Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 118 | 119 | (Page 120) | 121 | 122 | .... | 149 | newer

    0 0

    1960ء میں جب ماؤ ژی تنگ نے پاکستان میں اپنے دوسرے سفیر جنرل جینگبیاؤ کو بھیجا تھا، تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جنرل کو مشورہ دیا تھا کہ ’پاکستان کا خیال رکھنا، یہ مغرب کی طرف چین کا دروازہ ہے۔‘ ممکن ہے کہ ماؤ کے یہ خیالات جغرافیائی سے زیادہ تشبیہاتی ہوں گے۔ 1960ء میں پاکستان مغرب کی جانب چین کا سفارتی دروازہ تھا، اور یہی وہ خصوصیت تھی جس کی وجہ سے 1971ء میں بالآخر چین اور امریکا کے مابین تعلقات بحال کروائے، اور آج صورتحال یہ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی صورت میں ماؤ کے الفاظ جغرافیائی حیثیت سے بھی حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔

    جنرل جینگبیاؤ، جو آگے چل کر چین کے وزیرِ دفاع اور نائب وزیرِ اعظم بنے، انہوں نے پاکستان اور چین کے اسٹریٹجک تعلقات کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی کام پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ اور بعد میں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ادا کیا۔ بدقسمتی سے پاکستانی عوام کی بڑی تعداد، بالخصوص نوجوان، پاکستان اور چین کے تعلقات کی تاریخ، گہرائی اور جواز سے واقف نہیں ہیں۔ مغرب کی طرف جھکاؤ رکھنے والے چند پاکستانی تو پاکستان کو مضبوط دیکھنے کی چینی خواہش پر بھی سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
    پاکستان اور چین کے تعلقات بین الاقوامی سیاست اور دونوں ممالک میں ہونے والی داخلی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والے اتار چڑھاؤ کے باوجود بھی قائم رہے ہیں کیوں کہ یہ تعلقات دونوں ممالک کے قومی مفاد اور دیرپا ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہیں۔

    گزشتہ 50 سالوں میں پاکستان نے پُرعزم طریقے سے چین کے اتحاد اور اس کی جغرافیائی خود مختاری کا دفاع کیا، چین کو اقوامِ متحدہ میں اس کی جائز نشست دلوانے کے لیے انتھک محنت کی اور چین کو انسانی حقوق کے مسئلے پر آڑے ہاتھوں لینے اور اس کی سماجی معاشیاتی کامیابیوں کو نیچا دکھانے والوں کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ دوسری جانب چین نے بھی مختلف انداز میں پاکستان کی حمایت کی ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔

    کب کب کیا ہوا؟ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    1965 میں چین نے اپنی افواج ہندوستان کے ساتھ اپنی متنازعہ سرحد پر تعینات کر دیں جس کی وجہ سے ہندوستان پاکستان کے خلاف اضافی افواج تعینات کرنے سے باز رہا۔ 1971 میں ہندوستان نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو چین نے پاکستان کی سرحدوں کی سلامتی کا دفاع کیا اور وہ پاکستان کی اپیل پر فوجی مداخلت کرنے کو تیار تھا، مگر سوویت یونین کی جانب سے ایٹمی حملے کی کھلی دھمکی کی وجہ سے رک گیا۔ 1972 میں پاکستان کی درخواست پر چین نے اقوامِ متحدہ میں بنگلہ دیش کی شمولیت کو تب تک کے لیے ویٹو کر دیا جب تک کہ ڈھاکہ اور دہلی پاکستان کے 90 ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار نہ ہو گئے۔
    چین نے ٹیکسلا میں پاکستان ہیوی انڈسٹریل کمپلیس اور دیگر صنعتی سہولیات گرانٹس کی بنیاد پر تعمیر کیں۔

    امریکی دباؤ اور پابندیوں کے باوجود چین نے پاکستان کو اس کے پہلے بیلسٹک میزائل فراہم کیے اور اسے اپنی خوفناک میزائل صلاحیتیں تیار کرنے میں مدد دی۔
    چین اب بھی وہ واحد ملک ہے جو پاکستان کو سویلین ایٹمی ری ایکٹر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں ہندوستان کی شمولیت کا راستہ روک رکھا ہے۔ 

    3 دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے تک چین کا نیا اسلحہ پاکستان کو اسی وقت دستیاب ہو جاتا جب وہ چین کی اپنی فوج پیپلز لبریشن آرمی کو دستیاب ہوتا۔
    چین وہ واحد ملک تھا جو پاکستان کے ساتھ جدید ترین جنگی طیاروں اور دیگر اسلحہ سسٹمز کی مشترکہ تیاری پر راضی تھا۔

    جب چین کے اقتصادی حالات بہتر ہوئے تو اس نے خاموشی کے ساتھ پاکستان کی مالی مدد (قرض، گرانٹ، بینک ڈپازٹ) میں لگاتار اضافہ کیا تاکہ پاکستان اپنی معاشی ایمرجنسیوں اور اس کے گرتے ہوئے خزانوں کو سنبھال سکے۔

    چین نے اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا پہلا حصہ پاکستان سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا کے کسی بھی ملک کی کمپنیاں پاکستان میں کام کرنے یا سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔

    اور آخر کار یہ کہ جب ہندوستان پاکستان کو 'تنہا'کرنے کی ایک عالمی میڈیا اور سفارتی مہم چلا رہا ہے، پاکستان کو 'محدود جنگ'اور 'سرجیکل اسٹرائیکس'کی دھمکیاں دے رہا ہے، اور جب امریکا افغانستان میں اپنی ناکام حکمتِ عملی کو سہارا دینے اور ہندوستانی احکامات کے آگے جھکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے، تو یہ چین ہی ہے جس کا سلامتی کونسل میں ویٹو اور دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں اس کا اثر و رسوخ ہے جو پاکستان کے خلاف منفی بین الاقوامی فیصلوں اور اقدامات کی راہ میں آڑے آجاتا ہے۔

    اس وقت پروان چڑھتے اس ایشیائی کھیل میں جنوبی ایشیاء اور ارد گرد میں تعلقات کا انحصار چین امریکا، چین ہندوستان اور پاکستان و ہندوستان کے مابین تعلقات پر ہو گا۔ اپنی حالیہ سیکیورٹی دستاویز میں امریکا نے چین کو 'حریف'قرار دیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ صدر ٹرمپ شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے یا سزا دینے میں چین کی ناکامی اور چین کے ساتھ امریکی تجارتی خسارے میں کمی لانے میں ناکامی سے 'تنگ'آ گئے ہیں۔ چین کے خلاف تجارتی ایکشن متوقع ہے۔ پینٹاگون بار بار بحرِ جنوبی چین میں ’جہاز رانی کی آزادی‘ کا بیانیہ دہرا رہا ہے۔ چین کے اردگرد نئے اتحاد بنانے کی امریکی کوششیں سرگرم ہیں۔

    امریکا کی اس مہم کی شدت میں کمی لانے کے لیے لگتا ہے کہ چین نے اپنے مرکزی ایشیائی حریفوں جاپان اور ہندوستان، اور ایشیاء میں ان ریاستوں کی جانب اپنا مؤقف نرم کیا ہے جس کے ساتھ اس کے بحرِ جنوبی چین میں بحری تنازعات ہیں۔ مثال کے طور پر ڈونگلان (ڈوکلام) جھڑپ میں چین نے نئی دہلی کو سبکی سے بچانے کے لیے ہندوستانی افواج کے واپس بلا لیے جانے کی خبر عام نہیں کی اور برکس سربراہی اجلاس کے اعلامیے کو بھی تسلیم کیا جس میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے 'دہشتگرد'قرار دی گئی تنظیموں کے نام تھے۔

    ظاہر ہے کہ بیجنگ نہیں چاہتا کہ ہندوستان چین کے خلاف امریکا سے کوئی نیا اتحاد کر لے۔ اس کے سفارتی حربے اہم اسٹریٹجک فیصلوں کو مؤخر کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں، مگر یہ سامنے نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے جنرل چین کے ساتھ ایک کھلم کھلا فوجی اور اسٹریٹجک تنازعے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہندوستان نے اب تک امریکا کے ساتھ عسکری اتحاد نہیں بنایا ہے تو وہ ایسا ضرور کر لے گا۔ ہندوستان چین کو اپنا قدرتی 'حریف'سمجھتا ہے۔ وہ چین کو حاصل زبردست قوت کے حصول کا خواہشمند ہے۔ 1962ء کی شکست اب بھی اسے یاد ہے۔ چین کے ساتھ سرحدی تنازعات اب بھی حل نہیں ہوئے ہیں۔ ایک طاقتور، مسلم مخالف، چین مخالف 'جمہوری'امریکا مودی کے ہندوستان کی نظر میں 'قدرتی اتحادی'ہے۔ 

    اِس صورتحال میں پاکستان کے پاس چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو محفوظ رکھنے اور مضبوط کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ متبادل یہ ہے کہ ہند امریکی غلبے کو تسلیم کر لیا جائے۔ اپنی طویل اور قریبی شراکت داری کے باوجود پاکستان اور چین کو اپنے اس تعلق کو برقرار رکھنے، مزید مضبوط کرنے اور وسعت دینے کے لیے فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان اقدامات میں دہشتگرد گروہوں، مثلاً چین کی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ایسٹ ترکمانستان اسلامک موومنٹ کا قلع قمع، سی پیک کے خلاف بلوچستان اور گلگت بلتستان (جو کہ سی پیک کی شہ رگ ہے) میں غیر ملکی مدد سے ہونے والی سبوتاژ کی کارروائیوں کو روکنا، سی پیک منصوبوں پر مؤثر عملدرآمد، پاکستان کی معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے چین کی بھرپور امداد، افغانستان میں امن کا قیام اور امریکا کی وہاں سے بے دخلی، ہندوستان کی پاکستان مخالف دھمکیوں کے خلاف ایک مشترکہ مؤقف اور پاکستان کی افواج کی تیز تر ماڈرنائزیشن اور پیپلز لبریشن آرمی کے ساتھ حربی ہم آہنگی شامل ہے۔ قدرتی طور پر چین اور پاکستان دونوں اُمید رکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بعد کسی دور میں امریکا کی حالیہ جنگ پر تیار پالیسیاں مزید معقول پالیسیوں میں تبدیل ہو جائیں گی۔ تب تک پاکستان اور چین کو مغرب کی جانب اپنے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔

    منیر اکرم 

    یہ مضمون ڈان اخبار میں 21 جنوری 2018 کو شائع ہوا۔
     


    0 0

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے کئی دہائیوں کے بعد یومِ جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب پہلی مرتبہ روایتی مقام بخشی سٹیڈیم کی بجائے سخت سکیورٹی حصار والے امر سنگھ کلب گراؤنڈ میں منعقد کی۔ وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو جموں کے مولانا آزاد سٹیڈیم میں ترنگا لہرایا، تاہم کشمیر میں پولیس کے سربراہ منیر خان کے مطابق اِن تقریبات کا انعقاد ایک چیلنج تھا۔ پولیس سربراہ نے ایک دن قبل ہی ایک الرٹ جاری کیا تھا جس کے مطابق مہاراشٹرا کے پونا شہر کی 18 سالہ سادیہ انوار شیخ نامی ’خود کش حملہ آور‘ کشمیر میں کوئی حملہ کرنے والی ہیں۔

    اس الرٹ کے بعد پورے سرینگر کو ایک دن قبل ہی سیل کر دیا گیا اور امرسنگھ کلب گراؤنڈ کے گرد تین کلو میٹر کے دائرے کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ تاہم پولیس نے جمعے کو یوم جمہوریہ کی تقریبات کے بارے میں بتایا کہ ’سب کچھ امن و امان کے ساتھ ہوا۔‘ پولیس کے مطابق جمعرات کو ایک غیر کشمیری خاتون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ انسپکٹر جنرل منیر خان کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ یہ خاتون ’خود کش حملہ آور‘ ہے یا نہیں۔ کشمیر میں یوم جمہوریہ کی تقریبات سے ایک ہفتہ قبل سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ کشمیر میں جمعرات سے فون رابطے، انٹرنیٹ اور شاہراہوں سے گزرنے پر پابندی تھی۔

    علیحدگی پسندوں کی کال پر جمعے کو یوم سیاہ منایا گیا اور ہڑتال کی گئی۔ علیحدگی پسند رہنماؤں، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک کو پہلے ہی گھروں یا جیلوں میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس قدر سخت سکیورٹی انتظامات اور یوم جمہوریہ کی تقریبات میں عوام کی عدم شمولیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 70 سال بعد بھی انڈیا کے لیے کشمیر میں ترنگا لہرانا مشکل ہے۔ دریں اثنا حکومت نے سکول اور کالج حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ طلبا کی ان تقریبات میں شرکت کو یقینی بنائیں۔ تاہم گذشتہ روز ایک ویڈیو وائرل ہو گئی جس میں بعض نقاب پوش نوجوانوں کے سامنے پلواما کے ایک سکول کے پرنسپل طلبا سے اپیل کر رہے تھے کہ وہ ان تقریبات میں شرکت نہ کریں۔ کشمیر میں مسلح شورش سے قبل بھی انڈیا کے یوم آزادی یا یوم جمہوریہ کے موقع پر کشیدگی ہوتی تھی۔

    پولیس کے ایک ریٹائرڈ افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ’سنہ 1990 سے قبل جب بخشی سٹیڈیم میں یومِ جمہوریہ کی تقریب منعقد ہوتی تھیں تو سکول طلبا کے علاوہ عام لوگ بھی وہاں موجود ہوتے تھے لیکن تقریب ختم ہوتے ہی لوگ احتجاج کرتے اور ہند مخالف مظاہرے کرتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے لیے امن و امان کو قابو کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘ کالم نویس ریاض ملک کا کہنا ہے کہ فوج اور طاقت کے زور پر ترنگا لہرانا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    ’کشمیر میں انڈیا کی فتح تب ہو گی جب لوگ خود ایسی تقریبات میں دل سے شرکت کریں گے اور حکام کو اس طرح کی پابندیاں، جن کی مثال نہیں ملتی، عائد نہیں کرنا پڑیں گی۔‘

    ریاض مسرور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
     


    0 0

    تمباکو نوشی کے متعدد نقصانات سامنے آتے رہتے ہیں مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ پینا جسم پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ صرف ایک سیگریٹ روزانہ استعمال کرنا جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں صرف ایک سیگریٹ بھی صحت پر انتہائی خطرناک اثرات مرتب کرنے کے لیے کافی ہے۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دن بھر میں ایک سیگریٹ کچھ برسوں بعد امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ بیس سیگریٹ استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں ایک سیگریٹ پینے والوں میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ پچاس فیصد کم ضرور ہوتا ہے، مگر یہ بھی موت کا باعث بننے کے لیے کافی ہے۔
    محققین کا کہنا تھا کہ خون کی شریانوں سے متعلقہ امراض کے حوالے سے تمباکو نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں، اور اس سے بچنے کے لیے سیگریٹ کی تعداد کم کرنے کی بجائے اسے چھوڑنا ہی زیادہ بہتر ہے۔ اس تحقیق کے دوران 1946 سے 2015 تک کی 55 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا۔

    نتائج سے ثابت ہوا کہ جو لوگ دن بھر میں ایک سیگریٹ استعمال کرتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ اس عادت سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ ہوتا ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح 57 فیصد ہے۔ اسی طرح مردوں میں اس عادت کے نتیجے میں فالج کا امکان 25 فیصد جبکہ خواتین میں 31 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ سیگریٹ نوشی کی مقدار میں کمی کرنا کینسر وغیرہ کا خطرہ تو کم کرتا ہے مگر دو عام امراض یعنی امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم نہیں ہوتا، اس سے بچنے کے لیے اس عادت کو ترک کرنا ضروری ہے۔
    اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی بی ایم جے میں شائع ہوئے۔
     


    0 0

    ايک پاکستانی اہلکار نے بتايا ہے کہ نانگا پربت سے ايک خاتون کوہ پيما کو بچا ليا گيا ہے جب کہ اس کے ايک ساتھی کے بارے ميں خيال کيا جا رہا ہے کہ وہ ہلاک ہو گيا ہے۔ ’ايلپائن کلب آف پاکستان‘ کے ترجمان نے تصديق کی کہ فرانسيسی کوہ پيما اليزبتھ ريول کو ريسکيو کر ليا گيا ہے۔ تاہم خراب موسم کی وجہ سے پولش شہری ٹومک ماکيووٹز کو نہيں بچايا جا سکا اور امکاناً وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے پولينڈ سے تعلق رکھنے والے اس مرد کوہ پيما و فرانسيسی خاتون کوہ پيما کے ريسکيو کے ليے باقاعدہ کارروائی شروع کی تھی۔ دونوں غير ملکی کوہ پيما نانگا پربت سر کرنے کی کوششوں ميں تھے، جس کی اونچائی 8,126 ميٹر ہے۔ يہ کوہ پيما 7,400 ميٹر کی بلندی پر پھنس گئے تھے۔

    ريسکيو کی کارروائی ميں پولينڈ کے کوہ پيماؤں سميت پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے بھی حصہ ليا۔ چار پولش کوہ پيماؤں کو دنيا کے دوسرے سب سے اونچے پہاڑ ’کے ٹو‘ کے بيس کيمپ سے نانگا پریت پر اس مقام تک پہنچايا گيا، جہاں يہ  پھنسے ہوئے تھے۔ ان کے درست مقام کے بارے ميں اس وقت پتا چلا، جب دور سے ديگر کوہ پيماؤں نے دوربين کی مدد سے ديکھا کہ پہاڑ پر الیزبتھ ريول نيچے اترنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ اپنے پولش ساتھی کی مدد کر رہی ہے، جو بظاہر تکلیف ميں تھا۔

    نانگا پربت دنيا کا نواں سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ کوہ پيماؤں اور مقامی لوگوں ميں اسے ’قاتل پہاڑ‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے کيونکہ اس کی چوٹی کو سر کرنے کی کوششوں ميں کافی کوہ پيماؤں کی جانيں جا چکی ہیں۔ پچھلے سال جولائی ميں بھی اسپين اور ارجنٹائن کے دو کوہ پيما اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش کے دوران لا پتہ ہو گئے تھے۔ ان کے بارے ميں بھی خيال يہی ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہيں۔ سن 1953 ميں پہلی مرتبہ کسی کوہ پيما نے نانگا پربت کو کاميابی سے سر کيا تھا۔ اسے سر کرنے کی کوششوں ميں تيس کوہ پيما ہلاک ہو چکے ہيں۔
     


    0 0

    امریکی سینیٹر رینڈ پال نے سینٹ کو ایک بل پیش کیا ہے۔ جس میں اس نے وفاقی حکومت کو پاکستان کی 2 ارب ڈالر کی امداد روکنے کے ساتھ ساتھ مستقل بنیادوں پر حکومت پاکستان کی امداد کو ختم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ امریکی سینیٹر کی جانب سے پیش کردہ اس بل کی مدد سے امریکن اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک ارب 28 کروڑ ڈالر اور امریکہ کی اسٹیٹ ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقیاتی فنڈز کے 85 کروڑ 20 لاکھ ڈالر امداد کے اعلان کو بھی ختم کرنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جب امریکی سینیٹر نے پاکستان کی امداد روکنے کے لیے اپنا منصوبہ متعارف کرایا تھا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کو نہ صرف سراہا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں رینڈ پال کو شاباش بھی دی تھی۔ پاکستان مخالف جذبات کے حامل سینیٹر رینڈ پال کا کہنا ہے کہ انہیں یہ یقین نہیں ہے کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے، اسی بنا پر وہ یہ بل ایوان میں لے کر آئے ہیں۔

    واضح رہے کہ رینڈ پال کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جب ہم ایسے ملک کی مدد کرتے ہیں جہاں امریکہ کی موت کے نعرے لگتے ہوں اور ہمارے پرچم جلائے جاتے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے ملک اور ٹیکس دہندگان کی حفاظت کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔ خیال رہے کہ رواں ماہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کی ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد بھی روک دی گئی تھی جبکہ پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کی مبینہ پناہ گاہوں کے خلاف کاروائی کرے۔
     


    0 0

    ایک راہگیر نے پوچھا بیٹے کیا تلاش کر رہے ہو۔ بچے نے کہا انکل میری اٹھنی پچھلی گلی میں کھو گئی ہے۔ تو بیٹے پھر وہیں تلاش کرو جہاں کھوئی ہے۔ مگر انکل وہاں اندھیرا ہے اس لیے یہاں روشنی میں تلاش کر رہا ہوں۔ اگرچہ ہم سب ناسمجھ میڈیا کو سمجھ دار اور ذمہ دار بنانا چاہتے ہیں مگر ہمارا حال اسی بچے کی طرح ہے جس کا سکّہ کھو گیا تھا۔ جب ہم بطور مالک یا ایڈیٹر کسی اخبار یا چینل میں سب ایڈیٹر، رپورٹر، فوٹو گرافر، کیمرہ پرسن، این ایل ای ( نان لینیئر ایڈیٹر )، نیوز کاسٹر، پروڈیوسر، نیوز ایڈیٹر بھرتی کرتے ہیں تو دنیا کے کسی بھی ادارے کی طرح اس کا بائیو ڈیٹا دیکھتے ہیں، ٹیسٹ لیتے ہیں، انٹرویو کرتے ہیں اور اس کے بعد تنخواہ سمیت دیگر شرائطِ ملازمت طے کرتے ہیں۔

    اگر امیدوار اپنے شعبے میں ادارتی یا تکنیکی لحاظ سے کمزور ہے مگر باصلاحیت ہے تو اس کی تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ادارے کی پیشہ ورانہ پالیسیوں کی تعارفی بریفنگ دیتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ ان پالیسیوں کے دائرے میں پوری ایمانداری کے ساتھ کام کرے اور کوئی ایسی غیر پیشہ ورانہ حرکت نہ کرے جس سے ادارے کی بدنامی ہو یا غیر ضروری مشکلات پیدا ہوں۔ مگر ٹاک شو اینکر کے لیے ایسا کوئی لگا بندھا معیار نہیں۔ اس کا صحافیانہ پس منظر ہو تو اچھی بات ہے، نہ بھی ہو تو چلے گا۔ اس کا مطالعہ کتنا ہے، حالاتِ حاضرہ پر کیسی گرفت ہے، علاقائی و بین الاقوامی سیاست کی کس قدر شدہ بدھ ہے، جس ملک میں بیٹھ کر وہ ہفتے میں چار یا پانچ دن رائے عامہ پر اثر انداز ہو رہا ہے اس ملک کی مختلف قومیتوں کی سیاسی، سماجی و اخلاقی نفسیات کیا ہے، حساس رگیں کون سی ہیں؟ آبادی کی اکثریت جس عقیدے سے وابستہ ہے اس عقیدے کے موٹے موٹے اصول یا باریکیاں کیا ہیں؟

    اینکر کو زبان و بیان پر کتنا کنٹرول ہے، کیا وہ صرف بول سکتا ہے یا لکھ پڑھ بھی سکتا ہے، اس کا اپنا نظریہِ زندگی کیا ہے؟ مذہبی، سیاسی و سماجی جھکاؤ کس جانب ہے؟ طبعاً انتہا پسند ہے، اعتدال پسند ہے یا غیر جانبدار؟ یہ سب ایسے ہی دیکھا جانا چاہئے جیسے بیٹے یا بیٹی کے لیے رشتہ دیکھا جاتا ہے۔ لیکن اینکر کے چناؤ میں فی زمانہ جو ’خوبیاں‘ عملاً دیکھی جاتی ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ کس کے ریفرنس سے آیا ہے، سکرین پر کیسا نظر آئے گا یا آئے گی، کتنا بے تکان بول سکتا ہے، سوالات میں عقل جھلکے نہ جھلکے مگر نیزے کی انّی ضرور چھبنی چاہئے، مسئلہ کیسا ہی سادہ ہو اسے متنازع جلیبی بنانے کا گر آنا چاہیے اور اگر ہر شو میں خود کو عقلِ کل بھی ثابت کر سکے تو سبحان اللہ۔ آئیڈیل اینکر وہ ہے جو کچھ بھی بولے، کچھ بھی بلوائے۔ افواہ، خبر، تحقیق، آدھے یا پورے سچ کا سہارا لے یا نہ لے، اس کی گفتگو سے سماج کے کسی حصے، کسی ادارے یا کسی شخص کا بھلے دھڑن تختہ ہو جائے مگر ریٹنگ آنی چاہئے۔

    کیونکہ ریٹنگ ہی میں چینل کی دونی چوگنی شہرت ہے، ریٹنگ میں ہی اشتہار ہیں اور اشتہار میں ہی پیسہ ہے۔ جتنا پیسہ آئے گا اتنا ہی موٹا اینکر کا مالیاتی پیکیج بھی ہوتا جائے گا۔ لہذا ریٹنگ کے لیے سب کچھ کرے گا۔ سب کچھ۔ . اب تو صورت یہ ہے کہ جس طرح کرکٹرز اور فٹ بالرز کی نیلامی ہوتی ہے اسی طرح زیادہ سے زیادہ ریٹنگز لانے والے اینکرز کی نیلامی ہوتی ہے۔ یہی اینکر طے کرتا ہے کہ کون سا چینل اسے افورڈ کر سکتا ہے، کونسی ادارتی و ٹیکنیکل ٹیم اس کے ساتھ رہے گی جو اس کی ہر ابروئے جنبش کو شہنشاہِ مقبولیت یا ملکہِ عالیہ کا ادارتی آدیش سمجھے۔

    جب تک چینلز میں پیشہ ورانہ خود مختاری برتنے والے تجربہ کار ایڈیٹرز اور نیوز ایڈیٹرز نہیں لائے جائیں گے کہ جنہیں میرٹ پر بھرتی کا مکمل اختیار ہو۔ اس ایڈیٹر کی پیشہ ورانہ رائے کو چینل میں پیسہ لگانے والا سیٹھ بھی تسلیم کرے اور ہر فیصلے میں اپنی عقل لگانے یا نافذ کرنے سے باز رہے۔ جب تک پروڈیوسر فائیو سٹار اینکرز کا چپراسی بنا رہے گا، فرشتے بھی ضابطہِ اخلاق بنا لیں تو بھی کچھ نہ ہونے کا۔ بھلے کیسی ہی پابندیاں لگا لیں، کتنی سماعتیں کر لیں۔ مسئلے کی جڑ تک پہنچے بغیر پرنالہ سیدھا ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ تب تک اینکر نشریاتی راؤ انوار بنا رہے گا۔

    وسعت اللہ خان
    تجزیہ کار
     


    0 0

    کراچی پولیس نے ایس ایس پی راؤ انوار کے سر کی قیمت مقرر کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ’جو بھی راؤ انوار کا سر لائے گا میں اسے 50 لاکھ روپے انعام دوں گا. سپریم کورٹ میں کیس سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی سندھ  کی توجہ اس ویڈیو کی جانب کرائی تھی اور سوال کیا تھا کہ کیا انھوں نے سوشل میڈیا پر وائرل یہ ویڈیو دیکھی ہے، مائیک پر آئیں اور سب کو بتائیں کہ وہ کیا ہے۔ آئی جی نے کمرہ عدالت کو بتایا تھا کہ راؤ انوار کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے.

    جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں اب اس طرح لوگوں کے سر کی قیمتیں مقرر ہوں گی کیا یہ کلچر معتارف کرایا جائے گا، ہم شہریوں کے حقوق کے محافظ ہیں، یہ ویڈیو 24 گھنٹے سے چل رہی ہے کیا آپ نے کوئی ایکشن لیا؟ آئی جی نے انھیں بتایا کہ یہ ویڈیو راولپنڈی سے اپ لوڈ کی گئی ہے، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے متعلقہ آئی جی سے رابطہ کیا، اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس میں کون کون سے دفعات شامل ہو سکتی ہے، جس پر آئی جی نے انھیں بتایا کہ 153 اے، 505، 501 پی پی سی اور 61 اے ٹی اے۔  

    بشکریہ بی بی سی اردو

     


    0 0

    معذرت کے ساتھ چیف جسٹس صاحب سے عرض ہے کہ چاہے کتنے ہی سو موٹو نوٹس لے لیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فتنہ انگیزی کا علاج اس طرح ممکن نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کی جو حالت ہے اسے اگر روکنا ہے تو متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا اور سخت قوانین اور ان کے اطلاق سے ہی میڈیا کو اب تمیز کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ ٹی وی چینلز کی بگاڑ کا تو تعلق ہی عدالتوں سے ہے جو پیمرا کے ہر نوٹس پر خلاف ورزی کرنے والے چینلز کو اسٹے آرڈر دے دیتے ہیں اور یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ میڈیا کی فتنہ انگیزی رکنے کے بجائے مزید زور پکڑتی جا رہی ہے۔ 

    چند روز قبل ایک ٹی وی اینکر کی طرف سے قصور سانحہ میں ملوث سفاک ملزم عمران علی کے متعلق جو ’’انکشافات‘‘ کیے گئے اور جن کے بارے میں اکثر ٹی وی چینلز اور اینکرز کا خیال ہے کہ یہ fake news ہے، اس پر جو رد عمل آیا اُس سے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ کوئی نئی بات ہو۔ حقیقت میں تو ٹی وی چینلز کی یہ روز کی کہانی ہے۔ جھوٹ تو یہاں روز بولا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی ’’خبریں‘‘ نشر کی جاتی ہیں جن کا سر پائوں نہیں ہوتا، جس کی زبان میں جو آتا ہے وہ بول پڑتا ہے، کسی پر کروڑوں اربوں کی کرپشن کا الزام لگا دو کوئی مسئلہ ہی نہیں، جس کو جی چاہے ملک دشمن بنا دو، بھارتی ایجنٹ قرار دے دو کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ 

    انتشار پھیلانا ہے تو ٹی وی چینلز حاضر، کسی کی پگڑی اچھالنی ہے تو اینکرز اور ٹی وی اسکرین موجود، کسی کو نفرت انگیز تقریر کرنی ہے یا فتنہ انگیز مواد پھیلانا ہے تو اُس کے لیے بھی میڈٖیا کے دروازے کھلے ہیں۔ کہیں سے کوئی کاغذ مل جائے، بے شک جعلی ہو بغیر تصدیق کیے اُسے دستاویزات کا درجہ دے کر ٹی اسکرین پر چلا کر جس کا دل چاہے مٹی پلید کر دیں۔ کوئی خیال نہیں کیا جاتا کہ ایسی صحافت سے ملک و قوم کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے، کسی کی جان جا سکتی ہے، تشدد ہو سکتا ہے۔ حالات تو اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ اسلامی شعائر کے خلاف تک بات کی جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ فکر ہے تو بس ریٹنگ کی۔ جہاں خلاف ورزی بڑی ہو اور عوامی ردعمل آ جائے تو پیمرا متعلقہ چینلز کو نوٹس بھیجتا ہے لیکن تقریباً ہر نوٹس کا نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے،عدالتی اسٹے آرڈر۔ 

    کتنا ہی بڑا جرم کوئی چینل کر دے، خلاف ورزی کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو، پیمرا کے ہر ایکشن کا توڑ عدالتی اسٹے آرڈر اور یہی اسٹے آرڈر اب مادر پدر آزاد اور فتنہ انگیز میڈیا کا سب سے بڑا سہارا بن چکا ہے۔ جیسا کہ میں پہلے بھی اس بات کا ذکر کر چکا ہوں، اسٹے آرڈرز نے اگر ایک طرف پیمرا کی رٹ کو برباد کر دیا ہے تو وہیں یہ بیماری اس حد تک سنگین صورت حال اختیار کر چکی ہے کہ میرے ایک کالم پر چیف جسٹس کی طرف سے بے حیائی پھیلانے پر ایک چینل کے خلاف سوموٹو ایکشن لیا جس کے خلاف متعلقہ چینل نے ایک ہائی کورٹ سے اسٹے لے لیا اور یوں چیف جسٹس کے سوموٹو کے باوجود پیمرا کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہا۔ اس وقت بھی پیمرا کو پانچ سو سے زیادہ عدالتی کیسوں کا سامنا ہے۔ اس حالت میں پیمرا کیسے بے لگام میڈیا کو ریگولیٹ کر سکتا ہے۔ میری چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ اگر اس بے لگام مادر پدر آزاد میڈیا کو کنٹرول کرنا ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے عدالتی اسٹے آرڈرز کی بیماری کا علاج کیا جائے تاکہ پیمرا کی رٹ قائم ہو سکے۔

    ایک دو چینلز اور چند ایک اینکرز پر اگر پیمرا خلاف ورزی کرنے پر پابندی لگا دے تو پھر دیکھیے کہ یہ چینلز کیسے سدھرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہاں ہتک عزت کے قانون کو موثر بنانا ہو گا۔ جھوٹی خبروں اور غلط الزامات پر اخبارات اور چینلز کو بھاری جرمانے ہونے چاہیے۔ ہمارے ہاں تو اس قانون کی حیثیت ہی کچھ نہیں۔ نہ قانون میں کوئی جان ہے اور نہ ہی عدالتیں ان کیسوں کا سالہہ سال تو کیا دہایوں میں بھی فیصلہ نہیں کرتی۔ اس بارے میں بھی چیف جسٹس کا کردار بہت اہم ہو گا۔ کسی ایک صحافی یا اینکر کی بجائے سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت یا عدلیہ کا یہ خیال ہے کہ میڈیا خود اپنے آپ کو درست کرنے کے لیے کچھ کرے گا تو میری ذاتی رائے میں ایسا ممکن نہیں۔ میڈیا کو ریگولیٹ کیے جانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ کل کوئی بہت بڑا نقصان اور تباہی بھی ہو سکتی ہے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے سندھ پولیس کو راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے دی گئی 72 گھنٹے کی مہلت ختم ہو گئی لیکن مفرور راؤ انوارسمیت پولیس پارٹی اب تک قانون کی گرفت میں نہیں آسکی۔ نقیب الله جعلی مقابلہ کیس میں حکومت سندھ نے مفرور ایس ایس پی راؤ انوار اور سابق ایس ایس پی انویسٹی گیشن ملیر ملک الطاف کومعطل کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق معطلی کے عرصے میں دونوں افسران کو سینٹرل پولیس آفس رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ کی جانب سے راؤ انوار اور پولیس پارٹی کی گرفتاری کے لیے سی ٹی ڈی کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ گرفتاری کے لیے بنائی گئی ٹیم کی مدد کریں۔

    دوسری جانب جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کے ہلاکت کے معاملے پر سپریم کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے 72 گھنٹے کی مہلت دی تھی جوختم ہو چکی جبکہ گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آسکی ہے۔ گزشتہ روز ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی نے کہا تھا کہ کوشش ہے راؤ انوار سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہو جائے۔ مقدمے کے دو گواہان بھی عدالت میں بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں اور گرفتاری کے لیے متعدد چھاپے بھی مارے گئے جو بے سود رہے۔
     


    0 0

    عدالت نے اے ٹی ایم فراڈ کیس میں گرفتار دو چینی ملزمان کو ایک ایک سال قید اور فی کس 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں اے ٹی ایم فراڈ کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے شواہد اور گواہان کے بیانات کی روشنی میں دونوں چینی باشندوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ایک سال قید اور فی کس 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
    واضح رہے کہ چینی باشندوں پر اے ٹی ایم مشینوں میں اسکیمنگ لگانے اور صارفین کا ڈیٹا ہیک کر کے ان کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کا الزام تھا، مجرمان کو ایف آئی اے نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک نجی بینک میں اسکمنگ لگاتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔
     


    0 0

    پاکستان میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی مذہبی بنیاد پر
    اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ مالی صورتحال کی وجہ سے ایسا کرنے والوں کی تعداد 35 فیصد ہے۔ اسلام آباد میں اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب ’دی رول آف مدرسہ‘ شائع ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اور اس خاندان کی معاشی صورتحال اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان مدارس کا رخ کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔ نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پاکستان میں دینی تعلیم دینے والے ان مدارس کی درست تعداد تو شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن اس کتاب میں دیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باظابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلم ہیں۔

    اس تحقیق کے لیے پاکستان بھر سے 558 ایسے خاندانوں کے ساتھ انٹرویوز کیے گیے ہیں جن کا کم از کم ایک بچہ مدرسے میں زیر تعلیم ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام میں بعد از مرگ زندگی کا تاثر بہت مضبوط ہے اور اکثر والدین اپنے بچوں کے لیے مدارس کا انتخاب اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ انہیں بعد میں اس کا فائدہ ہو گا۔ دوسری بڑی وجہ معمول کے سکولوں میں مغربی تعلیم کا مثبت نہ ہونے کا تاثر بھی ہے۔ ملک کے 14 بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔ 43 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے بچے مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جبکہ 35 اس کی وجہ معاشی صورتحال بتاتے ہیں۔ سروے کے مطابق خاندان میں بچوں کی بڑی تعداد ان کے مدرسے میں جانے کا امکان بڑھا دیتے ہیں جبکہ معاشی صورتحال میں بہتری ان کے مدرسے میں پڑھنے کا امکان کم کر دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم ہی معاشی، دینی اور نسلی بنیادوں پر تفریق سے نئی نسل کو بچا سکتا ہے۔

    کراچی میں جامع بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بچے مدارس کی تعلیم اور ڈسپلن کی وجہ سے بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس سکولوں اور یونیورسٹیوں سے زیادہ پرامن ہیں۔
    کتاب میں درج تحقیق کے مطابق مدارس کی آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں سے ایک اندرون اور دوسرا بیرون ملک سے ملنے والی رقوم ہیں۔ ملک کے اندر انھیں رقوم زکوٰۃ، عشر اور خمس جیسے ذرائع سے ملتی ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ان ہی مدوں میں رقوم مدراس کو بھیجتے ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق بیرون ملک سے ملنے والی رقوم اندرون ملک سے کم ہوتی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک یہ رقوم براہ راست مدارس کو ارسال کرتے ہیں۔ زیادہ تر مدارس کے مالی امور نہ تو مناسب دستاویزی شکل میں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔

    تاہم جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محم نعیم کہتے ہیں کہ ان کے پانچ ہزار طلبہ پر مشتمل اس مدرسے کو ایک پیسہ بھی بیرون ملک سے نہیں ملا۔ ’اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو میں مجرم بننے کے لیے تیار ہوں۔‘  تحقیق میں مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ان کے ساتھ تعاون اور ان کی مالی معاونت کرے۔ خیبر پختونخوا میں تاہم ایسا کرنے پر وہاں کی صوبائی حکومت پر ماضی میں شہری حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ۔  مفتی نعیم کہتے ہیں کہ خود حکومت مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی خواہاں نہیں۔ ’تین سال سے ہم نے بنوریہ یونیورسٹی کے لیے تمام تر دستاویزات جمع کروائی ہوئی ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ 

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    سانحہ قصور کی مقتولہ زینب کے والد کا مطالبہ ہے کہ اس جرم میں ملوث قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے۔ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب بھی اسی خواہش کا اظہار کر چکے اور اُنہوں نے عندیہ بھی دیا کہ اگر اس کے لیے قانون کو بدلنا پڑا تو وہ بھی کریں گے تاکہ سفاک مجرم کو نشان عبرت بنایا جا سکے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ نے عبدالرحمٰن ملک کی صدارت میں موجودہ قانون میں تبدیلی کی تجویز دی تاکہ 14 سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے اور انہیں قتل کرنے والے سفاک مجرموں کو سر عام پھانسی دی جا سکے۔ لیکن حیرت ہے کہ جب یہ معاملہ چند روز قبل زینب کے والد حاجی امین صاحب نے سپریم کورٹ کے سامنے اُٹھایا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے انہیں دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی چاہتے ہیں کہ مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے مگر قانون   اسکی اجازت نہیں دیتا۔ 

    اخبار میں یہ پڑھ کر مجھے تعجب ہوا کہ چیف جسٹس آف پاکستان یہ بات کیسے کر سکتے ہیں۔ جب قرآن و سنت ایسے مجرموں کو سرعام سزا دینے کی تعلیم دیتے ہیں، جب ہمارا آئین کہتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف نہیں بن سکتا اس کے باوجود کوئی قانون کیسے حدود اللہ کے نفاذ کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟؟ ماضی میں کئی بار اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے مختلف قوانین کو اس لیے منسوخ کیا گیا کیوں کہ وہ قوانین آئین کی مختلف دفعات سے متصادم تھے اور اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے تو عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے آئین میں موجود چند شقوں کو یا تو بے اثر کر دیا یا انہیں پارلیمنٹ سے اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کروا دیا۔ یہاں تو معاملہ ایسے قانون کا ہے جو قرآن و سنت سے ٹکراتا ہے۔ ایسے قانون کو تو سپریم کورٹ کو بغیر کسی تاخیر کے ویسے ہی منسوخ کر دینا چاہیے.    

    نہیں معلوم شہباز شریف قصور واقعہ میں شریک سفاک مجرم کو سرعام پھانسی دینے کے لیے کب قانون میں تبدیلی کے لیے کوئی عملی قدم اٹھائیں گے لیکن بہتر ہو گا کہ اس معاملے کو چیف جسٹس خود نبٹائیں۔ جنگ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق زینب کے والد سے بات کرتے ہوئے چیف جسٹس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا کہ زینب اُن کی بھی بیٹی تھی۔ یقیناً چیف جسٹس کی طرح اس سانحہ نے پورے پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور جب سفاک مجرم پکڑا گیا تو معلوم ہوا کہ اُس نے ایک نہیں بلکہ آٹھ دس بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اور اُنہیں بے دردی کے ساتھ قتل بھی کر ڈالا۔ جب سے قصور واقعہ سامنے آیا اُس کے بعد تو میڈیا میں ہر روز ہی زیادتی کی نئی نئی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

    کبھی پنجاب تو کبھی بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا میں معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں تو یہ بہت ہی ضروری ہے کہ ایسے سفاک مجرموں کو سرعام پھانسیاں دی جائیں۔ کسی عام شہری کے برعکس چیف جسٹس اس ملک کے انتہائی با اختیار فرد ہیں۔ جناب ثاقب نثار بھی خواہش رکھتے ہیں کہ ایسے سفاک مجرموں کو سرعام سولی پر لٹکایا جائے۔ اُن کے عہدہ اور ذمہ داری کو سامنے رکھا جائے تو چیف جسٹس صاحب کو زینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دلوانےکے لیے کسی قانونی رکاوٹ کی بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ جو رکاوٹ ہے اُسے یا تو خود دور کریں یا حکومت کو حکم دیں کہ فوری طورپر اُس غیر اسلامی اور غیر آئینی قانون کو ختم کیا جائے جو قرآن سنت کی تعلیمات کے مطابق سفاک مجرموں کو نشان عبرت بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ زینب کے والد حاجی امین صاحب سے تو میری درخواست ہو گی کہ سفاک مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کے لیے وہ اپنی آواز بلند کرتے رہیں کیوں کہ اُن کا مطالبہ جائز، اسلامی اور آئینی ہے اور اس مطالبہ کے پورا ہونے کے ثمرات پورے معاشرے کے لیے ہوںگے۔

    (بدھ 31 جنوری) کے جنگ اخبار میں یاسر پیرزادہ صاحب نے اپنے کالم میں ایک معروف صحافی کے زینب سے متعلق ٹوئٹس پر تبصرہ کیا ہے جس سے میں بھی اتفاق کرتا ہوں۔ حرف آخر: اپنے تازہ کالم میں یاسر پیرزادہ نے میرے گزشتہ کالم ’’بے لگام میڈیا کا علاج‘‘ سے اتفاق کرتے ہوئے لکھا ’’میرے اور انصار عباسی کے خیالات اتنے مل جائیں گے میں نے سوچا بھی نہ تھا، خدا خیر کرے!‘‘ جو پیرزادہ صاحب نے آج اپنے کالم ’’# بائیکاٹ ایل ایل ایف‘‘ میں لکھا اور خصوصاً الٹرا لبرلز کے بارے میں لکھا اُس سے مجھے بھی مکمل اتفاق ہے۔ اللہ خیر ہی کرے!!

    انصار عباسی
     


    0 0

    اندرونِ سندھ چہرے اسی طرح کھردرے ہیں۔ آنکھیں سپاٹ ہیں۔
    کراچی میں جوان بیٹے سوکھے پتّوں کی طرح شاہراہوں پر بکھر رہے ہیں۔
    پنجاب میں عفتیں پامال ہو رہی ہیں۔
    کے پی میں حیا برہنہ کی جا رہی ہے۔
    بلوچستان میں اشرف المخلوقات لاپتہ ہو رہے ہیں۔
    آزاد کشمیر میں سرحد کے اس پار کی گولہ باری سے انسان گھر بیٹھے لہو لہان ہورہے ہیں۔
    گلگت میں خلقِ خداآئینی حیثیت سے بے خبر ہے۔
    یہ سب کچھ مجھے چین سے سونے نہیں دیتا۔ میں اپنے آپ کو ذمّہ دار سمجھتا ہوں۔

    جب میں اپنی تعلیم مکمل کر رہا تھا، سوچتا تھا کہ بس ڈگری ملتے ہی میں ملک میں انقلاب لے آئوں گا، میں اسی لئے علم حاصل کر رہا ہوں۔ میرے والدین اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر مجھے اسی لئے اعلیٰ تعلیم دلوا رہے ہیں کہ میں اس معاشرے میں تبدیلیاں لائوں۔ میری مملکت بھی مجھ پر اسی لئے سرمایہ لگا رہی ہے کہ میں اپنی دانش سے ایسی خدمات انجام دے سکوں کہ ہم ترقی یافتہ مہذب ملکوں کی صف کے قریب پہنچ جائیں۔ کیا ارادے تھے۔ کیا خواب تھے۔ میرے ساتھ جوان ہونے والوں۔ پڑھنے والوں کے بھی ایسے ہی عزائم تھے۔ ہم کافی ہائوسوں میں بیٹھتے تھے۔ کتابوں کی دُکانوں پر ملتے تھے۔ انہی خیالات کا تبادلہ کرتے تھے۔ لاہور کافی ہائوس کے باہر گھاس کے قطعے پر حبیب جالب کی آواز گونجتی تھی ’’ایسے دستور کو، صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا‘‘۔ 

    پاک ٹی ہائوس میں ناصر کاظمی، عبداللہ ملک، اعجاز حسین بٹالوی، انتظار حسین، صفدر میر، افتخار جالب، انیس ناگی کے درمیان یہی باتیں ہوتی تھیں۔ حالات کیسے بدلیں گے۔ کراچی فریڈرک کیفے ٹیریا، فتحیاب علی خان، معراج محمد خان، علی مختار رضوی، ایسٹرن کافی ہائوس، زیلن، ابن انشا، جمیل الدین عالی، مظفر علی سید، سید سعید حسن، یہی رت جگے، یہی فکر مسلسل، کوئٹہ کلب یاد آتا ہے، دنینز پشاور، بہت سے چہرے، محسن احسان، خاطر غزنوی، طاہر محمد خان، فصیح اقبال، محمد حسین پناہ، میر گل خان نصیر۔ کتنی بہاریں گزر گئیں۔ کتنی خزائیں بہت سے پھول ساتھ لے گئیں۔ کتنے زلزلے بلند عمارتیں گرا گئے۔ ڈھاکہ، سلہٹ، چٹاگانگ ہم سے روٹھ گئے۔ انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل ڈھاکا میں ایک کمرے کے پردے ہٹا کر میں تیز بارش اور تند ہوا کو دیکھ رہا ہوں۔ یہ 1971 ہے۔ میں پاکستان بچانے والوں کی کوششیں رپورٹ کرنے آیا ہوں۔ پاکستان کا ستارہ و ہلال کا پرچم تیز بارش اور ہوا کا مقابلہ کر رہا ہے۔ پھر وہ بھیگ کر پھٹنے لگتا ہے۔ ہوا بار بار اس پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ یہ منظر مجھ سے نہیں دیکھا جاتا۔ میں پردے گرا لیتا ہوں۔

    بہت سے منظر تو مجھ سے اب بھی نہیں دیکھے جاتے۔ مگر مجھ سے اب پردے بھی نہیں گرائے جاتے۔ مشرقی پاکستان، ہماری مملکت کا اکثریتی حصہ ہم سے الگ ہو گیا۔ ووٹ کے ذریعے علیحدہ ہوتا، پُرامن انداز میں جدا ہوتا تو شاید دل یوں نہ ڈوبتا۔ لیکن ہمارے ہزاروں بھائیوں کی جانیں گئیں۔ ہمارے دشمن کو موقع مل گیا۔ اس کے چھاتہ بردار اُترے، ڈھاکا ڈوب گیا۔ 90 ہزار فوجی، سویلین جنگی قیدی بن گئے۔ ہم مشرقی پاکستان کو بھول گئے ہیں۔ 1971 کے بعد پیدا ہونے والوں کو تو یہ احساس ہی نہیں ہے کہ پاکستان کا ایک اور بازو بھی تھا۔ میں پہلے یہی سوچتا تھا۔ میرا یقین راسخ تھا کہ وطن ٹوٹ نہیں سکتا۔ ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے۔ جب تک ایک پاکستانی بھی زندہ ہے دشمن کو یہ جرأت نہیں ہو سکتی، لیکن ایسا ہو گیا۔ اب یہ جملے سنتا ہوں کہ کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ تو میرے دل میں شدید چبھن ہوتی ہے۔ مجھے یہ جملے خشک درختوں کے کھوکھلے تنے لگتے ہیں۔

    اتنے بڑے سانحے کے بعد دل گداز، آنکھیں نم اور پیشانیاں عجز کا مظہر ہونی چاہیے تھیں۔ لیکن ہم تو پہلے سے زیادہ خود غرض، بے حس، زیادہ نعرے باز ہو گئے ہیں۔ چند سو گھرانے بہت زیادہ خوشحال، پرجوش ہیں۔ دو دو ملکوں کی شہریت ان کے پاس ہے کہ اب کے کوئی سقوط ہو گا تو وہ اپنے نئے اختیاری ملک میں چلے جائیں۔ جن کی چھت اب بھی ٹپکتی ہے۔ جو اب بھی کرائے کی کھولیوں میں رہتے ہیں۔ وہ اب بھی اسی طرح پُرعزم ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ وہ اسی مملکت سے وفادار ہیں۔ اسی کو کینیڈا، امریکہ، دُبئی بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن فیصلہ کرنے والی طاقتیں ان کا ساتھ نہیں دیتیں۔

    میں اتنا حساس ہوں، اتنا محسوس کرتا ہوں، خود کو اجتماعی زوال کا ذمّہ دار سمجھتا ہوں۔ ہمارے حکمران ہمارے رہنما ایسا کیوں نہیں سمجھتے۔ کتنے الیکشن ہو چکے۔ کتنی انتخابی مہمیں چل چکیں۔ ہمارا روپیہ نیچے ہی جا رہا ہے۔ ووٹ لینے والوں کے گھر بڑے ہو رہے ہیں۔ ووٹ دینے والوں کے چھوٹے ہو رہے ہیں۔ یہ آس پاس کے بنگلوں کو بھی اپنی ملکیت میں لے رہے ہیں۔ اب یہ کوٹھیوں میں نہیں اسٹیٹ میں رہتے ہیں۔ الیکشن ان کے لئے فصل پکنے۔ گندم کی کٹائی کے مترادف ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ نئے گھر، نئی گاڑیاں، نئی بیویاں ہوتی ہیں۔ ایک الیکشن اور آرہا ہے۔ ایک اور فصل کٹے گی اور نئی گاڑیاں اور نئے بنگلے۔ میں نہ جانے یہ ٹھیک سوچتا ہوں یا غلط کہ اب جہاں پاکستان ہے۔ یہاں پاکستان کی تحریک چلی ہی نہیں تھی۔ ان علاقوں میں زیادہ زور سے چلی۔ جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ موجودہ پاکستان کے علاقوں کو یہ نعمت قربانیوں کے بغیر مل گئی یا ان پر مسلط کی گئی۔ بہرحال یہ پاکستانیت کے عشق میں مبتلا نہیں تھے۔ یہاں اس طرح جلوس نہیں نکلتے تھے۔ یہاں یہ نعرے اس شدّت سے نہیں لگتے تھے۔

    بٹ کے رہے گا ہندوستان
    بن کے رہے گا پاکستان

    اس کے بعد یہ ہونا چاہئے تھا کہ پاکستان بنانے والے پنجاب، سندھ۔، سرحد، بلوچستان، فاٹا میں اپنے ان میزبانوں کی قدر کرتے۔ ان کی مشکلات سمجھتے، انہیں پاکستان کے اپنانے میں کردار ادا کرتے۔ لیکن ہم نے ان کے بزرگوں کو سرحدی گاندھی، سندھی گاندھی اور بلوچی گاندھی کے ناموں سے نوازا۔ ان کو قریب لانے کی بجائے دُور کرتے رہے۔ ان کی حب الوطنی پر شک کرتے رہے۔
    اب بھی پاکستان کے نام سے ساری سرگرمیاں اسلام آباد اور آس پاس ہوتی ہیں۔ کرکٹ میچ موبائل فون اور ٹی وی چینلوں کے علاوہ پاکستان کے سارے حصّوں میں کوئی قدر مشترک نہیں ہے۔ کوئی ایسا قومی لیڈر نہیں ہے جس کے دل کے ساتھ پنجاب، سندھ۔، بلوچستان، کے پی کے، آزاد کشمیر، گلگت، فاٹا کے دل بھی دھڑکتے ہوں۔ کوئی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے جو سب علاقوں میں یکساں مقبول ہو، اب کیا کرنا چاہیے۔ تحریکِ پاکستان پھر سے چلنی چاہئے۔ ہمیں دل اور دماغ جیتنے چاہئیں۔ ایک دوسرے کے علاقوں میں طلبہ و طالبات کے قافلے جائیں۔ ادیب، شاعر آپس میں ملیں، ایک دوسرے کا درد بانٹیں، اب تو بہترین موٹروے بن گئے ہیں، فاصلے سمٹ گئے ہیں، عام پاکستانی ہی قربتیں بانٹ سکتے ہیں۔ یہ چند حکمراں گھرانے تو دوریاں ہی پیدا کر سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے۔

    محمود شام
     


    0 0

    سپریم کورٹ میں ماورائے عدالت قتل کیے گئے نقیب اللہ محسود کے ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے راؤ انوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی لگاتے ہوئے ملزم کی تلاش کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کے ایئر پورٹس سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے آئی ایس آئی، آئی بی، ایم آئی کو پولیس سے مکمل تعاون کرنے اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) سندھ پولیس اور ڈی جی سول ایوی ایشن بھی پیش ہوئے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کی طرف سے راؤ انوار کو روکا نہ گیا بلکہ ایف آئی اے امیگریشن کی بہادر بیٹی نے معطل پولیس افسر کو روکا، اگر راؤ انوار بھاگ جاتا تو پتہ نہیں وہ کہاں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار میڈیا سے رابطے میں رہے اور وہ کراچی سے اسلام آباد آیا کسی نے انہیں کیوں نہیں پہچانا ؟ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے 36 گھنٹے دیے تھے، پولیس نے گرفتاری کے لیے ملک کے تمام ایئرپورٹس کو الرٹ کیوں نہیں کیا؟

    جس پر اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ راؤ انوار نے 19 جنوری سے تمام موبائل بند کر دیے ہیں اور وہ واٹس ایپ کے ذریعے میڈیا سے رابطے میں ہیں جبکہ ہمارے پاس واٹس ایپ کو ٹریس کرنے کی سہولت موجود نہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کی آخری لوکیشن ترنول ڈھوک پراچہ میں تھی، جس پر ہم نے ایک ٹیم لکی مروت ،ایک اسلام آباد اور ایک اندرون سندھ میں بھیجی ہے۔ سماعت کے دوران اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کو پکڑنے کے لیے تمام صوبوں کے آئی جیز سے رابطہ کیا تھا جبکہ آئی بی اور آئی ایس آئی کمانڈرز کراچی کو خط بھی لکھا تھا۔ آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کی ساری سروس پولیس کی ہے اور انہیں پتہ ہے کہ ملزم کو کیسے پکڑا جاتا ہے، تاہم ہم تمام انسانی وسائل استعمال کر کے راؤ کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بشکریہ روزنامہ ڈان اردو
     


    0 0

    پاکستان کے وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ملک میں ہر سال لگ بھگ 120 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت نے ملک میں بجلی کی کمی پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے تاہم ان کے بقول بجلی کی چوری اور بجلی کی ترسیل کے نظام میں خامیوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کو کنٹرول کرنا حکومت کے لیے ایک چیلنج ہے۔ اویس لغاری نے یہ بات نجی ٹی وی چینل 'دنیا نیوز'سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال چوری ہونے والی اربوں روپے کی بجلی کا بوجھ ان صارفین کو اٹھانا پڑتا ہے جو باقاعدگی سے اپنے بل ادا کرتے ہیں۔

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان علاقوں میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جن کے زیرِ انتظام علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ اس سے پہلے حکومت کی ساری توجہ بجلی کی پیداوار بڑھانے پر مرکوز تھی تاہم ان کے بقول اب حکومت بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دے رہی ہے تاکہ بجلی کی چوری کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا اس مقصد کے لیے حکومت مختلف منصوبوں اور تجاویر پر غور کر رہی ہے جس میں بجلی کے پری پیڈ میٹر نصب کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ عالمی بینک بھی پاکستان کو ملک میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر کرنے کے منصوبے کے لیے 42 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے کی منظوری دے چکا ہے۔ 

    اس منصوبے کے لیے فراہم کردہ مالی وسائل کو پاکستان میں بجلی کی ترسیل کے قومی نظام کو جدید انداز میں استوار کرنے لیے استعمال کیا جائے گا جس کے تحت 500 اور 200 کلو واٹ بجلی کی ترسیل کی لائنز کو توسیع دے کر ان کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت نے ملک میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار چار کمپنیوں کے سربراہوں کو بجلی کی چوری اور ترسیل کی نظام میں ہونے والے نقصانات کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وزارتِ توانائی کے ایک ترجمان کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو)، پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (پیسکو)، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (کیوایسکو) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے سربراہان کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ترجمان کے بقول ان عہدیداروں کے خلاف یہ کارروائی ان کے علاقوں میں بجلی کی چوری اور بجلی کی نظامِ ترسیل میں ہونے والے نقصانات پر قابو نہ پانے کی بنا پر کی گئی ہے۔
     


    0 0

    لیبیا کے ساحل کے قریب یورپ جانے کی کوشش میں ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی ہے۔ اس کشتی کے ڈوبنے کے باعث قریب 90 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کشتی پر زیادہ تر پاکستانی تارکین وطن سوار تھے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ (IOM) کے حوالے سے بتایا ہے کہ تارکین وطن سے بھری یہ کشتی جمعہ کی صبح ڈوبی۔ ڈوبنے والی اس کشتی پر سوار تین افراد کے بچ جانے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 10 لاشیں کنارے تک پہنچی ہیں۔ حادثے میں بچ جانے والے افراد کے مطابق 90 تارکین وطن ڈوب کر ہلاک ہوئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    آئی او ایم کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق بچ جانے والوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ اس کشتی پر سوار زیادہ تر تارکین وطن کی اکثریت پاکستانی شہریوں کی تھی جو ایک گروپ کی صورت میں نکلے اور اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ تیونس میں موجود اولیویا ہیڈون نے بذریعہ فون یہ بات جنیوا میں دی جانے والی ایک نیوز بریفنگ میں بتائی۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق بہتر زندگی کی خواہش رکھنے والے 43،000 تارکین وطن کو رواں برس سمندر میں ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ممالک سے تھا۔

    انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ترجمان اولیویا ہیڈون کے مطابق، ’’اس حادثے میں بچ جانے والے تارکین وطن کے مطابق کشتی ڈوبنے کے باعث سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والوں کی تعداد 90 ہے، لیکن ابھی ہمیں ان افراد کی تعداد کی تصدیق کرنا ہے جو اس سانحے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قبل ازیں لیبیا کے مغربی شہر ’زوراوا‘ میں حکام نے کہا تھا کہ ڈوبنے والی کشتی سے تین افراد کو بچایا گیا ہے جن میں سے دو لیبیا کے جب کہ ایک پاکستانی شہری ہے۔ 

    حکام کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ 10 لاشوں کو سمندر سے نکالا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر پاکستانی شہری تھے۔ تاہم اس بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ سمندری راستے کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کے لیے لیبیا حالیہ عرصے کے دوران مرکز کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ چار برس کے دوران چھ لاکھ سے زائد مہاجرین اور تارکین وطن لیبیا سے بذریعہ سمندر اٹلی پہنچے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ یورپ کا رُخ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن مختلف راستوں سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
     


    0 0

    رواں برس کے آغاز میں لیبیا کے ساحلوں سے بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستے عبور کر کے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں پاکستانیوں کی تعداد نمایاں ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق رواں برس کے آغاز کے ساتھ ہی لیبیا کے ساحلوں سے یورپ جانے کے رجحان میں اضافے کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران چھ ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں نے بحیرہ روم کے سمندری راستے عبور کر کے اٹلی کا رخ کیا ہے۔
    ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے بعد ہی سے لیبیا کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا تھا۔ گزشتہ برس یورپی یونین نے لیبیا کی یونٹی گورنمنٹ کے تعاون سے لیبیائی ساحلی محافظوں کو تربیت فراہم کرنا شروع کی تھی۔ علاوہ ازیں لیبیائی حکومت کے حامی ملیشیا کے اہلکار بھی مہاجرین کو یورپ کا رخ کرنے سے روکتے دکھائی دیے تھے، جس پر انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپی یونین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    تاہم ایسے اقدامات کے بعد سن 2017 کے اواخر تک لیبائی ساحلوں سے یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی تعداد میں واضح کمی بھی واقع ہوئی تھی۔ لیکن رواں برس شروع ہوتے ہی اس رجحان میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوا ہے۔ جرمن پبلک براڈ کاسٹر اے آر ڈی نے اپنی ایک رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس اضافے کے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی ملک پر عملداری نہیں ہے اور ایسی صورت حال میں لیبیا کے ساحلی محافظوں اور انسانوں کے اسمگلروں کے گٹھ جوڑ سے ان راستوں کے ذریعے یورپ کی جانب کشتیاں روانہ کی جا رہی ہیں۔

    زیادہ تعداد پاکستانی شہریوں ہی کی کیوں؟
    لیبیائی ساحلوں پر تارکین وطن سے لدی ایک کشتی ڈوبنے کے واقعے میں نوے سے زائد تارکین وطن ڈوب گئے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق ان میں زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اے آر ڈی نے اپنی رپورٹ میں آئی او ایم کے ترجمان جول ملمان کے حوالے بتایا ہے کہ انسانوں کے اسمگلر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک سے تارکین وطن کو پہلے ترکی اور متحدہ عرب امارات لاتے ہیں جس کے بعد انہیں لیبیا پہنچا دیا جاتا ہے۔ ملمان نے لیبیا کے ذریعے یورپ کا رخ کرنے والوں میں پاکستانیوں کی نمایاں تعداد کی وجوہات بیان کرتے ہوے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے لیبیا پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار کے حصول کی ایک اہم منزل رہا ہے اور اس ملک میں کئی پاکستانی شہری طویل عرصے سے آباد ہیں۔

    انسانوں کے اسمگلر مزید تارکین وطن کو بھی ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے لیبیا منتقل کر رہے ہیں تاہم ملمان کے مطابق لیبیا میں سکیورٹی کی مایوس کن صورت حال کے باعث وہاں پہلے سے مقیم پاکستانی شہری بھی بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ طویل سمندری راستے انتہائی خطرناک بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ آئی او ایم کے مطابق رواں برس کے ابتدائی چند روز کے دوران ہی ڈھائی سو سے زائد تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہوئے جب کہ اب تک بحیرہ روم میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد پندرہ ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔

    بشکریہ DW اردو

     


    0 0

    پنجاب حکومت نے حال ہی میں خواتین کو empower کرنے کے نام پر عورتوں کو رعائتی قیمت پر موٹر سائیکل دینے کی اسکیم کا اعلان کیا۔ گزشتہ ہفتہ ایک ٹی وی اینکر نے اپنے شو کے دوران (ن) لیگ کی ایک خاتون رہنما سے اس اسکیم کے حوالہ سے پوچھا کہ کیا خواتین کا موٹر سائیکل چلانا ہماری ثقافت سے ہم آہنگ ہے ؟ اینکر نے ن لیگی خاتون رہنما سے یہ بھی سوال کیا کہ اگر معاشرتی اور ثقافتی لحاظ سے اس میں کوئی مضائقہ نہیں تو کیا وہ خاتون رہنما مریم نواز صاحبہ کے ساتھ موٹر سائیکل چلائیں گی۔ اس سوال پر ن لیگی خاتون رہنما جذباتی ہو گئیں اور طیش میں بہت کچھ بول گئیں۔ کہنے لگیں ہاں ہم ضرور موٹر سائیکل چلائیں گی۔ چڑ کر کہنے لگیں کہ عورتوں کو آپ لوگ ڈبے میں بند کر کے رکھنا چاہتے ہیں اور پھر چھوٹی عمر میں شادیوں کے معاملہ کو بھی اُٹھا لیا۔

    ن لیگی خاتون رہنما اپنے خیالات سے روشن خیال ظاہر ہو رہی تھیں لیکن اس کے باوجود دیکھتے ہیں کہ کب وہ موٹر سائیکل چلانا شروع کرتی ہیں اور کب مریم نواز صاحبہ کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر سوار کر کے لاہور یا پاکستان کے دوسرے شہروں میں گھومتی ہیں۔ میرا اس اسکیم کے بارے میں کیا خیال ہے، اُس کے بارے میں بات کیے بغیر میں سمجھتا ہوں کہ اگر women empowerment کے نام پر اس اسکیم کو پنجاب یا پاکستان میں کامیاب بنانا ہے تو پھر اصولاً ن لیگی قیادت کو اپنے گھر کی خواتین کو موٹر سائیکل خرید کر دینے چاہیے اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ باہر خود موٹر سائیکل چلا کر جائیں گھومیں پھریں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنی تصویر کے ساتھ اس اسکیم کے اشتہارات اخباروں میں شائع کروائے اور اس پر بڑے فخر کا اظہار بھی کیا۔ 

    امید ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھر کی خواتین کو بھی وہ آزادی اور empowerment کا حق ملے گا جس کا اطلاق صوبے کی خواتین اور بیٹیوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ بلکہ ن لیگ کو تو چاہیے کہ اس اسکیم کی کامیابی کے لیے اپنی خواتین ممبران اسمبلی کو بھی ایک ایک موٹر سائیکل لے کر دیں۔ جب رہنمائوں کی بیویاں، بیٹیاں، بہنیں اور بہوئیں موٹر سائیکل لے کر باہر نکلیں گی تو اُن کی تقلید میں دوسری عورتوں کو بھی حوصلہ ملے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ ہمارے سیاسی رہنمائوں اور حکمرانوں کے عمومی طور پر اپنے لیے اصول اور دوسروں کے لیے کچھ اور ہیں۔ وہ آزادی جو وہ دوسروں کی عورتوں کو دینا چاہتے ہیں اُسے اپنی خواتین کے لیے پسند نہیں کرتے۔

    عورت کی ترقی کے نام پر عموماً ہمارے ہاں جو ہوتا ہے وہ محض سیاست ہوتی ہے جس کا مقصد اپنے آپ کو لبرل اور روشن خیال ظاہر کرنا ہوتا ہے۔ ورنہ اگر عورتوں اور اُن کے حقوق کا اتنا ہی خیال ہے تو پھر خواتین کو وراثت میں حصہ کیوں نہیں دیتے۔ اگر عورت کے احترام اور اُس کی عزت کا اتنا ہی خیال ہے تو پھر سرکاری اور نجی اداروں میں کام کرنے والی لاکھوں خواتین کو وہ ماحول کیوں فراہم نہیں کیا جا رہا جہاں اُن کا کوئی مرد کسی قسم کا استحصال نہ کر سکے۔ اگر عورت کے لیے کچھ کرنا ہی ہے تو معاشرہ کی تربیت ایسی کیوں نہیں کی جا رہی کہ گھر سے نکلنے والی عورت اپنے آپ کو غیروں کی بُری نظر اور اُن کے شر سے اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے۔ 

    خواتین سے اتنی ہمدردی ہے تو جہیز کو قانوناً جرم تصور کیا جائے اور ایسا کرنے والوں کو قید یا جرمانہ کی سزائیں دی جائیں۔ اگر عورت سے اتنی ہمدردی ہے تو یہ یقینی بنایا جائے کہ ہر عورت کو شادی پر اُس کا مہر ادا کیا جائے نہ کہ اس کو محض ایک رواج کے طور پر خانہ پوری کے لیے رکھا جائے۔ اگر خواتین سے ہمدردی ہے اور اس معاشرہ کو واقعی سنوارنا چاہتے ہیں تو شرم و حیا کی تعلیم اور تربیت دی جائے تاکہ کوئی فرد یا ادارہ عورت کو اپنا پیسہ کمانے اور کاروبار بڑھانے کے لیے شو پیس کے طور پر استعمال نہ کرے۔ ایسا کرنے والے سزا کے مستحق ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ جو کوئی اپنے مال اور کاروبار کے لیے عورت کا استحصال کرے اُس کا کاروبار ہی بند کر دینا چاہیے۔

    میں کتنے والدین کو جانتا ہوں جو مخلوط تعلیمی نظام کی وجہ سے کافی پریشان ہیں اور اپنی بچیوں کو ایک حد سے آگے ایسے اداروں میں پڑھنے نہیں دیتے۔ اگر عورتوں کو واقعی empower کرنا ہے تو پھر اُن کے لیے الگ کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔ عورت کے حقوق کا اتنا ہی خیال ہے تو پھر گھر کے اندر عورت کو بدسلوکی سے بچانے کے لیے معاشرہ کی تربیت کے لیے حکومت نے کون سا پروگرام دیا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کہیں ہماری حکومتیں مغرب کی تقلید میں عورت کی empowerment کے نام پر اُن کی مزید استحصالی کا سبب تو نہیں بن رہے؟

    انصار عباسی
     


    0 0

    5 جنوری 1990ء کو ملتان ائیرپورٹ پر ایک پریس کانفرنس میں قاضی حسین احمد یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان کر رہے تھے تو اس وقت شاید انہیں بھی یہ اندازہ نہ ہو گا کہ یہ دن آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد کا استعارہ بن جائے گا۔ اس دن جب وہ لاہور پہنچے تو پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی کہ جنت ارضی پر کئی دہائیوں سے دبی آزادی کی چنگاری شعلۂ جوالہ بن چکی ہے اور ہزاروں مجاہدین اور مہاجرین قافلہ در قافلہ فلک بوس برفانی چوٹیاں عبور کر کے بیس کیمپ آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس لئے مواخات مدینہ کی یاد تازہ کریں اور پاکستانی قوم دل و جان سے ان کااستقبال کرے۔ انہوں نے 5 فروری کو پاکستانی عوام کو اہل کشمیر کی پشت پر کھڑا کرنے کافیصلہ کر کے اسے یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منانے کااعلان کیا۔ صوبے میں میاں محمد نواز شریف صاحب اور مرکز میں محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت تھی۔ انہیں قوم کے عزم کے ساتھ ہم آواز ہوناپڑا۔ پھر اقوام عالم نے دیکھا کہ کراچی سے خیبر اور چترال تا گوادر قوم نے اعلان کیا کہ اے اہل کشمیر ہم تمہارے ہیں اور تم ہمارے ہواور کشمیریوں نے بھی اعلان کیا کہ ہم پاکستان کے ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔

    اس دن سے زندگی کے تمام شعبوں اور تمام طبقات نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کو اپنا فرض اولین سمجھا ہے۔ اس عظیم الشان مظاہرے نے کشمیریوں کے حوصلے بھی بلند کئے اور پاکستانیوں کو بھی یہ یاد کروایا کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ آغا جان نے 5 فروری کے اس دن کو منانے کے لئے دامے، درمے ، سخنے ہر اعتبار سے جہاد کشمیر کے لئے جدوجہد کو اپنا وظیفہ بنا لیا۔ سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔ پورے ملک میں ہر گائوں، گوٹھ میں کشمیر پر درجنوں کانفرنسیں ، ریلیاں اور مذاکرے ترتیب دیئے ۔ قدم قدم پر تحریک آزادیٔ کشمیر کے لئے ضروری وسائل جمع کرتے رہے۔ پاکستان اور بیرون پاکستان اپنی جماعت اور اس کے اداروں کو اس کارخیر کے لئے منظم کیا۔ 

    اہل خیر کے سامنے اس مقصد کے لئے جھولی پھیلائی اور خدمت اور کشمیر سے وابستگی کے لئے ایک والہانہ انداز متعارف کرایا۔ زندگی میں پہلی دفعہ ایک دن میں خیبر سے کراچی 4 جلسوں سے خطاب کیا اور مجھے یاد ہے کہ خواتین نے اتنی بڑی تعداد میں اپنے زیور اُتار اُتار کر جمع کرائے ۔ ایک نئی نویلی دلہن اپنا بہت بھاری زیور ہمارے گھر پر چھوڑ گئی اور اس وقت رسید بھی نہ لے کر گئی۔ کچھ سالوں بعد کسی نے اسے ورغلایا کہ تم تو رسید بھی نہیں لائی تھیں ۔ مبادا قاضی صاحب نے اپنے گھر میں ہی نہ رکھ لیا ہو۔ اس نے جماعت کی ایک خاتون رہنما کے ذریعے مجھے خط بھیجا کہ مجھے اپنے زیور کی تفصیلات چاہئیں کہ کہاں خرچ ہوا۔ الحمدللہ اس کی ایک ایک پائی کی تفصیل ریکارڈ سے نکل آئی کہ وہ 5 فروری کا دن ہی تھا اور آغا جان نے پورے ملک میں اس زیور کی نمائش کر کے اس دلہن کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔ جماعت اسلامی اور آغاجان کی امانت و دیانت کو دیکھ کر وہ خاتون پھر بہت شرمندہ ہوتی رہیں۔ ملک کے اندر رائے عامہ بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سفارتی محاذ پر بھی خصوصی توجہ دی۔ 

    دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کی قیادت کے ساتھ خصوصی روابط بنائے اور انہیں اپنے ممالک میں کشمیر کی صورت حال اور بھارتی مظالم سے آگاہ کیا ۔ شملہ معاہدے کے بعد او ۔ آئی ۔ سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کو اٹھایا گیا اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے پر زور دیا گیا ۔ اسی تحریک پر او ۔ آئی ۔ سی میں کشمیر کو مبصر کا درجہ بھی دیا گیا۔ پھر یہ مسئلہ اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی سیاسی اور انسانی حقوق کے اداروں میں زیر بحث آیا۔ اس سارے عمل میں قاضی حسین احمد کے کردار کو کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کر سکے گا۔ وہ آزادیٔ کشمیر کے لئے ایک وفد کو لے کر اہم اسلامی ممالک کے دورہ پر بھی تشریف لے گئے تھے اور اس پوری جدوجہد میں اُن کے سامنے درج ذیل اہم نکات تھے۔ 

    جن پر انہوں نے اس تاریخی جدوجہد کو ترتیب دیا۔ مسئلہ کشمیر برصغیر کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ کشمیر پاکستان کی ایک شہ رگ ہے۔ کشمیر کو پاکستان کاحصہ بنائے بغیر ہم بھی نامکمل ہیں۔ اندلس میں اسلامی تہذیب کے نام و نشان کو جس طرح مٹا دیا گیا تھا۔ ہماری غفلت سے بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں کہیں کشمیر میں بھی ہمارا یہ انجام نہ ہو جائے ، نعوذبااللہ ! بھارت کی حیثیت ایک سامراجی جارح کی سی ہے اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی واضح خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ مسلمان کشمیریوں کی مدد ہم سب پر واجب ہے ۔ بھارت کے اکھنڈ تصور کے خاتمہ کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو ورنہ اُس کے جارحانہ اقدامات خطے میں عدم توازن پیدا کر دیں گے۔  اگر کشمیر پر بھارتی تسلط برقرار رہا تو وہ ہمیں پانی روک کر خشک سالی سے اور کبھی پانی چھوڑ کر سیلاب میں ڈبو کر ہماری زراعت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ 

    کشمیر کی بھارت سے آزادی بھارتی مسلمانوں کیلئے بھی دین ، تہذیب اور مفادات کے تحفظ کا اچھا پیغام ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ان سارے پہلوئوں کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کی ۔ پوری قوم کو 5 فروری کے دن باہر لا کر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر یہ پیغام دیا کہ ہم خود بھی متحد ہیں اور اہل کشمیر کو بھی یکجہتی کا پیغام دیتے ہیں۔ 5 فروری کا دن یوم یکجہتی کشمیر بھی ہے اور قاضی حسین احمد کا صدقۂ جاریہ بھی۔ اللہ تعالیٰ تمام مجاہدین اور شہداء کے ساتھ اُن کو اپنی رحمت خاص میں جگہ دے ۔ امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب کرے اور راضی ہو جائے۔

    سمیحہ راحیل قاضی
     


    0 0

    ایم کیو ایم سربراہ کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے کے حامی، رابطہ کمیٹی کو اعتراض، اہم میٹنگ میں جھگڑے کے بعد دونوں دھڑوں کے الگ الگ اجلاس
    کامران ٹیسوری ایک بار پھر ایم کیو ایم پاکستان میں تنازع کی وجہ بن گئے۔ سینیٹ الیکشن کیلئے ٹکٹ نہ دینے پر فاروق ستار اور عامر خان گروپوں میں جھگڑا ہوا، دونوں دھڑوں کے الگ الگ اجلاس ہوئے، متحدہ سربراہ نے ڈپٹی کنوینر پر پارٹی پر قبضہ کرنے کا الزام لگا دیا۔ ذرائع کے مطابق سینیٹ الیکشن کیلئے امیدواروں کا چناؤ ایم کیو ایم پاکستان کو تقسیم کر گیا ہے، رابطہ کمیٹی نے فروغ نسیم، امین الحق، شبیر قائم خانی اور نسرین جلیل کو ٹکٹ دینے کی منظوری دی، نام نکالنے پر کامران ٹیسوری نے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا۔

    فاروق ستار نے بھی کامران ٹیسوری کی حمایت کی جس پر متحدہ سربراہ اور عامر خان گروپ میں جھگڑا ہوا، رابطہ کمیٹی کے ارکان اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ عامر خان گروپ کے ارکان نے جھگڑے کے بعد بہادر آباد میں اپنا اجلاس کیا جبکہ فاروق ستار کے حامی پی آئی بی مرکز جمع ہو گئے جہاں کارکنوں نے متحدہ سربراہ کے حق میں نعرے لگائے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عامر خان پارٹی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اس معاملے میں خالد مقبول صدیقی اور کنور نوید جمیل بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔
     


older | 1 | .... | 118 | 119 | (Page 120) | 121 | 122 | .... | 149 | newer