Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 102 | 103 | (Page 104) | 105 | 106 | .... | 149 | newer

    0 0

    یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں کہ اس پر فوری طور پر ایک سطری فیصلہ صادر کر دیا جائے ۔ یہ مسئلہ غور طلب ہے۔ کوئی پانچ دہائیاں قبل میں گورنمنٹ کالج لاہور کا طالب علم تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد گھر سے بذریعہ ریل لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ اس دور میں ریلوے کا نظام خاصی حد تک منظم تھا۔ گاڑی گوجرانوالہ پہنچی تو اچانک خاصا رش ہو گیا کیونکہ گوجرانوالہ سے صبح کے وقت بہت سے لوگ کام کرنے لاہور آیا کرتے تھے اور شام کی ٹرین سے واپس لوٹ جاتے تھے۔ چند منٹ رکنے کے بعد گاڑی چلی تو میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ بہت سے لوگ گاڑی کے پائیدان پر کھڑے ہوئے تھے اور کچھ لٹکے ہوئے تھے۔ ابھی گاڑی نےکوئی دس پندرہ منٹ کا سفر ہی طے کیا ہو گا کہ میری آنکھوں کے سامنے پائیدان پر کھڑا ایک مزدور نما نوجوان ریل کی پٹڑی کے ساتھ لگے کھمبے سے ٹکرایا اور لوٹ پوٹ ہوتا نیچے گر گیا۔ 

    میں نے فوراً گاڑی کی زنجیر کھینچی اور غمگین نظروں سے گرنے والے نوجوان کو دیکھنے لگا۔ گاڑی کو رکنے میں چند منٹ لگتے ہیں۔ سامنے ایک چرواہا جانور چرا رہا تھا۔ وہ اس نوجوان کو گرتے ہو ئے دیکھ کر اس کی طرف بھاگا تو مجھے یوں لگا جیسے وہ زخمی مسافر کی مدد کے لئے آ رہا ہے لیکن میرا صدمہ اس وقت دوگنا ہو گیا جب میری نگاہوں کے سامنے چرواہے نے بے ہوش زخمی مسافر کے پائوں سے جوتے اتارے اور بھاگ کر فصلوں میں گم ہو گیا۔ گرنے والا ایک غریب انسان تھا۔ اس نے کوئی قیمتی جوتے یا لباس پہنا ہوا نہیں تھا۔ ذرا سوچئے کہ جوتے اتار کر بھاگنے والا اس مال مسروقہ یا مال حرام سے کتنا خوشحال ہو گیا ہو گا؟ اس منظر نے جہاں میرے دل پہ صدمے کے چرکے لگائے وہاں اپنی قوم کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا۔ جب میں قوم کی بات کرتا ہوں تو مراد اکثریت سے ہے کیونکہ میں نے زندگی کے طویل سفر میں قوم کے معتد بہ حصے کو ہر قسم کی اخلاقی گراوٹ، بے ایمانی، لوٹ کھسوٹ، لالچ، حرص، جھوٹ، دھوکہ دہی اور قانون شکنی میں مبتلا دیکھا ہے۔ 

    چھوٹی چھوٹی اور بظاہر بے ضرر مثالوں سے لے کر ملکی و قومی سطح تک جھوٹ، فراڈ، لوٹ کھسوٹ، ظلم و زیادتی اور بے اصولی کا سمندر بہہ رہا ہے۔ جس میں امیر اور غریب دونوں بہہ رہے ہیں۔ مجھے اس وقت حیرت ہوتی ہے جب دانشور ہر خرابی اور ہر قومی مرض کی جڑ غربت یا جہالت میں تلاش کرتے ہیں کیونکہ میں نے اپنی آنکھوں سے غریب، امیر، با اثر، بے اثر، جاہل اوراعلیٰ تعلیم یافتہ سبھی کو اخلاقی حمام میں بے لباس دیکھا ہے۔ غریب نائب قاصد اگر سو روپوں میں کوئی غلط کام کرنے پر تیار ہو جاتا تھا تو اعلیٰ تعلیم یافتہ افسر کا ریٹ لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے تھا۔ ایماندار، رزق حلال کھانے والے اور بااصول حضرات بھی موجود تھے اور موجود ہیں اور ان کا دم غنیمت ہے لیکن بدقسمتی سے ایسے حضرات کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر.....!!!

    گزشتہ دو تین دہائیوں میں ریلوے کے کئی حادثات ہوئے جن میں سینکڑوں لوگ اللہ کو پیارے ہو گئے اور ان گنت لوگ اپنے اعضا گنوا کر معذور ہو گئے۔ ہر حادثے کے بعد ایسی دلخراش خبریں پڑھنے اور سننے کو ملیں جنہوں نے مجھے اندر سے لہولہان کر دیا اور قلب و ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔ ہر حادثے کے بعد قریبی بستیوں کے لوگ چیخ و پکار کی آواز سن کر موقع پر پہنچے کچھ لوگ ڈبوں میں پھنسے اور زخمی و بے ہوش مسافروں کی مدد کرنے لگے جبکہ کچھ حضرات نے ڈبوں میں جکڑی زخمی خواتین کو باہر نکالنے کی بجائے ان کے کانوں سے سونے کی بالیاں اور بازوئوں سے چوڑیاں اتارنے کو ترجیح دی۔ چند برس قبل آزاد کشمیر میں قیامت خیز زلزلہ آیا تو پوری قوم زلزلہ زدگان کے غم میں ڈوب گئی، ان گنت تنظیمیں ان کی مدد کو پہنچیں لیکن زلزلہ زدگان سے ایسی داستانیں بھی سننے کو ملیں کہ کچھ حضرات اس خدائی قہر کے دوران بھی لوٹ مار میں مصروف رہے۔ 

    تقسیم ہند اورقیام پاکستان کے وقت میں کم سن تھا اس لئے مجھے علم نہیں لیکن ان گنت زبانی کہانیوں کے علاوہ سرکاری ریکارڈ، کتابیں، مشاہدات اور صحافتی رپورٹیں اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ ایک طرف قتل و غارت اور جلائو گھیرائو جاری تھا تو دوسری طرف نقل مکانی کر کے جانے والوں کے گھروں سے لوٹ مارعروج پر تھی کیونکہ قانون نام کی کوئی شے موجود ہی نہیں تھی۔ کیا ریل کے حادثات، زلزلوں، قدرتی آفات یا بٹوارے میں صرف غریب ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف تھے؟ بالکل نہیں۔ اس سنگدلانہ کارروائی میں سبھی شریک تھے اور سبھی شریک ہوتے ہیں۔ احمدپور شرقیہ یا بہاول پور کے جانکاہ حادثے میں بے شمار مرد عورتیں بچے جل کر راکھ ہو گئے۔ پٹرول کا ٹینکر ایک کار کو بچاتے ہوئے الٹ گیا اور ہر طرف پٹرول بہنے لگا۔

    دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں لوگ اپنے برتن اٹھائے، واٹر کولر، بوتلیں اور دیگچیاں سنبھالے پٹرول کی لوٹ میں مصروف ہو گئے۔ ڈرائیور منع کرتا رہا کہ آگ لگ سکتی ہے دور ہو جائو لیکن جب ہوس کا بھوت سوار ہو تو کوئی نصیحت اور وارننگ کام نہیں کرتی۔ میرے دانشور دوست اسے غربت کا المیہ قرار دیتے ہیں تو میرا جی چاہتا ہے کہ ان سے پوچھوں کہ وہ کاریں اور سینکڑوں موٹر سائیکل جو پٹرول کی بہتی گنگا سے ٹینکیاں بھرنے میں مصروف تھے اور جل کر راکھ ہو گئے کیا وہ غربت کا شکار تھے؟ نزدیکی گائوں کے کھاتے پیتے گھروں کے حضرات جو واٹر کولر لے کر پہنچے تھے، کیا وہ کئی دن کے بھوکے تھے اور انہوں نے اس پٹرول سے اپنی بھوک مٹانی تھی؟

    موضوع طویل ہے میں نے دیگ سے فقط چند دانے پیش کئے ہیں۔ میں نے زندگی کے سفر میں نہایت غریب مگر نہایت ایماندار اور بااصول حضرات بھی دیکھے ہیں اور دولت کے اونچے انباروں پر بیٹھے اورہیرے جواہرات سےکھیلتے امرا کو اپنی حرص و ہوس کے سبب نہایت غریب بھی پایا ہے کیونکہ غریب وہ ہوتا ہے جس کی بھوک کبھی ختم نہ ہو۔ اس لئے میں اس لوٹ کھسوٹ، بے ایمانی، چوری چکاری کو صرف غربت و جہالت کا شاخسانہ نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک یہ ہماری قوم کے اخلاقی تنزل کا قحط ہے اورہمارا مائنڈ سیٹ اور معاشرتی کلچر بن چکا ہے جس کی بنیادی وجہ اخلاقی تربیت اور کردار سازی کا فقدان، خوف ِ خدا اور جوابدہی کے احساس کا خاتمہ ہے۔ قوم کے لیڈران، امرا (ELITE) نمایاں شخصیات عوام کا رول ماڈل ہوتی ہیں جب معاشرے کے اعلیٰ طبقات کی لوٹ مار کی کہانیاں زبان زد عام ہوں تو لوٹ مار، حرص وہوس، اخلاقی گراوٹ اور لاقانونیت کے سمندر کے سامنے بند باندھنا ناممکن ہوتا ہے۔

    ایک بات یاد رکھیں کہ جس معاشرے اور گھر سے جائز و ناجائز، حلال اور حرام کی تمیز مٹ جائے اس معاشرے سے اللہ پاک کی برکت اور رحمت کا سایہ بھی اٹھ جاتا ہے۔

    ڈاکٹر صفدر محمود
     


    0 0

    یہ قدرت کی عجب ستم ظریفی ہے کہ ایک طرف گزشتہ کئی ماہ سے سیاستدانوں، ریاست کے اہم اداروں، الیکٹرانک میڈیا اور اعلیٰ عدلیہ سمیت پوری قوم کی توجّہ پانامالیکس پر مذکور ہے اور وزیراعظم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ان کے بچّوں نے ملک سے باہر جو جائیدادیں بنائی ہیں ان کیلئے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آیا اور دوسری طرف 7؍ دسمبر 2016 کو صدر مملکت نے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ کا اجراء کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص برائے نام ٹیکس ادا کر کے لوٹی ہوئی دولت، ٹیکس چوری کی دولت اور دوسرے ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت سے پاکستان میں جائیدادیں خرید سکتا ہے اور محکمہ انکم ٹیکس یہ پوچھنے کا مجاز نہیں ہو گا کہ خریدار کے پاس یہ رقوم کہاں سے آئی تھیں۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ اس ایمنسٹی اسکیم کو چاروں صوبوں کی عملی معاونت حاصل ہے۔ اس اسکیم سے جو غیر معینہ مدّت تک جاری رہے گی صرف پہلے 6 ماہ میں قومی خزانے کو 100 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے یعنی 200 ارب روپے سالانہ کا نقصان۔ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجراکی ذمہ داری وفاق کے ساتھ چاروں صوبوں پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن زیادہ ذمہ داری تحریک انصاف کی ہے کیونکہ:

    (1) تحریک انصاف کے منشور 2013 میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو اس اصول پر عمل کرنا چاہئے کہ جس جائیداد کی مالیت کم ظاہر کی جائے اسے قومی ملکیت میں لیا جانا چاہئے۔ اپنے اقتدار کے پانچویں برس میں ہی اگر تحریک انصاف خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں جائیدادوں کے ’’ڈی سی ریٹ‘‘ مارکیٹ کے نرخوں کے برابر لے آتی تو پھر وفاق کے پاس اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجراکا جواز ہی نہ رہتا اور 200 ارب روپے سالانہ کے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ اب بھی تحریک انصاف کے پاس سنہری موقع ہے کہ وہ صوبے میں ’’ڈی سی ریٹ‘‘ کو مارکیٹ کے نرخوں کے بربر لے آئے۔ یہ صوبے میں مثبت تبدیلی اور آئین کی 18 ویں ترمیم و منشور پر عملدرآمد کی نہ صرف شاندار مثال ہو گی بلکہ دوسرے صوبے بھی اس کی تقلید کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    (2) تحریک انصاف ہی پانامالیکس کے ضمن میں شریف خاندان کے خلاف مقدمہ سپریم کورٹ میں لے کر گئی تھی چنانچہ ناجائز دولت سے بنائے ہوئے اثاثے خواہ ملک کے اندر ہوں یا باہر دونوں پر قانون حرکت میں آنا چاہئے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ وطن عزیز میں قومی خزانے اور قومی مفادات کو مختلف طریقوں سے بلا روک ٹوک نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ چند حقائق پیش ہیں:

    (1) ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی دولت کیلئے قومی خزانے میں ایک پیسہ جمع کرائے بغیر مروّجہ قانون کے تحت آج بھی قانونی تحفّظ حاصل کیا جا رہا ہے۔

    (2) ناجائز رقوم سے ڈالر خرید کر بینکوں میں بیرونی کرنسی کے کھاتوں کے ذریعے سرمائے کی ملک سے باہر منتقلی بدستور جاری ہے۔

    (3) ناجائز آمدنی سے بنائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے ایسے اثاثے ملک کے اندر بنائے گئے ہیں جن کی نہ صرف تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں بلکہ یہ اثاثے حکومت کی دسترس میں بھی ہیں۔ ان ’’ملکی پاناماز‘‘ پر ہاتھ نہ ڈالنا ناقابل فہم ہے۔ اس سے اگر حکومت چاہے تو چند ماہ میں تقریباً 2,000 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ ریاست کے تمام ستون سیاستدان، وکلا، علما، اساتذہ، دانشور، میڈیا اور مختلف شعبوں کے ماہرین مندرجہ بالا تباہ کاریوں کے ضمن میں عمومی طور پر خاموش ہیں۔ معاشرہ بھی اس حد تک کرپٹ یا بے حس ہو چکا ہے کہ اس میں ہلکا سا ارتعاش بھی پیدا نہیں ہو رہا۔ پانامالیکس کے ضمن میں الیکٹرانک میڈیا میں کئی سو ٹاک شوز ہو چکے ہیں جن میں اس معاملے کے سیاسی و قانونی پہلوئوں پر بحث و مباحثہ ہوا ہے لیکن قومی سلامتی و قومی مفادات سے متصادم مندرجہ بالا امور کو عموماً زیر بحث لایا ہی نہیں گیا۔

    اس حقیقت کو اب تسلیم کرنا ہو گا کہ پانامالیکس کے مقدمے اور عدالتی کارروائیوں پر ہونے والے غیر محتاط تبصروں سے ریاستی ادارے مزید کمزور ہوئے ہیں اور ان کے درمیان سنگین محاذآرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے اور اس مقدمے کا جو بھی فیصلہ آئے وہ متنازع ہی رہے گا۔ یہ بھی واضح ہے کہ پاناما پیپرز کے ضمن میں ہنگامہ آرائی کا اصل مقصد صرف سیاسی مفادات کا حصول ہے۔ یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اگلے عام انتخابات مسائل کے حل کے بجائے منافرت اور الزام تراشیوں کی بنیاد پر لڑے جائیں گے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ وفاق اور چاروں صوبوں میں جو سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں انہوں نے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفّظ کیلئے اپنے اپنے انتخابی منشور سے صریحاً انحراف کیا ہے۔

     چاروں صوبے زرعی شعبے اور جائیداد سیکٹر کو مؤثر طور پر ٹیکس کے دائرے میں لانے کیلئے آمادہ نہیں چنانچہ وہ تعلیم و صحت کی مد میں وعدے کے مطابق رقوم مختص نہیں کر رہے۔ سپریم کورٹ نے 2007 میں بینکوں کے قرضوں کی غلط طریقوں سے معافی کا ازخود نوٹس لیا تھا اور 2009 میں اس کیس کی سماعت کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ قرضوں کی معافی کے اسٹیٹ بینک کے 2002 کے سرکلر 29 کا بھی جائزہ لیا جائے گا جس سے بڑے لوگوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ عدالت نے دوران سماعت یہ بھی کہا تھا کہ قرضے معاف کروا کر رقوم بیرون ملک منتقل کر دی گئی ہیں۔ پانامالیکس کے موجودہ مقدمے کے تناظر میں یہ ازحد ضروری ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد صادر فرمایا جائے جو سپریم کورٹ میں دس برسوں سے التوا کا شکار ہے، وگرنہ ان قرضوں کی وصولی ناممکن ہو جائے گی اور احتساب یکطرفہ رہے گا۔

    پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ جاری حسابات کا خسارہ محفوظ حد سے بڑھ چکا ہے۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ پاکستان قرضوں کے شیطانی چکّر میں پھنس چکا ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں جبکہ نیشنل ایکشن پلان بدستور نامکمل اور غیر مؤثر ہے۔ چین کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر جو سرمایہ کاری کی جانی ہے اس کی شرائط بہتر بنانے کیلئے مذاکرات کرنے کے بجائے حکومت کی کوششوں کا محور چین سے نئے قرضوں کا حصول ہے۔ اس بات کا ادراک اب کرنا ہی ہو گا کہ عالمی مالیاتی ادارے، بیرونی سرمایہ کار اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز مندرجہ بالا متضاد پالیسیوں و اقدامات اور منفی پیشرفت کو حیرت و استعجاب سے دیکھ رہے ہیں جس کے تباہ کن نتائج اس وقت سامنے آئیں گے جب دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں امریکہ کو پاکستان کی معاونت کی ضرورت مزید کم ہو جائے گی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

    (آمین)
    ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
     


    0 0

    گذشتہ روز پاکستان کے وزیر اعظم کی صاحبزادی مریم نواز کو سلیوٹ کرنے پر سپیشل برانچ کی خاتون افسر ایس پی ارسلہ سلیم کو خاصی تنقید کا سامنا ہے۔
    واضح رہے کہ کسی سرکاری عہدے یا رینک کی حامل نہ ہونے کی وجہ سے مریم نواز کسی رسمی سلیوٹ کی حقدارنہیں ہیں جبکہ ایس پی ارسلہ سلیم اس موقع پر اپنی آفیشل ڈیوٹی پر تعینات تھیں اور سلیوٹ کے وقت ان کی 'اپائٹمنٹ سٹِک'یا چھڑی بغل میں تھی، یہی وجہ ہے کہ ان کے اس سیلوٹ کو رسمی سلیوٹ قرار دے کر تنقید کی جا رہی ہے۔ کسٹم آف سروس بُک کے مطابق سلیوٹ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک رسمی تقریب یا موقعے پر جبکہ دوسرا غیر رسمی تقاریب یا مواقع پر۔
    کسی بھی 'رسمی تقریب، موقع یا ڈیوٹی'پر صرف ان افراد، افسران کو سلیوٹ کیا جاتا ہے جو 'سرکاری طور پر اپنے عہدے اور رینک کی وجہ سے اس کے مستحق  ہیں۔

    اس کے علاوہ اگر کسی افسر کے پاس اس کی 'اپائٹمنٹ سٹِک'موجود ہو اور وہ ڈیوٹی پر ہو تو چھڑی یا سٹک بغل میں رکھتے ہوئے اوپر کے گریڈ کے افسران کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ اسے 'فارمل‘ یا ’رسمی'سلیوٹ کہا جاتا ہے۔ پولیس رولز 1934 کے مطابق افسران کے لیے جن شحصیات کو سلیوٹ کرنا لازم ہے ان میں وزرائے اعظم، صدر مملکت، وزیر داخلہ، سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ، مسلح افواج کے سربراہان اور سینیئر رینک کے تمام افسران شامل ہیں۔ کسی بھی پولیس افسر کا مسلح افواج کے خود سے سینئر افسران کو سلیوٹ بھی لازمی ہے۔ اس معاملے پر رائے دیتے ہوئے سابق آئی جی پولیس ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ 'اگرچہ اس معاملے کو زیادہ بڑھایا گیا ہے، تاہم سرکاری ڈیوٹی پر تعینات افسران کو موقعے کی مناسبت سے ردعمل ظاہر کرنا چاہیے'۔

    ان کے مطابق مریم نواز ایک تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہو رہی تھیں، اس لیے انھیں سلیوٹ کرنے کا معاملہ زیادہ اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'خاتون افسر پروٹوکول ڈیوٹی پر نہیں تھیں بلکہ سکیورٹی ڈیوٹی پر تھیں، اس لیے انھیں مریم نواز کو ایسکارٹ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔' ان کے مطابق 'عام طور پر بعض معاشرتی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے خواتین کو سلیوٹ کی طرز پر سلام کیا جاتا ہے تاہم یہ قواعد و ضوابط کا حصہ نہیں۔‘ ان کے خیال میں 'اول تو یہ سلیوٹ نہیں کرنا چاہیے تھا، دوسرا انھیں زمین سے گرا قلم اٹھانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔‘ واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ایس پی ارسلہ سلیم کے اس عمل کو بھی 'یونیفارم کے وقار کے منافی'قرار دیا جا رہا ہے جب انھوں نے دیگر کئی اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود خود زمین پر گرا ہوا قلم اٹھا کر مریم نواز کو دیا۔

    دوسری جانب ایس پی ارسلہ سلیم کے حق میں بھی سوشل میڈیا پر کئی پوسٹس سامنے آئی ہیں۔ ایک فیس بک صارف نے ان کی چند تصاویر شیئر کی ہیں جن میں انھیں بزرگوں اور بچوں کے ساتھ وقت گزارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ بعض صارفین نے انھیں ایک 'رحمدل، ملنسار خاتون اور نہایت پیشہ ور افسر'قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ ایس پی ارسلہ سلیم کو جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران مریم نواز شریف کے ہمراہ تعینات کیا گیا تھا۔ ان کے سیلیوٹ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان کے اس عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں اسے ناقابل یقین قرار دیا اور کہا کہ 'ایک پرائیویٹ شہری مریم کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا، پولیس انھیں سلیوٹ کر رہی ہے جب کہ وہ ایک مجرمانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہوئی ہیں۔‘

    بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزام بھی لگایا گیا کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں نہ صرف پولیس کا پروٹوکول لیتے ہیں بلکہ انھیں سلیوٹ بھی کیا جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ پولیس کے ضابطہ اخلاق کے مطابق بعض مخصوص وزارتوں اور عہدوں کو چھوڑ کر اراکینِ پارلیمان، سرکاری طور پر سلیوٹ کے حقدار نہیں ہیں۔

    فرحت جاوید 

    بی بی سی اردو، اسلام آباد

     


    0 0

    آج جموں و کشمیر اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی کشمیری موجود ہیں اس نو عمر مجاہد کی پہلی برسی منائی جا رہی ہے جس نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونک دی۔ یہ اسی کی دلیرانہ جدوجہد اور اس کے نتیجے میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں شہادت کا کرشمہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے ستم رسیدہ مسلمانوں کے سینوں میں آزادی کے لئے سلگتی ہوئی چنگاریاں ایک بار پھر بھڑکتے ہوئے شعلوں میں تبدیل ہو گئیں۔ تحریک آزادی کو نئی توانائی ملی، وادی کے گوشے گوشے سے حق خودارادیت کے لئے بلند ہونے والی آوازوں کو ناقابل شکست قوت ملی اور پچھلے ایک سال سے کشمیری نوجوان بچے بوڑھے عورتیں اور مرد پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اٹھائے دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس دشمن فوج کی بربریت کا نہایت جرأت اور استقامت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ 

    اس دوران تین سو سے زائد کشمیری نوجوان شہید، سات ہزار زخمی اور دو ہزار پیلٹ گنوں کے چھروں سے نابینا ہو گئے۔ دس ہزار گرفتار ہو کر قیدوبند کی اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ ان نہتے کشمیریوں کی جرأت و شجاعت کے سامنے بھارتی فوج بے بسی اور نامرادی کی تصویر بن چکی ہے۔ مایوسی کے عالم میں اس نے اب پیلٹ گنوں کے علاوہ کیمیائی ہتھیار اور ڈرونز کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ بھارت اب مقبوضہ کشمیر میں ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے جس کا اعتراف کئی بھارتی سیاستدانوں سابق جرنیلوں دانشوروں اور صحافیوں نے بھی کیا ہے اور مودی حکومت کو پاکستان سے مذاکرات کا مشورہ دیا ہے۔ یہاں تک مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بھی کھلے عام بھارت سے مطالبہ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ کشمیری عوام پرظلم بند کرے۔ ایک سابق بھارتی جرنیل نے تویہ بھی کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو کھو چکا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ ریاست کی روز بروز بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلے کے پرامن حل کی راہ نکالنے پر زور دے رہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے بھارت کے ہاتھ پائوں پھول گئے ہیں اور وہ پاکستان کے خلاف امریکہ اور دوسرے سرپرستوں کو مدد کے لئے پکار رہا ہے۔ یہ سب مقبوضہ کشمیرمیں کاروان حریت کے سالاروں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق، یٰسین ملک، شبیراحمد شاہ، آسیہ اندرابی اور دوسرے رہنمائوں کی مسلسل جدوجہد سید صلاح الدین کی حریت پسندانہ قیادت برہان وانی جیسے سرفروشوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے برہان وانی کی شہادت بلا شبہ کشمیری قوم کی حیات ہے۔

    برہان وانی، جسے تاریخ یقیناً کسی دن کشمیر کی تحریک حریت کے عظیم ترین شہدا میں شمار کرے گی۔ 15 سال کی عمر میں جہاد کے لئے نکلا اور زندگی کے22 سال بھی پورے نہ کئے تھے کہ شہادت کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہو گیا، بچپن میں جب وہ کھیلنے کودنے کے دور سے گزر رہا تھا کرکٹ اس کا پسندیدہ کھیل تھا اور وہ پاکستان نہیں بلکہ بھارت کی طرف سے کھیلنے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ بڑا ہو کر بھارتی فوج میں بھرتی ہونا چاہتا تھا۔ اس کے ذہن میں جہادی بننے کا کوئی تصور تھا نہ بندوق اٹھا کر چلنے کا! لیکن اس نے بھارتی فوجیوں کو نہتے کشمیریوں پرجب سنگینیں تانے، گھروں میں گھس کر چادر اور چار دیواری کو پامال کرتے، بے نام قبرستان آباد ہوتے، عقوبت خانوں میں بے گناہ مرد و زن کو زنجیروں میں جکڑے لہولہان دیکھا تو اس کے معصوم دل و دماغ میں سوالات اٹھنے لگے کہ اس کے ہم وطنوں پر یہ ظلم، یہ ستم کیوں؟ آہستہ آہستہ اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا گیا۔ 

    یہاں تک کہ 5 اکتوبر 2010 کا فیصلہ کن دن آ پہنچا۔ اس شام اس نے اپنی محبت کرنے والی ماں کو نہایت ادب وہ احترام سے بتایا کہ وہ کچھ دوستوں سے ملنے باہر جا رہا ہے۔ اجازت ملنے پر وہ گھرسے نکل گیا اور پھرکبھی واپس نہ آیا۔ پتہ چلا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہو گیا ہے اوراس کے ایک گروپ کی کمان کر رہا ہے۔ اس کے والد مظفر وانی بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ تعلیم کو فروغ دے رہا ہوں جبکہ میرا بیٹا آزادی کی تحریک کو فروغ دے رہا تھا۔ اپنا فرض نبھاتے ہوئے شہید ہو گیا۔ برہان سے پہلے میرا بیٹا خالد بھی شہید ہوا۔ اسے اس وقت تشدد کا نشانہ بنا کر مار دیا گیا جب 13 اپریل 2015 میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک منا رہا تھا۔ وہ جہاد میں شامل نہیں تھا مگر سیکورٹی فورسز کو اس پر برہان وانی سے ملنے کا شبہ تھا۔ خالد برہان سے عمر میں چار سال بڑا تھا۔ 

    اس کی شہادت کے کوئی سوا سال بعد 8 جولائی 2016 کو برہان وانی ہندواڑہ کے قصبے کرناگ میں اپنے دو ساتھیوں سرتاج احمد اور پرویز احمد لشکری کے ساتھ گولیوں کانشانہ بنا دیا گیا۔ وانی وادی کشمیر کا ایک معزز قبیلہ ہے۔ اس بہادر قبیلے کے دو سگے بھائیوں نے یکے بعد دیگرے شہادت کا رتبہ حاصل کر کے ثابت کر دیا کہ ’’کسے کہ کشتہ نہ شداز قبیلہ ما نیست‘‘۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو پاکستان کی دہشت گردی قرار دیتا ہے اور الزام لگاتا ہے کہ دہشت گرد کنٹرول لائن پارکر کے بھارتی فوج کے مورچوں اور کیمپوں پر حملے کرتے ہیں۔ مگر برہان وانی کی شہادت یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ مقبوضہ ریاست میں چلنے والی تحریک مقامی ہے اور مقامی نوجوان ہی اسے آگے بڑھا رہے ہیں۔ برہان کے والد کہتے ہیں کہ بھارت نے کنٹرول لائن کو ناقابل عبور بنانے کے لئے اتنے انتظامات کر رکھے ہیں کہ وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ 

    ایسے میں دہشت گردوں کی دراندازی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ برہان وانی 14 ستمبر 1995 کو ضلع پلوامہ کے علاقہ ترال میں پیدا ہوا۔ اس کے والد وہاں ہائر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل ہیں۔ برہان وانی نو عمر تھا مگر ذہانت میں بہت سے بڑوں سے بھی بڑا تھا۔ اس نے جہاد کشمیر کو مہمیز دینے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال متعارف کرایا جس سے پڑھے لکھے کشمیری نوجوان اس کے گروپ میں شامل ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے چند سرفروشوں کا یہ قافلہ سینکڑوں میں تبدیل ہو گیا۔ برہان اور اس کے ساتھی راشٹریہ رائفلز کی وردیاں پہن کر پہاڑوں اور ندیوں کے کنارے بے فکر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور ٹریننگ کرتے نظر آتے۔ ان کی یہ تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی جاتیں، جس سے ایسا لگتا جیسے مجاہدین بلا روک ٹوک ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔

     سوشل میڈیا کے اس استعمال نے بھارتی فوج کی نیندیں حرام کر دیں اور وہ ’’دہشت گردوں‘‘ کی تلاش میں رات دن ایک کرنے لگی۔ بھارت سرکار نے برہان کو زندہ یا مردہ پکڑنے کے لئے دس لاکھ روپے کا انعام رکھ دیا۔ تحریک آزادی کی ساری سیاسی قیادت خواتین رہنمائوں سمیت جیلوں میں ہے۔ اخبارات پر پابندی ہے فوج دس دس بارہ بارہ سال کے لڑکوں کو بھی پکڑ کر لے جاتی ہے اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔ وادی کے چار اضلاع شوپیاں، اسلام آباد، پلوامہ اور کولگام مکمل طور پر بھارتی فوج کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔ سری نگر سمیت ان علاقوں میں مسلسل کرفیو نافذ ہے۔ برہان وانی دور دراز علاقوں میں اتنا مقبول ہو گیا تھاکہ کشمیری مائیں اس کی شہادت پر اب تک روتی ہیں اور نوجوان موقع ملتے ہی مجاہدین سے جا ملتے ہیں۔ بھارتی فوج اس کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں شروع ہونے والی تحریک کو کچلنے کے لئے جو غیر انسانی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اس نے کشمیریوں کے لئے مشکلات میں اضافہ لیکن آزادی کی منزل کو اور قریب کردیا ہے۔
     


    0 0

    بہت سے لوگ دن بھر میں آنکھیں بند کر کے سینکڑوں لائیک کر کے ہی دم لیتے
    ہیں۔ لیکن وہ اس کے نقصانات سے بے خبر ہوتے ہیں ایک لائیک کرتے ہی آپ کی سرچ ہسٹری سوشل میڈیا کے کرتا دھرتائوں کے علم میں آ جائے گی۔ وہ جو چاہیں معلوم کر سکتے ہیں۔ چنانچہ سوچ سمجھ کر لائیک یا ڈس لائیک کیجیے۔ وہ یہ سب کچھ بند کمپیوٹرز پر بھی کر سکتے ہیں۔ سرچ انجن کوئی بھی ہو ، یا سوشل میڈیا ہو، آپ کمپیوٹر بند کر کے کسی اورکام پر لگ جائیں لیکن سوشل میڈیا کے کرتا دھرتا اگر چاہیں تو بند کمپیوٹرز پر بھی آپ کی سرچ ہسٹری کا پتا چلا سکتے ہیں۔ جب کوئی کسی بھی ویب سائٹ پر لائیک کا بٹن دباتا ہے تو یہ انٹرنیٹ کے ریکارڈ میں چلا جاتا ہے اور فیس بک کے ریکارڈ میں بھی۔

    بند کمپیوٹرز پر بھی یہ ادارے اس کی مدد سے ڈیٹا معلوم کر سکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک مقدمہ امریکہ میں دائر ہوا، ایک شخص نے فیس بک انتظامیہ پر اپنا ڈیٹا چوری کرنے کا الزام لگایا۔ تاہم امریکی جج نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر ریلیف دینے سے گریز کیا۔ درخواست گزار نے کہا کہ فیس بک بند کمپیوٹر پر اس کا ڈیٹا چوری کر سکتا ہے ۔ اس کے کیخلاف فیصلہ سنایا جائے‘‘۔ عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ایسا کوئی واقعہ نہیں درج کیا جس سے ڈیٹا کی چوری کا پتہ چل سکے۔ درخواست دہندہ بہت سے طریقوں سے اپنا سسٹم محفوظ بنا سکتا ہے۔اس نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنانے میں خود ناکام رہا ہے۔امریکی ڈسٹرکٹ جج ایڈورڈ ڈیولا کے مطابق کیلی فورنیا کا یہ شہری اپنے سسٹم کی پرائیویسی کو قائم رکھنے میں ناکام رہا۔ وہ چاہتا تو مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی پرائیویسی قائم رکھ سکتا تھا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ خواتین و حضرات آپ بھی ہوشیار رہیے،ایک لائیک مہنگی پڑ سکتی ہے۔
     

    سید آصف عثمان گیلانی



    0 0



    برہان وانی : تمھارے بعد کہاں وہ وفا کے ہنگامے 

    برہان وانی نے کھل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے اور بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کی راہ اپنانے کی بھرپور مہم چلائی جس کے جواب درجنوں نوجوان بھارتی فوج اور کشمیر پولیس سے اسلحہ چھین کر مجاہدین کی صفوں میں شامل ہونے لگے۔







    0 0
  • 07/15/17--14:29: خیبر ایجنسی
  • خیبر ایجنسی لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ کی تحصیلوں پر مشتمل ہے، اس کا رقبہ
    کوئی 995 مربع میل ہے، اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔ اس لیے اسے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ یا ’’فاٹا‘‘ کہا جاتا ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر، وفاق کے نمائندے اور صدر پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر ان علاقوں کے انتظامی سربراہ ہیں۔ اسکی اکثریت آفریدی قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے۔ تاہم شنواری، ملاگوری اور شلمانی بھی اس علاقے کے باشندے ہیں۔ ان حریت پسندوں نے پورے سو برس تک فرنگی حکمرانوں کے خلاف جہاد جاری رکھا یہاں تک کہ غیر ملکی سامراجیوں کو یہاں سے نکلنا پڑا۔ خیبر ایجنسی کی اصل اہمیت درہ خیبر ہی کے باعث ہے تاریخ کے مختلف ادوار میں وسط ایشیاء سے آنے والے حملہ آور اسی درہ سے گزرکر ہندوستان پہنچتے رہے۔

    یہ درہ کیا ہے؟ اونچی نیچی پہاڑیوں کے مابین پیچ وخم کھاتی ہوئی ایک گھاٹی ہے۔ اصل درہ جمرود کچھ آگے شادی گھیاڑ کے مقام سے شروع ہو کر پاک افغان سرحد پر واقع مقام طورخم تک پہنچتا ہے جو کوئی 33 میل لمبا ہے جمرود کے مقام پر اس درہ کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے شاہراہ پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ بنایا گیا ہے جسے ’’باب خیبر‘‘ کہتے ہیں یہ دروازہ جون 1963ء میں بنا۔ باب خیبر پر مختلف تختیاں نصب ہیں جن پر اس درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام درج ہیں۔ ’’باب خیبر‘‘ کے پاس ہی جرگہ ہال ہے جہاں قبائلی نمائندوں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ جمرود میں ایک اونچے مقام پر مٹیالے رنگ کا قلعہ ہے جس کی شکل و صورت ایک بحری جہاز کی طرح ہے۔ سکھ جرنیل ہری سنگھ نلوہ نے 1836ء میں درہ خیبر کی حفاظت کے لیے یہ قلعہ تعمیر کروایا تھا۔

    لیکن اس کے دوسرے ہی سال مسلمانوں نے ایک معرکہ میں ہری سنگھ کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ان دنوں یہاں عسکری اداروں کے جوان مقیم ہیں جو پاکستانی سرحدوں کے جیالے پاسبان ہیں قدم کے قصبہ سے لنڈی کوتل کی طرف بڑھیں تو چڑھائی شروع ہوجاتی ہے سڑک کے دونوں جانب ہزار ڈیڑھ ہزار فٹ اونچی پہاڑی چٹانیں ہیں۔ علی مسجد تک پہنچتے پہنچتے سڑک سکڑ کر صرف پندرہ فٹ رہ جاتی ہے۔اس مسجد کے پاس ایک اونچی جگہ شاہ گئی کا قلعہ ہے۔ یہاں پانی کے چشمے بھی ہیں۔ لنڈی کوتل اس سڑک پر بلند ترین مقام ہے۔ یہاں سے پھر اترائی شروع ہو جاتی ہے۔


    0 0

    ترکوں نے ثابت کر دیا کہ وہ جمہوریت اور رجب طیب اردگان کے ساتھ کھڑے ہیں.  رجب طیب اردگان کا کہنا تھا کہ 'آج کے بعد ویسا کچھ نہیں ہوگا جیسا 15 جولائی سے پہلے ہوتا تھا'۔ ناکام بغاوت کا پہلی جنگ عظیم سے تقابل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'قوموں اور ریاستوں کی تاریخ میں اہم ٹرننگ پوائنٹ آتے ہیں جو ان کی مستقبل سازی کرتے ہیں، 15 جولائی ترکی کے لیے ایسی ہی ایک تاریخ تھی'۔بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ترک حکومت کے بنوائے گئے خصوصی پوسٹرز ملک کے مختلف علاقوں میں آویزاں کیے گئے۔



     




    0 0

    پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔
    سپریم کورٹ کے بینچ نے جس میں پاناما لیکس کے معاملے پر ابتدائی مقدمہ سننے والے پانچوں جج صاحبان شامل تھے آئین پاکستان کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر درخواستوں پر اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2013 میں دائر کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کر کے صادق اور امین نہیں رہے۔  

    عدالت نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن فوری طور پر بطور پارلیمان سے ان کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکشن جاری کرے۔ عدالت نے نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ چھ ہفتے کے اندر نواز شریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی مہیا مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرے اور چھ ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔عدالت نے نواز شریف اور حسن اور حسین نواز کے خلاف چار جبکہ مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالتی فیصلے کے چیدہ نکات درج ذیل ہیں :
    قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ فیصلے کی تاریخ اٹھائیس جولائی 2017 سے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی، فیڈرل انویسٹیگشن اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرئے۔ نیب نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی میں شیخ سعید، موسی غنی، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کرے۔ نیب ان افراد کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے اگر ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔ احتساب عدالت نیب کے جانب سے ریفرنس فائل کیے جانے کی تاریخ کے چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرے۔

    اگر مدعا علیہان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات جھوٹی، جعلی اور من گھڑت ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
    نواز شریف نے یو اے ای میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنےاثاثوں کو دو ہزار تیرہ میں اپنے کاعذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہذا وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔

    الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے۔ صدر مملکت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کے ایک جج کو اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے تعینات کیا جائے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور وفاقی کابینہ تحلیل ہو گئی ہے۔



    0 0

    25 دسمبر 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے نواز شریف، محمد شریف اور ان کی اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، ان کے والد ایک دولت مند صنعتکار تھے جنہوں نے اتفاق اور شریف گروپ کی بنیاد رکھی۔



    0 0

    سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیئے جانے کے بعد اس بحث کا آغاز ہو گیا کہ کیا سابق وزیراعظم تاحیات نااہل ہو گئے یا کچھ عرصے بعد وہ پارلیمانی لیڈر کی حیثیت سے دوبارہ سیاسی برادری کا حصہ بن سکتے ہیں۔
    یہ سوال جب چند تجربہ کار وکلاء کے سامنے رکھا گیا تو سب اس پر الجھن کا شکار نظر آئے جبکہ کچھ قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو طویل عرصے سے ملتوی کیا جا رہا ہے اور اس کے تعین کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر طارق محمود نے ڈان کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سامنے کئی ایسے مقدمات موجود تھے جن میں اہم نکتہ اس بات کا تعین کرنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت ہونے والی نااہلی ہمیشہ برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ ان مقدمات میں ثمینہ خاور حیات اور محمد حنیف کا کیس بھی شامل تھا۔ سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بھی اسی نوعیت کے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حیرانگی کا اظہار کیا تھا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کی بنیاد پر کسی کو عمر بھر کے لیے انتخابات کا حصہ بننے سے نااہل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ نااہل ہونے والے افراد بعد ازاں خود کو بہتر کرنے کے بعد انتخابات کے لیے اہل ہو سکتے ہیں۔

    سینئر وکیل راحیل کامران شیخ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 19 جون 2012 کو توہینِ عدالت کے جرم میں آرٹیکل 63 کے تحت یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دیا گیا تھا، جس کی مدت 5 سال تھی۔
    ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کی مدت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ تاہم طارق محمود کے مشاہدے کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایسے کئی کیسز التواء کا شکار ہیں، جن میں اس بات کا تعین ہونا ہے کہ آرٹیکل 62 کا اطلاق صرف موجودہ الیکشنز پر ہو گا یا ہمیشہ کے لیے۔

    کامران شیخ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی نااہلی کی وجوہات پیش کر کے منتخب نمائندوں کی نااہلی کی حد کو اس قدر نیچے کر دیا کہ مستقبل میں کئی افراد اس پر اعتراض کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پاناما پیپرز فیصلے کے بعد طاقت کا میزان عدلیہ کی حمایت میں جھک گیا ہے جبکہ پارلیمانی لیڈرز کی اہلیت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فیصلے کا اطلاق تمام بورڈ پر ہوتا ہے تو خوف کا شکار پارلیمانی لیڈرز مل کر آرٹیکل 62 کی بنیاد پر اختیارات کو محدود کرنے کے حوالے سے آئینی ترمیم بھی کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے نائب چیئرمین احسن بھون کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی نااہلی تاحیات ہے. اپنے نکتہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے 2013 کے عبدالغفور لہری کیس کی مثال دی جس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے واضح کیا تھا کہ کچھ نااہلیوں کی نوعیت وقتی ہوتی ہے اور آرٹیکل 63 کے تحت نااہل ہونے والا شخص کچھ وقت بعد واپس اہل ہو سکتا ہے تاہم آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62 کے تحت نااہل ہونے والے شخص کی نااہلی کی مدت متعین نہیں جس کے بعد وہ پارلیمانی انتخابات کا اہل ہو سکتا ہو۔ سابق اٹارنی جنرل طارق کھوکھر کا بھی کہنا تھا کہ چونکہ نواز شریف صادق اور امین نہ ہونے کی بنیاد پر نااہل ہوئے ہیں، لہذا یہ نااہلی تاحیات ہے۔

    یہ خبر 29 جولائی 2017 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

     


    0 0
  • 07/31/17--04:07: Shahid Khaqan Abbasi
  • Shahid Khaqan Abbasi  is a Pakistani politician who is the Prime Minister-designate of Pakistan. A member of Pakistan Muslim League (N), Abbasi previously served as the Minister of Petroleum and Natural Resources in the third Sharif's ministry from 2013 to 2017 and briefly held the cabinet portfolio of Minister for Commerce in the Gillani ministry in 2008. Abbasi has been an elected Member of the National Assembly of Pakistan since 1988, representing Rawalpindi. He is the owner of Airblue; and previously served as Chairman of Pakistan International Airlines from 1997 to 1999 during the second Sharif's ministry. 

    Early life and education

    Abbasi was born on 27 December 1958 in Karachi, Pakistan to Khaqan Abbasi. Abbasi studied at the Lawrence College in Murree. In 1978, Abbasi attended the University of California, Los Angeles to study electrical engineering from where he attained Bachelor of Science. In 1985, he attended the George Washington University where he gained master's degree in electrical engineering, and qualified for the professional engineer certificate. 

    Professional career

    After graduating from the George Washington University, Abbasi worked as professional engineer for the various projects in the United States before moving to Saudi Arabia to perform engineering works for various energy projects in Saudi oil industry. In 2003, Abbasi founded Airblue Limited where he served as its first chairman until 2007. Later he became chief operating officer of the airline. Reportedly, Abbasi is the owner of the airline but he denies it saying that he had no shareholding in Airblue Limited and had not visited its office for over two years. 

    Political career

    Abbasi was elected to the National Assembly of Pakistan for this first time from Rawalpindi constituency as an independent candidate in Pakistani general elections, 1988 after the death of his father Khaqan Abbasi who was the then Federal Minister for Production in the cabinet of Muhammad Zia-ul-Haq. He was re-elected to the National Assembly from Rawalpindi constituency as a candidate of Islami Jamhoori Ittehad in Pakistani general elections, 1990 and made Parliamentary Secretary for Defence. He was re-elected to the National Assembly for the third time from Rawalpindi constituency as a candidate of Pakistan Muslim League (N) (PML-N) in Pakistani general elections, 1993 during which he performed his duties as the Chairman of the Standing Committee of National Assembly on Defense. 

    He was re-elected to the National Assembly for the fourth time as a candidate of PML-N from Rawalpindi constituency in Pakistani general elections, 1997 and appointed as the Chairman of the Pakistan International Airlines where he served until 1999 Pakistani coup d'état in which then Chief of Army Staff, Pervez Musharraf, overthrew elected Prime Minister Nawaz Sharif and his existing elected government.[4] Abbasi was arrested and his tenure was terminated. He remained in jail for two years and was acquitted by the court in 2001. He ran for the seat of the National Assembly as a candidate of PML-N in Pakistani general elections, 2002, but was unsuccessful for the first time after he lost to a candidate of Pakistan Peoples Party (PPP). 

    He was re-elected to the National Assembly for the fifth time as a candidate of PML-N from Constituency NA-50 (Rawalpindi) in Pakistani general elections, 2008, and briefly held the cabinet portfolio as Federal Minister for Commerce along with the additional portfolio of Federal Minister for Defence Production dubious – discuss] in the Gillani ministry in March 2008 however, his tenure was short-lived due to PML-N's decision to leave the PPP led coalition government in May 2008. Abbasi was re-elected to the National Assembly from Constituency NA-50 (Rawalpindi) for the sixth time as a cadidiate of PML-N in Pakistani general elections, 2013. Upon PML-N victory in the 2013 national election, he was inducted into the federal cabinet and was appointed as the Minister of Petroleum and Natural Resources. 

    On July 2017, he had ceased to hold ministerial office when the federal cabinet was disbanded following the resignation of Prime Minister Nawaz Sharif after Panama Papers case decision. A day later, he was nominated by Nawaz Sharif as the interim Prime Minister of Pakistan for 45 days. 

    Personal life

    Abbasi is married and has three sons. His surname Abbasi is also the name of his clan, which is predominant in northern Punjab.

    0 0

    پاکستان کے واحد حیات سابق فوجی آمر کے طور پر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف ملک کے اس چھوٹے مگر اہم حصے کے ترجمان بن کر سامنے آئے ہیں۔ اپنے حریف میاں محمد نواز شریف کے سیاسی زوال کے بعد سابق آمر نے سویلین سیاستدانوں کے خلاف ایک کے بعد ایک تبصرے کیے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کو ایک ایسے فرد کی بیان بازی کے طور پر نظرانداز کیا جا سکتا ہے جو آج کے دور میں اپنی محدود سیاسی حیثیت کو تسلیم کرنے میں ناکام ہے۔ مگر اپنے مخصوص انداز میں سابق آمر اپنی حدیں پار کر چکے ہیں۔ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک حیران کن انٹرویو میں مشرف نے نا صرف اپنے دور کا دفاع کیا، بلکہ ایوب اور ضیاء ادوار کا بھی۔

    شکر ہے کہ مشرف کے لیے بھی یحییٰ خان کے دور کا دفاع کرنا ایک انتہائی قدم ہوا اور وہ اس سے باز رہے۔ مگر پھر بھی ملکی تاریخ کی دو انتہائی تباہ کن فوجی آمریتوں کا شرمناک دفاع اور تمام سویلین سیاستدانوں کو کھلے عام برا بھلا کہنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ مشرف بھلے ہی معذرت خواہ نہ ہوں، مگر وہ انتہائی غلط ضرور ہیں۔ فوجی حکومتیں ملک کے لیے کتنی تباہ کن رہی ہیں، اس کا اندازہ اس آسان معیار سے لگایا جا سکتا ہے جو مشرف کی بھی سمجھ میں آئے گا: زیادہ تر نے دفتر رسوائی کے بعد چھوڑا، اور ہر آمریت کے بعد ملک میں اتفاقِ رائے پیدا ہوا کہ سویلین حکومت کی جانب لوٹنا ضروری ہے ( جنرل ایوب کے معاملے میں غیر معمولی سیاسی صورتحال نے اس ناگزیر مرحلے کو کچھ حد تک ٹال دیا)۔

    خود مشرف سنگین قانونی مسئلے سے خود کو بچانے کے لیے بیماری کا بہانہ کرنے اور اپنے ادارے کو استعمال کر کے ملک سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ اب جبکہ ان کے حریف سیاسی دوڑ سے باہر نکل گئے ہیں، تو مشرف کو اپنے اس نظریے، کہ پاکستانی عوام سویلین حکمرانوں سے زیادہ فوجی حکمرانوں کو ترجیح دیتے ہیں، کو اس طرح آزمانا چاہیے کہ وہ واپس آئیں اور عدالتوں کا سامنا کریں۔ یقیناً مشرف کے نزدیک جن عدالتوں نے نواز شریف کے معاملے میں انصاف کیا ہے، وہ 'عوام کے پسندیدہ حکمران'کے ساتھ بھی انصاف ہی کریں گی، مشرف کی اپنی دلیل کے مطابق۔

     بنیادی سوال — کہ پاکستان میں احتساب صرف سویلین سیاستدانوں کا ہی کیوں ہوتا ہے؟ — کا جواب مشرف کی ہٹ دھرم اور شدید بے وقوفانہ گفتگو میں چھپا ہے۔ یقیناً آج مشرف کو آزادی آئینی نظام کے مسخ کیے جانے کی وجہ سے حاصل ہے جس کی بنیادی وجہ آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی منتخب اور اپنے مفاد کے لیے تشریح ہے۔ موجودہ عسکری قیادت کو عوامی طور پر مشرف کے بیانات سے اظہارِ لاتعلقی کرنا چاہیے۔

    یہ اداریہ ڈان اخبار میں 5 اگست 2017 کو شائع ہوا۔
     


    0 0

    تھر میں ہریالی کی بہار آئی اور صحرا نے سبزے کی چادر اوڑھ لی، یہ حسین مناظر دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد نے تھر کا رخ کر لیا، مقامی لوگوں کا کاروبار بھی چمک اُٹھا ۔

    تھرپارکر میں بارشیں اپنے ساتھ خوشی اور خوشحالی بھی لے آئیں، پہلے علاقے کو ہریالی نے آباد کیا پھر سیاحوں کے ہجوم لگ گئے قدرتی نظاروں کے دیکھنے کے لئے صوبے بھر کے سیاحوں کا تانتا بندھ گیا۔

    مٹھی کی گڈی بھٹ پر آنے والوں کا استقبال ڈھول کی تھاپ پر کیا جاتا ہے، گھوڑے اورجھولے بھی موجود ہیں جن سے بچےلطف اندوز ہوتے ہیں۔ سیاحوں کی مسلسل آمد سے علاقے کی رونق میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ کاروبار بھی چمکا اٹھا ہے۔
     


    0 0

    پاکستانی سیاست گالم گلوچ سے آگے بڑھتے ہوئے اب مزید گندگی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پی ٹی آئی ممبر قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر سنگین نوعیت کے الزام لگاتے ہوئے کہا عمران خان ایک بدکردار شخص ہے جس کے ہاتھوں پی ٹی آئی کی خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں۔ گلالئی نے اپنے ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت نہ دیے جبکہ عمران خان کی طرف سے ابھی تک اس معاملہ پر کوئی جواب نہیں آیا۔ گلالئی کی طرف سے الزامات کے جواب میں تحریک انصاف کی طرف سے بھی غیر مناسب انداز میں گلالئی کی بہن جو سکواش کی چیمپئن ہیں پر ذاتی نوعیت کے حملے کیے گئے۔

    ایسا کرنے میں پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری کے ساتھ ساتھ پارٹی کی کچھ خواتین رہنما بھی پیش پیش تھیں جو افسوس ناک بات ہے۔ جہاں تک عائشہ گلالئی کے الزامات کی بات ہے اُس نے پاکستانی سیاست میں اگرچہ وقتی طور پر ہلچل پیدا کر دی لیکن یہ وہ معاملہ ہے جس کی تحقیقات کی ضرورت ہے جس کے لیے گلالئی کو ثبوت پیش کرنا پڑیں گے۔ اگرچہ عمران خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں طرح طرح کی باتیں گاہے بگاہے اُن کے مخالفین کی طرف سے کی جاتی رہیں لیکن یہاں الزام لگانے والی خاتون کا تعلق کل تک نہ صرف پی ٹی آئی سے تھا بلکہ وہ قومی اسمبلی کی رکن بھی ہے ۔ اگر گلالئی کوئی ثبوت پیش نہیں کرتی تو پھر خان صاحب کو چاہیے کہ خود آگے بڑھ کر عدالت کے ذریعے ایک کمیشن بنانے کا مطالبہ کریں تا کہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کر سکیں۔ 

    ماضی میں جب اس نوعیت کے الزامات خان صاحب پر لگائے گئے تو انہوں نے ہمیشہ ذاتی زندگی کے معاملات پر پردہ داری کی بات کی۔ خان صاحب نے میڈیا کو کبھی اپنی ذاتی زندگی کے متعلق بات کرنے کی اجازت نہیں دی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی رہنما یا اہم ترین حکومتی ذمہ دار کے ذاتی کردار پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں تو آیا اُسے درگزر کرنا چاہیے یا نہیں۔ جہاں تک الزامات کی بات ہے تو ایک بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ خان صاحب نے بھی ہر اختلاف کرنے والے کی پگڑی اچھالی۔ کسی کو کرپٹ کہا تو کسی کو چور ڈاکو گردانا۔ کسی پر اپنے سیاسی مخالفین سے پیسہ کھانے کا الزام لگا دیا تو جب جی چاہا تو اختلاف کرنے والوں کو انڈین ایجنٹ بھی کہہ دیا ۔

    بغیر ثبوت کے عائشہ گلالئی کی طرف سے عمران خان پر لگائے گئے الزامات اگر غلط بات ہے تو خان صاحب کی طرف سے دوسروں پر الزام تراشی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کاش خان صاحب اس واقع سے سبق سیکھتے ہوئے اختلاف کرنے والوں کے متعلق بہتان تراشی اور غلط زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ اس سے خان صاحب کی اپنی عزت میں اضافہ ہو گا اور سیاست میں شائستگی آئے گی۔ جہاں تک ذاتی زندگی اور کردار کے متعلق بحث کا تعلق ہے تو یہ بات درست ہے کہ ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں۔ غلطی، کوتاہی اور گناہ سے ہم میں سے کوئی پاک نہیں لیکن جہاں تک سیاسی رہنمائوں اور اعلیٰ ترین حکومتی ذمہ داروں کی بات ہے وہ رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس وجہ سے اُن کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ کسی بڑے گناہ یا برائی کی وجہ سے مشہور نہ ہوں اور یہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62-63 کی شرائط میں بھی شامل ہے۔

    آئین کے مطابق کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا اگر وہ ’’اچھے کردار کا حامل نہ ہوـ‘‘ اور ’’کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو‘‘ وغیرہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان آئینی شقوں پر عمل درآمد کے لیے میکنزم بنایا جائے تاکہ معاشرہ کے بہترین کردار کے افراد ہی اسمبلیوں اور ایوان اقتدار تک پہنچ پائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ہر سیاسی پارٹی کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رہنمائوں کے چنائو میں اُن کے کردار کو ضرور سامنے رکھیں۔ عائشہ گلالئی کے الزامات کی ابھی حیثیت نہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ہمارے معاشرہ میں عورت کا استحصال کیا جاتا ہے، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے، انہیں وہ احترام نہیں دیا جاتا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اس مسئلہ میں ہمیں زبانی جمع خرچ کرنے اور مغرب کی نقالی کی بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق ماحول تشکیل دینا چاہیے۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    پاکستان اسٹیل مل ایک قومی اثاثہ ہے جس کے لئے18 سال تک منصوبہ بندی کی گئی 1955 میں سوچے گئے اس منصوبے پر 1973 میں کام شروع ہوا اور 1985 میں تکمیل کے بعد مل نے پیداوار شروع کردی۔ آج وطن عزیز کو اس جیسی کئی ملوں کی ضرورت ہے لیکن پہلے سے موجود اسٹیل مل کا یہ حال ہے کہ ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی، 10جون 2015 سے مل میں پیداوار بند ہے۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ مل کی1777 ایکڑ اراضی افسروں کی بندر بانٹ کا شکار ہو گئی ہے جس کی مارکیٹ قیمت فی ایکڑ پانچ کروڑ ہے اسے کوڑیوں کے مول فروخت کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹیل کو 30 لاکھ روپے فی گھنٹہ نقصان ہو رہا ہے جبکہ مجموعی طور پر 2008 سے اب تک 425 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اس سے قبل مل 28 ارب روپے منافع میں چل رہی تھی۔ اسٹیل ملک میں فولاد سازی کا میگا پروجیکٹ ہے جس کا سنگ بنیاد سوویت یونین کے مالی، تکنیکی اور سائنسی تعاون سے 1973 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اس پر اس وقت 24.7 ملین روپے لاگت آئی اور 1985 میں صدر ضیاءالحق نے اس کا افتتاح کیا۔ مل کے اسٹاف کو سوویت یونین میں ٹریننگ دی گئی۔ اور مل نے 1.1 ملین ٹن اسٹیل کی پیداوار دینا شروع کر دی۔ 2006 میں وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے اس کی پرائیویٹائزیشن کا فیصلہ کیا جس کی ملک بھر میں مخالفت ہوئی اور سپریم کورٹ نے اس کی نجکاری روک دی لیکن اس دوران مل مسلسل خسارے کی طرف بڑھنے لگی۔ 

    2011 میں اسے وفاقی حکومت کی پرائیویٹ کمپنی سے نکال کر براہ راست سرکاری ملکیت میں لے لیا گیا اور 2012 میں یوکرین نے اس کی بحالی کی پیشکش کی لیکن مسلسل عدم توجہی سے حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ اس کی پیداوار نہ ہونے سے حکومت کو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 2 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ کر کے اسٹیل مصنوعات درآمد کرنا پڑیں۔ پالیسی ساز اداروں اور حکومت کو اس قومی ورثے کوبچانے اور پھر سے منافع بخش بنانے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے ۔

    اداریہ روزنامہ جنگ
     


    0 0

    پاکستان میں حصول اقتدار کی جنگ ہو یا مارچ ، کسی بڑے مطالبے کے لیے براستہ جی ٹی روڈ ہی ہوتا ہے، تاریخی جی ٹی روڈ کی وجہ شہرت اس کی سیاسی اہمیت بنی۔ شیر شاہ سوری دور میں تعمیر ہونےوالی کابل سے کلکتہ 25 سو کلو میٹر طویل جرنیلی سڑک انگریز دور میں گرینڈ ٹرنک روڈ کے نام سے مشہور ہوئی۔ مخالفین چاہے کسی جماعت کی تضحیک کے لئے اسے جی ٹی روڈ پارٹی کا نام دیں، حکومت میں اکثر جی ٹی روڈ سے جیتنے والی جماعتیں ہی آتی رہیں۔
    مارچ احتجاجی ہوں یا سیاسی جی ٹی روڈ ملکی تاریخ کے اہم ادوار کی گواہ ہے۔ملک میں جدید موٹرویز بن گئیں لیکن سیاست اب بھی جی ٹی روڈ ہی کی چلتی ہے۔
    پاکستان کے سیاسی افق پر جی ٹی روڈ ہمیشہ سے ہی کسی کیلئے شام غم تو کسی کیلئے صبح نو بن کے ابھرتی رہی۔

    اس مصروف اور اہم ترین شاہرہ کےسنگ آباد راولپنڈی، چکوال، جہلم، گجرات، گجرانوالہ، لاہور جیسے بڑے اور اہم اضلاع اور ان سے منسلک سیکڑوں چھوٹے بڑے دیہات سے جب بھی مخلوق خدا اپنے گھروں، محلوں، دوکانوں، کھیتوں، کھلیانوں اور چوپالوں سے نکل کر چوکوں اور چوراہوں پر آئی تو کسی کی بقا اور کسی کی قضا کا سندیسہ لائی۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا موٹر وے سے لاہور جانے کا ارادہ ترک کر کے جی ٹی روڈ اور اس سے جڑے اپنے مضبوط حلقوں کے دو کروڑ انسانوں کے بیچ سے گزرنے اور انہیں حال دل بتانے کی لگن ملکی تاریخ کے صفحہ سیاست پر اب اک نئے انداز سے جلوہ گر ہونے جا رہی ہے۔

    جی ٹی روڈ سے منسلک قومی اسمبلی کے 35 میں سے 32 حلقے ن لیگ کے پاس ہیں۔ یہاں کے چند لاکھ پارٹی کارکن بھی اپنے قائد کے استقبال کے لئے نکلتے ہیں تو یہ سفرملکی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔
     


    0 0

    معراج خالد یکم فروری 1916 کو پیدا ہوے ۔ انہوں نے اپنی عمر سادگی، عاجزی اور انکساری میں گزار دی۔ ابتدا ہی سے سماجی کارکن کی حیثیت سے دن رات ایک کر دیا۔ گونڈھ مڈل سکول سے آٹھویں اورسینٹرل ماڈل ہائی سکول لوئرمال سے میٹرک اوراسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے 1939ء میں بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ 

    1946ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ کسمپرسی اور غربت کے دن تھے۔ سکول اور کالج کی فیس بھی نہیں ہوتی تھی۔ معراج خالد صبح تین بجے جاگ جاتے، بھینسوں کا دودھ نکالتے اور اسے بیچنے کے بعد سکول جاتے تھے۔ تمام تعلیم دودھ فروشی اور معمولی ملازمتیں کر کے ہی حاصل کی۔ کئی سال ایک کرتا پہنے رہے، نیا خریدنے کے لئے پیسے نہ تھے حتیٰ کہ جوتا بھی نہ تھا۔ والد صاحب کا جوتا پہن کر کالج جاتے اور واپس آ کر انہیں دے دیتے۔ باپ بیٹا، دونوں کے پاس ایک ہی جوتا ہوتا تھا، دن کے وقت والد صاحب اور دوپہر کے بعد ملک معراج خالد ننگے پاؤں پھرتے تھے لیکن کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے۔

    زمانہ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا اور مہاجرین کی آباد کاری کے لئے بھی کام کیا۔ ضلع لاہور کے دیہی علاقے کی تعلیم و تربیت کے لئے اگست 1939ء میں انجمن اخوان السلام کی بنیاد رکھی جس کے زیر انتظام 1954ء میں اخوان ہائی سکول برکی کا قیام عمل میں آیا اور پھر یکم فروری 1994ء کو کالج کا افتتاح سابق صدر فاروق لغاری سے کروایا۔ یہ دونوں تعلیمی ادارے برس ہا برس سے ہزاروں طلباء کی تعلیمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ ملک معراج خالد نے یہ سب کچھ علاقے کے غریب، مستحق اور ہونہار بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے کیا۔ یہ صدقہ جاریہ اب بھی جاری ہے۔ وہ ڈیرہ چاہل سے ریلوے روڈ لاہور میں واقع ایک کچے گھر میں منتقل ہو گئے۔ 

    1964ء میں ریگل چوک کے قریب ایک فلیٹ میں ساری عمر گزار کر مثال قائم کر دی۔ ایک کمرہ تھا، وہی ڈرائنگ روم، وہی دفتر اور وہی گھر۔ ان کی بیگم صاحبہ سکول ٹیچر تھیں 1973ء میں فورٹریس سٹیڈیم میں عوامی میلے کے دوران میں نے اُن سے پوچھا’’ میڈیم آپ کے میاں وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں کیا آپ سکول کی ملازمت چھوڑ دیں گی‘‘ تو انہوں نے کہا ’’میری ملازمت مستقل ہے ، میں کیوں چھوڑوں، ان کی ملازمت تو عارضی ہے‘‘۔ بیگم صاحبہ کا کہنا تھا ہمارے گھر میں مٹی کے دو گھڑے ہیں ہم ان گھڑوں کا ٹھنڈا پانی پیتے ہیں جبکہ فریج ہم نے مہمانوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔ 

    عظیم شخصیت کی بیوی بھی عظیم تھیں۔ ملک معراج خالد بہت مشکل حالات میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی کمال صفات کی وجہ سے 1965ء میں آزاد حیثیت سے سابقہ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر کنونشنل مسلم لیگ میں شامل ہو گئے۔ وہ 1966ء ذوالفقار علی بھٹو کی عوامی جدوجہد کا حصہ بن گئے ان کا شمار پیپلز پارٹی کے بانیوں میں ہوتا تھا۔ مگر انہوں نے عمر کے آخری حصے میں پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ وہ 1972ء میں وفاقی وزیر زراعت اور پھر 1972ء ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دئیے گئے اور1988 تا 1990 قومی اسمبلی کے سپیکر رہے۔ نومبر 1996ء تا 1997ء نگران وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ 

    اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ساری زندگی سادگی اور عاجزی میں ہی گزاری۔ جب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایک تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جانا تھا۔ ہال روڈ پر ہی رہائش تھی، ڈرائیور گاڑی کہیں لے گیا تھا۔ جب ڈرائیور دیر تک واپس نہ آیا تو وہ ریگل چوک سے ایک رکشہ پر سوار ہوئے اور سیدھے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچ گئے۔ علامہ اقبال کے بہت بڑے شیدائی تھے ان کے کلام بہت شوق سے پڑھتے تھے اور کلامِ اقبال سے کئی ایک اشعار زبانی یاد تھے۔ سیاست میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی ہمیشہ لوگوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے کام کرتے رہے۔ ضیاء کے دور میں جیل بھی کاٹی۔ ان کے اس دنیا سے 13 جون 2003ء کو چلے جانے سے بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا۔
     


    0 0

    تحریک پاکستان کا شمار دنیا کی عظیم ترین انقلابی تحریکا ت میں ہوتا ہے یہ تحریک برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی آرزوؤں اور اُمنگوں کا مظہرتھی اس تحریک کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا اور یہ دو قومی نظریہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ قرآن وسنت کا نظریہ ہے اور اسلامی سیاست کا ایک اہم اُصول ہے۔ دوقومی نظریہ ہی درحقیقت نظریہ پاکستان ہے ۔ برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کو اپنی شناخت اور پھر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر جداگانہ ریاست کی ضرورت یوں شدت سے محسوس ہوئی کہ ان کے ساتھ موجود ایک دوسرے نظریہ کے حامل افراد جو مسلمانوں کے توحید اور انسانی مساوات کے نظریہ حیات کے برعکس بت پرستی اور ذات پات کے قائل تھے، اس کے برعکس اس خطے میں بسنے والی ملت اسلامیہ اپنے قومی تشخص اور علیحدہ شناخت کو چھوڑنے کیلئے کسی صورت تیار نہ تھی ۔

    سلطان شہاب الدین غوری نے بھی اسی دو قومی نظریہ کی بنیا د پر ہندو مسلم اختلافات کو ہمیشہ کے لئے طے کرنے کا طریقہ نکالا اور ہندو راجہ پرتھوی کو تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’برصغیر میں ہنددؤں اور مسلمانوں کی باہمی معرکہ آرائی کوہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا واحد حل یہی ہے کہ برصغیر کے دریائے جمنا کوحد فاصل بنا کر تقسیم کر دیا جائے کہ مشرقی ہندوستان پر ہندوؤں اورمغربی ہندوستان پر مسلمانوں کا تصرف ہو جائے تا کہ دونوں قومیں امن وامان سے زندگی گزارسکیں ‘‘ یعنی ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اِسی نظرئیے کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے 22 مارچ 1940ء کو لاہورمیں ہونے والے مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس کے خطبہ صدارت میں برملا کہا کہ قوم کی خواہ کوئی بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کے مطابق ایک قوم ہیں اور ان کا اپنا وطن ان کا اپنا علاقہ اوران کی اپنی مملکت ہونی چاہیے۔

    ہم ایک آزاد و خود مختار کی حیثیت سے اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن و اتفاق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم امن پسند اوراُمنگوں کے مطابق اور اپنے معیاراورنصب العین کومد نظر رکھتے ہوئے اپنی روحانی ،ثقافتی ، اقتصادی، سماجی اور سیاسی زندگی کو بہتر اور بھرپور طریقے سے ترقی دے سکے۔ دو قومی نظرئیے کا تعلق صرف برصغیر سے ہی نہیں بلکہ یہ نظریہ پورے کرۂ ارض سے عبارت ہے۔ اس نظریہ کے تحت ہم دنیا کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی دو قومی نظریہ کے حوالے سے دو ٹوک اندازمیں بات کرتے ہوئے کہا ’’مغربی ممالک کی طرح ہندوستان کی یہ حالت نہیں کہ اس میں صرف ایک ہی قوم آباد ہو، وہ ایک نسل سے تعلق رکھتی ہو اور اس کی زبان بھی ایک ہو، ہندوستان مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسل، زبان ،مذہب سب ایک دوسرے سے الگ ہیں ۔

    ڈاکٹرحاجی محمد حنیف طیب


     


    0 0

    آئی ایم ایف کی سربراہ کریسٹین لیگارڈ نے کہا ہے کہ اگر ہم خوابوں کی عینک لگا کر 2027 کو دیکھیں تو آئی ایم ایف آج سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔
    واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک ’سینٹر فور گلوبل ڈولپمنٹ‘ میں عالمی ترقی اور آئندہ کی توقعات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اْس زمانے کے چیلنج بھی زیادہ بڑے ہونگے، اور عین ممکن ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا صدر دفتر واشنگٹن کے بجائے بیجنگ میں ہو۔ اْنھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے قوائد و ضوابط کے مطابق اِس کا ہیڈ آفس دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں ہوتا ہے لیکن ایسا ہونے سے قبل لازم ہو گا کہ چین ماحولیاتی تبدیلی کے اپنے عہد کو پْورا کرے۔
     


older | 1 | .... | 102 | 103 | (Page 104) | 105 | 106 | .... | 149 | newer