نہ کیا جا سکا جس کی وجہ یہ احتجاج ڈی چوک تک محدود رہا اور وہ نتائج حاصل نہیں کر پا رہا ہے جو حاصل ہونا چاہیے تھے۔

    سرکار دربار کی طرف سے اپنے مڈل کلاس مجاہدین کے ساتھ مل کر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ سب ایک ڈراما ہے اور تیسری قوت اس ڈرامے کی ڈائریکٹر ہے اگر تیسری قوت اس ڈرامے کی ڈائریکٹر ہوتی تو نہ اب تک یہ ڈراما جاری رہتا نہ حکمران بار بار تیسری قوت کی خدمت میں حاضر ہو کر دھرنوں سے نجات دلانے کی درخواستیں کرتے۔ اگر بہ فرض یہ کسی اور کا اسکرپٹ ہے بھی تو اس اسکرپٹ کی وجہ سے ملک میں 67 سال سے مسلط اشرافیہ کی چولیں ہل گئی ہیں۔

    طبقاتی تضادات اور واضح ہو گئے ہیں اور اگر دھرنے والے اپنے اہم مطالبات منوا لیتے ہیں تو حقیقی تبدیلیوں کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہیں۔ ڈی چوک اگرچہ تحریر اسکوائر بھی نہ بن سکا لیکن ڈی چوک میں بیٹھی ہوئی بہادر خواتین فرانس کے قلعہ بیستل کی فاتح خواتین سے کم جرأت مند نہیں۔

    ظہیر اختر 
    بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس






     


    0 0



    نواز شریف کی مقبولیت کا ثبوت پاکستان کا پانچ ہزار کا نوٹ ہے ۔قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ کسی اور کا نا م لکھا جانا بھی پاکستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے ۔نواز شریف کا نام قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ لکھنے کی تحریک نواز شریف کے لئے اعزاز ہے جبکہ ”گو گو“کسی نام کے ساتھ بولا جائے تو انگریزی میں اس سے ”جوش و ولولہ“ کا اظہار لیا جاتا ہے ۔انگریزی میں اس انداز تکلم کو عمومََاکھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔”گو ٹائیگر گو“۔۔۔”گو مشرف گو ،گو زرداری گو“ اور اب ”گو نواز گو“ اور یہ ”گو گو “ سیاستدانوں کے لئے ہمیشہ مبارک ثابت ہوا ہے۔نہ مشرف گیا ،نہ زرداری گیا اور نہ ہی نواز کے جانے کی امید ہے البتہ طاہر القادری پاکستانی کرنسی ضائع کر رہے ہیں۔غربا کو مزید غریب کرنے کی مہم چلانا چاہتے ہیں۔جس انداز سے ”گو نواز گو “ کے نعرے لگوا رہے تھے ،یقین مانئے ان کے حال پر رحم آرہا تھا۔
    اچھا خاصا عالم دین ،دیوانہ ہو گیا ہے۔عجیب ہیجانی کیفیت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

    خان اور قادری ذہنی توازن کھو رہے ہیں۔ایک خاتون نے اپنے شوہر سے لاڈ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں مر گئی تو آپ کیا کریں گے؟ شوہر نے کہا ’میں پاگل ہو جاﺅں گا“ بیوی نے کہا ’آپ دوسری شادی تو نہیں کریں گے ؟ شوہر نے کہا ’پاگل کچھ بھی کر سکتا ہے‘۔ قادری اور خان کے اعلانات و بیانات دیکھ کر ان کے پاگل پن میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ جنونیت خوفناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔قادری کرتب دکھا کر کینیڈا لوٹ آئیں گے مگر خان پٹھان ہے۔ شیخ رشید عید سے پہلے خان کی قربانی لے چکا ، اب اس کی جان کے درپے ہے تا کہ زرداری کی طرح ”تعزیت “ کے ووٹوں پر اقتدار حاصل کر سکے۔ہم واحد قلم کار ہیں جو دھڑلے کے ساتھ لکھتے رہے کہ عمران خان کالفٹر سے گرنا حادثہ نہیں سازش کی ہے ۔موجودہ صورتحال کے تناظر میںماضی کے کچھ واقعات و حادثات کا جائزہ لیا جائے تو ناپاک عزائم واضح طور پر دکھائی دےنے لگیں گے۔ ”محسن جمہوریت“ جاوید ہاشمی کے بیانات کو بھی سامنے رکھا جائے تو تمام کھیل سمجھ آجائے گا۔

    شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید نے عمران خان کو استعمال کرنے کی سازش تیار کی تھی۔عمران خان کو لفٹر سے دھکا دے دیا گیا تا کہ خان کی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے ،زندگی بھرکے لئے معذور ہو جائے اور یہ شیطان ٹولہ ہمدردی اور عیادت کے ووٹوں پروزارت اعظمیٰ حاصل کر سکے۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے عمران خان کو ”مہلت“ دے دی لیکن خان نے روحانی مہلت کو سیاسی داﺅ پر لگا دیا۔اس نے سیاسی خود کشی کا منصوبہ تیار کر لیا مگر اس بار لفٹر کا کردار جاوید ہاشمی نے ادا کر دیا اور خان کو اتنا برا دھکا لگا کہ اٹھارہ سالہ سیاست چکنا چور ہو گئی ۔ شیخ رشید ،شاہ محمود قریشی شرمناک طریقے سے بے نقاب ہو چکے ہیں مگر شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ خطرناک لوگ ہیں، اس بار سازش خان کی زندگی کے خلاف تیار کی جا رہی ہے ۔حکومت سے انتقام میں شدت آ چکی ہے۔ ”تعزیت“ کی سیاست تیار کی جا رہی ہے۔ شیخ رشید کو ہر صورت قربانی چاہیے اور وہ بھی عید سے پہلے ۔”الزام خان“ کو وہ سب کچھ بیان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اندر خانے پک رہا ہے ۔ہم نے لکھا :”واجاں ماریاں بلایا کئی وار میں ،تے کسے نے میری گل نہ سنی “۔۔۔

    جاوید ہاشمی نے تشریح بیان فرما دی۔ ہم نے لکھا ”کس منہ سے واپس جائیں۔“ جاوید ہاشمی نے آج پھر وضاحت فرما دی کہ ظالموں نے خان کو واپسی جوگا نہیں چھوڑا۔ گزشتہ نو ماہ سے حقائق لکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جاوید ہاشمی بھی ہماری جذباتی کیفیت سے آگا ہ تھے اور عمران خان کو بچانے میں ہاشمی صاحب ہماری امید کی آخری کرن تھے وہ خان کو تو نہ بچا سکے البتہ خود بچ گئے۔ اللہ نے انہیں ضمیر کا غلام بنایا اور پاکستان کو مصر بننے سے بچا لیا ۔شفاف نیت اور ضمیر زیادہ دیر تک آلودگی برداشت نہیں کر سکتا۔ عمران خان کو ہر قیمت پر اقتدار چاہئے تھا جبکہ شیخ رشید ،قادری ،چودھری یہ سب شریف برادران سے انتقام چاہتے تھے۔ ہاشمی صاحب کا یہ جملہ کہ ”اب آپ خوش ہیں ؟ ہماری مہینوں کی ذہنی اذیت کا ترجمان ہے۔ ہم عمران خان کو ضائع ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے لہذا کبھی خان اور کبھی ہاشمی صاحب سے شیخ رشید اور شاہ محمود قریشی سے چھٹکارے کی گزارش کرتے رہتے۔

    عمران خان تو شارٹ کٹ کے چکر میں ضائع ہو چکا مگر اس نے محمد علی جناح کے ملک کی نسلوں کو بھی کسی جوگا نہیں چھوڑا ۔اس قدر نفرتیں ۔۔۔؟ دوست چھوٹ گئے، خاندانوں میں پھوٹ ڈل گئی، بچے بد زبان اور بے لحاظ ہو گئے، پولیس کے خلاف اشتعال، میڈیا کے خلاف اشتعال، جو شخص جمہوریت کی بات کرے اس کے خلاف گالی گلوچ، مبینہ اشتعال اور شرانگریزی پھیلانا ، تکبر، جنونیت، بیزاری، جھوٹ، منافقت، دوغلا پن، الزامات، بہتانات۔۔۔ کچھ بھی نہیں چھوڑا اس شخص نے ۔ نواز حکومت آج جائے کل جائے ،کچھ فرق نہیں پڑے گا البتہ خان نے اٹھارہ سالوں کی محنت کو قادری اور شیخ رشید کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خان کہتا ہے کہ اسے روزانہ دو سو پیغاماے موصول ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم کا استعفیٰ لئے بغیر واپس نہ جانا۔یہ دو سو پیغامات شیخ رشید کے حواریوں کی جانب سے موصول ہوتے ہوں گے ۔یہ لوگ خان کے ہمدرد نہیں بلکہ اندرون و بیرون ملک سے ڈرائینگ میں بیٹھے ہوئے وہ تماشبین ہیں جو خان کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ ہم بتا چکے ہیں کہ ”یہ کم بخت ٹرک ، اس لفٹر سے بھی زیادہ منحوس ثابت ہو گا “۔ شیخ رشید اور اس کے حواری خان کو واپس نہیں جانے دیں گے خواہ اس کے لئے انہیں خان کی جان کی ”قربانی“ لینا پڑے۔

    طیبہ ضیاء چیمہ
    بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت

     


    0 0



    0 0

      

    0 0


    سات ستمبر اتوار کی دوپہر کو جنوبی سرینگر کے علاقے آلوچہ باغ میں خوف اور بےیقینی کا ماحول تھا۔
    میں گھر کے باہر بچاؤ کی سبیل سوچ ہی رہا تھا کہ پانی کا ایک ریلا ہماری کالونی میں برق رفتاری کے ساتھ چلا آیا۔ میرے چیخنے پر میری اہلیہ اور بیٹی باہر نکلے تو میں نے کہا، ’بھاگو!‘ پانی گویا ہمارا تعاقب کر رہا تھا۔
     
    دروازے تک پہنچنے کی دیر تھی کہ صحن میں گھٹنوں تک پانی بھر گیا۔ کچھ لوگ گاڑیوں میں بال بچوں سمیت بھاگنے لگے مگر انھیں اُلٹے پاؤں لوٹنا پڑا کیونکہ دوسری جانب سے بھی سیلابی ریلا آلوچہ باغ کی طرف آ رہا تھا۔
     
    اس بستی میں مسلمانوں کے علاوہ سکھوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ پڑوسی علاقے مہجور نگر میں گگلن کوہلی نامی ایک تاجر طغیانی کی نذر ہو چکا تھا۔ اس کی لاش آخری رسوم کے لیے آلوچہ باغ لائی گئی لیکن پانی لاش کو چتا سمیت بہا لے گیا۔ بچوں کی چیخ پکار اور افراتفری کے عالم میں ہم سب نے قریب ہی واقع پانچ منزلہ سکول میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
    پانچ منزلہ منٹوسرکل سکول کی آخری منزل پر ایک بڑے ہال میں ہم نے چار راتیں گزاریں۔ مسلمانوں کے 11 اور سکھ فرقے کے دس خاندان اپنے گھروں کے قریب ہی واقع اس اونچی عمارت میں محصور ہو کر رہ گئے۔ ان میں بچے، عورتیں اور عمررسیدہ افراد بھی تھے۔ سب لوگ خالی ہاتھ آئے تھے، ظاہر ہے طغیانی سے فرار کے وقت جان بچانا سب لوگوں کی اولین ترجیح رہی تھی۔ جان تو بچی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اب کھائیں گے کیا؟
    پہلی رات تو باتوں باتوں میں بیت گئی۔ صبح ہوئی تو سب کے چہرے فق پڑے تھے۔ جو بھی باہر جھانک کر دیکھتا رو پڑتا۔ کالونی آب آب تھی۔ پانی کی سطح سکول کی دیوار پار کر چکی تھی۔ لیکن اب پانی میں وہ بلا کی طغیانی کا زور نہیں تھا بلکہ ایک خاموش مگر خوفناک ٹھہراؤ تھا۔
    میری 13 سالہ بیٹی تابندہ انجم کئی بار پوچھ چکی تھی: ’پاپا پانی کب اُترے گا؟‘ اس روز فضا میں فوج کے ہیلی کاپٹروں کی گونج تھی۔ ہم نے سُرخ کپڑے لہرائے لیکن ہیلی کاپٹر پاس میں ہی واقع فوجی کیمپ میں کھانے کے پیکٹ گرا کر چلے جاتے تھے۔
    ایک سکھ ساتھی نے کہا: ’ہمارا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ بچوں کا ہے۔‘ میں نے اثبات میں سر تو ہلایا، لیکن اندر سے گویا میں کہہ رہا تھا کہ’جناب مسئلہ سب کا ہے۔‘

    دوسری رات کو پہلی رات کے مقابلے ہال میں خاموشی تھی۔ بچے اب شرارتیں نہیں کر رہے تھے بلکہ غیر متوقع طور پر دیواروں کے ساتھ ٹیک لگائے اپنی اپنی سوچوں میں گُم تھے۔ بڑے بھی نڈھال تھے۔ بے بسی کے لہجے میں تابندہ نے اپنی بھوک کی نمائندگی یوں کی: ’اب تو مچھر بھی نہیں کاٹتے۔‘
    تیسری صبح باہر جھانکا تو پانی کی سطح کچھ کم ہوئی تھی لیکن خوراک کا مسئلہ اپنی جگہ پر برقرار تھا۔ اب بچے اور بڑے دونوں اس کوشش میں تھے کہ کچھ نہ کچھ کرنا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کو لال رومال دکھانے اور سیٹیاں بجانے کی تمام ترکیبیں ناکام ہوچکی تھیں۔
    اسی اثنا میں دوپہر کو حکومت ہند کی نیشنل ڈزاسٹر ریسپانس فورس یا این ڈی آر ایف کی ایک مخصوص کشتی سکول کے صحن میں نمودار ہوئی۔ اس میں لائف جیکٹس پہنے کچھ افسر اور ایک ادھیڑ عمر کشمیری شہری بھی تھا۔
    کشتی ابھی داخل ہی ہو رہی تھی کہ ہمارے ایک ساتھی فاروق احمد نے خوش امید لہجے میں کہا: ’میں تو کہہ رہا تھا کہ حکومت ہم کو تنہا نہیں چھوڑے گی، دیکھا آ گئی نا کشتی۔‘
    کشتی سے جب یہ کشمیری شخص اُترا تو اس نے ہمارے درمیان موجود ایک نوجوان کو گلے لگایا اور زار و قطار رونے لگا۔

    ۔۔کشتی پر گھروں سے کھانے کا سامان اور گیس کے سیلنڈر لائے گئے
    اس نوجوان کا نام عادل ہے اور وہ سکول کی نجی سکیورٹی ٹیم کا رکن ہے اور یہاں اس کشتی میں پہنچنے والا شخص فاروق احمد اس کا باپ۔ دراصل فاروق وسطی کشمیر کے بیرواہ گاوں سے فوج کی مدد لے کر اپنے بیٹے کی تلاش میں آیا تھا۔

    سب لوگ باپ بیٹے کے ملنے پر خوش تھے۔ عادل کو اسی کشتی میں واپس جانا تھا۔ ایک سکھ ساتھی نے ’این ڈی آر ایف‘ اہلکاروں سے منت سماجت کی کہ فاروق اور اس کے بیٹے کو واپس لے جانے سے پہلے وہ کشتی میں گھروں سے خوراک لانے میں ہماری مدد کریں۔ درخواست قبول ہوئی تو 50 منٹ کے عرصے میں ہی تالیوں اور سیٹیوں کے بیچ اسی کشتی میں گیس سیلنڈز، ستو اور ہر طرح کی غذائی اجناس سکول پہنچ گئیں۔
    خواتین نے سبزی صاف کی، ایک سکھ ساتھی بلجندر سنگھ نے کھانا پکانے کی ذمہ داری لی۔ جاوید اور میں نے تین دیواروں سے ہوتے ہوئے ایک مکان کی چھت پر لگے ٹینک سے پانی لانے کا ذمہ لے لیا۔ بھوک تو گویا صرف اس احساس سے مٹ گئی کہ اب کھانا ممکن ہے۔

    دو راتیں ہم اندھیرے میں گزار چکے تھے، لیکن اس بار عشائیے کی محفل طے تھی۔ موبائل فونز کی روشنیوں سے جیسے تیسے گزارا ہوا۔ ایک ہی دستر خوان پر سکھ اور مسلم خاندانوں کے بچوں اور بڑوں نے جس بھائی چارے اور رواداری سے کھانا کھایا، اس نے پل بھر کے لیے سیلاب زدگی کے احساس کو ہی مٹا دیا۔
    اگلے دو روز تک میں صرف افواہوں کی تردید کرتا رہا۔ ہمارے پاس باہر کی خبریں جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ ریڈیو نشریات اور ٹیلی فون کی سہولت پورے کشمیر میں ٹھپ تھی۔ اسی دوران جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ قصبہ سے دیوندر سنگھ نامی ایک پولیس اہلکار آٹھ گھنٹے کا پیدل سفر کرتے ہوئے سکول آن پہنچا۔
    ان کا کہنا تھا کہ پورے کشمیر میں مکان تاش کے پتوں کی طرح گر رہے ہیں: ’میں نے راستے میں درختوں کے ساتھ لاشیں دیکھیں۔‘

    تباہی اور بربادی کی چشم دید داستان سن کر سب لوگ مایوس ہوگئے۔ پھر ہماری پناہ گاہ میں کئی لوگ آئے۔ ایک صاحب نے آ کر دلاسہ دیا کہ ہلاکتوں کی تعداد کسی کو نہیں معلوم، البتہ تباہی اس قدر وسیع ہے کہ کشمیر اگلے 50 برس تک ہوش میں نہیں آئے گا۔
    بہرحال پانی جب کمر کی سطح تک نیچے آ گیا تو ہم لوگوں نے گھروں کی خبر لینے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد سب لوگ زندگی کے بکھرے تار سمیٹنے میں جُٹ گئے اور یہ کوشش ہزارہا دشواریوں کے باوجود جاری ہے۔

    ریاض مسرور


    0 0








    Hundreds of thousands left homeless by Pakistan floods

    0 0




    کراچی میں پرواز کی اڑھائی گھنٹے تاخیر کے پیچھے دو وی آئی پی تھے۔ ایک پیپلزپارٹی کے سینیٹر رحمن ملک دوسرے مسلم لیگ کے ایم این اے رمیش کمار۔ اصل میں پرواز رحمن ملک کے لئے لیٹ کی گئی، رمیش کمار نے فائدہ اٹھانا چاہا اور رحمن ملک کا ہمراہی بننے کی کوشش میں شریک رسوائی ہو گئے۔ دونوں کو پتہ نہیں تھا کہ طیارے کے مسافر معمول کے مسافر نہیں، کسی بااثر ادارے کے لوگ ہیں جو پرواز کی ’’وی آئی پی‘‘ تاخیر سے برہم ہوگئے اور دونوں کو جہا زپر سے اتار دیا۔

    یہ معاملہ محض وی آئی پی پروٹوکول کا نہیں ہے۔ وی آئی پی پروٹوکول میں یہ کہاں لکھا ہے کہ طیارہ اڑھائی گھنٹے کے لئے روک کے رکھا جائے۔ وی آئی پی پروٹوکول ایک لعنت ہے، ایک ظلم ہے لیکن یہ تو بدانتظامی کا بھی کیس ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ پی آئی اے جیسا قومی ادارہ اب دیہاتی روٹوں پر چلنے والی ویگن سروس بن گیا ہے۔ بجا طور پر پی آئی اے کی تباہی کا ذمہ دار مشرّف ہے جس نے ہر دوسرے ادارے کی طرح اس ادارے کو بھی تباہ کیا۔ وہ اسی ایجنڈے پرتو آیا تھا۔ مشرف کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت آئی جو چاہتی تو اس ادارے کوبحران سے نکالنے کی کوشش کرتی لیکن اس نے تباہی میں اپنا حصّہ ڈالا تاکہ اسے اونے پونے بیچ کر اپنی پسندیدہ ایئر لائن کو اس کی جگہ دی جائے۔ اندھیر گردی یہ ہے کہ رحمن ملک کو جہاز رکوانے کی پرانی عادت ہے اور پی آئی اے میں اس کے کئی نیاز مند افسر اب بھی موجود ہیں، انہی میں ایک ڈائریکٹر ایئرپورٹ سروسز ہے جس کے حکم پر جہاز روکا گیا۔ اسے تو کسی نے کچھ نہیں کہا لیکن دو غیر متعلّق جونیئر افسر معطل کر دیئے گئے۔

    بعض صحافتی حلقے اور صورت حال سے بے خبر فیس بک پر تبصرے جڑنے والے کچھ افراد یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔
    ’’لا علمی‘‘ کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے۔

    عوام ہوائی جہازوں پر سفر نہیں کرتے اور یہ احتجاج کرنے والے مسافر تو معمول کے فضائی مسافر بھی نہیں تھے بلکہ ایلیٹ آف دی ایلیٹ کلاس کے لوگ تھے۔ انہوں نے احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ یہ ان کا حق تھا۔ بلاشبہ حق تھا لیکن حق اور بات ہے‘ اختیار اور بات۔ حق تو عوام کو بھی ہے لیکن ان کے پاس اسے استعمال کرنے کااختیار نہیں ہے۔ ان بااثر افراد کے پاس حق استعمال کرنے کی طاقت تھی جو انہوں نے استعمال کر لی۔ رحمن ملک اور رمیش کمار سے جو ہوا‘ بالکل ٹھیک ہوا۔ وی آئی پی حضرات لاشعوری طور پر خود کو قانون اور ضابطے سے اونچا سمجھتے ہیں، نیچے رہنے والے لوگ انہیں قانون کی یاد نہیں دلا سکتے، رحمن ملک اوررمیش کمار کو یہ بات یاد دلانے والے خود انہی جیسے اونچے (یا شاید ان سے بھی اونچے) لوگ تھے۔ فیس بک کلب کی یہ خوش فہمی ہے کہ عوام جاگ اٹھے ہیں۔ پاکستان کے طاقتور حلقوں نے ایسے فول پروف بندوبست کر رکھے ہیں کہ عوام بیدار نہیں ہو سکتے۔ عوام کا واحد اختیار اس ملک میں الیکشن کے ذریعے اپنی پسند کے لوگوں کو جتوانا ہے اور سب دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور سکرپٹ رائٹر ان سے یہ حق چھیننے پر بھی تل گئے ہیں۔ بدقسمتی ان طاقتوروں کی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے پلان پر عمل کے لئے دو نالائق اور ہونّق جوکروں کا انتخاب کر ڈالا جو اپنی جگ ہنسائی اور اپنے آقاؤں کی ’’عزّت افزائی‘‘ کے سوا کچھ کمائی نہیں کر سکے۔
    __________________________
    وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سیلاب زدگان کے حالات دیکھنیجہاں جہاں بھی جاتے ہیں۔ انہیں گو نواز گو، گو شہباز گو کے نعروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ ایک نئی صورتحال ہے جس کا تجربہ انہیں ہو رہا ہے۔

    ضروری نہیں کہ سارے ہی متاثرین یہ نعرے لگاتے ہوں لیکن یہ سوچنا تو ضروری ہے کہ متاثرین کا ایک حلقہ یہ نعرے کیوں لگا رہا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کی امداد ان لوگوں تک بروقت نہیں پہنچی، اس کا غصّہ ہے اور اس سے زیادہ غصّہ اس بات کا کہ سیلاب سے بچانے کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔
    پورا بندوبست تو کوئی بھی حکومت نہیں کر سکتی لیکن پنجاب میں معاملہ کچھ اور ہوا۔ پنجاب حکومت جتنا انتطام کر سکتی تھی، وہ بھی نہیں ہوا جس کی وجہ یہ ہے کہ خزانے کی بھاری رقوم میٹرو بس جیسے بے کار، بے فائدہ بلکہ نقصان دہ منصوبوں پر لگا دی گئیں، سیلاب سے بچانے کے لئے کوئی رقم بچی ہی نہیں۔ جیسے سکولوں اور ہسپتالوں کے لئے بھی نہیں بچی۔

    اور وی آئی پی کلچر بھی ہے۔ وزیراعلیٰ کے ہاتھوں مدد ملے گی۔ یہ کہہ کر حکّام نے کئی جگہ پر لوگوں کو زبردستی صبح سے بٹھائے رکھا اور وزیراعلیٰ کئی گھنٹے بعد پہنچے۔ سیلاب سے تباہ حال لوگ پھر کیا کرتے اگر گو گو کے نعرے بھی نہ لگاتے۔ وزیراعلیٰ سچ کہتے ہیں کہ وہ سیلاب سے متأثر ہونے والوں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے لیکن یہ بات وہ لاہور میں بھی بیٹھ کر کہہ سکتے تھے۔ ان کے دوروں پر جو رقم اٹھتی ہے‘ وہ متأثرین کی امداد پر کیوں نہیں لگ سکتی۔ فوٹو چھپوانے کے اور بہت سے معقول موقعے ملتے رہیں گے۔
    سیلاب زدگان کی مدد پر سچ مچ توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کی کمی ہے۔ وزیراعلیٰ کے دوروں کا کوئی فائدہ نہیں۔ نااہل یا ڈرے ہوئے افسر جعلی امدادی کیمپ لگاتے ہیں جو دورہ پورا ہوتے ہی اٹھا لئے جاتے ہیں۔ لاہور ہی میں بیٹھ کر انتظام بہتر کریں تو خرچہ بھی کم ہوگا اور انتظام بھی ٹھیک ہوگا۔ افسروں کو اس طرح ڈرا کر رکھیں گے تو وہ جعلی کیمپ نہیں لگائیں گے تو کیا کریں گے۔ نیز مناسب ہے کہ کسی ماہر روحانیات کی خدمات حاصل کی جائیں جو وزیراعلیٰ ہاؤس کا ’’روحانی معائنہ‘‘ کر کے یہ معلوم کرے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس ہاؤس میں جو بھی آتا ہے‘ وہ باتصویر دوروں پر سارا زور لگا دیتا ہے ۔ ترکی کے وزیراعظم (اب صدر) اردگان نے اپنی حکومت کے15برسوں میں اتنی تصویریں نہیں چھپوائی ہوں گی جتنی پنجاب کا (کوئی بھی) وزیراعلیٰ ایک مہینے میں چھپوا دیتا ہے۔ پھر بھی ترکی کا بچّہ بچّہ اردگان کی تعریفیں کرتا ہے اور یہاں گو گو کے نعرے لگتے ہیں۔ روحانی تشخیص کے بعد اس ’’وجہ‘‘ کو دور کرنے کی تدبیر کی جائے۔ امید ہے فائدہ ہو گا۔
    __________________________
    ڈی چوک کے فیشن شو کا آرگنائزر‘ رنگیلا بڑے میاں عرف کپتان خان ’’امپائر‘‘ کی انگلی سے مایوس ہو چکا ہے‘ اسی لئے اب عدلیہ سے اپیلیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ وہی عدلیہ جسے وہ کسی کھاتے میں لکھتا ہی نہیں تھا‘ اب اس کی امیدوں کا مرکز بن گئی ہے لیکن عدلیہ امپائر والا کام تو کر ہی نہیں سکتی۔ امپائر کا کام کیا تھا‘ وہ کپتان اور جو کر مولوی دونوں بار بار بتا چکے کہ امپائر آئے گا اور دونوں کو بیک وقت وزارت عظمیٰ کی گدّی پر بٹھا دے گا۔ عدلیہ یہ کام کیسے کر سکتی ہے۔ بے کار اپیلوں کا کوئی فائدہ نہیں۔مولوی نے تو چیف جسٹس سے لے کر صوبائی وزیروں تک کی فہرست بنا لی تھی۔

    کپتان نے عدلیہ سے اپیل بھی دھمکی کے انداز میں کی ہے۔ کہا ہے عدلیہ مداخلت کرے، ورنہ خانہ جنگی ہو جائے گی۔یہ دھمکی نہیں ’’کپتان بھبکی ‘‘ ہے۔ خانہ جنگی کا خطرہ تھا، اب نہیں رہا یا بہت کم ہوگیا۔ سکرپٹ رائٹرز ناکام ہوگئے اگرچہ کپتان اور مولوی اپنے خاص بلوائیوں کو رازداری سے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ مایوس نہیں ہونا‘ نومبر تک امید باقی ہے۔ نومبر آنے میں ایک ماہ بارہ دن ہیں اور 14 اگست کو گزرے ایک مہینہ سے زیادہ ہو گیا۔ یہ مہینہ خانہ جنگی کے بغیر گزر گیا، ستمبر کے باقی بارہ دن اور پھر اکتوبر بھی امن سے گزر جائے گا۔ خانہ جنگی کے لئے ان دونوں آلہ ہائے فساد نے سوادِاعظم کے جن علماء سے رابطہ کیا، سب نے کورا جواب دے دیا۔ خدا نے چاہا تو نہ خانہ جنگی ہوگی نہ چینی سرمایہ کاری رکے گی۔ بلوچستان پاکستان سے الگ ہوگا اور نہ صوبہ خیبر کا آدھا حصّہ براستہ افغانستان بھارت کو دینے کا خواب پورا ہو گا، جیسا کہ حافظ سعید کے بیان سے بھی اشارہ ملتا ہے۔
    انقلاب ’’سرخی‘‘ مانگتا ہے کوئی مولوی اور کپتان کو بتا دے کہ انقلاب لپ سٹک کی لالی سے آتا ہے نہ بکرے کے خون کی سرخی سے۔

    عبداللہ طارق سہیل
    بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

    VIP Protocol in Pakistan

    0 0


    حکومتوں کا اصل امتحان اسی وقت ہوتا ہے جب قوم سنگین مسائل سے دوچار ہو۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ بحرانوں کی صورت میں دو طرح کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں: (1) ہم بحرانوں میں جو ردعمل دیتے ہیں وہ وقتی ہوتا ہے۔ ہم مسائل کی وجوہات کا تجزیہ کم اور مسائل سے وقتی طور پر نمٹنے کی حکمت عملی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ (2) ہم جو بھی قدم اٹھاتے ہیں وہ کسی نہ کسی واقعہ کے ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ان واقعات سے نمٹنے کے لیے ہمیں قبل از وقت جو ہوم ورک، منصوبہ بندی یا حکمت عملی درکار ہوتی ہے، اس کا فقدان قومی سطح کے اداروں اور حکومتی محاذ پر پایا جاتا ہے۔ یہ عمل ملک میں کمزور حکمرانی، بدعنوانی،کرپشن اور نااہلی پر مبنی نظام کی نشاندہی کرکے ہمیں حالات کی سنگینی، پیچیدگی اور بے ضابطگیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لیکن ریاست، حکومت اور ہمارے انتظامی اداروں کے بقول ملک تیزی سے ترقی اور خوشحالی کا جانب بڑھ رہا ہے۔ 

    اسی تضاد کے باعث ملک میں تیزی سے بالادست طبقات اور عام لوگوں میں اپنے اپنے سچ کے درمیان ایک واضح خلیج بڑی ’’بداعتمادی‘‘ کی صورت میں پیدا ہورہی ہے۔ اس کا ایک مظہر حالیہ سیلاب کے بحرانوں میں گھری ہوئی کمزور، نااہل اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل حکومت کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے۔ اگرچہ اس وقت حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی توجہ کا محور متاثرینِ سیلاب ہیں، لیکن یہ سوال تو پوچھا جانا چاہیے کہ اس سیلاب سے بچائو کے لیے حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر قبل از وقت جن اقدامات کی ضرورت تھی وہ کیوں نہیں کیے گئے؟کیا واقعی ہمارے ادارے اس طرح کی آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یا عدم جوابدہی اور نگرانی کا کمزور نظام ان کی مؤثر کارکردگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے؟

    پاکستان میں حکمرانی کے نظام کا اندازہ محض اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے بقول انھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں اس قدر شدید ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح ایک بڑے قد کاٹھ کے وفاقی وزیر خواجہ آصف کے بقول یہ قدرتی آفات ہیں اور خدا کی جانب سے آئی ہیں، اس پر ہم کیا کرسکتے ہیں! پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود کے بقول ہم نے جو شاندار انتظامات کیے تھے انھی کی وجہ سے کئی ہزار لوگوں کی زندگیوں کو بچالیا گیا ہے۔ جہاں حکمرانی کا یہ انداز ہو، وہاں کے نظام کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ارباب اختیار اپنی ناکامی، نااہلی و بدعنوانی کو چھپانے کے لیے ’’خدا‘‘ کو ڈھال بناکر بچنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ قدرتی آفات، سیلاب، زلزلے اور دیگر تباہ کاریوں کا آنا فطری ہے، اور یہ واقعات مختلف وجوہات اور عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نے اپنی اپنی سطح پر ان آفات سے نمٹنے کے لیے کس طرزکے انتظامات کیے ہوتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انتظامات تو کرتے نہیں اور خدا کو بیچ میں لاکر خود کو بچانے کی کوشش کرکے لوگوں کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے اور دعا کیجیے۔ 

    یعنی جو کام حکومتوں کا ہے اسے وہ کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ لوگوں کو جھوٹی تسلیاں دے کر کہا جاتا ہے کہ یہ جو عذاب آیا ہے خدا کی جانب سے ہے اور وہ ہمارا امتحان لے رہا ہے۔ حالانکہ خدا ظالم نہیں، یہ نظام ظالمانہ ہے، اس لیے یہ سمجھنا ہوگا کہ نظام محض دعائوں سے نہیں چلتے، اس کے لیے کچھ کرکے دکھانا ہوتا ہے، جس میں ہمیں ناکامی اور نااہلی کا سامنا ہے۔
    حکومتی سطح پر اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے قومی، صوبائی اور ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیاں قائم کی گئی ہیں، لیکن وہ کوئی اچھی کارکردگی دکھانے سے قاصر ہیں۔ اربوں روپے کی سرمایہ کاری ان اداروں پر ہوچکی ہے ، لیکن نتیجہ نااہلی کی صورت میں سامنے ہے۔ حالت یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے پاس ان اداروں کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کا بھی وقت نہیں اور نہ ہی یہ ادارے ان کی ترجیحات کا حصہ نظر آتے ہیں۔

    ان اداروں کا آخری سربراہی اجلاس 2012ء میں ہوا تھا۔ اسی طرح 2010ء میں جو بڑا سیلاب آیا اُس سے نمٹنے میں ناکامی، خامیوں یا غلطیوں سے بھی ہماری حکومتوںنے کچھ نہیں سیکھا۔ 2010ء میں پنجاب فلڈ کمیشن رپورٹ میں جن بے ضابطگیوں، خامیوں سمیت مستقبل میں سیلاب سے نمٹنے کے لیے جن اقدامات کی نشاندہی کی گئی، اس پر پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کچھ نہ کرسکے۔ جسٹس منصور کی سربراہی میں اس کمیشن نے اُن تمام افراد کی نشاندہی کی تھی جو اس سیلاب میں مجرمانہ غفلت کا شکار ہوئے تھے۔ لیکن حکومت نے اس کمیشن کی رپورٹ پر کچھ نہیں کیا، اور جو لوگ اس سیلاب میں تباہی کے ذمہ دار تھے اُن کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کے بجائے انھیں باقاعدہ ترقیاں دی گئیں۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس رپورٹ پر عملدرآمد نہ کرکے پنجاب کے وزیراعلیٰ نے مجرمانہ کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا۔ سیلاب کی آمد پر حکومت کا مؤقف تھا کہ ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوا کہ سیلاب آنے والا ہے، اور یہ محض ایک حادثہ تھا… لیکن چیف میٹیرلوجسٹ کے بقول ہم نے جولائی میں ہی صوبائی حکومت کو شدید بارشوں کی نشاندہی کردی تھی، لیکن حکومتی سطح پر ہماری دی گئی وارننگ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ اب سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب سچ بول رہے ہیں یا چیف میٹیریالوجسٹ؟

    یہ بات ذہن نشین رہے کہ پنجاب میں پچھلے چھ سال سے میاں شہبازشریف اور مسلم لیگ (ن)کی حکومت ہے۔ یہ سوال تو پنجاب کے وزیراعلیٰ سے ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیوں وہ 2010ء میں فلڈ کمیشن رپورٹ پر خاموش رہے؟ اورکن سیاسی وجوہات یا اقربا پروری کی بنیاد پر ذمہ داروں کو حکومتی تحفظ دے کر بچایا گیا؟ ہمارے بعض دوستوں کے بقول پنجاب کے وزیراعلیٰ بڑے فعال ہیں اور حکمرانی کا مضبوط نظام رکھتے ہیں۔ لیکن جب مسائل ابھر کر سامنے آتے ہیں تو ان کے یہ دعوے محض دعوے ہی رہ جاتے ہیں، کیونکہ اصل مسئلہ نظام اور اداروں کو مؤثر بنانے کا ہوتا ہے، لیکن ہمارے حکومتوں کا مسئلہ فوٹو سیشن ہے ۔ شہبازشریف کی نیک نیتی اپنی جگہ، لیکن جس طرح سے انھوں نے پورے نظام کو محض اپنی ذات کے گرد رکھا ہوا ہے، اس سے ان کی حکمرانی کا نظام متاثرہواہے۔ سیلاب کے بعد حکومتی اداروں اور ان کے ماتحت ادارہ جاتی نظام کی اصل حقیقت لوگوں کے سامنے آگئی ہے۔

     اب ایسی صورت حال میں لوگ اچھی حکومت کے ان دعووں کا کیا کریں جو حکومت کرتی ہے! لوگوں کو تو گلہ ہے کہ اس مشکل وقت میں حکومت وہ کچھ نہ کرسکی جس کی وہ ہمیشہ سے تسلیاں دیا کرتی تھی کہ ہم نے لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات کیے ہوئے ہیں۔ جب وقت آتا ہے تو ہماری حکومت اپنی بے بسی کا اظہار کردیتی ہے۔

    جہاں تک سیلاب متاثرین کی امداد کا تعلق ہے اس کی تقسیم اور ترسیل کا نظام بھی بڑا غیر مؤثر اور غیر مہذب ہوتا ہے۔ یعنی ہمارے حکمرانی کے نظام پر اس سے زیادہ کیا ماتم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس امدادی سامان بالخصوص خوراک کی تقسیم کا مہذب اور شفاف نظام جو لوگوں کی عزتِ نفس کو برقرار رکھ سکے، نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حکمران طبقات کی جانب سے مسلسل مقامی حکومتوں کے نظام اور مقامی طرز حکمرانی کے نظام کو قبول نہ کرنا ہے۔ جب مقامی ادارے فعال ہی نہ ہوں اور یہ سمجھا جائے کہ ہم مقامی حکمرانی کا نظام مرکزی نظام کے تحت چلا کر اچھی حکمرانی کا نظام قائم کرسکیں گے، محض خوش فہمی ہی کہی جاسکتی ہے۔ جس انداز سے لوگوں کی مدد کی جارہی ہے اس سے ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کیا جارہا ہے، لگتا ہے یہ متاثرین کی نہیں بلکہ بھکاریوں کی ایک لمبی قطار ہے جن میں بڑی بے دردی سے اشیاء تقسیم کی جارہی ہیں۔ ہماری بیوروکریسی یا انتظامیہ کا نظام بھی اس قدر ناقص ہے کہ اس پر دکھ ہوتا ہے۔ ہماری سرکاری مشینری کی جو حالت ہے اس میں وہ کیسے ایک مؤثر کردار ادا کرسکتی ہے! اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حکومتی سطح پر اداروں کے درمیان نگرانی کا نظام بھی کمزور ہے ۔ ایک ایسا نظام جو اپنی ساکھ مجروح کرچکا ہے، ہم اس سے کیوں امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ قومی اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے!

    وہ تو بھلا ہو مقامی تنظیموں اور خدمت کا جذبہ رکھنے والوں کا جو حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تحت آگے آتے ہیں۔
    جماعت اسلامی کی حمایت سے چلنے والی الخدمت فائونڈیشن بھی اسی محاذ پر سرگرم ہے۔ الخدمت فائونڈیشن بہت عرصہ سے پاکستان میں آنے والے ہنگامی حالات یا آفات میں اپنی خدمت کے ساتھ میدان میں موجود رہتی ہے۔ اس کے کارکن واقعی مبارکباد کے مستحق ہیں جو اس تباہ کاری میں رضاکارانہ بنیاد پر وہ کام کرتے ہیں جو بنیادی طور پر ریاست یا حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن ہماری ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داری سے غافل ہوتی ہے۔ الخدمت فائونڈیشن کے ترجمان شعیب ہاشمی کے بقول ان کے ادارے نے فوری طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کیے ہیں اور 35میڈیکل کیمپ، 15موبائل میڈیکل کیمپ، 5فیلڈ ہسپتال، 300 ٹینٹ اور 1000ترپال کی مدد سے اب تک 43,800 سیلاب متاثرین کی مدد کی ہے، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کرنے کے لیے اپنے مقامی الخدمت کے دفتر سے رجوع کریں، تاکہ آپ کی امداد متاثرین کے دکھوں اور محرومیوں کا فوری طور پر ایسا مداوا کرسکے کہ وہ دوبارہ اپنی اصل حالت میں آسکیں۔

    پچھلی بار بھی اور اِس بار بھی ہم نے سیلاب میں مقامی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سیاسی طاقت ور لوگوں کی انتظامی امور میں مداخلت کے مناظر دیکھے ہیں۔ افراد اپنی زمینوں اورعلاقوں کو بچانے کے لیے اپنے سیاسی اثرو نفوذ کی بنیاد پر مقامی سطح پر شفاف اور منصفانہ فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس طرز کے فیصلوں کے لیے انتظامی اور پروفیشنل ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ لوگ ان ہنگامی حالات میں بھی اداروں پر اختیار کو بالادست کرکے مزید مسائل پیدا کرتے ہیں۔ 2010ء کی فلڈ کمیشن رپورٹ میں بھی ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی تھی جو اپنی سیاسی طاقت کی بنیاد پر مقامی انتظامیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی دبائو اور تعلقات کے باعث نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مقامی طاقت ور سیاسی لوگوں میں احتساب کا ڈر ختم ہوجائے تو وہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ حالیہ سیلاب میں بھی جھنگ شہر اور اٹھارہ ہزاروی کے بند توڑنے کے معاملے پر ایک مقامی حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے کے درمیان جو توتکار ہوئی تھی، وہ بھی میڈیا میں آئی ہے جس سے ظہار ہوگیاکہ سیاسی لوگ کیسے محض اپنے مفادات کے لیے یہ سب کچھ کرتے ہیں، جس کا نقصان قومی سطح پر ہوتا ہے۔

    اسی طرح ہماری سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور جمہوری ڈھانچہ سب کو بے نقاب کردیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کسی نے بھی حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا رونا نہیں رویا اور نہ ہی ایسی کوئی حکمت عملی ترتیب دی جس سے اس بحران سے مقامی سطح پر نمٹا جاسکے۔ جب ہم مقامی سطح پر ایسے کوئی ڈھانچے ہی نہیں بنائیں گے ۔ہمارے ادارے فعال نہیں اس کی وجہ ہماری قومی سیاست کی خرابیاں ہیں۔
    یہ مسئلہ محض سیلاب کی تباہ کاری تک محدود نہیں، بلکہ ہمارا حکمرانی کا پورا نظام سب کے لیے وبالِ جان بنا ہوا ہے۔ لوگ بری حکمرانی سے نجات چاہتے ہیں، لیکن کیسے؟ یہ خود ایک بڑا سوال ہے۔ کیونکہ جو سیاسی قوتیں اس فرسودہ نظام سے ہمیں باہر نکال سکتی ہیں، وہ خود اس فرسودہ نظام کا حصہ بن کر اقتدار کی سیاست کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں لوگوں میں حکومتوں پر غصہ ہے، وہیں قومی سیاسی قیادت پر بھی ہے جو جمہوریت کو بنیاد بناکر عوام دشمن استحصالی نظام کو طاقت فراہم کررہی ہے۔ اس سیلاب میں بھی ماسوائے چند مذہبی جماعتوں کے باقی سب جماعتیں محض زبانی جمع خرچ کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاست میں خلیج بڑھتی جارہی ہے۔ جب تک ہم اپنے حکمرانی کے نظام کو چیلنج نہیں کریں گے، اور اس میں ہنگامی اور ایمرجنسی بنیادوں پر جزوقتی اور کل وقتی منصوبہ بندی کرکے اداروں میں جوابدہی کے تصور، نگرانی کے مؤثر نظام، درست ترجیحات سمیت عوام کی شمولیت کے عمل کو یقینی نہیں بنائیں گے، مؤثر حکمرانی کا نظام نہیں چلاسکیں گے۔ جس حکمرانی کے جو نظام میں میرٹ سے زیادہ تعلقات کارفرما ہوتے ہیں، وہ لوگوں میں کبھی بھی اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتا۔ اس وقت بھی ہمارا حکمرانی کا نظام اپنی سیاسی، اخلاقی اور انتظامی ساکھ کے بحران کا شکار ہے، لیکن حکمران ابھی بھی اسی طرح کی غفلت کا شکار ہیں، جیسے ماضی میں رہے ہیں۔

    سلمان عابد


    0 0










    0 0


     آئی ایس آئی کے نئے چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کی شہرت ایک ایسے افسر کی ہے جو غیر سیاسی نظریات کی وجہ سے غیر جانبدار ہیں۔ وہ مختلف ذمہ داریوں کو بغیر پیچیدگیوں کے ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،،، لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ سے گریجوایٹ ہیں۔ وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور آرمی وار کالج امریکا سے بھی فارغ التحصیل ہیں۔ ۔، وہ فوج میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے ڈی جی آئی ایس آئی مقرر ہونے سے پہلے ان کی آخری ذمہ داری بطور ڈی جی رینجر ز سندھ تھی ،، سندھ رینجرز کے سربراہ کے طور پر انہوں نے کراچی میں امن و امان کیلئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں ،، وہ آرمی چیف راحیل شریف کے قریبی حلقوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ کراچی آپریشن کے دوران وزیراعظم میاں نواز شریف کی امیدوں پر بھی پورے اترے تھے۔ وہ گذشتہ ہفتے سندھ رینجرز کے سربراہ کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے ،،لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے قبائیلی علاقوں میں انفنٹری بریگیڈ اور انفنٹری ڈویژن کی قیادت بھی کی جنوبی وزیرستان میں سرحد پر تعیناتی کے دوران انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ دہشتگردوں کا قلع قمع کیا۔ وہ چومکھی لڑائی کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفنٹنٹ جنرل ظہیرالاسلام عباسی کی ریٹائرمنٹ کے بعداپنے عہدے کا چارج سنبھالیں گے۔۔

     


    0 0


    nawaz sharif us visit


    0 0

     
     بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں نے عوام میں نفرت اورغصہ کو ابھارا ہے جو مہنگائی اور بیروزگاری سے دوچار ہیں۔

    ہماری سیاسی، زرعی، صنعتی اورفوجی-بیوروکریٹک اشرافیہ نے جن سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچوں کو فروغ دیا ہے، ان میں اتنی اہلیت نہیں ہے کہ وہ زوال پذیر اداروں میں زندگی کی روح پھونکنے کے لیے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں جو معاشی ترقی کا محرک بنیں۔
    زیر نظر مضمون میں اسی پہلو پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
    تاریخی اسباب کی بناء پر ہمارا انتظامی ڈھانچہ پیداواری صلاحیت کو فوقیت دینے کے بجائے صرف دیکھ بھال سے ہی کام چلائے رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گو کہ اس کی سمت اور حاکمانہ طرز عمل سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ مکمل کنٹرول میں ہے، پر اس میں اب اتنی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ دن بہ دن زوال پذیر ریاستی ڈھانچہ کو سنبھالنے کے لیے کچھ اقدامات کرسکے۔

    یہ محض یہی کرسکتا ہے کہ اندرون ملک جو اضافی پیداوار حاصل ہو اس سے اپنے روزمرہ کا کام چلائے۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے حقیقی شعبے کے مقابلے میں انتظامی امور اور دفاع پرزیادہ خرچ کیا جارہا ہے۔ اسی لیے جہاں جی ڈی پی میں پیداواری شعبے کا حصہ 2006۔2005 میں 41 فی صد سے گھٹ کر 2014۔2013 میں 40 فی صد ہوا، وہاں اسی مدت کے دوران دفاع اور انتظامی امور پر قومی آمدنی میں سے ہونے والے خرچے 5.2 فی صد سے بڑھ کر 6.7 فی صد ہوگئے۔

    سیکیورٹی اسٹیٹ اور اس سے متعلقہ اداروں کی شدید ضروریات نے وسائل کی تقسیم پر بر اثر ڈالا ہے اور بجائے اس کے کہ انھیں اہم سماجی خدمات پر صرف کیا جائے، انتظامی اور مالیاتی اختیارات اور وسائل کی تقسیم میں مزید مرکزیت پیدا ہو گئی ہے، جس نے وفاق کی اکائیوں میں جمہوری قوتوں کے درمیان مسلسل تنازعات کو جنم دیا ہے۔

    ایک خود غرض جاگیرداری، صنعتی اور فوجی۔بیوریوکریٹک اشرافیہ تشکیل کے عمل پر اور ایک ایسے معاشی ڈھانچے پر قابض ہے جو چیزوں سے کرایہ حاصل کرنے کے عمل کی سرپرستی کرتی ہے، اور جس کی نظریں خود تک محدود ہیں اور جسے باقی دنیا سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو نہیں چاہتا کہ ایک بہتر اور برابری پر مبنی معاشرہ قائم ہو جہاں کم حیثیت افراد کو میرٹ کی بنیاد پر سماجی اور معاشی نقل و حرکت کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
    اشرافیہ نہیں چاہتی، حالانکہ یہ خود اس کے مفاد میں ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کی بنیاد پر ایک منصفانہ سماج کی تعمیر کے لیے وسائل کا بوجھ برداشت کرے۔ اس کے برعکس اس نے ایک ایسے سماجی نظام کو جنم دیا ہے جو جاگیرداری اقدار کا حامل ہے، جو بجائے اس کے کہ غیر شخصی تجارتی تعلقات اور دیگر معیشتوں میں مقابلے کے کلچر کو فروغ دے، سرپرستانہ اور ذاتی تعلقات کے کلچر کو فروغ دیتا ہے۔ اقربا پروری اور قانون شکنی کی پشت پناہی، اور عدل و انصاف کے اصولوں سے انحراف کے کلچر کی ہمت افزائی کرتا ہے، اور ان اداروں کو تباہ کرتا ہے جو اس طرح کی زیادتیوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔ بلکہ اشرافیہ کا پس منظر نہ رکھنے والے درمیانی طبقہ بھی جو آہستہ آہستہ ابھر رہا ہے یہی طور طریقہ اختیار کررہا ہے جس کے نتیجے میں ریاست اور اس کی منصوبہ بندی متاثر ہورہی ہے جو ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ریاست اور اداروں کے لیے قانونی جواز کا بحران پیدا ہورہا ہے۔

    اس کے علاوہ ان اداروں کو مضبوط بنانے کا عزم سست روی کا شکار ہے جبکہ بیوروکریسی اپنے مفادات کا تحفظ کررہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نظم و نسق کا معیار متاثر ہورہا ہے اور معاشی اور سماجی منصوبہ بندی متاثر ہورہی ہے جس پر ترقی کا دارو مدار ہے۔

    اثاثوں کے مالک یا کرایوں پر چلنے والے سیاستدانوں کا ویژن اور عقل محدود، ذہنی صلاحیت کم اور اہلیت مشتبہ ہے، یہ لوگ نہ صرف "اسٹیٹس کو"کو جوں کا توں برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر ذاتی مفاد کے لیے سرکاری وسائل کا بے دردی سے استعمال کرتے ہیں جبکہ ان کے اردگرد کے ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہے ہیں۔
    ان کے بارے میں تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ یہ اپنی جیبیں بھرتے ہیں، لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں جن کی پشت پناہی بیوریوکریسی کرتی ہے، ملک کو انہوں نے اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور سیاست کو یہ بزنس سمجھتے ہیں جس کی خرید و فروخت ہوسکتی ہے۔

    اختیارات اور مراعات کا غلط استعمال معمول بن چکا ہے۔ اگر معیشت تیزی سے ترقی کرتی اور خوشحالی سے سب کو فائدہ پہنچتا تب یہ چیزیں مسئلہ نہ بنتیں۔ لیکن ترقی کی کم ہوتی ہوئی شرح اور بڑھتی ہوئی بدعنوانیوں نے عوام میں نفرت اور غصہ کو ابھارا ہے جو افراط زر کے تباہ کن اثرات سے دوچار ہیں، جنھیں روزگار کے کم سے کم مواقع حاصل ہیں جبکہ مذکورہ بالا گروہ ان حالات کو سدھارنے میں ناکام رہے ہیں۔

    ایک طرف سماج کا اعلیٰ طبقہ تو پھل پھول رہا ہے جبکہ غریب کو ترقی کے دائرہ سے باہر نکالا جارہا ہے۔ غریب اس لیے بھی تکلیفوں کا شکار ہے کہ اسے جو سہولتیں حاصل ہیں وہ ناکافی اور گھٹیا نوعیت کی ہیں۔ نہ ہی حقداروں کو سہولیات مل پاتی ہیں، جس کی وجہ یا تو بدعنوانی ہے یا پھر فنڈز کو ان لوگوں کی سمت موڑ دیا جاتا ہے جو ان کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں ہیں یا ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے اور غریبوں کے درمیان دولت کا فرق بڑھ گیا ہے، اور اس کی وجہ سے سماج کے دونوں طبقوں کے درمیان فاصلے انتہائی حد کو پہنچ گئے ہیں۔

    تو اب کیا کیا جائے، کیونکہ یہ واضح نہیں کہ حالیہ سیاسی واقعات نے دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا ہے یا نہیں، یا پھر طوفان کے ٹل جانے کے بعد وہی کچھ ہوتا رہے گا؟ جگہ کی تنگی کی وجہ سے چند تجاویز پیش خدمت ہیں:

    انتخابات، عدالتی نظام، اور سول سروس میں فوری طور پر اصلاحات کی جائی۔ ان پر آئندہ مضامین میں علیحدہ علیحدہ روشنی ڈالی جائے گی۔

    پنجاب کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اسے مزید صوبوں میں تقسیم کردیا جائے، جس کے نتیجے میں وفاق میں صوبوں کی شراکت داری مضبوط ہوگی۔

    لوکل گورنمنٹ کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور اس کی نشو و نما کی جائے۔

    صوبوں کو ان کے قدرتی وسائل مثلاً، معدنیات، تیل، گیس اور ساحلی علاقوں پر
      ٹیکسوں کا مساوات پر مبنی نظام قائم کیا جائے، جس کے تحت آمدنی کے ذرائع کا لحاظ کیے بغیر ہر قسم کی آمدنی پر مساوی ٹیکس لگایا جائے۔

    سرکاری عہدوں کو کم پرکشش بنایا جائے تاکہ مشتبہ کردار کے افراد ان عہدوں کو حاصل کرنے کے خواہشند نہ ہوں۔ شفافیت، نظم و نسق، احتساب و جوابدہی بڑھانے کی خاطر تمام قانون سازوں، اور سرکاری عہدہ دار، جو مسلح افواج کے سربراہ ہوں، یا کسی سرکاری ایجنسی کے سیکریٹری یا اس کے سربراہ ہوں اور ان کے اہل خاندان( جن میں شادی شدہ بیٹیاں بھی شامل ہیں) انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس گوشوارے داخل کریں اور اسے ان کی ملازمت کی مدت کے دوران اور اس کے تین سال بعد تک سرکاری دستاویز قرار دیا جائے۔

    تمام اہم عہدوں مثلاً، آڈیٹر جنرل، اٹارنی جنرل، چیف الیکشن کمشنر، چیئرمین نیب، گورنر اسٹیٹ بینک وغیرہ پر تقرریوں کی پارلیمنٹ سے توثیق کروائی جائے۔

    تمام صوابدیدی اختیارات کو ختم کردیا جائے، خاص طور پر جن کا تعلق قوانین کوکم اثر کرنے یا ٹیکس میں مراعات دینے سے ہو، جنہیں آج کل عوامی نمائندوں اور ریاستی اہلکاروں کو فراخ دلی سے دیدیا گیا ہے۔

    معلومات تک رسائی حاصل کرنے کا ایک مضبوط قانون نافذ کیا جائے جس کے تحت پارلیمنٹ اور عوام کو حق ہو کہ وہ حکومت کے فیصلوں کا کڑا جائزہ لے سکیں۔

    عام لوگ یقین کی حد تک سمجھتے ہیں کہ سرکاری عہدہ دار انھیں کبھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ انھیں صرف نقصان ہی پہنچاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتظامیہ کے اہلکاروں کی تعداد کم کی جائے، اور ابتدائی طور پر وفاقی حکومت کے اہلکاروں کی تعداد میں نمایاں کمی کیجائے جو بہرحال اٹھارہویں ترمیم کے تحت ضروری ہے۔

    سب سے آخر میں یہ کہ تمام سرکاری مالیاتی اداروں کی اور ان اداروں کی نجکاری کی جائے جنھیں معیشت کے دیگر شعبوں میں اجارہ داری حاصل نہیں ہے۔

     
    ترجمہ: سیدہ صالحہ
    لکھاری اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ہیں۔
    یہ مضمون ڈان اخبار میں 16 ستمبر 2014 کو شائع ہوا۔


    0 0




    گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان چوتھی بارایک بڑے سیلاب کے بھیانک تجربے سے گزررہا ہے۔ سیلابوں کی فراوانی اور بڑھتی ہوئی شدت نا صرف پاکستان اور جنوبی ایشیا کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کا پتہ دیتی ہے، بلکہ نئی حکومتوں کی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں ناکامی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

    ہر سال مون سون میں ملک کے بڑے دریاؤں میں سیلاب کی بڑھتی ہوئی شدت کے باعث ناصرف ہندوستان کے ساتھ مل کر پانی سے متعلق مسائل کے حل کے لیے زیادہ مضبوط بنیادوں پر کوششوں کی ضرورت ہے، بلکہ اس معاملے میں زیادہ ضرورت ایک دوسرے کے اعتماد کو جیتنے کی ہے، بجائے اس موجودہ رویے کے، جس میں یک رخی توجہ صرف زیادہ اورآزاد دوطرفہ تجارت کی جانب ہے۔
    جتنا جلدی ہم پانی کے اس اہم معاملے کو خوش اسلوبی سے طے کرلیتے ہیں، اتنا ہی اس علاقے کے امن واستحکام کے لیے خوش آئند بات ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے عالمی اورعلاقائی اثرات پر ہونے والی تمام تحقیقوں کے مطابق ان کا سب سے شدید اثر جنوبی ایشیا پر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ اس علاقے کی آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے اوراس کا دارومدار زراعت پر ہے، اس لیے موسمیاتی تبدیلیوں اور سخت موسمی حالات کے اثرات زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گرم موسم اوربارشوں کے غیریقینی انداز کی وجہ سے بڑی آبادیوں کے لیے خوراک کا انتظام پوری طرح سے تیار اور وسائل کی حامل قوموں کے لیے بھی دشواری کا باعث ہوسکتا ہے۔ عالمی فنڈ برائے زرعی ترقی کے مطابق 2050ء تک زرعی پیداوار میں گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں 30 فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ درجہ حرارت میں ہر 1 فیصد اضافے کے ساتھ زراعت کے لیے پانی کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔

    اس قیامت خیز منظر میں پاکستان کے بارے میں سوچیے، جہاں آخری ڈیم کی تعمیر 38 سال پہلے 1976ء میں ہوئی تھی، جہاں ٹیکس کی وصولی کی شرح جی ڈی پی کا 9 فیصد ہے، جہاں وفاق Disaster Risk Management پر سالانہ صرف 18 کروڑ روپے خرچ کرتا ہے، یعنی ایک روپیہ فی شخص۔ ماحولیاتی تبدیلی پر بحث کبھی نہیں ہوتی۔ ہاں پارلیمنٹ کو لاحق خطرات اور جہاز سے سینیٹر رحمان ملک کو اتار دیے جانے کے واقعات نے لیڈروں کو پریشان کردیا ہے اور ان کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

    پاکستان کی آبادی ساڑھے بتیس کروڑ تک پہنچ جائے گی، اور ان لوگوں کے لیے ایک خوفناک تباہی سر اٹھا رہی ہے۔
    شکر کا مقام ہے کہ اس سال سیلاب نے 2010ء کے بھیانک سیلاب سے کم نقصان پہنچایا ہے جس کا درست طور پرطوفان نوح سے موازنہ کیا گیا تھا۔ اس سال سیلاب کا زور کم تھا جبکہ 2010ء کے سیلاب سے ملک کے پانچویں حصے پر آباد تقریباً دوکروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے۔ زرعی پیداوار اورمویشیوں کے نقصانات، پیداواری عمل، نقل وحمل اور دوسری معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ نے پوری جی ڈی پی کی ترقی کی شرح تقریباً 2 فیصد کم کر دی۔ 2010ء کے سیلاب سے سڑکوں، آبپاشی نظام، مکانات، اسکول، صحت کے انفرااسٹرکچر، بجلی کی ترسیل، آمدنی اوراثاثوں کوپہنچنے والے نقصانات کا اندازہ تقریباً 9.7 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔

    اس بارکا سیلاب زیادہ تر دریائے چناب اور اس کی شاخوں تک محدود تھا، جبکہ دریائے سندھ اور دریائے کابل 2010ء کی طرح اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ لہٰذا زیادہ تر نقصانات شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب تک محدود رہے، جس سے National Disaster Management Authority کے مطابق 36 اضلاع متاثر ہوئے۔ اسی ایجنسی کی 17 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، لوگوں کی مکمل تعداد جو متاثر ہوئی وہ اٹھارہ لاکھ تھی، اور کاشت کے قابل تقریباً 23 لاکھ ایکڑ علاقہ متاثر ہوا، جبکہ 2010ء میں تقریباً 60 لاکھ ایکڑ علاقہ متاثر ہوا تھا۔
    کھڑی فصلیں جنہیں نقصان پہنچنے کے امکانات ہیں، ان میں روئی، چاول، سبزیاں اور کسی حد تک گنّے کی فصل شامل ہے۔ روئی اور چاول کی فصل کے معیار اور سائز کی بنا پر اس کا براہ راست اثر ملک کی برآمدات سے آمدنی پر پڑتا ہے، جبکہ عام فصل کا نقصان افراط زر کے دباؤ کے کھاتے میں چلاجاتا ہے۔ 2010ء کے برعکس اس سال کے سیلاب میں مویشیوں کا نسبتاً کم نقصان ہوا ہے۔ بہرحال، یہ ابھی بالکل بنیادی اندازے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں جب پانی کم ہونا شروع ہوگا، تو زیادہ صحیح پتہ چلے گا اور تباہیوں کا تخمینہ لگانے کی حکومتی صلاحیت زیادہ موثر طور پر کام کرے گی۔

    نقصانات کا حتمی تخمینہ جو بھی ہو، اہم بات یہ ہےہمیں ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس بڑی تصویر کو دیکھنا ہے جو اس تباہی کے پس منظر میں ابھر رہی ہے۔ جب اس سال کا سیلابی پانی پوری طرح اتر جائے گا، تو محتاط اندازوں کے مطابق 2010ء کے بعد سیلابوں سے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 16 بلین ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔

    ایک بہت اہم حقیقت جو سیلاب اپنے پیچھے چھوڑجائے گا، اور جو کئی پلوں کے بہہ جانے، یا اتنے کلومیٹر سڑکوں کی تباہی، یا اتنے ایکڑ تیار فصلوں کی سیلاب سے متاثر ہونے سے بھی زیادہ اہم ہے وہ ان لوگوں کی زندگیاں ہیں جو اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ بالکل 2010ء کی طرح وہ لوگ جو سیلاب کی بے رحم اور تند موجوں کا نشانہ بنے وہ بیچارے غریب اور ستم زدہ لوگ تھے، جن کی کھڑی فصلیں، مویشی، آمدنی، روزگار، مکان، کھیت کھلیان، بیج اور خوراک کے ذخیرے اور قیمتی چھوٹی موٹی بچت سب سیلاب کی نذر ہوگئی۔ ان میں سے اب زیادہ تربھیانک غربت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔

    اتنے بڑے سیلاب کے بعد پلاننگ کمیشن نے غربت کی لکیر کے اعدادوشمار میں 13 فیصد کی ایک واضح کمی کا اعلان کیا جو تاریخ میں سب سے کم تھی۔ یہ ان تمام دوسرے اعدادوشمار سے بالکل متضاد اور مختلف ہے جو یہ بتاتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ ایک خاندان کسی بھی بیرونی جھٹکے، جیسے کہ صحت سے متعلق مسائل یا کسی قدرتی آفت کی وجہ سےغربت کی لکیر سے نیچے چلاگیا تو وہ سالوں اس سے نیچے ہی رہتا ہے، جب تک کہ وہ انتہائی خوش قسمت ہو نا ہو۔
    جولوگ اس سال اور 2010ء کے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں ان میں سے کتنے غربت کی لکیر سے نیچے گئے ہیں، ایک شفاف اور قابل بھروسہ طریقے سے سروے کر کے اس کا اندازہ لگانا حکومت کا فرض ہے۔
    ایک مرتبہ یہ بات طے ہوجائے توحکومت کو کوشش کرنی چاہئے کہ بےنظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مدد سے ان خاندانوں کو وہ مدد دی جائے جس کی انہیں ضرورت ہے، ان کو نقد رقم اور فصل کے لیے بیج وغیرہ، یا قرضوں کی سہولت اور کھیت کے اوزار وغیرہ دیے جائیں تاکہ غربت کے چکر کو کسی طرح توڑا جاسکے۔

     
    ترجمہ: علی مظفر جعفری
    لکھاری سابق معاشی مشیر ہیں، اور اب اسلام آباد میں ایک کنسلٹنٹ فرم کی سربراہی کر رہے ہیں۔
     


    0 0

    Pakistan beat India 2-1 in Asian Games hockey match




    0 0


    لاہور میں پولیس کے ہمراہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان پر تشدد کرنے اور عام افراد کی گاڑیاں توڑنے والے گلو بٹ کو ایک اور ’’اعزاز‘‘ حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق لفظ گلو اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کیے جانے کا عندیہ دیا گیا ہے جس کے لیے کہا گیا ہے کہ اگر ’’گلو‘‘ نام مشہور ہوا تو اس کو ڈکشنری کے نئے ایڈیشن میں شامل کر لیا جائے گا۔
    واضح رہے کہ اس حوالے سے پاکستانی شہری اور زبانوں کے ماہر، سید شمیم اعظم نے اوکسفرڈ ڈکشنری کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا کہ پاکستان میں 17 جون کے بعد پے درپے ہونے والے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے لفظ "گلو"کو ڈکشنری کے اگلے ایڈیشن میں شامل کیا جائے۔
    جواباً اوکسفورڈ ڈکشنری کے پبلشرز نے کہا ہے، کہ اگر کوئی بھی لفظ عوام میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل کر لے، اور لوگ چاہیں کہ یہ نیا لفظ ان کی ڈکشنری میں شامل ہو، تو اسے ضرور شامل کیا جائے گا۔

    شمیم اعظم کے مطابق لفظ گلو کو اسم عام کے طور پر ڈکشنری میں شامل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اب اس لفظ کو پاکستانی معاشرے میں رائج ایک عام رویے کے طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔
    وہ کہتے ہیں کہ جب کبھی بھی کوئی شخص یا کوئی چیز طاقتور لوگوں کے کارندوں سے خطرے میں ہو، تو ان پرتشدد عناصر کو گلو کہا جاتا ہے، اور اس کے بعد کسی مزید تشریح کے بغیر دوسرا شخص سمجھ جاتا ہے کہ اشارہ کس جانب ہے۔

    گلو بٹ کے رویئے سے دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم ہو گئی ہے جب کہ اسے عبرت کا نشان بھی بنا دیا گیا ہے اس لیے آئندہ جب بھی کوئی ایسی حرکت کرے گا تو اس کے اس فعل کو ’گلو ازم‘ کے نام سے پہچانا جائے گا۔
    یاد رہے کہ گوگل پلے اسٹور پر پہلے ہی گلو بٹ کی توڑ پھوڑ پر مبنی 20 سے زائد گیم سامنے آئے تھے، ان گیمز کو 10ہزار بار سے زائد دفعہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا تھا جس کے بعد ان گیمز نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت حاصل کی تھی۔

    یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی اس دوران اہلکاروں اور پی اے ٹی کے کارکنوں میں تصادم ہوا تھا۔

    گلو بٹ اسی دوران نے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑنے شروع کر دئیے تھے جبکہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی اور یہ تمام مناظر کیمروں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے۔
    بعد ازاں گلوبٹ پر اس حوالے سے مقدمہ بھی درج ہوا اور اس کی سماعت عدالت میں جا ری ہے۔



    0 0



    ایک ٹی وی رپورٹرسیلاب کے پانی میں کھڑا ہوا تھا اور چیخ چیخ کر ان تمام تباہ کاریوں کے لیے جمہوریت کو برا بھلا کہہ رہا تھا، جو بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ اس کے بار بار چیخنے چلانے اور ملامت کرنے سے ایسا لگ رہا تھا کہ شاید اس کے پاس رپورٹ کرنے کو کچھ تھا نہیں یا اسے رپورٹنگ میں دلچسپی نہیں تھی۔ اس طرح کے مناظر پاکستان میں ٹی وی اسکرینوں پر اکثر نظر آتے ہیں، اور ناظرین بھی اب ان کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔

    لیکن اس قسم کےمناظر اورایسی رپورٹیں آخر کیا ظاہرکرتی ہیں؟ کیا وہ چینلوں کے درمیان ریٹنگ کی دوڑ کا حصہ ہیں یا ان کا مقصد کسی میڈیا گروپ یا کسی مخصوص شخصیت کے مستعار لیے ہوئے ایجنڈے کی تشہیر کرنا ہے؟ ٹی وی کا ایک باشعور ناظر جب بھی ایسی جانبدارانہ رپورٹنگ دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایسے سوال اکثر اٹھتے ہیں۔

    تباہیوں، بحران یا تنازعات کی صورت حال کی رپورٹنگ کرنا ایک صحافی کے لیے ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے، اور یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کے ٹی وی رپورٹروں کی ایک بڑی تعداد عام واقعات کی رپورٹنگ کرتے وقت بھی غیر پیشہ وارانہ اور سنسنی خیز نقطۂ نظر اپناتی ہے۔ میڈیا کے کچھ ماہرین کی نظر میں یہ بات پروفیشنل اور بامقصد رپورٹنگ کے قتل عام کے جیسی ہے۔ یقیناً، پاکستان کا پورا میڈیا ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ایک مخصوص رپورٹنگ کی وجہ سے پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کی پیشہ وارانہ دیانت داری مشکوک سمجھی جائے گی۔
    اس تناظر میں اسلام آباد کے ایک ریسرچ گروپ کی تحقیق "پاکستان میں میڈیا کو حاصل تحفظ"، جو اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دھمکیوں کے شکار اور مارے جانے والے صحافیوں کی کیس ہسٹریوں پر مبنی ہے، میں یہ بتایا گیا ہے کہ بہت سے صحافی اس پیشے کو اپنی سماجی ذمہ داری کے احساس کی وجہ سے اپناتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سماجی ذمہ داری ان صحافیوں کے لیے صحافیانہ فرائض کا ایک اہم عنصر ہے، جو سماجی کاموں میں کسی بھی سطح پر سرگرم ہیں۔

    یہ چیز ان کی تعلیمی اسناد سے بھی ثابت ہوتی ہیں جو اکثرسماجی ذمہ داری کی وجہ سے اس پیشہ کا انتخاب کرتے ہیں، تاکہ معاشرے میں کچھ تبدیلی لائی جاسکے۔ درحقیقت، یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ اکثرخصوصی کہانیوں کی کھوج کرکے ان کی رپورٹنگ کرتے ہیں۔

    صحافیوں میں اس مخصوص قسم کے رویے کی وجہ بھی یہی عنصر ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں اکثر نا صرف مشکل راستوں کو ترجیح دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات بنیادی پیشہ وارانہ ضابطوں سے سمجھوتہ کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ مختلف تجزیوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صحافیوں کی سیاسی، نظریاتی اور مذہبی وابستگیاں ان کے کام اورپیشے کے حوالے سے اہم معاملات جیسے کہ واقعات کی رپورٹنگ کا انداز، ان کا اپنا ردعمل اور خطرات کے بارے میں ان کی سوچ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔

    پاکستان کے وہ صحافی جن کا تعلق چھوٹے اور مقامی میڈیا ہاؤسز سے ہے، زیادہ خطرے میں نظر آتے ہیں۔ ریاستی اور غیر ریاستی، دونوں عناصر مقامی سطح پر اس خطرے کی وجہ ہوتے ہیں۔ چھوٹے شہروں یا قبائلی علاقوں میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گرد کم سرکولیشن اور پہنچ رکھنے والے چینلوں اور اخبارات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو مسلسل دھمکاتے رہتے ہیں۔ اگر صحافیوں، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں میں رہنے والے صحافیوں کا تعلق بڑے میڈیا ہاؤسز کے ساتھ ہو، تو کچھ تحفظ ضرور ملتا ہے، اورمیڈیا کی رپورٹنگ سے ناراض عناصر کا ردعمل اس حد تک نہیں ہوتا ہے کہ صحافیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث ہو۔

    لیکن بہرحال، بڑے میڈیا ہاؤسز سے متعلّق صحافی اگر ریاستی یا غیرریاستی عناصر کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو ان کے لیے زیادہ خطرہ ہے۔ وہ صحافی جن کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ نظریہ ساز ہیں یا کسی اہم مسئلے کے بارے میں خیالات پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کو زیادہ خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں، پارٹ ٹائم صحافی ہونا ان کو خطروں سے نہیں بچاسکتا۔ لیکن تحقیق کے مطابق ضروری نہیں کہ ایسے صحافیوں کی مذہبی اور سیاسی وابستگیوں کا ان خطروں سے کوئی تعلق ہو۔

    مارے جانے والے صحافیوں کے بارے میں اس تحقیق سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ جس میڈیا گروپ سے ان کا تعلق تھا، کیا وہ ان سے اس خصوصی رپورٹنگ کا مطالبہ کرتے تھے یا نہیں۔ اور اس ثبوت کی عدم موجودگی میں یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ رپورٹر اکثر اپنی ذمہ داری پر ایسے خطرات مول لیتے تھے۔
    اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی یہ، کہ وہ پیشہ وارانہ برتری یا مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے ایسا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ سماجی، سیاسی اور نظریاتی مجبوری؛ اگر ان کی کوئی سیاسی وابستگیاں نا بھی ہوں تو بھی سیاسی صورت حال سے باخبر ہونے کے علاوہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں اورملک کے دوسرے حصوں میں مذہبی-سیاسی منظرنامے پر پیدا ہو رہے حالات کی آگہی رکھتے ہیں۔

    یہ جائزہ یہ بھی بتاتا ہے کہ زیادہ خطرہ مول لینے والے صحافی ان متنازعہ علاقوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے اور انہیں خطروں کی سنگینی کا بھی اندازہ نہیں تھا۔ یہ ان صحافیوں سے مختلف ہے جن کا تعلق خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے متنازعہ علاقوں سے ہے اور خصوصی رپورٹنگ سے ان کا تعلق نہیں ہے۔
    ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کی معمول کی رپورٹنگ میں کافی مواد ہو۔ دوسرا یہ کہ خطروں کی نوعیت، ان کی اثرپذیری اوردوستوں اور خاندان کا دباؤ ان علاقوں میں رہنے والے صحافیوں کو خطروں کا غیرضروری رسک لینے سے دور رکھتا ہے۔

    خیبر پختونخواہ اور فاٹا کے بارے میں ان جائزوں سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ وہاں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو غیرریاستی عناصر سے خطرات ہیں۔ ان غیر ریاستی عناصر کو اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ میڈیا ان کو وہ توجہ نہیں دیتا جو ان کا حق ہے، اوریہ کہ ان کے نقطۂ نظر کو مسخ کیا جارہا ہے۔
    حکومت اور میڈیا دونوں مل کر صحافیوں کو درپیش خطرات کو کم کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ صحافیوں کو خود بھی ان طاقتور عناصرسے متعلق خبروں کی اشاعت کے بارے میں زیادہ ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا جائے جو بہت جلدی ناراض ہوسکتے ہیں۔ مقامی صحافیوں کو اپنے میڈیا ہاؤسز سے مشورہ کرکے اس کا حل نکالنا چاہیے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کسی مسئلے کی اشاعت خطرات کے بغیر کیسے کی جاسکتی ہے۔

    اس کے لیے کبھی کبھی حساس معاملات کی خبر میں رپورٹنگ کے مقام (Dateline) میں تبدیلی کی جاسکتی ہے، یا میڈیا ہاؤس سے درخواست کی جاسکتی ہے کہ صحافی کوخطرناک مقام سے کہیں اور بھیج کراس مخصوص مسئلے کے بارے میں خبر شائع کی جائے۔

    میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں، خاص طور پر رپورٹرز کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے پیشے کے قواعد وضوابط اور معیارکا خیال رکھیں، کیونکہ یہ بھی ایک سماجی ذمہ داری ہے۔ بامقصد رپورٹنگ معاشرے میں ان کی خواہش کے مطابق تبدیلی لاسکتی ہے۔ بلکہ حقیقت میں مقصدیت ہی معاشرے میں انصاف اور میرٹ کی ضامن ہوتی ہے۔

    محمد عامر رانا
     
    ترجمہ: علی مظفر جعفری
    لکھاری سیکیورٹی ماہر ہیں۔

    Journalism in Pakistan

     


older | 1 | .... | 30 | 31 | (Page 32) | 33 | 34 | .... | 149 | newer