Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 135 | 136 | (Page 137) | 138 | 139 | .... | 149 | newer

    0 0

    سیاسی حریفوں سے دشمنی میں پاکستان کے جانور تک محفوظ نہیں رہے۔ کراچی میں ایک سیاسی جلسے کے دوران ایک گدھے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کی سوشل میڈیا پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ پاکستانی شہر کراچی میں ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے اپنے سیاسی حریف کا نام ایک گدھے پر لکھا اور اس پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔ کراچی میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’ اے سی ایف ریسکیو ‘ نے اپنے فیس بک پیج پر اس واقعے کے حوالے سے لکھا، ’’ ایک گدھے کے منہ پر اور پیٹ پر کئی مرتبہ گھونسے مارے گئے، اس کی ناک ٹوٹ گئی، اس گدھے کو اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ اس کے جسم پر رسی اور گاڑی کے ٹائر کے نشان ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے کہ ایک سیاسی جماعت کو ’گدھا‘ ثابت کیا جا سکے۔‘‘

    صحافی جویریہ صدیقی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ جاہل لوگوں نے ایک معصوم جانور پر نواز لکھ دیا اور اسکو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم کراچی کے شہری عبداللہ محمود نے اس معصوم جانور کی مدد کی کھانا اور پانی دیا اور اب یہ گدھا اے سی ایف میں زیر علاج ہے۔‘‘ کراچی میں اس گدھے پر بدترین تشدد کی متعدد افراد نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم اے سی ایف کے مطابق عبداللہ نامی شہری نے اس گدھے کو سٹرک پر تڑپتے دیکھا۔ عبدااللہ کی مدد سے صبح کے تین بجے اس گدھے کو جانوروں کے لیے بنائے گئے ایک شیلٹر میں لایا گیا جہاں اے سی ایف کی ٹیم نے اس کا علاج شروع کیا۔ اے سی ایف کے مطابق اگر پاکستانی عوام ایک معصوم جانور کو لطف لینے کے لیے تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں تو یہ امر ہمارے لیے باعث ِشرمندگی ہے۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    قومی انتخابات جیسے جیسے قریب آ رہے ہیں کچھ ایسی باتیں اور مطالبات سامنے آ رہے ہیں جو بحیثیت قوم ہم سب کےلیے فکر کا باعث ہیں اور جن پر متعلقہ اداروں اور اُن کے سربراہوں کو فوری توجہ دینا چاہیے تاکہ اُس نقصان سے ملک اور قومی اداروں کو بچایا جا سکے جس کا بہت سوں کو یہاں ڈر ہے۔ سیاسی جماعتیں کیا کہتی ہیں، کیسے کیسے الزامات لگاتی ہیں وہ سب ایک طرف لیکن میں جن افراد کی باتوں اور مطالبات کی بات کر رہا ہوں وہ کسی سیاسی جماعت کو represent نہیں کرتے بلکہ اُن کی اپنی ایک آزاد اور خودمختار حیثیت ہے۔ آج اسلام ہائی کورٹ کے سینئر جج محترم جسٹس شوکت صدیقی نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت کرتے ہوئے آرمی چیف سے اپیل کی کہ اپنے لوگوں کو روکیں، عدلیہ میں ججز کو اپروچ کیا جا رہا ہے، ججز کے فون ٹیپ کئے جاتے ہیں، ان کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں۔ 

    جسٹس صدیقی نے کہا کہ آپ کے لوگ اپنی مرضی کے بنچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں، آرمی چیف کو پتہ ہونا چاہئے ان کے لوگ کر رہے ہیں۔ عدالت نے تحریری حکم میں لکھا کہ حساس ادارے اپنی آئینی ذمہ داری کو سمجھیں، عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں مداخلت روکی جائے، حساس ادارے ملک کے دفاع اور سکیورٹی پر توجہ دیں، ریاست کے اندر ریاست کا تصور ختم کیا جائے، اگر دیگر اداروں میں مداخلت کو نہ روکا گیا تو فوج اور ریاست کیلئے تباہ کن ہو گا۔

    آج کے ہی کے دن پولیس سروس کے reputed ریٹائرڈ افسر ذولفقار چیمہ نے اپنے کالم میں نواز شریف اور مریم نواز کی واپسی پر نگراں حکومت کے اقدامات اور سول سروس و پولیس کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اُٹھائے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اس سارے پراسیس سے کیا تعلق تھا ؟ ان کی دلچسپی کیوں تھی؟انہوں نے خود (نواز شریف اور مریم نواز کی) ’’گرفتاری آپریشن‘‘کی کمان کیوں سنبھال لی؟ انہوں نے نگراں وزیرِاعلیٰ کو بے دست وپا کر کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو خود احکامات جاری کرنے کیوں شروع کر دیے؟۔ ذولفقار چیمہ نے یہ سوال اٹھانے کے بعد لکھا: ’’میں اپنے گرائیں جنرل باجوہ صاحب کی توجہ مبذول کرانا چاہوں گا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کہ ایک عدالتی پراسیس کی تکمیل میں ان کے باوردی افسران کی مداخلت کس لیے تھی اور کس کے حکم پر تھی؟

    جنرل صاحب پشاور میں ہارون بلور کے جنازے پر جو نعرے لگتے رہے وہ آپ نے بھی سنے ہوں گے۔ میں تو سن کر بے حد تشویش میں مبتلا ہو گیا ہوں، اب پنجاب میں لوگوں کا موڈ دیکھ کر خوف آنے لگا ہے۔ اس لیے کہ وطنِ عزیز کے بارے میں بھارت اور دیگر دشمنوں کے خطرناک عزائم بہت واضح ہیں۔ ہمارے ازلی دشمن کی فوج کو تعداد اور اسلحے میں جو برتری حاصل ہے وہ ہماری پاک فوج عوام کی پر جوش حمایت اور مدد سے پوری کرتی ہے لیکن اگر پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے خلاف جنگ شروع کر دی جائے تو کیا وہ مدد اور حمایت برقرار رہی گی؟ کیا اِسوقت فوج متنازع بننے کی متحمل ہو سکتی ہے؟ سوال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ایک مقبول جماعت کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ کونسی ایسی مجبوری ہے جسکی بناء پر ایسا کیا جارہا ھے؟

    یہ جنرل یحییٰ کی بدروحوں یا مشرف کی باقیات کی خواہش تو ہو سکتی ہے ادارے کی ضرورت ہرگز نہیں، ادارے کی ضرورت سو فیصد غیر سیاسی اور غیر جانبدار، رہنا ہے۔ میں ملک کی سالمیت کے نام پر جنرل باجوہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کر کے اسے ختم کرائیں تاکہ پوری قوم خصوصاً پنجاب، آزاد کشمیر اور جی بی جیسے حساّس علاقوں میں فوج کے بارے میں عوام کے اندر منفی جذبات پروان نہ چڑھیں۔ دہشت گردی کے عفریت نے پھر سراٹھا لیا ہے فوج کے تمام وسائل، وقت اور صلاحیتیں دہشت گردی کو کچلنے اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونی چاہئیں۔ چند افراد اپنی انا کی خاطر ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔

    مگر کسی شخص یا ادارے کی انا سے ملک کی سالمیت اور وقار کہیں زیادہ اہم ہے۔ جنرل مشرف نے فوج کو سیاست میں ملوث کر لیا تو وہ پارٹی بن گئی اور پوری قوم کی حمایت اور تعاون سے محروم ہو گئی۔ کچھ مہینوں بعد جنرل کیانی نے فوج کو سیاست سے الگ کر لیا تو فوج کو پھر پوری قوم کی حمایت حاصل ہو گئی۔ جنرل کیانی جانتےتھے کہ فوج کی سب سے بڑی طاقت اسلحہ نہیں قوم کی حمایت ہے، اس سرمائے کی ہر قیمت پر حفاظت کی جانی چاہیے۔ باجوہ صاحب! پاک فوج ہمارا قومی ادارہ ہے الیکشن سے پہلے آپ فوج کو مکّمل طور پر غیرجانبدار رہنے کی واضح ہدایات دیں۔‘‘

    چند روز قبل حقوق انسانی کمیشن نے انتخابی عمل میں مخصوص سیاستدانوں پر یکطرفہ اور انتقامی کارروائیوں اورمیڈیا پر دبائو کے حربوں سے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے واقعات سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا۔ کمیشن نے انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کےلیے کھلی اور جارحانہ مہم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ حالیہ اقدامات نے انتخابات کے منصفانہ انعقاد پر شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔ حقوق انسانی کمیشن کا کہنا ہے کہ اداروں کی جانب سے سول مینڈیٹ میں یوں ملوث ہونیکا عمل نہایت خطرناک ہو گا کیونکہ ایسے اقدامات کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔

    حقوق انسانی کمیشن نے الیکشن کمیشن سے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اتنی بڑی تعداد میں سکیورٹی عملے کی موجودگی میں ووٹرز کو خوف زدہ نہیں کیا جا ئے گا، ان پردبائو نہیں ڈالا جائے گا اور ان پراثرانداز نہیں ہوا جائے گا۔حقوق انسانی کمیشن پاکستان نے اس امر پربھی تشویش کااظہار کیا کہ مخصوص سیاستدانوں کو انتقام کانشانہ بنایا جارہا ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ارکان کو سیاسی وفاداریاں بدلنے پر مجبور کیا گیا اور امیدواروں سے کہا گیا کہ وہ ن لیگ کے ٹکٹ واپس کر دیں۔ ملک کی دو بڑی اپوزیشن پارٹیوں مسلم لیگ (ن) کو پنجاب اور پی پی پی کو سندھ میں ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ 

    حقوق انسانی کمیشن نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اورعوامی ورکرز پارٹی کے امیدواروں کو لا انفورسمنٹ اور سکیورٹی عملے نے انتخابی مہم کے دوران ہراساں کیا ان کی آمدورفت کو کسی معقول جواز کے بغیرمحدود کیا گیا، ان کے الیکشن بینرز کو مبینہ طور پر سیکورٹی اہلکاروں نے اتارا۔ کمیشن نے میڈیا پر بعض پابندیوں پر بھی گہری تشویش کااظہار کیا اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہیں جب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے حامی خیال کیے جانے والے صحافیوں یا سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین کو سنسر شپ، ڈرانے دھمکانے، ہراساں اور اغوا کی واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض علاقوں میں ڈان اور دی نیوز کی تقسیم پر غیراعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے جیو ٹی وی کی نشریات بلاک کرنے کی بھی کوششیں کی گئیں۔

    آج کے اپنے کالم میں ایاز امیر لکھتے ہیں : ’’سوال وہی پرانا ہے کہ کیا سیڑھیاں لگانے والے اور اقتدار کے کھیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے کسی مضبوظ وزیر اعظم کو برداشت کر سکیں گے؟ ہوتا رہا ہے کہ سیڑھیاں لگتی رہیں، اقتدار کے چبوترے بنائے جاتے رہے ہیں اور پھر بنانے والے ہاتھ اُنہی چبوتروں کے خلاف برسر پیکار ہوتے رہے ہیں۔ ایسے ڈھیلے ڈھالے انتخابات پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ سارے سیاسی عناصر دبے دبے پھر رہے ہیں ۔ ہاں درست ہے کہ ایک مخصوص ٹیم کو درپردہ پزیرائی بخشی جا رہی ہے۔ اس ٹیم کے سربراہ کی مدح سرائی کا یہ موسم ہے۔ اُن میں خوبیاں ہی خوبیاں دیکھی جا رہی ہیں اور کمزوریوں کا ذکر اچھا نہیں سمجھا جا رہا۔ لیکن انتخابات کے بعد اگر یہی ٹیم‘ جسے پزیرائی مل رہی ہے‘ اقتدار کے چپوتروں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کام کرنے دیا جائے گا ؟ قومی مفادات کی تشریح پھر تو نہ بدل جائے گی؟‘‘

    نجانےکتنے اور لوگ یہ باتیں کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے اپنے گزشتہ کالم ’’کوئی مضبوظ نہیں سب کمزور ہو رہے ہیں‘‘ میں لکھا تھا یہ انتہائی ضروری ہے کہ انتخابات کو شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت اور کسی دوسری کی مخالفت کسی بھی طور پر کسی بھی قومی ادارہ کے کسی بھی فرد کے لیے جائز نہیں کیوں کہ نہ صرف یہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے بلکہ اس سے ملک کے ساتھ ساتھ قومی اداروں کو بہت نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ پاک فوج پاکستان کی سالمیت اور دفاع کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ اسے کسی بھی طورپر متنازع نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اگر فوج یا آئی ایس آئی میں موجود کوئی چند افراد وہ کھیل کھیل رہے ہیں جس کا جسٹس صدیقی، ذوالفقار چیمہ اور دوسروں نے اشارہ کیا اور جو فوج کے ادارے کو متنازع اور کمزور کرنے کی وجہ بن سکتی ہے، تو یہ مطالبہ جائز ہے کہ آرمی چیف فوری طورپر ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوج ، آئی ایس آئی اور ان قومی اداروں سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کو فوری طور پر اُن کارروائیوں سے روکیں جن کے بارے میں تشویشناک الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    ٹوئٹر کی انتظامیہ نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ اس نے رواں سال مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سات کروڑ مشتبہ اکاؤنٹس بند کیے ہیں ۔  سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے 2017ء کے آخری تین ماہ کے دوران جعلی اور مشتبہ اکاؤنٹس کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن میں لگ بھگ چھ کروڑ اکاؤنٹس معطل کیے۔ امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس'نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اسے ملنے والی معلومات کے مطابق 'ٹوئٹر'کی انتظامیہ نے اکتوبر سے دسمبر 2017ء کے دوران دنیا بھر میں پانچ کروڑ 80 لاکھ سے زائد مشتبہ اکاؤنٹ بند کیے۔

    گزشتہ ہفتے 'ٹوئٹر'کی انتظامیہ نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا تھا کہ اس نے رواں سال مئی اور جون کے مہینوں کے دوران سات کروڑ مشتبہ اکاؤنٹس بند کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بند کیے جانے والے بیشتر اکاؤنٹس 'ٹوئٹر'کی 'فائرہوز'سروس کے ہیں جو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ماہرینِ تعلیم اور اساتذہ، کمپنیوں اور دیگر خواہش مندوں کو پیسوں کے عوض فراہم کرتی ہے۔
    ماہرین کے مطابق 'ٹوئٹر'کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں اکاؤنٹس کی بندش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی انتظامیہ اپنے پلیٹ فارم پر دستیاب معلومات کا معیار بہتر بنانے اور غلط اکاؤنٹس سے پھیلائی جانےو الی جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کے توڑ کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔

    امریکہ میں 2016ء کے صدارتی انتخابات کے دوران ٹوئٹر، فیس بک اور سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹس پر موجود مشتبہ اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی اور غلط اطلاعات پھیلائی گئی تھیں جن کا مقصد امریکی حکام کے مطابق امریکی ووٹروں کی رائے پر اثر انداز ہونا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دوران سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلا کر انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی بیشتر کوششوں میں 'انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی'نامی ایک روسی کمپنی ملوث تھی جسے اب بند کر دیا گیا ہے۔ 

    حکام اب تک کئی ملزمان پر انتخابات کے دوران سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے جعلی خبریں پھیلانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر چکے ہیں جب کہ ان واقعات کے سامنے آنے کے بعد امریکی ارکانِ کانگریس اور دیگر حلقوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خصوصاً فیس بک اور ٹوئٹر سے جعلی اکاؤنٹس اور افواہوں کے سدِ باب کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 'ٹوئٹر'کی انتظامیہ نے سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ لیکن کمپنی کی انتظامیہ کا موقف رہا ہے کہ پلیٹ فارم کی صفائی کرنا ان کی ترجیح ہے اور انہیں ادراک ہے کہ اس صفائی کے نتیجے میں ان کے صارفین کی تعداد میں کمی آئے گی۔

    رواں سال اپریل میں 'ٹوئٹر'انتظامیہ نے بتایا تھا کہ اس کے پلیٹ فارم پر اوسطاً ماہانہ 33 کروڑ 60 لاکھ 'ایکٹو یوزرز'ہوتے ہیں۔ 'ٹوئٹر'انتظامیہ 'ایکٹو یوزر'ایسے صارف کو کہتی ہے جو گزشتہ 30 روز کے دوران کم از کم ایک بار اپنے اکاؤنٹ پر 'لاگ اِن'ہوا ہو۔ امکان ہے کہ بند کیے جانے والے اکاؤنٹس سے ٹوئٹر کے 'ایکٹو یوزرز'کی تعداد میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بند کیے جانے والے بیشتر اکاؤنٹس ایک ماہ سےزائد عرصے سے غیر موثر تھے اور اسی لیے انہیں 'ایکٹو یوزرز'میں شمار ہی نہیں کیا گیا تھا۔
     


    0 0

    بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ نے اپنے ملک کی عوام کو مذہبی منافرت سے نکل کر کروشیا سے سبق سیکھنے کو کہا ہے۔ ہربھجن سنگھ نے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں فرانس کا مقابلہ کرنے والے ملک کروشیا کی مثال دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ اس کی آبادی 50 لاکھ سے بھی کم ہے لیکن فٹبال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا، ہمارے ملک کی آبادی 135 کروڑ ہونے کے باوجود ہم اس ایونٹ میں دوردور تک نہیں ہیں۔
    انھوں نے کہا کہ ہم بدستور ہندو مسلم جھگڑے میں الجھے ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ہربھجن نے ’سوچ بدلو دیش بدلے گا‘ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔
     


    0 0

    پاکستان میں انتخابات کے بعد نئی حکومت کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا جن میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، انتہا پسندی اور کئی دہائیوں سے سول حکومت اور فوج کے مابین جاری تناؤ جیسے مسائل سر فہرست ہیں۔ پچیس جولائی کے روز ہونے والے عام انتخابات جو بھی سیاسی جماعت جیتے، ایک بات طے ہے کہ انہیں حکومت بنانے کے فوری بعد کئی مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں۔

    دہشت گردی کا عفریت
    گزشتہ برسوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز نے کئی آپریشنز کیے جن کے بعد ملک کی سکیورٹی صورت حال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں طویل عرصے سے خبردار کرتے رہے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی پھیلنے کی حقیقی وجوہات کا تدارک نہیں کیا جا رہا اس لیے دہشت گرد کسی بھی وقت دوبارہ بڑے حملے شروع کر سکتے ہیں۔ حال ہی میں مستونگ میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ یہ واقعہ پاکستانی تاریخ کا دوسرا سب سے زیادہ خونریز ترین دہشت گردانہ حملہ تھا جس میں ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شدت پسند گروہ فوجی آپریشنز میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد دوبارہ منظم ہونے کی کوششوں میں ہیں۔

    مسلسل بگڑتی اقتصادی صورت حال 
    سکیورٹی مسائل کے علاوہ ملک کی اقتصادی صورت حال بھی نئی حکومت کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو گی۔ ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ شدید ہونے کے بعد ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لینے کی ضرورت پڑ جائے گی۔ مرکزی بینک زر مبادلہ کے ذخائر مسلسل استعمال میں لا رہا ہے اور روپے کی قدر صرف رواں ہفتے کے دوران مزید پانچ فیصد کم ہو چکی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے غیر ملکی مصنوعات کی درآمدات میں اضافہ کر رہا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بھی ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ
    عالمی بینک اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب آبادی میں اضافے کی شرح ایشیا کے کئی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہے۔ سن 1960 سے لے کر اب تک ملکی آبادی میں پانچ گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس کی مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 207 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث اقتصادی اور سماجی سطح پر مثبت اقدامات کے اثرات بھی زائل ہو رہے ہیں۔ اس صورت حال میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ قدامت پسند معاشرے میں حکومت کے لیے خاندانی منصوبہ بندی پر گفتگو کرنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبادی پر قابو نہ پایا گیا تو پانی سمیت ملک کے قدرتی وسائل اتنی بڑی آبادی کے لیے ناکافی ہو جائیں گے۔

    پانی کی قلت کا مسئلہ
    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان بحرانی صورت حال کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ہمالیہ کے گلیشیئر بھی ہیں اور مون سون کی بارشیں بھی کافی ہوتی ہیں۔ لیکن ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی تعداد ناکافی ہے۔ ملک بھر میں صرف تین بڑے ڈیم ہیں، اس کے مقابلے میں کینیڈا اور جنوبی افریقہ میں ایک ہزار سے زائد ڈیم ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ اکثر تنازعات کا سبب بھی بن جاتا ہے لیکن نئی حکومت کو اس ضمن میں فوری طور کام کرنا پڑے گا اور اس حوالے سے عوام کو معاملے کی نزاکت سے آگاہ کرنے کی بھی ضرورت پڑے گی۔

    فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات
    پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں نصف سے زیادہ مدت تک فوج نے براہ راست ملک کی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔ سن 2013 میں پہلی مرتبہ اقتدار ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو منتقل ہوا تھا جس کے بعد ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہونے کی امید کی جا رہی تھی۔ تاہم حالیہ انتخابات سے پہلے ہی صورت حال تیزی سے تبدیل ہوتی چلی گئی۔ تین مرتبہ ملکی وزیر اعظم بننے والے نواز شریف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کے باعث سول-ملٹری تعلقات ایک مرتبہ پھر غیر متوازن ہو چکے ہیں۔ نئی منتخب حکومت کو بھی ان تعلقات میں توازن رکھتے ہوئے ملکی مسائل کا حل تلاش کرنے کا بیڑا اٹھانا پڑے گا۔

    ش ح / ا ا (اے ایف پی)

    بشکریہ Dw اردو
     


    0 0

    پاکستانی کرنسی کی قدر میں بین الاقوامی منڈیوں میں کمی پر اس وقت ملکی تاجر برادری بہت پریشان ہے۔ ایک امریکی ڈالر ایک سو تیس روپے سے بھی زیادہ ہو جانے کے نتیجے میں پاکستان میں مہنگائی کے طوفان کا خدشہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔ رواں ماہ سولہ جولائی کو اچانک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں پونے سات روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر پاکستان کی مالیاتی تاریخ میں پہلی بار ایک سو اٹھائیس روپے سے تجاوز کر گیا۔ اس طرح پاکستانی روپے کی بے قدری اتنی زیادہ ہو گئی کہ وہ بنگلہ دیشی اور افغان کرنسی سے بھی نیچے آ گیا۔ اس وقت کابل میں ایک امریکی ڈالر ستر افغانی کا اور ڈھاکا میں ایک امریکی ڈالر چوراسی اعشاریہ تین ٹکا کے برابر ہے لیکن پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت ایک سو تیس روپے پچاس پیسے تک پہنچ گئی ہے۔

    نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کراچی میں قائم پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے حال ہی میں کہا تھا، ’’ڈالر کی قیمت کو بڑھنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی طلب اور رسد کی بنیاد پر شرح تبادلہ کا تعین ہو رہا ہے۔ ایسے میں ہم مداخلت کر کے پاکستانی روپے کو مصنوعی سہارا نہیں دے سکتے۔‘‘ ڈاکٹر شمشاد اختر نے روپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو قرار دیا تھا، جو 37 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے منرل واٹر، دودھ، دہی، مکھن سمیت غیر ضروری اشیاء کی درآمد پر پابندی اور ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کی سفارش بھی کی تھی۔

    ماہرین کے مطابق راتوں رات امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے نیا نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی گزشتہ سال دسمبر میں امریکی ڈالر چار روپے مہنگا ہو گیا تھا جبکہ رواں سال جنوری اور مارچ میں بھی امریکی کرنسی کی قدر میں دو بار پانچ پانچ روپے اضافہ دیکھا گیا تھا۔ پھر سولہ جولائی کو ایک بار پھر روپے کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 6.75 روپے کی کمی ہوئی، یعنی رواں سال ڈالر کی قدر میں 22 سے لے کر 24 روپے تک کا مجموعی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یوں پاکستان کا درآمدی بل تو بڑھے گا ہی، لیکن ساتھ ہی پاکستان کے ذمے واجب الادا غیرملکی قرضوں کے حجم میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہ چکا ہے۔ کراچی میں کرنسی مارکیٹ ایسوسی ایشن کے صدر اسد رضوی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’دسمبر سےاب تک ڈالر 22 روپے مہنگا ہو چکا ہے۔ ڈالر مہنگا ہونے سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 1800 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘

    بشکریہ DW اردو 


    0 0
  • 07/22/18--04:20: Hanif Abbasi
  • Muhammad Hanif Abbasi is a Pakistani businessman and politician. He had been a member of the National Assembly of Pakistan from 2002 to 2008 and again from 2008 to 2013. On 21 July 2018, he was convicted and sentenced to life in jail by an anti-narcotic court in an ephedrine quota case. He was also disqualified for life from running for public office. 

    Early life and education

    He was born on 4 January 1966 in Rawalpindi. He graduated from the Forman Christian College and University of the Punjab.

    Political career

    Abbasi started his political career as a member of Jamaat-e-Islami but later joined Pakistan Muslim League (N) (PML-N) in 2008. He was first elected as a member of the National Assembly of Pakistan from NA-56 (Rawalpindi VII) as a candidate of Muttahida Majlis-e-Amal (MMA) and defeated Sheikh Rashid Ahmad nephew, Sheikh Rashid Shafiq in the 2002 by-elections. In Pakistani general election, 2008, Abbasi joined the Pakistan Muslim League (N) (PML-N) and was again elected as a member of the National Assembly of Pakistan from NA-56 (Rawalpindi VII) on the ticket of Pakistan Muslim League (N) (PML-N) and defeated former Minister Sheikh Rashid Ahmad. In Pakistani general election, 2013, he again contested election from NA-56 (Rawalpindi VII) as a candiate of Pakistan Muslim League (N) (PML-N) and was defeated by Imran Khan.

    Disqualification

    Abbasi owns a pharmaceutical wholesale business which he runs under the company named, Gray Pharmaceutical. In June 2012, the Anti-Narcotics Force (ANF) filed a case in the Lahore High Court alleging Abbasi and several colleagues of misusing 500 kilograms (1,100 lb) of ephedrine which was bought for making medicine in 2010. On June 11, 2018, Justice Ibadur Rehman Lodhi of the Lahore High Court’s Rawalpindi bench had ordered the judge of the special court to hear the case on a daily basis from July 16 onwards and announce the verdict on 21 July 2018. On 21 July 2018, the Control of Narcotics Substances court handed life imprisonment and ₨ 1 million fine to Abbasi in its verdict. He was taken into custody from the courtroom and was subsequently imprisoned.

    Source : Wikipedia


    0 0

    ڈر تو پہلے سے تھا لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ کے محترم جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات نے جو ڈر تھا اُسے تقویت دی اور دل کو دکھی کر دیا۔ آج سے تقریباً گیارہ سال پہلے عدلیہ کی آزادی کی تحریک کا جو ایک بڑا حاصل تھا وہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اُس گٹھ جوڑ کا ٹوٹنا تھا جس کی وجہ سے ہماری تاریخ کے ہر مارشل لاء اور اسٹیبلشمنٹ کے ہر غیر جمہوری اقدام کو پاکستان کی عدلیہ نے تحفظ دیا۔ 2007 کی عدلیہ کی آزادی کی تحریک نے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے اس nexus کو توڑا ۔ اگرچہ اس تحریک کے نتیجے میں سستے اور جلد انصاف کے حصول کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا لیکن گزشتہ دس سالوں کے دوران اور خصوصاً سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میں ایسے ایسے فیصلے دیئے گئے جو یہ بات ظاہر کرتے تھے کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان گٹھ جوڑ ٹوٹ چکا اور عدلیہ اب مکمل آزاد اور خود مختار ہو گئی۔ 

    پاناما اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد جس طرح جے آئی ٹی کی تشکیل کی گئی، جس انداز میں اس جے آئی ٹی نے کام کیا اور جس قسم کے پھر عدالتی فیصلے ایک کے بعد ایک آنے لگے اور جن سب کانشانہ نواز شریف اور اُن کا خاندان تھا تو لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف انگلیاں اٹھائی جانے لگیں۔ دلوں میں یہ ڈر پیدا ہونے لگا کہ کہیں اس کھیل میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کا گٹھ جوڑ دوبارہ پیدا تو نہیں ہو گیا۔ اسی دوران جسٹس شوکت صدیقی بول پڑے اور وہ باتیں کر دیں جس نے بہت سوں کے اُس ڈر کو تقویت دی جس نے اُن کے دل کو کافی عرصہ سے جکڑا ہو تھا۔ راولپنڈی بار سے گزشتہ ہفتہ کے روز خطاب کرتے ہوے جسٹس صدیقی نے کہا کہ آج کے اس دور میں آئی ایس آئی پوری طرح judicial proceedings کو manipulate کر نے میں شامل ہے، اس ایجنسی کے کچھ لوگ اپنی مرضی کے عدالتی بنچ بنواتے ہیں، اور اُن ہی کی مرضی کے مطابق کیسوں کی مارکنگ ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ میں اپنی ہائی کورٹ کی بات کرتا ہوں جہاں ایجنسی والوں نے میرے چیف جسٹس سے رابطہ کر کے کہا کہ ہم نے الیکشن تک نواز شریف اور اس کی بیٹی کو باہر نہیں آنے دینا اس لیے شوکت عزیز صدیقی کو بنچ میں مت شامل کرنا۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ اُن کے چیف جسٹس نے جواب میں ایجنسی والوں کو کہا کہ جس بنچ سے آپ مطمعین ہوں گے ہم وہ بنا دیتے ہیں۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ سپریم کورٹ میں کس کے ذریعے کون کس کا پیغام لے کر جاتا ہے اور یہ بھی کہ احتساب عدالت کی ہر روز کی کارروائی کی تفصیلات کہاں جاتی ہیں۔ 

    جسٹس صدیقی نے یہ بھی کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احتساب عدالت پر انتظامی کنٹرول کو اس لیے ختم کیا گیا تاکہ کل کوئی جج جا کر احتساب عدالت کی کارروائی کو نہ دیکھ سکے۔ جسٹس صدیقی نے اور بھی بہت کچھ کہا۔ جسٹس صدیقی نے 18 جولائی کو اپنے ایک فیصلے میں بھی اسی قسم کے سنگین الزامات لگائے تھے۔ جسٹس صدیقی کوئی عام آدمی نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک سینئیر جج ہیں۔ ذرائع کے مطابق جو کچھ جسٹس صدیقی نے کہا اُن کے پاس اس کے ثبوت بھی موجود ہیں۔ یہ حقیقت ہے یا الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں اور جنہیں سنی ان سنی کر کے ignore نہیں کیا جا سکتا۔ 

    اگرآپ جسٹس صدیقی کے گزشتہ ہفتے کے دوران اس موضوع پر دیے گئے آرڈر ، عدالتی ریمارکس اور راولپنڈی بار میں کی جانے والی تقریر کو پڑھیں تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان سنگین الزامات سے فوج، آئی ایس آئی اور عدلیہ کو بحیثیت ادارے ملوث نہیں کرتے بلکہ کچھ افراد کی بات کرتے ہیں اور یہ امید ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کے سربراہان خصوصاً آرمی چیف اس معاملہ پر نوٹس لے کر اس مرض کا علاج کریں گے کیوں کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو عدلیہ کے ساتھ ساتھ فوج اور آئی ایس آئی کے اداروں کو نقصان ہو گا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ایسی کارروائیوں سے ریاستی ادارے کمزور بھی ہوتے ہیں اور متنازع بھی بنتے ہیں۔ جہاں ایک طرف عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی کے لیے لازم ہے وہیں پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کی ملک کے دفاع اور سیکورٹی کے لیے بہت اہمیت ہے۔ 

    سول حکومت کے کام میں مداخلت اور سیاسی جوڑ توڑ میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ نے ماضی میں ان دونوں اداروں کو بہت متنازع بنانے کے ساتھ ساتھ حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کیا جس کا نقصان پاکستان کو ہوا۔ اس کھیل کو بار بار کھیلا گیا۔ جسٹس صدیقی صاحب کے بیان کے مطابق یہ کھیل اب بھی کھیلا جا رہا ہے جس کی اجازت نہ تو چیف جسٹس آف پاکستان کو دینی چاہیے اور نہ ہی آرمی چیف کو ایسی کسی کارروائی کو برداشت کرنا چاہیے۔ اس معاملہ سے پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ساتھ عدلیہ اور فوج جیسے اہم ترین ریاستی اداروں کی ساکھ کے متاثر ہونے کا خطرہ ہے جسے رد کرنے کے لیے آرمی چیف اور چیف جسٹس کو اپنے اپنے اداروں کے اندر ایسے افراد کی صفائی کرنی ہو گی جو اپنی ذاتی مفاد کے لیے ریاستی اداروں کو غیر قانونی اور غیر آئینی کارروائیوں میں شامل کرتے ہیں۔

    یہ کام جتنا جلد ہو اُتنا بہتر ہے کیوں کہ اب عدلیہ کے ہر فیصلے کو شک سے دیکھا جائے گا اور اسٹیبلشمنٹ بھی تنازعات کا شکار رہے گی۔ اچھا ہوا آج ہی نہ صرف چیف جسٹس آف پاکستان نے جسٹس شوکت عزیز کی تقریر کا نوٹس لیا بلکہ آرمی چیف کی طرف سے بھی اس مسئلہ پر انکوائری کرنے کے لیے چیف جسٹس کو درخواست کی گئی ہے۔ بہت اچھا ہو گا اگر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں ایک کمیشن بنا کر اُس کے سپرد اس کیس کی انکوائری دے دی جائے۔ انکوائری کا مقصد جسٹس شوکت عزیز کے توسط سے اُس سچ تک پہنچنا ہونا چاہیے جس کی وجہ سے ریاستی ادارے بدنام ہوتے ہیں۔ میری چیف جسٹس سے درخواست ہو گی کہ اسی کمیشن کے توسط سے میڈیا کو درپیش دبائو کے معاملہ پر بھی تحققات کی جائے اور حمید ہارون اور دوسروں کو بلا کر پوچھا جائے کہ میڈیا پر کون دبائو ڈال رہا ہے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر سیاست اور عدلیہ میں مداخلت کے الزامات عائد کرنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کو خط لکھا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے راول پنڈی بار سے خطاب میں جو حقائق بیان کیے اس پر کمیشن بنایا جائے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کو جو خط ارسال کیا ہے اس کے متن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی تقریرمیں بغیر خوف کے موجودہ صورتحال پر حقائق بیان کیے۔ جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ انہوں نے جن حقائق کی بات کی اس کی تصدیق کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے اور یہ انکوائری کمیشن پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج کی سربراہی میں بنایا جائے۔

    جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کی گذشتہ روز کی تقریر پر بعض حلقے ناخوش ہیں اور سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر مجھے بدنام کرنے کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میڈیا کے ذریعے ہی معلوم ہوا کہ آپ نے پی آر او سپریم کورٹ کے ذریعے جاری بیان میں میرے حوالے سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے جو آپ نے ان حقائق کے حوالے سے مجھ سے تصدیق کیے بغیر کیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماضی میں بھی آپ مجھ پر ناراضگی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ اب جب کہ پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے آپ سے انکوائری کرنے کی درخواست کی ہے میں درخواست کرتا ہوں کہ تمام سچائی اور حقائق کو جاننے کے لیے کمیشن تشکیل دیا جائے۔ 

    جسٹس صدیقی کا کہنا تھا کہ اگر ان کے پیش کردہ حقائق جھوٹے ثابت ہوں تو وہ کوئی بھی نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ اگر میرے پیش کردہ حقائق درست ثابت ہوئے تو فوج کے حاضر سروس ان افسران کا مستقبل کیا ہو گا جو عدلیہ کے نظام کو مینوپلیٹ کر رہے ہیں۔ جسٹس صدیقی نے درخواست کی کہ اس کمیشن کی تمام کارروائی کو وکلا، میڈیا اور سول سوسائٹی کے لیے اوپن رکھا جائے ۔ پاک فوج نے جسٹس شوکت عزیز کے الزامات کو ریاستی اداروں کے لیے انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس سے تحقیقات اور کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے جب کہ چیف جسٹس نے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے تقریر کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے راولپنڈی بار ایسویسی ایشن کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا تھا کہ آئی ایس آئی افسران نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پر دباؤ ڈالا کہ ان کی مرضی کا بنچ تشکیل دیا جائے اور نواز شریف و مریم نواز کو انتخابات سے پہلے باہر نہ آنے دیا جائے۔

     


    0 0

    سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں قیدی نمبر الاٹ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایون فیلڈ کیس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں قید ہوئے 9 دن گزر گئے، جیل انتظامیہ نے دونوں مجرمان کو قیدی نمبر جاری کر دیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو قیدی نمبر 1421 اور مریم نواز کو قیدی نمبر 1422 الاٹ ہوا ہے لیکن دونوں کو تاحال مشقت نہیں سونپی گئی۔
     


    0 0

    چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی کی اعلیٰ کمان نے اگرچہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے عدالتی معاملات میں مداخلت کے الزامات پر رد عمل کا اظہار کیا ہے لیکن نگراں وزیراعظم اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جن کے ہاتھ میں اعلیٰ ادارے کی کمان ہے۔ ادارہ وزیراعظم کے انتظامی کنٹرول میں ہے لیکن موجودہ نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے خود کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس صدیقی کے بیان سے پیدا ہونے والے تنازع سے دور رکھا ہوا ہے۔ سرکاری ذریعے کے مطابق یہ بہتر ہوتا کہ ناصر الملک، ملک کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے اس معاملے کی انکوائری کا حکم دیتے۔ 

    جسٹس صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایجنسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رابطہ کر کے اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز الیکشن تک جیل میں رہیں۔ انہوں نے ایجنسی پر مکمل طور پر عدالتی کارروائیوں میں تبدیلیاں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔ یہ الزامات ایسی ایجنسی پر عائد کیے گئے جو براہِ راست وزیراعظم کو رپورٹ کرتی ہے، تاہم وزیراعظم میڈیا کی زینت بننے والی شہ سرخیوں اور اس تنازع پر لاتعلق نظر آتے ہیں۔ عدالتی امور میں ایجنسی کی مداخلت کے حوالے سے جسٹس صدیقی کی جانب سے عدالتی فیصلے میں اس بات کی نشاندہی کرنے اور اگلے ہی دن راولپنڈی بار سے خطاب کے چند روز بعد چیف جسٹس پاکستان اور ساتھ ہی پاک فوج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی بات پر رد عمل ظاہر کیا۔

    چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا جبکہ فوج نے اپنے ترجمان کےذریعے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائیں۔ الزامات سنگین تھے اور ریاستی اداروں کو ملوث بتایا گیا تھا جس کی وجہ سے فوج کو مطالبہ کرنا پڑا کہ ریاستی اداروں کے احترام اور ساکھ کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ سے درخواست ہے کہ وہ مناسب کارروائی شروع کریں تاکہ الزامات کی سچائی معلوم کی جا سکے اور ضروری کارروائی کی جا سکے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق، پیر کے روز چیف جسٹس پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا ہے کہ وہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے ان پر عائد کردہ الزامات پر موقف پیش کریں۔ ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے پاس کوئی مواد / شواہد موجود ہیں تو وہ بھی فراہم کریں۔ 

    جسٹس صدیقی نے الزام عائد کیا تھا کہ ایجنسی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد انور کاسی سے رابطہ کیا اور کہا ’’ہم نہیں چاہتے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی الیکشن تک [جیل سے] باہر آئیں، [شریف فیملی کی اپیل کی سماعت کرنے والے] اس بینچ میں شوکت عزیز صدیقی کو شامل نہ کریں۔‘‘ جسٹس صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس محمد انور کاسی نے ایجنسی والوں کو بتایا کہ ان کی مرضی کا بینچ تشکیل دیدیا جائے گا۔ اگرچہ چیف جسٹس نے اس معاملے پر کسی حد تک انکوائری شروع کر دی ہے لیکن تفصیلی تحقیقات کیلئے کوئی طاقتور اور اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا گیا۔ قانون کے تحت، حکومت حاضر سروس یا پھر ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دے سکتی ہے۔ 

    حاضر سروس جج کی صورت میں حکومت کو عدلیہ سے جج کی نامزدگی کی درخواست کرنا ہو گی۔ چیف جسٹس نے پیر کو یقین دہانی کرائی کہ جسٹس صدیقی کو انصاف ملے گا۔ جسٹس صدیقی نے اتوار کو چیف جسٹس پاکستان کو خط بھیجا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اس معاملے پر کسی ایسے جج کے ماتحت کمیشن بنایا جائے جس نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔ جسٹس صدیقی نے کہا کہ الزامات ثابت کرنے میں ناکامی کی صورت میں وہ کوئی بھی سزا بھگتنے کو تیار ہیں تاہم انہوں نے یقین دہانی مانگی کہ عدالتی معاملات میں مداخلت کرنے والے افسران کو بھی سزا دی جائے گی۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    ملک میں ہونے والے حالیہ انتخابات پر آنے والے اخراجات گزشتہ 2 الیکشن پر خرچ ہونے والی مجموعی رقم سے 3 گنا بڑھ چکے ہیں، جس میں زیادہ تر رقم سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر خرچ کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے اندازے کے مطابق انتخابی عمل پر 21 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان ہے، جس میں سے 10 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد معمول کے انتخابی عمل، جس میں پولنگ اسٹاف کی تربیت، الیکشن میں فرائض انجام دینے والے انتخابی عملے کے معاوضے، انتخابی مواد کی چھپائی، مواصلات اور دیگر معاملات کی مد میں خرچ ہوں گے۔

    ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے تخمینے کے مطابق فوج کو ادا کیے جانے والے فنڈ کی لاگت بھی اتنی ہی رہنے کی توقع ہے، تاہم اس حوالے سے الیکشن کمیشن کے بعد ادائیگیوں کے بل کی بنیاد پر ہی حتمی طور پر کچھ کہا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ 2008 میں ہونے والے عام انتخابات پر ایک ارب 84 کروڑ روپے کے اخراجات آئے تھے، جو 2013 کے عام انتخابات میں بڑھ کر 4 ارب 73 کروڑ روپے تک پہنچ گئے تھے، یعنی اس میں تقریباً 157 فیصد اضافہ ہوا تھا. 2008 میں پاک فوج کو 10 کروڑ 20 لاکھ روپے سیکیورٹی اخراجات کی مد میں ادا کیے گئے تھے جبکہ 2013 میں سیکیورٹی کے لیے ادا کی جانے والی رقم 70 کروڑ 20 لاکھ روپے تھی۔

    خیال رہے کہ ان اخراجات میں پولیس سمیت مقامی انتظامیہ کی جانب سے صوبائی سطح پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کے اخراجات شامل نہیں۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری بابر یعقوب فتح محمد نے ڈان کو بتایا کہ انتخابی عمل کے اخراجات میں واضح اضافہ بیرونِ ملک سے برآمد کیے جانے والے واٹر مارک والے بیلٹ پیپر کے باعث ہوا، اس کے ساتھ انتخابی عملے کو دیا جانے والا معاوضہ بھی 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 8 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 2013 میں پریزائیڈنگ افسر کو الیکشن ڈیوٹی کا معاوضہ 3 ہزار روپے ادا کیا گیا تھا۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ای سی پی نے حالیہ انتخابات میں خواتین پریزائیڈنگ آفیسرز کو الیکشن والے دن انتخابی مواد اٹھانے کے لیے معاون کے طور ایک چپراسی فراہم کیا ہے جس پر مزید اخراجات آئیں گے، اس اقدام کے بعد مرد پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے بھی اسی طرز کے معاون خدمت گار فراہم کرنے کا مطالبہ سامنے آیا۔

    اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں الیکشن کمیشن کے ترجمان چوہدری نسیم قاسم کا کہنا تھا کہ اس وقت انتخابات پر آنے والی حتمی لاگت کے حوالے سے کچھ کہنا ممکن نہیں کیوں کہ انتخابی سرگرمیاں گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں اور اس درمیان 2 وفاقی بجٹ آچکے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے مالی سال میں انتخابی مواد، برآمد شدہ واٹر مارک پیپر، اسٹیشنری، لفافوں کی چھپائی، انتخابی دستاویزات اور الیکشن اسٹاف کی تربیت کے اخراجات شامل تھے۔ رواں مالی سال میں انتخابی تیاریوں کے لیے مختص کی جانے والی رقوم میں انتخابی معاوضوں اور اعزازی رقوم، انتخابی مواد کی ترسیل اور رائے شماری والے دن کے انتظامات کی مد میں آنے والے اخراجات شامل ہیں۔ خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں جہاں پریزائیڈنگ افسر کا اعزازیہ 3 ہزار سے بڑھا کر 8 ہزار کیا گیا وہیں پولنگ افسر کا اعزازیہ بھی 3 ہزار کے بجائے 6 ہزار روپے کیا گیا۔

    خلیق کیانی

    بشکریہ ڈان نیوز اردو
     


    0 0

    بھارتی پولیس نے ان اہل کاروں کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا ہے، جنہیں مشتعل افراد کے ہاتھوں زخمی شخص کو فوری طور پر ہسپتال پہنچانا تھا، تاہم انہوں نے مبینہ طور پر اپنا ’چائے کا وقفہ‘ ختم نہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ’گائے کے محافظ‘ ہندو گروہ نے ایک 28 سالہ مسلمان اکبر خان کو بری طرح سے پیٹا۔ راجستھان ریاست کے الوار ضلع میں اس مشتعل ہجوم کی جانب سے اکبر خان کو شدید اذیت کا نشانہ بنایا گیا، جس کی تاب نہ لاتے ہوئے یہ شخص فوت ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ راجستھان میں کئی شاہ راہوں اور ہائی ویز پر سخت گیر ہندو کھڑے اور آتے جاتے ٹرکوں کو چیک کرتے نظر آتے ہیں۔ ہندو اکثریتی ملک بھارت میں گائے کو مقدس جانور تصور کیا جاتا ہے اور اس کے مذبح پر متعدد ریاستوں میں پابندی بھی عائد ہے۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے جب مشتعل ہجوم اس نوجوان کو پیٹ رہا تھا، ایسے میں پولیس سے مدد طلب کی گئی، تاہم مدد مانگنے والوں سے کہا گیا کہ ابھی ’چائے کا وقفہ‘ ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس دوران جو وقت ضائع کیا گیا، وہی اس نوجوان کو ہسپتال پہنچانے اور اس کی جان بچانے کے لیے ضروری تھا اور اس تاخیر کی وجہ سے اکبر خان کی جان گئی۔ پولیس اہل کاروں پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ جائے واقعہ پر پہنچنے پر بھی انہوں نے وہاں موجود دو گائیوں کو پہلے دیکھا اور زخمی شخص کو بعد میں۔ میڈیا کے مطابق پولیس اہل کار جائے واقعہ پر پہنچے اور شدید زخمی شخص کو بچانے کے لیے کوئی کارروائی کرنے کی بجائے انہوں نے گائے کچھ فاصلے پر چھاؤں میں باندھیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک مراسلے میں ریاستی پولیس کے سربراہ او پی گلہوترا نے لکھا، ’’مقامی پولیس کے ابتدائی ردعمل کی بابت متعدد شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔‘‘ اس مراسلے میں ریاستی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا، ’’ایک ٹیم مقرر کی گئی ہے، تاکہ وہ اس معاملے اور ان حالات کا جائزہ لے، جس میں پولیس اہل کاروں کی جانب سے مبینہ طور پر تاخیر ہوئی۔‘‘ واضح رہے کہ  مشتعل ہجوم نے دو مسلمانوں پر گائے کو غیرقانونی طور پر اسمگل کرنے کے الزام میں روکا تھا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ان میں سے ایک شخص تو اس مشتعل ہجوم کے شکنجے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا، جب کے اکبر خان کو لوگوں نے مار مار کر ہلاک کر دیا۔

    ع ت، الف الف (اے ایف پی)

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات 2018 کی انتخابی مہم کا اختتام ہوا اور مہم کے آخری روز مختلف پارٹیوں کے سربراہان نے جلسے کیے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کیا جہاں سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی بھی خصوصی طور پر ملتان سے آئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور امیدواروں کی جانب سے راولپنڈی میں بھی ایک بڑی ریلی نکالی گئی۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی راولپنڈی میں انتخابی مہم کے آخری روزریلی سے خطاب کیا۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے لاہور میں انتخابی مہم کی اپنی آخری تقریر کی اور الیکشن میں کامیاب ہو کر پاکستان میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا عزم دہرایا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جیت کر جنوبی پنجاب میں بھی لاہور جیسے ترقیاتی کام کرنے کا وعدہ کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جیکب آباد میں اپنی انتخابی مہم کو ختم کیا جہاں انھوں نے عوام پر زور دیا کہ پی پی پی کو ووٹ دے کر اقتدار دلائیں تاکہ غریبوں کے لیے کام کیا جاسکے۔ بلاول بھٹو نے امیدواروں سے پارٹی منشور پر عمل کرنے اور پارٹی کے ساتھ وفادار رہنے کا بھی وعدہ لیا۔











    0 0

    انتخابات 2018 میں پولنگ کا عمل جاری ہے اور جہاں ایک طرف عوام ووٹ ڈال رہے ہیں تو وہیں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر مامور ہیں۔

    ملک بھر میں عام انتخابات میں 3 لاکھ 71 ہزار پاک فوج کے اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں، تاہم سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے ان پاک فوج کے جوانوں سے عوام نے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری تصاویر میں دیکھا گیا کہ سیکیورٹی فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو بچے، خواتین اور مرد گلدستہ دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز فیس بک پر مجلس علمی سوسائٹی کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ ووٹ ڈالنے جائیں تو سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو پھول دیں۔



    0 0

    شہباز شریف اور کئی سیاسی جماعتوں نے فارم 45 نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔ لیکن یہ فارم ہوتا کیا ہے؟ فارم 45 اور فارم 46 کا کردار پولنگ کے خاتمے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کسی بھی پولنگ سٹیشن کے پریزائڈنگ افسر ووٹ ڈالنے کے عمل کے خاتمے کے بعد گنتی کا عمل امیدواروں کے پولنگ ایجٹنس کی موجودگی میں شروع کرتے ہیں۔ گنتی کے مکمل ہونے پر پریزائڈنگ افسر ہر پولنگ ایجنٹ کو گنے گئے ووٹوں کی تعداد فارم 45 میں لکھ کر اپنے دستخط اور انگوٹھے کے نشان کے ساتھ جاری کرتا ہے۔ اس پر پولنگ ایجنٹ کے دستخط بھی ہونے چاہیے۔
    ہر پولنگ سٹیشن سے یہ فارم اکٹھے کر کے مجموعی نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے۔ فارم 46 موصول ہونے والے بیلٹ پیپرز کی تعداد، استعمال شدہ، مسترد شدہ کی تفصیل پر مشتمل ہوتا ہے۔ پریزائڈنگ افسر یہ دونوں فارم یا فہرستیں پولنگ سٹیشن کے کسی واضح مقام پر آویزاں کرنے کا پابند ہوتا ہے تاکہ عام لوگ اسے دیکھ سکیں۔ یہی دو فارم فوراً الیکشن کمیشن بھیج دیے جاتے ہیں۔
     


    0 0

    پچیس جولائی کے الیکشن کے ابتدائی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف مخلوط حکومت سازی کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ بطور وزیر اعظم عمران خان کے سامنے کئی چیلنجز ہوں گے، جن میں سکڑتی معیشت اور انتہا پسندی جیسے مسائل نمایاں ہیں۔ پاکستان کے عام پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی اور غیرسرکاری جزوی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری ہے۔ نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی عمران خان کی پارٹی بظاہر غیر معمولی کامیابیاں سمیٹتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ان انتخابات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا تھا کیونکہ یہ تیسرا موقع ہے، جب بغیر کسی فوجی مداخلت کے پارلیمانی حکومت قائم ہو گی۔

    اس الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی پارٹی کے سامنے کئی اہم مسائل ہوں گے، جن میں بدحال اقتصادی حالت اور انتہا پسندی سے نمٹنا دو اہم چیلنج قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس الیکشن کی مہم کے دوران بھی متعدد دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 180 افراد مارے گئے جبکہ پچیس جولائی الیکشن کے دن بھی کوئٹہ میں ہوئے ایک حملے میں اکتیس افراد مارے گئے۔ عمران خان کی سیاسی پارٹی اگر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو مبصرین کے مطابق داخلی مسائل کے علاوہ خارجہ امور کو احسن طریقے سے سر انجام دینا ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔

    واشنگٹن میں قائم یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے ایشیا سینٹر سے وابستہ معید یوسف نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا، ’’دہشت گردانہ کارروائیاں ایک مختلف مظہر ہیں، جو پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے خطرہ نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ملکی اقتصادیات کو درست ڈگر پر لانا ہو گا۔ معید یوسف کے بقول اقتصادی بحران سے نمٹنا عمران خان کے لیے ایک مسئلہ ہو سکتا ہے کیونکہ پاکستان کے دو اہم روایتی اتحادی ممالک امریکا اور چین کے لیے وہ بہتر وزیر اعظم نہیں ہوں گے۔ عمران خان افغانستان جنگ میں امریکی کردار کے کڑے ناقد ہیں جبکہ وہ پاکستان میں چین کی وسیع پیمانے پر کی جانے والی سرمایہ کاری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
    پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تحت چین نے پاکستان میں لاکھوں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ اس منصوبے کو پاکستانی ترقی کے لیے انتہائی اہم بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    کئی ناقدین کے مطابق علاقائی سطح پر عمران خان کی پالیسیاں پاکستان کو مزید تنہا کرنے کا باعث بن بھی سکتی ہیں۔ افغان جنگ اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ان کا موقف امریکی انتظامیہ سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ اس معاملے پر واشنگٹن سے اختلافات کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ ممکنہ پابندیوں کے نتیجے میں پاکستان کے اقتصادی مسائل دوچند بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کی پارٹی اگر مخلوط حکومت سازی میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا کرنا ہو گا، جس میں مسلم لیگ نون کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہو گی۔ قطعی اکثریت نہ ہونے کے باعث ان کی پارٹی قانون سازی کے قابل بھی نہیں ہو گی اور کئی اہم ملکی اور بین الاقوامی امور پر پارلیمان میں اتفاق رائے پیدا کرنا بھی عمران خان کے لیے ایک مشکل امر ثابت ہو سکتا ہے۔

    ع ب / ع ا / خبر رساں ادارے

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    الیکشن کمشن آف پاکستان کا رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم کام کرنا چھوڑ گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں رات ساڑھے تین بجے ایک بھی سرکاری نتیجہ کا اعلان نہ ہو سکا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر فتح یعقوب نے سسٹم بیٹھ جانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمشن نے ملک بھر میں صوبائی الیکشن کمشنرز کے ذریعے تمام پریذائیڈنگ افسران کو مینوئل طریقہ سے فارم 45 ریٹرننگ افسران تک پہنچانے کا حکم دیا ہے۔ رات گئے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ ملک بھر میں 85 ہزار پولنگ سٹیشنز کا رزلٹ آنا ہیں اور شام چھ بجے 25 ہزار پریذائیڈنگ افسران نے جب رزلٹ بھجوائے تو سسٹم فلاپ ہو گیا اور اب یہ سسٹم کام نہیں کر رہا جس کی وجہ سے مینوئل طریقہ سے رزلٹ بھجوائے جارہے ہیں۔

    انہوں نے اس معاملہ میں کسی سازش ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض سسٹم کی خرابی ہے اور دنیا بھر میں رزلٹ تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔
    سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 دیے بغیر باہر نکالنے کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ سیکرٹری الیکشن کمیشن بابریعقوب نے کہا کہ اگر کسی کے پاس نتائج روکنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو پیش کریں، ہمیں بتایا جائے کہاں کہاں پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا، اگر فارم 45 کے حوالے سے کوئی شکایات ہیں تو الیکشن کمشن کے نوٹس میں لایا جائے۔

    بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ کسی نے پریس کانفرنس کی کہ پنڈی اور لاہور میں رزلٹ نہیں دیا جا رہا لیکن یہ بات درست نہیں۔ میں نے لاہور اور راولپنڈی کے ڈی آر اوز سے بات کی اور ری چیک کیا جب کہ فیصل آباد کے ڈی آر او سے بھی رابطہ کیا گیا مگر ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے کہا کہ فارم 45 سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن سے بھی لے سکتی ہیں اگر کسی کو فارم 45 نہیں مل رہا تو متعلقہ پولنگ اسٹیشن کا بتایا جائے جب کہ کوئی گڑبڑ ہو ہی نہیں رہی ہے تو ثبوت کہاں سے آئیں گے۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ایم کیوایم اور ایم ایم اے نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 45 دیے بغیر پولنگ اسٹیشنز سے نکال کر بند کمروں میں نتائج تبدیل کیے جارہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ رات گئے تک انتخابات کے نتائج کو روکنا ایک سازش ہے اور سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ایک پارٹی کو جتوانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔
     


    0 0

    عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر عیاشی نہیں ہو گی
    وعدہ کرتا ہوں پاکستان میں بہترین نظام لا کر رہوں گا
    وعدہ کرتا ہوں سادگی اختیار کر کے دکھاؤں گا
    اپوزیشن جہاں دھاندلی کا الزام لگائے گی اس حلقے کو کھولیں گے
    ملک میں ایک ایسی حکومت آئے گی جس میں کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا
    تحریک انصاف کی حکومت اداروں کو مضبوط کرے گی
    تمام لوگوں کے لیے قانون کو مساوی کیا جائے گا
    صرف اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا احتساب نہیں ہو گا، بلکہ پی ٹی آئی اپنے لوگوں کا بھی احتساب کر کے مثال قائم کرے گی
    بیرونِ ملک پاکستانیوں کو نظام بہتر کرنے کے بعد ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جائے گی
    وزیر اعظم ہاؤس کو تجارتی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا
    چھوٹے کاروبار میں مدد کی جائے گی اور نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا
    اپنی حکومت میں چین کے ساتھ اپنی دوستی کو مزید مضبوط کریں گے
    پاکستان کی عوام ملک میں ایک مختلف قسم کی حکومت دیکھیں گے
    ملک کے تمام طبقوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے

    میمونہ رضا نقوی

    بشکریہ روزنامہ ڈان اردو
     


    0 0

    حالیہ کچھ عرصے کے دوران جب سے نواز شریف کو گرفتار کیا گیا ہے اس وقت سے پاکستان کے تمام ہی ٹاک شوز او ر اخبارات میں ترک صدر ایردوان کی طرح ملک میں اسٹیبلشمنٹ پر گرفت قائم رکھنے اور اسے وزارتِ دفاع کی نگرانی میں دیتے ہوئے ملکی سیاست میں دخل اندازی کے تمام دروازے بند کرنے کے عمل کو پاکستان میں بھی متعارف کروانے کا واویلا مچایا جا رہا ہے۔ ترک صدر ایردوان کو اسٹیبلشمنٹ پر سویلین حکومت کی گرفت اور ملکی سیاست میں دخل اندازی سے باز رکھنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے جدید جمہوریہ ترکی کے قیام ہی سے اپنی گرفت مضبوطی سے قائم کئے رکھی ہے۔

    کبھی فوج نے مارشل لاء لگاتےہوئے براہ راست اپنا اقتدار قائم کئے رکھا تو کبھی اسٹیبلشمنٹ اپنی پسند کی سویلین حکومت کو برسر اقتدار لاتے ہوئے من و عن اپنے احکامات کی تعمیل کرواتی رہی ہے۔ سیلمان دیمرل ، تانسو چیلر، بلنت ایجوت، ترگت اوزال، یلدرم آق بُلت ، نجم الدین ایربکان تقریباً تمام ہی وزرائے اعظم ہمیشہ ہی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ان کو اپنے تیار کردہ منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کا موقع نہ دئیے جانے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے صرف ملکی انتظامیہ پر ہی گرفت قائم نہ کئے رکھی بلکہ ایردوان دور سے قبل تک ان کا ہمیشہ ہی میڈیا پر مکمل کنٹرول قائم رہا ہے ۔ اخبارات کی خبروں سے لے کر کالموں تک کی ایک ہی جنبش میں کاٹ چھانٹ کر دی جاتی رہی ہے اور کالم نگار وں کی اخبارات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھٹی بھی کروائی جاتی رہی ہے اور خاص طور پر مذہبی رجحان رکھنے والے کالم نگاروں کے کالموں کا قینچی کی زد میں نہ آنا ناممکن سمجھا جاتا رہا ہے۔

    ترک فوج بیرکوں میں رہتے ہوئے بھی تمام سویلین حکومتوں کو تگنی کاناچ نچاتی رہی ہے۔ ترک فوج اتاترک کے دور میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں اور ملک میں برپا کئے جانے والے انقلابات کی آڑ میں ری پبلیکن پیپلزپارٹی کے تعاون اور نام نہاد اور یکطرفہ سیکولرازم کی تلوار کا سہارا لیتے ہوئے سویلین حکومتوں کو کوالیشن پر مجبور کرتی رہی ہے۔ ترک اسٹیبلشمنٹ نے جس طریقے سے نجم الدین ایربکان کی حکومت کا تختہ الٹا تھا ، اسے کوئی بھی نہیں بھول سکا ہے۔ ملک میں نام نہاد سیکولرازم کی آڑ میں حزب ِ اختلاف کے ملین افراد پر مشتمل جلسوں اور ریلیوں کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے؟ جلسوں میں تو لوگ جوق در جوق شرکت کرتے رہے لیکن انتخابات کے وقت ووٹ کسی اور ہی جماعت کو پڑتے رہے۔ 

    اسٹیبلشمنٹ نے ایردوان کے دوسرے دور میں عدلیہ کا سہارا لیتے ہوئے جسٹس اینڈ ڈیولپمینٹ پارٹی پر پابندی لگانے کی بھی کوشش کی لیکن اسٹیبلشمنٹ کو یہاں بھی منہ ہی کی کھانا پڑی، اسٹیبلشمنٹ نے آق پارٹی کے پہلی بار برسر اقتدار آنے پر صدر ایردوان کو مذہبی اشعار پڑھنے کی پاداش میں جیل کی سزا دلوا کر وزارتِ اعظمیٰ سے دو رکھنے کی بھی کوشش کی تھی جو دیگر پارٹیوں کے تعاون سے آئین میں ترامیم کرواتے ہوئے ناکام بنا دی گئی تھی۔ ایردوان اس وقت ہی یہ بات اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ دیگر سیاستدانوں کی طرح ان کی حکومت کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہے گی، اس لئے انہوں نے پہلے روز ہی سے عوام کی خدمت کو اپنا اشعار بنا کر اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایردوان نےاپنی وزارتِ اعظمیٰ کے پہلے دونوں ادوار میں بڑے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو ذرہ بھر بھی نہ چھیڑا حالانکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی تمام ریشہ دوانیوں سے پوری طرح باخبر تھے۔ 

    ایردوان نے اس دوران ملک کی اقتصادیات کی طرف خصوصی توجہ دی اور فی کس آمدنی کو دو ہزارڈالر سے بڑھا کر گیارہ ہزار ڈالر تک پہنچا دیا اور ملک کو اقتصادی لحاظ سے سولہویں بڑی طاقت بنا کر جی 20 ممالک کی صف میں جگہ پانے میں کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم ایردوان نے اپنے پہلے دونوں ادوار میں اپنی حکومت کو مضبوط بنانے اور ملک میں سیاسی استحکام قائم کرنے کی جانب خصوصی توجہ دی کیونکہ وہ جانتے تھے سیاسی لحاظ سے کمزور ہونے کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ عدنان میندرس کی طرح انہیں بھی تختہ دار پر لٹکانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گی اور مختلف وزرائے اعظم کی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی طرح ان کی حکومت کا بھی تختہ الٹنے میں ذرہ بھر بھی نہیں ہچکچائے گی ۔ 

    ان تمام باتوں سے باخبر وزیراعظم ایردوان نے اپنے پہلے دونوں ادوار کے برعکس تیسرے دور میں پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد آخر کار اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ڈالنے سے قبل ایردوان نے محکمہ پولیس کی از سر نو تشکیل کی، اس کی خفیہ سروس ڈپارٹمنٹ کو اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ سروس ڈپارٹمنٹ سے بھی زیادہ مضبوط بنایا اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے حکومت کے خلاف بنائے جانے والے تمام پلانز اور کارروائیوں سے متعلق معلومات یکجا کیں۔ ایردوان حکومت نے اس دوران عدلیہ کو بھی نئے خطوط پر استوار کیا اور اس پر اسٹیبلشمنٹ کے تمام اثرو رسوخ کو ختم کرتے ہوئے اسے اسٹیبلشمنٹ کا ذیلی ادارہ بننے سے روک دیا۔ ایردوان حکومت نے ججوں کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ کو یقینی بنایا۔

    عدلیہ اور محکمہ پولیس میں ہونے والی ان بڑی تبدیلیوں کے بعد ایردوان حکومت نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے سے متعلق معلومات اور دستاویزات کو پولیس سے حاصل کرتے ہوئے عدلیہ کے روبرو پیش کر دیا اور اسی دوران آئین میں ترامیم کراتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ پر سول عدالت میں مقدمہ چلانے کی بھی راہ ہموار کرا لی۔ صدر ایردوان کو اپنے وزیراعظم ہونے کے ابتدائی دور میں مختلف شعبوں کے سربراہان متعین کرنے کا بھی حق حاصل نہ تھا۔ ایردوان کی جانب سے مختلف عہدوں کے منتخب کئے جانے والے بیورو کریٹس اُس وقت کے صدر احمد نجدت سیزر جو اسٹیبلشمنٹ کے احکامات کی تعمیل کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے تھے ایردوان کی جانب سے متعین کئے جانے والے مختلف شعبوں کے سربراہان کو آئین کی رو سے ویٹو استعمال کرنے کے اختیارات سے وزیراعظم ایردوان کے پسندید ہ بیورو کریٹس کی اپنی میعاد پوری ہونےتک تعیناتی تک نہ ہونے دی۔

    صدر احمد نجدت سیزر کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد جب آق پارٹی ہی سے تعلق رکھنے والے عبداللہ گل نے صدارتی فرائض سنبھالے تو اس وقت ہی ایردوان کے لئے ملک کی ترقی کے راستے پوری طرح کھل گئے اور انہوں نے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ترکی کو دنیا کے گنے چنے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ترکی جیسے جیسے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا رہا اسٹیبلشمنٹ کے اندر تشویش کی لہر پیدا ہوتی رہی کیونکہ ترکی تیسری دنیا کے ایک پسماندہ ملک سے نکل کر دنیا کے سولہویں بڑے اقتصادی ملک کا روپ دھارتے ہوئے جی 20 ممالک کی صف میں شامل ہو چکا تھا۔

    اسی دوران اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے دو بار ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی لیکن وقت سے قبل ہی اطلاع ملنے پر تختہ الٹنے کی کوششوں میں ملوث تمام جرنیلوں کو سزا د لوا کر پہلی بار سویلین حکومت کی اسٹیبلشمنٹ پر برتری کو ثابت کر دیا گیا جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ایردوان کے خلاف اپنی پالیسی میں تبدیلی کر لی اور سویلین حکومت کے خلاف کارروائی نہ کرنے ہی میں اپنے ادارے کی عافیت سمجھی۔ لیکن اس کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایردوان کے خلاف نفرت پھیلانے، ان کو غدار قرار دئیے جانے اور ملکی مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے اندر سے فتح اللہ گولن کے تعاون سے ایردوان حکومت کا تختہ الٹنے کی 15 جولائی 2016ء کو آخری کوشش کی لیکن اللہ و تعالی کے فضل و کرم سے ایردوان اور ان کی حکومت محفوظ رہی اور عوام نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اور ٹینکوں کے آگے لیٹتے ہوئے ملک میں جمہوریت کا بھر پور ساتھ دیا ۔ 

    صدر ایردوان نے اپنی انتھک کوششوں کے بعد ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے ، عوام کے لئے خوشحالی اور دفاع کا بندوبست کرنے اور دنیا بھر میں ترکی کو بلند مقام دلوانے کے بعد ہی اسٹیبلشمنٹ پر ہاتھ ڈالا اور اب اسٹیبلشمنٹ کو مکمل طور پر وزارتِ دفاع کے ما تحت کر دیا گیا ہے اور ترکی کے ریٹایرڈ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل حلوصی آقار کو وزیر دفاع متعین کرتے ہوئے فوج پر مکمل گرفت قائم رکھی ہوئی ہے ۔ پاکستان میں بھی صرف اسی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کو سیاست میں ملوث ہونے سے روکا جا سکتا ہے جب کوئی سویلین حکومت اپنے عوام اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے اور پاکستان کو دنیا میں بلند مقام دلوانے میں کامیاب ہو ورنہ اسٹیبلشمنٹ یوں ہی سیاستدانوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہے گی اور سیاستدان ہمیشہ ہی اسٹیبلشمنٹ پر سیاست میں دخل اندازی کا رونا روتے رہیں گے۔

    ڈاکٹر فرقان حمید
     


older | 1 | .... | 135 | 136 | (Page 137) | 138 | 139 | .... | 149 | newer