Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 107 | 108 | (Page 109) | 110 | 111 | .... | 149 | newer

    0 0

    ایک چھوٹے سے منظر کی بات ہے۔ منظر جس نے ذہن میں چھوٹی سی شمع روشن نہیں کی، ایک بڑا سا الاؤ بھڑکا دیا۔ پہلے تویہ منظر نگاہوں کے سامنے سے یوں گزر ا جیسے چلتی ہوئی گاڑی کے اندر سے نظر آنے والا ہر منظر گزرا کرتا ہے۔ اس کے بعد وقت گزرتا گیا۔ وقت گزرتا ہے تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ مگراُس روز عجب واقعہ ہوا۔ وقت گزرا پر منظر نہ بدلا۔ جو ں کا توں رہا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ذہن پر اس کا جو نقش بنا تھا، آج تک بنا ہوا ہے۔اور کون جانے کب تک بنا رہے گا۔

    یہ ذکر برطانیہ کے شہر لیڈز کا ہے جہاں پچھلے دنوں میرا جانا ہوا۔ میرے دوست ظہیر احمد میرے میزبان تھے۔ اتوار کی صبح تھی، سڑکیں خالی اور شہر پرسکون تھا۔ صبح کی تازہ دھوپ میں ہلکی ہلکی حرارت اور دھلی ہوئی روشنی تھی۔ ظہیر احمد مجھے اپنی کار میں بٹھا کر شہر کے وہ مقامات دکھا رہے تھے جنہیں دیکھ کر منہ سے دو ہی لفظ نکلتے ہیں: کمال ہے۔ لیڈز کی دو بہت بڑی یونیورسٹیاں اور ملکہ وکٹوریہ کے زمانے کا تاریخی اسپتال دیکھتے ہوئے ہماری کار ایک موڑ پر مڑی تو اچانک حلوہ پوری کی مہک آہستہ سے کار میں داخل ہوئی۔ میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔ یہ ہم کہاں آگئے۔ میری جگہ کوئی بھی اجنبی ہوتا ، یہی پوچھتا۔ ظہیر صاحب نے بتایا کہ یہ لیڈز کی دور تک چلی جانے والے سیدھی سڑک ہیئر ہلز روڈ ہے۔ پھر دکانیں آنے لگیں، کاروباری مرکز راہ میں ملے اور ان کے اندر کیا تھا، اس کی تفصیل باہر لگے بورڈوں پر اردو میں لکھی تھی۔ یہ سڑک اور یہ علاقہ خیر سے پاکستان اور آزاد کشمیر کے باشندوں نے آباد کیا ہے اور یہاں جو رونق ہے، اُن ہی کے دم سے ہے۔ 

    صبح کی نکھری دھوپ میں سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ راہ میں ایک بڑا پارک پڑا۔ وہیں سڑک کے کنارے راہ گیروں کے لئے بنچیں ڈال دی گئی تھیں۔ دیکھا کہ ایک بنچ پر دو بزرگ بیٹھے بڑے ہی انہماک سے باتیں کر رہے ہیں۔ دونوں کی عمریں پچھتّر سے آگے نکل چکی ہوں گی۔ ہم ان پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ہندوستانی اور پاکستانی دکانیں اور طعام خانے دیکھتے ہوئے اور ان کے اردو بورڈ پڑھتے ہوئے ہم اپنی منزل پر جا پہنچے۔ کافی دیر بعد ، یوں کہوں کہ بہت دیر بعد ہم اُسی راستے واپس لوٹے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اب زیادہ چمکتی دھوپ میں، اُسی بنچ پر بیٹھے ہوئے وہی دونوں بزرگ دنیا زمانے سے بے خبر، اپنے حال میں مگن، خدا جانے کس موضوع پر کیسی گفتگو کر رہے تھے۔ ظہیر صاحب میرے تجسس کو بھانپ گئے اور بتانے لگے کہ یہ لوگ اصل میں آزاد کشمیر کے علاقہ میر پور کے باشندے ہیں۔ سنہ ساٹھ کے شروع کے برسوں میں جب برطانیہ میں داخلے پر پابندی لگنے والی تھی، تارکین وطن کا ایک ریلا انگلستان آیا تھا۔

    آپ جن بزرگوں کو دیکھ رہے ہیں ، اُن دنوں اِن کی عمریں اٹھارہ بیس برس رہی ہوں گی۔ یہاں آنے کے بعد یہ لوگ اپنی دلہنیں بھی میر پور سے بیاہ کر لائے۔ اب ان کے بچوں کے بال بھی سفید ہو رہے ہوں گے اور ان کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں گھرمیں انگریزی بول رہے ہوں گے۔ ان سے نئی نسل کا تعلق برائے نام رہ گیا ہو گا۔ کنبے کے درمیان رہ کر بھی یہ لوگ اکیلے ہوں گے۔ یوں سمجھئے کہ ان کی ضعیفی اپنے ساتھ غضب کی تنہائی لے کر وارد ہوئی ہے۔ بس یہ گھر گھر کا منظر ہے۔ جیسے بھی بنتا ہے یہ اپنا دن گزارتے ہیں، کبھی دوسرے ہم عمروں کے ساتھ یا کبھی بازاروں میں مال اسباب سے بھری دکانیں دیکھتے ہوئے۔ اس پر یاد آیا کہ اسی علاقے میں ایک گول چوراہے پر دو بہت بڑے اسٹور دیکھے۔ ظہیر احمد نے بتایا کہ یہاں میر پور کے ایک کنبے نے ایک چھوٹی سی دکان کھولی تھی۔ پھر پورے کنبے نے دن رات ایک کر کے یہاں اتنی محنت کی کہ آج ان کے دو بڑے اسٹور کھل گئے ہیں اور لاکھوں کا کاروبار کر رہے ہیں۔

    اس برادری کے ایسے ہی جوشیلے اور سرکردہ لوگوں نے ایک بڑا کام کیا ہے۔انہوں نے بچّوں، جوانوں، ادھیڑ عمر لوگوں اور بوڑھوں کے لئے ایک بڑا مرکز قائم کر دیا ہے۔ پوری برادری نے طے کیا ہے کہ یہ مرکز ہم سب کا ہے۔ اسی مناسبت سے مرکز کا نام ’ہمارا‘ رکھا گیا ہے۔ شروع میں اس کا ایک چھوٹا سا دفتر تھا اور دو جز وقتی ملازم یہاں بوڑھوں کو مصروف رکھنے کی تدبیریں کیا کرتے تھے۔ آج صورت یہ ہے کہ خاص طور پر بنائی گئی بڑی عمارت میں اقلیتی نسل کی ایک ایسی تنظیم قائم ہے کہ لیڈز میں ایسی کوئی دوسری رضاکار تنظیم موجود نہیں۔ مشہور علاقے بیسٹن میں بارہ لاکھ پاؤنڈ سے قائم ہونے والے اس ادارے میں بیس افراد کا عملہ ہے جو وہ سارے کام کر رہا ہے جن کا شمار نیکیوں میں ہوتا ہے۔ ضرورت مندوں کو مشورے دینا، صحت کی دیکھ بھال کرنا،تعلیم اور ٹیوشن دینا، بوڑھوں کو خدمات فراہم کرنا، معذوروں کی تعلیم و تربیت کرنا، خواتین کی سرگرمیوں کو فروغ دینا، کھیل کود اور ورزش کا اہتمام کرنا ، نو جوانوں کے لئے ہر طرح کی خدمات کا بندوبست کرنا اور برادری کو ایک دوسرے سے قریب لانا، یہ محض چند کام ہیں جو ’ہمارا‘ سر انجام دے رہا ہے۔ ان خدمات کا شہر کے اداروں نے اعتراف کرتے ہوئے ’ہمارا‘ کے کام میں بارہا ہاتھ بٹایا ہے۔

    ادارے میں ایک کتاب کی تعارفی تقریب تھی۔ شہر کے سرکردہ افراد آئے تھے۔ سب ہی سے ملاقات ہوئی۔ خاص طور پر تنظیم کے چیئر مین فاروق بٹ صاحب سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ان کا تعلق بھی میر پور سے رہا ہے۔ انگلستان آکر ایک    فضائی کمپنی میں ملازمت کی اور وہاں سے فارغ ہو کر کمیونٹی کی خاطر کچھ کر گزرنے کی ٹھانے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ’ہمارا‘ کی ترقی میں بہت حصہ لیا ہے اور ایک ہی فکر انہیں ستائے جاتی ہے۔ وہ یہ کہ برادری کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کس طرح ادارے کی طرف راغب کیا جائے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر عمر کے مرد اور عورتیں اپنے گھروں سے نکلیں، سماجی کاموں میں مصروف ہو کر اپنے وقت کو کارآمد بنائیں۔ وہ تمام سہولتیں جو موجود ہیں ان سے خوب خوب فائدہ اٹھائیں اور معاشرے کے مثالی شہری بنیں۔

    کام زور شور سے جاری ہے۔ لوگ آرہے ہیں اور استفادہ کر رہے ہیں۔ مگر جی چاہتا ہے زیادہ سے زیادہ لوگ آئیں۔ اب دوسری برادریوں کے لوگ بھی آرہے ہیں۔ ٹیوشن پڑھنے ساٹھ فی صد پاکستانی اور چالیس فی صد دوسری برادریوں کے نوجوان آنے لگے ہیں۔ ان میں گامبیا کے سیاہ فام لڑکے لڑکیاں بھی ہیں جنہیں’ ہمارا‘ بانہیں پھیلا کر خوش آمدید کہتا ہے۔ تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ میں نے فاروق بٹ صاحب سے پوچھا۔ کہنے لگے کہ ہم نے بزرگوں کا ایک کلب بنا دیا ہے جہاں ان کا دل بہلانے کے لئے ہر طرح کے کھیل فراہم ہیں مثلاً کیرم بورڈ ہے۔ آپ جا کر دیکھئے کیرم بورڈ دیوار سے لگا رکھا ہو گا اور سارے بزرگ حضرات پاکستان کی سیاست پر گرما گرم بحث کر رہے ہوں گے۔ اب اس میں ان کا کیا قصور۔ وہ برطانیہ کی سیاست میں مارگریٹ تھیچر اور ٹونی بلیئر کے کردار پر تو بحث کرنے سے رہے۔

    رضا علی عابدی
     


    0 0

    اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے اور بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی سے سشما سوراج کی تقریرکے جواب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری بھارت کو سیز فائرکی خلاف ورزی سے روکے، بھارت جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کی ماں ہے، کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں دہشتگردی کا اعتراف کیا، بھارتی حکمران جماعت کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، نریندرمودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہا، بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں، بھارت دہشتگردی کوریاستی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرتا ہے جب کہ بھارت کو مذاکرات کیلیے دہشت گرد پالیسی ترک کرنا ہو گی۔

    کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں، کشمیر پر بھارتی قبضہ غیرقانونی ہے، مذاکرات کیلئے بھارت کو دہشت گردی کی پالیسی ترک کرنا ہو گی، پاکستان تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتا ہے، کشمیرمیں بھارتی جرائم کی تحقیقات ہونی چاہیئں اور فریقین تنازعہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری مداخلت کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے ہر پڑوسی سے جنگیں لڑیں اورقائداعظم پرتنقید کرنے والوں کے ہاتھ گجرات میں مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سب سے بڑی منافقت ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت بہتان تراشی پراترآیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل سے انکار دھوکا اور جارحیت ہے، بھارت مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق پامال کر رہا ہے جب کہ بھارت نے اپنے ہرپڑوسی سے جنگیں لڑیں اوربھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی معاونت بند کرے۔
     


    0 0

    وہ تو آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ آج کے دور کی نسل ماضی کے مقابلے میں بہت تیز اور ذہین ہے۔ اور ان میں کام کرنے کی اہلیت اور صلاحیت زیادہ ہے۔ لیکن ایک حالیہ مطالعاتی جائزے نے اس خیال کو باطل قرار دے دیا ہے۔ حال ہی میں آج کے دور کے ٹین ایجرز اور 70 کے عشرے کے ٹین ایجرز کے درمیان موازنے سے یہ پتا چلا ہے کہ ان شعبوں میں، جس میں نوجوانوں کی دلچسپی ہوتی ہے، آج کے نوجوان، ماضی کے نوجوانوں سے کم از کم تین سال پیچھے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری رہنے والے اس جائزے میں ماہرین نے 83 لاکھ سے زیادہ ٹین ایجرز کے طرز عمل ، مشاغل اور مصروفیات سے متعلق اعداد و شمار کی جانچ پرکھ کی۔ ان اعداد و شمار کا تعلق امریکہ میں آباد 7 اہم قوموں سے تھا اور یہ ڈیٹا 1976 سے لے کر 2016 کے عرصے کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا۔

    نئی نسل سے متعلق ایک جریدے ، چائلڈ ڈیولپمنٹ ، میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے 13 سے 19 سال کے نوجوانوں کی مصروفیات کا جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ اپنا وقت کیسے گذارتے تھے۔ اس تجزیے میں جن پہلوؤں کو پرکھا گیا وہ تھا ملازمت کرنا، ڈرائیونگ کرنا، مخالف جنس کے ساتھ دوستیاں کرنا، اور شراب نوشی کرنا۔ ان چیزوں کی جانب امریکی ٹین ایجرز کم و بیش ہر دور میں راغب رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 70 کے عشرے اور موجودہ دور میں نوجوانوں کا موازنہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ثقافتی اعتبار سے بڑے پیمانے پر تبدیلی آ چکی ہے۔ 2010 کے عشرے میں ٹین ایجرز میں معاوضے کے لیے کام کرنے، ڈرائیونگ کرنے، ڈیٹ پر جانے، الکحل پینے اور والدین کے بغیر باہر جانے کا رجحان 70 کے عشرے کے مقابلے میں نسبتاً کم تھا۔ یہ تبدیلیاں امریکہ میں رہنے والی کسی ایک نسل یا قوم میں نہیں دیکھی گئی بلکہ اس میں مجموعی طور پر ہر رنگ اور نسل اور جنس سے تعلق رکھنے والے امریکی نوجوان شامل ہیں۔

    یہ مطالعاتی جائزہ امریکی ریاست سین ڈیاگو کی سٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے تحت کرایا گیا اور اس کی قیادت شعبہ نفسیات کے پروفیسر جین ٹوینگ نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ان دلچسپیوں میں نئی نسل کی دلچسپی کم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں 18 سال کا نوجوان جن سرگرمیوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے ،70 کے عشرے میں وہی کام 15 سال کی عمروں کے نوجوان کیا کرتے تھے۔ اس رجحان میں تبدیلی کی وجوہات کے متعلق نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ ترقی اور نئی ایجادات کی لہر نے آج کے نوجوانوں کے مشاغل تبدیل کر دیے ہیں ۔ اب ان کا زیاد وقت انٹرنیٹ پر گذارتا ہے۔ اور غالباً بلوغت سے منسلک سرگرمیوں کی جانب رغبت میں کمی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔
    نفسیاتی ماہرین کے ایک اور گروپ کا کہنا ہے کہ اس کلچرل تبدیلی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ آج کے نوجوان پر ، جو اس عمر میں عموماً زیر تعلیم ہوتے ، ہوم ورک اور غیر نصابی سرگرمیوں کا اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ ان کے پاس کچھ اور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہوتا۔

    تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں لیکن یہ طے ہے کہ آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان کے مقابلے میں خطرات اور ذمہ داریاں قبول کرنے سے کتراتا ہے۔ نیویارک کے ہنٹنگٹن ہاسپیٹل میں چیف میڈیکل آفیسر اور بچوں کے أمور کے ماہر مائیکل گروسو کہتے ہیں کہ اس وسیع البنیاد مطالعے کے نتائج ہماری اس عمومی سوچ سے مختلف ہیں کہ آج کے جدید اور پیچیدہ عہد کی نئی نسل کو اپنی عمر سے پہلے بڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ زوکر ہل سائیڈ ہاسپیٹل نیویارک کے بچوں کے شعبے کے ڈائریکٹر فارنیری کہتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ وقت انٹرنیٹ پر گذارنا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو بچے ٹیلی وژن یا کسی دوسری الیکٹرانک سکرین پر زیادہ وقت گذارنے سے روکیں، انہیں اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں، انہیں کتابیں پڑھنے اور اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے پر راغب کریں ۔

    جمیل اختر - واشنگٹن
     


    0 0

    انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے ہرن کیدانا علاقے میں بہنے والے نالے میں آس پاس کے مکانات اور کمپنیوں کا انسانی فضلہ اور فیکٹریوں کا کیمیکل جمع ہوتا ہے۔ قریبی سڑک کی خالی جگہ پر نالے سے کئی روز قبل نکالا گيا گندہ کچرا اب سخت ہوگيا ہے۔ اس سے نکلنے والی تعفن اتنا شدید ہے کہ سانس لینا مشکل ہے۔
    اسی نالے کو صاف کرنے کے لیے نیتو اور اجیت اس کے اندر گردن تک ڈوبے ہوئے تھے۔ کئی بار اس کا پانی ان کی ناک تک چلا جاتا، دونوں نے اپنا منہ زور سے بند کر رکھا تھا۔ ایک کے ہاتھوں میں بانس کی لمبی چھڑی تھی تو دوسرے کے ہاتھوں میں لوہے کا کانٹا جس سے وہ نالے کی تہہ میں پھنسے ہوئے کوڑے کچرے کو ہلانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ وہاں سے پانی کے نکلنے کی جگہ بنے۔

    نیتو نے اشارہ کیا: 'کالا پانی گیس کا پانی ہوتا ہے، وہی گیس جو لوگوں کی جان لے لیتی ہے۔' 'ہم بانس مار کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کوئی گیس موجود ہے کہ نہیں، اور پھر ہم اس میں داخل ہوتے ہیں۔ بندے اس لیے مر جاتے ہیں کیونکہ وہ بغیر اسے دیکھے ہی اس میں کود پڑتے ہیں۔' ایک دن میں 300 روپے کمانے کے لیے وہ نالے میں پائے جانے والے سانپوں اور مینڈک جیسے جانوروں کی بھی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ دبلے پتلے جانگیا پہنے ہوئے نیتو نالے سے نکل کر دھوپ میں کھڑے ہوئے تو ان کے بدن سے بہنے والا پسینہ اور جسم پر لگا گندہ کیچڑ ایک عجیب سی بو پیدا کر رہا تھا۔ سیور میں پائے جانے والے کانچ، کنکریٹ یا زنگ آلود لوہے سے نیتو کے پاؤں کئی بار زخمی ہو چکے ہیں۔ ان کے پیروں میں ایسے کچھ زخم ابھی بھی تازہ تھے کیونکہ ان کو بھرنے کا موقع نہیں مل پایا۔

    ایک غیر سرکاری ادارے 'پریکسس'نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دہلی میں سیور صاف کرنے والے تقریبا 100 خاکروب ہر برس ہلاک ہو جاتے ہیں۔ رواں برس جولائی اور اگست کے محض 35 دنوں میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے۔ ایک تنظیم 'صفائی ملازمین اندولن'کے مطابق سنہ 1993 سے انڈيا میں تقریبا 1500 خاکروب ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے نے اس کے دستاویزی ثبوت جمع کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لاکھوں لوگ اب بھی یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کام سے وابستہ بیشتر افراد کا تعلق دلت سماج سے ہے۔ سیور میں زیادہ تر اموات ہائیڈروجن سیلفائید کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

    وہ لوگ جو سیور میں کام کرتے ہیں انھیں دمہ، جلد اور پیٹ کی طرح طرح کی بیماریوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نیتو نے یہ کام 16 برس کی عمر سے شروع کیا تھا۔ دہلی میں وہ اپنے بہنوئی درشن سنگھ کی ایک فاسٹ فوڈ کی دکان میں رہتے ہیں۔ انھیں جُھگیوں میں بہت سارے خاکروب ملازمین رہتے ہیں۔ اس کے آس پاس آبادی اتنی زیادہ ہے کہ یہاں سانس لینے کے لیے بہت زور لگانا پڑتا تھا۔ دروازے پر کوڑے کے ڈھیر کو پار کر کے ہم درشن سنگھ کے ڈھابے پر پہنچے۔
    درشن سنگھ نے 12 برس تک صفائی کا کام کیا لیکن پاس کی ایک عمارت میں اسی کام کے دوران ان کے دو ساتھیوں کی موت ہو گئی جس کے بعد انھوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ 

    انھوں نے بتایا:'ایک اپارٹمنٹ میں ایک پرانا گٹر طویل عرصے سے بند پڑا تھا۔ اس میں بہت گیس تھی۔ ہماری جھگیوں میں رہنے والے دو افراد نے 2000 روپے میں اسے صاف کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا۔ پہلے جو بندہ گھسا وہ وہیں رہ گیا کیونکہ گیس بہت بھیانک تھی۔ اس کے بیٹے نے پاپا پاپا کی آواز لگائی۔ پاپا کی تلاش میں وہ بھی اندر گھسا لیکن واپس نہیں آیا۔ دونوں اندر ہی ختم ہو گئے۔ مشکل سے انھیں نکالا گیا۔ تبھی سے ہم نے یہ کام بند کر دیا۔' قانون کے مطابق ہاتھ سے سیور صاف کرنے کا کام صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے خاکروب ملازمین کی حفاظت کے کئی طرح کا ساز و سامان دینا ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت میں بیشتر ایسے ملازمین ننگے بدن کی حالت میں سیور میں کام کرتے ہیں۔ 

    اس طرح کے کام کے دوران ہلاک ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا معاوضہ دینے کی بھی تجویز ہے۔ لیکن 'آل انڈیا دلت مہاپنچایت'کے مور سنگھ کا کہنا ہے کہ اس کے لیے بہت جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور ہر شخص کو ایسی مدد نہیں مل پاتی ہے۔ حال ہی میں ایسے ہی ایک واقعے میں دہلی کے لوک جن نائیک ہسپتال کا گٹر صاف کرنے کے دوران 45 سالہ رشی پال کی بھی موت ہو گئی تھی۔ 'صفائی ملازمین اندولن'کے بیزواڑا ولسن کہتے ہیں: 'اگر ایک مہینے میں دہلی میں 10 گائیں مر جائیں تو ہنگامہ مچ جائے گا اور لوگ سڑکوں پر نکل آئيں گے۔ اسی شہر میں ایک ماہ میں 10 خاکروب ہلاک ہوئے لیکن ایک آواز نہیں اٹھی۔

    ایسی خاموشی روحانی ایذا کا سبب ہے۔' وہ کہتے ہیں: 'کوئی بھی شخص دوسرے کا پاخانہ پیشاب صاف نہیں کرنا چاہتا لیکن سماجی ڈھانچے کی وجہ سے دلت یہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ جب ہم مریخ پر جانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں تو پھر اس مسئلے سے کیوں نہیں نمٹ پا رہے ہیں۔' ولسن کے مطابق حکومت لاکھوں نئے بیت الخلا بنانے کی بات تو کرتی ہے لیکن ان کے لیے بنائے جا رہے پٹس یا گڑھوں کو صاف کرنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے۔ نیتو کے بہنوئی درشن سنگھ کہتے ہیں: 'ہم ان پڑھ ہیں۔ ہمارے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ خاندان کو پالنے کے لیے ہمیں یہ کام کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم کسی بند گٹر کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو افسر کہتے ہیں، آپ اس میں گھسیں اور ہمیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے مجبوراً یہ کام کرنا پڑتا ہے۔' '

    کئی بار ہم اپنے بچوں کو نہیں بتاتے کیونکہ یہ گندا کام ہوتا ہے۔ ہم ان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم مزدوری کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم نے انھیں سچ بتا دیا تو وہ ہم سے نفرت کرنے لگیں گے۔ کچھ لوگ شراب پیتے ہیں۔ مجبوری میں آنکھ بند کر کے کام کرتے ہیں۔' 'لوگ ہمیں دور سے پانی دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، وہاں رکھا ہے، لے لو۔ نفرت بھی کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ گندا کام ہے۔ ہم اگر نفرت کریں گے تو ہمارا خاندان کیسے چلے گا۔'

    ونیت کھرے
    بی بی سی، ہندی
     


    0 0

    کام یاب زندگی کو ہم خوشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ زندگی میں خوشی کااحساس سکون اور طمانیت عطا کرتا ہے اور یہی کام یاب زندگی کی علامت سمجھے جاتے ہیں لیکن فی زمانہ ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ خصوصاً خواتین بیشتر وقت پریشان رہتی ہیں۔ مختلف باتوں کی وجہ سے ہمہ وقت تفکرات میں گھری رہتی ہیں حالاںکہ خدا نے بے شمار نعمتیں اور رشتے عطا کیے ہوتے ہیں۔ مثلاً پیارکرنے والا شوہر، ہمدرد بہنیں اور سہیلیاں مگر پریشانیوں میں گھر کر وہ ایسے تمام پیارے رشتے اور بہت کچھ نظر انداز کر دیتی ہیں جب کہ زندگی میں یہ سمجھنا از حد ضروری ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کا محور ایک ہی شخص یا ایک ہی چیز کو نہیں بنا لینا چاہیے۔ خوشیوں کے رنگ تو ہر سو بکھرے ہوتے ہیں۔ کبھی بھی اپنی خوشیوں کو کسی بھی ایک معاملے، ایک رشتے، اور فرد واحد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

    مثال کے طور پر ایک خاتون جس کا شوہر بہت اچھا ہے ان کے تعلقات نہایت اچھے ہیں، گھریلو زندگی بہت خوش گوار ہے، بہت اچھی سہیلیاں ہیں، پیارے پیارے سے بچے ہیں لیکن اگر وہ دفتر میں اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں یا ان کی ترقی نہیں ہو رہی تو وہ خوش نہیں ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر مثبت انداز فکر سے سوچا جائے تو زندگی میں بے شمار رشتے اور دیگر معاملات بھی خوشیوں کا باعث ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین، پیار کرنے والے اہل خانہ، ہنس مُکھ سا بھائی، اورپیار کرنے والی بھابھی، لیکن اگر ساس کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوں تو وہ خاتون خوش نہیں رہتیں کیوں کہ ہم اپنے پاس موجود بے شمار نعمتوں اور پیارے پیارے رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی خوشیوں کا محور اس ایک شخص یا ایک معاملے کو بنا لیتے ہیں، حالاںکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

    ہر شخص کی زندگی میں ایسے بہت سے معاملات اور بہت سی باتیں اور بہت سے رشتے ہوتے ہیں جن کے متعلق سوچیں تو یاسیت، افسردگی اور بے چینی کا شکار ہو جائیں۔ شاید اپنی زندگی کے متعلق منفی انداز سے سوچنے لگیں لیکن زندگی میں کام یاب اور خوش وہی لوگ رہتے ہیں جو یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی زندگی میں ان چیزوں کو اپنا محور بنائیں ان کے متعلق سوچیں جو ہمیں بے حد پیاری ہوں، جو رشتے دل کے قریب ہوں۔ مثلاً بچے، اپنی پیاری اولاد، وہ بہترین سہیلی جو ہر سکھ دکھ میں ساتھ ہے۔ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نا ہوں لیکن وہ ہمیشہ ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ شوہر جو ہر معاملے میں ساتھ دیتے ہیں۔ زندگی میں آنے والے سرد و گرم میں ہمہ وقت ساتھ ہیں۔

    اکثر گھروں میں چھوٹے موٹے جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کی بنیاد پر کوئی فریق انتہائی قدم اٹھانے کے متعلق سوچنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر ساسوں کو بہووں سے بے انتہا شکایات ہوتی ہیں۔ دوسروں سے گفت گو کے دوران بھی ان کا یہ انداز ہوتا ہے کہ میں بہت پریشان ہوں، میری اور میری بہو کی بالکل نہیں بنتی اور شاید میں کسی دن خودکشی کرلوںگی۔ کتنی عجیب بات ہے کیوںکہ بہو تو صرف آپ کی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ آپ کی زندگی صرف اس حصے تک محدود نہیں ہے۔ اس خول سے باہر نکل کر دیکھیں کتنا کچھ ہے صرف انداز فکر تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ہم عموماً روزانہ گھر کے آنگن میں، بالکونی میں یا لان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں، کبھی محسوس کیا کہ خوب صورت پرندے اڑ رہے ہوتے ہیں، سامنے پارک میں لوگ ہنس رہے ہوتے ہیں، واک کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ کتنا خوب صورت منظر ہوتا ہے۔ باہر قدرت کے حسین نظارے ہمارے لیے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہی نہیں، ہم محسوس ہی نہیں کرتے کیوںکہ ہم اپنی سوچ کا محور صرف منفی چیزوں یا منفی باتوں کو بنا لیتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی سوچ کا انداز تبدیل کر لیں تو زندگی خود بخود خوب صورت ہوتی چلی جائے گی۔ اپنی زندگی میں مثبت سوچ کے ساتھ ایک نیا قدم اٹھائیں۔ مثبت سوچ کے ساتھ جینے کا عزم کریں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہونا یا ناخوش ہونا چھوڑ دیں۔ اگر شادی نہیں ہوئی، ہمسفر نہیں ملا تو یہ سوچیں کہ کنوارا رہنے کے کیا فائدے ہیں۔ ہر ذمے داری سے آزادی، اماں ابا سے لاڈ اٹھوانے کا بھی ایک اپنا ہی مزہ ہے۔

    اگر ذاتی گھر نہیں ہے تو کرائے کے مکان میں کیا کیا فائدے ہیں۔ اگر شوہر سے ناخوش ہیں تو اس کو سمجھنے کی کوشش کریں، خوش رہیں اور دیگر بہت سارے پیارے رشتے جو ارد گرد موجود ہیں ان کے متعلق سوچیں۔ صرف آنکھیں کھولنے، سوچ کے در وا کرنے، پریشان کُن صورت حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جب ہم کسی مسئلے سے اپنی توجہ ہٹا لیتے ہیں وہ مسئلہ خود بخود صحیح ہو جاتا ہے۔ رشتے خود بخود اپنی جگہ بنانے لگتے ہیں۔ معاملات ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ بہت زیادہ سوچنا اور متفکر ہونا چھوڑ دیں تو معاملات از خود بہتر ہونے لگیں گے۔ اس طرح اپنی زندگی کو ہر قدم پر تبدیل کریں۔ مثبت طرز فکر کے ساتھ چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے دامن کو بھرنے کی کوشش کریں۔ زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھر جائیں گے۔

    منیرہ عادل
     


    0 0

    سوچ سوچ کر تھک گیا لیکن پاکستان کی موجودہ افغان پالیسی کی منطق کو نہ سمجھ سکا۔ اگر تو اس کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے اندر ہندوستان کے اثرورسوخ کو روکا جائے تو الٹا وہ تو دن بدن بڑھتا گیا ۔ 1980 کے مقابلے میں آج افغانستان میں ہندوستان کا اثرورسوخ کئی گنا بڑھ گیا ہے ۔ اگر تو مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو زیر دست یا دوست رکھا جائے تو یہ مقصد بھی حاصل نہ ہو سکا۔ ستر کی دہائی کے مقابلے میں آج افغانستان کئی گنا زیادہ مشتعل اور پاکستان مخالف ہے ۔ پاکستان کا اثرورسوخ روز بروز کم ہو رہا ہے اور موجودہ پالیسی کے نتیجے میں پاکستان مخالف جذبات اس قدر بڑھ گئے کہ اب گلبدین حکمت یار جیسے لوگ بھی پاکستان کے حق میں لب کشائی نہیں کر سکتے۔ اگر تو مقصد یہ تھا کہ یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو تو یہ مقصد حاصل ہوا اورنہ موجودہ پالیسی کے ساتھ حاصل ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ستر کے مقابلے میں آج افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کئی گنا زیادہ استعمال ہو رہی ہے جب کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا اور نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے تو پھر اس پالیسی پر اصرار کا کیا جواز ؟۔

    بدقسمتی سے جس طرح پاکستان کی افغان پالیسی کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے ، بعینہ افغانستان کی پاکستان سے متعلق پالیسی کی منطق کو بھی کوئی ذی عقل سمجھ نہیں سکتا ۔ اگر تو مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے قریب جا کر پاکستان کو اپنے من پسند راستے پر لا یا جائے گا تو ایسا کچھ افغانستان کے ہاتھ بھی نہیں آیا۔ پاکستان جو تعاون آج سے چند سال پہلے کر رہا تھا ، اب وہ بھی نہیں کر رہا۔ جس قدرافغانستان تلخی بڑھاتا ہے ، اس قدر پاکستان بھی تلخی میں جواب دے رہا ہے ۔ پاکستان کو دور اور ناراض کر کے افغان حکومت نہ تو اپنے ہاں امن لا سکی، طالبان کو زیر کر سکی اور نہ انہیں مفاہمت پر آمادہ کر سکی۔ پہلے صرف طالبان کی مزاحمت تھی ، اب داعش کا بھی اضافہ ہو گیا۔ پہلے صرف پاکستان پر طالبان کی مدد کا الزام تھا لیکن اب روس اور ایران پر بھی یہی الزام لگ رہا ہے ۔ گویا پاکستان کو ناراض اور ہندوستان کو قریب کر کے افغانستان کی جھولی میں بھی کوئی خیر آئی اور نہ آسکتی ہے ۔ اب جب کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا اور نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے تو پھر پاکستان سے متعلق اس پالیسی پر اصرار کا کیا جواز ہے ؟۔

    نہ جانے پاکستان کو یہ بات سمجھ کیوں نہیں آرہی کہ جب تک افغانستان میں ایک مستحکم حکومت قائم نہیں ہو جاتی ، تب تک کوئی بھی افغان حکومت اس بات کو یقینی نہیں بنا سکتی کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور نہ جانے افغانستان کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ ضرورت سے زیادہ ہندوستان کے قریب جانے والی افغان حکومت کو پاکستان کبھی مضبوط کرنا نہیں چاہے گا۔ نہ جانے پاکستانی پالیسی ساز کیوں نہیں سمجھتے کہ جب تک افغانستان میں بدامنی ہو گی، پاکستان میں امن نہیں آسکتا اور نہ جانے افغان حکمران کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ پاکستان کو مطمئن کئے بغیر افغانستان میں امن لانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ۔ نہ جانے کیوں پاکستانی پالیسی ساز سمجھ نہیں رہے ہیں کہ افغانستان کتنا ہی مخالف کیوں نہ بن جائے وہ کبھی بھی ہندوستان جیسا دشمن نہیں بن سکتا اور نہ جانے افغان حکمران کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ ہندوستان کتنا ہی مہربان بن جائے وہ کبھی بھی افغانستان کے لئے پاکستان کا متبادل نہیں بن سکتا ۔ 

    مجھے سمجھ نہیں آتا کہ پاکستانی پالیسی ساز امریکہ کے آگے بھی جھک جاتے اور چین کی ہر بات بھی آنکھیں بند کر کے مان لیتے ہیں لیکن افغانستان کا معاملہ آئے تو جھکنے کی بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینا قومی وقار کا تقاضا سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح مجھے سمجھ نہیں آتا کہ افغانی پالیسی ساز امریکہ کی تابعداری کرتے ہوئے عار محسوس نہیں کرتے ۔ برطانیہ ، جرمنی اور روس کے نخرے بھی اٹھا لیتے ہیں ، اپنے مفادات کو ہندوستان کے مفادات پر بھی قربان کر لیتے ہیں لیکن جب پاکستان کا معاملہ آتا ہے تو اس کے سامنے کندھا جھکانا اسے افغان وقار کے منافی نظر آتا ہے ۔ چلو مان لیتے ہیں کہ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ بڑی بے وفائیاں کی ہیں لیکن کیا یہ بے وفائیاں امریکہ کی بے وفائیوں سے زیادہ ہیں ۔ پاکستان نے تو کبھی بھی امریکہ سے بدلہ لینے کا نہیں سوچا۔ اسی طرح چلو مان لیتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں مداخلت کی ہے لیکن یہ مداخلت کیا سوویت یونین اور امریکہ کی مداخلت سے زیادہ ہے ۔

    افغانی دوست کبھی روس اور امریکہ کو کیوں اس طرح جواب نہیں دیتے جس طرح پاکستان کو دیتے ہیں ۔ چلو مان لیتے ہیں کہ افغانوں نے پاکستان کے احسانات کا بدلہ دینے کی بجائے ہندوستان کے ساتھ دوستی بنالی لیکن ایسا تو ایران نے بھی کیا ۔ کیا اس سے پاکستان کو یہ جواز مل جاتا ہے کہ وہ ایران میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوشش کرے یا پھر ایرانی حکومت کے مخالفین کو سپورٹ کرے ۔ اسی طرح چلو مان لیتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان سے متعلق بڑے بڑے بلنڈرز کا ارتکاب کیا لیکن کیا سوویت یونین اور امریکہ کے بلنڈرز معمولی ہیں ۔ آج اگر ایران اور روس طالبان کو اثاثہ سمجھنے لگے ہیں تو کیا وہ پاکستان کی وجہ سے سمجھنے لگے ہیں یا پھر امریکہ کی وجہ سے ۔ پھر افغانستان میں ہر وقت امریکہ پر وہ تبرا کیوں نہیں بھیجا جاتا جو پاکستان پر بھیجا جاتا ہے ۔

    سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی سرے سے کوئی افغان پالیسی ہی نہیں ہے اور اس سے بھی بڑا سچ یہ ہے کہ افغانستان کی بھی پاکستان سے متعلق کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ پاکستان کی پالیسی بھی رد عمل پر مبنی ہے اور افغانستان کی پالیسی بھی رد عمل پر مبنی ہے ۔ پاکستان بھی روز روز پالیسی بدلتا ہے اور افغانستان میں بھی شخصیات اور واقعات کے ساتھ پالیسی بدل جاتی ہے ۔ پاکستان میں بھی افغانستان سے متعلق مختلف ادارے اور سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر نہیں ہیں اور افغانستان میں بھی پاکستان سے متعلق ہر سیاسی قوت اور فرد کی الگ الگ پالیسی ہے ۔ پاکستان ایک لیڈر یا ادارے کو راضی کرتا ہے تو دوسرا برہم ہو جاتا ہے اور دوسرے کو قریب لاتا ہے تو پہلا ناراض ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حکمران بھی افغانستان سے متعلق پالیسی میں خودمختار نہیں ہوتے تو اسی طرح افغان حکومت بھی پاکستان سے متعلق پالیسی میں خودمختار نہیں ہوتی بلکہ وہ امریکہ، ہندوستان اور دیگر قوتوں کے دبائو کے تناظر میں پاکستان سے متعلق پالیسی بناتی ہے ۔

    بدقسمتی سے گزشتہ سولہ سالوں کے دوران پاکستان نے افغانستان کے ساتھ خود افغانستان کے تناظر میں تعلقات بنانے اور چلانے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ وہ امریکہ کے آئینے میں افغانستان کو دیکھتا رہا ۔ اسی طرح افغانستان نے بھی پاکستان سے پاکستان کے تناظر میں تعلق نہیں بنایا بلکہ وہ بھی اس حوالے سے امریکہ پر انحصار کرتا رہا۔ پاکستان سوچتا رہا کہ امریکہ راضی ہو گا تو افغانستان خود بخود راضی ہو گا جبکہ افغانستان توقع کرتا رہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ جو بھی رویہ رکھے، امریکہ پاکستان کو اس کی مرضی کے مطابق چلاتا جائے گا۔ پاکستان افغانستان کو شکایت کرنے کی بجائے امریکہ کو اس کی شکایتیں لگاتا رہا جبکہ افغانستان بھی پاکستان سے براہ راست معاملات درست کرنے کی بجائے امریکہ کو ورغلاتا رہا۔ افغانستان پاکستان جیسے قریبی پڑوسی کو زیادہ گھاس اس لئے نہیں ڈال رہا تھا کہ امریکہ جیسی قوت اس کے ساتھ تھی جبکہ پاکستان امریکہ کی افغانستان میں موجودگی اور اس کے ارادوں کے تناظر میں پالیسی بناتا رہا ۔ اب المیہ یہ ہے کہ امریکہ دونوں سے یکساں نالاں نظر آتا ہے ۔ امریکہ اگر پاکستان پر برہم ہے تو افغانستان کی حکومت سے بھی خوش نہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اگر اپنے پالیسی بیان میں پاکستان کو دھمکیاں دی ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ اس نے افغانستان کی تعمیر نو کے عمل سے بھی اپنے آپ کو بری الذمہ کر دیا ہے۔ 

    لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس وقت امریکہ خود سب سے بڑھ کر کنفیوژڈ ہو گیا ہے ۔ جس طرح پاکستان کی افغانستان سے متعلق اور افغانستان کی پاکستان سے متعلق پالیسی واضح نہیں ، اسی طرح امریکہ کی بھی پاکستان اور افغانستان سے متعلق پالیسی واضح نہیں ۔ گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی فوجی اور افغان امور کے ماہر کرسٹوفر کولنڈا نے کہا کہ اس وقت واشنگٹن میں اسٹرٹیجک حواس باختگی والی کیفیت ہے ۔ اب امریکہ کے پاس افغانستان کے مستقبل کا کاغذی طور پر بھی کوئی واضح نقشہ نہیں ۔ یہ واضح نہیں کہ وہ طالبان سے متعلق کیا چاہتا ہے ۔ یہ واضح نہیں کہ جانا چاہتا ہے یا رہنا چاہتا ہے ۔ ایک چیز واضح ہے کہ اگر حل کا کوئی راستہ نہ نکلا تو افغانستان ایک ایسی تباہی کی طرف چلا جائے گا کہ خاکم بدہن ہم ماضی کی تمام تباہیوں کو بھول جائیں گے ۔

    اس تباہی کا امریکہ کو کوئی براہ راست نقصان نہیں ہو گا۔ اس سے چین ، روس اور ایران بھی بڑی حد تک اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں گے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکیں گے تو افغانستان اور پاکستان اپنے آپ کو نہیں رکھ سکیں گے ۔ یوں جتنی ضرورت آج پاکستان اور افغانستان کے ساتھ بیٹھنے کی ہے پہلے کبھی نہیں تھی ۔ اگر پاکستان نے صدق دل کے ساتھ افغان بحران کے حل کی کوشش نہیں کی اور اگر افغانستان نے صدق دل کے ساتھ پاکستان کے خدشات کو رفع کرنے کی کوشش نہیں کی تو نہ صرف یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ دونوں کو ناقابل تصور تباہیوں اور رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب روایتی سفارتی حربوں اور اگر مگر سے کام نہیں چلے گا۔ دونوں ممالک کو کھل کر اپنی اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا چاہئے ۔ اگر چین درمیان میں ثالث نہیں بلکہ ضامن کے طور پر بیٹھے تو بہت بہتر ہو گا۔ امید رکھنی چاہئے کہ دونوں ممالک کے ذمہ دار ہوش کے ناخن لے کر ایک نئے سفر کا آغاز کر دیں اور توقع کی جانی چاہئے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا متوقع دورہ کابل اس نئے سفر کا پہلا قدم ثابت ہو۔

    سلیم صافی
     


    0 0

    گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے فطری جذبات کا برملا اظہار کیا ہے ان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ایک ایسے موقع پر جب دنیا بھر کے سربراہان مملکت یا ان کے اہم نمائندے جنرل اسمبلی میں موجود تھے امریکی صدر نے کھل کر تیسری عالمی جنگ کا ڈنکا بجانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے منتخب مخالفین جن میں شمالی کوریا اور ایران نمایاں ہیں کا نام لے کر للکارا ہے اور دیگر نا پسندیدہ حلیفوں اور حریفوں کو تنبیہی طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اگر امریکہ کے احکامات پر سر تسلیم خم نہیں کریں گے تو انہیں اچھی طرح سبق سکھا دیا جائے گا.

    فی الحال پاکستان بھی ان کے نشانے پر ہے کیونکہ افغانستان میں طالبان اور دیگر مخالف گروہوں نے امریکی افواج و حکام کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں امریکہ اپنے تمام تر حواریوں کے تعاون اور کوششوں کے باوجود افغانستان کو زیر کرنے میں قطعی ناکام رہا ہے اس کا سارا الزام وہ پاکستان کے سر ڈال رہا ہے جبکہ اب تک پاکستان نے افغان جدوجہد میں پایا خاک نہیں کھویا ہی کھویا ہے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ تقریباً چار عشروں سے جھیل رہا ہے اور ان افغان مہاجرین کے طفیل اپنے ملک کا امن چین ختم کر لیا ہے وطن عزیز میں منشیات ایک وبائی ہیجان کے طور پر پھیلی اس کے ساتھ ان مہاجرین کی آمد سے قبل کوئی پاکستانی کلاشنکوف سے واقف نہیں تھا نہ وطن عزیز کے طول و عرض میں کہیں خود کش حملے ہوتے تھے یہ خود کش حملوں کا تحفہ بھی افغان حمایت کا ثمر ہے.

    اگر دیکھا جائے تو افغانستان کی داخلی جنگ میں امریکی مفادات کے لئے مداخلت کرنا پاکستان کو انتہائی مہنگا پڑا ہے اس کے باوجود امریکی سرکار کے بھاویں نہیں آتے ان کی چل مزید کی فرمائش رکنے کا نام ہی نہیں لیتی جو کام امریکہ سپر ترین پاور ہونے کے باوجود نہیں کر پا رہا اس کی توقع وہ پاکستان سے کیسے کر سکتا ہے اپنی ان ہی غیر معمولی توقعات کے باعث امریکہ پاکستان سے اپنی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان نے امریکہ کی بڑھتی ہوئی فرمائشیں اور سرد رویوں کے باعث اپنے قریبی ہمسایوں چین سے خصوصاً اور روس سے عموماً اپنے معاملات درست کرنے کی کوشش کی ہے کوئی بھی ملک لڑائی جھگڑوں، جنگ و جدل سے تو نہیں چل سکتا عوامی بہبود اور جغرافیائی کاموں کی بھی ضرورت ہوتی ہے.

    امریکہ بہادر مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینکوں سے جو قرضے منظور کرتا ہے وہ بھی بھاری سود پر جس کا سود ادا کرنے کے لئے مزید قرضوں کی ضرورت پیش آتی ہے امریکہ قرضہ بھی امداد کے طور پر دیتا ہے جبکہ چین نے پاکستان کے تعمیری ترقیاتی کاموں میں جو سرمایہ کاری کی ہے وہ اپنے تجارتی نقطہ نظر سے کی ہے روس بھی اگر دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے تو وہ بھی اپنے مفادات کے حصول کے لئے بڑھا رہا ہے تجارتی نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو وہ سرمایہ کاری اپنے اپنے مفادات کے لئے کر رہے ہیں لیکن اس کا بنیادی فائدہ پاکستان کو ہو رہا ہے۔

    آج کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی وہیں موجود ہیں سنا گیا ہے کہ وزیر اعظم عباسی صاحب نے امریکی صدر سے ملاقات کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے سر راہ گزرتے گزرتے ڈنر کے موقع پر چند لمحوں کی زبردستی کی ملاقات کو بھی لوگ بہت اہمیت دے رہے ہیں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ گزشتہ ستر برسوں میں امریکہ سے بہت سے معاملات میں سمجھوتے ہوئے ہیں پاکستان نے خود کو امریکی سرپرستی میں دیا ہوا ہے اس کا یہ مقصد نہیں کہ پاکستان نے خود کو امریکی غلامی میں دیا ہوا ہے ہونے کو تو اب تک ہمارے تقریباً تمام ہی سیاست دان اور فوجی حکمرانوں نے امریکی غلامی کو تسلیم کیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ امریکہ ہمیں وہ اہمیت نہیں دیتا جو ہمارا حق ہے ۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے امریکی نائب صدر مائیک پنسن سے اپنے وفد کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے اور ہم نے دنیا بھر سے کہیں زیادہ قربانیاں دی ہیں.

    پاکستان خطے میں امن کا شدید خواہشمند ہے ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اتنی عظیم قربانیوں کے باوجود ہمیں مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے طالبان کی سرپرستی کا الزام، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے، ہمیں سوچنا اور سمجھنا ہو گا کہ ہمارے لئے ہمارے وطن عزیز کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا بدتر ہے صرف لکیر کے فقیر بن کر بیٹھے رہنا حل نہیں ہے۔ اب دنیا کے حالات بدل چکے ہیں خود پاکستان جوہری قوت ہے اور ہر قسم کے میزائلوں کا حامل ہے ماضی کے مقابلے میں ہم اب ہر میدان میں اپنا وزن رکھتے ہیں امریکی صدر کی بے اعتنائی کے متحمل نہیں ہو سکتے ہمیں اپنے رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا.

    امریکہ اگر سپر پاور ہے تو ہوا کرے پاکستان پہلے ہی ایک سپر پاور کو جس کی سرحدیں بھی ملتی تھیں گھر بھیج چکا ہے جب تک تو پاکستان کے پاس جوہری قوت نہ ہونے کے برابر تھی یا بالکل نہیں تھی اب تو الحمدللہ ہماری جوہری قوت اور اس کے اثاثے دنیا پر آشکار ہو چکے ہیں پھر دو بڑی سپر پاور ہماری پشت پناہی پر آمادہ بھی ہیں پھر کیوں ہم امریکہ کی گیڈر بھبکیوں میں آرہے ہیں ہمیں اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہیے آخر کب تک ہم کاسہ لے کر ان کے سامنے کھڑے رہیں گے کیوں عذاب الٰہی کو آواز دیتے رہیں گے ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ دنیا دبتے کو ہی دباتی ہے ہمارے حکمران جانے کس خوف کا شکار ہیں، افغان مسئلہ امریکہ کے حلق میں پھنسا ہوا ہے اسے اپنی آن شان کا بھی احساس ہے اور اپنی ناکامیوں کا بھی۔ اسے نا نگلتے بن رہی ہے نہ اگلتے بن رہی ہے ہمیں سوچنا ہوگا سمجھنا ہوگا.

    ہمیں امریکی غلامی کا جوا اتار پھینکنا ہو گا ابھی موقع ہے افغانستان کے حالات کو قابو کرنے اور امریکہ کو وہاں سے نکلنے کا موقع فراہم کرنے کے سوال پر امریکہ سے معاملات کیے جا سکتے ہیں کم از کم بھارتی مداخلت تو ختم کرائی جا سکتی ہے۔ افغانستان سے امریکہ پاکستان کے اشتراک اور معاونت کے بغیر نہ مخالف گروہوں سے مذاکرات کر سکتا ہے نہ جنگ کر کے فتح حاصل کر سکتا ہے افغانستان کی طویل جنگ نے امریکہ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے عراق سے تو اس نے تیل کی صورت فائدہ حاصل کر لیا تھا لیکن افغانستان میں تو فوجی ساز و سامان افرادی قوت اور کثیر سرمایہ جھونکا جا رہا ہے جس نے امریکی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے اقتصادی طور پر امریکہ شدید خسارے میں ہے بے روز گاری دن بدن امریکہ میں بڑھ رہی ہے یہی موقع ہے کہ پاکستان کے تمام مقتدر ادارے ایک آواز ہو کر جس طرح انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے اسی طرح امریکہ سے اپنے تعلقات کو بہتر انداز میں استوار کرنے کے لئے آواز بلند کرنا ہو گی.

     ورنہ کل کلاں کو وہ ہمیں بھی برباد کرنے اور ختم کرنے کی دھمکی دے سکتا ہے امریکی صدر کی سوچ و فکر سے تو خود ان کے مشیران سلطنت پریشان ہیں اپنی فطری سوچ کے مطابق ہی وہ امریکی حکومت چلا رہے ہیں اگر وہ ایسے ہی چلتے چلاتے رہے تو پھر وہ دن دور نہیں جب کبھی بھی کہیں سے بھی تیسری عالمی ایٹمی جنگ کا آغاز وہ کر سکتے ہیں اللہ تعالیٰ تمام عالم کی حفاظت فرمائے، آمین۔

    مشتاق احمد قریشی
     


    0 0

    آثار قدیمہ کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ وہ اہرام مصر کی تعمیر کی پیچیدہ ترین گتھیوں میں سے ایک کا جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ سوال تھا کہ قدیم دور میں مصریوں نے اہرام مصر تعمیر کرنے کے لیے ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد وزنی چونا پتھر کس طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا۔ نئی تحقیق کے مطابق قاہرہ شہر سے باہر ایسا کرنے کے لیے مصریوں نے خاص اس مقصد کے لیے کشتیاں تیار کی تھیں جس کی مدد سے ان پتھروں کو ڈھویا جاتا تھا۔
    اس نئی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چار ہزار قبل، 2550 قبل مسیح میں تعمیر کیے جانے والا کنگ خوفو کا اہرام کیسے تعمیر کیا گیا تھا۔ ماہرین کو ایک عرصے سے اس بات کی آگاہی تھی کہ اہرام کی تعمیر میں استعمال ہونے والے کچھ پتھر گیزا سے آٹھ میل دور تورا کے مقام سے نکالے جاتے تھے جبکہ گرنائیٹ کا پتھر 500 میل دور سے لایا جاتا تھا لیکن اس بات پر محقیقن میں اتفاق نہیں تھا کہ وہ پتھر لاتے کیسے تھے۔ لیکن برطانیہ کے چینل فور پر اہرام مصر پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ آثار قدیمہ کے ماہرین نے چار سال قبل پاپیریس کا مخطوطہ، ایک کشتی کا ڈھانچہ اور پانی کی گزر گاہ کی اہرام کے پاس سے دریافت کی، جس سے یہ سمجھنے کے لیے نئی معلومات ملیں کہ مصریوں نے کس طرح اہرام مصر تعمیر کیے تھے۔

    ماہر آثار قدیمہ پیئر ٹیل جنھوں نے گذشتہ چار سال اس پاپیریس کے مخطوطے کو سمجھنے میں صرف کیے، بتاتے ہیں کہ 'یہ مخطوطہ غالباً دنیا کا سب سے پرانا مخطوطہ ہے۔' پیئر ٹیل کے مطابق اسے لکھنے والے شخص کا نام میریر تھا اور وہ 40 ملاحوں کے گروہ کا سربراہ تھا جن کا کام دریائے نیل کے ساتھ بنائی گئی پانی کی گزر گاہوں سے پتھر ڈھو کر لائے جائیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ دو دہائی کے عرصے میں تقریباً 23 لاکھ پتھر اس طرح سے اہرام کے مقام تعمیر پر لائے گئے تھے۔ 30 سال سے مصر میں کھدائی اور تحقیق کے ماہر مارک لہنر کا کہنا ہے کہ 'ہم نے اس علاقے اور گذرگاہ کی نشاندہی کر لی ہے جہاں سے پتھر گیزا کے میدان پر لائے جاتے تھے۔'
     


    0 0

    پاکستان میں برف پوش پہاڑوں سے لے کر لہلہاتے سبزہ زاروں تک، کئی ایسے سیاحتی مقامات ہیں، جن پر حکومت توجہ دے تو ملک میں سیاحت کو مزید فروغ مل سکتا ہے۔ پاکستان میں کے ٹو اور نانگا پربت کی برف سے ڈھکی چوٹیاں، دنیا بھر سے کوہ پیمائی کے شوقین افراد کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں تو فیری میڈوز، سری پائے اور ایسے ہی دوسرے سبزہ زار، سیاحت کے شوقین افراد کے لیے جنت نظیر ہیں۔ آزاد کشمیر کی وادیوں کا حُسن بھی، دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہی نہیں، وطن عزیزکی جھیلیں، دریا اور تالاب بھی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔

    ایسے میں ضرورت ہے تو بس باقاعدہ منصوبہ بندی اور حکومتی توجہ کی، جس کے ذریعے ان علاقوں میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے دنیا بھر میں ملک کا مثبت امیج ابھارنے میں بھی مدد ملے گی ۔ وادی سوات کا شمار پاکستان کے حسین ترین خطوں میں ہوتا ہے جہاں خوبصورت چشمے، شور مچاتے دریا، گنگناتے آبشار اور گھنے جنگلات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہے، ہر سال موسم گرما اور سرما میں سیاح سوات کے حسین مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ سوات کے علاوہ سیاح دیگر شمالی علاقوں، چترال، کاغان، ناران ، مری اور آزاد کشمیر میں بھی برف پوش چوٹیوں، چراگاہوں، گھنے جنگلات اور جھیلوں کا رخ کرتے ہیں اور زندگی کی حسین لمحات گزارتے ہیں۔

    سیاح ان مقامات میں نہ صرف حسین نظاروں کا مزہ لیتے ہیں ساتھ ہی مقامی جیولری، ہینڈی کرافٹس اور ڈرائی فروٹس کی شاپنگ بھی کرتے ہیں، اور واپسی پر اپنے خاندان کے دیگر افراد کیلئے بطور سوغات ساتھ لے جاتے ہیں۔ سیاح کہتے ہیں کہ اگر حکومت رابطہ سڑکوں کو ٹھیک رکھیں اور سہولیات فراہم کریں تو سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب بےبہا قدرتی مناظر اور تاریخی اور پرفضاء مقامات بلوچستان کےخوبصورت لینڈ اسکیپ کاحصہ ہیں۔


    صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کےنواح میں پہاڑوں میں گھری ہنہ جھیل ہو، زیارت میں صنوبر کے جنگلات ہوں یا وہاں قائداعظم کی خوبصورت ریذیڈنسی یا خضدار اوربولان میں قدرتی آبشاریں اورچشمے، پہاڑوں میں جا بجا قدرتی غاریں اور ان میں پائی جانےوالی مخلوق ہو، یا مہر گڑھ کی آٹھ ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار ہوں یا لسبیلہ اور پنجگور میں قدیم قبریں اور انگریز دور کے قلات، خاران، ژوب، تربت، پنجگور میں تاریخی قلعے اور پھر مکران کا طویل دلفریب ساحل۔ یہ سب ایسے مقامات ہیں جو قابل دید اورسیاحت ہیں مگرافسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود حکومتی سطح پر ان کی ترقی اوربہتری کے لئے کچھ نہیں کیا گیا۔


     


    0 0

    برصغیر پاک و ہند کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ اس خطے میں آفتاب اسلام کی ضیا پاشیوں کا سلسلہ عہد نبویؐ میں شروع ہو گیا تھا۔ اسی لیے حضور ختم المرسلینؐ کو اس طرف سے ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی تھی۔ سلطان محمود غزنوی (پیدائش : 2۔ اکتوبر 971 وفات : 30۔ اپریل 1030) نے اپنے 33 سالہ دور حکومت (997-1030) میں اس خطے پر سترہ حملے کیے۔ وہ جب 18۔ اکتوبر 1025 کو سومناتھ  پر یلغار کے لیے روانہ ہوا تو اس کے پیش نظر پرانی اور فرسودہ تہذیب کی گرتی ہوئی عمارت کو منہدم کرنا تھا۔ اسلام نے اپنی آفاقی تعلیمات میں توہم پرستی، شرک، بت پرستی، بے عملی، بزدلی اور بے ضمیری کی مسموم فضا کے خاتمے کے لیے ایک قابل عمل اور واضح لائحۂ عمل پیش کیا ہے۔ 

    تاریخ ہر دور میں اپنے ابراہیمؑ کی تلاش میں رہی ہے۔ یہ جہاں جسے ایک صنم کدے سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس میں مے رضا سے مست مرد حق پرست کے سامنے ایک ہی مطمح نظر ہوتا ہے کہ وہ ظلمت دہر کو توحید و رسالت کی تابانیوں سے منور کر دے۔ اس دنیا کے مال و دولت اور تمام رشتہ و پیوند کو بتان وہم و گماں سمجھا جاتا ہے۔ محمود غزنوی نے سومناتھ کو تہس نہس کر کے دیوتاؤں کی بے پناہ طاقت کے کھوکھلے دعوے کو طشت از بام کر دیا۔ (1) نظام کہنہ کے سائے میں عافیت سے بیٹھنے کے خواب دیکھنے والوں کو جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ قدیم اور فرسودہ تہذیب اور ثقافت کی گرتی ہوئی عمارت کے انہدام کا وقت آ پہنچا۔ اب اسلام کی ابد آشنا تعلیمات سے ہر طرف اجالا ہو گا۔ 

    اس کے بعد خاندان غلاماں (1206-1290)، خاندان خلجی (1290-1320)، خاندان تغلق (1320-1412) اور سید و لودھی خاندان(1413-1526) نے ان ہی خطوط پر کام کیا۔ اس کے بعد خاندان مغلیہ نے عنان اقتدار سنبھال لی اور یہاں کے سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے۔ مغل بادشاہوں کا یہ دور اپنے عروج کو پہنچا جب    اورنگ زیب (پیدائش : 4۔ نومبر 1618، وفات : 3 مارچ 1707) تخت نشین ہوا تو اس نے مغل سلطنت کو وسعت دی۔ اس کے عہد حکومت (31-3-1658 تا 3-3-1707) میں پورے بر صغیر پر مسلم اقتدار کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اورنگ زیب نے دکن میں بیجا پور اور گولکنڈہ کی اسلامی ریاستوں کے خلاف جو اقدامات کیے انھیں عوام نے پسند نہ کیا۔ اس کے نتیجے میں اسلامی حکومت کی قوت کو ضعف پہنچا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد اس کے جانشین اس وسیع حکومت کو سنبھال نہ سکے۔ اس حکومت کا خاتمہ اسی دن ہو گیا تھا جس دن اور نگ زیب کی آنکھیں بند ہوئیں۔ اس کے بعد بہادر شاہ اول، جہاں دار شاہ، فرخ سیر، رفیع الدرجات، شاہ جہاں دوم، نکو سیر، محمد ابراہیم، محمد شاہ، احمد شاہ بہادر، عالم گیر دوم، شاہ جہاں سوم، شاہ عالم دوم، اکبر شاہ دوم اور بہادر شاہ مغلوں کی عظمت رفتہ کی تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی اور نوحہ خوانی کے لیے لال قلعے میں مسند شاہی پر براجمان ہوئے۔ 

    تاریخ امم کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ جو اقوام بہادری اور عزم صمیم کو ترک کر کے طاؤس و رباب سے اپنا دل بہلاتی ہیں وہ اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتیں۔ سیل زماں کی مہیب موجیں انھیں خس و خاشاک کی طرح بہا لے جاتی ہیں۔ تاریخ کے مسلسل عمل اور تاریخی صداقتوں کو پس پشت ڈالنے والوں کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جغرافیائی تبدیلیاں دراصل تاریخی حقائق کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ اور نگ زیب کے نا اہل جا نشینوں نے اپنی بے بصری، کوڑھ مغزی اور جہالت مآبی کے باعث نظام سلطنت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ تخت نشینی کی جنگوں نے مغل بادشاہوں اور مغلیہ سلطنت کا وقار ختم کر دیا۔ مرکزی حکومت کی گرفت کمزور ہوتے ہی ریاستوں کے حکمران باغی ہو گئے اور طوائف الملوکی کے باعث نظم و نسق ابتر ہوتا چلا گیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مغلوں نے اپنے تین سو سالہ عہد اقتدار میں کوئی ایسا عظیم علمی ادارہ قائم نہ کیا جو قوم میں صحیح نظر و بصیرت کی تخلیق میں ممد و معاون ثابت ہوتا۔ 

    پروفیسر غلام شبیر رانا



    0 0

    ہم جانتے ہیں کہ ایپل آئی فون کی دسویں سالگرہ پر زبردست فیچرز کے ساتھ آئی فون ایکس یا آئی فون ٹین تیار کیا گیا ہے لیکن اب خود ایپل کارپوریشن کی جانب سے اس کی کم تعداد میں تیاری کی کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایپل آئی فون کےلیے اہم ترین پرزہ جات تیار کرنے والی کمپنیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خود ایپل نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے آرڈر کے مقابلے میں صرف 40 فیصد آرڈر ہی بھیجیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی فون ٹین کےلیے پہلے سے فراہم کردہ آرڈر میں غیرمعمولی اور غیرمتوقع کمی ہوئی ہے۔

    اس کے علاوہ بھی دیگر تجزیہ کاروں نے ایپل آئی فون ٹین میں عدم دلچسپی کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے قبل لندن میں نئے فون کے اجرا پر صرف چند درجن افراد ہی قطاروں میں دیکھے گئے۔ دوسری جانب اسمارٹ فون کا جائزہ لینے والی ویب سائٹ ’ڈجی ٹائمز‘ نے تائیوان کی بعض کمپنیوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایپل نے انہیں فون اور دیگر اہم پرزوں کی فراہمی کے آرڈر میں کمی کا حکم دیا ہے۔
    اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ آئی فون ٹین سے قدرے سستے آئی فون 8 کی طلب میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے جب کہ کچھ افواہیں زیرِ گردش رہیں کہ خود ایپل نے بھی آئی فون ایکس کی باقاعدہ تیاری شروع نہیں کی ہے۔ 

    آئی فون کی پیداوار میں کمی کی ان خبروں کا اثر خود ان کئی کمپنیوں پر بھی دیکھا گیا جو آئی فون کےلیے کام کرتی ہیں اور ان کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسی طرح ایپل کمپنی کے حصص میں بھی 0.9 فیصد کمی دیکھی گئی اور ماہرین نے اس کی وجہ ان ہی خبروں کو بتایا ہے جب کہ دیگر تجزیہ نگاروں کے مطابق پوری دنیا میں نئے آئی فون کے پہلے دن کوئی غیرمعمولی قطاریں اور رش نہیں دیکھا گیا۔
     


    0 0

    ٹیکسلا کے کھنڈرات راولپنڈی سے تقریباً بیس میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔ یہ شہر بھی پرانے زمانے میں ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی طرح ایک وسیع و عریض اور بارونق شہر تھا۔ ٹیکسلا شہر کے صحیح حالات ابھی تک معلوم نہیں ہو سکے لیکن ہندوئوں کی کتاب ’’مہا بھارت‘‘ نیز یونانی اور چینی مورخوں نے اس پر کچھ روشنی ڈالی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ٹیکسلا کے کھنڈرات تین شہروں پر مشتمل تھے بھڑکا ٹیلا‘ سرکپ اور سرسکھ وغیرہ قدیم ترین شہر سرائے کھولہ۔ چھٹی صدی قبل از مسیح میں یہ علاقہ تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا یہاں ایک بہت بڑی یونیورسٹی تھی جس کی وجہ سے یہ جگہ عالموں اور فاضلوں کا مرکز تھی۔

    اس کے علاوہ یہ بڑا خوشحال علاقہ تھا جس کی دولت لوٹنے کے لیے بعد کے زمانے میں کئی غیر ملکی حملہ آوروں نے اس پر بے شمار حملے کئے۔ سب سے پہلے اس پر سکندر اعظم نے حملہ کیا یہی وجہ ہے کہ اس پر یونانیوں کا اثر رہا پھر ستھمین اور پاتھین آئے۔ ان کے بعد کشن آئے اور کئی سو سال تک حکمران رہے۔ ان کے بعد سفید ہن حملہ آور ہوئے اور انہوں نے بڑی تباہی مچائی۔ یہاں کے قدیم باشندے بدھ مت کے پیروکار تھے اسی لیے بدھ مت اور جین مت کے پیروئوں کے ٹوپ اور سمادھیاں یہاں کثرت سے نظر آتی ہیں جس میں چیر ٹوپ‘ بھڑمائونڈ‘ کنال کا ٹوپ ‘ موہڑ امرادو‘ جولیاں‘ لال چگ اور جنڈیال کے قدیم آثار بے حد مشہور ہیں۔

    وادی ٹیکسلا خوبصورت ‘ سرسبز و شاداب اور دلفریب تاریخی شہر ہے جس کے تین ا طراف کو بلند پہاڑوں نے گھیر رکھا ہے۔ شمال مشرقی حصے میں ایک پہاڑ ہے۔ مشرق میں خان پور ضلع ہزارہ کے پہاڑ ہیں اور جنوب مشرق میں مارگلہ کی پہاڑیوں کا سلسلہ ہے۔ ان ہی پہاڑوں کے دامن میں بدھ مت پروان چڑھا۔ بڑے بڑے جنگجو اس وادی پر قابض رہے۔ اپنے وقت کے بادشاہوں نے اس علاقے کو پایہ تخت بنایا۔ یہ تمام علاقہ اپنے اندر قدیم حالات و واقعات پر محیط ایک ہزار سال کا سنہری دور چھپائے ہوئے ہے یعنی شواہد کی رو سے سات سو سال قبل از مسیح سے لے کر پانچ سو سال بعد از مسیح تک اس دوران دور دراز کے ممالک سے فنون کا تبادلہ ہوا اور بہت سے مکاتب فکر کو مختلف ادوار میں عروج ملا جو بعد میں ایک دوسرے میں ضم ہوتے رہے۔

    ان تمام مکاتب فن میں جو بات سب سے ز یادہ نمایاں اور مشترک تھی‘ وہ صرف اور صرف بدھ مت کی اشاعت تھی۔ یعنی مہاتما بدھ کی ز ندگی کے حالات و واقعات کو پتھر یا دوسری اشیاء مثلاً چکنی مٹی اور چونے کے پتھروں پر تصویری شکل میں کندہ کر کے عبادت گاہوں میں آویزاں کیا جاتا تھا۔ یہ فن آج کے دور میں ’’گندھارا آرٹ‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ وادی ٹیکسلا میں کھدائی کے دوران تین قدیم شہر اور درجن سے زائد بدھ مت کی عبادت گاہیں اور خانقاہیں دریافت ہوئیں۔ سب سے قدیم شہرکے کھنڈرات ’’بھرکا ٹیلہ‘‘ کے نام سے آج بھی موجود ہیں۔ یہ شہر ساتویں صدی قبل از مسیح سے لے کر دوسری صدی قبل از مسیح تک آباد رہا۔

    دوسرا شہر’’سرکپ‘‘ کے نام سے دریافت ہوا جو دوسری صدی قبل از مسیح سے دوسری صدی بعداز مسیح تک آباد رہا۔ تیسرے قدیم شہر کے کھنڈرات ’’سرسکھ‘‘ کے نام سے مشہور ہیں۔ جن دنوں ٹیکسلا کی وادی میں کھدائی کا کام اپنے عروج پر تھا۔ سرجان مارشل نے 1912ء میں ا یک نہایت دلفریب علاقے کا چنائو کر کے اس میں ایک خوبصورت اور باوقار عجائب گھر ) Museum ( تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 2 نومبر 1918ء کو ایچ ای لارڈ چیمس فورڈ‘ وائسرائے و گورنر جنرل ہندوستان نے اس عجائب گھر کا سنگ بنیاد رکھا اور 1928ء میں ایک پروقار تقریب میں اس میوزیم کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔ اس عجائب گھر میں سجائے گئے تمام نوادرات ٹیکسلا کی وادی سے کھدائی کے دوران حاصل کئے گئے تھے۔

    اس عجائب گھر میں تین بڑے بڑے ہال ہیں مرکزی ہال نسبتاً بڑا ہے۔ اس ہال میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے بھی ہیں اس ہال کے وسط میں ’’موہڑہ مراد‘‘ میں دریافت ہونے والے ایک اسٹوپہ کی نقل رکھی گئی ہے۔ یہ ہال پتھر پر تراشیدہ بتوں اور پتھروں سے بنی ہوئی دیگر اشیاء پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی ہال میں متفرق اشیاء جن میں لوہا ‘ تانبہ اور پتھروں سے بنائی گئی اشیاء اور آگ میں بنے ہوئے مٹی کے برتن ا ور کھلونوں کی نمائش کی گئی ہے۔ مرکزی ہال کے دو کمروں میں سکے‘ چاندی کے برتن‘ زیورات اور ایک سوئی ہوئی سازندہ کی نقل مورتی ہے۔ دوسرے کمرے میں سونے کے زیورات ہیں۔

    شیخ نوید اسلم



    0 0

    اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے ادارے یونیسکو کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے چھ بچے اور 20 برس سے کم عمر کے نوجوان سیکھنے کے عمل میں مہارت کی بنیادی سطح تک پہنچنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس رپورٹ کے نتائج کو 'حیرت انگیز'قرار دیا ہے جو 'سیکھنے کے بحران'کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

    غریب ترین بچے، اعلیٰ ترین تعلیم
    تعلیم کے لیے دی جانے والی بین الاقوامی امداد کی توجہ زیادہ تر خصوصاً افریقہ میں صحرائے صحارا کے زیریں علاقے کے غریب ممالک یا پھر شورش زدہ علاقوں میں سکولوں تک رسائی نہ ہونے پر رہی ہے۔ لیکن یونیسکو انسٹیٹیوٹ فار سٹیٹسٹکس کی تازہ تحقیق نے سکولوں میں دی جانے والی تعلیم کے معیار کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سکول جانے والے 60 کروڑ سے زیادہ بچوں میں ریاضی اور مطالعے کی بنیادی مہارت نہیں ہے۔

    بڑی تقسیم
    تحقیق کے مطابق صحرائے صحارا کے زیریں علاقے میں 88 فیصد بچے اور نوجوان بالغ ہونے تک مطالعے میں بنیادی مہارت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور وسطی اور جنوبی ایشیا میں 81 فیصد افراد خواندگی کی مناسب سطح تک نہیں پہنچ پاتے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سماجی اور معاشی ترقی کے عزائم آبادی کو خواندہ بنائے اور شمار کیے بغیر پورے نہیں ہو پائیں گے۔ شمالی امریکہ اور یورپ میں صرف 14 فیصد جوان افراد اپنی تعلیم اس انتہائی نچلی سطح پر چھوڑتے ہیں لیکن اقوام متحدہ کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سکول جانے والے صرف 10 فیصد بچے ایسے ترقی یافتہ خطوں میں رہتے ہیں۔

    یونیسکو انسٹیٹیوٹ آف سٹیٹسٹکس کی ڈائریکٹر سلویا مونٹویا کہتی ہیں 'ان میں سے زیادہ تر بچے اپنی کمیونٹیز اور حکومت کی نظروں سے پوشیدہ یا کہیں الگ نہیں ہوتے بلکہ وہ کمرۂ جماعت میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ 'معیارِ تعلیم کی بہتری کے لیے اس پر کہیں زیادہ رقم خرچ کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک ویک اپ کال ہے۔' 'سکولنگ ود آؤٹ لرننگ'کا مسئلہ عالمی بینک نے بھی رواں ہفتے جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں اٹھایا ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد ایسی تعلیم حاصل کر رہے تھے جو انھیں کم تنخواہوں والی اور غیر محفوظ نوکریوں کے جال میں پھنسا دیتی ہے۔

    عالمی بینک کے صدر جم یونگ کِم نے رپورٹ کو متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں ناکامیاں 'اقتصادی اور اخلاقی بحران'کی نشاندہی ہیں۔ تحقیق کاروں نے کینیا، تنزانیہ، یوگینڈا اور نکاراگوا کے طالبعلموں کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ وہ آسان جمع تفریق نہیں کر سکتے اور سادہ جملے بھی نہیں پڑھ سکتے۔ ان کے مطابق جاپان کے پرائمری سکولوں میں شاگردوں کی بنیادی مہارت 99 فیصد تک پہنچ گئی تھی لیکن مالی میں یہ شرح صرف سات فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ممالک کے اندر بھی وسیع پیمانے پر خلیج موجود ہے۔ کیمرون میں پرائمری سکول کے اختتام پر صرف پانچ فیصد غریب لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ پاتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں امیر گھروں کی 76 فیصد لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھتی ہیں۔

    ذمہ دار کون ہے؟
    عالمی بینک کی تحقیق میں ان عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ایسی خراب کارکرگی کا سبب ہیں۔ اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ غریب ممالک میں طالب علم ایسی حالت میں سکول آتے ہیں جس میں سیکھا نہیں جا سکتا۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ کئی طلبا خوراک کی کمی کا شکار اور بیمار ہوتے ہیں۔ محرومیاں اور ان کی گھریلو زندگی میں غربت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ انھوں نے جسمانی اور ذہنی نشوونما کے بغیر ہی سکول آنا شروع کر دیا ہے۔ تدریس کے معیار کے بارے میں بھی تحفظات ہیں کہ بہت سے ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہیں۔
    صحرائے صحارا کے زیریں علاقوں کے چند ممالک میں اساتذہ کا غیر حاضر رہنا بھی ایک مسئلہ تھا جو کہ اساتذہ کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے منسلک ہے۔
    عالمی بینک کے چیف اکنامسٹ پال رومر کا کہنا ہے کہ ایمانداری سے اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ بہت سے بچوں کے سکول میں ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ قابل قدر انداز میں سیکھ بھی رہے ہیں۔ 

    جانچ پڑتال کی کمی
    رپورٹ میں معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے جانچ پڑتال کی کمی اور طلبا کی کامیابیوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی عدم دستیابی کے بارے میں بھی خبردار کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مغربی ممالک میں بہت زیادہ جانچ پڑتال کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے، لیکن تحقیق کاروں نے ان ممالک کی بھی نشاندہی کی ہے جنھوں نے پیش رفت کی ہے۔ ان ممالک میں جنوبی کوریا اور ویتنام شامل ہیں۔ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ میں تعلیم پر خرچ کرنے کے بین الاقوامی سطح پر وعدے کیے گئے ہیں۔ فرانس کے صدر امینول میخواں کا کہنا تھا کہ 'میں نے طے کرلیا ہے کہ تعلیم کو فرانس کی ترقی اور خارجہ پالیسی میں سب سے پہلی ترجیح رکھوں گا'۔

    برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور اقوام متحدہ کے تعلیم کے سفیر گورڈن براؤن کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم پر عالمی شراکت داری چاہتے ہیں جو تعلیمی منصوبوں پر امداد کو سہل بنائے۔ اس کے لیے سنہ 2020 تک دو ارب ڈالر ہونے چاہییں۔ یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے انسانی امداد کے بجٹ کا آٹھ فیصد تعلیم پر خرچ ہو گا۔ ایجوکیشن ابوو آل فاؤنڈیشن، یونیسیف اور دیگر فلاحی اداروں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شام میں ایسے بچوں کی تعلیم پر اضافی چھ کروڑ ڈالر خرچ کریں گے جنھوں نے لڑائی کی وجہ سے سکول چھوڑ دیا ہے۔ گورڈن براون کا کہنا ہے کہ'ہمارے تعلیمی اہداف کے لیے فنڈنگ کرنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت ایک بچے کو ڈیسک پر بٹھانے کے، اس سے مواقع اور امید کے دروازے کھلیں گے'۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان میں گردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کے واقعات عام سننے میں آتے
    ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ وہ کیا سماجی عوامل ہیں جن کے سبب لوگ اپنے جسم کا قیمتی عضو بیچنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ میڈیکل سنٹر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظر دیوار سے لگے بیڈ پر بیٹھی چالیس سال کے لگ بھگ ایک خاتون پر پڑی جن کے چہرے پر کمزوری اور پریشانی دونوں کی آمیزش تھی۔ جوں ہی میں نے اپنا تعارف میڈیا کے نمائندے کے طور پر کروایا تو وہ ایک دم بولیں،’’ پلیز میری تصویر مت بنائیے گا۔ میری بچیوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔‘‘ میں نے آہستہ سے اُن کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا،’’ آپ پریشان نہ ہوں، اگر آپ نہیں چاہیں گی تو میں آپ سے کوئی بات نہیں کروں گی۔ تسلی رکھیں کوئی کام آپ کی مرضی کے خلاف نہیں ہو گا۔‘‘

    خاتون نے تشکر بھرے لہجے میں کہا کہ ایک بیوہ اور تین بچیوں کی ماں کے لئے اس کی سب سے بڑی دولت اس کی عزت ہی ہوتی ہے اور یہ کہ اگر اُن کی تصویر اس معاملے میں اخبار میں چھپی تو بہت برا ہو گا۔ میری یقین دہانی پر خاتون کا اعتماد بحال ہوا اور اُنہوں نے اپنی کہانی بیان کرنا شروع کی لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ میں اُن کا اصل نام اور پتہ نہیں لکھوں گی ۔ پتہ چلا کہ تین بیٹیوں کی یہ بیوہ ماں کئی سالوں سے گردوں کی خرابی کے مرض میں مبتلا تھیں۔ بہت علاج کروایا لیکن مرض بگڑتا ہی چلا گیا۔ آخر ایک ماہ قبل ڈاکٹر نے انہیں گردے کی پیوند کاری کا مشورہ دے دیا۔ یہ خاتون اسی کشمکش میں تھیں کہ ایک روز ہسپتال کے وارڈ بوائے نے انہیں مسئلے کے حل کی ترکیب بتاتے ہوئے سترہ لاکھ روپوں کا بندو بست کرنے کو بھی کہا۔ اس پر بچیوں نے باپ کی طرف سے ماضی میں خریدے گئے پلاٹ کو بیچنے کا مشورہ دیا کیونکہ اُن کے نزدیک ماں کی زندگی زمین سے زیادہ قیمتی تھی۔

    غرض یہ کہ زمین بیچی، وارڈ بوائے کے ذریعے رقم ڈاکٹر کو جمع کرائی گئی اور مذکورہ خاتون نوشہرہ کے علاقے پبّی کے دُعا میڈیکل سنٹر میں علاج کے لئے داخل ہو گئیں۔ آپریشن اگلے روز کرنا طے پایا لیکن آپریشن سے قبل ہی ایف آئی اے اور پبی پولیس کے مشترکہ چھاپے میں آپریشن کرنے والی ٹیم کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس ٹیم میں سرجن سمیت نو افراد شامل تھے۔ گرفتاری کی وجہ گردے کی غیر قانونی پیوند کاری بتائی گئی۔ اب وہ بیوہ خاتون اور اُن کی بیٹی پریشان تھیں کہ اتنی بڑی رقم بھی ہاتھ سے گئی اور علاج بھی نہ ہو سکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ کلینک کا مالک طیب فرار ہو چکا تھا۔ ان ماں بیٹی کے ساتھ ساتھ گردہ فروخت کرنے والا عباس بھی پریشان تھا کہ آخر اس کو ملنے والے اُن دو لاکھ روپوں کا کیا ہو گا جن کی امید پر وہ پنجاب سے خیبر پختونخوا آیا تھا۔

    ماں بیٹی اور عباس کی پریشانی کا قصہ سننے کے بعد جب میں وارڈ کی طرف گئی تو ننکانہ صاحب کے رہائشی بابر کا قصہ اور بھی پریشان کن تھا۔ بابر وہ نوجوان تھا جس کا رات کے پچھلے پہر گردہ نکال کر افغانستان کے سمیع اللہ کو لگایا جا رہا تھا۔ لیکن عین آپریشن کے دوران ہی چھاپہ پڑ گیا۔ بابر نے گفتگو کے دوران بتایا کہ اُس پر لوگوں کا بہت قرض واجب الادا تھا جسے اتارنے کے لیے اُس نے گردہ بیچنے کا فیصلہ کیا۔ بابر اور عباس کی ایک ہی جیسی کہانی تھی بس چہرے اور نام مختلف تھے۔ لیکن اس سارے معاملے میں سب سے اہم وہ کردار تھے جو قصوروار ہوتے ہوئے بھی اس سارے کھیل سے فی الحال باہر تھے۔ بیوہ خاتون جس شخص کو وارڈ بوائے کہہ کر بلا رہی تھی، عباس اسے ڈاکٹر ظفر کہہ کر تو بابر، احمد علی کے نام سے پکار رہا تھا۔

    تاہم یہ پتہ لگانا کہ اصل مجرم کون ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ فی الحال پبی کے اس میڈیکل سنٹر کو سِیل کر کے مریضوں کو پشاور کے حیات آباد کڈنی سنٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 

    صحافی فرزانہ علی

    بشکریہ DW اردو


    0 0

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق سیمینار میں خطاب پر تنقید کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں انہیں طلب کر لیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس نو منتخب چیئرمین خسرو بختیار کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کی رکن اسمبلی شیریں مزاری سمیت کئی اراکین وزیر خارجہ کے حقانی نیٹ ورک اور کالعدم تنظیموں سے متعلق دیئے گئے بیان پر پھٹ پڑے اور کہا کہ خواجہ اصف کے بیانات سے پاکستان کے لیے مزید مسائل بڑھائیں گے۔

    اراکین کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے اور وضاحت مانگی جائے، کیونکہ وہ جس قسم کے بیانات دے رہے ہیں وہ امریکی پالیسی کو ماننے کے مترادف ہے۔ شیریں مزاری بولیں وزیر خارجہ سے کالعدم تنظیموں کے معاملے پر بریفنگ لی جائے ۔ خواجہ آصف سے کلبھوشن یادیو اور نئی امریکی پالیسی سے متعلق بھی پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں، لیکن امریکہ کے’ ڈو مور‘کے مطالبے اور اپنا گھر ٹھیک کرنے کو درست قرار دینا مسلح افواج کی دہشت گردی کے خلاف ان قربانیوں کی نفی ہے۔
    شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر خارجہ کا ہی اگر پالیسی کے خلاف بیان دے گا تو دشمن کی ضرورت نہیں، پتا نہیں وزیر خارجہ کن کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔
     


    0 0

    امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شمالی کوریا سے رابطے میں ہے مگر پیانگ یانگ کی جانب سے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی ایسی کوئی دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
    امریکی وزیرخارجہ نے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ امریکا اور شمالی کوریا ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں جبکہ امریکا بات چیت کے ممکنہ راستوں پر غور کر رہا ہے۔
    بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا کہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ میں رابطے کے ذرائع ہیں جنھیں استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ گفتگو کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

    واضح رہے کہ چین شمالی کوریا کا روایت طور پر مرکزی حمایتی ملک ہے اور اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا پر ان کے جوہری پروگرام کی وجہ سے لگائی جانے والی پابندیوں کی حمایت کے باوجود اس کی خواہش ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا مذاکرات کے لیے راضی ہو جائیں۔ دوسری جانب امریکا کا موقف ہے کہ چین کے پاس شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام پر قابو پانے کی کنجی ہے۔ یاد رہے کہ ریکس ٹیلرسن کے دورے کے بعد نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دور صدارت میں چین کا پہلا دورہ کریں گے۔

    حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے مابین لفظوں کی جنگ میں شدت آئی ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری اس تناؤ کے باوجود ماہرین کی جانب سے دونوں ممالک کے مابین براہ راست تصادم کے خطرہ کو زیادہ نہیں ابھارا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ 'راکٹ مین خود کش مشن پر ہے'۔ دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'خودکش مشن'پر ہیں۔
     


    0 0

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقبل مندوب ملیحہ لودھی نے اگرچہ بھرپور انداز اختیار کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے پیلٹ گن کے چھرّوں سے چھلنی چہرے والی فلسطینی بچی کی تصویر بھی دکھائی جس پر نہ صرف پاکستانی بلکہ بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں بھی انہیں خوب تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ملیحہ لودھی نے عالمی فورم پر جو غلطی کی وہ یقیناً پاکستان کی جگ ہنسائی کا سبب بنی لیکن بعض اوقات شر سے بھی خیر کا پہلو برآمد ہو جاتا ہے اور عسر میں یسر پوشیدہ ہوتی ہے۔ شاید ایسا ہی کچھ ملیحہ لودھی کے ساتھ بھی ہوا۔ میں یہاں قطعی طور پر ملیحہ لودھی سے ہمدردی کا اظہار نہیں کرنا چاہتا لیکن ان کی تقریر نے ایک ہی وقت میں کشمیر اور فلسطین کا ایشو اجاگر کر کے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ ضرور حاصل کر لی۔

    اگر ملیحہ لودھی کسی بھارتی فوجی کی پیلٹ گن سے متاثرہ کسی کشمیری لڑکی یا لڑکے کی تصویر پیش کرتیں تو شاید بین الاقوامی میڈیا ان کی تقریر کو اتنی زیادہ اہمیت نہ دیتا اور پاکستان کا مؤقف آمدن، نشستن، گفتن اور برخاستن سے کچھ مختلف نہ رہتا، لیکن ملیحہ لودھی کی غلط تصویر نے اس معاملے کو چار سے پانچ روز تک مسلسسل میڈیا اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنائے رکھا جس سے پوری دنیا کو بھارت اور اسرائیل کے مظالم کا پتا چلتا رہا۔ بھارت میں بھی میڈیا کے بڑے ساہو کاروں نے ملیحہ لودھی کی اس تصویر کو خوب تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سب سے تجربہ کار مندوب کی جانب سے پیلٹ گن سے متاثرہ بچی کی جو تصویر پیش کی گئی وہ تو عالمی ایوارڈ یافتہ تصویر تھی جو فلسطینی بچی کی تھی۔ 

    بھارتی میڈیا کی جانب سے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ خود بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور دیگر مذاہب کے رہنے والوں کو بھی اخبارات، میڈیا اور دیگر ذرائع سے پتا چل گیا کہ وہ تصویر غلط ہے۔ لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پیلٹ گنز سے نوجوانوں کو نابینا کر رہی ہے اور اس ساری کارروائی میں بھارتی فورسز کو ہندو انتہا پسند حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ملیحہ لودھی نے جس فلسطینی بچی کی تصویر اقوام متحدہ میں دکھائی وہ پاکستانی عملے نے کشمیر میڈیا سروس سے لی تھی۔ 

    تو جناب! کشمیر میڈیا سروس ایک چھوٹا سا خبر رساں ادارہ ہے جو بہت ہی کم وسائل اور بھارتی جبر کے باوجود بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر رہا ہے لیکن ملیحہ لودھی تو بھرپور سرکائی وسائل اور فوج ظفر موج عملے کے ساتھ دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی اگر وہ اس طرح کی سنگین غلطیاں کریں گی تو ان کا یہ فعل ناقابل معافی جرم ہو گا اور انہیں اس غلطی کیلئے حکومت اور عوام کے سامنے جوابدہ بھی ہونا پڑے گا۔

    سعید احمد
     


    0 0

    پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کے نتیجے میں غیرملکی سیاحوں کی آمد میں 3  گنا اضافہ ہو گیا۔ امریکی نشریاتی ادارہ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے سے سیاحتی صنعت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچا اور 2013 کے بعد سے غیرملکی سیاحوں کی آمد میں 3 گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے سیاحوں کو راغب کرنے کی مہم بھی شروع کی ہے اور رواں موسم گرما میں برطانوی دارالحکومت لندن میں چلنے والی سرخ بسوں پر بڑے بڑے اشتہارات بھی نصب کیے۔ پاکستان میں پرفضا مقامات کا سفر آسان کرنے کے لیے سڑکوں کی حالت بھی بہتر بنائی گئی ہے۔

    پاکستان ٹورازم ڈولپمنٹ کارپوریشن کے مطابق 2013 کے بعد غیرملکی سیاحوں کی تعداد 3 گنا اضافے کے ساتھ 2016 میں ساڑھے 17 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جب کہ مقامی سیاحوں کی تعداد 30 فیصد اضافے کے ساتھ 3 کروڑ 83 لاکھ ہو گئی۔ عالمی سفری و سیاحتی کونسل کے مطابق پچھلے سال سیاحت کے شعبے سے پاکستان کو 19.4 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی جو جی ڈی پی کا 6.9 فیصد بنتی ہے۔ عالمی کونسل کے مطابق ایک عشرے میں پاکستان کی یہ آمدنی بڑھ کر 36.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ برطانیہ میں ٹریول کمپنی کے منتظم جانی بیلبی نے بتایا کہ ان کے پاس پچھلے سال کے مقابلے میں پاکستان کے ٹورز میں 60 فیصد اضافہ ہو گیا ہے جس کی بنیادی وجہ سیکورٹی صورتحال کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی بہتری بھی ہے۔ 

    پاکستان میں ہوٹل بکنگ کی ویب سائٹ کے مطابق کمروں کی بکنگز میں بھی 80 فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ بلوم برگ کے مطابق غیرملکی سیاحوں کے لیے پاکستان کے ویزا کا حصول مہنگا بھی ہے اور مشکل بھی لہذا یہ مسئلہ سیاحوں کی آمد میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان ٹورازم ایجنسی کے ترجمان مختار علی کے مطابق سردست پاکستان میں 16 ممالک کے شہریوں کو ویزا آن ارائیول (پاکستان پہنچنے کے بعد ائرپورٹ پر ویزا فراہمی) کی سہولت موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ کراچی میں بھی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے جو گینگ وار اور سیاسی خونریزی کے حوالے سے مشہور ہے۔

     


    0 0

    فیس بک نے ایپل کے فیس آئی ڈی کا اپنا ورژن تیار کر لیا ہے اور اب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اکاﺅنٹ چہرے سے لاک یا ان لاک کیا جا سکے گا۔ فیس بک نے چہرے کے ذریعے صارف کی شناخت کے نئے فیچر کو آزمانا شروع کر دیا ہے۔ یہ فیچر اس وقت انتہائی کارآمد ثابت ہو گا جب کسی صارف کو ٹو فیکٹر آتھنٹیکشن ایس ایم ایس تک رسائی حاصل نہ ہو، جیسے موبائل سروس بند ہونا یا طیارے میں سفر یا بیرون ملک جانا وغیرہ۔ فیس بک نے بھی اس فیچر کی تصدیق کی ہے۔ ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کے لیے ایک نئے فیچر کی آزمائش کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے اکاﺅنٹ ریکوری کے دوران اپنی ملکیت کو فوری طور پر ثابت کر سکیں۔

    بیان میں بتایا گیا کہ یہ فیچر صرف ان ڈیوائسز پر استعمال ہو سکے گا جو صارف لاگ ان کے لیے استعمال کر چکے ہوں گے، یہ اکاﺅنٹ کو ایس ایم ایس کے ذریعے اوپن کرنے سے ہٹ کر اسے محفوظ بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔ فیس بک کے مطابق اگر یہ فیچر صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا تو اسے جلد زیادہ صارفین کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔ گزرے برسوں کے دوران فیس بک نے اس طرح کے کئی اقدامات کیے ہیں جس کا مقصد لاک اکاﺅنٹ کو اپن کرنا ہے۔
    اس سے قبل فیس بک کو فوٹو ٹیگ سجیشن کے حوالے سے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی پر کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا جو کہ پرائیویسی کے لیے بھی خطرہ قرار پایا تھا۔ اب یہ نیا فیچر کس حد تک فائدہ مند یا مفید ہو گا یہ تو سامنے آنے کے بعد ہی صحیح طور پر علم ہو سکے گا۔
     


    0 0

    دنیا کے جدید شہروں کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے کہ وہ موبائل فون کی ٹون سے ’جاگتے‘ اور اسی کی ٹون سے’سوتے‘ ہیں۔ اپنی اہمیت کے سبب وہ خود کبھی ’خاموش‘ نہیں ہوتے۔ پاکستانی معیشت کو پر کشش بنانے اور ترقی کی راہوں پر بہت تیزی سے گامزن کرنے میں موبائل فون سروس نے انتہائی اہم اور باقی سب صنعتوں سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ حتیٰ کہ یہ معیشت کا سب سے اہم ’چارہ‘ ہے مگر خود بہت ’بے چارہ‘ ہے۔ محرم آئے، عید منائی جائے، عید قربان ہو یا کوئی اور بڑا تہوار اس ’بے چارے‘ کو گھنٹوں کے لئے خاموش کر دیا جاتا ہے اور ملک بھر میں موجود 14 کروڑ موبائل فون صارفین کا رابطہ ایک دوسرے سے ’کٹ‘ جاتا ہے۔

    رواں ہفتے بھی جمعہ سے اتوار کی رات تک تینوں دنوں یہاں موبائل فونز 12،12 گھنٹے ’بے جان‘ پڑے رہے۔ یقیناً ماہرین معاشیات کی نظر میں ’یہ ملکی ترقی کو بریک لگ جانا'ہے۔ ماہرین کے نزدیک ،’'محرم میں جلسے، جلوس کی سیکورٹی مقدم ہے۔ لیکن، موبائل فون کی بندش کا متبادل ہو سکتا تھا مگر کبھی اس جانب شاید زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔'‘ متبادل نہ ہونے کے سبب ہی پچھلے تین دنوں تک کراچی، لاہور، حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور ، ڈیرہ اسماعیل خان، جڑانوالہ، ملتان، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، رحیم یار خان، لاڑکانہ، خیرپور۔غرض کہ کون سا شہر اور صوبہ نہیں تھا جہاں موبائل فون سروس معطل نہ رہی ہو۔

    بجلی کے بعد فون کی بھی غیر اعلانیہ بندش
    گزشتہ سالوں تک صرف نو اور دس محرم کو موبائل فون سروس بند ہوا کرتی تھی مگر اس بار پہلے سے غیر اعلانیہ 8 محرم کو بھی سروس معطل رکھی گئی۔ بندش کے سبب ایک جانب عوام پریشانی و اذیت میں مبتلا رہی تو دوسری جانب یقیناً معیشت کو بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    فون سروس کی معطلی ، مسئلے کا واحد حل؟
    ملک بھر کی عوام کو جب بھی اپنے خیالات حکام بالا تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے یا وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے دل کی بات کہتی ہے تو یہ شکوہ ضرور کرتی ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کا کیا صرف یہی ایک حل ہے؟ اتنے سالوں سے بار بار بندش آڑے جاتی ہے اور اس کا اب تک کوئی متبادل نظام تلاش نہیں کیا گیا، حالانکہ جدید دنیا اس مسئلے کے حل سے خالی نہیں۔

    موبائل فون ۔۔ ترقی میں پیش پیش
    اعداد و شمار گواہ ہیں کہ جس صنعت نے حالیہ سالوں میں سب سے زیادہ معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے ان میں ٹیلی کمیونی کیشن یا موبائل فون کی صنعت سرفہرست ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں موبائل فون صارفین کی تعداد 14 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔ پی ٹی اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 5 سب میرین کیبلز کام کر رہی ہیں اور سالانہ 74 ہزار ٹیرا بائٹ ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے اور ملک کے 72 فیصد سے زائد حصے میں ٹیلی کام سروسز دستیاب ہیں۔

    ادارہ شماریات اسلام آباد کے مطابق یہاں موبائل فون کی درآمدات میں صرف 2 ماہ یعنی جولائی اور اگست 2017ء میں 30 اعشاریہ 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دو ماہ کا حال یہ ہے تو باقی سال کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ حکومت کو سیکورٹی کے سبب موبائل فون سروس بند کرنے کے بجائے فوری طور پر اس کا متبادل تلاش کرنا ہو گا ورنہ معیشت کو اسی طرح بار بار بریک لگتے رہیں گے جس کا پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک قطعی متحمل نہیں ہو سکتا۔ معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ معیشت کو اس قدر پرکشش ترقی دلانے کے باوجود اگر فون کی ’بے چارگی‘ ختم نہ ہوئی تو معیشت کو پہنچنے والا اس سے بڑا دھچکا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔

    وسیم صدیقی

    بشکریہ وائس آف امریکہ
     


older | 1 | .... | 107 | 108 | (Page 109) | 110 | 111 | .... | 149 | newer