Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 141 | 142 | (Page 143) | 144 | 145 | .... | 149 | newer

    0 0

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے جاری اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب سے پتا چلتا ہے کہ امریکہ نے کئی دہائیوں سے پوری عالمی برادری کی خیرخواہی اور قیادت کا جو کردار اپنا رکھا تھا ، اب اس سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کھل کر کہا کہ وہ گلوبل نظریے کو مسترد کرتے ہیں ، امریکہ اب صرف اپنے مفاد میں فیصلے کرے گا اور اپنے دوستوں ہی کو امداد دے گا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری بدامنی کے سبب پناہ کی تلاش میں مغربی ملکوں کا رخ کرنے والے لاکھوں پریشان حال افراد کے حوالے سے امیگریشن کے عالمی سمجھوتے پر دستخط سے انکار کرتے ہوئے یہ غیرہمدردانہ موقف اپنایا کہ یہ مسئلہ متعلقہ ملکوں کو خود حل کرنا چاہیے ۔

    چین کے خلاف تجارتی پابندیوں کے تناظر میں انہوں نے چینی حکومت پر امریکی دانش چرانے اور امریکی کمپنیوں کو دھوکا دینے کے الزامات عائد کیے۔ عالمی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت چھوڑ دینے کے فیصلے کو بھی انہوں نے درست قرار دیا اور کہا کہ مطلوبہ اصلاحات ہونے تک امریکہ کونسل میں واپس نہیں آئے گا۔ عالمی عدالت انصاف کے اسرائیلی مظالم کے خلاف فیصلوں کے پس منظر میں انہوں نے اس عدالت کی قانونی حیثیت سے انکار کرتے ہوئے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے کے امریکی اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے آنے والے دنوں میں تہران پر مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا جبکہ عالمی برادری کی بھاری اکثریت اس معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ کی واضح طور پر مخالف ہے۔ انہوں نے ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف بھی کارروائی کی دھمکی دی۔

    صدر ٹرمپ نے تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور امریکہ کی خواہش کے مطابق تیل کے نرخ کم نہ کرنے کی وجہ سے ان پر لوٹ کھسوٹ کا الزام لگایا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں اور اقدامات کے خلاف عالمی برادری کے جذبات کے ادراک کا مظاہرہ صدر ٹرمپ نے ان الفاظ میں کیا کہ ’’ میں عالمی دباؤ کو مسترد کرتا ہوں اور آزادی اور تعاون کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جب یہ دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کی تاریخ میں اپنے ملک کے لیے سب سے زیادہ اور بہتر کام کیا ہے تو پنڈال شرکاء کے استہزائیہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری کی رائے کے حوالے سے یہ واقعہ بجائے خود ایک بلیغ تبصرہ ہے۔

    صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں سے اپنے ملک کو جس عالمی تنہائی کی جانب دھکیل رہے ہیں، اس کا اندازہ ایران کے خلاف پابندیوں کے مخالف ملکوں کی تازہ ترین پیش رفت سے لگایا جا سکتا ہے ۔ بین الاقومی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک روس، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور یورپی ملکوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ڈالر کے بجائے بارٹر سسٹم کے تحت تجارت جاری رکھی جائے گی اور ایران کے جائز مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔ پاکستان کو اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اپنے قومی مفادات اور مؤثر بین الاقوامی کردار کو یقینی بنانے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ 

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز صدر ٹرمپ سے ہونے والی مختصر ملاقات پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بڑی خوش گمانی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم سیماب صفت امریکی صدر اور ان کی حکومت سے توقعات باندھنے میں مکمل حقیقت پسندی سے کام لینا ضروری ہے۔ امریکہ سے تعلقات میں بہتری کی کوششیں یقیناً جاری رہنی چاہئیں لیکن تیزی سے تبدیل ہوتی دنیا ، اس میں امریکہ کے کردار اور نئی بین الاقوامی صف بندیاں بھی پوری طرح پیش نظر رکھی جانی چاہئیں اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ نئی دنیا میں باعزت مقام کے حصول کی جانب پیش قدمی کی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ میں گہرے غور و خوض کے ساتھ وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام بھی وقت کا تقاضا ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    آج کے اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ اس میں واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر، یو ٹیوب وغیرہ شامل ہیں۔ اپنا پیغام، اپنے خیالات اور نظریات دنیا تک پہنچانے کا یہ انتہائی سستا، تیز اور مؤثر ذریعہ ہے۔ لیکن ماہرین اس کے بہت سے مضر اثرات کی بنا پر بہت سی احتیاطی تدابیر بھی بتاتے ہیں جنھیں ہمیں مدنظر رکھنا چاہے۔ مثلاً اس کا استعمال زیادہ نہ کریں۔ خاص طور پر سوتے اور کھانا کھاتے ہوئے اسے اپنے سے دور رکھیں۔ نیز چارج کرتے ہوئے موبائل کو کبھی کان سے نہ لگائیں۔ اس کا سب سے زیادہ استعمال سیاست، مذہب اور ذاتی حیثیت میں ہو رہا ہے۔

    اکثر لوگوں کی پوسٹس اور میسجز پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ انتہائی متقی، پرہیز گار ، فلسفی یا دانشور ہیں، لیکن اگر کبھی آپ کا ان سے عملی زندگی میں واسطہ پڑ جائے یا آپ کو اس کا کردار دیکھنے کا موقع مل جائے تو آپ کو شدید مایوسی ہو۔ اس لئے کہ عموماً ہم سب کی خواہش یہ ہے کہ ہم ایک بہت اچھے، نیک اور متقی انسان کے طور پر معروف ہو جائیں، لیکن یہ خواہش کم ہوتی ہے کہ ہم واقعی ایک اچھے انسان بن جائیں۔ اس لئے ہماری توجہ عمل کی طرف نہیں ہوتی اور ہم مشہور و معروف ہونے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔

    ہم سب کو چند اہم باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اردگرد کے لوگوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ یہ شخص سوشل میڈیا پر متقی انسان نظر آتا ہے بلکہ عملی زندگی بھی ہمارے اچھے کردار، عمل اور اخلاق کی گواہی دے۔ اس لئے ہمیں اپنے طرزعمل کی اصلاح کرنی ہو گی۔ پہلا غیر اخلاقی عمل تو ہمارا یہ ہوتا ہے کہ جب ایک مہمان ہمارے سامنے بیٹھا ہو، ہم اسے نظر انداز کر کے اپنے موبائل سے کھیل رہے ہوتے ہیں اور ہمیں یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ اسے یہ بات کتنی ناگوار گزرتی ہو گی۔ اس لئے ہمیں اس برے طرزعمل سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کسی بھی مہمان کے سامنے بلا ضرورت کالز یا میسجز نہ کریں۔ اسی طرح اس کے حد سے زیادہ استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے کہ سارا دن اسی پر توجہ ہو۔ 

    اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ ہم جو بھی سرگرمی سوشل میڈیا پر کرتے ہیں اسے مکمل ذمہ داری اور فکر کے ساتھ کریں۔ اکثر سوشل میڈیا کی پوسٹس پر آپ کو یہ کہا جا رہا ہوتا ہے کہ اچھی باتیں پھیلانا صدقہ جاریہ ہے، خاص طور پر قرآن و احادیث یا بزرگوں کے اقوال پر مبنی پوسٹس اور بیشتر لوگ تیزی سے اس کو شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ اچھی بات پھیلانا صدقہ جاریہ ہے لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر بات کی تصدیق کر کے شیئر کرنا آپ پر لازم ہے ،خاص طور پر قرآن و احادیث پر مبنی پوسٹس کو، کیونکہ اگر ان میں کوئی غلطی ہوئی تو اس کا گناہ جاریہ بھی آپ کے حصے میں آ سکتا ہے۔ اس لئے اس معاملے میں احساس ذمہ داری کا ثبوت دینا بہت ضروری ہے۔ جب آپ محنت کر کے خالص اللہ کی رضا کے لئے تصدیق کرنے میں اپنا وقت صَرف کر تے ہیں اور پھر کسی اچھی بات کو پھیلاتے ہیں تو تبھی اس کا اجرو ثواب ملنے کی توقع کرنی چاہیے۔

    سوتے جاگتے، سفر کرتے ہوئے جو پوسٹس سامنے آئیں بس بغیر پڑھے، سمجھے اور تصدیق کیے اسے دھڑا دھڑ شیئر کئے جائیں تو یہ مناسب نہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کا ایک منفی استعمال یہ بھی ہو رہا ہے کہ لوگ اپنے سیاسی یا مذہبی نظریاتی حریف کو نقصان پہنچانے کیلئے جھوٹ اور غلط معلومات کو تیزی سے شیئر کرتے ہیں اورحقائق اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ تصاویر اور ویڈیوز کو اپنے مقاصد کے تحت ایڈٹ کرتے ہیں اور اسے شیئر کرتے ہیں اور عام شخص ان معلومات کو درست سمجھ کر یقین کر لیتا ہے اور اپنی رائے قائم کر لیتا ہے۔ یہ بھی درست عمل نہیں۔ عوام میں یہ شعور بیدار کرنا بہت ضروری ہے کہ اُن تک جو معلومات پہنچیں انہیں اس وقت تک حتمی نہ سمجھ بیٹھیں جب تک کہ ان کی تصدیق نہ کر لیں۔ اس لئے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر آپ جو رائے قائم کریں گے اور پھر اس کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں یا مختلف طبقات سے نفرت کریں گے تو یہ آپ کا اپنا نقصان ہے کسی اور کا نہیں، اس لئے کہ آپ اندھیرے میں ہوں گے، کوئی اور نہیں۔

    عمیر قادری


     


    0 0

    وزارت تجارت میں تعینات ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ چین نے اسٹرٹیجک فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو معاشی جھنجھٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے خاطر سی پیک کی طلب کو مزید بڑھایا جاے گا اور وزیراعظم عمران خان کی شنگھائی گلوبل امپورٹ ایکسپو میں موجودگی کے دوران یکطرفہ تجارتی مراعات کا اعلان کیا جائے گا۔ شنگھائی گلوبل امپورٹ ایکسپو 5 سے 10 نومبر تک منعقد ہو گی۔ اب تک سی پیک کی نوعیت رسد کی بنیاد پر تھی لیکن اب چین کی اعلیٰ قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس منصوبے کو اسلام آباد کی ترجیحات اور مطالبوں کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ اس کا پاکستان کو زیادہ فائدہ ہو۔ اہلکار کے مطابق بیجنگ میں اعلیٰ چینی قیادت نے یہ سمجھ لیا ہے کہ پاکستان برے طریقے سے قرضوں اور تجارتی خسارے میں ڈوبا ہوا ہے اور اگر اس دلدل سے نہ نکالا گیا تو کوئی دوسری بڑی معیشت اسلام آباد کو گمراہ کر کے ملبہ بیجنگ پر ڈال سکتی ہے۔

    خالد مصطفی 


    0 0

    دنیا بھر میں امراض قلب سے بچائو کا دن منایا گیا۔ عوام الناس میں آگہی کے لئے سیمینار منعقد ہوئے، پیدل چلنے کی خصوصی تقاریب اورمقابلوں کا اہتمام کیا گیا۔ طبی ماہرین نے بجا طور پر میڈیا سمیت ہر سطح پر صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے پر زور دیا اس حوالے سے جنگ ڈویلپمنٹ رپورٹنگ سیل نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف کیا ہے کہ دنیا میں ہر تیسری موت کی وجہ امراض قلب ہیں جبکہ پاکستان میں اوسطاً فی گھنٹہ 24 افراد اس مرض کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک صورت حال قوم کے ہر فرد کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس گھمبیر مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ 

    ڈاکٹروں کی ایک تحقیق کے مطابق امراض قلب کا رجحان پہلے عموماً پچاس سال کی عمر کے بعد ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ مرض تیس سال کے نوجوانوں تک عام ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ سہل پسندی، ورزش سے دوری اور مرغن غذائوں کا بے محابا استعمال ہے۔ ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی کی مضرت جانتے ہوئے بھی لوگ سگریٹ سے نہ صرف اپنی بلکہ اپنے ارد گرد موجود افراد کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ امراض قلب کے ماہرین بجا طور پر ذہنی دبائو کو بھی امراض قلب کی ایک بڑی وجہ بتاتے ہیں۔

    ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے مطابق دل کی بیماریاں انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ دنیا میں روزانہ 2.3 ارب ڈالر کی خطیر رقم کے علاج پر خرچ کا سبب بھی ہیں۔ امراض قلب کی شرح کے تناسب سے اس خطیر رقم کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں بھی خرچ ہو تا ہے جسے صحت کے معیار کو بہتر بنا کر بچایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا شہریوں کے ساتھ ساتھ صحت کے قومی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امراض قلب کے عالمی دن کو موثر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ کھیل کے ویران پڑے میدان اسپتالوں میں تبدیل ہو جائیں انہیں پھر سے کھیل کود کے لئے آباد کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کو اُس وقت تک کے لیے معطل کر دیا گیا ہے جب تک علوی صاحب اس عہدے پر براجمان رہیں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ چونکہ آئینِ پاکستان میں صدرِ مملکت کو ایسی کسی بھی عدالتی کارروائی سے استثنا حاصل ہے، اس لیے علوی صاحب کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ عدالت میں نہیں چل سکتا، اس لئے اسے معطل کیا جا رہا ہے۔ جب کچھ ایسا ہی معاملہ پیپلز پارٹی دور کے صدر آصف علی زرداری کو کرپشن کے مقدمات میں پیش تھا اور اُن کے آئینی استثنا کی بات کی جاتی تھی تو تحریک انصاف سمیت دوسری سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سول سوسائٹی اس پر سخت اعتراض کرتے رہے۔ 

    یہ بحث کی جاتی تھی کہ جب خلفائے راشدینؓ عدالتوں کے سامنے پیش ہوتے رہے تو کسی ایسے استثنا کی یہاں کیسے گنجائش ہو سکتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ استثنا سے متعلق آئینی شقیں اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ انصاف کے تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔ ڈاکٹر علوی کی جماعت جو اب حکمران پارٹی ہے، اس نقطۂ نظر (جسے میں بھی درست سمجھتا ہوں) میں پیش پیش تھی لیکن آج صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنے ٹویٹر اکائونٹ سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ نہ تو وہ یہ استثنا چاہتے تھے اور نہ ہی اُنہوں نے عدالت سے کوئی رعایت طلب کی لیکن عدالت اُس آئینی شق کی پابند ہے جو کہتی ہے کہ کوئی بھی فوجداری مقدمہ صدر یا گورنر کے خلاف اُن کے مدتِ عہدہ کے دوران نہ تو قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی چلایا جا سکتا ہے۔ 

    اگرچہ صدر صاحب نے بعد ازاں ایک ٹویٹ میں یہ بات بھی کہی کہ وہ اپنے وکیل کو کہیں گے کہ عدالت سے استثنا کے خاتمے کی بات کریں۔ اس صورتحال اور صدر علوی کے جواب پر ایک صحافی نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک مولوی صاحب چوری کے خلاف لیکچر دینے کے بعد ایک دعوت پر پہنچے۔ میزبان مولوی صاحب کی تقریر سن چکا تھا۔ مولوی صاحب نے جب قورمہ کی جانب ہاتھ بڑھایا تو میزبان بولا : مرغی چوری کی ہے۔ مولوی صاحب نے جواب دیا : شوربہ حلال ہے۔ شوربہ ڈالتے ڈالتے بوٹیاں لڑھک کر مولوی صاحب کی پلیٹ میں آ گئیں، میزبان بوٹیاں پلیٹ سے نکالنے لگا تو مولوی صاحب کہنے لگے: پلیٹ میں خود سے آنے والی بوٹی حرام نہیں۔ گویا کل تک جو صدارتی استثنا دوسروں کے لیے حرام تھا، وہ آج تحریک انصاف کے صدر کے لیے حلال ہو چکا۔ 

    امید تو یہ تھی کہ صدر صاحب اس معاملہ کو حکومت، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اس مطالبہ کے ساتھ اُٹھاتے کہ ایک اسلامی ملک میں ایسے کسی استثنا کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور پھر ایسے صدرِ پاکستان کہ جنہوں نے پارلیمنٹ میں اپنے حالیہ خطاب میں تحریک انصاف کے اس وعدہ کو دہرایا کہ اُن کی حکومت ریاستِ مدینہ کی عظیم مثال کو سامنے رکھ کر پاکستان میں تبدیلی لائے گی لیکن جب عمل کا وقت آیا تو علوی صاحب کو اُس آئینی شق کے تقدس کا خیال آ گیا جو کل تک بُری اور ناقابل برداشت تھی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرِ مملکت کا ایک اور ٹویٹ دیکھا تو حیرانی ہوئی کہ صدر صاحب کر کیا رہے ہیں۔ لکھتے ہیں کہ میں نے فلم ’’جوانی پھر نہیں آنی‘‘ دیکھی، جسے دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پاکستانی سینما اچھی تفریح فراہم کر رہا ہے۔ صدر صاحب سے گزارش ہے کہ اپنے منصب کا خیال رکھیں، اُس تقریر کو بھی دوبارہ پڑھ لیں جو انہوں نے پارلیمنٹ میں کی تھی اور جس میں صدر صاحب نے خود ریاستِ مدینہ کو ماڈل کے طور پر پیش کیا تھا۔ نیز اگر مناسب سمجھیں تو اپنا یہ ٹویٹ ڈیلیٹ (delete) کر دیں۔

    گزشتہ ہفتے خاتون اول محترمہ بشریٰ بی بی کا ایک ٹی وی انٹرویو سنا۔ وزیر اعظم عمران خان کی بیگم جو باپردہ دار خاتون ہیں، کو پردہ کا دفاع کرتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوئی۔ بشریٰ بی بی نے کہا کہ پردہ اُن کی پہچان ہے اور اس کا اسلام میں عورتوں کے لیے باقاعدہ حکم ہے، کسی کو اس پر اعتراض کرنے یا اس کا مذاق اُڑانے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسی نے اگر اُن پر تنقید کرنا ہے تو اُن کی بات پر کی جائے لیکن ایک ایسے عمل پر جو اللہ کا حکم ہے، پر کوئی مسلمان کیسے اعتراض کر سکتا ہے۔ بشریٰ بی بی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بے پردگی اور مختصر لباس پہننے والی خواتین کو آج کل ماڈرن سمجھا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس باپردہ خواتین کو ’’پینڈو‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ 

    اسی انٹرویو کے دوران بشریٰ بی بی نے ایک ایسی بات کی جو قابلِ اعتراض تھی، اس لیے سوچا اس بارے میں بھی بات کر لی جائے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ بنی گالہ والے گھر میں وہ نماز پڑھ رہی تھیں کہ موٹو (عمران خان کا پالتو کتا) اندر آ گیا جس پر اُنہیں ڈر محسوس ہوا کہ موٹو کہیں اُن کی جائے نماز پر نہ آ جائے، اس پر انہوں نے غصے سے ہاتھ کا اشارہ کر کے اُسے پرے دھکیل دیا۔ وہ چپ کر کے صوفہ کے پیچھے جا کر بیٹھ گیا اور جب انہوں نے جا کے اُسے دیکھا تو اُنہیں کتے کی آنکھیں بھیگی ہوئی محسوس ہوئیں اور انہوں نے اُس کی آنکھوں سے پانی بہتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھ کر اُن کو بہت دکھ ہوا اور اُس دن کے بعد جہاں وہ جاتی ہیں، وہاں موٹو ساتھ ساتھ جاتا ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں بشریٰ بی بی کی بات سن کر مجھے تعجب ہوا کہ کتے کو گھر کے اندر رکھنا گوروں کا تو رواج ہے جس کی ہمارے ہاں ایک ماڈرن طبقہ نقل بھی کرتا ہے.

    لیکن ایک اسلامی سوچ رکھنے والی باپردہ خاتون کو اس بات کا علم نہیں کہ اسلام میں کتے کو شوقیہ طور پر گھر کے اندر رکھنے کی سخت ممانعت ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کتا ایک ناپاک جانور ہے جسے محض شکار یا (مویشیوں کی) رکھوالی کے لیے رکھنے کی گنجائش ہے۔ ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق جس گھر میں تصویر اور کتا ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ایک اور حدیث کے مفہوم کے مطابق اگر کسی شخص نے کتا پالا، جو کھیتی اور مویشی کی حفاظت کے علاوہ ہو تو روزانہ اس شخص کی نیکیوں سے ایک قیراط کمی کی جاتی ہے۔ (بخاری2322)

    انصار عباسی
     


    0 0

    قدرت نے پاکستان کو کئی نعمتوں سے نوازا ہے اور ہماری دھرتی کو بہت ہی خوبصورت مقامات عطا کیے ہیں، آئیے آپ کو پاکستان کے ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو بے حد حسین ہیں۔ آپ کو زندگی میں ایک بار ضرور ان مقامات کو دیکھنا چاہیے ۔ 

    کلر کہار: موٹروے ایم 2 سے اسلام آباد جاتے ہوئے چکوال کے قریب یہ مقام آتا ہے۔ یہاں پر موجود ایک خوبصورت جھیل اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ موروں، مختلف پھلوں، اور رنگ برنگے پھولوں کے سبب یہ مقام انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں سیکورٹی کا بھی بظاہرکوئی مسئلہ نہیں جبکہ متعدد سیاحتی مقامات کی طرح یہاں زیادہ مہنگائی بھی نہیں ہے۔ آپ بآسانی اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ 

    موہنجو داڑو: سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے یہ تاریخی مقام صرف 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا یہ شہر اڑھائی ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ تعمیر ہوا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو اسے عالمی ورثہ قرار دے چکا ہے۔ 

    مری: اسلام آباد سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ شہر بیشتر سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ سردی کا موسم ہو یا گرمی کا یہاں کی رونقیں ماند نہیں پڑتیں۔

    ٹھنڈیانی: ایبٹ آباد کے شمال مغرب میں 31 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کو خوبصورتی اور ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے ٹھنڈیانی کہا جاتا ہے اور اس علاقے میں سال کے ہر مہینے میں آیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سستے ہوٹلوں میں اچھی رہائش کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ 

    وادیٔ کیلاش: یہ وادی خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع ہے۔ یہاں منفرد زبان اور ثقافت کا حامل کیلاش قبیلہ آباد ہے۔ اپنے پُرفضا مقامات اور خوبصورتی کی وجہ سے یہ وادی پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہے۔ 

    سوات: یہ خوبصورت مقام خیبر پختو نخوا میں واقع ہے اور اس کو خوبصورتی کی وجہ سے ایشیا کا سوئٹزر لینڈ بھی کیا جاتا ہے۔ اسے یہ خطاب ملکہ برطانیہ نے اپنے 1961ء کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دیا تھا۔ وہ اس وادی کو دیکھنے کے بعد بہت متاثر ہوئیں۔ 

    زیارت: صوبہ بلوچستان کے اس مقام کو یہ شرف حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظمؒ نے اپنے آخری ایام یہاں گزارے تھے اور انہیں اس سے خاص رغبت تھی۔ کوئٹہ سے 125 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کا درجہ حرارت گرمیوں میں بھی خوشگوار رہتا ہے اور سیاحوں کو آنے کی دعوت دیتا ہے۔ 

    وادیٔ نیلم: آزاد کشمیر کے دریائے نیلم کے ساتھ واقع یہ وادی خوبصورت درختوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ وادی کاغان کے متوازی واقع ہے اور ان دونوں وادیوں کو تقریباً چار ہزار فٹ بلند پہاڑی سلسلے جدا کرتے ہیں۔ 

    شندور ٹاپ: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع اس مقام کی بلندی تقریباً 12200 فٹ ہے۔ اس کی خاص بات پولو میچز ہیں، جو ہر سال یہاں منعقد کیے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گرائونڈ ہے ۔ 

    دیوسائی میدان : پاکستان کے شمال میں یہ میدان سکردو، گلتاری، کھرمنگ اور استور کے درمیان واقع ہے۔ ان کی اونچائی تقریباً 13497 فٹ ہے۔ مقامی زبان میں دیوسائی کا مطلب جنات میں زمین ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جگہ جنات کی قیام گاہ ہے۔ یہ جگہ غیر گنجان آباد ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی سرد ہے اور یہاں طوفان آتے رہتے ہیں۔ یہاں مختلف طرح کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں ۔

    روھاب لطیف


     


    0 0

    ان حالات میں جب قومی معیشت میں دیوالیہ پن کی نشانیاں عود کر آئی ہیں، اس سے بچنے کے لئے سردست آئی ایم ایف سے ملکی تاریخ کی سخت ترین شرائط پر دس سے بارہ ارب ڈالر قرضے کا حصول حکومت کے کڑے امتحان کا باعث بنا ہوا ہے۔ وزیرخزانہ، اسد عمر جو کبھی آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے کے حق میں نہیں تھے، زمینی حقائق دیکھ کر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ موجودہ حالات میں آئی ایم ایف سے قرضہ لئے بغیر گزارا ممکن نہیں اس کے لئے آئندہ ہفتے مذاکرات کا آغاز کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف آئی ایم ایف موجودہ حکومت کے گزشتہ 100 دن میں منی بجٹ اور بجلی گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے جیسے اقدامات سمیت دیگر فیصلوں کو بھی ناکافی قرار دے رہی ہے حالانکہ متذکرہ اقدامات کا پاکستان اور اس کے غریب عوام متحمل نہیں ہو سکتے اور اس فیصلے سے لوگوں کے معاشی حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں اس بارے میں سوچنا بھی محال ہے۔

    آئی ایم ایف نے بجلی گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ، روپے کی قدر میں کمی اور سخت مالیاتی پالیسی کو پاکستان کے لئے ناگزیر قرار دیا ہے، دوسری طرف ماہرین اقتصادیات کی یہ رائے ہے کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف کے جال میں دوبارہ نہیں پھنسنا چاہئے جس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ ماہرین کے بقول پاکستان کے پاس بیل آئوٹ قرضے کے لئے آزمودہ دوست چین، سعودی عرب اور یو اے ای کے علاوہ اوورسیز پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ہمیں اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہئے۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والی بات چیت پر اس وقت سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں کی گہری نظر ہے پی ٹی آئی کی اپنی پالیسی بھی آئی ایم ایف کے حق میں نہیں، بہتر ہو گا کہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ حلقوں سے رائے لے لی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے تحت پھنسی ہوئی رقوم کا حصول بڑی حد تک ملکی معیشت کو مشکل سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں ملکی پیسہ بیرون ملک لے جانا اور
    جائیدادیں بنانا درست قرار نہیں دیا جا سکتا، اس عمل سے ملکی معیشت کا ستیاناس ہوتا ہے اور فائدہ غیر ممالک اٹھاتے ہیں۔ یہ عذر مکمل طور پر درست نہیں کہ ملک میں بدامنی کے باعث ملکی دولت جائز و ناجائز طریقوں سے باہر لے جائی گئی کہ یہ سلسلہ فتنہ دہشت گردی سے بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کر کے گویا عوام کو انگشت بدنداں کر دیا ہے کہ محض برطانیہ اور امارات میں پاکستانیوں کی نئی 10 ہزار جائیدادوں کا سراغ ملا ہے اور اسحاق ڈار کے مزید 2 فلیٹس کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

    وزیراعظم نے ٹاسک فورس بنائی ہے کہ منی لانڈرنگ، ہنڈی، حوالہ پر قانون سازی کی جائے جس کا اٹارنی جنرل نے مسودہ تیار کر لیا ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا کہ پہلے مرحلے میں 895 جائیداد مالکان کو کارروائی کیلئے چن لیا گیا ہے اور ان میں سے 300 کو طلب کر لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہو گی جو ماضی میں عوامی عہدوں پر فائز تھے۔ چین، برطانیہ، عرب امارات، جرمنی سمیت دیگر ملکوں کے ساتھ معاہدے ہو رہے ہیں۔ جہاں تک بیرون ملک جائیدادوں کا تعلق ہے یہ دو طرح کی ہیں ایک وہ جو پاکستانیوں نے دیار غیر میں رہ کر برسوں کی محنت کے بعد بنائیں اور وہیں کے ہو رہے، دوسری وہ جو جائز یا ناجائز طریقے سے ملکی دولت بیرون ملک لے جا کر خریدی گئیں، صرف برطانیہ اور امارات میں اس قدر جائیدادیں یہ حقیقت منکشف کرنے کو کافی ہیں کہ پاکستان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی معاشی طور پر مستحکم کیوں نہ ہو سکا۔ اس ضمن میں قانون سازی ایک بہترین عمل ہے جو جس قدر جلد ہو جائے بہتر ہے۔ پاکستانی حکومت کا مذکورہ اقدام ہے تو لائق تحسین لیکن اس کو ایسا صاف و شفاف ہونا چاہئے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اس کے خلاف انتقامی کارروائی کی جارہی ہے، اگر ایسا ہوا تو سیاسی فضا مکدر ہونے سے ملک کو نقصان پہنچے گا۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    کپوارہ کی لولاب ویلی سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ منان وانی کو قریب سے جاننے والے بھی گذشتہ برس جنوری میں حیران ہو گئے جب انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی پروگرام ادھورا چھوڑ کر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی راہ لی اور یہاں مسلح ہو کر سوشل میڈیا پر اعلان کر دیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے ہیں۔ منان وانی کا آبائی ضلع کپوارہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہونے کے باعث فوجیوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ سائنس کے طالب علم تھے لیکن تاریخ، مذاہب اور سیاسی مزاحمت سے متعلق بھی وسیع مطالعہ رکھتے تھے۔ وہ اپنے مضامین میں امریکی شہری حقوق کے رہنما میلکم ایکس اور دیگر سیاہ فام مزاحمتی رہنماؤں کے حوالے دیا کرتے تھے۔ پی ایچ ڈی میں منان وانی کی تحقیق کا موضوع اپنے آبائی قصبہ لولاب کی ارضیاتی خصوصیات سے متعلق تھا۔

    منان وانی مسلح گروپ میں شمولیت سے قبل تقریر و تحریر میں کافی سرگرم تھے۔ وہ سٹوڈنٹ اکٹیوزم میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے کئی طویل مضامین لکھے، جن کی اشاعت پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی مقامی نیوز ایجنسی کرنٹ نیوز سروس کے خلاف پولیس میں مقدمہ بھی درج ہوا اور سروس کی ویب سائٹ سے منان کا مضمون بھی ہٹایا گیا۔ انہیں چند سال قبل بھوپال یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس کے دوران بہترین مقالہ کے لیے ایوارڈ دیا گیا تھا، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق وہ نہایت خالص خیالات پر مبنی تحقیق کے قائل تھے۔
    انھوں نے ہتھیاروں کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں حاصل کی تھی لیکن ان کے دانشورانہ قد کی وجہ سے انہیں حزب میں کمانڈر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ۔  منان اُس طویل فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جس میں ایسے متعدد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے کیرئیر کو ادھورا چھوڑ کر بندوق تھام لی۔

    منان وانی کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موجودہ قدغنوں سے ہی نہیں بلکہ کشمیر سے متعلق تاریخ کو فراموش کروانے کی سرکاری کوششوں پر نالاں تھے۔ ان میں سے ایک مضمون میں منان لکھتے ہیں: 'کالج اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی نگرانی کرنے کے لیے جاسوس معمور کیے گئے ہیں، طلبا کے لیے اظہار رائے پر پابندی ہے اور ان کے بھی پیچھے جاسوس لگے ہیں، پوری آبادی محصور ہے، قوانین بنائے جاتے ہیں تاکہ سرکاری ملازمین حکومت کی پالیسیوں کی تنقید نہ کر سکیں، اس ساری صورتحال پر وہ لوگ کیا کہیں گے جو سمجھتے ہیں کہ جموں کشمیر بھارت کا حصہ ہے۔' منان وانی کی ہلاکت کے بعد انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں وہ سب نہیں ہوا جو دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ برہان کی ہلاکت نے وہاں احتجاج، مسلح مزاحمت اور مظاہروں کی نئی تحریک چھیڑ دی تھی۔

    لیکن منان کی ہلاکت پر نہ صرف ہند نواز حلقے پریشان ہیں بلکہ سیکورٹی اداروں کے بعض افسروں کو بھی خدشہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بغاوت کی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے منان کی ہلاکت کو قومی نقصان قرار دیا۔ آئی اے ایس افسر شاہ فیصل نے ٹویٹ کیا: 'منان وانی ایک نوجوان قائد تھا۔ ہمیں اس کی ضرورت تھی، کاش اس نے تشدد کا راستہ اختیار نہ کیا ہوتا۔ کیا ہو گا اگر وہ سب لوگ جو کشمیر پر مرنا چاہتے ہیں جینے کا فیصلہ کریں۔ کوئی تو بات کرے، اس جنگ کو ختم ہونا ہو گا۔' کپوارہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے اپنے ردعمل میں کہا :'منان کی قلم بندوق سے خاموش کر دی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کر دیا۔'

    خفیہ پولیس کے ایک افسر نے بتایا: 'منان وانی کی ہلاکت بے شک ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن اس ہلاکت کے بعد منان کی شخصیت اور ان کا نصابی ریکارڈ تعلیمی اداروں میں بغاوت کے بیچ بوئے گا، جو ہمارے لئے تشویش کی بات ہے۔'
    واضح رہے دو سال قبل برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک متعدد تعلیم یافتہ نوجوانوں اور سکالرز سمیت 600 نوجوان مسلح ہو کر بھارتی فورسز کے خلاف برسرپیکار ہو گئے ہیں جن میں سے اب تک کم از کم 300 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ اس قدر تشویشناک ہے کہ سابق وزیراعلی عمرعبداللہ نے بھی کہا کہ 'اب کشمیریوں کو پاکستان کی ضرورت نہیں'کیونکہ اب وہ پولیس اور فورسز اہلکاروں کی بندوق چھین کر جنگل میں پناہ لیتے ہیں اور فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

    کالم نگار اعجاز ایوب کہتے ہیں: 'یہ عسکریت پسندی عددی اور صلاحیتوں کے اعتبار سے بھارتی فورسز کے لیے بڑا چیلنج نہیں ہے لیکن فکری اعتبار سے یہ بھارت کی شکست ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اب ہند نواز حلقے بھی نئی دلی سے ناراض ہو رہے ہیں، کجا کہ کوئی بھارتی موقف کا پرچار کرتا۔' منان وانی کے پڑوسی اور دوست نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: 'منان وانی اُس گھٹن کو محسوس کر رہے تھے جو ہم سب کا مقدر بن گئی ہے۔ انہوں نے لکھنا چاہا لیکن وہاں بھی قدغن ۔ ان کا مسلح ہونا یہ دکھا رہا ہے کہ قلم روکو گے تو وہی قلم بندوق بن جائے گی۔'

    ریاض مسرور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
     


    0 0

    میاواکی تیزی سے درخت لگانے کا وہ طریقہ ہے جسے جاپان کے ایک ماہر نباتات اکیرا میواکی نے 60 سال کی ریسرچ کے بعد وضع کیا تھا۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی کے ایک ماہر نباتات رفیع الحق نے اس طریقے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ میاواکی درخت لگانے کا وہ طریقہ ہے جس کی مدد سے کسی بھی خطے میں ان درختوں کے ساتھ تیزی سے جنگل اگایا جا سکتا ہے، جو وہاں لاکھوں سال پہلے اگا کرتے تھے۔ کراچی میں میواکی طریقے سے درخت لگانے کا تجربہ کرنے والی ایک تنظیم اربن فاریسٹ کے بانی شہزاد قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بھارت میں مقیم میاواکی کے ایک ماہر کی مدد سے کراچی میں یہ طریقہ آزمانا شروع کیا ہے جس کا مقصد کراچی کی آب و ہوا کو بہتر بنانے کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔ 

    انہوں نے کراچی کے ایک پارک کی پانچ سال کے لیے سرپرستی حاصل کی اور اس کے 500 مربع فٹ کے ٹکڑے پر جنوری 2016 میں جو پودے لگائے تھے ان میں سے کچھ اس وقت بیس بیس فٹ کے اور کچھ 25 فٹ بلند ہو چکے ہیں۔
    میواکی طریقے سے درخت لگانے پر گفتگو کرتے ہوئے شہزاد قریشی نے کہا کہ اس کے ذریعے چھوٹی اور کم جگہ پر زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے علاقے کے آبائی پودوں کو اکٹھا کیا جاتا ہے جن میں پھل دار، پھول دار،سایہ دار، جھاڑی درخت ، گویا ہر قسم کے پودے شامل ہوتے ہیں۔ جہاں جنگل اگانا ہوتا ہے وہاں زمین پر کوئی کیمیکل یا کیمیائی کھاد نہیں ڈالی جاتی بلکہ صرف علاقائی کھاد ڈالی جاتی ہے اور پھر مقامی پودوں کو چار تہوں میں جنگل کی ترتیب سے لگا دیا جاتا ہے۔ 

    انہیں صرف تین سال پانی دیا جاتا ہے، جس کے بعد یہ خود بخود بڑھنے لگتے ہیں اور ساٹھ ستر فٹ کی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف تین سال میں وہاں ایک ایسا ماحول پیدا ہو جاتا ہے جہاں پرندے، ہر قسم کے حشرات، تتلیاں، چڑیاں، شہد کی مکھیاں، گرگٹ وغیرہ آنا شروع ہو جاتے ہیں جس سے جنگل کا ایک پورا ماڈل تیار ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاواکی طریقے سے لگائے گئے یہ درخت مقابلتاً دس گنا زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور مقابلتاً تیس گنا زیادہ آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ تیس گنا زیادہ کاربن ڈائی آکسائڈ جذب کرتے ہیں اور ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے اجزا کو تیس گنا زیادہ جذب کرتے ہیں اور یوں اس علاقے کی ہوا کو صاف کر کے ایک صحت مند فضا پیدا کر دیتے ہیں۔

    کراچی میں میاواکی طریقے سے چھوٹا مصنوعی جنگل لگانے کا تجربہ کرنے والے اربن فاریسٹ کے فاؤنڈر شہزاد قریشی نے کہا کہ اب تک تین ہزار سے زیادہ لوگ اس پارک میں آ کر پودے لگا چکے ہیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پانچ سال میں یہاں ایک چھوٹا سا قدرتی جیسا جنگل بن جائے گا جس سے پورے علاقے میں مجموعی درجہ حرارت کم ہو گا، ہوا صاف ہو جائے گی اور لوگوں کی صحت پر اچھا اثر پڑے گا۔ اور یہ ایک ایسی مثالی چیز بن جائے گی جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آیا کریں گے۔ لاہور میں ایک نجی ہاؤسنگ کمپنی کے سی ای او شہراز منو نے بھی اپنی ہاؤسنگ اسکیم میں میواکی طریقے سے ایک چھوٹا سا جنگل لگانا شروع کیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ہاؤسنگ اسکیم کے چھ کینال کے رقبے پر ایک سال قبل میواکی کے ایک ماہر کی مدد سے ساڑھے پانچ ہزار درخت لگائے تھے جو تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور بہت خوبصورت منظر پیش کر رہے ہیں۔

    کراچی میں ماحولیات کے ایک ماہر ناصر پنھور نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں آبادی جتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اسی تیزی سے سبزہ بھی کم ہو رہا ہے جس سے نیچر کا توازن ٹوٹ رہا ہے۔ یہ توازن قائم رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے، جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

    یاسمین جمیل

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    پاکستان میں دل کے امراض تیزی سے پھیلنے لگے، عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2017 میں 2 لاکھ 65 ہزار افراد عارضہ قلب کےباعث موت کی آغوش میں چلے گئے،ان امراض کے حوالےسے پاکستان دنیا میں 13ویں نمبر پر ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2017 میں مختلف امراض کی وجہ سے جاں بحق ہونیوالوں میں دل کے مریضوں کی شرح 21 اعشاریہ 76 فیصد رہی ، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا ہونے والوں میں اکثریت 25 سے 35 سال کے نوجوانوں کی ہے، نوجوانوں میں اس بیماری کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔
    جناح اسپتال لاہور کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی ڈاکٹر مظفر علی کے مطابق ہارٹ اٹیک کی دوسری بڑی وجہ شوگر ہے، شوگر کا مریض تمباکو نوشی کرتا ہو تو ہارٹ اٹیک کا خطرہ 600 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

    ماہر امراض شوگر ڈاکٹر امتیاز حسین نے مشورہ دیا ہے کہ دل کے امراض سے بچنے کیلئے ہفتے میں 150 منٹ ورزش کی جائے، وزن اور کولیسٹرول کنٹرول میں رکھا جائے ا ور خوراک میں پھل اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کیا جائے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ ایک کروڑ ستر لاکھ افراد عارضہ قلب میں مبتلا ہو کر موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ دل کی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کی بیداری کے عالمی دن کی مناسبت سے آج ملک بھر میں سیمینارزاور آگاہی واک بھی منعقد کی جارہی ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے خبردار کیا ہے کہ 2030 تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح سترہ اعشاریہ تین ملین سے بڑھ کر تئیس اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔

    دل کے امراض کی وجوہات
    دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔

    دل کے امراض سے بچاؤ
    دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اورسبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔
     


    0 0

    میں نہیں جانتا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے یا ایک دو کوئی اور بھی ہیں جو اپنی پیدائش کے دن سے یا پھر جنم جنم سے نازک دوراہے پر کھڑے ہیں، سنگین حالات سے گذر رہے ہیں اور ہر حکومتِ وقت انھیں معاشی ، اقتصادی و بین الاقوامی بے یقینی کے گرداب سے نکالنے کے لیے دن رات ایک کرتی چلی آ رہی ہے۔ سابقہ ادوار کا گند صاف کر کے ایک نئی طرح ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔اور ماضی کی غلط پالیسیوں کو بدل کے حال کی غلط پالیسیوں پر عمل پیرا ہوتے ہوتے یہی حکومت جب خود ماضی کا حصہ بن جاتی ہے تو پھر اس کی جگہ لینے والی نئی حکومت اسی پرانے ریکارڈ کو اپنے دامن سے صاف کر کے حال کی سوئی کے نیچے رکھ کے نئی ترنگ کے ساتھ گھما دیتی ہے۔

    ہم آئے تو خزانہ خالی تھا ، ہم گئے تو خزانہ بھرا ہوا تھا ، ہم آئے تو روپیہ ٹکے سیر تھا ، ہم گئے تو زرِ مبادلہ کے ذخائر لبالب تھے ، ہم آئے تو اندھیرے تھے ، ہم جا رہے ہیں تو اندھیرے ساتھ لے جا رہے ہیں ، ہم سے پہلے والوں نے ککھ نہیں کیا ، ہم سے بعد والے بھی ککھ نہ اکھاڑ پائیں گے۔ بس جو ہو رہا ہے ہمارے دور میں ہی ہو رہا ہے، ہم نہ ہوں گے تو کوئی ہم سا بھی نہ ہو گا بلا بلا بلا بلا۔
    بچپن میں بوٹے پنساری کی دکان پر کئی جڑی بوٹیاں، مربے اور آمیزے دیکھتا تھا۔ ایک بوتل پر لکھا تھا کمر کس۔ پھر میں نے اخبار پڑھنا سیکھا تو ہر تیسرے چوتھے دن کسی نہ کسی سرخی میں ہوتا ’’ قوم کمر کس لے‘‘۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ بوٹے کی دکان پر رکھے کمر کس اور اخباری کمر کس میں کیا رشتہ ہے ؟ بوٹا تو مر گیا اور اس کی کمر کس والی دکان بھی بٹ بٹا گئی۔ مگر اخباری سرخی کا کمر کس قبر تک نسل در نسل چلے گا۔

    یا تو میرا خمیر ہی اداسی ، تنقید اور منفعیت سے اٹھا ہے یا پھر مجھ میں یہ خوبی قومی یاسیت کے خزانے سے انعام ہوئی ہے کہ ہر حکومت ایک سی نظر آتی ہے۔ایک جنگل جس میں درختوں کی داڑھیاں نکلی ہوئی ہیں، اردگرد جھاڑ جھنکار ، بندروں کی بہتات ، بہت سے شاخوں سے جھول رہے ہیں ، جھاڑیوں میں اچھل پھاند کر رہے ہیں ، کچھ تنے پر قطار میں بیٹھے ایک دوسرے کی جوئیں نکال رہے ہیں، بہت سے خوخیاتے ہوئے دانت نکو سے ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں مارتے ہوئے تعاقب کرتے ہوئے دھما چوکڑی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ کچھ بوڑھے بندر کسی بڑ کے نیچے یوں سر نیہوڑائے بیٹھے ہیں گویا بہرے ہوں۔ حالانکہ یہی سب سے چالاک غول ہے جسے سب خبر ہے بظاہر بے خبر ہے۔

    مجھے معاف کر دیجیے گا مگر کم ازکم بارہ حکومتیں دیکھنے کے بعد جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو سوائے اس کے کوئی بدلاؤ محسوس نہیں ہوتا کہ لو جی ایک اور پرانا غول نئے کپڑے پہن کر نئی چیخیں مارتے ہوئے جنگل میں آ گیا ہے ، پرانا غول یا تو بوڑھا ہو گیا ہے یا اسے نئے غول نے اپنے بل پر یا کسی اور غول سے گٹھ جوڑ کر کے مار بھگایا ہے۔ اب یہ نیا غول بھی اس درخت سے اس درخت تک اتر چڑھ اتر چڑھ کرے گا۔ اگر پہلے والا سر کے بل درخت پر چڑھتا تھا تو نیا والا دم کے بل نیچے اترنے کا کرتب دکھا کے ہمیشہ کی طرح حیران بن مانس رعایا کو مزید حیران کرنے کی ناکام کوشش کرے گا۔ اور رعایا کی فریب خوردہ تلخ مسکراہٹ کو خود پر اعتماد جانے گا۔

    آج سے نہیں ہوش سنبھالنے سے لے کر کچھ سوالات ہیں کہ جواب کے انتظار میں میرے ساتھ ساتھ بوڑھے ہوتے جاتے ہیں۔ جیسے یہی کہ رحم دل بادشاہ صرف کہانیوں میں ہی کیوں ہوتا ہے ؟ انصاف پرانے زمانے میں ہی اندھا کیوں ہوتا تھا؟ سبز چوغہ پہنے کوئی بزرگ کسی گلی کے نکڑ پر اب اچانک کیوں نمودار نہیں ہوتا ؟ لکڑ ہارے کے بچے کو اب وہ پری کیوں دکھائی نہیں دیتی جو اس کی کلہاڑی سونے کی کر دے۔ پرانے زمانے کے لوگ کسی کی بد دعا سے اتنا کیوں ڈرتے تھے؟ جب کہیں کوئی قتل ہوتا تھا تو آسمان کہانیوں میں کیوں لال ہو جاتا تھا؟ وہ کیا نظام تھا جس کے سبب ایک بے بس عورت کی دیبل کے ساحل سے ابھرنے والی چیخ کوفہ میں بیٹھے حجاج بن یوسف کے کانوں تک پہنچ گئی، تب تو انٹرنیٹ یا الیکٹرونک میڈیا چھوڑ لاؤڈ اسپیکر تک نہ تھا۔ آج کسی کی چیخ ساتھ والے گھر تک بھی کیوں نہیں پہنچتی ؟

    اچھا تو یہ سنہری زمانہ ماضی میں ہی کیوں بستا ہے؟ اسے حال میں کھینچ کے کیوں نہیں لایا جا سکتا۔ تمام مشہور مسلمان سائنسدان ، طبیب ، فلسفی ، مصور ، عالم ، مدبر ہزار برس پہلے وسطی ایشیا ، ایران اور شام و عراق و شمالی افریقہ میں ہی کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ جب کہ ہزار برس پہلے تلاشِ علم کے لیے گھر سے نکلنے والے بچے کی ماں کو یہ تک نہ معلوم تھا کہ اس کا لال کب لوٹے گا۔ آج تو علم کی رسائی ہاتھ بھر کے فاصلے پر ہے پھر بھی فروغِ جہل اتنا کیوں ہے؟ تو کیا ترقی صرف ماضی یا مستقبل میں ہی ممکن تھی یا ہو گی ؟

    اگر میرے اجداد کا زمانہ واقعی سنہرا ہے اور میرا مستقبل نہایت روشن ہے تو پھر میرا حال کیوں خراب ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ تین زمانی کڑیوں میں سے دائیں اور بائیں کی تصوراتی کڑی تو آنکھیں خیرہ کر رہی ہو اور درمیانی حقیقی کڑی زنگ آلود ہو چکی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو علمِ منطق غلط یا پھر ہماری سوچنے اور دیکھنے کی تربیت و عادت ایب نارمل۔ یا پھر ہم اتنے گہرے انفرادی و اجتماعی دھوکے میں ہیں کہ سراب کو ہی پانی سمجھتے رہنا چاہتے ہیں۔ ہمیں خوف ہے کہ اگر سراب کا مفروضہ بھی ٹوٹ گیا تو پھر کس خیالی تکیے پر سر رکھ کے جئیں گے ؟ جانے ہم کیوں کسی ٹھوس عذاب کے انتظار میں ہیں؟ یہ سب جو آس پاس، اندر باہر ، اوپر نیچے ، دائیں بائیں ہو رہا ہے۔ یہ سب کیا ہے ؟ عذاب اور کیا ہوتا ہے ؟

    وسعت اللہ خان  


    0 0

    ہم سب من و سلویٰ کے عادی ہوچکے ہیں، عطیات اور خیرات کا انتظار کرتے ہیں۔`اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں:’’انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے کوشش کرے۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیغام دیا، محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے، ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ دُنیا میں مہذب اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جہاں خیرات نہیں ہے۔ رعایتی قیمتیں نہیں ہیں۔ سب محنت کرتے ہیں، 9 سے 5 دفتر میں ایسے ڈیوٹی کرتے ہیں کہ کوئی بے مقصد فون نہیں، کوئی کسی کے دفتر اچانک نہیں جا ٹپکتا۔ ذاتی، سماجی ملاقاتیں دفتری اوقات کے بعد ہوتی ہیں۔ کوئی دستر خوان نہیں بچھائے جاتے، کہیں مفت کھانے نہیں کھلائے جاتے، وہاں غیر سرکاری تنظیمیں سرکار کا کام نہیں کرتی ہیں۔ اسکول، اسپتال، انسان سب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ایسا نظام تشکیل دے چکے ہیں کہ زندگی کی ساری ضروریات کی فراہمی بر وقت اور قواعد و ضوابط کے تحت ہو جاتی ہے، ادارے مالی امداد کے لیے چیختے چلاتے نہیں ہیں۔

    مگر ہم جو بادشاہوں کے وارث ہیں، جنہیں شاہی خلعتوں کی عادت ہو چکی ہے۔ بادشاہ راخوش آمد و محمود شام را خلعت داد، مغل بادشاہ کو کسی نے مے نوشی کے وقت برف فراہم کردی تو ایک آباد علاقہ اس ٹھیکیدار کے حوالے کر دیا، وہ جدی پشتی جاگیردار بن گئے، پھر انگریز اسی طرح عنایات کی بارشیں کرتے رہے۔ قبائل کے سردار ہیں، ان کے علاقوں میں سونا ہے تانبا ہے، لیکن وہ مرکزی حکومت کے وظیفے کا انتظار کرتے ہیں، سرکاری منصوبوں میں اپنے لوگوں کو بغیر کام کے تنخواہیں دلواتے ہیں۔ کام کیے بنا معاوضوں، وظیفوں، مشاہروں کی عادت ہم سب کو پڑ چکی ہے۔ غریب عطیات اور خیرات کے انتظار میں رہتے ہیں۔ امیر صنعت کار، اس آرزو کی جستجو میں، حکومتیں آئی ایم ایف کے پروگرام میں شمولیت کی دھن میں لگی رہتی ہیں۔

    بخششیں، ٹپ، کک بیک، کمیشن ہمارا قومی کلچر بن چکے ہیں۔ بہت بڑی تعداد ایسے خوش نصیبوں کی ہے جن کا کوئی دفتر ہے نہ عملہ، نہ کوئی کمپنی، لیکن ہر ماہ لاکھوں کماتے ہیں۔ بہت پوش علاقوں میں رہتے ہیں، بڑی بڑی دعوتیں کرتے ہیں۔ یہ اسلام آباد کے مرکزی سیکرٹریٹ، یا صوبائی سیکرٹریٹ کے ارد گرد منڈلاتے ہیں، انہیں سرکاری دفتروں کے دربان بھی پہچانتے ہیں۔ یہ آپ کی فائلوں کے پہیے لگاتے ہیں، سارا کام نقد ہوتا ہے، بے ایمانی پوری ایمانداری سے ہوتی ہے۔ لاکھوں روپے اِدھر سے اُدھر ہوتے ہیں، کوئی رسید نہیں، کوئی ثبوت نہیں۔ مگر مشکل سے مشکل کام ہو جاتے ہیں۔ یہ این او سی کی کمائی کھاتے ہیں۔ سرکاری محکموں میں بہت سے معاملات میں No Objection Certificate کی پابندی اس لیے لگائی جاتی ہے، اعتراض کی قیمت کہیں ہزاروں میں، کہیں لاکھوں میں، کہیں کروڑوں میں۔

    پاکستان ہر گز ہمیں خیرات میں نہیں ملا تھا، قائد اعظم کی قیادت میں اس کے لیے جدو جہد کی گئی۔ لاکھوں گھر اُجڑے، لاکھوں بہنیں، مائیں، بچے، بزرگ شہید ہوئے، لیکن ہم میں سے اکثر نے اسے بھی تحفہ سمجھ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سب کچھ دیا ہے، ایک اہم اور حساس محلّ وقوع، دریا، سمندر، سر سبز پہاڑ، سونا، تانبا، قیمتی پتھر، گیس، تیل، اناج، زرخیز زمین، محنت کش، ایماندار، ذمہ دار عوام۔ ہر صوبہ خود کفیل ہو سکتا ہے، ہر شہر اپنے خرچے خود اٹھا سکتا ہے، لیکن یہ خیرات اور عطیات کا کلچر ختم ہو تو پھر۔ یہ اشرافیہ، جو خود کوئی کام نہیں کرتی، پانی کا گلاس بھی خود اٹھا کر نہیں پی سکتی۔ ’چھوکرا‘ کی آواز لگائی جاتی ہے، گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں، مہذب ملکوں میں اب کوئی چپراسی، نائب قاصد نہیں رہے۔ افسر خود اپنی فائلیں اٹھا کر دوسرے افسر تک پہنچاتے ہیں.

    مملکت جو ہماری ماں ہے، ریاست جو ہماری اپنی ہے۔ اس کے پاس جو بھی پیسہ ہے، سرمایہ ہے، وہ ہمارا ہی ہے۔ لیکن ہم اسے مال غنیمت سمجھتے ہیں۔ سرکاری ملازمت کی تلاش میں اسی لیے بال سفید کر لیتے ہیں کہ وہاں کام نہیں کرنا پڑے گا، تنخواہ ملے گی۔ میڈیکل الائونس جو بغیر بیمار ہوئے بھی حاصل ہو جاتا ہے۔ سرکاری رہائش گاہ جو ایک بار مل گئی پھر پشت در پشت اپنی ملکیت رہے گی، سرکاری ٹرانسپورٹ، جتنا بھی ناجائز استعمال ہو ہم اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ سرکاری کلچر سے یہ روایات پرائیویٹ کمپنیوں میں بھی آگئی ہے۔ دفتر کا فون، دفتر کا فرنیچر، دفتر کا پیٹرول، دفتر کا میڈیکل، مال غنیمت سمجھ کر ہی استعمال ہوتا ہے۔

    بادشاہ اپنے درباروں میں قصیدہ گوئوں، شاعروں، نجومیوں، موسیقاروں کو نوازتے تھے، ہم اسی سلسلے کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کوئی نظام نہیں بنانا چاہتے، جس کے تحت یہ سب کام کریں۔ اور اس کا جائز معاوضہ حاصل کریں کام کچھ نہ کریں۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ وظائف سے نوازتی رہے، ہم حکمرانوں پر الزامات عاید کریں، ان کے خلاف مہمات چلائیں، لیکن ان کا فرض ہے کہ ہمیں نوازتے رہیں، خیرات، عطیات اور من و سلویٰ کی اس فراوانی نے ہمارا مائنڈ سیٹ ہی تبدیل کر دیا ہے۔ دُنیا معیشت کی بنیاد پر چل رہی ہے، سفارت کاری، سیاست، بین الاقوامی تعلقات سب مارکیٹ طے کرتی ہے، اس لیے آج کی دُنیا میں آگے بڑھنے کے لیے معاشی نقطۂ نظر ضروری ہے۔ 

    ہر عمل اور ہر چیز کی ایک قیمت ہے، ہمیں اس کا احساس ہونا چاہئے۔ پہلے ہر قوم کو اپنی اقتصادی، معدنی، زرعی اور سماجی حیثیت کا علم ہونا چاہئے، پھر دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنا چاہئے۔ کیا ہم اپنی ساری زمینیں قابل کاشت کر چکے ہیں، کیا ہم سب اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ کیا ہم اپنے ریگزاروں سے قیمتی معدنیات نکال چکے ہیں، کیا ریکوڈک ہمارا انتظار نہیں کر رہا ہے، کیا قیمتی پتھر ہمارے تیشے کے منتظر نہیں ہیں۔ پاکستان 60 فیصد نوجوان آبادی کا ملک ہے۔ 

    قریباً 6 کروڑ تنومند، ہشاش بشاش نوجوان کیا ان سب کی توانائیوں، صلاحیتوں اور دست و بازو سے کام لے رہے ہیں۔ یہ جو غریبوں کے لئے دستر خوان بچھانے پر ہم ثواب اور تعریف کا مستحق سمجھتے ہیں۔ کیا ہم ان کو کوئی کام سکھا کر، باقاعدہ عزت سے تنخواہ نہیں دے سکتے۔ کہ وہ بھی پاکستان کی کمائی میں شریک ہوں۔ ہمیں اپنا بوجھ خود اٹھانا چاہئے، دوسروں پر بوجھ نہ بنیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں اس دھرتی پر عزت اور وقار سے زندگی گزاریں۔ اس ملک کی قدرتی اور معدنی دولت کو نکالیں تو ہمیں آئی ایم ایف یا سعودی عرب کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔

    محمود شام
     


    0 0

    حالیہ دنوں میں پاکستان میں ایسے درجنوں بینک کھاتوں (اکاونٹس) کا انکشاف ہوا ہے جنہیں حکام کے مطابق منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ایک حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان سے سالانہ 10 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ باہر بھیجے جانے والا یہ پیسہ غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس سے منتقل ہوتا رہا ہے جنہیں ٹیکس کی چھوٹ حاصل تھی لہٰذا یہ رقوم پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں شامل نہی ہوتیں۔ معروف ٹیکس ماہر شبّر زیدی کہتے ہیں کہ ​'پروٹیکشن آف اکنامک ریفارم ایکٹ 1992 اور فارن کرنسی اکاؤنٹس پروٹیکشن آرڈیننس 2001 کسی بھی کھاتا دار کو فنڈز کی آزاد منتقلی کی اجازت دیتا تھا، جو کہ 2018 کے فنانس بل میں سپریم کورٹ کی مداخلت پر تبدیل کیا گیا تھا. ​

    پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں کے کیس میں سپریم کورٹ کافی متحرک نظر آتی ہے، ایف آئی اے کی عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں میں 2700 صرف متحدہ ارب امارت میں ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیدادوں کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے بھی زائد ہے۔ رقوم کی غیر قانونی کی منتقلی سے متعلق کیس سپریم کورٹ نے از خود نوٹس سے شروع کیا تھا جب یہ خبریں آئیں کہ پاکستانی شہریوں ایک بڑی تعداد کے غیر ممالک میں بینک اکاؤنٹس ہیں جنہیں یا تو پاکستان میں ظاہر نہیں کیا گیا یا پھر ان اکاؤنٹس میں موجود رقم پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

    اس سلسلے میں VOA کی متعدد ماہرین سے بات ہوئی۔ وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کے حکومتی اداروں کے لیے ان جائیدادوں کا سراغ لگانا بہت مشکل ہو گا۔ خصوصاً دبئی کی جائدادیں کیونکہ ابھی تک دبئی کی رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی سے کسی قسم کی تصدیق نہیں ہو سکی اور جو بھی معلومات ہیں وہ نجی زرائع سے حاصل کی گئی ہیں جن کو عدالتوں میں ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہو گا۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ میں یہ کام قدرے آسان ہو گا کیونکہ معلومات سرکاری زرائع سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ یقین سے کہنا کہ وہ جائیدادیں حکومت پاکستان کے حوالے ہو جائیں گی ناممکن سی بات ہے۔

    سپریم کورٹ کے سینئر وکیل راجہ مقسط نواز خان کا کہنا ہے 'مشکل کام پیسہ واپس لانا ہو گا، خاص طور پر ان ممالک سے جن کے ساتھ پاکستان کے کوئی ایسے معاہدے نہیں ہیں۔ پاکستان کی تقریبا 25 فیصد معیشت کھاتوں میں نہیں آتی جسے گرے اکانومی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کو سب سے پہلے اپنے معاشی نظام کو قانون کے ضابطوں میں لانا ہو گا۔ اسکے علاوہ ہنڈی یا حوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی کو روکنے کے لیے موجودہ قوانین کے موثر نہ ہونے کے وجہ سے ایسے عناصر بلا خوف یہ کاروبار کرتے ہیں۔

    اسد خالد

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    تحریک آزادی کے عظیم رہنما مولانا شاہ محمد عبدالحامد قادری بدایونیؒ جلیل القدر عالم دین، برصغیر کے نامور شعلہ بیان خطیب اور اہم روحانی پیشوا تھے۔ آپؒ نے تحریک خلافت، تحریک پاکستان، تحریک تحفظ ختم نبوت، آزادی فلسطین و کشمیر اور اتحاد عالم اسلام کے سلسلے میں جو بے مثال کردار ادا کیا ہے اس وجہ سے ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ مولانا عبدالحامد بدایونیؒ 1898ء میں بدایوں (بھارت) کے ایک مقتدر علمی اور روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد مولانا عبدالقیوم بدایونی ایک جید عالم اور معروف طبیب تھے۔ مولانا عبد الحامد بدایونیؒ نے مولانا عبدالقادر بدایونی، مولانا محب احمد، مولانا مفتی محمدابراہیم، مولانا مشتاق احمد کانپوری، مولانا واحد حسین اور مولانا عبدالسلام فلسفی سے تعلیم حاصل کی۔ مدرسہ الہیہ کانپور میں زیر تعلیم رہے اس کے بعد بدایوں میں مدرسہ شمس العلوم کے نائب مہتمم مقرر ہوئے۔

    مولانا عبدالحامد بدایونیؒ نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1914ء میں تحریک خلافت سے کیا۔ برصغیر میں انگریزوں کے داخلے اور قبضے کے وقت مولانا بدایونیؒ کے ایک محترم بزرگ مولانا فیض احمد بدایونیؒ نے علامہ فضل حق خیر آبادی شہید کے ساتھ مل کر انگریزوں کے خلاف کھلم کھلا تحریک شروع کی اور جہاد کا فتویٰ جاری کر دیا۔ مولانا بدایونیؒ آل انڈیا خلافت کا نفرنس کے رکن اور ڈسٹرکٹ خلافت کمیٹی بدایوں کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ آپؒ نے نہرو رپورٹ کی مخالفت میں مسلمانان ہند کی حمایت کرتے ہوئے عظیم الشان کانفرنسوں میں شرکت کی۔ اس تحریک میں بھی مولانا حسرت موہانی، مولانا آزاد سبحانی اور مولانا عبدالماجد بدایونیؒ کے ساتھ کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ تحریک خلافت کے بعد آغا خان کی صدارت میں مسلم کانفرنس قائم ہوئی۔ 

    مولانا بدایونیؒ اس کانفرنس کے صف اول کے قائدین میں شامل تھے۔ اس کے بعد لندن میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی معرکہ آرا تقریر مولانا محمد علی جوہر کی تھی جو یادگار سمجھی جاتی ہے۔ اس تقریر کو مولانا بدایونیؒ نے خلافت کمیٹی بدایوں کی طرف سے کتابی شکل میں شائع کرایا۔ رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہرکے انتقال کے بعد قائداعظمؒ نے مولانا شوکت علی اور نواب اسماعیل خان سے مشورے کے بعد دہلی میں ہندوستانی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کو مدعو کرنے کی تجویز پیش کی۔ مولانا بدایونیؒ نے جمعیت علماء یوپی کے قائد کی حیثیت سے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ 

    علامہ بدایونی ؒنے یوپی، سی پی، بہار، اڑیسہ، بنگال، آسام، ممبئی، کراچی، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور (سابق صوبہ) سرحد کے دور افتادہ مقامات پر قائداعظمؒ کی خصوصی ہدایت پر مسلم لیگ کی کامیابی کے لیے بھرپور دورے کیے۔ خصوصاً (سابق) صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں خان برادران کے مقابلے میں عظیم الشان کامیابی پر آپ کو فاتح سرحد کا خطاب دیا گیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونیؒ مسلم لیگ کانفرنس منعقدہ لکھنؤ 1937ء سے لے کر 1947ء تک مسلم لیگ اور قیام پاکستان کی تحریک میں بھرپور سرگرم عمل رہے۔ آپؒ نے 1940ء میں اقبال پارک لاہور کے اجلاس میں یوپی کے مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بھرپور شرکت اور قرار داد پاکستان کے حق میں قائداعظم کی زیر صدارت تاریخی تقریر فرمائی۔ 

    قیام پاکستان کی تحریک کو تیزتر کرنے کے لیے 1946ء میں آل انڈیا سنی کانفرنس (بنارس) منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس قیام پاکستان کے سلسلے میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کانفرنس میں تحریک پاکستان کی راہ ہموار کرنے کے لیے اکابر علماء و مشائخ کی جو کمیٹی تشکیل دی گئی علامہ بدایونیؒ اس کمیٹی کے رکن نامزد کیے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ کی دعوت پر مولانا بدایونیؒ آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی آئے اور پھر قائدین کے اصرار پر یہیں کے ہو رہے۔ علامہ سید ابو الحسنات قادری اور مولانا بدایونیؒ کی زیر قیادت ایک وفد نے نوابزادہ لیاقت علی خان سے ملاقات میں ملک کے لیے اسلامی دستور کے متعلق قرارداد کے اعلان پر انہیں آمادہ کیا اورپاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان تجویز ہوا۔ 

    کراچی میں 1951ء میں مختلف مکاتب فکر کے 33جید علماء کا ایک عظیم اجتماع ہوا۔ جس میں متفقہ 22 نکات مرتب کیے گئے۔ اس اجلاس میں مولانا عبدالحامد بدایونیؒ اور مفتی صاحب داد خان نے اپنی جماعت کی نمائندگی کرتے ہوئے اسلامی دستور کی ترتیب میں بھرپور حصہ لیا۔ مولانا بدایونیؒ کی مصروفیات صرف محراب و منبر تک ہی محدود نہ تھیں۔ آپؒ نے تحریک ختم نبوت میں بھرپور حصہ لیا اور فروری 1953ء سے جنوری 1954ء تک کراچی اور سکھر کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ مولانا عبدالحامد بدایونیؒ کا انتقال 21 جولائی 1970ء کو کراچی میں ہوا ۔ آپ کی نماز جنازہ حضرت سید محمد مختار اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ شریف (انڈیا) نے پڑھائی۔ اور وصیت کے مطابق آپ کو جامعہ تعلیمات اسلامیہ کراچی میں سپردخاک کیا گیا۔ دور حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک پاکستان کے ایسے جلیل القدر اکابر کی خدمات عام کی جائیں تاکہ نوجوان نسل ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔

    ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری


     


    0 0

    بین الاقوامی جنگی قوانین کی پامالی، آبادیوں پر مظالم، گروہی نسل کشی انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر اقتصادی محاصرے یا مصنوعی قحط یا پھر ماحولیات کو جان بوجھ کے برباد کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے کروڑوں انسانوں کا جو جانی، مالی و سماجی نقصان ہوتا ہے، وہ کیوں انسانیت کے خلاف جرائم کی فہرست میں شامل نہیں ؟ اگر ماحولیاتی قتلِ عام کے سبب جنگلی و انسانی حیات کو پہنچنے والے ناقابلِ تلافی نقصان کے اعداد و شمار کو ہی جمع کر لیا جائے تو گذشتہ سو برس میں ہم اپنے ہی ہاتھوں خود کو جتنا قتل کر چکے، وہ پچھلے سات ہزار برس کی تمام جنگوں میں ہونے والی بربادی سے سو گنا زائد ہے۔

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ تم میں جو جتنا مظلوم ہے اتنا ہی ظالم ہے۔مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ میں نے جتنے بھی جیدوں سے اس قول کی کنجی کھلوانے کی کوشش کی عقدہ کھلنے کے بجائے اور الجھتا چلا گیا۔ مگر پچھلے ایک ہفتے میں اس قول کو میں نے پاکستان کی ماحولیاتی بربادی پر رکھ کے دیکھا تو آنکھیں کھلتی چلی گئیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کا شمار پچھلے دس برس سے ان دس چوٹی کے ممالک میں ہو رہا ہے جو تیزی سے آبی قحط سالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کچھ نہ کیا گیا تو دو ہزار پچیس کے بعد زراعت چھوڑ پینے کے صاف پانی کے لالے پڑ جائیں گے۔

    یہ تو آپ کے علم میں ہو گا ہی کہ چیف جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے ملکی و غیر ملکی آبی کمپنیوں کے ہاتھوں ریپ کا ازخود نوٹس لے چکے ہیں۔ بھاشا ڈیم کی فنڈنگ کی جنگ کا کنٹرول روم سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں قائم ہے۔ میڈیا دن رات ڈیم فنڈ میں پیسے دینے کی اپیل دوہرا رہا ہے اور قومی ادارے اور شہری اس اپیل کے سبب کسی حد تک متحرک بھی نظر آ رہے ہیں۔ مگر تصویر کا ایک اور رخ شائد سب کی نگاہ سے اوجھل ہے۔ سارا زور پانی کی کم ہوتی مقدار بڑھانے اور اسے احتیاط سے استعمال کرنے کی مہم پر ہے۔ لیکن جو پانی اس وقت میسر ہے اس کے معیار پر شائد ہی ایک آدھ متعلقہ فریق کے سوا کوئی سنجیدگی سے غور کر رہا ہو۔

    میں آپ کو اس وسیع موضوع کا رائتہ بنانے کی ترکیب سمجھانے کے بجائے صرف ایک مثال دوں گا۔ پاکستان میں تین عشرے سے ماحولیات کی وفاقی وزارت قائم ہے۔ چاروں صوبوں میں انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسیز ہیں جن کے این او سی کے بغیر کوئی منصوبہ سرکاری و نجی شعبے میں شروع ہو ہی نہیں سکتا کہ جس کا تعلق براہِ راست یا بلا واسطہ ماحولیاتی بقا سے ہو۔ وفاقی و صوبائی سطح پر متعدد قوانین نافذ ہیں جن کا مقصد جنگلی ، آبی و انسانی حیات کا تحفظ ہے۔ ان میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی بھی صنعتی ، زرعی ، انسانی فضلہ اور آلودہ پانی ٹریٹ کیے بغیر خام شکل میں کسی جھیل، آبی گذرگاہ ، دریا یا سمندر میں نہیں پھینکا یا ڈالا جائے گا۔

    اس قانون کے ہوتے عملی صورت یہ ہے کہ پاکستان میں جتنا گند یا آلودہ پانی مذکورہ بالا تمام شعبے پیدا کرتے ہیں ان میں شامل زہریلے مواد کو بے اثر بنانے کا ڈھانچہ بس اتنا ہے کہ ایک فیصد فضلہ اور آلودہ پانی دریا و سمندر میں ٹریٹ کر کے ڈالا جا رہا ہے۔ ننانوے فیصد کچرہ ، فضلہ اور ناقابلِ استعمال پانی براہ راست دریاؤں اور سمندر میں پہنچ رہا ہے۔ اس وقت سندھ کی کوئی بڑی جھیل ایسی نہیں جس کا پانی انسانی استعمال کے قابل ہو۔ یہ شہادت تو سپریم کورٹ میں بھی پیش ہو چکی ہے کہ سندھ کی اسی فیصد آبادی کو وہ پانی میسر ہے جو انسانی استعمال کے قابل ہی نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دیگر تین صوبوں اور شمالی علاقہ جات کے حالات اس ضمن میں تسلی بخش ہیں۔

    حال ہی میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس کی ایک ماہر ڈاکٹر بشری خان کی ایک رپورٹ کے کچھ مندرجات نظر سے گذرے۔ انھوں نے دریائے سندھ کے دو معاون دریاؤں کابل اور سوات کے آبی معیار پر کام کیا ہے۔ انیسویں صدی میں شاہ شجاع مہاراجہ رنجیت سنگھ کو دریائے کابل کے راستے افغان تربوز اور دیگر پھلوں کی سوغات ایک رافٹ پر باندھ کر بھیجا کرتا تھا۔ ابھی کل کی ہی بات ہے کہ ٹراؤٹ مچھلی کا کوئی نام لیتا تو شفاف دریائے سوات ذہن میں آتا تھا۔ آج صورت یہ ہے کہ ان دونوں دریاؤں میں خام صنعتی و انسانی فضلہ اتنی بڑی مقدار میں پھینکا جا رہا ہے کہ یہ دونوں دریا جو سندھو میں بہنے والے پانی کا پچیس فیصد فراہم کرتے ہیں دریائے سندھ میں گرنے سے پہلے پہلے ایک گندے نالے میں تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔

    دریائے کابل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد پشاور، چار سدہ ، نوشہرہ سے گذرتا ہوا اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے۔ اس دریا کے کنارے سب سے بڑے شہر پشاور میں کہنے کو چار واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ہیں مگر ایک بھی کام نہیں کر رہا۔ انگریز نے دریائے کابل اور سوات میں مچھلیوں کی چون اقسام گنی تھیں۔ آج بمشکل دو سے تین نسلیں بچی ہیں۔ وجہ بہت سامنے کی ہے، دریا میں پھینکے جانے والے گند کی مار آبی حیات نہ سہہ سکی۔ مچلھیوں کی ہارمونل کمپوزیشن برباد ہونے لگی اور جو جو نسلیں بانجھ ہوتی گئیں مٹتی چلی گئیں۔ جن انسانوں کا گذارہ دریا کے کنارے مچھلی پکڑ کے پکانے اور بیچنے پر تھا ان میں سے بیشتر اپنی دوکان بڑھا گئے۔

    رہا ہمارا سمندر تو اس پر تہرا ظلم ہے۔ بین الاقوامی ماہی گیر ٹرالرز ہمارے پانیوں کو مچھلیوں سے خالی کر رہے ہیں۔ زہریلا دریائی پانی سمندر میں گر رہا ہے اور جو کسر باقی رہ گئی وہ خام صنعتی و انسانی سیوریج کے براہ راست سمندر میں اتارے جانے نے پوری کر دی۔ روزانہ صرف کراچی کا پانچ سو ملین گیلن ان ٹریٹڈ آلودہ آبی زہر سمندر کو پلایا جا رہا ہے۔ دو ہزار تین میں ایک یونانی رجسٹرڈ اڑسٹھ ہزار ٹن تیل سے لدا ٹینکر سی ویو کے ساحل پر پھنس گیا اور اس میں سے اکتیس ہزار ٹن تیل سمندر میں خارج ہو گیا۔ ہمارے کسی ادارے کے پاس اس ناگہانی آفت سے نمٹنے کے نہ طریقے تھے نہ ہی وسائل۔ چنانچہ تیل کے بڑے بڑے تیرتے جزیرے نامیاتی طریقے سے خود ہی شرمندہ ہو کر چند ماہ کے دوران پانی میں گھل مل گئے۔ مگر اس حادثے کے ایک برس بعد بھی ساحل سے ٹکرانے والے پانی کی چکناہٹ ختم نہ ہوئی۔

    سی ویو وہ واحد غریب پرور ساحل بچا ہے جہاں ڈھائی کروڑ آبادی والے کراچی کے بیشتر غریب غربا کچھ دیر کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ دو ہزار سترہ میں اسی علاقے میں کچرے اور انسانی فضلے کا ایک بہت بڑا جزیرہ نمودار ہو گیا۔ یہ وہ فضلہ تھا جو بارشوں کے سب پھٹ پڑنے والے نالوں سے براہِ راست سمندر میں داخل ہو گیا تھا۔ اور اب پچھلے ہفتے پھر اچانک سندھ بلوچستان کے ساحلی علاقے مبارک ولیج سے چرنا آئی لینڈ تک سیاہ تیل کی ایک بڑی تہہ پھیلتی چلی گئی۔ چرنا آئی لینڈ کراچی کے قریب واحد جزیرہ ہے جہاں مونگے کی چٹانیں ہیں اور سکوبا ڈائیونگ ہوتی ہے۔ ساحل جزوی طور پر صاف تو کر دیا گیا مگر یہ تیل آیا کہاں سے؟ کوئی یقین سے نہیں بتا پا رہا۔ حالانکہ اس ساحل کی دن رات کڑی نگرانی ہوتی ہے۔

    ایسے ماحول میں اگر ہم نے پانی کی قلت پر قابو پا بھی لیا تو پھر بھی کس کام کا۔جو میسر ہے وہی قابلِ استعمال نہیں۔ مزید کا ہم کیا کریں گے۔ ایسا بھی نہیں کہ جھیلوں ، دریاؤں اور سمندروں کو صاف رکھنے کے جدید سستے طریقے میسر نہیں۔ لیکن ان طریقوں اور پہلے سے موجود قوانین کے سختی سے نفاذ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ پھر ہم بحثیتِ مجموعی کیسے روئیں گائیں گے کہ ہمارے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے؟ مگر کون کر رہا ہے ؟ اس پر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ اب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول پھر سے دہراتا ہوں ’’ تم میں جو جتنا مظلوم ہے اتنا ہی ظالم ہے‘‘۔ 

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    کراچی میں ایک رکشے والے کے بینک اکاؤنٹ میں ساڑھے آٹھ ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آر نے رکشا ڈرائیور زور طلب خان کو ٹیکس نہ دینے اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا جواب دینے کے لیے طلب کیا ہے۔ ملزم بونیر میں آبائی گاؤں گیا ہوا ہے اور وہ اپنے کھاتے میں اتنی بڑی رقوم کی آمدورفت کا سن کر حیران پریشان ہے۔ زور طلب خان کوئی پہلا شخص نہیں جس کی لاعلمی میں اس کا جعلی اکاؤنٹ کھولا گیا اور کروڑوں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ اب تک سیکڑوں جعلی کھاتے اور بیسیوں ارب کی منی لانڈرنگ سامنے آچکی ہے۔

    ’دنیا نیوز‘ کے بزنس ایڈیٹر حارث ضمیر نے بتایا کہ ’’مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، اب تک تین بینکوں میں ساڑھے پانچ سو جعلی اکاؤنٹس کی نشاندہی ہو چکی ہے، جن میں لگ بھگ سو ارب روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ جن تین بینکوں میں یہ اکاؤنٹس کھولے گئے، وہ یونائیٹڈ بینک، سمٹ بینک اور سندھ بینک ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے سمٹ بینک اور سندھ بینک میں انضمام ہونے والا تھا۔ اگر وہ ہو جاتا تو یہ تمام اکاؤنٹس ایک بینک میں پہنچ جاتے اور سراغ لگانا مشکل ہو جاتا‘‘۔

    حارث ضمیر نے کہا کہ ’’تمام اکاؤنٹس انتہائی غریب لوگوں کے شناختی کارڈ پر کھولے گئے۔ کوئی رکشے والا ہے، کوئی پنکچر لگانے والا، کوئی ٹھیلا لگانے والا۔ اب نیا قانون بنایا جا رہا ہے جس کے تحت تمام اکاؤنٹس کے لیے بایومیٹرک کو لازمی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے بعد جعلی اکاؤنٹ کھولنا ناممکن ہو جائے گا‘‘۔ جن بینکوں میں جعلی اکاؤنٹس کا سراغ ملا ہے، ان کے برانچ منیجر اور زونل انچارج پر تفتیشی حکام نے نظر رکھی ہوئی ہے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔ انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے کی کوشش نہ کریں۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کھاتوں کے ذریعے پیسے کون کون سے ملکوں کو منتقل کیے گئے۔

    جعلی کھاتوں کے مقدمے میں بار بار آصف زرداری کا نام لیا جارہا ہے اور ایف آئی اے حکام ان سے اس بارے میں تفتیش کر چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر اعلیٰ سندھ کے اینٹی کرپشن پر مشیر مرتضیٰ وہاب نے وائس آف امریکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’زرداری صاحب پر 1988ء سے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ لیکن کبھی کچھ ثابت نہیں ہوتا اور ہر بار معزز عدالتیں انھیں باعزت بری کرتی ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ان کھاتوں کا زرداری صاحب سے کوئی تعلق ہے۔ ایف آئی اے نے اس معاملے میں بلایا تو زرداری صاحب اور ان کی بہن فریال تالپر پیش ہوئیں اور سوالنامے کا جواب دے دیا۔ تحقیقات مکمل ہو گی تو پتا چل جائے گا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کا ان سے کوئی تعلق نہیں‘‘۔

    مرتضیٰ وہاب نے سوال اٹھایا کہ ’’یہ تحقیقات تین سال پہلے شروع ہوئی تھیں۔ لیکن ایسا کیا ہوا کہ الیکشن سے بالکل پہلے اس کی ایف آئی آر درج کی گئی اور چالان عدالت میں جمع کرانا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی کی قیادت انتخابی مہم نہ چلا سکے۔ اپنے ووٹر سے نہ مل پائے۔ ماضی میں بھی ایسی بہت کارروائیاں کی گئیں۔ لیکن زرداری صاحب کبھی دباؤ میں نہیں آئے۔ آئندہ بھی ایسی کوشش کامیاب نہیں ہو گی‘‘۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری جب حکومت کے خلاف کوئی محاذ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف مقدمے کھل جاتے ہیں۔ 

    لیکن سینئر تجزیہ کار ایاز امیر اس رائے سے متفق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جعلی کھاتوں کے معاملے سے آصف زرداری کا تعلق نہ افواہ ہے، نہ بازار کی گپ ہے۔کئی اکاؤنٹس کا تعلق اومنی گروپ سے نکلا ہے جس سے زرداری صاحب کا تعلق بیان کیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے نے اس بارے میں تحقیقات کی تو اسے ثبوت ملے ہیں۔ اومنی گروپ سندھ کی شوگر ملوں کے حسابات دیکھتا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ زرداری صاحب کی ہیں‘‘۔ ایاز امیر نے کہا کہ ’’جسے اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے، اس کے لیے زرداری صاحب کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں کہ تانے بانے بن کر ان کے خلاف سازش کی جائے۔ یہ کیس سپریم کورٹ کے حکم پر چلایا جا رہا ہے جو بالکل آزادانہ جرات مندانہ فیصلے کر رہی ہے‘‘۔

    مبشر علی زیدی

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    عالمی موسمیاتی تغیر کے سبب پاکستان ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آگیا۔ زولوجیکل سوسائٹی آف لندن اور ڈبیلو ڈبیلو ایف کے اشتراک سے شائع ہونے والی لیونگ پلانیٹ رپورٹ کا سن 1998 سے ہر دو سال کے بعد تواتر سے اجرا کیا جاتا ہے۔ 140 صفحات پر مشتمل لیونگ پلانیٹ رپورٹ کی تیاری میں 11 ممالک کے تقریبا 126 ادارے اور 80 کے قریب ماہرین ماحولیات کی آرا شامل کی جاتی ہیں جس کے مطابق عالمی موسمیاتی تغیر کے سبب پاکستان ٹاپ 10 ممالک کی فہرست میں 7ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ موسم گرما میں گرمی کا مسلسل بڑھتا پارہ اور سرد موسم میں بتدریج گرتے درجہ حرارت جیسی صورتحال کے باعث تیزی سے پگھلتے برف کے ذخائر ( گلیشیر) نے سیلابوں کی شرح خوفناک حد تک بڑھا دی، سال بھر استعمال ہونے والے میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، سندھ میں 2010 کا سپرفلڈ بھی موسمیاتی تبدیلی کے سبب آیا۔
     


    0 0

    جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) کے سربراہ مولانا سمیع الحق 1937 میں اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے اور دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی جس کی بنیاد ان کے والد مولانا عبدالحق نے رکھی تھی۔ انہوں نے مدرسہ حقانیہ سے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق، عربی گرامر، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا۔ انہیں اردو کے ساتھ ساتھ عربی اور پشتو سمیت دیگر علاقائی زبانوں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔ سند فضیلت و فراغت اور سند دورہ تفسیر قرآن کے ساتھ ساتھ شیخ الحدیث بھی تھے اور علما میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ 1988 میں مولانا عبدالحق کی وفات کے بعد مولانا سمیع الحق دارالعلوم حقانیہ کے مہتمم بن گئے تھے، یہ بھی مانا جاتا ہے کہ طالبان کے متعدد سرکردہ رہنماؤں نے ان کے مدرسے سے تعلیم حاصل کی، جس کی وجہ سے انہیں ’فادر آف طالبان‘ بھی کہا جاتا تھا۔

    سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مولانا سمیع الحق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کا اہم حصہ تھے اور اس جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے سے قبل 1970، 1977 اور 1985 کے انتخابات کی کامیابی سے مہم چلائی اور رکن اسمبلی بھی منتخب ہوئے۔ لیکن سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں جمعیت علمائے اسلام میں اختلافات پیدا ہوئے، ان کے نتیجے میں مولانا سمیع الحق نے اپنی سابقہ جماعت سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) کی بنیاد رکھی۔ آپ 1974 کی تحریک ختم نبوت اور 1977 کی تحریک نظام مصطفیٰﷺ کا بھی اہم حصہ تھے۔ وہ 83-1985 تک جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی امور کی صدارتی کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

    آپ 1985 میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور سینیٹ میں تاریخی شریعت بل پیش کیا۔ 1991 میں وہ ایک مرتبہ پھر اگلے 6 سال کے لیے سینیٹر منتخب ہوئے اور کئی اہم کمیٹیوں کے رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دیں۔ مولانا سمیع الحق کا سوویت یونین کے خلاف افغان جہاد میں بھی اہم کردار رہا اور وہ طالبان کے تمام دھڑوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کے مدرسہ حقانیہ سے افغان طالبان کے امیر ملا عمر نے بھی تعلیم حاصل کی جبکہ ان کے ملا عمر سے انتہائی قریبی مراسم تھے۔ آپ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے بانی اراکین میں شامل تھے جبکہ دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔

    مولانا سمیع الحق نے پولیو کے خلاف حکومتی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا اور جب 2013 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پولیو کے حفاظتی قطروں کی مہم کو غیراسلامی قرار دیا تھا, تو اس وقت مولانا سمیع الحق نے اس مہم کے حق میں فتویٰ جاری کیا تھا۔ دسمبر 2013 میں سمیع الحق کی جانب سے دیئے گئے فتوے میں کہا گیا تھا کہ مہلک بیماریوں کے خلاف حفاظتی قطرے پولیو کے خلاف بچاؤ میں مددگار ہوتے ہیں اور طبی ماہرین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ان بیماریوں سے بچاؤ کے قطرے کسی بھی طرح سے مضر نہیں ہیں۔ طالبان پر اثرو رسوخ کے سبب افغانستان کی جانب سے مولانا سمیع الحق سے مستقل مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ افغانستان میں امن اور سیاسی حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

    وزیر اعظم عمران خان کا بھی مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق رہا جس کی وجہ سےموجودہ وزیر اعظم کو کئی مرتبہ ’طالبان خان‘ کا لقب دیا گیا۔ رواں سال سینیٹ الیکشن میں عمران خان نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مولانا سمیع الحق کو انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا سمیع الحق کی عمر 80 سال سے زائد تھی راولپنڈی کی نجی سوسائٹی میں واقع گھر میں انہیں چھریوں کے وار کر کے ہلاک کر دیا اور وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

    بشکریہ روزنامہ ڈان  اردو

     


    0 0
  • 11/02/18--12:13: Maulana Sami-ul-Haq
  • Maulana Sami ul Haq (18 December 1937 – 2 November 2018) was a Pakistani religious scholar and Senator.He was member of the Senate of Pakistan from 1985 to 1991 and again from 1991 to 1997.

    Career

    Sami-ul-Haq was regarded as the "Father of the Taliban" because of the relationship between a student (Talib) and Teacher is a relationship of Father and Child, and had close ties to Taliban leader Mullah Mohammed Omar. Sami ul Haq was the chancellor of Darul Uloom Haqqania, a Deobandi Islamic seminary which is the alma mater of many prominent Taliban members. Haq served as chairman of the Difa-e-Pakistan Council and was the leader of his own faction of the Jamiat Ulema-e-Islam political party, known as JUI-S. Sami ul-Haq was also a founding member of Muttahida Majlis-e-Amal. 

    He had also served as a member of the Senate of Pakistan. He formed Mutahida Deeni Mahaz (United Religious Front), an alliance of relatively small religio-political parties, to participate in Pakistani general election, 2013. On 25 March 2013, he unveiled the electoral manifesto of the front, pledging that all high offices of the state, including the president, prime minister, chief justice and chiefs of armed forces, will be held only by Sunni Muslim men. It also talked of abolishing coeducation and training all adult Muslims for jihad.

    Early life

    Sami ul Haq was born on 18 December 1937 in Akora Khattak, North-West Frontier Province of British India (now Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan). His father was Moulana Abdul Haq. He began his education in 1366 AH (1946 or 1947 CE) at Darul Uloom Haqqania, which was founded by his father. There he studied fiqh, usul al-fiqh, Arabic literature, logic, Arabic grammar (sarf and nahw), tafsir, and Hadith. He was well versed in Arabic but also used Urdu, the national language of Pakistan, and the regional language of Pashto. Haq stated that the US Ambassador to Pakistan, Richard G. Olson, visited him in July 2013 to discuss the situation of the region. Haq openly promoted the Taliban re-take of Afghanistan. He stated: "Give them just one year and they will make the whole of Afghanistan happy... The whole of Afghanistan will be with them ... Once the Americans leave, all of this will happen within a year... As long as they are there, Afghans will have to fight for their freedom," Haq said. "It's a war for freedom. It will not stop until outsiders leave."

    Fatwa

    After Tehrik-i-Taliban Pakistan called polio vaccination un-Islamic, forcing people to stop inoculating their children, on 9 December 2013 Maulana Sami ul Haq issued a fatwa in favour of polio vaccination. The fatwa says "vaccination against deadly diseases is helpful in their prevention according to research conducted by renowned medical specialists. It adds that the vaccines used against these diseases are in no way harmful". 

    Death

    On 2 November 2018, Sami-ul-Haq was assassinated at his residence in Bahria town, Rawalpindi. He was stabbed multiple times. According to his guard, he had intended to join the ongoing procession in Islamabad, but he could not join it due to road blockage. 


older | 1 | .... | 141 | 142 | (Page 143) | 144 | 145 | .... | 149 | newer