Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 117 | 118 | (Page 119) | 120 | 121 | .... | 149 | newer

    0 0

    پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نجکاری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس برس انتخابات سے قبل قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری مکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل سن 2016 میں روک دیا گیا تھا ۔  خسارے کا شکار پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن اپنی مارکیٹ اتحاد اور ایمیریٹس جیسی ایئر لائنز کے باعث بھی تیزی سے کھو رہی ہے۔ سن 2013 میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون کی ترجیحات میں اس قومی ایئر لائن کی نجکاری بھی شامل تھی۔ عالمی مالیاتی ادارے کی قرضہ دینے کی شرائط میں خسارے کا شکار جن 68 قومی اداروں کی نجکاری کرنے کا کہا گیا تھا، پی آئی اے اس میں بھی سر فہرست تھی۔
    مسلم لیگ ن کی حکومت نے قومی اداروں کی نجکاری میں ابتدائی طور پر تیزی سے کامیابی حاصل کی لیکن پی آئی اے کی نجکاری میں انہیں کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ سن 2016 میں قومی اسمبلی میں پاس کیے جانے والے ایک قانون کے بعد انتہائی خسارے کے شکار اس قومی ادارے کو نجی ملکیت میں دینے کا حکومتی منصوبہ عملی طور پر ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ جاری کردہ لسٹ میں اس ایئر لائن کو ساٹھ بڑی ایئرلائنز کی درجہ بندی میں آخری نمبر پر رکھا گیا ہے۔ سن دو ہزار سولہ میں تائیوان کی اس کمپنی کے جہازوں پر تین عشاریہ سات ارب انسانوں نے سفر کیا۔ درجہ بندی کے حوالے سے اس ایئرلائن پر سفر کرنے والے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    تاہم روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے نجکاری کمیشن کے چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ حکومت اب رواں برس کے ملکی انتخابات سے قبل پی آئی اے کو فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ عزیز کے مطابق یہ منصوبہ تیار ہو چکا ہے جسے اب اگلے مرحلے میں کیبنٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ نئے منصوبے کے تحت قومی ایئر لائن کی ملکیت میں موجود دیگر کاروبار الگ کرنے کے بعد اس قومی ادارے کو فروخت کیا جانا ہے۔
    لیکن کابینہ سے منظوری کے بعد بھی حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ملکی پارلیمان میں نئی قانون سازی کر کے سن 2016 کے اس قانون کو ختم کرنا پڑے گا جس کے تحت پی آئی اے کو لیمیٹڈ کمپنی قرار دیا جا چکا ہے۔

    اس ادارے کی جلد از جلد فروخت کی کوشش کا بنیادی محرک اسے لاحق خسارہ ہے۔ پی آئی اے کے ایک سابق سی ای او کے اندازوں مطابق ادارے کو ہر ماہ 30 ملین ڈالر نقصان کا سامنا ہے اور گزشتہ برس مارچ تک اس قومی ادارے کے ذمے واجب الادا قرض 186 ارب پاکستانی روپے سے تجاوز کر چکا تھا۔ روئٹرز نے دانیال عزیز سے پوچھا کہ ادارے کو خریدنے والا کتنی جلدی اسے خرید پائے گا تو ان کا جواب تھا، ’’کل صبح ہی، اگر آپ کے پاس پیسے ہیں، آئیے اور اسے خرید لیجیے۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پی آئی اے کو کتنی قیمت کے عوض فروخت کیے جانے کی توقع ہے۔

    بشکریہ DW اردو



    0 0

    قصور سانحہ پر نہ سیاست ہونی چاہیے اور نہ ہی اس واقعہ کو کسی مغربی
    ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ یہ دونوں کام خوب زور و شور کے ساتھ ہو رہے ہیں۔ حقیقت میں جن اقدامات کی ہمیں اشد ضرورت ہے اُن کے متعلق بات کوئی نہیں کر رہا۔ پہلے تو ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستانی معاشرہ شدید تنزلی کا شکار ہے جس کو روکنے اور بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی۔ اصل ذمہ داری حکومت اور پارلیمنٹ کی ہے لیکن ہمارے حکمران اور سیاستدان تو کسی بھی مسئلہ پر میڈیا کے ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس طرح جس گراوٹ کا ہم بحیثیت قوم شکار ہیں اُس میں کمی کی بجائے مزید تیزی آ رہی ہے۔

    قصور سانحہ پر میں نے اپنے گزشتہ کالم میں مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق سفاک مجرموں کو عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چوکوں چوراہوں پر لٹکایا جائے تاکہ معاشرے کے لیے نشان عبرت بن سکیں لیکن مجھے امید نہیں کہ شہباز شریف یا پاکستان کا کوئی دوسرا حکمران ایسا کر سکتا ہے کیو نکہ وہ سب میڈیا سے ڈرتے ہیں اور مغرب کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ مغرب کی تقلید اور میڈیا سے ڈرنے کی بجائے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے معاشرتی بگاڑ کی کیا وجوہات ہیں اور انہیں کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس جب حل کی بات ہوتی ہے تو میڈیا ہمیں مغرب کا سبق پڑھاتا ہے۔ قصور سانحہ کے بعد فلم و شوبز انڈسٹری کے افراد کے ذریعے قوم کو بتایا گیا کہ قصور جیسے واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟

    مختلف علاج تجویز کیے گئے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ اس قسم کے جرائم میں بڑھتی فحاشی و عریانی کا کتنا کردار ہے؟ کسی نے یہ نہیں بولا کہ ہماری فلموں، ڈراموں، اشتہاروں اور میڈیا کے ذریعے کس انداز میں جنسی بے راہ روی کے رجحانات پیدا ہو رہے ہیں اور ایسے رجحانات جرائم کا سبب کیسے بنتے ہیں!کسی نے اس بات کی نشاندھی نہیں کی کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ معاشرے کی اخلاقیات کی تباہی میں اس قدر آگے جا چکے ہیں کہ اب موبائل فون معاشرتی خرابیوں، برائیوں کے علاوہ جنسی جرائم کی ایک اہم وجہ بن چکے ہیں!!

    افسوس کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے میڈیا، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سخت نگرانی کی جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دی جائے!! والدین کی ذمہ داری پر تو بات ہوئی لیکن کسی نے یہ بات نہیں کی کہ ماں جو بچے کے لیے سب سے اہم درسگاہ کی حیثیت رکھتی ہے اُسے تو ہم نے حقوق نسواں اور برابری کے نام پر اپنی اصل ذمہ داری یعنی بچوں کی پرورش اور اُن کی دیکھ بھال سے دور کر رہے ہیں اور اب بچوں کو ملازموں، آیائوں، ڈرائیوروں، چوکیداروں، ڈے کیئر سینٹرز کے حوالے کرنے کا رواج زور پکڑ رہا ہے!! کیا کوئی دوسرا بچوں کی پرورش، اُن کی تربیت اور دیکھ بھال میں ماں کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟؟

    کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کیا ہم نکاح کو مشکل نہیں بنا رہے؟ کوئی مخلوط نظام تعلیم کی خرابیوں اور ان کے منفی اثرات کو اجاگر کیوں نہیں کرتا؟ کوئی شرم و حیا اور پردہ جیسے اسلامی احکامات کی نفی کرنے والوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اُٹھاتا ؟ کوئی یہ بات کیوں نہیں کرتا کہ ہماری تعلیم میں تربیت کو کیوں شامل نہیں کیا جا رہا اور تربیت کے لیے اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنانے میں کون کون رکاوٹ ہیں؟ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ماحول بنانے اور معاشرہ اور اس کے افراد میں اللہ تعالیٰ کا ڈر اور آخرت کا خوف پیدا کرنے کے لیے کوئی بات کیوں نہیں کی جاتی؟ کوئی حکومتوں ، حکمرانوں اور پارلیمنٹ پر اس بات پر زور کیوں نہیں دیتا کہ سزا و جزا کے اسلامی نظام کے نفاذ کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کو جنگی بنیادوں پر اصلاح اور افراد کو کردار سازی کی ضرورت ہے تاکہ حق اور باطل ، سچ اور جھوٹ ، ثواب اور گناہ، اچھائی اور برائی میں نہ صرف فرق واضح ہو بلکہ معاشرہ حق، سچ، اچھائی اور ثواب کے کاموں کا ساتھ دے اور باطل، جھوٹ، گناہ اور برائی کے کاموں سے دوسروں کو روکے؟

    انصار عباسی
     


    0 0

    بھارت کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں چار پاکستانی سپاہیوں کی ہلاکت پر پاکستان اور اس کے زیرِ انتظام کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی ناقدین کے خیال میں یہ کشیدگی پاکستان کے خلاف ایک سازش ہے۔ کئی سیاست دانوں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارت کچھ دوسرے ممالک کے ساتھ ملک کر اسلام آباد کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ’’ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ 

    بھارت، اسرائیل اور امریکا ایک طرف چین کی ابھرتی ہوئی طاقت سے پریشان ہیں اور دوسری طرف امریکا بھارت کو چین کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی چین اور روس سے قربت بڑھی ہے اور سی پیک کے بعد اس قربت میں مزید مضبوطی آنے کا امکان ہے تو واشنگٹن اور نئی دہلی مل کر سی پیک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں تاکہ سی پیک کو ناکام کر کے ایک طرف پاکستان کو معاشی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا جاسکے اور دوسری طرف چین کے اثر ورسوخ کو خطے میں بڑھنے سے روکا جا سکے۔‘‘
    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ان ہلاکتوں پر بہت زیادہ غصہ ہے۔ ’’بھارت اندھا دھند فائرنگ کر رہا ہے، جس سے شہری آبادی گزشتہ دو برسوں میں بہت متاثر ہوئی ہے لیکن پاکستان اس طرح کی فائرنگ نہیں کر سکتا کیونکہ سرحد کے دونوں اطراف کشمیری رہتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور کشمیری آبادی کا بعض اوقات زیادہ نقصان ہو جاتا ہے۔‘‘ دفاعی تجزیہ نگار کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم بھی سردار عتیق کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستا ن کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ ’’گیارہ جنوری کو سی آئی اے چیف نے نئی دہلی کا دورہ کیا ہے اور را کا چیف ان کے ساتھ کابل گیا تھا۔ اب اسرائیلی وزیرِ اعظم بھارت کا دورہ کر رہا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تینوں ممالک پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں۔ بھارت کو معلوم ہے کہ ہم نے مغربی سرحد پر بھی فوج لگائی ہوئی ہے اور فاٹا، کے پی اور بلوچستان میں بھی ہم مصروف ہیں، اس لیے وہ لائن آف کنڑول پر مسلسل گڑ بڑ کر رہا ہے۔‘‘

    دفاعی تجزیہ نگار جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب کے خیال میں مودی کے آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔’’مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو سبق سکھائے گا۔ اس کے آنے سے پہلے ایل او سی پر کبھی کبھار کشیدگی ہوتی تھی لیکن اب اس میں بہت شدت آگئی ہے۔ اس کشیدگی کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارت کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور دوسرا ایل او سی پر عام شہریوں کو مار کر وہ کہتا ہے کہ ہم نے کشمیر میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو مارا ہے۔ نئی دہلی سفارتی محاذ پر بہت سر گرم ہے۔ اس لیے اس کے اس دعویٰ پر بہت سارے ممالک یقین بھی کر لیتے ہیں جب کہ ہم اس حوالے سے بہت کمزور ہیں۔‘‘

    ان کے خیال میں بھارت اور افغانستان پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں جب کہ امریکا اور اسرائیل ان کی معاونت کر رہے ہیں۔’’میرا خیال ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ امریکا ہمارا اتحادی نہیں ہے ۔ وہ بھارت کا دوست ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے ، جسے ہم جتنی جلدی سمجھ لیں ہمارے لیے بہتر ہے۔ موجودہ صورتِ حال کو ٹِلرسن کے بیان کی روشنی میں دیکھیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان اپنے علاقے کھو سکتا ہے اور اسے ان امریکی سیاست دانوں کے بیانات کی روشنی میں پرکھیں، جس میں انہوں نے ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے بھارت کو استعمال کرے۔ بھارت امریکا کے ذریعے ہمیں جوہری ہتھیاروں سے محروم کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ ہمیں سبق سکھا سکے۔ اسی لیے ہمارے ہتھیاروں کے حوالے سے بار بار پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔‘‘

    لیکن کچھ ناقدین کی رائے میں نئی دہلی حکومت یہ سب کچھ صرف اندرونی سیاسی مفادات کے لیے کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ خورشید قصوری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ایل او سی پر پاکستانی سپاہیوں کی شہادت بہت افسوس ناک ہے۔ میرے خیال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے فائدہ ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں جتنی زیادہ فرقہ وارانہ کشیدگی یعنی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جتنی کشیدگی ہو گی، ان کو اس سے اتنا ہی فائدہ ہو گا۔ کیونکہ وہ پاکستان اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں کرتے، تو ان کے خیال میں جتنی یہ دشمنی بڑھتی ہے، اتنا ہی ان کو انتخابی سیاست میں فائدہ ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ انہوں نے بہار اور گجرات کے انتخابات میں بھی یہ ہی طریقہ اپنایا۔ تو میرے خیال میں اس کشیدگی کا تعلق بھارت کی اندرونی سیاست سے زیادہ ہے۔‘‘ پاکستان نے ان مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف بھارت سے آج بھر پور احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ نے آج بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو طلب کیا اور ان اشتعال انگیز خلاف ورزیوں کی بھر پور مذمت کی۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا سب سے بڑا اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کا تینتیسواں سب سے بڑا ملک پاکستان اپنے روڈ نیٹ ورک کے حوالے سے عالمی درجہ بندی میں اکیسویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت اس جنوبی ایشیائی ریاست کا مجموعی رقبہ آٹھ لاکھ بیاسی ہزار مربع کلومیٹر یا تین لاکھ اکتالیس ہزار مربع میل کے قریب بنتا ہے۔ شمال میں قراقرم کے پہاڑی سلسلے سے لے کر جنوب میں بحیرہ عرب کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے اس ملک میں پختہ سڑکوں، ہائی ویز، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز پر مشتمل قومی روڈ نیٹ ورک کی مجموعی لمبائی تقریباً دو لاکھ چونسٹھ ہزار کلو میٹر ہے۔
    پاکستان میں اس کے ہمسایہ ملک چین کی مدد سے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و توسیع کے پینتالیس ارب ڈالر سے زائد مالیت کے جس منصوبے پر کام جاری ہے، وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یا چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کہلاتا ہے، جسے مختصراً ’سی پیک‘ (CPEC) بھی کہتے ہیں، اس منصوبے کے تحت ملک میں کئی نئی موٹر ویز اور قومی شاہراہیں بھی تعمیر کی جا رہی ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق آج سے چار عشرے قبل پاکستان میں وفاقی حکومت نے پانچ بہت اہم بین الصوبائی شاہراہوں کو وفاقی انتظام میں لے کر انہیں ’نیشل ہائی ویز‘ قرار دے دیا تھا جن کی دیکھ بھال کے لیے ایک نیشنل ہائی وے بورڈ بھی قائم کر دیا گیا تھا۔

    انیس سو اکانوے میں حکومت پاکستان نے پارلیمانی قانون سازی کے ذریعے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ کیا تو اس نئے ادارے کو نیشنل ہائی ویز کی منصوبہ بندی، تعمیر، دیکھ بھال اور مرمت کی ذمے داری سونپ دی گئی۔ ساتھ ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ملک کے شمالی علاقوں میں ان اہم شاہراہوں اور ہائی ویز سے متعلق تمام ذمے داریاں بھی اس این ایچ اے کے حوالے کر دی گئیں۔
     


    0 0

    فیس بک گزشتہ سال سے شدید تنقید کی زد میں ہے جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہاں جعلی خبریں یا اطلاعات کا مسئلہ کافی سنگین ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وہ متعدد اقدامات بھی کر رہی ہے، جس میں سب سے اہم گزشتہ دنوں نیوزفیڈ میں تبدیلیاں لانے کا اعلان تھا۔ مگر ایسا نظر آتا ہے کہ نیوزفیڈ کو مکمل طور پر بدلنے کا اقدام معاملات کو مزید بدتر بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں نیوزفیڈ میں تبدیلیوں کا تجربہ کیا جا رہا ہے، وہاں جعلی خبریں پوری سروس میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی ہیں۔

    فیس بک نے اس حقیقت کو راز میں نہیں رکھا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران نیوزفیڈ الگورتھم میں تبدیلیاں لائی گئی ہیں، تاہم باضابطہ اعلان گزشتہ ہفتے کرتے ہوئے بتایا کہ اب پبلشر کی پوسٹس کی جگہ دوستوں اور گھر والوں کی پوسٹس کو ترجیح دی جائے گی۔ آسان الفاظ میں اگر مختلف پیجز سے ابھی ویڈیوز یا پوسٹس سے نیوزفیڈ بھرا رہتا ہے، وہ اب دوستوں یا گھر والوں کے شیئرز سے بھرے گا۔
    سننے میں تو اچھا خیال ہے کہ مگر اب تک جہاں اسے آزمایا گیا ہے، وہاں یہ تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔

    بولیویا، سلواکیہ اور کمبوڈیا سمیت چھ ممالک میں نیوزفیڈ کی ان تبدیلیوں کو آزمایا ہے اور وہاں یہ مسئلہ سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو اب جو خبریں مل رہی ہیں، وہ دوستوں کی شیئر کی ہوئی ہیں جو کہ سنسنی خیز بلکہ اکثر جعلی ہوتی ہیں۔ سلواکیہ کی ایک نیوز سائٹ کے ایڈیٹ کے مطابق لوگ عموماً بیزارکن خبریں یا حقائق شیئر نہیں کرتے، بلکہ انہیں توجہ حاصل کرنے کے کچھ سنسنی خیز مواد شیئر کرنا پسند ہوتا ہے۔ الگورتھم میں یہ تبدیلی یقیناً دنیا بھر میں ویب سائٹس یا دیگر اداروں کے لیے بڑا مسئلہ ثابت ہو گی مگر اس سے ہٹ کر بھی اس کے نتیجے میں بڑا مسئلہ سامنے آئے گا۔ فیس بک اہم میڈیا اداروں کے لیے اپنی خبریں شیئر کرنا مشکل ترین بنا دے گی اور ایسا کرنے سے جعلی خبروں کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔ اس حوالے سے ابھی تک فیس بک نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
     


    0 0

    بی بی سی کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں برطانوی شہریوں نے پاکستان سے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں۔ بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام 'فائل آن فور'کی تحقیقات کے مطابق اِن ڈگریوں کی مالیت لاکھوں پاونڈ ہے۔ اِن جعلی ڈگریوں کے خریداروں میں نیشنل ہیلتھ سروسز کے معاونین، نرسیں اور ایک بڑا دفاعی کانٹریکٹر بھی شامل ہے۔ یہاں تک کہ ایک برطانوی خریدار نے جعلی دستاویزات حاصل کرنے کے لیے پانچ لاکھ پاونڈ خرچ کیے۔ برطانوی محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ جعلی ڈگریوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔

    دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ہونے کا دعوی کرنے والی کمپنی اگزیکٹ سینکڑوں کی تعداد میں جعلی آن لائن یونیورسٹیوں کا ایک نیٹ ورک کراچی میں ایک کال سینٹر کے ذریعے چلا رہی ہے۔ بروکلن پارک یونیورسٹی اور نکسن یونیورسٹی جیسے ناموں کے ساتھ اِس کمپنی کے اشہارات انٹرنیٹ پر دیکھے جا سکتے ہیں جن میں مسکراتے طلبہ و طالبات نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان جعلی اداروں کی تعریف میں جعلی مضٰامین تک انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ بی بی سی کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق 2013 اور 2014 میں برطانیہ میں مقیم خریداروں کو اگزیکٹ کی تین ہزار سے زیادہ جعلی ڈگریاں بیچی گئیں جن میں پی ایچ ڈی، ڈاکٹریٹ اور ماسٹرز کی ڈگریاں بھی شامل تھیں۔
    برطانوی محکمۂ تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ جعلی ڈگریوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ بی بی سی نے برطانوی خریداروں کی فہرست دیکھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کے جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں برطانیہ کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے لوگ بھی ہیں جن میں امراضِ چشم کے ماہرین ، نرسیں، ماہرینِ نفسیات اور بہت سے کنسلٹنٹس بھی شامل ہیں۔ 2015 میں اگزیکٹ کمپنی نے دنیا بھر میں دو لاکھ پندرہ ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کیں۔ یہ ڈگریاں تقریباً ساڑھے تین سو جعلی ہائی سکولوں اور یونیورسٹوں کے ذریعے بیچی گئیں۔ اگزیکٹ نے اِس کاروبار میں صرف 2015 میں تین کروڑ ستر لاکھ پاونڈ کمائے۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار ایلن ایزل 80 کی دہائی سے اگزیکٹ کے بارے میں تفتیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ڈگریوں کی بہت اہمیت ہے۔ جب تک ان کاغذات کی اہمیت ہے کوئی نا کوئی انھیں جعلی طریقے سے بنا کر بیچتا رہے گا۔' ایلن ایزل کا کہنا تھا کہ نوکریاں دینے والے ادارے ڈگریوں کو جانچنے کا کام صحیح طرح نہیں کر رہے۔ اس وجہ سے یہ کام جاری ہے۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    اللہ تعالیٰ مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔ قاضی صاحب نے سپریم کورٹ کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے ایک درخواست دی جس پر سو موٹو نوٹس لیا گیا لیکن پھر یہ مسئلہ کہیں گم ہی ہو گیا۔ نہ تو اب یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں کہیں نظر آتا ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی اور اُس کے موجودہ امیر سراج الحق صاحب کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس اہم ترین معاملے پرتوجہ دیں۔ ویسے ہو سکتا ہے سراج الحق صاحب اور جماعت اسلامی فحاشی و عریانیت کے معاشرے پر انتہائی خطرناک اثرات کی وجہ سے اندر اندر سے کڑہتے ہوں لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کی طرح اب جماعت اسلامی بھی میڈیا اور آزادی رائے کے علمبرداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اگر میرا اندازہ غلط ہے تو پھر جماعت اسلامی اس معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھانے اور فحاشی و عریانیت کے خلاف عوامی مہم چلانے سے گریزاں کیوں ہے؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ن لیگ کے بعد اب جماعت اسلامی بھی روشن خیالی کی منزل کی طرف گامزن ہے؟؟

    قصور سانحہ کے بعد اگرچہ ہمیں اصلاح معاشرہ کے لیے دوسرے بہت سے اقدامات اٹھانے ہوں گے تو وہاں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی فحاشی و عریانیت کو بھی روکنا ہے جس کے لیے میڈیا، آزادی رائے اور free speech کے علمبرداروں سے کھل کر اختلاف کرنا ہو گا اور بغیر کسی خوف اور ڈر کے یہ بتانا ہو گا کہ ہمارے ٹی چینلز، کیبل، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کس تیزی سے ہمارے مذہبی و معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی جرائم کی وجہ بن رہا ہے۔ آج کے دی نیوز اخبار میں سینئر صحافی صابر شاہ کی ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح امریکی و مغربی ادارے بشمول ایف بی آئی، انٹرپول اور یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی اور جنسی جرائم کے تعلق کے بارے میں پریشان ہیں۔ 

    اس رپورٹ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ امریکا میں یہ مرض اس حد تک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے کہ ہر سیکنڈ میں اٹھائیس ہزار دو سو اٹھاون امریکی فحش سائٹس دیکھتے ہیں۔ فحاشی و عریانیت پھیلانے کا کام ایک منظم انداز میں دنیا بھر میں چلایا جا رہا ہے اور صرف بچوں کی فحش فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلانے والوں کی تعداد ستر ہزار ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ صابر شاہ کی اس رپورٹ میں جو بات ہمارے لیے انتہائی شرمناک ہے وہ گوگل کی 2015 کی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستانی لوگوں نے اُس سال دنیا میں سب سے زیادہ فحش مواد کو انٹرنیٹ پر تلاش کیا اور دیکھا۔ یہ نتیجہ ہے اُس فحاشی و عریانیت کا جس کو روکنے کے لیے حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ کوئی بھی تیار نہیں۔ صابر شاہ نے اپنی رپورٹ میں ایک سوال اٹھایا کہ پاکستانی معاشرےکو سوچنا ہو گا کہ اس انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کے دور میں ہماری اخلاقیات کا معیار کیوں اس قدر گر گیا ہے۔

    چیف جسٹس صاحب سے میری درخواست ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قانون ضرور بنوائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانیت کی پٹیشن کو بھی جلد از جلد سنیں اور ایسا حکم نامہ جاری کریں جس سے اس لعنت سے اس معاشرہ کو پاک کیا جا سکے۔ ویسے چیف جسٹس صاحب کی یاد دہانی کے لیے ایک سوموٹو انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کے متعلق بھی کچھ سال پہلے لیا گیا تھا لیکن نہیں معلوم کہ اُس سوموٹو کا کیا ہوا کیوں کہ مرض ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میری بابا رحمتے سے درخواست ہے کہ ان کیسوں کو جلد از جلد سنیں تاکہ پاکستانی قوم کو فحاشی و عریانیت کے کینسر سے پاک کیا جا سکے۔

    سانحہ قصور کا ذکر کرتے ہوئے، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں صابر شاہ نے مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1981میں لاہور میں پپو نامی ایک معصوم بچے کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کر کے اُس کی لاش پھینک دی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر اس کیس کو فوجی عدالت میں چلایا گیا جہاں ایک ہفتہ کے اندر اندر مجرموں کو سزا سنا دی گئی جس پر اُن کو اسلامی اصولوں کے مطابق سرعام لاہور کے اُسی علاقہ کے چوک پر پھانسی دی گئی جہاں سے بچہ اغوا ہوا تھا۔ سفاک مجرموں کی لاشوں کو پورا دن چوک میں لٹکائے رکھا گیا تاکہ ایسے جرائم کے متعلق ایک ڈر اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ صابر شاہ نے لکھا کہ اس سرعام پھانسی کے بعد تقریباً دس سال تک کسی بچے کے اغوا اور اُس کے ساتھ زیادتی کا کوئی واقعہ رپورٹ نہ ہوا۔ 

    یہ ہے اسلامی سزائووں کا وہ مثبت اثر جس کی پاکستان جیسے بگڑے ہوئے معاشرہ کو بہت ضرورت ہے، میرا تو یہ مطالبہ ہو گا کہ قصور کا سانحہ ہو یا مردان کی معصوم عاصمہ سے زیادتی اور قتل کا اندوہناک واقعہ شریک مجرموں کو اسی انداز میں فوجی عدالت میں پیش کر کے سزائیں دی جائیں اور انہیں بھی قصور اور مردان شہر کے اہم چوک چوراہوں پر پھانسی دے کر ایک دو د ن کے لیے لٹکایا جائے۔ صابر شاہ کی رپورٹ میں ایف آئی اے کی سائبر ونگ کے حوالے سے لکھا گیا کہ اس کے 33 ملازمین کو تو تنخواہ ہی نہیں مل رہی وہ انٹرنیٹ پر فحاشی و عریانیت کو کیا روکیں گے۔ لیکن میرا اعتراض تو یہ ہے کہ جب سائبر قانون کو موجودہ حکومت کے دور میں تبدیل کیا گیا تو میرے بار بار کہنے اور لکھنے کے باوجود blasphemy اور pornography کو جرائم کی لسٹ میں رکھا ہی نہیں گیا اور اس کی مبینہ وجہ این جی اوز کا پریشر تھا۔ اس معاملہ پر تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے بھی حکومت کو ہدایت کی کہ ان دونوں جرائم کو سائبر قانون میں شامل کیا جائے لیکن ابھی تک حکومت نے اس عدالتی حکم پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔.

    انصار عباسی
     


    0 0

    کوئٹہ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہ چلتن کے دامن میں ایک ایسا وسیع و عریض علاقہ ہے جسے ’’ہزار گنجی‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کی سب سے بڑی خاصیت تو یہ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا اور واحد جنگلی حیات کا ایسا علاقہ ہے جو اس شہر سے قریب ہے ۔ ہزار گنجی پارک میں انتہائی قیمتی جونیپر کے درخت ہیں اور ایسی ہزاروں خود رو جڑی بوٹیاں ہیں جو ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک ادویہ میں کام آتی ہیں مثلاً یہاں بخار کے لیے ایک اکسیر بوٹی ہے جسے مقامی زبان میں کلپورا کہا جاتا ہے یہی کال پول کے نام سے بخار کے لیے نہایت کامیاب دوا کے طور پر مارکیٹ میں برسوں سے موجود ہے اس طرح بسکو پان ہے جو مقامی بوٹی آئسو نائیڈ سے تیار کی جاتی ہے غرضیکہ ایسی لاتعداد جڑی بوٹیاں ہیں جو یہاں موجود ہیں ان میں بہت سی بوٹیوں پر تحقیق بھی کی جا رہی ہے۔

    ہزار گنجی میں چلتن مار خور بھی ملتا ہے جو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا واحد مار خور ہے ۔ مارخور کو مقامی محکمہ ٔ جنگلات نے برسوں کی محنت کے بعد تحفظ دیا ہے۔ جونیپر کے درختوں کو بھی بڑی مشکل سے تحفظ ملا ہے یہ درخت سال بھر میں ایک ڈیڑھ انچ بڑھتا ہے مگر لوگ اسے بیدردی سے کاٹ کر تباہ کر رہے ہیں۔ یوں ایشیا بھر میں جونیپر کا یہ سب سے بڑا جنگل اپنی حیثیت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔ 1555 ایکڑ پر محیط ہزار گنجی نیشنل پارک میں کالا اور پیلا کوبراور دوسرے سانپ، بھیڑ یئے، لومڑیاں، گیدڑ، جنگلی بلیاں، بندر سے مشابہہ ایک جانور افغان کچھوے اور چکور خاصی تعداد میں موجود ہیں۔

    کسی وقت یہاں لگڑ بگڑ جیسے خونخوار جانور بھی پائے جاتے تھے جو شکاریوں کے شوق کے سبب ناپید ہو گئے۔ جنگلی دنبے بھی ہیں اور سی سی ( خار دار چوہا) بھی یہاں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ مارخور دنیا بھر میں صرف پاکستان میں اور یہاں بھی صرف بلوچستان کے علاقہ کوہ چلتن میں پایا جاتا ہے۔ 1980ء میں ہزار گنجی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا تھا۔ ایک وقت تو وہ بھی آیا جب یہ تعداد صرف 15 تھی اور صرف پاکستان میں پائے جانے والے اس جانور کی نسل دنیا سے ناپید ہونے کو تھی۔ بہرحال نیشنل پارک قرار دیئے جانے کے بعد یہاں جنگلی حیات کا عجائب گھر اور دو ریسٹ ہاؤس بنائے گئے۔

    ایس ایم سید


     


    0 0

    پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) نے قومی اسمبلی کے سامنے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں 5 لاکھ گریجویٹ نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ قومی اسمبلی رکن اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ حمید کے سوال پر وزارت برائے افرادی قوت نے تحریری جواب جمع کرایا کہ صرف اسلام آباد میں 6 ہزار 776 نوجوان بے روزگار ہیں جن میں مردوں کی تعداد 3 ہزار 819 اور خواتین کی 2 ہزار 957 ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں گریجوٹ نوجوانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، صوبہ پنجاب میں کل 3 لاکھ 10 ہزار نوجوان ذریعہ معاش کی تلاش میں سرگرداں ہیں، جن میں مرد اور عورت کی تفریق کے اعتبار سے 2 لاکھ 10 ہزار خواتین جبکہ 99 ہزار 874 مرد بے روز گریجویٹ ہیں۔

    قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ بے روزگار گریجویٹ نوجوانوں کی دوسری بڑی تعداد صوبہ سندھ میں ہے جہاں کل 97 ہزار 222 نوجوانوں میں سے 53 ہزار 673 مرد اور 43 ہزار 549 خواتین شامل ہیں۔ پی بی ایس نے انڈسٹری اور ملازمت کی درجہ بندی کے معیار کے مطابق افرادی قوت کا حجم اور ساخت کا لیبر فورس سروے (ایل ایف ایس) کروایا تھا۔ اراکین قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا کہ چھٹی مردم شماری کے تنائج پر مشتمل اعداد وشمار کی روشنی میں صوبوں میں موجودہ بے روزگار گریجویٹ نوجوان کے بارے میں واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔ وزارت نے بتایا کہ حتمی اعداد وشمار اپریل 2018 تک پیش کیے جا سکتے ہیں۔ دیگر دو صوبوں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بے روزگار گریجویٹ کی کل تعداد بلترتیب 83 ہزار 367 اور 11 ہزار ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبرپختوںخوا میں 36 ہزار 548 نوجوان مرد اور 46 ہزار 819 خواتین گریجویٹ ہیں لیکن ملازمت یا کسی دوسرے ذریعہ معاش سے وابستہ نہیں۔ اراکین قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملک میں ملازمت کے مواقعے محدود ہونے کی وجہ سے نوجوان بیرون ملک جانے کی جستجو میں ہیں۔ رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی رہنما شگفتہ جمانی کے تحریری سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے ایوان کو بتایا کہ 7 ہزار 537 پاکستانیوں نے 2012 سے 2017 کے درمیانی عرصے میں یورپین ممالک میں سکونت اختیار کی۔

    وزارت داخلہ نے بتایا گیا کہ 2017 میں سے سب سے زیادہ پاکستانیوں نے یورپین ممالک کا رخ کیا جبکہ 2012 میں صرف 223 شہریوں نے بیرون ملک ہجرت کی۔
    فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2013 میں ہزاروں پاکستانیوں نے برطانیہ کا رخ کیا جبکہ 2017 میں 904 شہریوں نے سکونت اختیار کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2017 میں ٹلی جانے والوں کی تعداد 570 جبکہ 2012 میں صرف 36 تھی۔
    اسپین میں سکونت اختیار کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد 2017 میں 386 رہی جبکہ 2012 میں صرف 2 شہری اسپین گئے۔

    یہ خبر 18 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی.
     


    0 0

    انکاؤنٹر اسپیشلسٹ راؤ انوار سندھ پولیس کا متنازع ترین افسر ہے، کہا جاتا ہے کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلوں میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، معجزاتی طور پر کسی بھی پولیس مقابلے میں راؤ انوار اور ان کی ٹیم کے کسی ممبر کو خراش تک نہ آئی۔ سندھ پولیس کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ، ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پولیس میں بااختیاراورطاقتور ترین افسر سمجھے جاتےہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ راؤانور کے پاس لائسنس ٹو کل ہے تو غلط نہ ہو گا، نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلےمیں ہلاکت کے بعد ان کیخلاف اٹھنے والی آوازوں نے راؤ انوار کے پولیس مقابلوں کو ایک بار پھر مشکوک بنا دیا ہے۔

    راؤ انوار قسمت کے دھنی ہیں یا پھر ان کے پاس کوئی جادوئی طاقت ہے، جہاں بھی وہ پولیس مقابلہ کرتے ہیں وہاں ہمیشہ دہشت گرد مار دیئے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پرراؤ انوار نے جتنے پولیس مقابلے کیے، ان میں 90 فیصد مبینہ دہشت گرد مار دیئے گئے، پولیس پارٹی کو خراش تک نہ آئی۔ مبینہ پولیس مقابلوں میں دہشت گردوں سے بھاری اسلحہ برآمدگی کے دعوے بھی کیے گئے جس کا کبھی فرانزک ٹیسٹ نہیں کیا گیا، مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے راؤ انور کے مقابلوں کو جعلی قرار دیا گیا، اختیارات سے تجاوز کرنے پر انہیں کئی بار توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے گئے، تحقیقاتی کمیٹیاں بنیں مگر راؤ انور کا کوئی کچھ بھی نہ بگاڑ سکا۔

    انیس سو بیاسی میں اے ایس آئی بھرتی ہونےوالے راؤ انوار سابق صدر آصف علی زرداری کے خاص آدمی سمجھے جاتے ہیں اور اسی بنا پر وہ گریڈ 18 کے افسر ہونے کے باوجود گریڈ 19 کی پوسٹ پر براجمان ہیں۔ پولیس میں افسران کےتقرر و تبادلے معمول ہیں مگر راؤ انوار کئی سالوں سے اپنے پسندیدہ ضلع ملیر میں تعینات ہیں، ان پر دو بار مبینہ خود کش حملے بھی ہوئے ہیں مگر وہ بچ گئے، کئی بار معطل بھی ہوئے اور کچھ وقت کے بعد وہ پھربحال کر دئیے گئے، دیکھنا یہ ہے کہ ان کی اس بار کی معطلی کیا رنگ لاتی ہے؟
     


    0 0

    نقیب اللہ کی مبینہ مقابلے میں ہلاکت کی تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آئی جی سندھ کو ارسال کر دی، ذرائع کے مطابق تحقیقات میں نقیب اللہ کے دہشت گرد ہونے کا تاحال کوئی ثبوت نہیں ملا، مزید تحقیقات جاری ہیں ، تحقیقاتی کمیٹی نے راوانوار کو عہدے سے ہٹا کر مقدمہ درج اور گرفتار کر کے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی ہے، کمیٹی کے سربراہ ثنااللہ عباسی کے مطابق ہم نے مبینہ مقابلے کی جگہ بھی اور سینٹرل جیل جا کر کچھ لوگوں کے انٹرویو بھی کئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے ممبران آزاد خاں اور سلطان علی خواجہ نے کیس میں بہت محنت کی ہے، ثنااللہ عباسی نے کہا کہ ہمارا کام انصاف دلانا ہے اور لوگ انصاف ہوتا ہوا دیکھیں گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں مقابلے میں شریک تمام پولیس اہلکاروں کی گرفتاری کی سفارش کی گئی ہے، علاوہ ازیں تحقیقاتی کمیٹی کا ایک اجلاس ڈی آئی جی ایسٹ کے دفتر میں بھی ہوا، جہاں شاہ لطیف ٹاون تھانے کے 7 اہلکاروں کے بیانات قلمبند کئے گئے، انھوں بیان دیا کہ جب ایس ایچ او شاہ لطیف نے ہمیں جائے وقوع بلایا تو ہلاکتیں ہو چکی تھیں۔


    0 0

    یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کا قومی پھل آم ہے لیکن بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہو گا کہ ہمارا قومی مشروب کون سا ہے اور سن کر آپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی۔ خبر کے مطابق پاکستان کا قومی مشروب "گنے کا رس"ہے جو سڑک کنارے ٹھیلوں پر فروخت ہوتا ہے۔ گاہک کے آنے پر ٹھیلے والا تازہ رس نکال کر پیش کرتا ہے جس میں ذرا سی ادرک، لیموں، نمک وغیرہ بھی شامل کی جاتی ہیں۔ یہاں ہم آپ کو پاکستانی کی چند دیگر قومی اشیاءکے بارے میں بھی بتاتے چلیں کہ پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض، قومی درخت دیودار، قومی پھول چنبیلی، قومی پرندہ چکور، قومی جانور مار خور اور قومی کھیل ہاکی ہے۔
     


    0 0

    پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے کہا ہے کہ ملک کے تمام دشمن یکجا ہو کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں مگر وہ ہمیشہ اپنی کوششوں میں نا کام رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جس پر کوئی بری نظر ڈالنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کسی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ پاک فضائیہ اور مسلح افواج، عوام کے ساتھ مل کر دشمن ممالک کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیں گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان کا اشارہ پاکستان کے روائتی حریف بھارت اور اسرائیل کی جانب تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نے حال ہی میں بھارت کا دورہ بھی کیا اور دفاع سمیت کئی شعبوں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے۔

    ائیر چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاک فضائیہ اپنے پیشروؤں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ وارانہ مہارت کی بدولت مادر وطن کی فضائی سرحدوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ نے ان خیالات کا اظہار 1974 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے میں شریک کموڈور ریٹائرڈ ستارعلوی کو خراج پیش کرنے کے لیے ہونے والی تقریب میں کیا۔ کموڈور ستار علوی نے شامی فضائیہ کی طرف سے جنگ میں حصہ لیتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج طیارے کو دوران جنگ مار گرایا تھا۔ تقریب میں ستار علوی نے مار ے جانے والے اسرئیلی پائلٹ کیپٹن لٹز کے فلائنگ کوور آل (سوٹ) کو پی اے ایف میوزیم میں رکھنے کے لئے بھی پیش کیا۔

    ائیر چیف نے ائیر کموڈور ستار علوی (ریٹائرڈ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم لڑاکا ہواباز ہیں جنہوں نے 1974ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران شامی فضائیہ کے مگ۔21 میں پرواز کرتے ہوئے اسرائیلی فضائیہ کے میراج ائیر کرافٹ کو تباہ کیا تھا اور وہ یہ تاریخی کارنامہ سرانجام دینے والے دنیا کے واحد پائلٹ ہیں۔ اس بہادری پر انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ جرأت اور شامی حکومت کی جانب سے انہیں تمغہ فارس اور تمغہ شجاعت کے اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ تقریب میں پاک فضائیہ کے ریٹائرڈ اور حاضر سروس افسران ، شہداء کے لواحقین اور کراچی سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے شرکت کی۔
     


    0 0

    سابق ایس ایس پی راؤ انوار کے گرد گھیرا تنگ کر تے ہوئے ان کے جعلی پولیس مقابلوں کی تحقیقات کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی، جس میں ہوم سیکریٹری، آئی جی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
    درخواست گزار مزمل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس افسر راؤ انوار اب تک 250 افراد کو قتل کر چکا ہے اور اب تک کسی ایک پولیس مقابلے کی آزادانہ تحقیقات نہیں کرائی گئیں۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ راؤ انوار نے دوران ملازمت اختیارات سے تجاوز کیا، وہ طویل عرصے سے ملیر میں ہی تعینات رہے اور جعلی پولیس مقابلوں کے باوجود اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
    درخواست گزار مزمل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ جعلی مقابلوں کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کا بورڈ تشکیل دیا جائے۔

    مزمل ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ راؤ انوار کے اثاثوں کی بھی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ بھی تحقیقات کرائی جائے کہ انہوں نے دبئی میں جائیدادیں کیسے بنائیں۔ راؤ انوار کے خلاف دائر درخواست کے مزید مندرجات میں ان کی جانب سے 1992 سے 2018 تک معصوم شہریوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیے جانے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ مزمل ایڈووکیٹ کے مطابق راؤ انوار نے نہ صرف شہریوں کو قتل کیا بلکہ ان کے اہل خانہ سے رقم بھی بٹوری، مختلف مواقعوں پر شہریوں کی جانب سے راؤ انوار کے خلاف شکایات بھی کی گئیں مگر اعلیٰ پولیس افسران نے تحقیقات نہیں کرائیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ راؤ انوار کو متعدد بار معطل تاہم پھر بحال کیا گیا، تحقیقات کرائی جائیں کہ راؤ انوار کو شہریوں کو قتل کرنے کے احکامات کون دیتا رہا ہے۔
     


    0 0

    پاکستان ایک مرتبہ پھر جی 2018 کے لیے جنیوا میں 77 گروپ اور چینی گروپ برائے ترقی پذیر ممالک کا سربراہ اور نمائندہ ملک بن گیا۔ تنزانیہ سے تعلق رکھنے والے سفیر جیمز ایلکس سیکیلا نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی (یو این سی ٹی اے ڈی) کے سیکریٹری جنرل مخیسہ کتوئی اور دیگر حکام کی موجودگی میں جی 77 گروپ کی سربراہی پاکستانی سفیر فرخ عامل کے لیے چھوڑ دی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفود کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے خطرات کے پیش نظر بنایا جانے والا اتحاد اب پہلے سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جینوا میں یو این سی ٹی ڈی میں منعقدہ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرخ عامل نے جی 77 میں نئی توانائی دینے کی ضرورت پر زور دیا ، جہاں اقوامِ متحدہ کو بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک پر زور دیا کہ وہ نئی ٹیکنا لوجی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہیں حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کا اقتصادی اور معاشی ترقی میں نمایا کردار ہے۔
     


    0 0

    سولہ سال کی جنگ کے باجود افغانستان میں ناکامی نے موجودہ امریکی قیادت کو جس بوکھلاہٹ میں مبتلا کر رکھا ہے، اس کے مظاہر مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی نائب وزیر خارجہ جان سلیوان کی طرف سے افغانستان میں امریکی ناکامی کا الزام دہشت گردوں کی سرپرستی اور ان کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے پاکستان پر عائد کیے جانے کا ہے جس کی تائید اجلاس میں موجود بھارتی اور افغان مندوب نے بھی کی ۔ تاہم پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بڑی فراست اور چابکدستی کے ساتھ امریکہ کو آئینہ دکھاتے ہوئے اس کی ناکامی کے اصل اسباب کو واضح کیا ۔ 

    جان سلیوان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکہ کی موجودہ حکمت عملی کی وضاحت ان الفاظ میں کی کہ ’’افغان افواج کے لیے مستحکم بین الاقوامی حمایت کے ساتھ حکومت افغانستان کی قیادت میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوشش طالبان پر واضح کرے گی کہ میدان جنگ میں فتح حاصل نہیں کی جا سکتی لہٰذا مسئلے کا سیاسی حل ضروری ہے۔‘‘ امریکی نائب وزیر خارجہ نے طالبان کو تنہا کرنے اور ان کی آمدنی اور ہتھیاروں کے ذرائع کو منقطع کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کا اظہار کیا۔ بھارتی مندوب نے اجلاس میں دعویٰ کیا کہ بھارت افغانستان میں امن،استحکام اور ترقی کے لیے دوسرے ملکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جبکہ افغانستان کے نمائندے نے اس امر پر اظہار اطمینان کیا کہ عالمی برادری اب اس حقیقت کا بہتر ادراک کر رہی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل میں پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی ہے۔

    تاہم پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستان کے خلاف اس سہ طرفہ گولہ باری کا مسکت جواب دیا اور الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے یہ حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا کہ افغانستان اور اس کے اتحادیوں خصوصاً امریکہ کو تنازع کے خاتمے کے لیے دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے افغانستان کے اندر موجود چیلنجوں سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے اس حقیقت کی نشان دہی کی کہ افغانستان کے وسیع علاقے پر آج بھی طالبان کا مکمل کنٹرول ہے اور منشیات کے کاروبار کی شکل میں انہیں بڑے پیمانے پر مالی وسائل بھی حاصل ہیں۔ اس لیے انہیں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ۔ جبکہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہونے کی بناء پر اس مسئلے سے نمٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور اس کے مثبت نتائج دنیا کے سامنے ہیں۔ 

    پاکستان نے کئی عشروں سے تیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کا بوجھ بھی اٹھا رکھا ہے جن کے کیمپوں میں دہشت گردوں کے پناہ لینے کے امکانات موجود ہیں، اس لیے افغان مہاجرین کی وطن واپسی میں افغانستان اور امریکہ سمیت پوری عالمی برادری کو پاکستان سے تعاون کرنا چاہیے۔ بلاشبہ ان حقائق کی موجودگی میں افغانستان میں طالبان کی مزاحمت کے ختم نہ ہونے کا الزام پاکستان پر عائد کرنا ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا بنیادی نکتہ ہی یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی ناکامی کی ساری ذمہ داری پاکستان پر عائد کر کے امریکیوں کو مطمئن کیا جائے لیکن حقائق کو جھٹلانے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔

    امریکہ آج طالبان کو بزور قوت مذاکرات کی میز پر لانے کی ضرورت کا اظہار کر رہا ہے تاہم ماضی میں کئی بار جب پاکستان ، چین اور دوسرے ملکوں کی کوششوں سے طالبان مذاکرات پر آمادہ ہوئے تو ایسے ہر موقع پر امریکہ نے ڈرون حملوں اور دیگر طریقوں سے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا۔ اب امریکہ ایک بار پھر طاقت کے بل پر طالبان کو مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے سولہ سال کی ناکام جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان ، چین ، روس اور ایران جیسے ملکوں کی کوششیں اسی وقت باور ہو سکتی ہیں جب امریکہ الزام تراشی کے بجائے حقائق کی بنیاد پر مسئلے کو حل کرنے پر آمادہ ہو اور تمام فریقوں کے ساتھ مخلصانہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا سیاسی حل تلاش کرے۔

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق راؤ انوار کے این او سی پر شک کے باعث انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ دستاویزات میں 20 جنوری کو جاری کیا گیا سندھ حکومت کا این او سی بھی تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ نے راؤ انوار کی دستاویزات کو شک کی بنا پر مسترد کر دیا گیا، راؤ انوار نے اپنی سفری دستاویزات ایک ساتھی کے ذریعے ایئرپورٹ بھجوائیں۔ دوسری جانب شاہ لطیف ٹاؤن پولیس مقابلے میں نقیب محسودکےساتھ دیگر 3 ملزمان کی ہلاکت کی بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں ۔  ڈی آئی جی ایسٹ سلطان خواجہ نے تینوں ملزمان کے کرمنل ریکارڈ کے لیے پنجاب، بلوچستان، کے پی، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اوراسلام آباد کے آئی جیز کے نام خط لکھ دیا جبکہ سندھ کےتمام ڈی آئی جیز کو بھی تینوں ملزمان سے متعلق معلومات دینے کا کہا گیا ہے۔

    مقابلےمیں مارے گئے نذرجان اور نسیم اللہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے رہنے والے تھے۔ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے میں 27 سالہ نوجوان نقیب اللہ محسود سمیت چار ملزمان کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے نقیب اللہ کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ نقیب محسود کے اہل خانہ نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دے دیا تھا جس کے بعد نوجوان کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور چیف جسٹس پاکستان نے بھی معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا.

    جبکہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ راؤ انوارنے سینٹرل پولیس آفس میں انسانی حقوق کمیٹی اور آئی جی سندھ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا جبکہ انہیں ایس پی انویسٹی گیشن ٹو کے دفتر میں بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے مگر وہ وہاں بھی پیش نہیں ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دیا گیا اور پولیس پارٹی کے سربراہ راؤ انوار کو معطل کرکے گرفتار کرنے اور نام ای سی ایل میں ڈالنے کی بھی سفارش کی گئی تھی۔

     


    0 0

    قبائلی نوجوان نقیب اللہ کی ماورائے عدالت ہلاکت میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے نجی عقوبت خانوں کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف سہراب گوٹھ میں احتجاجی و تعزیتی کیمپ لگایا گیا۔ راؤ انوار کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل دیگر بے گناہ نوجوانوں کے لواحقین اور مظالم کا شکار افراد بھی تعزیتی کیمپ پہنچ گئے۔ متاثرین اسٹیج پر پہنچے اور پولیس مظالم کی داستان سناتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ متاثرین نے بتایا کہ راؤ انوار نے انہیں اغوا کر کے رہائی کے عوض لاکھوں روپے تاوان کا مطالبہ کیا، انہیں 25 دن غیرآباد علاقے میں قید رکھا گیا، راؤ انوار نے گڈاپ میں اپنے نجی عقوبت خانے بنا رکھے ہیں۔
    ادھر جرگے نے نقیب اللہ قتل کی جوڈیشل انکوائری کروانے کے لئے حکومت کو 3 دن کا الٹی میٹم دے دیا۔ جرگے کے مطابق اگر 3 دن میں جوڈیشل انکوائری شروع نہ ہوئی تو سپر ہائی وے پر دھرنا دے دیا جائے گا۔ نقیب اللہ محسود کے والد سمیت دیگر اہل خانہ بھی قبائلی علاقے وزیرستان سے کراچی پہنچ گئے ہیں اور آج مقدمہ درج کروائیں گے۔ ذرائع کے مطابق سہراب گوٹھ یا شاہ لطیف ٹاؤن تھانے میں مقدمہ کروایا جا سکتا ہے۔ مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے اور نقیب کے اغوا اور قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی جائیں گی۔

    دوسری جانب پولیس حکام نے شاہ لطیف ٹاؤن مقابلے میں نقیب اللہ کے ساتھ جاں بحق دیگر 3 ملزمان کے بارے میں بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مقابلے میں مارے گئے نذر جان اور نسیم اللہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کے جبکہ محمد اسحاق بہاولپور کے نواحی علاقے احمد پور شرقیہ کا رہائشی تھا۔ واضح رہے کہ 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مبینہ پولیس مقابلے میں 4 نوجوانوں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن میں کراچی میں کپڑوں کا تاجر نقیب اللہ بھی شامل تھا۔ راؤ انوار کو واقعے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔
     


    0 0

    گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کے ایک اور پروگرام میں نہیں جا رہا۔ رواں مالی سال عالمی بینک سے 4 ارب ڈالر جبکہ اے ڈی بی سے 2 ارب ڈالر آنے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے زرمبادلہ کی صورتحال پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو ان کیمرہ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال درآمدات کو کنٹرول نہیں کر پائے ۔  چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کیمرہ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ نے بتایا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال تسلی بخش ہے اور قومی قرضہ کم اور غیرملکی قرضہ بڑھا رہے ہیں ۔ سلیم ماونڈوی والا نے کہا کہ جو کہ انتہائی خطر ناک بات ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ درآمدات کو کنٹرول نہیں کر پائے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ گزشتہ 2 سالوں کے دوران غیر ملکی ائیر لائن نے پاکستان سے ڈیڑھ ارب ڈالر کمائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ غیر ملکی ائیر لائن کو اوپن اسکائی دینے سے ملکی پیسہ باہر جا رہا ہے ، کچھ تو کنٹرول ہونا چاہیے اس موقع پر آئندہ اجلاس میں تمام ائیر لائن کا پاکستان میں ڈیٹا مانگ لیا۔ اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ جولائی 2018 سے ملک بھر میں 100 روپے اور اس سے اوپر کے نوٹوں کو چیک کرنے کے لیے مشینیں نصب کر دی جاہیں گی۔

     


    0 0

    زینب قتل کیس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس ایک جیکٹ کی مدد سے مبینہ قاتل عمران تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی جب کہ ملزم کی والدہ نے بیٹے کی گرفتاری میں مدد بھی کی۔ پنجاب کے شہر قصور میں 4 جنوری جمعرات کی شب 7 سالہ زینب کو اغوا کیا گیا اور پھر زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا جبکہ بچی کی لاش 9 جنوری کی شب کچرا کنڈی سے ملی۔ 23 جنوری کو ملزم عمران علی کو گرفتار کرلیا گیا جس کا ڈی این اے بھی قاتل کے ڈی این اے سے میچ ہو گیا ہے۔ ڈی این اے رپورٹ کے مطابق 24 سالہ ملزم عمران علی نہ صرف زینب بلکہ اس سے پہلے بھی اغوا ہونے والی 7 بچیوں کے قتل میں ملوث ہے۔ کیس کی کچھ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ پولیس نے کیسے قاتل کا سراغ لگایا۔ بی بی سی سے گفتگو کرنے والے تحقیقاتی ٹیم کے ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ قصور میں قاتل کی تلاش ایسی تھی جیسے بھوسے کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنا۔

    پہلے تخمینہ لگایا گیا کہ شہر کی آبادی 30 لاکھ ہے جس میں خواتین اور بزرگوں کے نکالنے کے بعد 60 سے 70 ہزار افراد تفتیش کے دائرے میں آتے ہیں۔ تفتیشی اداروں نے 1100 سے زائد افراد کا ڈی این اے کیا اور 814 ویں نمبر پر کیا گیا ڈی این اے قاتل کے ڈی این اے سے میچ کر گیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آئی جس میں بچی قاتل کے ساتھ جا رہی تھی اور ملزم نے جیکٹ پہنی تھی جس کے کندھوں پر سامنے کی جانب دو بڑے بٹن لگے تھے جو فوٹیج میں چمک رہے تھے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ فوٹیج میں جیکٹ کا رنگ سفید نظر آ رہا ہے جو اس کا اصل رنگ نہیں اور کوئی بھی گہرا رنگ ہو سکتا تھا۔ چھاپے کے دوران عمران علی کے گھر سے ایسی ہی ایک جیکٹ ملی جس کے دونوں بٹنوں کی مدد سے پولیس ملزم کی گردن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    ملزم کی والدہ نے بھی گرفتاری میں مدد کی۔ اس طرح ایک سیریل کلر اپنی مخصوص جیکٹ کی وجہ سے پکڑا گیا۔ آئی جی پنجاب نے خصوصی طور پر واقعے کی جے آئی ٹی میں ڈی پی او وہاڑی عمر سعید کو شامل کیا جنہیں اسی قسم کا کیس کم سے کم وقت میں حل کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ ملزم سے تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے مطابق ملزم نے بہت زیادہ پس و پیش نہیں کی اور اعتراف جرم کر لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم زیادہ چالاک اور ہوشیار نہیں تھا بلکہ اگر مقامی تھانے کی پولیس پہلے ہی اس کیس کو سنجیدگی سے لیتی اور درست لائن پر تفتیش کرتی تو شروع میں ہی پکڑا جاتا۔

    عمران علی نہ صرف سیریل کِلر یعنی قاتل ہے بلکہ ایک سیریل پیڈو فائل بھی ہے جو بچوں کے شدید جنسی استحصال میں ملوث ہے۔ ملزم کی والدہ اور چچا نے بتایا کہ انھیں ٹی وی پر فوٹیج دیکھنے کے بعد شک تو ہوا تھا کہ یہ ان کا اپنا بیٹا ہو سکتا ہے مگر کسی نے پولیس کو نہیں بتایا۔ ملزم نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ گرفتاری کے خوف سے بچوں کا گلا گھونٹ کر انہیں قتل کرتا تھا جبکہ اس نے پانچ بچیوں کو زیر تعمیر مکانوں میں ریپ کر کے قتل کیا اور لاش فوراً ہی ٹھکانے لگا دی۔

     


older | 1 | .... | 117 | 118 | (Page 119) | 120 | 121 | .... | 149 | newer