Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 146 | 147 | (Page 148) | 149 | newer

    0 0

    جعلی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عوامی دلچسپی عروج پر تھی اور بڑی تعداد میں وکلا اور میڈیا اس کیس کی کارروائی سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ عدالت کھچاکھچ بھری ہوئی تھی اور بہت سے افراد کھڑے ہوکر کیس کی سماعت سنتے رہے۔ سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی پیش ہوئے جنہیں عدالت نے اس کیس میں طلب کر رکھا تھا۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض کو مخاطب کر کے کہا کہ ہر برے کام میں آپ کا نام کیوں آجاتا ہے، اس پر ملک ریاض سٹپٹا گئے اور کہا کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے آپ کو ایک ہزار ارب کا کہا تھا، اب 500 ارب روپے دے دیں ہم آپ کو صاف کر دیتے ہیں۔

    بحریہ ٹاؤن کے مالک بولے میں نے پورے 22 سالہ کیریئر میں ہزار یا گیارہ سو ارب کی سیل کی ہو گی۔ آپ حکم کریں گے تو ہم سیٹل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ آپ میرے بیٹے علی ریاض والا گھر لے لیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے کب آپ سے علی والا گھر مانگا ؟ اس پر بظاہر عدالتی دباؤ کے شکار ملک ریاض نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر آپ نے اس گھر کا ذکر کیا تھا۔ آپ کو مزید جو لینا ہے بتا دیں میں دینے کو تیار ہوں۔ اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کراچی کے باغ ابن قاسم کی زمین پر تجاوز کر کے قبضہ کر لیا جس پر ملک ریاض نے کہا کہ ہم نے قانون کے مطابق وہ پلاٹ حاصل کیا۔ یہ پلاٹ ڈاکٹر ڈنشا سے خریدا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اسی طریقے سے لیا گیا جیسے ملیر کی زمین حاصل کی گئی۔ سارا کچھ ملی بھگت سے کیا گیا۔ محکمہ مال اور دیگر اعلی عہدیدار ملے ہوئے تھے ۔

    ملک ریاض نے کہا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس ملک کو چلاتے رہے ہیں، حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں جس پر ملک ریاض نے تردیدی انداز میں کہا کہ میں نے اس ملک کو کبھی نہیں چلایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنی بقیہ زندگی کیلئے کتنے ارب چاہئیں؟ وہ لے لیں اور باقی اس ملک کو چھوڑ دیں۔ ملک ریاض کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت میں جذباتی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ باغ قاسم کی زمین قانون اور قواعد کے مطابق حاصل کی۔ اس پر بنائے گئے دونوں ٹاورز تمام قوانین پر عمل کرتے ہوئے بنائے گئے۔ غیر قانونی ہونے کی جے آئی ٹی کی رپورٹ سراسر غلط ہے ۔ ملک ریاض بولے کہ میں نے اس ملک کو سترمنزلہ بلڈنگ دی ہے۔ یہ دونوں ٹاور بلند ترین ملکی عمارت ہے ۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ باغ ابن قاسم ہو، ملیر کی زمین ہو، تخت پڑی راولپنڈی ہو، بحریہ انکلیو ہو، ہنڈی کا کام ہو، جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں وہاں ملک ریاض نکلتا ہے۔،
    ملک ریاض کے وکیل طارق رحیم نے کہا کہ یہ پلاٹ ہم نے بہت پہلے لیا تھا۔ 1980 میں زرداری کہاں تھا؟ وہ تو بمبینو سینما چلاتا تھا۔ چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ زیادہ جذباتی نہ ہوں، ملک ریاض سے پوچھ لیں یہ 1984 میں کہاں تھا۔ اس نےہر کام کے لیے پہیے لگائے۔ میں بتا دوں کہ اس کو چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں۔ میں نے ایک ہزار ارب کہا تھا، آپ 500 ارب دیدیں۔ میں عمل درآمد بنچ کو کہہ دوں گا بلکہ خود عمل درآمد بنچ میں بیٹھ کر سن لوں گا۔

    ملک ریاض نے مزید وضاحت دینے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، بحریہ کراچی کی لائٹس بند کیں، بحریہ کے ہزاروں ملازمین کو اکسا کرعدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، اب نیب ملک ریاض کو دیکھے گا۔ کمرہ عدالت میں میڈیا کے کردار پر بھی شدید اعتراض کیا گیا جب اومنی گروپ کے وکیل نے کہا کہ دنیا ٹی وی پر کامران خان شو میں جے آئی ٹی کی رپورٹ چلا دی گئی۔ اس پر چیف جسٹس بولے کہ میڈیا اس کیس کو خود چلا لے، کامران خان کو سربراہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے ڈی جی پیمرا کو طلب کیا لیکن اسی دوران چئیرمین پیمرا سلیم بیگ سپریم کورٹ آ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ دو چینلز کو نوٹسز بھجوائے ہیں جس پر انہوں نے اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

    علی رانا

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    بھارتی زیر انتظام کشمیر میں سال 2018ء گزشتہ ایک دہائی کے دوران سب سے خونزیر سال ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وادی میں مستقبل میں بھی صورتحال گھمبیر رہے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ماہرین کے حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے شدت پسند تنظیموں اور نئی دہلی کی جانب سے 2019ء میں مزید شدید کارروائیوں کی تیاری کی وجہ سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کا مستقبل خوفناک دکھائی دیتا ہے۔ کشمیری سیاستدان اور آزاد بھارتی ماہرین کا خیال ہے کہ پانچ لاکھ فوجیوں کی موجودگی اور 2019ء میں بھارت میں انتخابات کی وجہ سے کشمیر میں خونریزی میں کمی کی امید کم ہی ہے۔

    بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر میں سول سوسائٹی کی ایک سرکردہ تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی ( جے کے سی سی ایس) کے مطابق سال دو ہزار اٹھارہ اس ریاست کے لیے گزشتہ ایک دہائی کا سب سے ہلاکت خیز سال ثابت ہوا۔ جے کے سی سی ایس کے مطابق گزشتہ برس اس منقسم خطے کے بھارت کے زیر انتظام حصے میں سکیورٹی دستوں کی کارروائیوں، مسلح حملوں اور عوامی مظاہروں سمیت بدامنی کے سینکڑوں واقعات میں کل پانچ سو چھیاسی افراد ہلاک ہوئے۔

    اس تنظیم کے مطابق ہلاک شدگان میں سے دو سو سڑسٹھ عسکریت پسند تھے اور ایک سو ساٹھ عام شہری۔ مارے جانے والے عام شہریوں میں اکتیس بچے بھی شامل تھے۔ باقی ہلاک شدگان بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے۔ اس تنظیم کے مطابق گزشتہ برس کشمیری عسکریت پسندوں اور بھارتی دستوں کے مابین آٹھ سو کے قریب مسلح جھڑپیں ریکارڈ کی گئیں۔ اس فہرست میں وہ ان افراد کو شامل نہیں کیا گیا ہے، جو سرحد پر پاکستان اور بھارت کی افواج کے مابین ہونے والے فائرنگ میں ہلاک ہوئے۔

    بشکریہ DW اردو

     


    0 0

    پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ڈھائی ہزار کلو میٹر طویل سرحد کے ساتھ ساتھ 233 سرحدی چوکیوں کی تعمیر کا کام مکمل کر لیا ہے جبکہ 144 مزید چوکیوں کی تعمیر پر کام ہو رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق ان چوکیوں کی تعمیر کے علاوہ پاکستان افغانستان کی سرحد کے تقریباً پانچ سو کلومیٹر سے زیادہ طویل حصے پر باڑ لگانے کا کام بھی مکمل کر چکا ہے۔ اے پی پی کے مطابق صحافیوں کے ایک وفد نے طورخم کی سرحد کا دورہ کیا جہاں انھیں سکیورٹی فورسز کی طرف سے شدت پسندوں اور دہشت پسند عناضر کی بیخ کنی کرنے کی مہم کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔  پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد جسے ڈیورنڈ لائن بھی کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے متنازع ہے کہ افغانستان کی طرف سے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا جاتا رہا ہے۔

    پاکستان کے سکیورٹی اداروں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے اندر ہونے والی شدت پسند کارروائیاں اکثر سرحد پار سے کی جاتی ہیں اور ان کو روکنے کے لیے اس سرحد پر کڑئی نگرانی کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی سرحد پاکستان میں منشیات اور دیگر اشیا کی سمگلنگ کا بھی بڑا راستہ ہے۔ پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا سے متصل افغانستان کی سرحد تقریباً 1403 کلو میٹر طویل ہے اور انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہے۔ ان علاقوں میں باڑ لگانے کے کام کو ناممکن تصور کیا جا رہا تھا۔ اس انتہائی دشوار گزار علاقے میں باڑ لگانے کا کام فروری سنہ 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔
    اے پی پی نے ایک سرکاری اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ باڑ لگانے کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں اس سال دسمبر تک 539 کلو میٹر تک باڑ لگانی تھی جس کو وقت پر مکمل کر لیا گیا ہے۔

    اس منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں اگلے دو برس میں بالترتیب 349 اور 459 کلو میٹر حصے پر باڑ لگائی جائے گی۔ حکام کے مطابق طورخم کے راستے سرحد کے آر پار غیر قانونی نقل و حرکت کو ناممکن بنا دیا گیا ہے اور صرف قانونی سفری دستاویزات کے حامل افراد ہی سرحد کے آر پار آ جا سکتے ہیں۔ سرحد پر لگائی جانے والی خار دار تاروں سے بنائی گئی باڑ پاکستان کی جانب سے 11 فٹ بلند ہے جبکہ افغانستان کی جانب سے اس کی اونچائی 13 فٹ ہے۔ ان دونوں باڑوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ہے جس میں خار دار تاروں کا جال ڈال دیا گیا ہے۔ اس سرحد کی مستقل نگرانی کے لیے سرحد کے ساتھ ساتھ چوکیوں کی تعمیر کے علاوہ جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ ان میں نگرانی کا الیکٹرانک نظام، کلوز سرکٹ کیمرے اور ڈرونز کیمروں کی مدد بھی لی جاتی ہے۔

    حکام کے مطابق سرحد پر باڑ لگانے کے کام کے آغاز سے اب تک 1900 افغان شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے واپس سرحد پار بھیجا جا چکا ہے جبکہ چھ سو پاکستانیوں کو غیر قانونی طور سرحد پار جانے سے روکا گیا ہے۔ باڑ کا کام مکمل ہونے کے بعد حکام کے مطابق قانونی طور پر سرحد پار آمد و رفت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ اس بارے میں اعداد د شمار دیتے ہوئے سیکورٹی حکام کا کہنا تھا کہ روزانہ تقریباً 12000 سرحد کے آر پار جاتے ہیں جبکہ 1200 ٹرک بھی تجارتی مال لے کر افغانستان جاتے یا آتے ہیں۔
     


    0 0

    جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونی ورسٹی لاہور سے گریجویشن اور ماسٹرز کیا۔ آصف سعید کھوسہ نے کیمبرج یونیورسٹی لندن سے ایل ایل ایم کرنے کے بعد ہانرایبل سوسائٹی آف لندن سے بار ایٹ لاء کی ڈگری حاصل کی۔ جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کو فروری 2010 میں سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا تھا اور آپ دسمبر 2016 سے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں۔سپریم کورٹ میں جج تعینات ہونے سے قبل جسٹس آصف سعید خان کھوسہ لاہور ہائی کورٹ میں جج کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ 

    آصف سعید کھوسہ نے لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایڈووکیٹ کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ مئی 1998 میں آصف سعید کھوسہ لاہور ہائی کورٹ میں جج مقرر ہوئے اور جب سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 7 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے آئین معطل کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی ان ججز میں شامل تھے جنہوں نے 'پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔ اگست 2008 میں وکلا کی تحریک کے بعد وہ لاہور ہائی کورٹ میں جج کی حیثیت سے بحال ہوئے۔ انہیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے شہرت ملی، جبکہ سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔ 

     


    0 0

    ملک کو مہمند ڈیم ہی نہیں، متعدد ایسے آبی ذخائر کی ضرورت ہے جنہیں پانی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکے مگر پچھلے پچاس ساٹھ برسوں کے دوران جس انداز میں کثیر قومی اداروں کے مفادات سمیت بیرونی و اندرونی عوامل مل کر توانائی کے متبادل ذرائع سمیت قومی اہمیت کے مختلف منصوبوں کو مختلف حوالوں سے معرض التوا میں ڈالنے کا ذریعہ بنتے رہے، انہیں دیکھتے ہوئے ملک کی آبی و برقی ضروریات کے لئے مہمند منصوبے کی طرف بڑھنے کے اس عمل کو خوش آئند قرار دیا جانا چاہئے۔ تاہم 309؍ ارب روپے لاگت کے اس آبی ذخیرے کی تعمیر کے ٹھیکے سمیت قوم کو اعتماد میں لینا ملکی مفاد کا تقاضا، اپوزیشن سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو مطمئن کرنے کی ضرورت اور حکومتی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے شفافیت ملحوظ رکھنے کے منشور کے ایفا کا حصہ بھی ہے۔

    یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہمارے قومی منصوبوں کو بروئے کار لانے کے معاملات میں کوئی نہ کوئی ایسا پہلو سامنے آجاتا ہے جس سے سوالات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے مہمند ڈیم کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود کی مبینہ کمپنی کو ملنے پر جو سوالات اٹھائے وہ ایک جمہوری ملک کی حزب اختلاف کی ذمہ داری کا حصہ ہیں، ان سوالات کے برمحمل یا بے محل ہونے کی وضاحت نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ اس باب میں ضروری تدابیر سمیت شفافیت کے تمام تقاضوں کا قوم کے سامنے آنا ضروری ہے۔ ماضی میں بہت سے ترقیاتی و تعمیراتی ٹھیکوں کی جو داستانیں گردش کرتی رہیں اور جن پر آج کی حکمراں پارٹی کی طرف سے بھی تحفظات ظاہر کئے گئے، ان سے تعلق رکھنے والے واقعات ایسے بہرحال نہیں جن پر پی ٹی آئی حکومت سے خاص اس نازک وقت میں صرف نظر کی امید رکھی جا سکے۔

    اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے حوالے سے میچ فکسنگ، یوٹرن، بندر بانٹ، کرپشن کہانی جیسے تبصرے آنے کے بعد حکومت کے جوابات میں ذاتی و قومی مفادات کے ٹکرائو کے الزام سے انکار، عبدالرزاق دائود کے مہمند ڈیم کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی سے کوئی تعلق نہ ہونے اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی طرف سے مہمند ڈیم کے لئے بولی کا عمل شروع ہونے کے وقت موجودہ حکومت کے اقتدار میں نہ ہونے کے موقف سامنے آئے ہیں تو ان کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے۔ تاہم فیصل واوڈا سمیت بعض حلقوں کی جانب سے کسی فرد یا قائمہ کمیٹی کا نام لئے بغیر اگر ایسے اعتراضات سامنے آرہے ہیں کہ قواعد و ضوابط کے خلاف ورزی کرتے ہوئے پندرہ بیس دن کا پیشگی نوٹس دینے سے اجتناب کرتے ہوئے کسی وزیر یا وزارت کو ایک ہی دن قبل حاضر ہونے کے لئے کہا گیا، تو یہ اور اس جیسے اعتراضات ایسے ہیں جن کا ایوان اسمبلی کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے کے لئے اچھی فضا میں حل نکالا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں چیئرمین واپڈا لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین، مشیرِ وزیر اعظم عبدالرزاق دائود کے ترجمان اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنسوں میں جو کچھ کہا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبدالرزاق دائود نے مشیرِ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے قبل کاروباری مفادات کے ٹکرائو سے بچنے کے لئے ٹھیکہ حاصل کرنے والی کمپنی سمیت اپنی تمام کمپنیوں کی سربراہی اور مفادات سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی۔ جہاں تک مہمند ڈیم پراجیکٹ کا تعلق ہے اس کی تعمیر کے لئے واپڈا نے 23؍ نومبر 2017ء کو بین الاقوامی مسابقتی بولیوں کے پری کوالیفیکشن، سنگل اسٹیج اور دو لفافے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ ان تمام باتوں کے باوجود اپوزیشن اور حکومت دونوں کو معاملات کا مل جل کر باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے۔ یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ نہ صرف مہمند ڈیم وقت سے پہلے مکمل ہو بلکہ ملک بھر میں چھوٹے بڑے آبی ذخائر کا جال بچھا دیا جائے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ

     


    0 0

    چین نے عارضی طور پر اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے کم ہوتے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے مالی مدد کر رہا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ’ چین نے امداد، تجارت، سرمایہ کاری اور تمام عملی تعاون کے ذریعے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے فروغ اور تعاون کے لیے پیش کش کی تھی اور یہ پیش کش جاری رہے گی‘۔ ان کی جانب سے یہ جواب فنانشل ٹائمز کی اس رپورٹ سے متعلق سوال پر دیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ چین نے پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مزید قدر کم ہونے سے روکنے کے لیے کم از کم 2 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔

    اس رپورٹ کے بعد چینی حکام کی جانب سے یہ پہلی مرتبہ تصدیق کی گئی کہ بیجنگ نے اسلام آباد کو مالی پیکج دینے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لو کینگ نے مزید بتایا کہ پاکستان اور چین ’تمام موسم کے اسٹریٹجک پارٹنر‘ ہیں اور دونوں متعلقہ تعاون پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ چین کی جانب سے جو امداد پاکستان کو دی جارہی ہے اس کی شرائط ابھی معلوم نہیں، تاہم یہ قیاس آرائیاں کی جارہی کہ یہ قرض زیادہ شرح پر دیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ بیجنگ کے دوران پاکستان نے رسمی طور پر چینی امداد کی کوشش کی تھی، جس کے بعد چینی قیادت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ معاشی بحران سے نکالنے میں پاکستانی کی مدد کرے گا لیکن اس بارے میں تفصیلات پر سرکاری اور ماہرین کی سطح کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

    ابتدائی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ چینی پیکیج میں پاک چین تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے کرنسی کے تبادلہ کا انتظام اور چینی منڈوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں اضافہ شامل ہو گا۔ اس کے علاوہ لی کینگ نے اپنے بیان میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ یہ ایک جامع پیکیج ہو گا۔  دوسری جانب پاکستان چینی اکویٹی مارکیٹ سے ایک ارب ڈالر تک ’پانڈا بونڈ‘ بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، اس کے علاوہ پاکستان اور چین اربوں ڈالر کے انفرا اسٹرکچر اور مواصلاتی منصوبے سی پیک کو مشترکہ طور پر شروع کیا ہوا ہے ۔  واضح رہے کہ اب تک سی پیک کے تحت کل 18 ارب 90 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے 22 ابتدائی منصوبے مکمل ہو گئے ہیں یا تکمیل کے مراحل میں ہے۔
    حکام کا کہنا تھا کہ سی پیک کو توسیع دی جا رہی اور 20 دسمبر کو دونوں ممالک نے مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس میں صنعتی تعاون پر مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جبکہ خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    بھارت نے افغانستان میں لائبریری کے قیام پر وزیر اعظم نریندر مودی کا مذاق اڑانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نکتہ چینی کی ہے اور ان کے تبصرے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ اسے افغانستان کے سلسلے میں مسٹر ٹرمپ کے وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بہت اچھی طرح ملے۔ لیکن وہ مجھ سے مسلسل کہہ رہے تھے کہ انھوں نے افغانستان میں ایک لائبریری قائم کی ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے پوچھا کہ آپ جانتے ہیں وہ کیا ہے؟ وہ ایسا ہے جیسے ہم نے پانچ گھنٹے صرف کیے۔ پھر انھوں نے استہزائیہ انداز میں کہا کہ اوہ! لائبریری کے لیے شکریہ۔ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ افغانستان میں اس کا استعمال کون کر رہا ہے۔

    بھارت کی حکمراں جماعت بی جے پی اور اصل اپوزیشن کانگریس نے صدر ٹرمپ کے اس تبصرے پر نکتہ چینی کی ہے۔ بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب صدر ٹرمپ افغانستان میں ہر دوسری مدد کی مذمت کر رہے ہیں تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت افغانستان میں صرف لائبریری ہی نہیں بلکہ سڑک، ڈیم، اسکول اور پارلیمنٹ کی عمارت بھی بنا رہا ہے۔ کانگریس کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے ٹرمپ کے تبصرے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو افغانستان میں بھارت کی امداد کے بارے میں بتائے۔ انھوں نے کہا کہ جناب صدر آپ بھارتی وزیر اعظم کا مذاق اڑانا بند کریں۔ بھارت کو افغانستان کے بارے میں امریکہ کے وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں۔

    خارجہ امور کے ماہر اور ایک سینئر تجزیہ کار قمر آغا نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ایسے بیانات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ ڈپلومیٹک انداز نہیں جانتے۔ ان کے بیانات سیدھے سادے ہوتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات سے ان کا دوہرا رویہ ظاہر ہوتا ہے۔ وہ نکتہ چینی اور مذمت بھی کرتے ہیں اور پھر اس ملک کے صدر یا وزیر اعظم کی تعریف بھی کرتے ہیں۔ یہ ان کا مزاج بھی ہے اور ان کی حکمت عملی بھی ہے۔ لیکن اس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ بھارت افغانستان میں جاری اپنی امدادی سرگرمیوں میں دو ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ افغانستان نے تاحال اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب نے نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی ہے۔ امریکہ افغانستان میں فوج بھیجنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالتا آیا ہے جسے بھارت مسترد کرتا رہا ہے.

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    قاضی حسین زیرک سیاستدان اور امت مسلمہ کا درد رکھنے والے ایسے رہنما تھےجنہوں نے جماعت اسلامی کو عوامی جماعت بنایا۔ قاضی حسین احمدنے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور رکن جماعت اسلامی کیا۔ اسکےبعد امیر جماعت اسلامی پشاور، امیر ضلع اور پھر صوبائی امیر کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں 1978ء میں جماعت اسلامی کے جنرل سیکر ٹری اور1987ء میں امیر جماعت منتخب ہوئے وہ 2004ء تک چار بار امیر جماعت منتخب ہوئے۔

    قاضی حسین احمد دو بار سینیٹر منتخب ہوئے۔ 2002ء کے انتخابات میں دو حلقوں سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہوں نے تمام دینی جماعتوں ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر کے متحدہ مجلس عمل ‘‘ تشکیل دی ۔ قاضی حسین احمد کا عزم ، حوصلہ، اور مقصد سے لگن کارکنوں کے لیے ایک مثال تھی۔ ان کے عوامی کردار کی وجہ سے’’ظالمو! قاضی آرہا ہے‘‘ کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ جماعت اسلامی کو نئی فکر اور نئی جہتوں سے روشناس کروانے کا سہرا بھی قاضی حسین احمد ہی کے سر ہے۔ وہ امت مسلمہ کے اتحاد کے بہت بڑے داعی تھے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کے لیے وہ عمر بھر کوشاں رہے۔

     


    0 0

    سن 2018 پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 90 سے زائد ہلاکتوں کے ساتھ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے تلخ یادوں کے ساتھ رخصت ہوا لیکن 2019 کا آغاز بھی ان کے لیے اچھا نہیں تھا اور سال کے دوسرے ہی روز ایک حادثے میں چار کان کن ہلاک ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ضلع دکی کی حدود میں چمالانگ کے علاقے میں پیش آئیں۔ چیف انسپیکٹر مائنز بلوچستان افتخار احمد نے بتایا کہ چمالانگ میں یہ حادثہ ایک کان میں گیس بھر جانے کی وجہ سے پیش آیا۔ گزشتہ دس روز کے دوران چمالانگ اور دکی کوئلہ کانوں میں رونما ہونے والا یہ چوتھا واقعہ تھا۔ ان واقعات میں مجموعی طور پر دس کان کن ہلاک ہوئے۔ مجموعی طور پر سنہ 2018 بلوچستان کی کوئلے کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوا۔

    پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل لالہ سلطان نے بتایا کہ سنہ 2018 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔ لالہ سلطان نے اس کی سب سے بڑی وجہ حفاظتی انتظامات کے فقدان کو قرار دیا۔
    ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی کانوں میں حادثات سے بچنے کے لیے چار پانچ حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کانکنوں کو نکالنے میں آسانی ہو۔

    مزدور رہنما کے مطابق بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔ لالہ سلطان نے اس کی ایک بڑی وجہ ٹھیکیداری کے نظام کو بھی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔‘ لالہ سلطان کے مطابق ٹھیکیدار اور پیٹی ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کے بجائے زیادہ تر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔
    انھوں نے بتایا کہ دکی اور چمالانگ میں اس وقت سب سے زیادہ حادثات پیش آرہے ہیں۔ مزدور رہنما کا دعویٰ ہے کہ کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔ بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔

    معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی
    چیف انسپکٹر مائنز افتخار احمد کا کہنا ہے کہ محکمے کی جانب سے تحفظ کے لیے جو بنیادی لوازمات ہیں ان کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمے کے پاس کانوں کا معائنہ کرنے کے لیے انسپکٹروں کی کمی ہے، تاہم انسپکٹروں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ افتخار احمد نے کوئلے کی کمپنیوں کے پرائیویٹ اہلکاروں اور کان کنوں کو بھی حادثات کا ذمہ دار ٹھیراتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی سیفٹی کا خیال نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمپنی کے لوگ اور کان کن خود سیفٹی کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر کا خیال نہ رکھیں تو ان کے پاس جدید سے جدید آلات ہوں بھی تو حادثات کو نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں محکمہ کی جانب سے سیفٹی کے لیے انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے گئے ہیں وہاں کان کنوں کی تربیت کے لیے بھی انتظامات کیے جارہے ہیں ۔

    محمد کاظم

    بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
     


    0 0

    ماسوائے حکومت کے ہر کوئی پریشان ہے کہ ملکی معیشت کے حالات بہتری کے بجائے‘ باوجود دوست ممالک کی خاطر خواہ امداد کے، خرابی کی طرف رواں دواں ہیں۔ حکومتی وزراء اور تحریک انصاف کے رہنما پُرامید ہیں کہ معیشت کے حالات اب بہتری کی طرف گامزن ہوں گے، مہنگائی کم ہو گی، روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو گا، پاکستان کی ایکسپورٹس بڑھیں گی اور ملک کی صنعت اور کاروبار ترقی کرے گا۔ سارا زور ’’گا، گی، گے‘‘ پر ہے کہ یہ ہو گا، وہ کریں گے۔ گزشتہ چار پانچ ماہ کے دوران جو کچھ کیا، اُس سے تو بہتری کے بجائے معاشی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ جن کو چور، ڈاکو کہہ کہہ کر حکومتی اہلکار نہیں تھکتے، اُن کے مقابلے میں اِن چار، پانچ ماہ کے دوران مہنگائی کافی بڑھ چکی ہے، بجلی، گیس، ایل پی جی، سی این جی اور پیٹرول سب کچھ مہنگا ہو گیا ہے۔

    کاروباری طبقہ معیشت کے حوالے سے بہت پریشان ہے جبکہ چند دن قبل تک تحریک انصاف حکومت کے ترجمان برائے معاشی امور‘ ڈاکٹر فرخ سلیم نے اپنے تازہ آرٹیکل میں معیشت کے جو اعداد و شمار پیش کیے، وہ انتہائی پریشان کن ہیں۔ مجھے ایک ریٹائرڈ جنرل صاحب جو اکثر ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں نظر آتے ہیں، نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں بتایا کہ حکومت کی معاشی پالیسی اور حکومتی ارکان کی طرف سے سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا کیے جانے پر ریاستی اداروں کو بھی پریشانی لاحق ہے۔ جنرل صاحب نے مجھے بتایا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو ریاستی اداروں کی طرف سے بھی Convey کیا گیا ہے کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے سے گریز کریں اور معیشت کی بہتری پر توجہ دیں۔ ٹی وی ٹاک شوز میں شرکت کرنے والے ریٹائرڈ جنرل صاحبان کو آج کل سنیں تو وہ بھی حکومت کی معاشی پالیسی اور بلاوجہ کے سیاسی لڑائی جھگڑوں سے کافی نالاں نظر آتے ہیں۔

    حکومت کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کو احتساب کرنے دیں اور اپنے بچکانہ بیانات سے سیاسی تلخی کو اتنا نہ بڑھائیں کہ سیاسی عدم استحکام کے حالات پیدا ہوں کہ جس میں نہ کوئی قانون سازی ممکن ہے اور نہ ہی معیشت اور کاروباری حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ یہاں تو بہت سے حکومت کے خیر خواہ حیران ہیں کہ چند ووٹوں کی اکثریت سے قائم ہونے والی مخلوط حکومت کے وزراء کس طرح اپنے مخالفین کی صوبائی حکومت کو ختم کرنے کی بات کر کے دراصل اپنی ہی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے سیاسی ماحول میں معیشت اور کاروبار کی بہتری ناممکن ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جو تحریک انصاف کی سیاسی قیادت اور وزراء کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے بجائے اس کو اپنے ہی بوجھ تلے دبتا دیکھنے کے انتظار میں ہے۔

    پاکستان کے لیے یہی بہتر ہے کہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کامیاب ہو، ہماری معیشت بہتر ہو، یہاں کاروبار بڑھے اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو۔ لیکن ایسا اُسی صورت میں ممکن ہو گا جب عمران خان کی حکومت سیاسی استحکام لانے میں کامیاب ہو گی اور اپنے ایسے وزراء اور رہنمائوں کو نکیل ڈالے گی جو دن رات اپوزیشن جماعتوں کو چور، ڈاکو کہتے نہیں تھکتے اور روز نت نئے تنازعات پیدا کر کے حکومت کے لیے محض مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ معیشت کا سیاسی استحکام سے گہرا تعلق ہے۔ اگر حکومت مستحکم نہیں ہو گی اور سیاسی عدم استحکام کے حالات کا ملک کو سامنا ہو گا تو کچھ بھی کر لیں، معیشت میں بہتری ممکن نہیں۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر آج پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے مدد کر رہے ہیں تو ایسا بار بار ممکن نہیں ہو گا۔ ایسا نہ ہو کہ ایک یا دو سال کے بعد ہماری وہی معاشی حالت دوبارہ ہو، جس کا ہمیں آج سامنا ہے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان اور سعودی عرب سرمایہ کاری کے ایک بڑے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کو تیار ہو گئے ہیں جس کے تحت گوادر میں کئی ارب ڈالر کی لاگت سے سعودی آرامکو آئل ریفائنری کی تعمیر ہو گی۔ سعودی عرب کے روزنامہ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب جلد ہی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے گا۔ قبل ازیں کابینہ کے ایک رکن نے تصدیق کی تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان فروری کے پہلے ہفتے میں پاکستان آئیں گے اور ان کی درخواست پر بننے والے پیٹروکیمکل کمپلیکس کی تعمیر کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے۔

    وزیر اعظم عمران خان نے اگست 2018 میں منصب سنبھالنے کے بعد اپنا پہلا غیرملکی دورہ سعودی عرب کا کیا تھا جبکہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو خسارے پر قابو پانے کے لیے 3 اعشاریہ 18 کی شرح سود پر 2 ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے جبکہ ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط بھی فروری کے پہلے ہفتے میں مل جائے گی۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ماہانہ 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی اوسط سے تیل کی فراہمی بھی اسی مہینے شروع ہو گی۔ عرب نیوز کے مطابق فرروی میں اعلیٰ سطح کے سعودی وفد کے سامنے پاکستان آئل ریفائنری سمیت سرمایہ کاری کے کئی معاہدوں پر دستخط کرے گا۔ 

    سعودی عرب سے 3 برس کے دوران 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے کیونکہ پاکستان میں آئل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل کی سرمایہ کاری سے بالترتیب 6 ارب ڈالر اور 10 ارب ڈالر کی آمدن کا تخیمنہ لگایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ ماہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے سرمایہ کاری کا ایک پیکیج آرہا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری ہو گی جس کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

     


    0 0

    وزیر اعظم عمران خان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد ترکی کے 2 روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے ترک صدر رجب اردوان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

    عمران خان نے ترکی کے شہر قونیہ پہنچنے پر عظیم صوفی بزرگ حضرت جلال الدین رومی کے مزار پر حاضری دی، انہوں نے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    وزیراعظم عمران خان قونیہ سے انقرہ پہنچے جہاں انہوں نے ترکی کی وزیر تجارت رہسار پیک جان نے ملاقات کی۔

    انہوں نے جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار پر پھول چڑھائے، وزیراعظم نے میثاقِ ملی بُرج میں محفوظ خصوصی رجسٹر پر اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔

    عمران خان نے انقرہ میں پاک ترک بزنس کونسل کے وفد سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم سرمایہ کاروں کو تحفظ دینا چاہتے ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ہم انہیں سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

    انہوں نے انقرہ میں ترک صدر کے ہمراہ جمعہ کی نماز ادا کی اور ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایوان صدر آمد پر وزیراعظم عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔










    0 0

    بہاولپور کے چولستان میں تاریخی قلعہ دراوڑ کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کیلئے اس کی تزئین وآرائش شروع کی گئی لیکن گزشتہ سال ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود قلعے کو اصلی شکل میں بحال نہیں کیا جا سکا۔ بہاولپور کے چولستان میں قلعہ دراوڑ کی تزئین وآرائش کا منصوبہ تین سال پہلے شروع کیا گیا جس کا تخمینہ لاگت 10 کروڑ روپے لگا کر سابقہ حکومت نے تین کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے لیکن موجودہ حکومت نے منصوبے کیلئے رواں سال صرف 80 لاکھ روپے ہی منظور کیے ہیں جس کی وجہ سے گزشتہ سال ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود قلعے کے 30 میٹر اونچے 40 میناروں کی تزئین وآرائش مکمل نہیں ہو سکی۔

    چولستان کے صحراؤں میں 29 چھوٹے بڑے قلعے تھے جن کے صرف آثار باقی ہیں لیکن قلعہ دراوڑ کے حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ کی منطق ہے کہ فنڈز کی فراہمی میں تاخیر سے منصوبے کے تخمینہ لاگت میں اضافہ نہیں ہوا اور اسی لیے منصوبے کی نئی ڈیڈ لائن دو سال کیلئے بڑھا دی ہے۔ قلعہ دراوڑ کو بادشاہ رائے ججہ نے 909ء میں تجارت کی غرض سے تعمیر کرایا تاہم 1866ء میں نواب صادق کے انتقال سے عباسی خاندان کے درمیان اس کے ملکیتی اختلافات شدت اختیار کر گئے جس سے تاریخی قلعہ عدم توجہ کے باعث مزید خستہ حالی کا شکار ہو گیا۔


    0 0

    امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان امریکی صدر کا ترکی میں استقبال کریں گے جس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ فارن پالیسی کے مطابق امریکا اور ترکی کے درمیان تعلقات میں مثبت تبدیلی کی تازہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے شام سے فوج نکالنے اور علاقے کو ترکی کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل ترک صدر امریکی فوج کو شام میں سخت نتائج کی دھمکیاں دیتے پائے گئے تھے۔
     


    0 0

    ایک مرتبہ پھر وزیر خزانہ نے وزارت صنعت و پیداوار کو پاکستان اسٹیل کی بحالی کے لیے منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر خزانہ نے پاکستان اسٹیل کو نجکاری کی فہرست سے نکالا تھا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ 45 دن میں اس کی بحالی کا منصوبہ پیش کرے مگر اس ہدایت پر آج تک عمل نہیں کیا جا سکا۔ محض ہدایات اور احکامات ہیں جن پر کوئی عملدرآمد بھی نہیں ہے اور کوئی اس بارے میں پوچھنے والا بھی نہیں ہے ۔ تازہ صورتحال یہ ہے کہ اسٹیل مل کی بحالی کے لیے حبکو پاورکی زیر قیادت ایک ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ حبکو پاور جسے اسٹیل انڈسٹری کا کوئی سابقہ تجربہ نہیں ہے وہ کیوں کر اس کی بحالی کے لیے عملی اقدامات تجویز کر سکے گی ۔ حکومت کی پاکستان اسٹیل میں دلچسپی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اعلیٰ اور درمیانی انتظامیہ میں کوئی افسر موجود ہی نہیں ہے یعنی پاکستان اسٹیل میں ایک بھی انتظامی ڈائریکٹر اور جنرل منیجر موجود نہیں ہے۔ 

    بس جونیئر افسران کو قائم مقام مقرر کر کے کام چلایا جا رہا ہے ۔ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک بھی میٹلرجیکل یا اسٹیل انڈسٹری کے شعبے سے تعلق نہیں رکھتا۔ ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس صورتحال میں مل کی بحالی کیوں کر اور کس طرح ہو سکے گی اور کون کرے گا۔ وزارت صنعت وپیداوار نے پاکستان اسٹیل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس فوری طور پر بلا کر حبکو کو ضروری ڈیٹا فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک یہ اجلاس طلب نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے حبکو کی ٹیکنیکل کمیٹی کی قانونی حیثیت بھی مشکوک ہے ۔

    ایسے میں اسٹیک ہولڈرز گروپ کے یہ خدشات بالکل درست معلوم ہوتے ہیں کہ ٹیکنیکل کمیٹی کا پاکستان اسٹیل کے ساتھ مفادات کا ٹکراؤ ہے اور اسے نجی شعبے کی پاکستان اسٹیل پر اجارہ داری کے لیے سامنے لایا گیا ہے اور عملی طور پر ٹیکنیکل کمیٹی پاکستان اسٹیل کی بحالی کو سبوتاژ کر رہی ہے۔ حکومتوں کی جانب سے پاکستان اسٹیل کی بحالی کے دعووں کو اس سے بھی جانچا جا سکتا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو آج تک ایک بھی بیل آؤٹ پیکیج نہیں دیا گیا۔ بیل آؤٹ کے بجائے اس پر قرضوں کا بوجھ چڑھا دیا گیا۔ پاکستان اسٹیل کے خسارے میں جانے کی وجوہات پر خود حکومتی اداروں میں واضح اختلاف ہے ۔ وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ عالمی مندی کی وجہ سے پاکستان اسٹیل مل خسارے میں گیا جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کہتی ہے کہ خسارے کی وجہ کرپشن ہے ۔

    موجودہ حکومت کے آنے کے بعد سے پاکستان اسٹیل کو مزید 16 ارب روپے کا خسارہ ہو چکا ہے مگر کسی نے ابھی تک وجوہات بھی نہیں پوچھیں۔ کرپشن کے خلاف نعرہ بلند کرنے والے عمران خان وزیر اعظم ہیں مگر پاکستان اسٹیل مل میں کرپشن کرنے والوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ۔ 2012 میں عدالت عظمیٰ نے نیب کو تین ماہ کا وقت دیا تھا کہ مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے تاہم ساڑھے چھ سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج تک کسی نے نیب سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔ پاکستان اسٹیل کے صرف ایک سربراہ کے خلاف تو عدالت میں کیس چلایا گیا مگر ان سے قبل کے اور بعد کے تمام سربراہان چین کی بانسری بجا رہے ہیں ۔ اب تو سیاسی جماعتوں کے علاوہ دیگر لوگ بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا احتساب صرف چند لوگوں کے لیے ہے ۔

    اداریہ روزنامہ جسارت


    0 0

    سعودی عرب کے وزیر توانائی، صنعت و معدنی وسائل وفاقی خالد عبد العزیز الفلیح کی زیر قیادت سعودی وفد نے مجوزہ آئل ریفائنری کے لیے مختص جگہ دیکھنے کے لیے گوادر کا دورہ کیا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈویژن غلام سرور خان نے گوادر پہنچنے پر سعودی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر غلام سرور خان نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں، سعودی وزیر گوادر میں آئل ریفائنری کی جگہ دیکھنے آئے ہیں اور گوادر میں جلد آئل ریفائنری قائم جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کی آمد پر آئل ریفائنری کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی پاکستان میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہو گی۔ سعودی وفد میں آرامکو سے جڑی کمپنی البوینین گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) بھی شامل تھے۔ واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان رواں ماہ سعودیہ کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے امکانات ہیں۔
    آئندہ دو ماہ کے دوران حکومت چین، متحدہ عرب امارات اور ملائیشیا کے ساتھ بھی اسی طرح کی یادداشتوں پر دستخط کرے گی۔
     


    0 0

    اقلیدس یونانی فلسفی اور ریاضی دان تھا، وہ کہتا ہے 

    ٭ علم رکھنے والا اگر اس پر عمل نہ کرے تو وہ ایک بیمار کی مانند ہے جس کے پاس دوا ہے لیکن وہ استعمال نہیں کرتا۔ 

    ٭ دو بھائیوں میں دشمنی نہ ڈالو کیونکہ ان میں صلح ہو ہی جائے گی اور پھر تمہیں برا ٹھہرایا جائے گا۔ 

    ٭ کم کھاؤ، اس سے تمہارا نفس مغلوب ہو جائے گا۔ 

    ٭ جو اپنے آپ کو دوسروں سے کم تر سمجھے وہ بہت بڑا عارف ہے۔ 

    ٭ ملازم رکھنے میں امانت اور کام کی پوری لیاقت کے سوا کسی کی ہرگز سفارش قبول نہ کرو۔ 

    ٭ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو۔ 

    ٭ جو شخص کسی ایسی چیز کی تعریف کرے جو تم میں نہ ہو، وہ ایسی برائی بھی منسوب کرے گا جو تم میں نہ ہو گی۔ 

    ٭ دانا وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ سنے اور جو گردشِ ایام سے تنگدل نہ ہو۔ 

    ٭ غیر عادل سلطان پر، اس سخی پر جو مال بے موقع صرف کرے اور اس دولت مند پر جو حسنِ تدبیر نہ رکھتا ہو افسوس کرو کیونکہ عنقریب یہ برباد ہو جائیں گے۔ 

    ٭ اس وقت نیکی کمال کو پہنچ جاتی ہے جب آدمی اپنے بدخواہوں کا بھی خیر خواہ ہوتا ہے۔ 

    ٭ جب کسی آدمی کو اس کی بساط سے زیادہ دنیا مل جاتی ہے تو وہ لوگوں سے برا سلوک کرتا ہے۔ 

    ٭ اپنے نفس کو اپنے قابو میں رکھو۔ 

    ٭ دوسروں کے مال پر نظر مت رکھو۔ 

    (انتخاب: شہباز علی)


    0 0

    کیا آپ دن کا زیادہ وقت سوشل میڈیا نیٹ ورکس جیسے فیس بک کو استعمال کرتے ہوئے گزارتے ہیں؟ اگر ہاں تو بری خبر یہ ہے کہ اس عادت کے نتیجے میں آپ کا دماغ مختلف معاملات میں کسی منشیات کے عادی شخص جیسے رویے کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں اس خیال کی جانچ پڑتال کی گئی کہ سوشل میڈیا کی لت کس حد تک انسانی رویوں پر اثرانداز ہوتی ہے۔  نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ایسے رویوں کو فروغ دیتا ہے جو کہ ہیروئین یا دیگر منشیات کے عادی افراد میں دیکھنے میں آتا ہے۔

    اس تحقیق میں 71 رضاکاروں میں فیس بک کے استعمال کے اثرات دیکھے گئے اور ایک ٹیسٹ کا حصہ بنایا گیا جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کس حد تک متاثر ہو چکی ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جن رضاکاروں نے تسلیم کیا کہ وہ فیس بک پر بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہوں نے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں ٹیسٹ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس طرح کے آئی جی ٹی ٹیسٹ کو دماغی انجری کے شکار افراد سے لے کر ہیروئین کے عادی لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ اس سوشل میڈیا لت کو جانچنے کے لیے آزمایا گیا۔

    محققین کے مطابق اس ٹیسٹ کو سوشل میڈیا کی لت کے بارے میں جاننے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے بارے میں کافی کچھ جاننا ممکن ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں اس طریقہ کار کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہو گا کہ کوئی شخص کس حدتک سوشل میڈیا کا استعمال کرتا ہے اور اس کا دماغی کس حد تک اس عادت سے متاثر ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں فی الحال فیس بک صارفین پر مرتب اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا مگر مستقبل میں مختلف سوشل نیٹ ورکس کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔ محققین کے مطابق فیس بک کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ سب سے زیادہ مقبول ہے مگر امکان ہے کہ دیگر سوشل میڈیا سائٹس کے استعمال کے نتائج بھی اسی سے ملتے جلتے ہوں گے۔

    اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف بی ہیوئیرل اڈیکشن میں شائع ہوئے۔ اس سے پہلے 2017 میں امریکا کی ڈی پال یونیورسٹی کی تحقیق میں بھی بتایا گیا کہ سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک کا زیادہ استعمال دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دماغ کے دو مختلف میکنزم اس عادت کے نتیجے میں متاثر ہوتے ہیں جن میں سے ایک خودکار اور ردعمل کا اظہار کرتا ہے جبکہ دوسرا رویوں کو کنٹرول اور دماغی افعال کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ یہ دوسرا نظام لوگوں کو بہتر رویے کو اپنانے اور اضطراب پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔ 

    اسی طرح امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں ثابت ہوا کہ جو لوگ کسی المناک واقعے سے متعلق جاننے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس کو بہت زیادہ چیک کرتے ہیں، انہیں نفسیاتی مسائل کا سامنا دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ویب سائٹ پر غلط معلومات کا پھیلنا بہت آسان ہوتا ہے جس سے بھی کسی فرد کی ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب کوپن ہیگن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ فیس بک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ وقت گزارنا ڈپریشن کا باعث بنتا ہے اور جذباتی کیفیات متاثر ہوسکتی ہیں۔ اس تحقیق کے دوران 1100 افراد کی آن لائن عادات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    پاکستان کا اتحادی ملک سعودی عرب گوادر کی بندرگاہ پر دس بلين ڈالر ماليت کی ايک آئل ريفائنری تعمير کرنا چاہتا ہے۔ اس ممکنہ سرمايہ کاری سے سعودی عرب بھی سی پيک کا ايک پارٹنر ملک بن جائے گا۔ رياض حکومت پاکستان ميں دس بلين ڈالر ماليت کی ایک آئل ريفائنری تعمير کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ يہ بات سعودی وزير برائے توانائی خالد الفليح نے گوادر ميں بتائی۔ انہوں نے کہا، ’’سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاک چين اقتصادی راہ داری ميں پارٹنرشپ کی صورت ميں اور ايک آئل ريفائنری کے قيام سے پاکستان کی اقتصادی ترقی کو مستحکم بنايا جائے۔‘‘ خالد الفليح نے مزيد کہا کہ اس بارے ميں حتمی سمجھوتے پر دستخط کرنے کے ليے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان فروری ميں پاکستان آئيں گے۔

    پاکستان کو ان دنوں مالياتی خسارے کا سامنا ہے، جس کی ايک وجہ بڑھتی ہوئی تيل کی قيمتيں بھی ہیں۔ ايسے ميں اسلام آباد حکومت کی کوشش ہے کہ ملک ميں سرمايہ کاری بڑھائی جائے۔ پچھلے سال سعودی عرب نے پاکستان کو چھ بلين ڈالر کے پيکج کی پيشکش کی تھی، جس ميں خام تيل کے حصول کے ليے رقوم بھی شامل تھيں۔ اس بارے ميں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزير برائے پٹروليم مصنوعات نے کہا، ’’گوادر ميں آئل ريفائنری کے قيام سے سعودی عرب سی پيک ميں ايک اہم پارٹنر بن جائے گا۔‘‘

    پاک چين اقتصادی راہ داری منصوبے يا سی پيک کے ليے چين ساٹھ بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا اعلان کر چکا ہے۔ منصوبے کے تحت پاور اسٹيشنز، شاہراہوں، ريلوے لائنوں اور بندر گاہوں کا قيام عمل ميں آئے گا۔ اس منصوبے کے ذريعے پاکستان کے راستے مغربی چين کا دروازہ دنيا کے ليے کھل جائے گا۔ سعودی نيوز ايجنسی ايس پی اے کے مطابق وزير برائے توانائی الفليح نے گوادر ميں پاکستانی وزير برائے پيٹروليم مصنوعات غلام سرور خان کے علاوہ وزير برائے بحری امور علی زيدی سے بھی ملاقات کی۔ اس اہم ملاقات ميں ريفائننگ، پيٹرو کيميکلز، کان کنی اور قابل تجديد توانائی کے سيکٹرز ميں سرمايہ کاری کے مواقع کا بھی جائزہ ليا گيا۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    جب میں پچیس برس پہلے بیجنگ آیا تھا تو ڈِنگ شیاوپِنگ کی اصلاحاتی اور چین کے دروازے دنیا کے لیے کھولنے کی پالیسیاں اپنے عروج پر تھیں۔ اگر میں سن انیس چورانوے میں چین کے بارے میں یہ پیش گوئی کرتا کہ وہ سن دو ہزار اٹھارہ میں کیسا نظر آئے گا ؟ تو اس وقت لوگ یقیناﹰ مجھے ایک پاگل قرار دیتے۔
    اُس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چین اس قدر تیزی سے، خاص طور پر حالیہ عشرے میں، مغرب کے مقابلے میں آ جائے گا۔ ایک طویل عرصے سے مغرب اور چین کے مابین طاقت کا ایک توازن برقرار تھا۔ مغرب کے پاس ٹیکنالوجی تھی اور چین ایک بہت بڑی منڈی ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے ایک فیکڑی بھی تھا۔ چین میں مغربی مصنوعات کی کاپی تیار کرنے کو کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا جاتا تھا۔

    اب چین خود ایجادات کا ملک بن چکا ہے۔ چینی کاروباری اداروں نے ’وی چیٹ پے اور علی پے‘ جیسی ایپلی کیشنز کے ساتھ بینک اور مالیاتی دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے۔ ہواوے کے اسمارٹ فونز اپیل کی طرح جدید ہیں اور عالمی سطح پر فروخت کے معاملے میں وہ امریکی آئی فون کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے ہی چین نے چاند کے آنکھوں سے اوجھل سائیڈ پر لینڈنگ کرتے ہوئے تاریخ رقم کی ہے۔ چین میں الیکڑک بسیں ایک عام سی بات ہیں جبکہ جرمنی جیسے ملک میں یہ ابھی بھی پائلٹ پروجیکٹس کے تحت چلائی جا رہی ہیں۔ اگر مصنوعی ذہانت کی بات کی جائے تو اس میدان بھی وہ اپنے حریف ممالک سے پیچھے نہیں ہے۔

    چینی ترقی نئی نہیں
    مغرب میں بہت سے لوگ ابھی تک حیران ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے؟ ایسے افراد اصل میں اپنے ہی دقیانوسی خیالات کا نشانہ بنے ہیں۔ یہ سمجھتے تھے کہ چینی صرف نقلی مصنوعات تیار کرنے میں تیز ہیں۔ لیکن یہ شاید ان کی چھوٹی سی بیوقوفی تھی۔ ایک اعشاریہ چار ارب انسانوں کی آبادی میں ذہین نوجوانوں کا گروہ خود کو کیوں نہیں منوا سکتا ؟ جیسے ہی اقتصادی فریم ورک نے جگہ بنائی، ایجادات کا عمل شروع ہو گیا۔ چین میں ایجادات اور ترقی کا سفر شاید مغرب کے لیے تو حیران کن ہے لیکن خود چینیوں کے لیے نہیں ہے۔ مغرب میں چین کو غیر ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا لیکن خود چینیوں کے خیال میں ان کا ملک ایک کمزور اور عارضی مرحلے سے گزر رہا تھا۔ چینی مفکرین کے خیال میں 150 برسوں بعد اب ان کا ملک معمول کے مطابق آتا جا رہا ہے۔ سن 1820ء میں چین دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی قوت تھا۔ اس کے بعد افیون جنگ سے لے کر جاپانی حملے تک ایک توہین آمیز صدی کا آغاز ہوا۔ شکر ہے اب یہ دور ختم ہو چکا ہے۔

    ڈی ڈبلیو کے فرانک زیرین بیجنگ میں بیس برس سے زائد قیام کر چکے ہیں
    اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں مغرب نے چین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے پیچھے اُس چینی سلطنت کے غرور کا بھی ہاتھ تھا، جو خود کو دنیا کا مرکز سمجھتی تھی اور جس نے اُس وقت ٹیکنالوجیکل ترقی سے منہ موڑا، جب یہ یورپ میں قدم جما رہی تھی۔ چنگ سلطنت کا خیال تھا کہ وہ اس کے بغیر بھی سب کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور صنعتی انقلاب کے دوران سوئی رہی۔ اس وقت کے کانگ یوائی اور لیانگ کیچاؤ جیسے اصلاحات پسندوں کو ملک چھوڑنے یا پھر موت کے پھندے کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں چین کو منظم طریقے سے چلانا ناممکن ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے یہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا۔ اب چالیس برس بعد گزشتہ دسمبر میں چین نے ایک مرتبہ پھر دنیا کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔ مختلف معاملات کے حوالے سے اب بھی چین پر تنقید کی جا سکتی ہے لیکن اگر ٹیکنالوجی کی بات کی جائے تو چین اس مرتبہ کشتی پر سوار ہو چکا ہے۔ ایک سخت سبق سیکھنے کے بعد وہ باقی دنیا سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جرمنی نے بھی آغاز چین کی طرح کیا
    اس امر کو اب بھلایا جا چکا ہے کہ کبھی جرمنی نے بھی برطانوی ریل کے انجنوں کی کاپی تیار کی تھی اور ’میڈ اِن جرمنی‘ کو برطانوی اشیاء کی سستی نقل سمجھا جاتا تھا۔ ٹیکنالوجی اور صنعت کی دنیا میں جرمنی کا عروج ایک دم سے ہوا تھا لیکن اس کے برعکس چین تو پھر بھی ماضی میں کئی صدیوں تک دنیا کے جدید ممالک میں شامل رہا ہے۔ کاغذ، چینی مٹی کے برتن، بندوق پاؤڈر اور کمپاس جسیی ایجادات اسی ملک میں ہوئیں۔ مغرب کو اپنا یہ نظریہ اب ترک کر دینا چاہیے کہ چین صرف سستی نقول تیار کرنے والا ملک ہے۔ چین میں ایجادات کے لیے آزادی میسر ہے۔ نقول تو آرڈر پر تیار کی جا سکتی ہیں لیکن تخلیق اور جدت کی صلاحیت کو ایسے تیار نہیں کیا جا سکتا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ چین کا مغربی دنیا پر انحصار کم ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن مغرب کا چینی مارکیٹ پر انحصار کم نہیں ہو رہا۔ جرمنی کے مشہور کار ساز ادارے وی ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹیو کا حال ہی میں کہنا تھا، ’’فوکس واگن کا مستقبل چینی مارکیٹ طے کرے گی۔‘‘

    بشکریہ DW اردو
     


older | 1 | .... | 146 | 147 | (Page 148) | 149 | newer