Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 140 | 141 | (Page 142) | 143 | 144 | .... | 149 | newer

    0 0

    قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کو شروع سے ہی سیاست میں بہت دلچسپی تھی، بچپن میں آپ دنیا کی بڑی شخصیات کے حالات زندگی کا مطالعہ کرتے اور اسمبلی کے اجلاسوں کی کارروائیاں اور سیاسی مباحثے بڑے شوق سے سُنتے تھے۔ آپ نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز ہندوستان کی جماعت کانگریس میں شمولیت سے کیا، آپ نے 1906ء میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور ابتداء میں ہندو مسلم اتحاد و اتفاق کی کوششوں میں جُت گئے اور انگریزوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا پرچار کرتے رہے۔ 1913ء میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کے ساتھ ہی آپ نے اپنی تمام تر کوششیں مسلمانانِ ہندوستان کے حقوق کے تحفظ کےلیے وقف کر دیں، آپ کی شمولیت سے آل انڈیا مسلم لیگ، ہندوستان کی ایک مضبوط جماعت بن گئی۔
    جلد ہی قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں میں نہایت مقبول ہو گئے اور 1916ء میں آپ کو مسلم لیگ کا صدر منتخب کر لیا گیا، جس سے تحریک آزادی میں ایک نئی روح پڑ گئی، آپ نے نو جوانوں کو متحرک کیا اور اسکولوں، کالجوں میں نظریۂ پاکستان کی ترویج کی۔ تحریک خلافت (خلافت موومنٹ) کے بعد ملک میں فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان حالات سے قائداعظم دلبرداشتہ ہو گئے۔ انہوں نے1926ء میں کہا کہ، ’اس حقیقت سے راہِ فرار ممکن نہیں کہ فرقہ واریت اس ملک میں موجود ہے۔ محض جذبات اور امتداد زمانہ سے یہ رفع نہیں ہو سکتی‘۔ اس دوران نہرو رپورٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ نہرو رپورٹ برطانوی راج کی جانب سے جاری کی گئی سائمن کمیشن کے جواب میں تیار کی گئی تھی۔

    سائمن کمیشن کو ہندوستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد 8 مارچ 1928ء کو نہرو کو نیا آئین تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ نہرو رپورٹ کے ردِعمل میں 1929ء میں مسلمانوں کی آل پارٹیز کانفرنس کلکتہ میں منعقد ہوئی، جہاں قائداعظم نے اپنے 14 نکات پیش کیے، جن کو انتہا پسند ہندوئوں نے نہ صرف رد کر دیا بلکہ قائد اعظم پر مزید طعن و تشنیع کی گئی۔
    یہ وہ موقع تھا، جب قائد اعظم ؒ کا دل ہندوئوں سے بیزار ہو گیا۔ انہوں نے کلکتہ سے روانہ ہوتے ہوئے، جمشید جی نوشیروان کا ہاتھ پکڑا اور کہا، ’اب جدائی کا آغاز ہے‘۔ قائد اعظم نے اپنے پیش کردہ 14 نکات کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ مستقبل کے ہندوستان میں سیاست اور معاشی ترقی کے میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان نکات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تصورِ پاکستان کی ابتداء اسی سے ہوئی۔

    قائد اعظم محمد علی جناح کے14 نکات درج ذیل ہیں.

    1-ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    2-تمام صوبوں کو برابری کی سطح پر مساوی خود مختاری حاصل ہو گی۔

    3-ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبے میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبے میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تبدیل نہ کیا جائے۔

    4-مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    5-ہر فرقے کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    6-صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی اسکیم عمل میں نہ لائی جائے، جس کے ذریعے صوبہ سرحد، صوبہ پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    7-ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    8-مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو، جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    9-سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا یا جائے۔

    10-صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    11-سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    12-آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    13-کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے، جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    14-ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔
     


    0 0

    پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر میں نے 2017-18ء میں 7 کالم تحریر کئے جس میں پاکستان کے ناقابل برداشت قرضے، مختلف ادوار میں بیرونی قرضوں کا موازنہ، پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے، آئی ایم ایف سے قرض ناگزیر اور قرضوں پر قرضے جیسے کالم شامل تھے۔ رواں مالی سال 5 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں، 18 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ، 35 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ اور گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے پیش نظر معیشت دانوں کا خیال ہے کہ ہمیں 31 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے اور نئی حکومت کو سخت شرائط پر 12 ارب ڈالر کے نئے قرضے کیلئے جلد ہی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی پاکستان کو قرضے دینے کی مخالفت کرے گا۔ گزشتہ حکومت کو یہ امید تھی کہ غیر ملکی اثاثوں کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 2 سے 3 ارب ڈالر غیر ملکی اثاثے ملک میں واپس لائے جائیں گے لیکن ملک میں انتخابات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حکومت کو مطلوبہ نتائج نہیں ملے۔ سابق عبوری وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے متعدد بار کہا تھا کہ عبوری حکومت آئی ایم ایف سے نئے قرضے کیلئے تیاریاں مکمل کر کے نئی حکومت کو دیکر جائیگی کیونکہ آئی ایم ایف عبوری حکومت سے مذاکرات کیلئے تیار نہیں۔

    اِن حالات میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضے لینے کے بجائے اپنے دوست ممالک چین اور سعودی عرب سے 6 سے 8 ارب ڈالر کی کیش گرانٹ کی درخواست کی ہے جس پر ان دونوں ممالک کی طرف سے حوصلہ افزا اعلانات سامنے آئے ہیں کہ وہ پاکستان کی مالی مدد کریں گے۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر جبکہ چین نے بھی 2 ارب ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا جس میں ایک ارب ڈالر گزشتہ ہفتے دیئے جا چکے ہیں جسکے باعث پاکستانی روپیہ 4.3 فیصد مستحکم ہوا تھا۔ اسکے علاوہ دہشت گرد فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کو روکنے کیلئے ایشین ڈیولپمنٹ بینک (ADB) نے پاکستان کو مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔ نئے وزیر خزانہ اسد عمر نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غیر ملکی پاکستانیوں کیلئے ڈالر بانڈ کے اجراء کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گزشتہ حکومتوں نے بھی قرضوں کے علاوہ گلوبل کیپیٹل مارکیٹ میں 2 بلین ڈالر کے یورو بانڈ اور 2.5 بلین ڈالر کے سکوک بانڈز بھی جاری کئے ہیں جن کی ادائیگیاں 2019ء، 2025ء ، 2027ء اور 2036ء میں ہیں۔

    پاکستان اور چین کے مابین 12.5 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے۔ ڈالر پر دبائو کم کرنے کیلئے پاکستان نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستان سے چین کی امپورٹ کی 50 فیصد ادائیگی پاکستانی روپے میں قبول کرے۔ اسکے علاوہ سی پیک کے منصوبوں کیلئے کی جانے والی اضافی امپورٹ کے دبائو کو کم کرنے کیلئے چین کو 4 سے 5 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو سافٹ ڈپازٹ دینے کی تجویز ہے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کے بغیر چین سے امپورٹس کی ادائیگیاں کی جا سکیں۔ 30 جون 2018ء کو پاکستان کے بیرونی قرضے اور مالی ذمہ داریاں 14 فیصد اضافے سے 95 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور اس طرح ہمارے مجموعی قرضے 29.86 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں جو ہماری جی ڈی پی کا 86.8 فیصد ہے جبکہ قرضوں کی حد کے قانون کے تحت حکومت جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی لیکن ہمارے قرضے اس حد سے تجاوز کر گئے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔

    مختلف ادوارِ حکومت میں لئے گئے بیرونی قرضوں کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے پہلا غیر ملکی قرضہ 1950ء میں 145 ملین ڈالرز کا پہلے پانچ سالہ منصوبے کیلئے لیا تھا جسکے بعد آئندہ پانچ سالہ منصوبوں کیلئے ہم ہر بار 57 ملین ڈالر سالانہ کے غیرملکی قرضے حاصل کرتے رہے۔ 1960ء میں یہ قرضے بڑھکر 585 ملین ڈالرز ہو گئے اور 1970ء تک قرضوں میں اضافے کا رجحان اسی طرح جاری رہا، اس طرح ہمارے بیرونی قرضے دگنے سے زیادہ ہوتے گئے۔ دسمبر 1971ء میں غیرملکی قرضے 3 ارب ڈالرز تھے جو جون 1977ء تک 6.3 بلین ڈالرز ہو گئے جس کے بعد پاکستان نے سالانہ ایک ارب ڈالرز قرضے لئے۔ 1979ء میں بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت نے 1984ء تک اوسطاً 1.6 ارب ڈالر سالانہ بیرونی قرضے حاصل کئے۔ جون 1998ء تک پاکستان نے مجموعی 40 بلین ڈالرز کے غیرملکی قرضے اور 10.2 بلین ڈالرز کی امداد حاصل کی۔ انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز (IPPR) کی رپورٹ کے مطابق 2016-17ء قرضوں کا ریکارڈ سال تھا جس میں مسلم لیگ (ن) حکومت نے 7.9 ارب ڈالرز اضافی قرضے لئے اور 30 جون 2018ء تک ہمارے بیرونی قرضوں کا حجم 95.097 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا۔ 

    ان بیرونی قرضوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1951ء سے 1955ء تک پاکستان کے بیرونی قرضے صرف 121 ملین ڈالر تھے تاہم 1969ء میں یہ قرضے بڑھ کر 2.7 ارب ڈالر اور 1971ء میں 3 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔ 1977ء میں پاکستان پر واجب الادا قرضے بڑھ کر دگنا یعنی 6.3 ارب ڈالر ہو گئے جس کے بعد بیرونی قرضے لینے کی روایت بن گئی اور 1990ء میں یہ قرضے بڑھ کر 21.9 ارب ڈالر جبکہ 2000ء میں 35.6 ارب ڈالر تک جا پہنچے۔ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کے بیرونی قرضے 2016ء میں 72.98 ارب ڈالر اور اب 30 جون 2018ء کو یہ قرضے ریکارڈ 95.097 ارب ڈالر کی حد تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ سال ایف بی آر کے 3500 ارب روپے کے ریونیو میں سے 1482 ارب روپے (42.36فیصد) قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلے گئے۔ دوسرے نمبر پر 775.86 ارب روپے دفاعی اخراجات اور تیسرے نمبر پر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 661.29 ارب روپے خرچ کئے گئے۔

    تجزیئے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ حکومت نے مقامی قرضوں پر 1,112 ارب روپے اور بیرونی قرضوں پر 1,118.4 ارب روپے سود ادا کئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور ہمارا زیادہ تر ریونیو اور وسائل قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم، صحت، روزگار، پینے کا صاف پانی اور سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کیلئے ہمارے پاس فنڈز دستیاب نہیں۔ معیشت کے طالبعلم کی حیثیت سے میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ہماری حکومتیں Debt Managment میں ناکام رہی ہیں۔ نواز شریف حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مجموعی 480 ارب روپے کے گردشی قرضے ادا کئے تھے لیکن انہی کی حکومت نے آج 1.14 کھرب روپے کے گردشی قرضے نئی حکومت کو تحفے میں دیئے ہیں جس میں 566 ارب روپے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذمہ اور 817 ارب روپے کے واجبات حکومتی و نجی شعبے کے صارفین کے ذمہ ہیں۔ 

    جانے والی حکومت نے تجویز دی ہے کہ گردشی قرضے صارفین کے بجلی کے بلوں میں سرچارج لگا کر وصول کئے جائیں جس سے ملک میں بجلی مہنگی ہو گی اور صنعتیں اور ایکسپورٹس مزید غیر مقابلاتی ہو جائیں گی۔ نقصان میں چلنے والے حکومتی اداروں پی آئی اے، اسٹیل ملز اور واپڈا کی نجکاری نہ کرنے کی وجہ سے حکومت نے ان اداروں کو چلانے کیلئے 980 ارب روپے قومی خزانے سے ادا کئے۔ ان اداروں کے مالی نقصانات بڑھنے کی وجہ سے 2017ء میں انہیں 823 ارب روپے اور 2018ء میں 980 ارب روپے حکومتی قرضے دیئے گئے جس میں سب سے زیادہ قرضے پی آئی اے 122.4 ارب روپے، دوسرے نمبر پر واپڈا 81.4 ارب روپے، تیسرے نمبر پر پاکستان اسٹیل ملز 43.2 ارب روپے ہیں۔ ان اخراجات کی وجہ سے 2018ء میں بجٹ کا مالی خسارہ بڑھکر 2.1 کھرب روپے یعنی جی ڈی پی کا 6.1 فیصد رہا جبکہ اس کا ہدف 4.1 فیصد تھا۔

    ملکی قرضوں کے باعث 2011ء میں ہر پاکستانی 46,000 روپے، 2013ء میں 61,000 روپے اور آج 1,44,256 روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ ان قرضوں کیلئے ہم اپنے موٹر ویز، ایئرپورٹس اور دیگر قومی اثاثے قرضہ دینے والے اداروں کے پاس گروی رکھوا چکے ہیں جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک نے بڑھتی ہوئی درآمدات کی حوصلہ شکنی کیلئے جو اقدامات کئے ہیں، ان کے بہتر نتائج نکلے ہیں اور امپورٹس میں اضافے کو کنٹرول کیا گیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ان اقدامات اور دوست ممالک کی مالی امداد سے ہم نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھ سکیں گے بلکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے ہمیں تقریباً ایک سال کا ریلیف مل جائیگا جس سے ہم ملکی ایکسپورٹس، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے اور لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لاکر اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھ سکیں گے۔

    ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ
     


    0 0

    چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی تین روزہ دورے پر پاکستان آمد کئی حوالوں سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ نئی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قیام کے بعد پاکستان کے آزمودہ دوست اور عظیم ہمسائے کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے ۔ اسلام آباد میں اب مخلوط حکومت کی شکل میں ایک نئی سیاسی قیادت برسر اقتدار ہے جس کے سربراہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان ہیں۔ علاوہ ازیں چینی وزیر خارجہ کی آمد سے ذرا پہلے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان کا مختصر دورہ کر چکے ہیں جس میں دونوں ملکوں کی جانب سے تعلقات کی تجدید اور باہمی توقعات کی تکمیل کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس تناظر میں پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی ضروری تھی کہ پاک چین دوستی لازوال ہے نیز یہ کہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی نئی حکومت کی بھی اولین ترجیح ہے اورپاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس ضرورت کی بخوبی تکمیل کر دی ہے جبکہ چینی وزیر خارجہ نے اس موقع پرایک طرف دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کامیاب و مثالی جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کر کے اور عالمی برادری سے اس حقیقت کو تسلیم کیے جانے کا مطالبہ کر کے، دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کو بدنام کرنے امریکی و بھارتی کوششوں کا مؤثرجواب دیا اور دوسری طرف اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اور چین کا رشتہ فولاد کی طرح مضبوط اور ناقابل شکست ہے۔

    دونوں وزرائے خارجہ نے معاشی و سماجی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ چینی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے بھی ملاقات کی جس میں سی پیک کی سیکورٹی سمیت مشترکہ دلچسپی کے اہم امور پر بات چیت ہوئی۔ وانگ ژی اپنے دورے کے آخری روز وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ صدر مملکت عارف علوی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق صدر ممنون حسین سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزرائے خارجہ کی مشترکہ پریس کانفرنس کی ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے سی پیک اور دونوں ملکوں کے تجارتی و اقتصادی روابط کے حوالے سے ان شکوک و شبہات کی نہایت اطمینان بخش طور پر تردید کی جن کا اظہار بعض حلقوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ 

    انہوں نے اس تاثر کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا کہ سی پیک کے منصوبے پاکستان پر قرض کا بوجھ بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے تحت 22 منصوبے شروع کیے گئے تھے جن میں سے نو مکمل ہو چکے ہیں اور 13 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک پاکستان پر قرض کا بوجھ بڑھانے کے بجائے ہر سال قومی شرح ترقی میں ایک سے دو فی صد اضافے کا ذریعہ بن رہا ہے جبکہ روزگار کے نئے مواقع بھی اس کے نتیجے میں پیدا ہو رہے ہیں جن کی تعداد 70 ہزار تک پہنچے گی۔ انہوں نے یہ صراحت بھی کی کہ پاکستان اور چین اس عظیم الشان منصوبے میں کسی بھی دوسرے ملک کو شامل کرنے اور اسے پورے خطے کی خوشحالی کا ذریعہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔

    چینی وزیر خارجہ نے باہمی تجارت میں چین میں پاکستان کی برآمدات بڑھانے کی یقین دہانی کرا کے اس خدشے کا بھی تدارک کیا کہ باہمی تجارت میں پاکستان کا توازن ادائیگی ہمیشہ منفی رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت چین نے فیصلہ کر لیا ہے کہ باہمی تجارت کو دونوں ملکوں کے لیے متوازن بنانے کی خاطر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے ۔ پاکستان کی صنعتی ترقی میں تعاون کیا جائے گا اور پاکستان کی زرعی اشیاء کو بڑے پیمانے پر چینی منڈیوں تک رسائی دی جائے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ سال رواں کے آخر تک دونوں ملکوں میں آزاد تجارت کے مزید معاہدوں پر کام مکمل کر لیا جائے گا جس کے باعث باہمی تجارت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ ان تفصیلات سے واضح ہے کہ پاک چین تعلقات واقعی لازوال ہیں اور ان شاء اللہ آنے والے وقت میں نئی بلندیوں تک پہنچیں گے اور پورے خطے کی خوشحالی کا ذریعہ بنیں گے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    کسی کو یاد ہے آج ہی کے دن ٹھیک چھ برس پہلے کراچی کے صنعتی علاقے سائٹ میں واقع بلدیہ ٹاؤن کی ایک کمپنی علی انٹر پرائزز کی چار منزلہ گارمنٹس فیکٹری میں آگ لگنے سے دو سو اٹھاون مزدور جاں بحق اور انسٹھ زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں تین اور مزدور زخموں کی تاب نہ لا کے جاں بحق ہو گئے، یوں یہ تعداد دو سو اکسٹھ تک پہنچ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ بلدیہ فیکٹری فائر پاکستان میں ہونے والا اب تک کا بدترین صنعتی حادثہ تھا جس میں محض انسانی غفلت کے سبب اتنی جانیں گئیں۔ اگر ہنگامی حالات میں باہر نکلنے کے دروازوں پر تالا نہ ہوتا اور باہر کھلنے والی کھڑکیاں بند نہ ہوتیں تو شائد اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں کیونکہ زیادہ تر اموات دم گھٹنے سے ہوئیں۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ حادثے سے لگ بھگ تین ہفتے قبل امریکی ادارے سوشل اکاؤنٹیبلیٹی انٹرنیشنل کی ذیلی اطالوی کمپنی رینا کی جانب سے علی انٹرپرائیز کی گارمنٹ فیکٹری کو ’’ ایس اے ایٹ تھاؤزینڈ ‘‘سرٹیفکیٹ جاری ہوا۔ اس کا مطلب تھا کہ یہ فیکٹری ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے بین الااقوامی معیار پر پوری اترتی ہے۔ لیکن اس فیکٹری میں لگنے والی آگ نے جہاں صنعتی قوانین کو لاگو کرنے والے اداروں، اہلکاروں اور کرپشن و بے حسی کے گٹھ جوڑ کو عریاں کر دیا وہیں کسی بھی فیکٹری کو بین الااقوامی معیار کا قرار دینے کے بین الاقوامی ریکٹ کو بھی ننگا کر کے رکھ دیا۔ چنانچہ سوشل اکاؤنٹیبلٹی انٹرنیشنل اور رینا نے اگرچہ بلدیہ فیکٹری حادثے کی ذمے داری میں اپنی غافلانہ شرکت سے تو ڈھٹائی برتتے ہوئے انکار کر دیا مگر خجالت اتنی بڑی تھی کہ اس ادارے کو حادثے کے فوراً بعد پاکستان میں کسی بھی فیکٹری کو فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا کام عارضی طور پر معطل کرنا پڑ گیا۔

    علی انٹرپرائیز مالکان نے اس معاملے میں مجرمانہ غفلت سے توجہ ہٹانے کے لیے مشہور کرنا شروع کیا کہ فیکٹری میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی تنظیم نے بھتہ نہ ملنے پر اس فیکٹری کو آگ لگا دی۔ اگر یہ الزام درست ہے تب بھی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ علی انٹرپرائزز کے ’’ معصوم و بے گناہ مالکان‘‘ مسلسل فرار کیوں ہیں اور اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کیوں نہیں کر پا رہے اور اب وہ ایک تازہ ایف آئی آر پر کیوں مصر ہیں کہ آتشزدگی کے مجرموں کو ڈھونڈا جائے۔ جبکہ تین تحقیقاتی کمیٹیاں متفق ہیں کہ آتشزدگی کی وجوہات کچھ بھی ہوں مگر اموات ہنگامی راستے مقفل ہونے اور دم گھٹنے سے ہوئیں۔ مزدروں کو جان بچانے کے لیے بھاگنے کا موقع ہی نہ مل سکا اور اس کی ذمے دار سراسر فیکٹری انتظامیہ ہے۔

    علی انٹرپرائیز میں ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ ہزار مزدور مختلف شفٹوں میں کام کرتے تھے۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ ان کا ریکارڈ نہ فیکٹری کے پاس ہے نہ سرکاری اداروں کے پاس۔ خود حادثے سے قبل اس فیکٹری کا وجود بھی صنعتی امور کے نگراں سرکاری اداروں کے کاغذوں میں تھا کہ نہیں؟ یہ سوال بھی تحقیق طلب ہے۔ اگر اس کا جواب مل جائے تو ایسے بیسیوں دیگر ادارے اور فیکٹریاں بھی سامنے آ جائیں گے جو جیتا جاگتا وجود رکھنے کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں گھوسٹ فیکٹریاں ہیں۔ اور یہ گھوسٹ صرف کسی المئے یا حادثے کے نتیجے میں ہی اچانک ہمارے سامنے آتا ہے۔

    علی انٹر پرائیز کا حادثہ یا واردات بھی بھلا دی جاتی اگر پائلر جیسے ادارے ، نیشنل لیبر فیڈریشن و دیگر سرکردہ مزدور تنظیمیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، عوام دوست وکیل، میڈیا کے کچھ سرپھرے اور عدلیہ اس معاملے کو انسانی المیے کی سطح پر سنجیدگی سے نہ لیتی۔ اور اگر یہ معاملہ، مقامی سے ملکی اور پھر بین الاقوامی سطح پر نہ اچھلتا۔ اس فیکٹری میں جو گارمنٹس بنتے تھے ان کی لگ بھگ ستر فیصد مقدار ایک جرمن کمپنی کے آئی کے ٹیکسٹیلین اٹھاتی تھی۔ لہذا یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ اس جرمن کمپنی کو علی انٹرپرائیز میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی کے ابتر معیارات کے بارے میں پیشگی کچھ بھی نہ معلوم ہو۔ جب جرمن میڈیا نے اس اسکینڈل کو اٹھانا شروع کیا تو جرمن حکومت کو بھی بیچ میں آنا پڑا اور معاملہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے نوٹس میں بھی آ گیا کہ جس کا جرمنی بھی ایک فعال ممبر ہے۔ چنانچہ صنعتی حادثے میں ہلاک ہونے والے ورثا کی ثابت قدمی اور ملکی و بین الاقوامی تنظیموں کی مدد سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ جرمن کمپنی کے آئی کے نے فوری طور پر ایک ملین ڈالر کی ازالہ رقم دی جسے عدالت کے ذریعے لواحقین میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جرمن کمپنی کو پانچ اعشاریہ پندرہ ملین ڈالر کی مزید رقم ادا کرنا پڑی جو اب بلدیہ فیکٹری فائر کے لواحقین و متاثرین کو حکومتِ سندھ کے توسط سے مسلسل پینشن کی صورت میں ملتی رہے گی۔

    ہو سکتا ہے آپ کے نزدیک یہ محض ایک اچھی خبر ہو۔ تاہم مجھ جیسوں کے نزدیک بہت عرصے بعد یہ پاکستانی و بین الاقوامی مزدور حقوق تنظیموں اور ہمدرد اداروں کا ایسا اجتماعی کارنامہ ہے جو آیندہ کے ایسے حادثات کے قانونی نپٹارے کے لیے زبردست نظیر بن گیا ہے۔ شائد آپ کو یا آپ کے بزرگوں کو یاد ہو کہ اب سے چونتیس برس پہلے دسمبر انیس سو چوراسی میں بھوپال میں یونین کاربائیڈ کے کیمیکل پلانٹ میں حادثے کے سبب زہریلی کیمیاوی گیس لیک ہو جانے سے ابتدائی طور پر پانچ ہزار اموات ہوئیں۔ برس ہا برس کی کوششوں کے بعد سپریم کورٹ آف انڈیا کے دباؤ پر یونین کاربائیڈ چار سو ستر ملین ڈالر کا ہرجانہ دینے پر رضامند ہو گئی۔ جب حتمی سروے مکمل ہوا تو معلوم اس حادثے کے نتیجے میں پانچ ہزار نہیں بلکہ بائیس ہزار تک اموات ہوئیں جبکہ بھوپال شہر میں کم ازکم ساڑھے چار لاکھ افراد اس گیس کے اثرات سے بلاواسطہ متاثر ہوئے۔اور یہ اثرات وہ آج تک طرح طرح کی بیماریوں اور جسمانی پیچدگیوں کی شکل میں جھیل رہے ہیں۔

    یونین کاربائیڈ کو بھوپال سانحے کے سولہ برس بعد ڈاؤ کمپنی نے خرید لیا اور پھر ڈاؤ کمپنی کو ڈوجونز نے خرید لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ بھوپال المئے کے ہرجانے کی رقم پانچ ہزار کے بجائے بائیس ہزار متاثرین کو دینے کا مطالبہ کس سے کیا جائے۔ بھارتی مزدور تنظیمیں کہتی ہیں کہ جو نئی کمپنی کسی پرانی کمپنی کو خریدتی ہے تو اس کمپنی کی ذمے داریاں بھی نئی کمپنی کو منتقل ہو جاتی ہیں۔
    مگر یونین کاربائیڈ کو خریدنے والی ڈاؤ اور پھر ڈاؤ کو ضم کرنے والی ڈوجونز کا موقف یہ ہے کہ جب یہ حادثہ ہوا تب ان کا یونین کاربائیڈ سے کوئی لینا دینا نہ تھا اور جب یونین کاربائیڈ نے پانچ ہزار متاثرین کو ازالے کی رقم سپریم کورٹ آف انڈیا کے کہنے پر ادا کر دی تو اب ہم کس بات کے مزید پیسے مزید دعوے داروں کو دیں۔ 

    آج چونتیس برس بعد بھی یہ گتھی سلجھنے کے دور دور تک آثار نہیں۔ جب تک کارپوریٹ ریسپانسبلٹی کے قوانین کی دیوار میں سے ایسے کیسز کے لیے کوئی کھڑکی نکلے تب تک شائد کوئی بھوپال متاثر وہ دن دیکھنے کے لیے زندہ بھی نہ ہو۔ اس تناظر میں کراچی کی بلدیہ فائر فیکٹری کا جو بین الاقوامی اسٹیلمنٹ ہوا اس کی مثال آیندہ کے بڑے صنعتی حادثوں کے متاثرین کے حق میں ضرور کام آئے گی اور جس جدو جہد کا فائدہ فی الحال محض دو سو اکسٹھ جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کو ہوا۔ کون جانے آگے چل کر اس نظیر کی بنیاد پر کتنے اور مظلوموں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس اعتبار سے بلدیہ فیکٹری کے مزدروں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ ثوابِ جاریہ میں بدل گئی ہے۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    چین نے برطانوی اخبار کی پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا۔ چینی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ مضمون منفی عزائم کو سامنے رکھ کر بنایا گیا، پاکستان نے سی پیک کو قومی ترجیح قرار دے دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز میں مضمون منفی عزائم کو سامنے رکھ کر بنایا گیا۔ اس سے قبل چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کی رفتار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، منصوبے پر مشاورت پاکستان کی معاشی اور سماجی ترجیحات کے مطابق ہو گی۔
    اس سے پہلے فنانشل ٹائمز نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا تھا کہ نئی پاکستانی حکومت سی پیک معاہدے پر نظرِ ثانی پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ میں مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد کے انٹرویو کا حوالہ دیا گیا تھا۔

    رپورٹ میں مبینہ طور پر عبدالرزاق داؤد کے بیان کا حوالیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ سابق حکومت نے تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کر کے چین کو بہت فائدہ پہنچایا، چینی کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت اور دیگر مراعات سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں، منصوبوں پر ایک سال کے لیے عمل روک دینا چاہیے۔
    مسلم لیگ نون نے برطانوی اخبار کے دعوے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے حکومت کے مبینہ اقدام کو 22 کروڑ عوام سے زیادتی قرار دے دیا ہے۔
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ سی پیک خطے میں گیم چینجر ہے، اسے منجمد کرنا 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبے میں تاخیر یا رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ ادھر عبدالرزاق داؤد نے بھی برطانوی میڈیا کی رپورٹ کی تردید کر دی ہے، وضاحتی بیان میں وزیرِاعظم کے مشیر نے کہا کہ ان کے انٹرویو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چلایا گیا۔ دوسری طرف دفترِ خارجہ کے جاری اعلامیہ میں بھی دو ٹوک انداز میں کہا گیا ہے کہ چینی وزیرِ خارجہ سے ملاقاتوں میں پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ سی پیک حکومت کی قومی ترجیح ہے۔ اعلامیہ کے مطابق سی پیک کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے۔ پاکستان اور چین نے سی پیک کو تعاون کے نئے شعبوں تک پھیلانے پر اتفاق کیا۔
     


    0 0
  • 09/11/18--04:14: Kulsoom Nawaz Sharif
  • Kulsoom Nawaz Sharif  was a Pakistani politician who was the spouse of the Prime Minister of Pakistan for three non-consecutive terms; from 1990 to 1993, 1997 to 1999 and then from 2013 to 2017.

    Early and personal life

    Kulsoom was born into a Kashmiri family in Lahore. She attended Islamia College and graduated from the Forman Christian College in Lahore. She received a master's degree in Urdu from the University of the Punjab in 1970. Kulsoom had two sisters and a brother. From her maternal side, she is the granddaughter of the wrestler The Great Gama. She married Nawaz Sharif, the three-time Prime Minister of Pakistan, in April 1971. The couple have four children: Maryam, Asma, Hassan and Hussain.

    Spouse of the Prime Minister of Pakistan

    Kulsoom became spouse of the Prime Minister of Pakistan for the first time after her husband, Nawaz Sharif, became Prime Minister of Pakistan on 1 November 1990 when his party, Islami Jamhoori Ittehad, won 104 of 207 seats contested in the Pakistani general election, 1990. His first term as Prime Minister ended in July 1993. She became spouse of the Prime Minister of Pakistan of Pakistan for the second time after Nawaz Sharif became Prime Minister of Pakistan when his party, Pakistan Muslim League (N), won the Pakistani general election, 1997. His second term as Prime Minister was ended when then Chief of Army Staff General Pervez Musharraf led a military coup d'état against him on 12 October 1999. Kulsoom was arrested by the Pakistan Army Corps of Military Police and immediately shifted to her local residence. According to her daughter, Maryam Nawaz, Kulsoom "dauntlessly challenged the usurper when a lot of men backed out". Nawaz Sharif named his wife as the President of Pakistan Muslim League in 1999, and she remained on post till 2002.  She became spouse of the Prime Minister of Pakistan of Pakistan for the third time after Nawaz Sharif became Prime Minister of Pakistan when his party, Pakistan Muslim League (N), won the Pakistani general election, 2013.

    Political career

    Kulsoom was elected to the National Assembly of Pakistan for the first time from NA-120 (Lahore-III) as a candidate of PML (N) in by-polls held in September 2017. She secured 59,413 votes and defeated Yasmin Rashid of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The NA-120 seat fell vacant after her husband, Nawaz Sharif, was disqualified by the Supreme Court of Pakistan in the Panama Papers case.

    Death

    She was diagnosed with lymphoma on August 2017 and since had been in treatment in London. On June 2018 Nawaz suffered a cardiac arrest and was placed on ventilator. On 11 September 2018, she died in London. 


    0 0

    ’’ترکی کو پیار ہے پاکستان سے‘‘ جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے اور ترکی کبھی پاکستان سے ا پنی محبت اور چاہت کے اظہار کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ اس کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے کئی ایک دوست اور برادر ممالک ہیں لیکن پاکستان کی محبت کا رشتہ جو ترکی اور ترک باشندوں سے قائم ہے، اس کی دنیا بھر میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ترکی اس کرہ ارض میں واحد ملک ہے جو پاکستان کی ہر مشکل اور مصیبت کے وقت سب سے پہلے پاکستان کی مدد کو دوڑتا ہے ۔ ستمبر 1965ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو سب سے پہلے حکومتِ ترکی اور ترک باشندوں ہی نے بھارت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے پاکستان کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا تھا ۔ اُس وقت کے ترکی کے وزیر خارجہ حسن ایسات اِشک نے دو ٹوک الفاظ میں بھارت کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کو ہر ممکنہ مدد کی یقین دہانی کروائی تھی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے اسلحے کو پاکستان پہنچانے اور ترک باشندوں کے بھی اس جنگ میں حصہ لینے کی خواہش سے حکومتِ پاکستان سے آگاہ کیا تھا ۔

    پاکستان میں مقیم اُس وقت کے ترک سفیر معمر شناسی نے 23 ستمبر 1965 کو صدر ایوب خان سے ملاقات کرتے ہوئے حکومتِ ترکی اور ترک باشندوں کی ہر ممکنہ حمایت اور امداد کا اعادہ کیا تھا اور پھر 1974ء میں قبرص جنگ کے موقع پر پاکستان نے جس طریقے سے ترکی کی حمایت کی اور ترکی کو فوجی سازو سامان بہم پہنچایا اور پاکستانی طیاروں اور پاکستان ائیر فورس نے ترکی کی مدد کرتے ہوئے تعاون کی ایک ایسی مثال قائم کی جس سے ترکی کو قبرص میں اپنے پائوں جمانے کا موقع ملا حالانکہ ترکی کے تمام اتحادی ممالک یونان کی بھر پور حمایت کر رہے تھے اور ترکی کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ ترکی پر فوجی پابندیاں عائد کر چکا تھا ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ترکی اور پاکستان امریکہ کے دو ایسے اتحادی ممالک ہیں جو اُس وقت تک امریکہ کی آنکھوں کا تارا رہتے ہیں جب تک وہ ان دونوں کا محتاج ہوتا ہے اور جیسے ہی اپنا مفاد حاصل کر لیتا ہے ، آنکھیں پھیرنے سے ذرہ بھر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ اس وقت ان دونوں ممالک کو امریکہ سے متعلق کم و بیش ایک جیسی ہی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    اب آتے ہیں چھ ستمبر 2018ء کو انقرہ کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی "یومِ دفاع اور شہدا "کی تقریب کی جانب۔ جیسا کہ عرض کر چکا ہوں ترکی اور پاکستان کے تعلقات "یک جان دو قالب"اور دو ریاستیں ایک قوم"جیسے القابات سے نوازے جانے والے تعلقات ہیں ۔ ان لازوال تعلقات کی جھلکیاں ہم نے اس وقت دیکھیں جب ترکی کے وزیر قومی دفاع ریٹائرڈ جنرل حلوصی آقار ، مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل یشار گیولر اور مسلح افواج کے سربراہان سے لے کر اعلیٰ سول حکام نے شرکت کی اور پاکستان سےاپنی محبت اور یک جہتی کا اظہار کیا۔ میری ذاتی رائے کے مطابق شاید ہی دنیا میں پاکستان کے کسی دیگر سفارت خانے کو اُس ملک کی اعلیٰ ترین فوجی قیادت کی میزبانی کرنے کا اس طرح اعزاز حاصل ہوا ہو ۔ تقریب کے موقع پر سفیرِ پاکستان محمد سائیرس سجاد قاضی، ڈیفنس اٹیچی ائیر کموڈور عمران صغیر چوہدری، آرمی اٹیچی کرنل فیصل سعود ، کرنل عمران اسلم، نیول اٹیچی کیپٹن خان محمد آصف اور ان کی بیگمات نے فرداً فرداً تمام شرکاء کا استقبال کیا۔

    تقریب کا باقاعدہ آغاز ترک وزیر قومی دفاع حلوصی آقار کی آمد کے فوراً بعد دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے سفیر محمد سائیرس سجاد قاضی نے خطاب کرتے ہوئے یومِ دفاع کی اہمیت اور چھ ستمبر 1965ء کو پاکستان کو اپنی بقا کے لیے لڑی جانے والی جنگ اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس جنگ میں سرخرو ہونے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے علاوہ ترکی کی جنگ چناق قلعے اور 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کو کچلنے اور موجودہ دور میں ملک کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والوں ترک شہدا کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

    اس موقع پر ترکی کے وزیر قومی دفاع حلوصی آقار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ترکوں کے دل پاکستان کی محبت سے سرشار ہیں۔ مجھے یقین ہے پاکستان کی مسلح افواج ملک کے استحکام کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی امن کے قیام کے لیے بھی اپنا کردارا دا کرتی رہے گی۔ جمہوریہ ترکی کے قیام سے لے کر اب تک پاکستان ہمیشہ ہی ترکی کا بھر پور ساتھ دیتا چلا آرہا ہے۔ ترکی کی جنگ آزادی کے موقع پر مسلمانان ہند نے جس طرح ترکی کا دل کھول کر ساتھ دیا اور اپنا تن من دھن سب کچھ ترکی پر لٹا دیا ہم کبھی اسے فراموش نہیں کر سکتے ہیں ۔ سن 1974ء کی قبرص جنگ میں پاکستان کی حمایت اور مدد کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے؟ پاکستان کی 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کے موقع پر ترکی میں ڈیمو کریسی کے تسلسل کی حمایت نے ترکوں کے دل جیت لئے۔

    پاکستان ہمارے لئے قوت اور استحکام کا وسیلہ ہے۔ "اس تقریب میں انقرہ میں پاکستانی اسکول کی طالبات نے پاکستان کے ملی نغمے پیش کرتے ہوئے حاضرین کو پاکستانی کی محبت کا اسیر بنا دیا ۔ پاکستان کی محبت سے لبریز ان نغموں کے بعد سفیر پاکستان محمد سائیرس سجاد قاضی ، ترکی کے وزیر قومی دفاع حلوصی آقار ، ترک مسلح افواج کے سربراہان نے مشترکہ طور پر کیک کاٹا۔ تقریب میں قیام ِ پاکستان اور افواج پاکستان کے کارناموں پر مبنی دستاویزی فلم کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جبکہ ہوٹل کی راہداری میں پاکستان سے متعلق پینٹنگز کی بھی نمائش کی گئی تھی۔ اس موقع پر ترکی کے وزیر قومی دفاع حلوصی آقار نے راقم کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ "ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور اس کے کردار سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔

    پاکستان اور ترکی کے فوجی افسران اور اعلیٰ فوجی قیادت کو اکثر و بیشتر فرائض کی سرانجام دہی کے لیے یکجا ہونے کا موقع میسر آتا ہے اور ان مواقع پر دونوں ممالک کی اعلیٰ فوجی قیادت کے چہروں پر ایک دوسرے سے محبت اور چاہت کی جھلک نمایا ں طور پر نظر آتی ہے ۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑے گہرے اور دیرینہ تعلقات قائم ہیں ۔ دونوں ممالک میں دفاعی صنعت میں اشتراک اور تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے اور یہ تعاون اور اشتراک وقت کے ساتھ ساتھ مزید فروغ پاتا رہے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اشتراک صرف دونوں ممالک تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس سے خطے اور عالمی امن کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ 

    دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنے کیساتھ ساتھ مختلف اداروں اور ٹریننگ سینٹرز میں مشترکہ طور پر ٹریننگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم جنگی بحری جہازوں ، طیاروں ہیلی کاپٹروں کے علاوہ توپوں ٹینکوں اور دیگر جنگی سازو سامان کی تیاری میں بھی ایک دوسرے سے گہرا تعاون کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے مفاد کے ساتھ ساتھ خطے کے لیے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ میں ایک بار پھر یومِ دفاع پاکستان کے موقع پر پاکستان اور پاک فوج کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے دعا گو ہوں۔ "

    ڈاکٹر فرقان حمید
     


    0 0

    ملک عرصہ دراز سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس صورتحال میں بہتری لانے کیلئے کوئی مؤثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی تو ملک شدید ترین خشک سالی کا شکار ہو جائیگا۔ اس خراب صورتحال کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہماری سابقہ حکومتوں نے اس باب میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے اب یہ صرف پینے کیلئے ہی نہیں بلکہ اس کو ذخیرہ کر کے کاشت کاری اور بجلی پیدا کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے حصے میں سالانہ 145 ملین ایکڑ فٹ پانی آتا ہے، پاکستان کو ملنے والے پانی کا 80 فیصد 3 ماہ جبکہ بقیہ 20 فیصد باقی 9 ماہ میں آتا ہے۔ 

    پاکستان میں صرف 185 آبی ذخائر ہیں جن میں صرف دو ڈیم بڑے ہیں جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارت میں پانچ ہزار اور چین میں 84 ہزار ڈیم ہیں جن میں سے 4 ہزار بڑے ڈیم ہیں۔ یہ امر خوش آئند ہے قوم کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کیلئے محترم چیف جسٹس ثاقب نثار نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور قوم سے اپیل کی ہے کہ اس کے تعمیری اخراجات کے لئے چندہ فراہم کرے۔ چیف جسٹس کی اپیل پر مختلف اداروں کے ملازمین نے اپنی ایک دن کی تنخواہ جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی خطیر رقم فراہم کی ہے اور ترسیلات زر کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ 

    قوم کو کسی بھی بحران سے نکالنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے پاک فوج نے ڈیم فنڈ میں ایک ارب 59 لاکھ کی خطیر رقم دی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی اور پاک فوج کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کیلئے اس رقم کا چیک دیا۔ آرمی چیف نے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھی تحریر کیا جس میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے تمام رینکس نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ چیف جسٹس کی اپیل پر جس طرح پوری قوم اور قومی اداروں نے ڈیم کیلئے رقم کی فراہمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اس سے ایک مضبوط اور ایسی قوم ہونے کا تاثر ملتا ہے جسے اپنے مسائل کا ادراک ہے اور ان کو حل کرنیکا عزم بھی رکھتی ہے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    بیگم کلثوم نوازانتقال کر گئیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو جنت الفردوس میں جگہ اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔ مجھے بیگم صاحبہ سے چند بار ملنے اور اُن سے تفصیلی بات چیت کا موقع ملا اور جیسا کہ عمومی طورپر کہا جا رہا ہے وہ ایک انتہائی نفیس، ملنسار اور گھریلو خاتون تھیں۔ مجھے جو بات اُن میں سب سے اچھی لگی وہ اُن کا اسلام کی طرف رجحان ہونا تھا۔ نہ صرف نماز روزہ کی خود پابند تھیں بلکہ اُنہوں نے مجھے ایک بار خود فخر سے یہ بات بتائی کہ اُن کے چاروں بچے نمازی ہیں۔ مجھے اس بات کا بھی علم ہے کہ میاں نواز شریف کی گزشتہ دور حکومت کے دوران چند ایک ایسے حکومتی اقدامات جن پر دینی سوچ رکھنے والے طبقوں نے بہت اعتراض کیا، اُن کے متعلق بیگم صاحبہ کے بھی شدید تحفظات تھے۔ 

    چند سال پہلے جب نواز شریف وزیر اعظم تھے تو میری بیگم کلثوم نواز صاحبہ سے ملاقات ہوئی جس میں میں نے اُن سے درخواست کی کہ وزیر اعظم کی بیوی ہونے کے ناطے اُنہیں چاہیے کہ وہ نواز شریف پر اس بات کا پریشر رکھیں کہ حکومت ہر ممکن ایسے اقدامات کرے جس سے ہمارے معاشرتی ماحول کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جا سکے اور مغربی کلچر اور بے حیائی کو پھیلنے سے یہاں روکا جا سکے۔ بیگم صاحبہ خود بھی یہی سوچ رکھتی تھیں کہ ہمیں اپنی دینی و معاشرتی اقدارکی حفاظت کرنی چاہیے۔ پاکستان میں بسنے والی اکثریت کی طرح وہ میڈیا کے ذریعے فروغ دیے جانے والے مغربی کلچر سے بھی نالاں تھیں۔ بیگم کلثوم کو ان معاملات پر اپنا ہم خیال جان کر میں نے اُن پر زور دیا کہ وہ نواز شریف صاحب پر اپنا دبائو رکھیں تاکہ حکومت ایسے تمام اقدامات کرے جن سے پاکستان کے قیام کے مقصد کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔

    بیگم صاحبہ نے جواب دیا کہ وہ اپنا کردار ضرور ادا کریں گی لیکن اُنہوں نے مجھ سے بھی مطالبہ کیا کہ میں بھی وزیر اعظم کے ساتھ یہ معاملات اٹھاتا رہوں۔ میں تو ویسے ہی ان معاملات پر نہ صرف گاہے بگاہے لکھتا رہا بلکہ جب بھی کسی بھی وزیر اعظم یا کسی بااثر وزیر سے ملنے کا موقع ملا تو ان ایشوز پر ہی اکثر بات کی۔ مجھے نہیں معلوم کہ میری اس ملاقات کے بعد بیگم صاحبہ نے نواز شریف سے کیا بات کی۔ اسی دوران تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے محترم نعیم بٹ بھی نواز شریف سے میڈیا کے ذریعے غیر اخلاقی مواد کو پھیلائے جانے کے معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے۔ ایک روز مجھے وزیر اعظم کےاسٹاف کا فون آیا کہ اگلے روز نواز شریف صاحب مجھ سمیت محترم نعیم بٹ صاحب اور اُس وقت کے چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے ساتھ میٹنگ کریںگے۔

    ہماری کوئی تین چار میٹنگز ہوئیں۔ پیمرا کو ہدایات دی گئیں کہ میڈیا کو غیر اخلاقی مواد نشر کرنے سے روکا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اس ناکامی کی وجوہات پر پھر کبھی بات ہو گی لیکن نعیم بٹ صاحب نے مجھے بتایا کہ اُن کے شریف فیملی سے پرانے مراسم ہیں اور یہ کہ بیگم کلثوم نواز ایک انتہائی مذہبی خاتون تھیں اور اُن کی یہ شدید خواہش رہی پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ کیا جائے۔ آجکل ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی ایک پرانی ویڈیو میں بیگم کلثوم کسی صحافی سے 1999 کے مارشل لا کے نفاذ کے بعد شریف فیملی کو سعودی عرب بھجوانے کے موقع پر بات کرتی ہوئی دکھائی گئی ہیں جس میں وہ کہہ رہی تھیں کہ اُنہیں زبردستی ملک بدر کیا جا رہا ہے لیکن وہ اس بات پر خوشی کا اظہار کر رہی تھیں کہ وہ ایک مقدس جگہ جا رہی ہیں جہاں اللہ تعالیٰ نے اُنہیں بلایا ہے۔

    بیگم کلثوم کا ایک ایسے وقت میں انتقال ہونا جب اُن کے شوہر ، بیٹی اور داماد جیل میں ہیں اور جب اُن کے دونوں بیٹے پاکستان واپس آ نہیں سکتے جو نہ صرف پوری شریف فیملی کے لیے بہت بڑا المیہ ہے بلکہ اُن کےلیے آزمائش کا بھی وقت ہے۔ یہ ہم سب کےلیے بھی آزمائش کا وقت ہے لیکن افسوس کہ اس موقع پر بھی جب نواز شریف کے مخالف بھی اُن سے افسوس اور ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں میڈیا سمیت سوشل میڈیا میں کچھ ایسے سنگدل اور بیمار ذہن لوگ شامل ہیں جو انتہائی گھٹیا انداز میں شریف فیملی کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔ ٹی وی ٹاک شوز میں ایسے بیمار ذہن افراد کی غیر اخلاقی باتوں پر اگرچہ تنقید ہو رہی ہے تو چند ایک تجزیہ کاروں کو اس موقع پر بھی شریف فیملی کو بُرا بھلا کہنےکے لیے ٹی وی چینلز موقع فراہم کر رہے ہیں جو شرم کی بات ہے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    تحریک انصاف کی حکومت کے تحت اکنامک کوآرڈی نیشن کونسل کے پہلے ہی اجلاس میں پیٹرولیم ڈویژن نے گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتوں میں 180 فیصد اور کمرشل، انڈسٹریل اور پاور سیکٹر کے لئے 30 فیصد اضافے کی سمری پیش کر دی ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پچھلی حکومت نے 5 سال میں گیس کے نرخوں میں ایک بار بھی اضافہ نہیں کیا جس سے آئل اینڈ گیس سیکٹر خصوصاً گیس کمپنیوں کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے توانائی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان کی زیر قیادت اعلیٰ حکام نے وزیراعظم عمران خان کو گیس کے نرخ بڑھانے کے علاوہ اس تلخ حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ اس وقت 50 ارب روپے کی گیس سالانہ چوری ہو رہی ہے۔ 

    وزیراعظم نے گیس چوری روکنے کے لئے حکام کو جامع منصوبہ تیارکرنے کی ہدایت کی تاہم قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتیں بڑھانے کی جو تجویز دی ہے یقیناً اس کا کوئی معقول جواز ہو گا مگر گھریلو صارفین کے لئے گیس کے نرخوں میں یک لخت تین گنا اضافہ مہنگائی کے مارے ہوئے صارفین کے لئے انتہائی پریشان کن ہے، یہی بات صنعتی و تجارتی شعبے کے لئے بھی کہی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کی ساکھ بھی اس غیر معقول اضافے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایران اور وسط ایشیائی ممالک سے گیس کے حصول کے معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنا کر اور اندرون ملک گیس کے مزید ذخائر تلاش کر کے صارفین کے لئے گیس کی فراہمی یقینی بنائے اور قیمتوں میں اضافہ نہ کرے۔ اگر اضافہ ناگزیر ہے تو بھی اتنا رد وبدل کرے جو عام لوگوں کی استطاعت کے مطابق ہو۔ نئی حکومت پہلے ہی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر چکی ہے گیس کے نرخ بھی بہت زیادہ بڑھا دیئے گئے تو عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور ان میں بے چینی پھیل جائے گی۔ نرخ بڑھانے سے زیادہ ضرورت گیس کی چوری روکنے کی ہے حکومت اس مسئلے پر زیادہ توجہ دے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے جج ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایک مرتبہ پھر ڈیم کی تعمیر کے مخالفین کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے مخالفت کی کوشش کی آرٹیکل 6 کے تحت کاروائی کی جائے گی۔ جسٹس میاں ثاقب نثارنے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا کہ قوم کی خدمت کے علاوہ ان کا کوئی اور مقصد نہیں ، ریٹائرمنٹ کے بعد مجھے کوئی عہدہ آفر کر کے شرمندہ نہ ہوں۔

    سماعت کے دوران ہی انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ہم لوگوں نے منرل واٹر پینے کی عادت اپنالی ہے ۔ ہماری اس عادت سے نوٹ کمائے جا رہے ہیں تاہم پانی کی ڈکیتی کسی صورت نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے مزید ریمارکس میں کہا کہ دیکھنا ہو گا کہ منرل واٹر میں منرلز ہیں بھی یا نہیں۔ پانی بیچنے والی کمپنیاں حکومت کے ساتھ پانی نکالنے کا ریٹ طے کر لیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں گھر میں خود نلکے کا پانی ابال کر پیتا ہوں کیونکہ پاکستانی قوم یہ پانی پی رہی ہے۔ پانی اب سونے سے بھی زیادہ مہنگا ہے۔
     


    0 0

    چیف جسٹس پاکستان اور وزیراعظم کے ڈیم فنڈ کیلئے بیرون ممالک سے 13؍ ستمبر (جمعرات) تک مجموعی طور پر جمع کرائے جانے والے فنڈز صرف 18؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے (1.48؍ ملین ڈالرز) ہیں۔ سب سے پہلے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جولائی کے وسط میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کیلئے فنڈ قائم کیا تھا لیکن بعد میں وزیراعظم عمران خان نے بھی اس فنڈ میں شمولیت اختیار کی اور انہوں نے 7؍ ستمبر کو پاکستانیوں بالخصوص سمندر پار پاکستانیوں سے ڈالرز کی اپیل کی۔ جس کے بعد، اس فنڈ کو پرائم منسٹر اینڈ چیف جسٹس پاکستان دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام دیا گیا۔ 

    سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر 14؍ ستمبر کی شام ساڑھے چار بجے تک جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر جمع ہونے والی رقم 3.2؍ ارب روپے ہے۔ اس میں ملکی و بیرون ممالک سے موصول ہونے والے عطیات شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر ملکی و غیر ملکی سطح پر موصول ہونے والی رقم کو علیحدہ علیحدہ کر کے پیش نہیں کیا گیا۔ لیکن اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر یہ تفصیلات موجود ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی سطح پر سب سے زیادہ رقم جمع ہو پائی ہے جبکہ بیرون ممالک سے بہت کم رقم ملی ہے۔ ماہرین کے مطابق، صرف دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر 14؍ ارب ڈالرز لاگت آئے گی جو تقریباً 1750؍ ارب پاکستانی روپے کے مساوی ہیں۔ اب تک صرف 3.2؍ ارب روپے جمع ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ عطیہ پاک فوج کی جانب سے ایک ارب روپے دیے گئے ہیں۔

    ڈیم کیلئے اربوں ڈالرز چاہئے، سمندر پار پاکستانیوں کی معمولی رقم نہیں
    اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، 3.27؍ ارب روپے کی مجموعی رقم میں سے ملکی سطح پر 3.09؍ ارب روپے جمع ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا پاکستانی روپے کے حساب سے بیرون ممالک سے صرف 18؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے ہی ملے ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار ہر جمعہ کو جاری کیے جاتے ہیں لیکن اس میں 13؍ ستمبر تک کا ڈیٹا شامل ہے۔ 13؍ اور 14؍ ستمبر کے اعداد و شمار کو تقابلی لحاظ سے دیکھیں تو 24؍ گھنٹے کے دوران فنڈز میں دو لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ مختلف ملکوں سے ملنے والے عطیات کو علیحدہ علیحدہ کر کے دیکھیں تو بیرون ممالک سے سب سے زیادہ رقم امریکا سے 6؍ کروڑ 10؍ لاکھ روپے (0.48؍ ملین ڈالرز) بھیجی گئی ہے، جس کے بعد متحدہ عرب امارات کا نمبر آتا ہے جہاں سے 3؍ کروڑ روپے (0.24؍ ملین ڈالرز) اور اس کے بعد برطانیہ سے 2؍ کروڑ 18؍ لاکھ روپے (0.176؍ ملین ڈالرز) موصول ہوئے ہیں۔ دیگر نمایاں رقوم میں سعودی عرب سے ایک کروڑ 60؍ لاکھ روپے، کینیڈا ایک کروڑ 33؍ لاکھ، آسٹریلیا 70؍ لاکھ 20؍ ہزار، قطر 40؍ لاکھ 40؍ ہزار، ترکی سے 3500؍ روپے، برازیل 1500؍ جبکہ اردن سے صرف 10؍ ہزار روپے موصول ہوئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت سے بھی اسٹیٹ بینک کو 33؍ ہزار 491؍ روپے بھیجے گئے ہیں جبکہ افغانستان سے 3؍ ہزار روپے ملے ہیں۔

    ان اعداد و شمار کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ سمندر پار ارب پتی سمجھے جانے والے پاکستانیوں سے ملنے والے بھاری عطیات کے متعلق خبریں محض پروپیگنڈا ہے۔ 7؍ ستمبر کو ٹیلی ویژن پر اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے اپیل کی تھی کہ ڈیم کی تعمیر کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کیے جانے والے فنڈ میں عطیات دیں۔ وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں سے خصوصی اپیل کی کہ وہ دل کھول کر ڈالرز میں عطیات دیں تاکہ ملک کے تیزی سے گرتے زر مبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا جا سکے اور ساتھ ہی ڈیم کی تعمیر کی شروعات کی جا سکے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس کام کی خود نگرانی کریں گے۔ 

    ڈیم فنڈز کے غلط استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے وزیراعظم عمران نے کہا تھا کہ اگر ہر سمندر پار پاکستانی ایک ہزار ڈالرز کا عطیہ دے تو ہم خود ہی ڈیم بنانے کے قابل ہو جائیں گے۔ وزیراعظم نے مصر کی مثال بھی پیش کی تھی جہاں ڈیمز اپنے ہی وسائل سے تعمیر کیے گئے تھے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وزیراعظم آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیم فنڈ میں رقم جمع کرنے کا سلسلہ تازہ تازہ شروع ہوا ہے، ابھی تو شروعات ہے اور ابتدا سے ہی لوگوں کی بڑی تعداد پیسے بھیج رہی ہے، انشاء اللہ آئندہ دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ فنڈ کی رقم بڑھ رہی ہے اور ڈیم کی تعمیر بھی شروع ہو گی۔

    انصار عباسی 


    0 0

    پچاس لاکھ گھر پانچ برس میں اور وہ بھی ان کے لیے جو فی زمانہ یا تو خواب میں گھر بنا سکتے ہیں یا بعد از مرگ جنت الفردوس میں مقامِ محمود عطا ہونے کی دعا کرتے کرتے آنکھیں موند لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پاکستان میں سالانہ کم ازکم ایک ملین گھروں کی ضرورت ہے، بلڈنگ سیکٹر فی الحال ساڑھے چار لاکھ سالانہ تک ہاؤسنگ یونٹ بنا پا رہا ہے چنانچہ برس ہا برس کے اس ’’ گھریلو خسارے ’’ کے سبب آج کی تاریخ میں اگر ہر پاکستانی کو باعزت چھت دینا ہے تو کم ازکم گیارہ ملین ہاؤسنگ یونٹ فوراً اور چھ لاکھ یونٹ سالانہ بنتے رہنے چاہئیں۔
    ایسا نہیں کہ پاکستان میں کوئی حکمران پہلی بار غریبوں کے سر پے چھت دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں جو ادارے ٹاؤن پلاننگ ، زمین کی فراہمی ، تکنیکی مدد اور ہاؤسنگ کے لیے امدادی قرضوں کا بندوبست کرنے پر مامور تھے خود وہ ادارے رفتہ رفتہ بے چھت ، غیر متعلق یا پھر بے بنیاد ہوتے چلے گئے۔

    اس ملک میں مزدوروں کو سستی رہائش فراہم کرنے کی پہلی سنجیدہ کوشش انیس سو چون میں لانڈھی انڈسٹریل اسٹیٹ ٹاؤن شپ کے ذریعے ہوئی۔ جو لوگ قیامِ پاکستان کے بعد سے کراچی کے مرکزی علاقوں میں جھگیوں میں رہائش پذیر تھے ان کے لیے انیس سو انسٹھ میں کورنگی ٹاؤن شپ کا افتتاح ہوا۔ اسی دوران نیو کراچی میں بھی سرکار نے غریبوں کے لیے کوارٹر بنانے تھے۔ پھر کسی نے کہا کہ گھر بنا کے دینے میں خرچہ بہت ہے لہذا کیوں نہ رہائشی اسکیمیں شروع کی جائیں۔ جس میں صرف پلاٹ ہوں۔ جہاں کم آمدنی والے لوگ آہستہ آہستہ کمرہ در کمرہ گھر بناتے چلے جائیں۔ ان کو امدادی قرضوں یا ہوم موڈگیج فنانسنگ کا سہارا دینے کے لیے انیس سو باسٹھ میں ایوب خان نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن بنائی۔ مگر مغرب کے برعکس پاکستان میں موڈگیج فنانس کا کلچر چھپن برس میں بھی خاص پروان نہ چڑھ سکا۔ آج بھی نوے فیصد لوگ ذاتی رقم جوڑ جوڑ کر گھر بناتے ہیں، آٹھ فیصد دوستوں رشتے داروں سے ادھار پکڑ لیتے ہیں اور صرف دو فیصد مکین ایسے ہیں جو موڈگیج فنانسنگ کے لیے ہاؤس بلڈنگ یا پھر بینکنگ سیکٹر سے مدد لیتے ہیں۔

    وقت کے ساتھ ساتھ گھر کا خواب بینکوں نے مڈل کلاس کو اور سیاسی جماعتوں نے غریبوں کو خوب خوب بیچا۔ بھٹو صاحب کے منشور کا بنیادی نعرہ ہی روٹی کپڑا اور مکان تھا۔ مشہور ہے کہ بھٹو صاحب نے سندھ کے وزیرِ بلدیات سے کہا ’’جام صادق قائدِ اعظم کا مزار چھوڑ دینا‘‘۔ پھر کسی حکومت نے ڈھائی مرلہ ، کسی نے پانچ تو کسی نے آٹھ مرلہ اسکیمیں شروع کیں، فیصل آباد ، ملتان ، لاہور اور پشاور میں لیبر کالونیاں بھی بنیں، سرکاری ریٹس پر پلاٹ بھی دستیاب ہوئے اور گذشتہ حکومت کے دور میں آشیانہ اسکیم بھی پروان چڑھی اور فوت ہو گئی۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مذکورہ بالا کوئی اسکیم بھی بہت دور تک نہ جا سکی ، ہر اسکیم اعلان کرنے والی حکومت کی زندگی تک زندہ رہی اور پھر اگلی حکومت نے پچھلی اسکیم کی قبر پر ایک نئی اسکیم چڑھا دی۔

    ہزاروں ہاؤسنگ یونٹ غریبوں کے لیے بنے ضرور مگر ان پر دوسرے قابض ہو گئے یا پھر پرچی و رشوت کے بل پر دو نمبر غریبوں کو الاٹ ہو گئے اور ایک نمبر غریب وضو کرتے رہ گئے۔ یہ بھی ہوا کہ جن کچی آبادیوں کے مکینوں کو شہر سے دور پلاٹ دیے گئے وہ ان پلاٹوں کو بیچ کر پھر اسی کچی آبادی میں آ کر بس گئے جہاں سے نکالے گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ جنگل میں پلاٹ تو الاٹ ہو گئے مگر نہ پانی کا انتظام، نہ بجلی کا اور نہ نوکری پر جانے کے لیے سستی ٹرانسپورٹ کا آسرا۔ چنانچہ ایسی اسکیمیں الاٹمنٹ کے باوجود یا تو غیر آباد رہیں یا پھر رفتہ رفتہ موقع پرست خانہ بدوشوں اور مقامی بااثروں نے ہتھیا لیں اور ایک نئی کچی بستی ظہور میں آ گئی۔

    ملک و قوم کا درد رکھنے والے کچھ بااختیار افسروں نے اپنے تئیں بھی تجربات کرنے کی کوشش کی مگر اوپر والوں کی سرپرستی نہ ملنے یا عدم دلچسپی کے سبب رہائشی تجربات کے ان سستے پودوں کو حوصلہ افزائی کا پانی نہ مل سکا۔مثلاً سندھ حکومت میں ایک افسر تھے تسنیم صدیقی۔ جب وہ ہاؤسنگ کے سیکریٹری بنے تو انھوں نے حیدرآباد اور جام شورو کے درمیان اور کراچی میں سرجانی ٹاؤن کے علاقے میں ’’ ِخدا کی بستی ‘‘ کے نام سے رہائشی اسکیم شروع کی۔ مستحق افراد کو سرکاری ریٹ پر اسی مربع گز تک کے رہائشی پلاٹ اس شرط پر دیے گئے کہ دس برس کے اندر گھر بناؤ گے تو مالکانہ حقوق کے کاغذات ملیں گے۔ یہ پابندی اس لیے لگائی گئی کہ کہیں بے چھت غریب چار نقد پیسوں کے لالچ میں پلاٹ کسی غیر مستحق کو بیچ کر آگے نہ نکل لیں۔ اسکیم خاصی حد تک کامیاب بھی رہی مگر پھر آس پاس چائنا کٹنگ کا جنگل اگنا شروع ہو گیا۔ 

    کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( کے ڈی اے ) ٹاؤن پلاننگ کا زمہ دار اور فعال ادارہ تھا اور اس نے شروع شروع میں بالکل اسی طرح رہائشی اسکیمیں متعارف کرائیں جو طریقہ بعد میں سی ڈی اے نے اختیار کیا۔ ان رہائشی اسکیموں سے سفید پوش و ملازمت پیشہ طبقات کو اچھا خاصا فائدہ پہنچا۔ تاہم اس سلسلے کا آخری منصوبہ اسکیم تینتیس کے نام سے چالیس برس پہلے بنایا گیا۔ اسکیم تینتیس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ یہ ایشیا کی سب سے بڑی ہاؤسنگ اسکیم ہو گی۔ مگر کے ڈی اے نے خود پلاٹ دینے کے بجائے نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بڑے بڑے قطعاتِ اراضی الاٹ کر دیے۔ کچھ سوسائٹیاں پھل پھول گئیں کچھ سوکھ گئیں اور اسکیم تینتیس آدھا تیتر آدھا بیٹر ہو کر شکم پروری کا سامان ہو گئی۔ کے ڈی اے بھی اس دوران سرکاری اداروں میں ضم ہو گئی اور ملیر اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹیز وجود میں آ گئیں۔

    ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی بہت پہلے سے موجود تھی۔ اس کی دیکھا دیکھی دیگر ہم پلہ اداروں نے بھی اپنی بے کار زمینوں کو کمرشلانا شروع کر دیا۔ مختصر یہ کہ کراچی سمیت پورے ملک میں سرکار نے رفتہ رفتہ چھت فراہم کرنے کے کاروبار سے بھی ہاتھ اٹھا لیا اور یہ سیکٹر مکمل طور پر کارپوریٹ بلڈرز اور مقتدر اداروں کے ہاتھ میں آ گیا۔ نوے کی دہائی میں نئی ’’گریٹ پلاٹ گیم ’’ مڈل کلاس ہاؤسنگ سے شروع ہو کر اشرافیہ کی گیٹڈ کمیونٹی پر ختم ہو گئی۔ غریب درمیان میں سے خود ہی نکل گیا کیونکہ پلاٹ پہلے صرف زمین کا ٹکڑا تھا اب سیاسی لیور ہے ، شطرنج کا مہرہ ہے ، سٹے کی بازی ہے اور لاکھوں لوگوں کی محرومی کی بساط پر بچھائی گئی اس گیم میں کچھ لوگوں کے لیے اس قدر منافع ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کا دھندا بھی پانی بھرے۔

    ایک انتہا یہ کہ بظاہر ریاست سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو سرکاری زمین مارکیٹ ریٹ کے مقابلے میں کوڑیوں کے دام بخش دی جاتی ہے۔ دوسری انتہا یہ کہ ملک کا سب سے بڑا شہر اور ترقی کا انجن جہاں چند برس پہلے کسی بے گھر کو پناہ دینے کے لیے کچی آبادیاں بھی کافی تھیں اب ان کا حوصلہ بھی شائد ختم ہو چکا ہے اور رات کو شہر کی فٹ پاتھوں پر لوگ سوتے ہوئے مل جائیں گے۔یعنی کراچی شنگھائی بنے نہ بنے ممبئی ضرور بن رہا ہے۔ اس تناظر میں عمران حکومت کی جانب سے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا فیصلہ ایک اچھا آغاز ہے۔بس کچھ چیزوں کا دھیان رکھئے گا۔ ڈزائیننگ اورتعمیراتی ٹینڈرز صرف سستے یا شفاف نہیں بلکہ قابلِ عمل اور پائیدار بھی ہونے چاہئیں۔ ایک پاکستانی خاندان اوسطاً چھ افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔

    پچاس لاکھ ہاؤسنگ یونٹوں کا مطلب ہے کہ ان میں تین کروڑ لوگ بسیں گے۔ ان تین کروڑ لوگوں کو پانی ، بجلی ، گیس ، سڑک ، پارک ، اسکول ، اسپتال اور ٹرانسپورٹ بھی درکار ہو گی۔ اگر واقعی یہ دیوہیکل مشین چل پڑے تو جتنے ان پچاس لاکھ مکانات میں رہیں گے اتنے ہی ان کے طفیل مختلف تعمیراتی و زیلی منصوبوں کے زریعے روزگار بھی پا لیں گے۔ یوں ایک کروڑ نوکریوں کے وعدے میں سے کم ازکم آدھا تو پورا ہو ہی جائے گا۔ بس ایک احتیاط کیجیے۔عجلت مت کیجیے۔ اتنی بڑی تعمیراتی اسکیم شروع کرنے سے پہلے سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے تجربات سے ضرور کچھ سیکھ لیجیے۔ ورنہ انتہائی خوش نیتی سے شروع ہونے والی اسکیم کو سستی روٹی اسکیم بنتے ہوئے دیر تھوڑا لگتی ہے۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود بجلی چوری اور ترسیل کے نظام میں نقائص کی وجہ سے بحران برقرار ہے اور گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ایک بار پھر معمول بن چکی ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور قومی معیشت کو سالانہ 5.8 ارب ڈالر نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد کے مساوی ہے۔ پاکستان میں 97.5 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت دستیاب ہے۔ بجلی صارفین نہ صرف ماہانہ استعمال شدہ بجلی کا بل جمع کرواتے ہیں بلکہ لائن لاسز کی مد میں بھی اُنہیں حکومتی خزانے میں پیسے جمع کروانے پڑتے ہیں جو ان کے ساتھ کھلی نا انصافی ہے کیونکہ لائن لاسز کے ذمہ دار صارفین نہیں بلکہ بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیاں ہیں۔

    این ٹی ڈی سی کا بجلی کا ترسیلی نظام اربوں روپے لگانے کے با وجود اوور لوڈ ہو چکا ہے اور اِس وقت ملک بھر کی بجلی ترسیلی کمپنیوں کا مجموعی لائن لاس 141.85 ملین یونٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ پنجاب میں لیسکو، سندھ میں سیپکو، کے پی میں پیسکو اور بلوچستان میں کیسکو لائن لاسز میں سر فہرست ہیں۔ اس وقت بجلی تقسیم کے نظام میں 500kv کے چودہ، 220kv کے اُنتالیس، 132kv کے چھ سو چھپن اور 66kv کے ایک سو چار گرڈ اسٹیشن موجود ہیں۔66kv کے گرڈ اسٹیشن غیر موثر ہونے کی وجہ سے لائن لاسز کا سبب بنتے ہیں، جنہیں فوری طور پر بند کر دینا چاہئے۔

    عالمی بینک کی الیکٹریفیکیشن اینڈ ہائوس ہولڈ ویلفیئر ریسرچ رپورٹ کے مطابق بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنا کے اور اسکی تقسیم و ترسیل کے نقصانات پر قابو پا کر قومی معیشت کو سالانہ چھ ارب ڈالر کے نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بجلی کی ترسیل، تقسیم اور لائن لاسز پر قابو پانے کیلئے توانائی کے شعبہ میں بنیادی اصلاحات کی جائیں تاکہ صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیساتھ ساتھ توانائی کی قیمت اور ادائیگی کے مسائل بھی ختم کیے جا سکیں ۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    پاکستانی سالانہ 200 ارب روپے مالیت کے سگریٹ دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں، اس بات کا انکشاف سرکاری دستاویزات میں کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی سالانہ 80 ارب سگریٹ پی جاتے ہیں جس سے حکومت کو سالانہ 89 ارب روپے ٹیکس وصول ہوتا ہے جبکہ غیر قانونی طریقے سے بننے والے سگریٹ یا اسمگلنگ کی وجہ سے حکومت کو ٹیکس کی مد میں سالانہ 30 ارب روپے کے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں سگریٹ کے 2 بڑے کارخانے سالانہ 17 ارب روپے کا منافع کماتے ہیں۔
     


    0 0

    قلعہ روہتاس کے بارہ دروازے ہیں۔ ان کی تعمیر پتھر کی سلوں سے ہوئی ہے۔ دروازوں کی تعمیر جنگی حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر کی گئی تھی۔ یہ دروازے فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ ان دروازوں میں ہزار خوانی دروازہ، خواص خوانی دروازہ، موری دروازہ، شاہ چانن والی دروازہ، طلاقی دروازہ، شیشی دروازہ، لنگر خوانی دروازہ، کابلی (یا بادشاہی) دروازہ، گٹیالی دروازہ، سہیل دروازہ، پیپل والا دروازہ اور گڑھے والا دروازہ شامل ہیں۔ قلعے کے مختلف حصوں میں اس کے دروازوں کو بے حد اہمیت حاصل تھی اور ہر دروازے کا اپنا مقصد تھا۔ سہیل دروازہ بہت خوبصورت ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ قلعے کا داخلی دروازہ تھا۔ اس کا نام مقامی صوفی سہیل بخاری کے نام پر رکھا گیا۔ یہ 70 فٹ اونچا اور 68 فٹ چوڑا ہے۔ 

    قلعے کے دوسرے حصوں میں فارس اور افغان فن تعمیر کو اپنایا گیا ہے لیکن اس دروازے کے دونوں جانب موجود بالکونیاں ہندی فن تعمیر کے مطابق ہیں۔ اسی طرح کی بالکونیاں حویلی مان سنگھ میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ شاہ چانن والی دروازے کا نام ایک صوفی کے نام پر رکھا گیا ہے جو یہاں کام کے دوران فوت ہو گئے۔ ان کا مزار دروازے کے قریب بنا۔ کابلی دروازہ اسی جانب کھلتا ہے جس جانب کابل ہے۔ اس دروازے کے ساتھ شاہی مسجد بھی ہے۔ ہزار خوانی اہم دروازہ ہے۔ طلاقی دروازے سے شیر شاہ کے دور میں ہاتھی داخل ہوتے تھے۔ طلاقی دروازے کو منحوس دروازہ سمجھا جاتا تھا۔ شیشی دروازے کو شیشوں اور چمکتی ٹائلوں سے تیار کیا گیا تھا۔ لنگرخوانی لنگر کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    گٹیالی دروازے کا رخ چونکہ گٹیال پتن کی طرف ہے۔ اس لیے اسے یہ نام دیا گیا۔ بارہ دروازوں میں سے ایک یعنی لنگر خوانی دروازہ براہ راست جنگی علاقے میں کھلتا تھا اور یہ دشمن کی فوجوں کے لیے ایک طرح کا جال تھا۔ اس دروازے سے گزر کر اندر آنے والا شخص فصیل کی برجیوں پر مامور محافظوں کے براہ راست نشانے پر آ جاتا تھا۔ اسی طرح خواص خوانی دروازہ دہرا بنایا گیا تھا۔ مغربی سمت ایک چھوٹی سی ’’ریاست‘‘ علیحدہ بنائی گئی تھی، جو چاروں جانب سے دفاعی حصار میں تھی۔ اس کے اندر جانے کا صرف ایک دروازہ تھا۔ اس چھوٹی سی ریاست کے بلند ترین مقام پر راجا مان سنگھ کی حویلی تھی، جو مغل شہنشاہ اکبر اعظم کا سسر اور اس کی فوج کا جرنیل تھا۔

    قلعہ روہتاس کا سب سے قابلِ دید، عالیشان اور ناقابل شکست حصہ اس کی فصیل ہے۔ اس پر 68 برج، 184 برجیاں اور ہزاروں کگرے اور سیڑھیاں ہیں، جو فن تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ اس کے برج صرف فصیل کی خوب صورتی ہی میں اضافہ نہیں کرتے بلکہ یہ قلعے کے مضبوط ترین دفاعی حصار میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فصیل کی چوڑائی بہت زیادہ ہے۔ فصیل کے چبوترے سیڑھیوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ فصیل تین منزلوں میں دو یا سہ قطاری تعمیر کی گئی تھی۔ سب سے بلند ترین حصہ کنگروں کی صورت میں تعمیر کیا گیا۔ چبوتروں کی چوڑائی تین فٹ سے زیادہ ہے اور یہ تیر اندازوں اور توپچیوں کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ ان کی بلندی مختلف تھی۔ یہ کنگرے صرف شاہی فوجوں کو دشمن سے تحفظ ہی فراہم نہیں کرتے تھے بلکہ ان سے دشمنوں پر پگھلا ہوا سیسہ اور کھولتا ہوا پانی بھی انڈیلا جاتا تھا۔

    معرو ف آزاد


     


    0 0

    پاکستان کے شہر کراچی کے سول ہسپتال کا سرد خانہ لاشوں سے بھر چکا تھا، باہر سٹریچر پر بھی درجن سے زائد لاشیں موجود تھیں جو سفید چادروں سے ڈھکی ہوئی تھیں، ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے اور ایک لاش کے چہرے سے کپڑا ہٹ جاتا ہے، قریب موجود ایک خاتون کی نظر جیسے ہی اس پر پڑتی ہے تو ’وہ میرا ایان‘ کہہ کر اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ اس طرح سعیدہ بی بی کی گذشتہ 12 گھنٹے سے جاری تلاش ختم ہوتی ہے۔ 18 سالہ اعجاز احمد عرف ایان ان 259 مزدوروں میں شامل تھے جو 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ میں واقع علی انٹرپرائیز فیکٹری میں آتشزدگی میں جھلسنے اور سانس گھنٹے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

    ’امی آج وہ تنخواہ نہیں دے رہے‘: آخری پیغام
    سعیدہ بی بی خود اس فیکٹری میں کام کرتی تھیں لیکن اچانک طبیعت خراب ہونے کے بعد جب ملازمت چھوڑی تو بیٹا اسی فیکٹری میں ملازمت کرنے لگا اور ساتھ میں پرائیوٹ طور پر نویں جماعت کے امتحانات کی بھی تیاری جاری رکھی۔ سعیدہ بی بی بتاتی ہیں کہ انہوں نے بیٹے کو ملازمت چھوڑنے کا کہا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ مزید ایک ہفتہ کام کرے گا ان دنوں رمضان ختم ہو چکا تھا اور انہیں عید پر بھی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ ’حادثے والے روز وہ صبح فیکٹری گیا تو دوپہر کو موبائل پر دو سطر کا پیغام آیا کہ امی آج وہ تنخواہ نہیں دے رہے کل کا بتا رہے ہیں، میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔‘

    ’چھ برس سے چولھا نہیں جلایا‘
    سعیدہ بی بی نے گذشتہ 6 برسوں میں ایک روز بھی کھانا نہیں بنایا اور زیادہ تر باہر کا کھانا کھاتی ہیں بقول ان کے ایان جیسے ہی دروازے میں داخل ہوتا پہلا سوال یہ کرتا کہ امی کھانا بن گیا ؟ ’اس روز میں نے سالن بنا لیا تھا جبکہ چاول چولہے پر تھے، اسی دوران میری والدہ داخل ہوئیں اور کہا کہ ٹی وی دیکھو ایان جس فیکٹری میں کام کرتا ہے اس میں آگ لگی ہے، ان کا اتنا بولنا تھا میں نے چولہا بند کر دیا اور علی انٹرپرائز پہنچی۔ اس روز کے بعد میں نے کبھی چولہا نہیں جلایا بڑی کوشش کرتی ہوں کہ اکیلی ہوں کچھ بنا لوں باہر کا کھانا طبیعت خراب کرتا ہے لیکن ہمت اور طاقت نہیں ہوتی۔ اعجاز عرف ایان سعیدہ بی بی کی واحد اولاد تھا، ابھی وہ دو سال کا ہی تھا تو والد انتقال کر گیا، سیعدہ بی بی کے مطابق انہوں نے ایسے بڑی مشکل سے پالا تھا۔

    سعیدہ بی بی جب علی انٹرپرائیز کے باہر پہنچیں تو فیکٹری سے شعلے بلند ہو رہے تھے جبکہ فائربریگیڈ کی ایک گاڑی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی اور ایک واپس جا رہی تھی، ان کے بقول وہ چیختی چلاتی رہیں اور بیٹے کو موبائل پر کال بھی کی لیکن کوئی جواب نہیں آ رہا تھا، اس کے بعد انہوں نے گیٹ سے اندر جانے کی کوشش کی تو انہیں جانے نہیں دیا گیا۔ وہ ہر ایمبولینس کے پیچھے دوڑتی رہیں تو انہیں سول اور عباسی ہسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا کہ وہاں جا کر تلاش کرو۔ ’میں فیکٹری سے سول ہپستال گئی وہاں مردہ خانہ دیکھا اس کے بعد عباسی ہسپتال آئی اس وقت تک رات کے ڈھائی بج چکے تھے لیکن میرے بیٹے کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا، میں روتی ہوئی گھر لوٹی اور نماز ادا کر کے سول ہسپتال روانہ ہوئی وہاں بھی ڈھونڈتی رہی بلآخر مردہ خانے کے باہر لاش ملی۔

    ’بیٹے کے درد کو طاقت بنا لیا‘
    سعیدہ بی بی کی صرف ماں اور ایک بہن حیات ہیں دوسرا کوئی نہیں، 12 ستمبر 2012 کی شام سعیدہ بی بی کے پڑوس سے سترہ جنازے اٹھے، ہر گھر میں صف ماتم بچھی ہوئی تھی لوگوں نے ایک دوسرے کا غم بانٹا اور یوں ایک دوسرے کا سہارا بنے، سعیدہ بی بی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹے کے درد کو طاقت بنا لیا۔
    ’متاثرہ خاندانوں کو کبھی کہاں بلایا جا رہا تھا کبھی کہاں لیکن کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو رہی تھی میں نے سوچا متاثرہ خاندانوں کو ڈر و خوف سے نکالنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے بچے تو چلے گئے وہ واپس واپس نہیں آئیں گے لیکن جو دیگر غریب مزدور بچے ہیں ان کے ساتھ بھی کچھ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر فیکٹری میں مسائل ہیں۔ ہم نے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور سے ملاقات کی انہوں نے اپنی تنظیم بنانے کا مشورہ دیا جس کے بعد ہم نے علی انٹرپرائز متاثرین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔‘

    عدالت اور جرمنی سے کامیابی
    سعیدہ بی بی نے پاکستان انسٹیٹوٹ آف لیبر ایجوکیشن اور دیگر تنظیمیوں کی معاونت سے سندھ ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے توسط سے تین مقدمات دائر کیے جن میں پینشن، سوشل سکیورٹی اور ڈیتھ گرانٹ کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا، اس کے علاوہ احتجاج کا سلسلہ بھی جاری رکھا گیا۔ ’یہ تینوں مقدمات ہم جیت گئے اس طرح ہماری ہمت اور طاقت بڑھتی گئی اور دیگر لوگ بھی شامل ہوتے گئے، اس کے بعد ہم نے علی انٹرپرائز سے ملبوسات کی خریدار جرمنی کی کمپنی ’کک‘ اور اٹلی کی کمپنی ’رینا‘ کے خلاف مقدمہ درج کرایا، رینا نے علی انٹرپرائز کو آڈٹ سرٹیفیکیٹ دیا تھا اس آڈٹ کے 20 روز کے بعد یہ حادثہ ہوا تھا۔ سعیدہ بی بی علی انٹرپرائیز کے متاثرین کا مقدمہ لیکر نیپال کانفرنس میں گئیں جہاں انہیں 50 ممالک کی مزدور تنظیمیوں نے ساتھ کی یقین دہانی کرائی، اس کے بعد جرمنی میں کک کے خلاف لابنگ کی، جہاں مزدور تنظیموں، صحافیوں، ارکانِ پارلیمان نے انہیں سپورٹ کیا اور وہ وہاں سے مقدمہ جیت کر واپس آئیں۔ کک کمپنی نے متاثرین کو معاوضہ ادا کیا۔

    ’سبق نہیں سیکھا‘
    علی انٹرپرائز میں آگ لگی یا لگائی گئی؟ تین مشترکہ تحقیقات ہو چکی ہیں جبکہ پولیس اسے آگ کو بھتہ خوری کا نتیجہ قرار دے چکی ہے، متاثرین خاندان کے وکیل فیصل صدیقی پولیس تحقیقات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جو شواہد دیکھیں ہیں ان میں یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ آگ لگائی گئی تھی۔
    ’فیکٹری کی جو صورتحال اور انتظام تھے وہ آگ کی وجہ بنے، بعد میں ظالم کو مظلوم بنا دیا گیا۔ اگر تحقیقات میں یہ کہا جاتا کہ آگ لگی تھی تو تمام فیکٹریوں کا معائنہ ہوتا لیکن اس سے بچنے کے لیے بھتہ خوری کا رنگ دیا گیا۔‘ مزدور رہنما کا کہنا ہے کہ بلدیہ فیکٹری کے واقعے سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا معائنے کا نظام بہتر ہوا اور نہ ہی مزدوروں کے تحفظ کے انتظامات کے لیے اقدامات اٹھائے گئے۔ سعیدہ بی بی بھی کہتی ہیں کہ فیکٹری میں حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن جب تک وہ زندہ ہیں آواز اٹھاتی رہیں گی، اس جدوجہد کے دوران انہیں اپنا گھر تک چھوڑنا پڑا لیکن وہ دباؤ برداشت کرتی آئی ہیں۔

    بشکریہ بی بی سی اردو

     


    0 0

    ایسا لگتا ہے کہ فیس بک کی جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکنے کی کوششیں
    رنگ لانا شروع ہو گئی ہیں۔ امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور نیویارک یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 2016 کے امریکی انتخابات اور جولائی 2018 کے درمیان فیس بک انگیج منٹ یعنی صارفین کی جانب سے اس پلیٹ فارمز پر پوسٹ کیے جانے والے مضامین کو شیئر، لائیک اور کمنٹس کرنے کی شرح میں 50 فیصد کی ڈرامائی کمی آئی ہے۔ محققین نے اس مقصد کے لیے 570 ویب سائٹس کا ڈیٹا استعمال کیا جن کے مواد کو مختلف ذرائع جیسے فیکٹ چیک اور بزفیڈ وغیرہ نے جعلی قرار دیا تھا۔

    اسی طرح صارفین کی فیس بک انگیج منٹ کا ڈیٹا جمع کرنے والی کمپنی بز سومو کے ڈیٹا کو بھی دیکھا گیا اور معلوم ہوا کہ فیس بک صارفین کی انگیج منٹ رواں سال جولائی مجموعی طور پر 7 کروڑ تھی جبکہ 2016 میں ماہانہ انگیج منٹ 20 کروڑ سے زائد تھی۔ محققین نے دریافت کیا کہ فیس بک اپنے الگورتھم کو ہر وقت بدلتی رہتی ہے تاکہ جعلی خبروں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ تحقیق کے دوران مستند نیوز، بزنس اور کلچرل ویب سائٹس کا جائزہ بھی لیا گیا اور محققین کا کہنا تھا کہ ان ویب سائٹس پر صارفین کی انگیج منٹ کے حوالے سے فیس بک کی تبدیلیوں سے کچھ زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

    تاہم فیس بک کے مقابلے میں ٹوئٹر جعلی خبروں کی روک تھام میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آتی۔ اسی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جعلی خبروں پر انگیج منٹ اگر 2016 میں 40 لاکھ تھی تو وہ 2018 میں 60 لاکھ تک پہنچ گئی۔ مگر محققین کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ مارک زکربرگ اور ان کی کمپنی جعلی خبروں کے خلاف جدوجہد پر درست سمت میں ہو مگر انگیج منٹ کے نمبر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اسے مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یقیناً جعلی خبروں والی پوسٹس پر انگیج منٹ گزشتہ 2 سال میں کم ہوئی ہے مگر اب بھی فیس بک کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے مقابلے میں جعلی خبریں پھیلانے میں سب سے آگے ہے۔
     


    0 0

    اسلام آباد میں پاکستان اور برطانیہ نے انصاف اور احتساب اعلامیے پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے مطابق ملزمان کی حوالگی سے متعلق دوبارہ کام شروع ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر مملکت شہریار آفریدی سے برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید کی ملاقاتوں کے بعد مذکورہ اعلامیے پر دستخط کئے گئے۔ منی لانڈرنگ کے تدارک کیلئے دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔ برطانوی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کا نام نکالنے میں بھی مدد کریں گے۔ 

    پاکستان بلاشبہ سورۃ رحمٰن کی تفسیر ہے کہ ’’تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائو گے؟‘‘ اللہ رب العزت نے ہمیں ہر اس شے سے نوازا جو بنی نوع انسان کی ضرورت ہے۔ دنیا کی بہترین زرعی زمینیں، دریا، برف پوش پہاڑ، بے شمار قسم کے پھل، معدنیات کے ذخائر اور بہترین محل وقوع۔ اس کے باوجود وطن عزیز اگر آج مقروض ہے تو اس کی وجہ سوائے بدعنوانی کے اورکوئی نظر نہیں آتی۔ اقتصادیات کا بنیادی اصول ہے کہ پیسہ خواہ چند ہاتھوں میں ہو لیکن گردش میں رہے تواس کے فوائد سبھی کو ملتے ہیں۔

    شرمناک بلکہ المناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں خزانے کو لوٹنے والوں نے یہ پیسہ ملک میں رکھنے کے بجائے غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانا شروع کر دیا اور ان ممالک کے بینکوں اور اقتصادی استحکام کا باعث بنے۔ اسے عرف عام میں منی لانڈرنگ کہا جاتا ہے۔ صرف دبئی سے اگر پاکستانی اپنا پیسہ واپس لے آئیں تو اس کی معیشت ہل کر رہ جائے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوئس بینکوں، مشرق بعید مثلاً بنگلہ دیش، ملائیشیا اوریورپ میں کتنا پیسہ ہو گا؟ کوئی شک نہیں کہ اگر دوسرے ملکوں میں جائز یا ناجائز طریقے سے لے جایا گیا پیسہ واپس آ جائے تو نہ صرف پاکستان کےقرضے ختم ہو جائیں گے بلکہ پاکستان خود کفیل بھی ہو جائے گا۔ پاکستان اوربرطانیہ کےمابین معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ امید ہے کہ پاکستان دوسرے ملکوں سے بھی ایسے ہی معاہدے کر کے ملکی دولت واپس لائے گا اور اقتصادی طورپر مستحکم ہو گا۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    کئی سیاسی مبصرین کے خیال میں اس رہائی کے نتیجے میں ملک ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کی طرف بڑھ سکتا ہے جب کہ کچھ کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیں گے۔ واضح رہے کہ نواز شریف نے معزول ہونے کے بعد بڑے بڑے جلسے کیے تھے، جس میں انہوں نے ملک کی طاقتور ترین اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان میں کئی ناقدین کا خیال ہے کہ ان کے اس رویے کی وجہ سے ہی انہیں سزا دی گئی تھی۔ مسلم لیگ نون اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو فتح سے تعبیر کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما مشاہد اللہ خان نے اس رہائی پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ انصاف کی فتح ہے۔ ماضی میں بھی عدالتوں سے غلط فیصلے کرائے گئے، جیسے کہ بھٹو کی پھانسی لیکن ایسے فیصلے اب تاریخ کے کچرا خانے میں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اب کچھ سیکھا بھی جائے گا یا نہیں۔‘‘

    مسلم لیگ اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ نواز شریف خاموش نہیں بیٹھے گے اور وہ سیاسی سر گرمیوں میں بھر پور انداز میں حصہ لیں گے۔ پارٹی کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ نون لیگ کی رہنما عظمیٰ بخاری نے اس مسئلے پراپنا موقف دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر ڈیل کرنی ہوتی تو میاں صاحب کو اتنی پریشانیاں اور مشکلات اٹھانے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کی ضرور ت تھی۔ ابھی ان کی رہائی ہوئی ہے۔ ہزاروں لوگ تعزیت کے لیے آرہے ہیں۔ پہلے میاں صاحب ان سے ملیں گے۔ بعد میں پارٹی ان کی سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے فیصلہ کرے گی لیکن وہ ہر حالت میں جلسے، جلوس بھی کریں گے اور انٹرویوز وغیرہ بھی دیں گے۔ وہ خاموش نہیں بیٹھے گے۔‘‘

    میاں صاحب کے قریب رہنے والے افراد بھی یہی سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب خاموش نہیں رہیں گے لیکن کچھ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کی جارحانہ سیاست سے ملک میں کشیدگی بڑھے گی۔ پی ٹی آئی کے رہنما ظفر علی شاہ نے جو ماضی میں میاں صاحب کے بڑے قریب رہے ہیں، اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میرا تجزبہ یہ کہتا ہے کہ میاں صاحب فوج اور عمران کے خلاف محاذ بنائیں گے۔ اچکزئی، اسفندیار ولی اور دوسرے اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست دانوں کو اپنے ساتھ ملائیں گے۔ ایسی صورت میں فوج بھی خاموش نہیں بیٹھے گی اور ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھے گی۔‘‘

    اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ایوب ملک کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر مزاحمت کی سیاست شروع کریں گے: ’’نواز شریف کو معلوم ہے کہ ان کی سیاسی بقاء مزاحمت میں ہے۔ میرے خیال میں وہ سویلین برتری کے لیے ایک بار پھر جدوجہد کریں گے اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جمہوری قوتوں کو متحد کریں گے۔ جس سے طاقتور حلقے ناراض ہوں گے اور سیاسی کشیدگی بڑھے گے۔‘‘ تاہم لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار احسن رضا کے خیال میں نواز شریف ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملا لیں گے: ’’میرے خیال میں میاں صاحب فوری طور پر ایسی مخالفانہ سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ تاہم وہ انتظار کریں گے کہ عمران اور فوج میں اختلافات ہوں، جو آج نہیں تو کل ہونے ہی ہیں۔ پھر وہ عمران کے خلا ف محاذ بنائیں گے اور ممکنہ طور پر اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملائیں گے۔ جیسا کہ انہوں نے ماضی میں پی پی پی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملایا تھا۔‘‘

    بشکریہ DW اردو

     


older | 1 | .... | 140 | 141 | (Page 142) | 143 | 144 | .... | 149 | newer