Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 139 | 140 | (Page 141) | 142 | 143 | .... | 149 | newer

    0 0

    ڈچ سیاستدان گیئرٹ وِلڈرز نے پیغمبر اسلام کے خاکوں پر مبنی مقابلے کا انعقاد منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق یہ پاکستانی حکومت کی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ گیئرٹ وِلڈرز کی طرف سے اس مقابلے کی منسوخی کے اعلان کے بعد دائیں بازو کی مذہبی جماعت تحریک لبیک نے بھی احتجاجی مارچ منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ گزشتہ روز تحریک لبیک کے ہزاروں کارکنوں نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کر دیا تھا۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق تحریک لیبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کی قیادت میں دارالحکومت اسلام آباد میں اُس وقت داخل ہونے والے تھے جب ڈچ سیاستدان کی طرف سے مقابلے کی منسوخی کا اعلان سامنے آیا۔ 

    اس جماعت کے ایک رہنما پیر افضل قادری نے اس مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پیر افضل قادری کا کہنا تھا، ’’یہ ہماری فتح ہے۔ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ ہم نے کافروں کو اپنے پیغمبر کی بے حرمتی سے روک دیا ہے۔‘‘ تحریک لبیک کے رہنما اور کارکنان اسلام آباد میں اُسی مقام پر دھرنا دینے کا منصوبہ رکھتے تھے جہاں انہوں نے گزشتہ برس طویل دھرنا دیا تھا۔ اُس وقت کے وزیر قانون کی طرف سے ملک میں توہین مذہب میں تبدیلی کی مبینہ کوشش کے بعد اس جماعت نے کئی ہفتوں تک دارالحکومت کے اس علاقے کو بلاک کیے رکھا تھا۔ 

    انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ڈچ سیاست دان گیئرٹ وِلڈرز کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خاکوں پر مشتمل مقابلے کے انعقاد کے منصوبہ کی منسوخی کے کئی گھنٹے بعد پاکستانی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اسے ’’پاکستانی حکومت اور عوام‘‘ کی ایک عظیم کامیابی قرار دیا۔ چوہدری کی طرف سے اُردو میں جاری ہونے والی ٹوئیٹ میں لکھا گیا، ’’پیغمبر کے لیے محبت زندہ باد‘‘۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایک ویڈیو پیغام میں مسلمانوں کے احساسات کے حوالے سے یورپ کی بے حسی کی مذمت کی تھی۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ احتجاجی مارچ کے خاتمے سے قبل یہ پیغام بھی مظاہرین کے غم وغصے میں کمی کا باعث بنا۔ قبل ازیں پاکستانی پارلیمان نے بھی اس مقابلے کے خلاف ایک قرارداد منظور کی تھی جبکہ وزیر اعظم نے اس حوالے سے اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی اور اقوام متحدہ سے رابطوں کا اعلان کیا گیا تھا۔

    ا ب ا /ع ح (ڈی پی اے)

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ستمبر 2019ء تک کی مہلت دے دی ہے ۔ وزیرخزانہ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کیا اور بتایا کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو مزید ایک برس کی مہلت دے دی ہے اور جن خامیوں کی نشاندہی کی ہے ان پر 8 ستمبر کے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں غور کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے یا نہ جانے کا فیصلہ پارلیمنٹ میں بحث کےبعد کیا جائے گا، وعدہ کرتا ہوں کہ قرضوں میں کمی سے متعلق پلان 2 ہفتے میں پارلیمنٹ کے سامنے لائوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے 27 نشاندہی کی ہیں، ان میں کرنسی اسمگلنگ، حوالہ ہنڈی اور کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت شامل ہیں، اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نشاندہیوں کو زیر غور لانے کیلئے نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 8 ستمبر کو ہو گا، ایف اے ٹی ایف نے جو نشاندہی کی ہیں وہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہیں، کوئی وجہ نہیں کہ ہم ستمبر 2019 تک ایف اے ٹی ایف کی چیزیں پوری نہیں کر لیتے۔
     


    0 0

    ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی رجسٹریشن شروع ہو گئی جس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی آئی ووٹنگ کے ذریعے اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی فہرستوں میں رجسٹرڈ افراد ہی آئی ووٹنگ کے لئے رجسٹرڈ ہوں گےاور انہیں ‎نائیکوپ نمبر، ای میل اور دیگر تفصیلات درج کر کے سائن اپ کرنا ہو گا۔ آن لائن ووٹنگ سسٹم کے زریعے ای میل پر تصدیقی پن کوڈ موصول ہو گا، ‎ پن کوڈ کے اندراج پر ووٹر کو تصدیق کا تکمیلی پیغام بھیجا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ووٹنگ کے وقت ووٹر اپنا ای میل، پاس ورڈ درج کرے گا اور ‎تصدیقی سوالات کے جواب دینے پر نام آن لائن ووٹنگ کے لیے درج ہو جائیگا۔

    اس نظام کے تحت ‎سمندر پار ووٹر پاکستانی وقت کے مطابق صبح 8 تا شام 5 بجے ووٹ ڈال سکیں گے۔ طریقہ کار کے مطابق ‎ووٹر اپنے امیدوار کے نام کے بٹن کو پریس کرے گا اور کنفرم پر کلک کرے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ‎ متعلقہ حلقوں کے سمندر پار ووٹرز ہی اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سمندر پار پاکستانی 15 ستمبر کی رات 12 بجے تک رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
    ذرائع الیکشن کمیشن نے بتایا کہ نایئکوپ اور مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے حامل افراد ہی رجسٹریشن کروا سکیں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 17 اگست کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی فُل بینچ نے ضمنی الیکشن میں اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی تھی۔
     


    0 0


    Election Commission of Pakistan is starting online registration of overseas Pakistanis as voters from Today. The process will continue till 15th of September. The ECP here on Friday announced that those overseas Pakistani having valid Machine Readable Passport (MRP) and National Identity Card for Overseas Pakistanis (NICOP) would be eligible to cast their vote in by-election to be held in 37 constituencies on October 14, 2018. Spokesperson of ECP Nadeem Qasim in a media talk, said that all overseas Pakistanis of relevant constituencies could register their vote through online system from September 1 to September 15 as per Pakistan Standard time. The overseas Pakistanis could register themselves through these website www.ecp.gov.pk and www.overeasvoting.gov.pk in both languages i.e Urdu and English, he said. The concerned voter would insert the detail including name, NICOP number, email address, the name of foreign living country and mobile number. He would follow the instructions on the screen and to click the ‘sign-in’ button.

    The person would receive a pin code at the prescribed email address through this online voting system following which the voter would click on email to be sent for verification. For the verification of account, the voter would write his/her email address and receive pin code and to click the verification'' button. The voter would receive the message about the completion of process and he/she may log-in internet voting system by inserting email and password. The overseas Pakistanis could cast their vote from 8 a.m to 5 p.m on October 14, 2018 through the Internet Voting System (I-Voting System), launched by the ECP with the cooperation of National Database and Registration Authority (NADRA), he said adding that the ECP was performing its responsibility in the limit of law and the constitution. To a question, he said that irrelevant people could not access to I-Voting system, which is pilot project of ECP. In case of any controversy, the result of I-Voting would not be added in the said constituencies, he remarked.



    0 0

    نیت کا ثواب اپنی جگہ لیکن کفایت شعاری محض علامتی اقدامات سے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ ایک انفرادی و اجتماعی رویے اور رہن سہن کا نام ہے۔ ایک رضاکارانہ فعل جسے بالرضا اختیار تو کیا جا سکتا ہے کسی پر تھوپا نہیں جا سکتا۔ ایسے ہی جیسے کسی کو جبراً صادق و امین ، بے لوث اور دردمند نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر مار پیٹ کے ایسا کر بھی لیا جائے تو عموماً اس طرح کی کوششوں کا اختتام ریا کاری اور منافقت پر ہوتا ہے۔

    یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
    لوگ آسان سمجھتے ہیں کفایت کرنا

    جن متبرک ہستیوں اور اولیا کی ہم مثالیں دیتے ہیں انھوں نے سادگی و کفایت شعاری نہ اوڑھی نہ اختیار کی بلکہ یہ اوصاف تو ان کے اندر سے پھوٹے۔ اسی لیے ان کے اردگرد کے بہت سے اصحاب پر اثرانداز ہوئے اور جن پر اثرانداز نہیں ہوئے انھوں نے ملوکیانہ طرزِ زندگی اختیار کیا یا جاری رکھا۔ اورنگ زیب نے خود ٹوپیاں سیں مگر یہ حکم نہیں دیا کہ سب اس کی طرح ٹوپیاں سی کے گذارہ کریں ورنہ کھال میں سلوا دوں گا۔ متبرک تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اسراف کی حوصلہ شکنی پر دیا گیا۔ یعنی بنیادی ضروریات سے بڑھ کر جو بھی طرزِ زندگی بغرضِ نمود و نمائش اختیار کیا جائے اور سہولت عیاشی کی سرحد میں داخل ہو جائے تو اسراف ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ جو ریشم اور سونا پہنے گا وہ خود بخود قابلِ تعزیر ٹھہرے گا بلکہ یہ کہا گیا کہ ریشم اور سونا مردوں کو زیب نہیں دیتا۔ جو اشارہ سمجھ گئے انھوں نے ترک کر دیا۔ جنہوں نے ترک نہیں کیا انھوں نے حجت دلیل اور تاویل میں پناہ لی کہ صاحب ناپسند فرمایا گیا ہے حرام تو نہیں کہا گیا۔ اور جن اشیا کو حرام قرار دیا گیا ان سے بھی لوگوں نے سو فیصد کہاں پرہیز کیا۔ انھیں بھی حلال کرنے کے لیے دینی و دنیاوی اشرافیہ نے تاویلاتی راستے اور پگڈنڈیاں ڈھونڈنے کی کوشش کی۔

    مطلب کیا ہوا ؟ مطلب یہ ہوا کہ ریاست کا کام بس یہ گننا نہیں کہ کن نے پی، کن نے نہ پی، کن کن کے آگے جام تھا بلکہ ریاست کا کام یہ ہے کہ وہ جوابدہی کا ایک ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کرے جو رفتہ رفتہ خودکار و خود کفیل ہو جائے۔جوابدہی کے اس نظام کے آگے محتسب بھی سرِتسلیم خم کرے۔ جوابدہی کا یہ نظام استثنٰی کی زنجیر سے آزاد ہو۔ پاکستان کے موجودہ حالات و روایات کی روشنی میں اس نظام کو تحفظ دینے کے لیے ایک علیحدہ باب کے طور پر آئین کا حصہ بنایا جائے اور اس باب کے ڈھانچے میں ترمیم تب کی جائے جب مرکزی و صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت الگ الگ اس ترمیم کی منظوری دے اور سپریم کورٹ کی توثیق کے بعد صدرِ مملکت اس پر دستخط کریں۔ جب اس نظام کے طفیل قانون کی حکمرانی اور گڈگورننس چل پڑے اس کے بعد کسی کو کسی کا انفرادی طور پر گریبان پکڑنے یا عیب گنوانے کی ضرورت نہ ہو گی۔

    چونکہ یہ سب لکھنا اور کہنا آسان مگر کرنا مشکل ہے لہذا توجہ بٹانے اور خود کو اچھا ثابت کرنے کے لیے علامتی حرکتوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ سیکڑوں اسپتالوں کی حالت اور سروس کا معیار بہتر بنانا بظاہر کٹھن اور وقت طلب ہے لہذا اس سے بہتر اور کہیں آسان ہے کہ چند اور شو کیس اسپتالوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا جائے۔ پہلے سے موجود ہزاروں اسکولوں میں چار دیواری، ٹائلٹ ، پینے کا پانی ، معیاری کلاس روم فرنیچر ، لیب کی سہولت اور مینجیمنٹ بہتر کرنے کے کے لیے چونکہ پیسہ ، منصوبہ بندی اور ثابت قدمی کی قلت ہے لہذا وزیرِ اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان اور چند کالجوں کے سائن بورڈز پر یونیورسٹی لکھ دینا زیادہ بہتر ہے۔ واہ واہ بھی اور سب کو یہ کارنامہ دور سے نظر بھی آوے گا۔

    اندرونِ قصبہ و شہر ٹوٹی سڑکوں کی تعمیر ، گاؤں سے منڈی تک پکی سڑک کون دیکھے گا ، موٹر وے بنا دو ترقی کا ڈنکا پٹ جائے گا۔ ماضی گواہ ہے کہ بیورو کریٹس اور جنرلوں کی گاڑیوں کے بیڑے کم کرنا خوامخواہ کی محاذ آرائی مول لینا ہے۔ لہذا سائیکل پر دو تین روز اپنی اینکسی سے دفتر جاتے ہوئے میڈیا میں ہلا گلا کروا لو۔ لو جی ہو گئی کفائیت شعاری۔ اشرافیہ کی پارٹیوں کو تو لگام نہیں دی جا سکتی مگر شادیوں میں ون ڈش کی پابندی اور سستے تندور کی خبر تو بن ہی سکتی ہے۔ واٹر مافیا پر کون ہاتھ ڈالے ، نہروں اور نالوں کو پکا کون کروائے۔کیوں نہ ایک اور ڈیم کا سنگ بنیاد رکھ دیں تاکہ کہنے کو تو ہو کہ ہم پانی کی قلت سے غافل نہیں۔ جنگلات کی کٹائی اور اربوں روپے کی ٹمبر بلیک مارکیٹ پر ہاتھ کیسے ڈالیں۔ اس سے کہیں آسان ہے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ۔ لینڈ مافیا کے سانڈ کو سینگوں سے پکڑنے سے کہیں سہل ہے کہ چند شہروں میں ایک اور آشیانہ ٹائپ اسکیم ، کم آمدنی والوں کی پانچ مرلہ کالونیوں یا پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلان سے جی خوش کر دیا جائے۔ 

    حالانکہ اس سے کہیں آسان ہے کہ مصدقہ غریبوں کو سبسڈائیزڈ ریٹس پر پلاٹ دے کر انھیں مالکانہ حقوق کی دستاویزات دس برس بعد اس شرط پر حوالے کی جائیں کہ اس عرصے میں تعمیر نہ ہوئی تو پلاٹ واپس لے لیا جائے گا۔ حکومت کا کام پلاٹ بانٹنا نہیں پلاٹ تک رسائی کا راستہ کھولنا ہے۔ مگر اس راہ میں لیٹے اژدھوں سے کون لڑے ؟ یہ بات سمجھ میں آنے والی ہے کہ بائیس کروڑ کا ملک چلانا آسان نہیں اور نہ ہی ریاست کے کسی ایک ادارے کے بس کی بات ہے۔ یہ بات بھی قابلِ فہم ہے کہ فی الحال کوئی بھی سویلین حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ ہاتھیوں سے گنا چھین سکے اور فصل کا اجاڑا روک سکے۔ لیکن کم ازکم یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ جو شعبے پلاننگ، ایفیشنسی اور جوابدہی کے جیسے کیسے نظام کو حرکت میں لانے سے ٹھیک ہو سکتے ہیں انھیں بیک وقت ٹھیک کرنے کا جوش دکھانے کے بجائے کسی ایک ، دو یا تین شعبوں پر پورا دھیان لگا دیا جائے۔

    جیسے ٹیکسیشن ، جیسے صنعتی ترغیبات اور مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کا کم ازکم تحفظ ، جیسے ہنرمندانہ تعلیم تک نئی پیڑھی کی رسائی ، جیسے چھوٹے کاروبار کے لیے خواتین کو قرضوں کی فراہمی، رہنمائی اور قرضے کی واپسی کے بعد ایک اور بڑے آسان قرضے کی ترغیب ، جیسے کوالیفائیڈ ججوں کی خالی آسامیاں ترجیحی بنیاد پر میرٹ کے ذریعے پر کرنے کا کام۔ نئی حکومت کے حلف اٹھاتے ہی پنج سالہ کلاک کی ٹک ٹک شروع ہو چکی ہے۔ یا تو پورا وقت رومن حکمرانوں کی طرح رعایا کو کھیل تماشوں میں کھپا کے گذار دیجیے یا پھر کچھ ایسا کر جائیے کہ اگلی بار ہر ایک کو پکڑ پکڑ کے وضاحتیں نہ دینی پڑیں کہ ہم تو یہ بھی کرنا چاہتے تھے ، وہ بھی کرنا چاہتے تھے مگر ، اگر ، فلاں ، یعنی ، چونکہ ، بہرحال ، گویا۔ سادگی و کفایت شعاری کے چکر میں مت پڑئیے۔ کام پر لگئے۔ جتنا ہو گیا سب کو نظر آ جائے گا۔ نہ ہو سکا تو وہ بھی نظر آجائے گا اور کیوں نہیں ہو پایا وہ بھی نظر آ جائے گا۔ اس بارے میں جنتا بہتر برس میں فل ایکسپرٹ ہو چکی ہے۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    اسی ماہ پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشقیں ہوں گی، جس کی تجویز روسی صدر پوٹن نے دی تھی۔ روسی صدر پوٹن کا اب بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف جھکاؤ ہے، روسی صدر کی طرف سے دورہ پاکستان کا منصوبہ ہے۔ ماسکو، بیجنگ اسلام آباد اتحاد جنوبی ایشیا کے سیکورٹی منظر نامے کو نئی سمت دے سکتا ہے، شنگھائی تعاون تنظیم بھی علاقائی ممالک کو آپس میں جوڑ رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے پاکستان کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات اب کسی سے چھپے ہوئے نہیں رہے۔  مبصرین کا کہنا ہے پوٹن بھارت اورامریکا کی بڑھتی قربتوں سے پریشان ہیں۔ اسی لئے انہوں نے اسلام آباد سے قربتیں بڑھا لیں ہیں۔ 

    پاکستان کے بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل کلیم شوکت جب روس کے دورے پر تھے تو انہوں نے ایک یاداشت پر دستخط کیے، اس کے ساتھ ستمبر میں روس کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی طے ہیں جن کی تجویز روسی صدر پوٹن کی طرف سے تھی۔ رپورٹ کے مطابق رواں برس مئی میں چوتھی مدت کے لئے صدارت کے عہدے پر فائز ہونے والے پوٹن نے اس بار بھارت کی بجائے پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھا۔ اس کی کئی وجوہ میں بھارت امریکا تعلقات میں اضافے سے اسلام آباد اور ماسکو کو تشویش ہے۔ روس نے ملٹری ہارڈ وئیر کے ممکنہ خریدار کے طور پر اب پاکستان کو دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ 2014 میں روس کی پاکستان کے حوالے سے پالیسی میں بڑی تبدیلی آئی جب اس نے پاکستان کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی ختم کر دی تھی۔ 2015 میں روس کے پاکستان کے ساتھ دفاعی اور تکنیکی معاہدے ہوئے اور اگست 2017 میں چار ہیلی کاپٹر فراہم کیے گئے۔ اب روسی لڑاکا طیارے ایس یو 35 اور ٹی 90 ٹینکس کی پاکستان کو فروخت پر بات چیت جاری ہے۔ 

    روس اور پاکستان میں قربت کی بڑی وجہ چین کا روس سے گہرے تعلقات ہیں۔ ماسکو، بیجنگ اسلام آباد اتحاد جنوبی ایشیا کے سیکورٹی منظر نامے کو نئی سمت دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو پاکستان کے لیے سازگار ہو گا، اس سے بھارت اور امریکا آگاہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاک روس تعلقات پر بھارت اپنے تحٖفظات کا اظہار کر چکا ہے اور پاکستان اور روس کے درمیان فوجی تعلقات پر وہ مطمئن نہیں۔ بھارت نے بار بار روس سے درخواست کی وہ پاکستان کو اسلحہ فراہم نہ کرے۔ ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق حالیہ سالوں میں پاکستان اور روس کے تعلقات میں نیا موڑ آیا ہے، دونوں ممالک کی طرف سے خارجہ پالیسی میں متعدد اہم پیش رفت ہوئیں، جس نے آخر کار دونوں ممالک کو جنوبی ایشیا کے استحکام میں مشترکہ تعاون کے مقام پر پہنچا دیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں روس کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔

    رفیق مانگٹ

    بشکریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد معطل کرنے کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ درست نہیں ہے کیونکہ یہ رقم پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُٹھنے والے اُن اخراجات پر مبنی تھی جو امریکہ کی طرف سے واجب الادا تھے۔ شاہ محمود قریشی کے اس بیان سے ایک روز قبل پینٹاگون نے کہا تھا کہ وہ یہ امداد معطل کر رہا ہے کیونکہ پاکستان ملک کے اندر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف مناسب حد تک کارروائی نہیں کر رہا ہے۔ تاہم پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ امریکی امداد کی معطلی نہیں ہے کیونکہ یہ امدا د نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی اپنی رقم ہے جو پاکستان نے خطے میں سیکیورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کیلئے خرچ کی تھی اور معاہدے کے تحت امریکہ کو یہ رقم واپس کرنا تھی۔

    پینٹاگون کی طرف سے یہ اعلان امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے محض دو روز قبل کیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کے ہمراہ امریکہ کے چیئرمین جائینٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی پاکستان آ رہے ہیں۔ پاکستان کے دورے کے بعد وہ بھارت جائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ امریکہ کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہو گا۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس دورے کے حوالے سے کہا کہ پینٹاگون کے مذکورہ بیان سے اس دورے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر کریں گے، 5 ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ پاکستان تشریف لائیں گے۔ ان کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کریں گے۔ باہمی دلچسپی کے امور کو سامنے رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ تعلقات بڑھائیں گے اور امریکا کا موقف سن کر پاکستان کا موقف سامنے رکھیں گے۔ 30 کروڑ ڈالر کی یہ رقم امریکہ کو کوالیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے ادا کرنی تھی ۔ یہ فنڈ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور افغانستان کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کی خاطر قائم کیا گیا تھا۔

    ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امداد دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی نہ کرنے پر منسوخ کی گئی تاہم اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کر لے اور دہشت گردوں کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کا پھر سے آغاز کرے تو امداد بحال کی جا سکتی ہے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان کے لیے روکی جانے والی اب تک کی امداد میں کٹوتی کی مجموعی مالیت 800 ملین ڈالرز ہو گئی ہے۔ افغانستان میں جلال آباد قونصل خانہ بند کرنے کے سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہر بات کو سازش کے طور پر نہیں لینا چاہیے، اور اسے بند کرنے کا اقدام سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر اٹھایا۔ ہم افغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے سیکیورٹی اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔

    چند روز قبل صحافیوں سے ملاقات کے دوران فرانسیسی صدر کے فون آنے اور وزیراعظم کے اس وقت بات کرنے سے انکار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مصروفیت کے باعث فرانسیسی صدر کی فون کال ریسیو نہ کر سکے۔ دو طرفہ بات چیت کے بعد دوبارہ ٹیلی فون کال پر اتفاق ہوا ہے۔ جی ایچ کیو میں نئی حکومت کے اہم وزرا اور وزیراعظم کو بریفنگ کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی بے پناہ قربانیاں ہیں۔ وفاقی کابینہ کو جی ایچ کیو میں بہت اچھے ماحول میں بریفنگ دی گئی اور یہ ملاقات ملکی مفاد میں ہے جس میں ہمیں داخلہ و خارجہ امور اور آئندہ کی حکمت عملی پر بریف کیا گیا۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ تجارتی انفراسٹرکچر میں تیزی کے ساتھ ہی پاکستان نے اس منصوبے کے بارے میں شفافیت کا مطالبہ کر دیا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چین کے بڑے بیلٹ اینڈ روڈ تجاری انفراسٹرکچر کا منصوبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جس کے ساتھ ہی کچھ ممالک چین کے قرض تلے دب جانے سے متعلق شکایات کا اظہار کرتے نظر آرہے ہیں۔ بیجنگ کی جانب سے مختلف ممالک کو اربوں ڈالر قرض کی فراہمی کے ساتھ ہی 2013 میں چینی صدر شی جن پنگ کے اعلان کے بعد ’نیو سلک روڈ‘ کے نام سے بھی جانے والے اس منصوبے سے دنیا بھر میں ریلویز، سڑک اور بندرگاہوں کی تعمیر کا امکان تھا۔

    اس منصوبے کے 5 سال تک چینی صدر کی جانب سے اپنے اس خیال کا دفاع کیا گیا کیونکہ اس طرح کے خدشات پیدا ہو رہے تھے کہ چین ایسے ممالک میں قرضوں کے نیٹ ورک قائم کر رہا ہے جس سے واپسی کا امکان مشکل ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ نے منصوبے کی سالگرہ کے موقع پر کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ ’چین کلب نہیں ہے‘ بلکہ ’کھلا اور جامع‘ منصوبہ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت چین کی تجارت 50 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور اس میں 60 ارب ڈالر سے زائد کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری شامل ہے، تاہم کچھ ممالک کی جانب سے لاگت کی واپسی سے متعلق خدشات کا اظہار کر دیا گیا ہے۔

    گزشتہ ماہ دورہ بیجنگ کے دوران ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ ان کا ملک 20 ارب ڈالر کے ریلوے منصوبے سمیت چین کی حمایت سے چلنے والے 3 منصوبوں سے خود کو الگ کر دے گا۔ دوسری جانب پاکستان کی نئی حکومت میں منتخب ہونے والے وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اربوں ڈالر کے سی پیک منصوبے سے متعلق چین کے قرضے کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد کی صلاحیت کے بارے میں پیدا ہونے والے خدشات پر مزید شفافیت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ تحریک اںصاف کی نئی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی معیشت کی بہتری کے حوالے سے چیلنج کا سامنا ہے۔ ادھر جزیرہ مالدیپ کے جلاوطن اپوزیشن لیڈر محمد نشہید کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو بیجنگ کی جانب سے 80 فیصد قرض دیا گیا ہے جبکہ سری لنکا چین سے لیے گئے قرض کو پہلے ہی ادا کر چکا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس جزیرہ ریاست کی جانب سے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے منصوبے کے حوالے سے لیے گئے قرض کی عدم آدائیگی کے باعث اسٹریٹجک بندرگاہ کو 99  برس کے لیے بیجنگ کو لیز پر دیا گیا تھا۔

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    پاکستان کو 2040 تک پانی کی شدید قلت کا سامنا ہو گا، ماہرین کے مطابق پاکستان کو فوری طور پر بڑے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے جبکہ دنیا بھر میں چین، امریکا، بھارت اور جاپان ڈیم بنانے میں سب سے آگے ہیں۔ ماہرین نے پاکستان میں پانی کی شدید قلت کے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 1990 میں شروع ہونے والی پانی کی قلت 2005 میں شدت اختیار کر گئی۔ 44 فیصد سے زائد پاکستانی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے محروم ہیں۔ 

    آبی وسائل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیم نہ بنائے گئے تو 2040 تک پاکستان خشک سالی کا شکار ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے مطابق پاکستان ڈیمز کی کمی کی وجہ سے سالانہ 2 کروڑ 90 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ضائع کر دیتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پانی کے استعمال کی سب سے زیادہ شرح کے حوالے سے پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ پانی کی کمی والے ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر ہے۔ خطے کے دوسرے ممالک کا جائزہ لیا جائے تو چین میں اس وقت 23841 اور بھارت میں 5100 ڈیمز ہیں جبکہ نیپال میں 43، بھوٹان میں 24، سنگاپور میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے 17 ریزروائرز ہیں۔
     


    0 0

    سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صرف دبئی میں 150 ارب ڈالر کے اثاثے ملے ہیں، احتساب شروع ہونے کے ڈر سے پاکستان سے پیسہ باہر لے جایا گیا، ملک کا بہت سا پیسہ حوالہ کے ذریعے باہر گیا، ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم باہر پڑی ہے۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ پاکستان سے باہر ناجائز طور پر رقم لے جانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے، ان پر ٹیکس نہیں بلکہ بھاری جرمانے ہونے چاہئیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اثاثے رکھنے والوں سے پہلا سوال رقم کی منتقلی کے بارے میں ہو گا اور جائیداد سے متعلق بیان حلفی لیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھتے ہیں اس معاملے پر وزیر اعظم کی میٹنگ میں کیا ہوتا ہے، پھر جو عدالت کو حکم دینا پڑا دیں گے۔ سپریم کورٹ نے ایف بی آر سے ان 100 افراد کی فہرست طلب کر لی جنہیں خفیہ اثاثوں پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ جنہیں نوٹس جاری کیے گئے ان کے نام افشا نہیں ہونے چاہئیں۔ 
     


    0 0

    پاکستان اور امریکہ کے درمیان مورچہ بندی پہلے کبھی اتنی واضح نہیں رہی، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور جنرل جوزف ڈنفورڈ کے اسلام آباد پہنچنے سے چند دن قبل ہی امریکی انتظامیہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ کے 30 کروڑ ڈالر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔ پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل فولکنر کے مطابق ’’یہ فیصلہ پاکستان کی جانب سے جنوبی ایشیا پالیسی کی سپورٹ میں ٹھوس اقدامات نہ اٹھانے کے باعث کیا گیا، 30 کروڑ ڈالر کسی اور پروگرام پر خرچ ہونگے‘‘۔ اس اعلان سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں روکی گئی رقم 80 کروڑ ڈالر ہو گئی ہے۔ یہ چھٹی بڑی چوٹ ہے، جو کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو پہنچائی، اگرچہ یہ غیر متوقع نہیں ہے۔

    اپنے نئے سال کے ٹویٹ میں انہوں نے امداد کے بدلے ماضی میں پاکستان پر ’’جھوٹ اور دھوکہ دینے‘‘ کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد 50 کروڑ ڈالر کا کولیشن سپورٹ فنڈ روک لیا گیا۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے فریم ورک کی عدم پاسداری پر گرے لسٹ میں شامل کرنے کی مہم کی قیادت واضح طور پر امریکہ اور بھارت کر رہے ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا فروری میں پیرس میں ہونیوالا اجلاس دوسرا موقع تھا کہ پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار بنانے کی کوشش ہوئی۔

    تیسرا اقدام 30 جولائی کو اٹھایا گیا جب امریکہ میں پاکستانی فوجی افسروں کے تربیتی اور تعلیمی پروگرام بند کر دیئے گئے جو کہ اگست کے اوائل میں شروع ہونا تھے۔ یہ اقدام پی ٹی آئی کی انتخابی کامیابی کے چند روز بعد اٹھایا گیا۔ اسی دوران پومپیو نے خبردار کیا کہ نئی حکومت کیلئے آئی ایم ایف کا متوقع بیل آؤٹ پیکیج چینی قرضوں کی ادائیگی کیلئے نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’ہم آئی ایم ایف پر نظر رکھیں گے۔ اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ امریکی ڈالر جو کہ آئی ایم ایف کی فنڈنگ کا حصہ ہیں، چینی بانڈ ہولڈروں یا چین کو ادائیگی کیلئے استعمال ہوں‘‘۔ یہ بیان اس امر کو بھی ظاہر کرتا تھا کہ چین کیساتھ بڑھتی معاشی و سٹریٹجک قربت کی وجہ سے امریکہ پاکستان کو دبانا چاہتا ہے۔

    امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان کیلئے روس یا چین کا کوئی بھی اقدام مسترد کر دیتے ہیں۔ بیجنگ اور ماسکو کے برعکس واشنگٹن افغانستان میں جاری شورش کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتا ہے۔ دو طرفہ تعلقات کے بگاڑ کی پانچویں مثال وزیراعظم عمران خان کو پومپیو کا مبارکباد کا فون تھا۔ یہ فون کال خوشگوار بات چیت کے بجائے ایک سفارتی تنازع میں بدل گئی، کیونکہ دونوں طرف سے اس گفتگو کے بارے میں متضاد بیانات جاری ہوئے۔ امریکی دفتر خارجہ نے کہا کہ پومپیو نے گفتگو کے دوران سرحد پار سے کارروائیاں کرنیوالے ’’دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی‘‘ کا معاملہ اٹھایا۔ پاکستانی بیان کے مطابق ’’گفتگو کے دوران سرحد پار کارروائیاں کرنیوالے دہشت گردوں کا کوئی ذکر نہیں ہوا، اور یہ کہ امریکی حکام اپنے بیان کی فوری درستگی کریں‘‘۔

    امریکہ کا چھٹا اقدام 67 سالہ افغان نژاد ریپبلکن زلمے خلیل زاد کو افغانستان کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کرنا ہے۔ خلیل زاد پاکستان سے نفرت کی وجہ سے معروف اور اپنے آرٹیکلز، میڈیا کو انٹرویوز، سیاسی سوانح حیات اور اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں پاکستان پر کھل کر الزامات عائد کرتے آئے ہیں۔ ان کی دوبارہ تقرری سے کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں، جیسے کہ واشنگٹن کا فوکس امن عمل اور پاکستان سے رابطے میں رہنا ہے یا وہ محض سٹیٹس کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ واشنگٹن کے سٹمسن سینٹر تھنک ٹینک کے جنوبی ایشیا پروگرام کے معاون ڈائریکٹر سمیر لالوانی کے مطابق یہ تمام اشارے پاکستان پر بتدریج دباؤ بڑھانے کا اظہار کرتے ہیں۔

    امریکی مطالبات کی بنیاد یہ گمان ہے کہ افغان طالبان اور مقبوضہ کشمیر میں سرگرم جنگجوؤں کی ڈوریاں پاکستان ہی ہلاتا ہے۔ افغانستان میں امریکی و نیٹو فورس کے سابق کمانڈر جنرل جان ایلن کا نقطہ نظر امریکی انتظامیہ سے قطعی مختلف ہے۔ مئی میں بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایک عرصہ تک وہ سمجھتے رہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے گزرتا ہے۔ اب میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے طویل المدت استحکام کا راستہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی سے نہیں، کابل سے بھی گزرتا ہے۔ اسلئے پاکستانیوں، افغانیوں اور عالمی برادری کو یکساں نقطہ نظر تک پہنچنے کی ضرورت ہے کہ ایک مستحکم افغانستان ، جو کہ انتظامی استحکام کے علاوہ اپنے شہریوں کو تحفظ اور ایک فعال معیشت دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ صرف افغانستان کیلئے ہی اہم نہیں، بلکہ پاکستان کے طویل المدت استحکام کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔

    جنرل جان ایلن جوکہ اس وقت بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے صدر ہیں، انہوں نے ایک اور سہ رخی خطرے کی نشاندہی کی جس کا افغانستان کو سامنا ہے، یعنی جرائم ، کرپشن اور بغاوت کا ناقابل حل گٹھ جوڑ۔ ان کی نظر میں اسی سہ رخی خطرے کا افغانستان کے مستقبل کو سامنا ہے، جسے فوجی زبان میں نظریاتی بغاوت، نرم زبان میں طالبان کہہ دیا جاتا ہے۔ منشیات کی تجارت ہی تھی جس نے باغیوں کی ایک دہشت ناک قسم اور مجرمانہ رویہ پروان چڑھایا اور جس کی سرپرستی کا فعال مجرمانہ نیٹ ورک بھی موجود تھا۔ ’’مجھے یقین نہیں کہ اس سے نمٹنے کی ہم نے مناسب تیاری کی ہوئی ہے‘‘۔

    بشکریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    Arif ur Rehman Alvi is a Pakistani politician who is the 13th and current President of Pakistan. He has been a member of the National Assembly of Pakistan since August 2018. Previously he was a member of the National Assembly from June 2013 to May 2018. An active member of Pakistan Tehreek-i-Insaf (PTI), Alvi was elected as President of Pakistan on 4 September 2018 following presidential elections.

    Early life and education
    He was born on 29 July 1949. His father, Habib ur Rehman Alvi, was politically affiliated with Jamaat-e-Islami Pakistan. He came to Lahore in 1967 for education. He received a degree of Bachelor of Dental Surgery from De'Montmorency College of Dentistry. He completed his Masters in prosthodontics from the University of Michigan in 1975 and Masters in orthodontics in 1984. Alvi is a dentist by profession and served as the president of the Asia-Pacific Dental Federation and of the Pakistan Dental Association.

    Political career
    Alvi began his political career as a polling agent, and joined a religious party. While studying at De'Montmorency College of Dentistry, he became an active member of the student unions. He became politically affiliated with Islami Jamiat Talaba, a student wing of Jamaat-e-Islami Pakistan (JI) and went on to become president of the student union. He ran for a seat of the Provincial Assembly of Sindh as a candidate of the JI from a constituency in Karachi in 1979 but was unsuccessful. In 1988, he quit JI and left politics. In 1996 he joined Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) and become was one of the founding members of party. He remained a member of the PTI central executive council for a year before becoming president of PTI's Sindh chapter in 1997. Alvi ran for the seat of the Provincial Assembly of Sindh as a candidate of PTI from Constituency PS-89 (Karachi South-V) in Pakistani general election, 1997, but was unsuccessful. He received 2,200 votes and lost the seat to Saleem Zia. 

    In 2001, he became vice president of PTI. He ran for the seat of the Provincial Assembly of Sindh as a candidate of PTI from Constituency PS-90 (Karachi-II) in Pakistani general election, 2002, but was unsuccessful. He secured 1,276 votes and lost the seat to Umer Sadiq, a candidate of the Muttahida Majlis-e-Amal (MMA). He served as the secretary general of PTI from 2006 to 2013. He was elected to the National Assembly of Pakistan as a candidate of PTI from Constituency NA-250 (Karachi-XII) in Pakistani general election, 2013. He received 77,659 votes and defeated Khushbakht Shujaat. Upon his successful election, he became the only PTI member to win a National Assembly seat from Sindh in the 2013 general elections. In 2016, he was made president of PTI Sindh chapter. He was re-elected to the National Assembly as a candidate of PTI from Constituency NA-247 (Karachi South-II) in Pakistani general election, 2018. On 18 August 2018, he was nominated by PTI as its candidate for the office of President of Pakistan. On 4 September 2018, he was elected as 13th President of Pakistan in Pakistani presidential election, 2018.  He received 212 votes votes and defeated Fazal-ur-Rehman and Aitzaz Ahsan who secured 131 and 81 votes, respectively. 

    0 0

    امریکی وزیرِ خارجہ کا ممکنہ دورہ پاکستان وزیراعظم عمران خان کے لئے ایک امتحان سے کم نہیں ہو گا۔ امریکی دباؤ منظور کیا گیا تو ان کے سیاسی نقصان کا خدشہ ہے اور اگر واشنگٹن سے تعاون نہ کیا تو ملک کو معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ واضح رہے پاکستان میں حال ہی میں اقتدار میں آنے والی تحریکِ انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان ماضی میں امریکی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔ عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں بھرپور مہم چلائی اور افغانستان میں طاقت کے بجائے ،سیاسی حل کی بھی بات کی۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب پاکستان میں حال ہی میں دائیں بازو کی ایک مذہبی تنظیم نے ہالینڈ کے ایک سیاست دان کے خلاف ایک بہت بڑا مظاہرہ کیا تھا۔ انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامی گیرٹ ویلڈر نامی اس سیاست دان نے حال ہی میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا ایک مقابلہ منعقدکرنے کا اعلان کیا تھا، جس سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں مغرب مخالف جذبات شدید ہو گئے تھے۔ اس مظاہرے کے موقع پر کچھ شرکاء نے عالمی طاقت امریکا کے خلاف بھی غصے کا اظہار کیا تھا۔

    اس وقت نہ صرف ملک میں امریکا مخالف ماحول ہے بلکہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے درمیان کچھ عرصے سے تلخی بھی چل رہی ہے۔ امریکا نے پومیپو کی آمد سے صرف دو روز قبل ہی پاکستان کی تین سو ملین ڈالرز کی فوجی امداد بند کر دی ہے۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ یہ وہ پیسے ہیں، جو پاکستان نے دہشت گردی کے جنگ میں خرچ کئے اور یہ کہ یہ کوئی امداد نہیں۔ اس سے پہلے پاکستان اور امریکا کے درمیان پومپیو اور وزیرِ اعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے بھی تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ امریکا کا موقف تھا کہ وزیرِ خارجہ نے پاکستان سے ملک کے اندر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی تھی، جب کہ پاکستان نے اس بات کو حقائق کے برعکس قرار دیا تھا۔

    ماہرین کے خیال میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اس وقت سرد کشیدگی کی وجہ افغانستان ہے۔ امریکا کا الزام ہے کہ اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی حمایت کرتا ہے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور وہ وہاں بیٹھ کر افغانستان پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور طالبان زخمیوں کا علاج بھی پاکستانی ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔
    دوسری جانب اسلام آباد کا موقف یہ ہے کہ امریکا پاکستان کو بھارتی عینک سے دیکھتا ہے اور وہ افغانستان اور خطے میں نئی دہلی کو ایک اہم کردار دینا چاہتا ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور یہ کہ افغانستان کے جاسوس ادارے بھی بھارت سے قربت رکھتے ہیں اور پاکستا ن کے خلاف کام کرتے ہیں۔

    مغرب نواز سیاسی مبصرین کے خیال میں ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ یا تو اسلام آباد افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے اور یا پھر وہ ان کے خلاف کارروائی کرے لیکن پاکستان ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ نگاروں کے خیال میں پاکستان نے مئی دو ہزار پندرہ میں افغان طالبان، کابل اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوشش کی تھی لیکن پہلے افغان جاسوسی ادارے نے ملا عمر کی ہلاکت کی خبر افشاں کر کے اور بعد میں ملا اختر منصور کو ہلاک کروا کے ان کوششوں کو بے کار کر دیا۔ اسلام آباد میں کئی ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ اب روس، ایران اور خطے کے دوسرے ممالک بھی طالبان سے رابطوں میں ہیں اور طالبان پر پاکستان کا وہ اثر ورسوخ نہیں ہے، جو کسی دور میں ہوتا تھا۔

    پاکستان نواز ماہرین امریکا کی دوغلی پالیسی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، جس کے مطابق ایک طرف امریکا پاکستان سے طالبان کے خلاف اقدامات کرنے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف دوحہ میں ان کا دفتر کھلوانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ان ماہرین کے خیال میں واشنگٹن کو یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ وہ افغانستان میں درحقیقت کرنا کیا چاہتا ہے؟ مائیک پومپیو کوئی پہلے امریکی وزیرِ خارجہ نہیں ہیں جو افغانستان کے مسئلے پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے کئی سینیئر امریکی عہدیدار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں لیکن وہ اسلام آباد کی پالیسی بدلنے میں ناکام رہے۔ پرویز مشرف کے دور میں واشنگٹن اسلام آباد کو دوہری پالیسی اختیارکرنے کا طعنہ دیتا رہا اور اسلام آباد امریکا کے ڈو مور والے مطالبے سے نالاں نظر آیا۔ دونوں ممالک کے درمیان اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور سلالہ چیک پوسٹ پر حملوں کے بعد تعلقات میں مزید تلخی آئی۔ 

    حالیہ ہفتوں میں امریکا کی طرف سے پاکستانی امداد میں کٹوتی اور اسلام آباد کو امداد نہ دینے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں پر دباؤ سے ان تعلقات میں تاریخی تلخی آ گئی ہے۔ کئی سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پومپیو کے دورے کی وجہ سے عمران خان کا سخت امتحان شروع ہو گیا ہے۔ اگر عوام میں یہ تاثر گیا کہ وزیرِ اعظم امریکی دباؤ کے آگے جھک گئے ہیں، تو اس سے ان کی سیاسی ساکھ متاثر ہو گی لیکن اگر انہوں نے سخت پالیسی اپنائی اور واشنگٹن کی مدد کرنے سے انکار کیا تو معاشی بد حالی سے دوچار پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

    پاکستان کے وزیرِ خزانہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ملک کو فوری طور پر بارہ بلین ڈالرز کی ضرورت ہے، جو نہ چین دینے کی طاقت رکھتا ہے اور نہ سعودی عرب دینا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلام آباد کے پاس آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ لیکن خارجہ امور کے ماہر اور معاشی دنیا کے پنڈتوں کے خیال میں عالمی مالیاتی ادارہ کوئی ایسا فیصلہ نہیں کر سکتا، جس سے امریکا ناراض ہو کیونکہ وہ آئی ایم ایف کے فنڈ میں سب سے زیادہ پیسے دینے والا ملک ہے۔

    بشکریہ DW اردو


     


    0 0


    Fishermen prepare to leave for fishing along the Indus River in Hyderabad, Pakistan.


    0 0

    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کا تجویز کردہ 358 کھلاڑیوں اور آفیشنلز پر مشتمل دستہ نگران حکومت کی آشیرباد لیکر انڈونیشیا میں 18ویں ایشیائی کھیلوں میں اپنی کارکردگی مکمل کر چکا ہے ۔ میڈل ٹیبل پر پاکستان پیتل کے ساڑھے تین میڈلز کے ساتھ 34 ویں پوزیشن پر آیا ہے یوں ایشیائی کھیلوں میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے دستہ نے اپنی تاریخ کی سب سے شرمناک پرفارمنس دی ہے کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے 40 سے 50 کھلاڑیوں اور آفیشلز کی تجویز دی گئی تھی جن میں ہاکی، کبڈی، سکوائش کے علاوہ پانچ کھلاڑی انفرادی کھیلوں کے 5 آفیشلز کے ساتھ حصہ لینے کے اہل قرار دیئے گئے تھے ۔ لیکن پاکستان اولمپک ایسوسی اپنی ضد پر قائم رہی۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب عمران خان قوم کو بچت کا سبق دے رہے تھے اور اس وقت نگران حکومت 358 افراد کو سیر و سیاحت پر بھیج کر کروڑوں کا ٹیکہ لگا رہی تھی۔

    دستہ روانگی کے ساتھ ہی ہمیشہ کی طرح کھلاڑیوں اور آفیشلز کی طرف سے اخبارات اور ٹیلیویژن چینلز پر بیانات اور دعوئوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ہر ایک نے ان کھیلوں میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا مژدہ سنایا۔ بیانات کے سلسلہ میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر نے اضافہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کھیلوں میں ان کی ترجیح تمغے نہیں بلکہ کھلاڑیوں کا تجربہ اور تربیت ہے۔
    موصوف جب 2004 میں پاکستان اولمپک میں نافذ کئے گئے تو انہوں نے پہلے بیان میں فرمایا تھا کہ ان کا ٹارگٹ اولمپک 2008 بیجنگ میں گولڈ میڈل کا حصول ہے۔ اس کے بعد اولمپک گولڈ میڈل گول ہو گیا جو کہ ابھی تک گول ہے۔

    کھلاڑیوں کی تربیت کا سبق دینے والے یہ کیوں بھول رہے ہیں کہ ایشیائی کھیل دنیا کے سب سے بڑے براعظم کے کھیل ہیں اور کوئی تعلیم بالغاں پروگرام کا حصہ نہیں۔ یہاں کھلاڑی سال ہا سال کی محنت کر کے میڈل لینے آتے ہیں۔ ان کے کھیلوں کی تنظیموں میں منتظمین چور دروازوں اور سفارشوں سے نہیں بلکہ میرٹ پر منتخب ہوتے ہیں ہارنے کے بعد ان کے کھلاڑی اور آفیشلز الٹے سیدھے اور گمراہ کن بیانات دینے کی بجائے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہو جاتے ہیں۔ اولمپک کھیلوں میں برطانیہ کے زوال سے عروج کا سفر اور ایشیائی کھیلوں میں بھارت کے زوال و عروج کی مثال سب کے سامنے ہے۔

    پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ دورے کرنے والے ملکوں میں شامل ہے حال ہی میں ہم نے بہت بڑے دستے اسلامک گیمز ، ایشین انڈور گیمز اور کامن ویلتھ گیمز میں لڈو کھیلنے کے لئے بھیجے تھے کیا ایشیائی کھیلوں میں ان کی تربیت باقی تھی۔ ہاکی چند ماہ پہلے ایک ماہ کے ہالینڈ میں کیمپ کے بعد چمپئین ٹرافی کھیلی، فٹ بال بحرین میں غیر ملکی کو چزکے زیر سایہ مہینے کے کیمپ کے بعد پریکٹس میچ کھیلی کبڈی ٹیم نے دبئی میں ٹورنامنٹ کھیلا۔ والی بال اور پہلوان بھی دوروں پر رہے کیا ابھی کوئی کمی باقی تھی ۔ 

    کھلاڑیوں کی تربیت کا مشورہ دینے والے صدر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے خود تو 14 سال میں بیان دینا نہیں سیکھا تو کھلاڑیوں سے تربیت کی توقع رکھنا بالکل بے معنی لگتا ہے۔ پاکستان نے پہلی بار ایشیائی کھیلوں 1954 کے منیلا میں ہونے والے کھیلوں میں حصہ لیا تھا جہاں 46 کھلاڑیوں کے دستہ نے 5 گولڈ، 6 سلور، دو برانز ٹوٹل 13 تمغوں کے ساتھ جو تھی پوزیشن حاصل کی تھی۔ 1962 کے جکارتہ میں ہونے والے چوتھے ایشیائی کھیلوں میں 8 گولڈ، 11 سلور، اور 9 برانز ٹوٹل 28 میڈلز کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہے۔

    ایتھلیٹکس کے برانز میڈل جیتنے پر سیکرٹری نے فرمایا ہے کہ برائز میڈل جیت کر ہمارے ایتھلسٹ نے قوم کا سر فخر سے اونچا کر دیا ہے یوں لگتا ہے کہ سات سال کی عمر کے پاکستان کے اتھلیٹوں نے منیلا میں 4 گولڈ جیتنے تھے ان میں قوم کا سر اونچا ہونے میں کوئی کمی رہ گئی تھی جو مبارک شاہ ، غلام رازق اور عمر یونس بھی گولڈ میڈل جیت کر پوری نہ کر سکے اور وہ اب ان کے اتھلیٹ نے برانز میڈل جیت کر پوری کر دی ہے۔ جکارتہ میں موجود پاکستانی جھنڈے لیکر اپنے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لئے آتے رہے لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ آنا بند کر گئے ۔

    53سالہ ٹیبل ٹینس کے کھلاڑی عاصم قریشی کا حشر ان کو تربیت کے لئے بھیجنے والے عارف حسن نے تو شاید نہیں دیکھا لیکن عوام نے گھر میں ٹیلی ویژن پر ضرور دیکھا ہے ۔ ایک سے بڑھ کر ایک دکھ کی داستان ہے۔ جاپان سے درآمد شدہ شاہ حسین کا چند سیکنڈ میں چت ہونا اس بات کی دلیل ہے امپورٹڈ کھلاڑی کے لئے ہمارا کیا طریقہ کار ہے اس کا مستقبل میں کوئی حل نکلے گا۔
    ٹینس کے کیمپ جس کی ٹریننگ کوئی اور کوچ کرواتے رہے اور عین وقت پر ہمیشہ کی طرح اپنے ووٹوں سے بلیک میلنگ کرنے والا خالد رحمانی جس نے کبھی ریکٹ نہیں پکڑا سب کو سائیڈ پر کر کے مردوں اور عورتوں کی دونوں ٹیموں کا آفیسر اعلیٰ اور کوچ بن کر چلا گیا۔

    ہماری تنظیموں سے اکاس بیل کی طرح چمٹے ہوئے عہدیدار خود تو اکاس بیل کی طرح پھل پھول رہے ہیں اور انہوں نے ہماری کھیلوں کے تناور درخت کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے ۔ بدقسمتی سے ان سے نجات حاصل کرنے والے انکا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ عمران خان جیسے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی کے ذریعہ وجود میں آنے والی حکومت کے ہوتے ہوئے اس سلسلہ کا جاری رہنا انتہائی افسوسناک ہو گا۔ جن لوگوں کے ہاتھوں قرضوں تلے دبے ملک کے کروڑوں لٹا کر ملک کو شرمناک شکستوں سے دو چار کیا جا رہا ہے اس ٹولے سے نجات حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ ٹولہ گزشتہ حکومتوں کی طرح اس وقت کو بھی اپنے گاڈ فادر انٹر نیشنل اولمپک کمیٹی کی پابندی سے ڈرائے گا۔ انکے دوروں کو میرٹ سے منسلک کر کےان کی سیر و سیاحت بند کی جائے ۔ 

    دوسرا ان کی نا اہلی کی تحقیقات کے بعد ان کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ اس میں آئی او سی کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اگر وہ دخل اندازی کرے تو ان سے بات چیت کے لئے اہل لوگوں کو بھیجا جائے نہ کہ ان سے سودا بازی کرنے والے لوگوں کو بھیج کر اس گروہ کو مزید طاقتور کیا جائے۔ آخر میں گزارش کرونگا کہ ہر کھیل سے ایک اہل نمائندہ لیکر ایک انکوائری کمیٹی بنائی جائے جو ان کھیلوں میں کروڑوں کے ضیاع اور ملک کی جگ ہنسائی کرانیوالوں کے خلاف رپورٹ دے جس کے نتیجہ میں اس گروہ کے خلاف ایکشن لیکر ان سے فوری نجات حاصل کر کے اہل افراد کو سامنے لائے جا سکیں۔

    آصف ڈار

    بشکریہ روزنامہ جنگ


     


    0 0

    ماضی قریب میں مجھے دو مختلف اہم ٹی وی چینلز سے تعلق رکھنے والی دو نامور خواتین ٹی وی اینکر پرسنز نے الگ الگ ملاقات میں بتایا کہ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سکارف پہننا چاہتی ہیں لیکن متعلقہ ٹی وی چینلز کی انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اپنے ٹاک شوز کے دوران نہ سر ڈھانپ سکتی ہیں اور نہ ہی سکارف لے کر پروگرام کر سکتی ہیں۔ یعنی اگر نوکری کرنی ہے اور ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرنی ہے تو حجاب، سکارف یا دوپٹہ نہیں چلے گا۔ ان میں سے ایک خاتون اینکر بہت پریشان دکھائی دیں اور کہنے لگیں میں تو اب میڈیا میں نوکری ہی نہیں کرنا چاہتی اور کوشش ہے کہ درس و تدریس کے شعبہ کو جوائن کر لوں۔ اُن کا کہنا تھا کہ نوکری اُن کی مجبوری ہے کیونکہ انہیں اپنے گھر اور بچوں کے اخراجات کے لیے پیسے کی ضرورت ہے اس لیے جب تک کوئی دوسری نوکری نہیں ملتی مجبوراً میڈیا کی نوکری کرنی پڑے گی۔

    نجانے اور کتنی خواتین کو میڈیا اور دوسرے کئی شعبوں میں ان حالات کا سامنا ایک ایسے ملک میں ہے جو اسلام کے نام پر بنا لیکن وہاں اسلامی لباس پہننے پر نوکری پیشہ خواتین کو روکا جاتا ہے۔ ایسا فرانس یا مغرب کے کسی دوسرے ملک میں ہو تو دنیا بھر میں شور مچتا ہے لیکن افسوس کہ اگر پاکستان کے میڈیا میں کام کرنے والی خواتین کو بھی ان حالات کا سامنا ہے تو پھر اسلام کے نام پر بننے والے اس ملک میں اس غیر قانونی، غیر آئینی اور سب سے اہم غیر اسلامی اقدام کے خلاف کون آواز اُٹھائے گا۔ ایسا نہیں کہ میڈیا میں کام کرنے والی ہر خاتون کو ان حالات کا سامنا ہے۔ عموماً میڈیا میں خواتین کو ماڈلز، فیشن اور دیکھنے والوں کو attract کرنے کے لیے شو پیس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو میری نظر میں خواتین کا بدترین استحصال ہے، اُن کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اُن کی یہ توہین ہے جس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

    ایسا بھی نہیں کہ میڈیا میں ہر کسی کی ایسی سوچ ہو۔ یہاں ایسی اینکر پرسنز ہیں جنہوں نے خالص اسلامی وجوہات کی بنا پر سر ڈھانپنا شروع کیا اور اُنہیں اُن کی مینجمنٹ نے ایسا کرنے سے نہیں روکا۔ مثال کے طور پر نامور اینکر پرسن مہر عباسی نے جب اپنے شو میں دوپٹہ لینا شروع کیا تو اُنہیں کسی ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مہر عباسی نے اس تبدیلی پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا یہ پیغام دیا: ’’لوگ پوچھ رہے ہیں میں نے دوپٹہ کیوں لینا شروع کر دیا۔ بہت پڑھنے اور سمجھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، یہ ایک لمبا سفر تھا، مجھ پر کسی نے دوپٹہ مسلط نہیں کیا یہ میری اپنی مرضی ہے، سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ عورتیں مجھے کہتی ہیں کہ آپ ہمارے لیے فیشن آئیکن ہیں مجھے اس پر الٹا شرمندگی ہوتی تھی۔‘‘

    مہر عباسی نے بہت خوبصورت بات کی ’’سادہ جواب یہ ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے‘‘۔ اب جو اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا چاہیں اُسے ایسا کرنے سے میڈیا ہی اگر روکے گا تو پھر ایسی خواتین کے حق کے لیے کون آواز اٹھائے گا۔ ایک اور خاتون اینکر پرسن نادیہ مرزا جو سکارف لے کر اپنا ٹاک شو کرتی ہیں اُنہوں نے اپنے ایک حالیہ ٹیوٹ میں لکھا: ــ’’میرا حجاب لینے کا تجربہ یہ کہتا ہے کہ جیسے نماز آپ کو برائیوں سے روکتی ہے ایسے ہی حجاب آپ کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی عزت اور حرمت آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘ میں پہلے بھی یہ بات اپنے ایک کالم میں لکھ چکا ہوں کہ ایک بار ایک ٹی وی وہ چینل نے مجھے ایک ٹاک شو دینے کی بات کی تو مجھے کہا کہ آپ کے ساتھ ایک خاتون میزبان کو بھی پروگرام میں رکھا جائے گا۔ میں نے وجہ پوچھی کہ خاتون کیوں تو مجھ سے کہا گیا اس لیے کہ اس سے ریٹنگ بہتر آتی ہے یعنی زیادہ لوگ دیکھتے ہیں۔ 

    میں تو ٹی وی کا صحافی نہیں نہ ہی کبھی مجھے ٹی وی اینکر بننے کا شوق رہا لیکن مجھے یہ بات سن کر بہت دکھ ہوا ۔ ایک بڑے ٹی وی چینل کے اہم ذمہ دار سے میں نے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے چینل میں کوئی ایک بھی خاتون اینکر پرسن یا نیوز ریڈر ایسی نہیں جو سرڈھانپتی ہو، پردہ کرتی ہو یا حجاب لیتی ہو۔ میں نے سوال کیا کہ سر ڈھانپنے والی، پردہ کرنے والی اور حجاب لینے والی کسی خاتون میں اُنہوں نے قابلیت نہیں دیکھی کہ وہ خبریں پڑھے یا کسی پروگرام کی میزبانی کرے۔ ٹی وی چینل کے ذمہ دار نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک بات کر رہے ہیں اور وعدہ بھی کیا کہ تبدیلی لائی جائے گی لیکن اس بات کو کئی ماہ گزر گئے لیکن اُس چینل میں ایسی کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔

    پردہ کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے، ہمارے آئین کا کیا منشاء ہے اس کے بارے میں تو کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے لیکن میرا سوال اُس نام نہاد سیکولر اور لبرل میڈیا سے ہے جو بے پردگی اور فحاشی کو پھیلانے اور ایسا کرنے والوں کی مرضی اور اُن کے حق کو تسلیم کرنے پر تو زور دیتا ہے اور بنیادی حق سے جوڑتا ہے لیکن اُن خواتین اینکر پرسنز کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق حجاب لیں اورسر ڈھانپیں۔ اس معاملہ کو پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن، صحافتی تنظیموں، حکومت اور پارلیمنٹ کو اُٹھانا چاہیے تاکہ جو نوکری پیشہ خاتون چاہے اُس کا کسی بھی شعبہ سے تعلق ہو اگر وہ پردہ کرنا چاہتی ہے، سر ڈھانپنا یا حجاب کرنا چاہتی ہے تو اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    ملک کے 13 ویں نومنتخب صدر عارف علوی کی تنخواہ اور مراعات کے حوالے سے تفصیلات سامنے آگئیں۔ صدر مملک کی ماہانہ تنخواہ 8 لاکھ 46 ہزار 5 سو 50 روپے ہو گی، اس سے قبل صدر کی تنخواہ ایک لاکھ 33 ہزار 3 سو 33 روپے تھی، جسے بعد ازاں بڑھا دیا گیا تھا۔ گزشتہ پارلیمان نے صدر مملکت کی تنخواہ میں اضافے سے متعلق بل پاس کیا تھا۔ اس بل کے مطابق صدر پاکستان کے خاندان میں ان کی اہلیہ، بچے، والدین اور زیر کفالت افراد بھی شمار ہوں گے۔ اس کے علاوہ صدر مملکت کا عہدہ سنبھالتے ہی 20 ہزار روپے بھی ملتے ہیں جبکہ صدر کے اندرون اور بیرون ملک سفری اخراجات ملکی خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔

    بل کے مطابق صدر کو رہائش، ریلوے میں سلون، جہاز ایئرکرافٹ اور سرکاری گاڑی استعمال کرنے کی سہولت ہو گی جبکہ اگر دوران سفر صدر کسی حادثے میں جاں بحق ہو جاتے ہیں تو 10 لاکھ روپے ان کی اہلیہ کو دیے جائیں گے اور زخمی ہونے کی صورت میں سرکاری خزانے سے علاج کیا جائے گا۔ صدر مملکت کو جو مراعات حاصل ہوں گی، اس میں وہ طبی یا نجی وجوہات کی بنا پر 4 ماہ کی رخصت پر بھی جا سکتے ہیں جبکہ سرکاری خرچ پر بیرون ملک بھی علاج کروا سکتے ہیں۔

    پارلیمان سے پاس بل کے مطابق نومنتخب صدر اپنے ذاتی استعمال کے لیے 2 لاکھ روپے تک کی کوئی بھی اشیاء درآمد کروا سکتے ہیں جبکہ اس پر سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی عائد نہیں ہو گی۔ اسی طرح صدر یا ان کے اہل خانہ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اس پر بھی سیلز ٹیکس یا کسٹم ڈیوٹی نہیں لگے گی۔ پاکستان کے صدر کے ساتھ سفر میں 3 ملازم بھی سفر کر سکتے ہیں، اس کے علاوہ نومنتخب صدر عارف علوی کے گھر کی سالانہ تزئین و آرائش کے لیے 20 لاکھ روپے مختص ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز صدارتی انتخاب کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے عارف علوی ملک کے 13 ویں صدر منتخب ہوئے تھے اور انہوں نے مجموعی طور پر 352 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے۔
     


    0 0

    نئی منتخب حکومت نے امریکہ کی طرف سے تعلقات میں سرد مہری کا جواب سرد مہری سے دیا۔ سپر طاقت کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو جب ستائیس رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان کے مختصر دورے پر پہنچے تو پاک امریکہ کشیدہ تعلقات کے باعث پاکستان نےواضح پیغام دینے کے لئے امریکی وزیر خارجہ کا شایان شان استقبال نہیں کیا۔ کسی وزیر یا حکومتی شخصیت کی بجائے وزارت خارجہ کے ایک افسر نے نور خان ائیربیس پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اپنے وفد کے ہمراہ نئی دہلی چلے گئے۔ جہاں ان کا استقبال بھارتی وزیرخارجہ شسماسوراج نے کیا.

    ادھر ذمہ دار ذرائع کےمطابق امریکا کی طرف سے سرد مہری اور بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات امریکی امداد کی بندش کے بعد پاکستان نے روس سے بھی رجوع کر لیا اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر بنا لیا جو امریکا کے ساتھ دوستی کی وجہ سے متاثر تھے۔ پاکستان حکومت نے جرات مندانہ اقدامات کرتے ہوئے امریکا اور ایران کی کشیدگی میں ایران کے موقف کی تائید کی یہی وجہ ہے کہ ایران بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں آمادہ ہو گیا۔ پاکستان کے اعلیٰ سطحی فوجی اور سول حکام کے مسلسل روس کے دوروں اور روس کے ساتھ دفاعی شعبے میں تعاون سے امریکی حکام پریشان ہو گئے کیونکہ اس وقت چین، روس ،ایران کا بلاک بن سکتا ہے اور اس میں افغا نستا ن بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ فوری طور پر دورہ پاکستان آئے۔ اس دورے میں امریکہ نے کوئی سخت لہجہ اختیار نہیں کیا۔
     


    0 0

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے دورے کے موقع پر پاکستان اور چین نے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں چین نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ اس سے قبل اسلام آباد میں دفترخارجہ میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے چینی ہم منصب وانگ ای کا استقبال کیا، دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ون آن ون میٹنگ کے بعد پاکستان اورچین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
    مذاکرات میں سی پیک، معاشی و ثقافتی تعاون اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں جانب سے پاک چین اسٹریٹیجک تعاون پرمبنی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر شاہ محمد قریشی کا کہنا تھا کہ سی پیک نئی حکومت کی اولین ترجیح ہے، جو پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے اہم ہے۔ چینی قیادت نے پاکستان کی معیشت کے استحکام کیلئے حمایت کا اظہار کیا اور وزیراعظم عمران خان کو دورہ چین کی دعوت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو بطور گیسٹ آف آنر چین میں ہونے والی انٹرنیشنل ایکسپو میں بلانا چاہتے ہیں۔
     


    0 0

    وزیرِاعظم عمران خان نے یومِ شہدا و دفاعِ پاکستان کے موقع پر جی ایچ کیو کی مرکزی تقریب سے خطاب کے دوران ایک وعدہ یہ بھی کیا کہ ’’ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا‘‘۔ اس پر مجھے ماسی مٹھن یاد آ گئی۔ جن کا ماشااللہ ساتواں بچہ ہونے لگا تو دردِ زہ کے دوران لیبر روم سے آواز آ رہی تھی ’’اب کے میں کبھی کولے نہ لگوں‘‘۔ یعنی اب میں کبھی ( اس کے ) پاس نہ پھٹکوں گی۔ اور اگلے برس پھر آٹھواں بچہ ایک بار پھر ماسی مٹھن کے اسی فریادی عہد کے ساتھ دنیا میں تشریف لے آیا۔

    خان صاحب نے بھی شائد معصومیت میں کہہ دیا کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا۔ خان صاحب بھی وقت کے ساتھ ساتھ جان جائیں گے کہ سیاست و سفارت کاری کے معاملے میں ہر جواب اوپن رکھا جاتا ہے۔ قطعیت کے ساتھ کوئی ایسا وعدہ نہیں کرنا چاہیے جسے وقت پڑنے پر نبھانا مشکل ہو جائے۔ کل کس نے دیکھا اور خان صاحب کے بعد آنے والے کا کیا پتہ اور خود خان صاحب کا بھی کیا پتہ کہ کل کس مجبوری میں کون سا وعدہ توڑ کے یو ٹرن لینا پڑ جائے۔ اور اس بارے میں خان صاحب سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یو ٹرن لینا کس قدر تکلیف دہ عمل ہے۔ ’’ کوئی بھی جنگ شروع ہونے تک فیصلہ سازوں کے قابو میں رہتی ہے۔ شروع ہو جائے تو فیصلہ ساز جنگ کے قابو میں ہوتے ہیں ‘‘۔ اگر اس ضرب المثل کی عملی تعبیر دیکھنی ہو تو افغان جنگ کے پاکستان کے ساتھ رشتے میں دیکھ لو۔ پاکستان کی عمر تہتر برس ہے اور افغان جنگ کی عمر چالیس برس۔ گویا پاکستان کی ساٹھ فیصد زندگی افغان لڑائی اور اس کے اثرات تلے گذر گئی اور گذر رہی ہے۔

    مگر ہم بھی کتنے سادے ہیں کہ انیس سو اڑتالیس انچاس کی چھ ماہ کی جنگِ کشمیر ، سترہ دن کی پینسٹھ کی جنگ ، ڈیڑھ ماہ کی اکہتر کی جنگ اور چار ماہ کے کرگل ایڈونچر کو تو بھرپور جنگیں سمجھتے ہیں مگر چالیس برس سے اپنی ہی زمین پر لڑی جانے والی افغان لڑائی کو کسی کھاتے میں نہیں ڈالتے۔ بلکہ اسے ہم کوئی جنگ ہی نہیں سمجھتے۔ حالانکہ جتنی اقتصادی ، سماجی ، جانی و مالی تباہی و عسکری نقصان پاکستان کو افغان جنگ نے پہنچایا وہ ان چاروں جنگوں سے ہزار گنا زیادہ ہے جنھیں ہم تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ پچھلے چالیس برس سے ہم جس جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ ہم پر امریکا اور سعودی عرب وغیرہ نے نہیں تھوپی بلکہ ضیا الحق نے آگے بڑھ کر خریدی اور پھر باقی دنیا نے اس جنگ کو پاکستان پر بطور بار برداری لاد دیا۔ ہم نے دنیا کی پہلی آؤٹ سورس جنگ خریدی اور پھر آگے آؤٹ سورس کرنی شروع کر دی اور انھوں نے مزید آگے کرائے پر چلانا شروع کر دی۔ اب تو خیر سے یہ ایسی اربوں کھربوں کی صنعت بن چکی ہے جس پر لاکھوں لوگوں کا تکیہ ہے۔

    یہ پہلی جنگ تھی جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ صرف جنگ نہ رہی بلکہ اسے طرح طرح سے پیکیج کر کے مارکیٹنگ کی گئی۔ جس طرح بکرے کی ران ، پٹھ ، گردن ، سری پائے، کلیجی گردے ، اوجھڑی اور کھال الگ الگ بیچے جاتے ہیں۔اسی طرح مسلسل جاری افغان جنگ کے پیٹ سے منشیات کی ایک پوری ایگرو بیسڈ انڈسٹری ، آڑھتی اور فروخت کرنے والوں کو ملا کر ڈرگ ایمپائر وجود میں آئی۔ اسی ایمپائر کے چچیروں نے اسلحے کا کام بھی شروع کر دیا اور پھر اس ایمپائر نے جو کالا دھن پیدا کیا وہ مختلف اداروں اور سیاست و معیشت میں بٹ بٹا کر جذب ہوتا چلا گیا۔ انتہا پسندی کو آکسیجن اسی سرمائے سے ملی اور آج انتہا پسندی اپنی معیشت میں خود کفیل ہے۔ اس بٹ بٹائی کے نتیجے میں ایک نئی پولٹیکو اکنامک کلاس وجود میں آئی جس نے جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے بزنس کو ایک آرٹ فارم کی شکل دے دی۔ اور ہمیں نئی اصطلاحات ، نئے امکانات نئے مستقبل کے ڈزنی لینڈ کی طرف لگا دیا تاکہ پاکستان کو چالیس برس سے درپیش سب سے بڑی اور مسلسل جنگ کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں دیکھنے کے بجائے کوئی باؤلا اس کا ایسا میورل نہ بنا لے جس میں ہر واقعہ ، ہر کردار اور ہر مفاد ایک دوسرے سے جڑا ہوا نظر آجائے۔ میورل سوالات کو جنم دے گا اور سوال کتنا بھی معصوم ہو لیکن اپنے جوہر میں ہوتا خطرناک ہی ہے۔

    عمران خان جب کہتے ہیں کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ پاکستان آیندہ کبھی کسی جنگ میں شرکت نہیں کرے گا تو کیا انھیں احساس ہے کہ اس ایک سیدھے سادے بے ضرر سے وعدے کو ریاض ، دلی ، تہران ، کابل ، بیجنگ اور واشنگٹن کس طرح اپنے اپنے مفاداتی عدسے لگا کے کتنی سنجیدگی یا غیرسنجیدگی سے دیکھ رہے ہوں گے ؟ اگر اس برے میں سے اب تک کچھ اچھا ہوا ہے تو شائد یہ کہ پاکستان اب زمانے کی مار کھا کھا کے سیانا ہو گیا ہے۔ پہلے وہ کسی کام کی قیمت طے کرنے کے لیے سودے بازی نہیں کرتا تھا اور موٹے موٹے حساب پر مان جاتا تھا۔ اب وہ فی اسکوائر فٹ فی گھنٹہ چارج کرنا سیکھ گیا ہے۔ کوئی ملک بھلے سپر پاور ہی کیوں نہ ہو اپنی جنگ خود نہیں لڑنا چاہتا۔ بلکہ چاہتا ہے کہ کوئی پیسے لے کر اس کی طرف سے لڑ لے۔ پاکستان بھی وقت کے ساتھ ساتھ سپر پاورز کی یہ تکنیک سیکھ گیا ہے اور اس نے اپنے اہداف بھروسے کی تنظیموں کو ایک عرصے سے آؤٹ سورس کرنے شروع کر دیے ہیں۔ مگر پاکستان کو ابھی اس تکنیک میں مزید مہارت حاصل کرنا باقی ہے کہ کام نکالنے کے بعد کسی بھی پارٹی کو نیوٹرلائز یا ناکارہ کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ وہ کسی اور سے مال پکڑ کے پاکستان پر ہی نہ پلٹ جائے۔ جیسا کہ حالیہ برسوں میں کچھ تلخ تجربات ہوئے ہیں۔

    خان صاحب کا یہ ارادہ اپنی جگہ نہایت مثبت ہے کہ پاکستان آیندہ کسی اور کی جنگ میں حصہ دار نہیں بنے گا۔ مگر اس وعدے پر قائم رہنا کسی بھی کمزور ملک کے لیے آسان نہیں۔ اگر آپ کی آمدنی کا مستقل اور قابلِ اعتماد ذریعہ نہ زراعت ہو ، نہ صنعت ، نہ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے آنے والا زرِ مبادلہ۔ اگر آپ کا ٹیکس بیس مضبوط نہ ہو ، اگر آپ کا خرچ آپ کی بچت سے دس ہاتھ آگے ہو ، اگر آپ واجبات کی عدم وصولی ، لیکیج ، کرپشن اور مصلحت آمیز احتساب بازی کے عادی ہوں اور اس کے نتیجے میں ہر آن بڑھتے خسارے کو سینگوں سے پکڑنے کے بجائے چند دن اور ٹالنے یا آگے ہنکالنے کے لیے کشکول لے کر قرض ، خیرات کی تلاش یا پھر قومی زیورات رہن رکھوانے کو بھی عار نہ سمجھیں تو پھر آپ کچھ بھی عزم ظاہر کرتے رہیں آپ کی ریاست اور اس کے ادارے برائے فروخت یا ترغیب و تحریص کے اسیر ہی رہیں گے۔ اس کے بعد ’’ نوکر کی تے نخرا کی۔ اپنی لڑائی کی تے پرائی کی ؟‘‘۔

    وسعت اللہ خان
     


older | 1 | .... | 139 | 140 | (Page 141) | 142 | 143 | .... | 149 | newer