Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 112 | 113 | (Page 114) | 115 | 116 | .... | 149 | newer

    0 0

    سیالکوٹ کے گاؤں جیٹھیکے پہنچی تو ایک مقامی شخص سے پوچھا کہ اسلم کا مکان کون سا ہے جن کا بیٹا بلوچستان کے واقعے میں محفوظ واپس لوٹا ہے؟
    اس پر ادھیڑ عمر شخص نے جواب میں پوچھا کہ ’وہ کمہار کا گھر؟‘ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر کہا: ’تھوڑا آگے جائیں، ایک کھمبے کے پاس دائیں کو مڑ جائیں اور کسی سے پوچھ لیں تو وہ بتا دے گا۔‘ کمہار چند دہائیاں پہلے تک قِسم قِسم کے برتن بنانے کے فن میں مہارت سے پہچانے جاتے تھے، مگر پھرمٹی کے برتنوں کی جگہ المونیم اور سٹیل نے لے لی تو کوزہ گری کا یہ فن بھی ماضی کا قصہ بن گیا۔

    تنگ سی گلی میں داخل ہوں تو پہلے اسلم کمہار کا کرائے کا مکان ہے جہاں آج عید کی سی خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اسی مکان سے کچھ فاصلے پر قیصر محمود کا کچی اینٹوں کا مکان بالکل الگ احساس دے رہا ہے۔ یہاں کی فضا سوگوار ہے۔ دونوں گھروں میں فاصلہ زیادہ نہیں لیکن خوشی اور غمی مختلف انتہاؤں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں تربت کے قریب گذشتہ ہفتے پیش آنے والے وہ دو واقعات جن میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ان کے تانے بانے انھی غربت کے مارے علاقوں سے ملتے ہیں۔

    ہلاک ہونے والوں میں قیصر محمود کا 17 سالہ بیٹا ماجد گھمن شامل ہے، اور بچ جانے والوں میں اسلم کا 16 سالہ بیٹا حیدر علی ہے جو آج ہی گھر لوٹا ہے۔ ماجد گھمن اور حیدر علی سمیت اس گاؤں کے تین لڑکے اُس قافلے کا حصہ تھے جسے حکام کے مطابق مبینہ طور پر 'بلوچ علیحدگی پسندوں نے نشانہ بنایا۔' یہ تمام افراد روز گار کی تلاش میں کچھ ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طور پر ترکی اور یونان جا رہے تھے اور انھیں پہلے مرحلے میں بلوچستان کے راستے ایران میں داخل ہونا تھا۔ اس مقصد کے لیے صوبے کے انتہائی غیر محفوظ علاقے کا انتخاب کیا گیا۔

    حیدر علی معجزانہ طور پر بچ گئے۔ اوپر تلے کئی قمیضیں پہنے حیدر علی کی آواز بات کرتے ہوئے کپکپا رہی تھی۔ حیدر علی کے مطابق انھیں بیرون ملک پہنچانے کے وعدے کرنے والا ایجنٹ اس سفر کے دوران کہیں بھی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ کوئٹہ پہنچنے پر بعض نقاب پوش افراد نے انھیں اپنے ساتھ لیا اور پنجگور آ گئے۔ پنجگورمیں انھیں کسی دوسرے نقاب پوش گروہ کے حوالے کیا گیا۔ یہاں 15 نوجوانوں پر مشتمل ایک اور قافلہ پہلے سے موجود تھا۔ 'ہمارے چہروں پر کپڑا چڑھا دیا گیا، سامان اور موبائل فون لے لیا، مارتے پیٹتے ہم سب کو آپس میں مکس کر دیا گیا اور 15، 15 افراد کے دو قافلے تیار کر کے دو ڈالوں (ایسی بڑی گاڑی جس کی پچھلے حصے پر چھت نہ ہو) میں لاد دیا۔‘ یہ بتاتے ہوئے حیدر علی کی آنکھوں میں خوف مزید گہرا اور زبان لڑکھڑانے لگی۔

    یہی وہ وقت تھا جب حیدر علی اپنے جگری دوست ماجد گھمن سے جدا ہوا۔ مگر یہ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ 'ایران کی سرحد پار کرنے'تربت کی جانب روانہ ہوئے۔
    حیدر علی کے مطابق ان کی آنکھیں اور چہرہ ڈھانپ دیا گیا تھا اور انھیں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہ کس علاقے میں ہیں۔ 'اچانک ڈالا رکا اور یہ سمجھ آئی کہ شاید کوئی خرابی ہو گئی ہے، ڈرائیور اور دوسرے لوگ اس سے اتر گئے۔'حیدر علی کہتے ہیں کہ دوسری گاڑی ان سے کچھ فاصلے پر تھی۔ 'ایک دم شدید فائرنگ کی آواز آئی، یہ بہت قریب سے آ رہی تھی، ہم نے گاڑی سے چھلانگ لگائی اور بھاگنے لگ گئے، وہ رات کا وقت تھا اور میں نہیں جانتا کہ میں کس طرف بھاگ رہا تھا، اور باقی سب کہاں گئے، زندہ بھی تھے یا نہیں۔'

    حیدر علی کے مطابق وہ رات بھر انجانی سمت میں بھاگتے رہے اور بالآخر چائے کے ایک کھوکھے پر پہنچے جہاں ایک پٹھان نے اس وقت ان کی مدد کی۔ 'پٹھان ہمیں بس اڈے پر لایا اور گاڑی پر بٹھایا، میرے ساتھ گوجرخان کا ایک لڑکا تھا، ہم وہاں سے کوئٹہ آئے اور گھر اطلاع دی کہ ہم واپس آ رہے ہیں۔'تب حیدر علی نہیں جانتے تھے کہ ان کے ساتھ بیرون ملک جانے والے دیگر افراد زندہ ہیں یا نہیں۔
    دوسری جانب ماجد گھمن کے گھر سوگ کا عالم ہے۔ ان کے والد قیصر محمود گھر کے باہر خالی پلاٹ میں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ 'سوچا تھا یہ بیٹا ملک سے باہر جائے گا تو غربت بالآخر ختم ہو گی۔'

    قیصر محمود گاؤں ہی میں کسی کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک اور بیٹا دبئی میں ہے 'جس کے پیسوں سے کچا گھر کھڑا کیا ہے۔' 13 نومبر کے بعد ماجد گھمن کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا جب دو روز تک رابطہ نہ ہوا تو انھوں نے ایجنٹ کو فون کیا۔ ماجد کی والدہ بتاتی ہیں کہ 'ایجنٹ نے ہمیں یہ بتایا کہ ہمارے بچے پولیس نے گوادر میں گرفتار کر لیے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے مزید رقم چاہیے۔'ان کے مطابق ایجنٹ نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے بچے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ یہ رابطہ 15 نومبر کو ہوا جب ان افراد کی لاشیں تربت سے مل چکی تھیں۔

    مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ایجنٹ غیر قانونی طور پر باہر لے جانے اور سنہرے مستقبل کا جھانسہ دے کر غریب گھروں کے ان بچوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیتے ہیں۔ 'یہ ایجنٹ شاید ان نوجوانوں کو کسی اور گروہ کو فروخت کرتے ہیں اور خرید و فروخت کا یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک یہ افراد یورپ پہنچ جائیں یا پھر سرحد پار کرنے کی کوشش میں گرفتار کر لیے جائیں۔' ان کے خیال میں ایجنٹ دیگر گروہوں سے قیمت وصول کرنے کے ساتھ ساتھ غریب اہل خانہ سے بھی مختلف بہانوں سے رقم بٹورتے رہتے ہیں۔

    خیال رہے کہ پنجاب سے بڑی تعداد میں نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے اور انتہائی غربت کی وجہ سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہاں غیرقانونی طور پر ملک سے باہر لے جانے والے ایجنٹ زیادہ تر لوگوں سے 'ایڈوانس رقم لیتے ہیں جو ایک سے دو لاکھ کے درمیان ہوتی ہے۔' تاہم بعض اوقات ایجنٹ وقتی طور پر نصف رقم لیتے ہیں اور باقی رقم یہ کہہ کر وصول کرتے ہیں کہ باہر جانے والے فرد گرفتار یا اغوا ہو گیا ہے، رہائی یا بازیابی کے لیے رقم درکار ہو گی۔'مقامی انتظامیہ کے مطابق پنجاب کے صرف اِس ایک گاؤں کے 40 فیصد سے زائد نوجوان غیرقانونی طور پر دیگرممالک میں مقیم ہیں۔

    زندہ واپس آنے والے حیدر علی کے مطابق وہ کل 30 لوگ تھے۔ جن میں سے 20 کی لاشیں سیکیورٹی فورسز کو دو مختلف علاقوں سے ملی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق تربت کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر جمیل احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ 15 افراد کو قتل کرنے کے بعد 'پانچ لڑکوں کو ممکنہ طور پر اغوا کیا گیا تھا جنھیں دو دن بعد مار دیا گیا۔‘ یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ان ٹرالوں میں لدے باقی آٹھ افراد کہاں ہیں۔

    فرحت جاوید
    بی بی سی اردو، اسلام آباد
     


    0 0

    پاکستان کی قومی اسمبلی میں نااہل شخص کو پارٹی سربراہی سے روکنے کے لیے پیش کیا گیا الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے مسترد ہو گیا۔ ترمیم کے حق میں 98 جبکہ مخالفت میں 163 ارکان نے ووٹ دئیے۔ ن لیگ نے ایوان میں بھر پو طاقت کا مظاہرہ کیا تاہم سابق وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی نے اپوزیشن کا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے الیکشن ایکٹ 2017 کے آرٹیکل 203 میں ترمیم کا بل پیش کیا جس کے تحت نااہل شخص کسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔

    پیپلزپارٹی نے بل پیش کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایک شخص جب تک پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود ممبر اسمبلی بننے کا اہل نہ ہو، نا اہل شخص باہربیٹھ کر سربراہ کے طور پر پالیسی ڈکٹیٹ کرے تو مناسب نہیں۔ اگرچہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان پارلیمان کی تعداد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد سے کم تھی تاہم حکمراں جماعت کو اپنے ارکان کی غیر حاضری کا مسئلہ بھی درپیش تھا لیکن آج قرارداد مسترد ہونے کی صورت میں وہ حل ہو گیا۔ حزب اختلاف کی جماعتیں الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 203 میں ترمیم چاہتی ہیں جس کا مقصد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور نااہل وزیراعظم نواز شریف کو جماعت کا سربراہ بننے سے روکنا ہے۔

    یاد رہے کہ رواں سال پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا تھا تاہم پاکستان مسلم لیگ ن الیکشن ایکٹ 2017 سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور کروانے میں کامیاب رہی جس کے بعد وہ سابق وزیراعظم کا اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ کا عہدہ برقرار رہا۔ اس سے قبل کوئی بھی نااہل شخص کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا تھا۔

     


    0 0

    لاپتہ افراد کا مسئلہ پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سیاہ دھبہ تھا جو اب 16 سال بعد سیاہ صفحے پر محیط ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر کردہ عرضداشتوں کی سماعت کے دوران خیبر پختون خواہ اور وفاق کے نمایندے پیش ہوئے مگر ان حکومتوں کے نمایندوں کی فائلوں میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تسلی اور تشفی کے لیے کچھ نہیں تھا، معزز جج صاحبان غصے کے سوا کچھ اور نہ کر سکے۔ سینیٹ میں پیپلزپارٹی کے فعال رکن سنیٹر فرحت اللہ بابر نے کوئٹہ میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں لاپتہ افراد کے موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیا جانے والا کمیشن اپنے اہداف کے حصول میں ناکام ہو چکا ہے، لہذا نیا کمیشن قائم کیا جائے۔

    لاپتہ افراد کی اصطلاح یوں تو بہت پرانی ہے مگر نئی صدی کے آغاز کے بعد سے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں، سماجی کارکنوں اور طالب علموں وغیرہ کے اچانک لاپتہ ہونے کے بعد یہ اصطلاح استعمال ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ نامعلوم افراد چار دروازوں والی ڈبل کیبن گاڑیوں میں آتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ افراد راتوں کو گھروں میں آتے ہیں اور متعلقہ افراد کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کو حراست میں لینے سے انکار کرتے ہیں، پھر ان افراد کے لواحقین متعلقہ ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی عرضداشتیں دائر کرتے ہیں۔
    معزز عدالتیں وفاق کی وزارت داخلہ اور صوبوں کے افسروں کو طلب کرتی ہیں۔ یہ سب لوگ ان افراد کی گرفتاری سے انکار کر دیتے ہیں تو پھر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ان افراد کو نامعلوم افراد نے اغواء کیا ہے۔ افتخار چوہدری سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے تو انھوں نے ازخود کارروائی کے اصولوں کے تحت لاپتہ افراد کے لواحقین کی عرضداشتوں کی سماعت کی تو وزارت داخلہ نے اپنا جواب داخل کیا۔ وزارت داخلہ نے اپنے جواب میں ان افراد کی فہرست پیش کی جو مختلف نوعیت کے حفاظتی مراکز میں بند ہیں۔

    ان میں سے کچھ لوگ وزارت داخلہ کی رپورٹ جمع کرانے سے پہلے اپنے گھروں کو پہنچ گئے، کچھ کو سرکاری طورپر بازیاب کرایا گیا اور کچھ لوگوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ بیرونِ ملک چلے گئے، خاص طور پر اس فہرست میں شامل کچھ لوگوں نے افغانستان جانے کی تصدیق کی۔ معزز عدالت نے اپنے سابق جج جسٹس جاوید اقبال کو سندھ ہائی کورٹ کے ایک اور سابق جج جسٹس غوث محمد اور سابق انسپکٹر جنرل پولیس پر مشتمل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کمیشن کے پاس عدالتوں کی طرح توہین عدالت کا اختیار نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کا کوئی معزز جج اس کمیشن کی نگرانی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس بناء پر کمیشن کا قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں پر دباؤ ڈالنا خاصا مشکل تھا مگر کمیشن کے اراکین نے ذاتی طور پر کوشش کی اورکچھ افراد بازیاب ہوئے اورکچھ کے بارے میں نئے حقائق سامنے آئے مگر مجموعی طور پر کمیشن لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا۔ اس صدی کے آغاز پر جب بلوچستان میں مری قبیلے میں سیاسی بے چینی پھیلی اور جسٹس نوازمری کا قتل ہوا تو مری قبیلے کے بعض افراد کے اغواء اور ان کی عدم بازیابی کی خبریں شایع ہوئیں۔ خیبر پختون خواہ سے القاعدہ اور طالبان سے منسلک بعض افراد کے لاپتہ ہونے کی خبریں شایع ہونے لگیں اور یہ سلسلہ پنجاب اور سندھ تک پھیل گیا۔ سندھ میں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کے علاوہ ایم کیو ایم کے کارکنوں کے لاپتہ ہونے کی خبریں شایع ہونے لگیں۔

    بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد دیگر صوبوں سے آ کر بلوچستان میں آباد ہونے والے اساتذہ، ڈاکٹروں، صحافیوں، وکلاء اور خواتین وغیرہ کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی اور بلوچ سیاسی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا کوئٹہ اور دیگر شہروں کے مضافاتی علاقوں سے ملنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایسی ہی صورتحال کراچی میں ایم کیو ایم کے لاپتہ ہونے والے کارکنوں کے ساتھ بھی ہوئی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ بین الاقوامی میڈیا میں اجاگر ہونے لگا۔ بلوچ قوم پرست ماما قدیر نے اپنے بیٹے کے اغواء اور اس کی مسخ شدہ لاش ملنے کے بعد لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پہلے کوئٹہ اور پھر کراچی میں بھوک ہڑتال کی اور اسلام آباد تک مارچ کیا۔ انسانی حقوق کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیموں نے اس مارچ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا جس کی بناء پر جینیوا میں ہونے والی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے ایجنڈے میں یہ مسئلہ شامل کیا گیا۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی بعض رکن ممالک نے پاکستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے کا بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے موازنہ کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انسانی حقوق کونسل میں پاکستان مخالف لابی کو بھرپور استعمال کیا گیا۔ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بین الاقوامی ایجنڈا بن گیا ۔ مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کو سپریم کورٹ نے جب پاناما کیس میں نااہل قرار دیا تو ان کی قومی اسمبلی کی لاہور کی نشست خالی ہو گئی۔ اس نشست پر ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے انتخاب میں حصہ لیا۔ کلثوم نواز کے غیر موجود ہونے کے باوجود انتخاب میں کامیاب ہوئیں تو اسی شام نواز شریف نے لندن میں الزام لگایا کہ لاہور کے حلقہ 120 میں کام کرنے والے کئی مسلم لیگی کارکنوں کو انتخاب کی رات اغواء کر لیا گیا۔ میاں صاحب کا کہنا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد ان لوگوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ لاہور میں مسلم لیگی رہنماؤں نے تصدیق کی کہ ان کے 6 کارکن لاپتہ ہوئے تھے اور وہ اب واپس گھروں کو آگئے ہیں ۔

    پنجاب سے مسلم لیگی کارکنوں کے اغواء نے لاپتہ افراد کے مسئلے کو مزید سنگین کر دیا۔ سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کراچی میں ایک نشست میں اقرار کیا کہ سینیٹ اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی۔ 60 ء اور 70ء کی دہائی میں جب لاطینی امریکا کے ممالک میں امریکا نواز حکومتوں کے خلاف کمیونسٹوں کی مزاحمتی تحریکیں مضبوط ہونے لگی تھیں تو پھر ان فوجی حکومتوں نے کمیونسٹوں اور ان کے حامیوں کو اغواء کرنا شروع کیا تھا، امریکی حکمت عملی کے تحت کیوبا میں آنے والے انقلاب کو لاطینی امریکا کے دیگر ممالک میں روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    ہٹلر نے ہزاروں لوگوں کو اغواء کر کے ہلاک کیا اورکنسرٹیشن کیمپوں میں بند کیا تھا۔ ان کیمپوں کی درد ناک داستانوں نے ایک نئے ادب کو تخلیق کیا تھا. مگر پاکستان میں اب ریاستی ادارے 1973ء کے آئین کے تحت فرائض انجام دے رہے ہیں، عدالتیں آزاد ہیں اور پارلیمنٹ قانون سازی کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے سول اور پولیٹیکل رائٹس کنونشن پر دستخط کیے ۔ پاکستان کی حکومت اس کنونشن پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ اس صورتحال میں لاپتہ افراد کا معاملہ پاکستانی ریاست کے چہرے کو دھندلا کر رہا ہے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کی یہ بات درست ہے کہ موجودہ کمیشن متوقعہ نتائج حاصل نہیں کر سکا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نیب کے سربراہ مقرر ہو چکے ہیں اس صورتحال میں جاوید اقبال کو ایک قانون کے تحت بااختیار کمیشن قائم کرنا چاہیے جو اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچا سکے۔

    ڈاکٹر توصیف احمد خان
     


    0 0

    قومی اسمبلی میں عددوں کا کھیل (نمبرز گیم) تو مسلم لیگ ن جیت گئی لیکن حکمران جماعت کے بعض حلقوں میں آج بھی یہ سوال زیر بحث ہے کہ نواز شریف نے جو بڑی سیاسی لڑائی چھیڑ رکھی ہے اس میں آخری فتح کس کی ہو گی؟ نواز شریف کو پارٹی سربراہی کے لیے نا اہل قرار دینے کا قانونی مسودہ پیپلز پارٹی نے جب قومی اسمبلی میں جمع کروایا تو مسلم لیگ کے بعض مخالفین جن میں عمران خان سمیت بعض سیاسی رہنما اور کچھ سیاسی تجزیہ کار بھی شامل تھے، یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیے کہ مسلم لیگ ن کے درجنوں ارکان اسمبلی اجلاس میں آئیں گے ہی نہیں اور آ بھی گئے تو نواز شریف کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔

    لیکن جب قومی اسمبلی کے اہلکاروں نے ارکان کا حاضری لگائی تو پتہ چلا مسلم لیگ ن کے 188 میں سے 165 ارکان اسمبلی ہال میں موجود تھے۔ ان میں سے 159 نے نواز شریف کے حق میں ووٹ بھی دے دیا۔ ان سات میں سے بعض ارکان اور وزرا اجلاس کی طوالت کی وجہ سے اپنی دیگر مصروفیات کی وجہ سے اجلاس سے چلے گئے اور ووٹ میں حصہ نہ لے سکے۔ ن لیگ کی ایک رکن کلثوم نواز نے ابھی رکنیت کا حلف نہیں لیا باقی بچ گئے بائیس۔ ان میں سے بھی مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بیشتر لوگوں نے اپنی غیر موجودگی کی اطیمنان بخش وضاحت پیش کی جسے قبول کر لیا گیا۔

    لیکن مسلم لیگی ذرائع کے مطابق نصف درجن مسلم لیگی ارکان نے یا تو رابطہ نہیں کیا یا عدم حاضری کی "مشکوک"توجیح دی۔ نمبر گیم میں اس کامیابی پر مسلم لیگ ن اور اس کے قائد تو نہال ہوئے جاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سیاست سے نکالنے یا "مائنس"کرنے کی سازش ناکام ہو گئیں۔ مریم نواز نے اسے جمہوریت کے لیے بڑا دن قرار دیا کیونکہ ان کے بقول دھمکیوں کے باوجود ان کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی اور نواز شریف کو ووٹ دیا۔ ْ

    حزب اختلاف بھی اس معرکے کے بعد کچھ زخم خوردہ ہے۔ شیخ رشید کہتے ہیں حکومت نے تجوریوں کے منہ کھولے اور ارکان اسمبلی اور اربوں کے ترقیاتی فنڈز دے کر ان کی اس اجلاس میں شرکت یقینی بنائی۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد ان کی سیاسی اٹھان پر نظر رکھنے والے لوگ اس عددی اکثریت میں بہت سے اور معنی بھی دیکھ رہے ہیں۔ مثلاً پیپلز پارٹی کے رہنما اور زیرک سیاستدان اعتزاز احسن نے کہا کہ نواز شریف کی اس عددی اکثریت نے شکست پیپلز پارٹی کے پیش کردہ کاغذ کو دی لیکن اصل میں بساط شہباز شریف اور چوہدری نثار کی الٹی ہے۔ تفصیل بتاتے اعتزاز احسن کہتے ہیں کہ نواز شریف نے بتا دیا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے وہ لوگ بھی اپنے ساتھ ملا لیے ہیں جو گزشتہ کئی ماہ سے چوہدری نثار اور شہباز شریف کا دم بھرتے تھے۔

    اس عددی کامیابی اور اس کے ممکنہ دور رس اثرات کے باوجود مسلم لیگ ن کے بعض سینئر ارکان آج بھی تشویش کا شکار ہیں۔ نواز شریف کے قریب سمجھے جانے والے ایک مسلم لیگی رہنما کے مطابق نواز شریف نے رابطہ عوام مہم کا جو سلسلہ شروع کیا وہ اسے عام انتخابات تک لیجانا چاہتے ہیں تاکہ اس غصے کو ووٹ میں تبدیل کیا جا سکے۔ لیکن نواز شریف نے ان جلسوں میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلوں کو جس طرح سے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے اس کے پیش نظر مسلم لیگی رہنما بھی کچھ زیادہ پر یقین نہیں ہیں کہ نواز شریف اس مہم کو زیادہ طول دے پائیں گے۔

    سپریم کورٹ کی طرف سے رجسٹرار کی مسترد کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اس خدشے کے حق میں آنے والی تازہ دلیل ہے۔ یہ درخواست رکن قومی اسمبلی، پاکستان پیپلز پارٹی، شیخ رشید احمد اور جمشید دستی کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نا اہل شخص پارٹی سربراہ بھی نہیں ہو سکتا۔ یعنی جو لڑائی نواز شریف قومی اسمبلی کے ایوان میں عددی برتری کی وجہ سے اپنے تیئں جیت چکے ہیں، وہ دراصل ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

    آصف فاروقی
    بی بی سی اردو، ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    بوسنیائی سرب کمانڈر راتکو ملادچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہوں نے ان جرائم کا ارتکاب نوے کی دہائی میں بوسنیا کی جنگ کے دوران کیا تھا۔ ملادچ نے جنھیں بوسنیا کا قصائی کہا جاتا ہے 1995 میں ان فوجی دستوں کو کمانڈ کیا تھا جنھوں نے مشرقی بوسنیا کے شہر سربرینیتزا میں قتل عام کیا جس میں 7000 بوسنیائی مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔ اس کے علاوہ سرائیوو شہر کے محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زیادہ بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ اسے ہالوکاسٹ کے بعد یورپ کی سرزمین پر سب سے بڑا قتل عام کہا جاتا ہے۔

    یہ قتلِ عام بوسنیا کی جنگ کے اختتام سے چند ماہ قبل کیا گیا جب 20 ہزار مسلمان مہاجرین سرب فوجوں سے بچنے کے لیے سربرینیتزا آئے۔ ہیگ میں اقوام متحدہ کے ٹرایبیونل نے راتکو ملادچ کو 11 میں سے 10 الزامات میں مجرم قرار دیا۔ چوہتر سالہ ملادچ کو جب سزا سنائی گئی تو وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔ انھیں ججوں پر چیخنے کی وجہ سے عدالت سے نکال دیا گیا تھا۔ عدالت نے ملادچ کے وکیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے مقدمے کی کارروائی کو ملتوی کر دیا جائے۔

    1995 میں ہی جنگ ختم ہونے کے بعد ملادچ فرار ہو کر سربیا میں گمنامی کی زندگی گزارنے لگے۔ ان کے خاندان اور سکیورٹی فورسز کے کچھ لوگوں نے انھیں تحفظ فراہم کیا۔ ملادچ کو قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کا سامنا تھا لیکن وہ 16 برس تک انصاف کے کٹہرے سے بچتے رہے۔ بلآخر 2011 میں انھیں شمالی سربیا کے ایک دیہی علاقے میں پکڑ لیا گیا۔ عدالت میں فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر مظالم کا شکار ہونے والے کئی افراد اور ہلاک ہونے والوں کے رشتے دار بھی موجود تھے۔
     


    0 0

    اسلام آباد میں امن و امان کے قیام کے لیے فوج کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں، اس سلسلے میں وزارت داخلہ نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا جس کے تحت فوج کو غیر معینہ مدت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں جاری ان دھرنوں کی وجہ سے تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ مذہبی جماعت کی جانب سے 8 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ فوج طلب کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق فوج کی طلبی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کی گئی ہے تاہم فوجی اہلکاروں کی نفری کا فیصلہ ٹرپل ون بریگیڈ کے کمانڈر کریں گے۔

    فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا ختم کرنے کی آخری ڈیڈلائن گزرنے کے بعد پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی بھاری نفری نے علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ فیض آباد انٹر چینج سے پولیس اہلکار غائب ہو گئے جب کہ مظاہرین کے جتھے ایک مرتبہ پھر علاقے میں پہنچنا شروع ہو گئے۔ فیض آباد میں دھرنے کے مقام پر مظاہرین نے پولیس کی 14 گاڑیوں اور کئی موٹرسائیکلوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ اطراف کی تمام سڑکیں بھی بند کر دی گئیں۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے درختوں اور سامان کو بھی آگ لگا دی. دوسری جانب مذہبی جماعت کے قائدین نے اعلان کیا ہے کہ اب صرف ایک وزیر نہیں بلکہ پوری کابینہ کا استعفیٰ مانگا جائے گا.

    حکومت نے بھی اس حوالے سے مشاورت کا آغاز کر رکھا ہے اور رات گئے اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرداخلہ احسن اقبال نے کی۔ اجلاس میں پولیس کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ اسلام آباد میں طلب کی گئی فوج صرف حساس مقامات اور اہم عمارتوں پر ڈیوٹی سر انجام دے گی۔ فوج کی تعیناتی کا دھرنا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرے گی۔ حکومتی درخواست پر اسلام آباد کے حساس علاقوں میں فوج پہنچ چکی ہے، اور اہم عمارتوں پر ڈیوٹی سنبھال لی ہے۔ موجودہ صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہے اور جڑواں شہروں کے مکین موجودہ صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔

    ملک بھر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس دھرنے کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل چکا ہے، موٹروے اور جی ٹی روڈ بند ہیں۔ اسلام آباد میں ائیرپورٹ کے طرف جانے والا راستہ کورال چوک کے مقام پر رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا ہے۔ زیادہ تر شہروں میں مذہبی جماعت کے کارکنوں نے رکاوٹیں کھڑی کر کے شہروں کو بلاک کر دیا ہے۔ آخری اطلاعات تک یہ صورتحال ملک کے 87 شہروں تک پھیل چکی ہے جہاں سڑکیں بند ہونے سے ملک بھر میں عملی طور یر پہیہ جام ہو چکا ہے۔

    بشکریہ وائس آف امریکہ


    0 0

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ 12 سالوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے 2 ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس اور 2 ڈی آئی جیز سمیت 1268 سے زائد پولیس افسران اور اہلکار جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ہزاروں افسران اور اہلکار زخمی ہو گئے ہیں ۔ شہداء میں 2 ایڈیشنل آئی جیز ٗ2 ڈی آئی جیز ٗ6 ایس پیز، 19 ڈی ایس پیز ٗ24 انسپکٹرز اور 88 اے ایس آئی شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چار اگست 2010ء کو ایڈیشنل آئی جی اور کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور پشاور صدر اور 24 نومبر 2017ء کو اے آئی جی ہیڈ کواٹر اشرف نور حیات آباد میں خودکش حملوں میں شہید ہوئے۔

    سن 2006ء میں ڈی آئی جی بنوں عابد علی کوہاٹ روڈ پر متنی کے قریب حملہ آوروں کا نشانہ بنے جبکہ سابق سی سی پی او پشاور ملک محمد سعد 2007ء میں ساتویں محرم کو دالگراں میں خودکش بم حملے میں شہید ہوئے۔ اسی طرح گزشتہ بارہ سالوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی رورل پشاور خورشید خان ٗڈی پی او بنوں اقبال مروت ٗڈی پی او دیر خورشید خان سمیت 6 ایس پیز ٗ19 ڈی ایس پیز ٗ24 انسپکٹرز ٗ88 سب انسپکٹرز ٗ77 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز ٗ126 ہیڈ کانسٹیبلز اور 924 کانسٹیبلز جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔
     


    0 0

    گوادر پاکستان کے اقتصادی مستقبل کی کنجی ہے۔ یہیں سے دودھ اور شہد کی وہ بل کھاتی نہر شروع ہو گی جو 3 ہزار کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کر کے چین میں غائب ہونے سے پہلے پاکستان کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے پسماندگی کے آنسو بھی پونچھ لے جائیگی (ایسا کہا جاتا ہے)۔ گوادر جادوئی شہر ہے۔ پرویز مشرف دور کی کوسٹل ہائی وے نے 22 گھنٹے کا سفر 8 گھنٹے کا کر دیا چنانچہ گوادر تا کراچی آتے جاتے پہلے کی طرح بال سفید نہیں ہوتے۔ گوادر ابھرتے مستقبل کا شہر ہے۔ کوہِ بتیل پر ایستادہ پنج ستارہ ہوٹل دور سے یوں لگتا ہے گویا کسی کرین نے اٹھا کے پہاڑی پر دھر دیا ہو۔ آپ ہوٹل کے لان میں کھڑے کھڑے چینی نژاد گوادر پورٹ، سبز پانی اور کچے پکے شہر کو قدموں میں دھرا دیکھ سکتے ہیں۔

    گوادر چونکہ اسٹراٹیجک نکاح میں آنے کے بعد اقتصادی غیرت ہو گیا ہے لہذا فالتو کے مہمانوں کو تاک جھانک کی اجازت نہیں اور غیر ملکیوں کو تو بالکل بھی نہیں (اگر وہ چینی نہیں) اور غیر ملکی میڈیا کا تو خیر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
    ہمیں گوادر چاہئے اور ایک لاکھ گوادریوں کو پانی چاہئیے۔ کیا آپ نے کبھی ایسے شہر کا تذکرہ سنا جس کے 3 طرف سمندر، اطراف میں کھارے پانی کو میٹھا بنانے کے 2 پلانٹ، 85 کلومیٹر پر ایک اور 200 کلومیٹر پرے دوسرا ڈیم ہو پھر بھی شہر پینے کے پانی کو ترسے اور میٹھا پانی بحریہ کے جہاز کراچی سے بھر بھر کے لائیں اور گوادری کہیں کہ اکنامک کاریڈور بے شک لے لو مگر پینے کا پانی تو دے دو۔

    یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی قابلِ ذکر دریا نہیں۔ کبھی جنم کرم میں بارش ہو جائے تو پہاڑی نالے زمین کاٹ کے رکھ دیتے ہیں اور اس سے پہلے کہ لوگ بارانی وسیلابی پانی جمع کرنے کیلئے دوڑیں پانی غائب ہو جاتا ہے۔ خطۂ مکران میں کہنے کو 6 قابلِ ذکر پہاڑی نالے ہیں مگر بارش ہو جائے تو ان کا پانی بھی سمندر فوراً ضبط کر لیتا ہے۔ جب گوادر 1958 تک سلطنتِ اومان کا حصہ تھا تو کم آبادی کا کھارے پانی کے 4,2 کنوؤں سے گزارہ ہو جاتا تھا۔ 1972 میں نیپ کی 10 ماہی حکومت آئی تو اس نے گوادر تا دریائے دشت ایک پائپ لائن بچھا دی مگر دریا ہی خشک ہو تو پائپ لائن کیا کرے۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں گوادر سے 85 کلومیٹر دور آکڑہ کور ڈیم بننا شروع ہوا تو1993 میں اس کا افتتاح بے نظیر بھٹو نے کیا۔ پھر جیسا کہ رواج ہے، ڈیم میں کچھ اسٹرکچرل خامیاں ابھر آئیں تو انکشاف ہوا کہ ناقص میٹریل استعمال ہوا ہے۔ ٹھیکے دار (نیس پاک) نے قرضہ دینے والے ایشین ڈیولپمنٹ بینک کو یہ کہہ کر ڈیم فول بنایا کہ آکڑہ ڈیم اگلے 50 برس تک گوادر شہر کو لگ بھگ 3 ملین گیلن روزانہ پانی سپلائی کرے گا مگر نیس پاک کے جلد باز ٹھیکیدار نے کچھ نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ 2010ء کے بعد سے 17 ہزار ایکڑ جھیل والا یہ ڈیم کسی فاقہ کش آنکھ کی طرح خشک ہے۔ کبھی کبھی آسمان اپنی جیب سے چند آبی سکے اچھال دے تو الگ بات۔ اب تو جھیل بھی شرارتی برساتی نالوں کے لائے گارے سے بھر چکی اور جس ڈیم کو 50 برس زندہ رہنا تھا اس کا 17 برس میں ہی کلیان ہو گیا۔

    اگر ہم گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے نقشوں اور پریزنٹیشن پر یقین کر لیں تو حالات اتنے برے نہیں جتنے میں بیان کر رہا ہوں۔ وہ آپ کو بتائیں گے کہ 42 ہزار ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش والا سوار ڈیم اور 51 ہزار ایکڑ فٹ پانی کی گنجائش والا شادی کور ڈیم 2007 سے زیرِ تعمیر ہے۔ یہ دونوں ڈیم 2014 میں ہی مکمل ہو جاتے اگر یہاں کام کرنے والے مزدور قتل نہ ہوتے۔ اب ان شاء اللہ یہ ڈیم 2018 تک مکمل ہو جائیں گے ( کیونکہ 2018 الیکشن کا سال بھی ہے)۔ جی ڈی اے والے آپ کو یہ بھی بتائیں گے کہ ان کی گولڈن پام ڈِسٹِلّیشن پلانٹ والوں سے پانی خریدنے کی بات چل رہی ہے۔ بس فی گیلن ریٹ طے ہو جائے اس کے بعد گوادر کو 4 لاکھ گیلن پانی روزانہ ملنے لگے گا۔

    گوادر کے نزدیک کرواٹ میں لگا پلانٹ چالو رہتا رہے تو 20 لاکھ گیلن پانی وہاں سے آنا کوئی مسئلہ نہیں اور ہمارا اپنا جی ڈی اے کا چھوٹا سا پلانٹ ایک لاکھ گیلن پانی روزانہ صاف کر سکتا ہے (اگر چلے تو)۔ اب بجلی بھی تو نہیں۔ 8 سے 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بھی تو ہے اور اگر کوئی ہمیں 200 کلومیٹر پرے واقع میرانی ڈیم سے گوادر تک صرف 4 ارب روپے کی پائپ لائن بچھا دے تو وہاں سے روزانہ 50 لاکھ گیلن پانی آ سکتا ہے جبکہ گوادر اور آس پاس کے ساحلی علاقوں کی اس وقت کی روزانہ ضروریات 46 لاکھ گیلن ہیں اور اب تو پاک چائنا اکنامک کوریڈور کے نگراں احسن اقبال نے بھی وعدہ کر لیا ہے کہ 2020 تک گوادر کو چونکہ کم از کم 12 ملین گیلن پانی درکار ہو گا اس لئے حکومت اس سے پہلے پہلے ہی گوادر کو ایک میگا ڈِسٹِلّیشن پلانٹ کے ذریعے جل تھل کر دے گی اور یہ کہ…
    ارے بھائی صاحب کہاں چلے…ابھی تو میری تقریر آدھی بھی نہیں ہوئی…پوری بات تو سنتے جائیں…کمال ہے! میں گوادر کی ترقی کی بریفنگ دے رہا ہوں اور یہ بھائی صاحب بیچ میں سے ہی اٹھ کر چل پڑے۔

    وہی واٹر ٹینکر جو کراچی میں ساڑہے 3 ہزار روپے کا پڑتا ہے گوادر میں 15 ہزار روپے میں بآسانی دستیاب ہے۔ جو اَفورڈ نہیں کر سکتے وہ سرکاری واٹر ٹینکر یا پاک بحریہ کے جہاز کا انتظار کرتے ہیں۔ جو بہت جلدی میں ہیں وہ برتن لے کر پانی کی تلاش میں میلوں نکل پڑتے ہیں اور جنہیں بالکل صبر نہیں وہ سمندر سے پانی کا دیگچہ بھر کے ابال لیتے ہیں۔ اس آبی پس منظر میں جب چیک پوسٹ پر کھڑا جوان منرل واٹر چسکتے ہوئے کاغذات چیک کرتا ہے تو خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے بس مزہ ہی تو آ جاتا ہے۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    میاں نواز شریف کے لیے بلخصوص اور ن لیگ کے لیے بلعموم یہ بہترین موقع ہے کہ اپنا محاسبہ کر کے غور کریں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اُن کے لیے مصیبتیں اور مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ سب سے اہم بات غور کرنے کی یہ ہے کہ اپنے موجودہ دور حکومت کے دوران ن لیگی قیادت نے اپنے فیصلوں اور پالیسیوں سے کہیں اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ یہ وقت ہے کہ میاں صاحب اور ن لیگی قیادت کے لیے سوچنے کا کہ غیروں کے ساتھ ساتھ یہاں موجود مغرب زدہ سیکولر طبقہ کو خوش کرنے کے لیے اُنہوں نے گزشتہ چار سال کے دوران کچھ ایسا تو نہیں کیا جس نے اسلامی نظریہ پاکستان کے تصور کو دھندلانے کی کوشش کی ہو ؟
    میں یہاں بہت سے ایسے متنازعہ حکومتی اقدامات گنوا سکتا ہوں جن کے بارے میں میں ان سالوں کے دوران وقتا فوقتا لکھتا رہا اور جو بڑی تعداد میں عام پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ن لیگیوں کے لیے بھی حیران کن تھے۔ کئی لیگیوں نے مجھے خود بتایا کہ معلوم نہیں کہ اُن کی اعلیٰ قیادت کے مشیر کون ہیں جنہوں نے ن لیگ کو اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل ثابت کرنے کے لیے ایسے ایسے فیصلے کروائے جو اسلام پسندوں اور مذہبی طبقوں کے لیے انتہائی پریشان کن تھے۔ وہ ن لیگ جس کو دائیں بازو کی سیاسی طاقت مانا جاتا تھا ان سالوں کے دوران پاکستان کو لبرل اور ترقی پسند ریاست بنانے کا وعدہ کرتی رہی۔ ویسے تو جب میاں نواز شریف کو حکومت سے اقامہ جیسے بہانے پر وزارت عظمی سے نکالا گیا اور ہمیشہ کے لیے نااہل بھی قرار دے دیا گیا جس پر انہیں چاہیے تھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا سوال اپنے آپ سے بھی کرتے اور پوچھتے کہ کہیں میں نے اللہ تعالیٰ کو ناراض تو نہیں کیا ؟ 

    گزشتہ دو روز کے دوران پاکستان بھر میں جو سنگین صورتحال پیدا ہوئی اُس کے نتیجے میں ن لیگی حکومت کو سیاسی طور پر کیا قیمت ادا کرنی پڑے گی اس بارے میں فیصلہ تو مستقبل کرے گا لیکن جس انداز میں راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے علاقہ فیض آباد کو کھولنے کے لیے ن لیگی حکومت نے آپریشن کیا اُس نے فیض آباد میں محدود احتجاج کو پاکستان بھر میں پھیلا دیا، ن لیگیوں پر حملے کروا دیے، کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو گیا اور ایسی صورتحال پیدا ہو گئی کہ کسی کے کنٹرول میں نہیں۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ معاملہ کہاں اور کیسے رکے گا ؟ 

    یہ بہترین وقت ہے کہ ن لیگی اور اُن کی قیادت سیاسی اور انتظامی حکمت عملی بنانے کے ساتھ ساتھ اللہ سے معافی بھی طلب کریں۔ ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پندرہ بیس دن کے فیض آباد دھرنے کو اس طرح ملک بھر میں پھیلا دیا جائیگا۔ کوئی ہوش مند دھرنے والوں کے خلاف آپریشن کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ سب کو معلوم تھا کہ جس مسئلہ پر دھرنا دیا گیا وہ انتہائی نازک معاملہ ہے اور اُسے طے کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا مطلب یہ ہو گا کہ صورتحال کو مزید خراب کر دیا جائے۔ معلوم نہیں حکومت اور انتظامیہ کو کیا ہوا اور یہ کیسی حکمت عملی تھی کہ آپریشن کا فیصلہ بھی کیا تو میڈیا کو بتا کر اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ آپریشن اور گھیراو جلاو کو پوری دنیا کو میڈیا کے ذریعے دکھایا جائے۔

    اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ جب پولیس اور ایف سی کو مار پڑے تو انہیں بھی بھاگتا ہوا دکھائیں۔ جب ٹی وی چینلز نے یہ صورتحال پورے پاکستان کو دکھا دی اور ملک بھر میں اشتعال پیدا ہو گیا، لوگ گھروں سے باہر نکل آئے تو پھر فیصلہ ہوا ٹی وی چینل بند کر دیں۔ ویسے تو فیض آباد اور اس کے گردو جوار کے علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو دھرنے کے ابتدائی دنوں میں بند رکھا گیا لیکن آپریشن کے دوران ٹی چینلز کی لائیو کوریج کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ اس علاقہ میں نہ تو موبائل بند ہوں اور نہ ہی سوشل میڈیا۔ اس ’’بہترین حکمت عملی‘‘ پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو کم از کم اس وزارت سے تو فوری طور پرفارغ کر دینا چاہیے۔

    وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ دھرنے کی سازش میں بھارت کا بھی ہاتھ ہے۔ احسن اقبال صاحب انکوائری کروائیں ہو سکتا ہےفیض آباد آپریشن کے حکمت عملی بھی بھارتی سازش کا ہی نتیجہ ہو۔ بہتر ہو گا کہ اپنی غلطیوں اور خرابیوں کا بوجھ کسی دوسرے پر نہ ڈٖالا جائے۔ ویسے اگر میاں نواز شریف راجہ ظفرالحق کمیٹی کی سفارش پر چند ایک افراد کے خلاف ایکشن لے لیتے تو معاملہ دھرنے تک بھی نہ پہنچتا۔ ختم نبوت کے متعلق الیکشن قانون میں متازعہ ترامیم کیا کسی غلطی کا نتیجہ تھی یا کوئی سازش؟ اس سوال کا جواب تلاش کرنا کسی بھی دوسرے معاملہ سے زیادہ اہم ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت اور ن لیگی قیادت کو یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

    اس معاملہ کو جس طریقہ سے حکومت نے ہینڈل کیا ہے اُس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے ہوں اور ذہن ماوٗف ہو گیا ہو کیوں کہ جو بات ایک عام آدمی کی سمجھ میں آسانی سے آ رہی تھی وہ ن لیگ کے بڑے بڑے رہنمائوں اور تجربہ کار سیاستدانوں کو سمجھ نہ آئی اور انہوں نے اس آگ کو پورے پاکستان میں پھیلا دیا۔ پہلے معاملہ ایک وزیر کی رخصت سے حل ہو سکتا تھا لیکن اب ایک دو یا تین وزراء برطرف کر دیے جائیں اور حکومت بچ جائے تو بھی ن لیگ کے لیے مہنگا سودا نہیں۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ اللہ کو کیا منظور ہے!!!

    انصار عباسی


    0 0

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شوکت صدیقی نے دھرنے کے خاتمے میں فوجی سربراہ جنرل جاوید قمر باجوہ کے کردار پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔
    وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہو کر بتایا کہ 21 روز سے جاری دھرنا ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندے اور دھرنا دینے والی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ کے رہنما آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ تاہم جسٹس شوکت صدیقی نے اس معاملے میں فوج کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر داخلہ سے اس بات پر وضاحت چاہیے کہ فوجی افسران نے کس حیثیت سے حکومت اور دھرنا رہنماؤں کے درمیان ثالثی کی؟  ’’کس حیثیت سے فوجی سربراہ کا نام اس معاہدے میں ضامن کے طور پر شامل کیا گیا اور کس قانون کے تحت ایک جنرل (جنرل فیض حمید) اس میں ثالث تھے؟‘‘

    جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ مظاہرین نے دارالحکومت اسلام آباد میں افراتفری پیدا کی اور 21 روز تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ردالفساد کہاں ہے؟‘ انہوں نے وزیرداخلہ سے کہا کہ کیا فوج جی ایچ کیو (جنرل ہیڈکوارٹرز) کے قریب دھرنے کی اجازت دے گی؟ ‌جسٹس شوکت صدیقی نے کہا کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ فوجی افسران کو سیاست میں دخل اندازی کا بہت شوق ہے۔ ’’وہ اپنے عہدے چھوڑ کر عملی طور پر سیاست میں کیوں نہیں آتے؟‘‘ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’پاکستانی فوج اپنے دستور حدود میں کام کرے۔ جنرل حمید کی خدمات ریاست کے لیے ہونا چاہئیں اور وہ اس طرز کے کسی بھی معاہدے کے ثالث نہیں بن سکتے۔‘‘

    جسٹس صدیقی نے وزارت داخلہ سے دھرنا ختم کرانے کے لیے پولیس کی مدد سے کی گئی کارروائی میں ناکامی کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔ جسٹس شوکت صدیقی کے ان ریمارکس پر پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی زبردست بحث جاری ہے اور ان کی پزیرائی کی جا رہی ہے۔

    سوشل میڈیا صارف وقاص نے اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے۔
    ’’جسٹس شوکت آپ نے ثابت کیا ہے کہ آپ دستور کے محافظ ہیں اور حکومت اور فوج دونوں کی سرزنش کر سکتے ہیں۔‘‘

    ایک اور صارف فواد کے مطابق جسٹس شوکت کے ان ریمارکس سے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ گزشتہ کچھ روز میں اٹھنے والے بہت سے سوالات پر کھل کر بات کر سکیں۔

    سوشل میڈیا صارف صبینہ صدیقی کے مطابق، ’’جسٹس شوکت نے پرویز مشرف کے قابل ضمانت مقدمے میں ضمانت ختم کی تھی۔ وہ سن 2002ء کے انتخابات میں مذہبی جماعت متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر انتخاب بھی لڑ چکے ہیں اور ایک مقدمے میں لال مسجد کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔‘‘

    ایک اور ٹوئٹر صارف ہارون بلوچ کا کہنا ہے، ’’جسٹس شوکت کتنے غیرمتوقع واقع ہوئے ہیں۔ ان سے کبھی اس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی، مگر انہوں نے درست کہا۔‘‘

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی گزشتہ چھ سال سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اُنھیں 21 نومبر سنہ 2011 کو صوبہ پنجاب کے کوٹے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پہلے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور پھر اُنھیں مستقل جج مقرر کر دیا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت میڈیا میں خبروں کی زینت بننا شروع ہوئے جب اُنھوں نے وفاقی دارالحکومت میں قائم افغان بستیوں کو گرانے میں ناکامی اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر وفاقی ترقیاتی ادارے یعنی سی ڈی اے کے حکام کو جیل بھجوایا۔

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف 3 نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد ججز کو نظر بند کرنے کے مقدمے میں پولیس حکام کو انسداد دہشت گردی کی دفعات کا اضافہ کرنے کا بھی حکم دیا جب پرویز مشرف ضمانت کے لیے ان کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ عدالتی احکامات کے بعد سابق فوجی صدر کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے تھے بعدازاں پولیس نے اُنھیں حراست میں لے کر متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا۔ سابق فوجی صدر کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وکلا کی عدلیہ بحالی تحریک میں بھی شوکت عزیز صدیقی پیش پیش تھے۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق اُنھیں اس وقت کی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔  شوکت عزیز صدیقی ان چند وکلا رہنماؤں میں سے تھے جنہیں اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی قربت حاصل تھی۔

    شوکت عزیز صدیقی جو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بعد سنیئر ترین جج ہیں، نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد کا نوٹس بھی لیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایف آئی اے کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد ہی فیس بک کی انتظامیہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ آئندہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ مواد نہیں لگایا جائے گا۔ شکرپڑیاں کے قریب پریڈ گراونڈ کو ’ڈیموکریسی پارک‘ اور ’سپیچ کارنر‘ کا نام بھی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حکم پر ہی رکھا ہے۔ اس گراونڈ پر پاکستانی افواج اپنی سالانہ پریڈ کرتی ہیں۔

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ہی حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو گزشتہ سال اسلام آباد کو لاک ڈون کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اُنھیں دھرنا دینے سے روک دیا تھا۔ شوکت عزیز صدیقی کو جب اسلام آباد ہائی کورٹ میں جج تعینات کیا گیا تو اس وقت افتخار محمد چوہدری پاکستان کے چیف جسٹس تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2011 میں جب اُنھیں ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج بنانے کے بارے میں غور کیا گیا تو وہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کے چند مصروف ترین وکلا میں سے ایک تھے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس محمد انور خان کاسی کی سپریم کورٹ میں چلے جانے یا ریٹائرمنٹ کی صورت میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت ہے۔ ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ اُنھوں نے سی ڈی اے کے حکام پر اپنی سرکاری رہائش گاہ کی تزین و آرائش کے لیے دباو ڈالا تھا۔ جسٹس شوکت عزیز نے ان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کو بند کمرے میں کرنے کی بجائے اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست کو سپریم جوڈیشیل نے مسترد کر دیا تھا۔

    جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس دو رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ممتاز قادری کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کو ختم کر دیا تھا تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے مجرم کو موت کی سزا دینے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

    شہزاد ملک
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    اسلام آباد کا دھرنا بالآخر تین ہفتے بعد ختم ہو گیا۔ لیکن، ختم ہوتے ہوتے اپنے پیچھے کئی کہانیاں بھی چھوڑ گیا ہے۔ ان کہانیوں میں سے ایک اہم کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تقریباً 30 سیکنڈ کی وہ ویڈیو فوٹیج ہے جس میں فوجی وردی میں ملبوس ایک عہدے دار کو احتجاجی مظاہرین میں لفافے تقسیم کرتا دکھایا گیا ہے۔ فوٹیج میں ایک شخص لفافه لینے میں قدرے ہچکچاہٹ ظاہر کرتا ہے تو فوجی عہدے دار کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ’’یہ ہماری طرف سے ہے۔ کیا ہم آپ کے ساتھ نہیں ہیں‘‘۔ پھر کسی شخص کی جانب سے پوچھا جاتا ہے کہ ’’اس میں کتنے پیسے ہیں‘‘ تو بتایا جاتا ہے کہ ’’ہزار ہزار روپے ہیں‘‘۔ پھر ایک کارکن غالباً گرفتار کارکنوں کا ذکر کرتا ہے جس کے جواب میں عہدے دار کہتے ہیں کہ ’’ہم سب کو چھڑوائیں گے‘‘۔

    اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ مظاہرین میں لفافے تقسیم کرنے والے ’’پنجاب رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل اظہر نوید تھے اور وہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ان کارکنوں میں ایک ایک ہزار روپے کے لفافے تقسیم کر رہے تھے، جنہیں حکومت اور احتجاجي مظاہرین کے راہنماؤں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا‘‘۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے راہنماؤں اور کارکنوں نے فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے کر دونوں جڑواں شہروں کے لوگوں کی آمد و رفت کو روک کر روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر دیا تھا۔ مظاہرین کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی رہی۔ لیکن، حکومت شديد عوامی دباؤ کے باوجود ان کے خلاف کارروائی کرنے سے احتراز کرتی رہی اور حکومتی عہدے دار ڈھکے چھپے لفظوں میں یہ کہتے رہے کہ دھرنے کو منتشر کرنے کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں، کیونکہ، بقول حکومتی اہل کار ’’دھرنے والوں کو حکومتیں الٹنے اور بنانے والوں کی پشت پناہی حاصل ہے‘‘۔

    دھرنے کے قائد خادم حسین رضوی نے ایک غیر ملکی میڈیا چینل کو ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ، بقول اُن کے ’’فوج ہمیں فیض آباد سے ہٹانے کے لیے نہیں آئے گی۔’’ اور پھر یہی ہوا، جب دھرنے والوں کے خلاف انتظامیہ کا آپریشن ناکام ہوا تو وفاقی حکومت نے آئین کے تحت فوج کو طلب کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، فوج نے حکم نامے پر کچھ وضاحتیں طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کی پابند ہے۔ لیکن، وہ اپنے لوگوں کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرے گی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے ایکشن شروع ہونے سے پہلے متعدد بار یہ کہا تھا کہ دھرنے کا مقام صرف تین گھنٹوں میں خالی کرایا جا سکتا ہے۔ لیکن، جب پولیس اور ایف سی کے ہزاروں اہل کاروں کی ناکامی کے بعد آپریشن ختم کرنا پڑا تو انہوں نے آپریشن کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’مقامی انتظامیہ نے یہ آپریشن اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر کیا۔ اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ انتظامیہ نے مجھ سے نہیں پوچھا‘‘۔

    حکومتی عہدے داروں، سول انتظامیہ اور دھرنا قائدین کے درمیان فیض آباد خالی کرانے کے لیے مذاكرات کے کئی دور بے نتیجہ ثابت ہوئے کیونکہ دھرنے والے لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں تھے اور آخرکار فوج کی ثالثی میں معاہدہ انہی کی شرائط پر طے پایا۔ فوج کی ثالثی میں طے پانے والے سمجھوتے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئینِ پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے؟ کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں؟ فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں؟ یہ تو لگ رہا ہے کہ دھرنا ان کے کہنے پر ہوا۔ ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا؟‘‘ ہائی کورٹ کے اس سوال کا جواب شاید کوئی نہیں دے گا۔

    دھرنے والوں نے جہاں مذہب کے نام لوگوں کے جذبات بھڑکائے اور گالی گلوچ کے کلچر کو متعارف کرایا۔ سوشل میڈیا پر جرمنی کے ایک نوجوان کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں اس نے وفاقی وزیر داخلہ کو ہلاک کرنے والے کو 10 لاکھ روپے انعام دینے کی پیش کش کی ہے۔ اس کا ذکر وزیر داخلہ نے ہائی کورٹ میں اپنی پیشی کے موقع پر بھی کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ایسے شدت پسند گروہوں کے لیے اپنے جائز و ناجائز مطالبے منوانے کا راستہ کھل جائے گا، جن کے پاس دو تین ہزار کے جتھے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ملک و قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، دھرنا ختم ہونے پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے زیادہ تر شہریوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ دھرنے کے دوران گرفتاری کے بعد رہا ہونے والے افراد کو ڈی جی رینجرز کی طرف سے ایک ہزار روپے ملنے کے حوالے سے اسلام آباد میں تعمیرات کے کاروبار سے منسلک سید ناصر شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’دھرنے میں آنے والے زیادہ تر لوگ وہ تھے جو مذہبی جذبے سے سرشار تھے، ان میں زیادہ تر غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔ لہذا، اگر ان کے سفری اخراجات کے لیے کوئی رقم دی گئی تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے‘‘۔

    راولپنڈی کے وقاص علی نے کہا کہ اس دھرنا کے دوران21 دن جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن، اس کے باوجود خوشی ہے کہ شہر میں امن تو ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ڈی جی رینجرز نے اچھی سوچ کے ساتھ رقم دی ہو گی۔ لیکن، آیا یہ رقم سرکاری خزانے سے تھی یا انہوں نے خود ادا کی، اس کی وضاحت ہونا اچھی بات ہے‘‘۔ سوشل میڈیا پر زوہیب مجید نے لکھا ہے کہ ’’ایسا صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے جہاں انتہاپسندوں کو نوازا جاتا ہے، جب کہ انسانی ہمدردی کے لیے کام کرنے والوں کو لاپتا کر دیا جاتا ہے‘‘۔

    جمیل اختر - واشنگٹن

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


    0 0

    ترکی میں پولیس نے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے زنجیروں سے جکڑے پاکستانیوں کو بازیاب کرا لیا۔ ترک روزنامہ "حریت"کے مطابق مقامی پولیس نے استنبول میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے چھاپوں کے دوران  پاکستانی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا ہے جنہیں انسانی اسمگلروں نے ایک عمارت کے تہہ خانے میں قید کیا ہوا تھا۔ ان افراد کو 10 ہزار ڈالرز کے عوض یورپ پہنچانے کا جھانسہ دے کر ترکی لایا گیا تھا اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ یہ رقم یورپ پہنچنے کے بعد ادا کریں۔ مقامی پولیس کے مطابق کارروائیوں میں تین پاکستانی اسمگلروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن پر تارکین وطن کو گمراہ کرنے کے الزامات ہیں۔

    چند ماہ قبل ترکی سے متعدد پاکستانی شہری پہلے بھی بازیاب ہو چکے ہیں۔ انسانی اسمگلروں نے انہیں اغوا کر کے بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ویڈیو پاکستان بھیجی تھیں۔ پاکستانی حکام کی درخواست پر ترک پولیس نے انہیں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد پاکستانیوں کو بازیاب کرایا تھا۔ خیال رہے کہ یورپ جانے کے خواہش مند پاکستانی شہری بلوچستان سے ایران، وہاں سے ترکی پہنچ کر یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برس میں ہزاروں شامی، عراقی، پاکستانی اور افغانی شہری غیر قانونی طریقوں سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ چند روز قبل ہی بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 20 افراد کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام افراد انسانی اسمگلروں کو رقم دے کر براستہ ایران، ترکی یورپ جانے کے خواہش مند تھے۔
     


    0 0

    چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق پاکستانی پارلیمان کی کمیٹی کے سربراہ نے ان قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ چین اس راہداری منصوبے کی آڑ میں پاکستان پر قبضہ کر لے گا۔ اسلام آباد میں تیسرے سی پیک میڈیا فورم کے موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں 20 ہزار سے کچھ کم چینی باشندے مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں لیکن بعض عناصر مستقل یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ چین اس راہداری منصوبے کے ذریعے پاکستان پر قابض ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا میں طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے اور چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں چینی کمپنیاں 300 مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہیں اور ان کے بقول "نو ہزار سے زائد چینی شہری سی پیک کے تحت جب کہ لگ بھگ 10 ہزار کے لگ بھگ شہری راہداری منصوبے سے ہٹ کر جاری دیگر منصوبوں سے وابستہ ہیں۔" فورم میں جب مشاہد حسین سے سی پیک پر امریکہ کے اس اعتراض کی بابت پوچھا گیا کہ یہ منصوبہ ان علاقوں سے گزرتا ہے جو متنازع ہیں، تو پاکستانی سینیٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ نے 50 سال قبل اسی علاقے میں منگلا ڈیم کی تعمیر میں حصہ لیا تھا "جسے اب وہ متنازع تصور کر رہا ہے کیونکہ اس منصوبے میں اب چین شامل ہے۔" قبل ازیں فورم کا افتتاح کرتے ہوئے اسلام آباد میں بیجنگ کے سفیر یاؤ جنگ نے سی پیک کو "چین اور پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات کا کلیدی جز"قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کو سی پیک سے متعلق باقاعدگی سے آگاہ رکھنے پر آمادہ ہیں۔
     


    0 0

    پاکستانی وکيل ضياء اعوان کا کہنا ہے کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی مہاجرت دہائيوں پرانا سلسلہ ہے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وہ اس مسئلے کا حل ہجرت کے قانونی راستوں کی دستيابی ميں ديکھتے ہيں۔ پاکستانی صوبہ بلوچستان کے علاقے تربت سے حال ہی ميں بيس افراد کی لاشيں مليں جنہيں گولياں مار کر ہلاک کيا گيا تھا۔ ابتدائی تفتيش کے بعد پتہ چلا کہ يہ سب افراد پاکستانی صوبہ پنجاب کے مختلف حصوں تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی خاطر انسانوں کے اسمگلروں کے سہارے غير قانونی طور پر يورپ کی جانب روانہ تھے۔ حکام کے مطابق يہ تمام تارکين وطن مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ بعد ازاں پاکستانی وفاقی تفتيشی ادارے ايف آئی اے کے حکام نے متعلقہ اسمگلروں کو بھی گرفتار کر ليا۔ ليکن کيا يہ کہانی يہيں ختم ہو گئی؟

    پاکستان سے يورپ کی طرف غير قانونی ہجرت کوئی نيا مسئلہ نہيں۔ يہ سلسلہ 1960ء کی دہائی سے ہی چلا آ رہا ہے، جب دوسری عالمی جنگ کے بعد ترقياتی کاموں اور صنعتوں کی بحالی کے ليے يورپ کے متعدد ممالک کو مزدور درکار تھے اور اميگريشن سے متعلق پاليسياں بھی مقابلتاً نرم تھيں۔ وسطی پنجاب ميں آج کئی ايسے علاقے ہيں، جنہيں ’منی يورپ‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ منڈی بہاالدين، کھارياں، گوجرانوالہ، گجرات اور ديگر کئی علاقوں ميں کئی خاندانوں سے کا ايک نہ ايک شخص بيرون ملک مقيم ہے اور موجودہ نسليں بھی اسی تگ و دو ميں لگی ہوئی ہيں۔ تاہم پچھلے چند ايک سالوں سے يورپ کو مہاجرين کے بحران کا سامنا ہے اور ايسے ميں نہ صرف پناہ سے متعلق یورپی پاليسياں کافی سخت ہو گئی ہيں بلکہ ہجرت کے راستے اور طريقہ ہائے کار بھی زيادہ خطرناک ہو گئے ہيں۔

    پاکستانی فيڈرل انويسٹيگيشن ايجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک انسانوں کے قريب چار سو اسمگلروں کو پکڑا جا چکا ہے جبکہ پچھلے سال لگ بھگ دو ہزار ايسے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی۔ ايف آئی اے کا موقف ہے کہ تربت ميں پيش آنے والا واقعہ ’دہشت گردی‘ کے زمرے ميں آتا ہے ليکن اگر انسانوں کے اسمگلر اپنی آنکھوں ميں يورپ پہنچنے کے خواب سجائے نوجوانوں کو پر خطر راستوں سے نہ لے کر جاتے، تو کيا يہ سانحہ پيش آتا؟

    انسانوں کی اسمگلنگ سے متعلق امور پر مہارت رکھنے والے پاکستانی وکيل ضياء اعوان کے بقول ويسے تو غير قانونی ہجرت کے دوران ہولناک انجام کی کہانياں کئی ہيں ليکن اس طرح دہشت گردی کا واقعہ شاید شاذ و نادر ہی پيش آيا ہو۔ ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’يہ ايک پريشان کن بات تھی کہ اسمگلروں نے نوجوانوں کو ايسے مقامات تک پہنچايا، جہاں دہشت گرد تھے اور انہوں نے ان تارکین وطن کو نشانہ بنايا۔‘‘ وکيل ضياء اعوان نے بتايا کہ ’ان راستوں سے ہجرت سالہا سال سے جاری ہے اور پاکستان ميں غربت، بے روزگاری، آبادی ميں اضافے، حکومت کی طرف سے قيادت کے فقدان، غير محفوظ سرحدوں اور عدم مساوات اور اسی طرز کے ديگر اسباب کی بناء پر آئندہ بھی جاری رہے گی‘۔

    پاکستانی وکيل کے مطابق زمينی راستوں سے غير قانونی ہجرت کے خاتمے کے ليے ايک باقاعدہ فورس درکار ہے، جو صرف حکومت پاکستان تنہا نہيں کر سکتی۔ ’’اس کے ليے خطے کے ديگر ملکوں کو ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔‘‘ اس معاملے کا ايک اور رخ يہ بھی ہے کہ ’يہ مانگ اور ترسيل کا معاملہ ہے‘۔ اعوان کے بقول يورپ ميں لوگوں کی بڑھتی ہوئی عمروں کے سبب طلب آج بھی بہت ہے ليکن آج ترجيح کسی اور ملک کو دی جاتی ہے اور کل کسی اور ملک کو دی جائے گی۔ ان کا مزيد کہنا تھا، ’’يورپ خود ايک سياسی ايجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ اسی ضمن ميں شامی، افغان اور ديگر ملکوں کی شہريت کے حامل لوگوں کو وہاں پناہ دی گئی۔ ظاہر ہے ايسے ميں ديگر ملکوں کے لوگ بھی قسمت آزماتے ہيں کيونکہ اس طرح ہجرت کے راستے تو کبھی بند نہيں ہوتے۔‘‘

    ضياء اعوان کے مطابق ہيومن ٹريفکنگ يا اسمگلنگ کے مسائل پر قابو پانے کے ليے کئی سطحوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ’’اس کے ليے ملک ميں قيادت، معاشی ترقی، آبادی ميں اضافے پر کنٹرول، کئی ملکوں کی ايک مشترکہ ٹاسک فورس کا قيام اور ديگر اقدامات شامل ہيں۔‘‘ ضیا اعوان کا مزید کہنا تھا کہ ’لوگ ہميشہ خوشحالی اور ترقی کی سمت ميں جاتے رہيں گے اور اگر انہيں قانونی راستے فراہم نہ کيے گئے تو اس طرز سے غير قانونی ہجرت کو روکنا نا ممکن سی بات ہے‘۔

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    کراچی کے قریب بندرگاہ محمد بن قاسم پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے پہلے فیز کا افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ سی پیک اور توانائی کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں معاشی انقلاب آئے گا اور ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت نے توانائی کا جو منصوبہ شروع کیا ہے اسے بروقت مکمل کیا جا رہا ہے۔ آج پاکستان اضافی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو چکا ہے۔ پورٹ قاسم پر 1320 میگا واٹ کے بن قاسم کول پاور پروجیکٹ کے پہلے فیز کا افتتاح کیا گیا ہے۔ منصوبے کے پہلے فیز سے 660 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی۔ یہ منصوبہ چین کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے کا دوسرا فیز فرور​ی 2018 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ یہ بجلی گھر سی پیک منصوبے کا حصہ ہیں۔

    وزارت توانائی کے دعوے کے مطابق گذشتہ تین سال کے دوران تقریبا 7 ہزار میگا واٹ قومی سسٹم میں شامل کی گئی ہے۔ 2018 کے آخر تک نیشنل گرڈ میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی شامل کرنے اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک کو کم از کم 15 ہزار میگا واٹ یومیہ بجلی درکار ہے۔ ملک میں گذشتہ گرمیوں میں بجلی کا شارٹ فال 10 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا تھا، تاہم سردیوں میں طلب کی کمی کے باعث یہ شارٹ فال قدرے کم ہو جاتا ہے۔

    محمد ثاقب
     


    0 0

    پاکستانی وزیر اعظم کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں کی جانے والی تقریر کو پاکستانی تجزیہ نگاروں نے سراہا ہے اور ان کے خیال میں پاکستان کو اس پلیٹ فارم کوعلاقائی وحدت کو فروغ کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ روس کے علاقے سوچی میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ سیاست کو علاقائی معاشی ترقیاتی کاموں سے دور رکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی ترقی کا محور اب مشرق کی طرف ہوتا جا رہا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم، جسے ایس سی او بھی کہا جاتا ہے، عالمی سیاسی نظام میں اپنے لیے ایک نئی جگہ بنا رہی ہے۔

    سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ایس سی او آئندہ دہائیوں میں ایک طاقتور تنظیم کے طور پر ابھرے گی۔ اسی لیے اسلام آباد اس تنظیم میں بھر پور کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ کئی ماہرین کے خیال میں یہ تنظیم بین الاقوامی سیاسی نظام میں امریکی و مغربی اجارہ داری کو چیلنج کر سکتی ہے۔
    نیشنل یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عالمی ادارہ برائے امن و استحکام کے شعبہ سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین کے خیال میں اس تنظیم کے دو اہم ارکان چین اور روس ہر جگہ امریکی پالیسیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’امریکا نے بشار الاسد کو تنہا کرنے اور اس کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی، لیکن وہاں روسی مداخلت نے پورے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دیا۔ واشنگٹن نے تہران اور اسلام آباد کو تنہا کرنے کی کوشش کی تو چین اور روس نے یہاں ان دونوں ممالک کا ہاتھ پکڑا اور انہیں بین الاقوامی تنہائی سے بچایا۔ اب روس اور چین اس تنظیم کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ ماسکو اور بیجنگ آنے والے وقتوں میں بھارت اور پاکستان کو بھی قریب لائیں گے۔‘‘
    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر بکر نجم الدین نے کہا،’’نئی دہلی صرف انا پسندی کا شکار ہے ورنہ اگر آپ دیکھیں کہ کئی مغربی ممالک، جو امریکا کی یکطرفہ پالیسیوں سے پریشان ہیں، وہ بھی چین اور روس کے اس فلسفے سے متفق نظر آتے ہیں کہ دنیا میں طاقت کے ایک سے زیادہ محور ہونے چاہییں۔ جلد یا بدیر نئی دہلی کو بھی احساس ہو جائے گا کہ اسے بھی علاقائی تعاون کی طرف جانا چاہیے۔‘‘ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار عامر حسین کے خیال میں عالمی طاقت کا مرکز اب ’گلوبل نارتھ‘ سے ’گلوبل ساؤتھ‘ کے طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے اس موضوع پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ایس سی او ایک طاقتور تنظیم کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اس تنظیم میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت نے اسے مزید مضبوط بنا دیا ہے اوراس بات کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے دو طرفہ مسائل کا حل ڈھونڈا جائے اور افغانستان میں امن و استحکام لایا جائے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ ایران، روس، چین اور بھارت کو بھی فائدہ ہو گا۔‘‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس بات کے کچھ زیادہ حق میں نہیں ہے کہ نئی دہلی سے تعلقات بہت بہتر کیے جائیں۔ عامر حسین کا کہنا تھا، ’’میرے خیال میں انہیں یہ رویہ بدلنا پڑے گا۔ چین صرف پاکستان میں ہی سرمایہ کاری نہیں کر رہا بلکہ بھارت میں بھی ستر بلین ڈالرز لگانے جا رہا ہے۔ جب دونوں ممالک میں بیجنگ کی سرمایہ کاری ہو گی تو چینی کیوں اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی چاہیں گے۔ تو میرے خیال سے چین پاکستان کو راضی کرے گا کہ وہ بھارت سے معاملات بہتر کرے اور بھارت کو بھی معاشی ترقی کے لیے اپنی انا پسندی کو چھوڑنا پڑے گا اور یہ سب کچھ ایس سی او کے پلیٹ فارم سے ممکن ہے۔‘‘

    بشکریہ DW اردو
     


    0 0

    پیپلز پارٹی دو روز پہلے پچاس کی ہو کر اکیاونویں برس میں داخل ہو گئی۔ لاہور کے جس گھر سے متصل خالی پلاٹ میں اس کا جنم ہوا اس گھر کے مالک ڈاکٹر مبشر حسن ماشااللہ پچانوے برس کی عمر میں بھی ذہنی اعتبار سے ساٹھے پاٹھے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے جنم دن کے موقع پر جو یادگار گروپ فوٹو کھینچا گیا اس میں بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید انتالیس سالہ ذوالفقار علی بھٹو کے زانو پر بیٹھے ہیں۔ ویسے دو روزہ کنونشن میں لگ بھگ تین سو مندوب شریک ہوئے تھے۔ مگر یہ تین سو کون تھے کسی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں۔ شائد پیپلز پارٹی کے پاس بھی نہیں۔

    ایک تاسیسی رکن عبدالرزاق سومرو کی یادداشت کے مطابق اس کنونشن میں جے اے رحیم ، ملک حامد سرفراز ، حنیف رامے ، معراج خالد ، ڈاکٹر مبشر حسن ، شیخ محمد رشید ، کمال اظفر ، ملک شریف ، حکیم عبداللطیف ، میاں محمد اسلم ، محمد صفدر ، آفتاب ربانی ، عبدالوحید کٹپر ، شوکت علی لودھی ، میر رسول بخش تالپور ، معراج محمد خان ، بیگم عباد احمد ، خورشید حسن میر ، حیات محمد خان شیر پاؤ ، چاکر علی جونیجو ، مصطفی کھر ، حفیظ پیرزادہ ، مجتبی کھر ، احمد رضا قصوری ، حق نواز گنڈاپور ، جہانگیر خان، عماد حسین جمالی ، احمد دہلوی ، سردار پیر بخش بھٹو ، میر حامد حسین ، ملک نوید احمد بھی شریک تھے۔ ہر مندوب نے انٹری کارڈ کی مد میں دس دس روپے بطور کنونشن فیس ادا کیے۔
    تیس نومبر اور یکم دسمبر کو دو دن میں چار سیشن ہوئے۔ تین نام تجویز ہوئے۔پیپلز پروگریسو پارٹی ، پیپلز پارٹی، سوشلسٹ پارٹی آف پاکستان۔ اتفاق پاکستان پیپلز پارٹی پر ہوا۔ عام طور پر سیاسی جماعتوں میں بالائی عہدہ صدر کہلاتا تھا۔مگر اتفاق ہوا کہ پیپلز پارٹی کا صدر نہیں چیئرمین ہو گا ( تب شائد چیئرمین ماؤزے تنگ ذہن میں ہوں گے )۔

    پیپلز پارٹی میں لوگوں کو نکالنے کا رواج کبھی بھی نہیں رہا۔ جو لوگ تاسیسی کنونشن میں شریک ہوئے ان میں سے متعدد نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار میں ہی راستے جدا کر لیے۔ کچھ بھٹو کو پسند نہ آئے ، کچھ کو بھٹو کا انداز پسند نہ آیا۔ سب سے پہلا باغی احمد رضا قصوری تھا۔ پھر معراج محمد خان ، پھر پیپلز پارٹی کے بنیادی نظریہ ساز جے اے رحیم ، پھر تہتر کے آئین کے ایک معمار محمود علی قصوری ، پھر غلام مصطفی کھر۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد بھی ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ مگر جس جس نے بھی کسی بھی وجہ سے بھٹو کی زندگی یا بعد میں پیپلز پارٹی چھوڑی وہ پھر سیاست میں بہت دور تک نہ چل پایا۔ احمد رضا قصوری اور محمود علی قصوری مرحوم تحریک ِ استقلال میں چلے گئے۔ معراج محمد خان مرحوم نے قومی محاذ ِ آزادی بنایا اور آخری دور میں اپنی پارٹی تحریکِ انصاف میں ضم کر دی اور پھر نکال لی ، مولانا کوثر نیازی مرحوم کی پروگریسو پیپلز پارٹی جانے کہاں ہے۔ غلام مصطفی کھر کنونشن مسلم لیگ میں گئے اب سنا ہے طاہر القادری کی پاکستان عوامی تحریک کے بعد تحریک ِ انصاف میں علامتی طور پر شامل ہیں۔

    حنیف رامے مرحوم نے مساوات پارٹی بنائی اور پھر وہ کہیں کھو گئی۔عبدالحفیظ پیرزادہ مرحوم نے سندھی بلوچ پشتون کنفیڈرل فرنٹ کا مختصر تجربہ کیا اور پھر سیاست ہی چھوڑ دی۔ غلام مصطفی جتوئی مرحوم کی نیشنل پیپلز پارٹی کدھر گئی۔ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا سندھ نیشنل فرنٹ کبھی مسلم لیگ ن میں ضم ہو جاتا ہے تو کبھی تحریک ِ انصاف میں۔ فاروق لغاری مرحوم کی ملت پارٹی مسلم لیگ ق میں ضم ہو گئی۔ آفتاب شیر پاؤ کی قومی وطن پارٹی گھر کی پارٹی ہے۔ فیصل صالح حیات کی پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کا کوئی اتا پتا نہیں مگر بھائی فیصل گھوم گھام کے پھر پیپلز پارٹی میں آ گئے۔ بی بی اور مرتضی میں سیاسی طور پر نہ بن پائی لہذا پی پی شہید بھٹو وجود میں آ گئی۔ اب یہ پارٹی ستر کلفٹن اور المرتضی لاڑکانہ کے درمیان پائی جاتی ہے۔ جن کے گھر میں پیپلز پارٹی پیدا ہوئی وہ ڈاکٹر مبشر حسن بھی اب شہید بھٹو پارٹی میں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی ایک خوبی اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حیات تک دیگر جماعتوں سے ممتاز بناتی تھی کہ اس میں ہر طبقے ، رنگ ، نسل و مذہب کی نمائندگی تھی۔ کنگلا پتی بھی تھا اور اس کا جاننے والا کروڑ پتی بھی۔ عین وقت پر گھر میں بیٹھنے والے بھی تھے اور دوڑ کر پھانسی کا پھندہ چومنے والے بھی۔ اب صرف چومنے والے زیادہ ہیں۔

    بہت بڑی عاشق مزاج مخلوق ایسی بھی تھی اور اب بھی ہے جس کے لیے پیپلز پارٹی اہم نہیں بلکہ بھٹو اہم تھا۔ مثلاً لیاری کب پیپلز پارٹی کا رہا وہ تو ہمیشہ بھٹو کا رہا۔ لاہور کا محمد صدیق عرف ہرا سائیں جس کا گذشتہ ماہ ہی نوے برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس کے لیے پیپلز پارٹی کا ہونا نہ ہونا ہارنا جیتنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ اسے کوئی مطلب نہیں تھا کہ بھٹو زندہ تھا تو کیا ہوا اور پھانسی پر جھول گیا تو کیا فرق پڑ گیا۔ اس کی گدھا گاڑی پر تو نصف صدی تک پیپلز پارٹی کا جھنڈا اور بھٹو کی تصویر لگی رہی۔ ضیا الحق آیا اور چلا گیا بابا ہرے کی بلا سے اور اب بابا ہرا بھی بھٹو صاحب کے پاس چلا گیا۔

    میں رحیم یار خان کے ہاشمی اخبار فروش کو جانتا ہوں جو ہمیشہ سن ستر کی دہائی میں ہی زندہ رہا۔ میں نے کسی ایک دن بھی نہیں دیکھا کہ اس نے کوئی ایسی قمیض پہنی ہو کہ جس کے کالر پر پیپلز پارٹی کا چھوٹا سا جھنڈا نہ کڑھا ہوا ہو۔ آج جب کہ پیپلز پارٹی پچاس برس کی ہو گئی ہے۔ بھٹو صاحب ہوتے تو نوے برس کے ہوتے۔ شائد وہ پارٹی کے چیئرمین نہ ہوتے مگر ان کی موجودگی کے سبب ہو سکتا ہے پاکستان واقعی ایسا پاکستان ہوتا جیسا کہ کسی نارمل ملک کو ہونے کا حق ہے۔ ان پچاس برسوں میں پارٹی بھی کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی۔ بھٹو صاحب کے اردگرد کیسے کیسے لوگ تھے اور آج کیسے کیسے لوگ ہیں۔ بھٹو صاحب کی پراپرٹی کارکن تھے آج بس پراپرٹی ہے۔ کچھ شخصی جزیرے اب بھی بچے ہوئے ہیں ورنہ تو چہار جانب پانی ہی پانی ہے۔ بھٹو نے سیاسی مجاوری توڑ پھوڑ کے رکھ دی تھی۔ آج پارٹی کے پاس بس مجاوری بچی ہے۔ تب سوشلزم ہماری معیشت ہے کا نعرہ تھا۔ آج کرونی ازم ہی ہماری معیشت ہے۔ بھٹو سیاست کو ڈرائنگ روم سے گھسیٹ کر سڑک پر لایا۔ تیسری قیادتی پیڑھی اسے سڑک سے گھیسٹ کر پھر ڈرائنگ روم میں لے گئی۔

    میں نے پروفیسر غفور احمد مرحوم سے ایک بار پوچھا بھٹو مالی اعتبار سے کیسا تھا ؟ کہنے لگے کرپٹ ہوتا تو ضیا الحق ضرور اس بارے میں بھی کوئی نہ کوئی وائٹ پیپر لے آتا۔ میں نے چترال کے بھی دور دراز علاقے مستوج کے ایک پہاڑی گھر کے ایک کمرے میں دیکھا ایک اکلوتی بھٹو کی تصویر پر گلاب کی سوکھی مالا لٹک رہی تھی۔ صاحبِ خانہ سے پوچھا کیا آپ پیپلز پارٹی میں ہو ؟ کہنے لگا نہیں تو ، مجھے کبھی سیاست سے دلچسپی نہیں رہی۔ پوچھا بھٹو کی تصویر کیوں لگا رکھی ہے۔ کہنے لگا ایک بار یہاں آیا تھا۔ پھر کوئی نہیں آیا۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    25 سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود چھ دسمبر کی یاد آتے ہی میں خود کو مانس بھون کی چھت پر پاتا ہوں اور بابری مسجد کے انہدام کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ مانس بھون وہی دھرم شالہ جہاں میں اس واقعے سے دس سال قبل سنہ 1982 میں ایک بار ٹھہرا تھا۔ ایک صحافی دوست نے متنازع بابری مسجد دکھائی تھی جس کے باہری حصے میں ایک چبوترے پر کیرتن بھجن ہوتا تھا اور لوگ ’سیتا رسوئی‘ (سیتا کے کچن) اور رام کے ’کھڑاون‘ کے خیالی مقامات کے سامنے سر جھکاتے تھے۔ اس رام چبوترے پر طویل عرصے سے رامانندی فرقے کے نرموہی اکھاڑے کا قبضہ تھا۔ نرموہی اکھاڑا سوا سو سال سے زائد عرصے سے وہاں مندر کی تعمیر کے لیے قانونی جنگ لڑ رہا تھا۔

    مسجد کے اندر سنہ 1949 میں 22 اور 23 دسمبر کی درمیانی شب ضلع مجسٹریٹ کی مدد سے رام کی بچپن کی مورتی رکھی گئی۔ اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے مسجد سے مورتی ہٹانے کا حکم دیا لیکن ضلع مجسٹریٹ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت سے عدالت نے مسجد سیل کر کے نگران تعینات کر دیا۔ باہر پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گيا اور عدالت کا مقرر کردہ پجاری وہاں پوجا کیا کرتا تھا۔ سنگھ پریوار یعنی ہندوتوا کے نظریات کی حامل جماعتیں طویل عرصے سے ایسے مسئلے کی تلاش میں تھیں جس کے ذریعہ ذات پات میں منقسم ہندو برادری کو یکجا کیا جا سکے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اسی مقصد کے تحت سنہ 1984 میں رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک شروع کی گئی تھی۔

    اس مہم کی وجہ سے یکم فروری سنہ 1986 میں عدالت نے متنازع احاطے کے تالے کھلوئے۔ جواب میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔ دریں اثنا معاملہ ضلع عدالت سے نکل کر لکھنؤ ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ سنہ 1989 کے عام انتخابات سے قبل مصالحت کی امید میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے مسجد سے تقریبا 200 فٹ کے فاصلے پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھوا دیا۔ راجیو گاندھی کو انتخابات میں شکست ہوئی جبکہ وی پی سنگھ اور چندرشیکھر کی حکومت میں بھی مصالحت کی تمام تر کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

    اس موقعے پر اور اس سے قبل بھی وہاں آتش زدگی کے واقعات پیش آئے. بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لیے رتھ یاترا نکال کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔
    سنہ 1991 میں کانگریس ایک بار پھر دہلی میں بر سر اقتدار آئی اور پی وی نرسمہا راؤ وزیر اعظم بنے لیکن رام مندر کی تحریک کے طفیل انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں پہلی بار کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بنی۔

    کلیان سنگھ نے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا کہ وہ مسجد کی حفاظت کریں گے جس کے بعد عدالت نے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کو علامتی کار سیوا کی اجازت دے دی۔ دوسری جانب وی ایچ پی اور بی جے پی کے رہنماؤں نے ملک بھر میں گھوم گھوم کر لوگوں سے بابری مسجد کو نیست نابود کرنے کی قسم لی تھی۔
    ان کی حوصلہ افزائی کے لیے کلیان سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ پولیس کار سیوکوں پر فائرنگ نہیں کرے گی۔ اس سے قبل سنہ 1990 میں ملائم سنگھ یادو نے کار سیوکوں پر فائرنگ کرائی تھی اور مسجد کی حفاظت کی تھی۔ کلیان سنگھ حکومت نے متنازع کیمپس کے قریب مجوزہ رام پارک کی تعمیر کے لیے وی ایچ پی کو 42 ایکڑ زمین دے دی تھی۔

    اس کے علاوہ سیاحت کے فروغ کے نام پر بہت سے مندروں اور دھرم شالاؤں کی زمین حاصل کر کے اسے ہموار کر دیا گیا تھا اور فیض آباد - ایودھیا شاہراہ سے براہ راست متنازع مقام تک چوڑی سڑک تعمیر کر دی گئی تھی۔ ملک بھر سے آنے والے کارسیوکوں کے قیام کے لیے متازع احاطے سے ملحق شامیانے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ انھیں لگانے کے لیے کدال، بیلچے اور رسیاں بھی لائی گئیں جو بعد میں مسجد کے گنبد پر چڑھنے اور اسے توڑنے کے کام میں آئیں۔

    مجموعی طور پر متنازع مقام کے آس پاس کے علاقے پر کار سیوکوں کا ہی قبضہ تھا۔ ان لوگوں نے چار پانچ دن قبل ہی بعض قریبی مزاروں کو نقصان پہنچا کر اور مسلمانوں کے مکانوں کو آگ لگا کر اپنی جارحیت کا اظہار کر دیا تھا۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مبصر ضلعی جج پریم شنکر گپتا کہہ رہے تھے کہ علامتی کار سیوا پر امن طور پر کرانے کے لیے سارے انتظام اچھی طرح سے کیے گئے ہیں۔

    رام دت ترپاٹھی
    سینیئر صحافی، انڈیا

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    گذشتہ چند ہفتوں کے دوران جو کچھ ہوا اُس معاملہ میں پاکستان کے جید علمائے
    کرام کو سب کی رہنمائی کرنی چاہیے کیونکہ جو معاملہ انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں سے شروع ہوا وہ ایک ایسے مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکومت سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کچھ مخصوص مذہبی شخصیات کے سامنے پیش ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کروائیں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔ سابق وزیر قانون زاہد حامد نے اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لیے ویڈیو پیغام دیا، دھرنا دینے والوں کے نمائندوں کے سامنے اپنے ایمان کی قسمیں کھائیں، حج و عمرہ کی تصویریں سوشل میڈیا میں ڈال دیں، ختم نبوت پر اپنے ایمان کا یقین دلایا اور اپنے استعفیٰ میں ایک بار پھر لکھا کہ وہ اور اُن کے آبائو اجداد پکے مسلمان ہیں۔

    ابھی تک انتخابی قوانین میں متنازع تبدیلیوں (جن کو درست کیا جا چکا ہے) کے معاملے پرکسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوئی اور توقع ہے کہ آئندہ ایک دو ہفتوں کے دوران راجہ ظفر الحق صاحب اپنی حتمی رپورٹ مکمل کر کے اپنے پارٹی رہنما کو دے دیں گے جس سے یہ پتا چلے گا کہ کیا جو ہوا وہ پارلیمنٹ کی مشترکہ غلطی کا نتیجہ تھا یا اس معاملہ میں کسی سازش کا بھی کوئی عمل دخل تھا۔ لیکن یہاں نتیجہ سے پہلے ہی زاہد حامد سے استعفیٰ لے کر اُنہیں نہ صرف ’’مجرم‘‘ بنا دیا گیا بلکہ اُن کے ایمان پر بھی سوال اُٹھا دیئے گئے۔ اب رانا ثنا اللہ کے استعفے کی بات ہو رہی ہے اور اُن سے بھی یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی خاص مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہوں جو وزیر قانون پنجاب کو سن کر فیصلہ کریں گے کہ آیا رانا ثنا اللہ سے استعفیٰ لیا جائے یا اُن کے مسلمان ہونے پر یقین کر لیا جائے۔ 

    راجہ ظفر الحق رپورٹ آنے کے بعد نجانے کتنے اور لوگوں کو اسی طرح اپنے ایمان کی تجدید کے لیے کسی نہ کسی مذہبی شخصیت کے سامنے پیش ہو کر اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنا پڑے گا۔ میڈیا میں ان معاملات پر بہت باتیں ہو رہی ہیں اور سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ سلسلہ اگر چل نکلا تو کہیں رکنے کا نام لے گا۔ عدالت اور میڈیا میں یہ بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا گزشتہ دنوں اسلام کے نام پر جس انداز میں احتجاج کیے گئے، جو زبان استعمال کی گئی، جس طرح قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا اُس کا کسی بھی طرح اسلام سے کوئی تعلق ہے؟ پاکستان کے جید علمائےکرام سے میری گزارش ہے کہ وہ مل بیٹھ کر ان معاملات پر مسلمانوں کی رہنمائی فرمائیں اور عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیں۔

    ویسے آج کل عدالتیں، میڈیا، سیاستدان اور حکمران اسلام کی تعلیمات کا کافی حوالہ دے رہے ہیں لیکن کوئی یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے ستر سال ہو چکے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا، ہمارا آئین اس ملک کو اسلامی ریاست بنانے کی ضمانت دیتا ہے لیکن کسی نے پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے عملی اقدامات کیوں نہ کئے؟ جب ریاست اسلام کے نفاذ سے ہاتھ کھینچ لے گی اور مذہبی معاملات کو دوسروں پر چھوڑ دیا جائے گا تو پھر یہی حال ہو گا جو آج پاکستان کا ہے جہاں مسجدیں فرقوں اور مسلکوں کے لحاظ سے پہچانی جاتی ہیں، فرقے اور مسلک اسلام سے آگے ہو گئے، جس کا دل چاہے جو فرقہ بنا لے کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہے کسی دوسرے کو کافر کا فتویٰ لگا دے۔

    آج ہماری یہ حالت ہے کہ اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا قتل کر رہا ہے۔ ان حالات کو ٹھیک کرنا ہے تو ریاست کو اپنی ذمہ دار ی پوری کرنی پڑے گی، قرآن و سنت کی تعلیمات عام کرنی ہوں گی، ہر تعلیمی ادارے میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ اور آپﷺ کا اسوہ حسنہ پڑھانا ہو گا، اپنی نسلوں کی تربیت اسلامی اقدار، روایات اور اصولوں کے مطابق کرنی ہو گی۔ حضرت محمد ﷺ سے کسی مسلمان کی محبت پر کسی دوسرے کو سوال کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن سیاستدانوں اور حکمرانوں سے اس بات کی توقع ضرور ہے کہ اس محبت کی خاطر وہ اس ملک میں نظام مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے اقدامات ضرور اٹھائیں گے۔

    جہاں تک میڈیا کا تعلق ہے، اُس کے بارے میں جو سپریم کورٹ کے معزز جج قاضی عیسیٰ نے کہا وہ غور طلب ہے۔ چند دن قبل فیض آباد دھرنے کا سو موٹو کیس سنتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ میڈیا کیوں فتنہ پھیلا رہا ہے؟ کیا میڈیا کا کام صرف پگڑیاں اچھالنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس دوران کس چینل نے اسلام کی بات کی؟ قاضی عیسیٰ نے کہا کہ نہ سرکاری ادارے نہ میڈیا اسلام کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام میڈیا چینلز کی انتظامیہ کو قرآن پاک، آئین پاکستان اور پیمرا قوانین کی کاپیاں بھجوائی جائیں۔ انہوں نے اس با ت پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس کیس کے گزشتہ سماعت کے دوران عدالت کی طرف سے قرآن و حدیث کے جو حوالے دیے گئے انہیں میڈیا نے اہمیت نہیں دی۔ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے میڈیا کو چاہیے کہ اپنی بگڑتی حالت کو دیکھے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

    انصار عباسی
     


older | 1 | .... | 112 | 113 | (Page 114) | 115 | 116 | .... | 149 | newer