Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 21 | 22 | (Page 23) | 24 | 25 | .... | 149 | newer

    0 0
    0 0




    بروک نے کہا تھا شکست نہ کھانے والا ارادہ، پریشان نہ ہونے والا خیال اور ختم نہ ہونے والی جدوجہد یہ کامیابی کے ضامن ہیں۔ انگریز عالم آئن نیشن جاپان گئے انھوں نے وہاں گیارہ سال رہ کر جاپانی زبان سیکھی اور گہرائی کے ساتھ جاپانی قوم کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے مطالعے اور تحقیق کے نتائج کی روشنی میں 238 صفحات کی ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ’’ جاپان کی کہانی ۔‘‘ اس میں مصنف لکھتے ہیں ’’ جاپانی قوم کی زندگی کو جس چیز نے سب سے زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر کیا وہ سیاست نہیں تھی بلکہ کانٹو کا عظیم زلزلہ تھا، یکم ستمبر 1923 کو زلزلے کے زبردست جھٹکوں نے مشرقی جاپان کو تہس نہس کر دیا جو کہ جاپان کا سب سے زیادہ آباد علاقہ تھا دوسرا انسانی ساخت کا زلزلہ 1945 میں جاپان کی شکست تھی جب کہ دو ایٹم بموں نے جاپان کے دو انتہائی بڑے شہروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ زلزلے سے اگر تعمیر نو کا ذہن پیدا ہو تو زلزلہ ایک نئی ترقی کا زینہ بن جاتا ہے اس کے بر عکس زلزلہ اگر صرف محرومی اور جھنجھلا ہٹ کا احساس پیدا کرے تو اس کے بطن سے سیاسی چیخؒ پکار وجود میں آتی ہے جو نتیجے کے اعتبار سے اتنی بے معنیٰ ہے کہ اس سے زیادہ بے معنیٰ کو ئی چیز نہیں۔ ‘‘ دوسری عالمی جنگ کی ابتدا میں امریکا براہ راست شامل نہ تھا تاہم ہتھیار اور سامان کے ذریعے اس کی مدد برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کی طاقت کا ذریعہ بنی ہوتی تھی چنانچہ جاپان نے امریکا کے خلاف ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔

    اس نے 7 دسمبر1941 کو اچانک امریکا کے بحری اڈہ پرل ہاربر پر شدید حملہ کیا اور اس کو تبا ہ کر دیا تاہم امریکہ کی ہوائی طاقت بدستور محفو ظ رہی۔ یہ وہ وقت تھا جب کہ امریکا میں ایٹم بم کی پہلی کھیپ زیر تکمیل تھی چنانچہ اس کے مکمل ہوتے ہی امریکا نے جاپان سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دے ورنہ اس کو برباد کر دیا جائے گا۔ جاپان کو امریکا کی جدید قوت کا اندازہ نہ تھا اس نے اس کو منظور نہیں کیا۔ چنانچہ 14 اگست 1945 کو امریکا نے جاپان کے دو بڑے صنعتی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے، ایک لمحے میں جاپان کی فوجی طاقت تہس نہس ہوکر رہ گئی اور جاپان نے مجبور ہو کر ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے فوراً بعد جنرل میکارتھر امریکی فوجوں کے ساتھ جاپان میں اتر گئے اور جاپان کے اوپر مکمل طور پر امریکا کا فوجی قبضہ ہو گیا ۔

    جاپان اگرچہ فوجی اعتبار سے شکست کھا چکا تھا مگر جاپانیوں کا جنگی جنون بدستو ر قائم تھا جاپانیوں کا جنگی جنون اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنے جسم میں بم باندھ کر جہازوں کی چمنی میں کود جاتے تھے۔ ا ب جنرل میکارتھر کے سامنے یہ سوال تھا کہ اس جنگی جنون کا خاتمہ کس طرح کیا جائے۔ جنرل میکارتھر نے اس کا حل اس تدبیر میں تلاش کیا کہ جاپانیوں کے جذبے کو جنگ سے ہٹا کر معاشی سرگرمیوں کی طرف پھیر دیا جائے۔ امریکی مبصر اینتھو نی لیوس نے 1985 میں لکھا جب جاپان نے 40 سال پہلے ہتھیار ڈالے تو جنرل میکارتھر نے نہ صرف جاپان پر فوجی قبضہ کر لیا بلکہ اس کے ساتھ ان کی مہم یہ تھی کہ وہ ملک کی از سرنو تشکیل کر یں اگر اس وقت ان سے پو چھا جاتا کہ ان کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو میرا خیال ہے کہ وہ کہتے کہ جاپان کے جار ح عوام کے جو ش کو جنگ کے بجائے اقتصادی حوصلوں کی طرف موڑ دینا۔ ‘‘ اس وقت جاپان کے لیے ایک صورت یہ تھی کہ وہ اپنے جنگی جوش کو باقی رکھتا اگر کھلے طور پر میدان جنگ میں لڑنے کے مواقعے نہیں تھے تو وہ خفیہ طور پر امریکا کے خلاف اپنی مقابلہ آرائی کو جاری رکھتا مگر جاپان نے فاتح کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے فوراً اپنے عمل کا رخ بدل دیا۔

    اس نے امریکا سے براہ راست ٹکرائو کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور اپنی تمام قوتوں کو سائنس، تعلیم اور ٹیکنیکل ترقی کے راستے میں لگا دیا۔ جاپان کو اس عقل مندی نے اس کے لیے نیا عظیم ترامکان کھول دیا۔ جنگی میدان میں اقدام کے مواقعے نہ پا کر اس نے اقتصادی میدانوں میں اپنی جدوجہد شروع کر دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف 30 سال میں جاپان نے پہلے سے زیادہ طاقتور حیثیت حاصل کر لی۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک مبصر لکھتے ہیں یہ پر ل ہاربر کے واقعے کا بڑا عجیب اختتام ہے مگر تاریخ میں اس طرح سے راستہ نکال لینے کی بہت سے مثالیں ہیں اور پرل ہاربر ان میں سے ایک ہے ۔ 1945 میں امریکا نے جاپان کے اوپر فتح کی خو شی منائی تھی۔ آج 1945 کا مفتوح جاپان امریکا کے اوپر اپنی اقتصادی فتح کی خو شی منا رہا ہے امریکا آج سب سے بڑا قرض دار ملک ہے۔ اس کے برعکس جاپان نے دنیا کو 240 بلین ڈالر قرض دے رکھا ہے ۔1945 میں امریکا نے جنگ جیتی تھی مگر جاپان نے امن جیت لیا۔ ‘‘نیوز ویک میں 12 اگست 1985میں ایک رپورٹ بعنوانJapan the 40 year Miracle چھپی اس میں1945میں جاپان کی مکمل بربادی کے چالیس سال بعد اس کی غیر معمولی ترقی کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ جاپانی قوم افسانوی پرندہ کی طرح خود اپنی راکھ کے اندر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

    جاپان کو خود اپنے فاتح کے مقابلے میں کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ اس نے اپنی ناکامی کا اعتراف کر لیا تھا، حقیقت کا اعتراف ہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک درست سمت میں ہے اور وہ اپنی حکمت عملی، پالیسیوں اور نظریے کی وجہ سے روز بروز طاقتور سے طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔ عوام آزاد، خو شحال ہو چکے ہیں ملک کے تمام ادارے مستحکم ہو چکے ہیں۔ پاکستان بنا نے کے تمام مقاصد ہم نے حاصل کر لیے ہیں تو پھر آپ اپنی موجود ہ پالیسیوں، حکمت عملی اور نظریہ پر قائم و دائم رہیں آپ کو نہ کوئی روکے گا اور نہ ہی کوئی ٹو کے گا لیکن اگر آپ ملک کے18 کروڑ عوام کی طرح یہ سوچتے ہیں کہ ہم اپنی موجودہ پالیسیوں، حکمت عملیوں، نظریے، خارجہ پالیسی، پڑوسیوں سے خراب تعلقات، اقتصادی پالیسیوں، عدم مساوات، عدم برداشت، اور دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی وجہ سے مکمل ناکامی، تباہی اور بربادی سے دو چار ہو چکے ہیں۔ تو پھرآپ ملک کے 18 کروڑ عوام کی طرح صحیح سوچتے ہیں۔

    میتیھو نے کہا تھا جب اندھے کی رہنمائی اندھا کر رہا ہو تو دونوں گڑھے میں گرتے ہیں اور ہمارے ساتھ بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ جب ہم اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ ہم گڑھے میں گر چکے ہیں تو ظاہر ہے ہم اس سے باہر نکلنے کی کوئی نہ کوئی صورت اور راستہ نکال لیں گے اور یہ ہی وہ وقت ہو گا جب ہمارے نئے سفر کا ناکامی سے کامیابی کی طرف آغاز ہو جائے گا۔ سائرس نے اس موقعے کے لیے یہ کہا تھا اگر آپ چاہتے ہیں کہ کسی بلند مقام تک پہنچا جائے تو پھر کہیں سے بھی سفر شروع کر دیں۔ سیڑھی پر چڑھنے کے لیے پہلے زینے پر قدم ضرور رکھنا پڑتا ہے ۔ آپ اپنا پہلا قدم اٹھا کر دیکھیں پھر کس طرح ہماری ناکامی کی راکھ سے کامیابی جنم لیتی ہے۔ بس ہمیں اپنا رخ تبدیل کرنا ہے اور عوام کے جوش کو اقتصادی حوصلوں کی طرف موڑ دینا ہے۔ دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک وہ جو سوچتے ہی رہتے ہیں اور کرتے کچھ بھی نہیں دوسرے وہ جو بلا سوچے سمجھے ہر طرف ہاتھ مارتے ہیں اور ہر طرف سے منہ کی کھاتے ہیں تیسر ے وہ جو سوچتے بھی اور کرتے بھی ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو مٹی کو سونا بنا لیتے ہیں۔ آئیں !ہم اپنے لیے اپنے پیاروں کے لیے آنے والوں کے لیے سوچیں اور کرتے بھی جائیں ۔ مایوسی کفر ہے صبح جتنی قریب ہو گی رات اتنی ہی تاریک ہو گی۔ نپو لین نے بالکل صحیح کہا تھا فتح ہمیشہ مستقل مزاج لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ پاکستانیوں کو بس یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ مستقل مزاج ہیں

    Bermuda Triangle and Pakistan ۔


    0 0


    Ibtisam Elahi Zaheer

    0 0
  • 04/23/14--03:52: HIV/AIDS in Pakistan



  • 0 0




    0 0
  • 04/24/14--12:36: Zaheer ul-Islam

  • Zaheer ul-Islam (Urdu: ﻇﻬﻴﺮ ﺍﻹﺳﻼﻡ‎)HI(M) is the current Director-General of the Inter-Services Intelligence (ISI); he was appointed to the position on 9 March 2012. Islam took over the position from his predecessor Ahmed Shuja Pasha, who left on 18 March.[1] At the time of his appointment, he was serving as the Corps Commander V Corps, Karachi.
    In 2013, he was ranked by Forbes as 52nd most powerful person in the world.[2]

    Family

    Islam comes from a family with a prominent military background. His father retired as a brigadier in the Pakistan Army,[3] while his three brothers and his brother-in-law Major Ejaz Aziz also retired as military officers.[4] In addition, he is a nephew of the Indian National Army general and politician Shah Nawaz Khan, who was also the adoptive maternal grandfather of Bollywood film actor Shahrukh Khan.[5] However, the Inter Services Public Relations (ISPR) refused to acknowledge any distant familial links between Zaheerul Islam and Shahrukh Khan.[3]

    Military career

    Zaheerul Islam was commissioned in the Punjab Regiment in the 55th PMA Long Course on 16 April 1977. He served as Corps Commander V Corps in Karachi before appointment of ISI Chief. Zaheer served as DG (C) in the ISI before he was promoted as a 3-star general and moved to Karachi as corps commander. He was GOC Murree for some time before coming to the ISI. He also served as Chief of Staff in the Army Strategic Force Command for 2004-2006.
    Enhanced by Zemanta

    0 0


    The Directorate for Inter-Services Intelligence (more commonly known as Inter-Services Intelligence or simply by its initials ISI), is the premier intelligence service of Pakistan, operationally responsible for providing critical national security and intelligence assessment to the Government of Pakistan. The ISI is the largest of the three intelligence services of Pakistan, the others being the Intelligence Bureau (IB) and Military Intelligence (MI). Previously in the 20th century, the ISI's work and activities have included the support of the Afghanmujahideen in then-communist Afghanistan against the Soviet Union in their war against the mujahideen (in conjunction with the Central Intelligence Agency) and later provided strategic and intelligence support to the Afghan Taliban against the Northern Alliance in the civil war in Afghanistan in the 1990s.[1]
    The ISI is the successor of the IB and MI formed after the Indo-Pakistani War of 1947 to co-ordinate and operate espionage activities for the three branches of the Pakistan Armed Forces. The ISI was established as an independent intelligence service in 1948 in order to strengthen the sharing of military intelligence between the three branches of Pakistan's armed forces in the aftermath of the Indo-Pakistani War of 1947, which had exposed weaknesses in intelligence gathering, sharing and coordination between the Army, Air Force and Navy. From its inception, the agency has been headed by an appointed three-stargeneral officer in the Pakistan Army, despite officers from all three branches of the Pakistan Armed Forces being served and hired by the ISI. However, after the intelligence gathering and coordination failure during the Indo-Pakistani war of 1971, the Joint Chiefs of Staff Committee was created with a mandate to co-ordinate and supervise all military exercises and operations of the Pakistan Armed Forces.
    The Chief of Army Staff recommends the names of the Director General who reports to Prime minister, but official confirmation and appointment is needed from the Prime minister.[2] The ISI is headquartered in Islamabad, Islamabad Capital Venue, and is currently headed by Lieutenant-GeneralZaheerul Islam who replaced Ahmed Shuja Pasha in March 2012.[2][3] The agency has an estimated strength of 10,000 officers and staff members, which does not include informants and assets.[4]
    Experts such as former French investigating magistrateJean-Louis Bruguière and former president of the New America FoundationSteve Coll believe that the Inter-Services Intelligence continues to give terrorist organizations like Lashkar-e-Taiba intelligence help and protection
    After independence in 1947, two new intelligence agencies were created in Pakistan: the Intelligence Bureau (IB) and the Military Intelligence (MI). However, the weak performance of the MI in sharing intelligence between the Army, Naval and Air Force during the Indo-Pakistani War of 1947 led to the creation of the Directorate for Inter-Services Intelligence (ISI) in 1948.[7] The ISI was structured to be manned by officers from the three main military services, and to specialize in the collection, analysis and assessment of external intelligence, either military or non-military.[7] The ISI was the brainchild of Australian-born British Army officer, Major General Robert Cawthome, then Deputy Chief of Staff in the Pakistan Army.[4][7][8] Initially, the ISI had no role in the collection of internal intelligence, with the exception of the N.W.F.P and Azad Jammu and Kashmir.[7] The recruitment and expansion of the ISI was managed and undertaken by then-Navy's CommanderSyed Mohammad Ahsan who was tenuring as Deputy Director of the Naval Intelligence. The Navy's Commander Syed Mohammad Ahsan played an integral and major role in formulating the policies of the ISI. At the end of December 1952, Major-General Robert Cawthome, Director-General of the Inter-Service Intelligence (ISI), sent a priority report to the Commander Ahsan, and asked for a detailed reactions of Pakistan Armed Forces personnel for the Basic principles for the ISI.
    In the late 1950s, when Ayub Khan became the President of Pakistan, he expanded the rôle of ISI and MI in monitoring opposition politicians, and sustaining military rule in Pakistan.[4] The ISI was reorganised in 1966 after intelligence failures in the Indo-Pakistani War of 1965,[9] and expanded in 1969. Khan entrusted the ISI with the responsibility for the collection of internal political intelligence in East Pakistan. Later on, during the Baloch nationalist revolt in Balochistan in the mid-1970s, the ISI was tasked with performing a similar intelligence gathering operation.[9]
    The ISI lost its importance during the regime of Zulfiqar Ali Bhutto, who was very critical of its rôle during the 1970 general elections, which triggered off the events leading to the division of Pakistan and emergence of Bangladesh.[9]
    After Chief of Army StaffGeneral Zia-ul-Haqseized power on 5 July 1977 and became the Chief Martial Law Administrator of the country, the ISI was expanded by making it responsible for the collection of intelligence about the Pakistan Communist Party and various political parties such as the Pakistan Peoples Party (PPP).[9]
    The Soviet war in Afghanistan of the 1980s saw the enhancement of the covert action capabilities of the ISI by the Central Intelligence Agency (CIA). A special Afghan Section, the SS Directorate, was created under the command of Brigadier Mohammed Yousaf to oversee the coordination of the war. A number of officers from the ISI's Covert Action Division (Special Activities Division) received training in the United States and many covert action experts of the CIA were attached to the ISI to guide it in its operations against the Soviet troops by using the Afghan Mujahideen.[citation needed]
    On September 2001, Parvaiz Musharraf appointed a new Director General for ISI, Lieutenant General Ehsanul Haq who was later on replaced by the Let. Gen. Shuja Pasha.[citation needed]
    National Intelligence Directorate (NID) is formed in 2014 in order to pool intelligence gathered by over 30 Pakistan's intelligence agencies.[10]

    Organization

    ISI's headquarters are located in Islamabad, and currently the head of the ISI is called the Director General- who has to be a serving Lieutenant General in the Pakistan Army.[citation needed] Under the Director General, three Deputy Directors General report directly to him and are in charge in three separate fields of the ISI which are Internal wing – dealing with counter-intelligence and political issues inside Pakistan, External wing – handling external issues, and Analysis and Foreign Relations wing.[11]
    The general staff of the ISI mainly come from paramilitary forces and some specialised units from the Pakistan Army such as the some chosen people from SS Group (SSG), SSG(N), and the SS Wing.[citation needed] According to some experts the ISI is the largest intelligence agency in the world in terms of number of staff. While the total number has never been made public, experts estimate about 10,000 officers and staff members, which does not include informants and assets.[4]

    Accountability principles

    Recently, a bill introduced by a private member in the Senate to make the agency more accountable to the Parliament and Government, was withdrawn as it reportedly did not have the concurrence of the special committee of the ruling PPP.[12]

    Departments

    • Covert Action Division
    Responsible for paramilitary and covert operations as well as special activities.[13] Its roles are akin to Special Activities Division of CIA and a handful numbers of officers are trained by the CIA's SAD and active since the 1960s.[14]
    • Joint Intelligence X
    coordinates all the other departments in the ISI.[4] Intelligence and information gathered from the other departments are sent to JIX which prepares and processes the information and from which prepares reports which are presented.
    • Joint Intelligence Bureau
    responsible for gathering political intelligence.[4] It has three subsections, one devoted entirely to operations against India.[4]
    • Joint Counterintelligence Bureau
    responsible for surveillance of Pakistan's diplomats and diplomatic agents abroad, along with intelligence operations in the Middle East, South Asia, China, Afghanistan and the Muslim republics of the former Soviet Union.[4]
    • Joint Intelligence North
    exclusively responsible for the Jammu and Kashmir region and Northern Areas.[4]
    • Joint Intelligence Miscellaneous
    responsible for espionage, including offensive intelligence operations, in other countries.[4]
    • Joint Signal Intelligence Bureau
    operates intelligence collections along the India-Pakistan border.[4] The JSIB is the ELINT, COMINT, and SIGINT directorate that is charged to divert the attacks from the foreign non-communications electromagnetic radiations emanating from other than nuclear detonations or radioactive sources.[4]
    • Joint Intelligence Technical
    deals with development of science and technology to advance the Pakistan intelligence gathering. The directorate is charged to take steps against the electronic warfare attacks in Pakistan.[4] Without any exception, officers from this divisions are reported to be engineer officers and military scientists who deal with the military promotion of science and technology.[4] In addition, there are also separate explosives and a chemical and biological warfare sections.[4]
    • SS Directorate
    which monitors the terrorist group activities that operates in Pakistan against the state of Pakistan. The SS Directorate is comparable to that of Central Intelligence Agency (CIA) National Clandestine Service (NCS), and responsible for the covert political action and paramilitary special operations.
    • Political Internal Division[15]
    Monitored the financial funding of the right-wing political science sphere against the left-wing political science circles. This department was involved in providing funds to the anti-left wing forces during the general elections of 1965, 1977, 1985, 1988, and 1990.[16] The department is now "inactive" since March 2012 with the new director taking the operational charge of the ISI.[17]

    Directors General

    1. 1948–1950: ColonelSyed Shahid Hamid
    2. 1950–1959: MGenRobert Cawthome
    3. 1959–1966: BGen Riaz Hussain[18]
    4. 1966–1971: MGen (then BGen) Mohammad Akbar Khan[19]
    5. 1971–1978: LGen (then Maj Gen) Ghulam Jilani Khan
    6. 1978–1980: LGen Muhammad Riaz
    7. 1980 – March 1987: LGen Akhtar Abdur Rahman
    8. March 1987 – May 1989: LGen Hameed Gul
    9. May 1989 – August 1990: LGen (retd) Shamsur Rahman Kallu
    10. August 1990 – March 1992: LGen Asad Durrani
    11. March 1992 – May 1993: LGen Javed Nasir
    12. May 1993 – 1995: LGen Javed Ashraf Qazi
    13. 1995 – October 1998: LGen (then Maj Gen) Naseem Rana
    14. October 1998 – October 1999: LGen Ziauddin Butt
    15. October 1999 – October 2001: LGen Mahmud Ahmed
    16. October 2001 – October 2004: LGen Ehsan ul Haq
    17. October 2004 – October 2007: LGen Ashfaq Parvez Kayani
    18. October 2007 – October 2008: LGen Nadeem Taj
    19. October 2008 – 19 March 2012: LGen Ahmad Shuja Pasha
    20. 19 March 2012 – present: LGen Zaheerul Islam[20]

    Headquarters

    The ISI headquarters are in Islamabad. The complex consists of various adobe buildings separated by lawns and fountains. The entrance to the complex is next to a private hospital. Declan Walsh of The Guardian said that the entrance is "suitably discreet: no sign, just a plainclothes officer packing a pistol who direct visitors through a chicane of barriers, soldiers and sniffer dogs".[21] Walsh said that the complex "resembles a well-funded private university" and that the buildings are "neatly tended," the lawns are "smooth," and the fountains are "tinkling." He described the central building, which houses the director general's office on the top floor, as "a modern structure with a round, echoing lobby."[21]

    Recruitment and training

    Both civilians and members of the armed forces can join the ISI. For civilians, recruitment is advertised and is jointly handled by the Federal Public Services Commission (FPSC) and civilian ISI agents are considered employees of the Ministry of Defence. The FPSC conducts various examinations testing the candidate's knowledge of current affairs, English and various analytical abilities. Based on the results, the FPSC shortlists the candidates and sends the list to the ISI who conduct the initial background checks. The selected candidates are then invited for an interview which is conducted by a joint committee comprising both ISI and FPSC officials.[7]

    Major operations

    Functions

    • Collection of information and extraction of intelligence from information
    ISI obtains information critical to Pakistan's strategic interests. Both overt and covert means are adopted.[7]
    • Classification of intelligence
    Data is sifted through, classified as appropriate, and filed with the assistance of the computer network in ISI's headquarters in Islamabad.[7]
    • Aggressive intelligence
    The primary mission of ISI includes aggressive intelligence which comprises espionage, psychological warfare, subversion, sabotage.[7]
    • Counterintelligence
    ISI has a dedicated section which spies against enemy's intelligence collection

    Bosnia

    • 1993
    The ISI was involved in supplying arms to the warring parties in Bosnia-Herzegovina to protect themselves from Serbian attacks.[36]

    India

    • 1950s
    The ISI's Covert Action Division was used in assisting the insurgents in India's North-East.[37]
    • 1960s
    In the late 1960s assists the Sikh Home Rule Movement of London-based Charan Singh Panchi, which was subsequently transformed into the Khalistan Movement, headed by Jagjit Singh Chauhan in which many other members of the Sikh diaspora in Europe, United States and Canada joined and then demanded the separate country of Khalistan.[37]
    • 1965
    The 1965 war in Kashmir provoked a major crisis in intelligence. When the war started, there was a complete collapse of the operations of all the intelligence agencies, after the commencement of the 1965 Indo-Pakistan war, was apparently unable to locate an Indian armored division due to its preoccupation with political affairs. Ayub Khan set up a committee headed by General Yahya Khan to examine the working of the agencies.[37]
    • 1969–1974
    The U.S. Central Intelligence Agency and ISI worked in tandem with the Nixon Administration in assisting the Khalistan movement in Punjab.[38]
    • 1980
    The PAF Field Intelligence Unit at their base in Karachi in July 1980 captured an Indian agent.[citation needed] He was interrogated and revealed that a large network of Indian spies were functioning in Karachi. The agent claimed that these spies, in addition to espionage, had also assassinated a few armed personnel.[citation needed] He also said the leader of the spy ring was being headed by the food and beverages manager at the Intercontinental Hotel in Karachi and a number of serving Air Force officers and ratings were on his payroll. The ISI decided to survey the manager to see who he was in contact with, but then President of Pakistan Zia-ul Haq superseded and wanted the manager and anyone else involved in the case arrested immediately. It was later proven that the manager was completely innocent.[24]
    • 1983
    Ilam Din also known as Ilmo was an infamous Indian spy working from Pakistan. He had eluded being captured many times but on March 23 at 3 a.m., Ilmo and two other Indian spies were apprehended by Pakistani Rangers as they were illegally crossing into Pakistan from India. Their mission was to spy and report back on the new military equipment that Pakistan will be showing in their annual March 23 Pakistan day parade. Ilmo after being thoroughly interrogated was then forced by the ISI to send false information to his R&AW handlers in India. This process continued and many more Indian spies in Pakistan were flushed out, such as Roop Lal.[24]
    • 1984
    ISI uncovered a secret deal in which naval base facilities were granted by Indian Prime Minister Indira Gandhi to the USSR in Vizag and the Andaman & Nicobar Island and the alleged attachment of KGB advisers to the then Lieutenant General Sunderji who was the commander of Operation Blue Star in the Golden Temple in Amritsar in June 1984.[23]
    • 1984
    ISI failed to perform a proper background check on the British company which supplied the Pakistan Army with its Arctic-weather gear. When Pakistan attempted to secure the top of the Siachen Glacier in 1984, it placed a large order for Arctic-weather gear with the same company that also supplied the Indian Army with its gear. Indians were easily alerted to the large Pakistani purchase and deduced that this large purchase could be used to equip troops to capture the glacier.[39] India quickly mounted a military operation (Operation Meghdoot) and captured a large part of the glacier.
    • 1988
    ISI implemented Operation Tupac a three part action plan for covertly supporting the militants in their fight against the Indian authorities in Kashmir, initiated by President Zia Ul Haq in 1988 after the failure of "Operation Gibraltar".[40][41] After success of Operation Tupac, support to militants became Pakistan's state policy.[42] ISI is widely believed to train and support militancy in Kashmir region.[43][44][45]

    Israel

    • 1980s
    Israel had always perceived a nuclear armed Muslim state to be a threat to its existence, although, Israel itself is assumed to be nuclear. This is the reason why it destroyed the Iraqi nuclear facility in Operation Opera, and the Syrian nuclear facility during Operation Orchard. Israel had similar plans to destroy the Pakistani nuclear facilities in Kahuta during the 1980s with the assistance of India but failed to do so after India refused on the grounds of such an attack doing more harm than good.[46][47]
    • 2002
    According to Time magazine, French intellectual Bernard-Henri Lévy, has claimed that Daniel Pearl, an American-Israeli, was assassinated by elements with backing from Pakistan Inter-Services Intelligence, over his alleged role in gathering information linking ISI and Al-Qaeda.[48]

    Pakistan

    The ISI was also accused to be involved in a scandal the Mehran bank scandal dubbed "Mehrangate", in which top ISI and Army brass were allegedly given large sums of money by Yunus Habib (the owner of Mehran Bank) to deposit ISI's foreign exchange reserves in Mehran Bank.[49]
    • 1980
    ISI became aware of a plot to assassinate the President of Pakistan, Zia-ul-Haq and then launch a bloody coup to depose the current government and install an Islamic government in its place. The attempted assassination and coup was to occur on March 23, 1980 during the annual March 23 Pakistan day parade. The masterminds behind the coup were high-ranking Military and Intelligence officers and were led by Major General Tajammal Hussain Malik, his son, Captain Naveed and his nephew Major Riaz, a former Military Intelligence officer. ISI decided against arresting these men outright because they did not know how deep this conspiracy went and kept these men under strict surveillance. As the date of the annual parade approached, ISI was satisfied that it had identified the major players in this conspiracy and then arrested these men along with quite a few high-ranking military officers.[24]
    • 1985
    ISI's Internal Political Division has been accused by various members of the Pakistan People's Party in assassinating Shahnawaz Bhutto, one of the two brothers of Benazir Bhutto, through poisoning in the French Riviera in the middle of 1985 in an attempt to intimidate her into not returning to Pakistan for directing the movement against Zia's Military government, but no proof has been found implicating the ISI.[23]
    • 1987
    ISI failed to prevent the KHAD/KGB terror campaign in Pakistan which in 1987 led to the deaths of about 324 Pakistanis in separate terror incidents.[50]
    • 1988
    ISI failed to prevent the mysterious assassination of the President of Pakistan, Zia-ul-Haq in the crash of his C-130 Hercules aircraft near Bahawalpur which was possibly orchestrated by the KGB and KHAD.[51]
    • 1990
    The ISI has been deeply involved in domestic politics of Pakistan since the late 1950s. The 1990 elections for example were widely believed to have been rigged by the ISI in favor of the Islami Jamhoori Ittehad (IJI) party, a conglomerate of nine mainly rightist parties by the ISI under Lt. General Hameed Gul, to ensure the defeat of Bhutto's Pakistan Peoples Party (PPP) in the polls.[52]
    • 2000–present
    ISI is actively engaged with the Pakistan armed forces in the War in North-West Pakistan against Tehrik-i-Taliban Pakistan, and so far is reported to have lost 78 ISI personnel,[53] most notably Khalid Khawaja and Colonel Imam.
    • 2000s
    ISI has been actively involved in suppressing a bloody separatist insurgency in Balochistan. Recently the Militants have been accused of targeting people of non-Balochi ethnic groups and Balouchi who do not agree with separatism .[54][55] Over two hundred bodies with signs of extreme torture and a shotgun wound to the head have been found in the region during the period of July 2010 to July 2011, and Human Rights Watch says evidence points to complete ISI responsibility. Whilst the Provincial Government says it is doing its best to improve law and order and end target killing which it blames on rival factional fighting. As many as 985 people have been sentenced so far while the cases of 875 accused in various crimes were in the courts."Nawab Akbar Bugti was killed in a Capture Operation Launched by the Pakistan against his private militia, ISI provided key intelligence during the operation.[56]
    • 2011
    Five Pakistanis who worked as informant for CIA to pass information leading to the Death of Osama bin Laden had been arrested by the ISI.[57] In particular the US was trying to seek the release of Dr Shakil Afridi, a Pakistani who worked for the CIA, passing intelligence leading to the death of Bin Laden. Since then Dr Afridi has been sentenced to 33 years in prison.[58]

    Libya

    • 1978
    ISI decided to spy on the residence of Colonel Hussain Imam Mabruk who was a Military Attaché to the Embassy of Libya in Islamabad as he had made some inflammatory statements towards the military regime of Zia-ul-Haq. The spying paid off as he was seen talking with two Pakistani gentlemen who entered and left the compound suspiciously. The ISI monitored the two men and were later identified as Pakistani exiles that hated the current military regime and were Bhutto loyalists. They had received terrorist training in Libya and were ready to embark on a terrorist campaign in Pakistan to force the Army to step down from power. All members of the conspiracy were apprehended before any damage could be done.[24]
    • 1981
    In 1981, a Libyan Security company called Al Murtaza Associates sent recruiters to Pakistan to entice former soldiers and servicemen for high paying security jobs in Libya. In reality, Libya was recruiting mercenaries to fight with Chad and Egypt as it had border disputes with both nations. ISI become aware of the plot and the whole scheme was stopped.[24] [See also CIA drug trafficking#Soviet Afghanistan, CIA transnational anti-crime and anti-drug activities#Southwest Asia, Operation Cyclone, Badaber Uprising].

    Iran

    • 1979
    After the failure of Operation Eagle Claw, the U.S. media outlets such as Newsweek and Time reported that CIA agents stationed in Tehran had obtained information in regard to the location of the hostages, in-house information from a Pakistani cook who used to work for the U.S. Embassy. ISI successfully gathered evidence, and intercepted communication documents and showed it to the Iranian Chief of J-2 which cleared the cook. The Iranian chief of intelligence said, "We know, the Big Satan is a big liar."[24]

    France

    • 1979
    ISI discovered a surveillance mission to Kahuta Research Laboratories nuclear complex on June 26, 1979 by the French Ambassador to Pakistan, Le Gourrierce and his First Secretary, Jean Forlot. Both were arrested and their cameras and other sensitive equipment were confiscated. Intercepted documents later on showed that the two were recruited by the CIA.[24]

    Soviet Union and Post-Soviet states

    • 1980
    ISI had placed a mole in the Soviet Union's embassy in Islamabad. The mole reported that the Third Secretary in the Soviet Embassy was after information in regard to the Karakurum Highway and was obtaining it from a middle level employee, Mr. Ejaz, of the Northern Motor Transport Company. ISI contacted Mr. Ejaz who then confessed that a few months ago the Soviet diplomat approached him and threatened his family unless he divulged sensitive information in regard to the highway such as alignment of the road, location of bridges, the number of Chinese personnel working on the Highway, etc. The ISI instead of confronting the Soviet diplomat chose to feed him with false information. This continued until the Soviet diplomat was satisfied that Mr. Ejaz had been bled white of all the information and then dropped him as a source.[24]
    • 1991–1993
    Major General Sultan Habib who was an operative of the ISI's Joint Intelligence Miscellaneous department successfully procured nuclear material while being posted as the Defense Attaché in the Pakistani Embassy in Moscow from 1991 to 1993 and concurrently obtaining other materials from Central Asian Republics, Poland and the former Czechoslovakia. After Moscow, Major General Habib then coordinated shipping of missiles from North Korea and the training of Pakistani experts in the missile production. These two acts greatly enhanced Pakistan's Nuclear weapons program and their missile delivery systems.[59]

    United States

    • 1980s
    ISI successfully intercepted two American private weapons dealers during the Soviet-Afghan war of the 1980s. One American diplomat (his name has not been de-classified) who lived in the F-7/4 sector of Islamabad was spotted by an ISI agent in a seedy part of Rawalpindi by his automobile's diplomatic plates. He was bugged and trailed and was found to be in contact with various tribal groups supplying them with weapons for their fight with the Soviet Army in Afghanistan. Another was Eugene Clegg, a teacher in the American International School who also indulged in weapons trade. One American International School employee and under cover agent Mr. Naeem was arrested while waiting to clear shippment from Islamabad custom. All of them were put out of business.[24]
    • 2002
    Some authors allege that ISI supported the 1999 release of Ahmed Omar Saeed Sheikh who was subsequently convicted of the 2002 beheading of Wall Street Journal reporter Daniel Pearl.[60]
    • 2000s
    ISI is suspicious about CIA attempted penetration of Pakistan nuclear asset, and CIA intelligence gathering in the Pakistani law-less tribal areas. Based on these suspicion, it is speculated that ISI is pursuing a counter-intelligence against CIA operations in Pakistan and Afghanistan.[61] ISI former DG Ashfaq Parvez Kayani is also reported to have said, "real aim of U.S. [war] strategy is to denuclearize Pakistan."[62]
    • 2011
    In the aftermath of a shooting involving American CIA agent Raymond Davis, the ISI had become more alert and suspicious about CIA spy network in Pakistan, which had disrupted the ISI-CIA cooperation.[63] At least 30 suspected covert American operatives have suspended their activities in Pakistan and 12 have already left the country.[64]
    • 2011
    A Chinese woman believed to be an ISI agent, who headed the Chinese unit of a US manufacturer was charged with illegally exporting high-performance coatings for Pakistan's nuclear power plants. Xun Wang, a former managing director of PPG Paints Trading in Shanghai, a Chinese subsidiary of United States-based PPG Industries, Inc, was indicted on a charge of conspiring to violate the International Emergency Economic Powers Act and related offences. Wang is accused of conspiring to export and re-export, and exporting and re-exporting specially designed, high-performance epoxy coatings to the Chashma 2 Nuclear Power Plant in Pakistan. Wang and her co-conspirators agreed upon a scheme to export and re-export the high-performance epoxy coatings from the United States to Pakistan's Chashma II plant, via a third-party distributor in People's Republic of China.[65]
    • 2011
    ISI operative Mohammed Tasleem, an attache in the New York consulate, was found by the FBI in 2010 to be issuing threats against Pakistanis living in the United States, to prevent them from speaking openly about Pakistan's government. US officials and Pakistani journalists and scholars say the ISI has a systematic campaign to threaten those who speak critically of the Pakistan military.[66]

    Al Qaeda and Taliban militants captured

    Ramzi Yousef, one of the planners of the 1993 World Trade Center bombing as well as the Bojinka plot. Pakistani intelligence, and the Department of State – U.S. Diplomatic Security Service (DSS) Special Agents, captured Yousef in Islamabad, Pakistan. On February 7, 1995, they raided room #16 in the Su-Casa Guest House in Islamabad, Pakistan, and captured Yousef before he could move to Peshawar.[67]
    In November 2001, Ibn al-Shaykh al-Libi, a Libyan paramilitary trainer for Al-Qaeda attempted to flee Afghanistan following the collapse of the Taliban precipitating the 2001 U.S. invasion of Afghanistan but was captured by Pakistani Forces.[68]
    Sheikh Omar Saeed, a British-born terrorist of Pakistani descent was arrested by Pakistani police on February 12, 2002, in Lahore, in conjunction with the Pearl kidnapping. Pearl had been kidnapped, had his throat slit, and then been beheaded and Sheikh Omar Saeed was named the chief suspect.[69] Sheikh told the Pakistani court, however, that he had surrendered to the ISI a week earlier.[70]
    Abu Zubaydah, an Al-Qaeda terrorist responsible for hatching multiple terrorist plots including sending Ahmed Ressam to blow up the Los Angeles airport in 2000.[71] He was captured on March 28, 2002, by ISI, CIA and FBI agents after they had raided several safe houses in Faisalabad, Pakistan.[72][73][74][75]
    Ramzi bin al-Shibh, an Al-Qaeda terrorist responsible for planning the 9/11 terrorist attacks as well as the attack on 2000 USS Cole bombing, and the 2002 Ghriba synagogue bombing in Tunisia.[76] On September 11, 2002, the ISI successfully captured Ramzi bin al-Shibh during a raid in Karachi.[77]
    Khalid Sheikh Mohammed was the principal architect of the 9/11 attacks as well as other significant terrorist plots over the last twenty years, including the World Trade Center 1993 bombings, the Operation Bojinka plot, an aborted 2002 attack on the U.S. Bank Tower in Los Angeles, the Bali nightclub bombings, the failed bombing of American Airlines Flight 63, the Millennium Plot, and the murder of Daniel Pearl. On March 1, 2003, the ISI successfully captured KSM in a joint raid with the CIA's Special Activities Division paramilitary operatives and the Diplomatic Security Service Special Agents in Rawalpindi, Pakistan.[78]
    • Abu Faraj Farj al-Liby
    Pakistani intelligence agencies and security forces arrested Abu Faraj Farj al-Liby, mastermind of two failed attempts on President Pervez Musharraf's life, in May 2005.[79]
    • Maulvi Omar
    Senior aid to Baitullah Mehsud captured by ISI in August 2009.
    Taliban's deputy commander, Abdul Ghani Baradar was captured by U.S. and Pakistani forces in Pakistan on February 8, 2010, in a morning raid.[80]

    Reception

    Critics of the ISI say that it has become a state within a state and not accountable enough. Some analysts say that this is because of the fact that intelligence work agencies around the world remain secretive. Critics argue the institution should be more accountable enough to the President or the Prime Minister.[81] After much criticism, the Pakistani Government disbanded the ISI 'Political Wing' in 2008.[82]

    U.S. government

    During the Cold War the ISI and CIA worked together to send spy planes into the Soviet Union.[83] The ISI and CIA also worked closely during the Soviet-Afghan War supporting groups such as Gulbuddin Hekmatyar's Hezb-i Islami and Jalaluddin Haqqani, leader of the Haqqani network.[84]
    Some report the ISI and CIA stepped up cooperation in the aftermath of 9/11 attacks to kill and capture senior Al Qaeda leaders such as Sheikh Younis Al Mauritan and Khalid Shaikh Mohammed (the planner of the 9/11 attacks who was residing in Pakistan). Pakistan claims that in total around 100 top level al-Qaeda leaders/operators were killed/arrested by ISI.[85] Secretary of State Hillary Clinton said Pakistan was paying a "big price for supporting the U.S. war against terror groups. ... I think it is important to note that as they have made these adjustments in their own assessment of their national interests, they're paying a big price for it".[86]
    Other senior international officials, however, maintain that senior Al Qaeda leaders such as Osama Bin Laden have been hidden by the ISI in major settled areas of Pakistan with the full knowledge of the Pakistani military leadership.[87] A December 2011 analysis report by the Jamestown Foundation came to the conclusion that "in spite of denials by the Pakistani military, evidence is emerging that elements within the Pakistani military harbored Osama bin Laden with the knowledge of former army chief General Pervez Musharraf and possibly current Chief of Army Staff (COAS) General Ashfaq Pervez Kayani. Former Pakistani General Ziauddin Butt (a.k.a. General Ziauddin Khawaja) revealed at a conference on Pakistani–U.S. relations in October 2011 that according to his knowledge the then former Director-General of Intelligence Bureau of Pakistan (2004–2008), Brigadier Ijaz Shah (retd.), had kept Osama bin Laden in an Intelligence Bureau safe house in Abbottabad."[88] Pakistani General Ziauddin Butt said Bin Laden had been hidden in Abbottabad by the ISI "with the full knowledge" of Pervez Musharraf[88] but later denied making any such statement, saying his words were altered by the media, he said: "It is the hobby of the Western media to distort the facts for their own purposes."[89] U.S. military officials have increasingly said, they do not notify Pakistani officials before conducting operations against the Afghan Taliban or Al Qaeda, because they fear Pakistani officials may tip them off.[90]
    International officials have accused the ISI of continuing to support and even lead the Taliban today in the War in Afghanistan (2001-present). As Chairman of the Joint Chiefs of Staff, Mike Mullen stated:
    The fact remains that the Quetta Shura [Taliban] and the Haqqani Network operate from Pakistan with impunity ... Extremist organizations serving as proxies of the government of Pakistan are attacking Afghan troops and civilians as well as US soldiers. ... For example, we believe the Haqqani Network—which has long enjoyed the support and protection of the Pakistani government ... is, in many ways, a strategic arm of Pakistan's Inter-Services Intelligence Agency.
    [91]
    The Associated Press reported that "the president said Mullen's statement 'expressed frustration' over the insurgent safe havens in Pakistan. But Obama said 'the intelligence is not as clear as we might like in terms of what exactly that relationship is.' Obama added that whether Pakistan's ties with the Haqqani network are active or passive, Pakistan has to deal with it."[92][93]
    The Guantanamo Bay files leak, however, showed that the US authorities unofficially consider the ISI as a terrorist organization equally dangerous as Al Qaeda and Taliban, and many allegations of its supporting terrorist activities have been made.[94][95]

    Indian government

    India has accused ISI of plotting the Mumbai terror attack in March 1993[96] and November 2008. According to the United States diplomatic cables leak the ISI had previously shared intelligence information regarding possible terrorist attacks against in India in late 2008.[97] ISI is also accused of supporting pro independence militias in Jammu and Kashmir[98] while Pakistan denies all such claims.[99][100][101]
    India accuses ISI of supporting separatist militants in Jammu and Kashmir while Pakistan claims to give them moral support only.[102]

    Human rights abuses

    The ISI have been accused of severe human rights abuses.[103] The ISI has been accused of massive human rights abuses in Balochistan by Human Rights Watch, with the disappearances of hundreds of separatists and terrorists. In 2008 alone an estimated 1102[104] people were disappeared from the region. There have also been reports of torture.[25] An increasing number of bodies are being found on roadsides having been shot in the head.[105] In July 2011, the Human Rights Commission of Pakistan issued a report on illegal disappearances in Balochistan and identified ISI and Frontier Corps as the perpetrators. Through daily news reports it has been noted that ISI and Frontier Corps puts to death illegally abducted Balochs whenever there is attack on FC's personnel or bases in Balochistan.[106] The local security agencies claim that the terror acts are carried out by the BLA, funded by Indian Intelligence Agency – RAW.[107] Till September 2011 more than 190 dead bodies have been found. The Frontier Corps and ISI have been accused of being behind the killing. The Special Operations Wing (SOW) of Frontier Corps has also been allegedly involved in it. The methodology of ISI is to work with Frontier Corps to tackle the situation. ISI has installed various intelligence units all over Pakistan to gather information. Most of ISI's alleged abductions come from the Makran and coastal regions of Balochistan. Baloch passengers of these areas have witnessed illegal abductions by ISI on the local bus routes of Balochistan.[108]

    Allegations of support for terrorists

    The ISI has long been accused of using designated terrorist groups and militants to conduct proxy wars against its neighbors.[109][110][111] According to Grant Holt and David H. Gray "The agency specializes in utilizing terrorist organizations as proxies for Pakistani foreign policy, covert action abroad, and controlling domestic politics."[112]James Forest says there has been increasing proof from counter-terrorism organizations that militants and the Taliban continue to receive assistance from the ISI, as well as the establishment of camps to train terrorists on Pakistani territory.[113] All external operations are carried out under the supervision of the S Wing of the ISI.[114] The agency is divided into Eight divisions.[115]Joint Intelligence/North(JIN) is responsible for conducting operations in Jammu and Kashmir and Afghanistan.[116] The Joint Signal Intelligence Bureau(JSIB) provide support with communications to groups in Kashmir.[116] According to Daniel Benjamin and Steven Simon, both former members of the National Security Council, the ISI acted as a "kind of terrorist conveyor belt" radicalizing young men in the Madrassas in Pakistan and delivering them to training camps affiliated with or run by Al-Qaeda and from there moving them into Jammu and Kashmir to launch attacks.[117]

    Support for militants

    From the 1990s, the ISI began to court the Jihadists who had emerged from the conflict against the Soviet Union in Afghanistan and by 2000 the majority of militant groups operating in Kashmir were either based in Pakistan or were pro Pakistan. These groups are used to conduct a low intensity conflict against India.[118] According to Stephen P. Cohen and Wilson John, the ISI's aid to and creation of designated terrorist groups and religious extremist groups is well documented.[119][120] The ISI have been accused of having close ties to Lashkar-e-Taiba who carried out the attacks in Mumbai in 2008.[121] The ISI have also given aid to Hizbul Mujahideen.[122] Terrorism expert Gus Martin has said the ISI has a long history of supporting designated terrorist groups and pro Independence groups operating in Punjab and Jammu and Kashmir which fight against Indian interests.[102][123] The ISI also helped with the founding of the group Jaish-e-Mohammed.[124]

    Hizbul Mujahideen

    Hizbul Mujahideen were created as the Kashmiri branch of Jama'at-i Islamiya(JeL).[125] It has been reported that JeL founded Hizbul Mujahideen at the request of the ISI to counter the Jammu and Kashmir Liberation Front(JKLF) who are advocates for the independence of Kashmir.[126]

    Al-Badr

    There have been three incarnations of the group Al-Badr. According to Peter Tomsen, the ISI in conjunction with Jamaat-e-Islami formed the first Al-Badr who were involved in the genocides in Bangladesh in the 1970s.[127][128] The third Al-Badr (India)

    Al-Qaeda

    The ISI supported Al-Qaeda during the war against the soviet regime, through the Taliban, and it is believed there are still contact between Al-Qaeda and the ISI.[129] An assessment by British Intelligence in 2000 into Al-Qaeda training camps in Afghanistan showed the ISI were playing an active role in some of them.[130] The leak in 2012 of e-mails from Stratfor revealed that papers captured during the raid in Abbotabad on Osama Bin Laden's compound showed up to 12 ISI officials knew where he was and that Bin Laden had been in regular contact with the ISI.[131]

    Drugs trade

    Joint Intelligence/North(JIN) are responsible for the control of the heroin trade used to finance ISI operations. They have control over opium production and refining and also control all smuggling operations between Afghanistan and Pakistan.[132] They also control the Army of Islam which consists of Al Qaeda, Harkat-ul-Mujahideen, Lashkar-e-Taiba, Al-Badr and Jaish-e-Mohammed[133]

    Harkat-ul-Mujahideen

    Harkat-ul-Mujahideen were founded in the 1980s by the ISI to fight against Indian interests.[134]

    Jammu and Kashmir

    Under the orders of Muhammad Zia-ul-Haq, in 1984 the ISI prepared a plan which was to be set in motion in 1991.[135]

    Haqqani network

    The ISI have close links to the Haqqani network[136] and contribute heavily to their funding.[137] It is widely believed the suicide attack on the Indian embassy in Kabul was planned with the help of the ISI[138] A report in 2008 from the Director of National Intelligence stated that the ISI provides intelligence and funding to help with attacks against the International Security Assistance Force, the Afghan government and Indian targets.[139]

    Assam

    According to the Institute for Conflict Management, of the 36 extremist groups operating in Assam against Indian interests, the ISI sponsors the Muslim United Liberation Tigers of Assam and the United Liberation Front of Assam.[140]

    Nepal

    The ISI is also active in Nepal, which was proven on August 1, 2007, by the arrest of Abdul Wahib, a Pakistani national and ISI agent who was detained in Kathmandu with $252,000 worth of counterfeit Indian currency.[141]

    Naxalites

    Indian intelligence agencies have claimed they have undeniable proof of ISI involvement with the Naxalites. A classified report accessed by the newspaper Asian Age said "the ISI in particular wants Naxals to cause largescale damage to infrastructure projects and industrial units operating in the interior parts of the country where ISI’s own terror network is non-existent".[142] In 2010, police in Bangalore claimed to have found evidence that the ISI were using local mafia types, Chhota Shakeel and Dawood Ibrahim, to establish links with the Naxalites.[143]

    Equipments

    .[7]
    Enhanced by Zemanta

    0 0


    Journalists Killed in Pakistan

    0 0




    0 0


    معروف اینکر پرسن حامد میر پرکراچی میں قاتلانہ حملے اور اس کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ اور ملک کے سب سے طاقتور انٹیلی جنس ادارے کے درمیان شروع ہونے والی جنگ تاحال جاری ہے اور ہر روز اس تہہ در تہہ معاملے کی نت نئی تہیں کھل رہی ہیں اور نئی سے نئی پرتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس حملے کے فوری بعد حامدمیر کے بھائی عامر میر کی جانب سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کو براہِ راست اس حملے کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے الزامات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اسے جیو ٹی وی نے 8 گھنٹے تک کسی خوف کے بغیر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ظہیرالاسلام کی تصویر کے ساتھ اتنے تواتر سے چلایا کہ ناظرین بھی تھک گئے۔ اگرچہ اب اس مہم میں کچھ کمی آگئی ہے لیکن یہ مہم اب بھی ایک نئے انداز میں جاری ضرور ہے۔

    عامر میر جو ایک ثقہ صحافی اور لاہور پریس کلب کے سابق صدر ہیں، شروع ہی سے اپنے مؤقف پر ڈٹے رہنے کے عادی ہیں۔ وہ سابق صدر پرویزمشرف سے اے پی این ایس ایوارڈ لینے سے انکار کرچکے ہیں۔ جس زمانے میں وہ انڈی پینڈنٹ نامی میگزین کے ایڈیٹر تھے انہوں نے آئی ایس آئی اور فوج کے بارے میں اپنے نام سے ایک بہت حساس اسٹوری شائع کی تھی جس پر اُس وقت کے فوجی اور سول حکمران ان سے ناخوش بھی ہوئے تھے۔ ستمبر 2013ء میں جب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا، وہ ان مذاکرات کے مخالف تھے، چنانچہ وہ تواتر سے ایسی خبریں شائع کرتے رہے جن سے مذاکرات کے عمل کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

    حامد میر پر حملے اور آئی ایس آئی اور جیو کی لڑائی میں اب حامد میر کے بیان، بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو اور جنگ میں شائع ہونے والے ان کے کالم نے اس معاملے کی مزید تہیں کھول دی ہیں۔ دوسری جانب جیو انتظامیہ کی بظاہر پسپائی مگر مختلف شہروں میں جنگ اور جیو کی ممکنہ بندش کے خلاف منظم کیے جانے والے مظاہروں نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ایک جانب چودھری اعتزاز احسن اور حاصل بزنجو حامد میر کی عیادت کے بعد میڈیا کو کہہ رہے ہیں کہ حامد میر کا علاج کے لیے بیرون ملک جانا ناگزیر ہے، حالانکہ یہ دونوں افراد سیاستدان ہیں ڈاکٹر نہیں۔ جبکہ دوسری جانب حامد میر حملے کے بعد اپنا پہلا انٹرویو پشتی بان ادارے جیو کو نہیں دے رہے بلکہ بی بی سی کو دے رہے ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے، یا تو جیو انتظامیہ نے حامد میر کا انٹرویو لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی، یا پھر حامد میر نے عالمی سطح پر اپنا پیغام پہنچانے کے لیے بی بی سی کا چینل استعمال کیا۔ جیو انتظامیہ کی جانب سے یہ کام پہلی بار نہیں ہوا۔ جیو گروپ ہی کے انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ کے ایڈیٹر جناب شاہین صہبائی نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار کے مالیاتی اسیکنڈل کی خبر اپنے اخبار میں نہیں لگائی، بلکہ یہ خبر انہوں نے سوشل میڈیا پر دی جس کے بعد جیو گروپ نے اس پر پروگرام شروع کر دیے، مگر جیسے ہی افتخار چودھری نے سخت رویہ اپنایا ، جیو گروپ اپنا پہلا مؤقف چھوڑ کر ملک ریاض کے پیچھے پڑ گیا۔

    اب ایک طرف حامد میر اور جیو گروپ پسپائی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے تو دوسری جانب مختلف شہروں میں آزادیٔ صحافت اور جنگ اور جیو کی ممکنہ بندش کے خلاف احتجاج کروایا جا رہا ہے۔ اگلے چند روز میں پاکستان بھر کے پریس کلبوں کا لاہور میں کنونشن اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ برنا گروپ کے تین روزہ اجلاس کی بھی سرپرستی کی جارہی ہے، لیکن دوسری جانب آئی ایس آئی کے حامی بھی سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ ملک بھر میں آئی ایس آئی کی حمایت میں مظاہرے کررہے ہیں اور حامد میر پر حملے کی لفظی مذمت کے ساتھ ساتھ جیو کی مبینہ ملک دشمنی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

    اس معاملے کے بعد بہت سے سوالات نے سر اٹھایا ہے جن کا جواب پاکستان کے تمام شہری اور خاص طور پر صحافی حلقے چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حامد میر پر حملہ پاکستان کے کسی صحافی پر پہلا حملہ ہے جس پر جیو نے اس قدر جارحانہ انداز اختیار کیا ہے؟ اس کا جواب نفی میں ہے، کیونکہ چند روز قبل ایکسپریس نیوز کے اینکر رضا رومی پر حملے اور اس سے قبل ایکسپریس پر حملے میں اس ٹی وی چینل کے تین افراد کی ہلاکت کی تو جیو نے کئی گھنٹے تک خبر بھی نہیں چلائی۔ جب مجبوراً خبر چلائی تو وہ ایک نجی چینل سے منسوب کی گئی، اور مدعیوں کے الزامات اور خدشات کو ذرہ برابر بھی اہمیت نہ دی گئی۔

    دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا حامد پر حملہ جنگ اور جیو گروپ کے کسی صحافی یا کارکن پر پہلا حملہ ہے؟ تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔ 1982ء میں جنگ گجرات کے نمائندے نیاز خان نیازی پر قاتلانہ حملہ ہوا تو خود جنگ اخبار میں مختصر خبر اس طرح شائع کی گئی کہ گجرات میں ایک اخبار کے نمائندے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئے۔ اس حملے کا الزام چودھری برادران پر تھا مگر اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ دب گیا، یہاں تک کہ تقریباً چار ماہ بعد نیاز خان نیازی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تو جنگ نے ان کی دوسری اور آخری خبر شائع کردی اور اس معاملے کو آگے بڑھایا اور نہ اس کو اتنی اہمیت دی۔ جنگ اور جیو انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ اِس بار ایک تو اینکر بہت بڑا تھا، دوسرے جس ایجنسی پر الزام تھا وہ بہت طاقتور تھی۔ غالباً 1986ء میں جنگ لاہور کے ایک صحافی نے اُس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو سے متعلق ایک خبر میں کوئی قابلِ اعتراض بات لکھ دی۔ اُس وقت کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور مرکزی محکمہ اطلاعات کے دباؤ ڈالنے پر نہ صرف اس صحافی کو بری طرح ذلیل کیا گیا بلکہ اس کی تصویر فرنٹ پیج پر شائع کرکے اسے ادارے سے نکالنے کا اعلان کرکے اس کی ذلت کا مزید سامان کیا گیا۔ غالباً 1983ء میں نیشنل فین والے محمد دین مرحوم کے بیٹوں پر ایک فوجی عدالت میں لینڈ فراڈ کا مقدمہ چلا۔ انہیں سزائیں ہوئیں مگر بعد میں اُس وقت کے ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹراور گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی نے اپنے اختیارات استعمال کر تے ہوئے ان کی سزائیں ختم کردیں۔ یہ خبر روزنامہ جنگ کے شرق پور کے نمائندے نے فراہم کی۔ خبر شائع ہوئی تو گورنر مرحوم اور بعض دوسرے حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا، جس پر جنگ لاہور کی انتظامیہ نے اس غریب نامہ نگار کو اس کے گھرسے اٹھایا اور حکام کے حوالے کردیا۔ محترمہ کلثوم نوازشریف کی شکایت پر جنگ کے سینئر رپورٹر امتیاز راشد کو نکال دیا گیا۔

    سوال یہ ہے کہ اب جنگ اور جیو انتظامیہ اتنے بڑے ادارے کے سامنے کیسے ڈٹ گئی ہے؟ گزشتہ دو تین سالوں کے دوران جنگ کے کئی نامہ نگار دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں جن میں ہدایت اللہ موسیٰ خیل اور کئی دوسرے صحافی شامل ہیں۔ ان کا کیس تو اتنی شدت سے نہیں اٹھایا گیا۔ ولی خان بابر کا کیس جیو نے زندہ ضرور رکھا لیکن اس کے قاتلوںکا (خود جنگ کے لوگ جن پر شک کرتے ہیں) نہ تو کبھی نام لیا گیا اور نہ تصویریں چلائی گئیں۔

    اس وقت لاہور میں پریس کلب کے سامنے جیو کے حق میں جو مظاہرہ روزانہ کیا جارہا ہے اس میں جنگ اور جیو کے ملازمین کی دلچسپی کا یہ حال ہے کہ لاہور میں اس گروپ کے تحت جنگ، جیو، دی نیوز، آواز، انقلاب، وقت، پاکستان ٹائمز چل رہے ہیں جن کے ملازمین کی تعداد 800 سے 1000تک ہے، جبکہ مظاہرے میں شرکا کی تعداد تیس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ان میں بھی 10سے 12 افراد پریس کلب سے آتے ہیں، جبکہ جیو گروپ کے مظاہرے میں شرکت کرنے والے افراد میں نوکریوں اور ترقیوں کے ہاتھوں مجبور افسر نظر آتے ہیں یا بے بس چپڑاسی اور چھوٹے اہلکار۔ اپنی نجی گفتگو میں جنگ اور جیو سے وابستہ اعلیٰ اور باخبر افراد کچھ اور ہی کہانیاں سناتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی دراصل جیو اور آئی ایس آئی کی لڑائی نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی اور عسکری قیادت کی لڑائی ہے۔ ان کی رائے میں نواز حکومت رخصت ہونے والی ہے جس کی وجہ عسکری قیادت کے بہت سے تحفظات ہیں۔ اس وقت جنگ اور جیو گروپ سول حکومت کی فرنٹ ڈیفنس لائن ہے۔ اگر یہ گر گئی تو نواز حکومت کا جانا لازم ہوجائے گا۔

    اس سیاق وسباق کے ساتھ یہ بات بہت اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ جو ادارہ اپنے کارکنوں کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا ہے، جو کسی بھی طاقتور شخص یا ادارے کے ساتھ لڑائی کا متحمل نہیں رہا وہ اپنے ایک کارکن کے لیے اچانک اتنا جذباتی کیوں ہوگیا؟ جس سے وہ اس کے کیرئیر کے آغاز پر کام تو لیتا رہا مگر کئی ماہ تک تنخواہ بھی ادا نہیں کی اور پھر اِس بار اتنے بڑے ادارے کے سامنے اس طرح خم ٹھونک کر کیسے اور کیوں آ گیا؟ نیز اب اچانک پسپائی پر کیوں اتر آیا ہے ؟ 


    0 0



    بھارت کے حالیہ عام انتخابات کے بارے میں اگرچہ قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا تاہم عام قیاس آرائیاں یہی ہیں کہ موجودہ حکمراں سیاسی جماعت کانگریس کو اس بار شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی یہ ہار شکست فاش نہ ہو تاہم شکست بہرحال شکست ہی ہوتی ہے۔ کانگریس کی اس ممکنہ شکست میں اس کی سب سے بڑی حریف جماعت بی جے پی کی کارکردگی کا شاید اتنا عمل دخل نہ بھی ہو تاہم یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ کانگریس کی ناقص پالیسیوں کا اس میں بہت بڑا ہاتھ ہوگا۔ افسوس کہ کانگریس پارٹی اقتدار کے نشے میں اس قدر دھت رہی کہ اس نے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ نے جو بنیادی طور پر ایک معیشت دان اور ماہر اقتصادیات ہیں سیاست کی باریکیوں کو سمجھا ہی نہیں۔

    انھوں نے Shining India کا جو تصور پیش کیا انجام کار وہ ایک جھوٹا خواب اور ہوائی قلعہ ہی ثابت ہوا۔ اس کے ثمرات بھارت کی جنتا کو منتقل ہی نہیں ہوسکے اور وہ بے چاری نہ صرف بھوکی ننگی ہی رہی بلکہ مزید کسمپرسی اور ابتری کا شکار ہوگئی۔ Shining India کے زیادہ تر منصوبے عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے محض کاغذی ثابت ہوئے اور اگر ان منصوبوں سے کوئی فوائد حاصل بھی ہوئے تو وہ صرف چند محدود طبقات اور افراد تک ہی مفید اور کارگر ثابت ہوئے۔ کانگریس سرکار کی ناکامی کا دوسرا سب سے بڑا کارن اس کی انتظامی کارکردگی ہے۔ کرپشن اور لوٹ مار نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے اور ایک کے بعد ایک گھٹا لے کے سنگین واقعات منظر عام پر آتے رہے جن کی حکمرانوں کی جانب سے تردید پر تردید اور پردہ پوشی کی ناکام کوششیں بدستور جاری رہیں۔

    جب معاملات انتہا تک جا پہنچے تو ہر طرف بھرشٹا چار بھرشٹا چار کا ہاہاکار مچ گیا۔ اگرچہ حکمراں اس پر بھی ’’میں نہ مانوں میں نہ مانوں‘‘ کا راگ الاپنے سے باز نہیں آئے لیکن نوبت ’’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘‘ تک جا پہنچی۔ کانگریس کی کلیدی قیادت کو جب اس بات کا کچھ احساس ہوا اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا اور تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کانگریس کی ازلی اور سب سے بڑی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سنہری موقع کا خوب خوب فائدہ اٹھایا اور کانگریس کی حکومت کے دوران ہونے والی کرپشن کو ہی اپنے انتخابی نعرے کی بنیاد بنا ڈالا۔ اس صورتحال نے کانگریس کو بہت بڑی پریشانی میں مبتلا کردیا اور اس کی کیفیت یہ ہوگئی کہ:

    سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

    مگر بے چاری کانگریس کے پاس اب کوئی چارہ کار باقی نہ تھا اور اس کا عالم یہ تھا کہ ’’اب پچھتاوت ہووت کیا جب چڑیاں چگ گئیں کھیت‘‘۔ چار و ناچار اسے اسی حالت میں عام چناؤ کے دنگل میں لنگر لنگوٹ کس کر کودنا پڑا۔ سچ پوچھیے تو حکمراں کانگریس کے لیے موجودہ عام انتخابات مہا بھارت کے یدھ سے کم نہیں ہیں۔ اس کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں اور اس کی اپنی صفوں میں اتنا انتشار اور خلفشار ہے کہ جس کی کوئی حد اور انتہا نہیں ہے۔ اس کا معمولی اور ہلکا سا اندازہ لگانے کے لیے یہی کافی ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے اپنے قریبی رشتے داروں نے جن میں ان کے بھائی بند بھی شامل ہیں ان کی پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ بھلا کانگریس کی ناکامی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔

    اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

    بھارتی حکمرانوں کے لیے اس سے بڑا صدمہ اور دھچکا بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس وزیر اعظم کے اپنے گھر والے ہی اس کی حکومت سے باغی ہوچکے ہوں بھلا اس کے ملک کے عوام اس کے حامی اور ہمنوا کیونکر ہوسکتے ہیں۔ ویسے بھی سردار جی نے شاید نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے جس کا عندیہ ان کے اس اعلان سے بھی ملتا ہے کہ وہ آیندہ وزارت عظمیٰ کی کوئی خواہش نہیں رکھتے۔

    حکمراں کانگریس پارٹی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کی صفوں میں نہ صرف انتشار ہی انتشار ہے بلکہ اس میں لائق و فائق اور قابل اعتبار مخلص قیادت کا شدید فقدان ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ جس سیاسی جماعت کا اپنا ہی خانہ خراب ہوچکا ہو وہ بھلا بھارت کی ڈولتی ہوئی نیا کو کس طرح کامیابی کے ساتھ پار کراسکتی ہے۔

    سچ پوچھیے تو اس وقت کانگریس کے پیروں تلے سے زمین ہی کھسکی ہوئی ہے اور اس پر بوکھلاہٹ کی سی کیفیت طاری ہے۔ مگر یہ حادثہ اچانک یا ناحق نہیں ہے۔ بہ قول شاعر:

    وقت کرتا ہے پرورش برسوں
    حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

    فارسی کی مشہور کہاوت ’’خود کردہ را علاج نیست‘‘ یعنی اپنے کیے کا کوئی علاج نہیں ہوتا، اس وقت بھارت کی حکمراں جماعت کانگریس پر حرف بہ حرف صادق آرہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اس وقت وہ جن نامساعد حالات میں بری طرح گھری ہوئی ہے یہ سب کچھ اس کا اپنا کیا دھرا ہوا ہے۔ آزادی کے بعد حکومت کی باگ ڈور اسی کے ہاتھوں میں آئی تھی اور اس کے بعد وہ بلا شرکت غیرے برسوں تلک راج سنگھاسن پر پورے ٹھاٹ باٹ کے ساتھ کچھ اس طرح براجمان رہی گویا حکمرانی اس کے گھر کی لونڈی ہو۔

    ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہندوستان کے کسان اور مسلمان کانگریس کا ووٹ بینک ہوا کرتے تھے اور ان کے ووٹ گویا اس کی جیب میں بالکل محفوظ سرمائے کی طرح پڑے ہوئے ہوتے تھے۔ بیلوں کی جوڑی اس کا انتخابی نشان ہوا کرتا تھا جب کہ اس کا مقبول ترین عوامی نعرہ تھا ’’کانگریس نے دی آزادی‘ زنجیر غلامی کی توڑی‘ووٹ ہمارا وہیں پڑے گا جہاں بنی بیلوں کی جوڑی‘‘۔ کسانوں سے بے نیازی کانگریس کو مہنگی پڑی اور رفتہ رفتہ وہ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔

    کم و بیش یہی کچھ ہندوستانی مسلمانوں کے معاملے میں ہوا جن پر کانگریس تکیہ کیا کرتی تھی۔ سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد وہاں رہنے والے مسلمان کسی اور سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کا تصور بھی کرسکیں۔ کانگریس بھارت کے مسلمان رائے دہندگان کے لیے واحد آپشن تھی۔ اس کا بنیادی سبب یہ تھا مشکل کی ہر گھڑی میں بھارت کے مسلمان صرف اسی کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے اور وہی ان کی داد اور فریاد سنا کرتی تھی۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے زیر سرپرستی پروان چڑھنے والی کانگریس کی قیادت بھارت کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ کانگریس کی قیادت پر تحریک آزادی کے عظیم رہنماؤں خصوصاً مولانا ابوالکلام آزاد جیسی شخصیات کے اثرات قطعی غالب اور حاوی تھے۔

    اس کے علاوہ کانگریس کی حامی جماعت جمعیت العلمائے ہند کی سرکردہ عظیم شخصیات مثلاً مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی اور سبحان الہند مولانا احمد سعید کے احسانات کو فراموش کرنے کی بھی ہمت نہیں کرسکتی تھی جنھیں دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں گاندھی جی اور پنڈت نہرو تک براہ راست کسی بھی وقت بلا پیشگی اجازت رسائی حاصل تھی۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ دلی کے 1947 کے فسادات کے دوران یہی وہ دونوں ہستیاں تھیں جنھوں نے ہتھیلی پر رکھ کر دلی کے مسلمانوں کو ہر ممکنہ تحفظ فراہم کیا اور مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ہندو اور سکھ بلوائیوں کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ 1857 کے پورے 90 سال 80 دن بعد دلی کے کوچہ و بازار ایک بار پھر خون سے رنگین ہو رہے تھے اور یہ خون نہتے اور بے قصور ہندوستانی مسلمانوں کا تھا۔

    ہندوستان کے مسلمانوں سے سرد مہری کے نتیجے میں ہی کانگریس کے حکمرانی کے دور میں پے درپے مسلم کش فسادات رونما ہوتے رہے جن میں بابری مسجد کا سانحہ سب سے بڑا اور شرمناک ہے جو کانگریس کے بدنام وزیر اعظم نرسہما راؤ کے دور میں پیش آیا جب کہ تازہ ترین مسلم کش فسادات اتر پردیش کے مشہور ضلع مظفر نگر میں گزشتہ دنوں پیش آئے جس کا خمیازہ اب حکمراں کانگریس پارٹی کو مسلمان رائے دہندگان کی حمایت سے محرومی کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    دراصل کانگریس نے ماضی میں جو کچھ بویا تھا موجودہ عام انتخابات میں اسے اب وہی فصل کاٹنا پڑ رہی ہے۔ کانگریس کی قیادت اپنے کیے وعدے پر چاہے پشیمان نہ بھی ہو لیکن اسے اب اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا کچھ نہ کچھ احساس ضرور ہو رہا ہوگا۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی ایک سرکردہ خاتون رہنما مایاوتی کا یہ اندیشہ بھی بالکل بجا ہے کہ مودی کے برسر اقتدار آنے کے نتیجے میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑیں گے کیونکہ مسلم دشمنی آر ایس ایس اور بی جے پی کے خمیر میں شامل ہے۔

    کانگریس پارٹی نے اگر مسلمانوں سے بے رخی نہ کی ہوتی تو آج اسے یہ دن دیکھنا نہ پڑتا اور مسلمانوں کی بھرپور حمایت کی بدولت عام انتخابات میں اس کا پلڑا یقینا بھاری ہوتا۔ دوسری جانب بھارتی مسلمانوں کا ووٹ بینک بھی تقسیم ہونے سے بچ جاتا۔ اگر بی جے پی کی قیادت میں عقل و فہم کی ذرا سی رمق باقی ہے تو اسے مستقبل میں اپنی کامیابی کے لیے ہوش کے ناخن لینے ہوں گے اور حقیقت پسندی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی مسلمانوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ہوگا جوکہ بھارت کی سب سے بڑی اور اہم ترین اقلیت ہیں۔ بصورت دیگر اس غلطی کا خمیازہ نہ صرف بی جے پی کو بلکہ پورے ہندوستان کو عدم استحکام کی صورت میں جلد یا بدیر بھگتنا ہی پڑے گا۔

    شکیل فاروقی                   


    0 0
  • 05/11/14--04:30: اقتصادی غارت گر


  • ’’مذاکرات کامیاب ہو گئے۔ آئی ایم ایف پاکستان کو 55 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ اقتصادی کارکردگی اطمینان بخش ہے۔ نجکاری کا عمل جاری رہے گا۔‘‘ یہ الفاظ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے جاری کیے گئے اعلامیے سے لئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ سے ایک جانب حکومتی کارکردگی کا اطمینان بخش ہونا سامنے آ رہا ہے تو دوسری جانب ادارہ شماریات کی رپورٹ ملک میں مہنگائی کے بڑھتے رجحان کا پتہ دے رہی ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق 6 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں 8.68 فیصد اضافہ ہوا۔

    موجودہ حکومت ملک میں امن کے قیام، معاشی استحکام اور توانائی بحران کے خاتمے کے سہ نکاتی ایجنڈے کے تحت برسراقتدار آئی تھی۔ قارئین! پس منظر کے طور پر یاد رہے 14 وال اسٹریٹ اپنے وقت میں دنیا کی بلند ترین بینک بلڈنگ اور 539 فٹ بلند فلک بوس عمارت ہوا کرتی تھی۔ اس میں امریکہ بلکہ دنیا کے دولت مند ترین مالیاتی ادارے ’’بینکرز ٹرسٹ‘‘ کے ہیڈکوارٹر کے دفاتر قائم تھے۔

    14 وال اسٹریٹ نے گزشتہ صدی کے اختتام تک جو کردار ادا کیا تھا وہ بعد میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے سنبھال لیا اور طاقت اور اقتصادی غلبے کی علامت بن گیا۔ ’’وال اسٹریٹ‘‘ کے نزدیک ’’پائنا اسٹریٹ’’ پر ’’چیز بینک‘‘ کا عالمی ہیڈکوارٹر ہے۔ یہ ڈیوڈ راک فیلر کا بنایا ہوا بینک ہے۔ وہی راک فیلر جس نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پروجیکٹ پر کام کا آغاز 1960ء میں کیا۔ 1960ء میں امیر ترین ملکوں کی آبادی اور غریب ترین ملکوں کی آبادی میں تناسب 30 اور ایک تھا جو 1995ء میں 74 اور ایک ہوگیا اور 2010ء میں 95 اور ایک ہو گیا۔ ورلڈ بینک، یو ایس ایڈ، آئی ایم ایف اور باقی ماندہ بینکار، کارپوریشنیں اور بین الاقوامی ’’امدادی‘‘ کاموں میں ملوث حکومتیں ہمیں یہ بتاتے نہیں تھکتے کہ وہ’’ احسن طریقے‘‘ سے اپنا کام کررہے ہیں اور ان کی خدمات کی بدولت دنیا بھر میں ترقی ہوئی ہے، لیکن اس ترقی سے فائدہ اُٹھانے والے اپنی جان کو رو رہے ہیں۔ ورلڈ بینک، ایشیائی بینک، آئی ایم ایف وغیرہ دنیا کے پسماندہ اور ضرورت مند ممالک کی معیشت کو بذریعہ سودی قرض بنام امداد بہتر بنانے کے لئے وجود میں لائے گئے تھے۔

    حیرت کی بات ہے کہ جہاں جہاں انہوں نے قدم رکھا وہاں سکھ اور چین تو کیا آنا، رہی سہی عافیت واطمینان بھی رخصت ہو گیا۔ ان عالمی امدادی اداروں نے جس کو بھی امداد فراہم کی، وہ کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہ ہو سکا۔ بلکہ اگرکسی نے اپنے پائوں پر کھڑے ہونے اور ان کے قرضے کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کی تو اسے نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔ چاہے وہ پانامہ کا صدر ٹوری جوس ہو، ایکواڈور کا جیمی اولڈوس ہو، گوئٹے مالا کا حکمران اربینز ہو یا چلی کا ایلندے ہو۔ سب کے سب قتل کر دیے گئے۔ ایک نکتے کی طرف آئیے!امریکہ کو اعتراض رہتا ہے کہ اس کے خلاف دہشت گردی کے مرتکب چند سرپھرے ہیں جو غربت اور جہالت کے ہاتھوں تنگ آکر فدائی حملوں کے ذریعے ظالم سماج سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ ان فدائیوں میں یورپ کے اعلیٰ کالجوں کے تعلیم پاتے اور کروڑ پتی خاندان کے سپوت کیسے نمایاں نظر آتے ہیں؟ سوال یہ ہے امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے 450 ارب ڈالر کیوں خرچ کر رہا ہے؟

    جبکہ وہ ماہرین کے تجزئیے کے مطابق صرف 50 ارب ڈالر کے ذریعے دنیا بھر سے غربت و جہالت ختم کرسکتا ہے۔ نہ رہے گی غربت، نہ رہے گی اس سے جنم لینے والی دہشت۔ پاکستان جس طرح کی بدحالی وپسماندگی میں گھرا ہے، اس کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے پاس نہ تو عرب ممالک کی طرح تیل وگیس ہے، نہ جنوبی افریقہ کی طرح سونے کی کانیں۔ نہ بدخشاں کے یاقوت اور نہ چلی کی طرح کاپروالمونیم، لہٰذا یہاں کی تعلیم یافتہ اور ہنرمند آبادی دنیا بھر میں مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ ممکن ہے یہ بات ٹھیک ہو، دنیا کے پیدا کرنے والے نے چودہوھں صدی میں اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں کچھ نہ رکھا ہو، لیکن اس کا کیا کریں کہ صرف سندھ میں اتنا تیل اور کوئلہ ہے کہ پاکستان کے سارے قرض اُترسکتے ہیں۔ صرف بلوچستان میں اتنا گیس اور سونا ہے کہ پاکستان کی پوری آبادی کو با آسانی تعلیم اور علاج کی اعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کی جا سکتی ہیں۔ پنجاب کی زرخیز ترین زمین جیسی زمین دنیا میں نہیں۔ سرحد کے قیمتی پتھروں سے بھرے پہاڑ چھیڑنے کی ضرورت نہیں۔

    پاکستان کا 600 میل لمبا سمندری کنارہ جو دنیا کے بہترین ساحل اور قدرتی بندرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ سب اضافی مراعات ہیں۔ ان میں سے ایک چیز بھی دنیا کے جس ملک کے پاس ہے، وہ ترقی یافتہ ہے، مگر ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ جنوبی امریکہ کے ان ممالک کی طرح ہمارے ہاں بھی وافر قدرتی وسائل کے باوجود توانائی کا بحران ہے جو حل ہونے میں نہیں آتا۔ اب ہمارے حکمران ہوگوشاویز تو ہیں نہیں کہ ان سے عالمی استعمار کے خلاف کسی جرأت مندانہ اقدام کی توقع کی جا سکے، اور امریکہ انہیں ہوگوشاویز کی طرح اقتدار سے ہٹانے میں ناکام ہو کر کینسر میں مبتلا کرکے مارنے کی کوشش کرے۔ 2012ء میں ایک ذرا سی کوشش ہوئی تھی کہ ہمارے ملک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو اپنے ملک کا سستا ایندھن فراہم کردیا جائے تو اسی وقت ایشیائی بینک نے حوصلہ افزائی کے بجائے منظورشدہ قرض بھی روک دیاتھا ۔

    حقیقت یہ ہے کہ اس سودی نظام کے اندر خیرکی کوئی اُمید لگانا ایک الٰہی و تکوینی قانون سے تجاہل عارفانہ برتنا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہ صرف یہ کہ سود مسلمانوں پر حرام ہے بلکہ ان کافروں کو بھی جنہیں شراب پینے اور خنزیر کھانے کی کی اجازت ہے، سود کا کاروبار کرنے کی اجازت نہیں۔ سود کی خرابی صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے لئے ہے۔ IMF کے چکر میں ایک دفعہ پھنسنے کے بعد کسی بھی ملک کا وہی حال ہوتا ہے جو ہائوس بلڈنگ کا لون لینے والے شخص کا ہونا ہے کہ بالآخر اسے وہ مکان ہی واپس کرنا پڑتا ہے۔ یہی حال یہاں ہے کہ ملک کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، ملک ہمارا ہے، لیکن ٹیکس لگائیں یا سبسڈی دیں، یہ فیصلہ IMF کرے گا۔ گویا ہم نام کے حکمران رہ گئے، فیصلے باضابطہ کہیں اور سے ہورہے ہیں۔ ہمیں اس سلسلے سے جلد از جلد جان چھڑانی ہوگی تاکہ ہم اپنی پالیسیوں کے ذریعے ملک میں خیر لاسکیں، ورنہ مہنگائی کا سیلاب نہ رُکے گا اور نہ ہی ہمارے مالی حالات بہتر ہوں گے۔

    بشکریہ روزنامہ "جنگ"


    0 0


    حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور سرمایہ داروں کے سوئس بینکوں میں غیر قانونی طور پر جمع200 ارب ڈالر واپس لانے کے لیے اقدام کر رہے ہیں، رقوم جمع کرانے والوں کے نام اور اکائونٹ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیکس معاہدے میں ترامیم کے لیے 26 اگست کو مذاکرات ہوں گے۔

    حکومت کا یہ اعلان بلاشبہ خوش آئند ہے اور اس سمت میں سوئس حکام سے رابطہ، معاہدہ کے حوالے سے پیش قدمی خلوص نیت اور ملکی معیشت کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ٹھوس قانونی طریقوں سے ہوئی تو امید کی جا سکتی ہے کہ لوٹی ہوئی رقوم کا یہ شرمناک ڈرامہ اپنے منطقی انجام تک جلد پہنچ سکتا ہے چونکہ جو معاشی نظام ایک برادر عرب ملک کے دیئے ہوئے ڈیڑھ ارب ڈالر کے ‘‘تحفہ‘‘ پر خوشی سے جھوم اٹھتا ہو اسے اگر 200 ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی رقم چھپر پھاڑ کر مل جائے تو کئی بیمار ادارے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔ تاہم سوئس بینکوں میں پاکستانی سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور بیوروکریٹس کی مشہور زمانہ کرپشن یا کمیشن سے حاصل شدہ رقوم کے معاملات کی گونج ملکی و غیر ملکی میڈیا میں کئی برسوں سے جاری ہے۔

    جمعے کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر عارف علوی کے سوال پر پارلیمانی سیکریٹری خزانہ رانا افضل خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت غیرقانونی اثاثوں کی واپسی کے حوالے سے نئے سوئس قوانین ’’غیر قانونی اثاثوں کو واپس لانے کا ایکٹ 2010ء ‘‘ کی مدد لینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، یہ قانون اب سوئس حکومت کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ سوئس بینکنگ انڈسٹری میں جمع کردہ ناجائز طور پر حاصل کردہ رقم کے بارے میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کر سکتی ہے، اس حوالے سے وفاقی کابینہ بھی 20 ستمبر 2013ء کو سوئس بینکوں سے رقوم واپس لانے کے لیے ٹیکس معاہدے کی منظوری دے چکی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ26 اور 28 اگست کے دوران پاکستان کا وفد سوئٹزرلینڈ جائے گا اور ٹیکس معاہدے میں ترامیم پر بات چیت کرے گا، ٹیکس معاہدے میں ترامیم کے بعد سوئس حکومت اکاؤنٹ ہولڈر کے نام اور رقوم کی معلومات دینے کی پابند ہو گی۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے 32 ہزار ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں، ان بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر موجود ہیں۔ زہرہ ودود فاطمی کے سوال پر پارلیمانی سیکریٹری نے بتایا کہ ہم ٹیکس کلچر کوا یک دم تبدیل نہیں کر سکتے، مرحلہ وار کام جاری ہے، ٹیکس چوروںکی نشاندہی جو غیر ملکی سفر پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں مگر ٹیکس نہیں دیتے، ہم نے ہوم ورک مکمل کر لیا نتائج آنے میں وقت لگے گا۔

    قوم ایک عرصہ تک سرے محل کی داستانوں میں گم رہی، گزشتہ ادوار میں آمرانہ اور جمہوری حکومتوں پر کرپشن کی سرپرستی اور بد انتظامی کے الزامات لگے، ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیے جاتے رہے، دوسری طرف سوئس بینکوں میںجمع شدہ رقم کی بازیابی کے ہمہ جہتی دعوئوں سے آسمان سر پر اٹھا لیا گیا مگر رقوم واپس نہیں آئیں، اب جب کہ حکومت اس محاذ میں ممکنہ پیشرفت کا عندیہ دے رہی ہے تو کچھ نہ کچھ ہو کر رہنا چاہیے ورنہ عوام یہی سمجھیں گے کہ ان کے دکھوں کا مداوا سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی رقوم سے نہیں ہو گا۔

    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سوئس بینکوں میں لوٹی ہوئی رقوم پاکستان کے اقتصادی نظام میں مضمر کرپشن، بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ اور کاروباری اور تجارتی معاملات میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی ’’ڈیل‘‘ کا شاخسانہ ہے جس نے ملکی اقتصادی نظام کے استحکام اور انتظامی و ریاستی اداروں میں موثر چیک اینڈ بیلنس اور مالیاتی شفافیت کے سارے خواب بکھیر کر رکھ دیئے۔ لوٹ کھسوٹ بذات خود ایک کلچر بن گیا۔ اس لیے اگر حکومتی اقدامات سے سوئس بینکوں میں پاکستان سے لوٹی ہوئی اس دولت کا ارتکاز اپنے دی اینڈ تک پہنچتا ہے تو اس سے بڑی کامیابی اور کیا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ملکی معیشت خود انحصاری کی طرف مائل بہ سفر ہو گی تو عوام کو آسودگی نصیب ہو گی، جب کہ ہمارے معاشرتی، اخلاقی اور سماجی انحطاط اور کاروباری دیوالیہ پن کی کوئی انتہا نہیں رہی۔

    جن سیاست دانوں، سرمایہ داروں اور بیوروکریٹس نے اتنی دولت وہاں کے بینکوں میں چھپا کر رکھی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ قومی وقار، مروت، حیا، قوم پرستانہ جذبات اور ملکی ترقی و عوامی خوشحالی کے اہداف سے ان طبقات کا کوئی تعلق نہیں، یہ اہل زر اسیر حرص ہیں۔ یاد رہے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اپنی وزارت عظمیٰ گنوا چکے ہیں۔ حکومتی عہدوں پر فائز افراد سمیت بااثر خاندانوں اور کالے دھن کی انڈر گرائونڈ معیشت کے بڑے کھلاڑیوں کی سوئٹزرلینڈ کی آف شور بینک برانچوںمیں اندازاً 50 سے 200 ارب ڈالر کی واپسی کے لیے جو بھی ہو سکتا ہے حکمرانوں کو کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ تاہم کئی اقتدار یافتہ اور با اثر شخصیات کے ضمیر کے لیے یہ ’’دست ِتہہ سنگ‘‘ والی آزمائشی گھڑی بھی ثابت ہو گی۔

    کئی معتبر سیاسی نام اس قصے کی زینت بنے ہوئے ہیں لیکن قومی خوشحالی اور عوام کی تقدیر بدلنے کے دعویدار سیاست دانوں کو سوئس بینکوں سے لوٹی ہوئی رقوم کی بازیابی کے لیے واضح قانونی راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ یکم اکتوبر 2010 ء کو سوئس پارلیمنٹ نے تاریخی Return of Illicit Assets Act کی منظوری دی جس کے تحت پاکستان سمیت ترقی پزیر ملکوں کو سوئس بینکوں کے خفیہ اکائونٹس تک قانون و آئینی رسائی اور ایف بی آر حکام و دفتر خارجہ کے اقدامات کے ذریعے ڈبل ٹیکسیشن گریز کے معاہدہ کی روشنی میں بھی کامیابی کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔

    سوئس آئین کے آرٹیکل 25 (1) کے تحت خفیہ اکائونٹ کی اطلاعات، اکائونٹ ہولڈرز کے نام و دستاویزات کے حصول اور ان کے سرکاری طور پر افشاکی راہ میں کوئی قانونی رکاوٹ بھی نہیں ہو گی، بھارت سوئس حکام سے اس نوعیت کا نہ صرف معاہدہ کر چکا ہے بلکہ بھارتی حکومت انڈین بیوروکریٹس، صنعتکاروں، سیاست دانوں اور سیٹھوں کے تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالرکالے دھن کی واپسی کی کوششیں کر رہی ہے۔ راجیہ سبھا کے رکن آر جے ملانی نے سپریم کورٹ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت سوئس بینکوں کے کالے دھن والوں کو کسی قسم کی چھوٹ نہیں دے سکتی۔ دوسری طرف منی لانڈرنگ کیسز کے خلاف برطانیہ اور امریکا سمیت تمام یورپی ممالک حساسیت کی حد تک چوکنے ہیں اور ایسی کسی مشکوک رقم کی ٹرانزیکشن آسان نہیں۔

    گزشتہ سال تحقیقاتی جرنلسٹس عالمی کنسورشیم نے 10 ہزار ایسی کمپنیوں اور ٹرسٹوں کے خفیہ و مشکوک اکائونٹس کی تفصیل جاری کی تھی جو سنگاپور اور کیر یبین جزائر کے سیف ہیونز میں چھپا کر رکھے گئے۔ ایک پاکستانی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ سوئس بینکوں میں رکھی ہوئی تمام دولت غیر قانونی یا کالے دھن پر مشتمل نہیں ہو سکتی، قانونی رقوم بھی ہو سکتی ہیں مگر مجرمانہ طریقے سے حاصل شدہ رقوم کی متعلقہ حکومتوں کو واپسی ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے وعدے کا پاس رکھے اور سوئس بینکوں سے پاکستانی خزانے سے لوٹی ہوئی دولت واپس لانے میں جرات مندانہ پیش قدمی کا مظاہرہ کرے، عوام اس کا ساتھ دیں گے۔

    Enhanced by Zemanta

    0 0
    0 0


    وطن عزیز کے اُس قومی ادارے کا دل افروز قصّہ جس سے منسلک زیرک و دلیر پاکستانی ملک دشمن قوتوں کے پوشیدہ و عیاں عزائم خاک میں ملانے کی خاطر دن رات متحرک رہتے ہیں ’’صرف مدبّر حکمران اور دانش مند جرنیل ہی فوج میں شامل ذہین ترین افراد سے جاسوسی وسراغ رسانی کاکام لیتے ہیں۔سو کامیابی و کامرانی بھی انہی کا مقدر بنتی ہے۔‘‘(مشہور چینی جرنیل و فلسفی سن زی ) ٭٭٭٭ یہ 26جون 1979ء کی بات ہے ،کہوٹہ لیبارٹریز کی حفاظت پر مامور آئی ایس آئی کے جوانوں نے علاقے میں دو غیر ملکیوں کو کار میںاِدھر اُدھر حرکت کرتے دیکھا۔ وہ اپنے کیمروں سے اردگرد کے مناظر کی تصاویر کھینچ رہے تھے ۔یہ دیکھ کر جوانوں کی چھٹی حس جاگ پڑی۔ 

    کہوٹہ لیبارٹریز میں پاکستانی سائنس داں و انجینئر راز دارانہ طور پر ایٹم بم بنانے کی کوششوں میں محو تھے۔اس بم کی تیاری سے قومی دفاع انتہائی مضبوط ہو جاتا اور دشمن جرات نہ کرتا کہ پاکستان کو میلی نظر سے دیکھ سکے۔قدرتاً یہ انتہائی حساس معاملہ تھا۔بھارت اور اسرائیل کے علاوہ مغربی استعمار کی خفیہ ایجنسیاں بھی پاکستانی ایٹم بم کو تردد کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ان کی یہی سعی تھی کہ ایک اسلامی ملک ایٹمی طاقت نہ بننے پائے۔ آئی ایس آئی کے جوان اس سارے پس منظر سے بخوبی واقف تھے۔سو انہوں نے دفاعِ وطن سے متعلق حساس ترین مقام پر دو غیر ملکیوں کو منڈلاتے دیکھا تو چوکنا ہو گئے۔انہوں نے موقع پاتے ہی انہیں جا پکڑا اور پوچھ گچھ کرنے لگے ۔جوانوں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک غیر ملکی ،لیو گورریریس فرانس کا سفیر تھا۔دوسرا فرانسیسی سفارت خانے کا فرسٹ آفیسر نکلا۔ بعدازاں تفتیش سے انکشاف ہوا کہ دونوں فرانسیسی امریکی خفیہ ایجنسی ،سی آئی اے کے ایجنٹ تھے۔سی آئی اے نے ان کی خدمات اس لیے حاصل کی تھیں تاکہ کہوٹہ لیبارٹریز کے بارے میں زیادہ سے زیادہ تصویری معلومات حاصل کرسکے۔یوں آئی ایس آئی کے جوانوں نے حاضر دماغی اور دلیری سے کام لیتے ہوئے دشمن کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔

     دین اسلام اور دفاع دشمن کے عزائم اور سرگرمیوں سے باخبر ہونے اور اپنا دفاع مضبوط بنانے کے لیے ازروئے قرآن و سنت دشمنوں کی جاسوسی و سراغ رسانی کرناجائز ہے۔درحقیقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفارِ مکہ اور دیگر مخالف عرب قبائل کے مذموم منصوبوں و چالوں سے واقف ہونے کی خاطر بڑے مربوط انٹیلی جنس نظام کی بنیاد رکھی۔ابتداً یہ کام عام مخبروںسے لیا جاتا تھا۔بعدازاں مدینہ منورہ میں سراغ رسانی کا باقاعدہ شعبہ (Cell)تخلیق کیا گیا جس کے پہلے سربراہ حضرت عمرؓبن خطاب بنائے گئے۔ تاریخ اسلام سے عیاں ہے کہ پہلے مسلمان جاسوس خلیفہ اول،حضرت ابوبکرصدیقؓ کے صاحبزادے ،حضرت عبداللہؓ تھے۔ہجرت مدینہ سے قبل نبی کریمؐ اور خلیفہ اولؓ نے تین دن غار ثور میں قیام فرمایا تھا۔ اس زمانے میں حضرت عبداللہ ؓ لڑکے سے تھے۔پہلے ہی روز رسول اللہ ؐ نے حضرت عبداللہؓ کو ہدایت دی کہ دن بھر کفار مکہ کے ساتھ اٹھو بیٹھو۔اور جو باتیں سنو ، وہ شام کو آ کر بتائو۔اسی قسم کی جاسوسی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ،حضرت اسماؓ نے کفار خواتین کی گفتگو سن کر انجام دی۔انہیں دنیائے اسلام کی پہلی مسلم سراغ رساں خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓکے غلام ،عامر بھی کفار کی سن گن لیتے رہے۔یوں ان تین مخبروں کی مدد سے حضور اکرمؐ کو جو معلومات ملیں ،ان کے ذریعے آپ ﷺنہ صرف دشمن کے منصوبوں اور چالوں سے باخبر رہے بلکہ انہیں ناکام بھی بنا دیا۔ مدینہ منورہ میں مقیم ہونے کے بعد حضور اکرمؐ اور صحابہ کرام نے اپنے دفاع اور دشمنوں کے عزائم سے باخبر ہونے کی خاطر سب سے زیادہ شعبہ انٹیلی جنس ہی سے مدد لی۔یوں دشمنوں کی چالو ںکا توڑ کر کے مسلمان اپنے آپ کو مضبوط بناتے چلے گئے۔

    آخر وہ تاریخی وقت آ پہنچا جب پورے عرب میں اسلام کا نور پھیل گیا۔ سنت نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے آنے والی اسلامی حکومتوں نے بھی منظم و مربوط انٹیلی جنس یونٹ قائم کیے۔درحقیقت وہ ہر اسلامی مملکت کی دفاعی جنگ میں فوج کے کان،آنکھ اور بازو بن گئے۔ سراغ رسانوں،جاسوسوں اور مخبروں پہ مشتمل یہ وسیع نیٹ ورک دشمنوں کو غالب نہ آنے دیتے۔ رفتہ رفتہ جب یہی شعبہ جاسوسی کمزور ہوئے، تو یہ امر بھی اسلامی سلطنتوں کے زوال کا اہم سبب بن گیا۔ انگریز کا نظام ِجاسوسی انیسویں صدی میں جب انگریزوں نے اسلامی ہندوستان میں قدم جمائے تو وہ تعداد میں بہت کم تھے۔اسی لیے انہیں اپنے انٹیلی جنس یونٹوں میں مقامی باشندے بھرتی کرنے پڑے۔انگریز استعمار نے البتہ یہ جدت اپنائی کہ اس کے ہندو اور مسلم ایجنٹ عموماً اپنے اپنے مذہبی گروہوں ہی میں جاسوسی کرتے ۔ہندوستان میں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے انگریزوں نے بڑا جامع انٹیلی جنس نیٹ ورک تشکیل دیا۔اسی باعث ملک میں آزادی کے کئی منصوبے مثلاً تحریک ریشمی رومال کامیاب نہیں ہو سکے۔ بیسویں صدی تک ’’آئی بی‘‘ (آل انڈیا انٹیلی جنس بیورو)برطانوی ہند حکومت کی بنیادی خفیہ ایجنسی بن گئی۔ اس کاانتظام پولیس افسروں کے ہاتھوں میں تھا۔اس ایجنسی کے سویلین مخبر و جاسوس قصبات اور دیہات تک پھیلے ہوئے تھے۔آئی بی کی ذمے داری تھی کہ وہ حریت پسندوں پر نظر رکھے تاکہ وہ انگریز استعمار کے خلاف منصوبے نہ بنا سکیں۔برطانوی ہند حکومت نے ’’ایم آئی‘‘ (ملٹری انٹیلی جنس)بھی بنا رکھی تھی مگر اس خفیہ ایجنسی کا دائرہ کار صرف فوج تک محدود تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستان میں انٹیلی جنس سرگرمیاں بہت بڑھ گئیں۔جرمن اور جاپانی خفیہ ایجنسیوں کی چالوں کا مقابلہ کرنے کی خاطر انگریزوں نے مزید خفیہ ادارے قائم کیے جن میں’’ ایس او ای‘‘ (سپیشل آپریشن ایگزیکٹو)نمایاں ہے۔اسی خفیہ ایجنسی کے ہندوستانی و برطانوی ایجنٹوں نے برما میں جاپانیوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں کیں اور انھیں وہاں مستحکم نہیں ہونے دیا۔ بھارت کی انگلیاں گھی میں اگست 1947ء میں ہندوستان دو مملکتوں …بھارت اور پاکستان میں تقسیم ہو گیا۔تب برطانوی ہند حکومت کی ملکیت ہر شے کا بھی بٹوارہ ہوا۔بھارتی فوج یوں فائدے میں رہی کہ اسے دہلی میںافواج ِ برطانوی ہند کا جما جمایا ہیڈ کوارٹر مل گیا۔وہیں ایم آئی سمیت دیگر خفیہ ایجنسیوں کا انفراسٹرکچر بھی مربوط حالت میں تھا۔

    یوں نو زائیدہ بھارتی حکومت کو اپنا انٹیلی جنس نظام کھڑا کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کو نئے سرے سے اپنا انٹیلی جنس شعبہ تعمیر کرنا پڑا۔ تب ملکی وسائل ہی کم نہ تھے،بلکہ تجربے کار ماہرین جاسوسی کا بھی فقدان تھا۔بہرحال حکومت برطانوی ہند کی آئی بی میں شامل جو مسلمان افسرو ماہرین پاکستان آئے ،انہی پر مشتمل پاکستانی ’’آئی بی‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔یہ وطن عزیز کی پہلی انٹیلی جنس ایجنسی تھی ۔ بدقسمتی سے جنگ کشمیر(1947ء )میں آئی بی دشمن کے خلاف موثر کردار ادا نہیں کر سکی۔

    چناں چہ بھارتی مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے۔اس ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی آئی بی کے افسر و کارکن اندرون ملک انٹیلی جنس معاملات کا تجربہ رکھتے تھے۔جب غیرملکی سرزمین پہ انھیں سراغ رسانی کی حساس و نفیس ترین سرگرمیاں انجام دینا پڑیں ،تو ناتجربہ کاری کے باعث وہ ان کو صحیح طرح نہ نبھا سکے۔سو پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا کہ دشمن کے مذموم منصوبے ناکام بنانے کی خاطر نئے خفیہ ادارے قائم کیے جائیں۔ خاک سے نیا ڈھانچا بنانا پڑا قیام پاکستان کے وقت شعبہ جاسوسی سے متعلق صرف ایک تربیتی ادارہ’’اسکول آف ملٹری انٹیلی جنس‘‘پاکستانی سیکورٹی فورسز کے حصے میں آیا۔یہ تب تک کراچی سے مری منتقل ہو چکا تھا۔اس کے پہلے پاکستانی کمانڈر،کیپٹن اختر عالم مقرر ہوئے۔دسمبر 1947ء میں انٹیلی جنس کا وسیع تجربہ رکھنے والے مسلم فوجی افسر،میجر محمد ظہیر الدین کو اس کا سربراہ بنایا گیا۔اسی اسکول میں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں میں اپنے فرائض انجام دینے والے اولیّں افسروں اور ماہرین نے جاسوسی و سراغ رسانی کی تربیت پائی اور دفاع ِوطن کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 

    جیسا کہ پہلے بتایا گیا،ابتداً پاک افواج بے سر وسامانی کی حالت میں تھیں۔سو دفاع کا سارا ڈھانچا اور انفراسٹرکچر اصلتاً خاک سے نئے طور پہ تخلیق کرنا پڑا۔اسی لیے پہلے پہل ملٹری انٹیلی جنس سے متعلق معاملات شعبہ ایم او(ملٹری آپریشنز)کو سونپ دئیے گئے جس کی قیادت بریگیڈئر محمد شیر خان کر رہے تھے۔تجربے کار افرادی قوت کی شدید کمی تھی۔صورت حال کی گھمبیرتا کا اندازہ یوں لگائیے کہ آزادی کے سمّے پاک فوج میں صرف ایک میجر جنرل،دو بریگیڈئر اور ترپین(53)کرنل موجود تھے۔ آخر اسکول آف ملٹری انٹیلی جنس سے تربیت پانے والے ماہرین کا پہلا دستہ نکلا،تو مارچ 1948ء میں ’’ایم آئی‘‘ (ملٹری انٹیلی جنس) کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے پہلے سربراہ مایہ ناز مسلم فوجی افسر،کرنل محمد عبدالطیف خان بنائے گئے۔یوں ان کی ان تھک رہنمائی میں ہماری ایم آئی کا بے مثال سفر شروع ہوا۔اس کے بعد جلدہی ایک اور شاندارخفیہ ادارے ،انٹر سروسز انٹیلی جنس کا قیام عمل میں آیا جو آج بہ حیثیت ’’آئی ایس آئی‘‘ جانا جاتا ہے…وہ خفیہ ادارہ جس کا نام سنتے ہی دشمن خوف سے تھّرا اٹھتا ہے۔ پاکستانی سپوتوں کی قربانیاں صد افسوس کہ کم از کم دنیائے انٹرنیٹ پہ ان نامورپاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے قیام کا سہرا ایک غیرملکی فوجی افسر،والٹر کائوتھورن کے سر باندھ دیا گیا۔

    سچ یہ ہے کہ آئی بی،ایم آئی اور ایس آئی ایس…ان تینوں خفیہ اداروں کے نوزائیدہ پودے پاکستانی افسروں و جوانوں نے ہی محنت و مشقت سے پروان چڑھائے اور اپنا لہو دے کر انھیں توانا و مضبوط درخت بنایا۔یہ کہنا کہ کسی غیر ملکی فوجی افسر نے قومی انٹیلی جنس اداروں کی بنیادیں رکھیں، درحقیقت اولیّں پاکستانی سپوتوں کی قربانیاں اور محنت رائیگاں کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ آئی ایس آئی کے قیام کی تجویز بانی پاکستان،قائداعظم محمد علی جناح کے ذہن ِرسا کی تخلیق ہو۔قائد دفاعِ وطن کو جتنی زیادہ اہمیت دیتے تھے،وہ ان کی تقاریر کے اقتباسات سے عیاں ہے۔چناں چہ ہو سکتا ہے کہ کسی روشن لمحے انھیں خیال آیا ، ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو تینوں مسلح افواج(برّی،فضائی اور بحری)کے انٹیلی جنس معاملات کو باہم مربوط و منضبط کر دے۔بہرحال پاکستانی مورخین نے لکھا ہے کہ اوائل 1948ء میں پاک فوج کے کمانڈر،جنرل ڈگلس گریسی اور وزیر دفاع،اسکندر مرزا نے والٹر کائوتھورن کو ہدایت دی کہ وہ آئی ایس آئی قائم کرنے کی خاطر مطلوبہ اقدامات کر لیں۔ والٹر کائوتھورن (1896ء۔1970ء )برطانوی نہیں آسٹریلوی شہری تھے۔

    پہلی جنگ عظیم کے وقت برطانوی فوج میں شامل ہوئے۔بعد ازاں برطانوی ہند فوج کی16 پنجاب رجمنٹ میں چلے آئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران مقامی ایم آئی کے چیف رہے۔جیمز بانڈ کے خالق برطانوی ادیب،آئن فلیمنگ کا بھائی،پیٹر فلیمنگ ان کے ماتحت کام کرتا رہا۔وہ ایک ماہر جاسوس تھا۔ ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو کائوتھورن نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔دراصل ان کے بیشتر دوست مسلم فوجی افسر تھے۔جب وہ پاکستان چلے گئے،تو انھوں نے بھی اس نوزائیدہ مملکت کو اپنا نیا وطن بنا لیا۔1948ء میں آپ کو ڈپٹی چیف آف سٹاف مقرر کیا گیا۔اسی عہدے کی مناسبت سے کائوتھورن کو یہ ذمے داری سونپی گئی کہ آئی ایس آئی قائم کرنے کی خاطر وہ تمام مطلوبہ کارروائی کر لیں ۔وہ بعد ازاں دسمبر 1951 ء میں آسٹریلیا چلے گئے تاکہ وہاں کے انٹیلی جنس اداروں سے منسلک ہو سکیں۔مگر عملی طور پہ آئی ایس آئی کو بطور ادارہ کھڑاکرنے کی ذمے داری کرنل شاہد حامد کو سونپی گئی۔تب کرنل صاحب پاکستان نیشنل گارڈز کے کمانڈر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔انھیں نئی ذمے داری ملی ،تو فوراً نئے محاذ پہ جت گئے۔ کریٹ کی بنی میز کرسیاں کراچی میں عبداللہ ہارون روڈ اور غلام حسین ہدایت اللہ روڈ کے سنگم پہ ،زینب مارکیٹ کے سامنے ایک پرانی ،چھوٹی سے یک منزلہ عمارت واقع تھی۔اسی عمارت میں آئی ایس آئی کا پہلا ہیڈکوارٹر قائم ہوا۔(وہاں اب نئی تعمیر شدہ عمارت میں ایک نجی کمپنی کا دفتر کھل چکا)۔14جولائی1948ء کو عمارت میں انٹیلی جنس کا متعلقہ کام باقاعدہ طور پہ شروع ہوا ۔وطن عزیز کے اس اہم ادارہ ِجاسوسی کا آغاز جن نامساعد حالات میں ہوا،ان کا تذکرہ عیاں کرتا ہے کہ تب انسانی جوش و ولولے اور جذبہ حب الوطنی کی بدولت عجب کرشمے ظہور پذیر ہوئے۔ وسائل اور عملے کی شدید کمی تھی،مگر کرنل شاہد اور ان کے مٹھی بھر ساتھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔انھوں نے لکڑی کے کریٹوں کو بطور میز کرسی استعمال کیا۔اپنے پلّے سے دفتری استعمال کی اشیا خریدنا معمول تھا۔دراصل ان پہ بس یہی دھن سوار تھی کہ نوزائیدہ ادارے کو مستحکم کر کے مملکت کا دفاع زیادہ سے زیادہ مضبوط بنا دیا جائے۔ تنکا تنکا جمع ہوا آئی ایس آئی میں پہلے پہل صرف تینوں افواج سے منسلک افسر و جوان شامل کیے گئے۔بعد ازاں سویلین عملہ بھی بھرتی کیا جانے لگا۔ان میں بیشتر افراد پولیس سے لیے جاتے۔آئی بی کے دو ڈائرکٹروں،سید کاظم رضا اور غلام محمد نے آئی ایس آئی کے اولیّں ریکروٹوں کو انٹیلی جنس کے اسرارورموز سکھانے میں بڑی جانفشانی دکھائی۔یوں تنکا تنکا جمع کر کے ایسا قوی لٹھ تیار کیا جانے لگا جسے دشمن کے سر پہ مارا جا سکے۔ کرنل شاہد حامد کی ذمے داری تھی کہ وہ ایجنسی کی سرگرمیوں کی رپورٹ مسلح افواج کے سربراہوں کو ارسال کریں۔ان کے نائب(جنرل سٹاف آفیسر)میجر صاحب زادہ یعقوب علی خان تھے جو بعد لیفٹیننٹ جنرل بنے اور وزیر خارجہ پاکستان رہے۔ آئی ایس آئی کی بنیادیں مضبوط کرنے میں میجر محمد ظہیر الدین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔جولائی 1948ء ہی میں انھیں بھی اسکول آف انٹیلی جنس سے آئی ایس آئی منتقل کر دیا گیا۔وہ سراغ رسانی کے معاملات میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ایجنسی کے اولیّں افسروں نے بھی ان کے تجربے سے خوب فائدہ اٹھایا۔افسوس کہ ظہیر الدین کا انجام کچھ اچھا نہیں ہوا۔ 

    ہوا یہ کہ 1950ء میں انھیں ترقی دے کر ایم آئی کا سربراہ بنا دیا گیا۔مارچ 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس سامنے آ گیا۔یہ سازش پولیس افسروں نے دریافت کی تھی۔اسی لیے ڈی جی ایم آئی،ظہیر الدین کو سازش پکڑنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔(انھیں اپنے چیف آف جنرل سٹاف،میجر جنرل محمد اکبر خان پہ نظر رکھنا تھی کیونکہ اس زمانے میں ایم آئی انہی کے ماتحت تھی۔)نتیجتہً کمانڈر پاک فوج،جنرل ایوب خان نے انھیں برخاست کر دیا۔اس اقدام سے ظہیر الدین بہت زیادہ افسردہ و دل گرفتہ ہوئے ۔ ایوب خان کا دور کرنل شاہد حامد نے دو برس تک ڈی جی آئی ایس آئی کی ذمے داری نبھائی۔چونکہ وہ میدان جنگ میں جانے کے خواہشمند تھے،سو جون 1951ء میں انھیں بریگیڈیر بنا کر 100 بریگیڈ(پشاور)کی کمان سونپ دی گئی۔ڈی جی کا عہدہ پھر شوریدہ سر سیاسی حالات کے باعث طویل عرصہ خالی رہا۔اکتوبر1958 ء میں جنرل ایوب خان نے اقتدار سنبھالا ،تو انھوں نے بریگیڈیر ریاض حسین کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا۔دنیائے انٹرنیٹ کے مشہور انسائیکلوپیڈیا،وکی پیڈیا میںنجانے کس نے یہ دُرفطنی چھوڑ دی کہ میجر جنرل کائوتھورن 1951ء تا 1959 ء آئی ایس آئی کے ڈی جی رہے۔

    اس واسطے انجان لوگ انہی کو اس قومی ادارے کا خالق سمجھنے لگے ہیں۔ شروع میں آئی ایس آئی دشمن کی سراغ رسانی کرنے اور اس کے منصوبے خاک میں ملانے پہ مامور تھی۔ایوب خاں پہلے حکمران ہیں جنھوں نے اس انٹیلی جنس ادارے کو سیاست میں بھی گھسیٹ لیا۔ان کی ہدایت پر ایجنسی کا عملہ حزب اختلاف کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے لگا۔انھوں نے اس قومی ادارے کو اپنا اقتدار مستحکم کرنے کی خاطر بطور آلہ بھی استعمال کیا۔اس روش سے بہرحال ادارے کی پیشہ ورانہ ہیئت و ساخت کو نقصان پہنچا۔ دس بہترین خفیہ ایجنسیوں میںسے ایک آئی ایس آئی نے جہاد ِافغانستان کے دوران عالمی شہرت پائی۔اسی کے عملی تعاون نے ہزارہا افغان مجاہدین کو اس قابل بنایا کہ وہ سویت سپرپاور سے نہ صرف ٹکر لیں بلکہ اسے پارہ پارہ کر ڈالیں۔1989 ء میںنوجوان کشمیری نسل نے تحریک ِآزادی کا آغاز کیا،تو انھیں بھی پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی کی کچھ نہ کچھ مدد حاصل رہی۔ رفتہ رفتہ آئی ایس آئی بہ لحاظ نفری اور وسائل پاکستان کا سب سے بڑا انٹیلی جنس ادارہ بن گئی۔اس کا شمار دنیا کی دس بہترین خفیہ ایجنسیوں میں ہونے لگا۔مگر اسی اعزاز نے عملے کے کاندھوں پہ پاکستان ہی نہیں دفاع ِامت ِمسلمہ کا عظیم بار بھی ڈال دیا۔ 

    ہوا یہ کہ سویت یونین کی شکست سے آئی ایس آئی کے حوصلے بلند ہو گئے۔تب قدرتاً بعض کی نگاہیں دنیا کے ان مسلم علاقوں کی سمت اٹھنے لگی جہاں اغیار نے قبضہ کر رکھا تھا یا وہاں آباد مسلمان ظلم وستم کا شکار تھے۔سو سوچا گیا کہ ان مسلم علاقوں میں بھی آزادی کی تحریکیں شروع ہونی چاہیں تاکہ وہاں آباد مسلمان پنجہ استبداد سے چھٹکارا پا سکیں۔اس سلسلے میں کچھ عملی اقدامات بھی اٹھائے گئے۔مگر اس روش سے عالمی طاقتوں کے مفادات کو ضرب لگی،سو ان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سب سے طاقتور اسلامی خفیہ ادارے،آئی ایس آئی کے خلاف پوشیدہ و عیاں جنگ چھیڑ دی۔اسرائیل اور بھارت نے ان قوتوں کا بووجوہ بھرپور ساتھ دیا۔ آج عالم یہ ہے کہ خصوصاً بھارتی و اسرائیلی حکومتیں آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔مثلاً کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی میڈیا گروپ نے اپنے صحافی پہ حملے کا الزام دھوم دھڑکے سے آئی ایس آئی پر لگایا۔ 

    جلد ہی سبھی انڈین چینل یہ الزام بطور ’’بریکنگ نیوز‘‘نشر کرنے لگے۔بھارتی مبصّروں اور اینکرپرسنوں کی سرتوڑ کوشش رہی کہ پاکستانی انٹیلی جنس ادارے پہ الزامات کا طومار باندھ دیں۔ انھوں نے جھوٹ کو بار بار دہرایا تاکہ عوام اسے سچ سمجھنے لگیں۔ تاہم اس پروپیگنڈے کا عملی اثر نہ پڑا۔ ایک بڑی غلط فہمی پچھلے ایک عشرے سے غیرملکی اور ملکی پروپیگنڈے کے باعث پاکستانی عوام میں آئی ایس آئی سے متعلق ایک بہت بڑی غلط فہمی جنم لے چکی… یہ کہ جاسوسی فلموں کے مانند اس انٹیلی جنس ادارے کے ماہرین بھی خطرناک و عجیب و غریب ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں۔وہ بھیس بدلنے کے ماہر ہیں ،پلک جھپکنے میں لوگوں کو اغوا کرتے یا قتل کر ڈالتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آئی ایس آئی کا جسم نہیں دماغ سے تعلق ہے۔ادارے کے ماہرین کا بنیادی کام یہ ہے کہ بیرون و اندرون ملک سبھی پاکستان دشمن عناصر پہ نظر رکھیں،ان کے خفیہ منصوبے آشکارا کریں اور انھیں ناکام بنائیں۔

    گویا یہ اعلی پیمانے پہ ذہنی صلاحتیں استعمال اور تحقیق و تفتیش کرنے والا ایلیٹ ادارہ ہے۔ ادارے سے منسلک ماہرین کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں پہ گولیاں چلاتے پھریں۔بالفرض کسی کو گرفتار کرنا ،یا کہیں حملہ آور ہونا ہے،توآئی ایس آئی یہ کام پولیس ،رینجرز یا فوج کے ذریعے انجام دیتی ہے۔اس کے افسروں حتی کہ عام مخبروں کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ بغیر وارنٹ کسی کو بھی دھر لیں۔وہ کبھی ’’خواہ مخواہ ‘‘کسی کو نہیں اٹھاتے،جیسا کہ اکثر قومی انٹیلی جنس اداروں پہ یہ الزام لگتا ہے۔ اسے ’’ہر فن مولا‘‘مت سمجھیے مذید براں پاکستانیوں کا ایک طبقہ آئی ایس آئی کو تمام ملکی خرابیوں کی جڑ سمجھنے لگا ہے۔

    اس طبقے کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ خفیہ ادارہ’’ہر فن مولا‘‘نہیں کہ حکومتی کرپشن یا امن و امان سے متعلق مسائل حل کر دے۔آئی ایس آئی صرف متعلقہ اداروں کو باخبر کرتی ہے کہ فلاں شخص ،گروہ یا جماعت ملک دشمن سرگرمیوں یا کرپشن میںملوث ہے۔یا فلاں جگہ بم دھماکہ ہونے کا امکان ہے۔اب کارروائی کرنا متعلقہ وفاقی و صوبائی سیکورٹی اداروں کی ذمے داری ہے۔اگر وہی اپنا فرض بجا لانے میں کوتاہی کریں ،تو آئی ایس آئی کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاک افواج اور ہمارے اینٹلی جنس ادارے سیاچن کے برف پوش پہاڑوں سے لے کر سندھ کے صحراوں اور بلوچستان کی بے آب و گیاہ وادیوں تک مادر ِوطن کا دفاع کر رہے ہیں۔دشمنوں نے چہار جانب سے پاکستان پہ یلغار کر رکھی ہے اور انھیں یہاں دور حاضر کے میر جعفروں اور میر صادقوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ جھوٹے الزمات کی یلغار ہمارے یہ دشمن صرف پاک افواج اور قومی انٹیلی جنس اداروں ہی کو اپنے مذموم عزائم کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہیں۔اسی لیے ان کی بھرپور سعی ہے کہ ان منظم و منضبط پاکستانی اداروں کو ہر ممکن طریقے سے نقصان پہنچایا جائے۔مدعا یہ ہے کہ افواج ِپاکستان اور دفاعی اداروں سے وابستہ پاکستانیوں کا جوش و ولولہ سرد پڑ ے اور ہمتیں جواب دے جائیں۔ ایسے نازک حالات میں اگر پاکستان کا ہی کوئی طبقہ افواج و انٹیلی جنس اداروں پہ بے محابہ تنقید کرنے لگے،تو قدرتاً ان پہ مذید دبائو پڑ جاتا ہے۔کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان دشمن طاقتوں نے پاکستانی میڈیا سے منسلک بعض گروہوں اور صحافیوں کو خرید لیا ہے۔سو ان کا یہ وتیرہ بن چکا کہ اٹھتے بیٹھتے پاک افواج خصوصاً آئی ایس آئی پہ جھوٹے الزام تھوپے جائیں۔

    مقصد یہ کہ پاکستانی عوام میں ان کے خلاف نفرت پیدا ہو سکے۔ منہ توڑ جواب حیرت انگیز اور اُمید افزا امر یہ ہے کہ انتہائی طاقتور پاکستان دشمن قوتیں مسلسل کارروائیوں کے باوجود افواج ِپاک اور ہمارے انٹیلی جنس اداروں کو کمزور نہیں کر پائیں۔انھیں آج بھی منہ توڑ جواب مل رہا ہے۔بے سروسامانی سے آغاز کرنے والی آئی ایس آئی خصوصاً ایک مضبوط ادارے میں ڈھل چکی۔وسائل مہیا ہو جانے کے باوصف ادارے سے منسلک ماہرین کے جوش و جذبے اور جذبہِ حب الوطنی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ آج ہر فوجی اور سویلین اس انٹیلی جنس ادارے سے منسلک ہونے کو اعزاز کی بات سمجھتا ہے۔ آئی ایس آئی پہ ایک الزام یہ لگتا ہے کہ ماضی میں ایجنسی نے سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا جو اس کے دائرہ کار میں شامل نہیں۔تاہم بعض اوقات گھمبیر حالات انٹیلی جنس اداروں کو مجبور کر دیتے ہیں کہ تحفظ ِوطن کی خاطر وہ سیاسی معاملات میں دخیل ہو جائیں۔ مثال کے طور پہ 1980ء تا 1990ء پاکستان قومی و عالمی سطح پہ زبردست ہلچل کا شکار رہا…افغانستان پہ روسی حملہ،کے بی جی،را اور خاد کے پاکستانی شہروں میں بم حملے،بھارتی فوج کی تاریخ میں سب سے بڑی جنگی مشق(براس ٹیک)،مقبوضہ کشمیر میں جنگ ِآزادی کا آغاز،اندرون ملک نسلی،لسانی و مذہبی فساد …ان واقعات نے خودبخود آئی ایس آئی کا دائرہ کار وسیع کر ڈالا۔ غیروں کی تنقید…

    کامیابیوں کا انعام 18جنوری 2012ء کو ابیٹ آباد کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا تھا: ’’دشمن آئی ایس آئی کو دہشت گرد تنظیم کا درجہ دلوانا چاہتے ہیں۔مگر ہم ان کی تنقید کو تعریف و توصیف اور اپنی کامیابیوں کا انعام سمجھتے ہیں۔‘‘ حقیقتاً آئی ایس آئی کو اس سے بہتر خراج ِعقیدت نہیں مل سکتا کہ دشمن بھی اس پاکستانی انٹیلی جنس ادارے کے کارناموں کو سراہنے پہ مجبور ہیں۔ادارے سے منسلک اہل وطن سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی۔مگریہ بھی یاد رہے کہ وہ جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ’’غیر مرئی‘‘محاذ جنگ میں دشمنان ِوطن سے نبردآزما ہوتے اور خاموشی سے،چپ چاپ شہید ہو جاتے ہیں۔ان گمنام شہداء ا ور مجاہدوں کو اپنی دعائوں میں ضرور یاد رکھئیے۔

    Enhanced by Zemanta

    0 0
  • 05/13/14--02:14: بات غلط نہیں

  • مجھے فرنچ نہیں آتی لیکن اخبار کی تصویر اور اس تصویر کے اوپر چھپے اعداد و شمار سمجھنے کے لیے فرنچ جاننا ضروری نہیں تھا‘ یہ 7 مئی 2012ء کا دن تھا‘ فرانس میں صدارتی الیکشن مکمل ہوئے‘ اخبار میں پولنگ کی تصویریں چھپی تھیں اور ساتھ لکھا تھا 17%۔ میں سمجھ گیا الیکشن میں17 فیصد لوگوں نے ووٹ نہیں دیا‘ میں نے یہ اندازہ کیسے لگایا؟ اس اندازے کی وجہ برادرم عقیل نقوی ہیں‘ عقیل صاحب اسلام آباد کے فرانسیسی سفارت خانے میں کام کرتے ہیں۔

    پاکستان کے پچھلے سے پچھلے الیکشن کے دوران فرانس کا ایک نوجوان سفارت کار اسلام آباد میں تعینات ہوا‘ یہ ایمبیسی کے پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا‘ یہ کسی پاکستانی صحافی سے ملنا چاہتا تھا‘ عقیل نقوی نے میری اس سے ملاقات کرا دی‘ گفتگو کے دوران نوجوان سفارت کار نے پوچھا ’’ پاکستان میں الیکشن ہو رہے ہیں‘ ملک میں ٹرن آؤٹ کتنا ہوگا‘‘ میں نے جواب دیا ’’پینتیس سے چالیس فیصد‘‘ اس نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا ’’ اگر 60 فیصد لوگ ووٹ نہیں دیں گے تو آپ کے ملک میں جمہوریت کیسے مستحکم ہو گی‘‘ نوجوان سفارت کار نے اس کے بعد انکشاف کیا‘ ہمارے ملک میں الیکشن کے بعد اخبارات میں یہ سرخیاں نہیں لگتیں فرانس کے کتنے ووٹروں نے ووٹ دیے بلکہ ہماری سرخیاں ہوتی ہیں‘ ہمارے کتنے ووٹروں نے ووٹ نہیں دیے اور ہماری حکومت ہر الیکشن کے بعد ووٹ نہ دینے والے شہریوں کا تجزیہ کرتی ہے اور ہم پالیسی بناتے ہیں‘ ہم اگلے الیکشن میں ان ووٹروں کوووٹ کاسٹ کرنے پر کیسے مجبور کریں؟‘‘ نوجوان سفارت کار کی یہ بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی چنانچہ میں اخبار اٹھاتے ہی سمجھ گیا الیکشن میں 17 فیصد لوگوں نے ووٹ کاسٹ نہیں کیے ہیں۔

    دنیا کے تمام ممالک ووٹ‘ ووٹروں اور الیکشن کے بارے میں حساس ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ جانتے ہیں‘ عوام جب تک حکومت سازی کے عمل کا حصہ نہیں بنتے ملک میں اس وقت تک اچھی حکومت نہیں آتی اور ملک میں جب تک اچھی حکومت نہ آئے اس وقت تک عوام کے مسائل حل نہیں ہوتے چنانچہ تمام ممالک زیادہ سے زیادہ عوام کو حکومت سازی کے عمل میں شریک کرتے ہیں‘ سوائے ہمارے۔ ہم الیکشن‘ ووٹر اور ووٹ پر اتنی توجہ کیوں نہیں دیتے؟ اس سوال کا جواب بہت واضح ہے‘ ہمارا آمرانہ ذہن جانتا ہے‘ ہمارے ملک میں جب بھی انتخابی اصلاحات ہوں گی اس دن ہماری آمرانہ سوچ‘ آمرانہ جمہوریت اور آمرانہ لیڈر شپ کا بستر گول ہو جائے گا‘ ملک میں اس کے بعد فوج آ سکے گی اور نہ ہی خاندانی سیاسی جماعتیں ’’باریاں‘‘ لگا سکیں گی اور یہ ریاستی اداروں کو ’’وارہ‘‘ کھاتا ہے اور نہ ہی شمشیر ابن شمشیر ابن شمشیر لیڈروں کو چنانچہ ملک میں الیکشن اصلاحات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ مجھے پچھلے ماہ بھارت جانے کا اتفاق ہوا‘ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔

    بھارت کے 81 کروڑ چالیس لاکھ ووٹر ہر پانچ سال بعد اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں‘ بھارت کا الیکشن سسٹم خاصا متاثر کن ہے‘ ہم اگر ملک میں فرنچ‘ برٹش‘ امریکن یا آسٹریلین الیکشن سسٹم نافذ نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر ہم اپنے ہمسائے سے بے شمار چیزیں سیکھ سکتے ہیں‘ انڈیا کا الیکشن کمیشن خودمختار بھی ہے اور با اختیار بھی۔ یہ الیکشن کے دوران ہر قسم کا حکم جاری کرسکتا ہے اور سرکاری مشینری اس حکم پر عملدرآمد کی پابند ہوتی ہے‘ بھارت میں الیکشن سے قبل نگران حکومت نہیں بنتی‘ پرانی حکومت چلتی رہتی ہے‘ صدر‘ وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ اپنے عہدوں پر فائز رہتے ہیں‘ یہ خود مختار الیکشن کمیشن کی وجہ سے الیکشن پر ایک فیصد اثر انداز نہیں ہو پاتے‘ انڈیا میں 28 ریاستیں (صوبے) ہیں‘ وفاقی اسمبلی (لوک سبھا) کے الیکشن مختلف ریاستوں میں مختلف اوقات میں ہوتے ہیں‘ موجودہ الیکشن کا پہلا مرحلہ 7 اپریل کو شروع ہوا تھا اور آخری مرحلہ کل 12مئی کو مکمل ہوا‘الیکشن کمیشن 16 مئی کو نتائج کا اعلان کرے گا۔

    81 کروڑ چالیس لاکھ ووٹروں کے انگوٹھوں اور انگلیوں کے نشان الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بینک میں موجود ہیں‘ ووٹر پولنگ اسٹیشن پر جاتا ہے‘ مشین پر اپنی انگلی رکھتا ہے اور اس کا ووٹ کھل جاتا ہے‘ اسکرین پر امیدواروں کے نام اور انتخابی نشان بھی آ جاتے ہیں‘ یہ انگلی سے کسی ایک انتخابی نشان کو ٹچ کر دیتا ہے اور اس کا ووٹ کاسٹ ہو جاتا ہے‘ یہ اس کے بعد ملک کے کسی حصے میں دوبارہ ووٹ نہیں ڈال سکتا‘ مشین دوسری بار اس کا ووٹ قبول نہیں کرتی‘ کسی سیاسی جماعت کو نتائج پر اعتراض ہو تو یہ فیس جمع کرا کر پورا ڈیٹا دیکھ سکتی ہے‘ ملک کا ایک ایک ووٹ اس کے سامنے آ جاتا ہے‘ سیاسی جماعتیں اور امیدوار حلقے میں بینر لگا سکتے ہیں‘ پوسٹر لگا سکتے ہیں اور نہ ہی چاکنگ کر سکتے ہیں۔ میں چار شہروں میں گیا‘ مجھے کسی جگہ کوئی بورڈ‘ جھنڈا‘ بینر اور پوسٹر نظر نہیں آیا‘ پتہ کیا‘ معلوم ہوا‘ جو امیدوار یہ غلطی کرتا ہے وہ الیکشن سے پہلے الیکشن سے فارغ ہو جاتا ہے.

    امیدوار حلقوں میں جلسے بھی نہیں کر سکتے‘ جلوس بھی نہیں نکال سکتے اور ریلیاں بھی منعقد نہیں کر سکتے‘ یہ سہولت صرف سیاسی جماعتوں کے قائدین کو حاصل ہے‘ یہ مختلف حلقوں میں جاتے ہیں‘ یہ جلسہ کرتے ہیں‘ یہ خطاب کرتے ہیں اور اس حلقے کا امیدوار اس خطاب اور جلسے میں شریک ہوتا ہے‘ یہ صرف اپنے قائد کی موجودگی میں خطاب کرسکتا ہے‘ الیکشن کے دوران تشہیر کا سارا کام ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے ہوتا ہے‘ ملک کی تمام ریاستوں میں مقامی ٹیلی ویژن چینلز ہیں‘ پارٹیاں ان چینلز پر اشتہارات دیتی ہیں‘ قومی سطح کے چینلز پر بھی اشتہارات دیے جاتے ہیں‘ ان اشتہارات پر کوئی قدغن نہیں چنانچہ تمام سیاسی جماعتیں جی بھر کر اس سہولت کا فائدہ اٹھاتی ہیں‘ امیدوار اگر پریس کانفرنس کرنا چاہیں تو یہ صرف سرکٹ ہاؤس میں کر سکتے ہیں‘ امیدوار اپنا منشور بتانے کے لیے حلقے کے صرف ہزار لوگ اکٹھے کر سکتے ہیں‘ اگر تعداد زیادہ ہو جائے تو ان کے خلاف کارروائی شروع ہو سکتی ہے۔

    ہم اگر بھارتی الیکشن کمیشن کا مطالعہ کریں تو ہمیں اس میں تین خوبیاں نظر آتی ہیں‘ ایک‘ الیکشن مختلف ریاستوں میں مختلف اوقات میں ہوتے ہیں‘ اس سے الیکشن کمیشن کو نتائج جمع کرنے میں سہولت ہوتی ہے‘ یہ ایک مرحلہ مکمل کرنے کے بعد دوسرے مرحلے کی طرف بڑھتے ہیں‘ یوں عملہ بھی کم درکار ہوتا ہے اور وسائل بھی کم خرچ ہوتے ہیں‘ دو‘ بائیو میٹرک سسٹم کی وجہ سے دھاندلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں‘ کم وقت میں زیادہ ووٹ بھگت جاتے ہیں‘ پولنگ اسٹیشنز پر زور آزمائی اور دھونس کے واقعات بھی نہیں ہوتے‘ پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتی‘ ووٹ سینٹرل ڈیٹا میں چلے جاتے ہیں اور کمپیوٹر ان کی کاؤنٹنگ کرتا ہے یوں پولنگ اسٹیشنوں پر ہیرا پھیری کا امکان ختم ہو گیا۔

    ملک میں غیر حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوتا‘ الیکشن کمیشن ایک ہی مرتبہ اعلان کرتا ہے اور یہ اعلان حتمی ہوتا ہے‘ اس حتمی اعلان سے قبل ہر قسم کا اعلان غیر قانونی ہوتا ہے۔ تین امید وار پوسٹروں‘ بینروں‘ جلوسوں اور جلسوں سے ووٹروں کو متاثر نہیں کرسکتے‘ یہ صرف اور صرف ’’مین ٹو مین‘‘ ریلیشن سے ووٹ مانگ سکتے ہیں‘ یہ الیکشن سے مہینوں اور بعض اوقات برسوں قبل اپنی انتخابی مہم شروع کرتے ہیں‘یہ ایک ایک شخص کے پاس جاتے ہیں یوں یہ اپنے ووٹروں سے واقف ہو جاتے ہیں اور ووٹر ان کی شخصیت سے پوری طرح آگاہ ہو جاتے ہیں چنانچہ امیدوار اور ووٹر کا بانڈ زیادہ مضبوط ہوجاتا ہے‘بھارت میں لوگ صرف امیدوار کو ووٹ نہیں دیتے‘ یہ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اور یوں پارٹی اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

    ہمیں پاکستان میں سنجیدگی کے ساتھ الیکشن اصلاحات کی ضرورت ہے‘ عمران خان کا مطالبہ غلط نہیں‘ ہمارے انتخابی نظام میں حقیقتاً درجنوں سوراخ ہیں اور عوامی مینڈیٹ ہر بار ان سوراخوں سے باہر گر جاتا ہے‘ حکومت کو چاہیے یہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی کمیشن بنائے اور یہ کمیشن الیکشن اصلاحات کرے‘ ہمارے نادرا کے پاس جدید ترین نظام اور سافٹ ویئر موجود ہیں‘ حکومت بڑی آسانی سے الیکشن سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کر سکتی ہے‘ الیکشن کمیشن کو آزاد امیدواروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے‘ امیدواروں کا کسی نہ کسی جماعت کے ساتھ وابستہ ہونا ضروری قرار دیا جائے کیونکہ آزاد امیدوار کامیاب ہونے کے بعد گھوڑے بن جاتے ہیں اور یہ گھوڑے حکومت بننے سے قبل حکومت کو کرپٹ کر دیتے ہیں۔

    انتخابی مہم کو بھارت کی طرح ٹیلی ویژن چینلز تک محدود کیا جائے تاکہ ملک بورڈوں‘ جلوسوں، جلسوں، ریلیوں، چاکنگ اور بینروں کی پلوشن سے پاک رہے‘ الیکشن کا عمل تیس چالیس حصوں میں تقسیم کیا جائے‘ صوبوں اور وفاق کے الیکشن الگ الگ ہونے چاہئیں‘ ووٹ کاسٹ نہ کرنے والوں کے لیے جرمانہ طے کیا جائے اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم پچاس فیصد ووٹوں کی حد مقرر کی جائے‘ 2013 ء کے الیکشن میں کل ووٹروں کی تعداد 8 کروڑ 61 لاکھ تھی۔

    مسلم لیگ ن نے ایک کروڑ 48 لاکھ ووٹ حاصل کیے‘ یہ کل ووٹوں کا 32 فیصد بنتا ہے‘ ہم 32فیصد کو ہیوی مینڈیٹ کہتے ہیں جب کہ 68 فیصد لوگ میاں نواز شریف کو مسترد کر چکے ہیں‘ آج افغانستان میں بھی صدر کے لیے پچاس فیصد ووٹ ضروری ہوتے ہیں مگر ہم 32 فیصد ووٹ لینے والوں کو ہیوی مینڈیٹ دے کر حکومت بنانے کا اختیار دے دیتے ہیں‘ کیا یہ غلط نہیں؟ ہمیں الیکشن کمیشن پر فوری طور پر توجہ دینا ہوگی ورنہ دوسری صورت میں ہمارے ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کا الزام بھی لگے گا اور ہماری ہر حکومت کو دھرنوں‘ ریلیوں اور جلوسوں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

    میاں صاحب اگر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو انھیں محسوس ہو گا عمران خان غلط نہیں کہہ رہے! یہ بات‘ یہ مطالبہ غلط نہیں۔

    جاوید چوہدری

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    لورین اور اسٹریس برگ فرانس کے دو صوبے ہوا کرتے تھے جن پر اٹھارویں صدی کے آخر میں جرمنی نے قبضہ کر لیا اور وہاں کے باشندوں کو گرجا گھروں میں عبادت کرنے سے روک دیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک فرانسیسی مصنف ارنسٹ لیوس وہاں گیا اور وہاں کے سب سے بڑے گرجا گھر میں حاضری دی۔ واپسی پر اس نے اپنے تجربات ،مشاہدات اور احساسات پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ’’The temps‘‘ اس کتاب میں اس نے مسیحی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میں نے جب وہاں کے سب سے بڑے گرجا گھر میں حاضری دی تو مجھے یوں لگا جیسے اس گرجا گھر کے مینار فضا میں بلند ہوتے اور کہتے،فرانسیسیو! تم کہاں ہو ! ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ کتاب اس قدر اثر انگیز ثابت ہوئی کہ فرانس نے اپنے وہ علاقے جرمنی کے تسلط سے چھڑا لئے اور وہ گرجا گھر پھر سے آباد ہو گئے۔

    فرانس کے ان صوبوں سے متصل اسپین کی ریاست ہے جسے ماضی میں ہسپانیہ بھی کہا جاتا تھا مگر ہم اسے اندلس کے نام سے جانتے ہیں۔ یورپ کے نقشے پر جنوب و مغرب کی جانب براعظم افریقہ اور یورپ کے سنگم پر ایک جزیرہ نما ہے جس کا رقبہ دو لاکھ مربع میل ہے۔ اس کے ایک طرف بحر متوسط ہے جسے بحیرہ روم بھی کہتے ہیں اور دوسری جانب بحر اوقیانوس ہے جسے ہم بحر ظلمات کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ یہ وہ سمندر ہے جس میں ہمارے جری و بہادر سپاہیوں نے گھوڑے دوڑا دیئے۔ جب اندلس کا ذکر آتا ہے تو فوراً طارق بن زیاد کا خیال آتا ہے جس نے اندلس کے ساحل پر واپسی کی کشتیاں جلا دیں اور آج دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جس میں ’’Burn The Boat ‘‘ جیسا کوئی محاورہ نہ ہو۔ طارق بن زیاد کی اس تاریخی فتح کے بعد مسلمانوں نے یہاں ساڑھے سات سو سال تک حکومت کی لیکن جب داخلی انتشار اور ضعف و ناتوانی کا شکار ہوئے تو منگولوں کی افواج نے انہیں اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا۔ فرڈیننڈ کی آمد پر غرناطہ کا حکمران عبداللہ محل سے کوچ کرتے وقت رونے لگا تو اس کی ماں نے ٹہوکا لگایا،ارے او بدبخت! جب تم مردوں کی طرح اپنے شہر کا دفاع نہ کر سکے تو اب عورتوں کی طرح روتے کیوں ہو؟

    یوں تو اندلس میں مسلمانوں کے فن تعمیر کے بے شمار نمونے ہیں مگر سب سے بڑا عجوبہ قرطبہ کی شہرہ آفاق مسجد ہے جسے دیکھ کر ماہرین تعمیرات انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ اس مسجد کی بنیاد وادی الکبیر کے کنارے پہلے امیر عبدالرحمٰن الداخل نے رکھی اور پھر توسیع و تکمیل کا کام امیر ہشام کے دور میں مکمل ہوا۔ اس دور میں امیر عبدالرحمٰن نے 80ہزار دینار جبکہ ہشام نے ایک لاکھ ساٹھ ہزار دینار مسجد قرطبہ کی تعمیر کے لئے خرچ کئے۔ یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے ان حکمرانوں نے ذاتی طور پر خرچ کی۔ یہ دونوں حکمران خود نہایت سادہ زندگی گزارتے تھے۔ مسجد قرطبہ کی تعمیر کے لئے مقامی باشندوں سے باقاعدہ جگہ خریدی گئی اور مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا پھر ہر دور میں اس کی توسیع اور تزئین و آرائش کا کام ہوتا رہا۔ 1417ستونوں پر ایستادہ اس خوبصورت مسجد کے 21دروازے ہیں۔اس کی چھت 182میٹر لمبی اور 133 میٹر چوڑی ہے۔ اس کا منبر ہاتھی دانت، آبنوس، صندل اور جواہر کے 36ہزار ٹکڑوں سے متشکل ہوا اور سونے کی کیلوں سے مربوط کیا گیا۔اس کا ہفت پہلو محراب بھی اپنی صناعی کے اعتبار سے بے مثل ہے۔اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب بھی دودھ سے زیادہ اجلا اور برف سے زیادہ چمکدار ہے۔

    ہر سال 14لاکھ مسلمان مسجد قرطبہ کی زیارت کو جاتے ہیں۔جب یہاں مسیحیت کو عروج حاصل ہوا تو سولہویں صدی میں مسجد قرطبہ کے ایک حصہ کو گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔1931ء میں علامہ اقبال یورپ کے دورے پر گئے تو مسجد قرطبہ میں حاضری دی۔انہوں نے وہاں نماز ادا کرنا چاہی تو پادری نے منع کر دیا۔ علامہ اقبال نے اس پادری کو تاریخی واقعہ سنایا کہ عیسائیوں کا ایک وفد ملنے آیا تو اسے مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا، سب مہمان اس شش و پنج میں تھے کہ انہیں قیام کی اجازت تو دے دی گئی ہے کیا اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت بھی مل پائے گی؟ ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے انہیں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ واقعہ سننے کے بعد پادری قائل ہو گیا اور اس نے نماز ادا کرنے کی اجازت دے دی۔ یوں 8صدیوں بعد مسجد قرطبہ میں اللہ اکبر کی صدا گونجی اور کسی مسلمان کو سر بسجود ہونے کی اجازت ملی۔ مسجد قرطبہ کے اس دورے سے متاثر ہو کر اقبال نے اپنی شہرہ آفاق نظم لکھی جس کے چند اشعار کچھ یوں ہیں:

    اے حرم قرطبہ! عشق سے تیرا وجود

    عشق سراپا دوام جس میں نہیں رفت بود

    رنگ ہو یا خشت و سنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت

    معجزئہ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

    اسپین میں اب بھی 8لاکھ مسلمان آباد ہیں مگر انہیں مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں۔ 2006ء میں اسپین کے اسلامک بورڈ نے رومن کیتھولک بشپ کو ایک عرضی پیش کی۔ اس درخواست میں کہا گیا کہ ہم مسجد قرطبہ کی حوالگی کا مطالبہ نہیں کرتے،نہ ہی یہاں سے گرجا گھر کا خاتمہ چاہتے ہیں۔بس اتنی سی التجا ہے کہ مسجد قرطبہ کو ایک ایسی عبادت گاہ بنا دیا جائے جہاں ہر مذہب کے لوگ اپنے طریقے کے مطابق عبادت کر سکیں مگر یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد پوپ بینڈیکٹ سے اپیل کی گئی مگر وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ یہ ممکن نہیں۔ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مسجد قرطبہ کو کیتھڈرل میں تبدیل کر کے مکمل طور پر گرجا گھر کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا جائے۔

    مجھے تعجب ہے کہ بامیان میں بدھا کے مجسمے گرائے جانے پر اُدھم مچانے اور بریکنگ نیوز سنانے والے میڈیا کو 12صدیوں کی تاریخ منہدم کئے جانے کی خبر میں کوئی دلچسپی نہیں۔ کہیں کوئی چھوٹا سا مندر ،کوئی کلیسا ،کوئی گرجا ،کوئی گردوارہ گرا دیا جائے تو دنیا بھر میں بھونچال آجاتا ہے مگر اس تاریخی مسجد کو چرچ میں تبدیل کئے جانے پر کسی کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ مجھے اندلس جا کر مسجد قرطبہ میں نماز پڑھنے کا شرف تو حاصل نہیں ہوا مگر میرا خیال ہے مسجد قرطبہ کے مینار فضا میں ابھرتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے، مسلمانو! تم کہاں ہو؟اندلس کی مسجد قرطبہ تمہاری منتظر ہے۔آج ہم لخت لخت ہیں،کمزور و ناتواں ہیں،فرانسیسیوں کی طرح اسپین پر چڑھائی نہیں کر سکتے لیکن کیا ہماری زبانیں بھی گنگ ہو گئی ہیں؟ کیا ہمارے ہاتھ شل ہو گئے ہیں؟ کیا ہمارے دماغ بھی مائوف ہو گئے ہیں؟ کیا ہمارے اذہان و قلوب پر مہریں لگ گئی ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو آپ اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کیوں نہیں کرتے؟ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کراچی، اسلام آباد یا لاہور کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ آپ اور کچھ نہیں کر سکتے تو انٹرنیٹ سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ،پاپائے روم ،ہسپانوی صدر اور وزیراعظم کا ایڈریس اور ای میل آئی ڈی معلوم کریں اور خط لکھ کر یا ای میل کر کے اس فیصلے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔


    بشکریہ روزنامہ "جنگ"

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    بالآخر وہی ہوا جس کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور جس خطرے کا ذکر میں نے اپنے کئی کالموں میں کیا تھا مگر اعلیٰ حکام نے پولیو کی روک تھام اور مکمل خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز نہ کی اور غفلت کی نیند سوتے رہے۔ ہماری آنکھ اُس وقت کھلی جب گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پاکستان میں پولیو کی خطرناک صورتحال کے باعث اسے دنیا میں ’’وائلڈ پولیو وائرس‘‘ کے پھیلائو کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پاکستانی شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کردیں ان پابندیوں کے تحت پاکستانی شہریوں پر یہ لازم ہوگا کہ وہ بیرون ملک سفر سے پہلے انسداد پولیو کی ویکسین پئیں جبکہ ان کے پاس ویکسین پینے کا سرٹیفکیٹ بھی ہونا چاہئے جس کے بغیر وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکیں گے۔ اس کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق وزیراعظم پاکستان پولیو مہم کے لئے سرکاری طور پر ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا اعلان بھی کریں گے۔

    پاکستان پر یہ پابندیاں پولیو وائرس بیرون ملک منتقل نہ ہونے کی صورت میں 6 ماہ تک لاگو رہیں گی جبکہ متاثرہ علاقوں میں پولیو سے بچائو کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں اس کی مدت 12 ماہ تک بڑھا دی جائے گی اور یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ پاکستان کے ان علاقوں سے یہ وائرس بیرونی دنیا منتقل نہ ہو۔ WHO کی پابندیوں کے بعد پاکستان کا شمار شام اور کیمرون جیسے ممالک میں ہوگیا ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کو پہلے ہی پولیو سے پاک قرار دیا جاچکا ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال اور سال رواں کے دوران پولیو کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کئے گئے، اس لئے اس کے وائرس کو دنیا کے دیگر ممالک میں پھیلنے سے روکنے کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کے بیرون ملک سفر پر پابندیاں عائد کردی جائیں۔ ان کے بقول گزشتہ ایک سال کے دوران شام، مصر اور چین میں جو پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، وہ وائرس پاکستان سے منتقل ہوا ہے جس سے دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد میں رواں سال 600 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اس دوران مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 62 ہو چکی ہے جن میں سے بیشتر کیسز شمالی وزیرستان اور 6 کیسز کراچی کے ایسے نواحی علاقوں سے منظر عام پر آئے ہیں جہاں کی زیادہ تر آبادی کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے جبکہ پابندی کے بعد مزید 3 نئے کیسز کے انکشاف نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ واضح ہو کہ کچھ ماہ قبل عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا تھا جبکہ انہوں نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کے دوران پاکستان پر پابندی کا عندیہ بھی دیا تھا مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

    پاکستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پولیو کے خلاف حکومتی مہم سست رفتاری اور ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ ملک میں پولیو کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں اور سیکورٹی اہلکاروں پر دہشت گردوں کے حملے بھی ہیں جن میں درجنوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت شدت پسندوں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ محدود ذہن کے حامل ملک دشمن عناصر نے یہ گمراہ کن مفروضہ بھی پھیلا رکھا ہے کہ پولیو کے قطرے مسلمان بچوں کے خلاف امریکیوں اور یہودیوں کی مشترکہ سازش ہے جس کا مقصد بچوں کو نامرد کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان مفروضوں کے سبب پشاور اور وزیرستان جیسے علاقے پولیو وائرس کا مرکز بن کر ابھرے۔ پولیو مہم کی ناکامی کی ایک اور وجہ کرپشن بھی ہے کیونکہ مہم پر خرچ ہونے والی کروڑوں ڈالر کی امداد اعلیٰ حکام کی جیبوں میں چلی جاتی ہے جبکہ ہیلتھ ورکرز جو اپنی جانوں پر کھیل کر سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں، کو آٹے میں نمک کے برابر معاوضہ دیا جاتا ہے۔

    پولیو جیسے ہولناک مرض کا ملک میں تیزی سے پھیلنا، دنیا بھر میں اس حوالے سے تشویش پایا جانا اور پھر پابندیاں عائد کرنا ایک سنگین مسئلہ اور لمحہ فکریہ ہے جس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ WHO نے وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کی درخواست پر پولیو ویکسین منصوبے پر پیشرفت اور ویکسین کی خریداری کے لئے 2 ہفتے کی مہلت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن WHO کے مالی امداد سے انکار کے بعد حکومت کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پولیو ویکسین کی خریداری ہے جس کے لئے 80 کروڑ روپے درکار ہیں۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ پولیو ویکسین کی خریداری صوبائی حکومتوں کا معاملہ ہے۔ ایسی صورت حال میں لگتا ہے کہ حکومت کے پاس عالمی پابندیوں سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح حکمت عملی نہیں تاہم یہ اقدام قابل تحسین ہے کہ وفاقی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدوں پر پولیو ویکسی نیشن کے لئے خصوصی کائونٹر قائم کرنے شروع کر دیئے ہیں جہاں ہر مسافر کو پولیو ویکسی نیشن کے خصوصی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔

    پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے روزانہ تقریباً 27 ہزار افراد بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور حکومت کے لئے یہ مرحلہ یقینا انتہائی دشوار کن ہو گا۔ پاکستانی شہریوں کو پہلے ہی گرین پاسپورٹ کے سبب کئی مشکلات کا سامنا تھا لیکن WHO کی حالیہ پابندیوں کے باعث اُنہیں بین الاقوامی ایئر پورٹس پر الگ قطار میں کھڑا ہو کر دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران تضحیک آمیز سلوک بھی برداشت کرنا ہوگا اور اُن کے لئے بیرون ملک سفر کرنا انتہائی مشکل ہو جائے گا،اس کے علاوہ سعودی عرب، خلیجی ریاستوں اور یورپ میں اُن کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

    عالمی ادارہ صحت کی پابندیاں ایک کھلا پیغام ہے کہ پاکستان انسداد پولیو کے لئے سنجیدہ اقدامات کرے۔ پابندیوں کے بعد وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کا یہ کہنا کہ ’’بہت جلد پولیو مہم کے لئے ایک خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے جس میں امام کعبہ بھی شرکت کریں گے‘‘ کافی نہیں کیونکہ ایسے اقدامات پہلے بھی اٹھائے جا سکتے تھے جبکہ ایسی صورت حال میں جب طالبان حکومت سے مذاکرات کے لئے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے، حکومت کو طالبان سے پولیو ٹیموں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی حاصل کرنا چاہئے تھی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کو گوش گزار کرائے کہ خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں پولیو مہم متاثر ہونے کی ایک بڑی وجہ امریکی سی آئی اے کی اسامہ بن لادن کی تلاش کے لئے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے چلائی جانے والی وہ جعلی پولیو مہم تھی جس کے باعث عوام کا پولیو مہم پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔

    اس کے علاوہ حکومت کو چاہئے کہ وہ پولیو سرٹیفکیٹ کی عالمی پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی راہ ہموار کرنے کے لئے پاکستان کو ’’پولیو فری ملک‘‘ بنانے کی عملی کوششیں تیز کرے کیونکہ انہی اقدام کی بدولت مسائل سے نمٹا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ ہم دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت تو بن گئے مگر پولیو جیسے مہلک مرض پر قابو پانے میں ناکام رہے جو تمام پاکستانیوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔


    بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

    Enhanced by Zemanta

    0 0


    آپ خواہ آسمان سے چار ہزار فرشتے بلا لیں یا امریکا‘ برطانیہ‘ فرانس اور جاپان سے الیکشن کے ماہرین بلا لیں‘ آپ پاکستان میں غیر متنازعہ الیکشن نہیں کروا سکتے‘ کیوں؟ آئیے ہم اس کیوں کا جواب تلاش کرتے ہیں۔

    پاکستان میں الیکشن کا عمل الیکشن کمیشن سے شروع ہوتا ہے‘ الیکشن کمیشن کے اندر چند خامیاں ہیں‘ چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کرتے ہیں‘ یہ دونوں ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے نمایندے ہوتے ہیں چنانچہ یہ صرف اس شخص کو منتخب کرتے ہیں جو انھیں ’’سوٹ‘‘ کرتا ہے‘ یہ چیف الیکشن کمشنر الیکشن پر پہلا سوالیہ نشان ہوتا ہے‘ الیکشن کمیشن کے باقی چار ارکان کا فیصلہ چار صوبائی حکومتیں کرتی ہیں‘ یہ حکومتیں الیکشن کا حصہ ہوتی ہیں چنانچہ یہ غیر جانبدار لوگوں کا انتخاب کیسے کریں گی؟ یہ دوسرا سوالیہ نشان ہوتا ہے‘الیکشن کی عملی ذمے داری ریٹرننگ آفیسر پر استوار ہوتی ہے۔

    یہ ریٹرننگ آفیسر ایڈیشنل سیشن جج ہوتے ہیں‘ یہ لاء کے اسٹوڈنٹس ہوتے ہیں‘ یہ جوڈیشری کا امتحان پاس کر کے جج بنتے ہیں‘ ریاست انھیں پوری زندگی وکلاء کی بحث سننے‘ قانون پڑھنے اور فیصلے کرنے کی ٹریننگ دیتی ہے‘ ہم ان سے یہ توقع کرتے ہیں‘ یہ ایک دن عدالت سے اٹھیں گے‘ الیکشن آفس میں بیٹھیں گے اور آزاد‘ شفاف اور غیر متنازعہ الیکشن کروا کر واپس کورٹ روم میں آ جائیں گے؟یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم نے جب انھیں ایک کام کی ٹریننگ ہی نہیں دی تو ہم ان سے بہتر نتائج کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ ریٹرننگ آفیسر کے بعد اسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر آتے ہیں‘ یہ سول جج‘ اسسٹنٹ کمشنر اور ایجوکیشن آفیسر ہوتے ہیں‘ ان کے نیچے پریذائڈنگ آفیسر اور اسسٹنٹ پریذائڈنگ آفیسر ہوتے ہیں۔

    یہ دونوں محکمہ تعلیم سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ استاد ہوتے ہیں اور ریاست انھیں صرف پڑھانے کی ٹریننگ دیتی ہے لیکن آپ ان سے اچانک یہ توقع وابستہ کر لیتے ہیں‘ یہ آپ کو ایک ایماندار اور اہل حکومت بھی بنا کر دیں گے‘ یہ توقع بھی یقینا بے وقوفی ہوگی‘ الیکشن کمیشن کے پاس ایک پولنگ اسکیم ہے‘ کمیشن انتخابات سے تین ہفتے قبل یہ اسکیم ریٹرننگ آفیسرزکو بھجواتا ہے‘ اس اسکیم میں پورے ملک کے پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں‘ پاکستان میں2013ء کے الیکشن میں 69 ہزار 875 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے‘ یہ اسکیم بیس سال پرانی ہے‘ الیکشن کمیشن ہر بار پرانی اسکیم آر اوز کو بھجوا دیتا ہے‘ یہ لوگ فیلڈ میں جاتے ہیں توانھیں معلوم ہوتا ہے‘ ہم نے جس بلڈنگ میں الیکشن کروانے ہیں وہ عمارت پچھلے سیلاب یا 2005ء کے زلزلے میں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہے یا اس عمارت میں صرف دو کمرے ہیں اور ہم ان دو کمروں میں چار بوتھ نہیں بنا سکتے.

    ملک کے ہر الیکشن کے دوران الیکشن کمیشن کو مختلف پولنگ اسٹیشنوں کے بارے میں شکایات موصول ہوتی ہیں لیکن آج تک ان شکایات کی بنیاد پر فہرستوں میں تبدیلی نہیں کی گئی لہٰذا آپ شفاف پولنگ اسٹیشنوں کے بغیر شفاف الیکشن کیسے کرا سکیں گے؟ الیکشن اسکیم انتخابات سے 3 ہفتے قبل جاری ہوتی ہے‘ پریذائڈنگ آفیسرز کو ٹریننگ کے لیے بلوایا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے‘ ان بے چاروں کی ٹریننگ گھرسے ساٹھ ساٹھ کلومیٹر دور لگا دی گئی‘ آپ خود سوچئے‘ کیا کوئی چھوٹا سرکاری ملازم ساٹھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے الیکشن کی ٹریننگ لے سکتا ہے اور یہ اگر خاتون ہو تو کیا اس کے لیے یہ ممکن ہو گا؟

    چنانچہ یہ لوگ پراپر ٹریننگ نہیں لے پاتے! اسکیم جاری ہوتے ہی پریذائڈنگ آفیسرز کی طرف سے اعتراضات شروع ہو جاتے ہیں‘ ایک حلقے میں تین سو کے قریب پولنگ اسٹیشنز ہوتے ہیں‘ ہر اسٹیشن میں تقریباً چاربوتھ ہوتے ہیں‘ ہر بوتھ پر تین آفیسرز درکار ہوتے ہیں‘ایک سینٹر میں کل بارہ لوگوں کا عملہ ہوتا ہے‘ اسکیم کے بعد معلوم ہوتا ہے‘ زیادہ تر لوگوں کو دور دراز علاقوں میں تعینات کر دیا گیا اور یہ لوگ اس دن وہاں نہیں پہنچ سکتے‘ بالخصوص زنانہ عملے کے لیے یہ ممکن نہیں یوں آراوز ڈیوٹی کی تبدیلی میں مصروف ہو جاتے ہیں‘ یہ تبدیلی محکمہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ہوتی چنانچہ خط بازی‘ میٹنگز اور سفارشوں کا دور شروع ہو جاتا ہے‘ یہ اس عمل سے نکل کر الیکشن کے دن پر پہنچتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے بوتھ زیادہ ہیں اور عملہ کم۔

    یہ لوگ ریٹرننگ آفیسرز سے رابطہ کرتے ہیں‘ آر او کے پاس ریزرو فہرست ہوتی ہے لیکن ریزرو فہرست کے زیادہ تر لوگ ’’ بیمار‘‘ ہو جاتے ہیں یا خواتین حاملہ نکلتی ہیں یا پھر ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوتا چنانچہ آر اوز پرائیویٹ اسکولوں‘ ایگری کلچرل ڈیپارٹمنٹ‘ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ اور بینکوں کے لوگوں کی مدد لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں‘ آپ آج 2013ء کے الیکشن میں شامل عملے کا پروفائل نکال لیں‘ آپ کو ان میں دوسروں کے شعبوں کے بے شمار لوگ ملیں گے چنانچہ آپ اگر ان لوگوں سے شفاف الیکشن کی توقع کریں تو یہ توقع غلط ہو گی‘ الیکشن کے ایک حلقے میں تین سو پولنگ اسٹیشنز ہوتے ہیں‘ علاقے پر زورآوروں کا قبضہ ہوتا ہے‘ ہر سینٹر پر ایک یا دو پولیس اہلکار تعینات ہوتے ہیں‘ الیکشن اگر فوج بھی کروائے تو یہ کل 70 ہزارپولنگ اسٹیشنوں پر کتنے فوجی تعینات کر لے گی؟

    ملک میں قانون کی صورتحال آپ کے سامنے ہے‘ پولنگ اسٹیشن میں اگر کوئی شخص کسی پریذائڈنگ آفیسر کو گولی مار دے تو سال سال تک ایف آئی آر نہیں کٹتی‘ ایف آئی آر کٹ جائے تو لواحقین انصاف کے لیے دھکے کھاتے رہتے ہیں‘ حلقے میں کتنے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی ہوتے ہیں؟ آر او کس کس کو کس کس اسٹیشن پر بھجوائے گا‘ ایک سینٹر سے شکایت آتی ہے‘ آر او ایس ایچ او کو اس طرف بھگاتا ہے‘ وہ ابھی راستے میں ہوتا ہے تو دوسرے سینٹر سے اطلاع آ جاتی ہے‘ دونوں کے درمیان بیس تیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے‘ وہ ایس ایچ او دونوں جگہوں پر کیسے پہنچے گا؟ اور اگر پہنچے گا تو کیا اس وقت وہ سب کچھ نہیں ہو چکا ہو گا جس کے لیے اسے بلایا جا رہا ہو گا؟

    پریذائڈنگ آفیسرز سینٹروں تک جائیں گے کیسے؟ یہ واپس کیسے آئیں گے؟ یہ بھی ایک مسئلہ ہے ‘کیا آر او تین سو سینٹروں کے تین ہزار عملے کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کر سکے گا‘ یہ لوگ تھیلے اور بیلٹ باکس کیسے لائیں گے‘ اگر بڑی گاڑی کا بندوبست کیا جائے گا تو یہ گاڑی کتنے اسٹیشنوں کا عملہ‘ تھیلے اور باکس اکٹھے کرے گی؟ حکومت نے 1970ء میں ووٹنگ کا وقت 8 گھنٹے طے کیا تھا‘ اس وقت بنگلہ دیش کے ووٹروں سمیت کل ووٹر 5 کروڑ 69 لاکھ تھے‘ 2013ء میں صرف مغربی پاکستان کے ووٹروں کی تعداد 8 کروڑ 61 لاکھ ہو گئی‘ آپ 2002ء اور 2013ء کا ڈیٹا بھی دیکھ لیجیے‘ 2002ء میں کل ووٹر7 کروڑ 7 لاکھ تھے‘ 2013ء میں 8 کروڑ 61 لاکھ ہو گئے‘پولنگ اسٹیشنز 2002ء میں بھی فی حلقہ تقریباً تین سو تھے اور یہ آج بھی تین سو ہیں۔

    ملک میں دس برسوں میں ووٹروں کی تعداد میں 25 فیصد اضافہ ہو گیا لیکن ووٹ کاسٹ کرنے کا وقت وہی 8 گھنٹے ہے‘ آپ ہزار ووٹروں کو قطار میں کھڑے کر کے آٹھ گھنٹوں میں پرچی سسٹم کے تحت ووٹ ڈال کر دکھائیے؟ پولنگ کے بعد بھی یہ دس بارہ بندے ایک ایک ووٹ کی پڑتال کرتے ہیں‘ کسی ووٹ پر ووٹر نے دو جگہ مہر لگا دی‘ کسی پر مہر کی جگہ انگوٹھا لگا دیا گیا اور کسی جگہ درمیان میں مہر لگا دی گئی‘ پولنگ کے عملے نے یہ تمام متنازعہ ووٹ پولنگ ایجنٹوں کو دکھا کر ان کا فیصلہ کرنا ہے‘ ووٹوں کی گنتی بھی ہو گی‘ رزلٹ شیٹ بھی بنے گی‘ اس شیٹ پر دستخط بھی ہوں گے‘ ووٹوں کو بیگوں میں ڈال کر ان پر سیل بھی لگے گی۔

    پریذائڈنگ آفیسر مہر اور رزلٹ جیب میں بھی ڈالے گا اور یہ بیگ ہر صورت اسی رات آر او کے آفس پہنچائے جائیں گے‘ اس کے بعد کیا ہو گا؟ اس کے بعد ریٹرننگ آفیسر تین سو اسٹیشنوں کا رزلٹ اکٹھا کرے گا‘ اس کی چند گھنٹوں میں پڑتال کرے گا اور اس رزلٹ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں شامل ہوں گی‘ پڑتال کے دوران دو دن کا تھکا ماندہ عملہ آر او کے دفتر بیٹھا رہے گا‘ ان لوگوں میں وہ خواتین بھی شامل ہوں گی جو ساٹھ کلومیٹر دور اپنے بچوں کو گھروں میں چھوڑ کر آئی ہیں لیکن آر او جب تک ان کے سارے بیگز کی پڑتال نہیں کر لیتا یہ انھیں چھٹی نہیں دے سکتا۔

    کیا یہ سارا عمل انسانی لحاظ سے ممکن ہے؟ اور اس عمل میں اگر جعلی مقناطیسی سیاہی بھی شامل ہو جائے تو کیا شفافیت برقرار رکھی جا سکتی ہے؟ اور ہاں یہ پریذائڈنگ آفیسر باقی بچ جانے والی پرچیاں واپس کرنے کے پابند بھی ہیں اور آر او آفس جب تک فالتو پرچیاں گن کر انھیں سر ٹیفکیٹ نہ دے دے یہ لوگ گھر نہیں جا سکتے‘ کیا آر او کا عملہ یہ کام بھی چند گھنٹوں میں سرانجام دے سکتا ہے‘ آپ اگر یہ کر سکتے ہیں؟ تو ذرا کر کے دکھائیے۔

    ہمارے الیکشن سسٹم میں ایک اور خرابی بھی ہے‘ ہمارے الیکشن کا عملہ دو بار نتائج کا اعلان کرتا ہے‘ شام کے وقت غیر سرکاری نتائج کا اعلان ہوتا ہے‘ اگلی صبح سارے ووٹ دوبارہ گن کر سرکاری نتیجہ بنایا جاتا ہے اور اس دوران ٹیلی ویژن چینلز بھی ایک نتیجہ نشر کر دیتے ہیں‘ یہ تین نتائج ملک میں کنفیوژن پیدا کر دیتے ہیں‘ دنیا بھر میں الیکشن کے صرف ایک نتیجے کا اعلان کیا جاتا ہے اور یہ اعلان حتمی ہوتا ہے‘ ہم اس طرف کیوں نہیں جاتے‘ بھارت کے حالیہ الیکشنوں میں 52 کروڑ 72 لاکھ لوگوں نے ووٹ ڈالے‘ بھارت میں الیکشن کا جدید ترین سسٹم کام کر رہا ہے لیکن ریاست کو الیکشن کا عمل مکمل کرنے میں 36 دن لگ گئے اور یہ الیکشن بھی صرف قومی اسمبلی کے 543 حلقوں کے تھے جب کہ ہم 9گھنٹوں میں چار صوبائی اسمبلیوں کے 577 حلقوں اور قومی اسمبلی کے 272 حلقوں کے شفاف نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ کیا یہ ممکن ہے؟

    چنانچہ آپ خواہ کسی فرشتے کو چیف الیکشن کمشنر بنا دیں یا پھر پورا الیکشن کمیشن امریکا کے حوالے کر دیں آپ ملک میں شفاف اور غیر متنازعہ الیکشن نہیں کرا سکیں گے کیونکہ آپ کی الیکشن بک اور زمینی حقائق کے درمیان مریخ اور زمین جتنا فاصلہ ہے اور اس فاصلے کو درمیان میں رکھ کر غیر متنازعہ الیکشن ممکن نہیں!‘ آپ جب تک الیکشن سسٹم کو اس انتخابی منافقت سے پاک نہیں کریں گے‘ آپ اس وقت تک ملک میں غیر متنازعہ الیکشن نہیں کرا سکیں گے‘ خواہ یہ الیکشن افتخار چوہدری کے آر اوز کروائیں یا پھر یہ کارنامہ چیف جسٹس میاں نواز شریف‘ چیف جسٹس آصف علی زرداری اور چیف جسٹس عمران خان کی نگرانی میں سرانجام دیا جائے‘ نتیجہ ایک ہی نکلے گا‘ دھاندلی‘ دھاندلی اور دھاندلی۔

    جاوید چوہدری    


    0 0


    بھارت کے عام انتخابات کے نتائج جمعہ کے روز خلیج کے معیاری وقت بارہ بجے سنائے جانے کی توقع ہے۔ ہر کوئی ان نتائج کو بھارت کے مستقبل کیلیے اہمیت کے زاویے سے دیکھنے لگا ہے۔ بلاشبہ ہر انتخابی نتیجہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے لیکن بھارت کے سات اپریل سے 12 مئی تک جاری رہنے والے یہ عام انتخابات جس ماحول اور جن رجحانات کے حامل بلکہ جس قماش کے نیتاوں کے ساتھ ہوئے ہیں ان کی وجہ سے انتخابی نتائج کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ ان نتائج کا براہ راست اثر بھارت کے مستقبل پر ہو گا۔

    یہ پہلے عام انتخابات تھے جن کے دوران بھارتی نیتاوں کا ایک دوسرے کے بارے میں کینہ کا کھلا اظہار سامنے آیا۔ ایک دوسرے کو حد سے زیادہ غیر پارلیمانی الفاظ سے مخاطب کیا گیا اور القابات سے نوازا گیا۔ مسلمانوں اور سیکولر طبقات دونوں کیلیے یہ انتخابات ایسا آبی بہاو رہے جو دوطرفہ فاصلوں کو جنم دیتا ہے۔

    ایک جانب کانگریس کے بوڑھے محافظ اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجود تھے تو دوسری جانب بھارت کا نیا لیڈر نریندر مودی تھا، جس کی نمود بھارت کیلیے ایک شہابیے کی طرح ہے۔ جو لوگ بھارت سیکولر ازم کے تارو پود بکھرتے نہیں دیکھنا چاہتے یا اس کے خرمن پر کوئی ایسی چنگاری گرتے نہیں دیکھنا چاہتے، یقینا ان کیلیے یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ مودی کو ایسے لوگ ایک بد روح یا عفریت کے طور پر دیکھتے ہیں، کہ جس کے وزیر اعلی گجرات ہوتے ہوئے ہزاروں بیگناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ انسانی خون کی بہائی جانے والی اس گنگا سے مودی کی ماتحت پولیس نے بھی ہاتھ دھونے کا اہتمام کیا اور اس ہولی میں شامل ہو کر سر خ چھینٹوں سے اپنے دامن اور ہاتھ رنگین کیے۔

    نریندر مودی کیخلاف اس قتل عام کی سازش کا احوال بھارتی میڈیا میں موجود رہا، لیکن مودی نے بڑی مکاری سے خود کو دور کر لیا۔ نریندر مودی نے اپنی کابینہ اور محرم راز مایا کوڈنانی سے محروم ہونے کا فیصلہ کیا۔ مایا کوڈنانی آج جیل میں عمر قید کی سزا بھگت رہی ہے کہ اس نے حملہ آور جلوس کی قیادت کی تھی۔ یہی وہ جلوس تھا جس نے 97 مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔


    بھارتی میڈیا اور عدلیہ کو اس چیز کا کریڈٹ ملنا چاہیے کہ بی جے پی کی دھمکیوں کے باوجود حقائق کو بے نقاب کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے۔ لیکن جہاں تک مودی کا تعلق ہے کہ اس کی وزارت اعلی کے دوران ہزاروں بے گناہ مارے گئے، تاہم مودی نے استعفا تو کیا دینا تھا افسوس کا ایک جملہ بھی نہ کہا، افسوس نہ ندامت۔ یہ ہے مودی جس کے وزیر اعظم ہندوستان بننے کے حق میں کئی جائزے آ چکے ہیں۔

    اس مودی کا کوریا کے وزیر اعظم سے کیا مقابلہ جس نے کشتی کے حادثے پر پورے ملک کی حکومت سے دست برداری اختیار کر لی تھی۔ بھارت کے متوقع پردھان منتری کا فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بھی کیا تقابل ہو سکتا ہے جو گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے پر عمل پیرا رہتے ہوئے اسرائیلی جیسی ظالم و جابر حکومت کا مقابلہ کر رہا ہے جو اپنے تصرفات میں مہذب دنیا کے تمام اصول فراموش کر چکی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسرائیلی حکومت کو اپنے تصرفات میں بے بس امریکی انتظامیہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے جو صہیونیت کے زیر اثر کانگریس کے سامنے بے دست و پا ہے۔

    اسی وجہ سے آج بہت سارے بھارتی پوچھتے پھر رہے ہیں کہ ایل کے ایڈوانی، جسونت سنگھ اور اٹل بہاری واجپائی ایسے رہنماوں کی موجودگی میں یہ ''چائے والا ''کیسے سب سے آگے آ گیا؟ بھارت جسے بھارتی مہان بھارت کہتے ہیں اس میں تو بہت سارے اہل لوگ موجود ہو سکتے تھے۔ اس کی آبادی کا تنوع ہی اس کی مضبوطی اور ترقی کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج یہ بہت سارے مسائل اور چیلنجوں کی زد میں ہے۔ نا خواندگی، بھوک، رنگا رنگ قسم کی بیماریاں اور تقسیم در تقسیم ۔

    آج تو بھارت کو سازش کرنے والے نہیں بلکہ ایک متاثر کرنے والے لیڈر کی ضرورت تھی۔ انڈیا کو ایسا لیڈر چاہیے تھا جو لوگوں کے گھاو بھرے نہ کہ گھاو دے، ایک ایسا لیڈر بھارت کی ضرورت تھا جو اس کی سب قوموں اور سب مذہبوں کے لوگوں کیلیے ہوتا، سب کو اپنا اپنا لگتا، سب کا اپنا ہوتا۔ جو ہر جاتی کے لوگوں کو، ہر بولی کے بولنے والوں کو اور ہر مذہب کے ماننے والوں کو آپس میں جوڑنے کا باعث بنتا نہ کہ توڑ پھوڑ اس کی پہچان ہوتی۔

    مودی کی وزارت عظمی کو دیکھ کر پریشان اور شرمسار ہونے والے مسلمانوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ فرعون جدید کے سامنے موسی کی طرح کھڑے ہو جائیں۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمان باہم کٹے پھٹے پڑے ہیں۔ ان کے اپنے بنائے ملا رہنماوں نے ان کیلیے کچھ نہیں کیا ہے۔ سماجی سطح پر ترقی کیلیے تعلیم زینہ ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ بھارت کے نظام سے فائدہ اٹھائیں جو بہرحال کسی حد اپنی بات کہنے کا موقع دیتا ہے جو نظام ظاہرا شائستگی اور رکھ رکھاو کا حامی ہے۔ مسلمانوں کو انتہا پسندی، جہالت اور ملاوں کی پیدا کردہ رکاوٹوں کو جھٹک دینا ہو گا۔ یہ سمجھنا ہو گا کہ سیکولر ازم اور لبرل ازم بھارت کے بہتر مسقتبل کے لوازمات ہیں۔ اس لیے ہر ایک کو اس نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

    بھارت کی اکثریت بڑی تصویر کو دیکھ رہی ہے، ایک ایسے بھارت کی تصویر جو عالمی سطح پر خوشحالی کیلیے کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس میں بڑے مواقع ہیں بھارتی مسلمانوں کو اس بھارتی ٹرین پر سوار ہونا چاہیے۔ وہ اپنے آپ کو قابل رحم بنا کر اور شرمسار ہو کر اس گاڑی پر سوار نہیں ہو سکتے۔ اگر ایسا کیا تو گودھرا ایکسپریس نہیں بنے گی۔ مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ مودی حکومت میں آتا ہے تو پھر کیا ہوا، بلا شبہ وہ کافی چالاک ہے لیکن سوسائٹی کے ایک بڑے حصے کو انصاف کے حصول کیلیے تشدد کی طرف نہ جانے دیجیے۔ وزیر اعظم بننے کی صورت میں اس کے مفادات کا تقاضا ہو گا کہ وہ بات چیت کرے اور ہر ایک کے ساتھ طے کرکے چلے۔ مودی کبھی بھی تاریخ میں خود کو ذلیل ہوتا نہیں دیکھنا چاہے گا، اگر کوئی شخص گاندھی کے اصولوں کو رد کر کے اہل ہندوستان کو رلائے گا تو بھارت کے لوگ اسے کبھی نہیں معاف کریں گے۔


older | 1 | .... | 21 | 22 | (Page 23) | 24 | 25 | .... | 149 | newer