Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 29 | 30 | (Page 31) | 32 | 33 | .... | 149 | newer

    0 0



    0 0

     Javed Hashmi - "The Game Changer"


    0 0


    بد قسمتی کی بات ہے کہ عین اس وقت جب محسوس یوں ہو رہا ہے کہ شاید اس مسئلے کا کوئی حل نکل پائے، ایک نیا پہلو سامنے آ گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے اس تمام بحران کے درمیان کچھ نہ کچھ دائیں بائیں کی خبریں آرہی تھی کہ شاید کوئی واضح پوزیشن وہ اپنی نہ لیں۔ لیکن اب تک لگتا یہ تھا کہ ان کی واضح پوزیشن واضح یہی تھی کہ انہوں نے واضح پوزیشن نہیں لینی۔

    اس وقت اگر متحدہ قومی موومنٹ اپنے استعفے دیتی ہے تو دو درجن سے زیادہ لوگ جو ہیں وہ اسمبلی سے نکل جائیں گے اور اگر ان لوگوں کی تعداد کو آپ پاکستان تحریک انصاف کی تعداد سے ملائیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ ان کے اخراج سے ہی اس اسمبلی کی نمائندہ حیثیت کے اوپر سوالیہ نشان اٹھانے میں کافی مدد ملے گی۔

    آئین اور قانون کے مطابق دیکھیں تو اسمبلی سے مستعفی ہونا کسی بھی نمائندہ جماعت کا حق ہے لیکن نمائندہ جماعت کے حق کو ایسے وقت پر استعمال کرنا کہ جب معاملات اس اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کر سکتے ہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید اصل میں یہ ایشو اسی طرف جا رہا ہے۔ آج پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اس حد تک لچک دکھائی گئی کہ شاہ محمود قریشی اسمبلی کے اندر آئے اور انہوں نے اپنے تمام ان لوگوں کے ساتھ مل کر جو اسمبلی میں اپنے استعفے جمع کرا چکے ہیں۔ اپنی نمائندگی کا آخری مرتبہ شاید حق استعمال کیا اور خصوصی ان کو ایک طریقہ کار کے ذریعے اپنی تقریر کرنے کا موقع دیا۔ جس سے اسمبلی والے بظاہر ناراض بھی ہوئے۔

    جب اسمبلی سے جا رہے تھے جواب سنے بغیر اور استعفوں کا اعلان انہوں نے نہیں کیا حتمی طور پر تو یوں لگ رہا تھا کہ شاید اس جگہ کو استعمال کر کے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف معاملے کو کسی اور طرف لے جائیں۔ لیکن اب ایم کیو ایم نے استعفے دینے کی دھمکی دی ہے اور عین ممکن ہے کہ استعفے وہ دیں بھی دیں۔ لگتا یہ ہے کہ جو پلان طاہر القادری اور عمران خان سڑک کے ذریعے نہیں کر پائے اب وہ اسمبلی کے اندر سے کروانے کی کوشش کی جائے گی۔

    ایم کیو ایم کے جانے کے بعد پھر بھی اسمبلی کے اندر یہ آواز اٹھے گی کہ تمام اسمبلی کے مستقبل کا فیصلہ ایک جماعت نہیں کر سکتی۔ لیکن ایم کیو ایم چوں کہ کراچی کے اندر ہڑتالیں کر سکتی ہے، حیدر آباد کے اندر ہڑتالیں کر سکتی ہے۔ اگر ان ہڑتالوں کو آپ پاکستان تحریک انصاف کی ممکنہ بڑھتی ہوئی ہڑتالوں کے ساتھ ملا دیں اور دونوں کے استعفے اکٹھے کر دیں تو ملک میں یہ سیاسی بحران ایک ایسا زاویہ اختیار کر سکتا ہے جس کے بعد زیادہ لوگوں کو یہ کہنے کی ضرورت محسوس ہو گی یا ان کو یہ موقع ملے گا کہ شاید اب اس اسمبلی کی جگہ نئی اسمبلی منتخب ہونی چاہیے۔

    تو وہ جو الیکشن کا معاملہ ہے وہ بار بار سامنے آ رہا ہے۔ میرے خیال میں ایم کیو ایم کے استعفوں کی دھمکی یا اس پر عمل در آمد نئے الیکشن کروانے کے پلان کا ایک حصہ ہے۔

    جاوید ہاشمی کے عمران خان پر الزامات

    دیکھیں اس معاملے کوتو اگر لپیٹنا ہے تو اس معاملے کو پاکستان کے اندر تمام جو سیاسی اہم لوگ ہیں ان کو مل بیٹھ کر اس کا حل سوچنا ہو گا۔ پارلیمان کے اندر کی جانے والی تقریروں کو غور سے سنیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح یہ شک بار بار مختلف حلقوں سے واضح کیا جا رہا ہے کہ شاید اس کے پیچھے آرمی یا اسٹبلشمنٹ کا کوئی حصہ ہے۔

    جاوید ہاشمی صاحب انٹرویو پر انٹرویو دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے بعد ان الزامات کو دو تین مرتبہ مختلف انداز سے دہرایا ہے۔ ظاہر ہے آرمی کی طرف سے اس پر ایک پریس ریلیز کی شکل میں شدید تردید بھی آ چکی ہے اور حکومت نے بھی ایک دو مواقع کو چھوڑ کر عموماً یہ پالیسی اپنا رکھی ہے کہ ہم اس معاملے کو سلجھانا چاہتے ہیں۔ اگر الجھانے لگ جائیں تو اس کی تفصیل میں پڑ جائیں گے اور کسی جگہ پر پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اسکے بعد آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں طاقت کا کھیل کس طرح کھیلا جاتا ہے۔

    اس وقت تدبر و تد بیر کی زیادہ ضرورت ہے، غصے کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں اگر سیاسی بھونچال اگر آیا تو وہ صرف اس حکومت کو نہیں لپیٹے گا۔ وہ مستقبل کے کسی نظام پر بھی بہت گہرا سوالیہ نشان چھوڑ جائے گا۔ یہ ایک بدقسمت موڑ ہے پاکستان کی سیاست میں، وہ تمام خواہشات، امیدیں لیکر جو یہ نظام چلا تھا اب یہ خاک میں ملتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔

    اگرچہ ظاہرا ایک جمہوریت اس بحث کی شکل میں نظر آ رہی ہے لیکن اندر خانے طاقت کا کھیل بھی آپ کو نظر آ رہا ہے۔ ہم یہی امید کر سکتے ہیں کہ تحقیقات اور الزام تراشی اور شکوک و شہبات گہرا کرنے کی جو روایت ہے اس سے پہرے ہٹ کر ایک اور نئی روایت جنم لے گی جو اس ملک کے دیر پا مسائل پر عمل درآمد ہو بھی جائے جس کا اظہار سازشوں کی صورت میں کیا جا رہا ہے تو بھی پاکستان میں آنیوالے دنوں میں استحکام آنا آپ کو مشکل نظر آتا ہے۔

    نئے انتخابات کروانے یا اس مبینہ سازش کی جڑوں تک پہنچنے کا معاملہ اپنی جگہ پر ہے۔ سیاسی اتفاق رائے اور سیاسی ماحول آپ کو بری طرح اس وقت متا ثر نظر آتا ہے۔ اس میں اگر خداوند تعالی کی طرف سے خا ص چنے ہوئے لوگ بھی متعین کر دیے جائیں تب بھی جو انتخابات ہوں گے، یا جو تحقیقات ہوں گی ان کے نتائج پر ہمیشہ انگلی اٹھائی جاتی رہے گی۔

    میرا اپنا خیال ہے کہ شاید ان حالات میں اس نظام میں سے راہ نکالنے کی ایک صورت نکالنی چاہیے، اگر الزامات کی طے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی یا خدشات کو خواہشات کو عملی شکل میں دیکھنے کی کوشش کی گئی تو پھر طوفان بڑا ہو جائے گا اور کچھ نہیں بچے گا۔

    طلعت حسین

    MQM Resignation from Assembly


    0 0


    پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین نے جس تدبر، رواداری اور یقین کے ساتھ جمہوریت کے تحفظ کے لیے حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے وہ سیاسی ڈیڈ لاک کے خاتمے اور بحران کے حل کے امکانات کی طرف ایک امید افزا اشارہ ہے، سیاست تو امکانات کا شفاف آرٹ ہے۔

    سیاست میں رواداری ہوتی ہے مستقل دشمنی نہیں ہوتی۔ سیاسی قائدین نے کہا کہ تمام جماعتیں غیر مشروط طور پر جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہیں، اگر لشکر کشی کامیاب ہو گئی تو آئین اور جمہوریت کی دھجیاں اڑ جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی قائدین نے حکومت سے بھی اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ نصیحت کی کہ وہ بھی اپنے وزراء کے تکبر اور رعونت پر سنجیدگی سے سوچے۔ رعونت تو رومن ایمپائر کو بھی لے ڈوبی تھی۔

    بلاشبہ منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے سیاسی رہنمائوں کی طرف سے جس جمہوری رویے کی قوم کو توقع تھی تقریباً ان ہی قومی امنگوں کی عکاسی کا فریضہ قائدین نے ادا کیا، ان کے خیالات کے اظہار میں مفاہمت، مصالحت اور تنازع کو بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور دھرنے سے پیدا شدہ صورتحال کے حل کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری سے نتیجہ خیز مکالمہ کی اہمیت کو بھی واضح طور پر اجاگر کیا گیا، دو طرفہ تباہ کن شو ڈائون کے کسی بھی ڈرامائی مگر پر امن ڈراپ سین کے لیے ضروری ہے اسی قسم کے مدبرانہ انداز نظر، مثبت سیاسی سوچ، قومی یکجہتی، یگانگت اور افہام و تفہیم کی بھی ضرورت ہے۔

    مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بیرسٹر اعتزاز احسن نے بلیغ پیرائے میں کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں غیر مشروط طور پر جمہوریت اور آئین کے ساتھ ہیں۔ تاہم اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ ایسی نوبت ہی کیوں آنے دی گئی، کہ جمہوریت رسوا ہوئی، کہیں نہ کہیں تو طرز حکمرانی میں نقص تھا۔ گڈ گورننس ہوتی تو یہ طوفان کیسے اٹھتا۔ سابق صدر زرداری کا کہنا ہے کہ یہ فتح یا شکست کی جنگ نہیں، آئینی مطالبات حل ہونے چاہئیں۔ اسی طرح دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے بھی انفرادی اور اجتماعی طور پر مسائل کے حل کے لیے مفید مشورے دیے، اس ضمن میں جمہوریت سے کمیٹڈ عسکری قیادت نے موجودہ بحران کے حوالے سے اپنی نیوٹرل پوزیشن واضح کی جو پاکستان کے سیاسی و عسکری تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فوج کو سیاسی معاملات میں نہ لایا جائے۔ 

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ فوج نے اپنے بیان میں جمہوریت کی حمایت کا 
    اعادہ کیا ہے، ہمیں اپنے معاملات خود سیاسی بصیرت سے حل کرنے چاہئیں، جب کہ عدلیہ نے غیر آئینی اور ماورائے قانون اقدامات کے حوالہ سے پیش بندی کی اور سخت احکامات جاری کیے، جمہوری سطح پر سیاسی رہنمائوں نے مسلسل رابطے جاری رکھے تا کہ وقت ضایع کیے بغیر بحران اپنے منطقی نتیجہ پر پہنچے۔ اس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی جرگے نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی سربراہی میں پہلے عمران خان سے مختصر ملاقات کی اور بعد میں ڈاکٹر طاہر القادری سے رابطہ کیا، اور تفصیلی گفتگو کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ملک بحران سے دوچار ہے، یہ ہم سب کا ملک ہے، ہم تماشائی نہیں بنیں گے۔

    فریقین کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں، سیاسی جماعتیں ضامن بننے کے لیے تیار ہیں، ڈیڈ لاک کے خاتمہ کے لیے بہت کچھ کرنا ہے۔ جرگے نے حکومت پر دھرنے میں شامل کارکنوں کی فوری رہائی کی بھی اپیل کی۔ حقیقت یہ ہے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی بحران کے حل میں ثالثی کی پیشکش کی ہے، جب کہ تمام محب وطن شہری اس گمبھیر صورتحال سے نکلنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔

    داخلی حالات کا تقاضہ ہے کہ سیاست دان جرات اور اخلاص سے معاملات کے سدھار کے لیے فیصلہ کن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں، خوش آیند امر یہ ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور اپوزیشن رہنمائوں نے تصادم روکنے کے لیے اپنی طرف سے بات چیت کے تسلسل کو یقینی بنانے میں پر جوش معاونت کی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا ہے، حکومت نے طاہر القادری اور عمران خان سے آخری دفعہ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک متوقع قرارداد پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن پارلیمانی رہنماؤں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

    قرارداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریڈ زون خالی کرانے کا کہا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی سربراہی میں قائم پارلیمانی کمیٹی (جرگہ ) کی طاہر القادری اور عمران خان سے مذاکرات سے قبل اسحاق ڈار اور چوہدری نثار علی خان سے تفصیلی مشاورت ہوئی ہے اور سراج الحق نے مذاکرات سے قبل وزیر اعظم سے مکمل مینڈیٹ لیا ہے جب کہ وزیر اعظم نے ان کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے کہ سپریم کورٹ کے کمیشن نے الیکشن 2013ء کے حوالے سے دھاندلی کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی اور جس کو ملوث قرار دیا گیا، اس حوالے سے اس کمیشن کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

    انتخابی اصلاحات اور موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے پارلیمنٹ میں مشاورت سے قانون سازی بھی 30 سے 45 روز میں کی جائے گی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے حکومت سپریم کورٹ کا کمیشن تشکیل دینے کے لیے بھی تیار ہے اور اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو دونوں جماعتوں پر قائم مقدمات واپس لینے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ یہ سب نازک معاملات آیندہ چند دنوں میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں، اور دیکھنا یہ بھی ہے کہ چینی صدر پاکستان کے دورے پر آ رہے ہیں، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چن گینگ نے کہا ہے کہ چین کو توقع ہے کہ پاکستان کی متعلقہ جماعتیں ریاست اور عوام کے بنیادی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے مشاورت اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کر لیں گی اور مل جل کر قومی استحکام کو سربلند رکھیں گی۔
    قریبی دوست ہونے کے ناطے چین پاکستان کی صورتحال کا قریبی جائزہ لے رہا ہے۔ ایران نے پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ موجودہ اختلافات تشدد کے بغیر اور ملک کے عوام کے مفاد میں دور کر دیے جائیں گے ۔

     امید کی جانی چاہیے کہ مدبران سیاست جاری بحران کے باعث ملکی معیشت کی زبوں حالی، خطے میں مذموم بھارتی عزائم، اس کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کے سدباب اور فاٹا میں ضرب عضب آپریشن سے حاصل ہونے والے فوائد کا ادراک کرتے ہوئے ملک کو سنگین صورتحال سے نکالنے کے لیے کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے کیونکہ مذاکرات ہی آخری حل ہیں۔


    0 0


    منگل دو ستمبر کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس شروع ہوا جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے، جس میں وزیراعظم میاں نواز شریف کے دوستوں کو جمہوریت کے نام پر ان کے دشمنوں سے دفاع کرتے دیکھنا کافی دلچسپ ہے، جو پارلیمنٹ کے باہر بیٹھے انصاف اور انقلاب کے نام پر ن لیگ کے قائد کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

    گزشتہ تین ہفتوں سے دونوں فریقین ایک دوسرے سے سینگ الجھائے ہوئے ہیں تاہم متعدد افراد نے اس تھکادینے والے سیاسی معرکے میں جو اچھی چیز دیکھی ہے وہ پارلیمنٹ میں وزیراعظم نواز شریف کی مسلسل موجودگی ہے۔
    اس بحران سے قبل وہ کبھی کبھار ہی قومی اسمبلی میں نظر آتے تھے جبکہ سینیٹ میں ان کی آمد صرف ایک بار ہوئی۔

    وزارت عظمیٰ ملنے کے بعد پہلے سال میں وزیراعظم نواز شریف کو حزب اختلاف کے بینچز کی جانب سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جاتا تھا کہ قومی اسمبلی آنے کی بجائے ان کی زیادہ دلچسپی غیرملکی دورے کرنے پر مرکوز ہے۔
    نواز شریف نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم منتخب ہونے کے انہوں نے سابق فوجی سربراہ اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف ٹرائل اور پھر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے یادگار اعلانات کیے، اس کے علاوہ بجٹ سیشنز بھی وہ مواقع ہیں جب وہ ایوان میں نظر آئے۔

    اب چونکہ انہیں تمام جماعتوں کی حمایت کی ضرورت ہے خصوصاً مخالف سیاسی جماعتوں کی، تاکہ متزلزل جمہوری نظام کو بچایا جاسکے، یہی وجہ ہے کہ وہ اب پارلیمنٹ میں اس لمحے میں داخل ہوتے ہین جب اسپیکر ایوان کی کارروائی کا آغاز کرتے ہیں اور آخری تقریر کے ختم تک موجود رہتے ہیں۔
    ایک صحافی نے طنز کرتے ہوئے کہا"ایسا نظر آتا ہے کہ اگر ایوان کی کارروائی طویل ہوئی تو وزیراعظم رات بھر بھی یہاں رہنے کے لیے تیار ہوجائیں گے، یہ مسلم لیگ ن کی عادت ہے کہ وہ حالات کو دیکھنے کے بعد بہت تاخیر سے ردعمل کا اظہار کرتی ہے"۔

    کئی دہائیوں سے قومی اسمبلی کی کارروائی کو کور کرنے والے صحافی نے کہا"توقع کی جاسکتی ہے کہ وزیراعظم اس بحران سے سبق سکھیں گے، ورنہ تو پارلیمنٹ کو نظرانداز کرکے انہوں نے اپنے دفاع میں شگاف ڈالا ہے، وزیراعظم اور ان کی جماعت نے اپنی حکومت کو گرانے کے لیے ہرممکن اقدام کیے ہیں"۔
    میاں نواز شریف میں آنے والی اس اچانک تبدیلی کا اثر ان کی جماعت کے اراکین پر بھی ہوا ہے، ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ، جو اسی وقت ایوان میں نظر آتے تھے جب ان کے قائد کبھی کبھار وہاں آجاتے تھے، اب موجودہ سیشن میں باقاعدگی سے نظر آرہے ہیں۔

    وہ اسے اپنے قائد سے بات چیت کرنے کا موقع کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں۔
    پہلے وزیراعظم نواز شریف سے تو بات چیت تو دور کی بات ہے مصافحہ بھی صرف ان اراکین کے لیے مخصوص تھا جو ان کی 'کچن کابینہ'میں شامل ہیں۔
    یہ امر ہر ایک کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث بنا ہے کہ الگ تھلگ رہنے والے وزیراعظم اب کھلے بازوﺅں کے ساتھ اپنے ملنے والوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں اور درخواستیں وصول کرتے ہیں۔

    ایک موقع پر تو پریس گیلری میں موجود افراد نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وزیراعظم آفیشل انکلیوزر میں بیٹھے اپنے عملے کو ہدایات دیں کہ انہیں دی جانے والی درخواستوں پر فوری کارروائی کریں۔
    جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے ایک رکن اسمبلی نے کہا"گلیوں میں احتجاج کرنے والے صحیح ہے یا درست، اس سے قطع نظر میں یہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے حکومت مخالف مظاہرے ہماری قیادت میں بڑی تبدیلی لائے ہیں، اب نہ وہ صرف قابل رسائی ہوگئے ہیں بلکہ وہ ہماری درخواستوں کو سن بھی رہے ہیں"۔

    یہ رکن اسمبلی ماضی میں نجی بات چیت میں وفاقی کابینہ پر بہت زیادہ تنقید کرتے رہے ہیں۔
    مسلم لیگ نواز کے وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور ایم این اے سے جب رائے لی گئی تو اس نے قہقہہ لگایا"ہم بس توقع ہی کرسکتے ہیں کہ یہ بحران پرامن طریقے سے حل ہوجائے تو ہمارے وزیراعظم اسی طرح پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کو اپنا معمول بنائے رکھیں"۔

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے جاری مشترکہ اجلاس کے دوران حکومتی و اپوزیشن دونوں بینچز کی جانب سے بلند آواز یا خاموشی سے وزیراعظم کی ایوان سے غیرحاضری اور ان کی کابینہ اراکین کے تکبر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
    جمعرات کو پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی نے وزیراعظم کو انتباہ کیا کہ اگر وہ پارلیمنٹ میں نہ آئے تو"جمہوریت کے خلاف سازشیں جاری رہیں گی"۔
    اس سے قبل ان کی جماعت کے رہنماءاعتزاز احسن نے میاں نواز شریف کو خبردار کیا تھا کہ توقع ہے کہ وہ موجودہ بحران سے نکل جائیں گے مگر وہ اپنی پرانی عادات کی جانب واپس لوٹے تو انہیں اس سے بھی زیادہ بدترین حالات کا سامنا ہوگا۔

    خاور گھمن


    0 0


    جس زمانے میں ضیا الحق کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریکِ بحالیِ جمہوریت عروج پر تھی تو اسٹیبلبشمنٹ نے احتجاجی جلوسوں کا زور توڑنے کے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا کہ چلتے جلوس میں کچھ سادہ لباس سیاسی ورکر ٹائپ چہرے شامل کروا دیے جاتے۔

    یہ ورکر جمہوریت زندہ باد، ضیا الحق مردہ باد کے نعرے لگواتے لگواتے جلوس کو مقررہ راستے سے بھٹکا کر اس جانب لے جاتے جہاں پولیس کی قیدی گاڑیاں کھڑی ہوتیں اور پھر مظاہرین کی پکڑ دھکڑ میں حکومت مخالف نعرے لگوانے والے یہ سادے بھی شامل ہو جاتے۔
     
    جانے کیوں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کو دیکھ کر ایم آر ڈی کے جلوس کو بھٹکانے کی ڈیوٹی پر مامور وہ سادہ لباس نعرہ باز یاد آجاتا ہے۔
    منگل سے جاری اچھا بھلا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جب یہ تاثر دینے لگا کہ جمہوری نظام کو لپیٹنے کی بالائے آئین سازشوں کے خلاف 99 فیصد سیاسی جماعتیں اپنے نظریات و شکایات سے بالاتر ہو کر دیوار کی صورت کھڑی ہیں اور ان کی ساری توجہ دھرنے کی غیر پارلیمانی سیاست ختم کرانے پر ہے۔ عین اس وقت ملک میں امن و امان کے قیام کے ذمہ دار وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی رگِ پراسراریت پھڑکی۔

    انہوں نے اپنے کولھے سے لگی گن سیدھی کر کے سینیٹ کے قائدِ حزبِ اختلاف بیرسٹر اعتزاز احسن پر داغ دی اور ان پر لینڈ مافیا کے مقدمے لڑنے اور ایل پی جی گیس کا ناجائز کوٹا لینے کے الزامات لگا دیے۔
    بندہ پوچھے کہ ان الزامات کی صحت سے قطع نظر ان کا ملک اور حکومت کو درپیش حالیہ بحران سے کیا براہ راست تعلق بن رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت جب پارلیمنٹ اور حکومت سڑک پر معاملات طے کرنے والوں کے محاصرے میں ہے۔

    یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جس وزیرِ اعظم کا وزیرِ داخلہ اس کے کنٹرول میں نہیں تو پھر کس کے کنٹرول میں ہے
    نتیجہ یہ ہوا کہ پارلیمنٹ کا چوتھا دن وزیرِ اعظم کی جانب سے معافی تلافی اور اعتزاز احسن کی دھواں دار جارحانہ صفائی کی نذر ہوگیا اور یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ جمہوریت اور آئین پسندوں کا اتحاد کیسے پل صراط پر کھڑا ہے۔
    کچھ اور ہو نہ ہو اس پارلیمانی تماشے سے باہر کھڑے کنٹینری مقررین کے ہاتھ میں نیا ایمونیشن آگیا اور ٹی وی چینلوں کے اونگھتے ٹاک شوز میں ایک بار پھر زندگی پڑ گئی۔

    اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ جس وزیرِ اعظم کا وزیرِ داخلہ اس کے کنٹرول میں نہیں تو پھر کس کے کنٹرول میں ہے۔
    انھی وزیرِ داخلہ نے اگست کے شروع میں کہا تھا کہ لاہور سے آنے والا لانگ مارچ اسلام آباد میں نہیں گھسنے دیا جائے گا۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ مارچ کو آبپارہ سے آگے کسی صورت نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریڈ زون کی لکیر کسی صورت عبور نہیں کرنے دی جائے گی۔ پھر انھی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ریڈ زون سے آگے کسی صورت نہیں جانے دیا جائے گا۔

    اور پھر یہ ہوا کہ مظاہرین نے کپڑے دھو کر سپریم کورٹ کے جنگلے سے لٹکا دیے۔ پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں صابن مل کے نہانا شروع کر دیا ، پی ٹی وی کی تاریں کاٹنے کے بعد کینٹین میں کھانا بھی اڑایا اور وزیرِ داخلہ ’اِب کے مار، اِب کے مار‘ ہی کرتے رہ گئے۔

    آج وزیرِ اعظم پارلیمنٹ میں سر جھکا کے ہر تقریر سن رہے ہیں مگر وزیرِ داخلہ کا تنتنا کسی جنرل رومیل سے کم نہیں۔
    کیا یہ وہی نثار علی خاں تو نہیں جنھوں نے اپنے بڑے بھائی اور سیکریٹری دفاع جنرل (ریٹائرڈ) چوہدری افتخار علی خاں مرحوم کے ساتھ مل کے منگلا کے کور کمانڈر جنرل پرویز مشرف کا نام بطور چیف آف آرمی سٹاف وزیرِاعظم کے سامنے رکھا تھا کہ ’اینہوں بنا لئو، سدھا سادھا اردو سپیکنگ بندہ لگدا جے۔‘
    پُل ہیں یا ’پش اینڈ پل‘

    لوگ کہتے ہیں چوہدری نثار کو ساتھ رکھنا میاں برادران کی مجبوری ہے بھلے اس کی قیمت جاوید ہاشمی جیسوں کی قیمت دے کر ہی کیوں نہ چکانی پڑے اور یہ کہ فوج اور میاں برادرز کے درمیان چوہدری نثار علی ہی ایک مضبوط پل ہیں مگر یہ کون طے کرے کہ یہ واقعی پل ہیں یا پش اینڈ پل ہیں اور یہ کہ اس پل کے کھلنے بند ہونے کی چابیاں کس کے پاس ہیں؟
    کیا یہ وہی چوہدری صاحب تو نہیں جنھوں نے اسی جنرل پرویز مشرف پر عین اس روز آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمۂ بغاوت چلانے کا اعلان کیا جس دن راولپنڈی شیعہ سنی فساد سے جل رہا تھا تاکہ میڈیا کو کھیلنے کے لیے دوسری گیند مل جائے۔

    اور کیا یہ وہی چوہدری صاحب تو نہیں جو بعد میں اس بات کے حامی ہو گئے کہ بغاوت کی فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مشرف صاحب کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دے دی جائے اور جب وزیرِ اعظم نے بات نہیں مانی تو چوہدری صاحب ایسے روٹھ گئے کہ کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد بھی ان کا فون ساری رات بند رہا۔

    یہ کیسے وزیرِ داخلہ ہیں جنھوں نے اب سے ہفتہ بھر پہلے دھرنا بحران میں فوج کی ثالثی کی خبر دی مگر انھی کے وزیرِ اعظم نے بھری پارلیمان میں اس مبینہ کردار کی تردید کر دی اور پھر فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو ایک علیحدہ بیان جاری کرنا پڑ گیا۔

    ان پے در پے ’ایفی شنسیوں‘ کے بعد مہذب یا غیر مہذب کی بحث سے قطع نظر کوئی اور ملک ہوتا تو اس کا وزیرِ داخلہ خود ہی استعفیٰ دے کر کنسلٹینسی سے پیسے کمانے شروع کر دیتا مگر پاکستان ’کوئی اور ملک‘ تو نہیں ہے۔
    لوگ کہتے ہیں چوہدری نثار کو ساتھ رکھنا میاں برادران کی مجبوری ہے بھلے اس کی قیمت جاوید ہاشمی جیسوں کی قیمت دے کر ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔
    اور یہ کہ فوج اور میاں برادران کے درمیان چوہدری نثار علی ہی ایک مضبوط پل ہیں۔ مگر یہ کون طے کرے کہ یہ واقعی پل ہیں یا پش اینڈ پل ہیں اور یہ کہ اس پل کے کھلنے بند ہونے کی چابیاں کس کے پاس ہیں؟


    آدمی اپنی زبان کے نیچے ہے  - حضرت علی 

    وسعت اللہ خان


    0 0


    کہا جاتا ہے کہ طاقت بدعنوان بناتی ہے اور مطلق طاقت مطلق بدعنوانی کو جنم دیتی ہے۔ لیکن یہ بات صرف سیاست دانوں کے بارے میں درست نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں درست ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان کے جرنیل ہیں۔ سیاست، سیاست دانوں کا شعبہ ہے لیکن پاکستان میں سیاسی بحران پیدا ہوتا ہے تو انگلی سیاست دانوں سے زیادہ جرنیلوں کی طرف اٹھتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جرنیل سیاست دانوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ جرنیلوں کی طاقت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ طاقت کے تمام مراکز پر قابض ہیں۔ پاکستان میں طاقت کا ایک مرکز امریکہ ہے اور پاکستان کے جرنیل سیاست دانوں سے کہیں زیادہ امریکہ کے قریب ہیں۔ فوج پاکستان کی سب سے منظم قوت ہے اور فوج ہر وقت جرنیلوں کی مٹھی میں ہوتی ہے۔ فوج ملک کے بجٹ کا 40 فیصد خرچ کرتی ہے اور یہ رقم جرنیلوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ فوج ملک کا ایک بڑا کاروباری ادارہ ہے اور اس کاروباری ادارے کی باگ ڈور جرنیلوں کے پاس ہے۔ عدلیہ ملک کا اہم ادارہ ہے اور ملکی تاریخ کے ایک بڑے حصے میں عدلیہ پر جرنیلوں کا گہرا اثر رہا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے اکثر سیاسی بحرانوں کے پیچھے جرنیلوں کا ہاتھ تلاش کیا جاتا ہے، اور اس تلاش میں جان کھپانے والے عام طور پر غلط ثابت نہیں ہوتے۔ اِس وقت بھی وطن عزیز میں یہی منظر ہے۔
    پاکستان کے انتخابات میں دھاندلی معمول کی بات ہے، البتہ سن 2013 کے انتخابات میں معمول کی بات اس لیے غیرمعمولی بن گئی کہ ملک کی کم و بیش تمام اہم جماعتوں نے انتخابی نتائج کے سلسلے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ عمران خان نے اس سلسلے میں دوسری جماعتوں سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 76 لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود زیادہ نشستیں نہ جیت سکے۔ چنانچہ ان کا احتجاج قابلِ فہم تھا اور یہ مطالبہ بھی کہ حکومت قومی اسمبلی کے کم از کم چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرائے۔ لیکن عمران خان نے اس مطالبے کو دیکھتے ہی دیکھتے حکومت گرانے کے منصوبے میں تبدیل کردیا۔ یہاں سے اُن کے سلسلے میں شکوک و شبہات کا اظہار شروع ہوا۔ رہی سہی کسر اُن کے طاہر القادری کے ساتھ اتحاد اور اسلام آباد کے گھیرائو نے پوری کردی۔ اس سلسلے میں پورے ملک میں کانا پھوسی کا بازار گرم تھا۔ کہنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان اور طاہرالقادری کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے۔ کانا پھوسی کرنے والوں کے پاس کوئی شہادت نہیں تھی، لیکن جلد ہی شہادت خود چل کر لوگوں کے سامنے آگئی۔ عمران خان اور طاہرالقادری کے کارکنان وزیراعظم سیکریٹریٹ اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارات پر چڑھ دوڑے اور تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کھل کر سامنے آگئے۔

    جاوید ہاشمی نے اپنے بیان کو ’’اندر کی کہانی‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جو کچھ کررہے ہیں جرنیلوں کے اشاروں پر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان انہیں بتاتے رہے ہیں کہ فوج 2014ء کے اگست یا ستمبر میں نئے انتخابات کرا دے گی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بعد جسٹس ناصرالملک سپریم کورٹ کے چیف بنیں گے جو ہمارے آدمی ہوں گے اور وہ نوازشریف اور شہبازشریف کی برطرفی کی راہ ہموار کریں گے۔ جاوید ہاشمی کے بقول عمران خان اپنے کاندھوں کی طرف اشارہ کرکے کہتے تھے کہ بیج والے کہتے ہیں کہ قادری کو ساتھ رکھو، اس کو ساتھ لے کر چلو۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے فیصلہ کیا تھاکہ ہم ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے مگر شیخ رشید نے عمران خان کے کان میں آکر کچھ کہا اور عمران خان نے ریڈ زون میں داخل ہونے کا اعلان کردیا۔ میں نے انہیں روکا تو انہوں نے کہا کہ مجبوری ہے۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہرطرف کانا پھوسی ہورہی ہے کہ پانچ چھ جرنیل ریٹائر ہونے والے ہیں اور وہ نوازشریف کی حکومت کو گرانے کے لیے کام کررہے ہیں۔
    جاوید ہاشمی کے یہ انکشافات دھماکا خیز ہیں اور انہوں نے ملک کی سیاسی فضا پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تاہم جاوید ہاشمی نے جو کچھ کہاہے عمران خان نے اس کی تردید کی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ عمران خان اس کی تردید نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے؟ تاہم سوال یہ ہے کہ جاوید ہاشمی نے جو کچھ کہا وہ کس حد تک قابل اعتبار ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دی جاسکتی ہے: اگر کوئی شخص بھارتی یا پاکستانی فلم دیکھ کر آئے اور کہے کہ فلم میں رومانس تھا، گانے تھے، مار دھاڑ تھی… تو اس کی بات پر اعتبار نہ کرنے کا کوئی جواز نہ ہوگا، اس لیے کہ پاکستان اور بھارت کی فلموں میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ جاوید ہاشمی کے الزامات کا بھی ہے۔ انہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے جو کچھ کہا ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ وہی کچھ کرتی رہی ہے۔ جاوید ہاشمی کے مجموعی طرزعمل کا جائزہ لیا جائے تو کہا جائے گا کہ اُن کے بیان میں برجستگی تھی، فطری بہائو تھا، سادگی تھی اور کسی بھی موقع پر ایسا محسوس نہیں ہوا کہ وہ کوئی من گھڑت بات کہہ رہے ہیں۔ البتہ اُن کے بیان سے یہ ضرور ظاہر ہوا کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ اس کو یاد رکھنے کے لیے کوشاں تھے اور انہیں معلوم تھا کہ کسی موقع پر وہ یہ ساری باتیں طشت ازبام کردیں گے۔ 

    اس طرح کے مواقع پر دیکھنے کی ایک بات یہ بھی ہوتی ہے کہ کہنے والے نے جو کچھ کہا اسے اپنے کہے کا کیا فائدہ ہوگا؟ اس اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو جاوید ہاشمی کی پوزیشن بہتر ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی سے خطاب کے بعد قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جاوید ہاشمی نواز لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں آئے تھے اور اُن کے واپس نواز لیگ میں جانے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جاوید ہاشمی کو سیاست سے جو فائدے اٹھانے تھے وہ اٹھائے جاچکے، اور عمر کے اس حصے میں ان کا کوئی فائدہ ان کے پیش نظر نہیں ہوگا۔ لیکن کیا پاکستان کے سیاسی بحران میں فوج کے کردار کے حوالے سے جاوید ہاشمی کا بیان ہی اہم ہے؟
    ایسا نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں آئی ایس پی آر نے جو دو پریس ریلیز جاری کیے ہیں وہ بھی فوج اور جرنیلوں کے خلاف گئے ہیں۔

     حکومت نے ڈیڑھ ہفتے بعد دھرنا دینے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی تو آئی ایس پی آر نے اپنے پریس ریلیز میں مشورہ دیا کہ معاملات کو جلد از جلد باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے اور طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے معاملات خراب ہوتے ہیں۔ میاں نوازشریف عمران خان اور طاہرالقادری کے ساتھ دل سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں یا نہیں یہ الگ بات ہے، تاہم دبائو کے تحت وہ بہرحال اپنے حریفوں سے مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں۔ تاہم عمران خان اور طاہر القادری مذاکرات سے کھیل رہے ہیں اور حکومت کے سامنے ایسی شرائط رکھ رہے ہیں جو حکومت کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوسکتیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جلد از جلد مذاکرات کے سلسلے میں سارا دبائو حکومت کی جانب منتقل ہوجاتا ہے اور آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں شعوری طور پر اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ جلد از جلد مذاکرات کا سارا دبائو حکومت پر آجائے۔ طاقت کے استعمال سے گریز کا مشورہ بھی صائب ہے بشرطیکہ یہ مشورہ دونوں فریقوں کو دیا جاتا۔ لیکن آئی ایس پی آر نے یہاں بھی سارا بوجھ حکومت پر ڈال دیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس پی آر کی دال میں کچھ نہیں بہت کچھ کالا ہے۔ لیکن یہ معاملہ صرف ایک پریس ریلیز سے متعلق نہیں۔

    جاوید ہاشمی کے انکشافات کے بعد آئی ایس پی آر نے جو پریس ریلیز جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اور اسے سیاست میں گھسیٹنا بدقسمتی کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بڑے سیاسی بحران میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کو یہ بات کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی کہ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے؟ کیا اس بیان میں جرنیلوں کے دل کا چور کلام کرتا نظر آرہا ہے؟ تجزیہ کیا جائے تو اس بات کے ذریعے آئی ایس پی آر کے ترجمان نے قوم کے طویل مشاہدے‘ تجربے اور علم کی توہین کی ہے۔ آخر ایک ایسے ملک میں فوج کو غیر سیاسی ادارہ کیسے کہا جاسکتا ہے جہاں فوج چار بار اقتدار میں آچکی ہو؟ بدقسمتی سے اس کے اقتدار کی مدت بھی کم نہیں۔ فوج کا اقتدار قوم کی تاریخ کے 34 سال ہڑپ کرچکا ہے مگر آئی ایس پی آر کا ترجمان کہہ رہا ہے کہ فوج ایک غیرسیاسی ادارہ ہے۔ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو ادارہ ملک کی تاریخ کے بارے میں اتنی بڑی غلط بیانی کررہا ہے اُس کی اس بات میں کتنی صداقت ہوگی کہ فوج موجودہ بحران میں کسی کی پشت پناہی نہیں کررہی اور اس حوالے سے فوج کو سیاست میں گھسیٹنا بدقسمتی ہے۔ یہ امر بھی قوم کے سامنے ہے کہ موجودہ بحران میں فوج نے اسلام آباد کی مختلف عمارتوں کو ریاست کی علامت قرار دیا اور کہا کہ وہ ہر قیمت پر ان کا دفاع کرے گی۔

     لیکن جب مظاہرین وزیراعظم سیکریٹریٹ کے ایک حصے اور پی ٹی وی کے مرکز پر حملہ آور ہوئے تو فوج ان عمارتوں کے دفاع کے لیے موجود نہ تھی۔ یہاں تک کہ فوج پی ٹی وی سے حملہ آوروں کو نکالنے آئی تو اس نے ان میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہی ریاست کی علامتوں کا تحفظ ہے؟ یہاں سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر مظاہرین فوج کی چھائونی یا فوج کے کسی اور مرکز پر حملہ کرتے تو کیا فوج پھر بھی وہی کرتی جو اس نے پی ایم سیکریٹریٹ اور پی ٹی وی پر حملے کے حوالے سے کیا؟ فوج کے اسی کردار نے محمود خان اچکزئی کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ یہ کیسے مظاہرین ہیں جو پولیس کو مارتے ہیں اور فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں؟ اس منظرنامے میں میاں نوازشریف کے لیے سانس لینے کے کئی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ صورت حال جرنیلوں اور عمران خان کی حماقت کا نتیجہ ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میاں نوازشریف ایک سول ڈکٹیٹر ہیں اور ہمارے جرنیل ملٹری ڈکٹیٹر۔ اس صورت حال کا مفہوم واضح ہے۔ قوم سول اور ملٹری ڈکٹیٹرز کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔

    شاہنواز فاروقی


    0 0

    Supporters of Tahirul Qadri wash clothes during an anti-government protest in front of the Parliament in Islamabad.

    0 0


    اس سے پہلے کہ یہ بحران حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو سکے، اسے دار الحکومت سے نکل کر پورے ملک تک پھیلنا ہو گا۔ اسلام آباد کے شہری بھلے ہی ایک ہجوم کے ہاتھوں اپنے پیارے شہر کو یرغمال بنا دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے ہوں، لیکن ملک کے باقی حصوں کے لوگ بیتابی سے انتظار میں مصروف ہیں۔ کیوںکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے، کہ اسلام آباد کے حالات بالآخر ہم پر بھی اثر انداز ہوتے ہی ہیں۔

    اخبارات میں چھپنے والے کئی مضامین اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں، کہ ان دھرنوں کی وجہ سے ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ "اب تک"ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ "اب تک"اس لیے، کہ ایسا ہو ضرور سکتا ہے۔
    ایک مشہور کاروباری اخبار اپنے اداریے میں کہتا ہے کہ، "صنعتی سرگرمیاں رک چکی ہیں، اور ٹرانسپورٹ اور کمیونیکیشن سیکٹر کو بھی نقصان پہنچا ہے، جبکہ ملک سے سرمائے کے باہر جانے کے اشارے بھی موجود ہیں"۔
    یہ صرف بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی بات ہے۔ اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے، تو فیکٹریاں کہاں بند ہیں؟ فیصل آباد کے بزنس اگست کے مہینے کی برآمدات میں 8 فیصد کی کمی رپورٹ کر رہے ہیں، جو کہ واپس بڑھ بھی سکتی ہے۔ لیکن کہیں بھی فیکٹریاں بند ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نقصان ان دنوں میں پہنچا، جب جگہ جگہ کنٹینر لگائے گئے تھے، لیکن اب حالات کافی بہتر ہوگئے ہیں۔ کمیونیکیشن کو کس طرح نقصان پہنچا ہے؟ میں نہیں جانتا۔ اور ملک سے سرمائے کی باہر منتقلی کے اشارے کون سے اور کہاں ہیں؟

    زر مبادلہ کے ذخائر واضح طور پر کم نہیں ہوئے ہیں، نا ہی اخبارات میں روزانہ کی بنیاد پر دبئی کی پراپرٹی میں انویسٹ کرنے کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں، اور نا ہی ایئر پورٹس پر ایکسچینج کمپنیوں کے ایجنٹوں کو ملک سے غیر قانونی طور پر زر مبادلہ باہر اسمگل کرنے کی کوشش کرنے پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ ملکی سرمائے کی باہر منتقلی کے یہی اشارے تو ہوتے ہیں۔

    لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ کئی پراڈکٹس کی لانچ رک گئی ہیں۔ کئی کمپنیوں کی بورڈ میٹنگز جو اگست میں ہونی تھیں، وہ ویڈیو لنک کے ذریعے کی گئیں، کیوںکہ بیرون ممالک سے بورڈ ممبران شرکت نہیں کر پائے۔ ٹرانسپورٹرز اب بھی اگست کے شروع کے دنوں میں پنجاب میں لگائے گئے کنٹینرز پر غصے میں ہیں، جب کہ کئی جگہوں پر کنٹینر اب بھی لگے ہوئے ہیں۔
    سٹاک مارکیٹ کے چھوٹے کھلاڑی اعصابی تناؤ کا شکار ہیں، کیوںکہ مارکیٹ آج گرتی ہے، تو کل پوائنٹس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ روپے نے گراوٹ دیکھی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کہ یہ لگ رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ روپے کو سبق سکھا دیا جائے گا۔ روپے کی مزید گرواٹ کے پیش نظر ڈالر میں سرمایہ کاری جاری ہے۔ بڑی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔

    یہ تمام حقائق ہیں، جبکہ معیشت کے ٹاپ لیول پر نقصان اور شدید ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ پوری معیشت ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، صرف مبالغہ ہے۔
    ایک اور مثال۔ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد کے ایک کار ڈیلر کا کہنا ہے کہ اس کے کاروبار میں 90 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ 'اس کے مطابق'لوگوں نے گاڑیاں اور کپڑے خریدنا، اور سنیما جانا چھوڑ دیا ہے۔
    واقعی؟ میں نے تمام کمپنیوں کے اعداد و شمار چیک کیے، لیکن کسی کی بھی سیلز اگست میں غیر معمولی طور پر کم نہیں ہوئی ہیں۔ ہاں ایسا ضرور ہے کہ جنوری سے گاڑیوں کی سیلز میں کمی دیکھی جا رہی ہے، لیکن اگست میں ہونے والی کمی اسی ٹرینڈ کے مطابق ہے جو سال کے آغاز سے جاری ہے۔ اتنا ہو سکتا ہے، کہ اگست کی کمی مارکیٹنگ پلان ٹھیک سے پورا نا کر پانے کے باعث ہوئی ہو۔ اور اگر لوگ کپڑے نہیں خرید رہے، یا سنیما نہیں جا رہے، تو یہ اسلام آباد کی صورت حال ہے، کیوںکہ کراچی میں تو شاپنگ مال اور بازار کھچا کھچ بھرے ہوئے ہیں۔

    اور یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ اس پورے معاملے کے "روح رواں"لوگوں نے اسلام آباد کو چند ہزار لوگوں کی مدد سے یرغمال بنا رکھا ہے، لیکن یہ حکومت کو گرا دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اور ایسا ہو بھی کیوں؟ وکلاء نے کراچی، لاہور، اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ایک مشکل لڑائی لڑی تھی، کئی مہیںوں تک آنسو گیس، لاٹھی چارج، اور واٹر کینن جھیلے تھے، تب جا کر انکے مطالبے کی تکمیل ہوئی تھی، اور ان کا مطالبہ بہرحال وزیر اعظم کو ہٹانے کے اس مطالبے سے زیادہ نرم تھا۔
    حقیقت یہ ہے، کہ اگر آپ حکومت گرانا چاہتے ہیں، تو آپ کو جان لینا چاہیے، کہ یہ ایک مشکل جنگ ہے، جس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔ اتنا پریشر بنانا پڑتا ہے، جو یہ دوںوں جماعتیں اب تک نہیں بنا پائی ہیں۔ اس لیے یہ کھیل اب ختم ہونے کو ہے۔

    ختم ہونے کا مطلب ہے، کہ ریلیاں کراچی منتقل ہو جائیں گی۔ اور صرف ایک ہی جماعت ہے، جو کراچی کو بند کرا سکتی ہے، وہ ہے متحدہ قومی موومنٹ۔ اگر معاملے کو بڑھانا ہے، تو اسکرپٹ لکھنے والوں کو اس میں ایم کیو ایم کو شامل کرنا ہو گا۔ لاہور ایک مکمل طور پر مختلف جگہ ہے۔ خود سے پوچھیں۔ لاہور آخری دفعہ کب پورا شٹ ڈاؤن ہوا تھا؟ یاد نہیں آرہا نا؟

    اسلام آباد کا یرغمال ہونا، جبکہ پورے ملک میں چیزوں کا بھلے ٹینشن کے ساتھ ہی، پر جاری رہنا ان لوگوں کے لیے پرابلم ہے، جو نواز شریف حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جب تک سپریم کورٹ یا کسی اور طرف سے کوئی ٹوئسٹ نہیں آتا، تب تک انقلابیوں کا راستہ پورے ملک پر محیط ایک لمبا راستہ ہے، اور یہ بیوقوفی ہو گی کہ اگر کوئی اس راستے پر چلنے کا عزم ظاہر کرے۔

    خرم حسین


    0 0


    ایئرکموڈور طارق محمود

    شاہینوں کی جرات اوردلیری کی ایقان افروز داستان… یوم فضائیہ کے حوالے سے خصوصی تحریر *******

    سات ستمبر کو یوم فضائیہ کہا جاتا ہے، یہ 1965ء کے اس دن کی یادگار ہے جب پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے پرخچے اڑا دئیے، ہمارے شاہین پائلیٹوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنی بہادری اور دلیری کی حیرت انگیز مثال قائم کی۔ دنیا بھر میں پاکستانی فضائیہ کے اس کردار کو مانا اور تسلیم کیا جاتا ہے۔ کئی ممالک کی فضائیہ کی اکیڈمیوں میں ہمارے پائلٹوں کی پرفارمنس ڈسکس کی جاتی اور اس سے سبق اخذ کئے جاتے ہیں۔ آج اس دن کی یاد منانے کے ساتھ ہم اپنی فضائیہ کی تاریخ پر بھی نظر ڈالتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ ابتداکہاں سے ہوئی اور آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت جس طرح دوسرے اثاثوں سے پاکستان کو محروم رکھا گیا،اسی طرح ہماری فضائیہ کو بھی اس کے حصّے کی افرادی قوّت اور طیارے نہیں دئیے گئے لیکن اس کے باوجود آج ہماری فضائیہ ہماری فضائوں کی حفاظت کیلئے پوری طرح چوکس ہے۔ اس نے وسائل کی کمی کے مقابلہ اچھّی تربیّت سے کیا ہے۔

    آج ہم نہ صرف چھوٹے جہاز خود بنا رہے ہیں بلکہ دوست ملک چین کی مدد سے جے ایف 7 تھنڈر کی پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے ۔ذیل میں پاک فضائیہ کی ابتدا سے آج تک کی داستان بیان کی جارہی ہے۔ چودہ اگست 1947ء برصغیر کے مسلمانوں کیلئے بہت اہمیّت کا حامل ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے ان پراپنا خصوصی کرم کیا اورانہیں پاکستان جیسا خوبصورت ملک عطا کیا۔جب پاکستان بن گیا تو اس میں رہنے والے مسلمانوں کیلئے سب سے بڑا چیلنج اس نوزائیدہ مملکت کواپنے پاؤں پر کھڑا کرنا تھا۔ بانی پاکستانؒ بھی ملک کو تعمیر وترقّی کی شاہراہ پر رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے۔ ملک کے دفاع کومضبوط اور ناقابل تسخیر بنانا ان کے ایجنڈے میں سرفہرست تھا۔ جب بھی انہیں کچھ وقت ملتا تووہ فوج کی یونٹوں اوردیگر دفاعی تنصیبات کا دورہ کرتے تھے۔

     وہ اپنی گوناں گوں مصروفیات سے کچھ وقت کسی نہ کسی طرح نکال ہی لیتے تھے اور دفاع پاکستان کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیتے تھے۔ تقسیم کے وقت دوسرے ملکی اداروں کی طرح دفاع کا بھی بُراحال تھا۔ائیرفورس کا نام اس وقت رائل ائیرفورس آف پاکستان تھا جس کی زبوں حالی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی کل افرادی قوّت 2232 افراد پر مشتمل تھی۔یہ مُٹھی بھر جوان اور افسر آج کی مضبوط پاک فضائیہ کے اصل معمار ہیں جنہوں نے نہ صرف پاک فضائیہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا بلکہ آج کے پائلٹس کوجدید ترین ایف سولہ اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے اڑانے کیلئے مضبوط بنیاد بھی فراہم کی۔یہی لوگ قوم کے اصلی ہیروز ہیں جنہوں نے سرفراز رفیقی‘یونس‘ ایم ایم عالم‘ علاؤ الدین‘ راشد منہاس اور منیر جیسے بہادر پائلٹس کی کھیپ تیار کی۔ قیام پاکستان کے وقت ہماری فضائیہ کے پاس مختلف اقسام کے صرف 122 جہاز تھے جن میں 32 ڈکوٹاز‘ 35 ٹیمپیئس‘ 29 ہاورڈز‘ 16 ٹائیگرموتھ‘ 3 آسٹرفائیو اور سیون آسر چھ شامل تھے جنہیں کوہاٹ‘ چکلالہ اور رسالپور کے سٹیشن ہیڈ کوارٹرز میں تقسیم کیا گیا تھا۔اس وقت ہماری فضائیہ کے پاس صرف ایک فلائٹ سکواڈرن تھا۔ قائداعظمؒ دوسری جنگ عظیم (1939-45ء) کے دوران فضائیہ کی کارکردگی کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کر چکے تھے اسی لئے 1941ء میں علی گڑھ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ ’’مستقبل میں جو بھی جنگیں لڑی جائیں گی وہ فضائیہ کے درمیان ہی ہوں گی۔‘‘ ان کے اس خطاب سے قائداعظمؒ کی دوراندیشی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کیونکہ انہیں اندازہ تھا کہ مستقبل کی جنگوں میں فیصلہ کُن کردار فضائیہ ہی ادا کرے گی۔

     آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد13 اپریل 1948ء کو قائداعظمؒ نے ائیرفورس ٹریننگ اکیڈمی رسالپور کا دورہ کیا تھا اوراس موقع پر کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’’ جس ملک کی فضائیہ مضبوط نہیں ہوتی وہ جارح قوتوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ پاکستان کو اپنی فضائیہ کو جتنی جلدی ممکن ہوترقّی دینا ہوگی۔ یہ مستعد فضائیہ ہوگی جو کسی سے بھی کم تر نہیں ہوگی۔‘‘ بابائے قومؒ کا یہ خطاب پاک فضائیہ کی ترقّی کیلئے ملک کے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ پاک فضائیہ کے جو بھی سربراہان آئے،انہوں نے بانی پاکستان کے ان الفاظ کو فضائیہ کی ترقّی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے روشنی کے مینار کے طور پر استعمال کیا۔ پاک فضائیہ کی ہر دور کی قیادت کا یہ پختہ ایمان رہا ہے کہ ہم وسائل کی کمی کا مقابلہ اچھّی ٹریننگ سے کرسکتے ہیں۔ ہماری فضائیہ کی تاریخ میں 23 مئی 1956ء خاص اہمیّت کا حامل ہے کہ اس روز رائل پاکستان ائیرفورس کا نام بدل کر پاکستان ائیرفورس رکھا گیا تھا جس سے نہ صرف ائیرفورس کے جوانوں اور افسروں بلکہ پوری قوم کوخود اعتمادی حاصل ہوئی۔ اب پاک فضائیہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اپنے بیڑے میں عمر پوری کرچکنے والے جہازوں کی جگہ نئے اورجدید طیاروں کی شمولیت کا تھا۔وسائل کی کمی کی وجہ سے پاک فضائیہ کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں تھااس لئے 1957ء کے اوائل میں امریکہ سے 100 ایف 86 سیبر ائیرکرافٹ حاصل کئے گئے۔ 23 مارچ 1957ء کو ہمارے پائلٹس نے 64 درآمد شدہ طیاروں کا شاندار ائیرشو پیش کیا جونہ صرف ہمارے پائلٹس کی مہارت کا آئینہ دار تھا بلکہ پاک فضائیہ کے انجینئرزاور ماہرین کی ہُنرمندی کا بھی عکاس تھا۔یہ سال پاک فضائیہ کی تاریخ میں ایک اور حوالے سے بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جولائی 1957ء میں ائیرمارشل نورخان نے پاک فضائیہ کے پہلے سربراہ کے طور پراپنی ذمّہ داریاں سنبھالی تھیں۔

    انہوں نے پی اے ایف کو جدید خطوط پر استوار کیا جس کا عملی مظاہرہ 1965ء میں پاک بھارت جنگ میں سامنے آیا جب ہماری فضائیہ نے اپنے سے کئی گنا بڑی فضائیہ کے یخئے ادھیڑ کر رکھ دئیے۔ اس وقت پاک فضائیہ کے پاس 148 ائیرکرافٹ تھے جبکہ اس کے مقابلے میں بھارت کے پاس 532 فائٹر جیٹ تھے۔پاک فضائیہ کے 22 بمباروں نے 167 کامیاب حملے کئے جبکہ بھارت کے 60 فائٹر جیٹ صرف 92 پروازیں ہی کرسکے۔اس طرح پاک فضائیہ کے شاہینوں نے فضائیہ کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کیا۔ پی اے ایف فائٹرز کی اس شاندار کارکردگی کو دیکھتے ہوئے امریکہ نے نہ صرف دونوں ممالک پرپابندیاں لگادیں بلکہ اسلحے اور ہتھیارو ں کی فراہمی پر بھی پابندی عائد کر دی جس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کو تو کوئی نقصان نہیں ہواکیونکہ وہ تو پہلے ہی امریکہ کی بجائے سوویت یونین پر زیادہ انحصار کر رہا تھا البتہ پاکستان کی فضائیہ کیلئے یہ پابندیاں بہت مُہلک ثابت ہوئیں لیکن ہماری قیادت کی بصیرت کے باعث یہ پابندیاں ہمارے لئے رحمت بن گئیں کیونکہ مُلکی دفاعی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے نئی راہیں دریافت کر لی گئیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کے سب سے قابل اعتماد اور سدا بہار دوست چین کا کردار سب سے نمایاں ہے جس نے ہمیں ایف 6‘ اے 5 اور ایف 7 پی طیاروں کی خریداری کی اجازت دی۔ اس ڈیل سے نہ صرف ملکی دفاع مضبوط ہوا بلکہ خود انحصاری کی راہ پر بھی ہمیں گامزن کر دیاجس کے بعد ہم نے ترقی کرتے ہوئے چین کی مدد سے کامرہ میں ایروناٹیکل کمپلیکس کی تعمیر کی۔شروع شروع میں وہاں پی اے ایف کے طیاروں کی اوورہالنگ کی جاتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس نے دوست ممالک سے بھی طیاروں کی مرمّت اور اوورہالنگ کے آرڈر لیناشروع کر دئیے جس سے نہ صرف بھاری زرمبادلہ کی بچت ہوئی بلکہ بھاری زرمبادلہ ملک میں آیا۔اگلے مرحلے میں اس ادارے نے جنگجوبیڑے کی اب گریڈیشن بھی شروع کر دی۔

     ساتھ ساتھ تربیتی طیاروں مشاق ‘ سُپر مشاق اورقراقرم 8 کی تیاری بھی شروع کر دی۔یہ تربیتی طیار ے نہ صرف پاک فضائیہ کی ضرورت پوری کررہے ہیں بلکہ دوست ممالک کو برآمد بھی کئے جا رہے ہیں۔ 1980ء میں بدلے ہوئے عالمی منظرنامے اورافغان جہاد کے لئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی اس لئے اس نے پاکستان پر عائد پابندیاں اُٹھالیں اور پاکستان کو یہ موقع فراہم کیاکہ وہ اپنے فضائی بیڑے میں جدید ترین ایف سولہ طیارے شامل کرلے جن میں کچھ ایف سولہ طیارے توفوری طور پر پاکستان کے حوالے کر دئیے گئے جبکہ باقی کے بارے میں بہانہ تراشا گیا کہ پاکستان چونکہ اپنا ایٹم بم بنا رہا ہے اس لئے ہم اسے ایف سولہ طیارے نہیں دے سکتے۔

    اگرچہ ان طیاروں کی قیمت بھی ادا کر دی گئی تھی۔1988ء میں پاکستان نے اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ایف 7 پی طیارے درآمد کئے۔ 1977ء میں پاکستان ائیرفورس کی قیادت نے پرانے طیاروں کی جگہ ایف 7 پی جی کو بیڑے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔اس طرح 27 مارچ 2002ء کو نئے طیاروںنے 36 سالہ پرانے ایف 6 طیاروں کی جگہ لی۔ 1992ء میں چین نے پاکستان کو ہلکے طیاروں کی تیاری میں شامل ہونے کی دعوت دی تو پی اے ایف پہلے ہی ایسی ٹیکنالوجی کی تلاش میں تھا اس لئے یہ دعوت قبول کرلی گئی اور1995ء میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پردستخط کردیئے گئے۔اس منصوبے کے تحت سُپر7 طیارے تیار ہونا تھے لیکن بعد میں ان طیاروں کا نام بدل کر جے ایف 17 تھنڈر رکھ دیا گیا۔ 1999ء میں حتمی معاہدے پر دستخط ہوئے اور 2002ء میں باقاعدہ پیداوار شروع ہوگئی ۔ستمبر 2002ء میں طیارے کا پہلا ڈیزائن تیار کیا گیا اور 2003ء میں پہلی بار یہ طیارہ جانگ دو ائیربیس چین کی فضا میں بلند ہوا جس کے چوتھے نمونے نے ہتھیاروں سے مسلّح ہو کردس مئی 2006ء کو کامیاب پرواز کی۔ یہ طیارہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد 23 مارچ 2007ء کو پہلی بار پاکستان کی فضاؤں میں بلند ہوا۔

    جے ایف تھنڈر ہر قسم کے ہتھیار اور میزائل لے جا سکتا ہے اوراس کی پاکستان ایرونا ناٹیکل کمپلیکس کامرہ میں پیداوار شروع ہو چکی ہے۔یہ طیارہ پاک فضائیہ کے عمر پوری کرچکنے والے اے 5‘ ایف 7 اور میراج طیاروں کی جگہ لے گا۔ یہ طیارہ دن اور رات میں یکساں مہارت کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ پاک فضائیہ ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے بے خبر نہیں،ہمارے شاہین ہر قسم کے خطرے کا جواب دینے اور ملکی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یوم فضائیہ ہمیں ایک بار پھر یہ یاد دلاتا ہے کہ ملک وقوم کے سپوتوں نے کس طرح جرات کے ساتھ جنگ پینسٹھ میں دفاع کیا اور جب بھی مشکل وقت آیا، یہ ایمان افروز داستان دہرائی جائے گی، انشااللہ۔ ٭


    0 0


    Aitzaz Ahsan and Chaudhry Nisar by Ansar Abbasi

    0 0


     Pakistan Political Crisis - Turn a Failure Into Success


    0 0


      کشمیر میں غیر متوقع بارشوں اور شدید سیلاب کے نتیجے میں جہاں حکومتی ادارے اور امدادی کارکن حرکت میں نظر آئے وہیں سوشل میڈیا نے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔

    ٹوئٹر پر خصوصاً پیغامات، تازہ ترین صورتحال، امداد اور تشویش کے پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔
     
    جہاں ایک جانب پریشان لواحقین نے اپنے رشتہ داروں کے فون نمبر دے کر ٹویٹس کیں کہ کوئی انہیں بچائے، وہیں انفرادی طور پر مختلف افراد نے ٹویٹس کے ذریعے امداد کی پیشکش کی اور لوگوں کی مدد کی۔

    مثال کے طور پر دانیال بشیر نے ٹویٹ کی کہ ’میرے دوست جو کشمیری پنڈت ہیں جن کا نام اکشے کپور ہے وہ اور اُن کی والدہ شپواڑہ میں اپنے مکان کی چھت پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی مدد کریں ان کا نمبر ہے ۔۔۔‘

    ایک اور صاحب نے ٹویٹ کی کہ ’میرے والدین کی مدد کریں وہ ریڈیو کالونی کے کمیونٹی سینٹر کے پیچھے، اکراج پورہ میں رہتے ہیں اور ان کا نمبر یہ ہے۔۔۔‘
    بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ لوگوں نے امداد کے لیے پیشکش کی جیسا کہ عامر وانی نے ٹویٹ کی کہ ’کوئی ایسا ہے جو اپنے رشتہ دار سے بات نہ کر پایا ہو جواہت نگر میں؟ براہِ مہربانی مجھے بتائیں میں شاید ان کی مدد کرنے کے قابل ہوں۔‘
    ایسا کرنے کی ایک وجہ موبائل فون سروس کا بند ہونا یا عدم دستیابی اور دوسرے فون سروس میں تعطل تھا جس کے نتیجے میں زیادہ خوف و ہراس پھیلا اور اس کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا گیا۔

    ""اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو ہمیں کچھ بھی نہ پتا چلتا کہ کیا ہو رہا ہے۔"
    صبا حاجی

    انسانیت کے جذبے سے سرشار لوگ بھی کئی نظر آئے جنہوں نے لوگوں کی مدد
     کے لیے کھلے عام اعلان کیے کہ اگر کوئی پڑھ رہا ہے تو ان کی مدد حاصل کرے۔
    محمد فیصل نے ٹویٹ کی کہ ’اگر کوئی ضرورت مند ہے تو وہ میرے گھر پر لال بازار میں آکر حالات بہتر ہونے تک قیام کر سکتا ہے۔‘

    اس ساری صورتحال میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ معلومات اور مدد کے لیے دیے گئے نمبروں کے بارے میں شکایات کرنے والے بھی نظر آئے جن کا کہنا تھا کہ ان نمبروں پر کال کرنے سے کوئی بھی جواب نہیں ملتا۔

    اس سارے عرصے میں یہ بھی اعلانات سامنے آئے کہ ٹوئٹر پر دیے گئے پیغامات کو بھی دیکھا جائے گا اور ان کی بنیاد پر امدادی کارروائیاں کی جا سکیں گی تاہم یہ معلوم نہیں کہ ایسا کس حد تک ممکن ہوا۔
    اسی طرح نوجوان فوٹو گرافر احمر خان نے تصاویر کھینچ کر شیئر کیں جن سے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔
    صبا حاجی نے ٹویٹ کی کہ ’اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو ہمیں کچھ بھی نہ پتا چلتا کہ کیا ہو رہا ہے۔ 

    طاہر عمران


    0 0

    Imran Khan Azadi March Islamabad

    0 0

    A man crosses a flooded area in Srinagar.  Four hundred people have died in India and Pakistan after heavy monsoon rains triggered flash flooding. Punit Paranjpe, AFP/Getty Images




    0 0

    Imran Khan and Tahirul Qadri Azadi and Inqilab March

    0 0
  • 09/11/14--00:42: Gali Brigade by Ansar Abbasi
  • Imran Khan and Tahirul Qadri Azadi and Inqilab March

    0 0

    ہر سال مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی ملک کے کئی دیہاتی اور زیریں علاقوں میں خوف کی ایک فضا قائم ہوجاتی ہے۔ بارشیں چاہے پاکستان میں ہوں یا بھارت میں۔ سیلاب کا خدشہ ہر وقت ہمارے پورے زراعتی نظام اور انفرااسٹرکچر پر تباہی بن کر نازل ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے کمزور ریاستی ڈھانچے اور ادارے اس کے خلاف کوئی موثر ڈھال بننے میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں۔ پاکستان کے قیام سے
    اب تک ہمیں 20 بڑے سیلابوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
    جن میں سے پچھلے چار سال میں سے تین سیلاب ہماری کمزور معیشت کو زک پہنچاچکے ہیں جن میں 2010، 2011 اور 2012 کے سیلاب شامل ہیں اور اس وقت 2014 میں بھی ہمیں ایک بدترین صورتحال کا سامنا ہے۔ پشاور میں شدید بارشوں کے بعد اس وقت پنجاب اور آزاد کشمیر کے بیشتر علاقے اس آفت کا شکار ہیں۔ اگرچہ بارشیں تھم بھی جائیں لیکن ٹھہرے ہوئے پانی کے اثرات طویل عرصے تک ان علاقوں میں بالخصوص اور پورے ملک میں بالعموم محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ ایک اندازے کیمطابق 2010 سے اب تک سیلاب کی تباہ کاریوں میں 3 ہزار سے زائد جانوں کا نقصان ہوا جب کہ مالی نقصانات کا تخمینہ 16 ارب ڈالرز تک لگایا گیا ہے جب کہ پچھلے دو سے تین دہائیوں کا ریکارڈ دیکھا جائے تو جانی نقصان کا اندازہ تقریباً 11 ہزار جانوں سے زائد ہے جب کہ ملک کی معیشت پر اربوں روپے کا بوجھ پڑچکا ہے۔
    اقوام متحدہ کے اداروں کے اعداد و شمار کیمطابق ہماری قومی پیداوار (GDP) کو ان بارشوں اور سیلابوں کی تباہ کاریوں سے جو نقصان ہو رہا ہے وہ ہماری فی کس آمدنی کی نشوونما (Growth) سے بھی زیادہ ہے۔ جوکہ تمام ایشیائی ممالک میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان ہے ایک اندازے کے مطابق ان نقصانات کا تخمینہ ہماری قومی پیداوار کے 2 فیصد کے قریب ہے جس کو پورا کرنا ہماری کمزور معیشت کے لیے فی الوقت تقریباً ناممکن ہے۔ انٹرنیشنل ریڈکراس کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 تک دنیا کے ترقی پذیر ممالک کے 50 فیصد سے زیادہ لوگ سیلاب اور طوفانوں کے خطروں سے دوچار ہوں گے جوکہ یقینا ایک انتہائی خطرناک پیشن گوئی ہے۔
    کیونکہ ان ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے اس وقت یقینا وسائل کی کمی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ان قدرتی آفات کا سامنا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں، ایک اندازے کیمطابق ہماری زمین کا 90 فیصد حصہ زلزلے جب کہ تقریباً60 فیصد سائیکلون اور سیلاب کے خطرے سے دوچار نظر آتا ہے۔ اور کسی بھی قدرتی آفت کے نتیجے میں ہم ایک انتہائی مخدوش صورتحال کا شکار ہوسکتے ہیں، محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ہونے والی بارشوں کا 75 فیصد صرف 4 مہینوں یعنی جون سے ستمبر تک ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ لیکن ان تمام پیشن گوئیوں کے باوجود ہم فی الوقت کسی بھی مناسب منصوبہ بندی سے عاری نظر آتے ہیں، بلاشبہ 2005 کے زلزلے کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا قیام وجود میں آیا۔
    جوکہ یقینا ایک احسن امر ہے لیکن یہ ادارہ بھی ان تمام چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام نظر آتا ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں جو معیشت ہر سال تقریباً 800 ملین ڈالرز کا نقصان ان قدرتی آفات کی وجہ سے اٹھا رہی ہو اس سے ترقی کی مطلوبہ شرح کو حاصل کرنا ایک بے وقوفی کی بات لگتی ہے۔ 2012 کے اقتصادی سروے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت کو ان قدرتی آفات سے کس قدر بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور اس کے بعد بحالی کے نظام پر جس قدر وسائل خرچ ہوئے اس سے اقتصادی منصوبوں کے لیے جو فنڈز درکار تھے ان میں یقینا بھاری کٹوتی (Deduction) کی گئی۔ یعنی ہم آگے جانے کی بجائے اپنے مسائل میں الجھے رہے۔ ان تمام نقصانات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
    سیلاب سے نقصانات:
    آب پاشی اور ۔۔۔۔۔۔ نقصانات 4763 ملین، بحالی کی لاگت 9526 ملین
    فلڈ مینجمنٹ ہاؤسنگ ۔۔۔۔۔۔۔ نقصانات 85465 ملین، بحالی کی لاگت 91510 ملین
    زراعت لائیو اسٹاک اور فشریز ۔۔۔۔۔ نقصانات 160107 ملین، بحالی کی لاگت 26510 ملین
    ٹرانسپورٹ اور مواصلات ۔۔۔۔۔۔ نقصانات 26468 ملین، بحالی کی لاگت 33902 ملین
    انرجی اور توانائی ۔۔۔۔ نقصانات 1240 ملین، بحالی کی لاگت 292 ملین
    دیگر معاشی مسائل ۔۔۔۔۔ نقصانات 44 ملین، بحالی کی لاگت 65 ملین
    پرائیویٹ سیکٹر اور صنعتی شعبہ ۔۔۔۔ نقصانات 27254 ملین، بحالی کی لاگت 8178 ملین
    تعلیم ۔۔۔۔۔ نقصانات 12014 ملین، بحالی کی لاگت 22089 ملین
    صحت ۔۔۔۔۔ نقصانات 1258 ملین، بحالی کی لاگت 864 ملین
    پانی کی سپلائی اور سینی ٹیشن ۔۔۔۔۔ نقصانات 1204 ملین، بحالی کی لاگت 1900 ملین
    گورننس ۔۔۔۔۔ نقصانات 1953 ملین، بحالی کی لاگت 4768 ملین
    ماحولیات ۔۔۔۔ نقصانات 2763 ملین، بحالی کی لاگت 2784 ملین
    ڈیزاسٹر مینجمنٹ ۔۔۔۔۔ بحالی کی لاگت 1827 ملین
    معاشرتی تحفظ ۔۔۔۔۔ بحالی کی لاگت39128 ملین
    کل نقصانات 324533 ملین جب کہ کل بحالی کی لاگت 239021 ملین روپے۔ان تمام اعداد وشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ قوم کے کس قدر وسائل سیلاب کی تباہ کاریوں اور اس سے نمٹنے میں لگ چکے ہیں جب کہ موجودہ سیلاب (جس میں سیکڑوں جانیں ضایع ہوچکی ہیں اور ہزاروں دیہات زیر آب آچکے ہیں کے اعدادوشمار ابھی آنے باقی ہیں۔ ہمارے ملک کی زراعت جوکہ مجموعی قومی پیداوار کا 21 فیصد ہے جب کہ روزگار کے مواقع کا 45 فیصد اور ہماری برآمدات کا 60 فیصد ہے اس سیلاب سے شدید متاثر
    ہوئی ہے جس کی بازگشت اور اثرات آنیوالے مہینوں میں پورے ملک کو برداشت کرنے پڑیں گے۔
    اقوام متحدہ کے تجزیہ نگاروں کے بقول 2010 کے سیلاب میں ہماری معیشت کو جو نقصان ہوا وہ 2005 کے زلزلے اور ایشیا میں آنیوالی سونامی کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔ اس نقصان کی مالیت تقریباً10 ملین ڈالرز تھی جب کہ 2012 میں سیلاب کے نتیجے میں تقریباً2.5 بلین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ 2012 میں ہونے والی قدرتی آفات میں سب سے زیادہ نقصان امریکا کو 98.5 بلین ڈالرز، چین کو اس کے بعد 19.8 بلین ڈالرز جب کہ اٹلی 17.1 بلین ڈالرز کے نقصان کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ برطانیہ 2.9 بلین ڈالرز کے ساتھ چوتھے اور پاکستان 2.5 بلین ڈالرز کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔ پاکستان کے علاوہ باقی تمام ممالک ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہوتے ہیں جوکہ یقینا ان آفات کو سہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب کہ ہماری معیشت اس نقصان کے بعد کافی پیچھے چلی گئی۔
    2013 کے مون سون میں ہونے والی بارشوں سے 15 لاکھ لوگ متاثر ہوئے۔ 80,000 گھر تباہ ہوئے اور 1.45 ایکڑ سے زیادہ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قدرتی آفات شروع سے ہی انسانی آزمائشوں کا سلسلہ بنتی آئی ہیں وہ قومیں ان آفات سے نمٹنے میں سرخرو ہوتی ہیں جوکہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتی ہیں بدقسمتی سے ہماری قوم میں دونوں چیزیں مفقود ہیں ۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نہ تو ہمارے پاس کوئی موثر منصوبہ بندی ہے نہ ہی اتحاد کا وہ مظاہرہ جو ان آفتوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ اس وقت ہمارے سیاسی رہنماؤں کی ضد اور انا پرستی سے پوری قوم ایک عجیب طرح کے انتشار کا شکار ہے۔ لیکن ان غریب لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں، جو اپنی جمع پونجی ان بارشوں اور سیلاب کاریوں میں ہار چکے ہیں۔ شاید یہ ہمارے میڈیا کے لیے ریٹنگ بڑھانے کا موضوع نہ ہو لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ قوم اس وقت ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم سب کو ایک جان بننا ہوگا۔ شاید اسی میں ملک و قوم کا مفاد پوشیدہ ہے۔

    0 0


    سیاسی بحران کا شکار پاکستان اب قدرتی آفات کی زد میں آگیا ہے۔ تباہ کن بارشوں نے ملک میں ایک نیا بحران پیدا کردیا ہے۔ دھرنوں کی وجہ سے 547 ارب کا نقصان ہوگیا، قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کو شامل کرنے سے کھربوں روپے کا نقصان ہوگا۔ پاکستان پہلے ہی لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، مہنگائی اوردیگر مسائل کا شکار تھا کہ سیاسی بحران نے جلتی پرتیل کا کام کیا، اور اب تباہ کن بارشوں سے ایک نیا انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ گویا ایک کے بعد ایک نئی آزمائش آرہی ہے۔

    اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے دیگر اہم ترین اور عوام سے متعلقہ ایشوز پس پشت چلے گئے اور رہی سہی کسر بارشوں، سیلاب اور ان کے نتیجے میں ہونے والی جانی اور مالی تباہی نے نکال دی۔ چینی صدر کا مجوزہ دورۂ پاکستان ملتوی ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے۔ حالیہ بارشوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 200 تک پہنچ گئی۔ اب تک سینکڑوں مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ آزاد کشمیر کی حالت بھی انتہائی خراب رہی اور وہاں بھی بڑے پیمانے پر انسانی جانوں اور مال کا نقصان ہو گیا۔ اس آفت سے کس قدر مالی نقصان ہوا ہے اس کا اندازہ تو ابھی لگانا مشکل ہے۔ چینی صدر کے دورے کے التوا کے بھی ملکی معیشت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

    تازہ ملکی صورتِ حال کو اگر عوامی مسائل کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت ملک سیلاب میں گھرا ہوا ہے۔ بھارت نے حسب عادت اطلاع دیے بغیر جس طرح پانی چھوڑا ہے اس سے آزاد کشمیر کے دریائے جہلم کے بعد پنجاب کا دریائے راوی، چناب اور اب ستلج بھی بپھر رہا ہے اور چند روز میں سیلاب کا لاکھوں کیوسک پانی دریائے سندھ کا سینہ چیرتا ہوا سمندر میں گر جائے گا۔ سمندر میں گرنے سے قبل سیلابی پانی نے آزاد کشمیر سے لے کر سیالکوٹ، نارووال، چنیوٹ، ملتان، مظفر گڑھ میں جو تباہی مچائی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔
    نوازشریف حکومت قائم ہوئے سترہ ماہ ہوچکے ہیں، لیکن پچاس سے زائد ادارے سربراہوں سے خالی پڑے ہیں، ان میں قومی فلڈ کمیشن بھی شامل ہے۔ پنجاب اس سے قبل تین بار سیلاب کے بدترین نقصان کا شکار ہوچکا ہے لیکن حکومت نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ماضی کی طرح آج بھی سیلاب زدگان کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ پنجاب میں کل 35 اضلاع ہیں جن میں دریائے راوی، چناب، جہلم اور ستلج کے قریب بسنے والے 14 شہر ہر سال سیلاب کا شکار ہوتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے ساڑھے تین سال قبل 2010ء میں جنوبی پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پر جسٹس منصور علی شاہ کمیشن بنایا تھا، مگر آج تک اس کی سفارشات پر عمل نہیں ہوسکا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو تین سوالات کا جواب دینا چاہیے:
      
    جسٹس منصور علی شاہ کمیشن کی رپورٹ شائع کیوں نہیں کی گئی؟
      
    سفارشات میں جن افراد کو نام لے کر تباہی کا ذمہ دار ٹھیرایا گیا تھا اُن کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟

     کمیشن نے جو سفارشات دی تھیں ان پر کس حد تک عمل ہوا؟ ان سوالات کا جواب واقعی ملنا چاہیے۔

    پنجاب بھر میں دریائوں کے بپھرنے اور سیلابی ریلوں سے سینکڑوں دیہات کا شہری علاقوںسے رابطہ کٹ چکا ہے‘ سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے پناہ لینے پر مجبور اور امداد کے منتظر ہیں‘ ہزاروں کچے پکے مکانات منہدم ہوچکے ‘ سینکڑوں بستیاں اجڑ گئیں، ہزاروں مویشی بہہ گئے‘ کئی مقامات پر اب تک درجنوں پل گرچکے ہیں‘ سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 180 سے تجاوز کرگئی۔ پنجاب اور کشمیر سمیت پاکستان بھر میںشروع ہونے والی حالیہ بارشوں کے بعد پنجاب میں ہنگامی حالات نافذ کردی گئی ہے، 200 سے زائد انسانی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ108 مساجد سمیت200عبادت گاہیں بھی شدیدمتاثر ہوئی ہیں۔ ضلع گوجرانوالہ میں زخمیوں کی تعداد31ہو گئی، ضلع سیالکوٹ میں 22 زخمی،ضلع ناوروال میں مساجد کی چھتیں گرنے سے18 افراد زخمی ہوئے جبکہ دیگر شہروںمیں بھی مساجد میں پانی آنے اور چھتیں گرنے سے درجنوں نمازی زخمی ہوئے۔ضلع نارووال کے علاقہ ظفروال، شکرگڑھ،ضلع سیالکوٹ،تحصیل گوجرانوالہ میں ہندو اور سکھوں کی عبادت گاہوں میں پانی داخل ہوا۔علاوہ ازیں پنجاب کے مختلف شہروں میںگرجا گھروں میں پانی داخل ہونے سے 18 گرجا گھرمتاثر ہوئے۔حالیہ بارشوں سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق2109 گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے لوگ گھروں سے محروم ہوئے۔بھارت کے دریائے چناب میں پانی چھوڑنے سے ہیڈ خانکی کے مقام پر گزرنے والے 9لاکھ 47ہزار کیوسک کے ریلے نے تباہی مچادی ہے۔ سیلاب کے پانی سے بچائو کے لیے سول حکومت اور فوج دونوں مل کر کام کر رہے ہیں۔ عسکری قیادت نے ریلیف سینیٹرز بھی قائم کردیئے ہیں۔ بریگیڈیئر منیر افضل اور میجر جنرل صادق علی صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    سیلاب کا ذکر کیا جائے تو ایک بات کا ذکر کیے بغیر آگے بات نہیں کی جاسکتی۔ اسلام آباد میں امریکی دفتر خارجہ نے سفارت خانے کے ذریعے ایک پریس نوٹ جاری کیا کہ ’’پاکستان نے ابھی تک سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے مدد طلب نہیں کی، پاکستان میں سیلاب کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اگر مدد طلب کی گئی تو ضرور کریں گے۔ پا ک بھارت وزرائے اعظم نے سیلاب کی صورت حال پر رابطہ کیا ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے ہرکوشش کی حمایت کرتے ہیں۔‘‘

    پاکستان سے مدد لینی ہو تو امریکہ کہتا ہے کہ بتائو تم ہمارے ساتھ ہویا دہشت گردوں کے ساتھ؟ اور اگر اس کا کوئی مفاد نہ ہو تو کہتا ہے کہ حکومت نے ہم سے کوئی مدد نہیں مانگی۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اس وقت پاکستان میں پنجاب،خیبر پختون خوا اور آزاد کشمیر سیلاب میں ڈوبے ہیں اور پانی سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس وقت دریائے چناب میں تریموں ہیڈورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سیلابی پانی کے دباؤ سے بھکر روڈ کے قریب حفاظتی بند میں پڑنے والا شگاف پُر نہ کیا جاسکا۔ تریموں ہیڈورکس پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 9 ہزار کیوسک، ہیڈ بلوکی پر ایک لاکھ 9ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ پنجند پر 75 ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ بہاولپور ریجن میں سیلاب کے پیش نظر بہاولپور کور کے 300 جوان اور 30 کشتیاں احمد پور شرقیہ، پنجند اور ملحقہ علاقوں کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ فوج کے جوان ہنگامی صورت حال میں متاثرین سیلاب کی مدد کریں گے اور سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں گے۔ متاثرین کو خوراک،خیمے، ادویات اور دیگر اشیاء بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس وقت صورت حال یہ بنی ہوئی ہے کہ دریاؤں کی بے رحم موجوں نے پنجاب میں تباہی کی نئی داستان رقم کردی، کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے،گھر بار، مال مویشی سب کچھ لٹ گیا،ہزاروں خاندان دیکھتے ہی دیکھتے کھانے پینے کو محتاج ہوگئے۔ ٹھاٹھیں مارتا سیلابی ریلا جہاں سے گزرا اپنے پیچھے تباہی چھوڑ گیا۔ دور دور تک نظر آتے اس پانی نے کھیت کھلیانوں اور ویرانوں میں فرق مٹا دیا۔ 

    کتنے لوگوں کے پاس گھر رہا، نہ در، اور کتنے ہی خاک بسر ہوگئے۔ جدھر دیکھو چہروں پر غم ہی غم دکھائی دیتا ہے۔ کسی کو فصل کھو دینے کا غم ہے،اور کوئی مال مویشی بہہ جانے سے پریشان ہے۔ بارش میں کھیلنے کی ضد کرنے والے بچے بھی پانی کا غضب دیکھ کر سہم گئے۔ گھر کی چھت کھودینے والے لٹے پٹے لوگ کھلے آسمان تلے خیمہ زن ہوگئے۔چار روز سے کھانے پینے کو کچھ نہیں ملا۔ دریائے چناب کی منہ زور لہریں مسلسل بستیاں اجاڑ رہی ہیں۔سیلابی ریلے سے وزیر آباد،سودھرا،حافظ آباد اور منڈی بہاء الدین کے دیہات متاثر ہیں۔ہیڈ خانکی کے مقام پر فلڈ کنٹرول سینٹر،نہروں کے بند،30دیہات اور سڑکیں متاثر ہوئی ہیں،جبکہ نئے تعمیر ہونے والے بیراج کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔گوجرانوالہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ہیڈ خانکی کے حفاظتی بند توڑ کرگوجرانوالہ اور گجرات شہر کو بچایاگیاہے۔پھالیہ کے مقام پر 50سے زائد دیہات متاثر ہیں اور لوگ گھروں کی چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں، الخدمت اور دیگر رضاکار کشتیوں کے ذریعہ لوگوں کو کھانا اور پانی پہنچا رہے ہیں۔ ہیڈ قادر آباد میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔سیلابی ریلے سے چنیوٹ کے 23 دیہاتوںمیں پانی داخل ہوگیا ہے۔ دریائے جہلم اور دریائے چناب کے سیلابی پانی کے باعث خوشاب کے سو،اورسرگودھا کے دوسو بیس سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں۔سرگودھا کی تحصیل کوٹ مومن میں متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوج طلب کرلی گئی ہے۔حافظ آباد سمیت ہر سیلابی شہر میں الخدمت اور دیگر تنظیموں کے رضاکار کام کر رہے ہیںفلڈ کنٹرول سینیٹر کے مطابق پانی کی آمد 8لاکھ 91 ہزار کیوسک اور اخراج 8لاکھ 90 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں دریائے جہلم میں ہیڈ رسول کے مقام پر پانی کا بہاو کم ہوگیا ہے۔دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوکر 3لاکھ 91ہزار ہوگئی ہے۔نالہ ایک میں پانی کی سطح 65ہزار سے کم ہو کر 35ہزار کیوسک ہے۔نالہ ڈیک میں پانی کی سطح کم ہونے کے باجود قلعہ احمد آباد کا علاقہ شدید متاثر ہے جس کی وجہ سے نارووال اور سیالکوٹ کا زمینی رابطہ ایک دوسرے سے منقطع ہوگیا ہے۔ سیالکوٹ، حافظ آباد، ونیکے اور جہلم کے متاثرہ دیہاتوں و علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، الخدمت اورفلاح انسانیت کی ایمبولینسیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں اسی طرح پسرور، چنیوٹ، جھنگ اور منڈی بہاء الدین کے سینکڑوں دیہاتوںکا رابطہ قریبی شہروں سے تاحال منقطع ہے۔ لوگ کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں۔ نارووال کے چھوٹے بڑے ندی نالوں میں طغیانی سے 25 کے قریب دیہات ڈوبے ہوئے ہیں۔اس وقت اندازہ یہ ہے کہ پچاس لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ پاک فوج کی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاںجاری ہیں،300 کشتیاں اور پانچ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ جن علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں ان میں سیالکوٹ‘ وزیر آباد‘ گوجرانوالہ‘ بجوات‘ منڈی بہائو الدین اور وزیرآباد شامل ہیں۔ اتوار کو آزاد کشمیر انتظامیہ کی طرف سے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے گئے جن میں بتایا گیا ہے کہ اب تک حالیہ بارشوں اور سیلاب سے آزاد کشمیر میں 62افراد جاں بحق جبکہ 88 زخمی ہوئے۔ سیلاب سے 1693 مکانات مکمل طور پر تباہ جبکہ 3494 مکانات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔ مظفرآباد سے وادی نیلم جانے والی شاہراہ نیلم کو تودے گرنے کے بعد ٹریفک کے لیے کھول دیا گیاجس کے بعد مظفرآباد سے وادی نیلم کا زمینی راستہ بحال ہوگیا شہباز شریف نے 10گھنٹے تک جھنگ،چنیوٹ،وزیرآباداور سرگودھا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

    سیلاب کی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دوروں کے موقع پر اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے انتظامیہ کوریلیف آپریشن کے حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ پنجاب کو 1972ء کے بعد تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے۔غیر معمولی سیلاب کے پیش نظر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، ایک ایک زندگی عزیز ہے اوراسے بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ نے بیلوں اور دریائوں کے نزدیک رہنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ ہیڈ تریموں سے وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف چنیوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقے بھوانہ پہنچے اور کشتی میں امدادی سامان اور کھانے پینے کی اشیاء لے کر بھوانہ کے سیلاب زدہ گائوں ڈالی منگینی اور دیگر دیہاتوں میں گئے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے کشتی کے ذریعے سیلاب میں گھرے بھوانہ کے دور دراز دیہات بیروالا، راموں کے ٹھٹھہ، نوشہرہ، ابیاں اور ٹھٹھہ عصمت کا دورہ کیا۔سیلاب کی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔انہوں نے سیلاب متاثرین میں امدادی اشیاء اور کھانے پینے کا سامان تقسیم کیا۔انہوں نے سیلاب میں گھرے اوڑھ بستی کے افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے امدادی اشیاء بھجوانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بستی کی ایک ایک ضرورت پوری کریں گے اورمتاثرین کو اشیائے ضروریہ ترجیحی بنیادوں پر پہنچائیں گے سیلاب کے پانیوں میں گھرے افراد کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے اوران کی مدد کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اگر کہیں کوئی فرد پانی میں محصور رہ گیا تو اس ضلع کے ڈی سی او کی خیر نہیں ہوگی۔ لوگوں کے محفوظ انخلاء کے حوالے سے کوئی عذر قبول نہیں کروں گا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ لوگوں کو خطرے والے علاقوں سے نکالنے کے لیے ہر مناسب طریقہ اختیار کیا جائے 1972ء کے بعد اتنا بڑا ریلا کبھی نہیں آیا۔پوری تندہی،اخلاص اورمحنت سے صورت حال کا مقابلہ کررہے ہیں۔

    میاں منیر احمد

    Floods and Moonsoon Rains in Pakistan and Kashmir


    0 0

    Baluchistan political situation and unrest

older | 1 | .... | 29 | 30 | (Page 31) | 32 | 33 | .... | 149 | newer