Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 103 | 104 | (Page 105) | 106 | 107 | .... | 149 | newer

    0 0

    صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 6 سال قبل فہیم شمشاد کو قتل کرنے والے امریکی سیکیورٹی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے مقتول کے اہل خانہ کے زخم دوبارہ ہرے کر دیے۔ مصطفیٰ آباد میں واقع اپنے گھر پر فہیم کی والدہ حلیمہ بی بی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ وہ ہر روز اپنے بیٹے کو یاد کرتی ہیں اور اس غم نے انہیں بستر تک محدود کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2011 میں امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں فہیم اور فیضان نامی 2 افراد کو قتل کر دیا تھا، حال ہی میں امریکی جاسوس کی کتاب 'دی کنٹریکٹر'سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے اپنی یادداشتوں کو بیان کیا تھا۔

    فہیم کی والدہ حلیمہ کا کہنا تھا کہ امریکی ایجنٹ کے ہاتھوں قتل ہونے والا ان کا 21 سالہ بیٹا الیکٹریشن تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اُس صبح کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں جب انہوں نے اپنے بیٹے کو گھر سے روانہ کیا۔ فہیم کے والد شمشاد اور بڑے بھائی وسیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے لاعلم تھے کہ فہیم بھی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہا تھا۔ نپے تُلے الفاظ میں وسیم نے بتایا کہ فہیم اور فیضان کے اہل خانہ کو دیت کی ادائیگی میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل پاشا کا کوئی کردار نہیں تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ خون بہا کے ذریعے ریمنڈ کی رہائی میں اہم کردار اُس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے ادا کیا۔ وسیم کے مطابق جب وہ عدالت پہنچے تو کمرہ عدالت میں ایسے انتظامات کیے گئے تھے کہ ہم ریمنڈ ڈیوس کو نہ دیکھ پائیں. انہوں نے کہا کہ اہل خانہ نے دیت کا فیصلہ صرف قومی اور ملکی مفاد میں تسلیم کیا، جب اہل خانہ کو علم ہوا کہ ان کی جانب سے دیت تسلیم کرنے کو فیصلے پر لوگ ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں تو وہ کئی ہفتوں تک منظرعام پر نہ آئے، بعد ازاں انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مصطفیٰ آباد کے علاقے میں گھر خریدا اور یہاں رہائش اختیار کر لی۔

    وسیم کا مزید کہنا تھا کہ ڈیوس کے خلاف فہیم کے قتل کی ایف آئی آر ان کی شکایت پر درج ہوئی تھی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ دہشت گردی، ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال اور امریکی جاسوس سے ملنے والے حساس مقامات کے نقشوں کے حوالے سے دفعات ایف آئی آر میں شامل نہیں کی گئیں۔ فہیم کے والد شمشاد نے بتایا کہ ان کا مرحوم بیٹا پانچ بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹا اور اہل خانہ کا لاڈلہ تھا، ان کے بیٹے کی شادی کے صرف 3 ماہ بعد اس کا قتل ہو گیا جس کے بعد اس کی بیوہ نے بھی خودکشی کر لی۔
     


    0 0

    نائجیریا، انگولا، زمبابوے، بینن اور انگولا کے صدور اور پاکستان کے وزیرِ اعظم میں کیا مشترک ہے؟ ان میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ انھیں اپنے ملک کے صحت کے نظام پر بھروسہ نہیں ہے۔ نائجیریا کے صدر اپنے مذکورہ ہم منصبوں میں پہلے ہیں جنھوں نے بیرونِ ملک طبی امداد کے لیے سفر کیا لیکن گذشتہ سال تمام مذکورہ صدور صحت کی وجہ سے بیرون کا سفر کر چکے ہیں۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف بھی گذشتہ برس لندن میں علاج کروا چکے ہیں۔

    بہت سے معاملوں میں ان حکمرانوں نے اپنے ملک کی کم فنڈ والی طبی خدمات کو خیرباد کہا ہے جس پر ملک کے تقریبا تمام تر شہریوں کا انحصار ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی صحت کے ادارے کے مطابق سنہ 2010 میں افریقی ممالک میں صحت کی فنڈنگ 135 امریکی ڈالر فی کس تھی جبکہ امیر ممالک میں یہ رقم 3150 امریکی ڈالر کے مساوی ہے۔ صحت کے نگراں ادارے سیٹیزن ہیلتھ واچ کے مطابق زمبابوے جیسے ملک میں سرکاری ہسپتالوں میں عام درد کش اور اینٹی بایوٹک دوائیں بھی بعض اوقات ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فنڈ کی کمی کے سبب سرکاری طبی نظام تشویشناک انداز میں روبہ زوال ہے۔

    بی بی سی ابوجا کے مدیر نظیرو میکائیلو کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں سرکاری طبی نظام انتہائي خستہ ہے۔ حکومت کے ملازمین اور پرائیویٹ سروسز میں صحت کے بیمے کی سکیم کے تحت کچھ لوگوں کو پرائیویٹ طبی سہولیات تک رسائی حاصل ہے جبکہ زیادہ تر افراد کا سرکاری ہسپتالوں پر ہی انحصار ہے۔ ان دونوں ممالک میں اچھے نجی طبی نظام پیسے والے لوگوں کے لیے دستیاب ہیں لیکن بعض معاملوں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ بیرون ملک میں بہتر سہولیات ہیں۔
    نائیجیریا کے 74 سالہ صدر محمد بخاری رواں سال اپنے علاج کے لیے چار ماہ برطانیہ میں گزار چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔

    زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے سنہ 1980 سے اقتدار میں ہیں اور رواں سال تیسری بار علاج کے لیے سنگاپور جانے پر ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ ہسپتال سے ملک چلا رہے ہیں۔ انگولا کی حکومت نے مئی کے مہینے میں بتایا کہ صر جوز ایڈوارڈو دوس سینٹوس، جو 38 سال سے صدر ہیں، انھوں نے علاج کے لیے سپین کا سفر کیا ہے۔ لیکن نائجیریا کی طرح یہاں کی حکومت کو پریشانیوں کا سامنا نہیں ہے۔ حزب اختلاف کے ترجمان ایورسٹو دا لوز نے کہا کہ ان کے دورے سے ان کی چار دہائیوں کی حکومت کی نااہلی ثابت ہوتی ہے جو یہ دکھاتی ہے کہ صحت کی سہولیات کی حالت کتنی خستہ ہے۔

    الجیریا کے 80 سالہ صدر عبدالعزیز بوتفلیکا کی صحت ایک عرصے سے ناساز ہے۔ سنہ 2013 میں ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا اور انھیں سنہ 2014 میں ہونے والے انتخابات میں ویل چیئر پر ووٹ ڈالنے جاتے دیکھا گيا اور بعد میں وہ فرانس کے ایک ہستال میں علاج کے لیے گئے تھے۔ بینن کی حکومت اپنے نسبتاً کم عمر صدر 59 سالہ پیٹرس ٹیلن کی صحت کے بارے میں تشویش رکھتی ہے۔ وہ جون میں علاج کے لیے فرانس گئے جہاں حکومت کے مطابق ان کے پراسٹیٹ اور نظام انہضام کے دو آپریشن ہوئے۔ لیکن دوسرے ملک علاج کے لیے جانے کی وجہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں کسی بھی صدر کے ترجمان نے یہ نہیں کہا کہ بیرون ملک عام طور پر طبی سہولیات بہتر ہیں۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     



    0 0

    پاکستان کا قیام، برطانوی سامراج کے خلاف برعظیم کے مسلمانوں کی دو سوسالہ جدوجہد کا حاصل اور ثمر ہے۔ جہاں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام خاص ہے، وہیں ایک تاریخی جدوجہد اور اس میں پیش کی جانے والی بیش بہا قربانیوں کا پھل بھی ہے۔بظاہر سات سال پر محیط تحریکِ پاکستان کے نتیجے میں جو ملکِ عزیز قائم ہوا، الحمدللہ، اس نے سارے مصائب اور خطرات، دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی کوتاہیوں اور بے وفائیوں کے باوجود اپنی آزادی کے 70 سال مکمل کر لئے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ پاکستان ربِّ کائنات کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، جن مقاصد کے لئے برعظیم کے مسلمانوں نے جدوجہد کی تھی، وہ ضرور حاصل ہوںگے۔

    اس کی قدر کے پورے احساس کے ساتھ یہ تاریخی لمحہ اس امر کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ خلوص اور دیانت سے جائزہ لیں کہ ان 70 برسوں میں ہم نے کیا پایا اور کیا کھویا؟ تحریک پاکستان کے اصل مقاصد کیا تھے؟ اور پاکستان کا وہ تصور اور وژن کیا تھا، جس کے حصول کے لئے برعظیم کے مسلمانوں نے جدوجہد کی، اور آج ہم اس سے کتنا قریب ہیں اور کتنا دُور ہو گئے ہیں؟ یہ جائزہ دیانت داری سے لیا جانا چاہئے کہ ہماری مثبت اور منفی پہلو کون کون سے ہیں اور ان سے کس طرح نجات حاصل کی جا سکتی ہے؟ نیز ایک نئے عزم کے ساتھ اصل وژن کا ادراک اور تفہیم اور اس کے حصول کے لئے صحیح لائحہ عمل کا شعور اور اس کے لئے موثر اور فیصلہ کن جدوجہد کا عزم اور اس میں تیاری وقت کی ضرورت ہے۔ یہ امر پیش نظر رہنا چاہئے کہ پاکستان کا قیام ،تحریک پاکستان کی حتمی سات سالہ جدوجہد کا حاصل نہیں بلکہ یہ 200 سال سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی اس تحریکِ آزادی کا ثمر ہے، جو برطانوی سامراج کے برعظیم میں قدم جمانے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اور جس کے کم از کم تین بڑے واضح مرحلے دیکھے جا سکتے ہیں:

    اولاً، عسکری قوت سے سامراجی حکمرانوں کا مقابلہ اور مسلم اقتدار کی بحالی۔
    ثانیاً، سیاسی جدوجہد کا آغاز اور برعظیم کے تمام ہم وطنوں کے ساتھ مل کر سیاسی آزادی کی ایسی جدوجہد کہ جس میں مسلمان اپنا نظریاتی، دینی، سیاسی اور تہذیبی تشخص برقرار رکھ سکیں اور غیر مسلم اکثریت میں ضم نہ ہو جائیں۔ علاقائی قومیت کے مقابلے میں دو قومی نظریے کا ارتقا، اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا سیاسی انتظام، جو کثیر قومی کا متبادل مثالیہ پیش کر سکے۔ 1938-39ء تک یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ انڈین نیشنل کانگریس جو دراصل ابتدا سے آج تک برہمنوں ہی کی گرفت میں رہی ہے، اس تصور کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں تھی، نہ ہے۔ اس کا مقصد عددی اکثریت کا غلبہ اور جمہوریت و سیکولرزم کے نام پر ہندو قوم پرستی کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔

    عملاً 1935ء کے قانون کے تحت انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتوں نے اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کی تحریک کا تیسرا مرحلہ شروع ہوا۔ علمی اور عملی دونوں میدانوں میں اور دو قومی نظریے کو سیاسی حقائق کی روشنی میں برعظیم کے مسلمانوں کی جس نئی سیاسی منزل کی شکل میں پیش کیا گیا، وہ تقسیم ہند اور پاکستان کا آزاد اسلامی ریاست کی حیثیت سے قیام تھا۔ تحریک پاکستان کے دو ناقابل تفریق و تنظیم پہلو تھے۔ ایک سیاسی آزادی اور دوسرا اس آزادی کی بنیاد اور منزل اسلامی نظریہ اور تہذیب و ثقافت۔ یہی وجہ ہے کہ تصورِ پاکستان اور تحریک پاکستان کے مقاصد، مزاج اور شناخت کو سمجھنے کے لئے حسب ذیل دستایزات کا مطالعہ ضروری ہے:

    علامہ اقبال کا 1930ء کا خطبہ صدارت، 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور، قائداعظم کا خطبہ صدارت، 7اپریل 1947ء کی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان کے کنونشن کی قرار داد، حلف نامہ اور قائداعظم کی تقریر 13 مارچ 1949ء کو پہلی منتخب دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ قراردادِ مقاصد اور اس موقع پر وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان اور تحریکِ پاکستان کے اکابر ارکانِ دستورساز اسمبلی کی تقاریر۔ (قراردادِ مقاصد تحریک پاکستان کی فکری جہت کا خلاصہ ہے، اور پاکستان کے دستور کی تمہید اور اس کا حصہ ہے۔) اس پس منظر میں پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کے لئے چھے چیزیں ضروری ہیں:-

    1 پاکستان کے تصور اور اس کی اصل منزل کا صحیح اور مکمل شعور۔  یہ وژن اور اس کے باب میں مکمل شفافیت اور یکسوئی اوّلین ضرورت ہے۔ اسی سے ہماری منزل اور اس تک پہنچنے کے راستے کا تعین ہو سکتا ہے۔ یہ ہماری شناخت ہے اور اسی شناخت کے تحفظ اور ترقی کے لئے آزادی کی جدوجہد کی گئی اور پھر آزادی حاصل کی گئی۔ -

    2 آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کے لئے علاقےکا حصول ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ آزاد قوم اور آزاد علاقہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ملکی حدود کی حفاظت اور دفاع قومی سلامتی کی پہلی ضرورت ہے۔ دفاعِ وطن اور دفاعِ نظریہ، شخصیت اور پہچان ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کے لئے عسکری قوت کے ساتھ سیاسی، معاشی، مادی اور اخلاقی قوت بھی ضروری ہے۔ اس میں ضُعف، ملکی سلامتی کے لئے خطرے کا باعث بنتا ہے۔ یہ سیاسی و معاشی استحکام، اندرونی امن و امان، بیرونی خطرات سے تحفظ اور آبادی کی ترقی اور خوش حالی کے لئے وسائل کے بھرپور استعمال کا راستہ دکھاتی ہے۔


     3 تیسری ضرورت اس وژن اور قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ و ترقی ہے، زندگی کے تمام شعبوں کے لئےصحیح پالیسیوں کا تعین ، انتہا درجے کی شفافیت کے ساتھ پالیسی سازی اور ان پر عمل کرنے کا اہتمام۔

     4 ان مقاصد کو حاصل کرنے اور پالیسیوں پر موثر عمل درآمد کے لئے تمام ضروری اداروں کا قیام، استحکام، اصلاح اور ترقی۔ دستور اور قانون کی حکمرانی ہی کے ذریعے اداروں کی بالادستی اور حقوق وفرائض کی بجا آوری ممکن ہے۔

     5 ان مقاصد کے حصول کے لئے اساسی ضرورت ہر سطح پر اور ہر شعبے کے لئے مردانِ کار کی تیاری ہے۔ تعلیم اس کی کنجی ہے۔ پوری آبادی کی اخلاقی، علمی صلاحیت میں اضافے سے ہی کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے، پھر اپنی آزادی اور شناخت کی حفاظت اور استحکام کے ذریعے اس ترقی کو زیادہ ثمرآور بنایا جاسکتا ہے۔

     6 آخری فیصلہ کن ضرورت ہے: صحیح قیادت کا انتخاب، مشاورت کے موثر نظام کا قیام، احتساب اور جواب دہی کا ہر سطح پر اہتمام۔

    یہ 6 چیزیں کسی بھی ملک اور قوم کی آزادی و خودمختاری اور ترقی و استحکام کی ضامن ہیں۔ ان سب کے بارے میں غفلت، کمزوری، فکری انتشار، تضادات اور عملی کوتاہیاں ہی پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ ہیں۔ جس حد تک ان کا پاس و لحاظ کیا جائے گا ہماری آزادی اور خودمختاری برقرار رہ سکے گی۔ ان میں سے بعض پہلوئوں پر توجہ کی گئی ہے، جس کی وجہ سے خطرات اور کوتاہیوں کے باوجود ہم اپنا وجود برقرار رکھ سکے ہیں اور کسی حد تک ترقی بھی حاصل کر سکے ہیں۔ تخلیقِ پاکستان کے 70 سال کی تکمیل پر آئندہ اصلاحِ احوال اور تعمیر کے عزم کی تجدید کے ساتھ، رہنمائی کے یہ زریں اُصول قوم کے سامنے پیش کرتے ہوئے پوری قوم سے یہ عرض کرتے ہیں کہ:

    14 اگست 2017ء ہمارا یومِ تشکر ہے کہ اس روز اللہ تعالیٰ نے ہمیں آزادی کے ساتھ یہ موقع عطا فرمایا کہ ہم اُس کے بتائے ہوئے اُصولوں کے مطابق اجتماعی اور شہری زندگی کی تشکیل و تعمیر کریں۔

    14 اگست ہمارے لئے یومِ احتساب ہے کہ ہم یہ جائزہ لیں، جو عہد ہم نے اللہ تعالیٰ سے اور اس قوم سے کیا تھا، کیا اس کی تکمیل کے لئے بامعنی پیش قدمی کر سکے ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں کر سکے تو اس میں کون اور کس درجے کا ذمہ دار ہے؟

    پروفیسر خورشید احمد
     


    0 0

    یوں تو بلوچستان کے طول و عرض میں سینکڑوں قدیم آثار اب تک دریافت ہو چکے ہیں جو قبل ازمسیح کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مہر گڑھ کے مقام پر جو قدیم آثار ملے ہیں وہ نہ صرف بلوچستان بلکہ جنوبی ایشیاء کے نئے ہجری دور یا پتھر کے زمانے کے سب سے قدیم آثار ہیں اور علم آلاثار کے نقطہ نظر سے بے حد اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں ،نئے ہجری دور کے یہ آثار ضلع کھچی میں دریائے بولان کے کنارے رئیسانی قبیلے کے ایک گائوں مہر گڑھ کے قریب واقع ہیں اور اسی قربت کی وجہ سے ان آثار کو مہر گڑھ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ 

    نئے ہجری دور کے ان آثار پر 1974ء میں فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ نے پاکستانی ماہرین آثار قدیمہ کے تعاون اور مدد سے باقاعدہ سائنسی طریقے سے کھدائی شروع کی جو تقریباً(10) دس سال تک برابر وقفوں سے جاری رہی یہاں جو کھدائی ہوئی ہے اس سے بلوچستان کے اس میدانی علاقے میں پروان چڑھنے والی سات ہزار سال قدیم کلچر (تمدن) کے ابتدائی دور سے لے کر آخری مراحل یا ادوار تک کافی روشنی پڑتی ہے۔ دریائے بولان کے کنارے اس قدیم اور گمشدہ تہذیب کے آثار کی دریافت نہ صرف بلوچستان بلکہ انسانی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ ہے۔ دنیا کی تمام چھوٹی بڑی قدیم تہذیبیں یا تمدن دریائوں کی زرخیز وادیوں میں پروان چڑھیں اور وہیں نشوونما پائی اور وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ترقی کے منازل طے کرتی رہیں۔

    کھچی کا میدان یا دریائے بولان کی وادی بلاشبہ تمام ایسی صلاحیتیں رکھتی تھی بلکہ اب بھی رکھتی ہے جو ایک تمدن کو جنم دے سکتی ہوں۔ آج سے چند برس قبل تک کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آج کے خشک پہاڑ اور بنجر میدانوں کے درمیان واقع بلوچستان میں 7000 ہزار قبل ازمسیح کے قدیم تمدن اور زندگی کے آثار دفن ہو سکتے ہیں مگر یہ خیال اور سوچ مہر گڑھ کے قدیم آثار کی دریافت نے غلط ثابت کی گو کہ آج کل کے بلوچستان کا علاقہ بنجر پہاڑوں بے آب و گیاہ میدانوں پر مشتمل ہے مگر جدید دور کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے اور مختلف شواہد طے ہیں کہ بلوچستان کا علاقہ قدیم دور میں خشک اور بنجر نہ تھا۔ بلکہ یہاں کثرت سے بارشیں ہوا کرتی تھیں اور بلوچستان کے پہاڑ اور میدان جنگلات سے پر تھے جن میں مختلف قسم کے جانوروں کی بہتات تھی۔ 

    یہی بات مہر گڑھ کے آثار کی کھدائی کے دوران بھی سامنے آئی اور ماہرین کو مختلف شواہد اس دور کے درختوں، پودوں اور جانوروں کے متعلق ملے جو کہ اب تقریباً اس علاقے میں ناپید ہیں اور یہی وہ شواہد ہیں جو بلوچستان کی قدیم آب و ہوا پر روشنی ڈالتے ہیں اس کے علاوہ بلوچستان کے وہ علاقے جن میں آج کل پانی کی کمی کی وجہ سے آبادیاں کم ہیں مگر ان ہی علاقوں میں لاتعداد قبل از تاریخ کی بستیوں کی نشاندہی کی گئی ہے آج یہ بستیاں غیر آباد ٹیلوں کی شکل میں پائی جاتی ہیں۔ یہ ٹیلے جن پر آج ٹھیکریاں اور ملبے کے ڈھیر ملے ہیں یقینا اس دور میں آباد تھے اور ان بستیوں کے اردگرد لہلہاتے کھیت ہوتے ہوں گے اور جانوروں کے ریوڑ پائے جاتے ہوں گے اور یہ سب کچھ پانی کی فراوانی کے بغیر ناممکن بات ہے پس ان لاتعداد اور قدیم بستیوں کے آثار کی موجودگی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بلوچستان کی قدیم آب و ہوا آج کے دور سے مختلف تھی اوربلوچستان اس دور میں خشک اور بنجر نہ تھا جیسا کہ آج کل ہے۔

    شیخ نوید اسلم


     



    0 0

    پورے ملک میں نقد رقم نکلوانے کےلیے آٹو ٹیلر مشینوں (اے ٹی ایم) کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جہاں آپ اپنے ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم نکلوا سکتے ہیں لیکن اے ٹی ایم کا استعمال بھی خطرے سے خالی نہیں۔ عوام کو جدید طریقوں سے لوٹنے والے گروہ بڑی خاموشی سے اے ٹی ایم میں ایسی تبدیلیاں کر دیتے ہیں جو آسانی سے محسوس نہیں ہوتیں لیکن انہی تبدیلیوں کے ذریعے یہ فراڈیئے آپ کو مطلوبہ رقم کے علاوہ پاس ورڈ اور دوسری حساس معلومات سے بھی محروم کر سکتے ہیں۔ اگر آپ بھی کیش نکلوانے کے لیے اے ٹی ایم کا استعمال کرتے ہیں تو کچھ چیزوں پر توجہ دے کر اپنی محنت کی کمائی غلط ہاتھوں میں پہنچنے سے بچا سکتے ہیں۔

    یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ایسے فراڈ میں زیادہ تر تین طرح کے خفیہ آلات استعمال کیے جاتے ہیں: اے ٹی ایم کارڈ کی مقناطیسی پٹی پر موجود (اکاؤنٹ ہولڈر کی) معلومات پڑھنے والا آلہ، خفیہ کیمرہ اور (اصل اے ٹی ایم جیسا) کی پیڈ تا کہ آپ کا پاس ورڈ چوری کیا جا سکے۔

    اسکمر (skimmer)
    یہ ایک ایسا جعلی آلہ ہوتا ہے جسے اے ٹی ایم کارڈ کی اصل سلاٹ کے بالکل اوپر، اس طرح نصب کیا جاتا ہے کہ یہ اے ٹی ایم کارڈ سلاٹ کو چھپا لیتا ہے۔ صارف اسی کو اصل سمجھتے ہوئے اے ٹی ایم کارڈ اس میں ڈال دیتا ہے لیکن جیسے ہی کوئی اے ٹی ایم کارڈ اسکمر میں پہنچتا ہے تو یہ اس کی مقناطیسی پٹی پر موجود، صارف کی اہم معلومات اپنے اندر منتقل کر لیتا ہے۔

    خفیہ کیمرا
    اسکمر کے ساتھ ساتھ ایک چھوٹا سا خفیہ کیمرا بھی اے ٹی ایم میں کسی ایسی جگہ نصب ہو سکتا ہے جہاں سے اے ٹی ایم کی پیڈ صاف دیکھا جا سکتا ہو۔ اس کا مقصد دراصل صارف کے اینٹر کیے ہوئے پن کوڈ سے واقفیت حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ یہ خفیہ کیمرا اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے کی پیڈ کے قریب یا اے ٹی ایم اسکرین کے اوپر کسی مقام پر نصب کیا جا سکتا ہے۔

    جعلی کی پیڈ
    دیکھنے میں یہ بھی بالکل اصلی اے ٹی ایم کی پیڈ جیسا ہی ہوتا ہے جسے پہچاننا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جب کوئی صارف اس میں اپنا پن کوڈ اینٹر کرتا ہے تو یہ اسے اپنے اندر محفوظ کر لیتا ہے۔ 

    سائبر لٹیرے آپ کی یہ قیمتی معلومات چوری کرکے نقلی اے ٹی ایم کارڈ بھی بنا سکتے ہیں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کوئی اور طریقہ استعمال کرتے ہوئے، آپ کی لاعلمی میں آپ کو اچھی خاصی رقم سے محروم بھی کردیں۔ اے ٹی ایم میں کی گئی ان مکارانہ تبدیلیوں کا پتا چلانا اگرچہ بہت مشکل ہوتا ہے لیکن تھوڑی سی توجہ اور احتیاط کر کے آپ خود بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس میں کچھ گڑبڑ کی گئی ہے یا نہیں۔ اے ٹی ایم کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کی کچھ نمایاں علامت ملاحظہ کیجیے:

    اے ٹی ایم پر خراشیں، دراڑیں اور ایسی ظاہری علامات موجود ہوں جیسے اس میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہو رہی ہو۔

    اے ٹی ایم میں کچھ ایسی چیزیں بھی اضافی طور پر دکھائی دے رہی ہوں جن کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی ہو۔

    اے ٹی ایم کی ساخت، اس کے مٹیریل، رنگ اور کناروں وغیرہ کا کچھ عجیب سا دکھائی دینا۔

    اے ٹی ایم کارڈ سلاٹ جزوی طور پر اکھڑتی ہوئی محسوس ہو یا پھر وہ ناہموار ہو جبکہ ایسا ہونے کی کوئی ظاہری وجہ بھی موجود نہ ہو۔ 


    اے ٹی ایم فراڈ سے بچنے کےلیے اضافی اقدامات یقیناً آپ کو زیادہ محفوظ بھی بنائیں گے:

    اپنے بینک سے ایس ایم ایس الرٹ آن کروالیجیے تا کہ جب بھی آپ کے بینک اکاؤنٹ میں سے کوئی رقم نکلوائی جائے (یا جمع کروائی جائے) تو اس کی اطلاع فوری ایس ایم ایس کے ذریعے آپ تک پہنچ جائے۔ اس طرح اگر کوئی شخص آپ کی معلومات چوری کر کے آپ کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوائے گا تو آپ کو فوراً اس کارروائی کی خبر ہو جائے گی اور آپ اپنے بینک کو کال کر کے اس کی اطلاع دے سکیں گے۔

    پن کوڈ اینٹر کرتے وقت اپنی ایک ہتھیلی سے کی پیڈ کے اوپر پھیلا دیجیے تا کہ اگر کوئی خفیہ کیمرہ نصب بھی ہو تو اسے یہ دکھائی نہ دے سکے کہ آپ کونسا پاس ورڈ استعمال کرتے ہوئے اے ٹی ایے سے رقم نکلوا رہے ہیں۔ کوشش کیجیے کہ مشہور بینکوں کی نصب کی ہوئی قابلِ بھروسہ اے ٹی اے ہی سے رقم نکلوائیں کیونکہ بعض مرتبہ پوری کی پوری جعلی اے ٹیم نصب کر کے بھی صارفین کے ساتھ فراڈ کیا جاتا ہے۔ اگر کسی نامعلوم علاقے میں ہوں تو بہتر ہے کہ وہاں کے مقامی افراد سے پوچھ کر کسی قابلِ بھروسہ اے ٹی ایم کا رُخ کریں۔

    اس کے علاوہ آپ اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال محدود کر کے، ایک وقت میں کم رقم نکلوا کر اور رقم کی آن لائن منتقلی کی حدود کم کر کے بھی اپنی رقم کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں۔
     


    0 0

    1947 میں قیامِ پاکستان سے 2017 میں اس کی 70 ویں سالگرہ تک اس ملک میں فوج تقریباً ساڑھے تین دہائیوں تک برسراقتدار رہی ہے۔ اس عرصے کے دوران میں پاکستان میں چار فوجی ادوار رہے جب زمامِ اقتدار جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کے پاس تھی۔ جنرل ایوب سے لے کر جنرل مشرف تک ہر دور میں ایک ہی بیانیہ سننے کو ملتا رہا، جس میں سویلین حکومت کی نااہلی، کرپشن اور ملک کو لاحق خطرات کے دعوے سر فہرست تھے۔ دفاعی تجزیہ نگار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اس ملک میں فوج یہ چاہتی ہے کہ تمام معاملات اس کے مشورے سے چلائے جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ 'خارجی سکیورٹی کا بوجھ ان پر ہے، داخلی سلامتی اور انسداد دہشت گردی بھی فوج کر رہی ہے۔ سویلین حکومت کا کردار محدود ہے لہذا جب تک مشاورتی عمل قائم رہتا ہے، اس وقت تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔' حسن عسکری کے مطابق 'دوسرا اہم ایشو بجٹ کے معاملات ہیں کہ وہ مشاورت سے ہوں، تیسرا یہ ہوتا ہے کہ خود کو بااختیار دکھانے کے لیے کچھ وزیر غیر ضروری طور فوج پر تنقید کرتے رہتے ہیں جس سے تعلقات میں خرابی آتی ہے۔'
    حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نااہلی کے بعد احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد سے لاہور پہنچے ہیں۔ اس سفر کے دوران ان کی تقاریر میں بالواسطہ اور کہیں کہیں بلاواسطہ طور پر بھی فوج اور عدلیہ کو ان کی برطرفی کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا۔

    نواز شریف کی بذریعہ عدالت برطرفی نے ملک میں ایک بار پھر سویلین بالادستی کی بحث کو جنم دیا ہے۔ نواز شریف دو مرتبہ بھاری اکثریت سے اقتدار میں آئے، یہ تیسرا موقع تھا کہ انہیں منصب سے ہٹنا پڑا، لیکن اس بار تعلقات میں خرابی کی کیا وجوہات رہیں؟ دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا خیال ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ خارجہ پالیسی تھی۔ ان کے مطابق 'نواز شریف خارجہ پالسی کو آہستہ آہستہ تبدیل کرنا چاہ رہے تھے اور قومی سلامتی کا ایک نیا بیانیہ بنا رہے تھے جس میں ہندوستان اس بیانیے کا مرکز نہیں رہتا۔ یہ فوج کی دکھتی رگ تھی اور اس لیے میڈیا ٹرائل شروع کیا گیا تاکہ میاں صاحب کو ہٹایا جا سکے۔' میاں نواز شریف کی برطرفی کے بعد بعض تجزیہ نگار یہ بات بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔

    دفاعی تجزیہ نگار شجاع نواز کہتے ہیں کہ ملٹری اور سویلین تضاد کی بنیادی وجہ قول اور فعل میں فرق بھی ہے۔ 'نظام صرف باتوں سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف سویلین حکومت یا فوج کی غلطی ہے بلکہ یہ معاشرے کی مجموعی ذمہ داری بنتی ہے۔ 'پاکستان کی بنیادی ضرورت گڈ گورننس ہے۔ جب حکومت لوگوں کی ضروریات پوری کرے گی اور دیانتداری سے کام کرے گی تو عوام بھی اس کا ساتھ دیں گے پھر دوسری کوئی طاقت اسے الٹ نہیں سکتی۔'
    پاکستان میں سویلین حکومت اور فوج میں رابطے کے 'فارمل'اور 'اِن فارمل'دونوں ہی پلیٹ فارم رہے ہیں۔ کسی زمانے میں وزیر اعظم، صدر اور آرمی چیف پر مشتمل ٹرائیکا کی ملاقاتیں اہم تھیں، اس کے بعد نیشنل سیکیورٹی کونسل اور موجودہ دور میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوج اپنا موقف سامنے لاتی ہے۔

    تجزیہ نگار حسن عسکری کا خیال ہے کہ ان اداروں کہ فعال نہیں رکھا جاتا۔ 'قومی سلامتی کونسل کے اب جا کر تین چار اجلاس ہوئے ہیں ورنہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کی غیر رسمی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ جب آپ ایسے غیر رسمی انتظام کرتے ہیں تو اس سے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں اور سویلین بالا دستی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔' ماضی میں فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک فوج کے اقتدار کو غیر ملکی حمایت بھی حاصل رہی یہ حمایت نہ صرف سیاسی تھی بلکہ امداد کی صورت میں بھی آئی۔

    تجزیہ نگار اور مصنف شجاع نواز کہتے ہیں کہ جب فوجی حکومت ہو تو پاکستان کی امداد کا گراف بڑھ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ پاکستان بین الاقوامی صورتحال کو قابو میں نہیں رکھ سکتا، اسے امریکہ اور دوسرے بڑے ممالک کے ساتھ مل کر چلنا ہوتا ہے، ان بڑے ممالک کو فوجی حکومت سے جلد مدد مل جاتی ہے۔' پاکستان میں جہاں گذشتہ 70 برس میں فوج کا سیاسی اثرو رسوخ بڑھا ہے، وہیں چینی اور کھاد کے کارخانوں سے لے کر بیکری تک کے کاروبار میں اس کی شراکت داری میں بھی اضافہ ہوا ہے تو کیا اقتدار کی وجہ کاروبار کی وسعت یا استحکام ہوتا ہے؟

    فوج کے کاروبار پر کتاب کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ کاروبار میں فروغ کی وجہ یہ بیانیہ ہے کہ بھارت ہمارا دشمن ہے اور فوج اس ملک میں ترقی اور سلامت کے لیے کام کر رہی ہے اس لیے اسے کاروبار کا حق ہے۔ 'سیاست دانوں نے ان کے کاروبار پر کبھی انگلی نہیں اٹھائی اور انھیں یہ سوچ کر یہ سب کرنے دیا کہ اس طرح سے ان کا منہ بند رہے گا لیکن ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک فوج کا قومی سلامتی کا بیانیہ تبدیل نہیں ہوتا۔ پاکستان میں آمریت کے ادوار میں صحافی بھی جمہوریت کی بحالی اور اظہار رائے کی آزادی کی جدوجہد میں شریک رہے ۔ سینیئر صحافی راشد الرحمان کا کہنا ہے کہ بعض وہ صحافی جو آمریت کا ساتھ دیتے تھے تو انہیں بری نظر سے دیکھا جاتا تھا لیکن آج کل صورتحال افسوس ناک ہے۔


    'ٹی وی چینلز اور کسی حد تک اخبارات میں جو بیانیہ چل رہا ہے، اسے آئی ایس پی آر بناتی ہے۔ یہ بیانیہ دانستہ طور پر نہیں تو ڈر یا خوف یا کسی اور وجہ سے صحافیوں نے اپنا لیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نہ تو صحافت کے تقاضے پورے کر رہا ہے اور نہ وہ ذمہ داری جو صحافیوں پر عائد ہوتی ہے ۔' پاکستان میں فوجی ادوار کے دوران آئین میں ترامیم ہوئیں اور ایسی ہی ایک ترمیم کا نشانہ نواز شریف بھی بنے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جب 18 ویں آئینی ترمیم کی گئی تو اس وقت فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں شامل کی گئی صادق و امین کی شقیں بھی ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن مسلم لیگ ن نے اس کی مخالفت کی اور بعد میں وہ خود اسی شق کا نشانہ بن گئی ہے۔ آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن اور دیگر جماعتیں یہ شقیں ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن تحریک انصاف اس کی مخالف ہے۔

    انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ 'وہ راستے روکنے ہوں گے جو پچھلی آمریتیں چھوڑ کر گئی ہیں۔'اور اس کے علاوہ جو بنیادی انسانی حقوق آئین میں ہیں انہیں مضبوط کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'اظہار رائے کے بارے میں آرٹیکل 19 یہ کہتا ہے کہ آپ سب کچھ کہہ سکتے ہیں مگر در حقیقت آپ صرف اپنے گھر والوں کے خلاف بول سکتے ہیں۔ پاکستان میں آپ نہ فوج پر بحث کرسکتے ہیں اور نہ ہی عدلیہ پر بات کر سکتے ہیں۔'

    ریاض سہیل
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
     


    0 0

    چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے لاہور میں واہگہ بارڈر پر پاکستان کے 70 ویں جشن آزادی کے سلسلے میں جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے اور دنیا کے آٹھویں بڑے پاکستانی پرچم کو لہرایا۔ جشن آزادی پاکستان کی پروقار تقریب واہگہ بارڈر میں منعقد ہوئی جس کے مہمان خصوصی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ تھے جبکہ دیگر مہمان بھی شریک تھے۔ اس موقع پر پاکستان کا قومی ترانہ بھی پڑھا گیا جبکہ جنرل قمر باجوہ اور دیگر افراد نے قومی پرچم کو سلامی دی اور موجود شرکا نے پاکستان زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے لگائے۔ واہگہ بارڈر میں لہرایا گیا پرچم پاکستان اور جنوبی ایشا کا سب سے بڑا جبکہ پوری دنیا کا آٹھواں بڑا پرچم ہے۔

    پاکستانی پرچم کو 4 سو فٹ کی بلندی پر لہرایا گیا جس کی چوڑائی 120 فٹ اور اونچائی 80 فٹ ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'سب سے پہلے میں آپ سب کو پاکستان کی 70 سالہ جشن پر مبارک دیتا ہوں اور آپ کا جوش دیکھ کر میرے اعتماد میں بھرپور اضافہ ہوا ہے اور جس ملک کے لوگوں میں یہ جذبہ ہو اس کو کون شکست دے سکتا ہے'۔ جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ 'آج سے 70 برس قبل لاہور کے اسی شہر میں ہی پاکستان کی قرارداد منظور ہوئی تھی جس کے 7 سال کی جدوجہد کے بعد پاکستان کو حاصل کیا اور 14 اگست کو 27 رمضان کی رات تھی جو ملک بابرکت رات کو بنا ہو اور اللہ اور رسول  ﷺ کے نام پر بنایا گیا اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا'۔

    ان کا کہنا تھا کہ 'جس وقت پاکستان کا قیام ہوا تو ملک معاشی، سماجی، سیاسی اور دفاعی لحاظ سے کمزور تھا کیونکہ ہندوستان نے ہمیں اپنا حق نہیں دیا تھا لیکن قلیل وسائل کے باوجود ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت کی اورپاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کیا اور آج پاکستان ایک مضبوط ملک ہے جو دن بہ دن ترقی کرتا جا رہا ہے'۔ جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ 'اس سفر کے دوران ہم سے کچھ غلطیاں بھی ہوئیں جن سے ہم نے سیکھا اور آج پاکستان اپنے اصل راستے پر گامزن ہوچکا ہے جو آئین و قانون کا راستہ ہے، آج پاکستان کا ہر ادارہ نہایت ایمانداری اور تندہی سے کام کر رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہم علامہ اقبال اور قائد اعظم کا پاکستان بنا کر دم لیں گے'۔

    انھوں نے کہا کہ 'اس سفر میں ہم نے بہت سی قربانیاں دی ہیں چاہے وہ 48، 65، 71 کارگل کا معرکہ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ یا آپریشن راہ راست ہو یا رد الفساد ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں اور میں ٓسمجھتا ہوں کہ آج یہان جو چراغ جل رہے ہیں ان میں ہمارے شہیدوں کا خون شامل ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'کوئٹہ کے شہید ہوں، ایل او سی کے شہید ہوں یا دیر کے شہید ہوں وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں اور ہم اپنے شہیدوں کو کبھی نہیں بھول سکتے اور ہم پر شہیدوں کے خون کا قرض ہے، ہم ایسی فوج سے تعلق رکھتے ہیں جس نے سیاچن میں گلیشر کھود کر اپنے شہیدوں کے جسد خاکی نکال لیے اگر ہم وہ کام کر سکتے ہیں تو میرا یقین کر لیں کہ ہم دہشت گردوں کو چن چن کرماریں گے اور ان کو انجام تک پہنچا دیں گے'۔

    آرمی چیف نے کہا کہ 'پاکستان کے دشمن جو مشرق میں ہیں یا مغرب میں ہیں وہ یہ میری بات جان لیں کہ ان کی گولیاں اور بارود ختم ہوں گے لیکن ہمارے جوانوں کی چھاتیاں ختم نہیں ہوں گی'۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت بھی پاکستان کو بیرونی اور اندرونی طور پر بے تحاشا چیلنجز کا سامنا ہے لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے'۔ انھوں نے کہا کہ 'کوئی ایسی طاقت جو پاکستان کی طرف غلط نظر سے آنکھ اٹھا کر دیکھے گی یا پاکستان کو اندرونی یا بیرونی طور پر نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی تو پاک فوج اور تمام ادارے اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور ان کے تمام عزائم کو خاک میں ملائیں گے'۔

    پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ 'یہ جھنڈا جس کو ہم نے آج بلند کیا ہے یہ ہماری ترقی اور بلندی کی علامت ہے اور جس طرح 400 کی فٹ پر یہ پرچم گیا اور پاکستان بھی اسی طرح اور اسی رفتار سے ترقی کرے گا'۔ انھوں نے پروقار تقریب پر ڈی جی رینجرز اور ان کی ٹیم کو مبارک باد دی۔
     


    0 0

    چائینہ میں انٹر نیٹ کے عادی افراد کے علاج کے لئے کیمپ موجود ہیں۔ روزانہ 30 ہزار سے زائد ویب سائٹس ہیک کی جاتی ہیں۔ زیادہ تر انٹر نیٹ ٹریفک انسانوں کی بجائے گوگل اور مال وئیر جیسے روبوٹس کی جانب سے استعمال کی جاتی ہے۔جب مونٹی نیگرو، یوگوسلاویہ سے آ زاد ہوا تو اس کی انٹر نیٹ ڈومین ’’ yu‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’me‘‘ ہو گئی تھی۔ امریکا کے 15 فیصد نوجوان انٹرنیٹ کا استعمال نہیں کرتے۔ آج کل محققین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ انٹر نیٹ کا ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والے افراد کا شمار بھی دماغی مریضوں میں کیا جائے یا نہیں۔

    دنیا کا پہلا ویب کیم کیمبرج یونیورسٹی میں بنایا گیا تھا۔ تقریباً 1 لاکھ نئی ’’ ڈاٹ کوم‘‘ ڈومینز یومیہ رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔ بر طانیہ میں9 ملین نوجوانوں نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ فلپائن، جنوب مشرقی ایشیا میں 3.54 Mbps کے حساب سے سب سے سست انٹر نیت رفتار رکھنے والا ملک ہے۔ انٹر نیٹ یو زرز ایک منٹ میں 204 ملین ای میلز بھیجتے ہیں۔ چائینہ میں موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

    دنیا میں بھیجی جانے والی تمام ای میلز میں سے 70 فیصد ’’ سپیم‘‘ ہوتی ہیں۔ اٹلی کی ایک تہائی آ بادی نے کبھی انٹر نیٹ استعمال نہیں کیا۔ ’’وائی فائی ‘‘ میں ’’ فائی‘‘ کا کوئی مطلب نہیں ہے، ڈویلپرز نے اس کو اس لئے اس لفظ میں شامل کیا کیونکہ اس کی شمولیت سے ’’وائی فائی‘‘ لفظ ’’ہائی فائی‘‘ سے تشبیہ رکھتا ہے۔ 1993ء کے اختتام پر دنیا میں صرف 623 ویب سائٹس تھیں۔ دنیا کی 6 فیصد آبادی خطرناک حد تک انٹر نیٹ کی عادی ہے۔ انٹر نیٹ سے قبل ’’LOL‘‘ کا مطلب ’’Lots of Love‘‘ ہوا کرتا تھا۔ ایک سال میں صرف 37.9 فیصد لوگوں کو انٹر نیٹ تک رسائی حاصل ہو پاتی ہے۔ 2010ء میں فن لینڈ دنیا کا واحد ملک تھا جہاں انٹر نیٹ کی سہولت کو قانونی حق قرار دیا گیا تھا۔ 1971ء میں دنیا میں پہلی بات انٹر نیٹ پر جو چیز خریدی یا بیچی گئی وہ میری جووانا کا ایک بیگ تھا۔ 1996ء میں Alexandria میں ایک لائبریری قائم کی گئی جس میں اب تک کے انٹر نیٹ پیجز کی کاپیا ں موجود ہیں۔

    اگر انٹر نیٹ ایک دن کے لئے کام کرنا چھوڑ دے تو 196 بلین ای میلز اور 3 بلین گوگل سرچز کو انتظار کرنا پڑے گا۔ بھارت میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد امریکہ کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔ ناسا کا انٹر نیٹ عام انٹر نیٹ استعمال کرنے والے سے 13 ہزار گنا زیادہ تیز ہے۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ضرورت سے زیادہ انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ڈپریشن ، یکسانیت اور دماغی عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق لوگوں کو انٹر نیٹ کی سہولت سے دور رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایلن کی مشہور آ سکر سیلفی کو 3.3 ملین مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا تھا۔ مشہور ویب سائٹ ایمازون نے اپنی پہلی کتاب 1995ء میں فروخت کی تھی۔

     تنزیل الرحمن جیلانی




    0 0

    زیارت ریذیڈنسی کو اس لئے اہمیت حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دن یہاں گزارے ۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ رہائش گاہ اعلیٰ فن کی عکاس ہے ، عمارت کے اندر بھی لکڑی کا استعمال بہت خوبصورتی سے کیا گیا ۔ 8 کمروں پر مشتمل ریذیڈنسی میں 28 دروازے بنائے گئے ، قیام پاکستان کے بعد 1948 میں اس رہائش گاہ کی تاریخی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب یکم جولائی کو قائد اعظم ناسازی طبیعت کے باعث یہاں تشریف لائے ۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری دو ماہ دس دن اس رہائش گاہ میں قیام کیا۔ جس کے بعد اس رہائش گاہ کو قائد اعظم ریذیڈنسی کا نام دے کر قومی ورثہ قرار دیا گیا ۔ 

    عمارت کے بیرونی چاروں اطراف میں لکڑی کے ستون ہیں ، پاکستان کے سو روپے کے نوٹ کے عقبی رخ پر اس کی تصویر موجود ہے ، ریذیڈنسی میں قائم کمروں میں ایک کمرہ محترمہ فاطمہ جناح اور ایک کمرہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ذاتی معالج کا اور ایک کمرہ ان کے ذاتی معتمد کے لیے مختص تھا۔ ریذیڈنسی میں قائد اعظم کے زیر استعمال کمروں میں کئی تصاویر آویزاں ہیں جن میں قائداعظم محمد علی جناح کی بیٹی ، بہنیں اور بلوچستان کے قبائلی عمائدین اور دیگر سرکردہ شخصیات ان کیساتھ ہیں ۔

     


    0 0

    ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ آخری بار آپ نے اپنے فون کو کب صاف کیا تھا؟
    اکثر افراد کا جواب یہی ہوگا کہ یاد نہیں۔ اگر آپ کا جواب بھی یہی ہے تو بہت زیادہ امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کے اسمارٹ فون کی اسکرین پر کسی ٹوائلٹ سے بھی زیادہ جراثیم ہو سکتے ہیں۔ جی ہاں ہو سکتا ہے کہ آپ کو یقین نہ آئے مگر موبائل فون ایسی ڈیوائس ہے جو گھر میں سب سے زیادہ جراثیم سے آلودہ ہوتی ہے اور یہ آپ کو فوڈ پوائزننگ یا ہاضمے کی خرابی کے ساتھ ساتھ دمے اور دیگر بیماریوں کا شکار کرنے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

    امریکا کی کنساس اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگ خاص طور پر خواتین برتن صاف کرنے والے کپڑوں کو سب سے زیادہ چھوتی ہیں اور مضر صحت جراثیم کو یہاں وہاں پھیلا دیتی ہیں۔ عام طور پر ایک فرد دن بھر میں اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین کو سیکڑوں بار چھوتا ہے اور ہر جگہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچن اسفنج جیسی جراثیموں سے بھرپور شے کو چھونے کے بعد بھی فون کو استعمال کرتا ہے۔ ہر بار ایسا کرنے پر ہاتھوں سے ایسے وائرس اور بیکٹریا فون پر منتقل ہو رہے ہوتے ہیں جو کہ سانس کی نالی میں زندہ رہ سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ بہتر ہوگا کہ فون کو روزانہ دن کے اختتام پر صاف کر لیا جائے۔ ویسے تو ٹچ اسکرین پر کلینرز کے استعمال کی اجازت اکثر فون کمپنیاں نہیں دیتیں مگر ایسے مائیکرو فائبر کپڑے دستیاب ہیں جو بیکٹریا کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ ماہرین کے مطابق کبھی کبھار اینٹی بیکٹریل سے اس کی صفائی بھی فائدہ مند ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر آپ اپنا فون صاف نہیں کرتے تو ایسا ضرور کریں۔
     


    0 0

    اپنی نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے جی ٹی روڈ کے ذریعے گھر واپسی کا سفر تو مکمل کیا لیکن ایک نئے سیاسی سفر کے آغاز کا پیغام دے دیا جس کا مقصد ووٹ کے تقدس کی بحالی ہے۔ اسلام آباد سے لاہور تک کے اس سفر کے دوران سابق وزیر اعظم نے بار بار ووٹ کی بے حرمتی کی بات کی اور کہا کہ عوام ووٹ دے کر اپنا وزیر اعظم منتخب کرتے ہیں لیکن چند لوگ ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو اپنا دور اقتدار مکمل کیے بغیر نکال باہر کرتے ہیں۔ میاں صاحب بار بار پاکستان کی تاریخ کا حوالہ دے کر لوگوں کو بتاتے رہے کہ کسی ایک وزیر اعظم کو اپنی ٹرم مکمل کرنے نہیں دی گئی جب کہ فوجی ڈکٹیٹرز لمبے لمبے عرصہ تک اقتدار پر قابض رہے۔ 

    میاں صاحب کا کہنا تھا کہ وزرائے اعظم کا اس طرح نکالا جانا دراصل ووٹ کی بے حرمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ان کا مقصد ووٹ کی حرمت کو بحال کرنا ہے۔ بلاشبہ میاں صاحب نے ایک پرکشش نعرہ کے ساتھ اپنی نااہلی کے فیصلہ کو عوام کے سامنے رکھا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ نے کسی سول حکومت اور وزیر اعظم کو جم کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جس کی وجہ سے ستر سال گزرنے کے باوجود ہم آج تک اپنی سمت کا تعین نہیں کر سکے۔ یہ بھی درست ہے کہ عدلیہ اور فوج کے اس گٹھ جوڑ نے عوام کی ووٹ کی بار بار تزہیک کی۔

    لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ووٹ کی بے حرمتی سیاستدانوں اور وزرائے اعظم نے بھی کی۔ اگر ووٹوں کے ذریعے چنے گئے وزیر اعظم کو کسی ایک یا کسی دوسرے بہانہ نکالنا ووٹ کے تقدس کی پامالی ہے تو کیا یہ بھی درست نہیں کہ ہماری سو ل و جمہوری حکومتوں نے بھی ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے تو ضرور استعمال کیا لیکن ووٹرز سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ کیا یہ بھی ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ کیا الیکشن میں کیے گئے وعدوں اور پارٹی منشور کو بھلا دینا بھی سول حکومتوں اور وزرائے اعظم کی طرف سے ووٹ کی بے حرمتی نہیں۔ میاں صاحب نے لاہور میں جی ٹی روڈ مارچ کے اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ عوام جلد انصاف کی فراہمی کا وعدہ کرتے ہیں کیوں کہ یہاں نسلیں ختم ہو جاتی ہیں لیکن کسی کو انصاف نہیں ملتا۔

    میاں صاحب نے غریب اور متوسط طبقہ کو کم قیمت گھروں کی فراہمی کا بھی وعدہ کیا۔ یہی وعدے میاں صاحب نے 2013 الیکشن مہم کے دوران کیے ۔ انہی وعدوں کا مسلم لیگ ن کے گزشتہ الیکشن منشور میں بھی تفصیل کے ساتھ ذکر ہے۔ لیکن اپنے گزشتہ چار سالہ دور حکومت میں میاں صاحب نے ان وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کوئی خاص توجہ نہ دی۔ ن لیگ کا پارٹی منشور پڑھیں تو آپ کو اور بہت بڑے بڑے وعدے مل جائیں گے لیکن اُن وعدوں کو اقتدار میں آتے ہی میاں صاحب بھلا بیٹھے۔ کیا یہ ووٹ کی بے حرمتی نہیں؟؟ میاں صاحب نے تو لٹیروں کے احتساب اور نئے احتساب کمیشن بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اس سلسلہ میں اپنے دور حکومت میں کچھ نہ کیا؟؟

    میاں صاحب نے پولیس اور سول سروس کو غیر سیاسی کرنے کا بھی وعدہ کیا لیکن یہ وعدہ بھی بھول گئے۔ یہی حال دوسری سیاسی جماعتوں کا رہا۔ پی پی پی نے ہمیشہ اپنی سیاست روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ پر کی لیکن عوام کو روٹی ملی، نہ کپڑا اور نہ ہی مکان۔ اگرچہ ڈکٹیٹرشپ اور جمہوری حکومت کا کوئی تقابل نہیں لیکن پاکستان کے جمہوریت پسندوں کو ایک بات سمجھنی پڑے گی کہ جمہوریت صرف الیکشن اور ووٹ کا نام نہیں بلکہ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کی زندگیوں کو اُن وعدوں اور اُس منشور کے مطابق بدلا جائے جن کے نام پر عوام سے ووٹ حاصل کیے گئے۔ ووٹ کو اپنے اقتدار کے حصول کے لیے استعمال کرنا اور عوام سے کیے گئے وعدوں کو بھلا دینا ووٹ کی بے حرمتی اور ووٹر کے ساتھ مذاق ہے۔

    میاں صاحب اگر کچھ بدلنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے اپنے وعدوں کو پورا کریں، عوام کی زندگیوں میں بہتر حکمرانی اور اصلاحاتی ایجنڈے سے ایسی تبدیلی لائیں کہ لوگ خوشی محسوس کر سکیں، انہیں اپنا آپ بہتر لگے، اُن کی عزت میں اضافہ ہو، سرکاری محکموں میں اُن کے کام رشوت اور سفارش کے بغیر کیے جائیں، حکومتی محکمہ جس کام کے لیے بنے ہوں وہ کام وہ مستعدی سے کریں نہ کہ احسان جتلا کر۔ جمہوریت اور آمریت کے درمیان فرق کو ووٹر اور عوام کے لیے اپنی پرفارمنس اور ڈلوری سے واضع کریں۔ محض نعروں اور وعدوں سے کچھ نہیں ہونے والا۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹیلیویژن دیکھنا جسمانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ امریکا کی مشی گن یونیورسٹی اور بیلجیئم کے لیووین اسکول آف ماس کمیونیکشن ریسرچ کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ کئی کئی گھنٹے لگاتار ٹی وی دیکھنا نیند کے معیار کو ناقص، زیادہ تھکاوٹ اور بے خوابی کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ منفی اثر اسی وقت مرتب ہوتا ہے جب لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹی وی اسکرین کے سامنے بیٹھے رہیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے لیے اسے دیکھنا اثرانداز نہیں ہوتا۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ یہ عادت نوجوانوں کے لیے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے اور ان کی نیند بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ نیند کی کمی امراض قلب، موٹاپے، ذیابیطس اور کئی دیگر امراض کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔

    اس تحقیق کے دوران اٹھارہ سے پچیس سال کی عمر کے لگ بھگ ساڑھے چار سو افراد کا جائزہ لیا اور جانا گیا کہ لگاتار کئی گھنٹوں تک ٹی وی دیکھنے سے ان کے نیند کے معیار، بے خوابی اور تھکاوٹ پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ 81 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ ٹی وی بہت زیادہ دیکھنے کے عادی ہیں جن میں سے سات فیصد روز ایسا کرتے تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ بہت زیادہ ٹی وی دیکھنا نیند کے معیار کو ناقص بنانے کا باعث بنتا ہے اور جسمانی تھکاوٹ کا احساس بھی بڑھ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ٹی وی شوز کی کہانی صارفین کو اسکرین کے سامنے باندھے رکھتی ہے اور لوگ زیادہ سے زیادہ جاننے کے لیے ٹیلیویژن دیکھتے رہتے ہیں۔ یہ عادت دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور دماغ کو نیند سے قبل دوبارہ معمول پر لانے کے لیے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے جس سے مجموعی طور پر نیند متاثر ہوتی ہے۔ 

    اس سے قبل کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جو لوگ بہت زیادہ ٹی وی دیکھتے ہیں، ان کے مسلز دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہیں ہوتے۔ اسی طرح ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک سے دو گھنٹے ٹی وی دیکھنا بھی ڈپریشن، ذہنی بے چینی اور تناﺅ کا خطرہ بڑھانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔ کچھ عرصے پہلے نیشنل کینسر انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ روزانہ ساڑھے تین گھنٹے ٹی وی دیکھنا نہ صرف کینسر اور امراض قلب کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ ذیابیطس، نمونیا اور جگر کے امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

     


    0 0

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک اس بات سے واقف ہوتی ہے کہ کروڑوں افراد اپنے فونز میں کیا کر رہے ہیں، چاہے وہ لوگ اس ویب سائٹ کا استعمال نہ بھی کر رہے ہوں۔ یہ دعویٰ امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں سامنے آیا۔ ویسے تو فیس بک خود تسلیم کرتی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا جمع کرتی ہے جس کا مقصد ان کے استعمال کا تجربہ بہتر بنانا ہوتا ہے۔ تاہم اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فیس بک کسی اور کمپنی کے جمع کردہ ڈیٹا کو صارفین کی ایپ اور ویب سائٹس کے استعمال کی عادات کی تفصیلات جاننے کے لیے استعمال کرتی ہے، جیسے وہ کن ایپس کو استعمال کرتے ہیں، کتنا زیادہ استعمال کرتے ہیں اور کتنی وقت تک استعمال کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

    یہ معلومات فیس بک پراڈکٹ روڈ میپ کو شکل دینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں اور اسی وجہ سے واٹس ایپ کو خریدا گیا جبکہ اسنیپ چیٹ کو کچلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فیس بک کے پاس اتنی زیادہ معلومات ہوتی ہیں کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اسنیپ چیٹ صارفین کتنی پوسٹس روزانہ ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ اس سیٹ اپ سے فیس بک کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کونسی ایپس اور ویب سائٹس صارفین کے وقت کے لحاظ سے اس کے مقابل ہیں اور اس سے کمپنی کو انہیں شکست دینے میں کافی آسانی مل جاتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق فیس بک Onavo Protect نامی ایپ سے ڈیٹا اکھٹا کرتی ہے جو کہ ایک مفت وی پی این ایپ ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ صارفین کا آن لائن ڈیٹا محفوظ رکھتی ہے، تاہم یہ جس کمپنی نے تیار کی تھی اسے فیس بک نے چند سال پہلے خرید لیا تھا۔ یہ ایپ اس وقت بھی ڈھائی کروڑ کے قریب افراد استعمال کر رہے ہیں اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کے فونز میں یہ انسٹال ہے، وہ جب کوئی ایپ اوپن یا ویب سائٹ کھولتے ہیں، تو یہ ایپ ٹریفک کو فیس بک سرورز کی جانب ری ڈائریکٹ کر دیتی ہے۔ Onavo Protect کی شرائط میں درج بھی ہے کہ یہ موبائل ڈیٹا اور ایپ کے استعمال کا تجزیہ کرتی ہے اور اسے 'ملحقہ اداروں'سے شیئر بھی کر سکتی ہے تاہم لوگ عام طور پر اسے پڑھتے ہی نہیں۔
     


    0 0

    تین مرتبہ منتخب اور تین مرتبہ سابق ہوجانے والے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بار بار پوچھ رہے ہیں اور بڑی معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کا قصور کیا ہے اور آخر انہیں کیوں نکالا گیا ۔ حالانکہ اس کا جواب اگر انہیں معلوم نہیں تو نہیں ہو گا لیکن ہر باشعور پاکستانی کو معلوم ہے۔ میں نے بہت انتظار کیا کہ میاں صاحب کے کوئی خوشامدی تقریر نویس ان کو اس سوال کا جواب سمجھا دیں گے لیکن چونکہ وزارت عظمیٰ سے معزولی کے بعد بھی سرکاری عہدے بانٹنے کا اختیار میاں صاحب کے ہاتھ میں ہے اس لئے شاید یہ تقریر نویس ان کو اس مقام تک پہنچانے کے بعد بھی خوشامد سے باز نہیں آئے ۔

    وہ اب بھی میاں صاحب کے قدموں میں بیٹھ کر یا اللہ یا رسول ۔ نوازشریف بے قصور کے نعروں کے ساتھ، انہیں یہ غلط تاثر دے رہے ہیں کہ میاں صاحب آپ ہیں تو ترکی کے طیب اردوان لیکن مصر کے محمد مرسی کی طرح نکالا گیا ، اس لئے آپ طیب اردوان کی طرح ڈٹ جائیں ۔ یہ خوشامدی مشیر اگر خوشامد کی بجائے بر وقت میاں صاحب کو ان کی غلطیوں کی طرف متوجہ کرتے تو شاید وہ آج اس انجام سے دوچار نہ ہوتے لیکن یہ لوگ اگر اب بھی باز نہ آئے اور میاں صاحب ان کے بہکاوے میں آکر حسب سابق اپنے بارے میں غلط اندازوں کا شکار رہے تو اب کی بار خاکم بدہن اپنے اور اپنے خاندان کے ساتھ ملک کو بھی مصیبت میں ڈال دیں گے ۔ اسلئے ضروری سمجھا کہ میاں صاحب کو اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کروں۔

    محترم و مکرم میاں نوازشریف صاحب !
    آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے سے قبل آپ نے وعدہ کیا تھا کہ اب کی بار اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کریں گے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے صرف اور صرف اقتدار کی سیاست کی ۔ آپ جمہوری وزیر اعظم تھے ۔ آپ کی قوت پارلیمنٹ تھی لیکن آپ کے دور میں پارلیمنٹ جتنی بے وقعت ہوئی ، پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی ۔ آپ تو کیا آپ کے وزراء بھی اس پارلیمنٹ میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے ۔ اس پارلیمنٹ پر جمہوریت مخالف قوتوں کے بعض مہروں نے حملے کئے اور اس کی توہین کی اور آپ تماشا دیکھتے رہے۔ انہوں نے اس پارلیمنٹ سے استعفے دئیے اور اسے گالیوں سے نوازا لیکن آپ نے ان سے کوئی حساب نہیں لیا۔ اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے الٹا آپ نے منتیں کر کے ان کو دوبارہ پارلیمنٹ میں لا بٹھایا ۔ وہ قانونی طور پر اسمبلی کے ممبر نہیں ہیں لیکن آج بھی وہاں بیٹھے ہیں اور الٹا آپ کے اسپیکر نے ان کو ان آٹھ ماہ کی حرام تنخواہیں بھی ادا کر دیں جن میں وہ ایک دن کے لئے بھی اسمبلی میں نہیں آئے تھے ۔ آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ آپ جس بھی راستے سے نکالے گئے وہ بے وقعت پارلیمنٹ آپ کو بچا سکتی ہے اور نہ آپ کے کسی مخالف کا راستہ روک سکتی ہے ۔

    آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے نہ تو احتساب کا منصفانہ نظام بنایا، نہ اچھی حکمرانی کے ذریعے طیب اردوان کی طرح عوام کے دل جیتے ۔ سویلین اداروں کو مضبوط کیا اور نہ نظام میں اسٹرکچرل تبدیلیاں لا سکے لیکن راتوں رات پاکستان کو ترکی اور اپنے آپ کو طیب اردوان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنرل (ر) پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت سزا دینے کی ناکام کوشش کی ۔ آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ انتخابات کے چند روز بعد جب ہم آپ کے رائے ونڈ کے گھر میں بیٹھے تھے تو میں نے آپ سے گزارش کی کہ جنرل پرویز مشرف کو نہ چھیڑیں ۔ یاد ہو گا کہ عرض کیا تھا کہ پاکستان ابھی اس منزل سے کوسوں دور ہے کہ جس میں ایک ڈکٹیٹر کا محاسبہ ہو سکے لیکن آپ کو آپ کے خوشامدیوں نے اور میڈیا کے بعض عقابوں نے جو جنرل مشرف سے اپنا حساب برابر کرنا چاہتے تھے، کے خلاف اقدام پر ابھار دیا۔ میڈیا میں موجود اس وقت کے آپ کے چہیتے آپ سے کہتے رہے کہ میاں صاحب قدم بڑھائو ، ہم تمہارے ساتھ ہیں ۔ چنانچہ پھر جب آپ کے خلاف دھرنے دلوانے گئے تو آپ کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ یوں آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ پہلے آپ نے اپنے آپ کو برتر اخلاقی پوزیشن پر لائے بغیر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور پھر مجبور ہو کر ان کو جانے دیا ۔

    آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ قوم نے آپ کو وزیراعظم پاکستان منتخب کیا تھا لیکن منتخب ہونے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو وسطی پنجاب کا وزیراعظم بنا دیا۔ آپ نے بلوچستان میں سویلین بالادستی کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ آپ نے سندھ کو وہاں کے منتخب نمائندوں کی مرضی کے خلاف سیکورٹی اداروں کے ذریعے چلانے کی کوشش کی ۔ آپ نے فاٹا کو فوج کے سپرد کئے رکھا۔ فاٹا ، بلوچستان اور کراچی کے عوام سویلین بالادستی کے تصور سے ناواقف ہو گئے ہیں ۔ کم وبیش یہی حالات آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بھی ہیں ۔ فاٹا کے لوگ تو آپ سے پختونخوا کے ساتھ انضمام کی صورت میں اپنے لئے بنیادی انسانی حقوق کی بھیک مانگتے رہے ۔ اور تو اور آپ کی پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین اسمبلی کے فلور پر رو دئیے لیکن آپ مولانا فضل الرحمان اور محمود خان اچکزئی کا دل بہلاتے رہے ۔ اپنے پنجاب میں تو آپ نے رینجرز کے اختیارات پر بڑی لے دے کی لیکن کسی اور صوبے یا فاٹا میں کبھی سویلین اداروں کے اختیار کے لئے آپ فکر مند نہ ہوئے ۔ یوں نکالنے والوں کو یقین ہوگیا تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو پنجاب کے سوا کسی اور صوبے یا قومیت سے آپ کے حق میں آواز نہیں اٹھے گی ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

    آپ کو اس لئے نکالا گیا کہ آپ نے سی پیک جیسے اسٹرٹیجک اہمیت کے معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ پروجیکٹ محروم علاقوں کی محرومیوں کے لئے علاج اور دہشت گردی کے مسئلے کے لئے تریاق بن سکتا تھا لیکن آپ نے مغربی روٹ سے متعلق جھوٹ بول کر مشرقی روٹ پر کام کا آغاز کر دیا۔ آپ نے اس کے ثمرات سے بلوچستان، گلگت بلتستان، پختونخوا اور فاٹا کو محروم رکھ کر سب چیزیں وسطی پنجاب میں سمیٹ دیں ۔ آپ کے اہل خانہ اور احسن اقبال کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ توانائی کے منصوبوں کے معاہدے کن شرائط کے ساتھ ہوئے ہیں ۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے آپ نے وسطی پنجاب کے اپنے نمائندوں کو تو خوشحال بنا دیا لیکن اس نے گلگت بلتستان ، بلوچستان ، آزاد کشمیر اور پختونخوا کی محرومیوں کو مزید بڑھا دیا۔ چنانچہ نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو نہ صرف ان علاقوں کے لوگ آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے بلکہ شاید آپ کو بد دعائیں بھی دے رہے ہوں گے ۔

    دھرنوں کے موقع پر آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ۔ لیکن پھر جب سندھ میں ان کے ساتھ حساب برابر کیا جا رہا تھا اور انہوں نے اینٹ سے اینٹ والا مشہور زمانہ بیان دے دیا تو ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے آپ نے اگلی صبح ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ۔ اب نکالنے والوں کو یقین تھا کہ جب آپ کو نکالا جائے گا تو آصف علی زرداری آپ کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، اس لئے آپ کو نکالا گیا۔ آپ کے دور میں وزارت خارجہ کا ستیاناس ہو گیا۔ آپ نے چین ، ترکی ، سعودی عرب اور حتیٰ کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بدلنے کی کوشش کی ۔ فوج اور دفتر خارجہ کے مشورے کے برعکس آپ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں گئے ۔ پھر وہ پراسرار انداز میں آپ کے گھر آئے ۔ یہ انداز پاکستان میں ناقابل برداشت ہوتا ہے اور اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

    محترم میاں صاحب ! آپ نے کبھی فوج اور دیگر اداروں کے ساتھ بطور ادارہ تعلقات استوار کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ آپ اداروں کی بجائے شخصیات کو اپنانے اور ان پر کام کرنے کا رویہ اپناتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی قائم تھی جو حکومت کے ساتھ سول ملٹری تعلقات کا بوجھ اٹھاتی تھی ۔ آپ نے اقتدار میں آنے کے بعد وہ کمیٹی ختم کر دی ۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی رہی لیکن آپ نے چار سالوں میں وہ کمیٹی قائم نہیں ہونے دی۔ کیونکہ آپ فوج کے ساتھ تعلقات میں پارلیمنٹ یا اپوزیشن کو نہیں لانا چاہتے تھے اسی طرح آپ کابینہ کی دفاع اور قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس بلا کر متعلقہ فورم پر ادارہ جاتی انداز میں سول ملٹری تنازعات حل کرنے کی بجائے ون ٹو ون خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے کام چلاتے رہے۔ اس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں ہی نکلنا تھا اور شاید اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

    مذکورہ اور اسی نوع کے دیگر عوامل نے تو راستہ ہموار کیا لیکن میاں صاحب ! اصل قصور آپ کا یہ ہے کہ آپ وزیراعظم تو پاکستان کے تھے لیکن آپکے بچوں اور آپکے وزیرخزانہ کے بچوں کا کاروبار باہر رہا۔ آپ تاثر دیتے رہے کہ بیرون ملک آپ کا کچھ بھی نہیں لیکن جب پانامہ اسکینڈل کی صورت میں آپ پکڑے گئے تو پھر مسلسل آپ کے اہل خانہ کی طرف سے بیانات بدلتے رہے ۔ آپ خود اس معاملے کو عدالت میں لے گئے ۔ خود ہی جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ۔ یہ درست ہے کہ عدالت میں تادم تحریر مخالفین آپ کو براہ راست کرپشن کا مرتکب ثابت نہ کرسکے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ آپ اپنے آپ کو معصوم بھی ثابت نہ کر سکے ۔ مخالفین نے آپ کو جھوٹا یا بد دیانت ثابت کیا یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ بھی شواہد اور دلائل کے ساتھ اپنے آپ کو صادق اور امین ثابت نہ کر سکے ۔ اس لئے آپ کو نکالا گیا۔

    محترم میاں نوازشریف صاحب!
    امید ہے آپ کو کسی حد تک آپ کے سوال کا جواب ملا ہو گا لیکن اگر اب بھی تشفی نہیں ہوئی تو میں مزید درجنوں صفحات سیاہ کر کے ، سینکڑوں مزید وجوہات تحریر کر سکتا ہوں جو آپ کو نکالے جانے کا موجب بنیں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ مزید یہ سوال نہیں اٹھائیں گے لیکن اگر اس کے بعد بھی اٹھایا تو ہم جیسے طالب علم مزید وجوہات سامنے رکھنے پر مجبور ہوں گے۔

    سلیم صافی


    0 0

    الینا ٹرینی کے مطابق سمارٹ فون نے نئی نسل کو تنہائی پسند، خودکش اور نابالغ بنا دیا ہے۔ سائنسی جریدے ’’دی انٹارٹک‘‘ میں شائع ہونے والے مضمون کے حوالے سے الینا ٹرینی نے لکھا ہے کہ ’’ نئی نسل کم گو ہے ، معاشرے سے کٹی ہوئی ہے، الگ رہنا چاہتی ہے، گھل مل کر رہنا اب اس کی زندگی کا مقصد نہیں رہا۔ انسان سماجی جانور ہے، وہ سماج سے ہی کٹتا جا رہا ہے‘‘ ۔

    سانڈیگو سٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسرجین ٹوئنج کے مطابق ’’ 25 سالہ جائزے کے مطابق عصر حاضر کا سب سے بڑا ’’دشمن ‘‘سمارٹ فون ہے۔ یہ سماج دشمنی میں پہلے نمبر پر ہے‘‘۔ وہ 1985ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو آئی جنریشن (IGen) کہتی ہیں۔ اس عرصے میں پیدا ہونے والے 5 ہزار نوجوانوں میں سے 4 ہزار کے پاس آئی فون پائے گئے۔ ان میں سے 56 فیصد ہائی سکولز میں زیر تعلیم تھے۔ اس نسل کے بچوں میں آئی فون کی وجہ سے شراب نوشی اور ماں باپ کو بتائے بغیر پیسے خرچ کرنے کے رجحانات عام ہیں۔ سمارٹ فون کی وجہ سے اس نسل کا ذہنی ارتقا نہیں ہو سکا، 18 سال کا بچہ 15 سالہ بچے اور 13 سال کا بچہ 11 سالہ بچے کی طرح لگتا ہے۔

    یعنی ’’ آئی جنریشن ‘‘ اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے تقریباً 2 برس چھوٹی ہے۔ اس کا سوچنے کا انداز دو سال پیچھے چلا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق 2007 سے 2015ء تک آئی جنریشن میں قتل کرنے کے رجحانات میں کمی اور خود کشی میں اضافہ ہوا ہے۔ شاید اس لئے کہ یہ نسل اپنے آپ میں مگن رہتی ہے۔ دوسروں سے ملاقاتیں کم ہی ہوتی ہیں۔ جو دوسروں سے ملتے ہی نہیں وہ ان کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ اس لئے اس نسل سے تعلق رکھنے والوں نے قتل جیسی سنگین وارداتوں میں نسبتاً کم حصہ لیا ہے۔ یہ نوجوان اپنے آپ میں کھویا ہوا ہے اس لیے اس میں ’’اپنے آپ کو مارنے‘‘یعنی خود کشی کے رجحانات فروغ پا رہے ہیں۔ 2015ء وہ پہلا سال ہے جب اس عمر کے نوجوانوں نے قتل کم اور خودکشیاں زیادہ کی ہیں۔ 24 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ 

    پروفیسر جین ٹوینج نے ایک سروے کیا تو ’’ گزشتہ 5 سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد یعنی 58 فیصد لڑکیوں نے خود کو تنہائی کا شکار محسوس کیا۔ 2010ء میں اتنی لڑکیاں معاشرے سے کٹا ہوا محسوس نہیں کرتی تھیں۔ تنہائی کا شکار لڑکوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے لڑکے اور لڑکیوں کے ڈپریشن میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 2012ء سے 2015ء کے درمیان لڑکیوں میں ڈپریشن کا مرض 50 فیصد اور لڑکوں میں 21 فیصد زیادہ ہوا ہے۔ یہ ڈپریشن لڑکیوں اور لڑکوں میں خودکشیوں کا سبب بن رہا ہے۔ 2007ء کے مقابلے میں 2015ء میں 12 سے 14 سال کی عمر کی لڑکیوں میں خودکشی کا تناسب 3 گنا ہو گیا۔ پروفیسرٹوئنج نے موبائل فون کے ان منفی رجحانات کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس پر قابو پانے کا مشورہ دیا ہے۔

    ڈاکٹر فراز


     


    0 0

    میاں نواز شریف کی نااہلی کیا ہوئی کہ مسلم لیگ ن نے تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ یوسف رضا گیلانی کا سپریم کورٹ کی طرف سے نکالا جانا اور اس اقدام کا لیگی رہنمائوں کی طرف سے سپورٹ کرنا ایک غلطی تھی۔ اور تو اور ن لیگ تو اس بات پر بھی پچھتاوے کا شکار نظر آ رہی ہے کہ گزشتہ پی پی پی دور کے دوران نواز شریف کالا کوٹ پہن کر میموگیٹ کے معاملہ پر سپریم کورٹ کیوں پہنچ گئے۔ پی پی پی اور میڈیا میں موجود ایک طبقہ تو پہلے ہی ان معاملات کو پی پی پی حکومت کے خلاف سازش گردانتا ہے حالانکہ حقائق کچھ مختلف ہیں۔

    یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے زرداری صاحب کے این آر او کے تحت بند کیے گئے سویزرلینڈ میں کرپشن کیسز کو دوبارہ کھولنے کے عدالت عظمٰی کے حکم کی نافرمانی کرنے کی پاداشت میں توہین عدالت کی سزا ملی جس کے نتیجے میں انہیں وزیر اعظم کے عہدہ سے علیحدہ ہونا پڑا۔ گیلانی صاحب کو پانچ سال کے لیے نااہلی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نہیں معلوم اس مسئلہ میں زیادتی کہاں ہوئی۔ اگر وزیر اعظم پاکستان سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے سے انکار کر دے تو پھر ریاست کا کام کیسے چلے گا؟ پھر تو ہر کوئی عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے سے انکاری ہو گا اور یوں ریاست افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر تنقید تو ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی وزیر اعظم یہ کہے کہ میں عدالتی فیصلہ کو نہیں مانتا تو ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے آپ کو وزارت عظمیٰ سے علیحدہ کیا۔ 

    میاں صاحب پر اگر تنقید ہو سکتی ہے تو وہ اس بات پر کہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے اپنی نااہلی کے فیصلہ کے خلاف اپنی تنقید میں اُن حدود و قیود کو پار کرتے نظر آ رہے ہیں جو آئین نے مقرر کر رکھی ہیں۔ آئین کے تحت عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف اور مثبت تنقید تو کی جا سکتی ہے لیکن اُن کا مذاق اور توہین نہیں کی جا سکتی۔ میاں صاحب کی نااہلی کے بعد اگر ن لیگ یہ سمجھتی ہے کہ وزیر اعظم جو مرضی کرے، عدلیہ کی بات مانے یا نہ مانے، کوئی جرم کرے یا کسی فراڈ میں پکڑا جائے تو اُس کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا اور عدلیہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے سزا دے تو یہ درست بات نہیں۔ 

    پاکستان کے آئین میں صدر مملکت کو عدالتی کارروائی سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے جو میری نظر میں ایک غیر اسلامی شق ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم کا معاملہ تو اُسے سرکاری کاموں کے متعلق آئین کسی حد تک تو استثنیٰ دیتا ہے۔ لیکن عمومی طور پر وہ پارلیمنٹ اور عدلیہ دونوں کو جواب دہ ہے اور کسی جرم ، کرپشن، توہین عدالت یا کسی دوسرے مقدمہ میں اُس کے خلاف عدالت مقدمہ چلا سکتی ہے اور سزا بھی دے سکتی ہے۔ اگر میاں صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو اس حد تک تو اُن سے اتفاق ممکن ہے لیکن اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ صدرمملکت کی طرح وزیر اعظم کو بھی کسی بھی مقدمہ اور جرم کی صورت میں مکمل استثنیٰ دیا جائے تو یہ ایک منفی اقدام ہو گا اور اس سے گورننس میں مزید خرابی پیدا ہو گی اور کرپشن میں اضافہ ہو گا۔

    جہاں تک میموگیٹ کا معاملہ ہے تو اُس پر تو سپریم کورٹ کی طرف سے تین ہائی کورٹس کے جج حضرات پر مشتمل کمیشن اپنی تفصیلی انکوائری کے بعد یہ فیصلہ دے چکا کہ پی پی پی دور میں امریکا میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکی اعلیٰ سول و فوجی حکام کو ایک خفیہ میمو لکھا جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف تھا۔ اس عدالتی کمیشن نے حسین حقانی کے بارے میں کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ وفادار نہیں۔ حقانی نے اس میمو کے ذریعے فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف زرداری حکومت کی مدد کے لیے امریکا کی مدد مانگی تھی۔ حقانی نے اس میمو میں یہ بھی لکھا کہ اگر پاکستان کی سول قیادت کو نکال دیا جاتا ہے تو پھر اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے پیروکاروں کے لیے پاکستان محفوظ اڈہ بن جائے گا جس سے دنیا میں دہشت گردی پھیلے گی۔

    یہ میمو ایبٹ آباد واقعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں لکھا گیا جس میں باقاعدہ امریکا سے درخواست کی گئی کہ فوج اور آئی ایس آئی کے اُس وقت کے سربراہوں سے بات کی جائے۔ جہاں تک یہ کہا جاتا ہے کہ میموگیٹ دراصل فوج اور آئی ایس آئی کی زرداری حکومت کے خلاف سازش تھی اور اس کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں تو یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مجھے ذاتی طور پرمعلوم ہے کہ میمو گیٹ کا معاملہ فوج یا آئی ایس آئی کی طرف سے اجاگر نہیں ہوا بلکہ اس بارے میں سب سے پہلے واشنگٹن میں موجود ایک پاکستانی صحافی کو اطلاع ہوئی۔ اس صحافی نے اس تصدیق کے بعد کہ واقعی حسین حقانی کی طرف سے میمو لکھا گیا، نے اس بارے میں پاکستانی سفارت خانہ میں اُس وقت تعینات ملٹری اتاشی کو معلومات فراہم کی۔ 

    ملٹری اتاشی نے یہ اطلاع آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو دی۔ معاملہ کی چھان بین اور مکمل تصدیق کے لیے پھر اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا کو لندن بھیجا گیا جہاں اُن کی ملاقات منصور اعجاز سے ہوئی۔ اس میٹنگ میں منصور اعجاز نے جنرل پاشا کو تمام شواہد دکھائے۔ اس اسکینڈل کا انکشاف جنگ اور دی نیوز نے کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیا اور پھر معاملہ کمیشن اور انکوائری تک پہنچا۔ اب اگر پاکستان کی قومی سلامتی کے ایسے اہم ترین مسائل پر بھی ن لیگ معذرت خواہانہ رویہ اپناتی ہے تو پھر اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو گا۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    آپ کیا بننا چاہتے ہیں، یہ متعین کرنا بہت اہم ہے۔ آپ کی ملازمت وہ ہے جو آپ کے اپنے تصورات سے بہتر طور پر ملتی ہے۔ یہ شے صلے اور تسکین دونوں صورتوں میں آپ کو وہاں لے جائے گی جو آپ کی منزل ہے۔ بہتر معاش کے انتخاب کے لیے آپ کو اپنے متعلق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے اپنا ذہن تیار کریں اور پھر یکسو ہو کر فیصلہ کریں کہ آپ کو کس قسم کی ملازمت کی ضرورت ہے اور اس کے مطابق خود کو تیار کریں۔ 

    مناسب رویہ: دوران انٹرویو امیدوار بہتر رویہ اپنائے کیونکہ نامناسب رویہ امیدوار کو بہت مہنگا پڑے گا اور وہ اس کا مستقبل تباہ کر سکتا ہے۔ جذباتی رویہ ناپختگی کی علامت ہے جو دوران انٹرویو قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔ رویہ امیدوار کی شخصیت کے مشاہدہ کے لیے استعمال کرنے والے طریقوں میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ 

    مزاج اور طبیعت: انٹرویو کے دوران میں جارح مزاج رکھنے والے افراد کو چاہیے کہ وہ سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے آپے سے باہر نہ ہوں اور ہر سوال کا جواب ٹھنڈے دماغ سے دیں۔ اگر آپ کو سوالوں کے درست جوابات نہ آتے ہوں تو تحمل سے جواب دے کر آگے بڑھے چلے جائیں۔ 

    سماعت: بہت سے لوگوں کی قوت سماعت کمزور ہوتی ہے اگر امیدوار آواز نہیں سن سکتا تو اسے فوراً اپنی سمعی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تا کہ دوران انٹرویو اسے کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

    غصہ: غصہ ایسی خطرناک شے ہے جو دشمنی، جارحیت اورتباہی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے پیچیدہ سوالات کے جوابات دیتے وقت امیدوار کو اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ آپ کے مستقبل پر اثر انداز ہو گا۔ اگر آپ غصہ کرنے میں حق بجانب ہیں تو پھر بھی غصے کا اظہار نہ کریں۔ 

    آداب و عادات: اچھے آداب و عادات کا اظہار امیدوار کی شخصیت کو دلکش اور خوبصورت بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے لہٰذا اچھے اخلاق کے لیے امیدوار کی شخصیت میں دونوں پہلوئوں کا ہونا ضروری ہے۔ اگر امیدوار دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اپنانے اور بات کرنے کے سلیقے اور مجلس میں بیٹھنے جیسے آداب سے بخوبی آگاہ ہو تو وہ انٹرویو لینے والے کی نظر میں کامیاب امیدوار ہو گا۔

    اعتماد: اعتماد انسانی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ہے جو ہر انسان کو ہر مشکل سے نمٹنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اعتماد ہی دماغ کی دلیری کا یقین دلاتا ہے لہٰذا انٹرویو کے دوران ہر سوال کا جواب اعتماد اور یقین کے ساتھ ہی دیجیے۔ 

    احساسِ مقابلہ: احساسِ مقابلہ زیادہ محنت کرنے اور زندگی میں بہتری کے آثار پیدا کرنے کے علاوہ فرد کو اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کرنے کی تحریک دیتا ہے جو بالآخر اور خوشی مہیا کرتا ہے لہٰذا یہ ہر امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبھی کبھار مقابلوں کے مواقع میں حصہ لیتا رہے تا کہ وہ خوشی اور کامیابی کے احساسات سے روشناس ہو کر اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ 

    لاعلمی: لاعلمی کا مطلب اپنی مرضی سے کسی چیز کو نظر انداز کرنا ہے۔ ویسے بھی لاعلمی ہماری روز مرہ زندگی میں مشترکہ عمل بن گیا ہے۔ بہت سے لوگ ہر روز لمحہ لمحہ چھوٹی چیزوں کو نظر انداز کرکے لاعلمی کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا ضرور ی ہے کہ امیدوار اپنے گرد و پیش میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھے اور ایسا راستہ اختیار کرے کہ جو اسے لاعلمی سے باہر نکال دے تاکہ امیدوار لاعلمی کا شکار نہ ہو۔
     


    0 0

    کشمیری عوام نے 14؍ اگست کو مقبوضہ و آزاد کشمیر سمیت پوری دنیا میں پاکستان کا یوم آزادی نہایت جوش و ولولے سے منایا۔ ہر جگہ پاکستان کے قومی پرچم اٹھا کر ریلیاں نکالی گئیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ سری نگر اور بعض دوسرے مقامات پر تقریبات منائی گئیں جن میں پاکستان کا قومی ترانہ پڑھا گیا اور مقررین نے بھارت سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کے حق میں تقریریں کیں۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق مانگ رہے ہیں۔ بھارت ان کے اس حق کو 70 سال سے غصب کئے بیٹھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور صرف پچھلے ایک سال کے دوران دو سو سے زائد کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

    کشمیریوں کی پرامن جدوجہد کو بھارت دہشت گردی قرار دیتا ہے اور دنیا بھر میں پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے جبکہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ یہ بھارتی فوج ہے جو مقبوضہ ریاست میں بدترین قسم کی دہشت گردی میں مصروف ہے کشمیری تو اپنے حق خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ اپنے شہیدوں کی لاشیں اٹھائے سڑکوں اور بازاروں میں احتجاجی جلوس نکالتے ہیں اور مظاہرے کرتے ہیں۔ کیا دہشت گرد کھلے عام جلسے کرتے اور جلوس نکالا کرتے ہیں؟ دہشت گرد تو خفیہ کارروائیاں کیا کرتے ہیں۔ کھلے عام جلسے جلوس ان کا معمول نہیں ہے حیرت کا مقام ہے کہ امریکہ اور دوسری بڑی طاقتیں بھی جنہوں نے خود بھارت کے ایما پر سلامتی کونسل سے جموں وکشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے متفقہ قرار دادیں منظور کی تھیں آج مجرمانہ طور پرخاموش ہیں۔ عالمی برادری کا فرض ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لے۔ کشمیریوں پر ظلم بند کرائے اور اہل کشمیر کو غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق دلائے۔ بھارت کوبھی نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے۔ اسے کشمیر کو آزادی دینا ہی پڑے گی!

    اداریہ روزنامہ جنگ


    0 0

    کٹاس کے یہ آثار قدیمہ کوہ نمک کے دامن میں چوا سیدن شاہ سے چند کلو میٹر شمال میں ایک پہاڑی کے دامن میں سینکڑوں فٹ کی بلندی پر واقع ہیں۔ ان آثار قدیمہ میں متعدد مندر اور قلعے شامل ہیں۔ کوہ نمک کے دامن میں واقع کٹاس کے تاریخی آثار بھی ہمارا تہذیبی سرمایہ ہیں، ہزاروں سال پرانے یہ آثار قدیمہ اپنی اہمیت کے حوالے سے کسی بھی طرح ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے آثار قدیمہ سے کم نہیں۔ یہاں کے دو قلعوں میں سے اوپر والے قلعے کا رقبہ 200X300 1 فٹ ہے جبکہ نیچے والے قلعے کا قطرہ 800x45 فٹ ہے یہاں کے تاریخی آثار دو میل کے دائرے میں پھیلے ہوئے ہیں۔  جنرل کنگھم کا خیال ہے کہ یہ تاریخی آثار زیادہ قدیم نہیں۔ ان کا طرز تعمیر کشمیری ہے اس لئے یہ 625 عیسوی سے 939 عیسوی کے درمیان تعمیر کئے گئے تھے جب پنجاب پر کشمیری راجائوں کا قبضہ تھا۔ ایک اور انگریز ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر سٹیفن نے انہیں بدھ مت کے سٹوپا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق بدھ دور سے ہے، اور اشوکا سے قبل انہیں تعمیر کیا گیا جب برصغیر میں بدھ مت کو زوال آیا تو ہندوئوں نے ان پر قبضہ کرلیا اور انہیں سٹوپا سے مندروں میں تبدیل کر دیا.

    مشہور چینی سیاح ہیون سانگ نے بھی اپنے سفرنامہ ہند میں اس آثار کا تذکرہ کیا تھا اس نے جس ریاست سنگھ پورہ کا تذکرہ کیا ہے وہ یہی مقام ہے ۔اس نے لکھا ہے کہ یہاں کے رہنے والے لوگ بہت خطرناک اور بہادر ہیں زہریلے سانپوں اور چھپکلیوں کی کثرت ہے جس کے باعث یہاں لوگ آنے سے ڈرتے ہیں وہ اس مقام کی خوبصورتی سے بھی بہت متاثر نظر آتا تھا معروف مسلمان سائنس دان البیرونی نے کٹاس کے مندروں میں بیٹھ کرہی ہندومت کے متعلق تعلیم حاصل کی تھی اور اس کا اظہار اس نے اپنی کتاب ’’کتاب الہند‘‘ میں بھی کیا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ البیرونی نے قلعہ نندنہ میں ہی بیٹھ کر دنیا کا قطر دریافت کیا تھا اس زمانے میں یہ تاریخی آثار ہندو مذہب کی یونیورسٹی کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔ دور دراز سے ہندو مذہب کے طالب علم یہاں آ کر گیان حاصل کرتے تھے۔

    اس تاریخی آثار کا سب سے دلچسپ پہلو پانی کا تالاب ہے ہندومت کی روایات کے مطابق یہ تالاب انتہائی گہرا ہے اور اس کاسرا پاتال تک جاتا ہے لیکن جنرل کنگھم کے مطابق اس تالاب کی گہرائی 23 فٹ سے زیادہ نہیں یہ تالاب دو سو فٹ طویل اور 150 فٹ چوڑا ہے اس کے اندر آبی جھاڑیاں ہیں جس کے باعث اندر اترنا ناممکن ہے ان جھاڑیوں میں خطرناک قسم کے زہریلے سانپ اور چھپکلیاں بکثرت ہیں کیونکہ یہاں بہت کم لوگ آتے جاتے ہیں اس لئے یہ حشرات الارض یہاں عام طور پر نظر آ جاتے ہیں یہاں کے زہریلے سانپ پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔ اس پانی کے تالاب کو کسی زمانے میں گانیا نالا سیراب کرتا تھا جو یہاں سے ہوتا ہوا جنوب میں اتر جاتا تھا اب یہاں صرف بارش کا پانی جمع ہوتا ہے۔

    اس کے باوجود پانی شفاف ہے اور اس میں رنگ برنگی مچھلیاں انتہائی دلکش نظارہ پیش کرتی ہیں جنرل کنگھم کی اگرچہ یہ رائے ہے کہ مندر کشمیری دور سے متعلق ہیں لیکن وہ اس تصور کو بھی رد نہیں کرتا کہ پانڈوں نے انہیں تعمیر کروایا ہو گا وہ کہتا ہے کہ میں نے اچھی طرح تحقیق کرنے پر یہ معلوم کیا کہ یہاں12 مندر تھے جو ایک دوسرے سے منسلک تھے یعنی ہر پانڈو شہزادے کے لیے ایک مندر تعمیر کیا گیا تھا۔ مندر کے اوپر سے وادی کا نظارہ عجب خوبصورت منظر پیش کرتا ہے کسی زمانے میں یہاں ایک عالیشان شہر تھا سامنے والی پہاڑی جسے جنرل کنگھم نے کوٹیرا کا نام دیا ہے کے اوپر ابھی تک تاریخی آثار پائے جاتے ہیں یہاں پر ایک بڑے مشہور ہندئو سادھو کا گھر تھا جو اس علاقے میں بہت مقبول تھا اور اس کے پاس دور دراز سے لوگ آیا کرتے تھے اس پہاڑی پر یہ قصبہ آباد تھا۔ 1993ء میں سانحہ بابری مسجد کے بعد بعض جوشیلے افراد نے ان مندروں کو بھی نقصان پہنچایا تھا جو اپنی جگہ انتہائی غط بات ہے چونکہ یہاں مندروں میں کوئی عبادت نہیں ہوتی۔

     نوید اسلم



    0 0

    قومی اسمبلی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری 94 ہزار روپے کا مقروض ہے جبکہ موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 تک 819 ارب روپے کے مزید مقامی قرضے لیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی  کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دسمبر 2016 تک لیے گئے مقامی اور غیر ملکی قرضوں کی تفصیل پیش کی گئی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ 31 دسمبر 2016 تک مجموعی مقامی قرضے 12 ہزار 310 ارب روپے رہے جبکہ مذکورہ تاریخ تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 58 ارب ڈالر تھا۔

    تحریری جواب میں بتایا گیا کہ یکم جولائی 2016 سے 31 مارچ 2017 کے دوران موجودہ حکومت نے 819.1 ارب روپے کے اندرونی قرضے لیے جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تجارتی بینکوں سے حاصل کیے گیے۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 734.62 ارب روپے اور کمرشل بینکوں سے 84.50 ارب روپے کے قرضے لیے۔ جواب کے مطابق پاکستان کے ہر شہری کے ذمہ 94 ہزار 890 روپے واجب الادا ہیں۔  


older | 1 | .... | 103 | 104 | (Page 105) | 106 | 107 | .... | 149 | newer