Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 101 | 102 | (Page 103) | 104 | 105 | .... | 149 | newer

    0 0

    پارلیمانی منظر نامے میں اہم واقعہ ہوا جب ایک جانب ایوان بالا نے نئے قومی بجٹ سےمتعلق سفارشات کی تیاری کا آئینی تقاضا مکمل کیا۔ اس مسودے میں عام لوگوں کی بہبوداور سہولتوں کی خاطر حکومت سے کئی ٹیکس تجاویز میں ردوبدل کرنے کےلئے کہا گیا ۔ دوسر ی جانب قومی اسمبلی میں اپنے مطالبات کے حوالے سے اپوزیشن نے حکومت کے خلاف احتجاج کوایک طرف رکھ کر بہترین قومی مفاد اور اسلامی دنیا کےوسیع تر اتحاد کے پیش نظر دو متفقہ قرار دادوں کی منظوری کے عمل کو یقینی بنایا، اپوزیشن کا یہ اقدام یقیناً سراہا جائے گا۔ 

    ایک قرار داد میں ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر خودکش اور دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئ۔
    اہم بات یہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قبل ازیں ایرانی سپیکر علی لا ریجانی کو فون کرکے مکمل یکجہتی کااظہار کیا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور پوری قوم اپنے برادر اسلامی ملک سے غم کا اظہار کرتی ہے۔
    ایک دوسری قرار داد مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دھماکہ خیز صورتحال بارے منظور کی گئی۔ 8 جون کو چونکا دینے والی خبر سامنے آئی تھی کہ سعودی عرب مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن نے اہم خلیجی ریاست قطر سے ہر قسم کے سفارتی، تجارتی تعلقات منقطع کرکے فضائی، بری اور بحری راستے بھی بند کر دئیے۔

    اس اقدام کے نتیجے میں خلیج تعاون کونسل بھی انتشار کا شکار ہو گئی ہے اور کونسل کی 30 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تفریق نظر آئی ۔ مشرق وسطی نئے بحران کے جس دھانے پر پہنچا اس میں پاکستان کا یہ فیصلہ عمومی طورپر سراہا گیا ہے جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے خود کوعرب ملکوں کے باہمی تنازع سے خود کو الگ رکھنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ عرب ممالک کے درمیان خلیج وسیع کرنے سے پاکستان کےلئے بڑے مسائل پیدا ہو گئے ہیں پارلیمان اجتماعی دانش کی نمائندہ آواز ہے، پارلیمان کی متفقہ قرارداد سے رہنمائی لیتے ہوئے ہماری قومی قیادت کو بڑے سوچ سمجھ کر اور احتیاط کے ساتھ پیشرفت کرنا ہو گی۔

    طاہر خلیل
     


    0 0

    مغربی اتر پردیش کے شہر امروہہ کی دو خاص باتیں ہیں ایک یہاں کے آم کے باغ اور دوسرا فرقہ وارانہ ہم آہنگی۔ چاہے تقسیم ہند کا دور ہو، یا پھر 1980 میں ہونے والے مرادآباد کے فسادات یا پھر 1992 میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے بعد کا ماحول، امروہہ ہمیشہ پرامن رہا۔ اس شہر اور ارد گرد کے دیہات نے فرقہ وارانہ کشیدگی کی آنچ کو اپنے تک نہیں پہنچنے دیا لیکن حالیہ کچھ واقعات امروہہ کے اس ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امروہہ شہر سے تقریباً 36 کلو میٹر دور ایک قصبہ ہے سیدنگلي، جہاں سے قریب پانچ کلومیٹر دور سكت پور گاؤں ہے آج کل ہندو اکثریتی یہ گاؤں فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب سرخیوں میں ہے۔ میں جب سكت پور پہنچا توایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ اس گاؤں میں کسی طرح کی کوئی کشیدگی ہے۔ اردگرد کے دیہات کے لوگ، جنہوں نے اخبار نہیں پڑھے تھے، ایسی کسی بھی بات سے واقف نہیں تھے۔ گاؤں کے باہر بچے کرکٹ کھیل رہے تھے، لوگ چوپالو پر بیٹھے تھے پہلی نظر میں سب کچھ بالکل معمول کے مطابق لگ رہا تھا۔ پوچھ گچھ پر معلوم ہوا کہ 'گاؤں کے مسلمانوں نے اجتماعی نماز پڑھ کر نئی روایت ڈالی ہے جس سے اکثریتی ہندو ناراض ہیں۔

    تقریباً تین ہزار کی آبادی والے اس گاؤں میں ڈھائی ہزار ہندو ہیں جن میں زیادہ تر جاٹ ہیں جبکہ پانچ سو مسلمان ہیں جو پسماندہ ذاتوں سے ہیں۔ گاؤں کے ہی کنور سنگھ بتاتے ہیں، سكت پور میں کبھی کسی طرح کا مسئلہ نہیں رہا سب لوگ مل جل کر رہتے تھے لیکن اب مسلمانوں نے نئی مسجد بنانی شروع کی ہے اور ہندو اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ مسجد نہ بنائیں، اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں تو پھر سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا'۔ گاؤں کے ہی ایک کنارے پر مسلم خاندان رہتے ہیں یہیں ایک مسجد ہے جس پر مینار نہیں ہے اور جو باہر سے دیکھنے میں گھر جیسی لگتی ہے۔
    مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسجد گزشتہ چار پانچ سال سے ہے جبکہ ہندوؤں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں نے چھپ چھپ کر نماز پڑھنی شروع کی اور اب مسجد بنا رہے ہیں، اور وہ یہ مسجد تعمیر نہیں ہونے دیں گے۔ فی الحال 'مسجد'کے باہر پی اے سی کے جوان تعینات ہیں، یہاں عبادت بند ہے اور رمضان کے مہینے میں گاؤں کے مسلمان باجماعت نماز ادا نہیں کر پا رہے۔ 75 سالہ بدلو سكت پور گاؤں میں ہی پیدا ہوئے اور پوری زندگی اسی گاؤں میں گزار دی لیکن اب وہ نماز نہ پڑھنے کے سبب اداس ہیں. وہ کہتے ہیں، 'ہم نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں، کہیں آ جا بھی نہیں سکتے، بہت پریشانی ہے'۔

    کشیدگی والے دن کو یاد کرتے ہوئے بدلو کہتے ہیں، 'جس وقت ایک ہجوم حملہ کرنے چلآ رہا تھا تو گرام پردھان بادل سنگھ نے لوگوں کو روک لیا اور حالات بگڑنے سے بچ گئے'۔ بادل سنگھ کہتے ہیں، 'ہمیں تو دونوں طرف کی بات سننی پڑتی ہے، کوشش یہی ہے کہ امن کے ساتھ یہ تنازعہ حل ہو جائے اب معاملہ انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے جیسے افسر چاہیں گے ویسے ہو جائے گا'۔ گاؤں کے کچھ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ جب مسجد بنی تو ہندوؤں نے بھی چندہ اور تعاون دیا وہ دعوی کرتے ہیں کہ یہاں چار پانچ سالوں سے نماز پڑھی جا رہی ہے اور اس سے پہلے کبھی کسی طرح کی مخالفت نہیں ہوئی۔

    65 سالہ نسرو کہتے ہیں، 'یہ ہندوؤں کا گاؤں ہے، کیا ہم ان کی مرضی کے بغیر یہاں مسجد بنا سکتے تھے؟ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ دیا، کہا کہ تم غریب لوگ ہو تمہارے پاس پیسہ نہیں ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ امن تھا، اب پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا ہے'۔ نسرو کے سوال کا جواب 24 سالہ ریاست نے دیا، اب حکومت بدل گئی ہے وہ کہتے ہیں کہ اب ہماری حکومت ہے اور جو ہم چاہتے ہیں وہی ہو گا'۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے نسرو نے کہا، 'وہ کہتے ہیں کہ اب ہمارا ماحول آ گیا ہے، تمہارا گیا اب حکومت ہماری ہے، تمہیں نماز نہیں پڑھنے دیں گے'۔ 70 سالہ للو ٹھیکیدار جو پوری زندگی اسی گاؤں میں ہندوؤں کے درمیان گھل مل کر رہے ہیں، کہتے ہیں،'کچھ لوگ تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ نماز بند ہونے سے ہمارا خون بڑھ رہا ہے'ہم چپ ہیں کیونکہ ہم تھوڑے لوگ ہیں کیا کر سکتے ہیں'۔

    جہاں مسجد ہے وہ جگہ کبھی گاؤں کے ہی دیوراج سنگھ کی تھی جنہوں نے اسے مسلمان خاندانوں کو فروخت کیا تھا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد بنانے کے لیے چندہ بھی دیا تھا دیوراج کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ گاؤں کے زیادہ تر ہندو اچھے ہیں اور انہوں نے انہیں کبھی پریشان نہیں کیا ہے بلکہ ہمیشہ سے مدد کرتے رہے ہیں لیکن اب ان اچھے لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ اس پر نسرو کہتے ہیں، 'وہ اب خاموش ہو گئے ہیں کیونکہ چند فسادی لوگوں نے انہیں ڈرا دیا کہ اب ہماری حکومت ہے۔ ویسے بھی جو بھلے آدمی ہوتے ہیں وہ کسی جھگڑے میں نہیں پڑنا چاہتے۔

    گاؤں کے لوگوں کا الزام ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے منسلک سكھپال سنگھ رانا نے گاؤں کے ہندوؤں کو بھڑکایا ہے بنیادی طور پر مظفر نگر کے رہنے والے سكھپال سنگھ رانا پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور وہ فی الحال اس علاقے سے دور ہیں۔ لوگوں کے موبائل میں واٹس ایپ کے ذریعہ کچھ ویڈیو شیئر کیے جا رہے ہیں جس میں رانا سكت پور میں ہجوم کی قیادت کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو اشتعال انگیز نعرے بازی کر رہا ہے۔ رانا نے سكت پور میں مہا پنچایت بھی بلائی تھی جسے پولیس نے نہیں ہونے دی۔ امروہہ کے علاوہ پولیس اہلکار برجیش سنگھ کہتے ہیں کہ رانا کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہے۔
    پولیس نے گاؤں کی کچھ مسلم خواتین پر بھی ماحول خراب کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے ان خواتین کو یہ پتہ نہیں ہے کہ ان پر کیا دفعات لگائی گئی ہیں۔

    40 سالہ شاہجہاں کہتی ہیں، 'نہ ہم کسی سے لڑے نہ ہم نہ کسی سے کچھ کہا، ہم تو مسجد گئے تھے ہم روزے سے ہیں اور ہمارے گھر والے نماز نہیں پڑھ پا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "رمضان کا مہینہ ہے، ہم صحیح سے روزہ بھی نہیں کھول پا رہے ہیں نہ اذان کی آواز آ رہی ہے تراویح کی نماز بھی بند ہو گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ، پاکستان چلے جاؤ، کیوں چلے جائیں جب ہمیشہ سے ہم یہیں رہتے آئے ہیں۔' پورے معاملے میں ہندو کمیونٹی کا موقف رکھتے ہوئے گاؤں کے ہی مدن پال سنگھ کہتے ہیں، 'مسلمان پہلے اپنے گھروں میں نماز پڑھتے تھے. ہمیں کوئی دقت نہیں ہے لیکن اب وہ گاؤں میں مسجد بنا کر نئی روایت ڈال رہے ہیں جسے ہم نہیں ہونے دیں گے '۔

    وہ کہتے ہیں، 'گاؤں میں کبھی مسجد تھی ہی نہیں، اس سال ہی انہوں نے ایک کمرے کو مسجد کی شکل دے کر نماز پڑھنی شروع کی ہے ان کے پاس کوئی اجازت نہیں ہے انتظامیہ سے اجازت لے آئیں اور بنا لیں آپ مسجد'۔ سال 2000 میں منظور ہونے والے مذہبی مقامات سے قانون کے تحت کسی بھی مسجد کی تعمیر کے لیے ضلع انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہے۔ گاؤں کے مسلمان سوال کرتے ہیں، 'جب گاؤں میں چار نئے مندروں کی تعمیر پر کوئی تنازعہ نہیں ہے تو ہماری مسجد پر ہی تنازعہ کیوں؟

    دلنواز پاشا
    بی بی سی ہندی، نئی دہلی
     


    0 0

    پاکستانی فن تعمیرات کے سفر کا آغاز مغلیہ دور کے تعمیراتی ورثے سے اور برطانوی نو آبادیاتی دور حکومت میں ہوا تھا۔ آزادی کے فوراً بعد تعمیراتی ماحول پر غیر ملکی نقوش بہت زیادہ نمایاں تھے۔ اس دور کے ماہرین تعمیرات مثلاً ایم اے احمد، ایچ ایچ خان، ایم اے مرزا، عبدالحسین تھاریانی اور ظہیر الدین خواجہ 1950ء کے نو آبادیاتی تعمیراتی نظرئیے سے بہت متاثر تھے۔ ان کے بنائے گئے عمارتوں کے ڈیزائنوں میں نوآبادتی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔ ان ماہرین تعمیرات میں پچاس کی دہائی کے ایک معروف ماہر تعمیرات مہدی علی مرزا اسی خصوصیت کے ساتھ فن تعمیرات کے افق پر نمودار ہوئے اور اپنے کام میں اسلوب اور بناؤکا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے بہت قلیل عرصے کام کیا تاہم فن تعمیرات پر بہت مستحکم اور بے باک اثرات مرتب کئے۔ فن تعمیرات سے متعلق ان کا تصور فطری طور پر جیتا جاگتا تھا اور اس کا مظاہرہ انہوں نے بابر علی کرنل عابد اور قزلباش کے گھروں کی تعمیر کے ذریعے کیا۔ ان منصوبوں میں بنیادی خیال، فرد، فطرت اور ماحول کو یکجا کرنے میں مضمر تھا۔ ان کے تمام تصورات میں جدید تحریک کے گہرے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

    اسی طرح ظہیر الدین خواجہ، یورپ سے متاثر ہونے والے ایک اور ہم عصر ماہر تعمیرات ہیں جنہوں نے مہدی علی مرزا کی طرح اس اسلوب تعمیرات کو مزید نکھارا۔ 1960ء کی دہائی میں فن تعمیرات کے فلسفے نے ایک نیا موڑ لیا اور اس کی باگ ڈور نئی نسل کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ یہ عرصہ سماجی و ثقافتی اور ڈیزائنوں کی تخلیق کے تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے یہ فن تعمیرات کا سنہرا دور تھا کیونکہ ساٹھ کی دہائی میں بہت بڑے ماہرین تعمیرات نیر علی دادا، نقوی صدیق، رحمٰن خان، جاوید نجم، حبیب فدا علی، کامل خان، ممتاز، یاسمین لاری، انور سعید اور دیگر بہت سے ماہرین تعمیرات نے جنم لیا جو ہمارے موجودہ فن تعمیرات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان تمام جواں عزم ماہرین تعمیرات میں کامل خان ممتاز نے اپنے کام میں بڑی مستقل مزاجی کا مظاہرہ کیا۔

    انہوں نے اپنے پیشے کا آغاز مخصوص نظرئیے کے ساتھ کیا اور اپنے احساسات کو مغلیہ فن تعمیرات کے ساتھ منسلک کیا اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں وہ اپنے اس مخصوص نظرئیے سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ انہوں نے بے شمار ڈیزائن تخلیق کئے جن میں انہوں نے مغل تعمیرات کی تفصیلات اور نزاکتوں کو واضح طور پر دکھایا۔ کامل خان ممتاز کے فن تعمیرات کا فلسفہ اجتماعیت کے تصورات پر مبنی نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے کام میں ثقافتی اقدار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بنائی ہوئی تمام عمارتوں میں خواہ وہ رہائشی ہوں یا ادارتی ایک انفرادیت نظر آتی ہے اس کی ایک واضح مثال چاند باغ اسکول شیخوپورہ کی عمارت ہے۔ 

    دوسری طرف بہت سے ماہرین تعمیرات جدید تحریک کے نظرئیے پر کام کر رہے تھے جس کا اظہار انہوں نے اپنے کام کے ذریعے کیا اس ضمن میں کراچی کی صف اول کی ماہر تعمیرات یاسمین لاری نے مختلف تجربات کیے۔ ان کی نقشہ نویسی کا خیال جدید تحریک کی بنیاد پر مبنی تھا انہوں نے عمارتوں کی تعمیر میں سادگی پر زور دیا۔ کراچی میں تعمیر کی گئی لاری کی رہائش گاہ فن تعمیر کا ایک حسین نمونہ ہے۔ لیکن اس کا تمام تصور لی کار بوریس کے مقصدی اسلوب سے متاثر تھا جس میں عقلیت پسندی کو دیکھایا گیا تھا۔ اسی قسم کا مظاہرہ کراچی میں کموڈور حق کی رہائش گاہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    شیخ نوید اسلم


     


    0 0

    چین ایک عالمی معاشی طاقت بن چکا ہے اس لحاظ سے دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اب باقاعدہ چینی زبان سکھائی جانے لگی ہے لیکن دوسری جانب چین میں صورت حال یہ ہے کہ وہاں بھی چینی نوجوان بڑے شوق و ذوق سے اردو سیکھ رہے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق چینی طالب علم سی پیک سے استفادہ کرنے کے لیے اردو زبان سیکھنے میں سر گرم عمل ہیں، چین میں اردو تاریخ کا اجرا بیجنگ یونیورسٹی میں 1951 میں اردو ڈیپارٹمنٹ کے قیام سے عمل میں آیا، بعد میں اس ڈیپارٹمنٹ کا قیام ملک کے دوسرے شہروں شیان اور گوانگژو میں بھی لایا جا چکا ہے۔ بیجنگ فارن اسٹیڈیز یونیورسٹی کا اردو ڈیمپارٹمنٹ 2007 سے اپنے طالبعلموں کو اردوسکھا رہا ہے۔ اس وقت یونیورسٹی میں 20 طالب علموں پر مشتمل تیسرا بیج اردو زبان سیکھ رہا ہے۔ یہ طالب علم اردو بولنے اور لکھنے میں مہارت کے لئے نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد اور جی سی یو کا دورہ بھی کریں گے۔
     


    0 0

    سعودی عرب میں ملازمتوں کے لئے مقیم تارکین وطن سے یکم جولائی سے 100 ریال ماہانہ ٹیکس لیا جائے گا جو آئندہ سال یکم جولائی سے 200 ریال اور جولائی 2020 تک 400 ریال ماہانہ کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سعودی حکومت کے اس اقدام کا مقصد سعودی شہریوں کے لئے ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکیوں کی یہاں کام کرنے کی حوصلہ شکنی کرنے کے فیصلے کے تحت اٹھایا ہے۔ سعودی نئے ٹیکس قوانین کے تحت ایسے سعودی تجارتی ادارے جہاں مقامی افراد کے مقابلے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد زیادہ ہو گی وہ حکومت کو فی تارک وطن کارکن 400 ریال ماہانہ ٹیکس دیں گی جو 2019 تک 600 ریال اور 2020 تک 800 ریال کر دیا جائے گا۔

    اگر کمپنی میں مقامی کارکنوں کی تعداد تارکین وطن سے زیادہ ہے تو یہ ٹیکس 100 ریال فی غیر ملکی کارکن ہو گا۔ نئے قانون کے تحت تارک وطن کے بچے بھی ٹیکس نیٹ کی زد میں آئیں گے۔ ایسے تارک وطن کارکن جو اپنے خاندان سعودی عرب میں رکھتے ہیں کو 300 روپے ماہانہ ٹیکس دینا ہو گا تا ہم ان ٹیکسز کا اطلاق ڈرائیورز اور صفائی کا کام کرنے والوں نہیں ہو گا۔ ٹیکس کی زد میں ایسی کمپنیاں آئیں گی جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی کام کرتے ہیں۔
     


    0 0

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت ایک اور قانونی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا جب ایک وفاقی اپیل کورٹ نے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر عائد پابندی کو بحال کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکا کے شہر سان فرانسسکو میں قائم نویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے پہلے امریکی ریاست ہوائی کے ایک وفاقی جج کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی سفری پابندی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن صدر کا 6 مارچ کا حکمنامہ موجودہ امیگریشن قوانین سے متصادم ہے۔ 

    مگر تین ججوں، جو کہ سب ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد کردہ ہیں، پر مشتمل اس پینل نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ سفری پابندی مسلمانوں کے خلاف غیر آئینی تفریق ہے۔ دوسری جانب رچمنڈ، ورجینیا میں قائم چوتھی سرکٹ کورٹ آف اپیل نے بھی 25 مئی کو ریاست میری لینڈ کے ایک جج کی جانب سے ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف دیے گئے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اس عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا تھا کہ یہ پابندیاں مسلمانوں کے خلاف "مذہبی عدم برداشت، تفریق، اور مخاصمت سے بھرپور ہیں۔"

    ٹرمپ انتظامیہ اپنی ان سفری پابندیوں پر اب تک تمام عدالتی سماعتوں میں ناکام رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان اسپائسر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پیر کے روز آنے والے عدالتی حکمانے کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ سفری پابندیاں مکمل طور پر قانونی ہیں، اور سپریم کورٹ انہیں برقرار رکھے گی۔
    واضح رہے کہ امریکی صدر نے اقتدار سنبھالتے ہی لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان، شام، اور یمن کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر 90 روزہ پابندی عائد کر دی تھی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ امریکا کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا تھا، کیوں کہ ان ممالک کے شہری دہشتگردی میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ سفری پابندیوں کے خلاف فوراً ہی وکلاء تنظیموں اور عوام نے درخواستیں دائر کیں، جس کے بعد سے لے کر اب تک یہ پابندی معطل ہے، اور اب اس کا حتمی فیصلہ امریکا کی سپریم کورٹ میں ہوگا۔
     


    0 0

    امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ امریکا سولہ سال بعد بھی افغانستان میں جنگ نہیں جیت رہا، ملک میں طالبان کا اثرو رسوخ بڑھ رہا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع نے افغانستان میں استحکام کے لیے مزید امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر بھی زور دیا ہے۔ کانگریس میں اپنے بیان میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ امریکا 16 سال بعد بھی افغانستان کی جنگ نہیں جیت رہا بلکہ افغانستان میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ مزید امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو افغانستان سے اس صورت حال میں نہیں نکلنا چاہئے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں طویل مدت کی بنیاد پر امریکی فوجیوں کو تعینات کیا جائے تاکہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کو قیام امن میں مدد دے سکیں ۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جیمز میٹس افغانستان کے لیے مزید 3 سے 5 ہزار امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔
     


    0 0

    ممالک کی خارجہ پالیسیاں آخر بنتی کہاں ہیں؟ کیا یہ بند کمروں میں طویل اجلاسوں میں بنتی ہیں، وزیر اعظم کے خصوصی طیارے میں کسی غیرملکی ثالثی مشن کی پرواز کے دوران بنتی ہیں یا پارلیمانوں میں بنتی ہیں؟ اس کی تفصیل یا بو تک نہ تو وزارت خارجہ کی ویب سائٹ سے، سرکاری میڈیا یا اس کے تشہیر کے ان گنت محکموں اور وزارتوں سے ملتی ہے اور نہ فوجی ترجمان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے۔ حکومت کے مخالفین خصوصاً شدت پسند تو اس بارے میں بات سات سمندر پار امریکہ تک لے جاتے ہیں کہ شاید خارجہ پالیسیوں کی فیکٹری وہاں کہیں لگی ہے۔

    تو آخر پاکستان میں اس خارجہ پالیسی کی فیکٹری اتنے خفیہ مقام پر کیوں قائم ہے جہاں کسی عام آدمی کی آواز یا خواہش تو کیا پہنچے میڈیا کی جاسوس نظروں سے بھی اوجھل رہتی ہے۔ پارلیمان کے دو پاٹ مطلب دونوں ایوان حکومت سے خارجہ پالیسی کی تفصیل طلب کر کر کے تھک جاتے ہیں لیکن انہیں تسلی دینے کے لیے کم ہی وزرا کے پاس وقت ہوتا ہے۔ ان ایوانوں کے مکین پھر اپنا ایجنڈا ماروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاموشی سے تبدیل کرلیتے ہیں۔ خیال آتا ہے کہ شاید ملک کے قرب و جوار میں جیسے کہ خلیجی ممالک سعودی عرب اور قطر تک کی پالیسی تو شاید اسلام آباد میں ہی بنتی ہو گی اور باآسانی ہر کسی کی دسترس میں ہو گی لیکن ایسا بھی کچھ نہیں۔

    وزیر اعظم نواز شریف اپنی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر وزراء کی ٹیم کے ساتھ بھاگے بھاگے ’خلیجی ممالک میں پیدا صورتحال‘ کے تناظر میں سعودی عرب روانہ تو ہو گئے لیکن وہاں پاکستان کیا تجویز لے کر گیا، اس پر بات کیا ہوئی، فیصلہ کیا ہوا اور آئندہ کا لائحہ عمل کیا طے ہوا اس بابت نہ سعودی حکومت اور نہ پاکستان کی جانب سے کوئی لب کشائی کا کشت ہوا۔ لوگ حیران ہیں کہ اس دورے سے نتیجہ کیا اخز کریں؟ کیا یہ محض سعودی شاہ کی جانب سے جدہ کے اسلام محل میں افطاری کی معمول کی دعوت تھی یا اس سے بڑھ کر کچھ اور؟

    میرے جیسے صحافی سعودی پریس ایجنسی اور پاکستانی سرکاری میڈیا ٹٹولتے رہے کہ کچھ تو معلوم ہو کیا بات ہوئی لیکن اس بابت مکمل خاموشی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ بھی جمعرات کے جعمرات ہفتہ وار بریفنگ میں ہی دکھائی دیتے ہیں اور بس۔ اس سے قبل اسی وزیر اعظم اور سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اوبال ختم کروانے کے لیے دونوں ممالک کے طوفانی دورے کیے تھے لیکن ان میں سے نکلا کیا آج تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا ہے۔ دونوں مسلمان ممالک کے درمیان کشیدگی تو اب بھی ہے لیکن ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں میں بظاہر کمی آئی ہے تو اس کا سہرا کس کے سر ہے؟ پاکستان کے ہوتا تو شاید حکمراں اس کو تسلیم کرتے نہ تھکتے لیکن یہ بھی جدہ یاترا کی طرح بس ایک دورہ تھا۔

    سعودی قیادت میں قائم ہونے والے عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ کیا کس نے؟ آج تک کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔ بس ایک بیان جاری ہوا جدہ سے اور دو کروڑ عوام کو معلوم ہوا کہ پاکستان اس میچ میں بھی کھیل رہا ہے۔ پھر جنرل راحیل کب، کیسے اور کن شرائط پر سعودی عرب گئے کسی کو کچھ نہیں معلوم۔ خود حکومت نے کبھی کہا کہ انھیں این او سی دے دی پھر کہا نہیں دی اور بل آخر وزیر دفاع خواجہ آصف نے مانا کہ ہاں شاید دے دی ہے۔ اس سے عقل ناقص سے جو نتیجہ اخز کیا جا سکتا ہے وہ یہی ہے کہ حالیہ بھاگ دوڑ کا مقصد خیلجی ممالک اور قطر کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کی کوئی کوشش ہوسکتی ہے۔

    اگر یہ بات درست ہے تو اس بابت لوگوں کو یہاں اعتماد میں لینے میں کیا قباحت ہے؟ عوام کے سامنے تمام صورتحال رکھنے میں کیا مزائقہ ہے۔ آخر جس طیارے پر سفر کیا اور تیل جلایا وہ تو اسی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے دیے ہوئے ٹیکس سے آیا ہے۔ اتنا تو ان کا حق بنتا ہے کہ نہیں؟ جس ملک کو کل وقتی وزیر خارجہ نہ مل سکتا ہو وہاں خارجہ پالیسی کی فیکٹری ڈھونڈنے کی ضرورت کیا ہے۔

    ہارون رشید
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
     


    0 0

    انگلش زبان کے لیے ہماری دیوانگی بنیادی طور پر سامراجی دور کا اثر ہے اور اداکار حمرہ علی عباسی کی خواہش ہے کہ ہم اس سے باہر نکل آئیں۔ ایک فیس بک ویڈیو کے دوران حمزہ علی عباسی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم خصوصاً سرفراز احمد جنھیں سری لنکا کے خلاف کامیابی کے بعد صحافیوں سے انگلش میں بات کرتے ہوئے مشکل کا سامنا ہوا، کے لیے ایک پیغام دیا۔ سرفراز احمد کو سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کچھ مشکل ہوئی تو یہ اسٹار کرکٹر سوشل میڈیا پر مذاق کا ہدف بن گئے۔

    حمزہ علی عباسی نے اس اہم نکتے کی جانب توجہ دلائی کہ صحیح طرح انگلش نہ بول پانے پر کسی کا مذاق اڑانا کس حد تک غلط ہے، خصوصاً اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ یہ ہماری پہلی زبان نہیں۔ پاکستانی اداکار نے یہ بھی کہا کہ کرکٹ کھلاڑیوں کو جو کام اچھی طرح کرنا ہے وہ کرکٹ کھیلنا ہے 'اگر ہم مثبت تنقید کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کے کھیل کو دیکھنا چاہئے، ان کی انگلش بولنے کی صلاحیت غیر متعلقہ ہے، جو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں وہ ذہنی طور پر آبادی سامراجی سوچ کے غلام ہیں'۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو یہ مشورہ بھی دیا کہ اگر بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ پریس کانفرنس ہو تو ایک مترجم کی خدمات حاصل کریں تاکہ شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔
     


    0 0

    1904ء میں نواب بہاول پور خان خامسی نے دربار سے متصل نہایت خوبصورت گلزار محل تعمیر کروایا۔ یہ محل کئی عمارتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے کئی دروازے ہیں۔ عام دیوار سنگ مرمر کی ہے۔ چھتوں پر پچی کاری کا کام کیا گیا ہے۔ ہال کے ساتھ گیلری ہے جہاں والیان ریاست کی تصاویر دیوار پر آویزاں ہیں۔ یہ محل نواب صاحب کے ولی عہد کے زیر تصرف رہا۔ اب اس میں فوجی دفاتر موجود ہیں۔



    0 0

    پاکستان میں 2025ء تک پانی کی شدید قلت کا خدشہ ہے، اس صورتحال سے بچنے کیلئے فوری حل تلاش کرنے ہوں گے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) کی جانب سے جاری کی جانے والی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 میں پاکستان ان ممالک کی صف میں آ گیا تھا جہاں آبادی زیادہ اور آبی ذخائر کم تھے جس کے باعث ملک کے دستیاب آبی ذخائر پر دباوؤ بڑھ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مزید جاری رہی تو بہت جلد پاکستان میں شدید قلت آب پیدا ہو جائے گی جس سے خشک سالی کا بھی خدشہ ہے۔ یہ کونسل وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر سرپرست ہے جو آبی ذخائر کے مختلف امور اور تحقیق کی ذمہ دار ہے۔

    کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے فوری طور پر اس کا حل تلاش کرنے کی ضروت ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر 1 ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور سنہ 2025 تک یہ 8 سو کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ گزشتہ برس انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ ملک میں پانی کی کمی بجلی کی کمی سے بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینا ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 16-2015 میں زرعی پیدوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کی ایک بڑی وجہ پانی کی کمی تھی۔

     


    0 0

    محمد یعقوب نے پہلی بار اپنی اہلیہ کے زیورات گروی رکھوا کر بینک سے 40 ہزار قرض حاصل کیا، جو وہ واپس نہیں کر پائے کیونکہ ان پیسوں سے جو فصل بوئی تھی اس کی فروخت میں انھیں نقصان اٹھانا پڑا۔ سود جمع ہوتے ہوئے قابلِ واپسی رقم ایک لاکھ 70 ہزار ہو گئی۔ اگلے برس پھر اپنی بھابی کا زیور گروی رکھا اور اس کے عوض حاصل ہونے والی قرضے کی قابلِ واپسی رقم اب دو لاکھ ہے اور اب ان کی دوسری بھابی کے زیورات بھی گروی ہیں۔ بینک کے علاوہ آڑھتی کو بھی انھیں 11 لاکھ روپے قرض واپس کرنا ہے جس سے وہ قرض پر کھاد اور بیج وغیرہ خریدتے ہیں۔ یہ آڑھتی بھی سود سمیت رقم واپس لیتا ہے۔
    یوں اس وقت وہ 19 لاکھ روپے کے مقروض ہیں اور اس رقم کی وصولی کے لیے لوگ انھیں تنگ کر رہے ہیں۔ 'ہم نے انھیں بینک کے چیک دیے ہوتے ہیں وہ جب واپس ہو جائیں تو لوگ دھمکیاں دیتے ہیں کہ تمھیں پولیس سے پکڑوا دیں گے۔ پھر ادھر اُدھر سے پکڑ کر ان کو دینا پڑتا ہے۔' 

    محمد یعقوب کوئی عادی قرض لینے والے نہیں۔ وہ صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے کسان ہیں جن کے لیے بینک سے قرض لینے کا سوچنا بھی ایک زمانے میں گناہ کے مترادف تھا۔ مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔ ان کے خاندان کی کل اراضی 18 ایکڑ ہے اور وہ چار بھائی ہیں۔ آج سے تقریباً دس سال قبل وہ کوسٹ گارڈ کی سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئے اور باقاعدہ طور پر اپنے آبائی پیشے کاشت کاری کا آغاز کیا۔ اپنی زمین کے علاوہ انھوں نے 75 ایکڑ زمین ٹھیکے پر حاصل کی جہاں وہ مکئی اور آلو وغیرہ کاشت کرتے ہیں۔ اوکاڑہ ان دو فصلوں کےلیے خصوصاً مشہور ہے۔ ان کے لیے آغاز بہت اچھا رہا مگر ان کہ کہنا ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے وہ مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں یہاں تک کہ اب بھاری قرضے میں جکڑے ہیں۔

    قرضہ جلد چکائے جانے کی انہیں کوئی امید نظر نہیں آتی، کیونکہ جن عوامل کی وجہ سے وہ ان حالات تک پہنچے ہیں ان کے مستقبل قریب میں تبدیل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب بھی فصل بیچنے کا وقت آتا ہے تو کھاد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ 'جب ہماری فصل تیار ہو جائے تو اس کی قیمت گِر جاتی ہے۔ ہمارے پیسے بہت زیادہ خرچ ہوتے ہیں جبکہ ہمیں واپس بہت کم ملتے ہیں۔' آلو کی کاشت پر فی ایکڑ ان کا کل خرچ تقریباً 80 ہزار ہے جبکہ فصل 60 سے 70 ہزار تک بکتی ہے۔ وہ اپنی فصلوں کو مختلف کھادیں یعنی ڈی اے پی، یوریا، زنک اور پوٹاش دینے کے علاوہ ان پر سپرے بھی کرتے ہیں۔

    ٹیوب ویل سے فصلوں کو پانی دینا پڑتا ہے کیونکہ نہری پانی صرف انہیں محض 18 منٹ فی ایکڑ کے حساب سے ملتا ہے۔ ان پیسوں میں انہیں سال بھر کے لیے اپنے گھر کا خرچ بھی چلانا ہوتا ہے، ٹیوب ویل استعمال کرنے پر بجلی کا بل بھی ادا کرنا ہوتا ہے، نئی فصل کے لیے بیج، کھادیں اور کیڑے مار ادویات خریدنی ہوتی ہیں اور اس سب سے پہلے انہیں زمین کے مالک کو اس کے حصے کے ٹھیکے کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں۔ ان تمام اخراجات کے لیے ان کے پاس واحد ذریعہ اپنی فصلوں سے آنے والی آمدن ہے جو گذشتہ کم از کم تین سالوں سے مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب فصل سے آمدن نہ ہوئی تو مجبوراً محمد یعقوب کو قرض لینا پڑا جسے واپںں کرنا ان کی بساط سے باہر ہے۔


    'اب جب کچھ نہیں ہو گا تو ہم مویشی بیچیں گے یا زمین بیچیں گے۔ قرض تو واپس کرنا پڑے گا۔' یہ کہانی صرف محمد یعقوب کی نہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں زیادہ تر چھوٹے کسان ایسی ہی روداد سناتے ہیں۔ منظور الٰہی بھی اوکاڑہ کے اسی گاؤں میں 50 ایکڑ زمین ٹھیکے پر کاشت کرتے ہیں۔ انھیں بھی امید ہے کہ جب حکومت کسان کی مدد کرے گی اور فصلوں کے ریٹ اچھے ہوں گے تو وہ اپنا قرض اتارنے کے قابل ہوں گے۔ تاہم میاں فاروق احمد زیادہ پرامید نہیں کہ حکومت زراعت کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ میاں فاروق احمد اوکاڑہ کے تسبتاً بڑے زمیندار ہیں۔ ان کی 200 ایکڑ اراضی ہے اور وہ کاشتکاری کے علاوہ پاکستان کسان اتحاد نامی ایک تنظیم کے ذریعے کسانوں کے حقوق کے حصول کے لیے کام بھی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے روز پاکستان کسان اتحاد نے دارالحکومت اسلام آباد میں کسانوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میاں فاروق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کسان تنگ آمد بجنگ آمد سراپا احتجاج ہے۔ 'دنیا بھر میں شاید پاکستان وہ ملک ہے جہاں زرعی مداخل پر اتنی زیادہ ٹیکسیشن کی ہوئی ہے۔ دنیا میں کہیں مداخل پر جنرل سیلز ٹیکس نہیں لگایا جاتا، یہ ٹیکس ہے ہی پیداوار پر۔' دوسری طرف حکومت صرف گندم یا کسی حد تک گنے کی امدادی قیمت مقرر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 24 اجناس کو یہ سہولت میسر نہیں اور ان اجناس کی فروخت کے لیے کسان مڈل مین یا آڑھتی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جو اس کا منافع یقینی طور پر کھا جاتا ہے۔ تیسری طرف حکومت یہی اجناس انڈیا سے بھی درآمد کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کاشتکار کو نقصان ہوتا ہے۔

    میاں فاروق کے مطابق انڈیا میں کاشتکاروں کو پاکستان کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ حکومتی سبسڈی میسر ہے جس کی وجہ سے ان کے اخراجات کم ہیں۔ وہ سستا بھی بیچیں تو ان کو منافع مل جاتا ہے۔ 'جب ان کا آلو پانچ سو روپے بوری ملے گا تو میرا پندرہ سو روپے بوری کون خریدے گا۔' میاں فاروق کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کاشتکار کو حقیقی معنوں میں سبسڈی دے اور اس کو سپورٹ کرے تو وہ نا صرف اپنا بلکہ اس ملک کا قرضہ چکانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

    عمر دراز ننگیانہ
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اوکاڑہ
     


    0 0

    اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ افراد مہاجر ہیں، پناہ کے متلاشی ہیں یا پھر اپنے ہی ملک میں بے گھر ہیں جب کہ پاکستان 14 لاکھ پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔ اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2015 کے مقابلے پر 2016 میں اس تعداد میں تین لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2014 تا 2015 کے مقابلے پر خاصی کم ہے جب تقریباً 50 لاکھ افراد بےگھر ہوئے تھے۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزینان فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود یہ بین الاقوامی سفارت کاری کی مایوس کن ناکامی ہے۔ انھوں نے کہا: 'ایسا لگتا ہے کہ دنیا امن قائم کرنے کے قابل نہیں رہی۔

    'آپ دیکھتے ہیں کہ پرانے تنازعات اب بھی جوں کے توں چلے آ رہے ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ نت نئے تنازعات بھی بیدار ہو رہے ہیں، اور ان دونوں کے نتیجے میں لوگ در بدر ہو رہے ہیں۔ جبری دربدری کبھی نہ ختم ہونے والی جنگوں کی علامت ہے۔' گرانڈی نے خبردار کیا کہ اس کا بوجھ دنیا کے غریب ترین ملکوں پر پڑ رہا ہے، کیوں کہ دنیا کے 84 فیصد سے زیادہ پناہ گزینوں کا تعلق غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں سے ہے۔ انھوں نے کہا: 'میں افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے کم وسائل کے حامل ملکوں سے یہ کیسے کہہ سکتا ہوں کہ وہ پناہ گزینوں کو قبول کریں جب کہ امیر ملک ایسا کرنے سے انکاری ہیں؟' اقوامِ متحدہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس رپورٹ کی اشاعت سے امیر ملکوں کو دوبارہ سوچنے کا موقع ملے گا کہ وہ نہ صرف زیادہ پناہ گزینوں کو قبول کریں، بلکہ امن کی ترویج اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بھی حصہ ڈالیں۔

    دنیا کے بےگھر افراد : اعداد و شمار
    اس وقت دنیا میں ساڑھے چھ کروڑ سے زیادہ افراد بے گھر ہیں جن میں سے:
    سوا دو کروڑ مہاجر ہیں
    چار کروڑ اپنے ہی وطن میں بےگھر ہیں
    28 لاکھ دوسرے ملکوں میں پناہ کے متلاشی ہیں

    پناہ گزینوں کا تعلق کہاں کہاں سے ہے؟
    شام: 55 لاکھ
    افغانستان: 25 لاکھ
    جنوبی سوڈان: 14 لاکھ
    انھیں کون پناہ دے رہا ہے؟
    ترکی: 29 لاکھ
    پاکستان: 14 لاکھ
    لبنان: دس لاکھ
    ایران: 979,4000
    یوگینڈا: 940,800
    ایتھیوپیا: 791,600
     


    0 0

    بلوچستان کی حکومت نے ضلع گوادر کے ساحل سے 40 کلومیٹر دور واقع جزیرے استولا کو سمندری حیات کے لیے محفوظ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ یہ پاکستان کا پہلا ایسا علاقہ ہے جسے یہ درجہ دیا گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد جزیرے اور اس کے اردگرد پائی جانے والی سمندری حیات، پرندوں اور ان کے مسکن کو انسانوں کی مداخلت اور سرگرمیوں سے پہنچنے والے نقصان سے بچانا ہے۔ حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی اجازت کے بغیر جزیرے کی زمین یا اس کے گرد سمندر کا استعمال نہیں کیا جا سکے گا کیونکہ یہ وہاں کے حیاتیاتی ماحول کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ یہ جزیرہ اب عام لوگوں کی تفریح اور تعلیمی مقاصد کے لیے بھی اس وقت کھولا جائے گا جب حکومت اس کی اجازت دے گی۔ محفوظ علاقہ قرار دیے جانے کے بعد اب اس جزیرے پر ایسے کسی بھی کام کی ممانعت ہو گی جس کی وجہ سے جزیرے پر یا سمندر میں موجود حیات کی نشوونما اور افزائش نسل کے نظام میں خلل پڑے۔

    ممنوعہ اقدامات
    وہیل، شارکس، کچھووں اور پرندوں سمیت ایسے تمام جانداروں کا شکار یا انھیں جال میں پھنسا کر پکڑنا منع ہو گا جن کی نسلوں کو معدومی کا خطرہ لاحق ہے۔
    جزیرے پر کسی بھی قسم کی عارضی یا مستقل تعمیرات کی اجازت نہیں ہو گی۔
    متعلقہ حکام سے اجازت کے بغیر یہاں قیام نہیں کیا جا سکے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ کسی کو بھی ہتھیار لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
    حکام سے اجازت کے بغیر جزیرے پر سکوبا ڈائیونگ، زیر آب تیراکی، کلف ڈائیونگ، جیٹ سکیئنگ، کشتی رانی، سرفنگ یا ماہی گیری کی اجازت نہیں ہو گی۔

    محکمہ ماہی گیری حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل محمد نور نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم کو بتایا کہ اس جزیرے کی کل لمبائی ساڑھے تین کلومیٹر اور چوڑائی ڈیڑھ کلومیٹر ہے اور یہ سمندری علاقہ نہ صرف ماہی گیری کے حوالے سے بہت زیادہ زرخیز ہے بلکہ استولا کا جزیرہ سردیوں میں روس اور دنیا کے دیگر ممالک سے آنے والے پرندوں کا مسکن بھی بنتا ہے جو یہاں آ کر انڈے دیتے ہیں۔ انٹرنینشل یونین فار کنزرویشن آف نیچر(آئی یو سی این) کے مطابق استولا کا جزیرہ چھوٹی چٹانی پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور یہ پاکستان کا سب سے بڑا جزیرہ ہے۔

    ادارے کے مطابق یہاں ملنے والی کئی آبی حیات اور نباتات پاکستان کے دیگر علاقہ جات تو کیا کسی دوسرے ملک میں بھی نہیں ملتیں۔ صرف اس جزیرے پر پائے جانے والے جانداروں میں سن وائپر نامی زہریلا سانپ اہم ہے۔ اس کے علاوہ یہاں گریٹر کرسٹیڈ نامی پرندہ ہزاروں کی تعداد میں موجود ہے جبکہ دنیا کے دیگر علاقوں میں ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ اس جزیرے کے ساحل پر معدومی کے خطرے کا شکار سبز اور ہاکس بل کچھووں کی انڈے دینے کی جگہیں بھی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل فشریز محمد نور کا کہنا تھا کہ اس جزیرے کو محفوظ علاقہ قرار دینے سے جہاں پرندوں کو تحفظ ملے گا وہاں اس کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے کورل یعنی مونگے کی چٹانیں بھی محفوظ ہو جائیں گی جنھیں اس علاقے میں غوطہ خوری سے نقصان پہنچ رہا تھا۔

    ان کا کہنا تھا اس علاقے میں ’کورلز کی 250 سے زائد اقسام ہیں۔ جب یہ کورلز فاسلز بنتے ہیں تو یہ نہ صرف مچھلیوں کی نسل کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں بلکہ چھوٹی مچھلیوں کو اپنے آپ کو بڑی مچھلیوں سے بچانے کے لیے پناہ گاہ بھی بن جاتے ہیں۔‘ ورلڈ وائیڈ فنڈ کے تکنیکی ڈائریکٹر محمد معظم نے نامہ نگار ریاض سہیل کو بتایا کہ استولا کو محفوظ علاقہ قرار دینے کا اقدام کنونشن آف میرین بائیو ڈائیورسٹی کا حصہ ہے جس کی پاکستان نے توثیق کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کنونشن کے اہداف کے حوالے سے انڈونیشیا کے شہر آچے میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں قوموں پر یہ لازم کیا گیا تھا کہ وہ اپنی سمندری حدود کا دس فیصد آبی حیات کے تحفظ کے لیے مختص کریں گی۔

    بشکریہ بی بی سی اردو
     


    0 0

    پاکستان نے روایتی تین پہیوں والے رکشے کی جاپان کو برآمد شروع کر دی ہے۔
    خبررساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کےمطابق مقامی پاکستانی کمپنی سازگار انجنئیرنگ جو فور اسٹرک سی این جی آٹو رکشہ اورآٹو موٹیو کی پیداوار دے رہی ہے، نے یہ رکشے جاپانی مارکیٹ میں برآمد کرنا شروع کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ جاپان خود آٹو انڈسٹری میں خود کفیل ہے تاہم پاکستان کے روایتی رکشے نے جاپانی صارفین کی توجہ حاصل کر لی ہے جہاں جاپانی شہری اس رکشے کو تفریح کے علاوہ عام استعمال میں لاتے ہیں۔

    سازگار انجنئیرنگ کے سیلز ہیڈ محمد اسماعیل نے بتایا کہ پاکستان کے روایتی طور پر سجے ٹرک اور رکشوں کی عالمی مارکیٹ میں دھوم ہے، پاکستانی ٹرک آرٹ دنیا بھر میں مقبول ہے، اسی طرح جاپان میں روایتی طور پر سجائے گئے رکشوں کو مقبولیت مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جاپان کی تاریخ میں پہلی بار تین پہیوں والی کسی گاڑی کو ہائی ویز پر آنے کی اجازت دی گئی ہے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قابل گرفت کنٹرول اور سیفٹی کا معیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی رکشے گنجان آباد علاقوں کی تنگ گلیوں میں سفر کرسکتے ہیں اس لیے یہ رکشے مختصر سفر کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کہ پاکستان کے روایتی رکشوں کی برآمد میں اضافے کے لیے مزید اقدامات اورجامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔
     


    0 0

    سعودی عرب کی 31 سالہ شہزادے محمد بن سلمان کی اٹھان حیرت انگیز رہی ہے۔
    جب میں ان سے سنہ 2013 میں جدہ میں ملا تو انھوں نے اپنا تعارف محض ایک 'وکیل'کے طور پر کروایا۔ آج وہ عرب دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے حکمران بننے جا رہے ہیں۔ یمن میں بے نتیجہ اور نقصان دہ فوجی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما رہنے کے باوجود وہ اپنے ملک میں خاصے معروف ہیں، خاص طور پر نوجوان سعودیوں میں۔ انھوں نے سرکاری اداروں میں بہت سارے غیر مؤثر اور بزرگ افراد کی جگہ مغرب سے تعلیم یافتہ نوجوان ٹیکنوکریٹس کو بھرتی کیا ہے۔ انھوں نے ایک انتہائی پر جرات مندانہ تعمیراتی منصوبہ 'وژن 2030'بھی ترتیب دیا اور سعودی عرب کی سرکاری آئل کمپنی سعودی ارماکو کے کچھ حصوں کی فروخت کا بھی اعلان کیا۔

    انھوں نے واشنگٹن اور ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بھی تعلقات قائم کیے لیکن ان کی سب سے بڑی اور خطرہ موہ لینے والی کوشش قدامت پسند مذہبی اسٹیبلشمنٹ پر قدغن لگانا ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن کو یہ کوشش پسند ہے لیکن ان کے ملک کے قریبی ساتھیوں کو یہ پسند نہیں۔ نئے ولی عہد محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد کی حیثیت سے یمن سعودی عرب جنگ، توانائی سے متعلق عالمی پالیسی سازی اور اس کے نفاذ اور تیل کے ختم ہو جانے کے بعد ریاست کے مستقبل سے متعلق منصوبوں کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

    فرینک گارڈنر
    بی بی سی ، سکیورٹی نامہ نگار
     


    0 0

    میچ کب کا ختم ہوچکا لیکن جشن فتح جاری ہے کرکٹ میچ صرف اوول گراﺅنڈ میں نہیں ہوا تھا اس کا اصل میدان تو سری نگر کا لال چوک اور ڈھاکہ کی مساجد تھیں جہاں ہزاروں بنگالی پاکستان کی فتح کےلئے سربسجود تھے۔ کرکٹ کی فتح نے تین باتیں واضح کر دی ہیں۔ ہم سب پاکستانی ہیں۔ تمام تعصبات پر مبنی تقسیم مصنوعی اور عارضی ہے۔ اچھی قیادت اسے پل بھر میں ختم کر سکتی ہے، ہم ہجوم نہیں، ایک قوم ہیں۔ دو قومی نظریہ دیوانے کی بڑ نہیں،ایک حقیقت تھی اور آج بھی ہے۔ پاکستانی ریاست کی اسلامی شناخت کسی جبر کا نتیجہ نہیں، عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاک بھارت ٹیموں کا میچ ختم ہوا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے سبزہ زاروں'جنت نظر کوہساروں میں یہ میچ اب بھی جاری ہے جس کے کھلاڑی سنگ بدست نہتے نوجوان کشمیری اور مقابل 10 لاکھ بھارتی فوجی ہیں۔

    وہ دو قومی نظریہ، جسے پاکستان میں، پاکستانی سر زمین پراجنبی بنایا جا رہا ہے جسے ہمارے کچھ نام نہاد روشن خیال دانشور دیس نکالا دینا چاہتے ہیں موقع پاتے ہی نئے رنگ و روپ میں پاکستان کے دشمنوں کو للکارتا ہوا منظر عام پر نمودار ہو جاتا ہے۔ اتوار کی شب یہ دو قومی نظریہ پوری آب و تاب سے اوول کی تاریخی کرکٹ گراﺅنڈ میں کچھ ایسے نمودار ہوا کہ ساری دنیا کی نگاہیں چکا چوند ہو گئیں۔ کھیل میں ہار جیت منطقی انجام ہوتا ہے لیکن جس طرح کا رد عمل بھارت میں دکھائی دیا اس نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے دو قومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم فطری تقاضا تھا اور فطرت کے مقابل کوئی جیت نہیں سکا۔ 

    سری نگر اور مقبوضہ وادی کے چپے چپے میں جس طرح کرکٹ کی فتح کا جشن منایا گیا ہے۔ جس طرح جواں سال میر واعظ نے عید سے پہلے عید کا نعرہ مستانہ بلند کیا، جس طرح سری نگر کا آسمان آتش بازی سے گل رنگ ہوا اور جو چراغاں مقبوضہ کشمیر کے گھر گھر میں ہوا وہ تو پاکستان کے کسی شہر میں بھی نہیں ہو سکا۔ سب سے حیران کن رد عمل بھارتی مسلم نوجوانوں کا سامنے آیا ہے جنہوں نے مودی کے رام راج کے سامنے سینہ تان کر پاکستان کی فتح کا جشن منایا اب تک درجنوں نوجوان بغاوت کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔

    مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے رکن انجینئر رشید جو حکمران اتحاد کا حصہ ہیں سب پر بازی لے گئے۔ جب ایک ٹاک شو میں لائیو ان سے متعصب اینکر پرسن نے بار بار پاکستان کی فتح پر ان کے جذبات، اندرونی جذبات کے بارے میں ایک ہی سوال بار بار دہرایا تو بھارت نواز اتحاد کا حصہ انجینئر رشید نے برملا کہہ دیا کہ انہیں پاکستان کی فتح پر بہت خوشی ہوئی ہے۔ جب اینکر نے بھارتی ٹیکسوں پر، اسمبلی رکنیت اور دیگر مفروضوں پر گفتگو جاری رکھی تو انجینئر رشید نے واضح الفاظ میں بتا دیا کہ وہ سرے سے بھارتی آئین کو تسلیم نہیں کرتے وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت مقبوضہ کشمیر اسمبلی کا حصہ ہیں۔ وہ بھارت کے دستور کو تسلیم نہیں کرتے جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں بروئے کار نہیں آتیں وہ پاکستانی بھائیوں کی خوشیوں میں شریک رہیں گے جس پر وہ بھارتی اینکر جھنجھلاتا رہا اپنا سر پیٹتا رہا۔

    کہتے ہیں کہ منہ سے نکلی بات اور کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا اس لئے وہ اینکر دہائیاں دیتا رہا۔ لکیر پیٹتا رہا۔ سری نگر کے بعد جشن فتح کا دوسرا مرکز ڈھاکہ تھا جس کا ذکر ہمارے ذرائع ابلاغ نے دیدہ دانستہ، جان بوجھ کر نہیں کہا کہ ہمارے باطل ”روشن خیالوں“ کو ڈھاکہ سے بار بار دو قومی نظریے کا ظہور بالکل پسند نہیں، وہ اسے بنگلہ قوم پرستی کے جوار بھاٹے میں ڈبو دینا چاہتے ہیں ہمیشہ کے لئے غرق کر دینا چاہئے ہیں لیکن بھارت کے سرپرستانہ رویئے کے ردعمل اور اسلام سے عام بنگلالی کی بے پایاں محبت کا اعجاز ہے کہ پاکستان کے خلاف پھیلائی جانے والی بے بنیاد کہانیوں کے باوجود پاکستان سے محبت کا جذبہ دعاﺅں کی صورت میں ابھر کر سامنے آتا رہتا ہے۔ 

    پاکستان کی فتح کی خبر سنتے ہی ہزاورں نہیں لاکھوں بنگالیوں نے سجدئہ شکر ادا کیا اور نوافل ادا کئے۔ ”صاحب البدر“ پروفیسر سلیم منصور خالد نے میچ کے بعد ڈھاکہ شہر میں عوامی رد عمل اور جوش و خروش پر مبنی وڈیو کلب بھجوائے جنہیں دیکھ کر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ فتح پاکستان کی نہیں بنگلہ دیش کی ہے۔ کرکٹ اور دو قومی نظرئیے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا کرکٹ اور دو قومی نظریے کے تال میل سے جنم لینے والی اس کہانی کا یہ باب ہمارے نام نہاد چڑی ماروں اور چڑی بازوں کو قطعاً پسند نہیں ہے۔ ان کے سینوں پر سانپ لوٹ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کی نظریاتی اساس بدلنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں لیکن برا ہو کرکٹ کا، انگلستان کی اشرافیہ کے پسندیدہ سیکولر کھیل کا جس میں فتح و شکست کے نظریاتی پہلو انہیں بد مزہ کر رہے ہیں شاید اسی لئے نجم سیٹھی کی مئے ناب کے پس منظر والی تصاویر کا رنگ، بد رنگ ہو کر رہ گیا ہے اور خود انہیں اپنے ممدوح کی مخالفانہ نعرہ بازی کو سر جھکا کر سننا پڑا، اس بار پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے قوم کی خوشیوں میں افسروں اور جوانوں کی شرکت کی بروقت تصاویر جاری کر کے کمال کر دیا۔

    کرکٹ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کا والہانہ لگاﺅ ہی تھا کہ انہوں نے ساری ٹیم کو عمرہ کرانے کا اعلان کر دیا جس پر بعض بے بصیرت، تیرہ بختوں کو جمہوریت اور جمہوری نظام میں ”مداخلت“ دکھائی دی لیکن یہ سب کچھ عوامی جوش و خروش میں بہہ گیا اور جناب وزیراعظم نواز شریف نے کھلاڑیوں کے لئے فوری طورپر ایک ایک کروڑ نقد انعام کا اعلان کر دیا ہے۔ شاہی خاندان کے بعض مقربین دعوے کر رہے ہیں کہ یہ انعام قومی خزانے سے نہیں وزیراعظم نواز شریف جیب خاص سے دیں گے۔

    معاملہ اگر کھیل تک محدود ہوتا تو بھارت میں اتنا المناک رد عمل سامنے نہ آتا تین دن گزرنے کے باوجود سارے بھارت پر سکتہ طاری ہے اب ماتم کی جگہ سوگ نے لے لی ہے۔ جس کی کہانی ہمارا خالدی سنا رہا ہے۔ خالد محمود مدتوں سے دفتر خارجہ اور سفارتی سرگرمیاں رپورٹ کر رہے ہیں، ہمارے پیارے خالدی اپنے آپ کو خالصتاً پیشہ وارانہ امور تک محدود رہتے ہیں نظریاتی اور سیاسی دھڑے بندیوں سے کوسوں میل دور اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اس لئے استفسار پر ہمیشہ بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تجزیہ کر کے آنکھیں کھول دیتے ہیں۔ شبِ گذشتہ بتا رہے تھے کہ بھارت میں جاری سوگ ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے، انہوں نے کسی جاننے والے کا کاروباری ویزا جلد پراسیس کرانے کی درخواست کی تو انہیں بتایا گیا کہ بھارت میں ہر چیز بند ہے اس لئے اس وقت جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ کاروباری معاہدے اور دیگر تفصیلات پر جواب ملا کہ سارے کاروبار بھی بند پڑے ہیں معاہدے کون کرے گا اس لئے انتظار کریں۔ 

    سرشام ٹاک شوز میں پاکستان اور پاکستانی ٹیم کا مذاق اڑانے والے ماتم کرنے کے بعد تھک ہار کہ کب کے سو چکے ہیں سوشل میڈیا پر ”فاردر ڈے“ کے حوالے سے پاکستان کو نشانہ بنانے والوں کو ہمارے نوجوانوں نے بڑے کرارے جواب دیئے ہیں۔ بھارت کے حجم کی بنا پر اسے والد اور پاکستان کو بیٹا قرار دینے والوں کو بتا دیا گیا کہ پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا تھا جبکہ بھارت ایک دن بعد 15 اگست کو آزاد ہوا تھا، اس لئے تاریخی اعتبار سے پاکستان کو بھارت کا والد گرامی ہونے کا شرف حاصل ہے جس پر علم الکلام کے مظاہرے کرنے والے متعصب ہندو اپنا سا منہ لے کر خاموش ہو گئے۔

    اب کی بار خالصتانی سکھوں نے اپنے انوکھے انداز میں جشن فتح منایا اور اسے ہندو بنئے پر متحدہ پنجاب کی فتح قرار دیا۔ یہ سب دیکھ کر، سن کر ہمارے پاکستانی بد باطن جعلی دانشوروں کو سانپ سونگھ گیا کہ جس دو قومی نظرئیے کو وہ بھولا بسرا خواب بنانا چاہتے تھے۔ وہ اوول گراﺅنڈ کے سبزہ زار سے نئی طاقت اور قوت کے ساتھ نمودار ہو چکا ہے۔ سری نگر اور ڈھاکہ میں جلوہ گر ہے۔حرفِ آخر یہ کہ ضلع میانوالی کے ریٹائرڈ سکول اساتذہ کو گذشتہ 3 ماہ سے پنشن نہیں ملی، خادم اعلیٰ پنجاب سے مداخلت کی درخواست ہے کہ ان بے نوا، بے صدا بزرگوں کی داد رسی فرمائیں اور ان کے لئے عید کی خوشیاں دوبالا کر دیں۔

    اسلم خان
     


    0 0

    دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر یورپین کمیشن نے سرچ رزلٹس میں رد و بدل کرنے کے الزام میں ریکارڈ 2.7 ارب ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی گوگل پر الزام ہے کہ اس نے سرچ رزلٹس میں ان شاپنگ پلیٹ فارمز کو اوپر دکھایا جو اس کی اپنی کمپنیاں ہیں۔ یورپین کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے ایسا کر کے صارفین کے اعتماد کو توڑا اور انہیں بہتر اشیاء تک رسائی کے حق سے محروم کیا۔ یورپین کمیشن کی جانب سے کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ تاریخ کا سب سے بھاری جرمانہ ہے جبکہ گوگل کو یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ 90 روز کے اندر مسابقت کے منافی اپنے اس طریقہ کار کو بند کرے ورنہ اس پر مزید جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب گوگل کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔

    کمیشن کے فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر گوگل نے 3 ماہ کے اندر شاپنگ سروسز کو آپریٹ کرنے کے اپنے طریقہ کار کو نہیں بدلا تو اسے اپنی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی مجموعی عالمی آمدنی کا 5 فیصد حصہ بطور جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ یورپی یونین کی مسابقت کمشنر مارگریتھ ویسٹاگر نے کہا کہ گوگل نے جو کیا وہ غیر قانونی ہے، اس نے دیگر کمپنیوں کو میرٹ کی بنیاد پر مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے حق سے محروم کیا جب کہ صارفین کو مسابقت سے ہونے والے فائدے اور اپنی پسند کی اشیاء تک رسائی سے محروم کیا۔

    خیال رہے کہ گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اگر صارف سرچ انجن پر نقشے، فلائٹ پرائس اور دیگر معلومات سرچ کرتے ہیں تو گول نتائج میں بعض ویب سائٹس اور کمپنیوں کو دیگر کمپنیوں کو میرٹ سے ہٹ کر فوقیت دیتا ہے۔ تاہم فیصلہ آنے کے بعد گوگل کے ترجمان نے کہا کہ جب صارفین آن لائن شاپنگ کرتے ہیں تو وہ جلدی اور آسانی سے مطلوبہ پروڈکٹس تک پہنچنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایڈورٹائزرز ان پروڈکٹس کی تشہیر کرنا چاہتے ہیں اور گوگل ان ہی اشتہارات کو شاپنگ ایڈز میں دکھاتا ہے۔
     


    0 0

     بہاولپور میں ایک آئل ٹینکر کے الٹنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔







    0 0

    ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، مرتضیٰ علی بھٹو کے صاحبزادے ہیں، ذوالفقار بھٹو کے پوتے ہیں، امریکہ میں مقیم ہیں، زنانہ بہروپ میں زنانہ لباس پہن کر کلب میں ناچتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ یہ دقیانوسی نظریہ ہے کہ ایک طاقتور مرد ہی قوم کا نمائندہ ہو سکتا ہے، اُن کے نزدیک مردانگی دراصل نرمی میں ہے۔ ایک ڈاکیومینٹری میں انہوں نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ہے جسے دیکھ کے بظاہر یوں لگتا ہے جیسے اپنے والد، پھوپھی اور خاندان کے دیگر افراد کے قتل نے انہیں مجبور کیا کہ وہ مردانہ برتری کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کا بہترین عملی طریقہ انہوں نے زنانہ پن میں ڈھونڈا، اسی لئے وہ اِس ڈاکیومینٹری میں عورت کی طرح کڑھائی کرتے اور ناچتے نظر آتے ہیں۔

    بحث یہ نہیں کہ بھٹو جونیئر کو اپنے داد ا کی وراثت سنبھالنی چاہئے تھی یا نہیں اور بحث یہ بھی نہیں کہ ایک فرد کی حیثیت سے انہیں عورت کا بہروپ بھرنے کی آزادی میسر ہے یا نہیں۔ بحث یہ ہے کہ کیا مرد کی نام نہاد مردانگی کے خلاف مزاحمت کا یہ طریقہ مناسب ہے، بحث یہ ہے کہ کیا فرد کی آزادی کے نام پر کی جانے والی کسی بھی حرکت پر رائے زنی کی جا سکتی ہے یا اسے شخصی آزادی کے کھاتے میں ڈال کر خاموش رہنا چاہیے، بحث یہ ہے کہ ذہنی کج روی اور نارمل انسان کے رویے میں کوئی فرق ہوتا ہے یا ذہنی کج روی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، بحث یہ ہے کہ اگر کوئی مزاحمت کا نیا اور انوکھا طریقہ اختیار کرے تو اسے محض اس لئے مسترد کر دیا جائے کہ وہ مرجہ طریقہ کار سے متصادم ہے، بحث یہ ہے کہ اگر کوئی مرد عورت کا بہروپ بھرے تو کیا اس پر تبرّا کرنا جائز ہو جاتا ہے اوربحث یہ ہے کہ کیا مرد کا عورت کے روپ میں کلب میں ناچنا کسی اعلیٰ اور ارفع مقصد کے حصول کی جدو جہد کا استعارہ کہلایا جا سکتا ہے ؟

    ہر شخص کی طرح بھٹو جونیئر کو بھی اپنی زندگی جینے کا حق ہے، وہ چاہیں تو کسی جنگل میں نکل جائیں، سنیاس لے لیں، کراچی میں کوئی ریستوران کھول لیں، فائٹر پائلٹ بن جائیں، ایدھی کی طرح انسانی فلاح کا کوئی کام کریں، امریکہ میں عیاشی کریں، اپنے دادا کی وراثت کو زندہ کریں یاکوئی بھی کام کریں جو اُن کا دل چاہے۔ اپنے اسی حق کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے عورت کا روپ بھرا اور کلب میں ناچنے کا فیصلہ کیا، یہ زندگی اُن کی ہے اور یہ فیصلہ بھی اُن کا ہے سو وہ جہاں رہیں خوش رہیں، یہاں تک تو بات ٹھیک ہے، کسی کو اِس بات کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے مگر ساتھ ہی اِس حرکت پرتنقید یا تحسین کرنا بھی ہر شخص کا حق ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ مغرب سے جو بھی حرکت امپورٹ ہو کر آتی ہے یہاں کے لبرل دانشور اسے سینے سے لگانا اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں اورایسی کسی حرکت پر تنقید کو شخصی آزادی اور آزاد خیالی پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔

    یہ شخصی آزادی کا لطیفہ بھی خوب ہے، صاحب آپ کی شخصی آزادی سر آنکھوں پر، ہمیں بھی تو یہ آزادی دیجئے کہ ہم کہہ سکیں کہ کسی مرد کا عورت کے روپ میں کلب میں ناچنا مرد کے ظلم کے خلاف مزاحمت تو دور کی بات دراصل ذہنی کج روی کی ایک شکل ہے۔ اب یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ بھائی آپ کب سے نفسیات دان ہو گئے جو یہ طے کرنے بیٹھ گئے کہ ذہنی کج روی کیا ہوتی ہے۔ درست ہے، میں نفسیات دان نہیں، اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں، یہ ذہنی کج روی نہیں، تو پھر یہاں کیوں رُکتے ہیں، آگے بڑھتے ہیں، امریکہ میں تو ہر قسم کے کلب ہیں، ایسے بھی ہیں جہاں مرد ’’ڈانسنگ بئیر ‘‘ بن کے ناچتے ہیں تو کیوں نہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ اِس ’’جدو جہد ‘‘کے صلے میں اِن مردوں کو کوئی خطاب دے دیا جائے !

    انسان تو بعض ایسی حرکتیں بھی کرتے ہیں کہ انہیں لکھا تو کیا نجی محفل میں بھی اظہار نہیں کیا جا سکتا ہے، اُن سب کے ضمن میں بھی کسی نفسیات دان کی سند موجود نہیں تو کیا پھر انسان کی ذہنی کج روی کا تصور ہی سرے سے بکواس ہے ؟ چلیں ہم یہ مان لیتے ہیں کہ کسی مرد کا عورت کے روپ میں ناچنا ذہنی کج روی نہیں، لیکن یہ تو مجبور نہ کریں کہ اس حرکت کی تحسین کی جائے اور اسے عظیم جدو جہد کا استعارہ بھی سمجھا جائے ! یہ درست ہے کہ (مسٹر ) بھٹو نے مزاحمت کا طریقہ کار خاصا مختلف چنا اور محض اس بنیاد پر اسے رد نہیں کیا جا سکتا مگر یہ مزاحمت کیسے اور کس کے خلاف ہے، یہ سمجھ نہیں آئی۔ سٹرپٹیز کلب میں ناچتی ہوئی عورت تو کہہ سکتی ہے کہ وہ مظلو م ہے مگر اپنی مرضی سے عورت کا بہروپ بھر کے ناچنے والا کون سے اعلیٰ و ارفع مقصد کی تکمیل کر رہا ہے، خدا جانتا ہے کہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ اس بات پر تما م لبرل مرد و خواتین مجھے جاہل کہہ سکتے ہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن بھٹو جونیئر کی یہ بات بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کہ طاقتور مرد کو ہی قوم کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ موصوف کی اپنی آنٹی بے نظیر بھٹو نے اس روایتی نظریے کی دھجیاں اڑائیں اور ایک نہتی لڑکی کے طور پرجدو جہد کی مثال قائم کی، کیا وہ کوئی طاقتور مرد تھیں ؟

    مسئلہ یہ ہے کہ مغرب سے درآمد شدہ نظریات ہمارے آزاد خیال دانشوروں کو بے حد محبوب ہیں، شخصی آزادی سے لے کر اظہار رائے کی آزادی تک ہمارے یہ لبرل دوست کسی قسم کی لکیر کھینچنے کے قائل نہیں کیونکہ مائی باپ امریکہ نے ایسی کوئی لکیر نہیں کھینچی۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ آپ کسی بھی قسم کی آفاقی سچائی کا مضحکہ اڑا سکتے ہیں کیونکہ آزادی کی کوئی حد طے نہیں کی جا سکتی چاہے یہ آزادی کسی کی ذات تک ہی کیوں نہ محدود ہو۔ ویسے یہ ناممکن ہے کیونکہ شخصی آزادی بھی کسی نہ کسی انداز میں دوسرے شخص پر اثر انداز ہوتی ہے، مثلا ً اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سر عام بوس و کنار کرتے ہوئے ہم جنس پرست کسی راہ چلتے بچے کے ذہن پر کوئی نقش نہیں ڈالتے تو میں اسے ذہنی کج روی ہی کہوں گا۔ اسی طرح آزادی اظہار کی لا محدود آزادی بھی بے گناہ انسانوں کے قتل کا باعث بن سکتی ہے، کوئی لبرل ملک محض یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ یہ میرے آئین میں دی گئی گارنٹی کے مطابق ہے سو مسلمان مرتے ہیں تو مریں۔

    لا محدود آزادی اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والا معاشرہ ایک روبوٹک معاشرہ تو ہو سکتا ہے جہاں ہر کوئی دوسرے سے لا تعلق ناک کی سیدھ میں چلا جا رہا ہو اور اپنے کام سے کام رکھ کر ناک کی سیدھ میں واپس آ جائے مگر انسانوں کے معاشرے میں یہ ممکن نہیں۔ جیتے جاگتے انسان روبوٹ نہیں ہوتے، لا محدود انسانی آزادیاں چاہے شخصی اور انفرادی ہی کیوں نہ ہوں ایسے مکروہ افعال کو جنم ضرور دیتی ہیں جو فرد کے دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں اور جن کا کوئی نارمل انسان دفاع نہیں کر سکتا، اگر ہم اندھا دھند ایسی آزادیوں کا دفاع کریں گے تو پھر کوئی آفاقی سچائی باقی نہیں بچے گی، چاہے وہ آفاقی سچائی خاندان کی حرمت ہو یا مرد کا مرد بن کر رہنا۔

    یاسر پیر زادہ


older | 1 | .... | 101 | 102 | (Page 103) | 104 | 105 | .... | 149 | newer