Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 136 | 137 | (Page 138) | 139 | 140 | .... | 149 | newer

    0 0

    12 اکتوبر 1999ء کو جب آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے دو تہائی اکثریت رکھنے والی جمہوری حکومت پر شب خون مارا تو جسٹس سعید الزماں صدیقی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے اس غیر آئینی اقدام کے خلاف جب سپریم کورٹ میں دائر مقدمے میں اُن کے خلاف فیصلہ آنے کے اشارے ملے تو جنرل پرویز مشرف کے مشیر خاص ’’جادوگر‘‘ شریف الدین پیرزادہ نے جنرل پرویز مشرف کو مشورہ دیا کہ چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اور دیگر ججز سے پی سی او کے تحت حلف لیا جائے تاکہ غیر آئینی اقدام کو آئینی تحفظ دیا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے جسٹس سعید الزماں صدیقی پر دبائو ڈال کر انہیں جی ایچ کیو طلب کیا گیا۔ اس ملاقات میں وزیر قانون عزیز منشی اور شریف الدین پیرزادہ بھی موجود تھے۔ 

    پرویز مشرف نے سعید الزماں صدیقی پر دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ آپ فوری طور پر پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر مجھے آئین میں ترمیم کی اجازت دیں لیکن جسٹس سعید الزماں صدیقی نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا جس پر جنرل پرویز مشرف طیش میں آگئے اور کہا کہ ’’میں پاکستان کا چیف ایگزیکٹو اور پاک فوج کا سربراہ ہوں اور انکار سننے کا عادی نہیں۔‘‘ پرویز مشرف کے یہ الفاظ سن کر بظاہر نحیف نظر آنے والے سعید الزماں صدیقی یہ کہتے ہوئے اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے کہ ’’میں بھی پاکستان کا چیف جسٹس ہوں اور آئین کے منافی کوئی قدم نہیں اٹھائوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر جسٹس سعید الزماں صدیقی جب کمرے سے رخصت ہونے لگے تو وہاں موجود شریف الدین پیرزادہ نے سعید الزماں صدیقی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اوے سعید! اگر تم نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تو تمہاری چھٹی ہو جائے گی لیکن اگر تم ہمارا ساتھ دو گے تو طویل عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہو۔‘‘

    اُسی شام 4 سینئر جنرلز آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ، وفاقی وزیر داخلہ اور جنرل محمود چیف جسٹس ہائوس اسلام آباد پہنچے۔ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل احسان کے ہاتھ میں سپریم کورٹ کے ججز کی فائلیں تھیں جن پر ریڈ، یلیو اور گرین فلیگ چسپاں تھے۔ ریڈ فلیگ فائلیں اُن ججز کی تھیں جو کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث تھے، یلیو فلیگ فائلوں کے حامل ججز کے خلاف مختلف الزامات کی تحقیقات جاری تھیں جبکہ گرین فلیگ کی چند فائلیں اُن ججز کی تھیں جن کا کردار بے داغ تھا۔ اس موقع پر فوجی جنرلز نے جسٹس سعید الزماں صدیقی کو بتایا کہ ریڈ اور یلیو ٹیگ فائلوں کے حامل تمام ججز پی سی او تحت حلف اٹھانے کو تیار ہیں لہٰذا آپ بھی اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں مگر جسٹس سعید الزماں صدیقی کسی دبائو میں نہ آئے اور جنرلز سے کہا کہ وہ یہاں سے تشریف لے جا سکتے ہیں۔ 

    بعد ازاں سعید الزماں صدیقی کو فیملی سمیت نظر بند کر دیا گیا اور اُسی رات اس وقت کے سیکرٹری قانون ثاقب نثار نے ججز انکلیو جا کر اُن تمام ججز سے فرداً فرداً کنفرمیشن حاصل کی جنہوں نے اگلے روز پی سی او کے تحت حلف اٹھانا تھا۔ اگلی صبح جسٹس ارشاد حسن خان نے چیف جسٹس اور دیگر جج صاحبان نے نہ صرف پی سی او کے تحت اپنے عہدے کا حلف اٹھایا بلکہ جنرل پرویز مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دے کر اُنہیں 3 سال کیلئے ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے کام کرنے اور آئین میں ترمیم کے اختیارات بھی دے دیئے جبکہ دوسری طرف گرین فلیگ فائلوں کے حامل جج صاحبان جسٹس سعید الزماں صدیقی، جسٹس کمال منصور عالم، جسٹس وجیہہ الدین، جسٹس ممنون قاضی اور جسٹس خلیل الرحمن خان نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا اور تاریخ میں امر ہو گئے۔ 

    جسٹس سعید الزماں صدیقی سے میرے بڑے دیرینہ تعلقات تھے جنہیں میں ’’سعید بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کرتا تھا۔ مذکورہ بالا واقعہ سعید الزماں صدیقی نے مجھے اپنی زندگی میں بڑے دکھی لہجے میں سنایا تھا جس کے گواہ اُن کے صاحبزادے افنان الزماں صدیقی ایڈووکیٹ بھی ہیں۔ اسی طرح جسٹس افتخار محمد چوہدری جب چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تو انہوں نے جنرل پرویز مشرف کو اپنے مکمل تعاون و حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ ’’جیسا آپ کہیں گے، ویسا ہی ہو گا۔‘‘ اس بات کا اعتراف جنرل پرویز مشرف نے خود اپنے کئی ٹی وی انٹرویوز میں کیا تھا لیکن جب اسٹیل مل کی نجکاری کا فیصلہ سامنے آیا تو جنرل پرویز مشرف، جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ناراض ہو گئے اور 9 مارچ 2007ء کو اُنہیں جی ایچ کیو طلب کیا۔

    اس ملاقات میں بھی آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر سینئر جنرلز موجود تھے۔ دوران ملاقات افتخار چوہدری کو بتایا گیا کہ خفیہ اداروں کے پاس اُن کے خلاف بہت سے مواد موجود ہیں، اس لئے بہتر ہے کہ آپ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں مگر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے صاف انکار کر دیا جس پر جنرل پرویز مشرف طیش میں آگئے اور افتخار چوہدری کے خلاف کچھ نازیبا الفاظ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔ بعد میں انہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ہدایت کی کہ آپ افتخار چوہدری سے نمٹیں۔ اس طرح جسٹس افتخار محمد چوہدری کئی گھنٹے تک جی ایچ کیو میں محصور رہے اور اس دوران جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے چیف جسٹس کا حلف اٹھوا لیا گیا۔ افتخار چوہدری جب جی ایچ کیو سے باہر آئے تو اُن کی گاڑی سے چیف جسٹس کا جھنڈا اتارا جا چکا تھا جس سے انہوں نے اندازہ لگالیا کہ وہ اب چیف جسٹس نہیں رہے۔

    مذکورہ بالا واقعات بیان کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ عدلیہ ہر دور میں اداروں کے دبائو کا شکار رہی ہے مگر کچھ ججز ایسے بھی ہیں جنہوں نے ان قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آج اس صف میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے قابل احترام جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی بھی شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں فوج کے ایک ادارے پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’یہ ادارہ عدالتی معاملات میں پوری طرح جوڑ توڑ کرنے میں مصروف عمل ہے حتیٰ کہ عدالتی بنچ بھی اِسی ادارے کی مرضی سے لگتے ہیں اور اس ادارے نے چیف جسٹس تک اپروچ حاصل کر کے کہا تھا کہ ’’الیکشن تک نواز شریف اور اُن کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دیا جائے اور نہ ہی جسٹس شوکت صدیقی کو بنچ میں شامل کیا جائے۔‘‘ جسٹس شوکت صدیقی نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ’’مجھے معلوم ہے کہ نیب عدالت کی روزانہ کی پروسیڈنگ کہاں جاتی ہیں اور سپریم کورٹ تک کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے۔‘‘

    جسٹس شوکت صدیقی کے ادارے پر لگائے گئے مذکورہ الزامات نے کسی ذی شعور شخص کو حیرانی سے دوچار نہیں کیا کیونکہ پانامہ لیکس پر جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد سے اِس طرح کے اشارے مل رہے تھے کہ کچھ ادارے عدالتی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں تاہم الیکشن سے کچھ روز قبل جسٹس شوکت صدیقی کے انکشافات نے پاکستان کی انتخابی و سیاسی صورتحال میں ہیجان انگیزی پیدا کر دی ہے۔ گوکہ اس سے قبل بھی اداروں پر الزامات لگتے رہے ہیں مگر یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہائیکورٹ کے کسی حاضر سروس سینئر جج نے اداروں پر کھل کر الزامات لگائے ہیں۔ ان الزامات میں فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی میں اس طرح کی مداخلت ڈکٹیٹر کے دور میں کی جاتی تھی مگر اب یہ جمہوری دور میں بھی ہو رہا ہے جس نے ہر ذی شعور شخص کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا ہمارے ادارے عدلیہ میں بھی سرایت کر گئے ہیں جو اُن پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی کے بقول عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے اور عدلیہ اب بندوق والوں کے کنٹرول میں ہے جو اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہے ہیں تاہم آئی ایس پی آر نے جسٹس صدیقی کے اِن الزامات کی تردید کرتے ہوئے چیف جسٹس سے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کچھ لوگوں کا یہ کہنا کہ جسٹس شوکت صدیقی کا پبلک میں آکر الزامات لگانا غلط تھا اور انہیں یہ شکایت چیف جسٹس سے کرنا چاہئے تھی لیکن میرے خیال میں یہ منطق دینے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جسٹس صدیقی کے الزامات میں چیف جسٹس پر بھی انگلی اٹھائی گئی ہے مگر چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ’’کسی مائی کے لال کی یہ جرات نہیں کہ وہ عدلیہ پر دبائو ڈال سکے۔‘‘ اداروں پر الزامات ایک حساس معاملہ ہے اور بات اب سپریم جوڈیشل کونسل سے بھی آگے نکل چکی ہے لیکن اگر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے اچھی ساکھ کے حامل ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل عدالتی کمیشن کا اعلان کیا جائے جو مختصر مدت میں رپورٹ منظر عام پر لائے تاکہ دودھ کا ددھ اور پانی کا پانی سامنے آسکے۔

    جسٹس شوکت صدیقی کا شمار پاکستان کے معتبر ججز میں ہوتا ہے جن کی ایمانداری و حب الوطنی پر شک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اتنے اہم منصب پر فائز کوئی حاضر سروس سینئر جج بغیر ثبوت اتنے بڑے الزامات لگا سکتا ہے تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی نے یہ الزامات پاکستان کی مسلح افواج اور پوری عدلیہ پر نہیں بلکہ فوج کے ایک مخصوص شعبے اور مخصوص ججز پر لگائے گئے ہیں، اس لئے پاک فوج اور معزز عدلیہ کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ آرمی چیف سے درخواست ہے کہ وہ جسٹس شوکت صدیقی کے الزامات کی تحقیقات کروائیں اور الیکشن میں فوج کو مکمل طور پر غیر جانبدار رہنے کی واضح ہدایت کی جائے کیونکہ فوج کی سب سے بڑی طاقت عوام کی حمایت ہے اور فوج کو اِس سرمائے کی ہر قیمت پر حفاظت کرنا چاہئے۔

    مرزا اشتیاق بیگ
     


    0 0

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن 2018ء میں کامیابی کے بعد اپنی رہائشگاہ سے قوم سے جو پہلا خطاب کیا، اس سے انتخابات کی شفافیت سمیت کئی امور پر چھائی دھند کم کرنے میں مدد ملی۔ ایسے منظر نامے میں، کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی عدالتی فیصلے کے تحت نااہلی کے بعد تواتر سے آنے والے بعض بیانات الیکشن 2018ء کو متنازع بنا رہے ہیں اور 25؍ جولائی کی الیکشن کمیشن کی کارکردگی سیاسی حلقوں کی شدید نکتہ چینی کی زد میں ہے، عمران خان کے مذکورہ خطاب کو دیگر امور کے علاوہ ماحول کی ضرورت بھی کہا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو انتخابات میں دھاندلی کی شکایت ہے تو ہم تعاون کریں گے اور اس ضمن میں تمام حلقے کھلوانے کیلئے تیار ہیں۔

    انکا یہ وعدہ اس پس منظر میں خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ الیکشن 2013ء کے بعد خود عمران خان کی پارٹی نے دھاندلی کے الزامات لگا کر چار حلقے کھلوانے پر زور دیا تھا۔ وطن عزیز کی انتخابات کی تاریخ میں دھاندلی کے الزامات کوئی نئی بات نہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیرمحض تکنیکی مسائل کا شاخسانہ ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے کئے گئے اس دعوے کو باضابطہ تحقیقات کے ذریعے جانچا جائے کہ انتخابات سو فیصد شفاف ہیں۔ عمران خان کا اپنا موقف بہرحال یہ تھا کہ الیکشن کمیشن ان کی پارٹی پی ٹی آئی کا تشکیل کردہ نہیں بلکہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی مشاورت سے بنا تھا۔ انکا یہ بیان سراہا جانا چاہئے کہ انکی مخالفت کرنے والوں اور ناقدین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی اور قانون کی بالادستی قائم کی جائیگی۔ 

    مذکورہ تقریر میں عمران خان نے اپنا اصلاحاتی پلان متعارف کرایا جسکا مقصد غربت کا خاتمہ کرنا، بے روزگاری گھٹانا اور گڈ گورننس کے ذریعے ملکی معیشت بہتر بنانا بتایا گیا۔ انہوں نے امریکہ، چین، ایران، سعودی عرب، افغانستان سے تعلقات کو زیادہ موثر و مفید بنانے کا عزم ظاہر کیا، مشرق وسطیٰ میں جنگوں کے خاتمے میں معاونت کی حکمت عملی کا اعلان کیا، مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت اجاگر کی اور پاک بھارت تعلقات کے فروغ خصوصاً تجارت میں اضافے کو برصغیر کے مفاد کا حصہ قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت امن کیلئے ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کیلئے اسلام آباد بھرپور تعاون کریگا۔ پاکستان کو مدینے جیسی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کے اظہار کے ساتھ عمران خاں نے وعدہ کیا کہ ہم سادگی اپنائیں گے، سرکاری اخراجات کم کریں گے، وزیر اعظم ہائوس کو تعلیمی اور تمام گورنر ہائوسز کو عوامی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا.

    عوام کا ٹیکس چوری نہیں ہو گا، احتساب مجھ سے شروع ہو گا، اور میرے بعد وزراء کی باری آئے گی، ہمارا کوئی آدمی غلط کام کرے گا تو اسے پکڑیں گے اور قانون سب کے لئے یکساں ہو گا۔ عمران خان نے درست نشاندہی کی کہ ہمیں خود اپنے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ کوئی باہر سے آکر انہیں حل نہیں کرے گا۔ انہوں نے غریبوں کی حالت بہتر بنانے، کرپشن ختم کرنے اور بیرون ملک پاکستان کی امیج بہتر بنانے کے جن عزائم کا اظہار کیا وہ ہر پاکستانی کے خوابوں کا حصہ ہیں۔ اس نوع کے پروگراموں کو روبہ عمل لانے کے لئے کئی جمہوری ممالک میں ہر پارٹی کے پاس ماہرین کے سیل روڈ میپ سمیت تمام تیاریوں سے ہر وقت لیس ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف نے اگر اپنے منشور پر عملدرآمد کے لئے تیاریاں کر رکھی ہیں تو وزارتوں سمیت تمام مناصب پر موزوں ترین افراد کو لانا ہو گا اور مختلف شعبوں میں روڈ میپ تیار کرنے اور عملدرآمد کی نگرانی کرنے والوں کو فوری طور پر متحرک کرنا ہو گا۔ جہاں تک قوم سے دعا کی اپیل کا تعلق ہے پاکستانی عوام ماضی سے جاری اپنی روایت کے مطابق اس بار بھی دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ نئے حکمرانوں کو اپنے وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    یہ بات کوئی راز نہیں کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستانی شہریت رکھنے والے لاکھوں افراد نے قومی خزانے سے لوٹی ہوئی، ٹیکس چوری اور دوسرے ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی رقوم بڑے پیمانے پر بیرونی ملکوں میں منتقل کی ہیں۔ ان ناجائز رقوم کو پاکستانی ٹیکس حکام سے بھی خفیہ رکھا گیا ہے۔ گزشتہ 20 برسوں سے مختلف حکومتوں اور خود سپریم کورٹ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا جاتا رہا تھا کہ ان رقوم کی پائی پائی پاکستان واپس لائی جائے گی۔ اب سے 19 برس قبل ہم نے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے سامنے ملکی و بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لئے گزارشات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بیرونی ملکوں میں رکھی ہوئی ناجائز دولت کا صرف 25 فیصد ہی پاکستان واپس لایا جا سکے تو پاکستان نہ صرف اپنے تمام بیرونی قرضے ادا کر سکتا ہے بلکہ آئندہ بھی بیرونی قرضے لینے سے بے نیاز ہو جائے گا سپریم کورٹ کی اس بینچ کے سربراہ نے اپنے 23 دسمبر 1999ء کے فیصلے میں صفحہ 606 سے صفحہ 610 تک ہماری گزارشات اور تجاویز کو شامل کیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے از خود نوٹس کیس میں سماعت کے دوران کہا کہ یہ بات زد عام ہے کہ جو پیسہ باہر لے جایا گیا ہے اگر وہ واپس آجائے تو پاکستان اپنے تمام بیرونی قرضے ادا کر سکتا ہے۔ چف جسٹس نے یہ نوٹس ناجائز دولت بیرونی ملکوں سے واپس لانے کے لئے لیا تھا۔ یہ یقیناً ایک قومی المیہ ہے کہ 8؍ اپریل 2018ء کو بیرونی ملکوں سے رکھی ہوئی ناجائز رقوم کو ظاہر کرنے اور واپس لانے کے لئے جو صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے اس میں بیرونی ممالک میں رکھی ہوئی ان ناجائز رقوم کو صرف 5 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر باہر ہی رکھنے کی اجازت دے کر قانونی تحفظ فراہم کرنے کی شق شامل کر دی گئی ہے۔ یہ آرڈیننس قومی سلامتی اور مفادات سے متصادم ہے اور اس میں ناجائز دولت رکھنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اس کے تباہ کن اثرات موجودہ مالی سال اور آئندہ برسوں پر محیط رہیں گے۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ وفاق ہائے صنعت و تجارت نے ناجائز دولت کو پاکستان واپس لانے کا مطالبہ ضرور کیا تھا لیکن یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ ان رقوم کو باہر رکھنے کی اجازت دی جائے۔

    سپریم کورٹ نے 12؍ اپریل 2018ء کو کہا تھا کہ عدالت اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا جائزہ لے گی مگر 12 جون 2018ء کو قرار دیا کہ سپریم کورٹ کو اس اسکیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے یکم فروری 2018ء کو یہ ازخود نوٹس زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر گرتے چلے جانے کی وجہ سے لیا تھا لیکن 8؍ اپریل 2018ء کو جاری کردہ ٹیکس ایمنسٹی کے تحت اول ناجائز دولت کو پاکستان واپس لانے کے بجائے باہر رکھنے کی اجازت دے کر اور دوم، ناجائز ملکی اثاثوں کو صرف 5 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر قانونی تحفظ فراہم کر کے جو صورت حال پیدا کر دی گئی اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر گرے اور روپے کی قدر میں پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے کمی ہوئی۔ یہی نہیں نگراں حکومت نے سپریم کورٹ کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے بجائے اپنے اختیارات سے تجاویز کرتے ہوئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں میں توسیع کی اور مندرجہ بالا تباہ کن شرائط کو برقرار بھی رکھا۔

    سپریم کورٹ نے پاکستان سے منتقل کی گئی ناجائز رقوم ملک میں واپس لانے کے لئے ازخود نوٹس آئین پاکستان کی شق 184(3) کے تحت لیا تھا۔ اس شق کا تعلق مفاد عامہ اور بنیادی انسانی حقوق سے ہے چنانچہ یہ از حد ضروری تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کی ہوئی رقوم کو لازماً پاکستان لایا جائے۔ اس کے بجائے ان رقوم کو باہر ہی رہنے دینے کی اجازت سے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونے کے بجائے الٹا ان حقوق کی پامالی ہوئی ہے کیونکہ اگر یہ رقوم پاکستان آتیں تو ان رقوم کو تعلیم، علاج معالجے، عوام کی فلاح و بہبود اور پاکستان کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ یہ بات نوٹس کرنا اہم ہے کہ سپریم کورٹ کے 12 جون 2018 کے آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ہمیں بتلایا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے 26 مارچ 2018 کے آرڈر کے بعد وفاقی حکومت نے ناجائز بیرونی اثاثوں کے لئے 8؍ اپریل 2018 کو ایمنسٹی اسکیم کا اجرا کیا تھا۔ ایک اور ناقابل فہم بات یہ ہے کہ 8؍ اپریل کو ہی جاری کردہ ایک دوسرے آرڈیننس میں صرف 5 فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر ملک کے اندر موجود ناجائز اثاثوں کو بھی تحفظ فراہم کیا گیا ہے حالانکہ اول، ملکی اثاثوں کی تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں دوم یہ اثاثے حکومت کی دسترس میں ہیں اور سوم ان ناجائز اثاثوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ وفاق ہائے صنعت و تجارت کی طرف سے کیا ہی نہیں گیا تھا۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا تھا:
    * لوٹی ہوئی دولت باہر سے واپس لا کر تعلیم اور صحت پر خرچ کی جائے گی۔
    * انتخابات سے تین روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ میرے پاکستانیوں! کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر لے جایا جاتا رہا ہے۔ ہم کوپیسہ واپس لانا ہے۔

    تحریک انصاف کے 2013 کے انتخابی منشور کے چند نکات جو صوبوں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں وہ یہ ہیں۔
    * بدعنوانی کے ذریعے کمائی رقوم واپس لے کر تعلیم پر خرچ کی جائے ۔
    * جائیدادوں کے ’’ڈی سی ریٹ‘‘ کو مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لایا جائے گا۔
    * زرعی شعبے اور جائیداد سیکٹر کو مؤثر طور پرٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا۔
    * جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم کی مد میں 5 فیصد اور صحت کی مد میں 2.6 فیصد خرچ کیا جائے گا۔

    طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لئے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی گزشتہ 5 برسوں میں ان سے مکمل انحراف کیا گیا۔ ’’ووٹ کی عزت‘‘ اور مندرجہ بالا چھ وعدوں کو پورا کرنے کیلئے جو اقدامات اگست 2018 میں اٹھانا لازمی ہیں ان میں سے چند یہ ہیں:

    * انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 111 (4) لوٹی ہوئی دولت کو قانونی تحفظ فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ ہے اس شق کو منسوخ کا جائے۔
    * کھلی منڈی سے ڈالر خرید کر بیرونی کرنسی کے کھاتوں میں جو رقوم جمع کرائی جاتی ہیں ان کو صرف تعلیم اور علاج معالجے کے لئے باہر بھیجنے کی اجازت دی جائے۔
    * غیر منقولہ جائیداد سیکٹر لوٹی ہوئی دولت کو محفوظ جنت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ کا بڑا ذریعہ ہیں۔ جائیدادوں کی خرید و فروخت کی رجسٹریشن مارکیٹ سے کم نرخوں پر نہ کی جائے۔
    * لوٹی ہوئی اور ٹیکس چوری کے ملک کے اندر موجود اثاثوں کی تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں۔ ایف بی آر کو احکامات جاری کئے جائیں کہ مروجہ ملکی قوانین کے تحت ان سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ اس مد میں چند ماہ میں تقریباً ایک ہزار ارب روپے کی وصولی ہو سکتی ہے۔
    * وفاق اور صوبے ہر قسم کی آمدنی پر مؤثر طور پر ٹیکس عائد کریں اور معیشت کو دستاویزی بنائیں۔ تعلیم و صحت کی مد میں جی ڈی پی کا 7.6 فیصد لازماً مختص کیا جائے۔
    * نگراں حکومت کے دور میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں توسیع کے لئے جو آرڈیننس جاری کیا گیا تھا قومی اسمبلی سے اس کو لازماً مسترد کرایا جائے۔
    * پاکستانی شہریوں کے ملک سے باہر رکھے ہوئے ناجائز اثاثوں کی کچھ تفصیلات حکومتی اداروں کے علم میں ہیں۔ ان کو واپس لانے اور ملک سے سرمائے کے فرار کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔
    * سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے 2016 اور 2017ء میں نیب کے متعلق جو متعدد ریمارکس دئے تھے ان کی روشنی میں احتساب کا عمل شروع کیا جائے۔

    ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
     


    0 0

    ابھی سرکاری انتخابی نتائج کا اعلان بھی نہ ہوا تھا کہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ’عوام سے خطاب‘ نما تقریر کر ڈالی۔ جیت کا یقین ہو تو ایسا۔ واہ ! جی خوش کر دیا۔ اب پیچھے رہ گئے ہارنے والے تو انھوں نے حسبِ توقع اور حسبِ روایت دھاندلی کا رونا شروع کر دیا۔ انتخابات میں دھاندلی کرنا، سفارشی بھرتی کرانا، امتحان میں نقل کرنا اور تاریخِ پیدائش میں ہیر پھیر کرنا ہمارے ایسے قومی کھیل ہیں جنھیں کھیلے بغیر کوئی بڑا نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے سیاست کا سفر شروع کیا تو میں ابھی کالج میں تھی۔ میں تو ابھی تک خود کو طفلِ مکتب ہی سمجھتی ہوں مگرعمران خان ایسا سیاسی قد نکال گئے کہ اب کہیں بادلوں سے اوپر سر ہے۔ ظاہر سی بات ہے پرانے کھلاڑی ہیں۔

    یورپی یونین کے مبصرین کو انتخابات میں 'غیر جمہوری قوتیں'نظر آ رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کو 'خلائی مخلوق'بھی دکھائی دی۔ درجنوں کے حساب سے ویڈیوز ادھر سے ادھر بھیجی جا رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔ عرض یہ ہے کہ جو ہوا وہ آ ج سے نہیں ہو رہا۔ ہمارا خاصا خرچہ ہو گیا ہے، کئی دیہاڑیاں ضائع ہو ئی ہیں، ہم روز کی روز کما کر کھانے والے لوگ ہیں، آپ کی میوزیکل چیئر کے لیے کب تک اپنا کندھا پیش کرتے رہیں گے۔؟ ’ بندھ گیا سو موتی، رہ گیا سو کنکر‘۔ اب عمران خان اپنے نو رتنوں کے ساتھ میدان میں آ ئے ہیں۔

    ان کی تقریر سن کر سب نے واہ واہ کی، بغلیں بجائیں اور نقارے پیٹے۔ ہاں جو سنا تھا کہ مشرقی سرحد کی طرف منہ کر کے بکرے بلائے جائیں گے وہ نہ ہوا، سفید کبوتر چھوڑے گئے۔ شنید ہے کہ کبوتروں کو پکڑ لیا گیا ہے اور ان کی جانچ پڑتال ہو رہی ہے کہیں مخبر ہی نہ ہوں۔ عمران خان کی مختصر تقریرکے تین اہم نکات تھے خارجہ پالیسی، خارجہ پالیسی اور خارجہ پالیسی۔ تقریر کی طرح انھیں خارجہ پالیسی کے اعلان کی بھی جلدی تھی۔ باقی باتیں تو ظاہر ہے تقریر کا مکھڑا سنوارنے اور مجھ جیسے احمق عوام کو بہلانے کے لیے شامل کی گئیں۔ وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کا لالی پاپ ہمیں جونیجو صاحب نے بھی دیا تھا، 600 سی سی گاڑیاں بھی خریدی گئی تھیں۔ نواز شریف نے کشکول توڑنے کی باتیں کیں تھیں۔

    بھٹو روٹی، کپڑا اور مکان لائے تھے اور جنرل ضیا نے ہمیں چادر اور چار دیواری کا ایسا تحفظ دیا کہ ہماری نسلیں یاد کریں گی۔ جنرل مشرف 'این لائٹینڈ ماڈریشن'کی سستی ٹافی لائے اور پھر ہم نے 'میثاقِ جمہوریت'کا گھونٹ پیا۔ خارجہ پالیسی کی یہ لائیں جس میں کشمیر کا کہیں ذکر نہیں ہے کافی حد تک قومی مفاد میں نظر آ تی ہے۔ ظاہر ہے ہمسائیوں کے ساتھ دوستی ہونی چاہیے لیکن دوستی کی شرائط کیا ہوں گی، یہ بھی واضح بھی کیا جانا چاہیے۔ ابھی تک تو سب کچھ روایتی چل رہا ہے اور روایت یہ ہی ہے کہ ہم جب بھی کوئی انقلابی بات کرتے ہیں تو اصل میں ملک کا بیڑہ غرق کرنے جا رہے ہوتے ہیں جو 25 سے 30 سال میں مکمل غرق ہوتا ہے۔

    مزید یہ کہ خارجہ پالیسی کے یہ اصول کیا صرف چار پڑوسیوں کے لیے ہی ہوں گے یا وسط ایشیا کی نو آزاد ریاستوں سے بھی تعلقات استوار کیے جائیں گے جو تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے ہمارے بہت قریب ہیں۔ باقی رہی بات کہ ملک کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے اور چین کا ماڈل سامنے رکھ کے غربت مٹائیں گے۔ سول اداروں میں ہوٹل اور یونیورسٹیاں کھولیں گے، کسان کے غم دور کریں گے، احتساب کریں گے تو اب ہم بہلے ہوؤں کو مزید نہ بہلائیں۔ تعلیم، صحت اور زراعت ان شعبوں میں لفاظی کے جوہر دکھانے کی بجائے زمینی حقائق کو سمجھ کر پالیسیاں بنائیں۔

    اتنا تو معلوم ہو گیا کہ 'ان'کے لیے صرف خارجہ پالیسی اہم ہے یعنی باقی میدان صاف ہے اور تحریکِ انصاف کے لیے سنہری موقع ہے کہ عوام کے دیرینہ مطالبات اورخواہشات کو پورا کرے۔ تعلیم اور صحت کو نجی شعبے سے آزاد کرا کے ملک میں یکساں تعلیمی نظام اور علاج کے بہتر اور مساوی مواقع فراہم کرے۔
    زراعت کے شعبے کی اصلاحات کا مطلب صر ف زرعی ٹیکس اور زمین کی کٹوتی نہیں ہوتی۔ اس وقت یہ شعبہ 'کالونی باز'انوسٹرز کی دلچسپی اور حکومت کی بے اعتنائی کا شکار ہے۔ پہلی تقریر کے لالی پاپ تو ہم نے پرانے لالی پاپ کے ساتھ سنبھال کر رکھ لیے ہیں لیکن اگر واقعی تحریکِ انصاف حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو کم سے کم ان تین شعبوں میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے باقی دو شعبے جن میں بہت بگاڑ ہے ان کا معاملہ ہم اللہ پہ چھوڑتے ہیں، ان سے خدا ہی پوچھے گا۔

    آمنہ مفتی
    مصنفہ و کالم نگار
     


    0 0

    ’’ہم اس الیکشن کو عوام کے مینڈیٹ پر ایک ڈاکا سمجھتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جو لوگ اکثریت کا دعویٰ کر رہے ہیں ان کے دعوے کو بھی تسلیم کیے جانے کے لائق نہیں سمجھتے۔ ‘‘ حالیہ انتخابات میں ملک بھر میں مبینہ دھاندلی کے خلاف گزشتہ روز اسلام آباد میں کل جماعتی کانفرنس کے بعد ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے موقف کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔ کانفرنس کی میزبانی میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف بھی ان کے ساتھ شریک تھے جبکہ جن سیاسی رہنماؤں نے اپنی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنس میں شرکت کی ان میں اسفندیار ولی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، آفتاب خان شیرپاؤ اور مصطفی کمال شامل ہیں۔

    مولانا فضل الرحمن نے تمام شرکاء کی ترجمانی کرتے ہوئے بتایا کہ پچیس جولائی کے انتخابات کو کل جماعتی کانفرنس نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے، ان جماعتوں کے جو لوگ منتخب ہوئے ہیں وہ حلف نہیں اٹھائیں گے تاہم شہباز شریف نے اس معاملے میں پارٹی سے مشاورت کی مہلت مانگی ہے۔ ایم ایم اے کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم دوبارہ انتخابات کرانے کے لیے پورے ملک میں تحریک چلائیں گے۔ کل جماعتی کانفرنس کے شرکاء حالیہ انتخابات میں جس دھاندلی کے شاکی ہیں، بلاشبہ پورے ملک میں اس حوالے سے ایک قوی تاثر موجود ہے۔ یہ شکایت بہت سے مقامات پر سامنے آئی ہے کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران غیر متعلق افراد نے امیدواروں کے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ بوتھ سے باہر نکال کر گنتی کے عمل کو مکمل کیا، فارم پینتالیس فراہم نہ کیے جانے کی شکایتیں بھی پورے ملک میں رہیں.

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یورپی یونین کے مبصرین کے نمائندوں نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ’’کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔‘‘ وفد کے سربراہ مائیکل گالر کا کہنا تھا کہ ’’پولنگ کے دوران سیکوریٹی اداروں کے اہلکاروں کی پولنگ اسٹیشنوں کے اندر تعیناتی نا قابل فہم ہے ۔‘‘ انہوں نے ذرائع ابلاغ میں سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو یکساں مواقع نہ فراہم کیے جانے اور میڈیا پر انتخابات سے پہلے اور بعد میں ناروا پابندیاں عائد کیے جانے کی شکایت بھی کی۔ اس سب کے باوجود پورے انتخابی عمل کو سرے سے ناقابل قبول قرار دے کر نئے انتخابات کی تحریک چلانے کا کوئی ماحول ملک میں موجود نہیں.

    عوام ایسی کسی تحریک کی پذیرائی کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے یہی وجہ ہے کہ خود کانفرنس کے شریک میزبان اور نئی منتخب قومی اسمبلی میں متوقع قائد حزب اختلاف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کی جانب سے حلف نہ اٹھانے کے فیصلے کی حمایت میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا گیا حالانکہ ان کی پارٹی کو الیکشن کے انعقاد سے بہت پہلے سے منفی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنائے جانے کی سب سے زیادہ شکایت ہے ۔ انتخابات میں وفاق کی تیسری بڑی پارلیمانی جماعت کی حیثیت حاصل کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نہ صرف یہ کہ کل جماعتی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئی بلکہ اس کے سربراہ بلاول بھٹو نے انتخابی نتائج کو مسترد کر نے اور چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے کے باوجود تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی عمل سے باہر نہ نکلنے اور پارلیمنٹ میں لازماً جانے کا مشورہ بھی دیا ہے ۔ 

    مسلم لیگ ( ن) کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا بھی یہی کہنا ہے کہ اسمبلیوں کے بائیکاٹ سے جمہوریت اور وفاق کو نقصان پہنچے گا لہٰذا اس سے گریز کیا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ ایم ایم اے کے سربراہ اور ان کے دیگر ہم خیال رہنما معروضی حالات اور ان آراء کی معقولیت کا ادراک کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کے فیصلے کو واپس لے کر جمہوری عمل میں شریک رہتے ہوئے انتخابی دھاندلیوں کی شکایات کے ازالے کے لیے الیکشن ٹریبونل اور عدالتوں کے آئینی راستے کواختیار کریں گے تاکہ ملک کو جمہوری اور آئینی نظام کی پٹری سے اتر جانے کے خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    انتخابات میں دھاندلی اور الیکشن سے پہلے کس طرح تحریک انصاف کو جتوانے کے لیے پری پول ریکنگ کی گئی جیسے تنازعات میں پڑے بغیر میری خواہش ہے کہ عمران خان حکومت بنانے میں کامیاب ہوں اور اس قابل ہوں کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں، ملک میں سیاسی استحکام ہو، پاکستان ترقی کرے اور عوام کے مسائل حل ہوں۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی تقریر میں عمران خان نے بہت اچھی باتیں کیں۔ اب عمران خان کے لیے باتوں کا نہیں بلکہ عمل کرنے کا وقت آ چکا اور اب اُن کو ان کے عملی اقدامات کی بنا پر ہی جانچا جائے گا۔ اللہ کرے وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں۔

    اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا اور دھاندلی کے الزامات 2013 کے مقابلے میں بہت سنگین ہیں۔ مولانا فضل الرحمان، سراج الحق اور کچھ دوسری سیاسی جماعتیں اور رہنما تو انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے لیے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کو ہی ماننے سے انکاری ہیں اور وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں جو عمران خان گزشتہ پانچ سال کرتے رہے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایسے انتہائی اقدام کے حق میں نہیں۔ ڈی چوک میں دھرنے، لاک ڈائون کی سیاست، شہروں اور شاہراہوں کو بلاک کرنا، پارلیمنٹ کا بائیکاٹ اور استعفیٰ، ، سول نافرمانی کی تحریک اور بہت کچھ عمران خان نے کیا لیکن میں کبھی خواہش نہیں کروں گا کہ موجودہ اپوزیشن یہی کچھ دُہرائے کیونکہ اس کا نقصان پاکستان کو ہو گا۔ عمران خان کو کام کرنے دیا جائے اور اُن کے ہر اچھے کاموں میں رُکاوٹ کی بجائے ساتھ دیا جائے۔ 

    ابتدائی ہفتوں اور مہینوں میں پتا چل جائیگا کہ عمران خان کیا کرتے ہیں اور آیا اپنے وعدے پورے کرتے ہیں یا نہیں لیکن میری خان صاحب سے درخواست ہو گی کہ گزشتہ پانچ سال دوسروں پر جس سنگین نوعیت کے الزامات لگاتے رہے، اب حکومت میں آنے کے بعد اُن الزامات کی تحقیقا ت کرائیں اور دنیا پر ثابت کریں کہ وہ سچے تھے۔ اب تو خان صاحب کے ماتحت تمام ادارے، ایجنسیاں، پولیس، فوج سب ہوں گے۔ خان صاحب ثبوت کے ساتھ دنیا کو بتائیں کہ نواز شریف نے تین سو ارب روپیہ چوری کیا اور ملک سے باہر بجھوایا کیونکہ ایسا کوئی ثبوت نہ تو نیب اور نہ ہی کوئی اور عدالت میں پیش کر سکا۔ خان صاحب نواز شریف اور مودی کی یاری کے ثبوت بھی اب دنیا کے سامنے پیش کر دیں اور یہ بھی بتا دیں کہ شریف خاندان کا کون کون سا بزنس بھارت میں موجود ہے۔

    اگر کوئی غدار ہے تو اُسے ثابت کیا جائے اور قرار واقعی سزا بھی دی جائے۔ محض الزاما ت تو بار بار ہر دوسرے سول رہنما پر لگائے گئے۔ مجھے ڈر ہے کہ اب اس الزام کا نشانہ کہیں خان صاحب نہ بن جائیں کیونکہ انتخابی کامیابی پر اپنی تقریر میں انہوں نے بھی بھارت سے پاکستان کے اچھے تعلقات کی خواہش کے اظہار کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ اُن کے بھارت میں بہت سے لوگوں سے تعلقات ہیں۔ اپنی تقریر میں خان صاحب نے بھارتی جاسوس اور دہشتگرد کلبھوشن یادیو کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔ بہتر ہو گا خان صاحب ایسی باتوں سے پرہیز کریں اور فوری کلبھوشن کی پھانسی دینے کا بھی اعلان کر دیں ورنہ خطرہ ہے کہ کہیں اب خان صاحب کو بھی مودی کا یار نہ بنا دیا جائے اور غداری کے طعنے اُن کو بھی سننے کو نہ ملیں۔ 

    گزشتہ چار پانچ سال کے دوران خان صاحب نے جنگ گروپ اور میر شکیل الرحمن صاحب کا بھی بار بار نام لے لے کر غدار ی کے الزامات لگائے، یہ الزامات بار بار دہرائے کہ جنگ گروپ بھارت، امریکا اور یورپی ممالک سے پیسہ لے کر پاکستان کو بدنا م کر رہا ہے، جنگ گروپ نے نوازشریف حکومت میں اربوں روپے لے کر نواز حکومت کا دفاع کیا۔ اب تو حکومت اپنی ہو گی، ان الزامات کے ثبوت فوری سمیٹیں اور دنیا بھر کے سامنے جنگ گروپ کی غداری اور کرپشن کو ثابت کر کے قانونی ایکشن لیں۔ ہاں 2014 میں کنٹینر پر چڑھ کر خان صاحب نے کئی صحافیوں پر اُس وقت کے وزیر اعظم سے ملنے پر الزام لگایا کہ ہر ایک صحافی کو نواز شریف نے دو دو کروڑ دیے۔ 

    یہ ثبوت بھی سامنے لائیں اور متعلقہ صحافیوں کو عدالت سے سزا بھی دلوائیں۔ لیکن خان صاحب اگر آپ ایسا نہ کر سکے اور یقینا ًنہیں کر پائیں گے تو کم از کم اُن تمام افراد سے جن پر آپ بے بنیاد الزامات لگاتے رہے اُن سے معافی مانگ لیں۔ اپنی تقریر میں آپ نے یہ ذکر تو کیا کہ دوسروں نے آ پ پر ذاتی حملے کیے لیکن آپ وہ سب بھلا رہے ہیں جو بہت اچھی بات ہے لیکن کتنا اچھا ہوتا اسی تقریر میں آپ اُن انگنت لوگوں سے معذرت کرتے جن پر اپنے اختلافات کی وجہ سے آپ نے طرح طرح کے الزامات لگائے اوربد زبانی تک کی۔ ایسے افراد کی فہرست بہت لمبی ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ خان صاحب کو بھی یاد نہیں ہو گا کہ اُنہوں کو کس کس پر بے بنیاد الزامات لگائے اور اُنہیں بُرا بھلا کہا۔ لیکن ایک بات خان صاحب ضرور یاد رکھیں کہ اس سب کے باوجود اگر اُن کے خلاف کوئی سازش کی گئی، اُن پر غداری کے فتوے لگائے اور لگوائے گئے تو ہم ایسے کسی کھیل کا حصہ نہ پہلے بنے تھے نہ اب بنیں گے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں آرٹیکل 62 کے تحت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیرمین اور پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے کیس کی سماعت کرنے والا ڈویژنل بینچ تبدیل کر دیا گیا۔ بینچ سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی نااہلی کیلئے درخواست کیس کی سماعت کے لیے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹں میاں گل حسن اورنگزیب شامل ہیں۔ اس سے پہلے جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس عامر فاروق اس بینچ میں شامل تھے اور انہوں نے عمران خان سے یکم اگست تک جواب طلب کر رکھا تھا۔

    جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی نے عمران خاں کی نااہلی کی درخواست دائر کررکھی ہے۔ رواں ماہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے خفیہ ایجنسی پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح عدالتی معاملات میں جوڑ توڑ کرنے میں ملوث ہے۔ بقول اُن کے، ’’آئی ایس آئی والے اپنی مرضی کے بنچ بنواتے ہیں۔ خفیہ ادارے آئی ایس آئی والوں نے ہمارے چیف جسٹس کو اپروچ کر کے کہا نواز شریف اور مریم نواز کو الیکشن سے پہلے باہر نہیں آنے دینا۔ 

    ترجمان پاک فوج نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے ریاستی اداروں پر لگائے گئے سنگین الزامات کی تحقیقات اور کارروائی کی جائے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فاضل جج جسٹس شوکت صدیقی کے ساتھ بھی انصاف ہو گا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی گذشتہ 7 سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کردیا گیا۔ 

     


    0 0

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جی سی) سے درخواست کی ہے کہ تمام اعلیٰ عدالتوں کے ججز کی سرکاری رہائش گاہ پر آنے والے اخراجات سے متعلق تفیصلات کا ریکارڈ طلب کیا جائے۔
    ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ملک کی جوڈیشل تاریخ میں پہلی مرتبہ ایس جی سی پیر (30 جولائی) کو جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف دائر ریفرنس کی سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ریٹائرڈ ملازم کی جانب سے دائر شکایت میں الزام لگایا گیا کہ جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر زائد رقم خرچ کی۔

    چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں ایس جے سی جج کے خلاف تمام شواہد کی ریکارڈ کرے گا تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے کونسل میں دو درخواستیں پیش کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ 7 برس میں سپریم کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام ہائی کورٹس کے ججوں کی رہائش گاہ پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے حق میں دفاع کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت مذکورہ معلومات حاصل نہیں کر سکتے۔ جسٹس شوکت صدیقی نے درخواست میں استدعا کی کہ تمام اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے ذاتی گھروں پر کیے جانے والے اخراجات کی ریکارڈ طلب کیا جائے جسے سرکاری حیثیت حاصل ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام ججوں کی لسٹ فراہم کی جائے جو سرکاری رہائش گاہ ملنے کے باوجود ہاوس رینٹ کی مد میں 65 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے ہیں۔

    جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ ججوں کی سرکاری رہائش گاہ کے لیے سرکاری خزانے سے خریدے گئے فرنیچر اور دیگر کی معلومات بھی فراہم کی جائیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ آڈیٹ جنرل آف پاکستان ریونیوز، صوبائی اکاؤنٹنٹ جنرل، پاکستان ورکز ڈپارٹمنٹ، سی ڈی اے اور دیگر اداروں کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ وہ متعلقہ تفصیلات پیش کر سکیں اور اس کی ایک کاپی انہیں بھی فراہم کی جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی نے کونسل سے کہا کہ سی ڈی اے اعلیٰ افسر علی انور گوپانگ کے خلاف جاری انکوائری اور مقدمات کی تفصیلات بھی طلب کی جائیں۔ واضح رہے کہ علی انور گوپانگ کی جانب سے جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف ریفرنس تیار کیا گیا۔ علی انور گوپانگ پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے کاشف انور گوپانگ کی تقرری کی۔

    ناصر اقبال
     


    0 0

    پاکستان میں نگران حکومت کے دور میں الیکشن کے انعقاد سے قبل امریکی ڈالر 118 روپے سے بڑھ کر 130 تک پہنچ گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد ملک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر اب 122 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ بظاہر لگتا ایسا ہے کہ الیکشن کے بعد ملک میں ڈالر بہت زیادہ آ گئے ہیں یا پھر ’نئے پاکستان‘ میں کوئی بھی اب ڈالر خریدنا نہیں چاہتا۔ کرنسی ڈیلرز سے بات کرنے پر پتہ چلا کہ ڈالر کو بیچنے والے تو بہت ہیں لیکن خریدار کوئی نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ڈالر بیچنے والا نقصان میں ہے اور وہی ڈالر جو الیکشن سے قبل 129 روپے میں بک رہا تھا اور ہاتھوں ہاتھ خریدا جا رہا تھا آج اُسے 115 میں خریدا جا رہا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر بدقسمتی سے آپ ڈالر کے خریدار ہیں تو آپ کو ڈالر 122 روپے سے 125 روپے میں مل رہا ہے یعنی 115 میں خریدا گیا ڈالر اب بھی دس روپے فائدہ کمانے کے بعد 125 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں عام آدمی کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے، اگر منافع کما رہے ہیں تو وہ کرنسی مارکیٹ میں موجود سرمایہ کار، جو 115 پر خرید کر 125 روپے میں اسے بیچ رہے ہیں۔

    ڈالر نیچے کیوں آ رہا ہے؟
    گذشتہ چھ ماہ کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں تقریباً 20 فیصد کمی آئی ہے اور ڈالر 105 روپے سے بڑھ کر 131 روپے تک فروخت ہوا ہے لیکن الیکشن کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد روپے کی قدر میں تقریباً ساڑھے چار فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو اس وقت جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ خسارے بڑھ رہے ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر 10 سے 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق چین اور سعودی عرب جیسے دوست ممالک پاکستان کو کچھ رقم دینے کو تیار بھی ہیں۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ انھی خبروں کی وجہ سے روپے کی قدر ’وقتی طور‘ پر مضبوط ہو رہی ہے۔

    کرنسی کا کاروبار کرنے والی ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ ملک میں نئی حکومت کے آنے سے جو استحکام آیا ہے اُس سے بھی روپے کی قدر بڑھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کے پرامن انعقاد کے لیے افغان باڈر بند ہونے کی وجہ سے بھی کرنسی کی سمگلنگ نہیں ہوئی ہے اور اس وجہ سے بھی مارکیٹ میں کافی ڈالر موجود ہیں۔ الیکشن کے بعد انٹر بینک یعنی بینکوں کے مابین ڈالر کی خرید و فروخت کے ریٹ بھی کم ہوئے ہیں۔ انٹر بینک میں ڈالر 124 روپے میں خریدا جا رہا اور 126 روپے میں بک رہا ہے۔
    ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر انٹر بینک سے کم قیمت پر فروخت ہو رہا ہے اور ایک دو دن میں مارکیٹ میں بھی ڈالر انٹر بینک کے ریٹ تک پہنچ جائے گا۔

    اُن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے ریٹ کو زیادہ دیر تک انٹر بینک سے کم نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوست ممالک سے ملنے والی رقم اتنی نہیں ہو گی کہ تمام اقتصادی خسارا پورا کیا جا سکے اور اُن کے خیال پاکستان کو اقتصادی صورتحال سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام لینا پڑے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام میں جاتی ہے تو روپے کی قدر کو مزید کم کرنا پڑے گا۔ ماضی میں بھی آئی ایم ایف کا اصرار رہا ہے کہ حکومت ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر کو کم کرے۔

    سارہ حسن
    بی بی سی اردو، اسلام آباد
     


    0 0

    اس بار سیاستدانوں کے تجزیے بھی مجھ جیسے صحافیوں جیسے نکلے۔ نونیوں کو آخر تک امید تھی کہ نوے کا ہندسہ پار کر لیں گے مگر گاڑی چونسٹھ پر رک گئی۔ آصف زرداری کا تجزیہ تھا کہ جو بھی حکومت سازی کرے گا، اسے پہلے ہماری چوکھٹ پر سلام کرنا ہو گا اور یہ کہ اس بار آزاد امیدوار اتنی بڑی تعداد میں کامیاب ہوں گے کہ حکومت سازی کا مارکیٹ ریٹ وہی نکالیں گے۔ متحدہ مجلسِ عمل کو یقین تھا کہ تنگ آئے لوگ پھر سے ان کی جانب رجوع کریں گے۔ اے این پی کی قیادت سمجھتی تھی کہ پچھلی بار انھیں طالبانی تشدد نے کامیابی حاصل کرنے سے روکا مگر اس بار اتنا مینڈیٹ ضرور مل جائے گا کہ وہ خیبر پختون خوا میں کم ازکم مخلوط حکومت سازی میں اہم کردار ادا کر پائیں۔ اور مسلم لیگ کے نونیوں کو پکا پکا معلوم تھا کہ پابندِ سلاسل نواز شریف اور مریم بی بی کا غصہ پنجابی عوام کے غیض میں بدل کر اتنا ووٹ پڑوائے گا کہ دشمنوں اور سازشیوں کے عزائم خاک میں مل جائیں گے۔

    سندھ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے حلقوں میں یہ بحث چل نکلی تھی کہ اگلا وزیرِاعلی ایاز لطیف پلیجو ہو گا کہ حسنین مرزا کہ پیر صاحب پگارا کا کوئی فنگشنل مرید۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کے گڈ گورننس نے اوپر سے نیچے تک ہر سندھی کو پچھلے دس برس میں فل تپا دیا ہے۔ ایم کیو ایم کی کیلکولیشن تھی کہ کراچی کی اکیس سیٹوں میں سے دس سیٹیں تو ملی ہی ملیں۔ تحریکِ انصاف کو تین سے چار سیٹیں بھی مل جائیں تو بڑی بات ہو گی۔ مصطفیٰ کمال کی پاک سرزمین پارٹی کے ساتھی اس قدر پر امید تھے کہ شہری سندھ کی تیرہ سیٹیں تو جھولی میں گر ہی رہی ہیں۔ ذرا سا زور اور لگا لیا جائے تو سولہ بھی ہو سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت کا تجزیہ یہ تھا کہ کراچی چونکہ اگست دو ہزار پندرہ میں بھائی کی خود کش تقریر کے نتیجے میں کھلا شہر بن چکا اور نئی انتخابی حلقہ بندیاں بھی پیپلز پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گی لہذا چھ سے آٹھ سیٹیں کراچی سے نہ نکالیں تو پھر پچاس برس سے سیاست کرنے کا فائدہ ؟ سب اپنی اپنی گنتی میں اتنے مست تھے کہ کوئی دیکھ ہی نہ پایا کہ تحریکِ لبیک کا ہاتھی بھی کھلی سیاسی چراگاہ میں گھس چکا ہے اور قومی سطح پر پانچویں اور کراچی کی حد تک تیسرے پائیدان پر کھڑا ٹکر ٹکر دیکھ رہا ہے۔ لبیک نہ ہوتی تو لیاری بلاول کا ہوتا۔

    دوسری جانب یہ تجزیے ہو رہے تھے کہ نتائج پہلے سے تیار ہو چکے ہیں۔ پولنگ کا دن بس ایک رسم ہے۔ مرکز اور خیبر پختون خوا تحریکِ انصاف کو الاٹ ہو گا۔ شریفوں کی اشک شوئی کے لیے پنجاب کی زیادہ تر صوبائی نشستیں ان کے حوالے کر دی جائیں گی تاکہ وہ سادہ اکثریتی حکومت بنا لیں۔ جیسے دو ہزار تیرہ میں پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کر دیا گیا۔ پنڈت کہہ رہے تھے کہ اس بار پیپلز پارٹی کو سندھ اسمبلی میں مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہو گا اور اگر اس نے اصلی تے باتصویر اشرافیہ کی کچھ ضروری باتیں نہ مانی تو پھر سندھ میں اپوزیشن کو ویلڈ کر کے ایک جام صادق ٹائپ حکومت بنا دی جائے گی۔ مگر یہ کیا ہوا ؟ سندھ میں تو پیپلز پارٹی پچھلی بار سے زیادہ سیٹیں لے گئی اور یہ شکوہ الگ کہ ہائے ہائے دھاندلی ہو گئی۔ تو پھر دھاندلی کس نے کس کے حق میں کی ؟

    جنھیں اندر کی ضرورت سے زیادہ خبر تھی انھوں نے انتخابات سے دو ہفتے پہلے ہی خود سے سیٹیں بانٹنی شروع کر دیں۔ بقول ان کے تحریکِ انصاف کی مرکز میں حکومت بنے گی ضرور مگر عمران خان کا دماغ سیٹ رکھنے کے لیے چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں جیپ گروپ کو بھی ساتھ جوڑا جائے گا۔ اور جو اکسٹھ الیکٹ ایبلز تحریکِ انصاف کو لیز کیے گئے ہیں ان کی وفاداریوں کی تلوار بھی خان کے سر پے لٹکا کے رکھی جائے گی تاکہ وہ اگلے پانچ برس سیدھی سیدھی بالنگ کرے اور باؤنسر، شارٹ پچ گیند اور بہت زیادہ وائیڈ بالیں کرنے سے باز رہے۔ مگر یہ کیا ہوا ؟ یہ کیسا نقشہ بن گیا کہ مرکز اور پنجاب میں جو بھی حکومت بنائے گا اسے پوری مدت تگڑی اپوزیشن اتنا مصروف رکھے گی کہ منشور ونشور بھول کر اپنی ہی پڑی رہے گی۔ اگر بادشاہ گروں کا یہی منصوبہ تھا تو وہ سو فیصد کامیاب ہو گیا۔ جیپ گروپ، سندھ کا گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس ، کراچی کی پاک سرزمین پارٹی کے غبارے گرینڈ منصوبے سے توجہ ہٹانے کے لیے چھوڑے گئے لہذا وہ کام نکل جانے کے بعد فضا میں ہی پھٹ گئے۔

    بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی مخلوط زہری حکومت کے خلاف جس سرفراز بگٹی نے پہلا بگلِ بغاوت بجایا تھا اسے وزارتِ اعلی کا خواب دکھا کر انتخابات میں پورا قالین ہی قدموں تلے سے گھسیٹ لیا گیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی اگر اسٹیبلشمنٹ کی جماعت تھی تو اس کی گاڑی پندرہ سیٹوں پر کیوں رک گئی۔ پچیس کیوں نہیں دلوائی گئیں۔ مطلب یہ ہوا کہ بلوچستان میں جو بھی پارٹی حکومت کرے اس کا نام بھلے کچھ بھی ہو مگر خدمت باپ کی طرح ہی بجا لائے گی۔ لہذا باپ جیتے کہ بیٹا کیا فرق پڑتا ہے۔ مگر انجینرنگ ہوئی بھی تو کیسی ؟ بس اتنی کہ انتخابی ٹرک کھول کر انجن تحریکِ انصاف کو تھما دیا گیا اور پھر ڈھانچہ گیرج سے باہر کھڑا کر دیا گیا جس پر ہجوم ٹوٹ پڑا۔

    ق لیگ کا ہاتھ بونٹ پر پڑ گیا، شیخ رشید ٹائر پکڑ کے نکل لیے۔ نونیوں کے حصے میں چیسز باڈی آگئی ، پیپلز پارٹی نے بیٹری اٹھا لی، اے این پی نے سیٹ کور نوچ لیا ، اختر مینگل نے ٹائر بدلنے کی کٹ ہتھیا لی ، جی ڈی اے کو پچھلی دو بتیاں مل گئی ۔ فضل الرحمان کو بس گئیر ہی مل پایا۔ نثار علی خان کبھی خود کو تو کبھی جیپ کی تصویر کو دیکھ رہے ہیں اور پرسوز مصطفی کمال رندھے سر میں پاک سرزمین شاد باد گا رہے ہیں۔ اب کہتے ہیں تحریک چلاویں گے مگر جس جس کے ہاتھ جو آیا اسے بھی پھینکنے کو تیار نہیں۔ جس کا جہاں بس چلا حکومت بھی بنائیں گے یا شامل ہوں گے مگر چرائے ہوئے الیکشن پر سینہ کوبی بھی جاری رہے گی۔ ایسے نتائج اور ایسی اپوزیشن کسی بھی انجینیر کے لیے من و سلویٰ سے کم نہیں۔ اگلے پانچ برس کے لیے ہڈی جھپٹ سیاست کا ایک اور دور مبارک ہو۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    سپریم کورٹ کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والی سپریم جوڈشل کونسل کے سربراہ اور ملک کے چیف جسٹس پر اعتراض اُٹھایا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف خود ریفرنس دائر ہوا ہے اور وہ کیسے کسی جج کے خلاف ریفرنس کی سماعت کر سکتے ہیں۔ ان وکلا کا کہنا تھا کہ پہلے چیف جسٹس کے خلاف جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس کا فیصلہ کیا جائے اور پھر اس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے بارے میں ریفرنس کی سماعت کی جائے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی سماعت شروع کی تو سپریم کورٹ کے وکیل طارق اسد اور چند دیگر وکیل روسٹم پر آئے۔ طارق اسد نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اُن کے (میاں ثاقب نثار) کے خلاف ریفرنس دائر رکھا ہے۔

    اُنھوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں پاکستان کے چیف جسٹس کے خلاف بڑے سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں جن کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں لہذا پہلے اس ریفرنس کا فیصلہ کیا جائے۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ کے سربراہ نے طارق اسد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ایسا کوئی ریفرنس نہیں ہے اور جب ریفرنس سامنے آئے گا تو پھر اس معاملے کو دیکھا جائے گا۔ طارق اسد کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بہت پہلے دائر کیا تھا لیکن اسے سماعت کے لیے منظور نہیں کیا گیا۔ 

    اس موقع پر طارق اسد اور سپریم جوڈشل کونسل کے ممبران کے درمیان کچھ تلخی بھی دیکھنے کو ملی اور طارق اسد کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس کی کارروائی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس ائی کی ایما پر چلا رہی ہے۔ اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان روسٹم پر آئے اور کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے گذشتہ سماعت کے دوران ان کی جو تین درخواستیں مسترد کی تھیں اس بارے میں جو عدالتی حکم نامہ ہے وہ بڑا مبہم ہے۔ بینچ کے سربراہ نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کو درست کر لیں، جس پر جسٹس شوکت صدیقی کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کو درست کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے، لہذا یہ کام سپریم جوڈیشل کونسل کے معزز ارکان خود ہی کریں۔

    حامد خان اپنے موکل کے خلاف درخواست دائر کرنے والے شخص علی انور گوپنگ سے جرح کرنے لگے تو اُنھوں نے کچھ دستاویزات مانگی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ دستاویزات ان کے پاس نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ چونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کے خلاف ریفرنس اس وقت کے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے تیار کیا تھا اس لیے یہ دستاویزات ان کے پاس ہیں۔ عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ سابق اٹارنی جنرل ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی پر ہی یہ دستاویزات مل سکتی ہیں جس پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ نے اس ریفرنس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر الزام ہے کہ اُنھوں نے اسلام آباد میں اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا تھا۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان میں حکومت سازی کا عمل جاری ہے۔ ایسے میں اربوں ڈالر کے مالی خسارے اور قرضوں میں جکڑی معیشت کی بحالی کو حکومت کے لیے اہم ترین چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ کیا نئی حکومت کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لینا آخری حل ہو گا ؟ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز اور بلوم برگ کی تازہ رپورٹوں کے مطابق بڑھتے ہوئے مالی خسارے اور زر مبادلہ کے گرتے ہوئے ذخائر کو سہارا دینا نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔ مالیاتی امور کے تجزیہ کار مزمل اسلم نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’بلاشبہ معاشی مسائل نئی حکومت کے منتظر ہیں، 37 ارب ڈالر کی درآمدات، ترسیلات زر میں کمی، توازن ادائیگی کی بگڑی صورتحال اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر یقیناً نئی حکومت کے لیے کڑا امتحان ثابت ہوں گے۔‘‘

    ان کا مزید کہنا تھا،’’مالی مشکلات سے بچنے کے لیے پاکستان کو فوری طور پر 10 سے 15 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے پاس چونکہ اس قدر وسائل موجود نہیں ہیں کہ اپنی ضرورت کا انتظام خود کر سکے لہذا مالی مسائل حل کرنے کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑ سکتا ہے۔‘‘ دوسری جانب امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے آئی ایم ایف سے پاکستان کے لیے مشروط بیل آؤٹ پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکا اور چین کے درمیان سرد اقتصادی جنگ کے پیش نظر امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ملنے والا فنڈ چینی قرضے کی ادائیگی میں استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

    پاکستان کے معروف معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ملکوں کو قرض دینا چاہتا ہے جبکہ پاکستان اس سے قبل بھی کئی بار آئی ایم ایف کا پروگرام لے چکا ہے۔ لیکن امریکا کی جانب سے ڈومور کا مطالبہ زور پکڑنے پر پاکستان نے کافی سخت رویہ اختیار کیا، جس کے جواب میں اب امریکا پاکستان سے کچھ ظاہری سختی برت رہا ہے۔‘‘ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے نیا قرض لینے کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی آپشن نہیں۔

    پاکستان کے پاس غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائرکی مالیت صرف نو ارب ڈالر ہے، جو بمشکل دو ماہ کی درآمدی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف سے لیے گئے پچھلے قرضے، درآمدات اور یورو بانڈز کی ادائیگی بھی ملکی خزانے پر بوجھ ہیں، جن کے لیے رقم کا بندوبست کرنا بہرحال نئی حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ’’امریکا اکثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کی معیشت اور سیاست پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ اس بار بھی امریکی وزیر خارجہ کا بیان نئی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہی ہے کیونکہ امریکا چین سے اقتصادی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے بدلے میں وہ پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسی لیے آئی ایم ایف کو دھمکا رہا ہے کہ اگر قرض دیا جائے تو اس سے چینی قرضے کی ادائیگی نہ ہونے دی جائے۔‘‘

    اکرام سہگل نے مزید کہا،’’پاکستان اور چین کے درمیان تقریبا 55 ارب ڈالر کا اقتصادی راہداری منصوبہ ابتدا سے ہی امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ اب چین عالمی افق پر سپر پاور بننے جا رہا ہے، جو امریکا سے کسی طرح ہضم نہیں ہو رہا، اسی لیے امریکا چین کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان پر کڑی شرائط عائد کر رہا ہے۔ مالیاتی امور کے تجزیہ کار خرم شہزاد نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’اگرچہ پاکستان کی مالی صورتحال بہتر نہیں، ٹیکس آمدن کم اور اخراجات زیادہ رہنے کی وجہ سے مالی خسارہ کافی بڑھ گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آئی ایم ایف سے قرضہ ہی مشکل کا آخری حل ہے۔‘‘

    خرم شہزاد نے مزید کہا کہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے واضح برتری حاصل کی ہے۔ ان کے بقول جب متوقع وزیر اعظم عمران خان شوکت خانم ہسپتال کے لیے چند گھنٹوں میں عوام سے کروڑوں روپے جمع کر سکتے ہیں،’’ تو اگر وہ ملک کی بہتری کے لیے سمندر پار پاکستانیوں سے درخواست کریں کہ جو بھی پیسہ پاکستان بھیجیں، بینکنگ چینل سے بھیجیں۔ تو میرا خیال ہے کہ جو سالانہ انیس بیس ارب ڈالر آرہے ہیں، اس کی جگہ چالیس ارب ڈالر پاکستان آئیں گے، جس سے صورتحال بہتر ہو گی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بانڈز کے اجرا سے بھی رقم آسکتی ہے۔ جبکہ چین اور سعودی عرب بھی نئی حکومت کی مدد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘

    پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ ٹیکس آمدنی بڑھانے اور سادگی اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جس کا مقصد غربت اور بیروزگاری میں کمی کے نتیجے میں عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا ہے۔ عمران خان نے الیکشن میں کامیابی کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ روزگار کی فراہمی کی یقین دہائی کروائی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور متوقع وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا راستہ کھلا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے صرف 125 ارب روپے ٹیکس حاصل ہو سکا ہے جبکہ پاکستان کو ہر ماہ دو ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

    اقتصادی تجزیہ کار ڈاکٹر شاہدہ وزارت نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت میں کہا،’’نئی حکومت کو معاشی میدان میں سخت اقدامات اٹھانا پڑیں گے۔ تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر رقم کا انتظام کرنا ہو گا۔ دس سے پندرہ ارب ڈالر کا انتظام کہاں سے ہو گا ؟ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور سعودی عرب یا کوئی اور دوست ملک آئی ایم ایف کے قرضے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق امریکا آئی ایم ایف کے قرض کو مشروط کرنا چاہ رہا ہے، جس کا مقصد مالی معاونت کے نتیجے میں پاکستان اور چین کی دوستی میں دراڑ ڈالنا ہے۔ شاہدہ وزارت کے بقول اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف نے جب بھی قرض دیا، روپے کی قدر میں کمی، بجلی کے ٹیرف میں اضافہ، مہنگی گیس، ٹیکسوں کی شرح میں اضافے جیسی شرائط رکھیں۔

    بشکریہ DW اردو

     


    0 0

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا جس کے بعد وہ 5 سال کے لیے نااہل ہو گئے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا۔ طلال چوہدری کو عدالت برخاست ہونے تک قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی ہے۔ طلال چوہدری 5 سال کے لیے ناصرف الیکشن لڑنے کے لیے نااہل ہوئے ہیں بلکہ وہ کسی بھی عوامی عہدے کے لیے بھی نااہل قرار پائے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے ان کو حکم دیا کہ جب تک عدالت برخاست نہیں ہو جاتی آپ عدالت میں ہی موجود رہیں گے۔

    واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے یکم فروری کو عدلیہ مخالف تقریر پر آرٹیکل 184 (3) کے تحت ن لیگی رہنما طلال چوہدری کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔
    طلال چوہدری نے جڑانوالہ کے جلسے میں مبینہ طور پر ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی، وہ اس سے قبل بھی پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی اور عدلیہ پر بھی تنقید کر چکے ہیں۔ طلال چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے 11 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو آج سنا دیا۔
     


    0 0
  • 08/02/18--00:09: Muhammad Tallal Chaudry

  • Muhammad Tallal Badar Chaudhary is a Pakistani politician who served as Minister of State for Interior, in Abbasi cabinet from August 2017 to May 2018. He was a member of the National Assembly of Pakistan, from June 2013 to May 2018.

    Early life

    Talal was born on 19 August 1973.

    Political Career

    He ran for the seat of the National Assembly of Pakistan as a candidate of Pakistan Muslim League (N) (PML-N) from Constituency NA-77 (Faisalabad-III) in Pakistani general election, 2008 but was unsuccessful. He received 49,807 votes and lost the seat to Muhammad Asim Nazir. In the same election, he ran for the seat of the Provincial Assembly of the Punjab as an independent candidate from Constituency PP-53 (Faisalabad-III) and from Constituency PP-55 (Faisalabad-V) but was unsuccessful. He received 35 and 92 votes, respectively. 

    He was elected to the National Assembly as a candidate of PML-N from Constituency NA-76 (Faisalabad-II) in Pakistani general election, 2013. He received 101,797 votes and defeated Malik Nawab Sher Wasseer, a candidate of Pakistan Peoples Party (PPP). During his tenure as Member of the National Assembly, he served as the Federal Parliamentary Secretary for Information Technology and Science and Technology. 

    Following the election of Shahid Khaqan Abbasi as Prime Minister of Pakistan in August 2017, he was inducted into the federal cabinet of Abbasi as Minister of State for Interior. Upon the dissolution of the National Assembly on the expiration of its term on 31 May 2018, Chaudhry ceased to hold the office as Minister of State for Interior. In March 2018, the Supreme Court of Pakistan indicted Chaudhry for committing contempt of court. Chuadhry rejected the contempt allegations.

    0 0

    عوامی جمہوریہ چین نے درست طور پر امریکی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ بینالاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اپنے قواعد و ضوابط ہیں، اسے ڈکٹیشن کی ضرورت نہیں۔ عوامی جمہوریہ چین کا یہ ردعمل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس بیان پر سامنے آیا جس میں آئی ایم ایف کو متنبہ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو اس مقصد کے لئے امریکی ڈالر دینے کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ ان کے ذریعے چین کے قرضوں کی ادائیگی کرے۔ ایسے عالم میں کہ ایک طرف آئی ایم ایف خود واضح کر رہا ہے کہ پاکستان نے مالی معاونت کے لئےکوئی درخواست نہیں دی اورنہ ہی اس باب میں پاکستانی انتظامیہ کے ساتھ کوئی مذاکرات ہوئے ہیں.

    دوسری جانب پاکستان میں عام انتخابات کے بعد کے منظر نامے میں مختلف سیاسی جماعتیں باہمی رابطوں کے ذریعے وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کی تیاریوں کے مراحل سے گزر رہی ہیں اور مشکل معاشی صورتحال کے باوجود تاحال بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے نگراں عبوری حکومت یا متوقع قیادت نے کوئی رابطہ نہیں کیا، امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایسی باتیں سامنے آنا تعجب خیز ہے جنہیں چین جیسا ملک بھی ڈکٹیشن کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے قیام کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ جو ممالک مالی مشکلات کی صورتحال سے دوچار ہوں انہیں بیل آئوٹ پیکیج کے ذریعے معاشی دشواری سے نکلنے میں مدد دی جائے۔ 

    اسلام آباد بھی اس نوع کے بارہ پیکچز سے فائدہ اٹھا چکا ہے اور اکیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں آئی ایم ایف کا ایک قرضہ قبل از وقت ادا کرنے پر جرمانے کا سزا وار بھی ٹھہرایا گیا۔ اسی ہفتے ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر بیل آئوٹ مانگنے والا ہے یہ رقم 2013ء میں حاصل کردہ 5.3 ارب ڈالر کے پیکیج کے دگنے سے بھی زیادہ ہے۔ بعض معاشی ماہرین بھی ملک میں جاری سنگین اقتصادی صورتحال کے پیش نظر رائے دیتے رہے ہیں کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا چارہ نہیں۔ پچھلے مہینوں اور ہفتوں کے دوران پاکستانی روپے کی شرح تبادلہ میں کمی کے حق میں جو دلیلیں دی گئیں ان میں ڈالر کے ذخائر میں کمی کا نکتہ بھی شامل تھا۔

    عام انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد چین کی طرف سے پیغام مبارکباد کے ساتھ دو ارب ڈالر کے اضافی قرض کی جو اطلاع سامنے آئی، وہ امریکی ڈالر کی شرح تبادلہ میں کمی کا باعث بنی تاہم امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس اعلان سے کہ ’’ہم اس بات پر نظر رکھیں گے کہ پاکستان ممکنہ بیل آئوٹ پیکیج کو چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال نہ کرے‘‘ متوقع وزیراعظم عمران خان کے لئے چیلنجوں میں اضافہ محسوس ہو رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کینگ شوان نے آئی ایم ایف پیکیج سے متعلق سوال کے جواب میں جہاں امریکہ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ عالمی مالیاتی فنڈ کو حکم دینے کی بجائے جنوبی ایشیا میں سرمایہ کاری کے لئے شراکت کرے وہاں یہ امید بھی ظاہر کی کہ پاکستان مناسب طریقے سے معاملات طے کر لے گا۔ 

    دوست ملک چین کا یہ ردعمل پاکستان کے لئے مثبت پیغام کے ساتھ اعانت کا اشارہ بھی ہے۔ نئی سیاسی قیادت کو پچھلے کچھ عرصے سے جاری جن معاشی چیلنجوں کا سامنا ہے ان کی سنگینی کم کرنے کے لئے عمران خان کو ایک طرف نگراں حکمرانوں کو اعتماد میں لینا ہو گا دوسری جانب اپنی پارٹی کے ایسے مذاکرات کاروں کو متحرک کرنا ہو گا جو سعودی اور چینی امداد میں مزید اضافے اور امریکہ میں لابی کے ذریعے آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی کی راہ ہموار کر سکیں۔ بعض مبصرین عمران خان کی فنڈز جمع کرنے کی صلاحیتوں اور اوورسیز پاکستانیوں میں ان کی ممکنہ اپیل کی پذیرائی سے بھی توقعات وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر تمام پارٹیوں سے ورکنگ ریلیشن قائم کرنے اور قومی یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ جس چیلنج کا قوم کو سامنا ہے اس سے مل جل کر ہی نمٹنا ممکن ہو گا۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کی الیکشن سے پہلے پارٹی کرسی گئی پھر وہ این اے 245 اور این اے 247 سے الیکشن بھی ہار گئے اور اب بڑی سیاسی ملاقاتوں سے بھی غائب ہو گئے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، پارٹی رہنما عامر خان، وسیم اختر، کنور نوید جمیل اور فیصل سبزواری کو لے کر بنی گالہ پہنچ گئے اور عمران خان سے 9 نکاتی معاہدہ بھی کر لیا۔ میڈیا سے گفتگو میں خالد مقبول صدیقی سے جب فاروق ستار کی غیر حاضری کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی مسئلہ نہیں۔ میڈیا کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت دی کہ فاروق ستار بھائی ہی نہیں ایم کیو ایم کے بہت سے ساتھی اسلام آباد نہیں آئے، وہ سب کراچی میں ہیں۔


    0 0

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک بھی واشنگٹن کے اقدام کے جواب میں 2 امریکی عہدیداران پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ دونوں نیٹو اتحادیوں کے تعلقات میں تلخی اس وقت پیدا ہوئی تھی جب ترکی نے دہشت گردی کے الزام میں اکتوبر 2016 میں امریکی پادری اینڈریو برنسن کو گرفتار کیا تھا اور گھر میں منتقل کر کے نظر بند کر دیا تھا۔ انقرہ کے اقدام پر واشنگٹن نے 2 ترک وزرا پر پابندی لگا دی تھی جس پر ردعمل دیتے ہوئے ترک صدر نے بھی جوابی اقدام کا عندیہ دیا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق رجب طیب اردوان نے ٹی وی پر اپنی تقریر میں کہا کہ ’میں آج اپنے دوستوں کو امریکی وزرائے انصاف و داخلہ کے اگر ترکی میں کوئی اثاثے موجود ہوئے، تو انہیں منجمد کرنے کی ہدایت دوں گا۔‘

    تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ کن امریکی عہدیداران کے حوالے سے یہ ہدایت دے رہے ہیں۔ اس وقت امریکا کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز ہیں اور چونکہ امریکا میں ترکی کے طرز کی وزارت داخلہ نہیں، سیکریٹری داخلہ ریان زِنکے اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کرسٹِن نیلسن ہیں۔ واضح رہے کہ ترک صدر کی جانب سے یہ اقدام واشنگٹن کے اس فیصلے کے جواب میں اٹھایا گیا ہے جس میں امریکا نے ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سوئیلو اور وزیر انصاف عبدالحمیت گل پر پابندی عائد کر دی تھی اور امریکا میں کوئی اثاثے یا جائیداد ہونے کی صورت میں اسے منجمد کرنے کے احکامات دیے تھے، جبکہ امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کاروبار کرنے سے بھی منع کیا گیا تھا۔

    ترک وزرا نے امریکا میں اپنے کسی بھی اثاثے کی موجودگی سے انکار کیا تھا، جبکہ اس بات کا بھی امکان نہیں کہ امریکی عہدیداران کے ترکی میں کوئی اثاثے ہوں۔ تاہم اس کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں کی دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے بہت اہمیت ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی خراب ہو جانے کے بعد گزشتہ روز امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور ترک وزیر خارجہ مولود جاويش اوغلو کی ملاقات میں تنازعات کے حل پر رضامندی کا اظہار کیا گیا تھا۔
     


    0 0

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور متوقع وزیرِ خزانہ اسد عمر نے ملک کی اقتصادی حالت کو ابتر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی خزانے کے لیے 6 ہفتوں میں 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ اسد عمر نے بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ رقم فراہم نہیں کی گئی تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی حالت ابتر ہوتی چلی جائے گی۔ اسدعمر کا کہنا تھا کہ اس کثیر رقم کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے بھی رابطہ کیا جائے گا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بانڈز بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت تحریک انصاف نے کسی بین الاقوامی رہنما سے کوئی بات چیت نہیں کی اور اس امر میں حکومت وجود میں آنے کے بعد باقاعدہ طور پر رابطہ کیا جائے گا۔

    انہوں نے وعدہ کیا کہ چین کی جانب سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت پاکستان کو دیے جانے والے مبہم قرضے پر ہونے والی تنقید کے باعث انہیں منظر عام پر لایا جائے گا۔ اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ آئندہ 6 ہفتوں کے دوران لیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات میں اکثریت حاصل کی تھی اور تعداد کی کچھ کمی کے باعث وہ ملک میں اتحادی حکومت بنانے جارہی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ چین اور آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکیج پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔

    پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر مسلسل تنزلی کا شکار ہیں اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی بڑھ رہا جبکہ اسٹیٹ بینک کو روپے کی قدر میں کمی کرنا پڑی۔ علاوہ ازیں موڈیز نے بھی گزشتہ ماہ سرمایہ کاری کی ابتر صورتحال کی وجہ سے پاکستان کی رینکنگ منفی کر دی تھی۔ پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ پہلا رابطہ نہیں ہو گا، ماضی میں بھی اسلام آباد معاشی صورتحال بہتر کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے پاس جا چکا ہے اور 1980 کی دہائی سے لے کر اب تک آئی ایم ایف سے 12 مرتبہ قرضہ لیا جا چکا ہے۔

    گزشتہ ماہ 31 جولائی کو امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے آئی ایم ایف کو خبردار کیا تھا کہ امریکا آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دینے کے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے چینی قرضوں کے لیے فکر مند ہو جائیں گے، لیکن امریکا کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ چین سے لیے گئے اپنے قرضوں کے بارے میں سوچے‘۔ اسد عمر نے اعتراف کیا کہ پاکستان قرض کے حوالے سے مسائل کا شکار ہے لیکن پاکستان کو چینی قرض کا کوئی مسئلہ لاحق نہیں ہے۔ عمران خان کی جانب سے بلوم برگ کو دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی نجکاری کی کوشش نہیں کرے گی۔

    یہ خبر 4 اگست 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
     


    0 0

    جب بائیس برس قبل عمران خان نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو اس سفر کا نکتہِ آغاز آئیڈیل ازم تھا۔ یعنی پاکستان کو ایک ایسا کرپشن فری میرٹ کو ترجیح دینے والا ملک بنانا ہے جس میں ہر شہری کو بلا امتیازِ جنس، رنگ و عقیدہ و علاقہ ترقی کرنے کا مساوی موقع ملے۔ ملک سے فرسودہ سیاسی سوچ اور باقیات کا خاتمہ ہو اور ان کی جگہ وہ نوجوان قیادت سنبھالے جسے نہ صرف اردگرد کے بارے میں کماحقہ آگہی ہو بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اس کی نظریاتی و سیاسی سمت کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے قافلے میں کسی مرغِ بادِ نما، مفاد پرست و خود غرض سیاست کے کسی امین یا روائیتی اسٹیبلشمنٹ کے روائیتی کاسہ لیسوں کے لیے کوئی جگہ نہ ہو گی۔ اقتدار میں آنا ہے تو اپنے زورِ بازو پر، کوئی بیساکھی، کوئی شارٹ کٹ استعمال نہیں ہو گا۔ سفر بھلے کتنا ہی طویل و صبرآزما ہو مگر میرٹ اور عوام دوست سیاسی کلچر کی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    نیز اس ریاست میں قائدِ اعظم کے خوابوں کے مطابق مدنی ماڈل پر اسکنڈے نیویا کی طرز پر ایسا فلاحی معاشرہ تشکیل دیا جائے گا جہاں کوئی قانون بالادست کے تحفظ و زیر دست طبقات کو کچلنے کے لیے نہ ہو بلکہ قانون ایسا سماجی ڈھانچہ تشکیل دے جس میں ہر شہری اسٹیک ہولڈر ہو اور اس احساسِ ملکیت پر فخر کر سکے اور سبز پاسپورٹ لہراتا ہوا پوری دنیا میں گھوم سکے اور باقی دنیا پاکستان اور اس کے متبسم شہریوں کو رشک سے دیکھے۔ ظاہر ہے ساٹھ برس سے دکھائے جانے والے خوابوں کی ڈسی میرٹ کلچر کو ترسی مڈل کلاس اور پڑھے لکھے بیروزگار نوجوان کو رفتہ رفتہ اس پکار کی جانب متوجہ ہونا ہی تھا۔یوں تیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو مینارِ پاکستان پر ہونے والے تاریخی جلسے سے تحریکِ انصاف کے عوامی سفر کا آغاز ہوا۔ بہت بڑے اسٹیج پر صرف پاکستان کا جھنڈا تھا۔ اس جلسے میں عمران خان نے جس جامع انداز میں اپنا ’’پاکستان ویژن‘‘ پیش کیا۔ یقیناً اس کی تیاری میں خاصی محنت کی گئی ہو گی۔ اگر عمران کے بائیس سالہ سفر میں ان کی سب سے بہتر کوئی ایک تقریر نکالی جائے تو وہ وہی تیس اکتوبر والی تقریر ہے۔

    آج مینارِ پاکستان کے جلسے کو تقریباً سات برس ہونے کو آئے۔ اب جب کہ عمران خان اور وزیرِ اعظم کی کرسی کا درمیانی فاصلہ سمٹ کر ہفتے بھر کا رہ گیا ہے تو کچھ باتیں یاد کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اس بارے میں عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما خان کا وہ ٹویٹ آج نہیں تو کل تاریخی اہمیت ضرور حاصل کرے گا جو انھوں نے چھبیس جولائی کو لکھا۔ ’’ بائیس برس بعد اتنی کردار کشی، رکاوٹوں اور قربانیوں کے بعد میرے بیٹوں کا باپ پاکستان کا نیا وزیرِ اعظم ہے۔ یہ ثابت قدمی، یقین اور شکست ماننے سے انکار کا ثمر ہے۔ اب چیلنج یہ یاد رکھنا ہے کہ آپ نے سیاست میں قدم کیوں رکھا ؟ مبارک ہو ‘‘۔ اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ عمران خان نے کیوں سیاست میں قدم رکھا ؟ آج عمران خان کے گرد اتنا جمگھٹا ہے اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ وہ کامیاب ہو چکے ہیں۔ مگر اس جمگھٹے میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو بائیس برس پہلے اس وقت عمران خان کے ساتھ سفر پر نکلے تھے جب تحریکِ انصاف صرف ایک آئیڈیا تھا اور منزل کا نشان دور دور نہیں تھا۔ ان میں سے کتنے بنیادی لوگ ہوں گے جو چودہ یا پندرہ اگست کو ایوانِ صدر میں پہلی نہیں تو دوسری قطار میں ضرور نظر آ رہے ہوں گے؟

    ہیں محبتوں کی امانتیں یہی ہجرتیں یہی قربتیں
    دیے بام و در کسی اور نے تو رہا بسا کوئی اور ہے
    (نصیر ترابی)

    اگرچہ کامیابی کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے مگر لیڈر کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے اپنا سفر کن کے ساتھ کن حالات میں شروع کیا تھا اور آج اگر وہ اس کے دائیں بائیں نہیں دکھائی دے رہے تو ایسا کیوں؟ مجھے آج کل تیس نومبر انیس سو سڑسٹھ کا وہ گروپ فوٹو یاد آتا ہے جس میں تین ساڑھے تین سو لوگ ذوالفقار علی بھٹو کے خوابوں کو تعبیر دینے لاہور کے ایک خالی پلاٹ میں جمع ہوئے تھے۔ اگلے دس برس میں پیپلز پارٹی کو اقتدار بھی ملا اور عروج بھی۔ مگر جب کالے بادل چھانے لگے تو بھٹو کے اردگرد پہلے گروپ فوٹو میں نظر آنے والے چہروں کے بجائے چوری کھانے والے مجنوں زیادہ تھے۔ لہذا ایک بار پھر جدوجہد کا بارگراں کارکنوں کو ناتواں کندھوں پر اٹھانا پڑ گیا۔

    بھٹو کا بھی خیال تھا کہ اگر لیڈر باصلاحیت، آدرشی اور مقبول ہو تو پارٹی میں کوئی بھی آئے جائے لیڈر کی گرفت ڈھیلی نہیں ہوتی۔ آج یہی دلیل جب عمران خان کے منہ سے سنتا ہوں تو ذہن سے بیالیس برس پہلے کی صدائے بازگشت ٹکراتی ہے اور دل سوچتا ہے کہ کاش لیڈر کا سارا بھروسہ صرف اپنے پر نہ ہوتا تو اگلے بیالیس برس شائد ایسے نہ گزرتے۔ تو کیا اتنی کاذب صبحوں کے بعد بالاخر اب صبحِ صادق ہویدا ہو رہی ہے؟ باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے۔ ارادے بھی نیک ہیں۔مگر جو کہا جا رہا ہے وہ ہو گا کیسے؟ کیا بیل کو سینگوں سے پکڑ پائیں گے ؟
    مجھے اچھا لگا جب عمران خان نے کامیابی کے بعد پہلی تقریر میں کہا کہ میں خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو اسی طرح غربت سے نکالنا چاہتا ہوں جس طرح چین نے پچھلے تیس برس میں اپنے چالیس کروڑ انتہائی غریبوں کو غربت کے کنوئیں سے نکالا۔ چین نے یہ کیسے کیا ؟ ہم ان سے رہنمائی لیں گے اور ان کے ہاں جا کر دیکھیں گے کہ ایسا ہم بھی کیوں نہیں کر سکتے؟

    ویسے اس کام کے لیے بطورِ خاص چین جانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بس چین کی طرح جاگیر دارانہ تسلط سے جوج رہے نظامِ ریاست کو اکھاڑ پھینکیے، لوگ غربت کو اپنے ہاتھوں خود ہی اکھاڑ پھینکیں گے۔ اسکنڈے نیویا کی طرز پر فلاحی ریاست کیسے قائم ہو گی؟ اس کے لیے اسکنڈے نیویا جانے کی ضرورت نہیں۔ بس اتنا کرنا ہے کہ اسکنڈے نیویا کی طرح آس پاس کے ملکوں کے ساتھ امن قائم ہو جائے تاکہ دفاعی اخراجات قابو میں آ جائیں اور ٹیکس نظام اسکنڈے نیویا کی طرح قائم ہو جائے جس میں چوری یا کالے دھن کو کتابوں میں چھپانے کی گنجائش ہی نہیں۔ اسی پیسے سے آبادی میں تعلیمی و سائنسی ہنرمندی بڑھائیے، جتنی ہنرمندی بڑھے گی اتنی ہی ہائی ٹیک صنعت لگے گی، جتنی صنعت لگے گی اتنا ہی ایکسپورٹ اور روزگار بڑھے گا۔ یوں رفتہ رفتہ ایسی فلاحی ریاست قائم ہو جائے گی جس میں دینے والے زیادہ اور لینے والے کم ہوتے چلے جائیں گے۔ اگر آپ یہ دو بنیادی کام نہیں کر سکتے تو وہ بھی نہیں ہو پائے گا جس کے لیے آپ سیاست میں آئے تھے۔

    لیکن فی الحال تو دو کام فوری کرنے کے ہیں۔ ایک تو انگلیوں پر کھڑی ساجھے کی حکومت کو اگلے پانچ برس گرنے سے بچانا ہے۔ دوم قرضوں کی قسط بھرنی ہے اور سوم جنہوں نے اس مقام تک پہنچانے میں جیسی اور جتنی بھی مدد کی اس کا بدلہ قسط وار بنا ہچر مچر اتارنا ہے اور اقتدار کے چوتھے برس میں یہ کہنا ہے کہ ہم تو سب وعدے پورے کر گزرتے مگر حزبِ اختلاف نے سانس لینے کا موقع ہی نہیں دیا اس لیے اگلی بار دو تہائی مینڈیٹ دیجیے تاکہ نئے پاکستان کی دیواریں بنا کوئی کندھا استعمال کیے اٹھائی جا سکیں۔ اور اس پورے عرصے میں جمائما گولڈ اسمتھ کے ٹویٹ کے آخری جملے کو بھی نہیں بھولنا۔

    ’’ اب چیلنج یہ بات یاد رکھنا ہے کہ آپ نے سیاست میں قدم کیوں رکھا ؟‘‘

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم مہذب دنیا کی تمام اقدار اور حدود کو توڑ چکا ہے۔ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی روز مرہ کا معمول ہے لیکن عالمی ضمیر اس سب کے باوجود ایک عرصے سے گہری نیند سویا رہا ہے۔ اسکی بڑی وجہ بھارت کی نہ صرف وسیع منڈی ہے جو بین الاقوامی کارپوریٹ سیکٹر کو ہر دم اور ہر حال میں اپنی طرف متوجہ رکھتی ہے بلکہ خود اس کی اپنی دفاع کی خریداریاں اتنی پرکشش ہیں کہ مغرب و مشرق کے تمام بڑے ممالک اسکی خوشنودی کے متلاشی رہتے ہیں۔ لہذا یہ تمام لوگ بھارت کیطرف سے کی جانیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت کے پاس عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا سب سے موثر ہتھیار اس ساری صورتحال کو پاکستان سے دراندازی اور اس کے تانے بانے دہشتگردی سے جوڑنا تھا۔ وہ اس میں بہت حد تک کامیاب رہا ہے، لہذا عالمی میڈیا اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے ان حالات کو اسی تناظر میں دیکھتے رہے ہیں، کیونکہ دنیا میں دہشت گردی کے نام پر کسی بھی بڑے سے بڑے جرم کو چھپایا جا سکتا ہے۔

    مودی حکومت نے کشمیریوں کی جدوجہد کو کچلنے کیلئے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں لیکن یہ تحریک ختم ہونے کے بجائے آئے دن شدت اختیار کر رہی ہے اور اسکے ساتھ سکیورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے استعمال میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور نہتے کشمیریوں کی شہادتیں اور زخمیوں کی تعداد غیر معمولی طور پر بڑھ رہی ہے۔ اب یہ صورتحال اس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں یہ ممکن نہیں رہا کہ اس مسئلے کو دنیا سے چھپایا جا سکے۔ کچھ عرصہ پہلے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی لرزا دینے والی رپورٹ میں سکیورٹی فورسز کی ناروا کارروائیوں پر مبنی واقعات کو رقم کیا ہے جو آئے دن عام کشمیری شہریوں کو پیش آتے ہیں۔ 

    اس سے بھی زیادہ دل دہلانے والی ایک نیوز رپورٹ معروف اور موثر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں گذشتہ روز شائع ہوئی ہے جس نے ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ اس تفصیلی رپورٹ میں اخبار کے نمائندے جیفری گیٹلمین نے وادی کا دورہ کیا ہے اور اس میں پیش آنے والے واقعات کا چشم دید مشاہدہ کیا ہے اور اس ساری جدوجہد آزادی کے محرکات اور اس میں ہونےوالی پاکستانی مداخلت کے متعلق رائے قائم کی ہے۔ ہم آج اس رپورٹ کا ایک خلاصہ نذر قارئین کررہے ہیں۔ “کشمیر کا نام لیتے ہی متضادات تصورات ذہن میں آنے لگتے ہیں: برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں اور بے قابو احتجاجی ریلیاں، بیشمار رنگوں سے بھرے پھولوں کے میدان اور موت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ یہ ناقابل تصور خوبصورتی کی حامل وادی اپنے متعلق پہلی پرکشش داستانوں کے عین مطابق ہے، لیکن یہاں کا خاموش ترین لمحہ بھی ایک انجانے خوف سے بھرا محسوس ہوتا ہے۔

    کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر واقع ہے اور دونوں ملکوں نے اس کی خاطر خون کے دریا بہا دئیے ہیں۔ ان کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا کا سب سے خوفناک تنازع ہے، جہاں دس لاکھ فوجی آنکھ میں آنکھ ڈالے متنازع سرحد کے اطراف کھڑے ہیں۔ بھارت جو وادی کے بڑے حصے کو کنڑول کرتا ہے وہ ہندو ہے جبکہ کشمیر کی آبادی بنیادی طور پر مسلمان ہے لیکن وقت کیساتھ یہ تنازعہ اب ایک مذہب سے جڑی پراکسی وار نہیں رہا۔ بی جے پی کی کامیابی کے بعد بھارت کا دائیں بازو کی طرف جھکاو، مسلمان اقلیت میں عدم تحفظ کا باعث بنا ہے۔

    مسلمانوں سے منصفانہ سلوک کے معاملے میں پارٹی کے اعلی ترین عہدہدار داغدار ماضی کے حامل ہیں۔ اس حقیقت نے سارے بھارت میں انتہا پسند ہندووں کے حوصلے بڑھا دئیے ہیں۔ ان گروہوں نے حالیہ دنوں میں افواہوں پر مشتعل ہو کر عام مسلمانوں پر کھلے عام حملے کیے اور بے دردی سے قتل کیا ہے۔ حملہ آوروں کو معمولی سزا (اگر دی جائے) کے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کشمیر میں جہاں پہلے ہی ایک خونی تاریخ رقم ہو چکی ہے، ان حالات نے لوگوں کو حکومت کی مخالفت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ کچھ بندوق اٹھاتے ہیں، کچھ پتھر اٹھاتے ہیں، لیکن متحرک کرنے والا جذبہ ایک ہی ہے : کشمیری اب بھارت سے نفرت کرتے ہیں۔

    صدیق واحد، جنہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ 1990 سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہو جائیگا، لیکن آج کوئی کشمیری بھی بھارت کیساتھ نہیں رہنا چاہتا، اور وہ کسی نہ کسی انداز میں اس (قبضے) کی مزاحمت کر رہا ہے۔ اب اس فہرست میں بچے، دادیاں اور نانیاں بھی شامل ہو رہے ہیں حالیہ دنوں میں جب بھی سکیورٹی فورسز نے مشتبہ شدت پسندوں کو پکڑنے کیلئے گھروں میں گھس کر آپریشن کئے ہیں تو ان کو نفرت سے بچھری انسانی دیواروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آپ کشمیر کی بستیوں سے گزریں ہر طرف سے ایک ہی صدا آتی ہے: آزادی۔

    کچھ پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں، لیکن کوئی ایک بھی بھارت کیلئے کلمہ خیر نہیں کہے گا، کم از کم برسر عام، بھارت کی طرف سے آہنی ردعمل نے معتدل مزاجوں کو بھی متنفر کر دیا ہے۔ بھارتی فوجی لوگوں کی پٹائی کرتے ہیں، راستوں کو بند کردیتے ہیں، دروازے توڑ کر گھروں میں گھس آتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ شدت پسندوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ جب پر تشدد احتجاج شروع ہوتا ہے تو فوجی گولیاں چلاتے ہیں جو ہلاکتوں اور بینائی سے محرومی کا باعث بنتی ہے اکثر اس کا شکار سکول کے بچے ہوتے ہیں جو صرف اطراف میں موجود ہوتے ہیں اور جس وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کو روکنے کی ناکام کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ ایک طرف جبکہ پر تشدد احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری طرف کشمیریوں کی مسلح جدوجہد حیرت انگیز طور پر کم پڑتی جارہی ہے، جس کی وجہ پاکستان کی طرف سے اس سرپرستی ِمیں کمی ہے جو ماضی میں ملتی تھی۔ 

    سکیورٹی افسران کا کہنا ہے کہ وادی میں اب صرف 250 مسلح شدت پسند باقی رہ گئے ہیں جن کی تعداد دو دہائیاں پہلے ہزاروں میں ہوتی تھی۔ زیادہ تر شدت پسند کم تربیت یافتہ ہیں اور انہیں مسلح جدوجہد کا تجربہ نہیں ہے، اسکے باوجود بھارتی فوج ان کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ محمد اسلم کا جو کشمیر پولیس میں افسر ہیں، کہنا ہے کہ جتنے بھی شدت پسندوں کو ہم مارتے ہیں، ان سے زیادہ نئے رضاکار ان کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اسرائیل نے بھارت کی مدد کی ہے۔ اس نے بارڈر پر خفیہ کیمرے نصب کئے ہیں، تاریکی میں دیکھنے والے چشمے مہیا کئے ہیں، ڈرون اور دیگر نگرانی کے آلات مہیا کئے تاکہ بارڈر سے کسی بڑے داخلے کو روکا جا سکے۔

    اسکے ساتھ امریکہ کے دباو کی وجہ سے پاکستان کی جانب سے سرپرستی کا خاتمہ وہ اسباب ہیں جنہوں نے اس لڑائی کو سرحد سے دور کر کے وادی کی اندرونی بستیوں میں منتقل کر دیا ہے۔ وادی میں کشت و خون کی ثقافت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ شدت پسند سب سے بڑے ہیرو بنتے جارہے ہیں۔ لوگ انکے نام دیواروں پر لکھ رہے ہیں وہ ان کی تصاویر چھپی ٹی شرٹ پہنتے ہیں جو ان کے داڑھی والے چہروں کو دکھاتی ہیں۔ لوگ ان کا نام عزت، احترام اور محبت کے جذبات سے لیتے ہیں۔ یہ شدت پسند خصوصاً اس وقت اور بڑا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔

    وقار مسعود خاں
     


older | 1 | .... | 136 | 137 | (Page 138) | 139 | 140 | .... | 149 | newer