Are you the publisher? Claim or contact us about this channel


Embed this content in your HTML

Search

Report adult content:

click to rate:

Account: (login)

More Channels


Showcase


Channel Catalog


Channel Description:

Find news, multimedia, reviews and opinion on Pakistan, politics, sports, economy, travel, books, education, ...

older | 1 | .... | 100 | 101 | (Page 102) | 103 | 104 | .... | 149 | newer

    0 0

    28 مئی 1998ء ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کا دن، ایٹی قوت بننے کے لیے پاکستان کو کس حدتک امریکی دباؤ برداشت کرنا پڑا لیکن اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف کس طرح اپنے عزم پر ڈٹے رہے اور ملک کو ایٹمی قوت بنایا، اس پر سینئر کالم نویس ’رؤوف طاہر‘ نے روزنامہ دنیا میں لکھے گئے ایک کالم میں روشنی ڈالی ہے ۔ اُنہوں نے لکھا کہ ’یہ وہ مرحلہ تھا جب قومی خودمختاری اور عزت و وقار کیلئے کوئی بھی قیمت مہنگی نہیں ہوتی۔ 

    امریکن سنٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل زینی اپنی کتاب ''Battle Ready‘‘ میں تفصیل سے یہ دلچسپ کہانی بیان کر چکے کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کیلئے صدر کلنٹن کی ہدایت پر وزیر دفاع ولیم کوہن کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کا بوئنگ707 ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار کھڑا تھا۔امریکیوں کے بار بار رابطوں کے باوجود اسلام آباد کی طرف سے این او سی نہیں مل رہا تھا۔ بالآخر جنرل جہانگیر کرامت سے امریکی جرنیلوں کے تعلقات کام آئے اور اپنے آرمی چیف کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف نے امریکی وفد کو آنے کی اجازت دے دی۔ جنرل زینی کے بقول امریکی وفد نے پاکستانی وزیراعظم سے متعدد ملاقاتیں کیں لیکن وہ وزیراعظم پاکستان سے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کی بات نہ منوا سکے۔ امریکیوں کی کوئی ترغیب ، کوئی تنبیہ ،پرعزم وزیراعظم کو ایٹمی دھماکوں سے باز نہ رکھ سکی۔

    گیارہ مئی کو نواز شریف سربراہ اجلاس کے سلسلے میں قازقستان میں تھے۔بھارتی دھماکوں کی اطلاع آئی تو ایک رائے یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان کو فوراً وطن واپسی کی راہ لینی چاہیے لیکن وزیراعظم کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ ان کا موقف تھا کہ اس سے ہندوستان اور باقی دنیا کو یہ تاثر جائے گا کہ ہندوستانی دھماکوں سے پاکستان دبائو میں آ گیا ہے ۔ وہ دنیا کو پاکستان کے مضبوط اعصاب کا تاثر دینا چاہتے تھے۔ وہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو واپس آ ئے۔ ایٹمی سائنسدانوں سے استفسار کیا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکوں کیلئے کتنا وقت درکار ہو گا ؟ دس گیارہ دن سے زیادہ نہیں۔ 10 مئی کو Go Ahead مل گیا اور سائنسدانوں کی ٹیم چاغی روانہ ہو گئی۔

    اس دوران نواز شریف دوست ممالک کی قیادت کے علاوہ اندرون ملک بھی صلاح مشورے میں مصروف رہے ۔ وہ اپنے طور پر قازقستان ہی میں یکسو تھے لیکن اسکے لیے مسلح افواج کی قیادت کے علاوہ اپنے سیاسی رفقا اور دیگر ارباب فہم و دانش سے مشاورت کو بھی ضروری سمجھتے تھے۔ انہیں ملک کے حال اور مستقبل کیلئے گہرے اثرات کے حامل فیصلے میں شرکت کا احساس دلانا ضروری تھا۔ سنگین ترین معاملہ عالمی اقتصادی پابندیوں کا تھا۔ اس حوالے سے سعودی عرب ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یارِ وفا دار کے طور پر سامنے آیا۔ امریکہ سمیت ساری دنیا کے دبائو کی پروا کیے بغیر سعودی قیادت نے پاکستانی قیادت کو تیل (Deffered Payment) سپلائی جاری رکھنے کی یقین دہانی کردی تھی۔ یہ ''دیفرڈ پیمنٹ ‘‘بھی فائلوں کی حد تک تھی مگر یہ''حساب دوستان دردل‘‘ والا معاملہ تھا‘۔
     


    0 0

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔
    اس سے قبل ترال کے 'سوئی مُو'گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو 'بچانے'کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔ مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔

    سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق سنیچر کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کاروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔ دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کر دیا گیا۔

    ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل سرینگر سمیت کئی مقامات پر سبزار کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ سبزار بٹ گذشتہ برس جولائی میں مارے گئے مقبول کمانڈر برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کاروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان مارے گئے جبکہ دس ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوئے۔

    سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے ان ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ  ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔ تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گذشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔
    گذشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی ہلاکت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اُبل پڑا۔ رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحر خوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ حکومت نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

    ریاض مسرور
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
     


    0 0

    اس برِ صغیر نے کیسے کیسے نادرِ روزگار پیدا کیے جنہوں نے اس خطے کا نام باقی دنیا کے عام آدمی تک پہنچانے میں زندگی کھپا دی مگر آج لگتا ہے گویا یہ نامور تاریخ چھوڑ اجتماعی یادداشت سے بھی مٹ چکے ہیں۔ قریباً دو برس پہلے میں نے اسی صفحے پر راجہ صاحب محمود آباد کے بارے میں لکھ کے نئی نسل کے لیے یہ اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی کہ مسلم لیگ کی جتنی مالی اعانت اتر پردیش کی ایک چھوٹی سی ریاست کے اس حکمران نے کی وہ لیگ میں شامل تمام جاگیرداروں اور امرا کی مجموعی اعانت سے کہیں زیادہ تھی۔ راجہ صاحب ریاست محمود آباد کی سالانہ آمدنی کا ایک حصہ اپنے اخراجات کے لیے الگ کر کے باقی روپیہ آل انڈیا مسلم لیگ کو دے دیتے تھے۔

    یہ پیسہ سن انیس سو چالیس سے چھیالیس تک ہندوستان کے طول و عرض میں پیغامِ پاکستان کی تحریک عام کرنے میں صرف ہوا۔ اس کے عوض راجہ صاحب نے پاکستان بننے سے پہلے یا بعد میں اپنے لیے کوئی سہولت یا عہدہ طلب نہیں کیا اور ستر کے عشرے میں لندن میں خاموشی سے وفات پا گئے۔ بہت عرصے بعد جب وفاقی حکومت کی ایک ثقافتی کمیٹی کے اجلاس میں کسی نے راجہ صاحب کے نام پر کوئی یادگار بنانے کی تجویز پیش کی تو ایک بیوروکریٹ نے حیرت سے پوچھا ’’اے کون اے‘‘۔ آج میں ایک اور ہستی کا ذکر کرنے کی جرات کر رہا ہوں۔ جس کے بارے میں نئی نسل بھی یہی پوچھتی ہے ’’اے کون اے‘‘ ۔ اس شخصیت کا سیاست سے دور دور کا لینا دینا نہیں۔ مگر وہ اپنے زمانے میں جسمانی طاقت کے اعتبار سے ہندوستان کا تعارف بن گیا۔ چون برس پہلے تک بچہ بچہ اسے جانتا تھا۔ دنیا کا ہر پہلوان اس کے سامنے آنے سے کتراتا رہا۔ یہ شخصیت ہے رستمِ ہند و رستمِ زماں غلام محمد گاما جنھیں گاما پہلوان کے نام سے دنیا پہچانتی تھی۔ ان کے بھائی امام بخش بھی رستمِ ہند بنے (امام بخش کے صاحبزادے منظور حسین عرف بھولو پہلوان سے تو شائد اب بھی بہت سے لوگ واقف ہوں)۔

    گاما صاحب نسلاً کشمیری تھے اور ان کی پیدائش بائیس مئی اٹھارہ سو اٹہتر کو امرتسر میں ہوئی۔ دس برس کی عمر سے نمائشی کشتی شروع کر دی اور موجودہ مدھیہ پردیش کی ایک چھوٹی سی سابق ریاست داتیا کے مہاراجہ بھاوانی سنگھ نے انھیں اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ اس کے بعد گاما نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ باون برس کے کیرئیر میں سیکڑوں کشتیاں لڑیں مگر مسلسل ناقابلِ تسخیر رہے۔ وہ کوئی لحیم شحیم شخص نہیں تھے۔ قد محض پانچ فٹ سات انچ تھا مگر لحیم شہیم مدمقابل ان کے زیادہ قریب لگنا پسند نہیں کرتے تھے۔ گاما نے زندگی بھر دنیا بھر کے عظیم پہلوانوں سے پنجہ آزمائی کی مگر کسی کو اپنا ہم پلہ مانتے تھے تو رستم ِ ہند رحیم بخش سلطان والا کو۔ ان سے گاما کی پہلی کشتی بے نتیجہ ثابت ہوئی۔

    مگر الہ آباد میں سن بیس میں ہونے والی دوسری کشتی میں چت کر کے رستمِ ہند کا خطاب اور گرز حاصل کر لیا۔ لیکن اس کامیابی سے کہیں پہلے انیس سو دس میں وہ رستمِ زماں بن چکے تھے۔ یہ تب ہوا جب وہ اس سال اپنے چھوٹے بھائی امام بخش کے ہمراہ مغربی پہلوانی کے مرکز لندن پہنچے اور اعلان کیا کہ وہ ایک دن میں بارہ پہلوانوں سے پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایک سے بھی ہار گئے تو پہلوانی چھوڑ دیں گے۔ مگر پہلوانی چھوڑنے کی نوبت کبھی نہ آئی۔ گاما نے اپنی عالمی شہرت کا سب سے اہم سنگِ میل دس ستمبر انیس سو دس کو عبور کیا جب انھوں نے لندن میں جان بل ورلڈ چیمین شپ میں اس وقت کی گریکو رومن کشتی کے بے تاج بادشاہ پولش نژاد اسٹینسلاس زبسکو کو چیلنج کیا۔ زبسکو نے چیلنج قبول کر لیا۔ میچ کے دوسرے منٹ میں گاما نے زبسکو کو ایک ایسا داؤ لگا کے فرش پر لاک کر دیا جو بقول زبسکو اس نے پہلی بار کسی کو لگاتے دیکھا تھا۔ گاما نے زبسکو کو اس داؤ تلے مسلسل دو گھنٹے پینتیس منٹ تک دبائے رکھا اور میچ ڈرا ہو گیا۔

    اگلے فیصلہ کن میچ سے پہلے زبسکو نے اعلان کیا کہ وہ اکھاڑے میں نہیں اترے گا، یوں ایمپائر نے گاما کو واک اوور دے دیا اورانھیں ڈھائی سو پونڈ کا انعام رستمِ زماں (ورلڈ چیمپین) کی سند کے ساتھ عطا ہوا۔ اس کے بعد بھی گاما ہر یورپی پہلوان کو کھلا چینلج دیتے رہے مگر کوئی سامنے نہ آیا۔ لگ بھگ اٹھارہ برس بعد جنوری انیس سو اٹھائیس میں ریاست پٹیالہ میں ہونے والی عالمی ریسلنگ چیمپئن شپ میں زبسکو نے گاما سے ورلڈ چیمپین میڈل جیتنے کے لیے کشتی لڑنے کا اعلان کیا۔ میچ شروع ہونے کے ایک منٹ کے اندر ہی گاما نے زبسکو کی کمر زمین سے لگا دی۔ اس کے بعد زبسکو کا نام کسی نے نہیں سنا۔
    گاما کی خوش خوراکی اور محنت کی شہرت بھی افسانوی داستان معلوم ہوتی ہے۔روزانہ تین ہزار ڈنڈ اور پانچ ہزار بیٹھکیں اور پھر بیس شاگردوں سے پنجہ آزمائی۔ چار گیلن دودھ، تین پاؤ بادام کا آمیزہ ان کے خوراکی مینیو کا لازمی حصہ تھا۔

    سابق ریاست بڑودہ جو اب بھارتی گجرات کا حصہ ہے وہاں کے میوزیم میں بارہ سو کلو گرام کا ایک پتھر رکھا ہوا ہے جس پر درج ہے کہ یہ پتھر مانڈوی کے نذر باغ پیلس میں غلام محمد گاما نے اپنے سینے اور ہاتھوں کی طاقت سے بتاریخ تئیس دسمبر انیس سو دو کو اٹھایا تھا۔ (اسوقت گاما کی عمر چوبیس برس تھی)۔ کئی برس بعد جب یہ پتھر بڑودہ میوزیم منتقل کیا گیا تو اسے موجودہ جگہ رکھوانے کے لیے کرین استعمال کرنا پڑی۔ (گاما نے اپنے کیرئیر کا ایک بڑا وقت بڑودہ میں بھی گزارا)۔ تقسیم سے ذرا پہلے گاما خاندان لاہور منتقل ہو گیا اور موہنی روڈ پر رہائش پذیر ہوا۔ فسادات کے دوران محلے کے ہندو باسیوں نے بھارت منتقلی کا فیصلہ کیا۔

    صرف ایک بار ایسا ہوا کہ کچھ مسلمان بلوائیوں نے ہندوؤں کی تلاش اور املاک پر قبضے کی نیت سے اس علاقے کا رخ کیا۔ گاما نے اپنے پہلوان شاگردوں کو جمع کیا اور بلوائیوں کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ بلوائیوں کا سرغنہ غالباً گاما سے ناواقف تھا اس نے جب دھمکی آمیز لہجہ اپنایا تو گاما نے اسے ہاتھوں پر اٹھا لیا اور وہ اڑتا ہوا دوسری جانب جا گرا۔ اس کے بعد مجمع آناً فاناً چھٹ گیا۔ اس واقعے کے ہفتے بھر بعد ہندو باسیوں کا قافلہ روانہ ہوا۔ گاما اپنے شاگردوں کے ہمراہ سرحد تک چھوڑنے گئے اور بطور زادِ راہ قافلے کے لیے ہفتے بھر کا راشن بھی ساتھ کیا۔ اس لمحے پہلی بار گاما کی آنکھوں میں نمی دیکھی گئی۔

    عمر کے آخری برسوں میں گاما کی صحت جواب دینے لگی۔ دمے اور دل کے عارضے نے انھیں گھیر لیا۔ معروف ہندوستانی صنعت کار جی ڈی برلا نے ازراہِ قدر دانی دو ہزار روپے اور تین سو روپے ماہانہ بھجوانے کا بندوبست کیا جب کہ پاکستانی حکومت نے ان کے علاج معالجے کا خرچہ اٹھایا۔ آخر کو وہ متحدہ ہندوستان اور تقسیم کے بعد دونوں ممالک کی مشترکہ میراث جو ٹھہرے تھے۔
    کیا عجب بات ہے کہ ان کی تاریخِ پیدائش بائیس مئی ہے اور ٹھیک بیاسی برس ایک دن بعد تئیس مئی انیس سو ساٹھ کو ان کا انتقال ہوا۔ مگر پہلوانی کی روایت امام بخش کی اولاد کے توسط سے اگلی تین نسلوں تک برقرار رہی۔ یہ ایک ہی خاندان تھا جو اپنی میراث نسل در نسل منتقل کرتا رہا۔ اب کوئی ایسا نہیں۔

    رستم ِ زماں غلام محمد گاما یا ان کے بھائی رستمِ ہند امام بخش یا ان کے صاحبزادے منظور حسین بھولو رستمِ پاکستان کے نام پر اگر آپ کو کوئی سڑک، اسپورٹس کمپلیکس، باغ، چوک، پل یا عمارت کہیں بھی دکھائی دے یا کسی بھی چینل پر ان میں سے کسی کی بھی سالگرہ یا برسی پر کسی پروگرام کا ریکارڈ میسر ہو تو اس فقیر کو بھی مطلع کیجیے گا۔

    وسعت اللہ خان
     


    0 0

    اقبال پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ تھا۔ اُس کی عمر 59 برس تھی۔ وہ وزارت داخلہ میں نائب قاصد کی نوکری کرتا تھا اور ریٹائرمنٹ میں اُس کا ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا تھا۔ وہ اسلام آباد میں ایک سرکاری کوارٹر میں رہائش پزید تھا۔ جیسے جیسے ریٹائرمنٹ کے دن قریب آ رہے تھے، اقبال کو یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ اُس کی ریٹائرمنٹ کے بعد نہ چھت رہے گی اور نہ ہی اتنا پیسہ ہو گا کہ کہیں کرائے پر گھر لے کر پنشن کے پیسوں سے گزارا کر سکے۔ ایسی حالت میں پانچ بیٹیوں اور تین بیٹوں کا باپ کیسے نارمل رہ سکتا ہے۔ اسی فکر میں   اقبال اپنے بیٹے کو لے کر وزارت داخلہ پہنچتا ہے اور ایڈمن افسر کو درخواست دیتا ہے کہ اُس کے بیٹے کو نائب قاصد کی نوکری دے دی جائے تاکہ ایک طرف اُس کا خاندان بے روزگاری سے بچ جائیگا تو دوسری طرف وہ اور اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔

    جنگ کی خبر کے مطابق متعلقہ سرکاری اہلکار نے اُسے قانونی پوزیشن بتائی کہ بیٹے کو باپ کی جگہ ملازمت اُسی صورت میں ملتی ہے جب باپ کا دوران ڈیوٹی انتقال ہو جائے۔ اس صورت میں باپ کو الاٹ کیا گیا سرکاری گھر بھی بیٹے کو الاٹ کر دیا جاتا ہے۔ یہ سن کر اقبال پاک سیکرٹریٹ میں وزارت داخلہ کے آر بلاک کی چھت پر پہنچا اور چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ خبر کے مطابق پولیس نے تصدیق کی کہ اقبال ذہنی دبائو کا شکار تھا اور ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو ملازمت دلانے کا خواہاں تھا تا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے پاس سرکاری چھت موجود رہے۔ اپنی زندگی کو ختم کر کے اقبال نے ہماری ریاست کے اُس قانونی جواز کو پورا کر دیا جس کی بنا پر اُس کے بچے بے گھر ہونے سے بچ جائیں گے۔ 

    خودکشی حرام ہے اور کسی صورت بھی اس طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا گناہ کا کام ہے لیکن اگر سچ پوچھیں تو اس گناہ پر ہم نے اقبال کو مجبور کیا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اقبال کی زندگی کے خاتمہ کی ذمہ داری ہم پر، ہماری ریاست پر، ہماری حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا اور اس ملک کی اشرافیہ پر عائد ہوتی ہے تو غلط نہ ہو گا۔ یہ کیسا ملک ہے کہ اس کے وسائل کو اشرافیہ اور بااثر طبقات کے لیے تو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے لیکن غریب، بے گھر، لاچار کو دینے کے لیے ہماری ریاست کے پاس کچھ نہیں۔ اس سے بڑا جرم کیا ہو گا کہ ریاست اشرافیہ کی ملی بھگت سے بڑے بڑے لوگ ملکی وسائل کو آپس میں بانٹ کھاتے ہیں، کروڑوں روپیے مالیت کے ایک ایک نہیں دو دو تین تین کنال کے حتیٰ کہ اسلام آباد جیسے مہنگے ترین شہر میں پلاٹ الاٹ کیے جاتے ہیں لیکن اقبال جیسے غریب نائب قاصد کے لیے ریاست کے پاس ایک مرلہ زمین دینے کو نہیں۔ 

    کوئی سات آٹھ سال پہلے جب میں نے بحیثیت صحافی حکومتی پالیسی کے تحت ملنے والے دو پلاٹ (ایک راولپنڈی اور دوسرا اسلام آباد میں) لینے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کو ایک درخواست دی کہ خدارا اس پالیسی کو بدلیں جس کے تحت ججوں، جرنیلوں، اعلیٰ سرکاری افسروں، صحافیوں سمیت با اثر طبقات پر ریاست کے وسائل نچھاور کیے جاتے ہیں تو اس پر مجھے خصوصاً اُس وقت کے صحافی تنظیموں کے کچھ رہنمائوں نے بُرا بھلا کہا، میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ حالانکہ میرا یہ کہنا تھا کہ اس ملک کے وسائل پر سب سے پہلا حق غریب اور بے گھر کا ہے نہ کہ بااثرطبقات کا۔ افسوس کہ میری کسی نے نہ سنی۔ میں نے اس معاملہ پر بہت لکھا لیکن نہ حکومت نے کچھ کیا، نہ عدلیہ بولی۔ پارلیمنٹ بھی خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ میڈیا نے بھی اس معاملہ میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

    افسران سے تو کیا گلہ وہ تو ریاستی وسائل کو اپنا حق سمجھ کر فخر سے لیتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اور سیاستدان غریب کے نام پر ووٹ لے کر اقتدار میں آتے ہیں لیکن حکومت سنبھالتے ہی وہ خدمت صرف اشرافیہ کی ہی کرتے ہیں۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ پی پی پی نے روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر ووٹ لیا لیکن غریب بچارے کو بے یار و مددگار مرنے کے لیے چھوڑ دیا ۔ ن لیگ نے بھی وعدے کیے کہ غریب کو گھر دیں گے، اُن کے لیے نوکریوں کے لیے انبار لگا دیں گے لیکن میاں نواز شریف صاحب کی حکومت بتا دے کہ انہوں نے کہیں غریب کے لیے چھت فراہم کرنے کا وعدہ کسی ایک شخص کے لیے بھی پورا کیا؟؟ ہم نے ریاست کو صرف اشرافیہ کی خدمت کے لیے متعین کر دیا ہے جبکہ غریب کا یہاں کوئی پرسان حال نہیں۔ سرکاری پلاٹ، زرعی زمینیں، مہنگی مہنگی سرکاری گاڑیاں، ملک کے اندر اور بیرون ملک بہترین علاج، اعلیٰ تعلیم کے مواقع سب کچھ ریاست نے اشرافیہ کے لیے مختص کر دیا ہے۔ حال تو یہ ہے کہ ٹیکس بھی غریب سے لے کر امیر پر یہاں خرچ کیا جاتا ہے۔ ہم میڈیا والے خاموش ہیں کیوں کہ ہم بھی اشرافیہ کا حصہ بن چکے۔ سوچتا ہوں کہ ہم اپنے رب کو کیا جواب دیں گے۔ آخر یہ ناانصافی کب اور کیسے ختم ہو گی۔

    انصار عباسی
     


    0 0

    سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں دو دِنوں کے اندر تین سربراہی کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کا آغاز ریاض سے کر رہے تھے۔ انہیں سب سے پہلے تو شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کرنا تھی، اس کے بعد خلیجی ممالک کے سربراہان سے مذاکرات کا اہتمام تھا۔ تیسری اور آخری کانفرنس میں 55 مسلمان ممالک کے انتہائی اعلیٰ (یا کم تر) سطح کے ذمہ داران کو شریک ہونا تھا۔ آخری اجتماع چونکہ بڑا تھا، اس لئے یہ جلسۂ عام کی صورت اختیار کر گیا۔ ہم کہ وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ریاض پہنچے تھے، ہماری دلچسپی بھی اسی سے تھی۔ کانفرنس سنٹر ایک انتہائی وسیع عمارت ہے، اور اس میں سینکڑوں کیا ہزاروں افراد کو جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    یہاں ایک میڈیا سنٹر قائم کیا گیا تھا جبکہ دوسرا ایسا سنٹر یہاں سے کچھ فاصلے پر میریٹ ہوٹل میں تھا۔ پاکستانی میڈیا پرسنز میں سے جو اول الذکر جگہ پر پہنچ گئے، وہ وہیں چپک گئے کہ یہاں بیٹھ کر معزز مہمانوں کی قربت کا (نفسیاتی) احساس ہوتا تھا۔ جو یہاں آتے اور چند قدم کے فاصلے پر بند دروازوں اور اونچی دیواروں کو باری باری پار کرتے جا رہے تھے۔ ہر چند کہ ان سے ہماری ملاقات ٹی وی سکرینوں ہی کی مرہون منت تھی۔ 81 سالہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز چھڑی کے ساتھ کھڑے تھے اور ایک ایک مہمان سے مصافحہ کر رہے تھے۔ عرب روایات کے مطابق میزبان اپنے ہر مہمان کو ذاتی طور پر خوش آمدید کہتا ہے کہ اس کے بغیر مہمان نوازی کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے۔
    سعودی بادشاہت عجمی تکلفات میں پوری طرح ڈوب نہیں سکی، اپنے عوام سے بادشاہ کا براہِ راست تعلق ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ برسوں پہلے جب شاہ فیصل شہید نے ایران کا دورہ کیا تھا تو سعودی سفارت خانے میں شہنشاہ ایران کے لیے جوابی عشایئے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس میں تہران کے معزز شہری سینکڑوں کی تعداد میں مدعو تھے۔ شاہ فیصل دروازے پر کھڑے ہو کر مہمانوں سے مصافحہ کرنے لگے تو پروٹوکول کی مجبوری سے شہنشاہ ایران کو بھی ان کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ یوں ایرانی باشندوں کو اتنی بڑی تعداد میں پہلی بار اپنے بادشاہ سے مصافحے کا شرف حاصل ہوا کہ شہنشاہ ایران کے نزدیک عام شہریوں سے مصافحہ کرنا، ان کو خلعت فاخرہ عطا کرنے کے مترادف تھا۔

    وزیراعظم نواز شریف کانفرنس میں وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے ہمراہ پہنچے، کیمروں کی چکا چوند نے ان لمحات کو محفوظ کیا، اور اس کے بعد وہ ہجوم میں گم ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئے تو دوسرے مہمانوں کے ساتھ گھل مل گئے۔ وزیراعظم سے بھی ان کی گرما گرم ملاقات ہوئی، اور رسمی جملوں کے تبادلے میں ڈھل گئی ۔ کانفرنس دیر سے شروع ہوئی، لیکن اس کا اختتام وقتِ مقررہ پر کر دیا گیا۔ ہم لوگ ٹیلی ویژن پر ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے، اور اپنے وزیراعظم کی تقریر کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب یہ منظر دیکھنے کو نہ ملا، تو سب کے چہرے لٹک گئے۔ طیارے میں وزیراعظم کو اپنے رفقا کے ساتھ تقریر کی نوک پلک درست کرتے پایا تھا، یا یہ کہیے کہ اس کا اندازہ لگایا تھا۔ یہ تقریر کانفرنس کے منتظمین کو پیشگی بھجوا بھی دی گئی تھی۔ 

    لیکن کانفرنس کے خاتمے کی وجہ سے اسے سننے کا موقع نہ مل سکا۔ وزارتِ خارجہ یا سفارت خانے کا کوئی اہلکار بریف کرنے کے لیے موجود نہیں تھا، اس لیے اپنے اپنے خیالات کے گھوڑے دوڑائے جانے لگے۔ کانفرنس میں ایران کے بارے میں تندو تیز لہجہ اختیار کیا گیا تھا۔ شاہ سلمان نے کھلے الفاظ میں اس پر تنقید کی تھی، توقع تھی کہ جلالتہ الملک پاکستان کا ذکر کریں گے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کے ہزاروں افراد شہید ہو چکے، اور اس کی مسلح افواج کے سابق سربراہ کو سعودی سائے میں قائم ہونے والی اسلامی فورس کی کمان سونپی گئی ہے لیکن یہ آرزو پوری نہ ہوئی۔ ہماری وزارتِ خارجہ اگر بروقت کچھ حرکت کر لیتی تو شاید برکت پڑ جاتی۔ 

    ڈونلڈ ٹرمپ بھی میزبانِ اعلیٰ کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے پُر زور تھے، دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ممالک کا ذکر کرتے ہوئے انڈیا کا نام لے کر، اور پاکستان کو نظر انداز فرما کر ہمارے سینے پر چرکے لگا چکے تھے۔ اس ماحول میں فقہ جعفریہ کے مطابق غم و غصہ بے پایاں تھا، جبکہ فقہ حنفیہ حالات پر غیر جذباتی نظر رکھنے کی تلقین کر رہی تھی۔ یہ کانفرنس دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو مربوط کرنے کے لئے تھی، ایران اورشام یہاں مدعو نہیں تھے۔ مصر، انڈونیشیا اور ملایشیا کے سربراہ بھی ایران کو ہدفِ تنقید بنانے میں پیچھے نہیں رہے۔ ہم پاکستانیوں کو یہ اندازہ تو تھا کہ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات ناخوشگوار ہیں، لیکن اس اندازِ اظہار کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ ہم میں سے ایک، دو دِل پکڑ کر بیٹھے تھے، اور ایک، دو اپنا غصہ اپنے آپ پر، اپنی حکومت پر اور اپنے وزیراعظم پر نکال رہے تھے۔

    یہ بات درست ہے کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، اس سے ہمارے تعلقات کی ایک اپنی تاریخ ہے۔ دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے جو بھی شکایات رہی ہوں،انہوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ جھٹکا نہیں، لیکن عالمِ اسلام اور امریکہ بہادر کے اس مشترکہ اجتماع میں جہاں 55 مسلمان ملکوں کی نمائندگی تھی، ایران کے خلاف شدید جذبات کا اظہار خیال کیا جا رہا تھا۔ سعودی بادشاہ اور ان کے ہونہار فرزند محمد بن سلمان نے اپنی متحرک ڈپلومیسی کے ذریعے اپنی چھتری کے نیچے سب کو جمع کر لیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو وہ شیشے میں اتار چکے تھے، (یا ان کے شیشے میں تشریف فرما تھے) اپنے عوام کو مطمئن کر گزرے تھے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔

    ایک دنیا ان کے ساتھ ہے اور کوئی میلی آنکھ اٹھا کر ان کی طرف نہیں دیکھ سکتا۔ سعودی حکومت تاریخ میں پہلی بار ڈرائیونگ سیٹ پر تھی یا یہ کہہ لیجئے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا تہیہ کئے ہوئی تھی۔ یہ کانفرنس پاکستان کے لئے نہیں تھی، نہ وہ اس کے میزبانوں میں شامل تھا۔ وہ عالمِ اسلام کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے یہاں موجود تھا کہ اس کے نظریاتی تعلقات اور مفادات سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے وابستہ ہیں۔ نواز شریف دولہا تھے نہ شہ بالا، وہ ایک باراتی تھے اور اس پر غیر مطمئن نہیں تھے۔ تقریر کرنے والوں میں ان کا نمبر حروف تہجی (پی فار پاکستان) کے اعتبار سے درج تھا لیکن اگر ان کی تقریر ایران کے معاملے میں محتاط نہ ہوتی تو شاید اس کا نمبر پہلا یا دوسرا ہو جاتا۔

    عرب دُنیا میں چالیس لاکھ سے زائد پاکستانی برسرِ روزگار ہیں، دس سے پندرہ ارب ڈالر کما کر ہر سال پاکستان بھیجتے ہیں۔ مشکل کی ہر گھڑی میں سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا اور اسی کے تعاون نے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہمیں دیوالگی سے بچایا۔ عالمِ اسلام کے کسی دوسرے ملک نے پاکستان کے ساتھ وسعت قلبی کے وہ معاملات نہیں کئے جو سعودی عرب کے حصے میں آئے۔ پاکستان سعودی عرب کو ناراض نہیں کر سکتا۔ ہمیں ہر قیمت پر عالمِ اسلام کے ساتھ تیرنا ہے۔ یہ الگ بات کہ ہماری سیاست اور صحافت کے کئی حصے ہر تعلق کو نشانہ بنا گزرتے ہیں شاید اس ہی کے سبب متحدہ عرب امارات کے شہزادہ محمد سے (مبینہ طور پر) فاصلہ پیدا ہو چکا ہے، وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ گہرے رابطے میں ہیں، اگر وہ چاہتے تو ان کی تقریر میں پاکستان نظر انداز نہ ہوتا۔ 

    ایران اس وقت جہاں ہے، اس سے ہمدردی کا اظہار ہو سکتا ہے، وہ اگر اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے سفارت کاری پر آمادہ ہو ، شکایات کو دور کرنے کے لئے تیار ہو تو پاکستان اس کی معاونت کر سکتا ہے، لیکن اس کی بلا اپنے سر نہیں لے سکتا۔ اس کی تنہائی دور کرنے کے لئے اپنے آپ کو تنہا نہیں کر سکتا۔ ایران کو حالات کا ٹھنڈے دل اور گہری نظر سے جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان ایران سے نہ لڑنا چاہتا ہے، نہ عالمِ اسلام کو اس سے لڑنے دینا چاہتا ہے کہ اس کا نقصان صرف ایران کو نہیں ہو گا۔ سعودی عرب کو ناراض کئے بغیر ہمیں ہوا کا رخ بدلنا ہے، لیکن اس کے لئے ایران کا تعاون درکار ہو گا۔ یہ ایک نیا پل صراط ہے، اس پر چلنا پڑے گا کہ گڑھے میں گرنے سے تبھی بچ سکیں گے۔
     

    مجیب الرحمٰن شامی


    0 0

    سعودی عرب کی زیرسرپرستی اسلامی ممالک کا جو اتحاد بن رہا تھا، اس سے متعلق 14جنوری 2017 کو روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں ’’راحیل شریف اور عرب اتحاد ‘‘ کے زیرعنوان ’’جرگہ‘‘ میں عرض کیا تھا کہ : 

    ’’دوسری حقیقت یہ ہے کہ یہ اتحاد بظاہر سعودی بنا رہے ہیں لیکن اصل سرپرستی امریکہ کر رہا ہے ۔ حکومت پاکستان اور دیگر ممبر ممالک کے ساتھ سعودی عرب نے جو خط و کتابت کی ہے ‘ اس میں بھی امریکی کردار کا ذکر موجود ہے ۔‘‘
    لیکن ہمارے حکمران تسلسل کے ساتھ میرے اس دعوے کو جھٹلا کر کہتے رہے کہ اس اتحاد کے ساتھ امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ۔ اب جب اس کے تاسیسی اجلاس کا نام عرب اسلامک امریکہ سربراہی کانفرنس قرار پایا تو بلی تھیلی سے باہر آ گئی ۔ اسی طرح ہمیں بتایا جاتا رہا اور تسلسل کے ساتھ بتایا جاتا رہا کہ اس اتحاد اور اس کے تحت تشکیل پانے والی فوج ، جس کی سربراہی یا مشاورت کے لئے جنرل راحیل شریف سعودی عرب گئے ہیں، کا ایران سے کوئی سروکار نہیں لیکن کانفرنس کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس کی نہ صرف چار شقوں میں ایران کا ذکر موجود ہے بلکہ اتحادی ریزرو فوج جو چونتیس ہزار افراد پر مشتمل ہوگی ، کی ذمہ داری یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بوقت ضرورت شام اور عراق میں دہشت گردوں سے لڑے گی۔ گویا پاکستانی حکمرانوں کے دعوئوں کے برعکس ثابت ہو گیا کہ یہ اتحاد صرف اسلامی ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اس کا ہدف صرف داعش اور القاعدہ سے نہیں بلکہ ایران اور اس کے پراکسیز سے بھی نمٹنا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر ان حالات میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے ۔

    اپنی دانست کے مطابق اس اہم ترین سوال کا جواب دینے سے قبل یہاں میں اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستانی حکمرانوں اور اپنے آپ کو راحیل شریف اور دفاعی معاملات کے رازدان قرار دینے والے ریٹائرڈ فوجیوں کے جھوٹے دعوئوں کی وجہ سے میں اپنی معلومات کے بارے شش و پنج کا شکار ہو گیا ۔ ایک طرف میری وہ معلومات تھیں جن کی بنیاد پر جنوری میں مذکورہ کالم لکھا اور دوسری طرف پوری حکومت اور عسکری حلقوں کے دعوے تھے ۔ چنانچہ جب ہمیں یہ باور کرایا گیا کہ اس اتحاد سے امریکہ کا سروکار نہیں اور اس کا ایران سے کوئی سروکار نہیں تو میں نے بھی تحفظات کے ساتھ سہی لیکن بہر حال اس میں پاکستان کی شمولیت اور جنرل راحیل شریف کی ذمہ داری کے حق میں رائے دی ۔

    سوچا تھا کہ جنرل راحیل شریف کی شاید وہاں ایسی پوزیشن ہو گی کہ وہ پاکستانی مفادات کا تحفظ کریں گے اور اس اتحاد کو فرقہ واریت یا پھر ایران مخالف سرگرمیوں کی طرف جانے نہیں دیں گے لیکن ریاض میں تین روزہ قیام کے دوران مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کی قطعاً وہ پوزیشن نہیں جو بیان کی جا رہی تھی۔ جبکہ فیصلہ سازی یا پالیسی سازی میں ان کے کردار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر جس اتحاد کے مقاصد میں اعلانیہ طور پر ایران کا ذکر کیا گیا ہو، اسے کیوں کر اس طرف جانے سے روکا جا سکتا ہے ۔ وہاں تو پاکستان کے وزیراعظم کو تقریر کا موقع اس لئے نہیں دیا گیا کہ کہیں وہ امریکہ اور سعودی عرب کے بیان کردہ مقاصد اور اہداف میں اگر مگر نہ نکالیں تو اس ملک کے ایک ریٹائرڈ فوجی سربراہ جو وہاں سے تنخواہ لے رہے ہوں کو تو فیصلہ سازی میں شریک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ چنانچہ پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے کہ جنرل راحیل شریف کو فوراً واپس بلایا جائے اور پاکستان اتحاد میں اپنے کردار کو اس حد تک رکھے جس حد تک ترکی اور اومان جیسے ممالک رکھیں گے۔

    بلاشبہ سعودی عرب اور ایران دونوں پاکستان کے لئے اہم ترین ممالک ہیں ۔ ایک عرب دنیا کا قائد جبکہ دوسرا پڑوسی ہے ۔ دونوں کے ساتھ ہمیں بہترین تعلقا ت کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ساتھ ساتھ دونوں کے شرسے اپنے آپ کو بچانا بھی چاہئے ۔ ان کے باہمی تنازع میں ہمیں قطعاً فریق نہیں بننا چاہئے کیونکہ ان کے تنازع کا اسلام سے کوئی سروکار ہے اور نہ کسی اصول سے ۔ دونوں کا جھگڑا قومی اور تاریخی ہے ۔ ایک عربی زعم کا شکار ہے اور دوسرا پارسی زعم کا ۔قومیت اور مفادات کی اس جنگ میں دونوں مذہب اسلام کو بھی ہتھیار کے طور پر استعما ل کر رہے ہیں او رفقہ کو بھی ۔ دونوں کی اس جنگ کی وجہ سے آج شام بھی لہو لہو ہے اوریمن بھی ۔ ان کی اس جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے جبکہ نقصان عراقی، شامی اور یمنی مسلمانوں کے حصے میں آرہا ہے ۔

    ایران نے اسٹرٹیجک مقاصد کے لئے القاعدہ سے بھی تعلقات بنا لئے اور فقہی لحاظ سے شدید مخالف طالبان کے ساتھ بھی ۔ اسی طرح وہ عراق میں امریکہ کا بھی پارٹنر ہے۔ غرض وہ دنیا کی ہر طاقت اور قوت کو گلے لگانے کو تیار ہے لیکن عربوں کے ساتھ اس کی رقابت اتنی گہری ہے کہ ان کے آگے جھکنے کو تیار نہیں ۔ اسی طرح سعودی حکمران امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشامد میں بھی عار محسوس نہیں کرتے اور اسرائیل تک کو گلے لگالیں گے لیکن ایران کو کوئی رعایت دینے کے روادار نہیں ۔ اسلئے ہمیں ان کی اس لڑائی سے دور رہنا چاہئے ۔ ان کے ساتھ تعلقات سے ہمیں ہر طرح کی جذباتیت اور مذہب کو نکال دینا چاہئے ۔ جس کا ہمارے ساتھ جو رویہ ہو، ہمیں بھی اسی طرح کا رویہ اپنانا چاہئے ۔ جو ہمیں عزت دے ، ہمیں اسے عزت دینی چاہئے ۔ جو ہمیں جتنا فائدہ دے، ہمیں بھی جواب میں اس کو اتنا فائدہ دینا چاہئے ۔ 

    دونوں کو اب ہمیں یہ شٹ اپ کال دینی چاہئے کہ وہ اپنے جھگڑوں میں ہمارے ملک کو نہ گھسیٹیں کیونکہ پہلے سے ہمارے جھگڑے بہت ہیں ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ایسے لوگ بھی بستے ہیں کہ وہ پاکستان سے زیادہ سعودی عرب یا پھر ایران کے وفادار ہیں ۔ کچھ فقہ کی بنیاد پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں اور کچھ پیسے کے لئے ۔ ان سب کو بھی اب شٹ اپ کال دینی چاہئے ۔ اگر کسی کو پاکستان کے مفاد سے زیادہ سعودی عرب یا ایران کا مفاد عزیز ہو تو اسے ملک بدر کر کے وہاں بھیج دیا جائے ۔ مذکورہ دونوں ممالک پر بھی واضح کر دیا جائے کہ وہ مزید ہمارے ملک میں اپنی پراکیسز کا کاروبار بند کر دیں اور جو بھی معاملہ کرنا ہو، وہ پاکستانی حکومت اور ریاست سے کریں۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان میں بعض مذہبی شخصیات اور کئی جماعتوں کو دونوں طرف سے پیسہ ملتا ہے ۔ ایک مذہبی کونسل میں ایک کا مبینہ پیسہ زور دکھا رہا تھا تو دوسری مذہبی کونسل میں دوسرے کی مبینہ سرمایہ کاری زوروں پر ہے ۔ اب تو معاملہ یہاں تک آ گیا ہے کہ بعض مذہبی لیڈر ایک سے اور تو بعض دوسرے ملک سے کھا رہے ہیں۔

    سلسلہ اب کئی جرنیلوں تک دراز ہو گیا ہے اور جنرل پرویز مشرف نے تو کھل کر اعتراف کرلیا ہے کہ وہ دبئی اور لندن میں سعودی پیسے سے محلات خرید چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان دونوں ممالک سے متعلق حساسیت بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ جو بھی معاملہ ہو دونوں کی پراکسیز متحرک ہو جاتی ہیں ۔ نہ جانے ہم پاکستانی کیوں ان دو ممالک کے بارے میں ذہنی مرعوبیت کے شکار ہیں تیل کی دولت ان کے پاس زیادہ ہو گی اور قومی یا تاریخی زعم کے وہ بلاشبہ شکار ہیں لیکن الحمدللہ انسانی اور مذہبی آزادیوں ، ذہنی و تخلیقی یا پھر سماجی حوالوں سے ہم ان سے سو سال آگے ہیں ۔ بس ہمیں پاکستانی بننے کی ضرورت ہے اور مذہبی یا پھر فقہی حوالوں سے دوسروں سے مرعوب ہونے کی بجائے صرف اور صرف قومی مفاد کی بنیاد پر سوچنا چاہئے ۔ یہ نیشن اسٹیٹس کا دور ہے ۔ مذہب اور فقہ خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر تو ضروراستعمال کئے جاتے ہیں لیکن عملاً کوئی ملک ان بنیادوں پر تعلق نہیں رکھتا ۔

    ہماری خارجہ پالیسی بھی اب بس یہ ہونی چاہئے کہ جو عزت دے ، اسے عزت دو۔ جو پاکستان کے مفاد کا خیال رکھے ، ہم اس کے مفاد کا خیال رکھیں ۔ کسی کو کسی اور ملک کی دوستی اور دشمنی پاکستان سے زیادہ پیاری ہے تو وہ خوشی سے وہاں چلاجائے لیکن فقہی، مذہبی یا مالی بنیادوں پر دوسروں کی دشمنیوں کو پاکستان میں نہ لائے ۔ سعودی عرب اگر دوستی کے لئے یہ شرط رکھے کہ ہم اس کی خاطر ایران کو دشمن بنالیں تو ہم بھی یہ لکیر کھینچ دیں کہ وہ ہماری خاطر ہندوستان کی دشمنی مول لے ۔ یقینا وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر ایران یہ مطالبہ کرے کہ ہم سعودی عرب سے دوستی ختم کردیں تو ہم بھی مطالبہ کریں کہ وہ ہندوستان کے ساتھ دوستی ختم کر دے اور یقینا وہ بھی ایسا نہیں کرے گا۔ جب ان میں سے کوئی ہماری خاطر دوست اور دشمن بدلنے کو تیار نہیں تو ہم کیوں ایسا کریں۔

    سلیم صافی
     


    0 0

    گردوارہ پنجہ صاحب سکھوں کا سب سے بڑا گردوارہ ہے۔ اس کا گھیرائو 396 گز ہے۔ اس کے چاروں طرف دو منزلہ کمرے ہیں۔ کئی کمرے زیرزمین بھی ہیں باہر اطراف میں تین طرف دکانیں بنی ہوئی ہیں گردوارے کی ملکیت میں صرف دکانیں ہی نہیں بلکہ حسن ابدال میں کئی مکان‘ راولپنڈی‘ اٹک اور حضرو میں کافی جائیداد گردوارے کے نام ہے۔ گردوارہ پنجہ صاحب‘ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جرنیل سردار ہری سنگھ نلوہ نے بنوایا تھا۔ یہ وہی ہری سنگھ نلوہ ہے جس کے نام سے ہری پور منسوب ہے۔

    پنجہ صاحب کی تعمیر نو کا کام 1920ء میں شروع ہوا جو کہ 1930ء تک وقفے وقفے سے جاری رہا پنجے کی چھتری 1932ء میں تعمیر ہوئی۔ پنجہ کے معنی پنجابی زبان میں ہاتھ کا پنجہ اور صاحب کے معنی عربی میں مالک کے ہوتے ہیں. یہاں چشمہ کے پانی کو سکھ انتہائی مقدس خیال کرتے ہیں۔ بیساکھی کے موقع پر اس چشمہ کے پانی میں غسل کرتے ہیں اور پھر بابا گرونانک کے نقش شدہ پنجہ پر اپنا پنجہ رکھتے ہیں سکھ عقائد و نظریات کے مطابق ایسا کرنے سے ان کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتے ہیں۔ پنجہ صاحب کی زیارت سکھوں کے لیے گناہ دھو دیتی ہے۔ پنجہ صاحب پر دیا جانے والا لنگر سکھوں کے لیے متبرک تو ہے ہی لیکن وہ اسے صحت کے لیے بھی بڑا مفید قرار دیتے ہیں۔ لنگر میں خالص دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے سکھ دیسی گھی کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس کے علاوہ صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی بڑا خیال رکھا جاتا ہے۔

    شیخ نوید اسلم
      


    0 0
  • 06/01/17--01:28: Nehal Hashmi

  • Nehal Hashmi is a Pakistani politician who served as member of the Senate of Pakistan.

    Early life 

    He is a lawyer by profession.

    Political career 

    He was elected to the Senate of Pakistan in Pakistani Senate election, 2015 on PML-N ticket, from March 2015 to March 2021 . He served as the General Secretary of PML-N chapter in Sindh and as the president of PML-N Karachi division. He has served as the advisor to Prime Minister of Pakistan on law, justice and human rights. In May 2017, his membership in PML-N was kick-out and he was asked to resign from the membership of Senate by Prime Minister G Nawaz Sharif for violating the party discipline.  After which he resigned from the membership of Senate.

    Committee Member

    Committee Member:Oversight Committee
    The Right to Information Bill, 2016
    Information Broadcasting and National Heritage
    Parliamentary Affairs
    Ports and Shipping
    Law and Justice
    Textile Industry
    The Project of China-Pak Economic Corridor


    0 0

    وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں پہلا جھوٹ یا غیر مثبت یقین یہ ہے کہ آپ بہت زیادہ منظم، سرد مزاج، رکھ رکھاؤ رکھنے والے اور غیر جذباتی ہیں۔ ترقی کے راستے کی یہ پہلی رکاوٹ ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وقت کو ترتیب دینے سے وہ اپنی آزادی اور بے ساختگی کو کھو دیں گے اور زمانے کے ساتھ نہیں چل پائیں گے۔ اورکچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اس طرح بہت سخت اور غیر لچک دار ہو جائیں گے۔ یہ اعتراضات کسی لحاظ سے سچ ثابت نہیں ہوتے۔ کئی لوگوں محض اپنے اس جھوٹ کو چھپانے کے لیے یہ سب کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو ان اصولوں کا پابند نہیں کر پاتے۔ 

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیر منظم لوگ آزاد نہیں ہیں۔ کیونکہ جو لوگ اپنے خیالات اور افعال پر اختیار نہیں رکھ سکتے وہ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ بے عمل اور خود پر اختیار نہ ہونے کے باعث وہ ایسی جھوٹی افواہیں پھیلاتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وقت کو ترتیب دینے والا شخص زیادہ منظم ہوتا ہے اور اسے زندگی میں زیادہ مواقع، آزادی، آرام و سکون اور سچی خوشی ملتی ہے اور وہ خود پر زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ خود کو منظم کرنے کی ابتداء آپ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر، حالات و واقعات کے نتائج کے بارے میں منصوبہ بندی کر کے اور خود کو مکمل طور پر تیار کر کے کر سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے حالات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لیں تو آپ مکمل طور پر آزاد ہو جاتے ہیں۔ 

    دوسری رکاوٹ : وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں دوسری رکاوٹ ذہن کی منفی پروگرامنگ ہے جو آپ کو اپنے والدین اور بااثر لوگوں کی صحبت میں ملتی ہے۔ اگر آپ کے والدین یا دوسرے لوگ آپ کو کہیں کہ آپ بہت زیادہ سست، دیر کرنے والے یا جو کام شروع کیا اُسے دیر سے ختم کرنے والے ہیں تو ممکن ہے کہ آپ بڑے ہو کر بھی ایسے ہی ہوں کیونکہ آپ کا لاشعور ان ابتدائی احکامات کی اتباع کرے گا۔ ایسے رویے کے حامل بہت سے لوگ معذرت خواہانہ انداز میں کہتے ہیں ’ میں ایسا ہی ہوں ‘، ’ میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی سست اور غیر منظم یا بااختیار اور قابل پیدا نہیں ہوتا۔ وقت کو ترتیب دینے اور ذاتی قابلیت حاصل کرنے کا ہنر کچھ اصولوں پر بار بار عمل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر ہم میں بُرا سیکھنے کی عادات موجود ہیں تو ہم انہیں اچھا سیکھنے کی عادات میں بدل سکتے ہیں۔ 

    تیسری رکاوٹ ، اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان: وقت کو ترتیب دینے کے بارے میں تیسری بڑی ذہنی رکاوٹ اپنی ذات پر اعتماد کا فقدان ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ ان میں وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیت کا فقدان ہے اور اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ یہ ایسی کمی ہے جو ان کو وراثت میں ملی ہے۔ لیکن وقت کو ناقص ترتیب دینے یا بہتر انداز میں ترتیب دینے کے کوئی بھی جین اور کروموسوم نہیں ہیں۔ کسی بھی شخص میں خود کو منظم کرنے کی وراثتی کمی نہیں ہوتی۔ یہاں ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ آپ کا ارادہ، آپ کی تحریک کا پیمانہ اور خواہش وہ عنصر ہیں جو آپ سے دنیا کا کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔

    تصور کریں کوئی شخص آپ کو اگلے تیس دن میں انتہائی بہتر ترتیب دینے پر آپ کو دس لاکھ روپے دے گا۔ تصور کریں آپ کی نگرانی کے لیے ہر جگہ کیمرے لگا دیئے گئے ہیں۔ یقینا ان تیس دنوں میں آپ اپنے وقت اور صلاحیتوں کو بھر پور انداز میں استعمال کریں گے اور آپ کی دن بھر کی ترجیحات اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر بہتر نتائج دینا ہے۔ ہر روز آپ کو احساس ہو گا کہ آپ کی بہتر اندازمیں استعمال کی گئی صلاحیتیں آپ کو دس لاکھ روپے کا حقدار ٹھہرا  دیں گی۔ آپ ان تیس دنوں میں کتنے متحرک ہوں گے اور کس بہتر انداز سے اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ دس لاکھ روپے حاصل کر نے کی خاطر دنیا کے متحرک ترین انسان بن جائیں اور اپنی صلاحیتوں کو استعمال میں لا کر انعام جیت جائیں گے۔ آپ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ ایک مہینے کی جہد مسلسل، آپ کی وقت کو ترتیب دینے کی صلاحیتیں اور دوسری کئی صلاحیتیں آپ کی ذات کا حصہ بن جائیں گی اور آپ ساری زندگی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر کے اس میں بہتری لاتے جائیں گے۔  


    0 0

    دو مئی 2011 کو براک اوباما نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے اسامہ بن لادن کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کر کے ہلاک کر دیا ہے۔ اسامہ ایبٹ آباد میں اپنی رہائش گاہ پر مارے گئے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی شہ سرخیوں میں تھا اور وجہ ایک بار پھر اچھی نہیں تھی۔ یہ وہ پاکستان تھا جس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے تھے، روپیہ قدر کھو رہا تھا اور یہاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی کمی آ رہی تھی۔ یوں کہیں کہ پاکستان ممکنہ طور پر دنیا کے ایسے ممالک میں شامل ہو چکا تھا کہ جہاں کوئی غیرملکی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہو۔ لیکن سویڈین سے تعلق رکھنے والے میٹس مارٹنسن کا خیال کچھ اور ہی تھا۔ اسامہ کی ہلاکت کے صرف چھ ماہ بعد اکتوبر 2011 میں انھوں نے پاکستان کے پہلے غیر ملکی ایکوئٹی فنڈ کا اجرا کیا۔

    ابتدا میں انھیں اس منصوبے میں پیسہ لگانے والا کوئی سرمایہ کار نہ ملا اور انھوں نے اپنے اور اپنے والدین کے دس لاکھ ڈالر اس فنڈ میں لگا دیے۔ آج اس فنڈ کی قدر دس کروڑ ڈالر ہے۔ سٹاک ہوم سے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت اسے بیچنا آسان نہیں تھا۔ خاص طور پر جب پاکستان نے نیٹو کی رسد بند کی تو بازارِ حصص کی قدر میں دس فیصد کی کمی دیکھی گئی۔‘ لیکن مارٹنسن نے اپنا سرمایہ نہیں نکالا اور سنہ 2012 میں حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے جب حکومت نے بیرونِ ملک سے رقم واپس لانے والوں کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سکیم شروع کی۔

    وہ یاد کرتے ہیں کہ ’بازارِ حصص میں تیزی آئی اور ہم نے تین ماہ میں پانچ کروڑ ڈالر جمع کر لیے۔‘ یہ کئی دہائیوں میں پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں آنے والی سرمایہ کاری ملک سے باہر جانے والی رقم سے بڑھ گئی تھی۔ اب تقریباً نصف دہائی بعد میٹس مارٹنسن نے ثابت کیا ہے کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔ اس لیے کہ پاکستان یکم جون 2017 کو ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں شامل ہوا ہے جو اس چیز کی نشانی ہے کہ حالات بدل رہے ہیں اور ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹ انڈیکس میں چین، انڈیا اور برازیل سمیت 23 ایسے ممالک شامل ہیں جن کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

    پاکستان کے مرکزی انڈیکس کے ایس ای 100 نے مسلسل اندازوں سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ نے کراچی سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ جنوری میں 100 ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی تو اب اس کی قدر 164 ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ اس وقت اگر آپ یہی رقم ایم ایس سی آئی میں لگاتے تو اس کی قدر 137 ڈالر ہی ہوتی۔ یہ وہ کامیابی ہے جس نے پاکستان کی ایم ایس سی آئی ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس میں شمولیت کی راہ ہموار کی ہے۔ کسی بھی ملک کا ایمرجنگ مارکیٹس انڈیکس کا حصہ ہونا سرمایہ کاروں کو اس کی بڑھوتری کے امکانات اور اس کے اداروں کی شفافیت کے بارے میں یقین دہانی کرواتا ہے۔
    پاکستان ماضی میں اس انڈیکس کا حصہ ہوا کرتا تھا لیکن پھر اس کے درجے میں کمی کر دی گئی کیونکہ 2008 میں سٹاک ایکسچینج حصص کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی کے بعد چار ماہ بند رہی تھی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نہیں نکال سکے تھے۔

    کراچی سٹاک ایکسچینج کے مینیجنگ ڈائریکٹر ندیم نقوی کا کہنا ہےکہ ’ہمیں 2008 میں باہر نکال دیا گیا تھا اور وجہ تھی وہ اقدامات جو پاکستان نے ملک سے غیرملکی سرمایہ کاری کے اخراج کو روکنے کے لیے کیے تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بڑا دھچکا لگا تھا۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے اس انڈیکس میں دوبارہ شمولیت کے لیے جہاں اصلاحات کیں وہیں لابیئنگ کا سہارا بھی لیا۔ پارلیمان نے سنہ 2012 میں پاکستان سٹاک ایکسچینجز ایکٹ منظور کیا جس سے کارپوریٹ گورننس بہتر ہوئی اور اصلاحات کی گئی تاکہ 2008 میں جو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔‘

    چینی اثر
    گذشتہ چند برس میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس کی اہم وجہ ملک کی مڈل کلاس کی ترقی ہے جو کسی حد تک ملک میں چینی سرمایہ کاری میں اضافے کا نتیجہ ہے۔ چین سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ملک میں سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے اور بندرگاہیں بن رہی ہیں۔ ندیم نقوی کہتے ہیں کہ ’یہ تو آغاز ہے۔ آپ آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال میں اس کا اصل اثر دیکھیں گے جس سے شرحِ ترقی بھی بڑھے گی۔‘ چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی سرمایہ لگایا ہے اور وہ اب اس کے 40 فیصد کے مالک ہیں۔

    تاہم اب بھی کچھ خدشات ہیں جو غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے قبل ایک بار سوچنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ ٹیمپلٹن ایمرجنگ مارکیٹس گروپ کے ایگزیکیٹو چیئرمین مارک موبیئیس گذشتہ 15 برس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ پاکستان کی انا کے لیے اچھا ہے۔ انھیں یہ احساس اچھا لگتا ہے کہ وہ اب فرنٹیئر مارکیٹ انڈیکس کا حصہ نہیں۔ اس سے آگے بڑھ چکے ہیں۔ تاہم اب بھی حکومتوں کی تبدیلی اور انڈیا سے کشیدگی جیسے حقیقی مسائل موجود ہیں۔‘ مشکلات کے باوجود کے ایس ای کا بلندیوں کی جانب سفر جاری ہے اور رواں برس وہ تمام علاقائی انڈیسز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ایشیا کے بہترین انڈیسز میں سے ایک رہا ہے۔

    میٹس مارٹنسن کا کہنا ہے کہ 'عام خیال یہی ہے کہ پاکستان میں گذشتہ بیس سال تباہ کن رہے لیکن یہ دنیا کی بہترین ایکوئٹی مارکیٹس میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیشہ سے سرمایہ کاری کے لیے سودمند جگہ تھی بس بات بہادری دکھانے اور خطرہ مول لینے کی تھی۔'

    کرشمہ وسوانی
    بی بی سی نیوز
     


    0 0

    بات سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی اپیل سے شروع ہوئی، پھر اس نے رفتار پکڑی تو ملک بھر کے قومی ٹی وی چینلوں تک آئی اور اب ملک کے تمام بڑے شہروں کے گلی کوچوں اور بازاروں تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعے کے روز سے تین دن کے لیے پھل فروشوں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ فیس بک سے حرکت پکڑنے والی اس ’فروٹ بائیکاٹ‘ مہم میں حصہ لینے والے لوگ رمضان کے مہینے میں پھلوں کی بڑھتی قیمتوں کی خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
    لاہور میں گرمی کی لہر عروج پر ہے اور اسے کے ساتھ پھلوں سے بنے مشروبات کی مانگ بھی۔ رمضان میں گرمی کی شدت کے باعث پھلوں کی خرید و فروخت کا عمل عموماٌ نمازِ عصر سے ذرا قبل شروع ہوتا ہے مگر ’فروٹ بائیکاٹ‘ کے دوسرے روز پھل فروشوں کے پاس زیادہ بھیڑ نظر نہیں آ رہی۔

    شکیل احمد لاہور کے علاقے مغلپورہ کے ایک بازار میں آم بیچتے ہیں۔ بائیکاٹ کے آغاز سے لے کر دو دن سے ان کے پاس گاہک بہت کم آ رہے ہیں حالانکہ اب وہ آم ایک سو تیس روپے کلو بیچ رہے ہیں۔ رمضان کے آغاز کے دو دنوں میں یہی آم وہ دو سو روپے تک بھی بیچ چکے ہیں۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ عصر کا وقت خرید و فروخت کے عروج کا وقت ہوتا ہے مگر وہ فارغ بیٹھے ہیں۔ ’آپ یہ دیکھ لیں کہ بائیکاٹ سے قبل میں ایک دن میں بیس ہزار روپے کا مال بیچ لیتا تھا مگر کل صرف آٹھ ہزار کمائی ہوئی اور آج بھی کام بہت ٹھنڈا ہے۔‘

    تو کیا یہ کمی بائیکاٹ کی وجہ سے آئی ہے؟ شکیل احمد کے خیال میں ایسا ہی ہے۔ ’فرق تو پڑا ہے مگر اللہ مالک ہے۔ میں اسی لیے زیادہ مال لے کر نہیں آیا ورنہ خراب ہو جاتا ہے۔‘ اسی بازار میں محمد ارشد کی پھلوں کی ریڑھی ہے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ کاروبار اچھا نہیں ہے۔ ’بہت کم گاہک ہیں ان دنوں میں کیونکہ ریٹ بہت زیادہ تھا۔‘ تاہم علی رضا خربوزہ بیچتے ہیں اور ان کا کہنا ہے ان کو بائیکاٹ سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ ’میری خربوزے کی تین ریڑھیاں لگتی ہیں اور ہر روز شام کو افطاری کے وقت تک اللہ کا شکر ہے چالیس ہزار تک کا مال بیچ کر گھر چلے جاتے ہیں۔‘ تاہم اس وقت سنیچر کے روز دن کے چار بج چکے تھے اور ان کی ریڑھی پر کوئی گاہک دکھائی نہیں دے رہا تھا جبکہ ریڑھی خربوزوں سے لدی تھی۔

    ایک اور صارف توقیر آم خریدنے آئے ہیں مگر خریدا نہیں کیونکہ مہنگا ہے۔ ’یہ ایک سو تیس کا دے رہے ہیں اور یہ ریٹ زیادہ ہے۔‘ تو کیا وہ نہیں خریدیں گے؟ ’خریدوں کا تو سہی مگر کہیں اور سے خرید لوں گا۔‘ ان کو ملک بھر میں جاری سوشل میڈیا پر کیے جانے والے بائیکاٹ کا علم نہیں اور اگر ہوتا بھی تو ان کا کہنا ہے وہ پھر بھی پھل خریدتے، ’کیونکہ ہمیں تو کھانا ہے۔ ہم تھوڑی بارگیننگ کر لیں گے، ایک دو جگہ گھوم لیں گے، پر اب پھل کھانا تو نہیں چھوڑ سکتے۔‘

    نعیم عباس بھی اپنے گھر والوں کے لیے پھل خرید رہے تھے اور انھیں بھی بائیکاٹ کے بارے میں علم نہیں ہے۔ تاہم ان کی بھی شکایت ہے کہ رمضان کے آتے ہی فروٹ مہنگے ہو جاتے ہیں۔ ’تو مہنگا بھی خریدتے ہیں کیونکہ کیا کریں اب کھانا تو ہے نا۔‘ تو سوال یہ ہے کہ کیا اگر تین روز کے بائیکاٹ کا مقصد پھل فروشوں کو سبق سکھانا تھا تو اس میں کامیابی ہو گی؟ کیا انھوں نے سبق سیکھا ہے یا تین دن کی بعد پھر سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں؟ سعید احمد جو خود آم بیچتے ہیں کہتے ہیں کہ صرف پھل فروشوں کا بائیکاٹ کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ اکیلے قیمتوں کا تعین نہیں کرتے۔ ان کا دعوٰی ہے کہ منڈی جہاں سے وہ مال خریدتے ہیں وہاں سے ان کو مہنگا بیچا جاتا ہے۔

    ’ہمارا منافع تو محض دس روپے تک ہوتا ہے۔ اس میں ہم نے سارا دن یہاں دہاڑی بھی کرنی ہے، شاپنگ بیگ کی قیمت بھی نکالنی ہے اور پھر خراب ہونے والے فروٹ کا نقصان بھی برداشت کرنا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ مانتے ہیں کہ قیمتیں رمضان میں خصوصاٌ زیادہ ہو جاتی ہیں اور وہ خود بائیکاٹ کے حق میں ہیں مگر پھر بائیکاٹ منڈی میں بیٹھے ان آڑھتیوں کا بھی کیا جانا چاہیے جو مال مہنگا کرتے ہیں۔ ’جب بازار میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو آڑھتی مال روک لیتا ہے اور پھر جب دوبارہ اوپر جاتی ہیں تو مال دوبارہ لے آتا ہے اس طرح قیمتیں تو پھر بھی زیادہ ہی رہیں گیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ اگر آڑھتیوں کا بائیکاٹ کیا جائے تو وہ بھی ساتھ دینے کو تیار ہیں مگر ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ مال اس کم از کم قیمت تک جس پر وہ منڈی سے خریدتے ہیں۔ انھوں نے آم بائیکاٹ شروع ہونے سے ایک دو دن پہلے کا خریدا ہوا ہے جو اب تیار ہو چکا ہے اور ان کے پاس اسے بیچنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں مگر وہ پھر بھی ایک سو تیس روپے کلو سے کم پر بیچنے کو تیار نہیں۔ ’ہم بھی غریب لوگ ہیں، اس سے کم کی تو ہماری خرید بھی نہیں۔‘ اور محمد طیب ان سے ایک سو تیس روپے کلو آم خرید چکے ہیں۔ ان کے خیال میں بائیکاٹ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    ’یہ تو حکومت کا کام ہے کہ دیکھے کہ منڈی میں پھل کتنے میں بِک رہا ہے اور پھر باہر بازار میں کتنے کا بِکتا ہے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ قیمتیں یکساں رہیں۔‘ سیعد احمد کے مطابق اب منڈی میں مال نہیں ہے کیونکہ آڑھتی بائیکاٹ ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور جیسے ہی وہ ختم ہو گا، پھل شاید پھر اسی قیمت میں بکنا شروع ہو جائے گا۔

    عمر دراز ننگیانہ
    بی بی سی اردو، لاہور
     


    0 0
  • 06/05/17--01:29: کوس مینار
  • جہانگیر بادشاہ نے 1619ء میں آگرہ اور لاہور کے درمیان ہرکوس پر ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہر تین کوس کے فاصلے پر مسافروں کی سہولت کے لیے کنوئیں بھی کھدوائے۔ انہیں کوس مینار بھی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مینار لاہور سے واہگہ جاتے ہوئے دائیں سمت باٹا پور سے پہلے کھیتوں میں موجود ہیں۔ یہ عمودی اور چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔ ایک مینار جو کہ جسامت میں ان میناروں سے بہت بڑا ہے ریلوے شیڈ کے پاس سے ایک سڑک سیدھی ریلوے پھاٹک سے گزرتی ہوئی سیدھی گڑھی شاہو کی طرف
    جاتی ہے۔ 

    یہ مینار ریلوے لائن کے پاس موجود ہے۔ اگر بڑے کوس مینار کو دوسرے کوس مینار سے ملایا جائے تو مقبرہ علی مردان خان، گلابی باغ، باغ مہابت خان، بیگم پورہ، انگوری باغ اور شالامار باغ سب ایک طرف رہ جاتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کوس مینار جسامت میں بہت بڑا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا چوک ہو گا اوریہاں سے سڑک مڑ کر ان سے عمارات کے درمیان میں سے گزری ہو گی۔

    شیخ نوید اسلم




    0 0

    قلعہ نندنہ دسویں صدی عیسوی سے متعلقہ ہے جس کا رقبہ 45 کنال اور 16 مرلے ہے۔ یہ قلعہ چوا سیدن شاہ سے 12 میل مشرق کی طرف واقع ہے نندنہ پاس اصل میں چوا سیدن سے ہی شروع ہو جاتا ہے ۔ یہاں سے ایک تنگ پتھریلا راستہ قلعہ نندنہ کے آثار تک لے جاتا ہے جو 1500 فٹ تک بلند ہے۔ ابو ریحان البیرونی نے یہیں سے زمیں کا قطر ناپا تھا جو موجودہ قطر سے 43 فٹ کے فرق کے ساتھ تھا سر اورل کے مطابق یہ راستہ سکندر کی ا فواج نے بھی دریائے جہلم کو پار کرنے کے لئے اختیار کیا جو اس نے جلال پور (بوکے قالیہ ) سے پار کیا اور یہ علاقہ بھیم پال اور محمود غزنوی کی فوجوںء میں میدان جنگ بنا ۔ اس طرح محمود غزنوی کا قبضہ قلعہ نند نہ پر ہو گیا یہاں اس نے ساروغ کو کوتوال مقررکیا۔ نندنہ قلعہ کا ذکر تاریخ میں991 عیسوی میں ملتا ہے جب لاہور کے راجہ نے مشرق کی طرف سے حملہ کی کو شش کی13 ویں صدی کے شروع میں اس پر قمرالدین کرمانی کا قبضہ تھا جس سے جلا ل الدین خوارزمی نے قلعہ کا قبضہ لیا ۔

    جلال الدین خوارزمی کو چنگیز خان نے 1012ء میں دریائے سندھ کے کنارے شکست دی تو اسی کے امیر ترقی کے زیر تسلط یہ قلعہ آیا ۔ التمش کی فتوحات کے زمرہ میں بھی نندنہ قلعہ کا نام آتا ہے۔ التمش کے بیٹے محمود نے 1247ء میں کوہ نمک کے راجہ کو سزا دینے کے لیے حملہ کیا جو چنگیز خان کی فوج کا ہمرکاب تھا اس کے بعد اکبر اور جہانگیر کے زما نہ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے اس دور میں یہاں مغلوں کا ایک باغ بھی تھا ۔ اس قلعے کی مسجد میں نماز کی جگہ اور صحن موجود ہے اس کے آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پرانے آثار زیر تعمیر مسجد ہے یہاں پر ایک کتبے کا کچھ حصہ بھی ہے جو بہت مشکل سے پڑھا جاتا ہے اس کے علاوہ تین آثار بدھ سٹوپا کے بھی ہیں جو ساتویں یا آٹھویں صدی کے ہیں اور مسلمانوں کی قبریں مغربی ڈھلوان پرنمایاں ہیں جن پر کوئی کتبہ نہیں ہے ۔ 


    0 0

     ہر سال نومبر میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد دیوسائی کا زمینی رابطہ اگلے 7 ماہ کے لیے منقطع ہو جاتا ہے ، نیلگوں پانی کی جھیلوں ، ندیوں ، ہزاروں اقسام کے پھولوں اور تاحد نظر برفیلے ٹیلوں سے مزین دیوسائی کے مسحور کن نظاروں سے آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لیے ملک کے گرم ترین علاقوں سے گرمی اور بجلی کے لوڈشیڈنگ کے ستائے ہزاروں سیاح ہر سال سکردو پہنچ جاتے ہیں۔







    0 0

    آج کل بچے بڑے، سبھی اپنا زیادہ تر وقت اسمارٹ فون یا موبائل فون کی اسکرین پر نظریں جما کر گزارنے کے عادی ہو چکے۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ عادت گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے؟ نیویارک اسپائن سرجری اینڈ ری ہیبلیٹیشن میڈیسین کی ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ اسکرین کو دیکھنے کے لیے سر آگے جھکائیں، چاہے وہ معمولی ہی سا ہو، تو اس سے ہماری گردن اور ریڑھ کی ہڈی پر 60 پونڈز کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ کیا آپ اپنی گردن پر اتنا وزن اٹھا سکتے ہیں جو ایک آٹھ سالہ بچے جتنا ہو ؟ اور کیا آپ یہ کام روزانہ دو گھنٹے سے زائد کر سکتے ہیں؟ پاکستان میں موبائل فون کے استعمال کا دورانیہ واضح نہیں مگر امریکا میں اوسطاً ہر شخص روزانہ دو گھنٹے بیالیس منٹ اپنے موبائل فون کو استعمال کرتے ہوئے گزارتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی پوزیشن پر کسی بالغ شخص کے سر کا وزن 10 سے 12 پونڈ ہوتا ہے۔ تاہم جب اسے آگے جھکایا جائے تو اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ نتیجے میں گردن کے ساتھ ریڑھ کی ہڈی پر بھی دباؤ بڑھتا ہے اور کمر و گردن میں درد کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ چناں چہ امریکا میں ریڑھ کی ہڈی سے متعلق امراض کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران دوگنا اضافہ ہو چکا۔ واضح رہے ، ایک دوسری تحقیق میں انتباہ کیا گیا تھا کہ موبائل ڈیوائس پر بہت زیادہ وقت گزارنا درمیانی عمر میں بینائی کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق کے مطابق موبائل کی اسکرین کمپیوٹر کے مقابلے میں چھوٹی ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے آنکھوں کو سکیڑنا پڑتا ہے جس سے بینائی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

    جواد نعیم
     


    0 0

    پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر سے تعلق رکھنے والے گل محمد کو اس بات کا کوئی علم نہیں کہ ایک درخت کاٹنے سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔ انہیں اگر فکر ہے تو اپنے پیٹ کی کیونکہ پہاڑوں میں رہتے ہوئے ان کے پاس نہ تو کوئی روزگار ہے اور نہ ایندھن کا کوئی دوسرا ذریعہ جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ لہٰذا ان کا یہ معمول ہے کہ ہر ہفتہ یا دس دنوں میں وہ اپنے گزر بسر کے لیے گاؤں کے پہاڑوں میں جا کر ایک درخت کاٹ کر گھر لاتا ہے جسے وہ ایندھن کے طورپر استعمال کرتا ہے یا پھر اسی درخت کو فروخت کر دیتا ہے۔

    گل محمد کا کہنا ہے کہ ان کا گاؤں پہاڑوں کے درمیان میں واقع ہے جہاں اکثریتی افراد کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'یہاں کوئی بجلی نہیں، گیس نہیں اور نہ دیگر زندگی کے بنیادی سہولیات میسر ہیں لہٰذا گھر کا چولہا چلانے اور پیٹ پالنے کےلیے یہاں کے لوگ درخت نہیں کاٹیں گے تو اور کیا کریں گے۔' گل محمد کے مطابق 'یہاں شہر سے لوگ آتے ہیں جو ہم سے نو سو یا ہزار روپے میں ایک ایک درخت خریدتے ہیں اور پھر وہ اپنے ساتھ گاڑیوں میں لے کر جاتے ہیں۔' پاکستان میں ماہرین کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں جنگلات کی غیر قانونی کٹائی عروج پر رہی جس سے مجموعی طورپر ملک بھر میں جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ 

    پاکستان کا شمار اب دنیا کے ان ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں جنگلات پر تحقیق کرنے والے سرکاری تدریسی ادارے پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کےمطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ہکٹر رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر تک رہ گیا۔ ادارے کے مطابق 2002 میں جنگلات کا رقبہ بڑھ کر 45 لاکھ ہکٹر تک پہنچ گیا جس کے تحت مجموعی طورپر ملک میں پانچ اعشاریہ ایک فیصد رقبہ درختوں پر مشتمل ہے۔ تاہم جنگلات پر کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او اور دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔ ان کے مطابق پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے مسلسل ہر سال جنگلات کا رقبہ کم ہوتا جا رہا ہے جس کے تحت یہ رقبہ تین فیصد تک رہ گیا ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر جنگلات گلگت بلتستان، خیبر پِختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں پائے جاتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں 70 فیصد جنگلات صرف ضلع دیامر میں پائے جاتے ہیں۔ اس ضلع کی سرحدیں خیبر پختونخوا سے ملتی ہے۔ دیامر میں ماحولیات پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم ہمالیہ کنزرویشن ڈویلپمینٹ کے ڈائریکٹر خان محمد قریشی کا کہنا ہے کہ ان کے ضلع میں بیشتر جنگلات مقامی لوگوں کی ملکیت ہے اور شاید اسی کا فائدہ اٹھاکر ٹمبر مافیا یہاں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 'ٹمبر مافیا'کے افراد سادہ لوح دیہاتیوں سے ان کا خون درختوں کی کاٹنے کی صورت میں چوس رہا ہے کیونکہ درخت یہاں کی سب سے بڑی دولت ہے جو ان کےلیے خون کا کام کرتی ہے۔ ‘

    ان کے مطابق جنگلات کے کاٹنے اور اگانے کے ضمن میں مقامی لوگوں اور حکومت کے درمیان کئی معاہدے بھی موجود ہے لیکن ان معاہدوں پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا بلکہ بعض صورتوں میں ٹمبر مافیا ان معاہدوں کا سہارا لے کر علاقے کو بنجر بنا رہی ہے۔ دیامر کے دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں جگہ جگہ کٹے ہوئے درختوں کے سر نظر آتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس علاقے میں کس بے دری سے درختوں کو کاٹا جا رہا ہے۔ بعض مقامات پر سڑک کے قریب بھی درخت کاٹے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ چلاس اور دیگر شہری علاقوں میں جگہ جگہ سڑک کے کنارے درختوں کے ڈھیر نظر آتے ہیں جہاں اسکی کھلے عام خریدو فروخت بھی جاری ہے۔

    بعض مقامات پر کٹے ہوئے درختوں کی مارکیٹ تک رسائی بھی آسان ہے اور ان کی آمد و فت پر کوئی روک ٹوک بھی نہیں جس سے ملکی قوانین اور حکومتی اداروں کے کردار پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ادارہ برائے تحفظ ماحولیات (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے انچارج ڈاکٹر بابر خان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں پچیس فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ رقبہ چار فیصد تک رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات کے کاٹنے سے نہ صرف لوگوں کی ذاتی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے مجموعی طورپر سماج پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں۔

    ان کے بقول 'جنگلات ہماری زندگی ہے اور اسے بچانے کےلیے ہمیں اپنے روئیوں میں تبدیلی لانا ہو گی ورنہ آنے والے دنوں میں ان کے بھیانک نتائج سے ہم خود کو بچا نہیں پائیں گے۔' پاکستان میں جنگلات کا تیزی سے خاتمہ ایک انتہائی اہم اور سنگین معاملہ ہے لیکن یہ مسلہ جتنا اہم ہے اتنی سنجیدگی حکومتی ایوانوں میں نظر نہیں آتی۔ تاہم بیشتر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ جب تک دور دراز پہاڑی علاقوں میں مقامی آبادی کو روزگار اور توانائی کے متبادل ذرائع فراہم نہیں کئے جاتے اس وقت تک جنگلات کی غیرقانونی کٹائی روکنا ممکن نہیں ہے۔


    رفعت اللہ اورکزئی
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گلگت بلتستان
     


    0 0

    امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین پاکستان سمیت دیگر دیرینہ دوست ممالک میں ممکنہ طور پر اپنے فوجی اڈے قائم کرے گا۔ پینٹا گون کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ چین مستقبل میں پاکستان میں ممکنہ فوجی اڈہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ رپورٹ میں یہ بھی پیشگوئی کی گئی کہ شمال مشرقی افریقی ریاست جبوتی میں فوجی اڈہ قائم کرنے کے بعد چین بیرون ملک مزید اڈے بنائے گا۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کانگریس کو پیش کی گئی 97 صفحات پر مشتمل پینٹاگون کی سالانہ رپورٹ میں چینی فوج کی سال 2016 میں ہونے والی پیش قدمی کا بھی ذکر کیا گیا۔
    اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ چینی فوج نے گذشتہ سال 180 ارب ڈالر خرچ کیے جو کہ چینی سرکاری دفاعی بجٹ 140.4 ارب ڈالر سے کئی زیادہ ہے۔ رپورٹ میں جبوتی میں تعمیر ہونے والے پہلے چینی نیول بیس کی تعمیر کا ذکر بار بار کیا گیا، واضح رہے کہ جبوتی امریکی فوج کا ایک اہم اڈہ ہے اور یہ ملک سوئز کینال کے راستے پر بحیرہ احمر کے داخلی حصہ پر واقع ہے۔ پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق چین ایسے ممالک میں مزید فوجی اڈے بنانے کی کوشش کرے گا جن کے ساتھ اس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور یکساں اسٹرٹیجک مفادات ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    چینی فوجی اتحاد میں شامل ہونے کے بعد محل وقوع کے اعتبار سے جبوتی نے بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور میانمار (برما) کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں پاکستانی سرزمین پر چینی فوجی اڈے کے حوالے سے بھارتی ردعمل کے بارے میں نہیں بتایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان ایشین پیسیفک خطے میں چینی ہتھیاروں کی سب سے بڑی منڈی ہے جبکہ 2011 سے 2015 کے دوران دنیا بھر میں 20 ارب ڈالر کی چینی ہتھیاروں کی برآمدات میں سے 9 ارب ڈالر کے چینی ہتھیار اسی خطے میں فروخت کیے گئے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال ہی چین نے پاکستان کے ساتھ 8 آبدوزوں کی فروخت کا معاہدہ کیا ہے۔
     


    0 0

    پاکستان بھرمیں گرمی کی شدت میں ہر گزرتے روز کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے اور محکمہ موسمیات نے رواں سال موسم گرما کو پاکستانی تاریخ کا گرم ترین قراردیا ہے۔ پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے متعدد علاقوں میں گزشتہ چند روز کے دوران درجہ حرارت 46 سے 52 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر غلام رسول نے بتایا کہ پاکستان کو غیر معمولی موسمیاتی صورتحال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے گرمی کے نت نئے ریکارڈز قائم ہو رہے ہیں۔

    انہوں نے بتایا جون کے آغاز میں اسلام آباد کا درجہ حرارت 46 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا 'یہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ اسلام آباد میں جون کے آغاز پر لگاتار دو دن تک درجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ سے زائد رہا'۔ اسی طرح ڈیرہ اسمعیل خان میں بھی ریکارڈ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ، جہاں اتوار کو درجہ حرارت 51 سیٹی گریڈ تک پہنچا اور 31 سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا جو کہ 1986 میں 50 سینٹی گریڈ کا تھا۔


    ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق بہت زیادہ درجہ حرارت کے باعث بارش کم برسے گی، تاہم گرد آلود ہواﺅں کے ساتھ آندھی، طوفان، ژالہ باری وغیرہ کا سامنا ہو گا۔
    انہوں نے اس ریکارڈ گرم موسم کی وجہ تو بیان نہیں کی مگر یہ ممکنہ طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ ایک حکومتی تخمینہ کے مطابق پاکستان کو منفی موسمیاتی تبدیلیوں سے تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی تفصیلی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو پچھلے چند سالوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے، جبکہ موسم کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بچنے کے لیے اس کے پاس، تکنیکی اور مالیاتی وسائل کی بھی کمی ہے۔
     


    0 0

    عرب خطے کی سیاسی صورتحال ٹرمپ کے حالیہ دورے سے ہی کشیدہ چل رہی تھی لیکن تازہ ترین چھ ممالک کے قطری بائیکاٹ نے بڑی ہلچل مچا دی ہے اور ایسا بحران گلف کوآپریشن کونسل کی تیس سالہ تاریخ میں پہلی بار اٹھا ہے۔
    اس پس منظر میں کچھ سوال ابھر کر سامنے آ رہے ہیں کہ قطر کا معاشی اور سیاسی بائیکاٹ کرنا خطے میں کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیں ؟ کیا سعودی قیادت اور دیگر عرب ممالک قطر پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں گے ؟ کویت کے 2014 کے ثالثی کردار کے بجائے اس بار ٹرمپ کی خدمات لی جائیں گی ؟

    قطر دواعشاریہ چار ملین آبادی والا ملک ہے جس میں صرف دس فیصد قطری آبادی رہائش پذیر ہے اور باقی غیر ملکی محنت کش ہیں۔ قطراوپیک کا اہم رکن اور دنیا کا ایل این جی گیس پیدا کرنے والے ملک کے ساتھ دنیا کے چند مضبوط معیشت والے ممالک میں شامل ہے ۔ عرب علاقائی سیاست میں پہلی بار سعودی عرب اور دیگر چھ ممالک نے مل کر دوحا حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے کچھ الزامات لگاتے ہوئے اس کا سفارتی بائیکاٹ کر دیا ۔ عرب ممالک کی شکایات ہیں کہ قطر دہشت گرد تنظیموں، داعش، اخوان المسلمین اور حماس کی مالی و اخلاقی مدد کرتا ہے۔ سعودی عرب کے نئے اتحاد پر دبے لفظوں میں تنقید اور قطری میڈیا کا عرب عوام کے ذہن بدلنے کی سازش کو نامنظور کرتا ہے اور ایران کی طرف جھکاؤ کے ساتھ ساتھ حودثی باغیوں کی مدد سے عرب خطےمیں غیر مستحکم کرنے کی کوشش بھی ان کے الزامات کی فہرست میں شامل ہے۔ چھ عرب ممالک نے دوحا کا بائیکاٹ کرتے ہوئے زمینی ، سمندری اور فضائی حدود پر مکمل پابندی لگا ئی ہے۔ قطرکی بڑی درآمد ایل این جی ہے ۔ اس کی صرف دس فیصد گیس زمینی حدود سے مصر اور عرب امارات کو برآمد کی جاتی ہے جبکہ باقی سمندری راستوں کے ذریعے باقی دنیا تک پہنچتی ہے لہذا پہلا اثر تو اس کی فضائی کمپنی کو جھیلنا پڑے گا ۔

    یاد رہے کہ ستر کی دہائی میں جو مقام پی آئی اے کو حاصل تھا ۔ وہ آج "قطر ایر لائن "کے پاس ہے ۔ یہ خطہ کا سب سے زیادہ مصروف ایر ٹریفک راستہ ہے۔اور راستے لمبے ہونے سے کرائے بڑھیں گے ۔ قطر زرعی ملک نہیں ہے لہذا اس کو زرعی اجناس کے لیے پڑوسی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ سعودی عرب سے سب سے لمبی سرحد ملنے کی وجہ سے ا س کی غذائی اجناس اور تعمیراتی سامان سعودی سرحد کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اب اگر یہ سرحد لمبے عرصے کے لئے بند ہو گی تو یقیناً عوام پر اس کے معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہوں گےکیونکہ دو ہفتوں میں قطری عوام ان چھ ممالک سے واپس قطر آ جائیں گے۔

    لگتا کچھ یوں ہی ہے کہ اگر جلد یہ معاملہ نہیں سلجھا تو یہ چنگاری بھڑک کر آگ بن جائے گی اور پھر اس کو روکنا مشکل ہو جائے گا ۔ خطے میں مذہبی منافرت کو فروغ حاصل ہو گا لیکن تازہ ترین خبروں سے محسوس یوں ہی ہے کہ دوسری بار کویت کے امیر کشتی کو اس طوفان سے نہیں بچا سکیں گے۔ اور یہ کشیدگی بڑھے گی۔ امریکی صدر نے اس گرما گرمی کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے شاہ سلمان کو فون کر کے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی بھر پور مدد کا ادا کیا ۔ جبکہ امریکی وزیر دفاع جیم میٹرز نے اپنے قطری ہم منصب سے کہا کہ"خطہ میں اس کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کیونکہ قطر ان کے دس ہزار افواج کی "العبید بیس"میں مہمان نوازی کرتا ہے".

    اسلامی دنیا واضح طور پر ابھی شش و پنچ میں ہے کہ کس کا ساتھ د ے اور کس کا نہیں ۔ ترکی نے کھول کر قطر بائیکاٹ پر تنقید کی ہے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہو سکا تو لازمی طور قطر کا جھکاؤ مزید ایران کی طرف بڑھے گا ۔ سمندی حدود میں بھی اس کے پاس صرف ایران اور اومان کی بند گاہ رہ جائے گی۔ پاکستان اگر ثالثی کا کردار ادا کرسکتا ہے تو ٹھیک ورنہ خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر ہے۔ اور اگر اس بڑھکتی ہوئی آگ کو کہیں اور سے تیل دیا گیا تو بھی پاکستان کو دامن بچانے کی کوشش کرنا ہو گی کیوں کہ یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور تمام اسلامی ممالک کو مل کر افہام و تفیہم کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے ۔

    شیما صدیقی



    0 0
  • 06/10/17--04:20: سقوط غرناطہ
  • غرناطہ کے آخری مسلم تاجدار ابو عبداللہ کی فوج شکست کھا چکی تھی۔ ابو عبداللہ اپنی جان بچا کر شاہی محلات سے دوڑا۔ اس نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا ’’سات سو سال تک ہسپانیہ پر حکومت کرنے کے بعد میں ایک گدا گر کی طرح غرناطہ کو ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ رہا ہوں‘‘ ۔ شکست خوردہ تاجدار کی کوئی منزل مقصود نہ تھی۔ وہ لکڑی کے اس ٹکڑے کی مانند تھا جو سمندرکی موجوں کے رحم وکرم پر ہو۔ ابوعبداللہ ایک پہاڑی پر رکا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ الحمرا ! دنیا کی یہ حسین ترین عمارت ابوعبداللہ کو واپس نہ بلا سکی۔ حسین و جمیل عمارتیں بنانا اور پھر ان کے تحفظ کی قوت کھو دینا کیا کم عبرتناک ہے؟ ابوعبداللہ کی تلوار کند ہو چکی تھی۔

    ایک ہارا ہوا بادشاہ، الحمرا پر اس کی آخری نگاہ تھی۔ اس کی آنکھیں پرنم تھیں۔ وہ رو رہا تھا۔ بچوں کی طرح! انسانی تقدیر آنسوئوں سے نہیں بدل سکتی! ’’میرے لال تم جس الحمرا کی حفاظت مردوں کی طرح نہ کر سکے، اس پر عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا حاصل؟‘‘: ابو عبداللہ کی ماں نے کہا۔ جس پہاڑی پر ابو عبداللہ نے آنسو بہائے تھے وہ آج تک ’’مور کی آخری آہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ سفر کی دشواریوں کے باوجود وہ ساحلِ افریقہ پر پہنچ گیا۔ قرطا جینوں، رومیوں اور گاتھوں کے بعد عربوں نے ہسپانیہ پر قبضہ کیا۔ عربوں نے خاک اندلس کو عروج وارتقاء کی اس بلندی پر پہنچا دیا جوا س سے پہلے اسے نصیب نہ تھی۔ عربوں نے ہسپانیہ کے طول وعرض میں محلوں، مسجدوں، مدرسوں، حماموں، ہسپتالوں، نہروں اور پلوں کا ایک وسیع سلسلہ قائم کیا۔ ہسپانیہ کو منطقہ حارہ کے پھلوں اور سبزیوں سے پہلی مرتبہ روشناس کرایا۔ 

    کاغذ اور شکر بنانے کے کارخانے قائم کئے۔ جب یورپ کے دوسرے ملکوں میں کلیسائوں کے علاوہ کہیں کتاب دکھائی نہ دیتی تھی اس وقت قرطبہ اور غرناطہ کے بازاروں میں قاہرہ اور بغداد کے ارباب فکر کی تازہ ترین کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ شاہی کتب خانہ میں چار لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود تھیں۔ عوام ان کتابوں سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ عربوں نے ہسپانیہ میں سونے اور چاندی کی نئی کانیں دریافت کیں۔ ہسپانیہ میں ریشمی، سوتی اور اونی کپڑوں کے بیشمار کارخانے تھے۔ ان کارخانوں کے بنے ہوئے کپڑے قسطنطنیہ (استنبول) پہنچ کر دینیوب کے ذریعہ مشرقی یورپ میں فروخت ہوتے۔ 

    جس زمانہ میں انگلستان کا پادری لاطینی کے دوجملوں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ نہیں کر سکتا تھا اور جب اٹلی میں ہراس پادری کو جادوگر خیال کیا جاتا تھا جسے ریاضی کے چند ابتدائی قاعدوں کا بھی علم ہوتا، اس زمانہ میں ہسپانیہ ہی تنہا یورپی ملک تھا جس میں ہر بچے کے لئے ابتدائی تعلیم لازمی تھی اور جس کے ہر شہر میں ایک پبلک لائبریری تھی اور جہاں ہر شخص کو کتابیں جمع کرنے خبط تھا۔ جہاں کی عورتوں نے صرف و نحو اورشعروشاعری میں نام پیدا کیا۔ ہسپانیہ کے سائنس دان کیمیائی تجربوں میں مصروف رہتے۔ رصدخانوں میں سیاروں کی گردش کا مطالعہ کیا جاتا۔ جہاں ہوائی جہازوں کے تجربے کئے جا رہے تھے۔ جس کی دانش گاہوں میں دینیات، ادب، طب، ہیئت، ریاضیات، فلسفہ،تاریخ قانون، کیمیا اور طبیعات کادرس دیا جاتا تھا۔

    باری علیگ
     


older | 1 | .... | 100 | 101 | (Page 102) | 103 | 104 | .... | 149 | newer