Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 144 | 145 | (Page 146) | 147 | 148 | 149 | newer

    0 0

    پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں کشیدگی یوں تو ہمیشہ رہی لیکن اچھے ہمسائیوں کے طور پر رہنے کے لیے جتن بھی خوب ہوئے۔ عالمی و علاقائی حالات اور ان کوششوں کے سبب کئی بار وہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ یا یوں ہوا کہ ٹکراؤ کی صورت حال کو ٹال دیا گیا۔ حال ہی میں ایسی ایک کوشش کی گئی جو کامیاب ہوئی۔ کرتار پور راہداری سے طے کیا جانے والا سفر چاہے مختصر ہو لیکن خطے کی سیاست اور باہمی تعلقات کے حوالے سے یہ کہیں بڑا سفر ہے۔ یہ سفر جوہری ہتھیار رکھنے والے دو ممالک کے درمیان طے ہوا ہے ، جن میں دنیا کی کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ آباد ہے۔ اس لیے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنا خاصا اہم ہے۔ 

    راہداری کے افتتاح کی خبر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے موجودہ دور کے انتہائی تیز خبررساں یعنی ٹویٹر سے دی تھی مگر داستان کا آغاز عمران خان کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری سے ہوا۔ سابق کرکٹر اور حالیہ وزیر نوجوت سنگھ سدھو ان معروف بھارتیوں میں شامل تھے جنہیں عمران خان کی جانب سے تقریب حلف برداری میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔ جن دنوں وہ اس تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے کیمرے کی آنکھ کے سامنے ان کی ملاقات آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ہوئی تھی، اور انہوں نے ان سے کوئی بات بھی کی تھی۔ بات کچھ وقت کے لیے معمے کی صورت اختیار کر گئی۔ یہ گتھی جلد سلجھ گئی۔

    سدھو نے بتایا کہ انہیں کرتار پور راہداری کھولنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ واپس جا کر انڈیا میں ایک پریس کانفرنس کے موقع پر سدھو نے واضح کیا کہ پاکستان گرونانک کی 550 ویں سال گرہ پر کرتارپور کا راستہ کھولنے کو تیار ہے، پنجاب کے لوگوں کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۔ عین ممکن ہے اس سلسلے میں بیک ڈور سفارت کاری کا عمل پہلے سے جاری ہو، لیکن جو سامنے تھا، سامنا اسے ہی کرنا پڑا۔ سدھو کو پاکستان آنے کے فیصلے پر بھارت میں انتہا پسند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا۔ بہرحال پاکستان نے سکھوں کے مذہبی پیشوا گرونانک کی 550 ویں سال گرہ کی مناسبت سے جس مختصر سی راہداری کو کھولنے کا اعلان کیا تھا اب وہ حقیقت بننے جا رہا ہے۔

    بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی سیاسی اور بھارتی کاروباریوں کی معاشی کامیابیوں کے بعد بھارت میں جو فضا قائم ہوئی ہے اس میں پاکستان مخالف لہر واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ پس پاکستان سے واپس جا کر سدھو کو کڑے سوالوں کے جواب دینا پڑے۔ صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرنے والے سدھو کل دوبارہ ایک وفد کے ساتھ پاکستان پہنچے تاکہ کرتار پور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شریک ہو سکیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے سدھو اور دیگر کے علاوہ بھارتی وزیر خارجہ سشماسوراج کو بھی کرتار پور راہداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے پہلے سے طے شدہ مصروفیات کو وجہ بتا کر اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی۔

    پاکستان میں اس راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں ’’ہائی پروفائل‘‘ بھارتی شریک نہ بھی ہوں تو بھی اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ بظاہر یہ سہولت زائرین کے لیے ہے یعنی اس کی نوعیت مذہبی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں اس کی کڑیاں سیاست، معیشت، عسکریت ودیگر شعبوں سے جا ملتی ہیں۔ اسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا نا چاہیے۔ بھارت میں مذہبی انتہاپسندوں کو پاکستان سے تعلقات اور تعاون کی ہر کاوش کھٹکتی ہے۔ ان کی حیات اور نمو باہمی تناؤ، کشیدگی اور نفرت کی مرہون منت ہے۔ مگر کرتار پور پر شاید وہ بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اگر مخالفت کرتے تو کس بنیاد پر؟ کروڑوں سکھوں کو ناراض کیسے کرتے؟ پس اس معاملے پر بھارت میں ان دنوں قدرے خاموشی رہی۔

    بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی ایسے افراد موجود ہیں جو کھلے دل اور وسیع النظری کا مظاہرہ نہیں کرتے اور باہمی امن کے لیے ہونے والی کاوشوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا انہیں سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کرتار پور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ ہے تو پاکستان کے ضلع نارووال میں لیکن انڈیا کی سرحد کے بالکل قریب۔ انڈیا میں واقع قریب ترین ریلوے سٹیشن سے اس کا فاصلہ چند کلومیٹر ہے۔ راہداری کا کچھ حصہ پاکستان تعمیر کرے گا اور کچھ انڈیا۔بھارت نے اپنی جانب سے سرحد تک راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔

    انڈیا کے نائب صدر ونکیا نائیڈو اور انڈین پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر وزیرِ اعلی امریندر سنگھ کا کہنا تھا کہ اب یاتریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ سکھوں کے مطابق گرو نانک 1522ء میں کرتار پور گئے تھے اور انہوں نے زندگی کے آخری 18 برس وہیں گزارے۔ ان کا انتقال بھی وہیں ہوا اور گرودوارہ بھی وہیں تعمیر کیا گیا۔ لہٰذا وہ اسے انتہائی مقدس مانتے ہیں۔ فی الحال انہیں طویل فاصلہ طے کر کے یہاں جانا پڑتا ہے۔ ان کی ایک مشکل آسان ہوئی۔ اب اس سے بڑھ کر یہ تمنا کی جانی چاہیے کہ کشمیریوں کی مشکلیں آسان ہوں، جو کہیں زیادہ بڑی ہیں۔

    رضوان عطا


     


    0 0

    ’’ہم نے دوسروں کی مسلط کردہ جنگ اپنے ملک میں اپنے خون، پسینے اور اقتصادی نقصان کی صورت میں بھاری قیمت چکا کر لڑی ‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان پر امریکی فوج کشی کے بعد پچھلے سترہ سال کے دوران خطے کے اندر پیدا ہونے والی صورت حال کے باعث بدترین تباہی کا شکار ہونیوالے سابق فاٹا اور اب صوبہ خیبرپختون خوا میں شامل قبائلی علاقے وزیرستان کے دورے میں منتخب عمائدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس علاقے کی جلد از جلد مکمل بحالی کے لیے بھاری مالی معاونت، مکانات، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر اور زندگی کی تمام ضروری سہولتوں کی فراہمی کے بڑے منصوبوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ نہ صرف مذکورہ بالا حقیقت کا کسی لاگ لپیٹ کے بغیر برملا اعلان کیا کہ بلکہ پوری قوم کے دلی احساسات کی بالکل درست ترجمانی کرتے ہوئے پوری دنیا کو یہ فیصلہ بھی سنا دیا کہ ’’آئندہ ہم پاکستان کے اندر کبھی کوئی پرائی جنگ نہیں لڑیں گے‘‘۔ 

    وزیر اعظم کا یہ جرأت مندانہ اعلان فی الحقیقت پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو یقینی بنانے کے عزم کا خوش آئند اظہار ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے کسی ایسے ملک کے قیام کی جدوجہد نہیں کی تھی جو ایک یا دوسری عالمی طاقت کے مفادات کے لیے استعمال ہوتا رہے۔ قائد اعظم کسی بھی عالمی بلاک سے وابستہ نہ ہونے کی غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے دنیا کے تمام ملکوں سے برابری کی سطح پر دوستانہ تعلقات کے حامی تھے لیکن بدقسمتی سے ان کے بعد یہ حکمت عملی جاری نہ رہ سکی اور آزادی کے سات سال بعد سیٹو اور پھر سینٹو نامی دفاعی معاہدوں میں شامل ہوکر پاکستان مکمل طور پر امریکی بلاک کا حصہ بن گیا۔ 

    اس کے بعد پاکستان تو ان معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ہر موقع پر امریکہ کے کام آتا رہا لیکن امریکہ نے نہ تو پاک بھارت جنگوں میں دفاعی معاہدوں کی پابندی کی نہ تنازع کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کیا ۔ اس کے باوجود افغانستان پر سوویت فوج کشی کے بعد پاکستان نے افغان جہاد کی بھرپور حمایت کر کے عملاً امریکی مفادات کی تکمیل کی اور پھر نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان کے خلاف فوجی اقدام کیا تو اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں نے لاجسٹک سپورٹ کے نام پر اس میں بھرپور تعاون کیا۔ پاکستانی قوم روز اول سے اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتی تھی اور عمران خان سمیت کئی قومی رہنما یہ بات علانیہ کہتے بھی رہے.

    لیکن اسلام آباد کی جانب سے امریکہ کا ساتھ دینے کے نتیجے میں جب افغانستان میں مزاحمت کرنے والی قوتوں نے پاکستان میں بھی دہشت گردی شروع کر دی اور پورے ملک کا امن وامان تباہ ہو کر رہ گیا نیز پچھلے دور حکومت جب میں مذاکرات کے ذریعے ان عناصر کو کسی پرامن حل پر آمادہ کرنا ممکن ثابت نہیں ہوا تو بالآخر مکمل قومی اتفاق رائے سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا اور اللہ کا شکر ہے کہ اس کے نتیجے میں بڑی تیزی سے حالات پر قابو پا لیا گیا اور آج شمالی و جنوبی وزیرستان جو کبھی دہشت گردی کا گڑھ تھے، پوری طرح پرامن ہیں۔

    لیکن واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ہم افغانستان میں بھی مزاحمت کار تنظیموں کے خلاف کارروائی میں عملی تعاون کریں جبکہ اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ افغانستان کی جنگ پاکستان لے آئی جائے۔ تاہم پاکستانی قوم اب کوئی پرائی جنگ اپنی سرزمین پر لڑنے کے لیے تیار نہیں اوروزیر اعظم نے قوم کے اس فیصلے کا کھلا اعلان کر دیا ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں پرائی جنگیں نہ لڑنے کا یہ فیصلہ ہمارے قومی مفاد کا ناگزیر تقاضا ہے اور اسے بہرصورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ تاہم جہاں تک بات چیت کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کا تعلق ہے تو پاکستان اس میں مکمل تعاون کربھی رہا ہے اور مزید تعاون کے لیے تیار بھی ہے کیونکہ افغانستان کا امن خود پاکستان کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے اوروزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں یہ بات بھی بخوبی واضح کر دی ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے فائر کی گئی پیلٹ گن سے ایک 19 ماہ کی بچی کی آنکھیں بری طرح زخمی ہوئیں جس سے وادی میں ایک بار پھر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیاں میں حبا جان ہسپتال سے گھر واپس آئیں تو متجسس ہمسائے جن میں بہت سارے بچے بھی شامل تھے، چھروں کا ’نشانہ بننے والی کم عمر‘ بچی کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ایک ہمسائی امینہ نے حبا کے گالوں کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ 'تمھیں کیا ہو گیا ہے، میری گڑیا۔' 'مجھے چھوڑو'، حبا چلاتے ہوئے اپنے زخمی دائیں آنکھ کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ملنے کی کوشش کرنے لگی۔ ان کی ماں مرسلہ جان نے اس کے ہاتھ پیچھے ہٹائے۔

    چند لمحے بعد، اس کی ماں نے مہمانوں سے بھرے کمرے میں اعلان کیا کہ اس کی بیٹی کی ایک اور سرجری ہو گی۔ اس اعلان سے کمرے میں ٹھنڈی آہیں اور صحت یابی کی دعائیں بلند ہوئیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حبا کے ابھی بہت آپریشن ہوں گے۔ حبا کا جس ہسپتال میں علاج ہوا اس کے شعبہ امراض چشم کے سربراہ سلیم تاک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دوسری سرجری کے بعد ہی ہم آنکھ کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘ شاید وہ اپنی اس آنکھ کی بیشتر بینائی کھو دیں۔ 19 ماہ کی اس زخمی لڑکی کی تصاویر سے اس مسلم اکثریتی علاقے میں عوامی غم و غصہ ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔

    انڈیا اور پاکستان دونوں کشمیر پر دعویٰ کرتے ہیں اور دونوں ممالک نے اس کے کچھ حصوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ انڈیا پاکستان پر اس خطے میں بدامنی کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ اسلام آباد اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مظاہرین پر پیلٹ گنز کے استعمال سے ایک اندازے کے مطابق خطے میں تقریباً تین ہزار افراد 'آنکھوں سے محروم ہوئے ہیں، مقامی افراد اسے 'مردہ آنکھ کی وبا'قرار دیتے ہیں۔ عوامی غصے کے باوجود انڈین سکیورٹی فورسز نے پیلٹ گنز کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔

    حبا اپنے گھر پر اپنے بڑے بھائی کے ساتھ کھیل رہی تھی جب گاؤں کے افراد کا سکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا، جب قریبی گاؤں کپران میں چھ علیحدگی پسند باغی پھنس گئے تھے۔ ان باغیوں کو بعد میں مار دیا گیا تھا۔ علاقے میں انڈیا مخالف نعرے بازی ہوئی اور سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی۔ یہ تصادم حبا جان کے گھر کے داخلی راستے سے چند میٹرز کے فاصلے تک پہنچ چکا تھا۔ 'میں ناشتہ بنانے کی تیاری کر رہی تھی جب میں نے بری طرح کھانسنا شروع کر دیا۔ آنسو گیس کے شیلز کا سرمئی دھواں گھر میں داخل ہو چکا تھا'، حبا کی ماں اس کے گھر میں دو بچوں کے ساتھ اکیلی تھیں، انھوں نے بتایا کہ 'ہر گزرتے ہوئے منٹ کے ساتھ ہوا مزید سانس لینے کے قابل نہیں تھی۔'

    انھوں نے بتایا کہ 'حبا نے قے کرنا شروع کر دی اور میرے پانچ سالہ بیٹے کو سانس لینے میں مشکل ہو رہی تھی۔' بچوں کی حالت خراب سے خراب تر ہونے پر مرسلہ جان نے حبا کو بانہوں میں اٹھا لیا، اپنے بیٹے شہادت کا ہاتھ پکڑا اور باہر بھاگیں، لیکن وہ افراتقری میں پھنس گئیں۔ مرسلہ جان نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے فورسز کو اپنی جانب فائرنگ کرتے دیکھا تو میں اپنے بیٹے کو اپنے پیچھے کر لیا اور حبا کو منہ اپنے ہاتھ سے چھپا لیا۔' ایک سپاہی کی جانب سے پیلٹ گن کی تین فائر ان کی جانب کیے گئے جو مرسلہ کے ہاتھ پر لگے لیکن ایک حبا کی دائیں آنکھ میں جا لگا۔ حبا چلائی کہ 'ماں، یہ جل رہا ہے'اور اس کی آنکھ سے خون بہنے لگا۔ مرسلہ جان اس کے بعد بے ہوش ہو گئیں۔ انھیں اس وقت ہوش آیا جب انھیں گاؤں سے ایمبولینس پر سری نگر ہسپتال پہنچایا جا رہا تھا اور ان کے اردگرد ان کے ہمسائے تھے۔

    "'میں تچے دگ'یعنی میں درد میں ہوں، حبا مسلسل ٹوٹی پھوٹی زبان میں اپنی ماں کو بتا رہی تھی۔ ہسپتال میں اس کی ماں وارڈ کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتے ہوئے اکثر رونے لگتیں۔ انھوں نے اپنی بیٹی کی پسندیدہ ٹافیاں بھی اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں لیکن حبا نے لینے سے انکار کیا اور ہر کسی سے اسے تنہا چھوڑ دینے کو کہتی۔ پیلٹ وکٹمز ویلفیئر ٹریسٹ کے سربراہ محمد اشرف وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن نے پیلٹ گنز سے زخمی اور نابینا ہونے کے 3800 کیس رجسٹر کیے ہیں 'لیکن سینکڑوں ایسے کیسز ہیں جو سکیورٹی فورسز کے ڈر سے خود کو رجسٹرڈ نہیں کرواتے۔' 28 سالہ اشرف وانی کا کہنا ہے کہ اس کی تنظیم کے ساتھ 1233 افراد رجسٹرڈ ہیں اور ان میں سے بیشتر خودکشی کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ نابینا ہو چکے ہیں۔ اشرف وانی کی اپنی دائیں آنکھ بھی پیلٹ گن سے بینائی کھو چکی ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ’وہ تنگ ہوتے ہیں، وہ شور سننا نہیں چاہتے۔ وہ تنہا رہنا چاہتے ہیں۔‘

    حالیہ مہینوں میں پیلٹ گنز سے 1000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں. دو دن تک حبا کو معلوم نہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اپنی آنکھ سے پٹی ہٹانا چاہتی تھی۔ ان کے والد 40 سالہ ناصر احمد ایک مزدور ہیں اور جب یہ واقعہ پیش آیا وہ گھر سے دور ایک باغ میں کام کر رہے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کو گلے لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 'کاش پیلٹ مجھے لگ جاتے، تمھیں نہ لگتے۔‘ اس واقعے سے بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا۔ انڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اسے شہ سرخیوں میں جگہ دی گئی اور پیلٹ گن کے استعمال پر پھر سوال اٹھائے جانے لگے۔ پاکستان میں اسے 'انڈیا کے ظلم کی ایک اور کارروائی'کے طور پر پیش کیا گیا۔ کشمیر میں سوشل میڈیا پر سکیورٹی فورسز کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ حبا کے ایک انکل صوفد جان جب 15 سال کے تھے تو اس کی بھی بائیں آنکھ پیلٹ گن سے ضائع ہو گئی تھی جب وہ 15 سال کے تھے، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’لوگ شاید اسے یاد نہ رکھیں یا اس کے بارے میں نہ لکھیں لیکن ہم یاد رکھیں گے کہ انڈیا نے ہمارے ساتھ کیا کیا۔‘

    سمیر یاسر
    صحافی

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) کی رپورٹ میں آئندہ 10 سالوں میں پاکستانی معیشت کے لیے خطرات کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ 3 سو ارب ڈالر کی معیشت مختلف خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ’ریجنل رسکس فار ڈوئنگ بزنس‘ کے عنوان پر مبنی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود 22 کروڑ کی آبادی پانی کے بحران، بے قابو مہنگائی، دہشت گرد حملوں، ناکام شہری منصوبہ بندی جیسے خطرات سے دوچار ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے جنوری اور جون کے درمیان ’ ایگزیکٹو اوپینین سروے‘ کیے جانے کے بعد مذکورہ خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔ سروے میں خطرات سے متعلقہ سوالات پر جنوبی ایشیائی ممالک بنگلہ دیش، بھارت، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کے ردعمل موصول ہونے کے بعد نتائج ترتیب دیے گئے تھے۔

    رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں کاروبار سے متعلق 10 بڑے خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں حکومت کی ناکامی، بے قابو مہنگائی، بے روزگاری، علاقائی اور عالمی حکومت کی ناکامی، سائبر حملے، بنیادی انفرااسٹرکچر کی ناکامی، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، فنانشل طریقہ کار کی ناکامی ، پانی کا بحران اور وسیع پیمانے پر ازخود ہجرت شامل ہیں۔ قومی حکومت کی ناکامی کو پاکستان ، نیپال، بنگلہ دیش، بھوٹان اور مالدیپ میں سب سے اہم چیلنج قرار دیا گیا تھا۔ جنوبی ایشیا میں انتخابات میں بے چینی کی فضا پائی جاتی ہے کیونکہ وہاں تشدد اور انتشار کے خطرات درپیش ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ انتخابات کے فوراً بعد کا دورانیہ بھی غیر یقینی صورتحال کی زد میں ہوتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان ، نیپال اور بنگلہ دیش میں سائبر حملوں کے خطرات زیادہ ہیں کیونکہ ان ممالک میں مائیکروسافٹ مصنوعات پر مبنی کمپیوٹر استعمال کیے جاتے ہیں جہاں تقریباً روزانہ وائرس حملے ہوتے ہیں۔ جنوبی ایشیا کو درپیش سائبر خطرات اس وقت سامنے آئے تھے جب بنگلہ دیش کے بینک پر تاریخ میں سب سے بڑا سائبر حملہ ہوا تھا اور ہیکرز نے ملک کے مرکزی بینک سے 8 کروڑ ڈالر چوری کرلیے تھے۔ اس کے ساتھ ہی بے قابو ہوتی مہنگائی کو جنوبی ایشیا کے لیے دوسرا بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔ 2014-2016 میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے جنوبی ایشیا کو فائدہ ہوا تھا لیکن توانائی کی بڑھتی ہوئی اور مالیاتی اقدامات کی وجہ سے افراط زر سے متعلق خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔

    رواں برس جولائی میں پاکستان میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے مہنگائی 4 سال میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ رپورٹ میں بے روزگاری اور ملازمت کے کم ہوتے مواقع کو خطے کے لیے تیسرا اہم خطرہ قرار دیا گیا۔ سائبر حملوں کے خطرات کا سامنا کرنے والے 19 ممالک میں سے 14 کا تعلق یورپ اور شمالی امریکا سے تھا جبکہ افریقا کے صحرائی علاقے میں 34 میں سے 22 ممالک ’ بے روزگاری اور ملازمت کے کم مواقع کا سامنا ہے‘۔ جغرافیائی اور سیاسی تحفظات میں سے علاقائی اور عالمی حکومت کی ناکامی اور اور دہشت گرد حملوں کو نویں اور دسویں نمبر پر جگہ دی گئی۔ 17 ممالک میں جیوپولیٹیکل خطرات میں ’ بین الریاستی تنازعات‘ کو 3 اہم خطرات میں شامل کیا گیا تھا، ان میں سے اکثر ممالک یورپ اور یوریشیا میں سے تھے۔

    امین احمد
    یہ خبر ڈان اخبار میں 25 نومبر 2018 کو شائع ہوئی.
     


    0 0

    ’اب وقت آ گیا ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان ہیں اور عارف علوی صاحب ملک کے صدر۔ انھوں نے جو وعدے سڑکوں پر، ہمارے کیمپوں میں آ کر کیے تھے، وہ اب ان کو نبھانے ہوں گے۔‘ یہ کہنا ہے آمنہ جنجوعہ کا جو سنہ 2005 سے ملک میں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔ اس مہم کا محرک خود آمنہ کے شوہر مسعود جنجوعہ کی 13 برس قبل گمشدگی بنی تھی۔
    اس معاملے کے سپریم کورٹ تک پہنچنے کے باوجود آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مسعود جنجوعہ جو استاد اور آئی ٹی کے ماہر تھے، اس وقت کہاں ہیں۔ 

    اسلام آباد کے ڈی چوک پر جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے لیے لگائے جانے والے احتجاجی کیمپ میں آمنہ کے علاوہ کئی اور لاپتہ افراد کے لواحقین بھی موجود ہیں جو آمنہ کی طرح کئی سالوں سے اپنے گمشدہ والد، بھائی، بھتیجوں یا بھانجوں کی تلاش میں ہیں۔ ان میں فاٹا، وزیرستان، سوات، صوابی اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جن میں زیادہ تر تعداد بزرگ خواتین اور مردوں کی ہے۔

    پہلی بار ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے
    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آمنہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے لیے ان افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ ’اس حکومت کے بہت اچھے تعلقات ہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ۔ تو ان کے لیے یہ نادر موقع ہے۔ پہلی بار ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے، تو یہ کام خوش اسلوبی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔‘

    تین مختلف ادوار دیکھے ہیں
    آمنہ نے بتایا کہ جس دور میں انھوں نے مسعود جنجوعہ کی بازیابی کے لیے مہم شروع کی تھی اس وقت حالات بہت مختلف تھے۔ ’میں نے تین طرح کے ادوار دیکھے ہیں۔ ایک پرویز مشرف کا دور تھا۔ اس وقت کے چند جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد آج تک واپس نہیں آئے جن میں میرے شوہر بھی شامل ہیں۔ پھر 2014 میں بھی ایک کٹھن دور تھا، جب میڈیا کی طرف سے گمشدہ افراد کی خبر چلانے پر بلیک آؤٹ ہونا شروع ہو گیا۔‘ اور ایک دور آج کا ہے جہاں آمنہ جنجوعہ کے بقول، ایک طرف مختلف صوبوں میں چلنے والی تحریکوں کے نتیجے میں گمشدہ افراد ’زیادہ نہیں تو چھ ماہ یا ایک سال کے اندر گھر واپس آجاتے ہیں۔ تو دوسری طرف آزادی رائے اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں سے بہت بری طرح سے نمٹا جا رہا ہے۔ کوشش کی جا رہی ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔‘

    آمنہ نے کہا کہ ان کا ذاتی دُکھ انھیں احتجاج میں شامل ہونے پر اکساتا بھی ہے اور ہمت بھی دیتا ہے۔ ’میں اپنے بچوں کا باپ، اپنا شوہر، اپنا ساتھی ڈھونڈ رہی ہوں، پوری دنیا میں پھِر رہی ہوں اور کوئی ایسا فورم نہیں ہے، اقوامِ متحدہ سے لے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائیٹس واچ، جہاں پر میں نہیں گئی ہوں اور میں نے دستک نہ دی ہو۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مہم ہر حال میں جاری رکھیں گی۔ ’‎یہ زخمی دل کی وجہ سے ہے کہ میں اپنی تحریک کو جاری رکھ سکتی ہوں جب تک مجھے جواب نہیں ملیں گے اور اس کے بعد بھی، میرا شوہر مجھے مل بھی گیا تب بھی، کیونکہ میں اب اس غم کو بہت اچھی طرح سمجھ چکی ہوں، تو میں اس کے آگے ہار نہیں مان سکتی۔‘

    آمنہ جنجوعہ کی جانب سے ماضی میں میڈیا میں دیے گئے بیانات کے مطابق ان کو کئی بار دھمکیاں دی گئیں جس سے ان کی ذاتی زندگی اور خاص طور سے اپنے شوہر کو بازیاب کرانے کی تحریک متاثر ہوئی۔ اس سوال پر کہ کیا یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ عرصے منظرِعام سے غائب رہیں؟ آمنہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے۔ میں پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں شامل تھی۔ ساتھ ہی باقی صوبوں میں چلنے والی تحریکوں کے بارے میں بھی معلومات رکھتی رہی ہوں۔‘
    ’ہم پاکستان کے ہر شہر میں مظاہرہ کر چکے ہیں۔ ڈھائی ہزار سے زیادہ کیس میرے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ جن میں سے تقریباً 950 اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔‘

    سحر بلوچ 

    بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت یکم دسمبر کو پنجاب کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے صوبائی وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان المعروف حاجی نرگس نے کہا کہ لاہور کے گورنر ہاؤس کا لان جو دو ماہ پہلے ہی عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے، اب وزیرِ اعظم کے حکم پر اس کی بیرونی دیواریں بھی اگلے دو تین روز میں گرا دی جائیں گی۔ گورنر ہاؤس کو چڑیا گھر، عجائب گھر اور آرٹ گیلری میں بدل دیا جائے گا۔ اس کے سات سو کنال احاطے میں قائم سکول کو علیحدہ کر دیا جائے گا۔ بقول چوہان صاحب دیوار ڈھانے کا مقصد عوام کے زہن سے ان اداروں اور عمارات کی ہیبت نکالنا ہے۔ یہ کوئی تاریخی عمارت نہیں بلکہ نمائشی جگہ ہے۔ 

    وزیرِ اعلی کے مشیر نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارات نو آبادیاتی اقتدار کی علامت کے طور پر تعمیر کی گئیں تاکہ یہ جتایا جا سکے کہ حکمران طاقتور اور عوام کمزور ہیں۔ ملک میں اس وقت جیسا علمی و تحقیقی ماحول ہے اس میں یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ گورنر ہاؤس کے احاطے میں ہی اکبرِ اعظم کے ایک عم زاد محمد قاسم کی قبر ہے اور اس کے اردگرد موجودہ عمارت مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک مصاحب خوشحال سنگھ نے اپنی رہائش کے لیے بنائی تھی۔ انگریزوں نے پنجاب پر قبضے کے بعد یہ جگہ خوشحال سنگھ کے بیٹے تیجا سنگھ سے ڈھائی ہزار روپے میں خریدی اور اسے لیفٹننٹ گورنر ہاؤس قرار دے دیا۔ اس عمارت کے پہلے انگریز رہائشی رابرٹ منٹگمری تھے۔ گویا یہ عمارت لگ بھگ پونے دو سو برس سے زیرِ استعمال ہے۔

    اسی طرح عوام کے لیے اتوار کے اتوار کھولا جانے والا گورنر ہاؤس پشاور کم و بیش سو برس پرانا ہے۔ کوئٹہ کا گورنر ہاؤس انیس سو پینتیس کے زلزلے کے بعد دوبارہ تعمیر ہوا۔ کراچی کا گورنر ہاؤس اسی برس پرانا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کراچی کا گورنر ہاؤس کچھ عرصہ گورنر جنرل ہاؤس اور ایوانِ صدر بھی رہا۔ ان سب عمارات اور ان کے احاطوں پر نادر و تاریخی عمارات کے تحفظ کا ایکٹ مجریہ انیس سو پچھتر لاگو ہوتا ہے۔ حکمرانوں کے زیرِ استعمال محلات و دفاتر عوام کے لیے کھولنا کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں۔ بکنگھم پیلس، وائٹ ہاؤس، کریملن اور دلی کے راشٹر پتی بھون کے کچھ حصے عوام کے لیے مخصوص دنوں میں کھولے جاتے ہیں۔ تہران کا قصر سعد آباد کمپلیکس تو پورا کا پورا عجائب گھر ہے۔

    ریاستیں ان عمارات کی حفاظت تاریخی ورثے کے طور پر کرتی ہیں اور ان کا تشخص توڑ پھوڑ اور خستگی سے بچاتی ہیں۔ پاکستان میں راولپنڈی کا سابق ایوانِ صدر جس میں ایوب خان ، یحییٰ خان اور بھٹو رہے کئی برس پہلے اسے خواتین یونیورسٹی میں تبدیل کر دیا گیا۔ البتہ عمارت کی شکل صورت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور فرنیچر بھی محفوظ ہے۔ سرکاری و تاریخی عمارات تک عام آدمی بالخصوص محققین اور طلبا کی رسائی یوں ضروری ہے کہ ماضی اور طرزِ حکمرانی سے روشناس رہا جا سکے۔ ضروری ہے کہ اسلام آباد کا ایوانِ صدر، وزیرِ اعظم ہاؤس، وزرائے اعلی کی سرکاری رہائش گاہ اور جی ایچ کیو اور بڑے بڑے گالف کورسز اور جمخانوں کو بھی عوام کے لیے کھولا جائے اور گائڈڈ ٹورز کا بندوبست کیا جائے۔

    بے شک ان عمارات میں درس گاہ، عجائب گھر یا آرٹ گیلری کھولی جا سکتی ہیں لیکن خود یہ عمارات بھی کسی تاریخی تعلیم گاہ سے کم نہیں۔ اور جب آپ گورنر ہاؤس کی دیوار توڑنے جیسے اہم ترین کاموں سے فراغت پا جائیں تو باقی مسائل کے نپٹارے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے دل کے بجائے دماغ سے سوچیے گا۔ پچھلے تہتر برس میں یہ ملک بذات ِخود تماشا بن چکا ہے۔ آپ کو ووٹ جا بے جا تبدیلیوں کے لیے نہیں اس عجائب گھر کو پھر سے ایک نارمل ملک بنانے کے لیے ملا ہے۔ پانچ برس میں سے سو دن گذر چکے ہیں۔

    وسعت اللہ خان
    تجزیہ کار
     


    0 0

    پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔'
    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ درخواست وزیر اعظم عمران خان کے نام لکھے گئے ایک خط میں کی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی صدر کی جانب سے بھیجی گئے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے افغان تنازعے کا حل تلاش کرنا امریکی صدر کی اولین ترجیح ہے۔ دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں امریکی صدر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کی جنگ میں امریکہ اور پاکستان دونوں کو نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

    امریکی صدر نے اپنے خط میں زور دیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو اپنے تعلقات کی تجدید اور ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغان تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ تاہم امریکہ کی طرف سے اس بارے میں تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ کی طرف سے وزیر اعظم کے نام خط ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زد افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے میں افغانستان اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ملکوں کا دورہ کریں گے۔

    پاکستان کے ایک نجی ٹی وی سے منسلک معروف اینکر حامد میر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کا کہ وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات کے دوران بتایا کہ انہیں امریکہ کے صدر دونلڈ ٹرمپ کا ایک خط ملا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان سے اپنا کردار ادا کرے۔ حامد میر کے بقول وزیراعظم نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ  امریکی حکومت یہ چاہتی ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات میں میز پر لانے میں پاکستان اپنا اثر ورسوخ استعمال کرے ۔

    حامد میر نے کہا کی جب وزیر اعظم عمران خان سے صدر ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق حالیہ بیانات اور بعد ازاں ٹوئٹر پر دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت بنانات کے تبادلے کے معاملے پر سوال کیا گیا تو ان کے بقول عمران خان نے کہا کہ اس خط کے بعد اب ماحول بہتر ہو گیا ہے اور پاکستان پوری کوشش کرے گا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا ممکنہ کردار ادا کرے۔ ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسلام آباد نے امریکہ کے لیے سوائے جھوٹے دعوؤں کے ایک چیز بھی نہیں کی، اس بیان سے وزیر اعظم عمران خان نے سخت الفاظ میں اختلاف کیا تھا ۔

    امریکہ ایک عرصے سے پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اصرار کرتا آرہا ہے جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ان میں سے بعض مبینہ طور پر پاکستان میں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ کا خط ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغان طالبان کو مزکرات کی میز پر لانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور اسی سلسلے میں امریکہ کے نمائندہ خصوصی افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد تیسری بار افغانستان اور پاکستان سمیت بعض دیگر ملکوں کا دورہ کریں گے۔ دوسری طرف حال میں افغان صدر اشرف غنی نے جنیوا میں ایک کانفرنس کے موقع پر افغان طالبان کے بات چیت کے لیے ایک 12 رکنی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    امریکہ کے محکمہ خارجہ کے مطابق تازہ دورے کے دوران زلمے خلیل زاد پاکستان اور افغانستان کے علاوہ روس، ازبکستان، ترکمانستان، بلجئیم، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔ زلمے خلیل زاد گزشتہ دو ماہ کے دوران کم از کم دو بار قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغان طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کر چکے ہیں جس دوران انہوں نے رواں ماہ اپنے دورۂ کابل کے دوران  امید ظاہر کی تھی کہ طالبان کے ساتھ اپریل 2019ء تک امن معاہدہ طے پا جائے گا۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کا تجزیہ کاروں نے خیر مقدم کیا ہے۔ پاک امریکا تعلقات اور افغان امور کے ماہر تجزیہ کاروں نے خط کے خیر مقدم کے ساتھ کہا ہے کہ امریکا کی پالیسیوں میں شفافیت کا فقدان ہے، وہ پاکستان دباؤ بھی ڈال رہا ہے اور مدد بھی مانگ رہا ہے۔
    سابق سیکریٹری فاٹا اور ماہر افغان امور محمود شاہ نے کہا کہ امریکا کی پالیسی میں شفافیت نہیں، ایک طرف مذاکرات تو دوسری جانب طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کا عمران کے نام خط پر تجزیہ کاروں کی رائے
    سینئر صحافی حامد میر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک برس میں پاکستان کا افغان طالبان پر اثر کم ہوا ہے جبکہ ایران کا افغان طالبان پر اثر بڑھا ہے ایران اور افغان طالبان داعش کو مشترکہ دشمن سمجھتے ہیں۔ 

    سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات میں پاکستان کی ہرزہ سرائی ان کا انفرادی عمل ہے، پاکستانی اور امریکی اور اسٹیبلشمنٹ کے معاملات اتنے خراب نہیں، پاکستان کی کوششوں سے ہی امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات پر آمادہ ہوا۔

    سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے امریکی صدر کے وزیراعظم عمران خان کو خط کو امریکا کے رویے میں بڑی تبدیلی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے قطر میں طالبان سے مذاکرات پیش رفت نہیں ہو سکی اس لئے پاکستان کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    آج کل ٹیلی ویژن پر آنے والے اشتہارات کا معیار تشویشناک حد تک گر چکا ہے۔ اشتہارات چلانا چینل مالکان کی ضرورت ہے تا کہ اپنے چینل کو چلانے کیلئے مناسب آمدنی حا صل کی جائے، جو کہ ایک جائز ضرورت ہے۔ مگر آج کل کے اشتہارات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ کچھ چینل مالکان دو پیسوں کے لالچ میں اس قدر کھو گئے ہیں کہ وہ بھاری معاوضوں کے عوض بے انتہاء غیر اخلاقی اور غیر معیاری اشتہارات بھی چلا رہے ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ منافع بٹوریں۔ تمام چینل مالکان تو اس لالچ کا شکار نظر نہیں آتے مگر چند چینلز ہیں جو بھاری معاوضے لے کر قابل اعتراض مناظر والے اشتہارات چلا رہے ہیں ۔ ان میں “اے پلس “، “اے آر وائی ” اور “جیو چینل” سر فہرست ہیں ۔

    بے شمار غیر اخلاقی اور غیر مہذب اشتہارات جن میں آل ویز نیپکن، لکس صابن موڈ گرل بلیچ کریم اور جوش جیسے لاتعداد اشتہارات دن رات معاشرے میں حیا   اور حیا داری کے جذبے کو پامال کر رہے ہیں ۔ آج کل “قمر چائے” کا اشتہار بڑے زور و شور سے دکھایا جا رہا ہے جو کہ وا ضح طور سے اخلاقی گراوٹ کا مظہر ہے۔ اس اشتہار میں نوجوان لڑکا اپنی منگیتر سے گھر میں تنہائی میں ملتا ہے اور لڑکی ” قمر چائے ” پیش کرتی ہے اور اس چائے کو پیتے ہیں دونوں ناچ گانا شروع کر دیتے ہیں ۔ “سونے پہ سہاگہ” تو یہ دکھایا گیا ہے کہ جب لڑکی کے والدین اچانک واپس آجاتے ہیں تو یہ منظر دیکھ کر بے شرمی سے کہتے ہیں ” کہ ان کا کوئی قصور نہیں یہ تو ” قمر چائے” کا کمال ہے۔”

    اس طرح کی وا ہیات سوچ اگر سب والدین اپنا لیں تو آپ بتا ئیں کہ ہمارے معاشرے کا کیا حال ہو جائے گا۔ جبکہ پیمرا کی شق نمبر 3ا اور نکتہ “ای اور آر” کے تحت یہ قانون ہے کہ نازیبا اور اخلاق باختہ “فحش مواد” نشر نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کہانیاں اور اشتہارات پیش نہیں کئے جائیں گے جس سے نوجوان نسل پر برے اثرات مرتب ہوں اور ان میں بے راہ روی پیدا ہو۔ پیمرا جیسے فعال حکومتی ادارے کے ہوئے یقیناً اس طرز کے گھٹیا اور نا شائستہ اشتہارات نشر نہیں ہونے چاہئیں ۔ اگر پیمرا اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا تو پھر انہیں چا ہئے کہ اس ادارے کو بند ہی کر دیں کیونکہ “پیمرا” ہی کی غفلت ہے کہ آج یہ نوبت آچکی ہے کہ ایک “اسلامی ملک” کے ٹی وی چینلز بالکل بھی اس قابل نہیں رہے کہ اپنے والدین اور بچوں کے ساتھ بیٹھ کر انہیں دیکھا جا سکے کیونکہ ہر دس پندرہ منٹ کے بعد اسی نوعیت کے اشتہارات مسلسل دہرائے جاتے ہیں جو کہ نہایت پریشان کن صورت حا ل ہے ۔

    حدیث نبوی ؐ ہے ۔
    کہ “حیا اور ایمان سا تھی ہیں ان میں سے اگر اچانک ایک رخصت ہو تو دوسرا خود بخود اٹھ جا تا ہے ۔” لہٰذا تمام چینل مالکان اور بالخصوص پیمرا کے عہدیداران اپنی غیر ذمہ داران روش کے باعث بالواسطہ طور پر” ایمان “ کو زک پہنچا رہے ہیں ۔ یہ چند روزہ زندگی کے فا ئدے کیلئے لاکھوں کروڑوں سالہ اپنی زندگی کو نہ خراب کریں اور کاروبار اور معاملات سب اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول و قوانین کے مطابق کریں تاکہ دین و دنیا دونوں کی بھلائی حا صل کر سکیں. 

    شہلا خضر
     


    0 0

    وزیراعظم عمران خان کو اس بیان کے بعد شدید تنقید کا سامنا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی کا علم میڈیا میں خبروں کے آنے کے بعد ہوا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم کو علم ہی نہیں کہ ان کے ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی ہونے والی ہے، تو پھر اس نوعیت کے اہم معاشی فیصلے کرتا کون ہے؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنے سے پہلے پاکستان میں کرنسی کی قدر مقرر کرنے کے نظام کو سمجھنا ہو گا۔

    روپے کی قدر میں کمی بیشی کیوں ہوتی ہے؟
    دنیا کے بیشتر ملکوں کی طرح پاکستانی کرنسی کی قدر بھی ڈالر کی نسبت سے طے کی جاتی ہے۔ اگر ایک ڈالر کے بدلے پہلے سو روپے ملتے تھے اور اب ڈیڑھ سو روپے مل رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ روپے کی قیمت یا قدر کم ہوئی ہے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے یعنی پہلے ایک ڈالر کے مقابلے میں زیادہ روپے ملتے تھے اور اب کم ملتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ روپے کی قدر مستحکم ہوئی ہے۔ یعنی جب روپے کی قدر میں کمی بیشی کی بات ہوتی ہے تو بادی النظر میں ہم ڈالر کی قدر کو ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ روپے کی قیمت کم ہونے کا براہ راست مطلب یہی ہوتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھی ہے۔

    تو یہاں سوال پھر یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈالر کی قیمت کیوں بڑھتی ہے؟

    اس کا سادہ سا جواب تو یہی ہے کہ ڈالر کی قیمت بالکل ویسے ہی بڑھتی یا کم ہوتی ہے جیسے آلو کی۔ جی ہاں جب آلو (یا کوئی بھی دوسری مصنوعات) کی پیداوار اس کی کھپت سے بڑھ جائے تو اس کی قیمت کم ہو جاتی ہے اور جب مانگ بڑھے اور پیداوار یا دستیابی کم ہو تو قیمت بڑھ جاتی ہے۔ تو آسان سی بات یہی ہے کہ جب جب ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہو گا اس کی قیمت بڑھے گی اور ہم یہی کہیں گے کہ روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔

    پاکستان میں کرنسی کی قدر مقرر کرنے کا طریقہ ہے کیا؟
    مسلم لیگ ن کی حکومت نے 1997 میں پاکستان کے مرکزی بینک یعنی سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ایک قانون کے ذریعے خو مختار حیثیت دی تھی۔ اس کے لیے جو قواعد تیار کیے گئے ان میں صاف طور پر لکھا ہے کہ غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر پر نظر رکھنا (یا اسے مینیج کرنا) سٹیٹ بنک کی ذمہ داری ہے۔ دیگر خود مختار اداروں کی طرح سٹیٹ بینک بھی اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے اور اس طرح کے فیصلوں کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رکھیے کہ سٹیٹ بینک ڈالر کی قدر کو مینیج تو کر سکتا ہے، روپے کے مقابلے میں اس کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار اس کے پاس بھی نہیں ہے۔

    کرنسی کی قدر مقرر کرنے میں مارکیٹ کا کردار
    کراچی میں ایک نظام ہے جسے انٹر بینک مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں تمام نجی و سرکاری بینک منسلک ہوتے ہیں۔ یہاں پر روپے کی قیمت یا یوں کہیے کہ ڈالر کی قیمت طے ہو رہی ہوتی ہے۔ اس مارکیٹ کو سبزی منڈی سمجھ لیجیے جہاں ہر صبح مختلف سبزیوں کے ٹریکوں کی نیلامی ہوتی ہے جہاں پر بنیادی طور پر اس سبزی کی قیمت طے ہو جاتی ہے۔ انٹر بنک مارکیٹ میں بھی تقریباً یہی ہو رہا ہوتا ہے اور نجی و سرکاری بنک، کرنسی ایکسچینج کمپنیاں اور درآمد اور برآمد کنندگان آڑھتیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر اچانک ملک کی دو تین بڑی درآمد کنندگان، یعنی امپورٹرز کو بڑے ٹھیکے مل جاتے ہیں اور انہیں اچانک بہت سے ڈالرز کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو وہ اسی انٹر بینک مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کا آرڈر بک کروائے گا۔

    مثلاً بین الاقوامی منڈی سے تیل خریدنے کے لیے ایک کمپنی نے ایک بڑا آرڈر بک کروایا اور انٹر بینک مارکیٹ سے ایک ہفتے بعد دو کروڑ ڈالر خریدنے کا آرڈر بک کروا دیا۔ اس دوران ایک اور کمپنی نے کچھ اور مال درآمد کرنے کے لیے مزید دو کروڑ ڈالر خرید لیے تو پاکستانی مارکیٹ میں موجود ڈالرز کم ہو جائیں گے اور اس کی قیمت اچانک دباؤ کا شکار ہو کر بڑھ جائے گی۔ یعنی روپے کی قدر میں کمی واقع ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر پاکستان میں (سرکاری خزانے کے علاوہ) کہیں سے بہت سے ڈالرز آ جائیں، مثلاً بیرون ملک پاکستانی بہت سارے ڈالر بھجوا دیں یا بہت سے برآمدی ٹھیکے مل جائیں اور اس کے بدلے بڑی رقم ادائیگیوں کی صورت میں کسی نجی یا سرکاری کمپنی کو پاکستان میں مل جائیں تو ڈالر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے اس پر دباؤ کم ہو گا، اس کی مانگ کم ہو گی اور اس کی قیمت کم ہو جائے گی اور روپے کی قدر خود بخود بڑھ جائے گی۔

    کرنسی کی قدر میں سٹیٹ بنک کا کردار
    قواعد کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کو غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قدر پر نظر رکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے نہ کہ اس کی قیمت مقرر کرنے کی۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی بھی مصنوعات کی قیمت پر کسی سرکاری ادارے کو نظر رکھنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے اور وہ ادارے اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ناجائز منافع خور ان مصنوعات کو مہنگا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً گیس کی سلنڈر کی قیمت کا تعین تو مارکیٹ میں ہوتا ہے لیکن اوگرا کی ذمہ داری ہے کہ گیس سلنڈر بیچنے والے سردیوں کے آتے ہی اس کی مصنوعی قلت پیدا کر کے اس کی قیمت بڑھانے کی کوشش نہ کریں۔ کرنسی کی قیمت میں بالکل یہی کردار سٹیٹ بنک کا ہوتا ہے۔

    کراچی میں سٹیٹ بنک کے مرکزی دفتر میں ایک کمپیوٹر پر ڈالر اور روپے کی قیمت اور اس کی خریدو فروخت کا سارا ریکارڈ براہ راست چل رہا ہوتا ہے۔ بالکل جیسے سٹاک مارکیٹ میں ہوتا ہے۔ سٹیٹ بنک کو لمحے لمحے کی خبر ہوتی ہے کہ کون ڈالر خرید رہا ہے، کون بیچ رہا ہے اور اگر کوئی بڑی مقدار میں ڈالر خریدتا یا بیچتا ہے تو سٹیٹ بنک کو اس سے سوال پوچھنے کا حق بھی ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی مشکوک سرگرمی نظر آئے مثلاً کوئی خریدار بلا جواز بہت بڑی مقدار میں ڈالر خریدے تو سٹیٹ بنک مداخلت کر کے اسے ایسا کرنے سے روک سکتا ہے۔

    اس ساری اونچ نیچ میں حکومت کا کیا کردار ہے؟
    یہ سب تو ہو گئیں اصول کی یا کتابی باتیں۔ یعنی اصولاً اس سارے معاملے سے حکومت کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ڈالر اوپر جائے یا نیچے اور چاہے اپنے ساتھ روپے کو بھی خوب اٹھک بیٹھک کروائے، حکومت خاموش تماشائی رہے گی۔ لیکن اصل میں صورتحال ذرا مختلف ہے، یا یوں کہیے کہ ماضی کے تجربات کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عموماً ایسا ہوتا نہیں ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں بھونچال آیا ہو اور حکومت اس میں مداخلت نہ کرے۔ حکومت کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کرنے کے لیے سٹیٹ بینک کو استعمال کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ملک میں تمام بینکوں اور کرنسی ڈیلرز وغیرہ کو کرنسی کا کاروبار کرنے کے لیے لائسنس سٹیٹ بینک جاری کرتا ہے اس وجہ سے سٹیٹ بینک کا ان اداروں پر بہت رعب و دبدبہ ہے۔

    حکومت اپنی معاشی پالیسی پر عمل کرنے کے لیے روپے کی قدر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ مثلاً نواز شریف کے وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کی یہ سخت ہدایت تھی کہ روپے کی قیمت کو ایک سو روپے فی ڈالر تک نہیں پہنچنا چاہیے۔ یہ ان کی معاشی پالیسی کا اہم نکتہ تھا اور انہوں نے روپے کی قیمت مستحکم رکھنے کے لیے سٹیٹ بینک کا سہارا لیا۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ جیسے ہی انہیں خبر ہوتی کہ ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت بڑھنے کا خدشہ ہے، وہ سٹیٹ بنک کو ہدایت کرتے کہ کچھ لاکھ ڈالر اوپن مارکیٹ میں ڈال دیں۔ یوں جو دباؤ ڈالر پر آ رہا ہوتا وہ کم ہو جاتا اور اسے مہنگا ہونے سے روک دیتا۔ یہاں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ ہدایت زبانی دی جاتی کیوں کہ قواعد کی رو سے حکومت اس طرح کی کوئی ہدایت دینے کا حق نہیں رکھتی اور نہ ہی سٹیٹ بینک کو اس طرح کی ہدایت ماننے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسا ہوتا ہے۔

    کیا وزیراعظم کو روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے بارے میں پیشگی اطلاع ہوتی ہے؟
    اگر کوئی وزیراعظم کہے کہ اسے یہ سب پہلے پتہ ہوتا ہے تو گمان یہی ہے کہ وہ سچ بول رہے ہیں اور اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ اسے اس بارے میں پیشگی اطلاع نہیں تھی تو یہ بھی عین ممکن ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وزیراعظم معاشی پالیسی میں کتنی ذاتی دلچسپی لیتے ہیں اور اپنی ٹیم پر کتنا اعتماد کرتے ہیں۔ نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں ان معاملات کا زیادہ گہرائی سے علم نہیں ہوتا تھا اور اس کی بڑی وجہ اپنے سمدھی اور وزیرخزانہ اسحٰق ڈار پر ان کا اعتماد تھا۔ بینظیر بھٹو اس طرح کے معاملات میں خاصی دلچسپی لیتی تھیں اور معاشی پالیسی کے چھوٹے چھوٹے نکتوں پر بھی اپنی معاشی ٹیم سے بحث کرتی تھیں۔ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں گمان یہی ہے کہ وہ وژن کی حد تک تو معاشی پالیسی میں اپنی رائے دے رہے ہیں لیکن بہت زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں جمعے کو روپے کی قدر میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، تو یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔

    آصف فاروقی

    بشکریہ بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد


     


    0 0

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔  ترجمان نیشنل سیکیورٹی کونسل نے خط کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ پاکستان سے افغان امن عمل کے لیے مکمل حمایت حاصل کرنے کے لیے درخواست کی گئی ہے، افغان مذاکراتی عمل کے کامیاب انعقاد پاکستان کے کردار کے بغیر ناممکن ہے۔

    وائٹ ہاؤس ترجمان نے مزید کہا کہ خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کی مدد پاک امریکا شراکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر طالبان کے ٹھکانے نہ بننے دے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل سینئرصحافیوں اور اینکر پرسنز سے ملاقات کے دوران بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں افغان طالبان سے مذاکرات کے لیے پاکستان سے تعاون مانگا گیا ہے۔
     


    0 0

    کس نے جانا تھا کہ آج سے 51 سال قبل جس پارٹی کا پہلا کنونشن بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر ایوبی آمریت اور اسکے سیاسی حواریوں کی سرکاری کنونشن مسلم لیگ کے خلاف برپا کیا تھا، اس پارٹی کا حال نصف صدی تک پہنچتے پہنچتے خود کنونشن مسلم لیگ کی سیاست سے زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔ یہ وہ پارٹی ہے جسے ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیٹس کو پارٹی سمجھا جاتا رہا تھا اور بہت سارے معاملات میں ماضی قریب تک تھی بھی۔ گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو ذوالفقار علی بھٹو کی اس پارٹی کا یوم تاسیس تھا جو کسی دھام دھوم کے بغیر گزر گیا۔ گزر تو اس ملک میں اس پارٹی اسکی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ بھی بہت کچھ گیا ہے۔ اتنا بہت کچھ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی بھی گزر جانے تک آ پہنچی ہے۔ لیکن بہت سوں کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی مرا نہیں کرتی۔ میرا بھی آج کا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان پیپلزپارٹی مر چکی؟

    میرے دوست اور شاعر مسعود منور کا خیال ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس دن مر گئی تھی جب اسکے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ مسعود منور جنہوں نے بھٹو کی پھانسی والی رات پر لکھا تھا : ’’رات کے دو بجے تم سبھی سو چکے تھے مگر وہ ابھی جاگتا تھا‘‘۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں یہ وہ پارٹی تھی جسے بھٹوئوں اور انکے جیالوں نے واقعی اپنے خون سے سینچا تھا۔ جیالے جنہیں میں نے اپنے سروں کے چراغ جلاتے ہوئے جیالے کہا تھا۔ مسعود منور کا خیال ہے کہ بھٹو کی پارٹی کا زیادہ تر خاتمہ اسکی بیٹی کے ہاتھوں ہی ہوا جب بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر بھٹو کو پارٹی کا مختارکل بنایا گیا پھر اس نے پرانے اور قربانی دینے والے لوگوں کو پارٹی سے نکالنا یا کھڈے لائن لگانا شروع کیا۔ 

    بینظیر بھٹو اور ان کے قریب کے پارٹی کے لوگ پرانے لوگوں کے نکلے جانے یا نکالے جانے کو ’’انکلز کا پارٹی سے الوداعیہ‘‘ یا پارٹی میں نئے اور جوان خون کا داخلہ بھی کہتے ہیں۔ ممتاز علی بھٹو، حفیظ پیرزادہ، غلام مصطفیٰ جتوئی، غلام مصطفیٰ کھر، جام صادق علی ، ملک معراج خالد ایسے کئی لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا گیا یا ان کو اپنا راستہ لینا پڑا۔ لیکن اس پارٹی کی ایک تاریخی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ پارٹی اپنے دشمن خود پیدا کرتی ہے۔ ضیاء الحق سے لیکر جام صادق علی تک اسکی بڑی مثالیں ہیں۔ بھٹو نے نہ صرف بہت ہی پیشہ ور اور وفادار دوست جنریلوں کو یکسر نظر انداز کر کے ضیاءالحق کو چنا بلکہ اسے جلدی ترقیاں دیتے ہوئے فوج کا سربراہ بھی مقرر کیا۔ بریگیڈیئر سے ترقی دیکر چار ستارہ جنرل تک پہنچایا اور پھر اسی نے بھٹو کو پھانسی کے تختے پر پہنچایا۔

    رکھوالوں کی نیت بدلی گھر کے مالک بن بیٹھے، جو غاصب محسن کش تھے صوفی سالک بن بیٹھے دوسری طرف مبشر حسن جن کے گھر پارٹی نے جنم لیا، میر تالپور برادران جن کا گھر شہر حیدر آباد میں علاقہ ٹنڈو میر محمود یا ٹنڈو آغا میں تھا جو پارٹی کا دوسرا جنم گھر یا عوامی ننھیال ثابت ہوا تھا ان میر برادران کو نہ صرف پارٹی سے نکل جانا پڑا بلکہ سیاسی انتقام کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ قائدعوام بھرے جلسہ عام میں کس زبان پر اتر آئے وہ اس شہر کی اس تمام نسل کو اب بھی یاد ہے۔ وجہ کیا تھی کہ میر علی احمد تالپور کے دو بیٹے بھٹو حکومت کے خلاف بلوچستان میں پہاڑوں پر لڑنے گئے تھے۔ میر حیدر علی تالپور اور میر محمد علی تالپور۔ پھر جب پی این اے تحریک چلی تو بڑے تالپور برادران اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ پھر اس تحریک کے دوران میر رسول بخش تالپور کا قریبی عزیز نوجوان میر شیر محمد تالپور بھی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنا۔

    جے۔ اے رحیم یا جمال عبدالرحیم (جنہوں نے پارٹی کا منشور لکھا تھا)، خورشید حسن میر، معراج محمد خان، میر علی بخش تالپور (فریال تالپور کے سسر) ، خود حاکم علی زرداری، سید سعید حسن، مولانا عبدالحق ربانی سب پارٹی کے ساتھ رہے تھے لیکن پارٹی کے اقتدار میں آنے کے چند ماہ بعد بلکہ چند ہفتوں میں ہی انہیں سیاسی بیوفائی کا نشانہ بنایا گیا۔ اور تو اور مخدوم طالب المولا کو بھی جیل میں ڈالا جا رہا تھا کہ غلام مصطفیٰ جتوئی نے ان پرعتاب خوش اسلوبی سے ٹال دیا تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی جا چکی تو مظہر علی خان اپنی بیگم طاہرہ مظہر علی خان کے ساتھ بھٹو کی جان بچانے کی کوششوں میں حیدرآباد گئے تھے کہ وہ کسی طرح تالپور برادران کو بھٹو کی جان بچانے کی کوششوں میں شامل کر لیں کہ اس وقت تالپور برادران ضیاء الحق کے قریب آ گئے تھے۔ 

    لیکن تالپور برادران نے معذرت کر لی تھی۔ وگرنہ اسی پارٹی کے جنم شہر لاہور میں ایک ہوٹل کی کافی شاپ میں اکثر شامیں گزارنے والے سخن گو نفاست پسند میر علی احمد خان تالپور کو پارٹی کے بننے والے دنوں کے چشم دید گواہ نوجوان انقلابی، طالب علم رہنما، وکلا، صحافی و شاعر، کون نہیں جانتا تھا؟ اسی ہوٹل میں شامیں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ گزارنے والوں میں شورش کاشمیری، حبیب جالب ، ظفر یاب احمد ،حسن واسطی اور کئی تھے۔ جب حبیب جالب نے ان دنوں لکھا تھا ’’تو ہے تلوار علی کی اے ذوالفقار علی‘‘ شاید یہ بھی آپ کو معلوم ہو کہ پی پی پی کا ’’روٹی کپڑا اور مکان کا “ نعرہ بھی حبیب جالب کی نظم سے ادھار لیا گیا تھا۔ پھر وہی جالب بھٹو کے تمام دور میں پس دیوار زندان رہا۔

    پارٹی کے وجود میں آنے کی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب ذو الفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے مستعفی ہو کر آئے تو گورنر نواب امیر محمد آف کالاباغ کی دہشت کا راج تھا اور بھٹو کے جاننے والے جانتے ہیں کہ بھٹو قدرے سہمے ہوئے تھے۔ تب یہ مشورہ ان کو ان کے دوست بائیں بازو کے خیالات والے سابق سفارتکار جے اے رحیم ہی نے دیا تھا کہ کچھ روز وہ یورپ چلے جائیں اور وہاں جاکر پارٹی بنانے پر غور و خوض کریں۔ بعد میں جے اے رحیم بھی بھٹو سے جا کر جنیوا میں ملے۔ جہاں بھٹو کی بننے والی پارٹی کیلئے سوشلسٹ تصور بھی جے رحیم کا تھا۔ پھر آپ میں سے کسی کو یاد ہو گا کہ جب بھٹو کراچی پہنچے تو کینٹ ریلوے اسٹیشن سے ہزاروں لوگ انکے جلوس میں تھے، ان کو بیگم خلیق الزماں کی رہائش گاہ پر لایا گیا تھا۔ مجھے معراج محمد خان نے بتایا تھا کہ انہوں نے دیگر طلبہ ساتھیوں کیساتھ ان سے ملاقات کی تھی اور انہیں کہا تھا کہ اگر وہ سیاست میں آنے کا اعلان کرتے ہیں تو وہ اور انکے ساتھی ان کی حمایت کریں گے۔ 

    تو پس عزیزو! باقی سب تاریخ ہے۔ ایک کالم میں کتنی کہانیاں آ سکتی ہیں!

    حسن مجتبٰی
     


    0 0

    وزیراعظم عمران خان کو کون سمجھائے کہ وہ اب حکومت میں ہیں، اپوزیشن میں نہیں۔ خان صاحب کو کون سمجھائے کہ حکومت کو ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے کپتان کو کون سمجھائے کہ اُن کو اپنی پارٹی کے منشور کے مطابق انقلابی اور اصلاحاتی ایجنڈے کے نفاذ کے لیے قانون سازی کے ساتھ ساتھ آئین میں بھی ترامیم کی ضرورت پڑے گی۔ عمران خان کو کون سمجھائے کہ اُنہیں ہر حال میں موجودہ پارلیمنٹ سے ہی قوانین پاس کروانا ہوں گے اور اس کا متبادل آرڈیننس کا نفاذ نہیں ہو سکتا۔ خان صاحب کو کون سمجھائے کہ قانون سازی اور آئین میں ترامیم کے لیے اگر حکومت اپوزیشن کو اپنے ساتھ نہیں ملائے گی تو نہ کوئی قانون بن سکتا ہے اور نہ ہی آئین میں ترمیم ممکن ہو گی۔ 

    لیکن جب کوئی یہ کہہ دے کہ حکومت کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر قومی مفاد میں قانون سازی اور اصلاحات کے ایجنڈے کا نفاذ کرنا چاہئے تو خان صاحب کہتے ہیں کہ وہ اپوزیشن کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے۔ اپوزیشن پوچھتی ہے کہ این آر او کس نے مانگا ؟ تو اس پر نہ خان صاحب اور نہ ہی اُن کے وزراء کے پاس کوئی جواب ہوتا ہے۔ نجانے کیوں خان صاحب سکون سے حکومت نہیں چلانا چاہتے۔ جب سے خان صاحب نے حکومت سنبھالی، اپوزیشن کے برعکس اُن کی اور اُن کے کچھ وزراء کی مخالفین کے ساتھ لڑائی میں دلچسپی زیادہ نظر آتی ہے۔ حکومتی پارٹی کے عمل سے ابھی تک محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ وہ حکومت میں ہے۔ الزامات، ’چور، ڈاکو‘ اور’ کھا گئے، کھا گئے‘ کے نعرے ویسے ہی لگائے جا رہے ہیں جیسے تحریک انصاف اپوزیشن کے دور میں لگایا کرتی تھی۔ بھئی! اب آپ حکومت میں ہیں، جو چور ہے، جس نے ڈاکا ڈالا، جس نے عوام کا مال کھایا اُسے پکڑیں۔ اب نعروں کا نہیں عمل کا وقت ہے۔ 

    یہ وقت ہے نواز شریف کی تین سو ارب روپے کی کرپشن کو سامنے لانے کا جس کے بارے میں خان صاحب اور اُن کی پارٹی کے لوگ ڈھنڈورا پیٹتے رہے۔ یہ وقت ہے عدالتوں کے اُن فیصلوں کو غلط ثابت کرنے کا جن کے مطابق نواز شریف کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ وقت ہے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف کرپشن کے ثبوت نیب اور عدالتوں کو فراہم کرنے کا کیونکہ ابھی تک تو نیب کے مطابق اس کے پاس شہباز شریف کے خلاف پیسوں کی کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں۔ پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو طعنہ دینے کے بجائے جعلی اکائونٹس کیس میں تحقیقات کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور جو اس مبینہ کرپشن میں شامل ہے، اُس کے خلاف کیس بنا کر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

    اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب سے اس بات کی بھی توقع ہے کہ وہ تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں میں شامل مبینہ کرپٹ افراد کے خلاف بھی اُسی جوش و خروش کے ساتھ کارروائی کریں گے جس انداز میں حکومت کے مخالفین کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔ اگر شہباز شریف کو بغیر ثبوت کے نیب پکڑ رہی ہے، جس پر خان صاحب نیب کو شاباشی بھی دیتے ہیں، تو اُسی نیب کو اس قابل بھی بنائیں کہ وہ اسی اصول کے مطابق حکومت میں شامل اُن افراد کو بھی پکڑے جن کو کافی سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ کوئی خان صاحب کو اس سے نہیں روکتا کہ کرپٹ عناصر کے خلاف ایکشن نہ لیں یا اُنہیں نہ پکڑیں۔ 

    بس التجا یہ ہے کہ بلاوجہ سیاسی ماحول کو گرم مت رکھیں، سیاسی استحکام آنے دیں، وسط مدتی انتخابات کی بات مت کریں اس سے ملک کے حالات خراب اور لوگوں کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے کسی بھی شہر کے، کسی بھی کاروباری طبقے سے پوچھیں، لوگ یہی کہیں گہ کاروبار بہت خراب ہیں، بزنس چل نہیں رہا۔ میری رائے میں تو معیشت، گورننس، ادارہ سازی اور احتساب جیسے اہم ترین معاملات میں حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ ملا کر پارلیمنٹ کے ذریعے ایک ایسے اتفاقِ رائے پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے کہ کم از کم ان چار معاملات پر کوئی سیاست نہ ہو۔ اسی صورت میں حکومت بھی اپنے منشور پر پورے فوکس کے ساتھ عمل درآمد کرنے کے قابل ہو گی۔ لیکن عمران خان کو کون سمجھائے؟؟؟

    انصار عباسی

     


    0 0

    دنیا میں تقریباً 3 ارب 90 کروڑ افراد انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ پہلی مرتبہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی آن لائن ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تنظیم برائے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز (آئی ٹی یو) کا کہنا ہے کہ 2018 کے اختتام تک پوری دنیا کی آبادی کا 51.2 فیصد حصہ انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہو گا۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ٹی یو کے چیف ہولین زو نے کہا کہ ’2018 کے اختتام تک ہم انٹرنیٹ کے استعمال میں 50/50 سنگِ میل عبور کر جائیں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مزید جامع گلوبل انفارمیشن معاشرے کی جانب ایک اہم قدم کو ظاہر کرتا ہے، اس کے باوجود دنیا بھر کے بہت سے لوگ اب بھی ڈیجیٹل اکانومی کے ثمرات سے استفادہ کرنے کے منتظر ہیں۔

    انہوں نے ٹیکنالوجی اور کاروباری جدت کی مزید حمایت کرنے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ ڈیجیٹل انقلاب کسی شخص کو ٓاف لائن نہ رہنے دے۔ آئی ٹی یو کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں انٹرنیٹ کے استعمال میں سیدھے اور سست رفتاری سے اضافہ ہوا ہے جو 2005 میں آبادی کے 51.3 فیصد سے بڑھ کر اب 80.9 فیصد ہو گئی ہے۔ تاہم یہ رفتار ترقی پذیر ممالک میں خاصی ڈرامائی ہے جہاں 13 برس قبل محض 7.7 فیصد افراد کی انٹرنیٹ تک رسائی اب بڑھ کر 45.3 فیصد ہو چکی ہے۔ اس میں بھی افریقہ میں سب سے زیادہ اور پائیدار نمو دیکھنے میں آئی جہاں اسی عرصے کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں 10 گنا اضافہ ہوا اور یہ شرح 2.1 فیصد سے بڑھ کر 24.4 فیصد ہو گئی۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دنیا بھر میں جہاں فکسڈ لائن ٹیلی فون استعمال کرنےوالوں کی تعداد میں کمی آئی ہے وہیں موبائل فون کی سبسکرپشن دنیا کی کل آبادی سے بھی زائد ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ موبائل براڈ بینڈ استعمال کرنے والوں کی تعداد راکٹ کی رفتار سے بڑھی ہے جو 2007 میں صرف 100 میں سے 4 افراد تھی اور اب بڑھ کر 69.3 ہو چکی ہے۔ آئی ٹی یو کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 5 ارب 30 کروڑ افراد موبائل براڈ بینڈ استعمال کرتے ہیں، جبکہ دنیا کی آبادی کے 96 فیصد حصے کو موبائل تک رسائی حاصل ہے جس میں سے 90 فیصد تھری جی استعمال کرتے ہوئے انٹرنیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا گیس پائپ لائن منصوبے (ٹاپی) پر کام آئندہ برس کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو کر اگلے ڈھائی سال میں مکمل ہو جائے گا۔ شریک ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے ٹاپی پائپ لائن کمپنی کے سربراہ محمد مراد امانوف نے کہا اس منصوبے کی حفاظت کے لیے افغانستان اور پاکستان نے مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ یاد رہے کہ چند سال قبل طالبان بھی اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔

    اس منصوبے میں کیا کیا ہو گا ؟
    ٹاپی کے تحت ایک ہزار آٹھ سو چودہ کلو میٹر لمبی پائپ لائن بچھائی جا رہی ہے جو خطے کے ان چاروں ملکوں کو جوڑ دے گی۔ اس پائپ لائن کو امن کی پائپ لائن کہا جا رہا ہے جو ان چاروں ملکوں کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ذریعے 33 ارب مکعب میٹر سالانہ فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے پر تعمیراتی کام اگلے برس کی پہلی سہ ماہی میں شروع ہو جائے گا اور دو سال کے عرصے میں یہ پائپ لائن پاکستان کی سرحد تک پہنچ جائے گی۔
    پاکستان کی سرحد سے اسے انڈیا تک لے جانے میں چھ ماہ مزید لگیں گے۔ اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ ساڑھے سات ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ دسمبر دو ہزار دس میں چاروں ملکوں کے توانائی کے وزرا نے اس پائپ لائن کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    اس معاہدے کے تحت پاکستان اور انڈیا بیالیس بیالیس فیصد حصہ خریدیں گے۔
    افغانستان کو اس پائپ لائن سے سالانہ راہداری کی مد میں چالیس کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔ یہ پائپ لائن افغانستان کے شہر ہیرات اور قندھار سے گزرتی ہوئی پاکستان کے شہر کوئٹہ تک لائی جائے گی اور یہاں سے اس کو ملتان سے جوڑا جائے گا۔ اس پائپ لائن کا آخری سرا انڈیا کے صوبے پنجاب میں فضلیکہ کے شہر میں ہو گا۔ اس پائپ لائن سے سنہ 2020 میں گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔
    ترکمانستان کے صحرا قراقم میں دھکتا ہوا گڑھا جسے جہنم کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے، اس میں سنہ 1971 میں ایک سائنسی تجربے کے دوران آگ لگ گئی تھی۔ ابتدا میں خیال تھا کہ یہ آگ جلد بجھ جائے گی لیکن چالیس سال سے اس سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکمانستان میں گیس کے ذخائر کتنے وسیع ذخائر ہیں۔ اب تک دریافت ہونے والے ذخائر کے مطابق دنیا بھر میں ترکمانستان چوتھے نمبر پر آتا ہے۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان کی معاشی صورت حال اور روپے کی قیمت گرنے کے سبب عوام میں پریشانی پائی جاتی ہے۔ تاہم، حکومت کا موقف ہے کہ وہ معاشی حالات بہتر بنانے کے لئے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ ماہرین معاشیات کے درمیان حکومت کے اس موقف کے بارے میں ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں۔ 'وائس آف امریکہ"کے پروگرام 'جہاں رنگ'میں دو ماہرین معاشیات؛ پاکستان کے ڈاکٹر شاہد صدیقی اور پیرس یونیورسٹی کے ڈاکٹر عطا محمد نے گفتگو کی۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت جنوری کا انتظار کر رہی ہے، جبکہ انکے خیال میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے اور اس سے قرضوں کی قسطیں ملنا شروع ہو جائیں گی۔ اور جب وہاں سے حکومت کی پالیسیوں کی توثیق ہو جائے گی، تو پھر دروازے کھل جائیں گے اور پاکستان بین الااقوامی منڈیوں میں بونڈ جاری کر سکے گا۔ عالمی بنک اور ایشائی ترقیاتی بنک کے پاس جا سکے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر پاکستان میں وہی کچھ ہو رہا ہے جو پچھلے 30 برسوں میں ہوتا رہا ہے، اور یہی سبب ہے کہ خطے میں ہماری شرح نمو سب سے کم رہی ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے 100 دن کا جو پروگرام دیا تھا، اس میں یہ بات بالکل درست تھی کہ ہم اپنے پہلے سو دنوں میں عدل پر مبنی ٹیکس پالیسی نافذ کریں گے۔ آئی ایم ایف بھی 1988ء سے یہی کہتا آرہا ہے۔ اور تینوں بڑی پارٹیاں جو ابتک اقتدار میں رہی ہیں ان تینوں کے منشور میں یہ بات موجود ہے۔ لیکن، اُنھوں نے کہا کہ ''نہ تو بقیہ دو پارٹیوں نے اس سلسلے میں کچھ کیا اور یہ کہ سو دن گزر جانے کے باوجود نئی حکومت نے بھی اس ضمن میں کچھ نہیں کیا۔ اور ایسا لگتا ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی اسکے لئے کوئی تیار نہیں ہے۔ اور اسکے بغیر اصلاح احوال کی کوئی صورت نظر نہیں آتی''۔

    انہوں کہا کہ صرف یہ ہوگا کہ Privatization کی صورت میں اثاثے فروخت ہونگے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم بچت کے لئے ملک میں سرمایہ کاری کے لئے Structural reforms نہیں لاتے، 'فلائٹ آف کیپٹل'کو نہیں روکتے اور معیشت کو Document نہیں کرتے تو بہتری کی جانب تبدیلی کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر عطا محمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج افراط زر کا ہے۔ آئندہ دنوں میں اس کے بڑھنے کے امکانات ہیں۔ دوسرا چیلنج عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شرح سود کا ہے اور تیسرا بڑا چیلنج درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کا۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ان اسباب کی بنا پر ملک کی شرح نمو میں تھوڑا ہی سا اضافہ ہو سکے گا اور بعض عالمی مالیاتی اداروں نے بھی اس سلسلے میں اپنی اپنی پیشگوئیاں کی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کا موقف جاننے کے لئے حکومتی نمائندوں سے رابطے کی کوشش کی گئی۔ لیکن، کوئی بھی دستیاب نہیں تھا۔

    قمرعباس جعفری

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    جھڑپ ہفتے کی شام بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے شہر سرینگر کے مضافات میں واقع علاقے مجھہ گنڈ کو سرکاری فورسز کی طرف سے گھیرے میں لینے کے ساتھ ساتھ ہی شروع ہوئی تھی۔ پولیس کے ایک ترجمان نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ علاقے کے ایک نجی گھر میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر بھارتی فوج، مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) اور بھارت کی وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف نے مل کر ایک آپریشن شروع کیا تھا جس کے دوران محصور عسکریت پسندوں نے ان پر فائرنگ کی جس کے بعد شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔

    جھڑپ اٹھارہ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد اتوار کو تینوں مشتبہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت پر ختم ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں چودہ برس کا ایک لڑکا مدثر رشید بھی شامل ہے جو گزشتہ ہفتے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے آبائی علاقے حاجن سے اچانک لاپتہ ہو گیا تھا۔ بعد میں اُس کی ایک ایسی تصویر سوشل میڈیا میں وائرل ہو گئی تھی جس میں اُسے ایک اے کے 47 بندوق کو تھامے دیکھا جا سکتا تھا۔ تصویر کے ساتھ یہ اعلان درج تھا کہ مدثر رشید عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ مارے گئے عسکریت پسندوں کا تعلق کالعدم لشکرِ طیبہ سے تھا۔ پولیس نے ان کی شناخت مدثر رشید، ثاقب بلال اور علی کے طور پر کی اور کہا کہ مدثر اور ثاقب کا تعلق بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے حاجن علاقے سے تھا جبکہ اُس کا تیسرا ساتھی علی غالبا"پاکستانی شہری تھا۔

    عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ لڑائی میں پانچ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ان میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرکاری فورسز نے مارٹر بم اور بارودی مواد استعمال کر کے پانچ نجی مکانوں کو تباہ کر دیا۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لڑائی کے دوراں عسکریت پسند اپنی پوزیشنیں بدلتے رہے جس کی وجہ سے انکاؤنٹر کا دائرہ اُس مکان تک محدود نہ رہ سکا جس میں وہ ابتداء میں محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ جھڑپ کے دوراں ہی علاقے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آکر بھارت مخالف اور عسکریت پسندوں کے حق میں نعرے لگائے۔ حفاظتی دستوں نے مظاہرین اور پتھراؤ کرنے والے ہجوموں کے خلاف طاقت استعمال کی۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی خبر کے پھیلتے ہی مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا۔ جھڑپ میں مارے گئے 14 سالہ عسکریت پسند کے آبائی علاقے حاجن سے بھی مظاہروں اور تشدد کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ پُرتشدد مظاہرین اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔

    یوسف جمیل

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    کسی زمانے میں خبر کے حصول کا واحد ذریعہ اخبارات ہوا کرتے تھے جس میں بعدازاں ٹیلی ویژن بھی شامل ہو گیا تھا لیکن اب نئی تحقیق یہ کہتی ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس (سوشل میڈیا) نے خبر کے بنیادی ذریعے کی جگہ لے لی ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی ریسرچ سینٹر (پیو ) کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور خبر رساں اداروں کے مشکلات کا شکار حالات اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق 20 فیصد امریکی شہری سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں جبکہ اخبارات سے خبریں پڑھنے والو ں کا تناسب 16 فیصد ہے۔ 2016 سروے کے مطابق اخبارات سوشل میڈیا سےزیادہ اہمیت کے حامل تھے جبکہ 2017 میں یہ تناسب دونوں ذرائع کے لیے برابر ہی تھا۔

    پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سوشل میڈیا کے عروج کے باوجود اب بھی ٹیلی ویژن خبروں کا سب سے مضبوط ذریعہ ہے اور تقریباً 49 فیصد امریکی شہری اس کے ذریعے باخبر رہتے ہیں۔ تاہم خبروں کی رسائی کے حوالے سے کی گئی اس ریسرچ میں عمروں کا واضح فرق دیکھا گیا جس میں نوجوان زیادہ تر سوشل میڈیا جبکہ ادھیڑ عمر افراد ٹیلی ویژن اور اشاعت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں 18 سے 29 سال کے عمر کے افراد کے لیے سوشل میڈیا باخبر رہنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جبکہ صرف 2 فیصد نے اخبارات کے حق میں رائے دی۔

    دوسری جانب 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی بڑی تعداد (81 فیصد ) ٹیلی ویژن سے باخبر رہتے ہیں جبکہ 39 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اخبارات پڑھتے ہیں جبکہ صرف 8 فیصد افراد سوشل میڈیا سے خبریں حاصل کرتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر سے وابستہ ایلیسا شیاریر کے مطابق امریکی نوجوان خبر کے سلسلے میں اپنے بڑوں کی طرح ٹیلی ویژن پر انحصار کرنے کے بجائے صرف ایک پلیٹ فارم پر اکتفا نہیں کرتے۔ اسی ادارے کی جانب سے کی گئی ایک ریسرچ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ گزشتہ برس 2017 میں شائع شدہ اورآن لائن اخبارات کی سرکولیشن ہفتے کے دنوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ تھی جبکہ اتوار کے روز یہ تعداد 3 کروڑ 40 لاکھ ہو جاتی تھی تاہم اب اس میں 10 سے 11 فیصد کی کمی واقع ہو چکی ہے۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    کیا مودی سرکار کے’’اچھے دن‘‘ جانے والے ہیں؟ ریاستی انتخابات میں راجستھان اور چھتیس گڑھ کی ریاستیں بی جے پی کے ہاتھوں سے نکل گئیں۔
    اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ یہ مودی کو واضح پیغام ہے کہ عوام خوش نہیں اور یہ تبدیلی کا وقت ہے۔ انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد ریاست راجستھان کی وزیراعلیٰ وسوندھرا راجے اور چھتیس گڑھ کے وزیراعلیٰ رمن سنگھ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے اور کہا ہے کہ و ہ مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے اور عوام کے حقوق کے لئے لڑتے رہیں گے۔ 

    حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے ریاستی انتخابات میں حیران کن طور پر بڑی تعداد میں نشستیں جیت لی ہیں جبکہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو اہم نشستوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔ راجستھان، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش میں کانگریس نے بی جے پی کو شکست سے دوچار کر دیا ہے، ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی حکمرانی تھی۔ راجستھان میں کانگریس نے 100 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ بی جے پی کے حصے میں 74 نشستیں آئیں، 2013 کے انتخابات میں اس ریاست میں کانگریس کی صرف 22 نشستیں تھیں یوں اُس نے 79 اضافی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ بی جے پی 90 نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔ 

    چھتیس گڑھ میں کانگریس 68 نشستیں لے گئی جبکہ بی جے پی 16 تک محدود ہو گئی ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں کانگریس کی 39 اور بی جے پی کی 49 نشستیں تھیں۔ مدھیہ پردیش میں دونوں جماعتوں میں کانٹے کا مقابلہ رہا، تاہم کانگریس 55 ایسی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی جو بی جے پی کی تھیں۔کانگریس 115، بی جے پی 108 نشستوں پر کامیاب رہی۔ 2013ء کے انتخابات میں کانگریس صرف 58 اور بی جے پی 165 نشستیں جیتی تھی۔ ریاست تلنگانہ سے بھی بی جے پی کا پتہ صاف ہو گیا، صرف ایک نشست ملی، میزورام میں مقامی جماعتیں بازی مار گئیں، یہاں کانگریس کو پانچ اور بی جے پی کو ایک نشست ملی۔

     


    0 0

    سینتالیس سال بعد بھی سانحہ ”سقوط ڈھاکہ” وقت کی دھول میں گُم نہ ہو سکا، سچ تو یہی ہے کہ 16 دسمبر کے اس دن نے ایک دفعہ پھر ہمارے زخموں کو کریدنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ مندمل ہوئے ہی کب تھے جو کریدنے کی نوبت آئی۔ پاکستان کو دولخت ہوئے سینتالیس برس بیت گئے۔ بھارت نے سقوط ڈھاکہ میں جو کردار ادا کیا اورجس کا موجودہ وزیرِاعظم نریندرمودی نے ہی نہیں اندرا گاندھی نے بھی برملا اور بارہا اقرار کیا ہے۔ تقسیم پاک وہند کو بھارت نے دل سے تسلیم نہیں کیا جبکہ پاکستان میں مقامی قومیتوں نے سر اُٹھایا۔ بھارت نے اس سوچ کو ابھارا، کچھ غداروں کے کمزور ایمان کا فائدہ اٹھایا اور سازشیں کیں۔

    بنگالی قومیت پر علیحدگی کی تحریک شروع کی اور ہندوستان نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کر کے پاکستان کا ایک بازو کاٹ دیا۔ اب بھی انتہا پسند ہندو سوچ پاکستان کو توڑ کر اَکھنڈ بھارت بنانے کے پالیسیوں پر عمل پیرا اور مسلمانوں کو غلام بنانے کی سازشوں تانے بانے بن رہی ہے۔ بھارت اب بھی کہتا ہے کہ پہلے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے اب اس کے دس ٹکڑے کرے گا۔ پاکستانیوں کے سینے میں آج بھی یہ درد ہے، قوم اب کسی سازش کو دوبارہ سراٹھانے نہیں دے گی، سقوط ڈھاکہ سے سیکھے گئے سبق فراموش نہیں کئے جا سکتے۔
     


older | 1 | .... | 144 | 145 | (Page 146) | 147 | 148 | 149 | newer